درس نمبر۔98
وَمَحَلُّهُ حُكْمٌ يَحْتَمِلُ الْوُجُودَ وَالْعَدَمَ فِي نَفْسِهِ بِأَنْ يَكُونَ أَمْرًا مُمْكِنًا عَمَلِيًّا وَلَا يَكُونَ وَاجِبًا لِذَاتِهِ كَالْإِيمَانِ وَلَا مُمْتَنِعًا لِذَاتِهِ كَالْكُفْرِ.
بیان تبدیل یعنی نسخ کی بحث چل رہی ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے نسخ کی تعریف کی، اور اس کے بعد اس کا جواز بتلایا، اب اس کا محل بتلا رہے ہیں کہ کن چیزوں میں نسخ ہو سکتا ہے اور کن چیزوں میں نسخ نہیں ہو سکتا۔
تو کہتے ہیں: وَمَحَلُّهُ اور محل نسخ کا حُكْمٌ يَحْتَمِلُ الْوُجُودَ وَالْعَدَمَ ایسا حکم ہے جو احتمال رکھتا ہو وجود اور عدم کا فِي نَفْسِهِ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ یعنی ایسا حکم جو اپنی ذات کے اعتبار سے وجود اور عدم دونوں کا احتمال رکھتا ہو، یعنی اس کا ہونا بھی ممکن ہو اور نہ ہونا بھی ممکن ہو۔ بِأَنْ يَكُونَ أَمْرًا مُمْكِنًا عَمَلِيًّا بایں طور کہ وہ ایسا امر ہو جو ممکن ہو، عملی ہو، یعنی عمل سے اس کا تعلق ہو بھئی، کس سے تعلق ہو؟ عمل سے تعلق ہو بھئی، یعنی صرف اعتقاد سے تعلق نہ ہو بھئی، تو عمل سے تعلق ہے۔
وَلَا يَكُونَ وَاجِبًا لِذَاتِهِ اور وہ اپنی ذات کے اعتبار سے واجب نہ ہو كَالْإِيمَانِ جیسے ایمان ہے۔ ایمان اپنی ذات کے اعتبار سے ہی واجب ہے۔ وَلَا مُمْتَنِعًا لِذَاتِهِ اور نہ ہی ممتنع ہو اپنی ذات کے اعتبار سے كَالْكُفْرِ جیسے کفر، کفر اپنی ذات ہی کے اعتبار سے ممتنع ہے بھئی۔
فَإِنَّ وُجُوبَ الْإِيمَانِ وَحُرْمَةَ الْكُفْرِ لَا يُنْسَخُ فِي دِينٍ مِنَ الْأَدْيَانِ وَلَا يَقْبَلُ النَّسْخَ اور اس لیے کیونکہ ایمان کا واجب ہونا اور کفر کا حرام ہونا، یہ منسوخ نہیں ہو سکتے کسی بھی دین میں، دینوں میں سے، دینوں میں سے کسی بھی دین کے اندر یہ منسوخ نہیں ہو سکتے وَلَا يَقْبَلُ النَّسْخَ اور یہ نسخ کو قبول نہیں کرتے۔
وَلَمْ يَلْتَحِقْ بِهِ مَا يُنَافِي النَّسْخَ مِنْ تَوْقِيتٍ وَلَمْ يَلْتَحِقْ بِهِ اور نہ ملا ہو اس کے ساتھ، اس حکم کے ساتھ مَا ایسی چیز يُنَافِي النَّسْخَ جو نسخ کے منافی ہو۔
بھئی محل بتلا رہے ہیں کن کن چیزوں میں نسخ ہو سکتا ہے، تو بتلایا کہ جس میں وجود اور عدم دونوں کا احتمال ہو، اور نیز اس حکم کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ملی ہوئی ہو جو نسخ ہی کے منافی ہو۔ بھئی اگر اس کے ساتھ ایسی چیز ملی ہوئی ہے جو نسخ کے منافی ہے تو پھر اس کا نسخ نہیں ہو سکتا۔ بھئی وہ کیا چیز ہے جو اس کے ساتھ ملے تو نسخ کے منافی ہوگی؟ یہ مِنْ تَوْقِيتٍ، یہ بیان ہے اس مَا کا، مَا يُنَافِي النَّسْخَ کا، یعنی کہ وقت مقرر کرنا، وقت بیان کرنا بھئی۔
بھئی ایک حکم آیا اور اس کی مدت بیان کر دی گئی کہ یہ اب سے لے کر اتنے عرصے تک یہ مثلاً حکم رہے گا۔ تو جب تک مدت بیان کی گئی ہے، اس دوران یہ نسخ کا احتمال نہیں رکھتا۔ اگلے متن میں آ رہا ہے: أَوْ تَأْبِيدٍ ثَبَتَ نَصًّا أَوْ دَلَالَةً یا ایسی تابد جو ثابت ہو نَصًّا یعنی صراحتاً أَوْ دَلَالَةً یا دلالتاً۔ اگر حکم کے ساتھ یہ بیان کر دیا گیا ہو کہ یہ حکم تابدی ہے، ہمیشہ رہے گا، تو بھی یہ چیز نسخ کے منافی اس کے ساتھ مل گئی، اب اس کا نسخ نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
عطف ہے علی قولہ: يَحْتَمِلُ الْوُجُودَ۔ وَلَمْ يَلْتَحِقْ بتلایا بھئی اس کا عطف مصنف کے قول يَحْتَمِلُ الْوُجُودَ پر ہے، لِأَنَّهُ إِذَا الْتَحَقَ بِهِ التَّوْقِيتُ اس لیے کیونکہ جب اس حکم کے ساتھ توقیت مل جائے لَا يُنْسَخُ قَبْلَ ذَالِكَ الْوَقْتِ الْبَتَّةَ تو یہ منسوخ نہیں کیا جائے گا اس وقت سے پہلے قطعی طور پر، وَبَعْدَهُ لَا يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ النَّسْخِ اور اس کے بعد اس پر نسخ کے اسم کا اطلاق نہیں ہوتا، پھر اس کے بعد اسے نسخ نہیں کہا جاتا۔
بھئی جب ایک حکم نازل کیا گیا اور اس کی مدت بیان کر دی گئی کہ یہ اتنے عرصے تک یہ حکم رہے گا، تو یہ جو مدت بیان کر دی گئی، یہ نسخ کے منافی ہے، اب اس مدت کے پورا ہونے سے پہلے اس کے منسوخ ہونے کا احتمال نہیں کیونکہ مدت بیان کر دی گئی۔ اور اس مدت کے گزر جانے کے بعد یہ حکم خود بخود ختم ہو جائے گا، اب نیا حکم آئے بھی تو اس کو نسخ نہیں کہیں گے۔ اس کو نسخ نہیں، نسخ تو اس کو کہتے ہیں کہ بعد والا حکم پہلے حکم کو بدل دے، یہاں تو بعد والے حکم نے پہلے کو بدلا نہیں، پہلے کی تو مدت ہی اتنی تھی، بیان کر دیا گیا تھا پہلے ہی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: وَبَعْدَهُ لَا يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ النَّسْخِ اور اس کے بعد اس پر نسخ کے اسم کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔ وَقَدْ قَالُوا فِي نَظِيرِهِ اور تحقیق فرمایا ہے اس کی مثال کے اندر علماء نے: فَتَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تم نفع اٹھاؤ اپنے گھروں میں تین دن تک، خِطَابًا لِقَوْمِ الصَّالِحِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خطاب فرماتے ہوئے حضرت صالح علیہ الصلاۃ والسلام کی قوم سے۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم سے کیا کہا گیا؟ کہ تم نفع اٹھاؤ اپنے گھروں میں تین دن تک۔ تو دیکھو مدت بیان کر دی گئی بھئی۔
وَتَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا اور تم کاشت کرو گے سات سال تک جم کر، جاں فشانی سے، تم کاشت کرو گے سات سال تک جم کر، حِكَايَةً عَنْ قَوْلِ يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حکایت کرتے ہوئے حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے قول سے۔ کُلُّ ذَالِكَ غَلَطٌ۔
حِكَايَةً عَنْ قَوْلِ يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حکایت کرتے ہوئے حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے قول سے کہ وہ خواب بیان کیا گیا حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے، اور آپ نے کیا فرمایا؟ کہ اس خواب کا معنی یہ ہے کہ سات سال تک تم کیا کرو؟ خوب اچھی طرح کاشت کرو گے اور پھر اگلے سات سال قحط کے ہیں تو اس کو سنبھال کر رکھنا تاکہ یہ جو سات سالوں میں کاشت کیا ہو وہ آگے کام آئے بھئی۔ تو دیکھیے یہاں مدت بیان کر دی گئی بھئی۔
شارح آگے فرماتے ہیں: کُلُّ ذَالِكَ غَلَطٌ یہ مثالیں علماء نے ذکر کی ہیں لیکن کُلُّ ذَالِكَ غَلَطٌ یہ سب غلط ہیں بھئی، لِأَنَّهُ مِنَ الْأَخْبَارِ وَالْقِصَصِ اس لیے کیونکہ یہ اخبار اور قصص، خبر اور قصے کے قبیل سے ہیں۔ اور ہماری بات شرعی احکام کے اندر چل رہی ہے، تو کہتے ہیں: وَالْأَوْلَى فِي نَظِيرِهِ اور بہتر جو ہے اس کی مثال کے اندر، قَوْلُهُ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ پس تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئیں۔
وَقَوْلُهُ تَعَالَى اور اس کی یہ مثال: فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا پس تم روکو ان عورتوں کو جن کے بارے میں بھئی زنا ثابت ہو گیا، چار گواہ پیش ہو گئے، تو تم ان کو روکو ان کے گھروں میں حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ یہاں تک کہ اٹھا لے ان کو موت أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا یا اللہ بنا دیں ان کے لیے کوئی راستہ، یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دیں۔ یہ پہلا بھئی شروع میں جب ابھی رجم وغیرہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، رجم یا کوڑے وغیرہ لگانے کا، اس سے پہلے کی بات کہ اگر کوئی عورت ہو اس پر زنا ثابت ہو جائے اور چار گواہ پیش ہو جائیں تو اسے کیا کر دو؟ قید کر دو، بند کر دو یہاں تک کہ ان پر موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے، اور پھر اس کے بعد بھئی رجم اور کوڑے وغیرہ کا حکم نازل ہوا۔
تو دیکھیے یہ اب شرعی احکام مثال کے اندر شارح نے ذکر کر دیے: فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ، اور فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ، تو یہاں مدت بیان کر دی گئی۔
