درس نمبر۔94
والثبت اولى من النافي: هذه قاعدة مستقلة لا تعلق لها بما سبق، یعنی إذا تعارض المثبت والنافي فالمثبت أولى بالعمل من النافي عند الكرخي رحمه الله تعالى، وعند ابن أبان يتعارضان، أي يتساویان.
والثبت اولى من النافي.
اور وہ دلیل جو مثبت ہو وہ اولى ہوگی من النافي اس دلیل سے جو نافی ہوگی۔
ایک دلیل مثبت ہے ایک دلیل نافی ہے نفی کرنے والی ہے تو دلیل مثبت وہ اولى ہوگی کس کے مقابلے میں؟ دلیل نافی کے مقابلے میں۔
هذه قاعدة مستقلة لا تعلق لها بما سبق، یہ ایک مستقل قاعدہ ہے جس کا ماقبل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بھئی یہ ایک الگ ضابطہ ذکر کر رہے ہیں ماقبل کی بحث سے اس کا تعلق نہیں۔ ماقبل میں معارضہ کی بحث تھی بھئی۔
اور چونکہ یہاں پر بھی ایک جانب مثبت ہے تو دلیل مثبت اور دوسری طرف دلیل نافی ہے، تو ان میں بھی چونکہ تعارض ہے تو اس لیے معارضہ کی بحث کے بعد اس کو ذکر کر دیا بھئی۔
يعني إذا تعارض المثبت والنافي فالمثبت أولى بالعمل من النافي، تو جب تعارض آ جائے مثبت اور نافی کے درمیان فالمثبت أولى بالعمل من النافي، تو مثبت جو ہے وہ اولى ہے عمل کے اعتبار سے نافی سے۔
عند الكرخي رحمه الله، امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک۔
دو دلیلیں آئیں بھئی ایک دلیل کیا ہے؟ مثبت، دوسری دلیل نافی ہے نفی کرنے والی۔ ایک دلیل اثبات کرنے والی ہے ایک چیز کا اور دوسری دلیل نفی کرنے والی ہے، تو کس کو ترجیح ہوگی؟ مثبت کو ترجیح ہوگی عمل اس پر کیا جائے گا بھئی امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک۔
وعند ابن أبان يتعارضان، اور عیسیٰ ابن أبان رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں متعارض ہوں گی۔
أي يتساویان، یعنی برابر ہوں گی فبعد ذلك يصار إلى الترجيح بحال الراوي، تو اس کے بعد رجوع کیا جائے گا راوی کے حال کے ذریعے ترجیح کی طرف۔
بھئی ایک دلیل مثبت ہے اثبات کرنے والی، ایک دلیل نافی ہے نفی کرنے والی۔ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مثبت اولى ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔
جبکہ عیسیٰ ابن أبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں متعارض برابر ہوں گی دونوں متعارض ہیں برابر ہوں گی، کسی ایک کو بھی دوسرے پر ترجیح نہیں تو اس کے پھر بھئی کس پر عمل کیا جائے گا؟ کہتے ہیں حالِ راوی کے ذریعے ترجیح دی جائے گی۔
یعنی جو خبر دینے والا راوی عدالت اور اتقان میں بڑھ کر ہوگا اس کی خبر پر عمل کیا جائے گا اور دوسرے کی خبر کو چھوڑ دیا جائے گا۔
تو امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک مطلقاً مثبت اولى، جبکہ عیسیٰ ابن أبان رحمہ اللہ کے نزدیک ترجیح کس کے ذریعے ہوگی؟ حالِ راوی کے ذریعے بھئی۔
والمراد بالمثبت ما يثبت أمراً عارضاً زائداً لم يكن ثابتاً فيما مضى، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ مثبت اور نافی سے کیا مراد ہے؟
بھئی مثبت اور نافی سے وہ نہیں مراد جو آپ پڑھتے ہیں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید کل آیا تھا۔ آپ کہتے ہیں: یہ کلامِ مثبت ہے، نفی ہے اس میں؟ نہیں، تو یہ کلامِ مثبت ہے۔ اور میں کہتا ہوں: زید کل نہیں آیا تھا، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ کلامِ منفی ہے بھئی۔ تو یہ والا اثبات اور یہ والی نفی مراد نہیں ہے، بلکہ اثبات سے مراد یہ ہے کہ وہ دلیل کسی زائد امرِ عارض کو ثابت کرے۔
مثبت سے کیا مراد ہے؟ وہ دلیل جو کسی زائد امرِ عارضی کو ثابت کرے۔
اور نافی وہ ہے جو اس امرِ عارضی کی نفی کرے بھئی، یعنی جس میں وہ امرِ عارضی کا نہ ہو بھئی، جو اس امرِ عارضی کی... تو مثبت وہ ہے جو امرِ عارضی کی امرِ زائد کے کا اثبات کرے۔
اور نافی وہ ہے جو اس امرِ زائد امرِ عارضی کی نفی کرے بھئی۔ توجہ سے سمجھ لیں بھئی۔
مثبت سے کیا مراد ہے؟ وہ جو امرِ زائد یعنی امرِ عارضی کا اثبات کرے۔
اور نافی سے کیا مراد ہے؟ جو اس امرِ زائد یعنی امرِ عارضی کی نفی کرے۔
اور عارضی یہ اردو والا عارضی نہیں ہے بھئی جو مستقل نہ ہو اس کو عارضی کہتے ہیں اردو میں۔ عارض یہ عرض سے ہے، یعنی عارض کا معنی ہے پیش آنے والا۔ ایک نئی پیش آنے والی بات کا جس میں اثبات ہو۔
ایک نئی پیش آنے والی بات کا جس میں مثبت وہ ہے جو امرِ عارضی کو ثابت کرے یعنی نئے پیش آنے والی چیز کو ثابت کرے، جبکہ نافی وہ ہے جو اس کی نفی کرے جو نئے پیش آنے والی چیز کا اثبات جس میں نہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
مثلاً دیکھیے بھئی، ایک جگہ پر پانی پڑا ہے آپ کو علم نہیں کہ یہ پانی پاک ہے یا یہ پانی ناپاک ہے بھئی۔ ایک شخص آپ کو آ کر بتلاتا ہے کہ یہ پانی پاک ہے۔ دوسرا شخص آ کر بتلاتا ہے کہ یہ پانی پاک نہیں ہے۔
کون مثبت کون نافی؟ مثبت کون؟ پہلا جس نے کہا پانی پاک ہے وہ مثبت، اور جس نے کہا پانی پاک نہیں ہے وہ نافی؟ نہیں بھئی ایسا نہیں ہے۔ میں نے کہا نا کہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
بھئی مثبت وہ ہے جو ایک نئے امر امرِ زائد کو ثابت کرے۔ پانی میں اصل ہے ہی کیا؟ پاک ہونا، اور نجاست اس پر عارض ہوگی بھئی۔
نجاست کیا ہوگی؟ بعد میں کوئی نجس چیز ملی ہے تو وہ نجس ہو جائے گا۔ تو جو کہہ رہا ہے جو کہہ رہا ہے کہ یہ پانی پاک نہیں ہے، وہ ایک امرِ عارضی کا اثبات کر رہا ہے ایک نئی پیش آنے والی چیز کو ثابت کر رہا ہے، یعنی نجاست کو۔
تو یہ ہوا مثبت، اور جو کہہ رہا ہے پانی پاک ہے وہ اس پیش آنے والی چیز کا انکار کر رہا ہے کہ پانی اپنی اصل کے مطابق کیا ہے؟ پاک ہے۔ تو جو کہہ رہا ہے پانی پاک ہے وہ ہوا نافی، اور جو کہہ رہا ہے کہ پانی ناپاک ہے وہ ہے وہ مثبت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں والمراد بالمثبت ما يثبت أمراً عارضاً زائداً لم يكن ثابتاً فيما مضى، اور مراد مثبت سے وہ ہے جو ثابت کرے ایسے امرِ عارضی کو، امرِ عارضی کیا معنیٰ؟ نیا پیش آنے والا جو بعد میں پیش آئے۔ جو ثابت کرے ایسے امر کو جو پیش آیا ہے زائد ہے لم يكن ثابتاً فيما مضى اور جو ثابت نہیں تھا ماضی کے اندر گزشتہ زمانے میں۔ دیکھو پانی میں اصل طہارت تھی، گزشتہ زمانے میں نجاست نہیں تھی بعد والے بعد میں کیا آئی؟ نجاست آئی، تو یہ جو نجاست کی خبر دے رہا ہے یہ مثبت ہے۔
وبالنافي ما ينفي الأمر الزائد، اور نافی سے مراد وہ ہے جو نفی کر رہا ہے اس امرِ زائد کی ويبقى على الأصل اور اس کو باقی رکھتا ہے کس پر؟ اس کی اصل پر۔
ولما وقع الاختلاف بين الكرخي وابن أبان، اور جب اختلاف واقع ہوا امام کرخی اور عیسیٰ ابن أبان رحمہما اللہ کے درمیان، ووقع الاختلاف في عمل أصحابنا أيضاً، اور ہمارے فقہاء کے عمل میں بھی اختلاف واقع ہوا ہے ففي بعض المواضع يعملون بالمثبت وفي بعضها بالنافي، پس بعض مواضع میں تو وہ عمل کرتے ہیں مثبت پر اور بعض میں عمل کرتے ہیں نافی۔
بھئی امام کرخی اور عیسیٰ ابن أبان رحمہما اللہ کا قول تو پیچھے دونوں کا قول تو پیچھے گزر گیا، دونوں میں اختلاف ہے۔ اسی طرح ہمارے فقہاء کے عمل میں بھی اختلاف ہے۔ بعض جگہوں پر وہ مثبت پر عمل کرتے ہیں اور بعض جگہوں میں وہ نافی پر عمل کرتے ہیں، تو ایک کوئی ضابطہ چاہیے کہ پتہ چلے کہاں مثبت پر عمل کرنا ہے اور کہاں نافی پر عمل کرنا ہے، تو وہ اب ذکر کرنے لگے ہیں۔
تو کہتے ہیں ووقع الاختلاف في عمل أصحابنا أيضاً، اور ہمارے فقہاء کے عمل میں بھی اختلاف واقع ہوا ہے ففي بعض المواضع يعملون بالمثبت وفي بعضها بالنافي، پس بعض جگہوں میں وہ عمل کرتے ہیں مثبت پر اور بعض میں نافی پر۔
أشار المصنف رحمه الله تعالى إلى قاعدة في ذلك ترفع الخلاف عنهم، پس اشارہ کیا مصنف رحمہ اللہ نے ایک ایسے ضابطے کی طرف اس میں ترفع الخلاف عنهم جو ان میں سے جو جو اس سے اختلاف کو اٹھا دیتا ہے دور کر دیتا ہے۔
یہ ترفع صفت ہے قاعدة کی بھئی، ایسا قاعدہ اس میں اس اختلاف میں ترفع الخلاف عنهم جو اس اختلاف کو دور کر دیتا ہے۔
فقال، پس مصنف نے فرمایا: والأصل فيه، اور ضابطہ یہ ہے اس کے اندر أن النفي إن كان من جنس ما يعرف بدليله، بھئی یہاں بات سمجھ لیں بھئی یہی پر۔
دیکھیے ایک آیا مثبت، مثبت وہ ہے جو امرِ عارضی کو ثابت کرتا ہے ایک نئی چیز کو، اور جو شخص نئی چیز کو ثابت کر رہا ہے تو یقیناً اس کے پاس دلیل ہوگی۔
جو آدمی کہہ رہا ہے پانی نجس ہے، یقیناً اس کے پاس کیا ہوگی؟ دلیل، کیونکہ پانی میں تو اصل ہے پاک ہونا اور وہ کہہ رہا ہے نجس ہے ایک امرِ زائد کا اثبات کر رہا ہے، تو یقیناً اس کے پاس کوئی دلیل ہوگی۔
تو یہ جو مثبت ہوتی ہے اس میں یہ ہمیشہ اس کے ساتھ دلیل ہوگی۔ اثبات کرنے والے کے پاس ہمیشہ کیا ہوگی؟ دلیل ہوگی۔
اور ایک ہے نافی، نفی کرنے والا۔ تو نفی کرنے والا جو ہے اس کے پاس ہو سکتا ہے دلیل ہو ہو سکتا ہے دلیل نہ ہو، وہاں تین صورتیں بنتی ہیں، تین صورتیں بنائیں گے بھئی۔
پہلی صورت کہ یہ نفی جو ہے اس نفی کی جنس سے ہو جس میں جس کی جس کو دلیل سے جانا جاتا ہے۔ جس کو کس کے ذریعے جانا جاتا ہے؟
بھئی دیکھیے، دوسرے ایک شخص نے تو کہا تھا پانی نجس ہے، یہ تو ہوا مثبت۔ دوسرے نے کہا پانی پاک ہے، تو اس نے یہ ہوا نافی۔ تو یہ نافی جو ہے یہ جو اس نے کہا پانی پاک ہے، یہ ہو سکتا ہے اس نے پانی کے اصل کے اعتبار سے کہا ہو بغیر دلیل کے۔ پانی کے اصل کے اعتبار سے پانی کو پاک کہہ دیا، یعنی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں ہے کہ پانی میں تو اصل ہے پاک ہونا تو یہ بھی یقیناً کیا ہوگا؟ پاک ہوگا، بغیر دلیل کے بھی ہو سکتا ہے یہ۔ اور ہو سکتا ہے اس کے پاس دلیل بھی موجود ہو کہ یہ پانی پاک ہے، کس طرح دلیل کیا؟
دلیل یہ کہ یہ خود گیا تھا اور یہ خود چشمے سے پانی بھر کر لایا ہے، اور جب سے یہ پانی یہاں پڑا ہے یہ بھی یہاں موجود ہے ابھی تک کسی نے کوئی نجاست اس میں نہیں ملائی کہ جس کی بناء پر کوئی کہے یہ نجس ہے، اسی لیے وہ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ پانی پاک ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نفی جو ہے اس کی بنیاد دلیل پر بھی ہو سکتی ہے اور اس اور ظاہرِ حال یعنی اس میں استصحابِ حال پر بھی اس کی بنیاد ہو سکتی ہے۔
