درس نمبر۔118
ثم لما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن بيان شرط القياس وركنه وحكمه شرع في بيان دفعه. فقال: ثم العلل نوعان طردية ومؤثرة وعلى كل قسم ضروب من الدفع. فإن الطردية للشافعية ونحن ندفعها على وجه يلجئهم إلى القول بالتأثير والمؤثرة لنا وتدفعها الشافعية ثم نجيبهم عن الدفع.
بئي قياس کی بحث جب شروع ہوئی تھی تو مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ قياس کی لغوی تعریف جاننا بھی ضروری، شرعی تعریف جاننا بھی ضروری، قياس کی شرائط کا جاننا بھی ضروری، اس کے رکن کا جاننا بھی ضروری، اس کے حکم کا جاننا بھی ضروری اور دفع قياس کو جاننا بھی ضروری ہے بھئی۔ تو اب وہ دفع قياس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ دفع قياس کو۔
समझ میں آیا بھئی؟ درمیان میں استحسان اور اجتہاد کا بھی ذکر آیا تو اب پھر وہ آخری چیز جو رہ گئی تھی اس کو ذکر کرنے لگے ہیں۔ دفع قياس، بھئی آپ کا قياس جو ہے ایک آپ کا قياس ہے ایک فريق مخالف کا قياس ہے۔ تو آپ کا قياس تبھی مقبول ہوگا جب آپ کیا کریں گے؟ دوسرے فريق کے قياس کو دفع کریں گے، اس کو ختم کریں گے اور اس پر اعتراضات قائم کریں گے جن کے وہ جوابات نہ دے سکے، اس سے آپ کا قياس آپ کے قياس کی حقانیت ثابت ہوگی بھئی۔
تو وہ بحث اب کرنے لگے ہیں کہ قياس کو کس طرح دفع کیا جائے گا، کس طرح اس پر اعتراضات کیے جائیں گے۔ تو وہی بحث اب شروع کر رہے ہیں، فرماتے ہیں: "ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن بيان شرط القياس وركنه وحكمه" اور جب مصنف رحمہ الله فارغ ہوئے قياس کی شرط کے بیان سے اور اس کے رکن اور حکم کے بیان سے "شرع في بيان دفعه" تو شروع ہوئے قياس کی دفع کے بیان میں۔ "فقال" پس فرمایا: "ثم العلل نوعان" پھر علتیں دو قسم پر ہیں۔ "طردية ومؤثرة" ایک علت طردية ہے اور ایک علت مؤثرة۔
طردية بھئی وہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ جہاں پر حکم پایا گیا وہاں پر علت ملی، جہاں علت ملی وہاں حکم ملا اور جہاں حکم نہیں تھا وہاں وہ علت بھی نہیں تھی معلوم ہوا یہی علت ہے اس حکم کی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اس سے کیا معلوم ہوا کہ یہی ہے اس اس حکم کی علت کہ جہاں بھی ہم دیکھتے ہیں وہ حکم ہوتا ہے وہ علت بھی پائی جاتی ہے اور جہاں حکم نہیں ہوتا وہاں علت بھی نہیں ہوتی۔ تو یہ طرد کو دلیل بناتے تھے لیکن ہمارے نزدیک یہ معتبر نہیں، ہمارے نزدیک علت کا مؤثر ہونا ضروری ہے بھئی۔ ہمارے نزدیک علت کا مؤثر ہونا ضروری ہے پتہ چلے یہ علت مؤثر بھی ہے یا نہیں اس حکم کے اندر اور اس کا پتہ نص سے یا اجماع سے چلے گا بھئی۔ نص یا اجماع کے ذریعے اس علت کا مؤثر ہونا ثابت ہو چکا ہو تو پھر کسی چیز کو علت قرار دیا جا سکتا ہے۔
چنانچہ اسی لیے ہم نے کہا تھا کہ علت وہی چیز وہی وصف بنے گا جس میں عدالت بھی ہو اور جس میں صلاح بھی ہو، ان کے ذریعے ان کے اس کے مؤثر ہونے کا پتہ چلتا تھا۔ تو بعضوں کے نزدیک طرد دلیل تھی ہمارے نزدیک دلیل نہیں، تو اس سے وہ علت جو نکالتے تھے وہ ہوئی علت طردية۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے ان کی علت ہے عقلی جس کی بنیاد کس پر ہے؟ عقل پر ہے کہ جہاں حکم مل رہا ہے وہاں علت مل رہی ہے جہاں حکم نہیں ہے وہاں علت بھی نہیں ہے معلوم ہوا یہی علت ہے۔ تو انہوں نے یہ فیصلہ کس کے ذریعے کیا؟ عقل کے ذریعے کیا۔ جبکہ ہماری یوں کہیں علت ہے علت شرعیہ کیونکہ ہم نے کس طرح کس چیز کا اعتبار کیا؟ مؤثر ہونے کا اور مؤثر ہونے کا پتہ کس سے چلا؟ نص سے یا اجماع سے، معلوم ہوا شرعاً یہ علت ہے مؤثر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہ دو قسم کی علتیں ہیں۔ "وعلى كل قسم ضروب من الدفع" اور ہر قسم پر کئی ضروب کا معنی بھی قسم، انواع۔ اور ہر قسم پر کئی انواع کے من الدفع، دفع ہیں بھئی۔ یعنی ہر ایک کے دفع کے کئی طریقے ہیں۔ ہر قسم کی جو علت ہے علت طردية اور دوسری کیا ہے؟ علت مؤثرة، دونوں کو دفع کرنے کے، ان پر اعتراض کرنے کے کئی طریقے ہیں وہ اب بیان کریں گے۔
"فإن الطردية للشافعية" پس بے شک علت طردية جو ہے وہ شوافع کی ہے "ونحن ندفعها على وجه" اور ہم اس کو دفع کرتے ہیں ایسے طریقے پر "يلجئهم إلى القول بالتأثير" کہ وہ مجبور کر دیتا ہے ان کو قول بالتأثير کی طرف۔ ہم ان کی علت طردية ہے، ہم اس کو دفع کرتے ہیں ایسے طریقے پر کہ وہ طریقہ ان کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کس چیز کی طرف چلے جائیں؟ قول بالتأثير، مؤثر ہونے کے قول کی طرف وہ مجبور ہو جائیں بھئی۔ وہ وجہ کہ ایسے وہ طریقہ وجہ جو ہے ان کو مجبور کر دے مؤثر ہونے کے قول کی طرف۔
"والمؤثرة لنا" مؤثرة کا عطف اسی طرح طردية پر کر لیں بھئی۔ "والمؤثرة لنا" اور علت طردية ہماری علت مؤثرة ہماری ہے "وتدفعها الشافعية" اور اس کو دفع کرتے ہیں کون؟ شوافع بھئی۔ تو وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں ہماری علت مؤثرة پر "ثم نجيبهم عن الدفع" پھر ہم ان کو جواب دیتے ہیں اس دفع سے، اس اعتراض سے۔
"وهذا البحث هو أساس المناظرة والمحاورة" اور یہ جو بحث ہے یہ بنیاد ہے، اساس کسے کہتے ہیں؟ بنیاد۔ یہ بحث بنیاد ہے مناظرے والمحاورة اور مباحثے کی، محاورہ مباحثہ۔ تو یہ یہ بحث بنیاد ہے مناظرے اور مباحثے کی بھئی۔ اس اسی سے علم مناظرہ بنایا گیا بھئی، اس کے اصول و ضوابط بنائے گئے بھئی، یہی بحث ہے۔ کہ دو شخص، دو علماء فقہاء آپس میں کیا کرتے تھے؟ ہر ایک اپنے اپنے قياس کو ثابت کرنے کے لیے آپس میں جو اعتراضات جوابات ہوتے تھے اسی سے پھر ایک باقاعدہ علم بن گیا اور وہ کیا ہے؟ علم مناظرہ بھئی، علم مناظرہ، علم مباحثہ۔
تو مناظرہ جس میں دو فريق مل کر حق کو تو حق کو ثابت کرنے کے لیے، حق تک پہنچنے کے لیے بحث مباحثہ کرتے تھے۔ ایک شخص بھی اپنی طرف سے دلائل دیتا، دوسرا بھی اپنی طرف سے دلائل دیتا، دوسرے کے دعوے پر اعتراضات کرتا اور اس طرح کوشش کی جاتی تھی کہ حق تک پہنچیں کس کی بات پر حق ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وهذا البحث هو أساس المناظرة والمحاورة" اور یہ بحث جو ہے بنیاد ہے مناظرے اور مباحثے کی "وقد اقتبس علم المناظرة من هذا البحث للأصول" اور تحقیق اخذ کیا گیا علم مناظرہ جو ہے اصول کی اس بحث سے "وجعل علما آخر" اور اس کو ایک دوسرا علم بنا دیا گیا "وتصرف فيه بتغيير بعض القواعد وازديادها" اور پھر اس میں تصرف کیا گیا یعنی یہاں سے اخذ کیا گیا پھر بعینہِ اسی طرح نہیں رکھا گیا بلکہ اس میں تصرف کیا گیا "بتغيير بعض القواعد" بعض قواعد کی تبدیلی کے ساتھ "وازديادها" اور بعض کی زیادتی کرتے ہوئے، بعض قواعد کی زیادتی کی گئی "على ما نبين إن شاء الله تعالى" بناء پر اس کے جو ہم بیان کریں گے ان شاء الله تعالىٰ۔
تو بتلا دیا علتیں دو قسم پر ہیں: ایک طردية اور ایک مؤثرة۔ اب بیان کرنے لگے ہیں علت طردية کے دفع کے طریقے: تو کہتے ہیں "أما الطردية فوجوه دفعها أربعة" باقی علت طردية جو ہے تو اس کو دفع کرنے کے طریقے جو ہیں چار ہیں۔ پہلا جو ہے "القول بموجب العلة" پہلا کیا ہے؟ قول بموجب العلة۔
"القول بموجب العلة" قول سے کیا مراد ہے؟ شارح بتلا رہے ہیں "أي قول المعترض" معترض کا قول۔ یاد رکھیے جو فريق اپنے جس کی جس نے تعلیل کی ہے اس کو کہیں گے معلل، کیا کہیں گے؟ یا کہیں گے مستدل، معلل یا مستدل۔ اور یہ جو اعتراض کرنے والا ہو اس کو کہتے ہیں سائل، کیا کہتے ہیں؟ سائل بھی یا معترض بھی کہتے ہیں۔ تو جب بھی لفظ معلل آئے یا مستدل آئے آپ سمجھ جائیں کون مراد ہے؟ جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے جس نے تعلیل کی ہے۔ اور سائل کا لفظ آئے تو آپ سمجھ جائیں کون مراد ہے؟ اعتراض کرنے والا بھئی۔ تو یہ علت طردية چونکہ ان کی ہے تو وہ ہوں گے معلل اور ہم کیا ہیں؟ ہم سائل ہیں بھئی اعتراض کرنے والے ہیں۔