وَنَحْوُہُ اس جیسی مثالیں، أَوْ تَأْبِيدٍ ثَبَتَ نَصًّا أَوْ دَلَالَةً بھئی بات کر رہے تھے کہ اس حکم کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ملی ہو جو نسخ کے منافی ہو، یعنی کہ توقیت یعنی کوئی وقت مقرر ہو، أَوْ تَأْبِيدٍ یا تابد یعنی ہمیشگی اس کے ساتھ ذکر ہو، ایسی ہمیشگی ثَبَتَ نَصًّا أَوْ دَلَالَةً جو ثابت ہو صراحتاً یا دلالتاً۔ عطف ہے علی قولہ توقیت، یہ عطف ہے مصنف کے قول توقیت پر، فَإِنَّهُ إِذَا لَحِقَهُ تَأْبِيدٌ پس جب اس کے ساتھ تابد مل جائے ایسی تابد ثَبَتَ نَصًّا جو صراحتاً ثابت ہو بِأَنْ يُذْكَرَ فِيهِ صَرِيحًا لَفْظُ الْأَبَدِ بایں طور کہ ذکر کیا گیا ہو اس کے ساتھ صراحتاً لفظِ ابد، کہ یہ حکم کیا ہے؟ ہمیشہ کے لیے ہے، تو یہ صراحتاً ہوا، نصاً ابدیت ثابت ہے اس میں، أَوْ دَلَالَةً یا ابدیت دلالتاً ثابت ہو كَشَرَائِعِ عِلَّتِي قُبِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جیسے کہ وہ شریعتیں جن پر قُبِضَ عَلَيْهَا جن پر قبض کیا گیا حضور علیہ السلام کو، یعنی جن پر حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا، وہ شرعی احکام۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو وحی کا دروازہ بند ہو گیا، اب کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا۔ جتنے احکام آ چکے وہ اسی طرح رہیں گے اور تو اب یہ احکام ابدی ہو گئے، لیکن ان کی ابدیت کیا نص سے ثابت ہے یا دلالتاً ثابت ہے؟ دلالتاً بھئی اب ہوئی ثابت، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ جو یہ شریعتیں جو ہیں لَا يَقْبَلُ النَّسْخَ یہ نسخ کو قبول نہیں کرتی ہیں، لِأَنَّ التَّأْبِيدَ الصَّرِيحَ يُنَافِي النَّسْخَ اس لیے کیونکہ یہ اب دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ جس میں تابد نصاً آئے یا دلالتاً آئے تو وہ نسخ کو قبول نہیں کریں گی، لِأَنَّ التَّأْبِيدَ الصَّرِيحَ يُنَافِي النَّسْخَ اس لیے کیونکہ صریح تابد جو ہے وہ نسخ کے منافی ہے، وَكَذَا لَا نَبِيَّ بَعْدَ نَبِيِّنَا فَلَا يُنْسَخُ مَا قُبِضَ عَلَيْهِ هُوَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور اسی طرح حضور علیہ السلام کے بعد اب کوئی پیغمبر نہیں ہے، تو منسوخ نہیں کیا ہوا ہوگا وہ جس پر حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا۔
وَقَدْ ذَكَرُوا فِي نَظِيرِ التَّأْبِيدِ الصَّرِيحِ اور ذکر کیا علماء نے تابدِ صریح کی مثال میں قَوْلَهُ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کا یہ قول فِي حَقِّ الْفَرِيقَيْنِ دونوں فریقوں کے حق میں، یعنی مسلمان اور کافر دونوں کے حق میں، یہ قول جو ہے اس کو علماء بطورِ مثال کے ذکر کرتے ہیں تابدِ صریح کے اندر: خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ہمیشہ رہیں گے اس میں ابداً، ہمیشہ کے لیے۔ خلود میں نے پہلے بیان کیا تھا طویل مدت کو کہتے ہیں، انتہائی طویل مدت، اور ابد یہ ہمیشہ کو کہتے ہیں بھئی، ہمیشہ ہمیشہ کو۔ تو خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا تو وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یعنی مومنین جنت میں اور کفار جہنم میں، دونوں فریقوں کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔
وَأُورِدَ عَلَيْهِ اور اس پر اعتراض کیا گیا ہے بِأَنَّهُ يُمْكِنُ أَنْ يُرَادَ بِهِ الْمُكْثُ الطَّوِيلُ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد طویل ٹھہرنا ہو، ہمیشگی مراد نہ ہو، ہو سکتا ہے کیا مراد ہو؟ طویل ٹھہرنا، طویل عرصے تک رہیں گے۔ وَأُجِيبَ اور جواب دیا گیا بِأَنَّ ذَالِكَ فِيمَا إِذَا اكْتَفَى بِقَوْلِهِ خَالِدِينَ کہ یہ اس وقت ہوگا جس وقت اللہ اکتفاء فرمالیں اپنے قول خَالِدِينَ پر، كَمَا فِي حَقِّ الْعُصَاةِ جیسے کس کے حق میں ہے؟ گناہگاروں کے حق میں ہے، نافرمانوں کے حق میں ہے، ان کے بارے میں ابد کا لفظ نہیں آتا بھئی۔
وَأَمَّا إِذَا قَرَنَ بِقَوْلِهِ أَبَدًا اور جب ملا دیں اللہ اپنے قول کے ساتھ أَبَدًا کو فَإِنَّهُ صَارَ مُحْكَمًا فِي التَّأْبِيدِ الْحَقِيقِيِّ تو یہ قول کیا بن گیا؟ محکم بن گیا تابدِ حقیقی کے اندر، کیونکہ ابد کا لفظ آیا اور ابد کا کیا معنی ہے؟ ہمیشہ۔
شارح فرماتے ہیں: وَالْكُلُّ غَلَطٌ اور یہ سب غلط ہے، لِأَنَّهُ فِي الْأَخْبَارِ دُونَ الْأَحْكَامِ اس لیے کیونکہ یہ خبروں میں ہے نہ کہ احکام میں، اور ہماری بحث تو کس میں ہے؟ احکام میں۔ وَالْأَوْلَى فِي نَظِيرِهِ قَوْلُهُ تَعَالَى اور بہتر اس کی مثال میں اللہ کا قول ہے فِي الْمَحْدُودِ فِي الْقَذْفِ اور اللہ کا قول یہ کس کے بارے میں ہے؟ محدود فی القذف کے بارے میں ہے کہ وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا اور ان کی کبھی بھی شہادت قبول نہ کرو، ابد کا لفظ آ گیا بھئی۔ فَإِنَّهُ لَا يُنْسَخُ بس یہ جو ہے کبھی بھی منسوخ نہیں ہوگا۔ کیونکہ ابد کا لفظ آیا۔
وَشَرْطُهُ التَّمَكُّنُ مِنْ عَقْدِ الْقَلْبِ عِنْدَنَا دُونَ التَّمَكُّنِ مِنَ الْفِعْلِ۔ اب شرط ذکر کر رہے ہیں نسخ کی، نسخ کی تعریف بھی ہوئی، جواز بھی بیان ہوا، اور محل بھی بیان ہوا، اب شرط بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَشَرْطُهُ التَّمَكُّنُ مِنْ عَقْدِ الْقَلْبِ عِنْدَنَا اور نسخ کی شرط جو ہے وہ قادر ہونا ہے مِنْ عَقْدِ الْقَلْبِ مِنْ عَقْدِ الْقَلْبِ أَيْ مِنْ اعْتِقَادِ الْقَلْبِ دل کے اعتقاد پر عِنْدَنَا ہمارے نزدیک، دُونَ التَّمَكُّنِ مِنَ الْفِعْلِ نہ کہ قادر ہونا فعل پر۔
بھئی دیکھیے بھئی شرط نسخ کی بیان ہو رہی ہے، نسخ کب ہو سکتا ہے؟ کب اس کی شرط کیا ہے؟ کیا اتنا وقت ملے کہ انسان اس کو سرانجام دے سکے اس فعل کو اس عمل کو کر سکے، کیا تب ہو سکتا ہے نسخ یا اس سے پہلے بھی ہو سکتا ہے؟ تو یاد رکھیے ہمارا مذہب یہ ہے کہ صرف اتنا فصل چاہیے، اتنا بیچ میں تھوڑا زمانہ ہونا چاہیے کم از کم کہ جس میں ہم اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھ سکیں۔ ایک حکم نازل ہوا اور پھر ہم نے اس کا اعتقاد رکھا، ابھی عمل نہیں کیا تھا اس سے پہلے ہی اس کا نسخ آ گیا تو یہ ایسا ہو سکتا ہے بھئی، اعتقاد شرط ہے، عمل شرط نہیں ہے بھئی۔
یہ معنی ہے کہ ہمارے نزدیک اس کی شرط جو ہے دل کے اعتقاد ہے نہ کہ فعل پر قادر ہونا، یعنی لَا بُدَّ بَعْدَ وُصُولِ الْأَمْرِ إِلَى الْمُكَلَّفِ یعنی ضروری ہے حکم کے مکلف تک پہنچنے کے بعد مِنْ زَمَانٍ قَلِيلٍ يَتَمَكَّنُ فِيهِ مِنْ اعْتِقَادِ ذَالِكَ الْأَمْرِ اتنا تھوڑا زمانہ کہ قادر ہو سکے اس کے اندر اس امر کے اعتقاد پر، اس امر کے اتنا تھوڑا زمانہ کم از کم ہو حَتَّى يَقْبَلَ النَّسْخَ بَعْدَهُ یہاں تک کہ پھر وہ کیا کر لے اس کے بعد؟ نسخ کو قبول کر لے۔ وَلَا يُشْتَرَطُ فِيهِ فَصْلُ زَمَانٍ يَتَمَكَّنُ فِيهِ مِنْ فِعْلِ ذَالِكَ الْأَمْرِ اور اس میں شرط نہیں لگائی جائے گی اتنے زمانے کے فصل کی کہ قادر ہو اس میں اس امر کے فعل پر، خِلَافًا لِلْمُعْتَزِلَةِ برخلاف معتزلہ کے، فَإِنَّ عِنْدَهُمْ لَا بُدَّ مِنْ زَمَانِ التَّمَكُّنِ مِنَ الْفِعْلِ حَتَّى يَقْبَلَ النَّسْخَ برخلاف معتزلہ کے کیونکہ پس بے شک ان کے نزدیک ضروری ہے اتنے فعل پر قادر ہونے کا زمانہ ضروری ہے کم از کم اتنا ہو کہ وہ اس کو کر سکے فعل کو، حَتَّى يَقْبَلَ النَّسْخَ یہاں تک کہ وہ پھر نسخ کو قبول کر لے۔
وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أُمِرَ بِخَمْسِينَ صَلَاةً فِي لَيْلَةِ الْمِعْرَاجِ کہ حضور علیہ السلام کو حکم دیا گیا پچاس نمازوں کا لیلۃ المعراج میں، ثُمَّ نُسِخَ مَا زَادَ عَلَى الْخَمْسِ فِي سَاعَةٍ پھر منسوخ کر دی گئیں وہ جو زائد تھیں پانچ پر ایک گھڑی میں ہی۔ ایک گھڑی میں ہی کیا کر دی گئیں باقی یہ ساری پانچ سے زائد جو تھیں وہ منسوخ کر دی گئیں اسی گھڑی میں جس میں آپ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ وَلَمْ يَتَمَكَّنْ أَحَدٌ مِنَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَالْأُمَّةِ مِنْ فِعْلِهَا اور کوئی بھی کوئی ایک بھی قادر نہ ہوا پیغمبر اور امت میں سے اس کے فعل پر، وَإِنَّمَا يَتَمَكَّنُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِنْ اعْتِقَادِهَا فَقَطْ صرف حضور علیہ السلام قادر ہوئے اس کے اعتقاد پر فقط، صرف حضور علیہ السلام نے اعتقاد رکھا اس کا۔
آگے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ کہ آپ نے ابھی ہمیں کہا کہ کم از کم اتنا فصل ہونا چاہیے کہ جس میں اس کا اعتقاد رکھا جائے، تو یہاں تو صرف پیغمبر نے اعتقاد رکھا، امت نے تو اعتقاد ہی نہیں رکھا، کم از کم اتنا فصل ضروری تھا تاکہ امت بھی کیا کر لے؟ اعتقاد رکھ لے۔ تو جواب دیں گے بھئی کہ پیغمبر جو ہیں وہ ہمارے امام ہیں، اور امام کا اعتقاد سب کا اعتقاد ہے، تو گویا سب نے ہی اعتقاد رکھا اس کا جب پیغمبر نے اعتقاد رکھ لیا۔
وَإِنَّهُ إِمَامُ الْأُمَّةِ اور وہ امت کے امام ہیں، فَيَكْفِي اعْتِقَادُهُ مِنْ اعْتِقَادِهِمْ تو ان کا پیغمبر کا اعتقاد ہی کافی ہے امت کے اعتقاد کے مقابلے میں، فَكَأَنَّهُمْ اعْتَقَدُوهَا جَمِيعًا پس گویا کہ ان سب نے ہی اعتقاد رکھا، ثُمَّ نُسِخَتْ پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا۔
لِمَا أَنَّ حُكْمَهُ بَيَانُ الْمُدَّةِ لِعَمَلِ الْقَلْبِ عِنْدَنَا بموجہ اس کے کہ نسخ کا حکم جو ہے وہ اس مدت کو مدت کو بیان کرنا ہے قلب کے عمل کے لیے۔ ہمارے نزدیک یہ جو نسخ ہے یہ قلب کے عمل کی مدت کو بیان کرتا ہے، کس کو بیان کرتا ہے؟ قلب کے عمل کی مدت کو بیان کرتا ہے۔
تو قلب کے عمل کی مدت اصلا بیان ہوتی، کیوں کہ بیان کیا جاتا ہے اصلا، اور بدن کے عمل کو طبعا بیان کیا جاتا ہے۔ یعنی نسخ بھئی نسخ کیا ہوتا ہے؟ آپ نے پڑھا نسخ کی کیا تعریف تھی؟ کہ یہ مدت کو بیان کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ بیان تبدیلی ہے نا! بیان یہ مدت بیان کرتا ہے۔ تو ہمارے نزدیک یہ اصل میں عمل قلب کی مدت بیان کرتا ہے، اور عمل بدن کی مدت طبعا بیان کرتا ہے۔ تو جب اصل آگیا طبعا نہ بھی آئے تو کوئی حرج نہیں بھئی! یعنی عمل کا وقت ہی نہ ملے تو کوئی حرج نہیں۔ اصل جب آگیا، اعتقاد جب آگیا۔
