Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-102

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔102 وحكمه في الأصل أن يثبت المراد به شرعاً على سبيل اليقين، يعني أن الإجماع في الأمور الشرعية في الأصل يفيد اليقين والقطعية، فيكفر جاحده وإن كان في بعض المواضع بسبب العارض لا يفيد القطع. وحكمه، آگے إجماع کا حکم بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وحكمه، اور إجماع کا حکم جو ہے، في الأصل، اصل میں، یعنی اصل کے اعتبار سے إجماع کا حکم، یعنی جب درمیان میں عوارض کا دخل نہ ہو۔ عوارض کا دخل جس وقت نہ ہو، اصل کے اعتبار سے إجماع کا حکم یہ ہے کہ أن يثبت المراد به شرعاً، کہ ثابت ہو جاتی ہے اس کے ذریعے وہ چیز جس کا ارادہ کیا گیا، اس حال میں کہ وہ شرعی ہو۔ اس حال میں کہ وہ شرعی ہو۔ یعنی وہ مرادِ شرعی ہو جس کا ارادہ کیا گیا۔ یعنی شرعی امر ہو، کون سا امر ہو؟ شرعی امر ہو، دنیاوی امر نہ ہو۔ تو حکم إجماع کا یہ ہے اصل کے اعتبار سے کہ اس کے ذریعے وہ شرعی مراد ثابت ہو جائے گی على سبيل اليقين، یقین کے طریقے پر بھئی۔ کس طریقے پر؟ یقین کے طریقے پر بھئی، یقین کے۔ یعنی یقین کا یہ فائدہ دیتا ہے، کون؟ إجماع۔ تو لہٰذا یہ جب یقین کا فائدہ دیا اس نے، تو اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یقین، یقین تو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ جس طرح کتابُ اللہ اور سنت قطعی ہے، اسی طرح إجماع بھی قطعی ہے بھئی۔ يعني أن الإجماع في الأمور الشرعية، یعنی کہ إجماع امورِ شرعیہ کے اندر، في الأصل، اصل میں، يفيد اليقين والقطعية، یہ فائدہ دیتا ہے یقین اور قطعی ہونے کا، فيكفر جاحده، تو پس کافر قرار دیا جائے گا اس کے انکار کرنے والے کو۔ یہ اصل کے اعتبار سے ہے، جب عوارض کا دخل نہ ہو۔ وإن كان في بعض المواضع بسبب العارض لا يفيد القطع، اگرچہ بعض مواضع کے اندر، بعض جگہوں کے اندر عارض کی وجہ سے یہ قطعی ہونے کا فائدہ نہیں دیتا، عارض کوئی پیش آ جاتا ہے، كالإجماع السكوتي، جیسے کہ إجماعِ سکوتی ہے، لقوله تعالىٰ، اب دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ حکم کیا ذکر کیا؟ کہ إجماع یقین کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا۔ بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ، اور بنا... اسی طرح ہم نے بنایا تمہیں أُمَّةً وَسَطًا، عادل امت بھئی۔ وسط کس معنی میں؟ عادل کے معنی میں۔ اور اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ، تاکہ تم گواہ ہو جاؤ لوگوں پر۔ تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ۔ قیامت کے روز جب مجرم اپنے جرم کا انکار کریں گے، گزشتہ امتوں والے، تو اس موقع پر گواہ وہ کہیں گے گواہ طلب کریں گے، تو ہماری امت کو گواہ کے طور پر، اس امت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ امت جو ہے، اس کو گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ وہ کہیں گے: یہ لوگ تو ہمارے زمانے میں تھے ہی نہیں، یہ تو بعد میں پیدا ہوئے ہیں، یہ ہمارے خلاف کیسے گواہ بن سکتے ہیں بھئی؟ امت والوں سے کہیں گے کہ تم کیسے ہمارے خلاف گواہی دیتے ہو، تم تو اس وقت تھے ہی نہیں؟ وہ جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اللہ نے اور اس کے رسول نے یہ خبر دی تھی کہ تم لوگوں کے پاس پیغمبر آئے تھے اور پھر تم نے ان کی دعوت کا انکار کیا بھئی، اور ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی ہے اور ان کی ہر خبر یقینی ہے، ان کی ہر خبر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جس وقت وہ انکار کر رہے ہوں گے اپنے پاس انبیاء کے آنے کا بھئی، تو یہ گواہی دیں گے اس پر۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ، اور اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا تاکہ تم گواہ ہو جاؤ لوگوں پر۔ وصفهم بالوسطية، اللہ نے موصوف کیا ہے ان کو کس کے ساتھ؟ وسط ہونے کے ساتھ، وهي العدالة، اور یہ عدالت ہے، فيكون إجماعهم حجة، تو پس ان کا إجماع حجت ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جب یہ عادل امت ہے، قابلِ اعتماد ہے، تو پھر ان کا إجماع حجت ہوگا بھئی۔ وکذا قوله تعالىٰ، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ، تم سب سے بہترین امت ہو جو بھیجی گئی ہو لوگوں کی طرف۔ والخيرية إنما تكون باعتبار كمالهم في الدين، اور بہتر ہونا جو ہے، یہ دین کے اندر کامل ہونے کے اعتبار سے ہوگا، دین کے اندر کمال کے اعتبار سے یہ ہوگا یہ بہتر ہونا، فيكون إجماعهم حجة، تو ان کا إجماع کیا ہے؟ حجت ہے بھئی۔ دین کے اندر جب یہ ان کو بہترین قرار دیا گیا اور کس اعتبار سے بہترین؟ دین کے اندر کمال کے اعتبار سے، تو لہٰذا دین کے معلوم ہوا، دین کے معاملات میں ان کے بات کیا ہوگی؟ حجت ہوگی بھئی، إجماع بھئی۔ وکذا قوله تعالىٰ، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول ہے: وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ، اور جو کوئی مخالفت کرتا ہے پیغمبر کی بعد اس کے جبکہ ظاہر ہو گئی اس کے لیے ہدایت، ایک شخص کے لیے ہدایت ظاہر ہو گئی، سیدھا راستہ اس کے سامنے کھل کر سامنے اس کے آ گیا اور اس کے بعد پھر وہ پیغمبر کی مخالفت کرتا ہے، وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ، اور پیروی کرتا ہے مسلمانوں کے راستے کے علاوہ کی، مسلمانوں کے راستے کو چھوڑ کر اور چیز کی پیروی کرتا ہے، اللہ فرما رہے ہیں: نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ، ہم اسی کے سپرد کر دیں گے اسے جس طرف وہ پھیرا ہے، ہم اسی راہ پر ڈال دیں گے اس کو جس طرف وہ پھر گیا ہے۔ وہ پیغمبر کی مخالفت پر آیا ہے، مسلمانوں کے راستے کو جس نے چھوڑ دیا ہے، ہم بھی اس کو اسی راستے پر لگا دیں گے جس طرف وہ پلٹ گیا ہے، پھر گیا ہے، آگے اللہ فرماتے ہیں: وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ، اور ہم اس کو جہنم میں داخل کر دیں گے بھئی، اس کو جہنم میں داخل کر دیں گے۔ تو دیکھیے، شارح فرما رہے ہیں: فجعلت مخالفة المؤمنين مثل مخالفة الرسول، مؤمنین کی مخالفت کو رسول کی مخالفت کی طرح قرار دیا گیا، فيكون إجماعهم كخبر الرسول حجة، تو ان کا إجماع بھی خبرِ رسول کی طرح حجت ہوگا۔ بھئی دیکھیے، اس آیت میں اللہ فرما رہے ہیں: اور جو کوئی پیغمبر کی مخالفت کرتا ہے بعد اس کے جب اس کے لیے سیدھا راستہ کھل چکا، اس کے سامنے آ چکا، اور مسلمانوں کے راستے کے علاوہ کی پیروی کرتا ہے، تو ہم بھی اس کو اسی راہ پر لگا دیں گے جس پر وہ جس کی طرف وہ پھر گیا ہے، جس پر وہ چل دیا ہے، اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر کی مخالفت حرام ہے، پیغمبر کی مخالفت حرام ہے۔ اور یہاں دھمکی دی جا رہی ہے کہ ہم اس کو جہنم میں ڈال دیں گے بھئی۔ اور پیغمبر کی مخالفت حرام ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی ذکر کر دیا گیا کہ مؤمنین کے راستے کے علاوہ کی جو پیروی کرتا ہے، یعنی جو مؤمنین کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے، مؤمنین کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے، اس کا عطف کیا گیا وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ پر بھئی۔ تو اور وہ حرام تھا، معلوم ہوا یہ بھی حرام ہے۔ معلوم ہوا یہ بھی حرام ہے، حرام۔ جس طرح پیغمبر کی مخالفت حرام، اسی طرح تمام مسلمانوں کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے کو اختیار کرنا بھی حرام ہے۔ اور جیسے اس کی سزا جو ہے وہ جہنم میں ڈالنا ہے، اسی طرح اس کی سزا بھی کیا ہے؟ جہنم میں ڈالنا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ خلافِ إجماع یہ کیا ہے؟ حرام۔ معلوم ہوا إجماع حجت ہے بھئی، إجماع کیا ہے؟ حجت ہے اور اس کی مخالفت حرام ہے، یہ یقین کا فائدہ دیتا ہے جس طرح پیغمبر کا کلام یقین کا فائدہ دیتا ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: فيكون إجماعهم كخبر الرسول حجة قطعية، تو پس اس مسلمانوں کا إجماع بھی خبرِ رسول کی طرح قطعی حجت ہے، وأمثاله، اور اس کی مثل اور آیتیں جو ہیں۔ وقد ضل بعض المعتزلة والروافض، اور تحقیق گمراہ ہوئے بعض معتزلہ اور روافض یعنی شیعہ، فقالوا، تو انہوں نے کہا: إن الإجماع ليس بحجة، کہ إجماع حجت نہیں ہے، دلیل نہیں ہے، لأن كل واحد منهم يحتمل أن يكون مخطئاً، اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں یہ احتمال ہے کہ وہ خطا کرنے والا ہو، فكذا الجميع، تو اسی طرح سب ہیں۔ بعض معتزلہ اور یہ شیعہ کیا کہتے ہیں کہ بھئی إجماع کس چیز کا نام ہے؟ تمام مجتہدین کی رائے کا متفق ہو جانا، اور ہر مجتہد کی رائے میں غلطی کا بھی احتمال، تو سب کی رائے اکٹھی ہو گئی تو اس میں بھی اسی طرح غلطی کا احتمال ہے۔ لیکن شارح آگے فرماتے ہیں: ولا يدرون قوة الحبل المؤلف من الشعرات، لیکن وہ نہیں جانتے اس رسی کی طاقت جو مرکب ہو بہت سے بالوں سے۔ بھئی ایک ایک تو ہو بال، بال تو ٹھیک ہے کمزور ہے، یا ایک دھاگہ کہہ لیں، ایک دھاگہ تو کمزور ہے، لیکن یہی جب سینکڑوں ہزاروں دھاگے مل جائیں تو ایک بڑی مضبوط رسی بن جاتی ہے بھئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح، ایک رائے میں ٹھیک ہے غلطی کا احتمال تھا، دو میں تھا، لیکن جب سب کی رائے متفق ہو گئیں تو پھر ایک مضبوط رسی کی طرح ایک قوی دلیل بن گئی، معلوم ہوا یہی حق ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ رسی کی طرح جسے اب توڑا نہیں جا سکتا۔ وأمثاله، اور اس کی مثل۔ ثم إنهم اختلفوا في أن الإجماع هل يشترط في انعقاده أن يكون له داع مقدم عليه من دليل ظني أو ينعقد فجأة بلا دليل باعث عليه بالإلهام، پھر کہہ رہے ہیں آگے علماء نے اختلاف کیا ہے بھئی کہ کیا إجماع کے لیے کسی داعی کا ہونا ضروری ہے یا داعی کا ہونا ضروری نہیں؟ داعی وہ چیز جو بلانے والی ہو، وہ چیز جو لے جانے والی ہو إجماع کی طرف، إجماع تک پہنچانے والی ہو۔ إجماع کس کو کہتے ہیں؟ ایک مسئلے پر تمام مجتہدین کی رائے متفق ہو جانا۔ تو ہر مجتہد نے جو رائے دی کہ یہ مسئلہ اسی طرح ہے، کیا یہ کسی دلیل... یہ کسی دلیلِ ظنی کی وجہ سے ہوگا یا اچانک اللہ نے سب کی رائے اس طرح بنا دی بھئی؟ تو بعض کہتے ہیں کسی کوئی دلیلِ ظنی نہیں، بلکہ یہ... دلیلِ ظنی کا ہونا ضروری نہیں، بس اللہ اچانک کیا کر دیں دیتے ہیں؟ توفیق دیتے ہیں، سب کی رائے متفق ہو جاتی ہے ایک مسئلے پر، ایک مسئلے پر۔ لیکن صحیح قول یہی کہ یہ اس میں دلیلِ ظنی ہوتی ہے ہر مجتہد کے پاس، ہر مجتہد کہہ رہا ہے یہ مسئلہ اس طرح ہے، یقیناً اس کے پاس کوئی دلیلِ ظنی ضرور ہوگی، یعنی خبرِ واحد یا قیاس۔ خبرِ واحد یا... مجتہد نے جو کہا یہ مسئلہ اس طرح ہے، اس کے پاس کیا ہوگی؟ کوئی دلیل ہوگی، یا تو وہ کیا ہوگی؟ خبرِ واحد، اور خبرِ واحد ظن کا فائدہ دیتی ہے، یقین کا فائدہ تو نہیں دیتی، تو یا تو اس کے پاس خبرِ واحد ہوگی یا کیا دلیل ہوگی؟ قیاس۔ تو اسی طرح سب کے پاس کوئی نہ کوئی دلیل تھی، وہ جو دلیلِ ظنی تھی وہ جو ہر ایک کے پاس اپنی اپنی، وہ داعی ہوئیں، وہ پہنچانے والی ہوئیں، بلانے والی ہوئیں اس بات کی طرف کہ سب کی رائے اس مسئلے پر متفق ہو جائے، اکٹھی ہو جائے بھئی۔ کہتے ہیں: ثم إنهم اختلفوا، پھر اس میں علماء نے اختلاف کیا ہے کہ في أن الإجماع هل يشترط في انعقاده، کہ إجماع میں کیا شرط ہے اس کے منعقد ہونے کے لیے، أن يكون له داع مقدم عليه، کہ کیا إجماع کے منعقد ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا داعی ہو جو اس پر مقدم ہو، یعنی کہ من دليل ظني، یعنی کہ کوئی دلیلِ ظنی، أو ينعقد فجأة بلا دليل باعث عليه، یا یہ کہ یہ إجماع منعقد ہو جاتا ہے اچانک کسی بغیر کسی ایسی دلیل کے جو اس کا باعث بنے، بالإلهام، کس طریقے... کس ذر... کس ذریعے سے؟ الهام کے ذریعے سے، بغیر دلیل کے الهام کے ذریعے ہی منعقد ہو جاتا ہے، کیا ایسا ہے؟ اس میں اختلاف کیا۔ بالإلهام وتوفيق من الله، الہام کے ذریعے اور اللہ کی طرف سے توفیق کے ذریعے، بأن يخلق الله فيهم علماً ضرورياً، بایں طور کہ اللہ پیدا فرما دیتے ہیں ان میں علمِ ضروری بھئی، ويوَفّقهم لاختيار الصواب، اور ان کو توفیق دے دیتے ہیں درست بات کے اختیار کرنے کا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کہ کیا إجماع کے... دوبارہ دیکھ لیں، صرف اب ترجمے پہ نظر رکھیں۔ علماء نے اس بات میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہ کیا إجماع جو ہے اس کے منعقد ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا داعی ہو جو اس پر مقدم ہو، یعنی کہ کوئی دلیلِ ظنی، یا یہ منعقد ہو جاتا ہے اچانک ہی بغیر کسی ایسی دلیل کے جو اس کا باعث بنے، بوجہ الہام کے اور اللہ کی طرف سے توفیق کے، یہ منعقد اچانک منعقد ہو جاتا ہے بالإلهام وتوفيق، اللہ کے الہام اور توفیق کی اس وجہ سے، بایں طور کہ اللہ ان میں علمِ ضروری پیدا فرما دیتے ہیں اور ان کو درست بات کے اختیار کی توفیق دے دیتے ہیں۔ فقيل، پس کہا گیا: لا، لا يشترط له الداعي، کہ اس کے لیے کسی داعی کی شرط نہیں ہے۔ والأصح المختار أنه لا بد له من داع، اور اصح اور مختار پسندیدہ قول یہ ہے کہ ضروری ہے إجماع کے لیے کسی داعی کا ہونا، على ما قال المصنف، بناء بر اس کے جو مصنف نے فرمایا آگے بھئی متن میں، تو فرماتے ہیں: والداعي قد يكون من أخبار الآحاد أو القياس، کہ وہ داعی کبھی اخبارِ آحاد میں سے ہوگا یا قیاس میں سے۔ أما أخبار الآحاد فكإجماعهم على عدم جواز بيع الطعام، باقی اخبارِ آحاد جو ہیں جس میں دلیلِ ظنی ہو، تو جیسے فقہاء کا إجماع على عدم جواز بيع الطعام قبل القبض، قبضے سے پہلے گندم کی بیع کے جائز نہ ہونے پر فقہاء کا اتفاق، إجماع۔ بھئی یہ مسئلہ پہلے بھی بیان ہو چکا، کوئی بھی چیز آپ خریدیں تو اس کو اس پر قبضہ کیے بغیر آگے بیچنے کی، بیچنا اس کا جائز نہیں۔ آپ نے عمرو سے سو من گندم خرید لی، یا آپ نے عمرو سے گاڑی خرید لی، ابھی وہ چیز اس نے آپ کے حوالے نہیں کی، عقد تو ہو گیا، لیکن چیز حوالے نہیں کی، آپ پہلے ہی کسی اور سے آگے عقد کر کے اسے بیچنا چاہتے ہیں، یہ جائز نہیں بھئی، یہ جائز نہیں۔ تو یہ کہتے ہیں اخبارِ آحاد جس میں دلیل ہے، اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں: فكإجماعهم على عدم جواز بيع الطعام، طعام کا لفظ میں نے پہلے بھی بتلایا تھا کہ طعام یہ فقہ کی کتابوں میں آئے تو وہ کھانا مراد عموماً نہیں ہوتا، اس کے ذریعے کیا مراد ہوتی ہے؟ گندم بھئی، یعنی غلہ کہیں بھئی۔ فكإجماعهم على عدم جواز بيع الطعام قبل القبض، جیسے کہ گندم کی بیع کا جائز نہ ہونا قبضے سے پہلے، اس پر جیسے ان کا إجماع ہے، والداعي إليه قوله عليه الصلاة والسلام، اور اس کی طرف داعی جو ہے وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: لا تبيعوا الطعام قبل القبض، تم نہ بیچو غلے کو اس پر قبضے سے پہلے۔ وَأَمَّا الْقِيَاسُ، اور باقی قیاس: یعنی وہ اجماع جس میں داعی قیاس ہو۔ فَكَإِجْمَاعِهِمْ عَلَى حُرْمَةِ الرِّبَا فِي الأَرُزِّ، جیسے کہ اجماع ہے فقہاء کا ربا کے حرام ہونے پر فِي الأَرُزِّ چاول میں۔ ارز کسے کہتے ہیں؟ چاول۔ جی۔ جی، یعنی چاول کے بدلے چاول بیچے جائیں چاول کے بدلے چاول بیچے جائیں تو مساوات ضروری ہے، برابری ضروری ہے بھئی۔ وَالدَّاعِي إِلَيْهِ الْقِيَاسُ عَلَى الأَشْيَاءِ السِّتَّةِ، اور داعی اس کی طرف جو ہے وہ قیاس کرنا ہے ان چھ چیزوں پر جو حدیث میں آئی تھیں بھئی۔ حدیث کس طرح تھی؟ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ وَالْفَضْلُ رِبًا۔ تو یہ چھ چیزوں پر قیاس کیا۔ اب دیکھیے، اس حدیث سے ربا کی علت نکالی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اور علت نکالی ربا کی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اور علت نکالی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اور علت نکالی۔ لیکن تینوں کی علتوں کے مطابق چاول اس میں داخل ہو رہے تھے بھئی۔ حدیث میں تو ذکر نہیں۔ حدیث میں تو وہ چھ چیزیں تھیں، لیکن تینوں کے علتوں کے مطابق چاول کی بیع چاول کے بدلے ہو تو کیا ضروری ہے؟ مساوات، ورنہ اس میں ربا لازم آئے گا۔ تو گویا اس پر کیا ہو گیا؟ اجماع ہو گیا کہ ربا حرام ہے چاول میں۔ وَفِي قَوْلِهِ: ”قَدْ يَكُونُ“ بھئی، ماتن نے اوپر کہا: وَالدَّاعِي قَدْ يَكُونُ مِنْ أَخْبَارِ الآحَادِ، کہ داعی کبھی کس میں سے ہوگا؟ اخبار۔ تو یہ جو ”قَدْ يَكُونُ“ کبھی کبھار، یعنی ہمیشہ نہیں۔ اس میں اشارہ ہو گیا کہ داعی کبھی کتاب اللہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي قَوْلِهِ ”قَدْ يَكُونُ“ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ الدَّاعِيَ قَدْ يَكُونُ مِنَ الْكِتَابِ أَيْضًا، تو مصنف کے قول ”قَدْ يَكُونُ“ میں اشارہ ہے کہ داعی کبھی کبھار کتاب اللہ سے بھی ہو سکتا ہے، كَإِجْمَاعِهِمْ عَلَى حُرْمَةِ الْجَدَّاتِ وَبَنَاتِ الْبَنَاتِ، جیسے کہ اجماع فقہاء کا دادیوں، نانیوں کی حرمت پر اور وَبَنَاتِ الْبَنَاتِ اور بیٹیوں کی بیٹیوں کی حرمت پر لِقَوْلِهِ تَعَالَى: اللہ تعالی کے اس قول کی وجہ سے: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ، تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں اور بیٹیاں، تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔ اب قرآن میں صرف امہات کا ذکر آیا اور بیٹیوں کا ذکر آیا، لیکن جدات، وہ بھی اسی میں، وہ بھی ماؤں کی طرح ہیں نانیاں دادیوں وغیرہ، اور اسی طرح بیٹیوں کی یا اولاد کی اولاد جو ہے وہ بھی کس کی طرح ہے؟ اپنی اولاد کی طرح ہے، تو وہ بھی انسان پر حرام ہیں، اس پر کیا ہوا فقہاء کا؟ اجماع ہوا بھئی۔ تو یہاں دیکھیے داعی کتاب اللہ ہے۔ وَقِيلَ: اور کہا گیا ہے: لا يَجُوزُ ذَلِكَ، کہ یہ جائز نہیں ہے کہ داعی کتاب اللہ ہو، یہ جائز نہیں۔ إِذْ عِنْدَ وَجُودِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ الْمَشْهُورَةِ لا يُحْتَاجُ إِلَى الإِجْمَاعِ، اس لیے کیونکہ جس وقت کتاب اور سنت مشہورہ موجود ہو اس وقت اجماع کی حاجت نہیں۔ اس وقت اجماع کی حاجت نہیں، تو بعض کہتے ہیں کہ نہیں، کتاب اللہ اجماع کے لیے داعی نہیں ہو سکتی، جب کتاب اللہ میں چیز موجود ہے تو پھر تو اجماع کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ثُمَّ بَيَّنَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لا بُدَّ لِنَقْلِ الإِجْمَاعِ أَيْضًا مِنَ الإِجْمَاعِ، پھر بیان کیا مصنف نے کہ ضروری ہے اجماع کے نقل کے لیے بھی اجماع کا ہونا۔ اجماع کے نقل کے لیے بھی اجماع کا ہونا ضروری ہے۔ کیا معنیٰ؟ بھئی دیکھیے، ایک مسئلہ ہے اس پر صحابہ نے اجماع فرمایا تھا۔ آج ہمیں بتایا جاتا ہے صحابہ نے اس پر اجماع کیا تھا۔ بھئی، وہ زمانہ تو صدیوں پہلے گزر چکا، تو وہ جو ان کا اجماع انہوں نے اجماع کیا تھا، یہ بات ہم تک تواتر کے طریقے پر پہنچنی چاہیے۔ کس طریقے پر؟ تواتر کے طریقے پر پہنچنی چاہیے، پھر یہ اجماع اسی درجے کا ہوگا بھئی۔ ورنہ جس طرح حدیث کے روایت کرنے والے آپ نے پڑھے کہ اگر کم ہوتے جائیں گے، اس میں قوت میں کمی آتی جائے گی، خبر متواتر کے بجائے پھر کیا بن جائے گی؟ خبر مشہور یا اس سے کم کیا ہو جائے گی؟ خبر آحاد ہو جائے گی، تو یہاں بھی اسی طرح اگر اجماع کے روایت کرنے والے افراد ہوئے چند، تو پھر یہ خبر آحاد کی طرح ہوگا، پھر یہ قطعی حجت نہ رہے گا بلکہ ظنی حجت بن جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے۔ کہتے ہیں: وَإِذَا انْتَقَلَ إِلَيْنَا إِجْمَاعُ السَّلَفِ، اور جب منتقل ہو ہماری طرف سلف کا اجماع، بزرگوں کا اجماع، بِإِجْمَاعِ كُلِّ عَصْرٍ عَلَى نَقْلِهِ، کس طریقے پر نقل ہو ہماری طرف بزرگوں کا اجماع بھئی؟ بِإِجْمَاعِ كُلِّ عَصْرٍ عَلَى نَقْلِهِ، ہر زمانے والوں کے اجماع کے ذریعے اس کی نقل پر، ہر زمانے والے اس کی نقل پر کیا کر رہے ہیں؟ اجماع کر رہے ہیں۔ كَانَ كَنَقْلِ الْحَدِيثِ الْمُتَوَاتِرِ، تو یہ حدیث متواتر کی نقل کی طرح ہے، فَيَكُونُ مُوجِبًا لِلْعِلْمِ، تو یہ واجب کرنے والا ہوا علم کو بھی، وَالْعَمَلِ، اور عمل کو بھی، قَطْعًا، قطعی طریقے پر، كَإِجْمَاعِهِمْ، جیسے کہ اجماع اس بات پر: عَلَى كَوْنِ الْقُرْآنِ كِتَابَ اللَّهِ، اس بات پر اجماع کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے، وَفَرْضِيَّةِ الصَّلاةِ، اور نمازوں کا، نماز کا فرض ہونا وغیرہ بھئی۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے، یہ تواتر کے طریقے پر منقول ہے بھئی، تواتر کے طریقے پر۔ اسی طرح نماز کا فرض ہونا، نمازیں فرض ہیں پانچ بھئی، یہ بھی تواتر کے طریقے پر منقول ہے بھئی۔ وَإِذَا انْتَقَلَ إِلَيْنَا، تو گویا ہر زمانے والوں کا اس پر اجماع ہوتا رہا۔ وَإِذَا انْتَقَلَ إِلَيْنَا بِالأَفْرَادِ كَانَ كَنَقْلِ السُّنَّةِ بِالآحَادِ، اور جب یہ اجماع جو ہے منتقل ہوا ہماری طرف بالأفرادِ کس کے ذریعے؟ افراد کے ذریعے، یعنی سب کے ذریعے نہیں، اجماع کے ذریعے نہیں، یعنی تواتر کے ذریعے نہیں بلکہ افراد کے ذریعے، كَانَ كَنَقْلِ السُّنَّةِ بِالآحَادِ، تو جیسے سنت کا نقل کرنا ہے آحاد کے ذریعے، یعنی افراد کے ذریعے، فَإِنَّهُ يُوجِبُ الْعَمَلَ دُونَ الْعِلْمِ، پس یہ جو ہے یہ عمل کو واجب کرتا ہے نہ کہ علم کو، یعنی یقین کا فائدہ نہیں دیتا، عمل تو واجب ہوگا لیکن علم یعنی اعتقاد واجب نہیں، مِثْلُ خَبَرِ الآحَادِ، جیسے کہ خبر آحاد ہے، كَقَوْلِ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ: ”إِجْتَمَعَتِ الصَّحَابَةُ عَلَى مُحَافَظَةِ الأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّهْرِ“ جیسے کہ عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”إِجْتَمَعَتِ الصَّحَابَةُ عَلَى مُحَافَظَةِ الأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّهْرِ“ کہ اجتماع کیا، یعنی اکٹھے ہوئے صحابہ عَلَى مُحَافَظَةِ الأَرْبَعِ چار رکعتوں کی حفاظت پر قَبْلَ الظُّهْرِ ظہر سے پہلے۔ تمام صحابہ اکٹھے ہوئے ہیں، یعنی انہوں نے اجماع کیا ہے کہ ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتوں کی حفاظت کی جائے گی، یعنی ان کو پڑھا جائے گا، ادا کیا جائے گا۔ سب کا اس پر اجماع ہے کہ یہ ان کو پڑھا جائے گا بھئی، یعنی ان کو چھوڑا نہیں جائے گا کسی صورت میں بھی۔ اب یہ خبر آحاد کے درجے میں ہے۔ اگرچہ وہ اجماع کو نقل کر رہے ہیں لیکن ہم تک یہ کس طریقے پر پہنچا ہے؟ آحاد کے، افراد کے ذریعے چند ایک کے ذریعے یہ بات پہنچی ہے، اس لیے اب یہ قطعی نہ رہا۔ وَتَحْرِيمِ نِكَاحِ الأُخْتِ فِي عِدَّةِ الأُخْتِ، اور بہن کا نکاح حرام ہونا اس کی بہن کی عدت میں۔ بھئی، دو بہنوں کو آپ جانتے ہیں ایک شخص کے عقد میں دو بہنوں کا جمع ہونا حرام ہے، جائز نہیں۔ ایک بہن کے ساتھ عقد کیا ہوا تھا، اس کو اس نے طلاق دے دی اور عدت پورا ہونے سے پہلے اس کی دوسری بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے، جائز نہیں ہے بھئی۔ جب تک ایک بہن عدت کے اندر ہے، دوسری بہن سے نکاح جائز نہیں، کیونکہ عدت جو عورت گزارتی ہے تو وہ اسی خاوند کے لیے وجہ سے گزارتی ہے اور تو گویا ابھی بھی وہ نکاح کا اثر باقی ہے بھئی، نکاح کے وہ آگے نکاح نہیں کر سکتی، تو لہٰذا اس وقت تک جائز نہیں ہے۔ وَتَوْكِيدِ الْمَهْرِ بِالْخَلْوَةِ الصَّحِيحَةِ، اور مہر کا پختہ ہو جانا، مہر کا پکا ہو جانا خلوت صحیحہ کی وجہ سے۔ بھئی، خلوت صحیحہ ایک تو مہر جو ہے صحبت کر لے اس سے مہر پکا ہو جاتا ہے، اب اس کا دینا ضروری۔ اگر صحبت نہ کر سکا لیکن خلوت صحیحہ پائی گئی تو بھی یہ کس کی طرح ہے؟ صحبت ہی کی طرح ہے اور اس کی وجہ سے بھی نکاح پکا ہو جائے گا۔ اور خلوت صحیحہ کسے کہتے ہیں؟ جہاں پر خاوند کے لیے بیوی کے ساتھ صحبت کرنے میں کوئی مانع نہ ہو، نہ کوئی شرعاً مانع ہو، نہ کوئی حساً مانع ہو، نہ کوئی طبعاً، کسی قسم کا کوئی مانع نہیں، تو خلوت صحیحہ پائی گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کی وجہ سے بھی مہر پکا ہو جاتا ہے۔ وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِتَمْثِيلِهِ بِالْحَدِيثِ الْمَشْهُورِ، یہ سب مثالیں ذکر کر رہے ہیں بھئی وہ وہ اجماع جو ہم تک کس طریقے پر پہنچے ہیں؟ خبر واحد کے طریقے پر۔ اچھا بھئی، متن میں انہوں نے کہا: كَانَ كَنَقْلِ الْحَدِيثِ الْمُتَوَاتِرِ، اور آگے اگلی سطر میں کہا: كَنَقْلِ السُّنَّةِ بِالآحَادِ۔ ایک اجماع وہ خبر متواتر کی طرح قرار دے دیا، ایک اجماع کو خبر واحد کی طرح قرار دے دیا، خبر مشہور کو کیوں نہیں ذکر کیا کہ اجماع کس کی طرح ہوگا؟ خبر مشہور۔ جواب اس کا دیں گے کہ بھئی دیکھیے، خبر مشہور اس حدیث کو کہتے ہیں جو صحابہ کے زمانے میں تواتر کو نہ پہنچی تھی اور صحابہ کے بعد پھر وہ تواتر کو پہنچ گئی۔ لیکن صحابہ کے زمانے میں تو تواتر کے درجے کو نہیں پہنچی تھی، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبر مشہور کہتے ہیں۔ معلوم ہوا یہاں پر خبر مشہور کو جو مشہور کہہ رہے ہیں یہ صرف صحابہ کے زمانے میں یہ تواتر کو نہیں پہنچی، اور جو اجماع کی ہم بات کر رہے ہیں وہ خبر متواتر یا خبر آحاد کی طرح تو ہو سکتا ہے، خبر مشہور کی طرح نہیں ہو سکتا، کیونکہ خبر مشہور میں کس کا اعتبار ہے؟ صحابہ کے زمانے کا کہ اس میں وہ تواتر کے درجے کو نہیں پہنچی، اور یہ جو اجماع ہے یہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں تو نہیں، یہ تو ہوگا ہی کب؟ صحابہ کے زمانے میں یا ان کے بعد۔ تو صحابہ کے زمانے میں اگر اجماع ہوا ہے تو پھر خبر حدیث میں صحابہ کے زمانے کے بعد حدیث کی کتنی قسمیں رہ گئیں؟ صحابہ کے بعد یا خبر آحاد یا خبر متواتر، خبر مشہور تو وہی صحابہ کے زمانے کو، اور باقی آحاد اور تواتر کو بھی آگے بھی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ خبر متواتر، جس کے روایت کرنے والے بہت زیادہ ہوں۔ خبر مشہور، جس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہ ہوں۔ خبر آحاد، جس کے روایت کرنے والے ایک یا دو یا تین افراد اس طرح ہوں۔ تعریف آپ پڑھ چکے پہلے بھئی۔ کہتے ہیں بھئی، یہ جو خبر مشہور وہ ہے جو صحابہ کے زمانے میں روایت کرنے والے کئی ہیں لیکن تواتر کے درجے کو نہیں پہنچ رہے، اور صحابہ کے بعد پھر وہ تواتر کو پہنچ گئی۔ لیکن صحابہ کے زمانے میں تو تواتر کے درجے کو نہیں پہنچی تھی، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبر مشہور کہتے ہیں۔ صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات کو محفوظ کیا اور پھر اللہ نے ایسے لوگ پیدا فرما دیے جنہوں نے اپنی ساری ساری زندگیاں اسی تحصیل علم کے اندر احادیث کے جمع کرنے کے اندر گزار دیں بھئی۔ تو صحابہ کے تو پھر بڑے بڑے حلقے ہوتے، لوگ دور دور سے آتے اور احادیث سن کر لے جاتے بھئی۔ تو صحابہ کے زمانے کے بعد تو پھر تواتر ہی ہے بھئی، کیا ہے؟ تواتر ہی۔ تو یا تواتر ہے یا خبر آحاد ہے، یا کیا ہے؟ خبر آحاد ہے۔ شہرت مشہور وہ صرف کس اعتبار سے ہے؟ صحابہ کے زمانے کے اعتبار سے۔ خبر مشہور اس اور صحابہ کے بعد پھر وہ تواتر کو پہنچ گئی۔ اور یہاں اجماع ہو ہی صحابہ کے زمانے میں یا اس کے بعد رہا ہے، لہٰذا یہاں خبر مشہور صحابہ کے بعد تو صرف کیا تھی؟ یا خبر متواتر یا خبر آحاد، تو یہاں بھی صحابہ کے زمانے کے بعد کی اب بات چلے گی چونکہ نقل کے اندر اور وہاں صرف کون سی دو قسمیں آئیں گی؟ یا وہ تواتر کے طریقے پر منقول ہوگا وہ اجماع یا آحاد کے طریقے پر۔ وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِتَمْثِيلِهِ بِالْحَدِيثِ الْمَشْهُورِ، اور مصنف پیچھے نہ پڑے حدیث مشہور کے ساتھ مثال ذکر کرنے کے، إِذْ لا فَرْقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُتَوَاتِرِ إِلاَّ بِعَدَمِ اشْتِهَارِهِ فِي قَرْنِ الصَّحَابَةِ، اس لیے کیونکہ کوئی فرق نہیں ہے متواتر کے اندر خبر مشہور کے درمیان اور خبر متواتر میں إِلاَّ بِعَدَمِ اشْتِهَارِهِ فِي قَرْنِ الصَّحَابَةِ، مگر مشہور نہ ہونا صحابہ کے زمانے میں، یہی صرف فرق ہے۔ وَهَذَا لَمْ يَسْتَقِمْ هَاهُنَا، اور یہ یہاں پر درست نہیں رہتا، لأَنَّ الإِجْمَاعَ لَمْ يَكُنْ فِي زَمَنِ الرَّسُولِ عَلَيْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلامُ، اس لیے کیونکہ اجماع حضور علیہ السلام کے زمانے میں نہیں تھا، وَإِنَّمَا يَكُونُ فِي زَمَنِ الصَّحَابَةِ، اور وہ کس وقت ہوگا؟ وہ صرف صحابہ کے زمانے میں ہوا، فَبَعْدَهُ لَيْسَ إِلاَّ آحَادٌ أَوْ مُتَوَاتِرٌ، اور اس کے بعد تو یا صرف آحاد ہیں یا متواتر۔ ثُمَّ هُوَ عَلَى مَرَاتِبَ، پھر یہ اجماع کئی درجوں پر ہے۔ أَيِ الإِجْمَاعُ فِي نَفْسِهِ مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنْ نَقْلِهِ لَهُ مَرَاتِبُ فِي الْقُوَّةِ وَالضَّعْفِ وَالْيَقِينِ وَالظَّنِّ، یعنی یہ جو اجماع ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، قطع نظر اپنی نقل کے، ایک تو نقل کے اعتبار سے اجماع کیا ہوگا؟ قطعی ہوگا یا ظنی ہوگا کہ روایت کرنے والے اس اجماع کو کم ہوں گے یا زیادہ، لیکن نقل سے قطع نظر، اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اجماع کے کئی مرتبے ہیں، کئی درجے ہیں۔ اس کے کئی مراتب ہیں فِي الْقُوَّةِ وَالضَّعْفِ وَالْيَقِينِ وَالظَّنِّ، قوت اور ضعف میں، یقین اور ظن میں۔ فالأَقْوَى إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ نَصًّا، پس سب سے قوی جو ہے وہ صحابہ کا اجماع ہے نصاً صراحتاً، جس میں تصریح کر دیں بھئی۔ مِثْلُ أَنْ يَقُولُوا، مثال کے طور پر کہ یوں فرما دیں صحابہ: جَمِيعًا، سب کے سب: أَجْمَعْنَا عَلَى كَذَا، ہم نے اس پر اجماع کر لیا، تو یہ صراحتاً اجماع ہوا اور یہ سب سے قوی قسم ہے اجماع کی۔ فَإِنَّهُ مِثْلُ الآيَةِ وَالْخَبَرِ الْمُتَوَاتِرِ، پس بے شک یہ آیت اور خبر متواتر کی طرح ہے، حَتَّى يُكَفَّرَ جَاحِدُهُ، یہاں تک کہ اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا جائے گا، وَمِنْهُ الإِجْمَاعُ عَلَى خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، اور اسی کی میں سے ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت پر اجماع، تمام صحابہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، معلوم ہوا آپ کی خلافت پر سب کا اجماع ہو گیا۔ اب جو اس کا انکار کرے گا وہ کافر ہے۔ ثُمَّ الَّذِي نَصَّ الْبَعْضُ وَسَكَتَ الْبَاقُونَ، اور پھر وہ وہ اجماع کہ جس میں بعض نے صحابہ نے تو تصریح کی وَسَكَتَ الْبَاقُونَ اور باقی خاموش رہے، انہوں نے سکوت کیا مِنَ الصَّحَابَةِ صحابہ میں سے، وَهُوَ الْمُسَمَّى بِالإِجْمَاعِ السُّكُوتِيِّ، اور اس کو اجماع سکوتی کہتے ہیں، وَلا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ، اور اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا، وَإِنْ كَانَ مِنَ الأَدِلَّةِ الْقَطْعِيَّةِ، اگرچہ یہ بھی ادلہ قطعیہ میں سے ہے، ہے یہ بھی قطعی دلیل لیکن چونکہ اس میں فقہاء کا اختلاف آیا ہے جیسے پہلے ذکر ہو چکا، اس وجہ سے اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ ثُمَّ إِجْمَاعُ مَنْ بَعْدَهُمْ، پھر اجماع ان لوگوں کا جو صحابہ کے بعد ہیں، یہ تیسرے درجے کا اجماع ہے۔ أَيْ بَعْدَ الصَّحَابَةِ مِنْ أَهْلِ كُلِّ عَصْرٍ عَلَى حُكْمٍ، یعنی صحابہ کے بعد ہر زمانے والوں میں سے ایسے حکم کے اندر اجماع صحابہ کے زمانے کے بعد والوں کا علی حکم ایسے حکم پر لم یظهر فی خلاف من سبقهم کہ اس کے اندر ظاہر نہ ہوا ہو خلاف خلاف من سبقهم۔ کیا ظاہر نہ ہوا ہو؟ خلاف من سبقهم وہ جو ان سے پہلے گزرے ہیں ان کا اختلاف۔ صحابہ کے زمانے کے بعد والوں کا کسی بات پر، کسی حکم پر اکٹھے ہو جانا اور وہ حکم کیسا ہو کہ اس میں پہلوں کا یعنی صحابہ کا اختلاف ظاہر نہ ہوا ہو۔ صحابہ کا اختلاف ظاہر ظاہر یعنی صحابہ کے اس میں دو قول نہ آئے ہوں۔ من الصحابہ یعنی کہ صحابہ فہو بمنزلۃ الخبر المشہور پس یہ اجماع جو ہے خبر مشہور کے درجے میں ہے یفیض طمانینۃ دون الیقین۔ طمانینۃ میں بتلا چکا ہوں طاقِ ضم کے ساتھ یہ اطمینان کا فائدہ دیتا ہے یہ اجماع نہ کہ یقین کا۔ ثم اجماعهم علی قول سبقهم فیه مخالف پھر اجماع کر لینا ان لوگوں کا یعنی بعد والوں کا علی قول ایسے قول پر سبقهم جو سبقهم فیه مخالف کہ جس میں پہلے کوئی مخالف قول گزرا ہے، کیا گزرا ہے؟ یا مخالف قول یا مخالفت کرنے والا۔ بھئی پہلا درجہ ہے صحابہ جس بات پر صراحتاً اجماع کر لیں۔ دوسرا درجہ ہے جس میں بعض صحابہ تصریح کریں اور بعض سکوت کریں۔ تیسرا درجہ ہے کہ کسی زمانہ صحابہ کے زمانے کے بعد والے کسی ایسے حکم پر متفق ہو جائیں جس میں صحابہ کا اختلاف نہیں۔ چوتھی قسم ہے کہ ایسی حکم پر بعد والے متفق ہو جائیں جس میں صحابہ میں اختلاف تھا دو قول تھے اس کے اندر ان کے لیے۔ یہ معنی ہے ثم اجماعهم علی قول سبقهم فیه مخالف پھر ان کا اجماع کر لینا ایسے قول پر کہ پہلے ہوا ہے اس میں کوئی مخالف یعنی خلفوا اولاً علی قولین یعنی اختلاف کیا تھا ان صحابہ نے پہلے دو قولوں پر۔ ثم اجمع من بعدہم پھر اجماع کیا انہوں نے جو ان کے بعد تھے علی قول واحد کسی ایک قول پر فہذا دون الکُل تو یہ سب سے نیچے درجے کا ہے۔ فہو بمنزلۃ خبر الواحد تو یہ خبر واحد کے درجے میں ہے۔ یوجب العمل دون العلم علم عمل کو واجب کرتا ہے نہ کہ علم کو۔ یعنی عمل واجب ہے اعتقاد واجب نہیں۔ ویكون مقدماً علی القیاس خبر الواحد اور یہ قیاس پر مقدم ہوگا جیسے کہ خبر واحد ہے۔ والامۃ اذا اختلفوا فی مسئلۃ فی ای عصر اور امت جو ہے جب وہ اختلاف کرے کسی مسئلہ میں کسی بھی زمانے میں کسی مسئلہ میں کسی بھی زمانے میں فی ای عصر کان امت جب اختلاف کرے فی مسئلۃ کسی مسئلے میں فی ای عصر کان جس زمانے میں بھی ہو علی اقوال چند اقوال پر کس پر؟ بھئی کسی بھی زمانے کے مجتہدین جب ایک چیز کے اندر اختلاف کر لیں اور اس میں ان سے ایک کی بجائے دو یا تین قول آ جائیں۔ کتنے قول آ جائیں؟ دو یا تین کسی زمانے والے فقہاء سارے جو تھے انہوں نے ایک مسئلے میں اختلاف کیا اور ان سے دو قول ملتے ہیں۔ بعض کی رائے ایک طرف ہے، بعض کی رائے دوسری یا تین قول ملتے ہیں کہ بعض کی رائے یہ تیسرا قول ہے۔ تو بعد والے یاد رکھو۔ ان تین میں سے کسی ایک پر تو اجماع کر سکتے ہیں چوتھی شق اختیار نہیں کر سکتے۔ چوتھا قول اختیار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ جب اس پچھلے زمانے والوں سے ایک مسئلے میں دو قول آئے ہیں۔ یا صرف کتنے آئے ہیں؟ تین چلو دو والی صورت بنا لیں۔ ایک زمانے والے فقہاء ان سے صرف دو قول آئے ہیں اس مسئلے کے بارے میں۔ معلوم ہوا ان کا اس بات پر اجماع ہو گیا کہ یہاں دو ہی صورتیں ہیں تیسری کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ اور اگر تین آئے ہیں تو اس کا مطلب ہے ان کا اس پر اجماع ہو گیا کہ یہاں تین ہی صورتیں ممکن ہیں چوتھی کوئی صورت [unclear] ممکن نہیں وہ باطل ہے اگر ہے بھی تو باطل ہے۔ یہ معنی ہے کہ امت جب اختلاف کرے علی اقوال چند اقوال پر کان اجماعاً منھم تو یہ ان کی طرف سے اجماع ہوگا علی ان ما عداہ باطل کہ اس کے علاوہ کیا ہے؟ اس کے علاوہ اقوال باطل ہیں۔ ولا یجوز لمن بعدہم احداث قول آخر اور جائز نہیں ہے ان کے بعد والوں کے لیے احداث قول آخر کوئی نیا قول پیدا کر لینا، بنا لینا کما فی الحامل المتوفی عنھا زوجھا جیسے کہ وہ حاملہ کے وفات پا چکا ہے اس سے اس کا خوامند اسے چھوڑ کر اس کے خاوند کا انتقال ہو چکا۔ قیل تعتد بِعدّۃ الحامل کہا گیا ہے کہ یہ عدت گزارے گی حاملہ کی عدت۔ وقیل بِأبعَد الاجلین اور کہا گیا ہے کہ دو مدتوں میں سے لمبی مدت جو ہے وہ عدت گزارے گی۔ بھئی عدت جو ہے یہ مسئلہ پیچھے بیان ہو چکا جس کے خاوند کا انتقال ہو جائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اور دوسری جگہ حاملہ کی عدت بیان ہوئی کہ اس کی عدت وضع حمل ہے۔ تو لہذا آپ نے پڑھا تھا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حاملہ کی عدت وہ وضع حمل ہی ہے کیونکہ یہ آیت بعد میں نازل ہوئی ہے اور جس آیت میں چار ماہ دس دن کا ذکر ہے وہ پہلے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ حاملہ کی عدت کتنی ہے؟ وضع حمل جب وہ حمل کو جنم دے دے۔ جبکہ بعضوں نے جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ وہ فرماتے ہیں کہ دو عدتوں میں سے جو لمبی ہوگی وہ اسے گزارنا پڑے گی۔ اگر وضع حمل جلدی ہو گیا چار ماہ دس دن سے پہلے تو پھر یہ چار ماہ دس دن پورے کر لے۔ اور اگر وضع حمل اس سے مؤخر ہوا چار ماہ دس دن کے بعد تو وہ والی عدت شمار ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا یہاں تیسرا قول اختیار کرنے کی گنجائش نہیں۔ تیسرا کیا قول مثلاً کوئی کہتا ہے کہ وہ چار ماہ دس دن ہی گزارے گی، وہ جو عدت وفات ہے وہی گزارے گی۔ ہر حال میں وہ بھئی یہ تو تیسرا قول آگیا پہلے ہی دو قول تھے انہی میں سے ایک پر کوئی اختیار کیا جا سکتا ہے تیسرے کی طرف نہیں جا سکتے۔ یا تو وضع حمل کو عدت قرار دینا پڑے گا یا دو عدتوں میں سے جو لمبی ہو اس کو۔ اور وہ طے تو نہیں ہے ابعدلت کوئی بھی ہو سکتی ہے ان دونوں میں سے بہرحال جو بھی لمبی ہوئی اور تیسرا قول اگر یہ کہا جائے عدت وفات تو یہ تو تیسرا قول ہوگیا یہ صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں ولا یجوز أن تعتد بِعدّۃ الوفاۃ اور یہ جائز نہیں ہے کہ وہ عدت گزارے وفات والی اذا لم یکن ابعد الاجلین جبکہ وہ دو مدتوں میں سے لمبی نہ ہو۔ وقیل ھذا فی الصحابۃ خاصّۃ اور کہا گیا ہے کہ یہ خاص طور پر صحابہ ہی میں ہے یعنی یہ جو ہم نے کہا نا اگر پہلوں نے دو قول کیے تھے تو بعد میں تیسرا قول نہیں کیا جا سکتا۔ تیسرا قول باطل ہوگا۔ مصنف نے تو اوپر بتایا تھا سب کسی بھی زمانے میں جب پچھلے زمانے کے کسی بھی زمانے والے پچھلے زمانے والے جب دو قولوں پر جمع ہو جائیں تو بعد والے کسی تیسرے قول کو اختیار نہیں کر سکتے۔ تو بعضوں نے کہا ہر زمانے کی بات نہیں یہ صرف صحابہ کے اندر ہے۔ صحابہ اگر دو پر اکٹھے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے تیسرے تیسرا قول باطل۔ اگر وہ تین پر جمع ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے چوتھا قول باطل۔ وقیل ھذا فی الصحابۃ خاصّۃ اور کہا گیا ہے یہ صحابہ کے اندر ہے خاص طور پر ای بطلان القول الثالث فی الصحابۃ فقط یعنی تیسرے قول کا باطل ہونا یہ صرف صحابہ کے بارے میں ہے فانھم ان اختلفوا علی قولین اسی کیونکہ اگر صحابہ اختلاف کریں دو قولوں پر کان اجماعاً علی بطلان القول الثالث تو یہ اجماع ہوگا تیسرے قول کے باطل ہونے پر دون سائر الامۃ نہ کہ ساری امت بھئی۔ ولاکن الحق ان لیکن حق جو ہے کہ ان بطلان القول الثالث مطلق یجری فی اختلاف کل عصر کہ تیسرے قول کا باطل ہونا یہ مطلق ہے یہ جاری ہوگا ہر زمانے کے اختلاف میں وھذا یسمی اجماعاً مرکباً اور اس کو اجماع مرکب کہتے ہیں انہ نشأ من اختلاف قولین اسے کیونکہ یہ کس سے پیدا ہوا ہے؟ دو قولوں کے اختلاف سے یہ یہ اجماع مرکب ہے۔ اجماع مرکب۔ وھو اقسام اور یہ کئی قسم پر ہے قسم منھا یسمی بعمل القائل بالفصل ان میں سے ایک قسم وہ ہے جسے عدم جسے کیا کہتے ہیں؟ عدم القائل بالفصل بھئی عدم القائل بالفصل اس کو سمجھ لیں ادھر دیکھیے بھئی۔ دیکھیے ایک یہ مسئلہ ہے اور ایک یہ مسئلہ ہے۔ الگ الگ مسئلے ہیں مثلاً پہلا مسئلہ ہے منت کے بارے میں دوسرا مسئلہ ہے بیع کے بارے میں۔ دو الگ الگ مسئلے تو یہ دو مسئلے ہیں۔ پہلا مسئلہ ہمارے نزدیک ثابت ہے اسی طرح دوسرا مسئلہ بھی ہمارے نزدیک ثابت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں میں سے ایک بھی نہیں ثابت نہ پہلا ثابت نہ دوسرا ثابت۔ تو یہاں پر معلوم ہوا صرف دو ہی قول ہیں۔ کتنے قول ہیں؟ دو دو ہی قول ہیں۔ یا تو ایک فریق کے یا تو ایک قول یہ کہ دونوں ثابت، دوسرا قول یہ کہ دونوں ثابت نہیں۔ تیسرا قول کوئی نہیں ہے کہ ایک مسئلہ ان میں سے ثابت ہو اور ایک مسئلہ ثابت نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی تو یہاں پر اس کو کہتے ہیں عدم القائل بالفصل یعنی ہم یوں کہتے ہیں اگر یہ پہلا مسئلہ منت والا یوں ہے، یہ ثابت ہے تو آپ کو ماننا پڑے گا دوسرا مسئلہ بھی ثابت ہے۔ اگر پہلا ثابت ہے تو دوسرا بھی ثابت ہے اور اگر پہلا ثابت نہیں تو دوسرا بھی ثابت نہیں کیونکہ ان میں فصل کا کوئی بھی قائل نہیں۔ ان دونوں میں فصل کا جدائی کا کوئی بھی قائل نہیں کہ ایک ثابت ہو اور دوسرا ثابت نہ ہو، ایسا نہیں ہے۔ اگر ایک ثابت ہے تو دوسرا بھی ثابت ماننا پڑے گا اور اگر ایک ثابت نہیں تو ماننا پڑے گا دوسرا بھی ثابت نہیں کیونکہ تیسرا قول ہی کوئی نہیں کہ ایک ثابت ہو اور ایک ثابت نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو آپ کو ماننا پڑے گا اگر ایک مسئلہ ثابت ہے تو دوسرا بھی ثابت ہے کیونکہ ان میں فصل کا کوئی بھی قائل نہیں۔ ان میں جدائی کا کوئی بھی قائل نہیں۔ جس فریق کے نزدیک ایک ثابت ہے دوسرا بھی ثابت ہے۔ اور اگر ان میں سے ایک ثابت نہیں ہے تو ماننا پڑے گا کہ دوسرا بھی ثابت نہیں ہے کیونکہ ان میں فرق کا اور جدائی کا کوئی بھی قائل نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ ہے عدم القائل بالفصل یعنی دونوں میں فصل کا، فرق کا، جدائی کا کوئی بھی قائل نہیں۔ جس کے نزدیک ثابت ہیں دونوں ثابت ہیں جس کے نزدیک نہیں ثابت دونوں نہیں ثابت تیسرا قول نہیں کہ ایک ثابت ہو اور ایک ثابت نہ ہو۔ اور یاد رکھیے پھر یہ ایک مسئلہ بالکل الگ ہے دوسرا بالکل الگ ہے دونوں کی علت اس میں پھر دو احتمال ہیں۔ کہ ہو سکتا ہے دونوں مسئلے ہیں تو الگ الگ لیکن بنیاد ان کی ایک ہی ضابطے پر ہے۔ تو دونوں کی بنیاد یا ایک ہی ضابطے پر ہوگی یا الگ الگ ضابطوں پر ہوگی۔ اگر ایک ہی ضابطے پر دونوں کی بنیاد ہو تو پھر یہ معتبر ہے، یہ حجت ہے۔ اگر الگ الگ ضابطوں پر بنیاد ہو تو یہ حجت نہیں۔ किस तरह؟ دیکھئے مثلا پہلا مسئلہ ہے منت کا، دوسرا مسئلہ ہے بیع کا۔ آپ نے پڑھا ہے نہی کے اندر کہ افعال دو قسم پر ہیں ایک فعل شرعی ہے، ایک فعل حسی۔ فعل حسی وہ ہے کہ شریعت کے آنے سے پہلے اس کا جو معنی سمجھا جاتا تھا شریعت کے آنے کے بعد بھی اس کا وہی معنی کیا جاتا ہے شریعت نے اس کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی جیسے زنا۔ زنا پہلے بھی کہتے تھے محلہ حرام میں وتی کرنا اور اب بھی کس کو کہتے ہیں محلہ حرام میں وتی کرنا۔ اور ایک وہ مسئلہ جس کے اندر شریعت نے جس کی تاریخ میں تبدیلی پیدا کر دی مثلا بیع۔ بیع پہلے صرف مبادلت المال بالمال کو کہتے تھے مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کر لینا۔ شریعت نے اس میں تراضی کی قید لگا دی، تراضی باہمی رضامندی بھی ضروری ہے دونوں کی اور نیز اور بھی کئی شرائط لگا دیں جو آپ بیع میں پڑھ چکے کہ ثمن کی مقدار معلوم ہونی چاہیے، مبیع کا پتہ ہونا چاہیے کیا چیز ہے وغیرہ وغیرہ بھئی۔ تو شریعت نے بیع کے اندر یہ چیزیں ان کی قیدیں بڑھا دیں اور یہ پہلے معلوم نہیں تھیں تو اس کو کیا کہیں گے فعل شرعی یعنی شریعت نے ہمیں بتایا اس فعل کا پہلے تو ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں تھا ہم اس کو غلط سمجھتے رہے تھے۔ تو یہ فعل شرعی ہے اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ فعل شرعی میں نہیں آجائے تو وہ ذات کے اعتبار سے جائز ہوتا ہے وصف کے اعتبار سے ناجائز ہوتا ہے۔ فعل حسی میں نہیں آئے تو وہ ذات کے اعتبار سے بھی جائز نہیں، وصف کے اعتبار سے بھی جائز نہیں۔ لیکن فعل شرعی میں نہیں آئے تو وہ ذات کے اعتبار سے جائز، وصف کے اعتبار سے ناجائز۔ تو ضابطہ کیا ہوا فعل شرعی میں نہیں آئے تو وہ ذات کے اعتبار سے جائز ہوتا ہے، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں۔ چنانچہ یہاں دو مسئلے تھے مثلاً پہلا مسئلہ تھا منت کا، دوسرا مسئلہ تھا بیع کا۔ منت کا مسئلہ یہ تھا کہ یوم النحر (یعنی قربانی کے دن کی منت ماننا۔ یعنی یوم الاضحی کے دن کوئی شخص روزے کی منت مانتا ہے کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں یوم الاضحی والے دن روزہ رکھوں گا۔ किस चीज़ کی منت مان رہا ہے؟ روزے کی اور روزہ فعل شرعی ہے کیونکہ ہمیں پتہ نہیں تھا روزہ فجر سے لے کر مغرب تک ہوا کرتا ہے، صوم تو مطلق امساک کا نام تھا اور پھر شرائط شریعت نے ذکر کی کن کن چیزوں سے رکنا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہذا روزے کے بارے میں ہے، دوسرا مسئلہ کس کا تھا؟ بیع کا۔ अच्छा, पहले बात منت والی سن لیں تو منت کے بارے میں ایک شخص روزے کے بارے میں منت مانتا ہے کس دن منّت، کس دن کی؟ یوم الاضحی قربانی والی عید کے دن کی۔ تو اب یہ منت کس چیز کی مان رہا ہے؟ روزے کی اور روزہ فعل شرعی ہے یا فعل حسی؟ فعل شرعی۔ اور قربانی والے دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، نہیں آئی ہے۔ تو نہیں کس میں آئی؟ فعل شرعی میں اور فعل شرعی میں نہیں آئے تو یہ کیا تقاضا کرتی ہے کہ یہ ذات کے اعتبار سے جائز، وصف کے اعتبار سے ناجائز۔ معلوم ہوا یہ روزہ اپنی ذات کے اعتبار سے جائز، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں۔ لہذا اس کی جب یہ جائز ہے ذات کے اعتبار سے تو منت بھی صحیح۔ منت صرف منت کی بات ہو رہی ہے منت صحیح ہاں بعد میں اس دن رکھنا نہیں چاہیے پھر بعد میں قضا کر لے اس کی بھئی لیکن منت تو ایک جائز چیز کی مان رہا ہے یا ناجائز چیز کی؟ جائز لہذا ہمارے نزدیک یہ منت صحیح ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے فرماتے ہیں کہ فعل شرعی کے اندر نہیں آئے تو وہ حرام لغہینی ہوتا ہے۔ یعنی وہ ذات کے اعتبار سے بھی جائز نہیں ہوتا، وصف کے اعتبار سے بھی جائز نہیں۔ لہذا یہ عید الاضحی کے دن روزہ ذات کے اعتبار سے بھی جائز نہیں اور وصف کے اعتبار سے بھی جائز نہیں۔ لہذا اس کی منت ماننا بھی ٹھیک نہیں، ناجائز چیز کی منت ہی سرے سے ٹھیک نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں ایک جائز چیز کی منت منّت صحیح ہے، رکھے نہ اس دن روزہ بعد میں قضا کر لے۔ صورت سمجھ تو دیکھئے یہ جو اس مسئلے میں اختلاف آیا کس ضابطے پر آیا؟ کہ ہمارے نزدیک فعل شرعی میں نہیں آئے تو وہ ذات کے اعتبار سے جائز ہوتا ہے وصف کے اعتبار سے ناجائز۔ ان کے نزدیک ذات کے اعتبار سے ہی کیا ہوتا ہے وہ ناجائز ہوتا ہے۔ تو یہ یہ والا یہاں پر عدم القائل بالفصل یہ معتبر ہے، حجت ہے۔ کہ ایک مسئلہ اگر اس طرح ہے تو دوسرا مسئلہ بھی اسی طرح ہے۔ منّت والا مسئلہ اگر اس طرح مانتے ثابت ہے، تو دوسرا بھی ثابت ہے۔ اسی کیونکہ دونوں کی بنیاد ایک ہی قانون پر ہے۔ اگر ایک ثابت ہوا معلوم ہوا قانون اسی طرح ہے، تو دوسرا بھی ثابت۔ اور اگر ایک ثابت نہیں ہے، تو اس کی بنیاد اس قانون پر تھی، اسی قانون پر دوسرے کی بھی بنیاد ہے معلوم ہوا وہ بھی ثابت نہیں۔ کیونکہ دونوں میں فصل کا قائل کوئی بھی نہیں ہے۔ تو جہاں دونوں کی بنیاد ایک ہی قانون پر ہو، وہاں پر تو عدم القائل بالفصل یہ حجت ہے۔ اور اگر دونوں کی بنیاد الگ الگ قوانین پر ہو، منّت والا مسئلہ کوئی اور ہے، کوئی اور صورت ہے، وہ اس کا ضابطہ الگ ہے جس کی بنیاد پر ہم نے یہ کہا تھا۔ بیع والا مسئلہ کوئی اور ہے جس کی بنیاد کسی اور ضابطے پر ہے۔ تو یہاں پر یہ حجت نہیں، کیونکہ ایک مسئلے کے ثابت ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دوسرا مسئلہ بھی ثابت ہو۔ کیونکہ ایک مسئلہ ثابت ہو گا، تو اس کا قانون معلوم ہوا، قانون اسی طرح ہے۔ دوسرے کا تو الگ قانون ہی الگ ہے، تو ایک کے ثابت ہونے سے دوسرا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا یہ جو اجماع جو بیان کیا اس کی قسم، عدم القائل بالفصل، یہ کس وقت حجت ہے؟ جب دونوں مسئلوں کی بنیاد ایک ہی قانون پر ہو۔ وقد بينها صاحب التوضيح بما لا يتصور المزيد عليه. اور تحقیق اس کو بیان کیا ہے یعنی عدم القائل بالفصل اجماع کی یہ جو قسم ہے، اس کو بیان کیا ہے صاحبِ توضیح نے بما لا يتصور المزيد عليه، اس طور پر کہ تصور نہیں کیا جا سکتا اس پر زیادتی کا، یعنی اس سے زائد تفصیل کا تصور نہیں ہو سکتا جتنی وضاحت انہوں نے کی ہے اور کسی نے نہیں۔ وعندي اور میرے نزدیک ان هذا الأصل هو المنشأ لانحصار المذاهب في الأربعة. یہ ضابطہ، یہی بنیاد ہے لانحصار المذاهب في الأربعة، مذاہب کے چار میں بند ہونے کی، یہ ضابطہ ہے بھئی۔ یہ ضابطہ کیا اوپر ضابطہ ذکر کیا متن میں؟ کہ ایک زمانے والے جب ایک مسئلے کے اندر دو یا تین قولوں پر اکٹھے ہو جائیں، تو ان کے علاوہ کوئی نئی صورت اختیار کرنا جائز نہیں۔ شارح فرماتے ہیں یہی ضابطہ ہے کہ جس کی وجہ سے یہ مذاہب کتنے میں بند ہیں؟ چار مذاہب ہیں بھئی؛ احناف کا ہے، شافعیہ کا ہے، مالکیہ کا ہے اور حنابلہ کا بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں یہ اصل یہ ضابطہ، یہ بنیاد ہے مذاہب کے چار میں بند ہونے کی، وبطلان الخامس المستحدث، اور پانچویں نوپید کے باطل ہونے کا، پانچویں نئے مذہب کے باطل ہونے کے یہ بنیاد ہے۔ ولكن يرد عليه، لیکن اس پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے۔ اعتراض سمجھ لیں بھئی، اعتراض یہ کریں گے کہ بھئی آپ نے کہا کہ اگر اختلاف کریں دو قولوں میں، دو قولوں، دو قول مذکور ہیں۔ معلوم ہوا اختلاف کیا، کتنے قول ہوئے؟ دو۔ یہ اختلاف یا تو بالمشافہ مراد ہو گا یا بالمشافہ مراد نہیں ہو گا۔ اگر بالمشافہ مراد ہے، یعنی آمنے سامنے ایک ہی زمانے کے اندر، آمنے سامنے یعنی ایک زمانے کے اندر، یعنی ایک ہی زمانے کے اندر دو قول ان سے آئے ہوں گے۔ ایک فقیہ ایک قول ذکر کرتا ہے، دوسرا فقیہ دوسرا قول ذکر کرتا ہے۔ اگر یہ مراد ہے کہ بالمشافہ یعنی آمنے سامنے، آمنے سامنے سے مراد یہ آمنے سامنے یہ جو، یہ والا مراد نہیں، یعنی ایک زمانے میں ہیں، ایک زمانے میں۔ تو اگر بالمشافہ آمنے سامنے ہوں، یعنی ایک زمانے میں ہوں، اس زمانے میں دو قول آئے ہیں اور پھر بعد والے تیسرا قول نہیں کر سکتے، تو پھر اس صورت میں تو اعتراض ہوتا ہے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب بھی باطل ہونا چاہیے۔ کیونکہ ان کا زمانہ بعد کا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو امام محمد رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں بھئی۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کا زمانہ پہلے ہے۔ تو اس کا مطلب ہے ان دونوں سے جب ایک مسئلے میں دو قول آ گئے، ایک احناف کی طرف سے، ایک مالکیہ کی طرف سے، ایک امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اور ایک امام مالک رحمہ اللہ کا قول جب آ گیا، تو آگے آپ نے ضابطہ کیا پڑھا؟ بعد والوں کے لیے تیسرا قول اختیار کرنے کی گنجائش نہیں، تو پھر تو امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تو بعد میں آئے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ اور اگر آپ کا، آپ کی مراد یہ ہے کہ آمنے سامنے نہیں، یعنی عین ایک وقت میں نہیں، بس ایک زمانے میں ہو، کچھ آگے پیچھے بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اگر یہ مراد ہے آپ کی، تو پھر تو ہمارے اختلاف کا بھی اعتبار ہونا چاہیے۔ بعد والوں کا بھی کیا ہونا چاہیے؟ وہ کوئی، اگر امام مالک اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے کچھ ہی بعد ہی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول آتا ہے یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، اگر وہ معتبر ہے، یعنی وہ بالمشافہ تو نہیں، بالکل آمنے سامنے ایک زمانے میں تو نہیں، لیکن ساتھ ہی ہیں تقریباً کیا ہیں؟ تو اگر وہ کچھ بعد میں بھی معتبر ہے، تو پھر تو بعد والوں کا بھی کیا ہونا چاہیے؟ معتبر۔ ہمارا قول بھی، ہم بھی اختلاف کر کے ایک نئی صورت تیسری شق اختیار کرتے ہیں، تو اس کو بھی کیا کرنا چاہیے؟ ماننا چاہیے، جیسے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بعد میں آئے تھے اور ان کے بھی قول کا اعتبار ہے، تو پھر اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں ولكن يرد عليه اور اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے انه إن أريد بالاختلاف کہ اگر ارادہ کیا گیا ہے اختلاف کے ذریعے الاختلاف مشافهةً آمنے سامنے کا اختلاف في زمان واحد ایک ہی زمانے میں، فينبغي أن يكون مذهب الشافعي وأحمد بن حنبل رحمهما الله تعالى باطلاً کہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب جو ہے، مناسب یہ ہے کہ باطل، حين اختلف أبو حنيفة مع مالك رحمهما الله تعالى في زمان واحد جس وقت اختلاف کیا امام ابو حنیفہ نے امام مالک رحمہ اللہ کے ساتھ ایک ہی زمانے میں۔ وإن أريد بالاختلاف اور اگر ارادہ کیا گیا ہے اختلاف کے ذریعے أعم من أن يكون في زمان واحد کہ عام ہو اس سے کہ ایک ہی زمانے میں ہو أم لا یا نہ ہو، فكيف لا يعتبر اختلافنا تو کیسے اعتبار نہ کیا جائے گا ہمارے اختلاف کا كما اعتبر اختلاف الشافعي وأحمد، جیسے کہ اعتبار کیا گیا ہے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اختلاف کا؟ جب ان کے اختلاف کا اعتبار کیا گیا، تو ہمارے بھی اختلاف کا اعتبار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے نئی شق کو اختیار کیا، تو ہم نئی شق کو اختیار کریں، تو اس کا بھی اعتبار ہونا چاہیے۔ والجواب عنه صعب اور اس کا اس سے جواب جو ہے، اس اعتراض سے بڑا مشکل ہے، وقد بالغت في تحقيقه في التفسير الأحمدي اور تحقیق میں نے بہت خوب مبالغہ کیا ہے، خوب کوشش کی ہے في تحقيقه اس کے مسئلے کی تحقیق میں في التفسير الأحمدي اپنی تفسیر احمدی میں، وبذلت جهدي وطاقتي فيه اور اس میں میں نے اپنی محنت، جہد کہتے ہیں کوشش، مشقت کو، محنت کو، اور اس میں میں نے اپنی محنت اور طاقت اس میں صرف کی ہے، ولم يسبقني إلى مثله أحد اور کسی ایک نے بھی سبقت نہیں اس، کسی ایک نے بھی سبقت نہیں کی اس جیسی بحث کی طرف مجھ سے پہلے، یعنی مجھ سے کوئی بھی اس مسئلے کی طرف کسی نے سبقت نہیں کی، فصالعه إن شئت پس آپ اس کا مطالعہ کر لیجیے اگر چاہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ آپ نے کہا تھا دو قول آ جائیں تو تیسرا قول اختیار کرنا باطل۔ تو اگر آمنے سامنے کا مراد ہے اختلاف، تو پھر تو امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول بھی باطل ہونا چاہیے۔ اور اگر آمنے سامنے کا اختلاف معتبر نہیں بلکہ کچھ تھوڑا مؤخر بھی ہو، تو پھر تو ہمارے قول، ہم بھی کوئی نئی صورت اختیار کریں، اس کا بھی کیا کیا جانا چاہیے؟ اعتبار کرنا چاہیے بھئی۔ بھئی یہ یوں کہا جائے کہ یہ جو اللہ نے مذاہب کو چار میں بند کیا، فقہاء تو بہت زیادہ تھے لیکن ان چار ہی مذاہب کو اللہ نے مقبولیت نصیب فرمائی اور دنیا بھر میں یہی مذاہب پھیلے، باقی فقہاء اور ان کے متبعین ختم ہو گئے۔ اس وقت صرف یہی چار مذاہب ہیں۔ یہ، یہ جو چار مذاہب ہیں، یہ اللہ کے نزدیک قبولیت اور مقبولیت کی علامت ہے بھئی۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کے نزدیک قبولیت اور مقبولیت کی علامت ہے کہ انہی کو اللہ نے تمام دنیا کے اندر پھیلا دیا بھئی۔ تو اس کے لیے سبب، وجوہات اور توجیہات یا دلیلیں ذکر کرنے کی حاجت نہیں بھئی، اس کی طرف جانے کی، بس یہ اللہ کا فضل ہے، اللہ نے انہی چار کو پھیلایا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 55 of 84