کس پر؟ استصحابِ حال، جانتے ہو کہ نہیں جانتے بھئی؟ گزشتہ سبق میں بھی گزرا تھا: إبقاء ما كان على ما كان، کہ کسی چیز کا جو ماضی میں وصف تھا اسی کو حال میں بھی ثابت کرنا مان لینا یہ کیا ہے؟ استصحابِ حال ہے بھئی۔ کہ پانی میں اصل ہے پاک ہونا تو اب بھی یہ پاک ہوگا، تو ہو سکتا ہے تو یہ ہمارے نزدیک یاد رکھیے استصحابِ حال دلیل نہیں ہے بھئی، یعنی دلیلِ مثبت نہیں ہے۔
تو ہو سکتا ہے اس نے اعتماد کیا ہو استصحابِ حال پر، اور ہو سکتا ہے یہ نفی کرنے والے نے، اور ہو سکتا ہے اس کے پاس باقاعدہ دلیل موجود ہو۔ تو معلوم ہوا نافی جو ہے دلیلِ نفی جو ہے اس کی بنیاد یہ جو نفی والا قول جو ہے اس کی بنیاد دلیل پر بھی ہو سکتی ہے اور یہ بغیر دلیل کے بھی ہو سکتا ہے، اس میں دونوں احتمال ہیں۔
تو یہاں کل تین صورتیں ہیں بھئی یاد رکھیے، تین صورتیں نافی کے اندر:
کہ نفی یا تو اس نفی کی جنس میں سے ہوگی جس کو دلیل ہی سے جانا جاتا ہے۔ میں نے تو ایک صورت ذکر کر دی جس میں دونوں احتمال تھے۔ لیکن یہاں کل تین صورتیں بنیں گی بھئی، ایک صورت یہ کہ نفی اس نفی کی جنس میں سے ہو جس کو کس کے ذریعے جانا جاتا ہے؟ دلیل کے ذریعے، یا نفی اس نفی کی جنس میں سے ہوگی جس کو دلیل کے ذریعے نہیں جانا جاتا بھئی۔
یا یوں کہیں: نفی یا تو اس نفی کی جنس سے ہوگی جس کو دلیل کے ذریعے جانا جاتا ہے، نفی اس نفی کی جنس میں سے ہوگی جس کو کس کے ذریعے جانا جاتا ہے؟ دلیل کی جنس سے، یا نفی اس نفی کی جنس میں سے ہوگی جو مشتبہ الحال ہے۔
جو یعنی وہاں ہو سکتا ہے اصل کی بناء پر ہی کہا گیا مثلاً اس شخص نے اصل پانی میں اصل طہارت تھی اس وجہ سے اس نے کہا ہو کہ یہ پاک ہے، اور ہو سکتا ہے اس نے کس پر اعتماد کیا ہو؟ تو اس نفی یہ بھی نفی ہے، لیکن ہو سکتا ہے اس نے اعتماد کس پر کیا ہو؟ ظاہرِ حال پر، اور ہو سکتا ہے اس نے اعتماد کس پر کیا ہو؟ دلیل پر، تو اس میں دونوں احتمال آ گئے تو یہ مشتبہ الحال ہوئی۔
ایک نفی پہلی وہ تھی، وہ نفی جو کس نفی کی جنس میں سے ہو؟ جس کی بنیاد ہی دلیل پر ہے، یعنی نفی اس قسم کی ہے کہ بغیر دلیل کے اس کے پتہ چل ہی نہیں سکتا بھئی۔ جب وہ نفی... مثبت تو ہمیشہ دلیل کے ساتھ ہوگا بھئی۔ مثبت کیا ہوگا؟ جو ایک امرِ زائد کو ثابت کر رہا ہے وہ تو ہمیشہ دلیل کے ساتھ ہوگا، لیکن نفی اس میں دونوں طرح کے احتمال ہیں۔
پہلی صورت یہ کہ نفی اس جنس اس نفی کی جنس میں سے ہو جس کی جس کی بنیاد دلیل پر ہو، جس کی بنیاد کس پر ہو؟ دلیل پر ہو۔ یا نفی اس نفی کی جنس میں سے ہو جو مشتبہ الحال ہوگی۔
یا نفی اس نفی کی جنس میں سے ہوگی جس میں دلیل ظاہرِ حال ہی ہوگا بھئی، بغیر دلیل کے ہوگی بھئی۔ ظاہرِ حال تو ہمارے نزدیک دلیل نہیں ہے تو وہ کس کے ساتھ ہوگی؟ بغیر دلیل کے، تو نفی تین قسم کی ہو سکتی ہے بھئی۔
یا تو نفی کس میں سے ہوگی؟ دلیل کے ساتھ ہوگی، بغیر دلیل کے اس نفی کا کبھی پتہ نہیں چل سکتا۔ یا نفی کس جنس میں سے ہوگی؟ مشتبہ الحال ہوگی، یعنی اس میں ہو سکتا ہے دلیل سے پتہ چلا ہو ہو سکتا ہے کس کو دلیل بنایا ہو؟ ظاہرِ حال کو دلیل بنایا ہو۔ اور تیسری قسم وہ نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کو بغیر دلیل کے جانا جاتا ہے بھئی، جس میں اور کوئی دلیل نہیں ہوتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ نفی کتنی قسم پر؟ تین قسم پر:
یا نفی کس نفی کی جنس میں سے ہوگی؟ جس کو دلیل سے جانا جاتا ہے۔ مشتبہ الحال کو ذرا آخر میں لے جائیں ترتیب ٹھیک ہو جائے گی۔ یا نفی اس نفی کی جنس میں سے ہوگی جس کو دلیل سے نہیں جانا جاتا، یا نفی اس نفی کی جنس سے ہوگی جو مشتبہ الحال ہوگی، تین صورتیں آ گئیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب آپ کو بتائیں گے
اگر نفی اس نفی کی جنس سے ہے جس کو دلیل سے جانا جاتا ہے، تو مثبت تو ہوتا ہی کس کے ساتھ ہے؟ یہ نفی بھی کس میں، کس کے ساتھ ہو گئی؟ دلیل، تو دونوں برابر ہو گئے۔ دونوں کیا ہو گئے؟ برابر ہو جائیں گے۔ تو اس صورت میں پھر کسی اور چیز کے ذریعے ترجیح دیں گے۔ یہاں ویسے تو مثبت کو ترجیح تھی، لیکن جب نفی بھی دلیل کے ساتھ ہوئی، تو اب دونوں کیا ہو گئے؟ مثبت بھی دلیل کے ساتھ اور نفی بھی دلیل کے ساتھ، تو دونوں برابر ہوئے بھئی۔
دوسری صورت، نفی، مثبت تو ہے ہی دلیل کے ساتھ، نفی کس کے ساتھ ہے؟ بغیر دلیل کے ہے، اس جنس نفی کی جنس میں سے ہے جو بغیر دلیل کے، تو پھر یہاں پر کس کو ترجیح ہو گی؟ مثبت کو ترجیح ہو گی ظاہر سی بات ہے، کیونکہ وہ دلیل کے ساتھ ہے۔
تیسری قسم، جس میں نفی کس نفی کی جنس میں سے ہے؟ جو مشتبہ الحال ہے۔ اس میں دیکھا جائے گا۔ اس میں تو دونوں احتمال تھے، ہو سکتا ہے کوئی دلیل، کسی دلیل پر اعتماد کیا ہو، ہو سکتا ہے کسی دلیل پر اعتماد نہ، تو اس میں دیکھا جائے گا کہ راوی نے اس کو کسی، اس کی کسی دلیل پر اعتماد کرتے ہوئے نفی کی ہے یا بغیر دلیل کے؟ اگر راوی نے دلیل پر اعتماد کرتے ہوئے نفی کی ہے، تو یہ بھی کس کے برابر ہوا؟ مثبت کے برابر ہوا بھئی۔ یہ نفی تو اس نفی کی جنس میں سے تھی جو مشتبہ الحال تھی، لیکن ہم نے راوی کے بارے میں غور کیا تو پتہ چلا کہ اس نے دلیل پر اعتماد کرتے ہوئے نفی کی ہے، بغیر دلیل کے نفی نہیں، تو یہ نفی بھی دلیل کے ساتھ ہو گئی، تو یہ بھی کس کے برابر؟ مثبت کے برابر ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو مثبت ہو گئی ہمیشہ کس کے ساتھ؟ دلیل کے ساتھ، اور نفی کبھی دلیل کے ساتھ ہوگی، کبھی بغیر دلیل کے ہوگی، اور کبھی مشتبہ الحال۔ اگر نفی دلیل کے ساتھ ہے تو وہ مثبت کے برابر کیونکہ مثبت بھی دلیل کے ساتھ۔ اگر نفی بغیر دلیل کے ہے تو مثبت اولیٰ ہے کیونکہ وہ دلیل کے ساتھ ہے اور نفی بغیر دلیل کے۔ اور اگر نفی مشتبہ الحال ہے تو پھر راوی کے بارے میں دیکھیں کہ اس نے دلیل پر اعتماد کیا ہے یا دلیل پر اعتماد نہیں، اگر اس نے دلیل پر اعتماد کیا ہے تو یہ نفی بھی کس کے ساتھ ہو گئی؟ دلیل کے ساتھ ہو گئی، تو یہ کس کی طرح ہوئی؟ مثبت کی طرح اس کے برابر ہو گئی بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے، اب یہی بیان کریں گے بھئی۔ آگے مثالیں بھی آ جائیں گی، خوب بات واضح ہو جائے گی بھئی۔
وَالْأَصْلُ فِيهِ اور ضابطہ اس کے اندر یہ ہے كَأَنَّ النَّفْيَ إِنْ كَانَ مِنْ جِنْسِ مَا يُعْرَفُ بِدَلِيلِهِ کہ اگر نفی جو ہے مِنْ جِنْسِ مَا اس نفی کی جنس میں سے ہو يُعْرَفُ بِدَلِيلِهِ جس کو پہچانا گیا ہو کس کے ساتھ؟ جس کو پہچانا جاتا ہو اس کی دلیل کے ساتھ بِأَنْ كَانَ مَبْنِيًّا عَلَى دَلِيلٍ وَعَلَامَةٍ ظَاهِرَةٍ بایں طور کہ اس کی بنیاد جو ہے دلیل اور ظاہری علامت پر ہے وَلَا يَكُونُ مَبْنِيًّا عَلَى الْإِسْتِصْحَابِ الَّذِي لَيْسَ بِحُجَّةٍ اور اس کی بنیاد اس استصحابِ حال پر نہیں ہے جو ہمارے، جو حجة نہیں ہے، دلیل نہیں ہے ہمارے نزدیک۔
تو یہ پہلی صورت، نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کو جانا گیا ہو کس کے ساتھ؟ جس کو جانا جاتا ہو اس کی دلیل کے ساتھ۔ أَوْ كَانَ مِمَّا يَشْتَبِهُ حَالُهُ یا نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے يَشْتَبِهُ حَالُهُ جس کا حال مشتبہ ہے۔ لَكِنْ عُرِفَ أَنَّ الرَّاوِيَ اعْتَمَدَ دَلِيلَ الْمَعْرِفَةِ لیکن یہ جانا گیا کہ راوی نے اعتماد کیا ہے کس پر؟ دلیلِ معرفت پر، اس کے جاننے کی دلیل پر اعتماد کیا ہے، تو یہ بھی دلیل کے ساتھ ہوئی۔
یہ بھی نفی کس کے ساتھ ہوئی؟ دلیل کے ساتھ۔ پہلی صورت کیا بیان کی متن میں؟ اگر نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کو کس سے جانا جاتا ہے؟ دلیل کے ساتھ۔ یا نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جو مشتبہ الحال ہے لیکن یہ پتہ لگا کہ راوی نے کس پر اعتماد کیا ہے؟ دلیل پر، تو دونوں صورتوں میں آگے متن میں آ رہا ہے كَانَ مِثْلَ الْإِثْبَاتِ یہ نفی کس کی طرح ہوگی؟ اثبات کی مثل ہوگی یعنی اس کے برابر ہوگی بھئی۔ اور اگلے متن میں آ رہا ہے وَإِلَّا فَلَا ورنہ ایسا نہیں ہوگا بھئی۔ یعنی پھر مثبت کو ترجیح ہوگی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟
يَعْنِي كَانَ النَّفْيُ فِي نَفْسِهِ مِمَّا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مُسْتَفَادًا مِنَ الدَّلِيلِ بھئی، بتلا رہے ہیں نہ، انہوں نے بتلایا کہ نفی یا کس نفی کی جنس میں سے ہوگی جو مشتبہ الحال ہو، جس کا حال مشتبہ ہو، کیا معنی مشتبہ ہونے کا؟ یعنی ہو سکتا ہے اس میں کسی دلیل پر اعتماد کیا ہو، ہو سکتا ہے کسی دلیل پر اعتماد نہ کیا ہو، یہی معنی بیان کر رہے ہیں۔ يَعْنِي كَانَ النَّفْيُ فِي نَفْسِهِ مِمَّا یعنی نفی جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے مِمَّا اس نفی کی جنس میں سے ہے يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مُسْتَفَادًا مِنَ الدَّلِيلِ جو احتمال رکھتی ہے کہ ہو سکتا ہے وہ حاصل ہو دلیل سے وَأَنْ يَكُونَ مَبْنِيًّا عَلَى الْإِسْتِصْحَابِ اور یہ بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی بنیاد جو ہے وہ استصحاب پر ہو یعنی استصحابِ حال پر ہو۔ لَكِنْ لَمَّا تُفُحِّصَ عَنْ حَالِ الرَّاوِي لیکن جب غور کیا گیا راوی کے حال کے بارے میں عُلِمَ تو جانا گیا أَنَّهُ اعْتَمَدَ عَلَى الدَّلِيلِ کہ اس نے کس پر اعتماد کیا ہے؟ دلیل، یعنی نفی میں تو دونوں احتمال تھے لیکن پتہ چلا کہ راوی نے دلیل پر اعتماد کیا ہے وَلَمْ يَبْنِهِ عَلَى صِرْفِ ظَاهِرِ الْحَالِ اور بنیاد نہیں رکھی اس نے اس کی محضِ ظاہرِ حال پر، محضِ ظاہرِ حال پر بنیاد نہیں رکھی۔ فَفِي هَاتَيْنِ الصُّورَتَيْنِ تو ان دونوں صورتوں میں كَانَ مِثْلَ الْإِثْبَاتِ نفی کس کے مثل ہوگی؟ اثبات کے مثل ہوگی لِأَنَّ الْإِثْبَاتَ لَا يَكُونُ إِلَّا بِالدَّلِيلِ اس لیے کیونکہ اثبات تو نہیں ہوگا مگر دلیل کے ساتھ ہی فَإِذَا كَانَ النَّفْيُ أَيْضًا بِالدَّلِيلِ تو جب نفی بھی دلیل کے ساتھ ہوئی كَانَ مِثْلَهُ تو یہ نفی اس اثبات کے مثل ہوئی فَيَتَعَارَضُ بَيْنَهُمَا تو ان دونوں میں تعارض واقع ہوگا أَيْ فَيَقَعُ التَّعَارُضُ بَيْنَهُمَا بھئی، تقریر کل گزر چکی۔