لما ان حكمه بيان المدة لعمل القلب عندنا اصلا ولعمل البدن طبعا. ووجہ اس کے کہ حکم اس نسخ کا یہ ہے کہ یہ بیان کرتا ہے اس مدت کو عمل قلب کے لیے ہمارے نزدیک اصلا، ولعمل البدن طبعا، اور عمل بدن کی طبعا۔ فاذا وجد الاصل لا يحتاج الى وجود التبع البتة، پس جب اصل پایا گیا تو ضرورت نہیں ہے تبع کے وجود کی قطعی طور پر۔ وعندهم هو بيان مدة العمل بالبدن، اور ان معتزلہ کے نزدیک جو ہے وہ بدن کے عمل کی مدت کو بیان کرتا ہے۔ اس کا حکم کیا ہے؟ یہ کس کی مدت کو بیان کرتا ہے؟ بدن کے عمل کی مدت کو بیان کرتا ہے۔ لہذا اتنا وقت ضروری ہے جس میں انسان کیا کر سکے اس پر؟ عمل کر سکے۔
فلا بد ان يتمكن من الفعل البتة، پس ضروری ہے کہ وہ قادر ہو اس کے فعل پر قطعی طور پر۔ ثم شرع في بيان ان اية حجة من الحجج الاربع تصلح ناسخة او لا. پھر شروع ہوئے مصنف اس بات کے بیان میں کہ کون سی دلیل من الحجج الاربع، چار دلیلوں میں سے وہ صلاحیت رکھتی ہے ناسخ بننے کی او لا یا نہیں رکھتی؟ چار دلیلیں ہیں بھئی: قرآن، حدیث، اجماع، اور قیاس۔ ان میں سے کون ناسخ بن سکتی ہے اور کون ناسخ نہیں بن سکتی، اب اس کا بیان کرنے لگے ہیں۔ بھئی نسـخ کی تعریف بھی ذکر ہوئی، جواز بھی ذکر ہوا، محل بھی ذکر ہوا، شرط بھی ذکر ہوئی، اب ناسخ کا بیان آ رہا ہے۔ اس کے بعد پھر منسوخ کا بیان آئے گا بھئی۔
فقال، پس مصنف نے فرمایا: والقياس لا يصلح ناسخا، اور قیاس صلاحیت نہیں رکھتا ناسخ بننے کی، اي لكل من الكتاب والسنة والاجماع والقياس، یعنی ہر ایک کے لیے: کتاب، سنت، اجماع اور قیاس کے لیے۔ یعنی قیاس ان چاروں میں سے کسی کے لیے بھی ناسخ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لان اصحابه رضی الله تعالى عنهم تركوا العمل بالرأي لاجل الكتاب والسنة، اس وجہ سے کہ صحابہ نے ترک کر دیا تھا رائے پر عمل کو بوجہ کتاب اللہ اور سنت کے، حتى قال علي رضی الله تعالى عنه، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: لو كان الدين بالرأي، اگر دین رائے کے ذریعے ہوتا، عقل کے ذریعے ہوتا، لكان باطن الخف اولى بالمسح من ظاهره، تو باطن خف یہ اولیٰ تھا، زیادہ لائق تھا مسح کے اس کے ظاہر سے، ظاہر خف سے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ دین جو ہے وہ عقل کی سے نہیں ہے بھئی! عقل کے تابع نہیں ہے۔ ورنہ تو ظاہر خف کے مقابلے میں باطن خف جو ہے وہ مسح کے زیادہ لائق تھا۔ ظاہر خف، موزے کا ظاہر یعنی جس پر ہم مسح کرتے ہیں، جس مقام پر موزے پر ہم کیا کرتے ہیں؟ مسح۔ یہ اگلا پنجے والا حصہ اس کے اوپر والے حصے پر ہم مسح کرتے ہیں، اور باطن خف سے مراد موزے کے اندر والا حصہ نہیں ہے، یاد رکھیے! نیچے تلوے کی جانب جو حصہ ہے، زمین کے ساتھ جو لگتا ہے، وہ حصہ مراد ہے بھئی۔ اور علی کیا فرما رہے ہیں؟ اگر دین عقل کے تابع ہوتا تو پھر تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ مسح یہ اوپر والے حصے پر نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ نچلے حصے پر ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہ زمین کے ساتھ لگ رہا ہے، اس پر گرد یا مٹی وغیرہ لگی ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
ولكني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظاهر الخف دون باطنه، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہی چل رہا ہے، وہ فرماتے ہیں: ولكني رأيت، لیکن میں نے دیکھا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ وہ مسح فرما رہے ہیں موزے کے ظاہر پر، نہ کہ اس کے باطن پر۔ وكذا الاجماع في معنى الكتاب والسنة، اور اسی طرح جو ہے اجماع، اجماع جو ہے وہ کتاب اور سنت کے معنی میں ہے۔ کس کے معنی میں؟ کتاب اور سنت۔ بھئی قیاس کے ذریعے کتاب اور سنت تو منسوخ نہیں ہو سکتے، کیونکہ صحابہ کتاب اور حدیث کی وجہ سے رائے کو کیا کر دیتے تھے؟ ترک کر دیتے تھے۔ اور اجماع بھی اسی کتاب اور سنت کی طرح ہے، لہذا یہ بھی قیاس کے ذریعے منسوخ نہیں ہو سکتا۔
واما عدم كون القياس ناسخا للقياس، چوتھی بات کیا کی تھی کہ قیاس، قیاس کے لیے بھی ناسخ نہیں بن سکتا، وہ اب بیان کرنے لگے ہیں۔ واما عدم كون القياس ناسخا للقياس، اور باقی قیاس کا قیاس کے لیے ناسخ نہ ہونا، فلان القياسين اذا تعارضا في زمان واحد، اس لیے کہ جب دو قیاس جب متعارض ہو جائیں ایک زمانے کے اندر، ایک سے حلت کا پتہ چل رہا ہے دوسرے سے حرمت کا مثلا، فيعمل المجتهد بأيهما شاء بشهادة قلبه، تو عمل کر لے مجتہد ان دونوں میں سے جس پر بھی چاہے اپنے قلب کی شہادت کے ساتھ، قلب جس کی شہادت دے دے اس پر کیا کر لے؟ عمل کر لے۔ تو یہ اگر ایک زمانے میں ہوں۔ وان كان في زمانين، اور اگر وہ دو زمانے میں ہوں، مطلب پہلے قیاس اور بتلا رہا تھا، اب پھر رائے بدل گئی اب دوسری رائے بن گئی، فيعمل المجتهد بآخر القياس المرجوع اليه، تو مجتہد عمل کر لے گا اس آخری قیاس پر جس کی طرف رجوع کیا گیا ہے، ولكن لا يسمى ذلك نسخا في الاصطلاح، لیکن اس کو اصطلاح میں نسخ نہیں کہا جاتا۔ وكان ابن سريج من اصحاب الشافعي يجوز نسخ الكتاب والسنة بالرأي.
اور ابن سریج جو ہیں اصحاب شافعی میں سے، یعنی فقہائے شوافع میں سے، وہ جو ہیں، بعض کتابوں میں ابن شریح کا لفظ ملتا ہے بھئی، وہ جو ہیں وہ جائز قرار دیتے ہیں کتاب اللہ اور سنت کے نسخ کو بالرائے، کس کے ذریعے؟ رائے کے ذریعے، یعنی قیاس کے ذریعے۔ والانماطي منهم يجوز نسخ الكتاب بقياس مستخرج منه، اور جو انماطی ہیں ان میں سے، شوافع میں سے، وہ جائز قرار دیتے ہیں کتاب اللہ کے نسخ کو بقیاس مستخرج منہ، اس قیاس کے ذریعے جو کتاب اللہ ہی سے معلوم ہوا ہو، کتاب اللہ ہی سے نکالا جائے بھئی۔ وہ کہتے ہیں بھئی کہ وہ قیاس جو ہے اگر اس کی علت کا پتہ کس سے چلے؟ کتاب اللہ سے، تو اس کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ جائز ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک قیاس کسی کے لیے بھی ناسخ نہیں بن سکتا۔
وكذا الاجماع عند الجمهور، اور اسی طرح اجماع ہے جمہور کے نزدیک جو ہے: لا يصلح ناسخا لشيء من الادلة، یہ صلاحیت نہیں رکھتا ناسخ بننے کی کسی بھی چیز کے لیے دلیلوں میں سے، لانه عبارة عن اجتماع الآراء، اس لیے کہ اجماع جو ہے یہ عبارت ہے راؤں کے جمع ہونے سے۔ تمام مجتہدین کی رائے جمع ہو جائے تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ اجماع۔ کیا کہا جاتا ہے؟ اجماع کہا جاتا ہے۔ تو لہذا یہ بھی صلاحیت نہیں رکھتا کہ یہ کسی کے لیے ناسخ بنے۔ ولا يعرف بالرأي انتهاء الحسن، اور جانا نہیں جا سکتا رائے کے ذریعے حسن کی انتہا کو۔
رائے کے ذریعے حسن کی انتہا کو نہیں جانا جا سکتا۔ بھئی شریعت کی طرف سے جب ایک حکم آتا ہے کہ یہ کام کرو، معلوم ہوا اس میں حسن ہے۔ کیا چیز ہے؟ حسن۔ اور پھر جب اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا اور دوسرا حکم نازل کر دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک تو اس چیز میں حسن تھا، اب اس میں حسن نہیں، اب اس نئے حکم پر عمل کرو اس میں حسن ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو نسخ ہوتا ہے یہ یہ بیان کرتا ہے کہ پچھلے حکم یا پچھلے فعل کا حسن ختم ہو چکا، اب اس میں کوئی حسن نہیں ہے۔ تو اگر اجماع کو ناسخ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب ہے اجماع سے یہ پتہ چلا کہ پچھلی چیز کا حسن ختم ہو گیا، حالانکہ اجماع یعنی رائے کے ذریعے تو اس چیز کا پتہ نہیں چل سکتا، یہ معنی ہے: ولا يعرف بالرأي انتهاء الحسن، اور نہیں جانا جا سکتا رائے کے ذریعے حسن کی انتہا کو۔
وقال فخر الاسلام، اور فخر الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يجوز نسخ الاجماع بالاجماع، جائز ہے نسخ اجماع کا اجماع کے ذریعے، ولعله اراد به، اور شاید ان کی مراد اس سے یہ ہے کہ: ان الاجماع يتصور ان يكون لمصلحة، کہ اجماع کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی مصلحت کی بنا پر ہو، ثم تتبدل تلك المصلحة، پھر وہ مصلحت بدل جائے، فينعقد اجماع ناسخ للاول، تو منعقد ہو جائے ایسا اجماع جو منسوخ کرنے والا ہو پہلے کو۔
