درس نمبر۔113
ولما فرغ عن بيان التعليلات الصحيحة والفاسدة شرع في بيان ما يؤتى التعليل لأجله صحيحا وفاسدا، فقال: وجملة ما يعلل له أربعة إلا أن الصحيح عندنا هو الرابع على ما سيأتي. وقال بعض الشارحين: إنه بيان لحكم القياس بعد الفراغ من شرطه وركنه، وهو خطا فاحش.
ولما فرغ عن بيان التعليلات الصحيحة والفاسدة، اور جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے تعلیلاتِ صحیحہ وفاسدہ کے بیان سے۔ تعلیلاتِ صحیحہ اور فاسدہ بیان ہوئیں بھئی، ہمارے نزدیک تعلیل کس طرح صحیح ہے اور پھر وہ کچھ صورتیں ذکر ہوئیں جو ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہیں بلکہ فاسد ہیں، جیسے طرد آیا، تعلیل بالنفی آئی، اسی طرح استصحابِ حال اور اسی طرح استدلال کرنا وصفِ مختلف فیہ سے وغیرہ بھئی۔ تو جب مصنف رحمہ اللہ ان تعلیلاتِ صحیحہ وفاسدہ کے بیان سے فارغ ہوئے شرع في بيان ما يؤتى التعليل لأجله، تو شروع ہوئے اس چیز کے بیان میں کہ لائی جاتی ہے جس کے لیے تعلیل، اس چیز کے بیان میں شروع ہوئے جس کے لیے تعلیل لائی جائے یعنی تعلیل کی جائے صحیحا وفاسدا، صحیح ہو اور فاسد۔ یعنی چاہے وہ صحیح ہو یا فاسد، کن کن چیزوں کے لیے تعلیل کی جاتی ہے سب بیان کریں گے۔ صحیح کو بھی ذکر کریں گے اور فاسد کو بھی ذکر کریں گے کہ ان ان چیزوں کے لیے تعلیل کی جاتی ہے۔ لیکن ان میں سے صرف ایک صورت ہمارے نزدیک صحیح ہے، باقی صورتیں صحیح نہیں، فاسد ہیں بھئی۔
فقال، پس مصنف نے فرمایا: وجملة ما يعلل له أربعة، اور وہ جملہ چیزیں جن کے لیے تعلیل کی جاتی ہے چار ہیں۔ وہ چیزیں کل، وہ چیزیں سب کے سب کتنی ہیں؟ چار ہیں جن کے لیے تعلیل کی جاتی ہے۔ إلا أن الصحيح عندنا هو الرابع على ما سيأتي، مگر یہ کہ صحیح ہمارے نزدیک وہ چوتھی ہی ہے صرف، بناء بر اس کے جو عنقریب آ جائے گا۔ بھئی چار قسمیں ذکر کریں گے، چار چیزیں جن کے لیے تعلیل کی جاتی ہے، اور ان چار میں سے صرف چوتھی قسم ہمارے نزدیک صحیح ہے، باقی قسمیں فاسد ہیں، صحیح نہیں ہیں بھئی۔
وقال بعض الشارحين، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ یہ جو متن میں آیا نا وجملة ما يعلل له أربعة، بعض شارحین نے یہاں اپنی شروحات میں لکھا کہ یہاں سے صاحبِ منار جو ہیں وہ قیاس کا حکم بیان کر رہے ہیں۔ بعض شارحین نے کیا کہا؟ کہ یہ مصنف یہاں سے قیاس کا حکم بیان کر رہے ہیں بھئی۔ قیاس کی تعریف بھی کر دی، لغوی بھی، شرعی بھی، اس کے شرائط بھی ذکر کر دیں، اس کا رکن بھی ذکر کر دیا، اب قیاس کا حکم بیان کرنے لگے ہیں، یہ بعض شارحین نے شروحات میں لکھا بھئی۔
تو شارح، یعنی صاحبِ نور الانوار فرماتے ہیں کہ یہ ان شارحین کی زبردست غلطی ہے۔ یہ قیاس کا حکم نہیں بیان ہو رہا، قیاس کا حکم تو آگے آ جائے گا باقاعدہ صراحتًا مصنف کہیں گے وحكمه الإصابة بغالب الرأي، وحكمه الإصابة بغالب الرأي، کہ قیاس کا حکم جو ہے وہ غالبِ رائے کے ساتھ درست ہونا ہے۔ تو باقاعدہ صراحتًا وہ بیان کریں گے حکم کو، تو یہ قیاس کا حکم نہیں بیان ہو رہا، جنہوں نے اس کو قیاس کا حکم قرار دیا ہے انہوں نے بڑی غلطی کی ہے۔
کہتے ہیں: وقال بعض الشارحين، اور کہا بعض شارحین نے کہ إنه بيان لحكم القياس، کہ یہ حکمِ قیاس کا بیان ہے بعد الفراغ من شرطه وركنه، بعد فارغ ہو جانے کے قیاس کی شرط اور رکن سے وهو خطا فاحش، اور یہ سخت غلطی ہے۔ خطا فاحش، سخت غلطی، زبردست غلطی۔ وهو خطا فاحش، اور یہ سخت غلطی ہے بل بيان حكمه الذي سيجيء فيما بعد، بلکہ قیاس کے حکم کا بیان تو وہ جو عنقریب آ جائے گا بعد میں في قوله، مصنف کے اس قول کے اندر وحكمه الإصابة بغالب الرأي، اور قیاس کا حکم جو ہے وہ درستگی ہے غالبِ رائے کے ساتھ۔ یعنی قیاس کا حکم یہ ہے کہ غالبِ گمان یہی ہو کہ یہ درست ہے بھئی، کیونکہ قیاس کے ذریعے یقینی علم تو حاصل نہیں لیکن ظنی علم حاصل ہو جاتا ہے بھئی۔ غالبِ گمان یہی ہے کہ یہ صحیح ہے بھئی۔
وهذا بيان ما ثبت بالتعليل، اور یہ بیان ہے اس چیز کا جو ثابت ہو تعلیل کے ذریعے، یعنی وہ چیزیں جو تعلیل سے ثابت ہوں، جن کے ذریعے تعلیل کی جائے، یہ ان چیزوں کا بیان ہے، قیاس کے حکم کا بیان نہیں ہے۔
جی چار چیزیں ذکر کریں گے جن کے لیے تعلیل کی جاتی ہے، صرف متن متن پہلے دیکھ لیجیے: الأول إثبات الموجب أو وصفه، پہلی چیز بھئی تعلیل کے ذریعے کس لیے کی جاتی ہے؟ موجب کو ثابت کرنے کے لیے، موجب یعنی مثبت، اور مثبت کیا ہے؟ حکم کو کیا چیز ثابت کرتی ہے؟ علت، کیا چیز ثابت کرتی ہے؟ علت، تو موجب سے کیا مراد ہوا؟ علت۔ تو کہتے ہیں تعلیل کی جاتی ہے سب سے پہلے نمبر پر کس کو ذکر کیا؟ إثبات الموجب أو وصفه، موجب یعنی علت کو ثابت کرنا أو وصفه یا وصفِ موجب یعنی وصفِ علت کو ثابت کرنا۔