وَيَحْتَاجُ بَعْدَ ذٰلِكَ إِلَى دَفْعِهِ اور وہ محتاج ہوگا اس کے بعد تو یہ دونوں اثبات بھی دلیل کے ساتھ تھا اور اوپر والی دونوں صورتوں کے مطابق نفی بھی کس کے ساتھ ہو گئی؟ دلیل کے ساتھ، تو نفی کس کے مثل ہوئی؟ اثبات کے مثل ہوئی، تو اب کسی اور چیز کے ذریعے ترجیح دیں گے، وہ بیان کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں وَيَحْتَاجُ بَعْدَ ذٰلِكَ إِلَى دَفْعِهِ اور احتیاج ہوگی، ضرورت ہوگی اس کے بعد إِلَى دَفْعِهِ اس تعارض کو دور کرنے کی فَجَاءَ حِينَئِذٍ مَذْهَبُ ابْنِ عَبَّانَ تو آئے گا اس کے بعد مذہب کس کا؟ عیسیٰ ابنِ عبان کا۔ جب دونوں بھئی عیسیٰ ابنِ عبان رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا؟ کہ دونوں برابر ہیں، تو ترجیح کس کے ذریعے دیں گے؟ حالِ راوی، یعنی دونوں برابر ہیں ان کے نزدیک بھئی، دونوں برابر۔ تو یہاں پر بھی مثبت تو تھی ہی دلیل کے ساتھ، نفی بھی دلیل کے ساتھ ہو گئی، تو دونوں کیا ہوئے؟ برابر، یہ آ گیا عیسیٰ ابنِ عبان رحمہ اللہ کا مذہب۔ وَإِلَّا فَلَا اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر، پھر نہیں ہے یعنی نفی اثبات کے مثل نہیں ہے بلکہ کس کو ترجیح ہے؟ اس، اثبات، مثبت کو۔ أَيْ لَمْ يَكُنِ النَّفْيُ مِنْ جِنْسِ مَا يُعْرَفُ بِدَلِيلِهِ یعنی اگر نفی نہ ہو اس نفی کی جنس میں سے جس کو دلیل کے ذریعے جانا گیا ہے وَلَا مِمَّا عُرِفَ أَنَّ الرَّاوِيَ اعْتَمَدَ عَلَى الدَّلِيلِ اور نہ اس نفی کی جنس میں سے ہو کہ جانا گیا ہے کہ جس راوی نے اعتماد کیا ہے کس پر؟ دلیل پر، اگر ان دونوں کی جنس میں سے نفی نہ ہو بَلْ بَنَاهُ عَلَى ظَاهِرِ الْحَالِ الْمَاضِيَةِ بلکہ بنا کی ہے اس خبر دینے والے نے کس پر؟ ظَاهِرِ الْحَالِ الْمَاضِيَةِ ظاہرِ گزشتہ حال پر، گزشتہ حال کے ظاہر پر بھئی، جیسے پانی میں کا گزشتہ حال کیا تھا اصل میں؟ پاک تھا، تو اس نے بھی ہو سکتا ہے اعتماد کیا، کس پر کیا ہو؟ اسی گزشتہ حال کے ظاہر پر کہ پہلے پاک تھا، اب بھی کیا ہوگا؟ پاک ہوگا۔
فَلَا يَكُونُ مِثْلَ الْإِثْبَاتِ فِي مُعَارَضَتِهِ تو اس صورت میں نفی جو ہے وہ اثبات کے مثل نہیں ہوگی فِي مُعَارَضَتِهِ اس کے معارض ہونے میں بَلِ الْإِثْبَاتُ أَوْلَى بلکہ اثبات اولیٰ ہوگا لِأَنَّهُ ثَابِتٌ بِالدَّلِيلِ اس لیے کیونکہ وہ کس کے ذریعے ثابت ہے؟ دلیل کے ذریعے فَجَاءَ حِينَئِذٍ مَذْهَبُ الْكَرْخِيِّ تو اس وقت کس کا مذہب آئے گا؟ امامِ کرخی کا، ان کے نزدیک مثبت اولیٰ تھی، تو وہ یہ صورت ہے، اس وقت کیا ہے مثبت اولیٰ ہے۔
فَنَحْنُ نَحْتَاجُ حِينَئِذٍ إِلَى ثَلَاثَةِ أَمْثِلَةٍ پس اس وقت ہم محتاج ہوئے تین مثالوں کے مِثَالَيْنِ لِكَوْنِ النَّفْيِ مُعَارِضًا لِلْإِثْبَاتِ دو مثالیں نفی کے اثبات کے معارض ہونے کی وَمِثَالٍ لِكَوْنِ الْإِثْبَاتِ أَوْلَى مِنْهُ اور ایک مثال اثبات کے نفی سے اولیٰ ہونے کی عَلَى مَا بَيَّنَهَا الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِتَمَامِهَا بناء بر اس کے جو بیان کیا ہے مصنف نے پورے طور پر لٰكِنْ أَوْرَدَهَا عَلَى غَيْرِ تَرْتِيبِ اللَّفِّ لیکن لے کر آئے ہیں اس کو لف کی ترتیب کے علاوہ پر، یعنی لف کی ترتیب پر نہیں لائے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ہمیں تین مثالوں کی کہتے ہیں ضرورت ہے جس سے بات واضح ہو جائے۔ ایک وہ مقام جہاں پر مثبت بھی ہے اور نافی بھی ہے، مثبت تو ہے ہی کس کے ساتھ؟ دلیل کے ساتھ، اور نفی بھی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کو کس کے ذریعے جانا جاتا ہے؟ دلیل کے ساتھ بھئی، تو دیکھو دونوں برابر ہو جائیں گے اور ان میں تعارض ہوگا بابا۔ اور دوسری وہ مثال کہ نفی ہے تو مشتبہ الحال، لیکن راوی نے کس پر اعتماد کیا ہے؟ دلیل پر، تو یہاں پر بھی نفی کس کے برابر ہو جائے گی؟ مثبت کے برابر ہو جائے گی، اور تیسری صورت جن میں ایسا نہ ہو یعنی نفی دلیل کے ساتھ بھی نہیں یا راوی نے دلیل پر اعتماد بھی نہیں کیا، تو یہ تیسری مثال ہوگی۔
تو شارح، ماتن جو ہیں تینوں کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں لیکن لفظ کی ترتیب پر نہیں ہے۔ فَجَاءَ أَوَّلًا بِمِثَالِ قَوْلِهِ وَإِلَّا فَلَا پس لے کر آئے مصنف پہلے اپنے قول وَإِلَّا فَلَا کی مثال، وَإِلَّا فَلَا کی مثال، وَإِلَّا فَلَا کونسی قسم تھی بھئی؟ جس میں کس کو ترجیح تھی؟ مثبت کو ترجیح تھی کیونکہ نفی کے ساتھ کوئی دلیل نہیں، تو اس کی ذکر، مثال پہلے ذکر کر رہے ہیں۔ فَقَالَ پس فرمایا مصنف نے فَالنَّفْيُ فِي حَدِيثِ بَرِيرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا پس وہ نفی جو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں ہے وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ مُكَاتَبَةً لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا اور یہ جو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں، یہ مکاتبہ تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی۔
وَكَانَتْ فِي نِكَاحِ عَبْدٍ مکاتبہ تھیں بھئی جن سے عقدِ کتابت کیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ اتنا بدلِ کتابت ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔ تو یہ مکاتبہ تھیں۔ وَكَانَتْ فِي نِكَاحِ عَبْدٍ اور یہ ایک غلام کے نکاح میں تھیں۔ اسی باندی ہونے کی حالت میں ہی ان کا نکاح تھا کس سے؟ ایک غلام سے۔ فَلَمَّا أَدَّتْ بَدَلَ الْكِتَابَةِ پس جب انہوں نے بدلِ کتابت ادا کر دیا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرمانے لگے مَلَكْتِ بُضْعَكِ فَاخْتَارِي تو مالک ہو گئی اپنی شرمگاہ کی، فَاخْتَارِي تو تو اختیار کر لے، یعنی تجھے اختیار ہے۔ انہیں اختیار دیا بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وہ چاہیں تو اپنے اس نکاح کو باقی رکھیں اور چاہیں تو اس کو ختم کر دیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
وَلٰكِنِ اخْتُلِفَ لیکن اختلاف کیا گیا ہے فِي أَنَّهُ حِينَ خَيَّرَهَا کہ جس وقت حضور علیہ السلام نے انہیں اختیار دیا تھا هَلْ بَقِيَ زَوْجُهَا عَبْدًا أَمْ صَارَ حُرًّا کیا باقی تھا ان کا خاوند اس وقت بھی غلام یا وہ آزاد ہو گیا تھا؟ فَقِيلَ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا عَلَى حَالِهِ پس کہا گیا ہے کہ ان کا خاوند جو تھا وہ غلام ہی تھا اپنے حال پر۔
بھئی دیکھیے، حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب بدلِ کتابت ادا کر دیا اور آزاد ہوئیں تو حضور علیہ السلام نے انہیں اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے خاوند کے ساتھ نکاح کو باقی رکھیں اور چاہے کیا کریں؟ اس کو ختم فرما دیں، اختیار دے دیا۔ اب ان کا نکاح غلام سے تھا، اس بات پر تو سب کا اتفاق کہ ان کے خاوند پہلے غلام تھے۔ لیکن جب ان کو آزادی ملی اور خیار ملا، کیا اس وقت بھی ان کا خاوند غلام تھا یا وہ آزاد ہو چکا تھا؟ اس میں اختلاف ہے۔ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت بھی ان کے خاوند غلام تھے، ابھی آزاد نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ اسی طرف گئے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں ان کے خاوند غلام تھے اور یہ ہو گئیں آزاد، اور آزاد عورت غلام کے عقد میں ہو یہ اس کے لیے عیب کی بات ہوتی ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اس وجہ سے، تو یہ اس کے لیے عار کی بات ہوتی ہے اسی لیے حضور علیہ السلام نے ان کو اختیار دیا۔
چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر باندی آزاد ہوتی ہے تو اس کو نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار اسی وقت ہوگا اگر اس کا خاوند غلام ہو۔ اگر خاوند آزاد ہے، تو یہ بھی آزاد ہوئیں تو یہ آزاد عورت کے عقد میں ہے، یہ کوئی عار کی بات نہیں ہے لہذا اب اس کو خیار نہیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک باندی کو اختیار کب ہوگا؟ جب اس کا، جب اسے آزادی ملے اس وقت اس کا خاوند غلام ہو۔ جبکہ دوسری روایات میں آتا ہے کہ اس وقت ان کے خاوند آزاد تھے بھئی، اور اسی کو ترجیح دی ہے احناف نے۔ چنانچہ احناف کے نزدیک جب ان کو آزادی ملی اس وقت ان کے خاوند آزاد تھے اور خاوند تو آزاد ہے، یہ بھی آزاد ہوئیں، تو آزاد شخص کے عقد میں ہیں اور یہ کوئی عار کی بات نہیں، پھر بھی حضور علیہ السلام ان کو خیار دے رہے ہیں۔ معلوم ہوا باندی جب بھی آزاد ہوگی یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کا خاوند غلام ہے یا آزاد ہے، ہر حال میں اس کو کیا ملے گا؟ خیار ملے گا، صورت سمجھ میں آگئی؟ اس کو خیار ملے گا بھئی، چنانچہ پھر اس کی مرضی ہے وہ نکاح کو باقی رکھتی ہے یا اسے ختم کر دیتی ہے بھئی۔ اختلاف اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟
فَقِيلَ پس کہا گیا ہے إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا عَلَى حَالِهِ کہ ان کا خاوند جو تھا وہ غلام ہی تھا اپنے حال پر وَهُوَ مُخْتَارُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ اور یہ مختار مذہب ہے، پسندیدہ قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا حَيْثُ لَا يُثْبِتُ الْخِيَارَ لِلْمُعْتَقَةِ إِلَّا إِذَا كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا اس حیثیت سے کہ وہ ثابت نہیں کرتے خیار کو معتقہ کے لیے، آزاد شدہ عورت کے لیے إِلَّا إِذَا كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا مگر کہ جس وقت اس کا خاوند غلام ہو۔ وَقِيلَ اور کہا گیا ہے، یہ دوسرا قول آیا قَدْ صَارَ حُرًّا کہ وہ خاوند آزاد ہو گیا تھا وَهُوَ مُخْتَارُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ اور یہ مختار ہے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا حَيْثُ يُثْبِتُ الْخِيَارَ لِلْمُعْتَقَةِ اس حیثیت سے کہ وہ ثابت کرتے ہیں خیار کو معتقہ کے لیے، آزاد شدہ عورت کے لیے سَوَاءٌ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا أَوْ حُرًّا برابر ہے کہ ان کا خاوند غلام ہو یا آزاد ہو۔