بھئی دیکھیے! جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اجماع ناسخ نہیں بن سکتا، کیونکہ اجماع اس کو کہتے ہیں کہ جب ایک زمانے کے تمام مجتہدین کی رائے جمع ہو جائے کہ یہ مسئلہ اسی طرح ہے، تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ اجماع کہا جاتا ہے، اور ہر ایک کی جو رائے بنی تو اس کے پاس کوئی دلیل ہوگی، کوئی خبر واحد وغیرہ ہوگی، دلیل ہوگی جس کی وجہ سے ان سب کی رائے یہ بن گئی بھئی، رائے یہ بن گئی۔ تو بعد میں اگر اجماع کے ذریعے، اجماع کو نسخ کیا جائے یہ تو گویا اجماع کے ذریعے اس نص ہی کو نسخ کیا جا رہا ہے۔ وہ جو ان کی دلیل تھی، خبر واحد وغیرہ، اسی کو کیا جا رہا ہے گویا؟ اسی کو منسوخ کیا جا رہا ہے، حالانکہ رائے کے ذریعے اوپر آپ پڑھ چکے قرآن اور حدیث کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ایک کے پاس اپنی دلیل ہوگی جبھی سب کی رائے ایک مسئلے پر متفق ہوئی، کسی کے پاس کوئی قرآن سے دلیل لیتا ہے، کوئی کہتا ہے کوئی حدیث سے کوئی دلیل ذکر کر رہا ہوگا تو سب کی رائے بن گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو لہذا اجماع کے لیے اجماع ناسخ نہیں بن سکتا، ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ اجماع کے ذریعے نص کا منسوخ کرنا لازم آئے گا بھئی، منسوخ کرنا۔ اور فخر الاسلام رحمہ اللہ نے کہتے ہیں، انہوں نے اجماع کے ذریعے اجماع کے نسخ کو جائز قرار دیا ہے۔ جائز قرار دیا ہے۔ تو مصنف اب فرما رہے ہیں، ان کے قول کی تاویل کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: شاید ان کا ارادہ یہ ہے کہ ان الاجماع يتصور ان يكون لمصلحة، کہ اجماع میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی مصلحت کی بنا پر ہو، یعنی نص وغیرہ تو کوئی نہیں، ہو سکتا ہے صرف کس پر ہوں؟ کسی ایک بات میں تمام مجتہدین نے مصلحت دیکھی کہ اس زمانے کے اعتبار سے اس چیز میں مصلحت تھی، اس لیے سب کی رائے اس پر جمع ہو گئی اور اجماع ہو گیا۔ اور پھر بعد کے زمانے والے مجتہدین کا زمانہ بدل گیا، اس میں انہوں نے غور کیا تو انہیں دوسری بات میں مصلحت معلوم ہوئی، چنانچہ اس پر ان کی رائے اکٹھی ہو گئیں۔ تو اس طرح دوسرا اجماع کیا ہوگا پہلے اجماع کے لیے ناسخ بن جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ تاویل کر دی کہ ہو سکتا ہے کسی مصلحت کی بنا پر اجماع ہوا ہو، اور بعد میں وہ مصلحت زمانے کے اعتبار سے بدل جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
وعند بعض المعتزلة يجوز نسخ الكتاب بالاجماع، اور بعض معتزلہ کے نزدیک کتاب اللہ کا نسخ جائز ہے اجماع کے ذریعے، لان المؤلفة قلوبهم مذكورون في الكتاب، اس لیے کہ مؤلفت القلوب جو ہیں وہ مذکور ہیں کتاب اللہ میں، وسقط نصيبهم من الصدقات بالاجماع المنعقد في زمان ابي بكر رضی الله تعالى عنه، اور ان کا حصہ ساقط ہو گیا صدقات میں سے بالاجماع، اس اجماع کی وجہ سے جو منعقد ہوا تھا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں۔
مؤلفت القلوب بھئی! جن کے جن کے دلداری کے لیے زکوۃ کا مال انہیں دیا جاتا تھا، وہ لوگ جن کے دلوں کو جوڑنے کے لیے ساتھ اسلام کے، مسلمانوں کے، جن کو زکوۃ دی جاتی تھی۔ زکوۃ کے جو مصارف بیان ہوتے ہیں قرآن میں، وہاں آپ کو والمؤلفة قلوبهم کے لفظ ملیں گے بھئی۔ وہ لوگ جن کے کس کے لیے؟ دلوں کو جوڑا گیا ہو۔ بھئی ابتداء میں اسلام کمزور تھا، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدقات میں سے، جیسے کہ اللہ کا حکم تھا، صدقات میں سے جو نئے نئے مسلمان ہوتے تھے ان کو بھی اس میں سے حصہ دیتے تھے تا کہ یہ اور راغب ہو جائیں اور پورے طور پر مسلمان ہو جائیں، ان کا ایمان ضعیف ہوتا تھا تا کہ یہ کیا بن جائیں؟ کامل طور پر ہو جائے ان کا ایمان بھئی۔ یا اسی طرح بعض غیر مسلم ہوتے تھے تو ان کو بھی دیا جاتا تھا تا کہ یہ اسلام کی طرف راغب ہو جائیں بھئی، اس کو بھی اس میں سے دیا جاتا تھا۔
اور پھر اس کے منسوخ ہونے پر اجماع ہوا شارح فرما رہے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے دو سردار تھے بھئی کسی علاقے کے، وہ ہمیشہ کی طرح اپنا حصہ لینے آئے جو ان کو دیا جاتا تھا مؤلفت القلوب ہونے کی بنا پر۔ اور آئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو دستاویز لکھ کر اور دستخط وغیرہ کر کے ان کے حوالے کر دی کہ اتنا حصہ مال تمہارا ہو گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تمہارا ہو گیا۔ کوئی زمین وغیرہ اور کچھ اس طرح کی چیزیں تو اس میں لکھ دیں۔
اب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ جب رخصت ہوئے، تو آپس میں سوچا کہ بھئی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے تو ہمیں لکھ کر دے دیا ہے، عمر جو ہیں، عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ وہ بھی بڑی اہم شخصیت ہیں، ان کی بڑی اہمیت ہے مسلمانوں میں، تو ان سے بھی دستخط کروا لیتے ہیں تا کہ بات خوب پکی ہو جائے بھئی۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے، ان کے گھر تشریف لائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بلوایا، وہ آئے۔ پوچھا: کیسے آئے؟ کہا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے تو ہمیں لکھ کر دے دیا ہے، ہم نے سوچا آپ سے بھی تصدیق کروا لیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اچھا! انہوں نے لکھ کر دے دیا ہے؟ کہا: جی ہاں، لکھ کر دے دیا ہے۔ کہا: اچھا لاؤ، دکھاؤ۔ ان سے وہ لیا اور وہ جو کاغذ یا چمڑا جس پر حضرت ابو بکر صدیق نے لکھ کر دیا تھا۔ روایات میں آتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے یوں سامنے اپنے اس کاغذ یا چمڑے کو اپنے سامنے پکڑا اور اس پر تھوک دیا، لعاب اپنا ڈالا اور پھر اس کو خوب مسل دیا، ساری تحریر خراب کر دی بھئی۔
اب تو وہ بڑے پریشان ہوئے کہ یہ کیا کیا؟ آپ نے اگر آپ ہماری تصدیق نہیں کر رہے تھے تو کم از کم یہ جو ان کا لکھا ہوا تھا اس کو کیوں آپ نے خراب کیا؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے کہ پہلے اسلام کمزور تھا، اب اسلام کو اللہ نے عزت نصیب فرما دی ہے، اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ وہ پھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے کہ آپ کے تحریر کو تو اس طرح عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے خراب کر دیا۔ خلیفہ آپ ہیں یا وہ ہیں خلیفہ؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عجیب جواب دیا، فرمایا: هو ان شاء الله تعالى، کہ وہ ہوں گے خلیفہ اگر اللہ نے چاہا بھئی، وہ ہوں گے۔ اور پھر ان کے فیصلے کو برقرار رکھا بھئی، اسی طرح۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ معتزلہ یہ دلیل ذکر کرتے ہیں بھئی، یہ واقعہ اس طرح ہوا تھا اور معلوم ہوا اجماع کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ جائز ہے۔ لیکن یہ درست نہیں مولانا! اجماع کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ نہیں ہو سکتا۔ اوپر آپ نے متن میں پڑھ لیا: وكذا الاجماع عند الجمهور، اور اسی طرح ہے اجماع جمہور کے نزدیک کہ وہ ناسخ نہیں بن سکتا جس طرح قیاس ناسخ نہیں بن سکتا۔ تو پھر یہ کس طرح؟ یہ تو کتاب اللہ کے اندر مؤلفت القلوب کا ذکر ہے صدقات کے مصارف میں، پھر ان کا کیسے حصہ ساقط ہوا؟ تو جواب اس کا یہ دیتے ہیں کہ بھئی وہ علت جس کی بنا پر ان کا حصہ کتاب اللہ میں ذکر تھا، وہ علت ختم ہو گئی، پہلے اسلام کمزور تھا اس لیے ان کو ساتھ جوڑنے کے لیے دیا جاتا تھا، اب اسلام کو اللہ نے قوت نصیب فرما دی بھئی۔ تو لہذا یہ جو ہے انتهاء الحكم بانتهاء العلة کے قبیل سے ہے، کہ حکم کی انتہا ہو گئی کس وجہ سے؟ علت کے انتہا، علت کے ختم ہو جانے کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
قلنا ہم کہتے ہیں کأن ذلک من قبیل انتہاء الحکم بنتہاء العلت کہ یہ جو ہے ان حکم کی انتہا ہو جانا علت کی انتہا ہو جانے کی وجہ سے یہ اس قبیل سے ہے وقیل اور کہا گیا ہے نسخ ذلک بحدیث رواہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ فی خلافۃ ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ کہ یہ جو تھا یہ مؤلفات القلوب جو تھے یہ منسوخ ہوئے اس حدیث کی وجہ سے جس کو روایت کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں۔
بعض کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے باقاعدہ حدیث ذکر کی تھی حضور علیہ السلام کا قول کہ مؤلفات القلوب کیا ہو چکے؟ ساقط ہو چکے ان کا حصہ اب نہیں ہے۔ وہ حدیث انہوں نے ذکر کی وأجمعوا علی صحتہ اور تمام صحابہ نے اجماع کیا اس حدیث کے صحیح ہونے پر۔ ولکن نسی الحقیث من القلوب لیکن اس حدیث کو دلوں سے بھلا دیا گیا بھئی اللہ نے اس کو دلوں سے اٹھا لیا بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ وإنما یجوز النسخ بالکتاب والسنۃ متفقاً ومختلفاً اور جائز ہے نسخ کتاب اللہ اور سنت یعنی حدیث کے ذریعے متفقاً ومختلفاً اس حال میں کہ متفق ہوں یا مختلف ہوں۔ یعنی متفق ہونے کی کیا صورت؟ کتاب اللہ کے لیے کتاب اللہ کا نسخ یہ بھی ہو سکتا ہے یا سنت کے لیے سنت کا نسخ یہ بھی ہو سکتا ہے اور مختلف ہونے کی صورت کہ کتاب اللہ کے ذریعے سنت کا نسخ ہو یا سنت کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ یہ دونوں ہو سکتے ہیں بھئی صورت سمجھ میں اگئی؟
فیجوز نسخ الکتاب بالکتاب والسنۃ اور پس جائز ہے کتاب اللہ کا نسخ کتاب اللہ کے ذریعے اور سنت کے ذریعے وکذا یجوز نسخ السنۃ بالسنۃ والکتاب اور اسی طرح جائز ہے سنت کا نسخ سنت کے ذریعے اور کتاب اللہ کے ذریعے فہی اربع صور عندنا پس یہ چار صورتیں ہیں ہمارے نزدیک خلافاً للشافعی رحمہ اللہ تعالی فی المختلف بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے مختلف صورت میں۔
