Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-100

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔100 وهذا معنى قوله إلا انه عليه الصلاة والسلام معصوم عن القرار على الخطإ بخلاف ما يكون من غيره من البيان بالرأي من مجتهدي الأمة. فإنهم يقررون على الخطإ ولا يعصمون عن القرار عليه. بھئی گزشتہ سبق کے آخر میں یہ بات ہوئی تھی کہ پیغمبر سے اگر کوئی اجتہادی خطا بھی ہو جائے تو وہ اس پر برقرار نہیں رہے گا، بلکہ فوراً وحی کے ذریعے متنبہ کر دیا جائے گا۔ جبکہ دوسرے مجتہدین جو ہیں اگر ان سے کوئی خطا اجتہادی ہو جائے تو وہ تا قیامت اسی طرح رہتی ہے بھئی، جبکہ پیغمبر خطا پر پیغمبر کو برقرار برقرار نہیں رہ سکتا۔ تو شارح فرماتے ہیں: وهذا معنى قوله اور یہی مراد ہے مصنف کے اس قول کی۔ یہ جو ہم نے بات کی کہ پیغمبر اجتہادی خطا پر برقرار نہیں رہ سکتا اس کو وحی کے ذریعے مطلع کر دیا جائے گا، جبکہ باقی مجتہدین تا قیامت غلطی پر اسی طرح باقی ہوں گے باقی رہتے ہیں۔ تو یہی مراد ہے مصنف کے اس قول کی: إلا أنه عليه الصلاة والسلام معصوم عن القرار على الخطإ مگر یہ کہ پیغمبر علیہ الصلاة والسلام جو ہیں وہ غلطی پر قرار سے معصوم ہیں، اس سے محفوظ ہیں، بخلاف ما يكون من غيره من البيان بالرأي بخلاف اس کے جو ان کے علاوہ سے ہو، من غيره جو پیغمبر کے علاوہ سے ہو من البيان بالرأي یعنی رائے کے ذریعے بیان، یعنی پیغمبر کے علاوہ کوئی اور رائے کے ذریعے بیان کرے، یعنی کوئی اجتہاد کرے اور اس میں غلطی اس سے ہو جائے تو وہ غلطی پر برقرار رہ سکتا ہے اور وہ غلطی سے محفوظ ہو ایسا نہیں ہے بھئی۔ من مجتهدي الأمة یعنی کہ امت کے مجتہدین جو ہیں فإنهم يقررون على الخطإ اس لیے کیونکہ وہ برقرار رکھے جاتے ہیں خطا پر ولا يعصمون عن القرار عليه اور وہ اس غلطی پر قرار سے محفوظ محفوظ نہیں ہیں ونظائره كثيرة في كتب الأصول اور اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں اصول کی کتابوں میں، منها ان میں سے ایک یہ کہ انه لما أسر أسارى بدر کہ جس وقت قید کر لیے گئے بدر کے قیدی۔ أسارى أسير کی جمع ہے، أسارى حمزہ کے ضمہ کے ساتھ بھی صحیح اور أسارى حمزہ کے فتحہ کے ساتھ بھی صحیح۔ جب قید کر لیے گئے بدر کے قیدی وهم سبعون نفرا من الكفار اور وہ کفار میں سے 70 افراد تھے، مسلمانوں نے جن کو گرفتار کر لیا، قید کر لیا 70 کفار، فسامر النبي عليه الصلاة والسلام أصحابه في حقهم تو مشورہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ان کے بارے میں، فتكلم كل منهم برأيه تو کلام کیا ان میں سے ہر ایک نے اپنی رائے کے ساتھ، فقال أبو بكر رضی اللہ تعالی عنہ هم قومك وأهلك خذ منهم فداء ينفعنا وخلي هم أحرارا لعلهم يوفقون بالإسلام بعد ذلك، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے، هم قومك وہ آپ کی قوم ہیں وأهلك اور آپ کے اہل ہیں، یعنی آپ کے خاندان والے ہیں، خذ منهم فداء اے پیغمبر آپ ان سے لے لیجیے فداء فدیہ ينفعنا جو ہمیں نفع دے گا، فدیہ لے لیں گے مال مل جائے گا مسلمانوں کو نفع ہوگا، وخلي هم اور چھوڑ دیجیے ان کو أحرارا آزاد ہی، لعلهم يوفقون بالإسلام بعد ذلك شاید کہ ان کو توفیق دے دی جائے اسلام کی اس کے بعد، وقال وقال عمر عمر لفظ ہے بھئی یہاں ہونا چاہیے۔ وقال عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے: مكن نفسك من قتل عباس ومكن عليا من قتل عقيل ومكنني من قتل فلان ليقتل كل واحد منا قريبه، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھئی جن کی دین کے معاملے میں شدت کا اندازہ لگائیے بھئی، وہ کیا فرماتے وہ مش حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ کر رہے ہیں صحابہ سے کہ یہ قیدی ہیں ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ کیا ان کو سب کو قتل کر دیا جائے یا ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے مشورہ دیا کہ یا رسول اللہ فدیہ لے کر چھوڑ دیجیے، یہ آپ کی قوم والے ہیں، فدیہ ملے گا اس سے مسلمانوں کو نفع ہوگا اور یہ بھی شاید بعد میں اللہ ان کو اسلام لانے کی توفیق دے دے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے بھئی اپنے جلالی انداز میں: مكن نفسك من قتل عباس کہ اے اے یا رسول اللہ قدرت دیجیے اپنے نفس کو عباس کے قتل پر، اور یعنی اپنے آپ کو عباس کے قتل پر قادر کر لیجیے، یعنی آپ ان کو قتل کر دیجیے، ومكن عليا من قتل عقيل اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو قدرت دیجیے عقيل کے قتل کی، ومكنني من قتل فلان اور مجھے قدرت دیجیے مجھے قادر بنائیے فلاں کے قتل پر، ليقتل كل واحد منا قريبه تاکہ قتل کر دے ہم میں سے ہر ایک اپنے قریبی رشتہ دار کو، ہر ایک کیا کر دے؟ قریبی رشتہ دار کو قتل کر دے، ہر ایک اپنے اپنے قریبی رشتہ دار کو قتل کر دے تاکہ پتہ چلے کہ ہم اللہ کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں اور تاکہ یہ کفار کے سردار جتنے یہ جو پکڑے گئے ہیں بڑے بڑے لوگ ہیں، کچھ ان کے مارے جا چکے ہیں، کچھ کو ہم یہ ان کو ہم قتل کر دیں گے تو کفر کا سر ہی ٹوٹ جائے گا، ان کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا اور نیز اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ آئندہ کسی کو مسلمانوں کا راستہ روکنے کی اور اسلام کے راستے میں روڑے اٹکانے کی ہمت اور جرات نہ ہو سکے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ مشورہ دیا بھئی۔ فقالت حضور علیہ السلام فرمانے لگے: إن الله ليلين قلوب رجال كالماء ويشدد قلوب رجال كالحجارة، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ بیشک البتہ اللہ نرم فرما دیتے ہیں لوگوں کے دلوں کو كالماء پانی کی طرح اور اللہ سخت فرما دیتے ہیں لوگوں کے دلوں کو پتھر کی طرح، بعضوں کے دل پانی کی طرح نرم بنا دیتے ہیں اور بعضوں کے دل اللہ پتھر کی طرح سخت، مثلك يا أبا بكر كمثل إبراهيم تمہاری مثال اے ابوبکر ابراہیم علیہ السلام کی مثال کی طرح ہے حيث قال اس حیثیت سے کہ انہوں نے فرمایا تھا: فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحيم کہ جس شخص نے میرا میری پیروی کی تو وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو اے اللہ آپ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں، ومثلك يا عمر كمثل نوح اور تمہاری مثال اے عمر نوح علیہ السلام کی مثال ہے حيث قال اس حیثیت سے کہ انہوں نے فرمایا: رب لا تذر على الأرض من الكافرين ديارا اے پروردگار اے میرے پروردگار! لا تذر آپ نہ چھوڑیے على الأرض زمین پر من الكافرين کافروں میں سے ديارا کوئی گھر والا، کوئی باشندہ۔ دار گھر کو کہتے ہیں، دیار گھر والا۔ اے میرے پروردگار! آپ زمین پر نہ چھوڑیے کافروں میں سے کوئی باشندہ، ثم استقر رأيه على رأي أبي بكر رضی اللہ تعالی عنہ پھر حضور علیہ السلام کی رائے ثابت ہوئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے پر رائے پر، یعنی ان کے ساتھ ان کی رائے مل گئی، فأمر بأخذ الفداء تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا فدیہ لینے کا، وقال اور حضور علیہ السلام نے فرمایا: تستشهدون في أحد بعدتهم کہ تم شہید کیے جاؤ گے احد میں ان کی عدد کے بقدر، فقالوا قبلنا تو انہوں نے کہا ہمیں قبول ہے۔ حضور علیہ السلام نے صحابہ سے مشورہ کیا بھئی کہ کیا کیا جائے ان قیدیوں کا؟ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے ہوئے، فرمایا یا رسول اللہ ان اہ ان کو ان کی گردنیں اڑا دی جائیں، ان کو قتل کر دیا جائے یا ابوبکر صدیق نے بھی اپنا مشورہ دیا جیسے اوپر بات ہوئی۔ اور حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم فدیہ لینے کو قبول کرتے ہو تو یاد رکھو اگلے سال جتنے یہ افراد ہیں اتنے ہی تم میں سے شہید ہوں گے، اتنے ہی تم میں سے ان کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوں گے، صحابہ نے کہا ہمیں قبول ہے۔ یہ معنی ہے کہ وقال تستشهدون في أحد بعدتهم کہ تم شہید کیے جاؤ گے احد میں ان کے تعداد کے برابر، فقالوا قبلنا صحابہ نے کہا کہ ہمیں قبول ہے، فلما أخذوا الفداء جب انہوں نے فدیہ لے لیا نزل عليه قوله تعالى تو حضور علیہ السلام پر اللہ کا یہ قول نازل ہوا، جی اللہ کی طرف سے بھئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بات کی تائید آ گئی بھئی دیکھیے: ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض نہیں ہے کسی پیغمبر کے لیے کہ وہ اس کے وہ قیدی رکھے حتی يثخن في الأرض یہاں تک کہ وہ خون ریزی کرے زمین میں، یہاں تک کہ وہ کیا کرے؟ کسی پیغمبر کے لیے یہ نہیں ہے کہ وہ قیدی رکھے یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون ریزی کر لے، تريدون عرض الدنيا والله يريد الآخرة تم دنیاوی سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتے ہیں، والله عزيز حكيم اور اللہ زبردست ہیں حکمت والے ہیں، لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم اگر نہ لو لا كتاب من الله اگر اللہ کی طرف سے لکھا نہ جا چکا ہوتا سبق جو پہلے ہوا، اگر اللہ کی طرف سے پہلے یہ لکھا نہ جا چکا ہوتا لو لا كتاب من الله سبق اگر اللہ کی طرف سے پہلے یہ یہ حکم لکھا نہ جا چکا ہوتا لمسكم تو البتہ چھوتا تمہیں یعنی پہنچتا تمہیں فيما اس کے اندر أخذتم جو تم نے لیا، جو فدیہ تم نے لیا اس میں تمہیں پہنچتا عذاب عظيم سخت عذاب بھئی، سخت اللہ کی طرف سے سخت وعید نازل ہوئی کہ کس طرح فدیہ لیا، ان سب کو قتل کرنا چاہیے تھا، اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے بات طے نہ ہو چکی ہوتی تو تمہیں سخت عذاب پکڑ لیتا، فكلوا مما غنمتم حلالا طيبا پس کھاؤ تم اس میں سے جو تم نے جو تمہیں غنیمت ملی ہے حلالا طيبا اس حال میں کہ وہ حلال ہے پاکیزہ ہے، واتقوا الله اور اللہ سے ڈرو، إن الله غفور رحيم بیشک اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں۔ بھئی یہ غنیمت کا کھانا اس سے پہلے امتوں کے اندر جائز نہیں تھا بھئی، اگر مال غنیمت ملتا تھا تو اس کو ایک جگہ اکٹھا کر کے رکھ دیا جاتا، آسمان سے آگ اترتی اور اسے جلا دیتی تھی۔ یہ صرف اس امت کے لیے اللہ نے اس کو حلال کر دیا اور پھر یہ دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں بھئی: فكلوا مما غنمتم حلالا طيبا کہ کھاؤ تم نے جو غنیمت تمہیں ملی ہے وہ حلال پاکیزہ ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ فبكى رسول الله صلى الله عليه وسلم وبكى الصحابة كلهم تو رو دیے تو رو دیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ بھی رو دیے، وقال اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لو نزل العذاب ما نجا أحد منا إلا عمر اگر نازل ہوتا عذاب تو کوئی ایک بھی ہم میں سے نہ بچتا إلا عمر و ومعاذ بن سعد ہے آپ کی کتابوں میں؟ یہ کتاب کی غلطی ہے بھئی، سعد ابن معاذ ہونا چاہیے۔ سعد ابن معاذ بھئی، سعد ابن معاذ بھئی یہ قبیلہ اوس کے سردار تھے بھئی سعد ابن معاذ۔ اور غزوہ احزاب، غزوہ خندق میں جب تمام مشرکین عرب مل کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے اور مسلمانوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے کے مطابق خندق کھودی تھی مدینے کے گرد کہ دشمن تاکہ اسے عبور نہ کر سکیں، مدینے میں داخل نہ ہو سکیں اور اس موقع پر اتنا خوف کا عالم تھا کہ کہ خالق ارض و سما اس خوف کی کیفیت جو ان پر طاری تھی مسلمانوں پر اس اس کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بلغت القلوب الحناجر، کلیجے منہ کو آ رہے تھے، اتنا خوف، اور پورا دشمن آ گیا ہے بھئی اور سارے مل کر اور پھر اس موقع پر مدینے کے اندر بھئی یہود کا ایک قبیلہ تھا وہ بنو قریظہ والے، ان کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا کہ نہ تو وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی کریں گے اگر مدد اور نہ مدد کریں گے بھئی، نہ خلاف لڑائی کریں گے، انہوں نے عین لڑائی کے درمیان معاہدہ توڑ دیا پھر تو اور بھی خوف بڑھ گیا بھئی، باہر بھی دشمن اور ادھر گھر کے اندر بھی دشمن بھئی، کس کس کو روکا جائے، کس طرح روکا جائے، مسلمانوں سے کئی گنا تعداد میں زیادہ۔ تو پھر اس کے بعد اللہ نے جب دشمن کو بھگا دیا، آندھی آئی، شدید سردی تھی، وہ سب بھاگ گئے، سعد سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت زخمی تھے بھئی اور ان کا کوئی تیر وغیرہ کوئی انہیں لگا تھا جس اور خون رک ہی نہیں رہا تھا۔ تو انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ! جب تک یہ بنو قریظہ والوں کے معاملے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں اس وقت تک مجھے موت نہ دیجیے گا۔ چنانچہ کہتے ہیں یہ خون رک گیا بھئی، رک ہی نہیں رہا تھا، دعا کی تو خون رک گیا بھئی۔ اور پھر یہ جو اوس کے سردار تھے اور اوس والوں کے ساتھ وہ بنو قریظہ والوں کے پرانے تعلقات تھے اسلام سے پہلے کے بھئی، آپس میں بڑے گہرے دوستانہ تعلقات تھے، تو یہودیوں کو جب گھیر لیا مسلمانوں نے تو انہوں نے کہا بالآخر اس بات پر صلح پر آمادہ ہوئے کہ ہمیں وہ فیصلہ تسلیم ہوگا جو سعد ابن معاذ کریں گے، خود انہوں نے کہا کہ ان کو کیا کیا جائے فیصلہ ان سے کروائیں گے کیونکہ یہ تو ہمارے پرانے جاننے والے ہیں، یہ ہمارے بارے میں سب سے نرم فیصلہ کریں گے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، حضرت سعد ابن معاذ زخمی تھے، ان کو اسی طرح زخمی حالت میں لایا گیا بھئی۔ اور جب وہ آئے حضور علیہ السلام وہاں ایک عارضی مسجد بنائی گئی تھی، جہاں پر کچھ مسلمانوں نے ان یہودیوں کے قلعے کا گھیراؤ کیا ہوا تھا، حضور علیہ السلام ایک کونے میں تشریف فرما تھے، حضرت سعد ابن معاذ کو سواری پر لایا گیا، جب وہ آئے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا قبیلہ اوس انصار سے کہ اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ، وہ آئے اور ان کو بتلایا گیا کہ آپ ان یہود کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے وہ قبول ہوگا، تو انہوں نے پوچھا: کیا میں جو فیصلہ کروں گا اس کو یہ سارے لوگ تسلیم کریں گے؟ جتنے مسلمان تھے وہاں پر کیا سب لوگ میرے فیصلے کو تسلیم کریں گے؟ بتلایا گیا: ہاں، آپ کے فیصلے کو سب تسلیم کریں گے۔ پھر رخ دوسری طرف ہے، حضور علیہ السلام جس کونے میں تشریف فرما تھے اس طرف اشارہ کر کے اشارہ سا کیا اور اس طرف والے بھی کیا میرے فیصلے کو قبول کریں گے؟ اشارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا لیکن ادب کی وجہ سے نام نہیں لیا، رخ نہیں کیا، اشارۃً بات پوچھ لی، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں تم فیصلہ کرو جو کرو گے وہ نافذ ہوگا۔ سخت زخمی حالت میں ہیں بھئی، فرمایا کہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے سارے بالغ مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، جب یہ فیصلہ فرما دیا تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ سعد نے وہ فیصلہ کیا ہے جو عرش پر اللہ نے کیا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد جب ان کو قتل کر دیا گیا یہودیوں کو سب کو اور بچوں عورتوں کو غلام اور باندیاں بنا لیا گیا، پھر ان کا زخم سے پھر خون شروع ہو گیا اور پھر ان کا انتقال ہوا بھئی اور پھر اس کے بعد جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا، یاد رکھیے مومن کا جنازہ بڑا وزنی ہوتا ہے وہ ایمان کا وزن ہوتا ہے، بوجھ ہوتا ہے۔ تو جنازہ جب اٹھایا گیا وہ بڑا ہلکا پھلکا تھا۔ تو بعض منافقین کہنے لگے، دیکھو انہوں نے بڑا سخت فیصلہ کیا تھا وہ تو ان کے پرانے جاننے والے تھے اور انہوں نے ہی کہا تھا کہ یہ فیصلہ کریں، انہوں نے کتنا سخت فیصلہ کیا، اس لیے ان کا جنازہ ہلکا ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے، نہیں۔ ان کا جنازہ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہے، ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شرکت کے لیے آئے بھئی۔ اور یہ وہ شخص تھے کہ جن کا جب انتقال ہوا، تو کہتے ہیں عرش الٰہی لرزنے لگا۔ اور یا تو وہ غم کی وجہ سے یا ان کے استقبال میں خوشی کی وجہ سے لرزنے لگا بھئی۔ یہ سعد ابن معاذ ہیں بھئی۔ ان کی بھی یہی رائے تھی بھئی، جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے تھی، ان کی بھی یہی رائے تھی۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر عذاب نازل ہوتا، تو مَا نَجَا أَحَدٌ مِنْكُم إِلَّا عُمَرُ وَمُعَاذُ بْنُ... وَسَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، تو ہم میں سے کوئی ایک بھی نجات نہ پاتا سوائے عمر اور سعد ابن معاذ کے۔ فظہر، پس یہ بات ظاہر ہوئی، أَنَّ الْحَقَّ هُوَ رَأْيُ عُمَرَ رضی اللہ تعالی عنہ، کہ حق جو تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے تھی۔ وَأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخْطَأَ حِينَ عَمِلَ بِرَأْيِ أَبِي بَكْرٍ، اور یہ بات ظاہر ہوئی کہ حضور علیہ السلام نے غلطی کی جس وقت آپ نے عمل کیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے پر۔ وَلَكِنَّهُ لَمْ يُقَرَّرْ عَلَى الْخَطَإِ، لیکن آپ کو برقرار نہ رکھا گیا غلطی پر۔ بَلْ تَنَبَّهَ عَلَيْهِ بِإِنْزَالِ الْآيَاتِ، بلکہ آپ کو تنبیہ فرما دی اللہ نے آیتیں نازل کر کے۔ وَأَمَضَى الْحُكْمَ عَلَى الْفِدَاءِ، اور جاری رکھا فدیے کے حکم کو۔ فدیے کا جو فیصلہ تھا اس کو اللہ نے جاری رکھا اسی طرح۔ وَأَمَرَ بِأَكْلِهِ، اور حکم دیا اس کے کھانے کا۔ وَلَمْ يَأْمُرْ بِرَدِّ الْفِدَاءِ وَحُرْمَتِهِ، اور حکم نہیں دیا فدیہ واپس لوٹانے کا اور اس کے حرام ہونے کا، یہ حکم نہیں دیا۔ وَهَذَا هُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ نُزُولِ النَّصِّ بِخِلَافِ الرَّأْيِ وَبَيْنَ ظُهُورِهِ بِخِلَافِهِ، اور یہی فرق ہے رائے کے خلاف نص کے نازل ہونے کے بیچ اور رائے کے خلاف نص کے ظاہر ہونے کے درمیان۔ ایک ہے رائے کے خلاف نص کا نازل ہونا، رائے کے خلاف نص کا نازل ہونا۔ اور ایک ہے رائے کے خلاف نص کا ظاہر ہونا۔ ایک کیا ہے؟ رائے کے خلاف نص کا نازل ہونا، یہاں رائے کے خلاف نص نازل ہوئی۔ اور ایک ہے رائے کے خلاف نص کا ظاہر ہونا، اس میں اس رائے کو توڑ دیا جاتا ہے، نص اس کے خلاف آ جاتی ہے، بتلا دیا جاتا ہے کہ ایسا نہ کرو بلکہ ایسا کرو۔ اور ایک کیا ہے؟ رائے کے خلاف نص کا نازل ہونا، یہاں بھی نص رائے کے خلاف نازل ہوئی لیکن رائے کو توڑا نہیں گیا، اس کو برقرار، فدیے کا حکم اسی طرح برقرار رکھا گیا۔ تو یہ معنی ہے کہ هَذَا هُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ نُزُولِ النَّصِّ بِخِلَافِ الرَّأْيِ وَبَيْنَ ظُهُورِهِ بِخِلَافِهِ، اور یہی فرق ہے رائے کے خلاف نص کے نازل ہونے کے بیچ اور رائے کے خلاف نص کے ظاہر ہونے کے درمیان۔ فَإِنَّ فِي الْأَوَّلِ لَا يُنْقَضُ الرَّأْيُ بِالنَّصِّ وَفِي الثَّانِي يُنْقَضُ بِهِ، پس پہلی صورت میں جو ہے رائے کو نہیں توڑا جاتا نص کے ذریعے اور دوسری صورت میں توڑ دیا جاتا ہے رائے کو نص کے ذریعے۔ وَهَذَا كَالْإِلْهَامِ، اور یہ الہام کی طرح ہے۔ أَيِ الْفَرْقُ بَيْنَ اجْتِهَادِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُجْتَهِدِينَ كَالْفَرْقِ بَيْنَ إِلْهَامِ النَّبِيِّ وَغَيْرِهِ مِنَ الْأَوْلِيَاءِ، بھئی یہ الہام کی طرح ہے، یعنی جس طرح ایک پیغمبر کا الہام ہے ایک اولیاء کا الہام ہے، جیسے ان میں فرق ہے، اسی طرح یہاں پر بھی ایک پیغمبر کا اجتہاد ہے، ایک دوسرے مجتہدین کا اجتہاد ہے، تو وہ بھی ان میں بھی اسی طرح فرق ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَهَذَا كَالْإِلْهَامِ، اور یہ الہام کی طرح ہے۔ أَيِ الْفَرْقُ بَيْنَ اجْتِهَادِ النَّبِيِّ، یعنی پیغمبر کے اجتہاد میں اور اس کے علاوہ جو مجتہدین ہیں ان کے اجتہاد میں جو فرق ہے، كَالْفَرْقِ بَيْنَ إِلْهَامِ النَّبِيِّ وَغَيْرِهِ مِنَ الْأَوْلِيَاءِ، یہ اسی فرق کی طرح ہے جو پیغمبر کے الہام اور اس کے علاوہ اولیاء کے الہام کے درمیان ہو۔ فَإِنَّهُ حُجَّةٌ قَاطِعَةٌ فِي حَقِّهِ، پس وہ جو الہام ہے وہ قطعی حجت ہے پیغمبر کے حق میں۔ فَإِنَّهُ کے نیچے بین السطور تو نہیں لکھا کچھ بھئی؟ الهام الهام الاولیاء، نہیں بھئی یہ غلط لکھا ہے، إِنَّهُ کی ہ ضمير الہامِ اولیاء کو نہیں، مطلق الہام کو راجع۔ الہام جو ہے حُجَّةٌ قَاطِعَةٌ فِي حَقِّهِ، وہ قطعی حجت ہے پیغمبر کے حق میں۔ پیغمبر کو اگر کوئی چیز الہام کی جائے تو وہ قطعی دلیل ہے، پیغمبر اس کے خلاف نہیں چل سکتا۔ وہ کس کی طرف سے؟ اللہ کی طرف سے قطعی دلیل ہے، پیغمبر کو اسی کے مطابق چلنا ہوگا۔ جبکہ اولیاء کا الہام اس طرح نہیں ہے کہ ان کے دل میں کوئی بات ڈالی گئی اور وہ پھر ان پر واجب ہو، ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں فَإِنَّهُ حُجَّةٌ قَاطِعَةٌ فِي حَقِّهِ، پس الہام جو ہے وہ قطعی حجت ہے پیغمبر کے حق میں۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي حَقِّ غَيْرِهِ بِهَذِهِ الصِّفَةِ، اگرچہ وہ الہام پیغمبر کے علاوہ کے حق میں اس صفت پر نہیں ہے، یعنی قطعی حجت نہیں ہے۔ فَإِلْهَامُهُ قِسْمٌ مِنَ الْوَحْيِ، پس پیغمبر کا جو الہام ہے وہ وحی کی قسم ہے، يَكُونُ حُجَّةً مُتَعَدِّيَةً إِلَى عَامَّةِ الْخَلْقِ، وہ ایک حجت متعدیہ ہے عام مخلوق کی طرف، عام لوگوں کی طرف۔ یعنی یہ اس پر پیغمبر کے لیے بھی عمل واجب ہے اور یہ حجت متعدیہ ہے۔ تعدیہ کا کیا معنی؟ تجاوز کرنے والی، یعنی پیغمبر کے علاوہ مخلوق کی طرف بھی تجاوز کرنے والی ہے، ان کا بھی یہی حکم ہے جو پیغمبر کو الہام کیا گیا بھئی، سب کو یہ یہی حکم ہے۔ جبکہ وَإِلْهَامُ الْأَوْلِيَاءِ حُجَّةٌ فِي حَقِّ أَنْفُسِهِمْ، جبکہ اولیاء کا الہام صرف ان کی اپنی ذات کے بارے میں کے حق میں حجت ہے، إِنْ وَافَقَ الشَّرِيعَةَ، اگر وہ شریعت کے موافق ہو۔ اولیاء کا الہام صرف ان کی اپنے نفس کے بارے میں حجت ہے اور وہ بھی شرط یہ ہے کہ وہ شریعت کے موافق ہونا چاہیے۔ وَلَمْ يَتَعَدَّ إِلَى غَيْرِهِمْ، اور یہ متعدی نہیں ہوتا ان کے علاوہ کی طرف، إِلَّا إِذَا أَخَذْنَا بِقَوْلِهِمْ بِطَرِيقِ الْآدَابِ، مگر یہ کہ جب ہم لے لیں ان اولیاء کے قول کو آداب کے طریقے پر بھئی۔ واجب کے طریقے پر نہیں بلکہ آداب کے طریقے پر ہم لے لیں اگر، تو وہ ٹھیک لے سکتے ہیں، لیکن واجب کے طریقے پر نہیں، خود ان پر بھی واجب نہیں ہے بھئی اگر شریعت کے موافق نہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثُمَّ شَرَعَ فِي بَحْثِ شَرَائِعِ مَنْ قَبْلَنَا مِنْ جِهَةِ أَنَّهَا مُلْحَقَةٌ بِالسُّنَّةِ، پھر شروع ہوئے مصنف وہ جو ہم سے پہلے تھے ان کی شریعتوں کی بحث میں، مِنْ جِهَةِ اس جہت سے کہ أَنَّهَا مُلْحَقَةٌ بِالسُّنَّةِ کہ یہ بھی کس کے ساتھ ملی ہوئی ہیں؟ سنت کے ساتھ۔ وَاخْتُلِفَ فِيهَا، اور اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ فَقَالَ بَعْضُهُمْ تَلْزَمُنَا مُطْلَقًا، بعضوں نے کہا کہ مطلقاً وہ ہم پر لازم ہیں، یعنی جو ہم سے پہلے انبیاء کی جو شریعتیں تھیں وہ ہم پر لازم ہیں مطلقاً۔ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَلْزَمُنَا، اور بعضوں نے کہا کہ وہ ہم پر مطلقاً لازم نہیں بھئی، لَا تَلْزَمُنَا قَطُّ، کبھی بھی ہم پر لازم نہیں۔ وَالْمُخْتَارُ هُوَ مَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِقَوْلِهِ، اور مختار قول وہ ہے جس کو ذکر کیا ہے مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ: وَشَرَائِعُ مَنْ قَبْلَنَا تَلْزَمُنَا، اور شریعتیں ان کی جو ہم سے پہلے تھے، یعنی ہم سے پہلے جو امتیں تھیں یا ہم سے پہلے جو پیغمبر تھے، ان کی شریعتیں تَلْزَمُنَا، وہ ہم پر لازم ہوں گی، إِذَا قَصَّ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ غَيْرِ إِنْكَارٍ، جب ان کو بیان فرمائیں اللہ اور اس کے رسول بغیر کسی انکار کے۔ ان کے کسی حکم کو اللہ یا اس کے رسول بیان فرمائیں بغیر اس کے انکار کیے، بغیر اس کو رد کیے، تو پھر ہم پر بھی وہ لازم ہوں گی بھئی۔ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَقُصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا، پس جب اللہ نے ہم پر اس کو بیان نہ فرمایا ہو، بَلْ وُجِدَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ فَقَطْ، بلکہ صرف تورات اور انجیل میں پائی گئی ہوں، لَا تَلْزَمُنَا، تو پھر ہم پر لازم نہیں، لِأَنَّهُمْ حَرَّفُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ كَثِيرًا، اسی لیے کیونکہ انہوں نے بدل دیا ہے تورات اور انجیل کو کثیراً، بہت زیادہ۔ وَأَدْرَجُوا فِيهِمَا أَحْكَامًا بِهَوَاءِ أَنْفُسِهِمْ، اور انہوں نے درج کیا ہے ان دونوں کے اندر احکامات کو اپنی خواہشِ نفس سے، فَلَمْ يُتَيَقَّنْ أَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، تو یہ بات یقینی نہیں کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ وَكَذَا إِذَا قَصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا، اور اسی طرح جب اللہ بیان فرمائے ہم پر، ثُمَّ أَنْكَرَ عَلَيْنَا بَعْدَ نَقْلِ الْقِصَّةِ، پھر انکار فرمائے ہم پر اس قصے کو نقل کرنے کے بعد، صَرِيحًا، صراحتاً اللہ اس کا انکار فرمائے بِأَنْ لَا تَفْعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ، کہ اس طرح نہ کرنا تم، تم لوگ اس طرح نہ کرنا، صراحتاً فرما دیں۔ أَوْ دَلَالَةً، یا دلالۃً انکار فرمائے کس طرح؟ بِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ جَزَاءَ ظُلْمِهِمْ، کہ یہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ وہ اس طرح کرتے تھے اور تو ہم نے ان کو تباہ کیا اور یہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا۔ تو یہ جب اللہ نے فرمایا کہ یہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا، معلوم ہوا کہ اس کا انکار کیا جا رہا ہے، کیا کیا جا رہا ہے؟ اور صریح لفظوں میں تو یہ نہیں کہا جا رہا تم ایسا نہ کرو، لیکن اس سے یہی پتہ چلا کہ یہ ہمیں نہیں کرنا چاہیے۔ فَحِينَئِذٍ يَحْرُمُ عَلَيْنَا الْعَمَلُ بِهِ، تو اس وقت ہم پر بھی اس پر عمل کرنا حرام ہوگا۔ وَهَذَا أَصْلٌ كَبِيرٌ لِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور یہ بڑا ضابطہ ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا، يَتَفَرَّعُ عَلَيْهِ أَكْثَرُ الْأَحْكَامِ الْفِقْهِيَّةِ، اور اس پر بہت سے فقہی احکام متفرع ہوتے ہیں، نکلتے ہیں۔ فَمِثَالُ مَا لَمْ يُنْكِرْ عَلَيْنَا بَعْدَ نَقْلِ الْقِصَّةِ، پس مثال اس کی جس پر انکار نہیں، انکار نہیں فرمایا ہم پر اللہ نے اس قصے کو نقل کرنے کے بعد، اس کی مثال قَوْلُهُ تَعَالَى، وہ اللہ کا یہ قول ہے: وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ، اور ہم نے لکھ دیا تھا ان پر فِيهَا، اس تورات میں، أَيْ عَلَى الْيَهُودِ فِي التَّوْرَاةِ، ضمیروں کے مرجع بتلا دیے بھئی، ان پر یعنی یہودیوں پر لکھ دیا تھا فِيهَا أَيْ فِي التَّوْرَاةِ تورات میں، أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ، کہ جان کے بدلے جان، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ، اور ناک کے بدلے ناک، وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ، اور کان کے بدلے کان، وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ، اور دانت کے بدلے دانت، وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ، اور زخموں میں برابر کا بدلہ ہے۔ قصاص کس کو کہتے ہیں؟ برابر کا بدلہ۔ تو یہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہم نے ان پر تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا اور انکار نہیں فرمایا اس کا، فَهَذَا كُلُّهُ بَاقٍ عَلَيْنَا، تو یہ سب ہم پر بھی باقی ہوگا۔ وَهَكَذَا قَوْلُهُ تَعَالَى، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول ہے: وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ، اور ان کو خبر دے دیجیے کہ پانی جو ہے تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، أَيْ بَيْنَ نَاقَةِ صَالِحٍ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَقَوْمِهِ، یعنی حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی اور ان کی قوم کے درمیان پانی تقسیم شدہ ہے۔ بھئی حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی، وہ جب پانی پینے کے لیے آتی تو سارے جانور ڈر کر بھاگ جاتے بھئی، تو اللہ نے باری مقرر فرما دی کہ ایک دن یہ پانی پیا کرے اور ایک دن دوسرے جانور ان کے۔ تو یہ بیان کیا گیا، فَيُسْتَدَلُّ بِهِ، استدلال کیا گیا اس کے ذریعے عَلَى أَنَّ الْقِسْمَةَ بِطَرِيقِ الْمُهَايَأَةِ جَائِزَةٌ، کہ مہایاۃ کے طریقے پر تقسیم جائز ہے۔ مہایاۃ کہتے ہیں بھئی باہمی رضامندی سے کوئی معاملہ کرنا۔ باہمی رضامندی سے کوئی بات طے کر لینا بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہایاۃ۔ یعنی باہمی رضامندی سے چیز تقسیم کر لینا، باری مقرر کر لینا یہ جائز ہے، جیسے اللہ نے وہاں باری مقرر فرما دی۔ مثلاً آپ کا اور زید کا ایک مشترکہ غلام ہے بھئی، آپ تقسیم کس طرح کرتے ہیں؟ ایک دن تمہاری خدمت کیا کرے گا اور ایک دن میری خدمت کیا کرے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس طرح باہمی رضامندی کے ذریعے تقسیم معلوم ہوا جائز ہے۔ وَهَكَذَا قَوْلُهُ تَعَالَى، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول ہے: أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ، فِي حَقِّ قَوْمِ لُوطٍ، يَدُلُّ عَلَى حُرْمَةِ اللِّوَاطَةِ عَلَيْنَا. اللہ فرماتے ہیں أَئِنَّكُمْ کیا واقعی تم لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ البتہ آتے ہو مردوں کے پاس شَهْوَةً بطور شہوت کے مِنْ دُونِ النِّسَاءِ عورتوں کے چھوڑ کر؟ کیا تم واقعی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت کی وجہ سے آتے ہو؟ اور یہ کس کے بارے میں فرمایا؟ فِي حَقِّ قَوْمِ لُوطٍ، قومِ لوط کے حق میں فرمایا، تو يَدُلُّ عَلَى حُرْمَةِ اللِّوَاطَةِ عَلَيْنَا، تو یہ ہم پر بھی لواطت کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے یہ آیت۔ وَمِثَالُ مَا أَنْكَرَهُ عَلَيْنَا بَعْدَ الْقِصَّةِ، اور مثال اس کی جس کا اللہ نے انکار فرمایا ہم پر اس قصے کے بعد، قَوْلُهُ تَعَالَى، وہ اللہ کا یہ قول ہے: فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ، فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا، پس بوجہ ظلم کے ان کے جو یہودی ہوئے۔ یعنی یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے، وہ لوگ جو یہودی ہوئے ان کے ظلم کی وجہ سے، حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ، ہم نے حرام کر دیں ان پر طَيِّبَاتٍ، پاکیزہ چیزیں۔ ایسی پاکیزہ چیزیں أُحِلَّتْ لَهُمْ، جو ان کے لیے حلال تھیں۔ فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ، پس ان یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر حرام کر دیں کچھ ایسی پاکیزہ چیزیں جو ان کے لیے حلال تھیں۔ هَادُوا، واؤ کے بعد الف ہے بھئی؟ جی؟ ہاں، الف ہونا چاہیے بھئی، کیونکہ واؤِ جمع کے بعد الف آتا ہے۔ وَقَوْلُهُ تَعَالَى، اور اللہ کا یہ قول: وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ، اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے، ہم نے ان پر حرام کر دیا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ، ہر ناخن والا جانور۔ ظفر ناخن کو کہتے ہیں، ہر ناخن والا جانور، مراد کھر ہیں، کھر جانور کے، اور وہ کھر جو پھٹے نہ ہوں بھئی، جو پھٹے ہوئے نہ ہوں، گول کھر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان پر ہم نے حرام کر دیے، وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا، اور گائے اور بھیڑ بکریوں میں سے، غنم بھیڑ بکری، اور گائے اور بھیڑ بکریوں میں سے حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ، ہم نے ان پر حرام کر دی شُحُومَهُمَا، ان کی چربیاں۔ اور یہ گائے اور بھیڑ بکریوں میں سے ان کی چربی بھی ہم نے ان پر حرام کر دی، سوائے وہ چربی جو پشت کے ساتھ ملی ہوئی ہو یا ہڈیوں کے ساتھ ملی ہوئی ہو یا انتڑیوں کے ساتھ ملی ہوئی ہو، ان کے علاوہ باقی جو چربی بدن کے اندر گوشت کے ساتھ ملی ہوتی تھی وہ سب ہم نے ان پر کیا کر دیں؟ حرام کر دیں۔ ثُمَّ قَالَ، پھر اللہ نے فرمایا: ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ، یہ ہم نے ان کو بدلہ دیا ان کی شرارت کی وجہ سے، ان کی شرارت کی وجہ سے۔ تو دیکھیے اللہ انکار فرما رہے ہیں کہ حرام، حلال چیزیں تھیں، ہم نے ان پر کیا کر دیں؟ حرام کر دیں۔ ان کی شرارت کی وجہ سے یہ ہم نے حرام کی تھیں۔ تو یہ ہم نے ان کو سزا دی، یہ ہم نے ان کو بدلہ دیا ان کی شرارت کی وجہ سے، فعلم انہ لم یکن حراما علینا کہ یہ چیزیں ہم پر حرام نہیں ہیں۔ ثم هذه الشرائع التي تلزمنا إنما تلزمنا على أنها شريعة شريعة لرسولنا علیہ الصلاۃ والسلام۔ پھر یہ شریعتیں جو ہم پر لازم ہوتی ہیں، یہ لازم ہوتی ہیں اس بناء پر کہ یہ ہمارے پیغمبر کی شریعت ہے۔ یہ احکام جو کچھ اوپر ذکر ہوئے، ہم پر بھی لازم ہوئے، لیکن اس اعتبار سے نہیں کہ یہ اس پیغمبر کی شریعتیں ہیں، بلکہ اس اعتبار سے کہ یہ اب ہمارے پیغمبر کی شریعت ہیں۔ تو لا علی انہا شرائع للانبیاء السابقۃ اس بناء پر نہیں کہ یہ سابقہ انبیاء کی شریعتیں ہیں، لانھا اذا خصت فی کتابنا اسی کیونکہ جب ان کو بیان فرما دیا اللہ نے ہماری کتاب میں، بلا انکار بغیر انکار کے صارت جزعا من دیننا تو یہ ہمارے دین کا جز بن گئے۔ وقد قال اللہ تعالی اور تحقیق اللہ تعالی فرماتے ہیں لنبینا علیہ الصلاۃ والسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اولئک الذین ہد اللہ فبہدہم اقتدی پس وہ لوگ جن کو اللہ نے ہدایت دی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے، انبیاء کے ذکر کے بعد اللہ اگے فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے، فبہدہم پس ان کی ہدایت کے ساتھ، ان کی ہدایت جو ہے اقتدی اس کی پیروی کیجیے، یعنی ان کے طریقے کی پیروی کیجیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے، پس ان کے طریقے کی پیروی کیجیے۔ تو یہاں باقاعدہ اللہ کی طرف سے حکم آ گیا، جب حکم آ گیا تو یہ معلوم ہوا، یہ اب ان پر جو ہم عمل کر رہے ہیں یہ ہماری شریعت ہے بھئی اللہ کی طرف سے باقاعدہ حکم آیا ہے۔ ثم شرع فی بیان تقلید الصحابۃ الحاقا با مباحث السنتہ پھر مصنف شروع ہوئے صحابہ کی تقلید کے بیان میں الحاقا با مباحث السنتہ سنت کی بحثوں کے ساتھ ملاتے ہوئے، فقال بس فرمایا تقلید الصحابی واجب کہ صحابی کی تقلید واجب ہے، یترک بہ القیاس اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا۔ تقلید الصحابی واجب۔ یترک بہ القیاس یہ متن ہے یاد رکھیے بھئی! صحابی کی تقلید واجب ہے اور اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا، ای قیاس التابعین و من بعدہم یعنی تابعین کا اور ان کے جو بعد والے ہیں، ان کے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا صحابہ قول صحابی کی وجہ سے۔ لان قیاس الصحابی لا یترک بقول صحابی اخر اور اس لیے کہ ایک صحابی کے قیاس کو نہیں چھوڑا جاتا، دوسرے صحابی کے قول کی وجہ سے لاحتمال سماعی من الرسول صلی اللہ علیہ وسلم وجہ یہ احتمال ہونے کے کہ سنا ہوگا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، بل ہو ظاہر فی حقہ بلکہ یہی ظاہر ہے ان کے حق میں کہ انہوں نے کہ بات یہ ذکر کر رہے ہیں کہ صحابی کے قیاس کو دوسرے صحابی کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑا جائے گا کیونکہ احتمال ہے کہ انہوں نے پیغمبر سے سنا ہوگا، بل ہو ظاہر ہے ان کے حق میں کہ انہوں نے پیغمبر سے سنا ہوگا۔ و ان لم یسند الیہ اگرچہ پیغمبر کی طرف وہ نسبت نہ کریں۔ اگرچہ پیغمبر کی طرف وہ نسبت نہ کریں۔ بات سمجھ میں آئی، بھئی یہ قول صحابی کی بات چل رہی ہے، بھئی صحابی کا ایک قول جس میں وہ یہ نہیں فرماتے کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا، اگر وہ یہ کہیں، پھر تو وہ حدیث بھئی، وہ تو حدیث مرفوع ہو گئی، بھئی اس پر تو عمل کیا ہی جائے گا، وہ تو قیاس پر تو اس کو ترجیح ہے، یہ بات پہلے گزر چکی۔ البته قیاس کے مقابلے میں قول صحابی آئے اور یہ بھی میں آپ کو بتلا چکا تھا، لکھوایا تھا آپ کو کہ قول صحابی کو ترجیح ہے۔ و ان لم یسند الیہ اگرچہ اس کی طرف اسناد نہ کریں، و ان سلم انہ لیس مسموع منہ اور اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے کہ یہ بات انہوں نے حضور علیہ السلام سے نہیں سنی، تو بل ہو رائہ بلکہ یہ ان کی رائے ہے، صحابی کی رائے ہے، فراے صحابی اقوی من رای غیرھم تو صحابی کی رائے وہ زیادہ قوی ہے ان کے علاوہ کی رائے کے مقابلے میں، لانہم شھدو احوال التنزیل اسی کیونکہ صحابہ نے مشاہدہ کیا قرآن کے نازل ہونے کے احوال کا، و اسرار الشریعتہ اور انہوں نے مشاہدہ کیا شریعت کے اسرار کا، شریعت کی حکمتوں کا انہوں نے مشاہدہ کیا۔ فلھم مزیۃ علی غیرھم تو ان کو فضیلت ہے ان کے علاوہ پر، باقیوں پر ان کو فضیلت حاصل ہے، تو صحابی کی رائے دوسروں کے مقابلے میں قوی ہے۔ و قال الکرخی رحمۃ اللہ لا یجب تقلیدہ اور امام کرخی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحابی کے قول کی تقلید واجب نہیں ہے، الا فیما لا یدرک بالقیاس مگر اس کے اندر، اس قول کے اندر جو مدرک بالقیاس نہ ہو۔ بھئی صحابی کا قول کبھی تو مدرک بالقیاس ہوگا، کبھی مدرک بالقیاس نہیں ہوگا۔ مثلاً، مثلاً کوئی صحابی، مثلاً کہتے ہیں کسی مسئلے میں کہ یہ نیک کام کر لو گے تو اللہ اتنا اتنا ثواب عطا فرمائیں گے۔ اب بھئی عقل سے تو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ اس نیک کام پر اتنا اتنا ثواب ملے گا، معلوم ہوا یہ کس سے سنا ہوگا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو یہ بات غیر مدرک بالقیاس ہے، تو وہ یاد رکھیے، وہ حدیث مرفوع کے درجے میں ہے۔ اور ہاں جو مدرک بالقیاس ہے، اس کی بات کر رہے ہیں۔ تو وہ فرماتے ہیں امام کرخی جو مدرک بالقیاس ہے اس میں تقلید نہیں کی جائے گی۔ لانہ حینئذ یتعین جہۃ سماع منہ اسی کیونکہ اس وقت متعین ہو جائے گی سننے کی جہت حضور علیہ السلام سے کہ انہوں نے اس سے حضور علیہ السلام سے سنا ہوگا، بخلاف ما اذا کان مدرکا بالقیاس بخلاف اس کے کہ جب وہ صحابی کا قول مدرک بالقیاس ہو لانہ یحتمل ان یکون ہوا رای ہو یا ہوا رای ہو دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔ رائے ہو پڑھیں، تو پھر اس صورت میں یکونو کی خبر بھئی، اور ہوا ضمیر فصل بھئی، ہوا کیا ہے ضمیر؟ یہ فصل ہے۔ اور یا ہوا رای ہو اس کو پورے جملے کو یکونو کی خبر بنا دیں، تو پھر رائے ہو مرفوع پڑھیں، بھئی یہ ہوا کی خبر ہے۔ لانہ یحتمل ان یکونو ہوا رای ہو اسی کیونکہ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ پیغام، وہ صحابی کی رائے ہو و خطا فیہ اور صحابی نے اس میں غلطی کی ہو فلا یکون حجۃ علی غیرہ تو یہ غیر پر حج, ان کے علاوہ پر حجت نہیں ہوگی۔ و قال الشافعی رحمۃ اللہ لا یقلد احد منھم امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تقلید نہیں کی جائے گی ان میں سے کسی کی بھی، یعنی کسی قول کی، صحابی کے کسی قول کی تقلید نہیں کی جائے گی، چاہے مدرک بالقیاس ہو، چاہے مدرک بالقیاس نہ ہو۔ سواء کان مدرک بالقیاس او لا چاہے مدرک بالقیاس ہو یا نہ ہو لان الصحابۃ کان یفالف بعضہم بعضا صحابہ جو تھے وہ مخالفت کرتے تھے ان میں سے بعض بعض کی و لیس احد اولی من الآخر اور ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے سے اولی نہیں ہے، فتعین البطلان تو بطلان کیا ہوا؟ متعین ہوا، لہذا اب رائے پر، یعنی قیاس پر عمل کیا جائے گا۔ و قد اتفق عمل اصحابنا بالتقلید فیما لا یعقل بالقیاس فیما لا یعقل بالقیاس اور تحقیق اتفاق ہے، ہاں متفق ہے ہمارے فقہاء کا عمل بالتقلید تقلید پر ہمارے فقہاء کا عمل متفق ہے تقلید پر فیما لا یعقل بالقیاس اس قول کے اندر جو سمجھ میں نہ آئے، کس سے؟ قیاس۔ یعنی صحابی کا قول اگر مدرک بالقیاس نہیں ہے تو پھر اس صورت میں بالاتفاق ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کی تقلید کی جائے گی، اس کی تقلید کی جائے گی۔ یعنی ان ابا حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالی و صاحبہ کلہم متفقون بتقلید الصحابی یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے صاحبین جو ہیں وہ سب کے سب متفق ہیں صحابی کی تقلید پر کما فی اقل الحیض جیسے کہ حیض کی کم سے کم مدت میں فان العاقل قاصر بدرکہ اسی کیونکہ عقل جو ہے وہ قاصر ہے اس کو پا لینے سے، عقل کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ حیض کی کم سے کم مدت کتنی ہے؟ فعملنا جمیعا بما قالت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا تو ہم سب نے عمل کیا وہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ اقل الحیض للجاریت البکر و السیب ثلاثۃ ایام و لیالیہا و اکثرہ عشرت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت للجاریت البکر و السیب باکرہ اور ثیبہ لڑکی کے لیے ثلاثۃ ایام تین دن و لیالیہا اور ان کی راتیں، جاریہ یاد رکھیے عربی میں باندی کو بھی کہتے ہیں اور لڑکی کو بھی کہتے ہیں۔ یعنی اور کم سے کم حیض کی مدت باکرہ اور ثیبہ جاریہ کے لیے وہ تین دن اور تین راتیں ہیں، و اکثرہ عشرت اور زیادہ سے زیادہ دس دن یعنی کم سے کم تین دن ہو سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن حیض آ سکتا ہے۔ و شراء ما باع باقل مما باع اور خریدنا ما اس چیز کو باع جس کو بیچا باقل کم قیمت کے بدلے میں مما اس سے اس قیمت سے باع جس سے جس پر بیچا تھا۔ بھئی آگے حدیث ذکر ہوگی کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ذکر کیا کہ میرے پاس ایک خادم تھا، وہ خادم مجھ سے زید ابن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ نے خرید لیا، آٹھ سو درہم میں، آٹھ سو آٹھ سو درہم میں وہ خادم میں نے انہیں فروخت کر دیا، اور پیسوں کے لیے مدت مقرر کی کوئی کہ اتنے عرصے بعد پیسے دے دینا تو مدت مقرر کر دی، تو مدت مقرر کر دی اور ابھی وہ مدت نہیں پوری ہوئی تھی، یعنی ابھی انہوں نے ثمن کی ادائیگی نہیں کی تھی کہ اس سے پہلے ہی ان کو پیسوں کی ضرورت پیش آ گئی، تو انہوں نے وہی خادم پھر مجھے چھ سو درہم میں فروخت کر دیا۔ کتنے میں؟ چھ سو درہم میں۔ تو یاد رکھیے یہ جائز نہیں ہے بھئی، کہ آپ ایک شخص کو ایک چیز بیچیں، اور ایک قیمت پر اس کو بیچا اور ابھی اس نے پیسے نہیں دیے، آپ نے اس سے کمتر قیمت پر واپس خرید لی چیز۔ تو دیکھیے وہ خادم بھی اس عورت کے پاس واپس آ گیا، اور کتنے پیسے بھی دینے ہیں ابھی انہوں نے حضرت زید ابن, حضرت زید نے؟ آٹھ سو کا بیچا تھا، آٹھ سو ان کے ذمے تھے، پھر چھ سو میں انہوں نے لے لیا تو آٹھ سو میں سے چھ سو نکالے کتنے رہ گئے؟ دو سو، تو دو سو ان کے ذمے ابھی پیسے بھی باقی ہیں۔ خادم بھی واپس مل گیا اور دو سو درہم بھی ابھی انہوں نے دینے ہیں تو چونکہ یہ سود کی طرح ہے بھئی، سود بھئی۔ سود کسے کہتے ہیں؟ ایسی زیادتی جو عوض سے خالی ہو تو دیکھو یہ دو سو جو اس عورت کو زائد ملے گا یہ کیا ہے؟ عوض سے خالی ہے بھئی، عوض اس کے مقابلے میں اس طرف سے کوئی چیز نہیں گئی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی۔ یہ معنی ہے و شراء ما باع باقل مما باع اور خریدنا اس چیز کو جس کو بیچا ہے اس سے کمتر قیمت پر جس پر بیچا تھا قبل نقد الثمن الاولی پہلے ثمن کی ادائیگی سے پہلے ہاں اگر ثمن ایک دفعہ ادا کر دیے تھے، پھر ٹھیک ہے پھر جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی یہ وہ صورت ہے جبکہ ابھی ثمن ادا ہی نہ کیے ہوں فان القیاس یقتضی جوازہ پس قیاس جو ہے اس کے جواز کا تقاضا کرتا ہے ولکنا قُلنا بحرمتہ جمیعا لیکن ہم نے اس سب کی حرمت کا قول کیا، عمل بقول عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا عمل کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے قول پر لتلک المارۃ وہ جو انہوں نے اس عورت سے فرمایا و قد باع بست مائت, بست مائت بعد ما شرت بست مائت من زید ابن ارقمہ و قد باعت بست مائت اور تحقیق انہوں نے بیچا اچھا بھئی، میں نے صورت ذکر کر دی کہ پہلے عورت نے خادم بیچا کتنے میں؟ آٹھ سو میں اور پھر خیدہ کتنے میں؟ چھ سو میں و قد باعت بست مائت کیا معنی؟ باغت بیچا بست مائت کتنے میں؟ چھ سو میں اور میں نے کیا بتایا؟ آٹھ سو نہیں، جو چھ سو وہ چھ سو درہم میں کیا کیا عورت نے بیچا یا خریدا؟ خریدا چھ سو میں تو خریدا تھا، تو وہی ذکر آ رہا ہے بھئی۔ تو یہاں انہوں نے تو ذکر کیا باعت یا تو تسامح تسامح ہوا شارع سے کہنا اور بہتر جواب یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ یہ بیع اور شراء یہ اضداد میں سے ہیں، بیع کا معنی بیچنے کے بھی ہوتے ہیں اور خریدنے، شراء کے معنی بھی خریدنے کے بھی اور بیچنے کی بیچنے کے بھی اور یہاں با خریدنے کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ خریدنے کے۔ تو کہتے ہیں و قد باعت بست مائت اور تحقیق خریدا اس نے اس عورت نے چھ سو درہم میں بعد ما شرت بعد اس کے جب اس نے اس عورت نے بیچا تھا آٹھ سو میں من زید من زید ابن ارقمہ کس کے ہاتھ؟ زید ابن ارقم کے ہاتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس عورت سے فرمایا بئس ما شریتی و اشتریتی کتنا برا ہے جو تو نے بیچا اور خریدا، کتنا برا ہے جو تو نے بیچا اور خریدا۔ بلغی زید ابن ارقم پہنچا دے یہ بات زید ابن ارقم کو بان اللہ تعالی ابطل حجہ و جہادہ مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لم یتب کہ اللہ نے ان کے حج اور حضور علیہ السلام کے ساتھ جو جہاد تھا، ان کو باطل کر دیا اگر وہ توبہ نہ کریں۔ اگر وہ توبہ نہ کریں۔ اب اس کی وجہ سے یہ جو بیع کی تھی اس کی وجہ سے حج کا باطل ہونا اور جہاد کا باطل ہونا اس کا پتہ تو عقل سے نہیں چل سکتا، معلوم ہوا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا۔ تو چنانچہ ان کا یہ قول غیر مدرک بالقیاس ہے تو ہم نے اس کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا اور ان کے قول کو لے لیا بھئی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ پھر آئے حاضر خدمت ہوئے اور معذرت کی اور بیع کو فسخ کیا بھئی۔ چلیے بس بھئی, ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
84 approved lectures · 53 of 84