تو یہاں جو آیا "القول بموجب العلة" پہلا طریقہ علت طردية کو دفع کرنے کا وہ کیا ہے؟ القول بموجب العلة، موجب جیم کے فتحے کے ساتھ ہے بھئی "بموجب العلة"۔ اور قول سے کس کا قول مراد ہے؟ "أي قول المعترض" معترض کا قول "بموجب علة المستدل" کس کے علت پر بھئی؟ مستدل یعنی معلل کے علت، اور موجب، علت ہوتی ہے موجب ثابت کرنے والی اور موجب کیا ہوگا اس کا؟ حکم ہوگا، کیا ہوگا؟ تو علت ہوئی موجب اور حکم ہوا موجب، تو یہاں موجب سے کیا مراد ہے؟ حکم۔ "قول المعترض بموجب علة المستدل" معترض کا قول مستدل کی علت کے حکم پر۔
جو معلل نے علت بیان کی اور اس کا حکم بیان کیا تو اس کی علت کے حکم پر اعتراض کرے گا معترض، کس پر اعتراض ہوگا؟ بھئی آگے تفصیل آئے گی، مختلف طریقے ہیں۔ یہ پہلا طریقہ بیان ہو رہا ہے، کبھی کبھار کس پر اعتراض کیا جائے گا؟ علت پر، کبھی اعتراض کیا جائے گا حکم پر، کبھی اعتراض ہوگا دونوں پر، مختلف صورتیں ہیں۔ یہ پہلی صورت بیان کر رہے ہیں: القول بموجب العلة، اس کا یہ اس میں کس پر اعتراض کیا جائے گا؟ جو معلل نے حکم بیان کیا ہے اس حکم پر اعتراض کریں گے، علت پر نہیں اعتراض کریں گے، کس پر اعتراض کریں گے؟ حکم پر۔
تفصیل یاد رکھو: معلل نے ایک علت بیان کی اور پھر اس کا ایک حکم بیان کیا کہ یہ حکم ہے اور اس حکم کی یہ علت ہے۔ ہم ان کی علت بھی تسلیم کر لیتے ہیں، حکم بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ ہم اس معلل کی علت کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں، حکم کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ جو خاص ایک محل ہے تنازع فیہ جس میں ہمارا اور ان کا جھگڑا ہے، اختلاف ہے، ہم کہتے ہیں اس مقام پر حکم یہ نہیں ہے۔ اس مقام پر تو دیکھو حکم پر اعتراض کیا۔ ویسے ہم نے ان کی علت بھی تسلیم کی، حکم بھی تسلیم کیا کہ یہ علت ہے اور اس کا یہ حکم، لیکن اس خاص محل کے اندر یہ حکم نہیں ہے جو آپ بیان کر رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟
مثلاً شوافع بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں فرض ہونا علت ہے اور تعیین نیت حکم ہے۔ فرض ہونا علت ہے، جو بھی چیز فرض ہوگی وہاں تعیین نیت ضروری ہے۔ نماز فرض ہے تو نماز ادا کرتے ہوئے تعیین نیت ضروری ہے کہ میں ظہر کی ادا کر رہا ہوں یا عصر کی کر رہا ہوں، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو فرض ہونا علت اور حکم کیا؟ تعیین نیت۔ اسی طرح کفارے کے روزے فرض ہیں، کسی پر کفارہ آگیا اب یہ فرض ہیں اور فرض ہونا علت ہے کس چیز کی؟ تعیین نیت کی، لہٰذا کفارے کے روزے رکھنے لگو تو تعیین نیت ضروری ہے، متعین کرو کہ میں کفارے کے روزے رکھنے لگا ہوں۔ اسی طرح قضا کا روزہ، رمضان کا روزہ کسی کا چھوٹ گیا بعد میں وہ اس کی قضا کرنے لگا ہے، یہ قضا کا روزہ بھی فرض ہے تو اس میں بھی کیا ضروری؟ کیونکہ فرض ہونا علت ہے کس چیز کی؟ تعیین نیت، تو فرض ہونا ہے علت اور تعیین نیت ہے اس کا حکم۔ ہم کہتے ہیں ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، فرض ہونا علت ہے اور تعیین نیت اس کا حکم ہے۔
لیکن جو محلِ خلاف ہے خاص محل، رمضان کے روزے اس میں ہم کہتے ہیں تعیین نیت نہیں بلکہ مطلقِ نیت کافی ہے۔ وہ کہتے ہیں رمضان کی رات میں روزہ رکھتے وقت باقاعدہ نیت کرے کہ اے الله میں کیا کر رہا ہوں؟ صبح رمضان کا روزہ رکھوں گا، کس کا روزہ؟ میں رمضان کے روزے کی نیت کرتا ہوں، یہ کہنا ضروری۔ ہم کہتے ہیں نہیں، میں روزے کی نیت کرتا ہوں یہ بھی کہہ دے تو کافی ہے۔ یہ کہہ دے تو بھی رمضان کا ذکر کر دے تو اور اچھی بات، نہ بھی کرے تو مطلقِ نیت بھی کافی ہے۔
تو دیکھو ہم نے ان کے علت کو بھی تسلیم کیا، حکم کو بھی تسلیم کیا لیکن محلِ خاص میں، محلِ متنازع فیہ میں ہم نے حکم کا انکار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں یہاں بھی تعیین نیت، ہم کہتے ہیں یہاں تعیین نیت نہیں یہاں مطلق نیت کافی ہے۔ بحث سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ ہے القول بموجب العلة۔ ہم کہتے ہیں فرض ہونا علت ہے تعیین نیت کی، ہمیں آپ کی یہ بات قبول، لیکن رمضان کے روزے میں بھی تعیین نیت ضروری، یہ حکم یہ حکم ہمیں آپ کا منظور نہیں، یہ ہمیں تسلیم نہیں بلکہ یہاں مطلق نیت بھی کافی ہے۔
مطلق نیت بھی کیوں؟ مطلق نیت کافی کیوں؟ کیونکہ بھئی یہ مطلق نیت بھی دراصل تعیین نیت ہی ہے یہاں پر۔ مطلق نیت بھی یہاں تعین ہے، کس طرح تعین ہے؟ ہم کہتے ہیں تعین دو طرح پر ہے: یا تو تعین بندہ کرے یا تعین شارع کی طرف سے آجائے۔ جب الله اور اس کے رسول کی طرف سے تعین آگئی تو اب بندے کی تعین کی کوئی ضرورت نہیں۔ تعین چاہیے تھی، ہمیں آپ کا حکم بھی تسلیم تھا لیکن یہاں پر تعین کس کی طرف سے آگئی؟ شارع الله کی طرف سے، الله کے رسول کی طرف سے تعین آگئی، اب ہمیں تعین کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے: "إذا انسلاخ شعبان فلا صوم إلا عن رمضان" کہ جب شعبان کا مہینہ گزر جائے تو پھر صرف کس کے روزے ہوں گے؟ رمضان ہی کے روزے ہوں گے، معلوم ہوا رمضان میں رمضان ہی کا روزہ ہو سکتا ہے کوئی اور روزہ نہیں، تو یہاں روزے متعین شریعت کی طرف سے آچکے۔
لہٰذا تعیین لہٰذا اب بندے کی طرف سے مطلق نیت بھی کافی ہے کیونکہ مطلق نیت بھی کیا ہے؟ تعیین نیت ہی ہے، تو تعین کسی ایک طرف سے آنی چاہیے تھی بھئی۔ چاہے اگر شریعت کی طرف سے ہے تو وہی کافی اور اگر شریعت کی طرف سے نہیں ہے پھر کس کی طرف سے ضروری ہے؟ بندے کی طرف سے ضروری ہے۔ کفارے میں، نماز میں، فرض نماز میں، قضا روزے میں وہاں شارع کی طرف سے تعین نہیں تھی، ظہر کے وقت کے اندر آپ ظہر کی نماز بھی پڑھ سکتے ہیں، قضا نمازیں بھی پڑھ سکتے ہیں، نفل بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تو یہاں اور چیزیں موجود تھیں، شریعت کی طرف سے تعین نہیں تھی اس لیے بندے کی طرف سے تعیین نیت وہاں ضروری تھی، لیکن روزے کے اندر تعین کس کی طرف سے آچکی ہے؟ شارع کی، رمضان کے روزے میں، تو وہاں وہ تعین ہوچکی ہے صرف اب مطلق نیت کافی ہے۔ کفارے کا روزہ جو ہے جس دن آپ رکھنا چاہتے ہیں کفارے کے بھئی، کفارے اس دن آپ قضا کا بھی رکھ سکتے ہیں، آپ نفلی روزہ بھی رکھ سکتے ہیں تو وہاں پر مقابل موجود ہے، شریعت کی طرف سے تعین نہیں تو وہاں بندے کی طرف سے تعین ضروری۔ اور اسی طرح تو قضا اور کفارے اور نماز میں، جبکہ رمضان کے اندر تعین کس کی طرف سے؟
آ چکی ہے شرعاً، لہٰذا مطلقِ نیت بھی کافی ہے۔ بات بات سمجھ میں آئی؟ ہم نے ان کی علت بھی تسلیم کی کہ فرض ہونا علت ہے۔ تعینِ نیت اس کا حکم ہے۔ لیکن اس محلِ خاص میں یعنی رمضان کے روزے میں، آپ کہتے ہیں تعینِ نیت بندے کی طرف سے، بندے کی طرف سے ضروری کہ وہ کہے میں صبح کس کا روزہ رکھ رہا ہوں؟ رمضان کا روزہ رکھ رہا ہوں۔ ہم کہتے ہیں ہمیں آپ کا یہ حکم تسلیم نہیں۔ یہاں مطلقِ نیت بھی کافی اور مطلقِ نیت بھی یہاں کس کی، کیوں کافی؟ کیونکہ یہ ہی کیونکہ یہ تعین ہی ہے بھئی، کیونکہ تعین پہلے سے ہی شریعت کی طرف سے آ چکی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَهُوَ الْتِزَامُ مَا يُلْزِمُهُ الْمُعَلِّلُ بِتَعْلِيلِهِ، وَهُوَ الْتِزَامُ، بھئی قول بموجب العلة کی تعریف کر رہے ہیں۔ قول بموجب العلة جو ہے وَهُوَ الْتِزَامُ وہ لازم پکڑنا ہے۔ یعنی اس کا اپنے اوپر بھی لازم کر لینا۔ ہم نے ان کی علت اور حکم کو مانا تھا یا نہیں مانا تھا؟ تو ہم نے بھی اسی چیز کا التزام کیا جس کو انہوں نے لازم کیا تھا۔ تو یہ یہ قول بموجب العلة جو ہے وَهُوَ الْتِزَامُ وہ لازم پکڑنا ہے، یعنی جو چیز بات انہوں نے کہی ہے اسی کو اپنے اوپر بھی لازم کر لینا.