اس میں وہ اختلاف کرتے ہیں کیا کرتے ہیں؟ فلا یجوز عندہ الا نسخ الکتاب بالکتاب والسنۃ بالسنۃ ان کے نزدیک بھئی کتاب اللہ کا نسخ کتاب اللہ سے ہو سکتا ہے سنت کا نسخ سنت سے ہو سکتا ہے لیکن کتاب اللہ کے لیے سنت کا نسخ ہو جائے یا سنت کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ ہو جائے یہ وہ نہیں تسلیم کرتے بھئی۔
سمجھ میں اگیا بھئی؟ امام شافعی رحمہ اللہ امام دنیا ہیں مولانا رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعہ۔
سمجھ میں اگیا بھئی؟ یہ سب ہمارے ائمہ ہیں ہاں البتہ ہم امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک پر چلتے ہیں اور ان کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں یہ معنی نہیں کہ ہم باقیوں کو غلط کہتے ہیں اور مجھے تو سارے ائمہ سے بڑی بہت محبت ہے اور یقیناً اپ کو بھی ہوگی بھئی۔
تو کہتے ہیں فلا یجوز عندہ الا نسخ الکتاب بالکتاب پس جائز نہیں ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مگر کتاب اللہ کا نسخ کتاب اللہ کے ذریعے والسنت بالسنت اور سنت کا نسخ سنت کے ذریعے صرف یہی جائز ہے ان کے نزدیک تمسکاً استدلال کرتے ہوئے بھی انہ اس بات سے کہ لو جائز نسخ الکتاب بالسنت اگر کتاب اللہ کا نسخ سنت یعنی حدیث کے ذریعے جائز ہو لا یقول الطاعنون تو البتہ کہیں گے طاعن کرنے والے اعتراض کرنے والے وہ یہ کہیں گے ان رسول علیہ الصلاۃ والسلام اول ما کذب اللہ کہ اس پیغمبر نے پہلے جب اللہ کو جھٹلایا فکیف یؤمن باللہ بتلغیہ تو کیسے ایمان لایا جائے اللہ پر بتلغیہ ان کی تبلیغ کی وجہ سے؟
لوگ تو پھر طاعن کرنے والے کیا کہیں گے بھئی بات چل رہی ہے کتاب اللہ کا نسخ سنت کے ذریعے وہ فرماتے نہیں ہو سکتا۔ ایک بات کتاب اللہ میں ہے اور حدیث کے ذریعے اس کو کیا کر دیا جائے منسوخ اعتراض کرنے والے کیا کہیں گے؟ جو پیغمبر اللہ کو جھٹلا رہا ہو اس کی تبلیغ کی وجہ سے اللہ پر کیسے ہم ایمان لے کر آئیں یہ وہ طاعن کریں گے۔
اللہ نے تو ایک حکم نازل کیا تھا کتاب اللہ نے پیغمبر نے دوسرا حکم دیا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس کے ذریعے کتاب اللہ منسوخ ہو گئی بھئی کس کے ذریعے سنت کے ذریعے یعنی حدیث کے ذریعے تو طاعن کرنے والے کہیں گے کہ اس پیغمبر نے جب خود پہلے اللہ کو جھٹلا دیا تو کیسے اس کی تبلیغ کی وجہ سے اللہ پر ایمان لایا جائے۔
اور اسی طرح ولو جائز نسخ السنۃ بالکتاب اگر نسخ سنت کا جائز ہو کتاب اللہ کے ذریعے لا یقول الطاعنون تو البتہ طاعن کرنے والے کہیں گے بأن اللہ کذب رسولہ کس کا نسخ کس کے ذریعے؟ ایک بات حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اللہ کی طرف سے اس کا دوسرا حکم آ جائے اس کو منسوخ کر دیا جائے تو طاعن کرنے والے کہیں گے اللہ نے اپنے پیغمبر کو جھٹلا دیا کیا کیا؟ پیغمبر نے تو اور حکم دیا تھا اللہ اور حکم دے کر اپنے پیغمبر کو جھٹلا رہے ہیں۔
تو لا یقول تو البتہ طاعن کرنے والے کہیں گے بأن اللہ کذب رسولہ کہ اللہ نے اپنے رسول کو جھٹلا دیا فکیف نصدیق قولہ تو ہم کیسے ان کے قول کی تصدیق کریں جب اللہ اس پیغمبر کی بات کو جھٹلا رہا ہے تو ہم کیسے اس رسول کی بات کو اس کی تصدیق کریں بھئی؟
فکیف تصدق ہے آپ کی کتابوں میں؟ نصدق ہونا چاہیے فکیف نصدق قولہ وہ ہم کیسے ان کے قول کی تصدیق کریں۔ قولنا ہم جواب میں کہتے ہیں کہ مثل ہذا تعنی لا مفر عنہ فی المتفق ایضاً کہ اس قسم کے اعتراض سے تو فرار نہیں ہو سکتا متفق صورت کے اندر بھی متفق صورت کے اندر بھی اس سے فرار نہیں ہو سکتا۔
آپ کہہ رہے ہیں کتاب اللہ کے ذریعے سنت کا نسخ نہیں ہو سکتا اور سنت کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ نہیں ہو سکتا ورنہ طاعنہ کرنے والے یہ یہ باتیں کریں گے۔ یہ تو پھر متفق صورت میں بھی اسی طرح ہو سکتا ہے پھر سنت کے ذریعے سنت کا نسخ ہو تو طاعن کرنے والے کہیں گے پیغمبر نے پہلے جھوٹ بول تھا اب پہلے کچھ اور کہا تھا اب کچھ اور کہہ رہے ہیں یا کتاب اللہ میں کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ ہو تو وہاں بھی اس طرح کا وہ طاعن کر سکتے ہیں اس اعتراض سے تو فرار ہونا اس اعتراض سے یعنی بچنا تو ممکن ہی نہیں ہے اور یہ اعتراض صرف تعصب کرنے والے اور کمہقاہی کر سکتے ہیں اگر وہ کرنا چاہیں پھر تو متفق صورت پر بھی کر سکتے ہیں مختلف صورت تھی صرف کیوں توصیف کر رہے ہیں آپ اس کی؟
قلنا ہم کہتے ہیں مثل ہذا تعنی لا مفر عنہ فی المتفق ایضاً کہ اس قسم کا طاعن جو ہے اس سے تو بھاگنے کی جگہ نہیں ہے متفق میں بھی متفق صورت میں بھی یعنی اس سے تو بچا نہیں جا سکتا وہ طابع من السفہاء الجاہلین فلا یعبء بہ اور یہ صادر وہ تھا ہے یہ اس قسم کا اعتراض صادر ہوتا ہے من السفہاء ناسجھوں سے وہ ناسمجح الجاہلین جو جاہل ہیں فلا یعبء بہ لہذا اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔
وتمسک الشافعی رحمہ اللہ ایضاً فی عدم جواز نسخ الکتاب بالسنت بقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اور استدلال کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے سنت کے لیے کتاب اللہ کے نسخ کے جائز نہ ہونے پر حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اس قول کے ذریعے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں اذا روی لکمنی حدیث عنی حدیث جب روایت کی جائے تمہارے لیے میری طرف سے کوئی حدیث یعنی تم جب تمہارے سامنے میری طرف سے کوئی حدیث روایت کرے فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالی پس تم اس کو پیش کرو کتاب اللہ پر فما وافقہ فقبلوہ پس جو اس کے موافق ہو تو اس کو قبول کر لو والا فاردوہ ورنہ اس کو رد کر دو رد امر ہے بھئی رد یردو سے۔
فکیف ینسخ بہا تو کیسے اس کے ذریعے کتاب اللہ کو منسوخ کیا جا سکتا ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ سنت کے ذریعے کتاب اللہ کا نسخ نہیں ہو سکتا کیونکہ سنت کے بارے میں تو حضور فرما رہے ہیں کہ میری بات تمہیں کوئی سنائے میری حدیث سنائے تو کتاب اللہ پر پیش کرنا اگر اس کے مطابق ہو تو اسے قبول کر لینا اگر اس کے مطابق نہ ہو تو اسے رد کر دینا۔
حضور تو فرما رہے ہیں کتاب اللہ کے مقابلے میں میری بات کو رد کر دینا معلوم ہوا سنت اس حدیث کے ذریعے کتاب اللہ کو منسوخ کرنا جائز نہیں ترجیح کتاب اللہ ہی کو ہوگی۔
تو کہتے ہیں فکیف ینسخ بہا پس کیسے اس کے لیے منسوخ کیا جا سکتا ہے وفی عدم جواز نسخ السنۃ بالکتاب اور کتاب اللہ کے ذریعے سنت کے نسخ کے جائز نہ ہونے پر وہ استدلال کرتے ہیں بقولہ تعالی اللہ تعالی کے اس قول سے لتبین للناس ما نزل الیہ یہ تاکہ اے پیغمبر آپ بیان کریں لوگوں کے لیے اس چیز کو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے تاکہ آپ کیا کریں؟ جو ان کی طرف یعنی لوگوں کی طرف جو میری کتاب نازل کی گئی ہے تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے بیان کریں معلوم ہوا پیغمبر کا کام قرآن کی وضاحت کرنا ہے۔ پیغمبر کا کام کیا ہے؟ قرآن کی وضاحت کرنا ہے۔
معلوم ہوا پیغمبر کا کلام قرآن کے لیے بیان بنے گا کیا بنے گا؟ بیان بنے گا اور اگر اگر کتاب اللہ کے ذریعے پیغمبر کے کلام کو منسوخ قرار دیا جائے تو پھر تو پیغمبر کا کلام قرآن کے لیے بیان نہ بنا۔
دلیل سمجھ میں ائی؟ پیغمبر کا کلام تو کیا ہے بیان اور اگر کتاب اللہ اس کو یہ اپ یہ کہیں کہ کتاب اللہ کا پیغمبر کے کلام کو منسوخ کر سکتی ہے تو پھر تو پیغمبر کا کلام کتاب اللہ کے لیے بیان نہ بنا حالانکہ اللہ تو کیا فرما رہے ہیں کہ پیغمبر کا کلام کیا ہے؟ قرآن کے لیے بیان ہے بھئی۔
فلن تنسخت السنۃ بہ پس اگر منسوخ کر دیا منسوخ کر دیا جائے سنت کو کتاب اللہ کے ذریعے لم تصلح بیانا لہ تو یہ اس کے لیے بیان بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ قلنا ہم کہتے ہیں جواب ہے ہماری طرف سے کہ لما کان النسخ بیان مدۃ الحکم المطلق ہم کہتے ہیں نسخ بھی تو بیان ہی ہے۔
بیان تبدیل ہے یا نہیں آپ نے کہا بیان نہیں بن سکتا بھئی پھر بھی بیان ہے قلنا ہم کہتے ہیں لما کان النسخ بیان مدۃ الحکم المطلق کہ جب نسخ وہ مطلق حکم کی مدت کو بیان کرنا ہے آپ نے پڑھا تھا بھئی نسخ کس چیز کا نام ہے؟ شارع کے نزدیک یہ مدت کا بیان کرنا ہے۔
تو جب نسخ جو ہے وہ مطلق حکم کی مدت کو بیان کرنا ہے تو جائز ہے کہ بیان فرمائے اللہ اپنے رسول کے کلام کی مدت کو اور یہ بھی جائز ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمائے اپنے پروردگار کے کلام کی مدت کو فمثال نسخ الکتاب بالکتاب نسخ آیات العفو والصفح بایات القتال پس کتاب اللہ کے ذریعے کتاب اللہ کو منسوخ کرنے کی مثال جو ہے وہ عفو و صفح عف کہتے ہیں معاف کرنا صفح درگزر کرنا وہ معافی اور درگزر والی آیتوں کا منسوخ کرنا بایات القتال کس کے ذریعے؟ قتال والی آیتوں کے ذریعے بعض آیتوں میں مشرکین اور کفار سے معافی اور درگزر کا حکم ملتا ہے بعض آیتوں میں قتال یعنی جہاد کا حکم ملتا ہے تو دیکھیے معلوم ہوا پہلے معافی اور درگزر کا حکم تھا اور پھر اس کے بعد جہاد کا حکم ایا تو جہاد کی آیتوں کے ذریعے وہ صفحہ اور عفو والی آیتیں منسوخ ہو گئیں بھئی تو دیکھیے کتاب اللہ کا کتاب اللہ کے ذریعے نسخ ہوا۔