تعلیل بھئی علت بیان کی جائے گی کس کے، کس وقت، کس کے لیے تعلیل کیوں کی جائے گی؟ مقصد کیا ہوگا تعلیل کرنے کا؟ حکم کی علت بیان کرنا، حکم کی علت ثابت کرنا۔ تعلیل کا مقصد کیا ہوگا؟ حکم کی علت ثابت کرنا، أو وصفه یا علت کا وصف ثابت کرنا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
جیسے امام شافعی رحمہ اللہ ربا کے اندر، باب الربا میں، انہوں نے ذہب اور فضہ سے کیا علت اخذ کی؟ ثمنیت اخذ کی۔ اب ثمنیت تو وہ تو صرف سونے اور چاندی میں بند ہے، خلقتًا پیدائش کے اعتبار سے صرف یہی دونوں ثمن ہیں، یعنی ان کو اللہ نے بنایا ہی بطورِ ثمن کے، پیدا ہی بطورِ ثمن کے فرمایا، اور یہ ثمنیت صرف ان کے اندر ہے اور کسی چیز میں ہے ہی نہیں۔ تو یہاں حکم تو متعدی نہیں ہو رہا کسی طرف بھی، صرف کیا کیا جا رہا ہے؟ تعلیل کی گئی، تعلیل کس لیے کی گئی؟ حکم کی علت بتلانے کے لیے کہ اس حکم یعنی سونے اور چاندی میں ربا حرام، ربا حرام ہے کس وجہ سے؟ ثمنیت کی وجہ سے، کس وجہ سے؟ تو دیکھو یہ تعلیل کی، علت بیان کی، اور کس علت کے ذریعے کیا ثابت کیا؟ حکم کی علت ثابت کی، یہ حکم کی علت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تعلیل بیان کی، تعلیل کا مقصد کیا تھا؟ کس لیے تعلیل کی؟ صرف حکم کا، حکم کی علت بیان کی، قیاس نہیں بھئی، اور کسی چیز میں ثمنیت ہے ہی نہیں کہ وہاں پر بھی ہم پھر یہ حکم لگائیں، تو یہ صرف انہوں نے کیا کیا؟ صرف حکم کی علت بیان کی تعلیل کے ذریعے، تعلیل کے ذریعے، آگے آپ کو بتلائیں گے ہمارے نزدیک یہ تعلیل صحیح نہیں۔ تعلیل کی جائے گی صرف حکم کو متعدی کرنے کے لیے، اور یہاں تو حکم متعدی ہو نہیں رہا، جب حکم متعدی نہیں ہو رہا تو تعلیل بھی صحیح نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے کہ وہ مجموعہ چیزیں جن کے لیے قیاس کیا جاتا ہے وہ چار ہیں: الأول إثبات الموجب أو وصفه، پہلی قسم جو ہے وہ موجب یعنی علت کو ثابت کرنا أو وصفه یا وصفِ موجب یعنی علت کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے تعلیل کرنا، پہلی قسم۔ والثاني إثبات الشرط أو وصفه، اور دوسری قسم شرط کو ثابت کرنا یا شرط کے وصف کو ثابت کرنا، تعلیل کرنے کا مقصد کیا ہوگا؟ حکم کی شرط ثابت کی جائے گی تعلیل کے ذریعے یا شرط کا وصف ثابت کیا جائے گا۔ والثالث إثبات الحكم أو وصفه، تیسری قسم ہے حکم کو ثابت کیا جائے گا یا حکم کے وصف کو ثابت کیا جائے گا۔ تیسری قسم کیا ہے؟ تعلیل کے ذریعے کیا مقصد ہوگا؟ حکم کو ثابت کیا جائے گا یا حکم کے وصف کو ثابت کیا جائے گا۔
اور بتلائیں گے یہ تینوں ہمارے نزدیک درست نہیں۔ نہ علت کے لیے تعلیل صحیح، نہ علت کے وصف کے لیے تعلیل صحیح، نہ شرط کے اثبات کے لیے تعلیل صحیح، نہ شرط کے وصف کے اثبات کے لیے تعلیل صحیح، نہ حکم کے اثبات کے لیے تعلیل صحیح، نہ حکم کے وصف کے اثبات کے لیے تعلیل... ہمارے نزدیک بتلائیں گے آپ کو آگے، صرف تعدیہ کے لیے تعلیل صحیح ہے، حکم کو متعدی کرنے کے لیے تعلیل کرنا، کسی حکم کی علت بیان کرنا تاکہ اسی علت کی بناء پر پھر اس حکم کو متعدی کر کے کسی دوسری چیز کو بھی دیا جائے، فرع کو بھی دیا جائے، صرف اس مقصد کے لیے تو تعلیل صحیح ہے، کسی چیز کی علت بیان کرنا، باقی چیزوں کے لیے تعلیل صحیح نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: الأول إثبات الموجب أو وصفه، پہلی قسم جو ہے وہ موجب یعنی علت کو ثابت کرنا أو وصفه یا وصفِ موجب یعنی علت کے وصف کو ثابت کرنا، أي إثبات أن الموجب للحرمة أو وصف، أن الموجب للحرمة أو وصفه هذا، یعنی یہ ثابت کرنا کہ حرمت کی علت یا اس موجب للحرمۃ کا وصف، حرمت بھئی دیکھیے، حرمت ایک حکم ہے نا؟ اس کے لیے کیا چاہیے؟ علت، تو تعلیل کے ذریعے حرمت کی علت بیان کرنا یا حرمت کے علت کا وصف بیان کرنا، تعلیل کے ذریعے حرمت کی علت، یہ بطورِ مثال کے ہے، حکم مثلاً ایک حکم حرمت بھی ہے، تو اس حرمت کے علت بیان کرنا یا حرمت کے علت کے وصف کو بیان کرنا۔
تو یہ معنی ہے أي إثبات أن الموجب للحرمة أو وصفه هذا، یعنی یہ ثابت کرنا کہ حرمت کی علت یا حرمت کے وصفه، کی ھا ضمیر کس کو لوٹائی؟ الموجب للحرمة کو بھئی، کہ تو کہ وصف جو ہے یہ، یعنی یہ ثابت کرنا کہ أن الموجب للحرمة أو وصفه هذا، کہ موجب للحرمۃ یا موجب للحرمۃ کا وصف هذا، وہ یہ ہے۔ والثاني إثبات الشرط أو وصفه، دوسری قسم جو ہے وہ ثابت کرنا شرط کو یا اس شرط کے وصف کو، أي إثبات أن شرط الحكم أو وصفه هذا، یعنی یہ ثابت کرنا کہ حکم کی شرط یا شرط کا وصف یہ ہے۔ والثالث إثبات الحكم أو وصفه، اور تیسری قسم وہ حکم کو ثابت کرنا یا حکم کے وصف کو ثابت کرنا، أي إثبات أن هذا حكم مشروع أو وصفه، أي إثبات أن هذا حكم مشروع أو وصفه، یعنی یہ ثابت کرنا کہ یہ ہے حکمِ مشروع یا یہ اس حکم کا وصف ہے۔ فلا بد هاهنا من أمثلة ست، پس ضروری ہوا یہاں پر، پس ضروری ہوئی یہاں پر چھ مثالیں۔