تو وَهُوَ الْتِزَامُ وہ لازم کر لینا ہے مَا اس چیز کو يُلْزِمُهُ الْمُعَلِّلُ جس کو کس نے لازم کیا تھا؟ معلل نے لازم کیا تھا بِتَعْلِيلِهِ کس وجہ سے؟ اپنی اپنی تعلیل کی وجہ سے جس چیز کو معلل نے لازم کیا تھا، سائل نے بھی اس کو کیا کر لیا؟ اس کا التزام کیا اپنے اوپر لازم۔ یعنی ان کی علت بھی تسلیم، ان کا حکم بھی تسلیم، اختلاف صرف کس میں کیا؟ محلِ خاص کے اندر بھئی۔
یہ معنی ہے کہ وہ لازم پکڑنا ہے اس چیز کو جس کو لازم کیا تھا معلل نے اپنی تعلیل کے ذریعے مَعَ بَقَاءِ الْخِلَافِ فِي حُكْمِ الْمُتَنَازَعِ فِيهِ ساتھ اختلاف کے باقی رہنے کے اس متنازع فیہ حکم میں، کہ اس متنازع فیہ حکم اس طریقے پر اس کے علت اور حکم کو تسلیم کر لینا کہ متنازع فیہ محل میں اس متنازع فیہ حکم میں اختلاف باقی رہے بھئی۔
كَقَوْلِهِمْ، أي قول الشافعية، ضمیر کا مرجع بتلایا، جیسے کہ شوافع کا قول ہے فِي صَوْمِ رَمَضَانَ رمضان کے روزے میں أَنَّهُ صَوْمٌ فَرْضٌ فَلَا يَتَأَدَّى إلَّا بِتَعْيِينِ النِّيَّةِ کہ یہ تو یہ فرض روزہ ہے پس یہ ادا نہیں ہوگا مگر تعینِ نیت سے ہی۔ بِأَنْ يَقُولَ بدیں طور کہ روزہ رکھنے والا یوں کہے بِصَوْمِ غَدٍ نَوَيْتُ لِفَرْضِ رَمَضَانَ کہ میں کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں، کون سا روزہ؟ لِفَرْضِ رَمَضَانَ رمضان کے فرض، میں کل کے رمضان کے فرض روزے کی نیت کرتا ہوں۔
فَأَوْرَدُوا الْعِلَّةَ الطَّرْدِيَّةَ پس وہ فریق جو معلل ہیں، فریقِ مخالف، یا یوں کہیں شوافع، شوافع لے کر آئے علتِ طردیہ کو وَهِيَ الْفَرْضِيَّةُ اور علتِ طردیہ کون سی ذکر کی علت انہوں نے؟ فرضیت، فرض ہونا لِلتَّعْيِينِ کس کے لیے؟ تعین کے لیے یعنی اس حکم کے لیے۔ إِذْ أَيْنَمَا تُوجَدُ الْفَرْضِيَّةُ يُوجَدُ التَّعْيِينُ اسی کہ جہاں بھی فرض ہونا پایا جاتا ہے وہاں تعین پائی جاتی ہے كَصَوْمِ الْقَضَاءِ وَالْكَفَّارَةِ وَالصَّلَاةِ الْخَمْسِ جیسے کہ قضا کا روزہ اور کفارے کا روزہ اور پانچ نمازیں۔ ان سب میں یہ سب فرض ہیں، تو فرضیت پائی گئی، علت پائی گئی، تو حکم آ گیا، کیا حکم تھا؟ تعینِ نیت۔
وَنَحْنُ نَدْفَعُهُ بِمُوجَبِ عِلَّتِهِ اور ہم اس کو دفع کرتے ہیں، اس کو بِمُوجَبِ عِلَّتِهِ اس معلل کی علت کے حکم سے، اس معلل کی علت کے حکم سے ہم اس کو دفع کرتے ہیں۔ فَنَقُولُ ہم کہتے ہیں عِنْدَنَا لَا يَصِحُّ إِلَّا بِتَعْيِينِ النِّيَّةِ کہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے مگر کہ ہمارے نزدیک بھی صحیح نہیں ہے مگر کس کے ساتھ؟ تعینِ نیت کے ساتھ ہی۔ وَإِنَّمَا نُجَوِّزُهُ بِإِطْلَاقِ النِّيَّةِ اور ہم اس رمضان کے روزے کو جائز قرار دیتے ہیں اطلاقِ نیت کے ساتھ عَلَى أَنَّهُ تَعْيِينٌ بناء بر اس کے کہ یہ تعین ہی ہے۔
أَيْ سَلَّمْنَا أَنَّ التَّعْيِينَ ضَرُورِيٌّ لِلْفَرْضِ یعنی یہ بات ہمیں تسلیم ہے کہ تعین ضروری ہے فرض کے لیے وَلَكِنَّ التَّعْيِينَ نَوْعَانِ لیکن تعین دو قسم پر ہے تَعْيِينٌ مِنْ جَانِبِ الْعِبَادِ قَصْدًا ایک تو وہ تعین ہے جو بندوں کی جانب سے ہو قصداً، ارادتاً، ایک وہ تعین ہے جو بندوں کی طرف سے ہو قصداً وَتَعْيِينٌ مِنْ جَانِبِ الشَّارِعِ اور ایک وہ تعین ہے جو شارع کی جانب سے ہو وَهَذَا الْإِطْلَاقُ فِي حُكْمِ التَّعْيِينِ مِنْ جَانِبِ الشَّارِعِ اور یہ اطلاق بھی جو ہے تعین کے حکم میں ہے شارع کی جانب سے فَإِنَّهُ قَالَ اسی کیونکہ شارع فرماتے ہیں إِذَا انْسَلَخَ شَعْبَانُ فَلَا صَوْمَ إِلَّا عَنْ رَمَضَانَ جب شعبان گزر جائے تو کوئی روزہ نہیں مگر رمضان سے ہی۔
فَإِنْ قَالَ الْخَصْمُ پھر اگر فریقِ مخالف اعتراض کرے، جواب ہم نے دے دیا، پھر بھی اگر فریقِ مخالف اعتراض کرے کہ إِنَّ التَّعْيِينَ الْقَصْدِيَّ هُوَ الْمُعْتَبَرُ عِنْدَنَا کہ ہمارے نزدیک تو تعینِ قصدی ہی معتبر ہے جو ارادے سے ہو، بندہ خود کیا کرے اس کا؟ ارادہ کرے۔ ہم نے جواب دے دیا، اگر پھر بھی فریقِ مخالف اعتراض کرے اور کیا کہے؟ ہمارے طرف سے کہ مطلقِ تعین کافی نہیں بلکہ تعینِ قصدی ضروری ہے یعنی جس میں بندے کا ارادہ ہو، یعنی یوں کہیں بندے کی طرف سے تعین ضروری ہے، اگر فریقِ مخالف یہ اعتراض کرے، تعینِ قصدی ضروری ہے وہ معتبر ہے ہمارے نزدیک كَمَا فِي الْقَضَاءِ وَالْكَفَّارَةِ جیسے کس میں ہے؟ قضا اور کفارے، اس میں بندے کی طرف سے تعینِ قصدی ہوتی ہے۔ دُونَ التَّعْيِينِ مُطْلَقًا نہ کہ تعینِ مطلقاً، وہ ہمارے نزدیک معتبر نہیں ہے۔
فَنَقُولُ تو ہم کہتے ہیں لَا نُسَلِّمُ أَنَّ التَّعْيِينَ الْقَصْدِيَّ مُعْتَبَرٌ ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ تعینِ قصدی معتبر ہے وَلَا نُسَلِّمُ اور ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ أَنَّ عِلَّةَ التَّعْيِينِ، عِلَّتَهُ ہے آپ کی کتابوں میں؟ عِلَّتَهُ نہیں ہونا چاہیے بھئی، عِلَّةَ التَّعْيِينِ یہ اضافت ہو رہی ہے۔ وَلَا نُسَلِّمُ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ أَنَّ عِلَّةَ التَّعْيِينِ الْقَصْدِيِّ فِي الْقَضَاءِ وَالْكَفَّارَةِ هِيَ مُجَرَّدُ الْفَرْضِيَّةِ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ تعینِ قصدی کی علت قضا اور کفارے میں هِيَ مُجَرَّدُ الْفَرْضِيَّةِ یہ محض فرض ہونا ہے۔
آپ نے کیا کہا؟ معترض نے کیا اعتراض کیا؟ کہ ہمارے نزدیک مطلقِ تعین معتبر نہیں بلکہ ہمارے نزدیک تعینِ قصدی معتبر ہے ارادے کے ساتھ ہو۔ ہم کہتے ہیں کہ تعینِ قصدی معتبر نہیں، اور ہم نے آپ نے کس کو علت بنایا تھا اور کس کو حکم بنایا تھا؟ فرض ہونے کو علت بنایا تھا اور تعینِ نیت کو حکم بنایا تھا، تو ہم کہتے ہیں کہ یہ جو بعض جگہ پر تعینِ قصدی آئی، کیا آئی؟ بھئی قضا، کفارے میں، نمازوں میں، کیا ضروری ہے؟ تعین۔ ہم کہتے ہیں یہاں پر جو تعینِ قصدی آئی، یہ اس کی علت فرض ہونا نہیں ہے۔
فرض ہونے، فرض ہونا علت ہے تعینِ نیت کی، فرض ہونا علت ہے تعینِ نیت کی تو علت ہے، تعینِ قصدی کی علت نہیں ہے فرض ہونا بھئی۔ پھر تعینِ قصدی کی علت کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں اس کی علت کہ یہاں پر اور مزاحم موجود ہیں، اور مقابل موجود ہیں، یہ علت ہے تعینِ قصدی کی، کہ چونکہ جس دن آپ قضا کا روزہ رکھنا چاہتے ہیں یا کفارے کا روزہ رکھنا چاہتے ہیں، ان دنوں میں آپ اور روزے بھی رکھ سکتے ہیں، تو مزاحم موجود ہیں، مقابل موجود ہیں، تو مزاحم اور مقابل کا موجود ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ تعینِ قصدی کی۔
فرض ہونا یہ علت ہے صرف کس چیز کی؟ تعینِ نیت کی علت تو ہے، تعینِ قصدی کی نیت نہیں، تعینِ قصدی کی علت کیا ہے؟ کہ یہاں پر مقابل موجود ہے۔ آپ ظہر کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں تو تعینِ قصدی ضروری ہے، لیکن اس کی وجہ فرض ہونا نہیں ہے، اس کی وجہ تعینِ قصدی کی علت کیا ہے؟ مقابل، اسی وقت میں آپ چاہیں نفل پڑھ لیں، شریعت نے اجازت دے رکھی ہے، آپ چاہیں قضا نمازیں پڑھ لیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تعینِ قصدی کی علت فرضیت نہیں ہے بلکہ تعینِ قصدی کی علت کیا ہے؟ مزاحم اور مقابل کا موجود ہونا۔
یہاں اور چیزیں بھی آ سکتی ہیں چونکہ اسی جنس کی، اس لیے تعینِ قصدی ضروری۔ رمضان کے اندر اور چیزیں اس جنس کی آ ہی نہیں سکتی، اور کوئی روزہ آ ہی نہیں سکتا بلکہ کون سا رکھنا پڑے گا؟ رمضان ہی کا، اس لیے وہاں تعینِ قصدی نہیں ضروری اور یہاں پر تعینِ قصدی ضروری ہے۔
تو کہتے ہیں ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ تعینِ قصدی معتبر ہے وَلَا نُسَلِّمُ أَنَّ عِلَّةَ التَّعْيِينِ الْقَصْدِيِّ فِي الْقَضَاءِ وَالْكَفَّارَةِ هِيَ مُجَرَّدُ الْفَرْضِيَّةِ اور ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ تعینِ قصدی کی علت قضا اور کفارے میں هِيَ مُجَرَّدُ الْفَرْضِيَّةِ یہ محض فرض محض فرضیت ہے بَلْ كَوْنُ وَقْتِهِ صَالِحًا لِأَنْوَاعِ الصِّيَامِ بلکہ اس وقت کا صالح ہونا، بلکہ اس وقت کا صالح ہونا اور قسم کے روزوں کے لیے۔ چونکہ وہ وقت اور قسم کے روزوں کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جس میں آپ کیا کرنے لگے ہیں؟ کفارے یا قضا کا روزہ رکھ رہے ہیں، یہ وقت صلاحیت رکھتا ہے کہ اس میں اور روزے بھی رکھے جا سکتے ہیں یعنی یہاں پر مقابل اور مزاحم موجود ہیں، تو یہ مزاحم اور مقابل کا موجود ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ تعینِ قصدی کی۔