ونسخ السنۃ بالسنت اس کا عطف پچھلے نسخ پر کریں مثال نسخ الکتاب بالکتاب اور آگے ہے مثال نسخ السنۃ بالسنت سنت کے ذریعے سنت کے منسوخ ہونے کی مثال جو ہے قولہ علیہ الصلاۃ والسلام حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ قول ہے انی کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور فزورہا کہ بے شک میں نے تم کو منع کیا تھا قبروں کی زیارت سے فزورہا پس تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس سے اخرت کی یاد آتی ہے۔ ونسخ السنۃ بالکتاب اور کتاب اللہ کے ذریعے سنت کے نسخ کی مثال جو ہے کہ ان توجہ فی الصلاۃ الی البیت الی بیت المقدس یا الی بیت المقدس دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے بیت المقدس بھی اور بیت المقدس بھی سنت کتاب اللہ کے ذریعے سنت کے منسوخ ہونے کی مثال ان توجہ فی الصلاۃ الی بیت المقدس فی وقت قدوم المدینۃ کان ثابتاً بالسنت متوجہ ہونا نماز میں بیت المقدس کی طرف فی وقت قدوم المدینۃ مدینہ تشریف آوری کے وقت مدینہ تشریف آوری کے وقت نماز آپ پڑھتے ہوئے یاد رکھیے بیت المقدس کی طرف رخ کیا جاتا تھا اور یہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنا یہ ثابت ہے حدیث سے کس سے؟ حدیث سے قرآن میں تو اس کا حکم نہیں ہے پھر اس کے بعد قرآن میں آگے حکم ایا فول وجہک شطر المسجد الحرام پس اے پیغمبر آپ رخ پھیر لیجئے مسجد الحرام کی جانب یعنی بیت اللہ کی جانب اس کی جانب رخ پھیر لیجیے تو دیکھیے معلوم ہوا یہاں کتاب اللہ کے ذریعے سنت کو کا سنت کو منسوخ کر دیا گیا۔
تو کہتے ہیں کہ ان توجہ فی الصلاۃ الی بیت المقدس نماز میں بیت المقدس کی طرف توجہ کرنا جو ہے فی وقت قدوم المدینۃ مدینہ تشریف آوری کے وقت کان ثابتاً بالسنت بالاتفاق یہ ثابت ہے سنت کے ذریعے بالاتفاق ثم نسخ بقولہ تعالی پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا اللہ تعالی کے اس قول کے ذریعے فول وجہک شطر المسجد الحرام فول وجہک پس آپ رخ پھیرئیے اپنا شطر المسجد الحرام مسجد الحرام کی جانب ونسخ الکتاب بالسنت ای مثال نسخ الکتاب بالسنت اور سنت کے ذریعے کتاب اللہ کے نسخ کی مثال مثل قولہ تعالی جیسے کہ اللہ کا قول ہے کہ لا یحل لک النساء من بعدہ حلال نہیں ہے اے پیغمبر آپ کے لیے اور عورتیں ان کے بعد ای بعد التسع ان نو کے بعد ان نو عورتوں کے بعد اب اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں آپ کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتے یہ حکم تھا یعنی اجازت نہیں تھی نسخ اس کو منسوخ کر دیا گیا بما روات عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اس حدیث کے ذریعے جس کو روایت کیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہ ان النبی علیہ الصلاۃ والسلام اخبارہا بأن اللہ تعالی اباح لہ من النساء ما شاء کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت عائشہ کو خبر دی کہ اللہ تعالی نے مباح فرما دیا ہے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے عورتیں ماشاء جو وہ چاہیں عورتوں میں سے جو وہ چاہیں۔
ہاں بعد میں ہاں اگرچہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کے بعد پھر نکاح نہیں کیا لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے تھے کہ اللہ نے میرے لیے مجھے نکاح کی اجازت دے دی ہے۔
تو یہ کتاب اللہ نسخ ہوا کس کے ذریعے حدیث کے ذریعے وقیل اور کہا گیا ہے وہ منسوخ بالآیۃ التی قبلھا فی التلاوت کہ یہ یہ جو لا یحل لک النساء جو ہے یہ والی آیت منسوخ ہے اس آیت کے ذریعے جو اس سے پہلے ہے تلاوت میں یعنی قولہ تعالی یعنی اللہ تعالی کا یہ قول انا احللنا لک ازواجاکلاتّی آیت اجورہنہ کہ بے شک ہم نے حلال رکھی ہیں آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں ہم نے حلال کر دی ہیں آپ کے لیے آپ کی وہ بی بیویاں جن کا آیت اجورہنہ جن کا آپ نے مہر دے دیا ہے جن کا آپ مہر دے چکے ہیں ہم نے آپ کی وہ بیویاں آپ کے لیے حلال کر دی ہیں یہ آیت بعضوں نے کہا اس کے ذریعے وہ لا یحل لک النساء والی آیت منسوخ ہے فانہ سیک للمنۃ باحلال الازواج الکثیر لہ یعنی جن بیویوں کا آپ مہر دے دیں وہ آپ کے لیے کیا ہیں؟ حلال ہیں تو یہ آیت چلائی گئی ہے للمنۃ بطور احسان کے احسان بتلانے کے لیے باحلال الازواج الکثیر لہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے کثیر ازواج کے حلال کر دینے کے ساتھ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے کیا احسان کیا بتلایا گیا؟ کہ آپ کے لیے بہت سی بیویاں بھی حلال کر دی گئی ہیں تو یہ اس آیت کے ذریعے یا قولہ تعالی یا اس آیت کے ذریعے ترجی من تشاء منہن وتوی الیک من تشاؤ
تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ آپ پیچھے کریں جس کو چاہیں ان میں سے یعنی دور کریں اپنے سے جس کو چاہیں ان میں سے۔ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ اور اپنے پاس جگہ دیں جس کو چاہیں ان میں سے۔ آپ ان عورتوں میں سے جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جس کو اہ جس کو چاہیں دور ق دور جس کو چاہیں دور کر دیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ تو اس بعضوں نے کہا اس کے ذریعے منسوخ ہے۔ وَهَكَذَا اور اسی طرح كُلُّ مَا أَوْرَدُوهُ فِي نَظِيرِ نَسْخِ الْكِتَابِ بِالسُّنَّةِ ہر وہ جو لے کر آئے ہیں ہر وہ مثال جو وہ لے کر آئے ہیں فِي نَظِيرِ نَسْخِ الْكِتَابِ بِالسُّنَّةِ سنت کے ذریعے کتاب اللہ کے نسخ کی مثال میں۔
جو کچھ علماء نے ذکر کیا ہے جہاں علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے ذریعے کتاب اللہ کا یہ حکم منسوخ ہے، تو کس کو ذکر کرتے ہیں؟ حدیث کو۔ وہیں پر بہت سی آیتیں بھی ملتی ہیں جو اس حدیث کے مطابق ہوتی ہیں اور اس آیت پہلی آیت کو کیا کر رہی ہوتی ہیں؟ منسوخ کر رہی ہوتی ہیں۔
فَقَدْ وَجَدْنَا فِيهِ نَسْخَ الْكِتَابِ بِالْكِتَابِ بِقَطْعِ النَّظَرِ عَنِ السُّنَّةِ پس ہم نے پایا اس کے اندر کتاب اللہ کا نسخ کتاب اللہ کے ذریعے، مثال تو کیا ذکر کی؟ کتاب اللہ کا نسخ ہے کس کے ذریعے؟ سنت، لیکن اسی میں ہمیں بہت سی آیتیں بھی مل جاتی ہیں۔ تو تحقیق ہم نے اس میں کیا پایا؟ کتاب اللہ کا نسخ کتاب اللہ کے ذریعے ہو رہا ہے بِقَطْعِ النَّظَرِ عَنِ السُّنَّةِ قطع نظر کرتے ہوئے کس سے؟ سنت سے، عَلَى مَا حَرَّرْتُ فِي التَّفْسِيرِ الْأَحْمَدِيِّ بناء پر اس کے جو میں نے بیان کیا ہے تفسیر احمدی میں۔
وَلَمَّا فَرَغَ عَنْ بَيَانِ أَقْسَامِ النَّاسِخِ جب مصنف رحمہ اللہ ناسخ کے بیان سے فارغ ناسخ کی اقسام کے بیان سے فارغ ہوئے، شَرَعَ فِي بَيَانِ أَقْسَامِ الْمَنْسُوخِ مِنَ الْكِتَابِ تو شروع ہوئے منسوخ کی اقسام کے بیان میں مِنَ الْكِتَابِ کتاب اللہ میں سے، فَقَالَ پس فرمایا: وَالْمَنْسُوخُ أَنْوَاعٌ اور منسوخ جو ہے کئی قسم پر ہے۔ ناسخ کے بعد اب منسوخ کا بیان ہو رہا ہے وہ کئی قسم پر ہے۔ التِّلَاوَةُ وَالْحُكْمُ جَمِيعًا تلاوت اور حکم دونوں، یعنی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں بھئی۔ تلاوت بھی منسوخ اور جو حکم مذکور تھا وہ بھی منسوخ۔
وَهُوَ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي حَيَاةِ الرَّسُولِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالْإِنْسَاءِ اور یہ وہ جو منسوخ کر دیا گیا قرآن میں سے حضور علیہ السلام کی زندگی میں ہی بِالْإِنْسَاءِ بھلانے کے ذریعے، اللہ نے کیا کیا بعض آیتوں کو؟ دلوں سے ہی اٹھا لیا، بھلا دی گئیں بھئی۔ تو ان کے تلاوت بھی منسوخ اور ان کا حکم بھی منسوخ۔
كَمَا رُوِيَ جیسے کہ روایت کیا گیا ہے کہ أَنَّ سُورَةَ الْأَحْزَابِ كَانَتْ تَعْدِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي ضِمْنِ ثَلَاثِ مِائَةِ آيَةٍ جیسے کہ روایت کیا گیا ہے کہ سورۃ الاحزاب جو ہے یہ برابر تھی سورۃ البقرہ کے فِي ضِمْنِ ثَلَاثِ مِائَةِ آيَةٍ تین سو آیتوں کے ضمن میں۔ سورۃ الاحزاب بھئی اب تو چھوٹی سی سورت ہے پہلے یہ کس کے برابر تھی؟ سورۃ البقرہ کے برابر تھی اور تین سو آیتیں تھیں اس کی بھئی، تین سو آیتیں تھیں۔ پھر اللہ نے باقی آیتوں کو دلوں سے اٹھا لیا۔
ثَلَاثِ مِائَةٍ یہ الگ الگ لکھا ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہاں یہ کتابت کی غلطی ہے ثَلَاثَ مِائَةٍ ثَلَاثَ مِائَةٍ یہ جو مِائَةٍ کے ساتھ عدد آتا ہے اس کو ملا کر لکھا جاتا ہے مِائَةٍ کے ساتھ بھئی، یہ کتابت کا ضابطہ ہے عربی کا۔ تو کہتے ہیں اس کے برابر تھی، وَالْآنَ بَقِيَتْ عَلَى مَا فِي الْمَصَاحِفِ فِي ضِمْنِ سَبْعِينَ آيَةً اور اس وقت یہ باقی ہے بناء پر اس کے جو مصاحف میں ہے فِي ضِمْنِ سَبْعِينَ آيَةً کتنی آیتوں کے ضمن میں؟ ستر آیتوں کے ضمن میں۔
وَكَمَا رُوِيَ اور جیسے کہ روایت کیا گیا ہے کہ أَنَّ سُورَةَ الطَّلَاقِ كَانَتْ تَعْدِلُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ کہ سورۃ الطلاق جو تھی یہ سورۃ البقرہ کے برابر تھی، وَالْآنَ بَقِيَتْ عَلَى مَا فِي الْمَصَاحِفِ فِي ضِمْنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ آيَةً اور اس وقت یہ باقی ہے بناء پر اس کے جو مصاحف میں موجود ہے بارہ آیتوں کے ضمن میں، اب کتنی آیتیں ہیں؟ صرف بارہ، اور پہلے یہ کس کے برابر تھی؟ سورۃ البقرہ کے۔ تو یہ تو وہ مثالیں تھیں جن کی تلاوت بھی منسوخ اور حکم بھی منسوخ۔