اور دلیل یہی ہے بھئی، یہ جو ابھی ضابطہ بیان ہوا۔ ضابطہ کیا بیان ہوا تھا؟ اگر نفی دلیل کے ساتھ ہے تو وہ مثبت کے برابر ہے، اور اگر نفی بغیر دلیل کے ہے تو کس کو ترجیح؟ مثبت کو ترجیح، مثبت کو ترجیح۔
بھئی دیکھیے، ان کے خاوند غلام تھے اس پر تو سب کا اتفاق ہے۔ جن روایتوں میں یہ آیا ہے کہ جس وقت ان کو آزادی ملی اس وقت ان کے خاوند غلام ہی تھے، ان کے خاوند کیا تھے؟ غلام ہی تھے، تو یہ روایت نافی ہوئی۔ یہ روایت کیا ہوئی؟ نافی ہوئی، اور جن روایات میں آیا کہ ان کے خاوند آزاد ہو چکے تھے وہ روایات مثبت ہوئیں بھئی، کیونکہ اس میں ایک نئی چیز کا اثبات ہے بھئی، آزادی کا۔ غلامی پر تو متفق ہیں کہ پہلے تھے ہی غلام، تو جن میں آیا کہ آزاد تھے، اس وقت وہ آزاد ہو چکے تھے، اس میں ایک نئی پیش آنے والی چیز کا اثبات ہے، تو یہ دلیل کونسی ہوئی؟ مثبت۔
اور جس میں کہا گیا کہ اس وقت بھی وہ غلام تھے وہ ہوئے نفی نفی اور یہ نفی یہ نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کی بنیاد دلیل پر نہ ہو کس جنس میں سے ہے ؟ تو جس جنوں نے کہا وہ آزاد ہو چکے تھے یقیناً ان کے پاس کوئی دلیل ہوگی جب ہی انہوں نے کہا کہ وہ کیونکہ آزادی ایک نئی چیز تھی غلامی میں تو اتفاق تھا کہ پہلے تھے وہ غلام لیکن بعد میں بھی وہ کیا ہیں؟ یہ ایک نئی چیز کا جب اثبات آیا روایت کے اندر معلوم ہوا اس روایت کرنے والے کے پاس کوئی دلیل ہے جب ہی وہ کہہ رہا ہے کہ وہ آزاد تھے اس وقت اور جو نفی کر رہے ہیں معلوم ہوا انکے انہوں نے ظاہر حال کو دلیل بنایا کہ پہلے تو یہ کیا تھے؟ غلام تھے اب بھی کیا ہوں گے؟ غلام ہی ہوں گے اسی وجہ سے انہوں نے کیا کہہ دیا کہ وہ غلام تھے کیونکہ یہاں یہ نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کی بنیاد دلیل پر نہیں۔ بھئی غلام کو غلام اور آزاد آدمی میں دیکھنے سے کوئی فرق پتا چلتا ہے؟ غلام کے کوئی سینگ وغیرہ تو نہیں ہوتے سر پر کوئی ایسی علامت ہوتی تو آپ کے پاس دلیل ہوتی جن روایتوں میں اس کی ان کی آزادی کی نفی آئی معلوم ہوا اس نفی کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں کیونکہ کوئی علامت وغیرہ نہیں ہوتی جس سے پتا چلے بھئی معلوم ہوا انہوں نے دلیل صرف کس چیز کو بنایا ہے؟ استصحابِ حال کو کہ پہلے وہ غلام تھے تو اب بھی یقیناً کیا ہوں گے؟ غلام ہوں گے اور جنہوں نے آزادی کو ثابت کیا آزادی کو بیان کیا معلوم ہوا ان کے پاس کوئی دلیل موجود تو لہذا ترجیح کس کو ہوگی؟ مثبت کو ترجیح ہوگی چنانچہ ہم نے بھی انہیں روایتوں کو ترجیح دی جن کے اندر کیا آیا ہے؟ ان کے خاوند آزاد تھے چنانچہ ہمارے نزدیک عورت کو جب باندی کو آزادی ملے تو چاہے خاوند آزاد ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کو اختیار ملے گا صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا مثبت کون سی دلیل بھئی؟ جس میں کس چیز کا اثبات ہے؟ آزادی کا آزادی کا اثبات ہے
فلحریت وإن کانت اصلیۃ فی دار الاسلامی جی یہ اعتراض کا جواب ہے اعتراض یہ کہ آپ نے جن میں آزادی کا ذکر آیا اس کو بنایا مثبت کیا بنایا؟ مثبت اور جس میں غلامی کا ذکر آیا اس کو آپ نے کیا بنایا؟ نفی حالانکہ ہونا کیا چاہیے؟ جس میں آزادی کا ذکر ہے اس کو نفی ہونا چاہیے اور جس میں غلامی کا ذکر ہے اس میں مثبت اس کو مثبت ہونا چاہیے کیوں؟ کیونکہ دارالإسلام میں اصل آزادی ہے دارالإسلام میں اصل کیا ہے؟ آزادی اور غلامی اس پر پیش آتی ہے بھئی امر عارض ہے وہ بھئی دارالإسلام میں اصل کیا ہے؟ آزادی اور غلامی اس پر پیش تو جن میں غلامی کا ذکر ہے اس میں اثبات ہے ایک امر زائد کا تو وہ مثبت ہونی چاہیے اور یہ جس میں آزادی کا ذکر ہے اس کو کیا ہونا چاہیے؟ نفی حالانکہ آپ نے عکس کیا جن میں آزادی ہے اس کو ان کو آپ نے مثبت قرار دیا اور جس میں غلامی کا ذکر ہے اس کو آپ نے نفی قرار دیا اعتراض سمجھ میں آیا تو جواب دیں گے کہ بھئی ہاں یہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے کہ دارالإسلام میں اصل آزادی ہے اور غلامی عارض ہے لیکن یہاں پر جس میں آزادی ہے اس کو مثبت بنائیں گے اس لیے کیونکہ اس میں تو سب کا اتفاق ہے وہ پہلے کیا تھے؟ وہ پہلے غلام تھے تو آگے روایتوں میں بعد میں آرہا ہے وہ غلام تھے بعضوں میں آرہا ہے کہ وہ آزاد تھے تو پہلے غلام ہونا تو ان کا بالاتفاق ہے یہ آگے جو آزادی آئی یہ ایک امر زائد ہے امر عارض ہے اس وجہ سے ہم نے اس کو کیا بنایا؟ مثبت بنایا بھئی صورت سمجھ میں آگئی تو کہتے ہیں فلحریت وإن کانت اصلیۃ فی دار الاسلامی کہ آزادی اگرچہ وہ اصل ہے دارالإسلام میں والعبودیۃ عارضۃ اور عبودیت جو ہے غلام ہونا وہ عارض ہے ولکن لما اتفقت الرواة علی أن زوجھا کان عبدا فی الحقیقۃ لیکن جب اتفاق کیا ہے تمام راویوں نے کہ ان کے خاوند جو تھے وہ غلام تھے حقیقت کے اندر وإنما وقع الاختلاف فی الحریت العارضۃ اور اختلاف واقع ہوا ہے اس حریت کے اندر جو پیش آئی تو کان خبر العبوديۃ نافیا للحریت العارضۃ تو غلام ہونے کی خبر جو ہے وہ نفی کرنے والی ہے اس حریت کی جو پیش آئی تو جس میں غلامی کا ذکر وہ ہوئی نفی اور جس میں حریت کا ذکر وہ ہے مثبت بھئی ومبقیت تو یہ کان خبر العبودیۃ نافیا للحریت العارضۃ تو وہ خبر جو غلامی کی خبر
غلام ہونے کی خبر جو ہے وہ نفی کرنے والی ہے حریت عارضہ کی ومبقیا لہ علی أصلہ اور یہ غلام ہونے کی خبر جو ہے یہ باقی رکھنے والی ہے اس شخص کو اس کے اصل پر کہ پہلے غلام تھا اب بھی کیا ہے؟ غلام تو اس لیے یہ نفی ہوئی بھئی وخبر الحریت مثبتا للأمر العارضی اور خبر حریت جو ہے وہ مثبت ہوئی کس کی وجہ سے اس امر عارض کی وجہ سے فخبر النفی پس نفی کی خبر وہ ہے ما رویا وہ جو روایت کیا گیا ہے کہ أنھا أعتقت وزوجھا عبد کہ ان کو آزاد کیا گیا حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو آزاد کیا گیا وزوجھا عبد اس حال میں کہ ان کے خاوند غلام تھے مما لا یعرف إلا بظاہر الحال کہ یہ نفی کی جو خبر ہے اس نفی کی جنس سے ہے کہ نہیں جس کو نہیں جانا جاتا مگر کس کے ذریعے ظاہر حال کے ذریعے وہو أنہ کان عبدا فی الأصل اور وہ یہ کہ وہ اصل میں غلام تھے فظاہر أنہ بقی كذلك تو ظاہر یہی ہے کہ وہ اسی طرح باقی ہوں گے یہ ظاہر حال کو دلیل بنایا نا اس میں ولیست للعبد علامۃ ودلیل یعرف بھلا اور نہیں ہوتی غلام کی کوئی ایسی علامت اور دلیل جس کے ذریعے اسکو جانا جائے ویمیز عن الحر اور وہ ممتاز ہو جائے آزاد سے فلم یعارض الإثبات پس یہ نفی معارض نہیں ہوگی اثبات کے کیونکہ یہ بغیر دلیل کے ہے اور اثبات کس کے ساتھ ہے؟ دلیل کے ساتھ ہے وہو ما رویا أنھا وہو ما رویا أنھا أعتقت وزوجھا حر پس یہ نفی معارض نہیں ہوگی اثبات کے یہ نفی کون سی نفی؟ وہو وہ جو روایت کیا گیا ہے کہ أنھا أعتقت وزوجھا حر کہ وہ آزاد کیں اس حال میں کہ ان کے خاوند اچھا اس بات کی بات ہے اس بات کی
تو یہ جو نفی آئی کہ یہ آزاد کیں اوپر بھئی نفی آئی تھی کہ وہ آزاد کیں اور ان کے خاوند غلام تھے تو یہ نفی معارض نہیں ہوگی اس اثبات کے بھئی وہوا اور وہ جو معروف روایت کیا گیا کہ أنھا أعتقت کہ یہ آزاد کیں وزوجھا حر اس حال میں کہ ان کے خاوند آزاد تھے لأن من أکبر بالحرية لا شک أنه واقفه علی الإخبار والسماع اس لیے کیونکہ جس نے خبر دی ہے آزاد ہونے کی تو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ واقف ہوا ہے اس آزادی پر بالخبر خبر کے ذریعے والسماع اور سماع کے ذریعے جب ہی کہہ رہا ہے کہ وہ آزاد تھے فکان علمہ مستنندا إلی دلیل پس اس کا علم جو ہے وہ اس کا اعتماد ہوا کس پر؟ دلیل پر فاصحابنا ھا ھنا عمل بالمثبت پس ہمارے فقہاء نے یہاں پر عمل کیا ہے مثبت پر واثبتوا الخیار لھا اور اس کے لیے خیار کو ثابت رکھا ہے یعنی وہ باندی جس کا خاوند کیا ہو؟ آزاد تھا اور پھر اس باندی کو بھی آزاد کیا گیا تو اس کے لیے ہمارے فقہاء نے کہ خاوند چاہے آزاد ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس باندی کو خیار ہوگا تو واثبتوا الخیار لھا اور انہوں نے خیار کو ثابت کیا ہے معتقہ کے لیے حین کون زوجھا حرا جس وقت کہ ان کا خاوند آزاد ہو آزاد ہو وفی حدیث میمونة رضی اللہ تعالی عنہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث مثال لقون النفی من جنس ما یعرف بدلیلہ یہ مثال ہے لقون النفی نفی کا من جنس ما اس نفی کی جنس سے ہونا یعرف بدلیلہ جس کو اس کی دلیل کے ذریعے جانا گیا ہو تو وفی حدیث میمونة حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں مثال لقون النفی من جنس ما یعرف بدلیلہ یہ مثال ہے نفی کے اس نفی کی جنس سے ہونے کی جس کو اس کی دلیل کے ذریعے جانا گیا ہو وذلک أن النبی علیہ الصلاۃ والسلام کان محرما فتزوج میمونة رضی اللہ تعالی عنہ بنفسہ اور وہ یہ کہ حضور علیہ السلام محرم تھے حالت احرام میں تھے احرام جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ بھئی احرام وہ جو دو کپڑے پہنے ہوتے ہیں ان کا نام نہیں ہے احرام دراصل اس حالت کا نام ہے جس میں انسان پر بہت سی پابندیاں شرعاً لاگو ہو جاتی ہیں وہ خوشبو نہیں لگا سکتا وہ بال نہیں کاٹ سکتا ناخن نہیں کاٹ سکتا اور اسی طرح خوشبو والے صابن کو استعمال نہیں کر سکتا بیوی کے قریب نہیں جان نہیں جا سکتا یہ ہے وہ احرام کی حالت بھئی তো حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح فرمایا نکاح فرمایا اب بعض روایات میں آتا ہے کہ اس وقت حضور علیہ السلام حالت احرام میں تھے اور جب نکاح فرمایا اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اتار دیا تھا اس وقت بھئی آپ حالت احرام میں نہیں تھے بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی تو یہ دو روایتیں آئیں بھئی اور چنانچہ ہم نے اس روایت پر عمل کیا جس میں ذکر آیا کہ حضور علیہ السلام حالت احرام میں تھے چنانچہ ہمارے نزدیک حالت احرام میں بھی نکاح جائز ہے کیونکہ نکاح صرف ایجاب و قبول کا نام ہے بھئی صحبت کی بات نہیں ہو رہی صرف کس کی بات ہو رہی ہے؟ نکاح کی یعنی ایجاب و قبول کی تو ہمارے نزدیک حالت احرام میں بھی نکاح جائز ہے بھئی کیونکہ وہ صرف ایجاب و قبول کا نام ہے اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی انہوں نے ان روایات کو لیا جن میں آیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے اس وقت احرام اتار دیا تھا چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ احرام کی حالت میں نکاح جائز نہیں بھئی حضور علیہ السلام نے بھی جو نکاح فرمایا تھا وہ اس وقت احرام کی حالت میں نہیں تھے ہم کہتے ہیں نہیں اس وقت احرام کی حالت میں تھے اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ احرام میں بھی نکاح جائز ہے وذلک أن النبی علیہ الصلاۃ والسلام کان محرما فتزوج میمونة بنفسہ اور وہ اس یہ کہ حضور علیہ السلام جو تھے وہ حالت احرام میں تھے پس نکاح فرمایا اپنے میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بنفسہ اپنے ساتھ ولکنھم مختلفوا فی أنه ھل بقی علی الاحرام حین النکاح أم نقضہ لیکن اس میں اختلاف کیا ہے کہ اس میں اختلاف کیا ہے روایت کرنے والوں نے کہ أنہ ھل بقی علی الإحرام کہ کیا وہ باقی تھے احرام پر حین النکاح نکاح کے وقت أم نقضہ یا اس کو اتار دیا تھا نقد کا معنی ہے توڑنا نقضہ اس کو توڑ دیا تھا یعنی احرام کو اتار دیا تھا یعنی اس کو ختم کردیا تھا فقیل پس کہا گیا ہے کہ أنہ نقضہ کہ حضور علیہ السلام نے احرام کو اتار دیا تھا ثم تزوج پھر نکاح کیا وبہ اخذ الشافعی رحمہ اللہ اور اسی کو لیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے حیث لا یحل حیث لا یحل النکاح فی الإحرام اس حیثیت سے کہ نکاح حلال نہیں ہوگا احرام میں کما لا یحل الوطء بالاتفاق جیسے کہ وطی حلال نہیں ہے بالاتفاق تو وہ فرماتے ہیں نکاح بھی اسی طرح حلال نہیں ہے وقیل اور کہا گیا ہے کان باقیا علی علی الإحرام کہ حضور علیہ السلام باقی تھے اپنے احرام پر حین النکاح نکاح کے وقت وبہ اخذ أبو حنیفۃ رحمہ اللہ اور اسی کو لیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حیث یحل النکاح للمحرم اس حیثیت سے کہ نکاح حلال ہے محرم کے لیے وإن حرم الوطء اگرچہ وطی حرام نکاح حلال ہے اگرچہ وطی حرام ہے فالاحرام وإن کان عارضا فی بنی آدم پس احرام اگرچہ وہ عارض ہے کس میں بنی آدم یعنی انسان میں والحلو أصلا اور حل حل جو ہے وہ اصل ہے لیکنہ بھئی انسان میں اصل کیا ہے؟ احرام یا حلت بھئی حلت اصل ہے احرام اس پر ایک نئی حالت پیش آتی ہے عارض ہوتی ہے لیکن یہاں پر حلت کو ہم امر عارض قرار دیں گے بھئی کیونکہ حضور علیہ السلام اس سے پہلے حالت احرام میں تھے یہ تو بالاتفاق ہے یہ تو بالاتفاق ہے کہ اس سے پہلے حضور علیہ السلام حالت احرام میں تھے نکاح کے وقت بھی حالت احرام میں تھے یا حلال ہو چکے تھے دو روایتیں آئیں تو جن جن روایتوں میں آیا وہ احرام ہی میں تھے یہ ہوئی نفی اور جن میں آیا کہ وہ حلال ہو چکے تھے تو حلال ہونا ایک امر زائد ہوا یہ کیا ہوئی مثبت ہوئی بھئی تو کہتے ہیں فلحرام وإن کان عارضا فی بنی آدم اور احرام اگرچہ عارض ہے نئی پیش آنے والی چیز ہے بنی آدم کے اندر والحلو أصلا اور حلت اصل ہے لیکنہ لما اتفقت الرواة أنه علیہ الصلاۃ والسلام کان أحرم البتہ لیکن جب اتفاق کیا ہے راویوں نے اس بات میں کہ حضور علیہ السلام نے احرام باندھا تھا قطعی طور پر اس میں تو اتفاق ہے کہ احرام پہلے باندھا تھا وإنما الاختلاف فی إبقائہ ونقضہ اور اختلاف جو ہے راویوں کا اس احرام کے باقی رکھنے میں اور اس کے توڑنے میں ہے کان خبر الاحرام نافیا للحل الطاری علیہ تو احرام کی جو خبر ہے وہ نفی وہ نفی کرنے والی ہوئی للحل الطاری علیہ اس حلت پر جو اس احرام پر طاری ہوئی تھی جو اس احرام پر طاری ہوئی تھی তো خبر احرام کیا ہوئی؟ نفی اور حلت جو اس پر طاری ہوئی جن وہ کیا ہے؟ تو کہتے ہیں وخبر الحل مثبتا للأمر العارضی اور حلال ہونے والی خبر جو ہے وہ مثبت ہے وہ ثابت کرنے والی ہے اس امر عارض کو فخبر النفی تو یہاں خبر نفی کون سی مثال بیان ہو رہی ہے کہ نفی بھی کس نفی کی جنس سے ہو؟ جس کو کس کے ذریعے جانا گیا ہو؟ دلیل کے ذریعے یہی اب آگے بیان کریں گے فخبر النفی فی باب حدیث میمونة پس نفی کی جو خبر ہے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کے باب میں وہو ما رویا اور وہ یہ جو روایت کیا گیا ہے کہ أنہ علیہ الصلاۃ والسلام تزوجھا کہ حضور علیہ السلام نے ان سے نکاح فرمایا وہو محرم اس حال میں کہ وہ محرم تھے તો یہ نفی کی خبر ہے کون سی خبر ہے؟ نفی مما یہ نفی کی خبر اس نفی کی جنس سے ہے یعرف بدلیلہ جس کو کس کے ذریعے جانا جاتا ہے؟ دلیل کے ذریعے اس کا پتا دلیل ہی سے چل سکتا ہے ویسے نہیں کہ حضور علیہ السلام کس حالت میں تھے؟ احرام کی حالت میں اس کا پتا دلیل سے چلا ہوگا اس کو روایت کرنے والے کے پاس دلیل ہوگی جب ہی وہ کہہ رہا ہے حضور علیہ السلام اس وقت حالت احرام میں تھے کیا دلیل ہوگی؟ کہ حضور علیہ السلام نے سلے ہوئے کپڑے نہیں پہنے ہوں گے وہ دو کپڑے باندھے ہوں گے اور اسی طرح ناخن وغیرہ نہیں کٹوا رہے وغیرہ یہ علامتیں ہیں بھئی پچھلے مسئلے میں تو جہاں آیا تھا ان کے خاوند غلام ہی تھے
وہ نافی تھی لیکن وہاں کوئی دلیل نہیں کیونکہ غلام پر کوئیعلامات نہیں ہوتی۔
اور یہاں پر، یہاں پر علامت ہے، دلیل ہوتی ہے تو یہ نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کو دلیل سے جانا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں، کہتے ہیں وہ مما عرف بدلیلہ، یہ نفی اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کو اس کی دلیل کے ذریعے جانا جاتا ہے، وہو هیئۃ المحرم اور وہ محرم کی حالت ہے من لبس غیر الخیاط یعنی کہ غیر سلے ہوئے کپڑے پہننا، و عدم تقلم الاظافیر اور ناخنوں کا نہ کٹوانا، و عدم حلق الشعر اور بالوں کا نہ کٹوانا، حلق نہ کروانا۔ فھذا علم مستند علی دلیل پس یہ ایسا علم ہے جس کا اعتماد کس پر ہے؟ دلیل پر ہے۔ فصار الاثبات، تو یہ نفی بھی کس کے ساتھ ہوئی؟ دلیل کے ساتھ۔ تو یہ معارض ہوئی اثبات کے۔ وهو اور وہ، وہ اثبات کی کون سی روایت ہے؟ کہتے ہیں وهو ما روی کہ وہ جو روایت کیا گیا ہے انه علیہ السلام تزوجھا وهو حلال کہ حضور علیہ السلام نے ان سے نکاح فرمایا اور اس حال میں کہ وہ حلال تھے۔ تو یہ مثبت ہے، یہ بھی دلیل کے ساتھ اور نافی بھی دلیل کے ساتھ، تو دونوں متعارض ہوئیں، برابر ہوئیں۔ لان من اخبر بہٰذا اسی کیونکہ جس نے یہ خبر دی ہے لا شک انه قد رأی علیہ لباس المحللین و زیہم تو کوئی شک نہیں ہے کہ اس نے دیکھا ہوگا حضور علیہ السلام پر حلال لوگوں کا لباس اور ان کی حالات۔ حلال لوگوں جیسی حالت اور ان جیسا لباس دیکھا ہوگا، حضور علیہ السلام نے سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوں گے جبھی وہ کیا کر رہا ہے؟ خبر دے رہا ہے کہ حضور علیہ السلام نے احرام کو اتار دیا تھا۔ فلما تعارض الخبران علی السواء پس جب متعارض ہوئیں دو خبریں برابری کے طریقے پر، احتیج الی ترجیح احدهما تو احتیاج ہوئی ان دونوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کی بحال الراوی، کس کے ذریعے؟ راوی کے حال کے ذریعے! و جعل روایت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنهما اولٰی، متن میں آئے گا آگے، اولٰی من روایت یزید بن الاصم، اور قرار دیا گیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کو اولٰی، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کو اولٰی قرار دیا گیا من روایت یزید بن الاصم، یزید بن الاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مقابلے میں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کون سی ہے؟ درمیان میں ذکر کیا، وهو انه علیہ السلام تزوجھا وهو محرم کہ حضور علیہ السلام نے ان سے نکاح فرمایا اور وہ حالت احرام میں تھے۔ تو یہ نافی ہے لیکن اس کو ترجیح دی گئی کس سے؟ کس کی روایت کے مقابلے میں؟ یزید بن الاصم کی روایت کے مقابلے میں۔ اور ان کی کیا روایت ہے؟ وهو انه علیہ السلام تزوجھا وهو حلال کہ حضور علیہ السلام نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا اس حال میں کہ وہ حلال تھے۔ بھئی، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کو ترجیح دی گئی، اس کو اولٰی قرار دیا گیا، لانه لا یعدله فی الضبط و الاتقان اس لیے کیونکہ یزید بن الاصم وہ برابر نہیں ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ضبط اور اتقان میں۔
تو اب ترجیح دیکھا کس کے ذریعے دی؟ حال راوی کے ذریعے، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث جو ہے وہ اگرچہ نافی ہے لیکن ان کو ان، را، حال راوی کی وجہ سے ترجیح دی گئی کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما وہ ضبط و اتقان میں بڑھ کر ہیں یزید بن الاصم سے۔ فصار خبر النفی هاهنا معمولاً بهٰذا الوتیرا، پس ہو گئی نفی کی خبر یہاں پر معمول، یعنی اس پر عمل کیا گیا بهٰذا الوتیرا اس طریقے پر بھئی! تو نفی کی خبر پر عمل کیا گیا یہاں پر اس طریقے پر۔
و طهارۃ الماء، و طهارۃ الماء و حل الطعام من جنس ما یعرف بدلیله، اور پانی کی طہارت، پانی کا پاک ہونا، و حل الطعام اور طعام کا حلال ہونا من جنس ما یعرف بدلیله یہ اس نفی کی جنس میں سے ہے یعرف بدلیله جس کو کس کے ذریعے جانا گیا ہے؟ دلیل کے ذریعے جانا گیا ہے بھئی، دلیل کے ذریعے!