بِخِلَافِ رَمَضَانَ برخلاف رمضان کے فَإِنَّهُ مُتَعَيِّنٌ کیونکہ وہ متعین ہے كَالْمُتَوَحِّدِ فِي الْمَكَانِ يُصَابُ بِـمُطْلَقِ اسْمِهِ جیسے كَالْمُتَوَحِّدِ ایک اکیلا شخص ہو فِي الْمَكَانِ کسی کمرے کسی جگہ میں يُصَابُ اس تک پہنچا جائے گا بِـمُطْلَقِ اسْمِهِ مطلق اس کے مطلق اسم کے ذریعے۔ نام لینے کے تعین کی نہیں ضرورت، تعین کی نہیں ضرورت۔ ایک کمرے میں ایک ہی آدمی ہے، آپ پوچھتے ہیں باہر سے، کوئی آدمی ہے؟ تو آپ کو فوراً وہ بتلا دے گا کہ آدمی اندر موجود ہے، مطلق، علم نہیں لیا، نام اس کا نہیں لیا فلاں یا فلاں ابنِ فلاں، لیکن تو یہاں پر مطلق اسم کافی ہے، اسی طرح روزے میں بھی اور کوئی مقابل نہیں تو مطلقِ نیت کیا ہے؟ کافی ہے۔ یہاں صرف آپ نے کہا آدمی ہے؟ اس نے کہا جی ہے، فوراً آپ کو پتہ لگ گیا۔ لیکن اگر کمرے میں آٹھ دس آدمی ہیں اور آپ کس کو بلانا چاہتے ہیں؟ زید کو بلانا چاہتے ہیں تو پھر آدمی ہے کہنے سے تو پتہ نہیں چلے گا، وہاں کیا ضروری؟ باقاعدہ اس کی تعین ضروری کہ زید ہے یا زید نہیں؟
تو معلوم ہوا جیسے یہاں پر ظاہری مثال میں بات واضح ہو گئی، جہاں مقابل نہیں ہوتا وہاں مطلق اسم کافی، جہاں مقابل موجود ہیں وہاں تعین ضروری، تو یہاں پر بھی جب رمضان کے روزے میں مقابل ہی کوئی نہیں تو مطلقِ نیت کافی، اور اور روزوں کے اندر یا نمازوں کے اندر مقابل موجود تو وہاں تعینِ نیت، نیتِ تعینِ قصدی ضروری ہے۔
وَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الِاعْتِرَاضَ أَهْلُ الْمُنَاظَرَةِ اور ذکر نہیں کیا اس اعتراض کو اہل الملاحظہ نے، اہل مناظرہ نے، بھئی وہ علم جو اخذ کیا گیا اسی علمِ اصولِ فقہ کی بحث سے علمِ مناظرہ، ان اہل مناظرہ نے اس اعتراض کو ذکر نہیں کیا۔ اب اس سے کیا مراد ہے؟ کون سا اعتراض؟ ایک تو یہ دو تین سطریں اوپر آیا فَإِنْ قَالَ الْخَصْمُ، اگر فریقِ مقابل یہ کہے مخالف یہ کہے، ایک تو یہ اعتراض، اور ایک یہ جو بحث ہم پڑھ رہے ہیں، بحث کس چیز کی ہے؟ قیاس کو دفع کرنے کے طریقے، قیاس پر اعتراض کرنے کے طریقے، تو یہ پہلا اعتراض جو کیا ذکر کر رہے ہیں؟ قول بموجب العلة۔ اب اس سے کیا مراد ہے؟ یہ والا اعتراض جو اوپر آیا فَإِنْ قَالَ الْخَصْمُ یا قول بموجب العلة والا اعتراض؟
محشی اس کے اوپر دیکھیں دو نشان ہوں گے۔ ایک نے لکھا ہے قول بموجب العلة والا اعتراض، اس کو اہل مناظرہ نے اپنی کتابوں میں ذکر نہیں کیا۔ دوسرا حاشیے والا نیچے لکھتے ہیں فَإِنْ قَالَ الْخَصْمُ، یہ والا اعتراض مراد ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے بھئی، ظاہر یہی ہے کہ یہ هَذَا الِاعْتِرَاضَ سے قول بموجب العلة مراد ہے، یہ جو قول بموجب العلة ہے، یہ آپ معلل پر اعتراض کر رہے ہیں نا، اس کے حکم کو تسلیم نہیں کر رہے، یہ والا اعتراض جو ہے، یہ قول بموجب العلة اس کو اہل مناظرہ نے اپنی کتابوں میں ذکر نہیں کیا بھئی، یہ مراد ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اس پر ایک قرینہ بھی ہے، آگے ایک صفحے بعد آ رہا ہے وَفَسَادُ الْوَضْعِ، متن ہے بھئی وَفَسَادُ الْوَضْعِ، اسی سے اسی میں نچلی سطر میں آ رہا ہے وَلَمْ يَذْكُرْهُ أَهْلُ الْمُنَاظَرَةِ، اس کو اہل مناظرہ نے ذکر، فساد فساد الوضع جو ہے اس کو اہل مناظرہ نے ذکر نہیں کیا۔
متن مل گیا بھئی فساد الوضع والا؟ اسی کے نیچے کیا لکھا ہے؟ وَلَمْ يَذْكُرْهُ أَهْلُ الْمُنَاظَرَةِ، اہل مناظرہ نے اس کو ذکر نہیں کیا، اس میں تو دیکھو کس کی طرف واضح اشارہ ہے؟ فسادِ وضع کو اہل مناظرہ نے ذکر نہیں کیا، معلوم ہوا یہاں پر بھی جو شارح بتلا رہے ہیں وہ متن کی بات ہی کر رہے ہیں کہ علمِ مناظرہ والوں نے اس قول بموجب العلة کو ذکر نہیں کیا بھئی۔
تو کہتے ہیں وَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الِاعْتِرَاضَ أَهْلُ الْمُنَاظَرَةِ اور ذکر نہیں کیا اس اعتراض کو اہل مناظرہ نے، یا یہ ہے بھئی مناظرے کی کتابوں کی تحقیق کی جائے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ وَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الِاعْتِرَاضَ أَهْلُ الْمُنَاظَرَةِ اور ذکر نہیں کیا اس اعتراض کو اہل مناظرہ نے لِأَنَّهُ سَطْحِيٌّ کیونکہ یہ اعتراض سطحی ہے، ظاہری ہے یعنی سرسری ہے، یہ اعتراض کس قسم کا ہے؟ سرسری اعتراض ہے لَا يَبْقَى بَعْدَ الدِّقَّةِ وَتَعْيِينِ الْمَبْحَثِ، یہ اعتراض باقی نہیں رہتا دقت، گہرائی کے بعد وَتَعْيِينِ الْمَبْحَثِ اور جائے بحث کی تعین کے بعد۔
جب کس سلسلے میں بحث کرنی ہے بھئی دو فریق جمع ہوئے انہوں نے آپس میں مناظرہ کرنا ہے، تو پہلے متعین کریں گے کس چیز کے بارے میں بحث کرنی ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب وہ بحث کی جگہ متعین ہو جائے اور گہرائی میں چلے جائیں تو پھر یہ اعتراض باقی ہی نہیں رہتا بھئی، بات کھل کر خود ہی سامنے آ جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ فریقِ مخالف کا مذہب ذرا غور کرنے سے ہی پتہ چل گیا کہ وہ درست نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
فَإِنَّ اسْتِفْسَارَ الْمُدَّعَى عِنْدَهُمْ وَبَيَانَهُ بَعْدَ الطَّلَبِ وَاجِبٌ، کیونکہ مدعیٰ کے بارے میں پوچھنا، مدعیٰ یعنی دعویٰ، استفسار پوچھنا، کیونکہ دعوے کا پوچھنا عِنْدَهُمْ اہل مناظرہ کے نزدیک وَبَيَانَهُ بَعْدَ الطَّلَبِ وَاجِبٌ اور پھر اس کو بیان کرنا طلب کے بعد یہ واجب ہوتا ہے۔ مناظرے میں کیا واجب ہوتا ہے؟ کہ دعویٰ پوچھا جائے کیا دعویٰ ہے آپ کا؟ اور جب پوچھا گیا تو طلب کی گئی، اور طلب کے بعد اب اس کو دوسرے معلل پر اس کو بیان کرنا واجب ہوتا ہے کہ میرا یہ دعویٰ ہے، میرا یہ دعویٰ ہے، بات سمجھ میں آئی؟
فَإِنَّ اسْتِفْسَارَ الْمُدَّعَى عِنْدَهُمْ وَبَيَانَهُ بَعْدَ الطَّلَبِ وَاجِبٌ، کیونکہ دعوے کا پوچھنا اہل مناظرہ کے نزدیک اور پھر اس کو بیان کرنا طلب کے بعد یہ واجب ہوتا ہے وَلَا يَقْبَلُهُ قَطُّ، تو وہ کبھی بھی اس بات کو معلل قبول نہیں کرے گا، معلل کبھی بھی اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ وہ اتنی کمزور وہ اتنا کمزور دعویٰ کر دے کہ ذرا گہرائی میں جائیں تو وہ اعتراض وہ اس کا مذہب کیا ہو جائے؟ باطل ہو جائے، اس پر اعتراض ہو اور فوراً ہی وہ رد ہو جائے، وہ کبھی بھی اس بات کو قبول نہیں کرے گا، اس طرح کا وہ دعویٰ کبھی کرے گا ہی نہیں، بات سمجھ میں آئی؟ مناظرے میں تو دونوں طرف سے دلائل آئیں گے نا، تو وہ کوئی قوی بات لے کر آئے گا مقابلے میں، ہلکی کمزور سی بات تو نہیں لے کر آئے گا جس پہ جس کے جس کے بارے میں بتلا رہے ہیں کہ یہ اعتراض سرسری سا ہے یعنی ذرا گہرائی میں جائیں تو یہ اعتراض رہتا ہی نہیں، بات خود ہی کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ دوسرے کا دعویٰ صحیح نہیں، تو مقابل کبھی بھی اس قسم کا ہلکا اور کمزور دعویٰ کرے گا ہی نہیں۔
ٹھیک ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو وہ کبھی بھی اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ اس طرح کا سرسری سا دعوی کرے اور پھر سرسری سے اعتراض سے اس کی بات باطل ہو جائے اس کا دعوی باطل ہو جائے۔ والممانعۃ جی یہ دوسری قسم آ گئی۔ بھئی علت تردید کور کی دفع کے کئی طریقے ہیں بتایا تھا چار طریقے ہیں۔ پہلا کیا تھا قول بموجب العلت دوسرا ہے ممانعت۔ ممانعت کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں وهي عدم قبول السائل یہ سائل کا قبول نہ کرنا۔ سائل کون؟ اعتراض کرنے والا پہلے بیان کر چکا ہوں۔ اعتراض کرنے والے کا قبول نہ کرنا۔ کس چیز کو قبول نہ کرنا؟ مقدمات دلیل المعلل المعلل کی دلیل کے مقدمات کو۔