چھ مثالوں کا ذکر کرنا ضروری ہوا مصنف پر، کیونکہ مصنف نے بتلایا کہ تعلیل جو ہے، تعلیل چار چیزیں کل بیان کریں گے، چار میں سے یہ پہلے تین فاسد ہیں اور چوتھی صحیح، اور ان تین کے اندر کیا بیان ہوا؟ پہلے کے اندر تعلیل کرنا موجبِ حکم کے لیے یا اس موجب کے وصف کے لیے، تو دیکھو دو قسمیں ہو گئیں، موجب کے لیے تعلیل کرنا یا موجب کے وصف کے لیے تعلیل کرنا۔ دوسری قسم میں آیا تھا شرط کے لیے تعلیل کرنا یا شرط کے وصف... تو یہ بھی دو چیزیں ہو گئیں، ایک کبھی شرط کے لیے تعلیل ہوگی، کبھی شرط کے وصف کے لیے تعلیل ہوگی۔ تیسری قسم میں آیا تھا کہ کبھی تعلیل ہوگی حکم کے لیے یا حکم کے وصف... تو یہ بھی دو چیزیں ہو گئیں، ایک حکم کے لیے کبھی ہوگی اور کبھی حکم کے وصف... تو چھ چیزیں ہو گئیں، تو لہٰذا مصنف پر ضروری ہوا کہ اب ان چھ کی مثالیں بیان کرے، چنانچہ وہ چھ مثالیں بیان کریں گے آگے بھئی۔
فلا بد هاهنا من أمثلة ست، پس ضروری ہوئی یہاں پر چھ مثالیں، وقد بينها بالترتيب، اور تحقیق بیان کیا ان کو چھ مثالوں کو مصنف نے ترتیب سے، یعنی پہلے موجب کے اثبات کے لیے تعلیل کی گئی ہو، پھر وصفِ موجب کے اثبات کے لیے تعلیل کی گئی ہو، پھر اس کے بعد اثباتِ شرط کے لیے تعلیل، پھر اس کے بعد وصفِ شرط کے لیے تعلیل، اس کے بعد اثباتِ حکم کے لیے تعلیل اور اس کے بعد وصفِ حکم کے لیے تعلیل، سب کی مثالیں بیان کر رہے ہیں۔ فقال، پس فرمایا: كالجنسية لحرمة النساء، جیسے کہ جنس ہونا، جنس کے آخر میں یہ یائے مشدد اور تا لگا دی گئی بھئی، یاد رکھیے یہ کسی لفظ سے مصدر بنانے کے لیے صفت کے آخر میں کیا کر دیا جاتا ہے؟ یائے مشدد اور تا لگا دی جاتی ہے تو وہ مصدر بن جاتا ہے، جنسیت کا کیا معنی؟ جنس ہونا، جنسیت کا کیا معنی؟ جنس ہونا، مصدر بن گیا۔ كالجنسية لحرمة النساء، جیسے کہ جنسیت ادھار کے حرام ہونے کے لیے۔
جیسے کہ ادھار کے حرام ہونے کے لیے جنس ہونا، بھئی ادھار کے حرام ہونے کے لیے جنس کا علت ہونا۔ بھئی آپ نے پڑھا ربا کی تفصیل گزر گئی، کہ ہمارے نزدیک ربا کی علت کیا ہے؟ جنس اور قدر ہے، اور صرف جنس ہو یا صرف قدر ہو تو پھر تفاضل جائز ہے لیکن ادھار حرام، معلوم ہوا صرف جنس ہونا یہ علت ہے ربا، ادھار کے حرام ہونے کی۔ صرف جنس ہونا یہ علت ہے ادھار کے حرام ہونے کی، مثلاً آپ چاول کے بدلے گندم بیچتے ہیں اور دونوں مثلاً وزنی چیزیں ہیں، دونوں کا وزن کیا جاتا ہے تو قدر آ گئی، جنس تو نہیں، ایک طرف تو چاول ہیں دوسری طرف گندم، تو صرف قدر ہے، تو اس صورت میں کیا ضروری؟ کمی بیشی کی اجازت ہے لیکن ادھار نہیں ہونا چاہیے بلکہ نقد ہونا چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ جنس ہونے کے لیے جیسے ادھار، جنس ہونا ادھار کی حرمت کے لیے، یعنی ادھار کی حرمت کے لیے جنس ہونا، جنس ہونے کی تعلیل بھئی، ادھار کے لیے کیا علت بیان کی گئی؟ کیا تعلیل کی گئی ادھار کے حرام ہونے کے لیے؟ جنس کو بیان کیا گیا کہ یہ اس کی علت ہے۔
یاد رکھیے بھئی! کیا بیان کر رہے ہیں یہ؟ کہ وہ، ان چیزوں کا بیان جن کے لیے تعلیل کی جاتی ہے، اور وہ صحیح بھی ہو سکتی ہیں اور وہ تعلیل اور فاسد بھی ہو سکتی ہے بھئی، ہمارے نزدیک تعلیل صرف کون سی صحیح؟ جو صرف تعدیہ کے لیے ہو، حکم کو متعدی کرنے کے لیے ہو بھئی، اس کے علاوہ باقی کوئی بھی تعلیل ہمارے نزدیک صحیح نہیں، علت کے اثبات کے لیے تعلیل صحیح نہیں کہ یہ اس چیز، یہ اس حکم کی علت ہے، یہ اس حکم کی علت ہے۔
تو یہاں انہوں نے کیا بیان کیا؟ ادھار کے حرام ہونے کے لیے جنس ہونا، تو ادھار کے حرام ہونے کے لیے کیا علت بیان کی؟ جنس، ایک علت کیا بیان کی؟ جنس، کہ جنس جب پائی جائے تو ادھار حرام ہے۔
یہ تعلیل ہے۔ یہ کیا ہے؟ تعلیل۔ اور تعلیل کرنا یہ صرف علت حکم کے اندر ہے۔ یہ دیکھو یہ موجب ہے۔
یہ جنسیت کیا ثابت کر رہی ہے؟ کس چیز کے واجب کر رہی ہے؟ حرمت کو واجب کر رہی ہے ادھار کے اندر۔ تو یہ پہلی قسم ہے، اثبات موجب ہے یہاں، اثبات علت کے اندر ہے بھئی، اثبات علت کے اندر۔ اثبات علت کے اندر بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے کہ جنس اکیلی، کیا وہ ادھار کے حرام ہونے کے لیے علت ہے یا علت نہیں؟ توجہ ہے سب کی طرف؟ جنس اکیلی، یہ ادھار کے حرام ہونے کے لیے علت ہے یا علت نہیں ہے؟
تو یہاں اختلاف آیا موجب کے اندر۔ کس کے اندر آیا؟ یعنی علت کے اندر اختلاف آیا کہ جنس ہونا جنس، یہ علت ہے حرام ہونے کے لیے یا علت نہیں ہے؟ تو کس چیز میں اختلاف آیا؟ موجب کے اندر بھئی۔ اور جب تو یہ اختلاف موجب میں ہے، لہٰذا اس میں قیاس کے ذریعے تکلم کرنا جائز نہیں۔ اس کے لیے تعلیل کرنا صحیح نہیں۔