بھئی، دیکھیے! پہلی مثال آئی تھی اس نفی کی جس کو دلیل کے ذریعے نہیں جانا گیا۔ دوسری مثال آئی تھی فی حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس نفی کی مثال جس کو کس کے ذریعے جانا گیا ہے؟ دلیل کے ذریعے! آگے یہ تیسری مثال ہے اور یہاں ماتن کیا فرما رہے ہیں؟ من جنس ما یعرف بدلیله۔ تو آگے شارح آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں ماتن سے تسامح ہوا ہے۔ یہ اس نفی کی جنس میں سے ہے جو مشتبہ الحال ہو بھئی، کیا ہو؟ ہاں، کیونکہ یہ تیسری قسم کی مثال ہے نہ کہ یہ پہلی قسم کی بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ پہلے ایک مثال گزر گئی جس میں نفی دلیل کے ساتھ تھی تو اب یہ نفی وہ ہے جو مشتبہ الحال ہو۔ تو کہتے ہیں مثال لکون الراوی مم اعتمد علی دلیل المعرفۃ، یہ مثال ہے راوی کے دلیل معرفت پر اعتماد کرنے کی، یعنی وہ نفی جس میں راوی نے کس پر اعتماد کیا ہو؟ دلیل معرفت پر بھئی! یعنی بھئی، نفی تو مشتبہ الحال تھی۔ پھر کیا دیکھا جائے گا اس میں؟ کہ راوی نے دلیل پر اعتماد کیا ہے یا اعتماد نہیں کیا۔ و فی العبارۃ مسامحۃ اور عبارت کے اندر مسامحت ہے۔ و الاولٰی اور اولٰی یہ ہے، مسامحت، عبارت کے اندر کیا ہے؟ مسامحت ہے بھئی، یعنی سستی ہے بھئی، مصنف سے کیا ہو گئی؟ سستی ہو گئی بھئی، کوتاہی ہو گئی! و الاولٰی اور اولٰی یہ ہے ان یقول کہ یوں کہتے و طهارۃ الماء و حل الطعام من جنس ما تشتبہ حاله، اس نفی کی جنس میں سے ہے جس کا حال مشتبہ ہے۔ لیکن اذا عرف ان الراوی اعتمد دلیل المعرفۃ، لیکن جب یہ جانا گیا کہ راوی نے اعتماد کیا ہے کس پر؟ راوی نے کس پر اعتماد کیا ہے؟ دلیل معرفت پر جب اعتماد کیا تو نفی کس کے ساتھ ہوئی؟ دلیل کے ساتھ! تو نفی اسی نفی کی جنس میں سے ہو گئی جس میں جس کو کس کے ذریعے جانا گیا ہے؟ دلیل! اس وجہ سے ماتن نے اس طرح کی عبارت ذکر کر دی بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟
یکون من جنس ما یعرف بدلیله، تو یہ نفی بھی اس نفی کی جنس میں سے ہوئی جس کو دلیل کے ذریعے جانا گیا ہے۔ تو یہ بھی دلیل کے ساتھ ہوئی اس نے ماتن یہ عبارت لائے متن میں۔ و بیانه، بیان اس کا یہ ہے کہ ان الاصل فی الماء الطهارۃ کہ اصل پانی کے اندر طہارت ہے، و فی الطعام الحل اور طعام کے اندر حلال ہونا ہے، و فی الطعام الحل اور طعام میں حلال ہونا ہے، فإذا تعارض مخبران فیہ پس جب متعارض ہوئے اس میں دو خبر دینے والے فقیل احدهما پس ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے انه نجس او حرام کہ یہ کیا ہے؟ نجس ہے اور نجس ہے یا حرام ہے۔ نجس نجاست کو کہتے ہیں اور نجس، یا یوں کہیں، نجس ناپاکی کو کہتے ہیں اور نجس ناپاک کو کہتے ہیں، تو پانی ناپاک ہے یا ناپاکی ہے؟ ناپاک ہے، تو نجس ہے کہیں گے۔ فقیل احدهما پس ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے کہ انه نجس کہ وہ پانی ناپاک ہے، او حرام اس کا تعلق طعام سے ہے، کہتا ہے یا وہ کھانا حرام ہے، فلا شک انه خبر مثبت للامر العارضی، بس اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ خبر جو ہے ثابت کرنے والی ہے کس کو؟ ایک امر، بھئی پانی میں تو اصل ہے پاک ہونا! جو کہہ رہا ہے کہ یہ پانی نجس ہو چکا وہ کس چیز کی، وہ ایک امر زائد کو ثابت کر رہا ہے اور کھانے میں ہے اصل، طعام کے اندر اصل ہے حلال ہونا، جو اس کے حرام ہونے کی خبر دے رہا ہے، یہ ایک امر زائد کو ثابت کر رہا ہے۔ تو فلا شک انه خبر مثبت للامر العارضی، پس اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایسی خبر ہے جو ثابت کرنے والی ہے امر عارضی کو، ما اخبر بہ قائله الا بدلیله خبر نہیں دی اس کی کہنے والے نے مگر دلیل کے ساتھ ہی، وہ یقیناً اس کے پاس کیا موجود ہو گی؟ دلیل موجود ہو گی جبھی وہ ایک امر عارضی کو ثابت کر رہا ہے۔ ثم جاء آخر پھر دوسرا شخص آیا، یقول کہتا ہے کہ انه طاهر او حلال کہ یہ پانی کیا ہے؟ پاک ہے، او حلال یا یہ طعام کیا ہے؟ حلال ہے، فلا بد من ان یتفحص من حاله پس ضروری ہوا کہ تحقیق کی جائے اس کے حال کے بارے میں۔
بھئی، دوسرے نے آ کر کیا کہا؟ پانی پاک ہے، یا کیا کہا؟ وہ طعام حلال ہے۔ تو یہاں دونوں احتمال ہیں بھئی، کیونکہ نفی کس، یہ نفی کر رہا ہے اور نفی کس نفی کی جنس میں سے ہے؟ مشتبہ الحال ہے! پانی میں اصل ہونا پاک ہے، ہو سکتا ہے اسی وجہ سے وہ کیا کہہ رہا ہو کہ یہ پانی پاک ہے۔ یا ہو سکتا ہے اس وجہ سے کہہ رہا ہے پاک کیونکہ یہ خود بھر کر لایا تھا چشمے سے اور اس نے صاف برتن میں رکھا ہے اور اس وقت سے خود نگرانی کر رہا ہے، اس میں کوئی نجاست نہیں ملی بھئی! تو یہ نفی کس نفی کی جنس میں سے ہے؟ جو مشتبہ الحال ہے۔ تو فلا بد من ان یتفحص من حاله پس ضروری ہوا کہ اس راوی کے حال کے بارے میں غور کیا جائے، تحقیق کی جائے، فإن کان خبرہ بمجرد ان الاصل فیہ الطهارۃ پس اگر اس کی خبر محض اس وجہ سے ہے کہ اصل پانی کے اندر طہارت ہے، او الحل یا طعام میں اصل کیا ہے؟ حلت ہے، لم یقبل خبرہ تو اس کی خبر کو قبول نہیں کیا جائے گا، لانه نفی بلا دلیل کیونکہ یہ نفی ہوئی بلا دلیل کے، کیونکہ یہ صرف اصل کے اعتبار سے کہہ رہا ہے۔ فحینئذ کان خبر النجاسۃ و الحرمۃ اولٰی تو اس صورت میں نجاست اور حرمت کی خبر اولٰی ہو گی کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت دلیل کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ نفی تھی، نفی بغیر دلیل کے تھی۔ لانه مثبت نجاست اور حرمت کی خبر اولٰی ہو گی لانه مثبت کیونکہ وہ مثبت ہے۔ و إن کان خبرہ بالدلیل اور اگر اس نافی کی خبر کس کے ساتھ ہوئی؟ دلیل کے ساتھ ہوئی، وهو اور وہ یہ کہ انه اخذه من العین الجاریۃ کہ اس نے اس پانی کو لیا ہے ایک، کس سے؟ جاری چشمے سے، او الحوض العشر فی العشر یا دہ دردہ حوض سے، یعنی ایسا حوض جو دس ذراع چوڑائی ہے اور دس ذراع ہی لمبائی ہے، اس میں سے اس نے لیا ہے، و جعله بنفسہ فی الإناء الطاهر الجديد او الغسیل اور اس نے خود اس کو ڈالا ہے کس میں؟ پاک برتن میں، فی الإناء الطاهر الجديد او الغسیل نئے پاک برتن میں یا دھلے ہوئے پاک برتن میں، بحیث لا یشک فی طہارته اس حیثیت سے کہ اس کو شک نہیں ہے اس کے پاک ہونے میں، اس کے پاس دلیل موجود ہے۔ و لم یفارقه منذ، منذ القی الماء فیہ اور وہ اس سے جدا بھی نہیں ہوا منذ القی الماء فیہ جب سے اس نے اس میں پانی ڈالا ہے، حتی یتوهم یہاں تک کہ یہ وہم کیا جائے انه القی فیہ النجاسۃ احد کہ کسی نے اس میں نجاست ڈالی ہو گی۔ اس وقت سے یہ اسی کے پاس کھڑا ہے، لہٰذا یہ وہم بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کسی نے اس میں نجاست ڈالی، اگر یہ وہاں نہ ہوتا تو پھر یہ وہم کیا جاتا کہ کسی نے اس میں نجاست ڈالی ہے۔ فحینئذ کان هٰذا النفی من جنس ما یعرف بدلیله تو اس صورت میں یہ نفی جو ہے اس نفی کی جنس میں سے ہوئی جس کو دلیل کے ذریعے جانا گیا ہے، جس کو دلیل کے ذریعے جانا گیا ہے، کالنجاسۃ و الحرمۃ جیسے کہ نجاست اور حرمت، جیسے اس کو دلیل کے ذریعے جانا جاتا ہے اس نفی یعنی حلت اور طہارت کو بھی کس کے ذریعے جانا گیا ہے؟ دلیل کے ذریعے! فوقع التعارض بین الخبرین تو تعارض واقع ہوا دو خبروں کے درمیان، فوجب العمل بالاصل تو واجب ہوا عمل کس پر؟ اصل پر عمل، عمل واجب ہوا، وهو الحل و الطهارۃ اور اصل تو کیا ہے؟ حلال ہونا اور پاک ہونا، پھر اس پر عمل کیا جائے گا کیونکہ دونوں خبریں برابر درجے کی ہوئیں تو دونوں ساقط ہو گئیں۔
و قد بالغنا فی تحقیق الامثلۃ حینئذ بما لا مزید علیہ اور ہم نے تحقیق مبالغہ کیا ان مثالوں کی تحقیق کے اندر اس وقت بما لا مزید علیہ اس طور پر کہ اس میں کسی زیادتی کی گنجائش نہیں ہے، پوری تفصیل ہم نے بیان کر دی۔