المعلل کی دلیل کے مقدمات کو کلہا او بعضھا سب کے سب مقدمات کو یا اس کے بعض مقدمات کو بالطعیین والتفصیل تعین اور تفصیل کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے! معلل جو ہے وہ حکم کی علت بیان کر رہا ہے کہ یہ علت ہے اور یہ اس کا حکم۔ تو اس کے لیے وہ کیا کرے گا؟ دلیل ذکر کرے گا یا نہیں کرے گا؟ دلیل ذکر کرے گا صغری کبری ملائے گا اور نتیجہ آپ کے سامنے لے کر آئے گا۔ تو ممانعت اس چیز کا نام ہے کہ وہ جو معلل نے دلیل پیش کی اس کے بعض مقدمات یعنی صغری یا کبری ان کو نہ ماننا یا سارے مقدمات یعنی سارے صغری اور کبری دونوں ہی کو نہ ماننا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ معنی ہے کہ قبول سائل کا قبول نہ کرنا معلل کی دلیل کے مقدمات کو کلہا او بعضھا سب کو یا بعض کو بالطعیین تعین کے ساتھ یعنی تعین کے ساتھ کہ میں فلاں مقدمے کو آپ کے تسلیم نہیں کرتا مثلاً صغری کو تسلیم نہیں کرتا میں یا میں کبری کو تسلیم نہیں کرتا بھئی تفصیل کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ جو تعین ہے اس کا تعلق بعضھا سے ہے اور یہ جو والتفصیل آیا اس کا عطف تعین پر ہے اور اس کا تعلق کلہا سے ہے۔ کس سے ہے؟ کلہا دیکھئے سائل معلل کی دلیل کے بعض مقدمات کو تسلیم نہیں کرے گا یا سارے۔ بعض کو مثلاً تسلیم نہیں کرتا صغری کو تسلیم نہیں کرتا اس کا انکار کرتا ہے۔ تو بالطعیین کا تعلق کس سے ہے؟ بعضھا سے تو دیکھو انکار کس کا کر رہا ہے؟ صغری کا تعین کے ساتھ یہ والا مقدمہ ہمیں آپ کا آپ کا ہمیں تسلیم نہیں۔ یا کس کا انکار کرتا ہے؟ کبری کا کہ تعین کے ساتھ یہ والا مقدمہ ہمیں تسلیم نہیں۔ اور تفصیل کا تعلق ہے کلہا سے کہ معلل کی ساری مقدمات ہیں ان کا کیا کر دیتا ہے؟ انکار تفصیل کے ساتھ کہ سارے مقدمات ہمیں آپ کے تسلیم نہیں ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔
وہی ارباعۃ اور یہ چار ہیں بھئی ممانعت کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم پر بالاستقراء بالاستقراء استقراء کی وجہ سے۔ استقراء کہتے ہیں تلاش و جستجو۔ ہم نے تلاش کی تحقیق کی تو ممانعت کی کتنی قسمیں ملیں؟ چار قسمیں ملیں ہو سکتا ہے اور بھی ہوں لیکن ہمیں کتنی ملی ہیں؟ چار ہی ملی ہیں ان چار کو ذکر کریں گے۔ ممانعت نام سے ظاہر ہے منع سے ہے منع۔
انکار کرنا۔ تو جو معلل نے دلیل ذکر کی اس کے سارے مقدمات کا انکار کرنا یا بعض مقدمات کا انکار کرنا۔ تو کہتے ہیں یہ ممانعت چار قسم پر ہے استقراء کے لیے لانھا اما ان تکون فی نفس الوصفی کیونکہ یہ ممانعت یا تو نفس وصف میں ہوگا۔ ممانعت کس میں ہوگی؟ نفس وصف میں یعنی علت میں وصف سے کیا مراد ہے؟ علت بھئی کہ علت کا آپ انکار کرتے ہیں کہ علت یہ نہیں ہے بلکہ علت دوسری چیز ہے۔ ایک علت تھی ایک اس کا حکم تھا۔ معلل نے دلیل پیش کی کہ یہ علت ہے اور یہ اس کا حکم ہم نے کس چیز کا انکار کیا؟ علت کا انکار کر دیا کہ یہ علت نہیں ہے بلکہ علت دوسری چیز ہے۔
تو کہتے ہیں لانھا اما ان تکون فی نفس الوصفی اسی کیونکہ ممانعت یا تو وہ نفس وصف میں ہوگی۔ اعلان نسلم ان ھذا الوصف الذی تدعی وصفا علت این ہم یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ یہ وصف جس کا آپ نے دعوی کیا ہے وصف ہونے کا علت یہ کیا ہو؟ علت ہو یہ خبر ہے ان کی ان ھذا الوصف الذی تدعی وصفا علت ہم یہ بات تسلیم نہیں کہ یہ وصف جس کے آپ نے وصف ہونے کا دعوی کیا ہے یہ یہ علت ہے بل علت شفر بلکہ علت دوسری چیز ہے کقول الشافعی رحمہ اللہ جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے فی کفارۃ الافطار افطار کے کفارے میں۔
افطار روزہ توڑنا۔ روزہ توڑنے کے کفارے میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انھا عقوبۃ متعلقۃ بالجماع کہ یہ سزا ہے یہ کفارہ افطار کیا ہے؟ یہ سزا ہے متعلقۃ بالجماع کس کے ساتھ یہ متعلق ہے کس سے تعلق ہے اس کا؟ جماع سے صحبت کرنے سے کوئی صحبت کرے گا روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے تو اس پر کفارہ آئے گا۔ تو معلوم ہوا یہ کف اس کفارہ یہ جو سزا ہے اس کا تعلق انہوں نے کس سے جوڑ دیا؟ جماع سے یعنی اس کے علت جماع کو بنایا۔ اور اس کا مطلب ہے کوئی شخص جان بوجھ کر روزے میں کھا لے یا جان بوجھ کر روزے میں پی لے اس پر کفارہ نہیں آئے گا قضا تو آئے گی کفارہ نہیں آئے گا کیونکہ کفارے کا تعلق تو ان کے نزدیک کس سے ہے؟ جماع سے ہے۔
فلا فلاکون واجب فی الاکل والشرب تو کفارہ واجب نہیں ہوگا کھانے اور پینے کی صورت میں فنعقول پس ہم کہتے ہیں لان نسلم ہم یہ بات تسلیم نہیں کہ ان العلت فی الاصل ہی الجما کہ علت اصل کے اندر یہ جما ہے بل الافطار عمدا بلکہ علت کیا ہے؟ جان بوجھ کر روزہ توڑنا علت ہے۔
جس صورت میں بھی جان بوجھ کر روزہ توڑا تو کفارہ آئے گا چاہے صحبت کی صورت میں چاہے کھانے کی صورت میں چاہے پینے کیونکہ ان سب میں کیا پایا جا رہا ہے؟ جان بوجھ کر روزہ توڑنا پایا جا رہا ہے۔
وہ حاصل فی الاصل والشرب ایضا اور یہ افطار عمدا یہ تو حاصل ہو جاتا ہے کھانے اور پینے میں بھی دلیل انہ لو جامع ناسیا لا یفسد صومو لعدم الافطار دلیل اس کی کیا ہے؟ کہتے ہیں اس دلیل پے کے ساتھ کہ انہ لو جامع ان دلیل انہ دلیل کی اضافہ ہو رہی ہے آگے انہ لو جامع کی طرف بھئی اور یہ اضافہ بیانی ہے۔ اضافہ بیانی کس کو کہتے تھے؟ جس میں مضاف الیہ مضاف کا بیان کرتا ہے آگے وہ دلیل کی وجہ سے وہ دلیل کیا ہے؟ انہ آگے دلیل شروع ہوگئی بھئی وہی تفصیل اسی کے بیان آ گیا دلیل ہی ہے آگے بھئی۔
اس دلیل کی وجہ سے کہ اگر کوئی شخص صحبت کر لے ناسیا بھول کر تو لا یفسد صومو تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوتا لعدم الافطار کیونکہ افطار قصد نہیں پایا گیا تو معلوم ہوا ہماری علت صحیح ہے جو ہم نے کہا کہ کفارے کی علت کیا ہے؟
افطار عمدا ہے افطار افطار عمدا اس کی علت ہے اور آپ نے علت کس کو بنایا تھا؟ جماع کو اب حالانکہ بھول کر کوئی جماع کر لے اسے روزہ تو بیچارے کو یاد ہی نہیں تھا تو یہاں اس پر
کفارہ نہیں آتا آپ بھی تسلیم کرتے ہیں حالانکہ علت تو پائی جا رہی ہے جماع والی۔
او فی صلاحیتیہ للحکم مع وجودہ یا اس وصف کی یا وہ ممانعت ہوگی کس چیز کے اندر؟
في صلاحیتیہ للحکم اس وصف کی حکم کی صلاحیت رکھنے میں۔
اس وصف کے حکم کی صلاحیت رکھنے کی ممانعت ہوگی کہ ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ آپ کی علت اس حکم کے لیے علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی یہ اعتراض ہوگا۔ کیا اعتراض ہوگا؟
آپ کی علت اس حکم کی علت بننے کی آ یوں کہے آپ کا بتلایا ہوا وصف جس کو وہ علت بنایا تھا معلل نے آپ کا بتلایا ہوا وصف اس حکم کے لیے علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا مع وجودہ باوجود اپنے پائے جانے کے موجود ہو بھی تو بھی یہ اس حکم کے لیے علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
عبارت سمجھ میں آئی او فی صلاحیتیہ اس کا عطف ہے فی نفس الوصفی کو ہٹائیں ذرا اس کی جگہ اس کو رکھیں لانھا اما ان تکون فی صلاحیتیہ للحکم مع وجودہ اس لیے کیونکہ وہ ممانعت یا تو کس چیز کے اندر ہوگی حکم کے لیے اس وصف کی صلاحیت رکھنے میں ہوگی باوجو اس وصف کے پائے جانے کے اعلان نسلم ان ھذا الوصف صالح للحکم یعنی یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ یہ وصف صلاحیت رکھتا ہے اس حکم کی مع کونه موجودا باوجو اس وصف کے پائے جانے کے کقول الشافعی فی اثبات الولایۃ علی البکر جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے باکرہ پر ولایت کے ثابت کرنے میں۔
بھئی ہمارے نزدیک
جو صغیرہ ہے نابالغہ ہے اس پر ولی کو ولایت حاصل ہوتی ہے نکاح کی۔
ولی اس کا جہاں چاہے کیا کر سکتا ہے؟ نکاح کروا سکتا ہے اور اس کی علت کیا ہمارے نزدیک صغر ہے نابالغ ہونا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صغر نہیں ہے بلکہ اس کی علت بکر ہونا ہے باکرہ ہونا ہے۔
باکرہ ہونا تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں کقول الشافعی فی اثبات الولایۃ علی البکر جیسے امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے باکرہ پر ولایت کے ثابت کرنے میں کہ انھا باکرۃ جاھلۃ با امر النکاح کہ یہ باکرہ ہے نکاح کے معاملے سے ناواقف ہے لعدم الممارست بالرجال بوجہ مردوں کا تجربہ نہ ہونے کے