وَالْحُكْمُ دُونَ التِّلَاوَةِ اور وہ کہ جس کا منسوخ الحكم دون التلاوة کہ حکم منسوخ ہو نہ کہ تلاوت، مِثْلُ قَوْلِهِ تَعَالَى جیسے کہ اللہ کا قول ہے: لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ، لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ کہ ان مشرکین سے کہہ دیجیے کہ تم یہ لَكُمْ دِينُكُمْ تمہارے لیے تمہارا دین ہے وَلِيَ دِينِ اور میرے لیے میرا دین ہے، تو تم یعنی اپنے دین پر عمل کرو اور میں اپنے دین پر عمل کر رہا ہوں۔ وَنَحْوُهُ اور اس جیسی جو آیتیں ہیں قَدْرُ سَبْعِينَ آيَةً کتنی مقدار؟ ستر آیات کے بقدر، ستر آیات کے بقدر۔
تو کہتے ہیں كُلُّهَا مَنْسُوَخَةٌ بِآيَاتِ الْقِتَالِ یہ سب کے سب منسوخ ہیں کس کے ذریعے؟ آیاتِ قتال، جہاد کی آیتوں کے ذریعے، ان میں تو کہا جا رہا ہے تم اپنے دین پر عمل کرو اور ہم اپنے دین پر عمل کر رہے ہیں اور پھر اس کے بعد کیا حکم نازل کر دیا گیا؟ کہ ان کے ساتھ قتال کیا جائے، جہاد کیا جائے۔ یاد رکھیے اور مشرکین ہوں اور مشرکین ہوں وہ اسلامی ریاست میں جزیہ دے کر رہ سکتے ہیں، لیکن مشرکینِ عرب کا حکم مختلف ہے وہ جزیہ دے کر بھی اسلامی مملکت میں نہیں رہ سکتے۔ ان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا اسلام یا تلوار بھئی، اس لیے کیونکہ قرآن ان کی اپنی زبان میں نازل ہوا ہے، وہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کو پورے طور پر جاننے والے ہیں، اہل زبان ہیں، ان کو معلوم ہے قرآن کو سنتے ہی ان کو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے۔ پھر اس کے باوجود اگر وہ اسلام نہیں لاتے تو پھر ان کے ساتھ تلوار ہی کے ساتھ بات کی جائے گی بھئی، سورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ معنی کہ سب کے سب پھر آیتیں منسوخ کر دی گئیں آیاتِ قتال کے لیے، وَقِيلَ اور کہا گیا ہے مِائَةٌ وَعِشْرُونَ آيَةً فِي بَابِ عَدَمِ الْقِتَالِ مَنْسُوخَةٌ بِآيَاتِ الْقِتَالِ کہ ایک سو بیس آیتیں جو ہیں عدمِ قتال کے باب میں وہ سب منسوخ ہیں آیاتِ قتال کے ذریعے، وَسِوَى آيَاتِ عَدَمِ الْقِتَالِ عِشْرُونَ آيَةً مَنْسُوخَةُ التِّلَاوَةِ عَلَى رَأْيِ صَاحِبِ الْإِتْقَانِ اور عدمِ قتال کی آیتوں کے علاوہ بھی بیس آیتیں منسوخ التلاوة ہیں صاحبِ اتِقان کی رائے میں یعنی علامہ سیوطی کی رائے میں۔ صاحبِ اتقان کتاب کا نام ہے اتقان بھئی، صاحبِ اتقان یعنی علامہ علامہ سیوطی کی رائے میں یہ جو ایک سو بیس آیتیں ہیں عدمِ قتال کے بارے میں، جن میں مشرکین سے جنگ نہ کرنے کا حکم ہے۔ وہ سب کی سب منسوخ ہیں کس کے ذریعے؟ آیاتِ قتال کے ذریعے، اور اس کے علاوہ بھی بیس آیتیں وہ عدمِ قتال کے علاوہ بیس آیتیں اور ہیں مَنْسُوَخَةُ التِّلَاوَةِ یہ تلاوت کتابت کی غلطی ہے منسوخة الحكم کی بات چل رہی ہے جن کے تلاوت منسوخ نہیں صرف کیا منسوخ ہے؟ حکم بھئی۔ سورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَالْحُكْمُ دُونَ التِّلَاوَةِ متن میں آیا تھا بھئی جن کا صرف حکم منسوخ ہے نہ کہ تلاوت، تلاوت تو کرتے ہیں ہم لیکن حکم منسوخ ہے، تو یہاں منسوخة الحكم ہونا چاہیے بھئی۔ تو اور یہ آیتیں بھی منسوخ ہیں، بیس اس کے علاوہ اور بھی ہیں جو منسوخ ہیں۔ حکم ان کا منسوخ ہے لیکن تلاوت منسوخ نہیں ہے۔
وَعِنْدِي اور میرے نزدیک، اب شارح فرماتے ہیں میرے نزدیک أَنَّهَا زَائِدَةٌ عَلَى عِشْرِينَ إِلَى أَرْبَعِينَ أَوْ أَكْثَرَ کہ یہ زائد ہیں بیس سے چالیس تک یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ وَعِلْمُ هَذَا كُلِّهِ فَرْضٌ عَلَى الَّذِي يَعْمَلُ بِالْقُرْآنِ لِيُمَيِّزَ النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ وَيَعْمَلَ بِالنَّاسِخِ دُونَ الْمَنْسُوخِ اور جاننا ان سب کو یہ فرض ہے اس شخص پر جو قرآن پر عمل کرتا ہے لِيُمَيِّزَ النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ تاکہ وہ پہچان لے ناسخ کو منسوخ کے مقابلے میں وَيَعْمَلَ بِالنَّاسِخِ دُونَ الْمَنْسُوخِ اور عمل کر لے ناسخ پر نہ کہ منسوخ پر۔
وَقَدْ بَيَّنْتُ كُلَّ ذَلِكَ بِالتَّفْصِيلِ فِي التَّفْسِيرِ الْأَحْمَدِيِّ اور تحقیق میں نے اس کو بالتفصیل بیان کیا ہے تفسیر احمدی میں، بِمَا لَا يُتَصَوَّرُ الْمَزِيدُ عَلَيْهِ فِي كُتُبِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اس طور پر کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا ابو اہمم فی کتب ابی حنیفۃ یعنی احناف کی کتابوں میں، کس کے؟ احناف کی کتابوں میں، میں نے اتنی تفصیل سے ان کو بیان کیا ہے کہ احناف کی کتابوں میں اس سے زیادہ کہیں تفصیل مل ہی نہیں سکتی آپ کو۔ وَإِنْ بَيَّنَهُ الشَّافِعِيَّةُ بِأَطْوَلَ مِنْهُ فِي كُتُبِهِمْ اگرچہ شوافع نے اس کو بیان کیا ہے اس سے بھی طویل تر اپنی کتابوں میں، شوافع کی کتابوں میں تو اس سے طویل تر بحث آپ کو مل جائے گی لیکن احناف کی کتابوں میں اس سے طویل بحث نہیں ملے گی جو میں نے کی ہے اپنی کتاب میں۔
وَالتِّلَاوَةُ دُونَ الْحُكْمِ اور تلاوت منسوخ ہو نہ کہ حکم منسوخ ہو بھئی، یہ تیسری قسم آ گئی۔ مِثْلُ قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ کے اس قول کی مثال: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت إِذَا زَنَيَا جب وہ دونوں زنا کر لیں فَارْجُمُوهُمَا تم دونوں کو رجم کر دو نَكَالًا مِنَ اللَّهِ اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور اللہ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ یہ آیت بھئی، اس کی تلاوت منسوخ ہے چنانچہ آپ کو قرآن میں نہیں ملے گی، لیکن اس کا حکم نہیں منسوخ بھئی، آج بھی کیا حکم ہے کہ شادی شدہ مرد یا عورت زنا کر لیں تو ان کو کیا کیا جائے گا؟ رجم کیا جائے گا۔
وَمِثْلُ قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور جیسے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی قرات ہے کہ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، تو دیکھیے ان کی قرات میں ہے جو شخص ان چیزوں کو نہ پائے تو تو وہ روزے ہیں تین دن کے مسلسل۔ تو یہ متتابعات کا لفظ ان کی قرات میں تو ہے یہ عام قراتوں میں مشہور قراتوں میں نہیں ہے۔ تو یہ معلوم ہوا یہ لفظ کیا ہے؟ تلاوت تو منسوخ ہوئی ہے حکم منسوخ نہیں، ہمارے نزدیک بھی قسم کے کفارے کے طور پر اگر روزے رکھنا پڑے تو تینوں روزے مسلسل ہی رکھنا پڑیں گے۔
بِزِيَادَةِ مُتَتَابِعَاتٍ کہ یہ قرات کس چیز کی زیادہ کے ساتھ ہے؟ متتابعات لفظ کی زیادت کے ساتھ ہے وہ اس میں زائد ہے۔ وَقَوْلُهُ اور جیسے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول ہے یعنی یہ جو انہوں نے قرات ذکر کی ہے: فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا مَكَانَ قَوْلِهِ أَيْدِيَهُمَا، ان کی قرات میں کیا آیا ہے؟ فاقطعوا أيمانهما چوری کرنے والے مرد یا جو عورت ہے ان کے دائیں ہاتھ کو کاٹو، مَكَانَ قَوْلِهِ أَيْدِيَهُمَا اور ہماری قرات میں کیا آیا ہے؟ أَيْدِيَهُمَا آیا ہے۔ اور حکم معلوم ہوا اس کی تلاوت منسوخ ہے لیکن حکم باقی ہے دایاں ہی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
وَنَسْخُ وَصْفٍ فِي الْحُكْمِ بِأَنْ يُنْسَخَ عُمُومُهُ وَإِطْلَاقُهُ وَيَبْقَى أَصْلُهُ اور وصف کا منسوخ ہونا حکم کے اندر، بھئی حکم کو تو نہیں منسوخ کیا حکم میں ایک وصف تھا اس وصف کو کیا کر دیا گیا ہو؟ منسوخ کر دیا گیا ہو بِأَنْ يُنْسَخَ عُمُومُهُ وَإِطْلَاقُهُ کہ اس کے عموم اور اطلاق کو منسوخ کر دیا گیا ہو وَيَبْقَى أَصْلُهُ اور اس کا اصل باقی ہو۔ وَذَلِكَ مِثْلُ الزِّيَادَةِ عَلَى النَّصِّ اور یہ جیسے کہ زیادتی ہے نص پر، کس پر؟ نص پر زیادتی بھئی، آپ جانتے ہیں خبرِ مشہور کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے بھئی۔
كَزِيَادَةِ مَسْحِ الْخُفَّيْنِ عَلَى غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ الثَّابِتِ بِالْكِتَابِ جیسے زیادتی مسح خفین کی عَلَى غَسْلِ بھئی دیکھیے کتاب اللہ سے تو صرف اتنا ثابت ہے کہ وضو کے اندر کیا کرو؟ دونوں پاؤں دھو لو۔ وضو کے اندر کیا ذکر ہے؟ کتاب اللہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وضو کے اندر فرض صرف پاؤں ہی کا دھونا ہے اور کوئی صورت نہیں۔ لیکن حدیث سے پتہ چلا کہ اگر موزے پہنے ہوں تو اس وقت کیا کر کیا کرنا چاہیے؟ مسح کرنا چاہیے۔ تو کتاب اللہ میں مطلق آیا تھا کہ مطلقا کیا کرو؟ پاؤں کو دھوو، لیکن حدیث کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی کی گئی کہ پاؤں کا دھونا اس وقت فرض ہے جس وقت موزے نہ پہنے ہوئے ہوں، اگر موزے پہنے ہوئے ہوں تو پھر پاؤں کا دھونا فرض نہیں ہے بھئی۔
تو وصفِ اطلاق کو کیا کر دیا گیا؟ منسوخ، کتاب اللہ میں تو مطلق آیا تھا کہ کیا کرنا پڑ، اس سے تو یہی پتہ چل رہا تھا کہ ہر حال میں کیا کرنا پڑے گا؟ پاؤں ہی دھونے پڑیں گے، لیکن وصفِ اطلاق کو منسوخ کر دیا گیا۔