توجہ ہے سب کی طرف؟ اس کے لیے، اس بارے میں قیاس کے ذریعے تکلم کرنا صحیح نہیں۔ یعنی رائے اور عقل کا اس میں دخل نہیں۔ رائے اور عقل کا اس میں دخل نہیں، اس میں عقل اور رائے کے ذریعے کلام نہیں کیا جا سکتا، اس کے اندر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی کہ رائے یا قیاس کے ذریعے آپ کیا کہہ دیں کہ ادھار کے حرام ہونے کی علت کیا ہے؟ جنس ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: "مثال لاثبات الموجب"، یہ مثال ہے موجب کے اثبات کی، یعنی اس کے لیے جو تعلیل کی گئی۔ "فاثبات ان الجنسية وحدها موجبة لحرمة النساء"، پس یہ بات ثابت کرنا کہ جنسیت اکیلی، یہ ثابت کرنے والی ہے ادھار کی حرمت کو، "مما"، یہ ان چیزوں میں سے ہے، "لا ينبغي ان يثبت بالرأي والتعليل"، کہ مناسب نہیں ہے کہ اس کو ثابت کیا جائے رائے اور تعلیل کے ذریعے۔
تعلیل کی جا رہی ہے کس چیز کے ذریعے؟ کس چیز کے لیے تعلیل کی جا رہی ہے؟ علت کو ثابت کرنے کے لیے تعلیل کی جا رہی ہے اور یہ ان چیزوں میں سے ہے، حکم کی علت بیان کی جا رہی ہے تعلیل کے ذریعے اور حکم کی علت تعلیل کے ذریعے یعنی قیاس کے ذریعے بیان نہیں کی جا سکتی۔ مناسب ہی نہیں ہے کہ اس کے اندر قیاس کیا جائے، اس کو رائے کے ذریعے ثابت کیا جائے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ توجہ ہے پورے سبق کی طرف؟
اس پر اب احناف پہ اشکال ہوا۔ کہ آپ نے جنس کو ادھار کے حرام ہونے کے لیے علت بنایا یا نہیں بنایا؟ جی؟ بنایا۔ آپ نے جنس کو ادھار کے حرام ہونے کے لیے علت قرار دیا ہے اور خود ہی تقریر کر رہے ہیں کہ یہاں پر تعلیل صحیح نہیں۔ اس میں رائے اور قیاس کا دخل نہیں، کیونکہ کس چیز کو ثابت کیا جا رہا ہے؟ علت کو ثابت کیا جا رہا ہے اور علت کو ثابت کرنے کے لیے قیاس اور رائے صحیح نہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟
تو جواب دیں گے آپ کو بھئی، کہ بھئی ہم نے جو جنس کو ادھار کے حرام ہونے کے لیے علت قرار دیا، وہ ہم نے رائے اور قیاس کے ذریعے کب دیا ہے؟ ہم یہی تو بات کر رہے ہیں کہ رائے اور قیاس کے ذریعے کسی وصف کو، کسی حکم کی علت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہم نے بھی یہاں جنس کو حرمت، حرمت النساء کے لیے قیاس اور رائے کے ذریعے علت نہیں بنایا، بلکہ اشارۃ النص سے ہم نے اس کو علت قرار دیا ہے۔ نص کے اندر اس طرف اشارہ کیا تھا اور جو چیز اشارۃ النص سے ثابت ہو، وہ بھی کیا ہے؟ نص ہی سے ثابت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
بھئی دیکھیے، تفصیل یہ ہے کہ یہ جو ربا کا باب ہے، اس ربا کے باب میں شبہ ربا بھی حقیقت ربا کی طرح ہے۔ توجہ سے سننا بھئی، قیمتی بات بیان کر رہا ہوں۔ ربا کے باب میں شبہ ربا بھی حقیقت ربا کی طرح ہے۔ کیا بات میں نے کہی؟ ربا کے باب میں شبہ ربا بھی حقیقت ربا کی طرح ہے۔ ہاں، یہاں جیسے حقیقت ربا سے بچنا ضروری، شبہ ربا سے بھی بچنا ضروری۔ جیسے حقیقت ربا حرام ہے، اسی طرح شبہ ربا بھی حرام ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ربا کے باب میں شبہ ربا بھی حقیقت ربا کی طرح ہے۔
آپ دیکھتے نہیں، اندازے سے بیچنے کو حرام قرار دیا گیا ربا کے اندر۔ اندازے کے ساتھ بیچنا حرام۔ میرے پاس بھی ایک بوری گندم پڑی ہے، آپ کے پاس بھی ایک بوری گندم پڑی ہے۔ بھئی بوریاں بھی ایک جیسی ہیں، دیکھنے میں بھی لگ رہا ہے یہ دونوں برابر ہیں۔ دیکھنے میں دونوں کیا لگ رہی ہیں؟ برابر لگ رہی ہیں۔ میں آپ کے ساتھ، میری اپنی ایک بوری گندم، آپ کے پاس بھی ایک بوری گندم، اب ہم ان کی آپس میں بیع کرنا چاہتے ہیں۔ شریعت اجازت دے گی اس طرح؟ شریعت اجازت نہیں دے رہی۔
اب یہاں دیکھو، بوری کے دیکھنے کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں، لیکن شبہ ربا ہے یا نہیں؟ شبہ ہے، اور شبہ ربا بھی کس کی طرح ہے؟ حقیقت ربا کی طرح ہے، تو گویا حقیقۃً ربا یہاں پر آ رہا ہے، اسی لیے شریعت نے اس کو کیا قرار دیا؟ حرام کہ ویسے نہیں بیچ سکتے۔ بوریوں سے نکالو، ان دونوں کو کیا کرو؟ ان کی پیمائش کرو، پوری طرح ان کو برابر کرو اور پھر برابری کے ساتھ کیا کر لو؟ بیع کر لو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اندازے کی صورت میں بیچتے وقت صرف شبہ ربا تھا، حقیقۃً ربا نہیں، لیکن شبہ ربا کو بھی کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ حقیقت ربا کی طرح اتار لیا گیا اور اس پر حرام ہونے کا حکم لگا دیا گیا کہ اس طرح بیچنا جائز نہیں، حرام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں پر بھی، یہ جو ادھار ہے ادھار، ادھار کے اندر بھی شبہ ربا ہے۔ ادھار کے اندر بھی کیا ہے؟ شبہ ربا ہے، کیونکہ کیونکہ "النقد خير من النسيئة"، نقد بہتر ہے یا ادھار بہتر ہے بھئی؟ نقد بہتر ہے، نقد کو فضیلت حاصل ہے ادھار پر۔ جب فضیلت حاصل ہے، معلوم ہوا نقد بڑھا ہوا ہے۔ ادھار کم درجے کا ہے۔ تو شبہ ربا آ گیا یا نہیں آ گیا ادھار کے اندر؟ ادھار کے اندر کیا آیا؟ شبہ ربا آ گیا بھئی، شبہ ربا آ گیا۔