اس کو مردوں کا کوئی تجربہ نہیں یہ نکاح کے معاملے سے جاہل ہے باکرہ ہے اس وجہ سے اس پر ولی کو ولایت حاصل ہوگی فیلی علیہا لہذا اس پر ولایت دی جائے گی اس پر ولایت حاصل ہوگی فنعقول پس ہم کہتے ہیں لا نسلم ان وصف البکار صالحه لهذا الحکم یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ بکارت کا وصف وہ اس حکم کی صلاحیت رکھے لہ لم یظهر لہ تاثیرہ فی موضع آخر اس لیے کیونکہ اس بکارت کی تاثیر کسی دوسرے محل پر ظاہر نہیں ہوئی کہیں اور ہمیں دکھائیں کہ بکارت کی تاثیر ظاہر ہوئی ہو
اس قسم کے حکم میں کہیں اور بکارت موثر ہوئی ہو اس کے علاوہ کوئی اور جگہ نہیں ہے بل صالح لہو هو الصغر بلکہ اس کے حکم کی صلاحیت کس میں ہے؟ اس کے لیے صالح جو ہے وہ صغر ہے نابالغ ہونا ہے اور وہ وصف موثر ہے اس کا موثر ہونا دوسری جگہ پر بھی ثابت ہے اسی صغر کی وجہ سے نابالغ کے مال میں
ولایت حاصل ہوتی ہے۔
اسی صغر کی وجہ سے جب اسی صغر کی وجہ سے مال میں ولایت حاصل ہو جاتی ہے بالاتفاق آپ کے نزدیک بھی اور ہمارے نابالغ یا نابالغہ کے مال میں ولی کو ولایت حاصل ہوتی ہے آپ کے نزدیک بھی اور ہمارے نزدیک بھی اور اس کی وجہ کیا ہے صغر ہے آپ بھی تسلیم کرتے ہیں وہاں صغر کی وجہ سے مال میں ولایت حاصل ہے تو
لذا یہاں پر بھی کیا کیا ہونا چاہیے علت صغر ہی کو ہونا چاہیے کیونکہ صغر کا موثر ہونا آپ بھی تسلیم کر چکے ہیں جبکہ بکر کے موثر ہونے کا آپ نے کہیں پر بھی ہمیں نہیں دکھایا کوئی اور مقام نہیں جہاں یہ موثر ہو۔
تو جب صغر مال کے اندر موثر ہے مال کے معاملے میں تو جان کے معاملے میں بھی اسی کو موثر ہونا چاہیے۔
او فی نفس اچھا بھئی یہاں کیا آیا ممانعت چار قسم پر ہے پہلی قسم کیا بیان کی؟
نفس وصف کا انکار کرنا کہ علت یہ نہیں ہے۔
دوسرا کیا ہے؟ في صلاحیتیہ للحکم یہ کہنا کہ یہ علت اس حکم کی صلاحیت نہیں رکھتی تو بظاہر دونوں ایک ہی معلوم ہوتے ہیں۔
پہلے میں بھی علت کا انکار ہے دوسرے میں بھی علت کا انکار ہے۔
انہوں نے علت بکارت کو بنایا نا ہم نے کہا یہ صلاحیت نہیں تو علت ہی کا انکار ہے۔
تو بظاہر دونوں ایک معلوم ہوتے ہیں۔
اور حالانکہ یہ تو دو الگ الگ قسمیں ہیں۔
تو جواب یہ کہ بھئی پہلے میں نفس علت کا انکار تھا چاہے وہ علت تردیہ ہو چاہے علت مؤثرہ نفس علت کا انکار دوسرے میں علت مؤثرہ ہونے کا انکار کیا کہ یہ علت مؤثرہ نہیں ہے اس لیے علت نہیں ہے بھئی فرق سمجھ میں آیا؟
او فی نفس الحکم یا ممانعت کس میں ہوگی؟ نفس حکم میں کہ یہ حکم ہمیں تسلیم نہیں آپ کا اعلان نسلم ان ھذا ان ھذا الحکم حکم کہ یعنی یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ یہ حکم حکم ہے بل الحکم شی اخر بلکہ حکم دوسری چیز ہے کقول الشافعی فی مسح الراسی جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے مسح رأس کے بارے میں کہ انہ رکن فی الوضوء کہ مسح رأس کیا ہے؟ یہ وضو میں رکن ہے فرض ہے فیسن فیسن تسلیثہ لہذا مسنون ہے اس کی تسلیس
مسہ وضو کا رکن ہے وضو میں فرض ہے۔
لذا اس کے اندر بھی تین مرتبہ کرنا مسنون ہوگا مسح کتنی مرتبہ کرنا مسنون ہوگا؟ تین مرتبہ کرنا مسنون ہوگا کا غسل الوجه جیسے کہ چہرے کا دھونا چہرے کا دھونا وضو میں فرض ہے اور اس میں مسنون کیا ہے؟ کتنی مرتبہ پھر دھویا جائے؟
تین مر تو ایک ہے فرض
اور ایک ہے سنت
تو تسلیس کو انہوں نے حکم بنایا۔
علت کس کو قرار دیا؟ رکنیعت کو کس چیز کو؟ کہ
چہرے چہرے کا دھونا یہ رکن وضو ہے اور رکن وضو کا حکم کیا ہے؟ اس میں تسلیس مسنون ہے جو بھی رکن ہوگا اس میں تسلیس مسنون ہے چنانچہ مسح بھی کیا ہے؟ رکن ہے لہذا اس میں بھی تسلیس مسنون ہوگی یعنی مسح میں بھی سنت ہے تین دفعہ کیا جائے۔
تو علت کیا بیان کی؟ رکن ہونا
اور حکم کیا بیان کیا؟ تسلیس بھئی تسلیس۔
ہم جواب دیتے ہیں۔
کہ کس کا انکار کرنا ہے اب بھئی حکم کا حکم کا تس تو یعنی تسلیس کا ہم کہتے ہیں کہ رکن ہونا جو ہے
اس یہ علت تسلیس کی نہیں ہے۔
بلکہ رکن ہونا یہ علت ہے اکمال کی
ہمیں حکم نہیں تسلیم بھئی۔
تسلیس نہیں حکم بلکہ اکمال حکم ہے۔
رکن ہونا علت ہے لیکن آپ نے کس چیز کی بنائی علت؟ تسلیس کے لیے ہمیں آپ کا یہ حکم تسلیس مس مس
تسلیم نہیں بلکہ حکم کیا ہے؟ اکمال حکم ہے کیا حکم ہے؟
یاد رکھیے یہ جو سنتیں ہیں یہ مكملات فرائض ہوتی ہیں۔
سنتیں کیوں ہیں؟
ان کے ذریعے فرائض کی تکمیل ہوتی ہے تاکہ فرض اچھی طرح پورا ہو جائے فرض
بھئی آپ وضو کرتے ہیں وضو میں کچھ سنتیں ہیں کچھ فرض ہیں یہ سنتیں کیوں ہوتی ہیں؟
تاکہ فرض اچھی طرح اس کی تکمیل ہو جائے تو یہ سنتیں مكملات ہوتی ہیں۔
مكملات
اور یہاں پر
تکمیل اکمال کیسے ہوگا؟
اکمال اکمال کا معنی ہے پورا کرنا پورا کرنا۔
بلکہ یوں کہیں آسان لفظوں میں: اچھی طرح کر لینا، کیا معنی ہے؟ اچھی طرح کر لینا، تو ہم کہتے ہیں رکن ہونا فرض ہونا یہ علت ہے اچھی طرح کرنے کی نہ کہ تثلیث کی۔ جب ایک چیز فرض ہے تو اس میں مسنون کیا ہوگا؟ اچھی طرح کر لو، تثلیث مسنون نہیں اور اچھی طرح کرنا کس طرح ہوگا؟ ایک صورت یہ ہے کہ اسی محل فرض میں فعل کو لمبا کر دو۔ اسی محل فعل میں اس محل فرض کے اندر رہتے ہوئے فعل کو کیا کر دو؟ لمبا کر دو۔
اور اگر لمبا کرنا ممکن نہیں پھر تین دفعہ کر لو۔ مثلاً دیکھیے بھئی، توجہ ہے سبق کی طرف؟ چہرے میں فرض فرض مقدار کتنی ہے؟ سارے چہرے کا دھونا۔ جب ایک دفعہ آپ نے اچھی طرح چہرے کو دھویا، فرض ادا ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ فرض ادا ہو گیا۔ اب سنت کیا ہے؟ اچھی طرح کر لو، کیا کر لو؟ اچھی طرح کس طرح ہوگا؟ محل فرض کے اندر رہتے ہوئے فعل کو اور لمبا کر دو، خوب اچھی طرح کر لو۔ محل فرض کے اندر رہنا ہے، باہر نہیں رہنا۔ یا دوسری مثال لو، بازو والی بھئی، بازو، کتنا دھونا فرض ہے غسل میں ہاتھ کا؟ کہنی تک، کہنی سمیت بھئی۔ اب ایک دفعہ جب آپ نے کہنی تک دھو لیا، فرض پورا ہو گیا۔ اب سنت کیا ہے؟ اچھی طرح کرنا، کیا مطلب اچھی طرح کرنا؟ اسی فرض محل کے اندر رہتے ہوئے فعل کو اور لمبا کر دو۔ اب اسی محل کے اندر رہتے ہوئے اور تو دھونے کا فعل لمبا ہو نہیں سکتا، یہ ہو سکتا ہے کہنی سے بھی اوپر کی طرف آپ دھونا شروع کر دیں، کندھے تک دھو لیں، لیکن یہ آپ محل فرض میں رہے یا باہر چلے گئے؟ محل فرض کے اندر رہتے، رہنا ہے، اسی فرض کو اچھی طرح کرنا ہے نا اور اسی فرض کے اندر فعل کو اب اچھی طرح کر لو یعنی اس کو لمبا کر لو اور اس کی یہی صورت ہے کہ کیا کیا جائے پھر اس کو؟ تین دفعہ کر لیا جائے۔
تو اصل سنت تثلیث نہیں ہے بلکہ اکمال ہے، اچھی طرح کرنا ہے، لیکن وہ اکمال یہاں پر ہو ہی کس طرح سے سکتا ہے؟ تثلیث کے ذریعے ہو سکتا ہے اور جہاں پر تثلیث کے بغیر ہو سکتا ہے وہاں تثلیث مسنون ہی نہیں ہے، اچھی طرح کرنا مسنون ہے اور سر، سر کے اندر مسح کا حکم دیا گیا اور سر کا مسح فرض ہے۔ تو اس کے اندر سنت کیا ہوگی؟ اکمال، کیا معنی؟ پورا کرنا یعنی اچھی طرح کر لو، محل فرض کے اندر رہتے ہوئے فعل کو ذرا لمبا کر دو یعنی مسح کو ذرا لمبا کر دو اور محل مسح کون سی جگہ ہے؟ سر، اس میں فرض مقدار کتنی ہے؟ ناصیہ یا چوتھائی سر، چوتھائی سر کا مسح کر لیا، یہ تو فرض ادا ہو گیا، اب سنت کیا ہے؟ اچھی طرح ادا کر لو یعنی اسی مسح کے فعل کو لمبا کر دو، محل مسح کے اندر رہتے ہوئے اور وہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کس طرح ہو سکتا ہے؟ پورے سر کا مسح کر لو، کیا کر لو؟ پورے سر کا مسح کر لو۔
تو دیکھو، یہاں اصل مسنون کیا ہے؟ فعل کو لمبا کرنا مسنون ہے اور وہ فعل کا لمبا کرنا وہ چہرے کے اندر تو کس طریقے پر؟ وہ ہو ہی نہیں سکتا وہاں، کیا صورت ہوگی؟ وہاں اس لیے تثلیث کی صورت اختیار کرنا پڑی جبکہ اصل تثلیث مسنون نہیں ہے، مسنون کیا ہے؟ اچھی طرح کرنا اور وہ اچھی طرح مسح کے اندر کس طرح ہوگا؟ پورے سر کا مسح کر لیا جائے، دیکھو محل فرض ہی کے اندر رہے۔ سر کا مسح فرض تھا نا، ہم سر ہی میں رہے مسح کرتے ہوئے، سر سے باہر نہیں نکلے۔ ہاں، کیا کر لیا؟ اسی محل فرض میں مسح کو لمبا کیا اور پورے سر کا مسح کر لیا بھئی۔ صورت سمجھ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو ایک یا تین بالوں پر مسح فرض ہے تو ان کے نزدیک بھی اسی طرح کیا ہو سکتا ہے؟ فعل کو، مسح کو لمبا کیا جا سکتا ہے، پورے سر کا مسح کر لیا جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو انہوں نے کہا تھا کہ رکن ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ تثلیث کی، ہم نے کہا کہ رکن ہونا یہ علت اکمال، یہ علت تثلیث کی نہیں ہے بلکہ کس کی ہے؟ اکمال کی ہے کہ اکمال مسنون ہونا چاہیے، تثلیث مسنون نہیں بھئی، تو ہم نے ان کے حکم تثلیث کے مسنون ہونے کا انکار کیا اور کیا کہا؟ حکم تثلیث کا مسنون ہونا نہیں بلکہ حکم کیا ہے؟ اکمال کا مسنون ہونا حکم ہے۔