كَزِيَادَةِ مَسْحِ الْخُفَّيْنِ عَلَى غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ الثَّابِتِ بِالْكِتَابِ جیسے کہ مسح علی الخفین کی زیادتی کرنا پاؤں کے غسل پر پاؤں کا وہ غسل جو ثابت ہے کتاب اللہ کے ذریعے، فَإِنَّ الْكِتَابَ يَقْتَضِي أَنْ يَكُونَ الْغَسْلُ هُوَ الْوَظِيفَةَ لِلرِّجْلَيْنِ اس لیے کیونکہ کتاب اللہ تقاضا یہ کرتی ہے کہ دھونا یہی وظیفہ ہو پاؤں کے لیے، سَوَاءٌ كَانَ مُتَخَفِّفًا أَوْ لَا مُتَحَقِّقًا ہے آپ کی کتابوں میں، متخففا ہونا چاہیے سَوَاءٌ اس لیے کیونکہ کتاب اللہ تو یہ تقاضا کر رہی ہے کہ دھونا ہی پاؤں کا وظیفہ ہونا چاہیے سَوَاءٌ كَانَ مُتَخَفِّفًا أَوْ لَا برابر ہے کہ اس نے موزے پہنے ہوں یا نہ، کتاب اللہ میں تو مطلق آیا کہ کیا کرنا پڑے گا؟ پاؤں دھونے پڑیں گے چاہے موزے پہنے ہوں یا نہ پہنے ہوں اس کی قید وہاں نہیں ہے بس ہر حال میں۔
وَالْحَدِيثُ الْمَشْهُورُ نَسَخَ هَذَا الْإِطْلَاقَ اور حدیثِ مشہور جو ہے نَسَخَ هَذَا الْإِطْلَاقَ اس نے منسوخ کر دیا اس اطلاق کو وَقَالَ اور بتلایا اور کہا: إِنَّمَا الْغَسْلُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَابِسَ الْخُفَّيْنِ کہ غسل اس وقت ہوگا جس وقت موزے پہنے ہوئے نہ ہو، فَالْآنَ صَارَ الْغَسْلُ بَعْضَ الْوَظِيفَةِ تو اب غسل جو ہے بعضِ وظیفہ بن گیا۔ پہلے تو کل وظیفہ ہی کیا تھا؟ کتاب اللہ سے، دھونا، یعنی ہر حال میں کیا کرنا پڑے گا؟ دھونا، اب پتہ چلا کہ یہ غسل بعضِ وظیفہ ہے یعنی بعض اوقات غسل ہے ہر حال میں غسل نہیں، موزے پہنے ہوں تو پھر مسح ہے۔
فَإِنَّهَا نُسِخَ عِنْدَنَا پس بے شک یہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ إِنَّمَا لَا تَخْصِيصٌ وَبَيَانٌ اور امام شافعی کے نزدیک یہ تخصیص اور بیان ہے، فَلَا يَجُوزُ عِنْدَنَا إِلَّا بِالْخَبَرِ الْمُتَوَاتِرِ أَوِ الْمَشْهُورِ كَسَائِرِ النَّسْخِ پس ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے یہ زیادتی نص پر مگر خبرِ متواتر یا خبرِ مشہور کے ذریعے كَسَائِرِ النَّسْخِ جیسے کہ باقی نسخ ہیں، وَعِنْدَهُ يَجُوزُ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ وَالْقِيَاسِ كَبَاقِي الْبَيَانِ اور ان کے نزدیک خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے بھی جائز ہے جیسے کہ باقی بیان ہیں۔
حَتَّى أَثْبَتَ زِيَادَةَ النَّفْيِ عَلَى الْجَلْدِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ یہاں تک کہ انہوں نے جلا وطنی کی زیادتی کو ثابت کیا ہے کوڑے لگانے پر خبرِ واحد کے ذریعے، بھئی کتاب اللہ میں تو صرف یہ آیا ہے کہ غیر شادی شدہ مرد اور عورت زنا کر لیں تو کیا کیا جائے گا؟ سو کوڑے لگائے جائیں گے بس، جلا وطنی کی قید نہیں، لیکن حدیث میں آیا ہے کہ ان کو کیا کیا جائے گا؟ جلا وطن بھی کیا جائے گا، تو وہ اس خبرِ واحد کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ کتاب اللہ پر زیادتی کرتے ہیں اور اس کی بھی قید لگاتے ہیں۔
جی معنی حَتَّى أَثْبَتَ زِيَادَةَ النَّفْيِ عَلَى الْجَلْدِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ یہاں تک کہ انہوں نے ثابت کیا ہے جلا وطنی کی زیادتی کو عَلَى الْجَلْدِ کوڑے لگانے پر بِخَبَرِ الْوَاحِدِ خبرِ واحد کے ذریعے، وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور وہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ قول ہے: الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، أي عقوبة زنا البكر بالبكر غیر شادی شدہ کے زنا کی غیر شادی شدہ کے ساتھ زنا کی جو سزا ہے جَلْدُ مِائَةٍ وہ ایک سو کوڑے ہیں وَتَغْرِيبُ عَامٍ اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، فَإِنَّهُ خَبَرٌ وَاحِدٌ يَجُوزُ الزِّيَادَةُ بِهِ عَلَى الْكِتَابِ الدَّالِّ عَلَى الْجَلْدِ فَقَطْ عِنْدَهُ اس لیے کیونکہ خبرِ واحد کے نزدیک زیادتی کرنا جائز ہے اس کتاب اللہ پر جو دلالت کرنے والی ہے کوڑوں پر صرف، صرف جو کوڑوں پر دلالت کر رہی تھی کتاب اللہ اس پر خبرِ واحد کے ذریعے زیادتی جائز ہے عِنْدَهُ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔
وَزِيَادَةَ قَيْدِ الْإِيمَانِ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ وَالظِّهَارِ بِالْقِيَاسِ اور انہوں نے ایمان کی قید زیادۃ قید الإيمان فی کفارۃ اور انہوں نے ایمان کی قید کی زیادتی کا کو ثابت کیا ہے کفارہِ یمین اور کفارہِ ظہار میں قیاس کے ذریعے، بھئی یاد رکھیے کفارہِ قتل کے اندر جو ہے رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ مؤمنہ کی قید آتی ہے، لیکن کفارہِ ظہار اور کفارہِ یمین کے اندر فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ تو آتا ہے لیکن ساتھ مؤمنہ کی قید نہیں، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر بھی مؤمنہ کی قید معتبر ہے اور اس کو قیاس کے ذریعے ثابت کرتے ہیں۔
کرتے ہیں اور قیاس یہ کرتے ہیں کہ یہ سب جو ہیں فتحریر رقبة جو آئے، یہ سب کفارے کے، یہ سب کفارے ہیں تو یہ سب ایک نوع کے ہوئے اور ایک کے اندر جب ایک چیز ثابت ہے تو باقیوں کے اندر بھی وہ ثابت ہو گی جب ایک میں مومنہ کی قید ہے تو باقیوں میں بھی معتبر ہو گی۔
یہ معنی ہے و زيادة قید الایمان فی کفارة الیمین و الظهار بالقیاس اور انہوں نے ثابت کیا ہے ایمان کی قید کی زیادتی کو کفارہ یمین اور ظہار میں قیاس کے ذریعے علی کفارة القتل المقیدة بالایمان قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ اس کفارہ قتل پر المقیدة بالایمان جو کس کے ساتھ مقید ہے؟ ایمان کے ساتھ فانہ یجوز الزیادة بہ علی نفس الکتاب الدال علی الاطلاق پس بے شک جائز ہے زیادتی کرنا اس کے ذریعے کتاب اللہ کی اس نص پر جو دلالت کرنے والی ہے کس پر؟ اطلاق پر وہاں مطلقا رقبة تھی اور انہوں نے اس کے خبرِ، اس کے ذریعے قیاس کے ذریعے اس پر زیادتی کی۔
و مثل هذا کثیر بیننا و بینہم اور اس قسم کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ہمارے اور ان کے بیچ کہ وہ کس کے ذریعے زیادتی کرتے ہیں خبر واحد اور قیاس کے ذریعے جبکہ ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں۔ و انما خصصنا هذا التقسیم بالکتاب یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ بحث آپ نے یہ جو کہا منسوخ کے اندر آپ نے صرف کتاب اللہ کا ذکر کیا کہ منسوخ التلاوة و الحکم دونوں ہو گا یا صرف منسوخ التلاوة ہو گا یا صرف منسوخ الحکم ہو گا وغیرہ یہ ساری بحث صرف کتاب اللہ کو آپ بیان کرتے جا رہے ہیں سنت کو اس میں کیوں نہیں ذکر کیا؟ تو وہ بتلا رہے ہیں و انما خصصنا هذا التقسیم بالکتاب و ہم نے خاص کیا اس تقسیم کو کتاب اللہ کے ساتھ کیونکہ لان يتعلق بنظمہ التلاوة و جواز الصلوة اس لیے کیونکہ کتاب اللہ کی نظم کے ساتھ تعلق ہے تلاوت اور نماز کے جائز ہونے کا، کتاب اللہ کی تلاوت کی جاتی ہے نماز میں باقاعدہ، اس کی نظم کے ساتھ بھی احکام کا تعلق ہے۔ حدیث کے صرف معانی کے ساتھ احکام کا تعلق ہے اور کتاب اللہ کے نظم کے ساتھ بھی باقاعدہ اس کی تلاوت فرض ہے نماز کے اندر۔
و بمعناہ اور اسی کے معنی میں ہے وجوب العمل و الاطلاق، عمل کا واجب ہونا اور اور مطلق ہونا، اور اسی کے معنی میں ہے۔ اور اسی کے معنی میں ہے عمل کا واجب ہونا اور مطلق ہونا فجاز ان ینسخ احدهما دون الآخر پس یہ جائز ہے کہ ان دونوں میں سے ایک منسوخ ہو جائے نہ کہ دوسرا۔ و ان ینسخ جمیعا اور یہ کہ دونوں ہی کیا ہو جائیں؟ منسوخ، یہ بھی ممکن ہے۔ و ینسخ اطلاقہ دون ذاتہ اور یہ بھی جائز ہے کہ صرف اطلاق منسوخ ہو نہ کہ اس کی، اطلاق منسوخ ہو اس کی ذات منسوخ نہ ہو۔ بخلاف السنة بخلاف سنت کے فانہ لا يتعلق بنظمہا احکام اس کے نظم کے ساتھ احکام کا تعلق نہیں ہے و لا یزاد علی الخبر المشہور بخبر آخر فی عرف الشرع اور زیادتی نہیں کی جاتی خبر مشہور کے ذریعے دوسری خبر مشہور پر دوسری خبر کے ذریعے فی عرف الشرع شریعت کے عرف میں فلم یجر هذا التقسیم فیہا پس اس وجہ سے یہ تقسیم اس میں جاری، سنت میں جاری نہیں ہوتی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ بات انہوں نے یہ کی کہ اسی کے ساتھ نظم کے ساتھ ہی تلاوت کا بھی تعلق ہے اور نماز کے جائز ہونے کا بھی اور اسی کے معنی میں ہے عمل کا واجب ہونا اور اطلاق، یعنی وصف بھی اسی طرح ہے عمل کا واجب ہونا یہ تو حکم ہے، تو کبھی صرف حکم منسوخ ہو گا کبھی تلاوت بھی منسوخ ہو گی ساتھ ساتھ، کبھی صرف تلاوت منسوخ ہو گی اور حکم یعنی وجوبِ عمل باقی ہو گا۔ اور کبھی صرف وصف حکم بھی نہیں بدلے گا اس میں جو اطلاق ہے اطلاق کو ختم کر کے اس کی جگہ کیا آ جائے گی؟ قید آ جائے گی تو وصف اطلاق کو کبھی کبھار منسوخ کر دیا جائے گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ سب چیزیں کتاب اللہ کے اندر تو جاری ہوتی ہیں حدیث کے اندر جاری نہیں ہوتیں اس لیے ان کو یہاں پر حدیث کے بارے میں، حدیث میں اس سلسلے میں بحث بھی نہیں کی۔ چلیے بس و هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