ثم یقول المصنف، پھر مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: و الترجیح لا یقع بفضل عدد الرواۃ اور ترجیح واقع نہیں ہو گی راویوں کی تعداد کے زیادہ ہونے سے۔ راویوں کی تعداد کے زیادہ ہونے کی وجہ سے خبر کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ ایک خبر کے روایت کرنے والے دو ہیں، دوسری کے روایت کرنے والے تین یا چار ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی، جبکہ دونوں خبریں آحاد ہوں۔ تو کہتے ہیں و الترجیح لا یقع بفضل عدد الرواۃ ترجیح واقع نہیں ہو گی راویوں کی تعداد کے زیادہ ہونے کی وجہ سے، و بالذکورۃ و الانوثۃ اور مذکر اور مونث ہونے کی وجہ سے۔ ایک خبر دینے، ایک خبر کس کی ہے؟ مرد کی ہے اور ایک خبر کس کی ہے؟ عورت کی ہے، تو اس مرد کی خبر کو ترجیح دی جائے ایسا نہیں ہو گا بھئی! تو مذکر اور مونث ہونے کی وجہ سے بھی ترجیح نہیں ہو گی، و الحریۃ اور آزادی کی وجہ سے بھی ترجیح نہیں ہو گی۔ ایک خبر دینے والا غلام ہے، ایک خبر دینے والا آزاد ہے، تو یہ نہیں کہ آزاد کی خبر کو ترجیح ہو گی بھئی، ایسا نہیں ہے۔ یعنی اذا کان فی احد الخبرین المتعارضین کثرۃ الرواۃ و فی الآخر قلتہما، یعنی جب دو متعارض خبروں میں سے ایک کے اندر راوی کثیر ہیں اور دوسری میں راوی قلیل ہیں، او کان راوی احدهما مذکراً و الآخر مونثاً یا ان دو خبروں میں سے ایک کا راوی مذکر یعنی مرد ہے اور دوسرا، دوسری مونث یعنی عورت ہے، او راوی احدهما حراً و الآخر عبداً یا ان دونوں روایتوں میں سے ایک کا راوی جو ہے وہ آزاد ہے اور دوسرا غلام ہے، لم یترجح احد الخبرین علی الآخر بهٰذا المزیۃ تو ترجیح نہیں پائے گی، ترجیح نہیں پائے گی دو خبروں میں سے کوئی ایک بھی دوسری پر بهٰذا المزیۃ اس فضیلت کی وجہ سے۔ اس فضیلت کی وجہ سے ترجیح نہیں پائے گی کہ ایک روایت زیادہ کر رہے ہیں اور ایک کو روایت کم کر رہے ہیں، یا ایک کو مرد روایت کر رہا ہے تو دوسری کو عورت، یا ایک کو غلام روایت کر رہا ہے تو دوسری کو آزاد، تو اس فضیلت کی وجہ سے ترجیح نہیں پائے گی کوئی روایت دوسری پر۔ لان المعتبر فی هٰذا الباب العدالۃ اس لیے کیونکہ معتبر جس کا اعتبار کیا گیا ہے اس باب کے اندر وہ عدالت ہے، و هی لا تختلف بالکثرۃ و الذکورۃ و الحریۃ اور وہ مختلف نہیں ہوتی کثرت کی وجہ سے اور مذکر ہونے کی وجہ سے اور آزاد ہونے کی وجہ سے۔ فإن عائشۃ رضی الله تعالٰی عنها کان افضل من اکثر الرجال پس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ عورت تھیں لیکن کان افضل من اکثر الرجال وہ افضل تھیں، وہ افضل ہیں اکثر مردوں سے، و بلالاً کان افضل من اکثر الحرائر اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ غلام تھے لیکن کان افضل من اکثر الحرائر وہ افضل تھے اکثر آزاد سے، و الجماعت القلیلۃ العادلت افضل من الکثیرۃ العاصیۃ اور تھوڑی سی، چھوٹی سی عادل جماعت جو ہے وہ افضل ہے کثیر نافرمان سے، کثیر نافرمان جماعت سے۔ و فی قوله اور مصنف کے قول جو ہے فضل عدد الرواۃ جو آیا متن میں بھئی! اس کو چاہے آپ اعراب حکائی پڑھ لیں یعنی جس طرح متن میں آیا تھا اسی طرح پڑھ لیں "فضل" لام پر کیا پڑھیں؟ کسرہ، اور چاہے تو اس کو قول کے لیے مقولہ بنائیں اور منصوب پڑھ لیں، و فی قوله فضل عدد الرواۃ اور مصنف کا قول جو ہے فضل عدد الرواۃ جو آیا اس میں اشارۃ اشارہ ہے الٰی ان عدداً لا یترجح علی عدد کہ ایک عدد ترجیح نہیں پاتا دوسرے عدد پر بعد ان کان فی درجۃ الآحاد بعد اس کے کہ جب وہ کس میں سے ہوں؟ درجہ آحاد میں سے ہیں، جب وہ دونوں آحاد میں سے ہیں تو پھر کوئی ایک عدد دوسرے پر ترجیح نہیں پائے گا۔ و اما إن کان فی جانب واحد
وواما ان كان في جانب واحد وفي جانب اثنان، اگر ایک طرف روایت کرنے والا ایک ہے اور دوسری طرف روایت کرنے والے دو ہیں، فترجح خبر اثنين على خبر الواحد، تو دو کی خبر ترجیح پا جائے گی ایک کی خبر پر۔ وقال بعضهم يترجح جهة الكثرة على جانب القلة، بعض کہتے ہیں کہ کثرت کی جہت ترجیح پائے گی کس پر؟ قلت کی جانب پر، یہ کثرت والی جہت ترجیح پا جائے گی۔ تمسكا بما ذكر محمد رحمه الله في مسائل الماء، استدلال کرتے ہوئے امام محمد رحمہ اللہ کے قول سے جو انہوں نے ذکر کیا ہے پانی کے مسائل میں۔
وہ فرم، تھوڑا سمجھ میں آگئی بھئی؟ اس سے استدلال کر کے، ولكنا تركناه بالاستحسان، لیکن ہم نے اس کو ترک کر دیا کس کی وجہ سے؟ استحسان کی وجہ سے بھئی، یعنی قیاس خفی کی وجہ سے۔ متن میں آگیا نا کہ لا يقع بفضل، والترجيح لا يقع بفضل عدد الرواة، تو ہم نے اس کو اختیار کیا ہے۔
وإذا، استحسان جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ قیاس خفی، ایک قیاس جلی ہوتا ہے اور ایک قیاس خفی، یہ بھی قیاس ہے۔ لیکن اس کو استحسان کہتے ہیں بھئی کہ یہ قیاس خفی ہے اور اس میں قیاس کو چھوڑ کر لوگوں کے لیے آسان تر حکم جو ہے اس کو اپنایا جاتا ہے۔
کس صورت کو اختیار کیا جاتا ہے جس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کو استحسان کہا جاتا ہے، استحسان کا معنی ہے پسندیدہ ہونا۔ یہ بھی پسندیدہ ہوتا ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے، ہے یہ بھی قیاس تو یہ قیاس خفی ہے۔
وإذا كانت في احد الخبرين زيادة، اور اگر دو خبروں میں سے ایک میں زیادی ہو، بھئی دو حدیثیں آئیں روایت ایک ہی راوی سے ہیں۔ ایک ہی صحابی کی دو روایتیں ہیں۔ ایک میں ایک دو لفظ زائد ہیں دوسری میں وہ زائد لفظ نہیں ہیں، تو پھر کس کو لیا جائے گا؟ کہتے ہیں مثبت للزیادۃ کو لیا جائے گا، جس میں زائد لفظ ہیں اس روایت کو لیا جائے گا جس میں زائد لفظ نہیں ہیں اس روایت کو نہیں لیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں وإذا كانت في احد الخبرين زيادة، اگر دو خبروں میں سے ایک کے اندر زیادی ہو یعنی زائد لفظ ہوں، فإن كان الراوي واحدا، اگر روایت کرنے والا ایک ہی ہو، يؤخذ بالمثبت للزيادة، تو لیا جائے گا مثبت للزیادۃ کو، لیا جائے گا اس روایت کو جو ثابت کرنے والی ہے زیادی کو، كما في الخبر المروي في التحالف، جیسے کہ وہ خبر جو روایت کی گئی ہے تحالف میں۔
تحالف، دونوں کا باہم قسم کھانا۔ وهو، اور وہ روایت ہے وهو ما روى ابن مسعود رضی اللہ تعالى عنه، وہ جس کو روایت کیا ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے، انه إذا اختلف المتبايعان، کہ جب اختلاف کر لیں دو بیع کرنے والے یعنی بائع اور مشتری، والسلعة قائمة، اس حال میں کہ سلعہ یعنی سامان قائم ہو یعنی موجود ہو۔ سامان موجود ہو مراد ہے مبیعہ یعنی مبیعہ موجود ہو ابھی ہلاک نہ ہوا ہو، تحالفا وترادا، تو دونوں قسم اٹھائیں گے وترادا اور بیع کو فسخ کر دیں گے۔ بیع کو کیا کر دیں گے؟ فسخ کر دیں گے۔
جی، تراد البيع کا معنی ہے ان دونوں نے بیع کو فسخ کر دیا۔ عربی میں کہتے ہیں بھئی ترادا البيعة تثنیہ کے صیغے کے ساتھ، ترادا البيعة، ان دونوں نے بیع کو فسخ کر دیا، یعنی پھر مشتری نے مبیعہ واپس کر دیا اور بائع نے ثمن واپس کر کے دونوں نے بیع کو فسخ کر دیا۔
تو جب سامان، جب مبیعہ موجود ہو تو تحالفا وترادا، تو دونوں قسم اٹھائیں گے وترادا اور بیع کو فسخ کر دیں گے۔ وفي رواية اخرى عنه لم يذكر قوله والسلعة قائمة، اور ان سے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے جو دوسری روایت ہے اس میں ان کا قول والسلعة قائمة یہ ذکر نہیں کیا گیا بھئی۔
تو ایک حدیث اس میں والسلعة قائمة کے لفظ ملتے ہیں، دوسری حدیث میں یہ لفظ موجود نہیں اور روایت کرنے والے ہیں اس حدیث کو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ۔ صورت مسئلہ یہ، کہ ایک شخص نے دوسرے سے بیع کی، ایجاب و قبول ہو گیا۔ لیکن ایجاب و قبول بیع کے ہو جانے کے بعد دونوں میں اختلاف آگیا۔ مشتری کہتا ہے کہ میں نے سو روپے میں آپ سے دو گھڑیاں خریدی تھیں، فرض کرو جو بھی صورت بنا لیں۔
دو گھڑیاں خریدی ہیں، بائع کہتا ہے نہیں، ایک گھڑی خریدی ہے سو روپے میں، تو مبیعہ میں اختلاف آیا۔ یا ثمن میں اختلاف آیا، بائع نے کہا میں نے ایک گھڑی آپ کو پانچ سو میں بیچی ہے، مشتری کہتا ہے نہیں نہیں آپ نے مجھے ایک گھڑی دو سو میں بیچی ہے۔ کس میں اختلاف آیا؟ پہلی صورت اختلاف کس میں تھا؟ مبیعہ میں، دوسری صورت اختلاف کس میں؟ ثمن میں۔ یا دونوں میں اختلاف آتا ہے، مبیعہ میں بھی اور ثمن میں بھی، بائع کہتا ہے میں نے پانچ سو میں دو گھڑیاں آپ کو بیچیں، مشتری کہتا ہے نہیں، آپ نے چار سو میں مجھے تین گھڑیاں بیچیں۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دونوں چیزوں میں اختلاف آگیا، تو اس صورت میں دونوں کو قسم دی جائے گی اور دونوں کو لوٹا دیا جائے گا یعنی بیع کو ختم کر دیا جائے گا۔ دونوں کو قسم دے کر بیع کو کیا کر دیا جائے گا؟ بیع کو ختم کر دیا جائے گا۔
یہ وہ صورت جب گواہ کسی کے پاس بھی نہیں بھئی، اگر گواہ ہیں پھر تو ان پر فیصلہ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں آیا کہ جب دونوں عقد کرنے والوں میں اختلاف واقع ہو، یعنی مبیعہ اور ثمن کے سلسلے میں، ایک کچھ بتلاتا ہے دوسرا کچھ، اور سامان یعنی جس وہ مبیعہ قائم ہو، موجود ہو، ہلاک نہ ہوا ہو۔ ہلاک نہ ہوا ہو، تحالفا وترادا، تو دونوں قسم اٹھائیں گے وترادا اور بیع کو ختم کر دیا جائے گا بھئی۔ اور میں نے بتلایا یہ وہ صورت ہے جب دونوں کے پاس بینہ نہیں ہے بھئی، جبکہ بینہ موجود نہ ہو۔
وفي رواية اخرى عنه لم يذكر قوله، اور دوسری روایت جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے کی گئی، اس میں ان کا یہ قول ذکر نہیں کیا گیا والسلعة قائمة، والسلعة؟ کہ سامان اب یعنی مبیعہ موجود ہو، ابھی ہلاک نہ ہوا ہو، یہ والی قید وہاں دوسری حدیث میں ذکر نہیں۔