کقول الشافعي في مسح الرأس، جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے مسح رأس میں ان مسح الرأس رکن في الوضوء کہ وہ جو مسح رأس یہ رکن ہے وضو میں فیسن تثلیثہ پس مسنون ہوگی اس کی تثلیث کغسل الوجه جیسے کہ چہرے کا دھونا کہ اس کے اندر بھی تثلیث مسنون ہے۔ فنقول ہم کہتے ہیں لا نسلم ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ ان المسنون فی الصلاة التثلیث کہ مسنون جو ہے وضو کے اندر تثلیث ہے بل الاکمال بلکہ مسنون کیا ہے؟ اکمال ہے بعد تمام الفرض فرض کو پورا کرنے کے بعد، پہلے کیا کیا جائے؟ فرض کو پورا کیا جائے، اس کے بعد اکمال کیا جائے، پورا کیا جائے یعنی اچھی طرح۔ ففي الوجه پس چہرے کے اندر لما لما استوعب الفرض جب فرض کا استیعاب کر لیا گیا، استیعاب کا معنی گھیر لینا، جب فرض کو پوری طرح گھیر لیا گیا صیر إلى التثلیث یا یوں کہیں لما استوعب الفرض جب فرض نے استیعاب کر لیا، لما فرض نے ہی پورے چہرے کو گھیر لیا یا نہیں گھیر لیا؟ گھیر لیا۔ لما استوعب الفرض جب فرض نے استیعاب کر لیا، پورے چہرے کو گھیر لیا تو صیر إلى التثلیث تو کس کی طرف رجوع کیا گیا؟ تثلیث کی طرف۔ وفي الرأس اور رأس میں لما لم لم يستوعب الفرض جب استیعاب نہیں کیا فرض نے الرأس کس کا؟ سر، فرض مقدار تو کتنی تھی مسح میں؟ چوتھائی سر، تو فرض مقدار، فرض نے تو استیعاب نہیں کیا سر کا صیر إلى الإکمال تو وہاں رجوع کس کی طرف کیا جائے گا؟ اکمال کی طرف کہ پورے سر کا مسح کر لو فیکون ہو السنة دون التثلیث تو یہ سنت ہوگی نہ کہ تثلیث یعنی اکمال سنت ہوگی۔
یہ تو پہلی قسم تھی ممانعت کی حکم کے اندر، کس کا انکار کیا جائے؟ نفسِ حکم کا، او في نسبتہ إلى الوصف یا اس حکم کے وصف کی طرف نسبت میں ممانعت ہوگی۔ وصف سے کیا مراد ہے؟ علت، اس حکم کی علت کی طرف جو نسبت کی ہے اس کا انکار کیا جائے گا۔ معلل نے کیا کیا ہے؟ ایک علت بنائی، ایک اس کا حکم ثابت کیا۔ ہم حکم کا انکار کرتے ہیں، پہلی صورت کیا ذکر کی؟ نفسِ حکم کا انکار کر دیا، ہمیں آپ کا یہ حکم تسلیم نہیں، ہمیں تثلیث کا مسنون ہونا تسلیم نہیں۔ دوسری قسم کہ اس، یہ جو اس حکم کی اس علت کی طرف آپ نے نسبت کی ہے یہ ہمیں تسلیم نہیں ہے بلکہ اس علت کا یہ حکم نہیں ہے بلکہ اس کا حکم دوسرا ہے بھئی۔
أي لا نسلم أن هذا الحكم منسوب إلى هذا الوصف یعنی یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ یہ حکم منسوب ہے اس وصف کی طرف بل إلى وصف آخر بلکہ یہ حکم منسوب ہے دوسرے وصف کی طرف، اس کی علت اور ہے۔ مثل أن نقول مثال کے طور پر ہم یہ کہتے ہیں في المسألة المذكورة اس مذکورہ مسئلہ میں یوں کہیں گے بھئی، دوسری قسم ممانعت کی حکم کے اندر بیان ہو رہی ہے کہ یوں کہا جائے لا نسلم ہمیں یہ بات تسلیم نہیں أن التثليث في الغسل مضاف إلى الركنية کہ یہ تثلیث جو ہے دھونے میں اس کی نسبت کس کی طرف ہے؟ رکنیت کی طرف ہو، یہ بات ہمیں تسلیم نہیں، یہ تثلیث دھونے میں یہ جو تین مرتبہ دھونا ہے اس کی نسبت رکنیت کی طرف کرنا یہ ہمیں تسلیم نہیں ہے بدليل الانتقاض بوجہ ٹوٹنے کی دلیل کے پائے جانے کے۔
آپ کی یہ علت ٹوٹ جاتی ہے۔ آپ، آپ نے حکم کیا بیان کیا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ حکم کیا بیان کیا؟ تثلیث، اور علت کیا بیان کی؟ رکن ہونا، تو یہ تثلیث کی جو آپ نے نسبت کی رکن ہونے کی طرف اور رکن ہونے کو اس کی علت بنایا، ہمیں یہ تثلیث نہیں، یہ حکم اس علت کا نہیں ہے بلکہ یہ حکم دوسری علت کا ہے۔ اس حکم کی نسبت اس علت کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ آپ کی علت جامع مانع نہیں۔ علت جب آپ نے ایک چیز کو بنایا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ جہاں وہ علت ہو کیا ہونا چاہیے؟ حکم ہونا چاہیے، اور جہاں علت نہ ہو وہاں حکم نہیں ہونا چاہیے، لیکن ہم آپ کو دکھاتے ہیں آپ کی علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم نہیں پایا جا رہا، اور ہم آپ کو دکھاتے ہیں حکم پایا جا رہا ہے لیکن آپ کی علت نہیں پائی جا رہی بھئی، تو آپ کی علت جامع بھی نہ رہی اور مانع بھی نہ رہی۔
بدليل الانتقاض بالقيام والقراءة بوجہ بدليل الانتقاض یاد رکھیے یہ بھی اضافت بیانی ہے اور الانتقاض بالقیام والقراءۃ، آپ کی علت ٹوٹ جاتی ہے کس کی وجہ سے؟ قیام اور قرأت کی وجہ سے، قیام اور بدلیل تو دلیل کی وجہ سے اور وہ دلیل کیا دلیل ہے؟ الانتقاض بالقيام والقراءة کہ آپ کی دلیل ٹوٹ جاتی ہے، آپ کی علت، آپ کی یہ علت ٹوٹ جاتی ہے کس کی وجہ سے؟ قیام اور قرأت۔ بھئی آپ نے علت کس کو بنایا تھا؟ رکن ہونا، تو جو بھی رکن ہو اس میں کیا ہوگا؟ تثلیث اس کا حکم، تثلیث مسنون ہوگی، لیکن دیکھو قرأت نماز میں فرض ہے، رکن ہے، تو علت پائی گئی لیکن تثلیث نہیں ہے۔ اسی طرح قیام بھئی، قیام کیا ہے نماز کا؟ رکن ہے، اور رکن ہو علت آ گئی تو حکم آنا چاہیے، کیا؟ تثلیث مسنون ہو، لیکن یہاں بھی قیام کے اندر بھی تثلیث مسنون نہیں، تو علت پائی جا رہی ہے، رکن ہونا پایا جا رہا ہے لیکن تثلیث والا حکم نہیں، معلوم ہوا آپ کی علت جامع نہ رہی، جامع نہ رہی۔
فإنهما ركنان في الصلاة پس یہ دونوں جو ہیں رکن ہیں نماز میں ولا يسن تثليثهما اور ان دونوں کی تثلیث مسنون نہیں وبالمضمضة والاستنشاق اس کا عطف بالقیام پر ہے بھئی، اور مضمضہ اور استنشاق کی وجہ سے، مضمضہ کیا معنی؟ کلی کرنا، استنشاق؟ ناک میں پانی ڈالنا، حيث يسن تثليثهما ان دونوں کی تثلیث مسنون ہے بلا ركنية بغیر رکنیت، بھئی وضو میں ناک میں بھی پانی ڈالتے ہیں اور کلی بھی کرتے ہیں اور کتنی مرتبہ؟ تین مرتبہ، تو تثلیث ہے حالانکہ یہ دونوں فرض نہیں۔ حالانکہ یہ دونوں تو یہ حکم تثلیث والا پایا جا رہا ہے اور علت نہیں پائی جا رہی اور پہلے علت پائی جا رہی تھی اور حکم نہیں پایا جا رہا تھا۔
وفساد الوضع اور تیسرا اعتراض جو کس پر ہوتا ہے؟ علتِ طردیہ پر، پہلا تھا القول بموجب العلة، دوسرا کیا؟ ممانعت، تیسرا ہے فسادِ وضع۔ فسادِ وضع، بھئی فسادِ وضع اس کو کہتے ہیں کہ سائل معلل سے کہتا ہے کہ آپ نے حکم کی جو علت بیان کی ہے یہ علت اس حکم کے مناسب ہی نہیں ہے، یہ تو اس کی ضد کے مناسب ہے۔ آپ اس علت کے ذریعے جو حکم ثابت کر رہے ہیں اور اس حکم کے لیے اس کو علت بنا رہے ہیں، یہ علت تو اس حکم کے مناسب ہی نہیں ہے، یہ تو اس کی ضد کے مناسب ہے یعنی یوں کہیں یہ علت اس حکم کو نہیں تقاضا کر رہی، یہ علت تو آپ کے، آپ نے جس کو حکم بنایا یہ علت اس حکم کا انکار کر رہی ہے اور اس کی ضد کا تقاضا کر رہی ہے بھئی۔ یہ سب سے قوی اعتراض ہے بھئی، جو سائل کرتا ہے معلل پر، کیا اعتراض کرتا ہے؟
کہ یہ جس کو آپ نے علت بنایا یہ علت خود آپ کے حکم کا انکار کر رہی ہے کہ حکم یہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکم اس کی ضد ہونا چاہیے، جیسے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی اگر کافر تھے اور پھر اس کے بعد ایک ان میں سے مسلمان ہو گیا تو مسلمان ہوتے ہی ایک کے، نکاح ٹوٹ جائے گا۔ نکاح ٹوٹ جائے گا، اور علت کیا ہے؟ کہتے ہیں اسلام لانا، ایک کا اسلام لانا یہ علت ہے نکاح کے ٹوٹنے کی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ نکاح کے ٹوٹنے کی علت کس کو بنایا؟ اسلام کو بنایا۔ ہم کہتے ہیں اسلام جس کو آپ نے علت بنایا جدائی کے لیے، اسلام تو تقاضا جدائی کا نہیں کرتا، اسلام توڑ کا تقاضا نہیں کرتا، اسلام تو جوڑ کا تقاضا کرتا ہے، تو آپ کا اس کو علت بنانا جدائی کے لیے صحیح نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔
وفساد الوضع اور ایک فسادِ وضع ہے وهو كون الوصف في نفسه اور وہ ہونا وصف کا اپنی ذات کے اعتبار سے بحيث يكون آبياً عن الحكم اس طور پر کہ وہ وصف جو ہے وہ انکار کرنے والا ہو حکم کا، ابیٰ یأبیٰ کے کیا معنی ہیں؟ انکار، کہ وہ وصف جو ہے انکار کرنے والا ہو اس حکم کا، کون سے حکم کا انکار کر رہا ہے؟ جو معلل نے ذکر کیا ہے ومقتضياً لضده اور تقاضا کرنے والا ہے اس کی ضد کا ولم يذكره أهل المناظرة اور اس کو ذکر نہیں کیا اہل مناظرہ نے، یہ فسادِ وضع کو اہل مناظرہ نے ذکر نہیں کیا ويمكن درجھ في ما قالوا اور ممکن ہے اس کا درج ہونا اس کے اندر جو اہل مناظرہ نے کہا ہے، اہل مناظرہ کہتے ہیں إنه لا يتم التقريب إنه لا يتم التقريب، تو کہتے ہیں اہل، توجہ ہے سبق کی طرف؟ اہل مناظرہ نے فسادِ وضع کو ذکر تو نہیں کیا لیکن شارح فرماتے ہیں ممکن ہے وہ جو کہتے ہیں نا إنه لا يتم التقريب، شاید اسی کے اندر فسادِ وضع بھی داخل ہو، اسی کے اندر یاد رکھیے تقریب کسے کہتے ہیں؟ تقریب کہتے ہیں دلیل کا دعوے کے مطابق ہونا، آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے اور دلیل بھی لے کر آئے ہیں، آپ کی دلیل دعوے کے مطابق ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ تقریب کہیں گے، آپ کی دلیل دعوے کے مطابق ہے۔ تو یہاں کیا آیا؟ لا يتم التقريب، تقریب تام نہیں، تقریب کیا معنی؟ یعنی دلیل دعوے، تقریب کا معنی تو تھا دلیل دعوے کے مطابق ہے اور کہہ رہے ہیں تام نہیں ہے کیا معنی؟ دلیل دعوے کے مطابق نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں کہ اہل مناظرہ نے فسادِ وضع کو ذکر تو نہیں کیا لیکن ممکن ہے یہ فسادِ وضع درج ہو فی یعنی داخل ہو فیما قالوا ان کے اس قول کے اندر إنہ لا يتم التقريب کہ تقریب تام نہیں، دلیل دعویٰ کے مطابق نہیں ہے، ہو سکتا ہے اسی کے اندر فسادِ وضع بھی داخل ہو بھئی۔ کتعلیلهم یعنی تعلیل الشافعیة، جیسے کہ شوافع کی تعلیل ہے لايجاب الفرقة کس چیز کو ثابت کرنے کے لیے؟ فرقت، جدائی کو ثابت کرنے کے لیے شوافع نے تعلیل کی، کس چیز کے ساتھ؟ بالإسلام أحد الزوجين میاں بیوی میں سے ایک کے اسلام کے ساتھ تعلیل کی اس کو علت بنایا جدائی کے ثابت کرنے کے لیے، فإنهم قالوا پس انہوں نے کہا إذا أسلم أحد الزوجين الكافرين کہ جب مسلمان ہو جائے دو میاں، کافر میاں بیوی میں سے کوئی ایک تقع الفرقة بينهما تو ان دونوں میں جدائی واقع ہو جائے گی بمجرد الإسلام محض اسلام سے ہی إن كانت غير مدخول بها اگر وہ بیوی کیا ہوئی؟ غیر مدخول بہا ہوئی اس سے صحبت نہیں کی تو صرف اسلام لانے سے ہی فوراً کیا آ جائے گی؟ جدائی، وبعد مضي ثلاثة حيض إن كانت مدخولاً بها اور تین حیضوں کے گزرنے کے بعد جدائی آ جائے گی اگر وہ عورت کیا ہوئی؟ مدخول بہا ہوئی اس سے خاوند صحبت کر چکا ہے ولا ولا يحتاج إلى أن يعرض الإسلام على الآخر اور یہ محتاج نہیں ہے کہ اسلام پیش کیا جائے دوسرے پر، وہ فرماتے ہیں دوسرے پر اسلام پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، ایک کے مسلمان ہوتے ہی خود بخود کیا آ جائے گی؟ جدائی آ جائے گی بھئی۔
حانہ و نحن نقول ہم کہتے ہیں، هذا في وضعه فاسد یہ تو اپنی وضع ہی میں فاسد ہے۔ یہ تو اپنی وضع ہی میں فاسد ہے، جس چیز کو آپ علت بنا رہے ہیں آپ کا اس کو علت قرار دینا اور علت متعین کرنا ہی فاسد ہے، لأن الإسلام عرف عاصما للحقوق اس لیے کیونکہ اسلام کو جانا گیا ہے کہ وہ حفاظت کرنے والا ہے حقوق کی، لا رافعا لها نہ کہ ان حقوق کو اٹھانے والا اور ان کو ختم کرنے والا۔ اسلام تو جوڑ کا تقاضا کرتا ہے، جوڑ کے لیے آیا ہے توڑ کے لیے نہیں آیا، فينبغي أن يعرض الإسلام على الآخر پس مناسب یہ ہے کہ اسلام پیش کیا جائے دوسرے پر بھی۔
اب ہماری علت ذکر ہونے لگی ہے، کہ اسلام کے لانے سے توڑ نہیں آئے گا بلکہ کیا کیا جائے گا پھر؟ دوسرے پر اسلام کو پیش کیا جائے گا، فإن أسلم پس اگر وہ اسلام لے آیا دوسرا بقيا النكاح بينهما تو ان دونوں میں نکاح باقی رہے گا، وإلا اور اگر ایسا نہ ہوا یعنی اگر دوسرا اسلام نہ لایا، تضاف الفرقة إلى إباء الآخر تو جدائی کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ دوسرے کے انکار کی طرف۔ ہم بھی کہتے ہیں جب وہ انکار کر دے تو جدائی آ جائے گی، لیکن اب یوں نہ کہو اب یوں کہ اسلام کی وجہ سے جدائی آئی، بلکہ کہو اسلام سے انکار کی وجہ سے جدائی آئی۔ اسلام تو جوڑ بنانا چاہتا تھا، لیکن اس نے خود ہی کیا کیا؟ انکار کر دیا، توڑ کو اختیار کر لیا، تو لہٰذا جدائی کی علت اسلام نہیں بلکہ اسلام سے انکار ہے۔
وهو معنى معقول صحيح اور یہ ایسی علت ہے معقول جو عقل میں آنے والی ہے، صحیح اور صحیح ہے جسے عقل بھی تسلیم کرتی ہے، وهذا أي فساد الوضع من أقوى الاعتراضات یہ جو فساد وضع ہے، یہ سب سے قوی اعتراضات میں سے ہے، إذ لا يستطيع المعلل فيها من الجواب اس لیے کیونکہ استطاعت نہیں رکھتا معلل اس کے اندر جواب دینے کی۔ وہ اس کا کوئی جواب پھر دے ہی نہیں سکتا بھئی، بخلاف المناقضة بخلاف کس کے؟ مناقضہ کے، مناقضہ آگے دو سطروں کے بعد مناقضہ آ رہا ہے بھئی، تو بخلاف مناقضہ کے، فإنه يلجأ فيها اس مناقضے کے اندر وہ جو معلل ہے، وہ مجبور ہو جاتا ہے إلى القول بالتأثير کس کی طرف؟ قول بالتأثير، مؤثر ہونے کے قول کی طرف بھئی، وہ ذکر کس کا چل رہا ہے؟ کس کے دفع کے طریقے چل رہے ہیں؟ علتِ طردیہ کے، تو علتِ طردیہ کے اندر فسادِ وضع کے ذریعے جب آپ نے اعتراض کیا، یہ سب سے قوی اعتراض ہے۔
یہ مناقضے سے بھی قوی اعتراض ہے، مناقضے کے اندر تو وہ مجبور ہو جائے گا، ذکر کر رہا تھا کس کو؟ علتِ طردیہ کو، اور مجبور ہو جائے گا کون سے قول کی طرف؟ مؤثر ہونے کے قول کی طرف چلا جائے گا کہ اعتبار کس کا ہے؟ مؤثر ہونے کا اعتبار ہے، طرد کا اعتبار نہیں، وبيان الفرق اور بیانِ فرق کی طرف وہ چلا جائے گا، وہ مناقضے کے اندر ہم اعتراض کریں گے، تفصیل آگے آئے گی، وہ فرق کرے گا کہ یہاں پر دونوں چیزوں میں فرق ہے، کیا ہے؟ تو مناقضے کے اندر وہ کوئی فرق بیان کر دے گا یا مؤثر ہونے کے قول کی طرف چلا جائے گا، کسی نہ کسی طرح جان چھڑائے گا، لیکن فسادِ وضع کا وہ کوئی جواب نہیں دے سکتا۔
تو چونکہ یہ سب سے قوی اعتراض تھا مناقضے سے بھی بڑھ کر، ولهذا قدم عليها اسی وجہ سے اس فسادِ وضع کو مناقضے پر مقدم کیا، کہتے ہیں وهو بمنزلة فساد الأداء في الشهادة اور یہ جو فسادِ وضع ہے، یہ شہادت میں فسادِ ادا کی طرح ہے، یعنی وہ شہادت جس کی ادا میں ہی فساد آ جائے، گواہ کو کیسا ہونا چاہیے؟ اہلیت بھی ہونی چاہیے اور عدالت بھی ہونی چاہیے، لیکن اداۓ شہادت میں ہی فساد آ جائے تو پھر عدالت دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔
ایک شخص نے دعویٰ کیا دوسرے پر کہ اس نے میرے بیس، بیس دینار دینے ہیں اور قاضی نے کہا گواہ لاؤ، وہ گواہ لے کر آیا، گواہوں سے پوچھا ہاں بھئی، آپ گواہی کیا گواہی دیتے ہیں؟ گواہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اس کی ایک بھینس دینی ہے، یہ تو اداۓ شہادت میں ہی کیا ہو گیا؟ فساد آ گیا، دعویٰ اس کا اور ہے اور گواہی کسی اور چیز پر دے رہے ہو، یہ گواہی سے مربوط ہی نہیں ہے، اب ہمیں ادا، گواہوں کے عادل ہونے کی تحقیق کروانے کی بھی ضرورت نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو فسادِ وضع بھی اسی طرح ہے۔
کہتے ہیں وهو بمنزلة فساد الأداء في الشهادة یہ جو فسادِ وضع ہے، یہ شہادت میں فسادِ ادا کے درجے میں ہے، فإنه إذا فسد الأداء في الشهادة بنوع مخالفة للدعوى اس لیے کیونکہ جب ادا فاسد ہو جائے گواہی میں، بنوع مخالفة للدعوى دعوے کی ایک نوع کی مخالفت کی وجہ سے، فلا يحتاج بعد ذلك تو ضرورت نہیں ہے اس کے بعد، إلى أن يتفحص عن عدالت الشاهد وصلاحه یہ کہ تحقیق کی جائے، تفحص کا معنی تحقیق کرنا، معلوم کرنا، یہ کہ تحقیق کی جائے، معلوم کیا جائے عن عدالت الشاهد وصلاحه شاہد کے، گواہ کے عدالت اور اس کے صلاح کے بارے میں بھئی، تحقیق کی جائے اس کی ضرورت ہی نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ فسادِ وضع سب سے قوی اعتراض، کہ اس کے بعد اس اعتراض کے بعد اس کے پاس کوئی جواب رہتا ہی نہیں ہے، چلیے بس، وهذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