تو یہ ادھار میں شبہ ربا آتا ہے بھئی۔ اور ہم نے اشارۃ النص کے ذریعے علت کیا بیان کی تھی بھئی ربا کے حرام، ربا کے لیے؟ قدر اور جنس۔ معلوم ہوا قدر اور جنس دونوں مل کر یہ علت ہیں حرمت ربا کے لیے۔ قدر اور جنس دونوں مل کر، اکیلے اکیلے نہیں، دونوں مل کر، دونوں ملیں گے تو یہ علت بنے گی۔ اکیلا، اکیلی علت نہیں ہے، قدر اکیلی علت نہیں، جنس اکیلی علت نہیں، دونوں ملیں گے تو یہ مل کر یہ علت ہوئی ایک ہی حکم کی، دونوں مل کر بھئی۔
تو دونوں مل کر علت ہوئیں حرمت ربا کی۔ تو جب دونوں مل کر علت ہیں حرمت ربا کی، تو دونوں میں سے ایک وہ علت تو نہیں، لیکن اس میں شبہ علت تو ہے کہ نہیں؟ علت تو نہیں، لیکن کیا ہے اس میں؟ شبہ علت تو اس کے اندر ہے۔ تو اور ادھار میں بھی کیا تھا؟ شبہ ربا تھا۔ تو ہم نے اس شبہ علت کو علت قرار، جس میں شبہ علت تھا، اس کو علت قرار دے دیا جہاں شبہ ربا تھا، یعنی ادھار کے لیے۔
بات سمجھ میں آئی؟ ہم نے جس میں شبہ علت تھا، اس کو علت قرار دے دیا، کس کے لیے؟ جس میں شبہ ربا تھا، یعنی ادھار بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
اور یہ، یہ جو ہم نے ثابت کیا صرف جنس کو یا صرف قدر کو، کس کے لیے علت بنایا؟ حرمت ادھار کے لیے، یہ باقاعدہ اشارۃ النص سے ثابت ہے۔ اس میں ہمارے قیاس اور رائے کا دخل نہیں ہے۔ قیاس اور رائے کے ذریعے کسی چیز، کسی شرعی حکم کی علت نہیں بیان کی جا سکتی بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: "وانما اثبتناه باشارة النص"، اور ہم نے اس کو ثابت کیا، یہ سوال کا جواب دے رہے ہیں اب بھئی، کہ آپ نے تو علت بنایا ہے۔ کہتے ہیں: "وانما اثبتناه باشارة النص"، اور ہم نے اس کو ثابت کیا ہے کس کے ذریعے؟ اشارۃ النص کے ذریعے۔ "لان ربا الفضل لما حرم بمجموع القدر والجنس"، اس لیے کہ ربا فضل، ربا فضل یعنی جس میں زیادتی ہے، کمی بیشی ہے۔ "لما حرم"، جب وہ حرام ہوا، کس وجہ سے حرام ہوا؟ "بمجموع القدر والجنس"، قدر اور جنس کے مجموعے کی وجہ سے، یہ دونوں مل کر اس کے لیے علت بن رہے ہیں۔ "فشبهة الفضل وهي النسيئة"، پس شبہ فضل، یعنی شبہ ربا، شبہ ربا کا معنی بھی زیادتی ہے نا؟ "فشبهة الفضل اي شبهة الربا"، پس شبہ ربا جو ہے، "وهي النسيئة"، وہ کیا ہے؟ ادھار، ادھار میں کیا ہے؟ شبہ ربا ہے۔ "ينبغي"، مناسب یہ ہے، "ان تحرم بشبهة العلة"، کہ وہ حرام ہو کس کی وجہ سے؟ شبہ علت کی وجہ سے۔
تو ادھار میں ہے شبہ ربا، تو علت، جنس یا صرف قدر، اس میں بھی کیا ہے؟ شبہ علت، تو شبہ علت کیا بن جائے گی؟ علت بن جائے گی کس کے لیے؟ شبہ، شبہ ربا کے لیے، یعنی ادھار کے لیے۔ تو یہ، تو یہ جو ہے کہ یہ جو شبہ ربا ہے اور یہ یعنی کہ ادھار جو ہے، "ينبغي ان تحرم بشبهة العلة"، مناسب یہ ہے کہ یہ حرام ہو شبہ علت کی وجہ سے۔ "اعني الجنس وحده او القدر وحده"، یعنی اکیلی جنس یا اکیلی قدر کے ذریعے
"وصفة الصوم في زكاة الانعام"، بھئی انہوں نے کیا کہا تھا؟ تعلیل کی جاتی ہے اولاً پہلی قسم میں کیا بیان کیا تھا؟ موجب کے لیے یا کبھی وصف موجب کے لیے۔ موجب کی مثال بیان کر دی، اب وصف موجب کی کا بیان کرنے لگے ہیں، اس کی مثال۔ کہتے ہیں: "وصفة الصوم في زكاة الانعام"، اور چرنے کی شرط لگانا "في زكاة الانعام"، اونٹوں کی زکوۃ، جانوروں کی، مویشیوں کی، مویشیوں کی زکوۃ میں۔
بھئی دیکھیے، زکوۃ جانوروں میں بھی واجب ہے، لیکن کون سے جانوروں میں؟ جو سائمہ ہوں، یعنی سال کا اکثر حصہ باہر جنگل میں چر کر گزارتے ہوں، گھر پر ان کو چارہ لا کر نہ کھلایا جاتا ہو۔ اب زکوۃ کی علت کیا ہے؟ سبب کیا ہیں؟ یہ مویشی۔ زکوۃ کی علت کیا ہیں؟ مویشی ہیں، یہ علت ہیں۔ اور سائمہ ہونا، یہ اس کی صفت ہے۔ علت کی صفت ہے۔ علت کون؟ مویشی، اور علت کا وصف کیا؟ سائمہ ہونا کہ چرنے والے ہوں۔ تو دیکھو، یہ صفت، صفت، یعنی یوں کہو، وصف سوم، یعنی وصف علت کا جو وصف ہے، یعنی وصف سوم، اس کے لیے بھی تعلیل کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ اس کے لیے بھی تعلیل کرنا صحیح نہیں ہے۔
"کجنسية لحرمة النساء"، اوپر متن میں آیا تھا، لہٰذا "وصفة" اس کو بھی مجرور پڑھیں۔ "وصفة الصوم في زكاة الانعام"، اور جیسے کہ چرنے کی صفت ہے "في زكاة الانعام"، مویشیوں کی زکوۃ میں۔ "مثال لاثبات وصف الموجب"، یہ مثال ہے موجب یعنی علت کے وصف کو ثابت کرنے کی۔ "فان الانعام موجبة للزكاة"، پس بے شک مویشی جو ہیں، وہ علت ہیں زکوۃ کی، "ووصفها وهو الصوم"، اور ان مویشیوں کا وصف اور وہ سوم یعنی سائمہ ہونا، چرنے والا ہونا، "مما"، یہ ان چیزوں میں سے ہے، "لا ينبغي ان يتکلم فيه ويثبت بالتعليل"، کہ مناسب نہیں ہے کہ اس میں تکلم کیا جائے اور اس کو کس کے ذریعے ثابت کیا جائے؟ تعلیل کے ذریعے۔
اس پر اشکال ہوا کہ آپ نے تو یہ وصف ثابت کیا ہے؟ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ اس علت کے اس وصف کو ہم نے تعلیل کے ذریعے نہیں ثابت کیا، باقاعدہ حدیث میں آیا ہے کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "في خمس من الابل السائمة شاة"، تو سائمہ کا لفظ کس میں آیا ہے؟ حدیث میں آیا ہے۔