تو ایک میں، ایک راوی ایک ہی ہے روایت کرنے والا، ایک خبر میں زیادی ہے دوسری میں زیادی نہیں ہے، فاخذنا بالمثبت للزيادة، پس ہم نے لیا اس روایت کو جو ثابت کرنے والی ہے زیادی کو، وقلنا، اور ہم نے کہا لا يجري التحالف إلا عند قيام السلعة، کہ تحالف جاری نہیں ہوگا یعنی دونوں کا باہم قسم اٹھانا، یہ جاری نہیں ہوگا إلا عند قيام السلعة مگر جس وقت سامان موجود ہو۔ فكان حذف القيد من بعض الرواة لقلة الضبط، تو یہ جو قید محذوف ہے، یہ بعض راویوں کی طرف سے لقلة الضبط، یہ کس وجہ سے ہے؟ قلت ضبط کی وجہ سے معلوم ہوا وہ حدیث کو انہوں نے اچھی طرح ضبط نہیں کیا بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس کو ہم اس پر محمول کر لیں گے، تو ہمارے نزدیک قسم اسی صورت میں دی جائے گی دونوں کو جب مبیعہ موجود ہو، تو دونوں قسم اٹھا لیں گے، یہ مبیعہ مشتری اس بائع کے حوالے کر دے گا اور بائع جو ہے ثمن اس کے حوالے کر دے گا، بیع ختم کر دی جائے گی۔ لیکن اگر مبیعہ ختم ہو چکا، ہلاک ہو چکا، پھر؟ جی؟ پھر کس چیز کو واپس کرتے ہیں بھئی؟ کس طرح بیع کو ختم کیا جائے گا بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ مبیعہ ہے ہی نہیں تو واپس بھی تو کرنا ہے، بیع کو ختم کرنے کے لیے تو کیا ضروری ہے؟ مبیعہ لوٹانا، مبیعہ ہے ہی نہیں بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ مبیعہ نہیں ہے تو پھر دونوں کو قسم نہیں دی جائے گی، پھر بیع کے فسخ ہونے کی صورت ہی باقی نہ رہی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں قسم کیوں اٹھائیں گے بھئی؟ میں نے صورت ذکر کر دی بھئی کہ چاہے اختلاف صرف ثمن میں ہو، چاہے اختلاف مبیعہ میں ہو، چاہے اختلاف دونوں چیزوں میں ہو۔ تینوں صورتوں کے اندر دونوں قسم اٹھائیں گے اور بیع کو فسخ کر دیا جائے گا بھئی۔
تو اب سوال پیدا ہوا کہ یہ دونوں قسم کیوں اٹھائیں گے؟ کیونکہ قسم اور بینہ کے بارے میں آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کہ بینہ اثبات والے پر آتی ہے، جو اثبات کر رہا ہو اس کے ذمے بینہ ہوتی ہے اور قسم منکر کے ذمے ہوتی ہے جو انکار کرنے والا ہو، جو دوسرے کے دعوے کا انکار کرنے والا ہو اس پر قسم آیا کرتی ہے۔
تو جواب یہ، یہاں دونوں پر قسم اس لیے آئے گی کہ ان دونوں میں سے ہر ایک من وجہ مدعی ہے تو من وجہ منکر ہے۔ بعض اعتبارات سے بائع جو ہے وہ مدعی ہے اور دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ منکر ہے۔ اسی طرح مشتری جو ہے وہ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو مدعی ہے دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو منکر، تو دونوں میں سے ہر ایک منکر ہوا اور منکر پر کیا آیا کرتی ہے؟ قسم، اس وجہ سے دونوں قسم اٹھائیں گے اور بیع کو فسخ کر دیا جائے گا۔
اب کس طرح دونوں میں سے ہر ایک مدعی ہے اور کس طرح دونوں میں سے ہر ایک منکر ہے اس کو سمجھ لیں بھئی۔ بھئی دیکھیے مثلاً پہلی صورت کہ بائع صرف ثمن میں اگر اختلاف آیا، مشتری مثلاً کہتا ہے کہ اس نے مجھے یہ ایک کتاب سو روپے میں فروخت کی ہے، اور بائع کہتا ہے کہ یہ کتاب میں نے اسے دو سو روپے میں فروخت کی، تو اختلاف صرف کس میں؟ صرف ثمن میں آیا۔ تو یہاں دیکھیے دونوں مدعی بھی ہیں اور دونوں منکر بھی ہیں۔
بائع کہہ رہا ہے کہ اس نے مجھ سے یہ کتاب دو سو روپے میں خریدی، تو وہ عقد جو دو سو پر ہوا ہو، وہ الگ ہے، الگ۔ مشتری دوسری طرف سے کہہ رہا ہے کہ یہ عقد کتنے پر ہوا ہے؟ سو، تو یہ عقد ہے الگ بھئی۔ وہ الگ عقد کا مدعی ہے بائع، اور مشتری الگ عقد کا مدعی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو دونوں میں سے ہر ایک مدعی ہے۔ بائع کہہ رہا ہے کہ عقد جو ہے وہ اتنے پر ہوا، دو سو پر ہوا، مشتری کہہ رہا ہے کہ عقد سو پر ہوا، تو دونوں مدعی ہیں بھئی۔
اور دونوں میں سے ہر ایک منکر بھی ہے، مشتری بائع کے دعوے کا انکار کر رہا ہے کہ دو سو پر یہ عقد نہیں ہوا، اور بائع مشتری کے عقد کا انکار کر رہا ہے کہ سو پر یہ عقد نہیں، تو دونوں منکر بھی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا اس وجہ سے دونوں پر قسم آئے گی۔ تو جیسے اس کے اندر اختلاف تھا ثمن کے اندر، مبیعہ میں اختلاف ہو تو بھی اسی طرح ہوگا، گویا ہر ایک الگ عقد کا مدعی ہے اور دوسرے کے دعوے کا منکر ہے۔ اور اگر دونوں میں چیزوں میں اختلاف ہو، ثمن میں بھی اور مبیعہ میں بھی، تو اس صورت میں بھی اسی طرح ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس وجہ سے دونوں پر قسم آئے گی بھئی دونوں پر۔
وإذا اختلف الراوي، اور جب راوی مختلف ہو، فيجعل كالخبرين، تو ان دو حدیثوں کو دو حدیثوں کی طرح ہی قرار دیا جائے گا۔ اگر راوی ایک ہی تھا، ایک حدیث میں کچھ لفظ زائد ہیں تو اس کو ایک ہی حدیث سمجھا جائے گا، آپ نے ابھی پڑھا، اور کس پر عمل کیا جائے گا؟ مثبت للزیادۃ جو ہے اس روایت پر عمل کیا جائے گا۔ لیکن اگر راوی الگ الگ ہیں تو پھر ان کو دو حدیثوں کی طرح ہی سمجھا جائے گا کیونکہ روایت کرنے والے صحابی الگ ہیں تو الگ الگ حدیثیں ہیں، ويعمل بهما، اور دونوں پر عمل کیا جائے گا، كما هو مذهبنا، جیسے کہ ہمارا مذہب ہے، في ان المطلق لا يحمل على المقيد في حكمين، کہ مطلق کو محمول نہیں کیا جائے گا مقید پر دو حکموں کے اندر بھئی۔
ایک مطلق ہے تو مطلق کو اس کے اطلاق پر باقی رکھیں گے اور مقید کو اپنی تقیید پر بھئی، كما روي، جیسے روایت کیا گیا ہے، انه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع الطعام قبل القبض، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا عن بيع الطعام، طعام، طعام فقہاء کی کتابوں میں آئے تو اس کا اطلاق اس سے مراد جو ہے وہ گندم ہوتی ہے عموماً بھئی، کیا مراد ہوتی ہے؟ گندم بھئی۔
جی، جیسے کہ روایت کیا گیا ہے انه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع الطعام، تو غلے کے معنی میں کر لیں کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا غلے کی بیع سے، یا یوں ترجمہ کر لیں، گندم کی بیع سے قبل القبض، قبضے سے پہلے۔ وروي، اور روایت کیا گیا ہے نهى عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض، کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا اس چیز کے بیچنے سے لم يقبض جس پر قبضہ نہیں کیا۔
بھئی دیکھیے آپ نے زید سے گاڑی خریدی اور گاڑی خرید کر ابھی اس نے آپ کے حوالے نہیں کی، گاڑی اس کے گیراج میں کھڑی ہے، اس نے کہا میں آپ کو کل حوالے کر دوں گا بھئی۔ تو بیع ہو گئی، اور اب آپ آئے اور آپ نے آکر وہی گاڑی آگے عمر کو آپ بیچنا چاہتے ہیں، یاد رکھیے جب تک وہ گاڑی پر آپ قبضہ نہیں کر لیتے اس وقت تک آپ کے لیے آگے بیچنا جائز نہیں۔ وجہ یہ، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے گاڑی آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو جائے، جب پہلے ہی ہلاک ہو گئی تو آپ نے تو آگے بیع کر رکھی تھی اس مشتری کے ساتھ تو دھوکہ ہو گیا بھئی۔ وہ تو مطمئن ہو گیا تھا کہ اب چیز میں نے خرید لی ہے مل جائے گی، لیکن اس کے ساتھ کیا ہو گیا؟ دھوکہ، اس لیے جائز نہیں بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ کہ جب تک انسان کسی چیز کو خریدنے کے بعد اس پر قبضہ نہ کر لے، آگے اس کے لیے اسے بیچنا جائز نہیں ہے۔ اب اس بارے میں دو حدیثیں آتی ہیں، ایک حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ غلے کو خریدنے کے بعد جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے اس کو آگے بیچنا جائز نہیں، اور بعض روایتوں میں آتا ہے مطلق آتا ہے کہ جب بھی کوئی چیز خرید و، جب بھی کوئی چیز خریدی ہو تو جب تک قبضہ نہ کیا ہو اس کو آگے بیچنے کے، بیچنا جائز نہیں ہے۔
تو ایک حدیث مقید ہے، اس میں صرف غلے کا ذکر، ایک حدیث مطلق ہے، اس میں غلے کی قید نہیں ہے، مطلق ہے۔ تو اور راوی الگ الگ ہیں، تو ان کو دو حدیثیں الگ الگ ہی شمار کیا جائے گا اور ایک مطلق ہے مقید ہے، ہمارے نزدیک دونوں پر عمل کیا جائے گا جس قدر حد تک عمل ہو سکے۔ تو یہاں پر ہم نے حکم چنانچہ لگا دیا کہ ہر چیز کے اندر یہی حکم ہے۔
ہر چیز کے اندر یہی حکم ہے کہ خریدنے کے بعد جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو، اسے آگے بیچنا جائز نہیں۔ اب اس کے اندر غلہ بھی آگیا اور چیزیں بھی آگئیں، تو دونوں حدیثوں پر عمل ہو گیا۔
حدیثیں دیکھ لیں بھئی آپ نے؟ کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے غلے کی بیع سے قبضے سے پہلے، اور روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اس چیز کے بیچنے سے جس پر قبضہ نہ کیا ہو، فلم يقيد بالطعام، تو یہ حدیث مقید نہیں ہے طعام کے ساتھ، وقلنا، تو ہم نے کہا لا يجوز بيع العروض قبل القبض، کہ عروض جمع ہے عرض کی، سامان کو کہتے ہیں، کہ سامان کو بیچنا جائز نہیں ہے قبضے سے پہلے، كما لا يجوز بيع الطعام قبله، جیسے کہ غلے کی بیع جائز نہیں ہے قبضے سے پہلے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ہم نے دونوں پر عمل کیا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