تو کہتے ہیں: "وانما اثبتناه بقوله عليه الصلاة والسلام"، کہ ہم نے اس کو ثابت کیا ہے حضور علیہ السلام کے اس قول کے ذریعے: "في خمس من الابل السائمة شاة"، پانچ چرنے والے اونٹوں میں "شاة"، ایک بھیڑ بکلری ہے۔ "وعند مالک رحمه الله"، اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک، "لا تشترط السائمة لاطلاق قوله تعالى"، وہ جو ہیں، اسامت کی شرط نہیں لگاتے بھئی، ان کے نزدیک زکوۃ کے لیے مویشیوں کا سائمہ ہونا شرط نہیں ہے۔ وجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مطلق ہونے کے، کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں کوئی قید نہیں ہے سائمہ ہونے کی، معلوم ہوا ہر قسم کے مویشیوں میں زکوۃ دینا پڑے گی۔
کیا اللہ کا یہ قول، دیکھیے، اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: "خذ من اموالهم صدقة"، اے پیغمبر! آپ لے لیجیے ان کے مالوں میں سے صدقہ، ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے۔ "تطهرهم وتزکيهم بها"، آپ ان کو پاک کر دیں، آپ ان کو پاک کر دیں گے "وتزکيهم"، اور ان کو پاکیزہ کر دیں گے "بها"، اس صدقے کے ذریعے۔ اے پیغمبر! ان کے لوگ، ان کے مالوں میں سے کیا لے لیجیے؟ صدقہ لے لیجیے، اس کے ذریعے آپ ان کو پاک کر دیں گے اور ان کو پاکیزہ بنا دیں گے "بها"، اس، اس صدقے کے ذریعے۔ یا یہ ترجمہ کر لیں: "تطهرهم وتزکيهم بها"، آپ ان کو اس صدقے کے ذریعے ظاہری طور پر بھی پاک کر دیں گے "وتزکيهم بها"، اور باطنی طور پر بھی پاک کر دیں گے۔
تو دیکھیے اللہ تعالیٰ نے یہاں کوئی سائمہ وغیرہ کی قید ذکر نہیں کی، معلوم ہوا مطلق مال کے اندر کیا آئے گی؟ زکوۃ واجب ہو گی، سائمہ کی شرط نہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ مطلق مال میں تو آپ بھی مانتے ہیں کہ زکوۃ نہیں ہے۔ کسی کے پاس صرف ایک درہم ہو، اس پہ زکوۃ ہے کہ زکوۃ نہیں ہے؟ اس پہ زکوۃ نہیں، حالانکہ درہم مال ہے یا نہیں؟ مال ہے۔ آپ بھی کہتے ہیں کہ نصاب کے بقدر مال ہو، تو تب اس میں کیا آتی ہے؟ زکوۃ آتی ہے اور وہ آپ کس کے ذریعے ثابت کرتے ہیں؟ احادیث کے ذریعے، تو ہم بھی یہاں سائمہ کی قید کس کے ذریعے ثابت کر رہے ہیں؟ حدیث کے ذریعے ہی ثابت کر رہے ہیں۔
"والشهود في النکاح"، اور جیسے کہ گواہ ہیں نکاح کے اندر۔ بھئی گواہ نکاح کے اندر شرط ہیں بھئی، گواہوں کا ہونا نکاح میں شرط ہے۔ تو ان گواہوں کے اس بات کے لیے تعلیل کرنا صحیح نہیں۔ تعلیل کے ذریعے نکاح میں گواہوں کی شرط لگانا صحیح نہیں بھئی۔
اس میں رائے اور تعلیل کے ذریعے کلام کیا ہی نہیں جا سکتا بھئی، یہ تو کس سے ثابت ہو سکتا ہے؟ نص کے ذریعے ہی پتہ چل سکتا ہے کہ اس حکم کی یہ شرط ہے۔ اس حکم کی یہ شرط ہے، تعلیل سے شرطوں کا پتہ نہیں چل سکتا کبھی بھی بھئی، لہٰذا اس میں مناسب ہی نہیں ہے کہ رائے اور قیاس کے ساتھ کام لیا جائے۔
تو کہتے ہیں جیسے گواہ ہیں "في النکاح"، نکاح کے اندر، "مثال الشرط"، یہ مثال ہے شرط کی، دوسری قسم کیا آئی تھی؟ اثبات الشرط، شرط کو ثابت کرنا۔ "فان الشهود شرط في النکاح"، پس بے شک گواہ جو ہیں، وہ شرط ہیں نکاح میں، "ولا ينبغي ان يتکلم فيه بالرأي والعلة"، اور مناسب نہیں ہے کہ کلام کیا جائے اس شرط کے میں رائے کے ذریعے اور علت کے ذریعے۔ بھئی
رائے اور علت کے ذریعے اس میں کلام کرنا صحیح نہیں، پھر ہے احناف آپ گواہوں کو شرط قرار تو دیتے ہیں، جواب ہم دیتے ہیں کہ وہ ہم حدیث کے ذریعے ثابت کرتے ہیں قیاس کے ذریعے نہیں ثابت کرتے وانما نسبته بقوله علیہ السلام ہم اس کو ثابت کرتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول کے ذریعے لا نکاح الا بشہود نکاح نہیں ہے بغیر نکاح نہیں ہے مگر گواہوں کے ساتھ ہی، نکاح کے لیے کیا ضروری ہے؟ گواہ ہونا ضروری۔ وقال مالک رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں لا یشترط فیہ الا شہاد کہ نکاح میں شرط نہیں ہے گواہ بنانے کی بل الاعلان بلکہ کیا شرط ہے؟ اعلان کرنا بھئی لوگوں کے اندر۔ لقوله علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے اعلنوا النکاح ولو بالددف نکاح کا اعلان کرو اگرچہ ددف کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، ہم اردو میں دف لفظ بولتے ہیں عربی میں دف ہے بھئی دف۔ سمجھ میں آئی بات؟ دف جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ جس کے وہ ایک طرف صرف چمڑا لگا ہوتا ہے، ڈھول میں تو دونوں طرف چمڑے لگے ہوں گے دف میں ایک طرف لگا ہوگا تو حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے وہ اعلان کی شرط لگاتے ہیں۔ وشترطت العدالة والذکورة فیھا اور شرط لگائی گئی ہے عادل ہونے اور مذکر ہونے کی فیھا ان گواہوں میں۔ ان گواہوں میں کیا شرط لگائی گئی ہے؟ عادل ہونے چاہیے اور مرد ہونے چاہیے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد اور عورت کی عورت کی گواہی مرد کے ساتھ صرف مال کے مسئلے میں قابل قبول ہے، اب پیچھے مسئلہ بیان ہو چکا۔ اور نکاح چونکہ مال نہیں ہے لہذا اس کے اندر عورتوں کی گواہی بھی قبول نہیں، عورتوں کی گواہی کس کے ساتھ کس میں صرف قبول ہوگی؟ مالی عقود کے اندر تو قبول ہو سکتی ہے اور نکاح مال نہیں لہذا اس میں عورتوں کی گواہی سرے سے قبول ہی نہیں ہے، یہاں گواہ کیا ہونے چاہیے؟ مرد ہونے چاہیے اور مرد بھی عادل ہونے چاہیے، کس قسم کے؟ عادل ہونے چاہیے جبکہ ہمارے نزدیک عادل ہو یا غیر عادل ہو اور چاہے ایک دونوں مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں کم از کم ہوں تو نکاح ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں وشترطت العدالة والذکورة فیھا اور شرط لگائی گئی ہے عادل ہونے اور مذکر ہونے کی ان گواہوں میں ای فی شہود نکاح ضمیر کا مرجع بتلایا کہ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ شہود نکاح کو راجع ہے کیونکہ وہ جمع ہے بتاویل جماعت کے واحد مؤنث کے حکم میں مثال لاسبات وصف الشرط یہ مثال ہے شرط کے وصف کے ثابت کرنے کی۔ بھئی گواہ کیا تھے نکاح کے لیے؟ شرط تھے اور ان گواہوں کا عادل ہونا اور مذکر ہونا یہ شرط کا وصف ہے تو وصف کے اس بات کے شرط کے وصف کے اس بات کے لیے بھی تعلیل صحیح نہیں۔ فان شہود شرط والعدالة والذکورة وصفہ پس شہود جو ہیں وہ شرط ہیں اور عدالت اور ذکورت ان کا وصف ہے ولا ینبغی ان یتکلم فیہ بالتلیل اور مناسب نہیں ہے کہ تکلم کیا جائے اس میں اس شرط کے وصف میں بالتلیل تعلیل کے ذریعے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بل نقول ہاں بلکہ ہم کہتے ہیں اطلاق قول اطلاق قول علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ السلام کا کے قول کا مطلق ہونا کہ لا نکاح الا بشہود نکاح نہیں ہے مگر گواہوں کے ساتھ، مطلق لایا اس میں کوئی مذکر ہونے کی قید نہیں۔ اس میں کوئی عادل ہونے کی قید نہیں۔ معلوم ہوا گواہ مذکر ہوں یا مؤنث، چاہے عادل ہوں چاہے غیر عادل، ہر صورت میں نکاح ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تو تو اس میں معلوم ہوا عورتوں کی گواہی سے بھی نکاح ہو جائے گا بشرطیکہ ان کے ساتھ ایک مرد ہو۔ بھئی یہ دل علی عدم اشتراط العدالة والذکورة یہ حدیث دلالت کرتی ہے عدالت اور ذکورت کی شرط کے نہ ہونے پر۔ والشافعی رحمہ اللہ یشترطہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کی شرط لگاتے ہیں لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے لا نکاح الا ولی وشاہدی عدل نکاح نہیں ہے مگر ولی سے ولی کے ساتھ ہی اور دو عادل گواہوں کے ساتھ وہ حدیث پیش کرتے ہیں بھئی۔ وہ بھی قیاس کے ذریعے نہیں ثابت کر رہے شرط کے وصف کو بلکہ حدیث کے ذریعے اور حدیث میں کیا ہے؟ عدل کا لفظ معلوم ہوا گواہ کیا ہونے چاہیے؟ عادل اور شاہدید شاہد ہے مذکر کے صیغہ اس کی تثنیہ ہے معلوم ہوا دونوں گواہ کیا ہونے چاہیے؟ مذکر ولکونه لیس بما ایک تو یہ وجہ ذکر کرتے ہیں کہ یہاں جو مذکر کے صیغے ہیں یا یوں کہیں یا یوں کہیں کہ عادل کی شرط اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور مذکر ہونے کی شرط وہ سابقہ ضابطہ جو گزرا تھا کہ یہ نکاح چونکہ مال نہیں ہے اور صرف مال کے اندر عورتوں کی گواہی قبول ہے اور نکاح تو مال نہیں لہذا اس میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ تو لہذا وہ عدل کو اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور ذکورت کو نکاح کے مال نہ ہونے کی وجہ سے ثابت کرتے ہیں۔ تو یہ معنی ہے وہ ثابت کرتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے لا نکاح الا ولی وشاہد عدل ولکونه لیس بمحال اور بوجہ اس نکاح کے مال نہ ہونے کے کما نقلناہ سابقا جیسے کہ ہم پہلے نقل چکے۔ والبتیرہ اور بتیرہ بھئی بتیرہ یہ کیا معنی ہے اس کا؟ کہتے ہیں تصغیر بتراؤ تصغیر بترا یہ تصغیر ہے کس چیز کی؟ بترا کی تصغیر ہے التی تانیث الابتر جو تانیث ہے ابتر کی بھئی ابتر احمر کے وزن پر ہے صفت مشبہ۔ احمر کا کیا معنی؟ سرخ صفت مشبہ اسی طرح ابتر ہے صفت مشبہ، ابتر کا معنی ہے لغوی اعتبار سے دم کٹا۔ ابتر کا کیا معنی؟ دم کٹا جس کی دم کٹی ہوئی ہو تو ابتر کا معنی ہوا دم کٹا اور مراد اس سے ادھورا ہے کوئی بھی چیز ادھوری ہو، ناقص ہو، مکمل نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ابتر اور مؤنث ہو تو کیا کہیں گے؟ بترا بھئی جیسے احمر کی مؤنث کیا آتی ہے؟ حمرا بھئی، تو اس ابتر کی مؤنث بترا ہے اور اس بترا کی تصغیر کیا ہے؟ بتیرہ۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور والمراد بہ الصلوة برکعۃ واحدۃ اور مراد اس کے لیے ایک رکعت کی نماز ہے بھئی۔ وہ نماز جو ایک رکعت کے ساتھ ہو بھئی صرف ایک رکعت۔ بھئی آپ نوافل وغیرہ پڑھتے ہیں کم از کم کتنے رکعت ضروری بھئی؟ دو رکعت ضروری تو ایک رکعت یہ جو ہے یہ ادھوری نماز ہے بھئی اس کو کوئی بھی نماز نہیں کہے گا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وھو مثال للحکم اور یہ مثال ہے حکم کی ای اثبات ان ای اثبات پڑھیں بھئی۔ یہ حکم کی تفسیر بیان ہو رہی ہے یہ مثال ہے کس کی؟ حکم کی ای اثبات ان ھذہ الصلوة مشروعۃ ام لا یعنی یہ ثابت کرنا کہ یہ نماز مشروع ہے یا مشروع نہیں۔ بھئی ایک رکعت والی نماز جائز ہے یا جائز نہیں ہے، یہ حکم بیان ہو رہا ہے نا؟ کیا بیان ہو رہا ہے؟ حکم۔ تو اس کے لیے تعلیل صحیح نہیں۔ قیاس اور رائے کا اس میں دخل نہیں۔ اس کا تو پتہ کس سے چلے گا؟ نص سے چلے گا قیاس سے ان چیزوں کا پتہ نہیں چل سکتا۔ تو لہذا قیاس کے ذریعے یہ بات ثابت کرنا کہ یہ نماز جائز ہے یا نہیں یہ درست نہیں۔ ولا ینبغی ان یتکلم فیہ بالرای والعلیۃ اور مناسب نہیں ہے کہ تکلم کیا جائے اس میں اس شرط کے وصف میں بالتلیل تعلیل کے ذریعے صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بل نقول ہاں بلکہ ہم کہتے ہیں اطلاق قول اطلاق قول علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ السلام کا کے قول کا مطلق ہونا کہ لا نکاح الا بشہود نکاح نہیں ہے مگر گواہوں کے ساتھ مطلق لایا اس میں کوئی مذکر ہونے کی قید نہیں۔ اس میں کوئی عادل ہونے کی قید نہیں۔ معلوم ہوا گواہ مذکر ہوں یا مؤنث، چاہے عادل ہوں چاہے غیر عادل، ہر صورت میں نکاح ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تو تو اس میں معلوم ہوا عورتوں کی گواہی سے بھی نکاح ہو جائے گا بشرطیکہ ان کے ساتھ ایک مرد ہو۔ یہ دل علی عدم اشتراط العدالة والذکورة یہ حدیث دلالت کرتی ہے عدالت اور ذکورت کی شرط کے نہ ہونے پر۔ والشافعی رحمہ اللہ یشترطہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کی شرط لگاتے ہیں لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے لا نکاح الا ولی وشاہدی عدل نکاح نہیں ہے مگر ولی سے ولی کے ساتھ ہی اور دو عادل گواہوں کے ساتھ وہ حدیث پیش کرتے ہیں بھئی۔ وہ بھی قیاس کے ذریعے نہیں ثابت کر رہے شرط کے وصف کو بلکہ حدیث کے ذریعے اور حدیث میں کیا ہے؟ عدل کا لفظ معلوم ہوا گواہ کیا ہونے چاہیے؟ عادل اور شاہدید شاہد ہے مذکر کے صیغہ اس کی تثنیہ ہے معلوم ہوا دونوں گواہ کیا ہونے چاہیے؟ مذکر ولکونه لیس بما ایک تو یہ وجہ ذکر کرتے ہیں کہ یہاں جو مذکر کے صیغے ہیں یا یوں کہیں یا یوں کہیں کہ عادل کی شرط اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور مذکر ہونے کی شرط وہ سابقہ ضابطہ جو گزرا تھا کہ یہ نکاح چونکہ مال نہیں ہے اور صرف مال کے اندر عورتوں کی گواہی قبول ہے اور نکاح تو مال نہیں لہذا اس میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ تو لہذا وہ عدل کو اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور ذکورت کو نکاح کے مال نہ ہونے کی وجہ سے ثابت کرتے ہیں۔ تو یہ معنی ہے وہ ثابت کرتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے لا نکاح الا ولی وشاہد عدل ولکونه لیس بمحال اور بوجہ اس نکاح کے مال نہ ہونے کے کما نقلناہ سابقا جیسے کہ ہم پہلے نقل چکے۔ والبتیرہ اور بتیرہ بھئی بتیرہ یہ کیا معنی ہے اس کا؟ کہتے ہیں تصغیر بتراؤ تصغیر بترا یہ تصغیر ہے کس چیز کی؟ بترا کی تصغیر ہے التی تانیث الابتر جو تانیث ہے ابتر کی بھئی ابتر احمر کے وزن پر ہے صفت مشبہ۔ احمر کا کیا معنی؟ سرخ صفت مشبہ اسی طرح ابتر ہے صفت مشبہ، ابتر کا معنی ہے لغوی اعتبار سے دم کٹا۔ ابتر کا کیا معنی؟ دم کٹا جس کی دم کٹی ہوئی ہو تو ابتر کا معنی ہوا دم کٹا اور مراد اس سے ادھورا ہے کوئی بھی چیز ادھوری ہو، ناقص ہو، مکمل نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ابتر اور مؤنث ہو تو کیا کہیں گے؟ بترا بھئی جیسے احمر کی مؤنث کیا آتی ہے؟ حمرا بھئی، تو اس ابتر کی مؤنث بترا ہے اور اس بترا کی تصغیر کیا ہے؟ بتیرہ۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور والمراد بہ الصلوة برکعۃ واحدۃ اور مراد اس کے لیے ایک رکعت کی نماز ہے بھئی۔ وہ نماز جو ایک رکعت کے ساتھ ہو بھئی صرف ایک رکعت۔ بھئی آپ نوافل وغیرہ پڑھتے ہیں کم از کم کتنے رکعت ضروری بھئی؟ دو رکعت ضروری تو ایک رکعت یہ جو ہے یہ ادھوری نماز ہے بھئی اس کو کوئی بھی نماز نہیں کہے گا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وھو مثال للحکم اور یہ مثال ہے حکم کی ای اثبات ان ای اثبات پڑھیں بھئی۔ یہ حکم کی تفسیر بیان ہو رہی ہے یہ مثال ہے کس کی؟ حکم کی ای اثبات ان ھذہ الصلوة مشروعۃ ام لا یعنی یہ ثابت کرنا کہ یہ نماز مشروع ہے یا مشروع نہیں۔ بھئی ایک رکعت والی نماز جائز ہے یا جائز نہیں ہے، یہ حکم بیان ہو رہا ہے نا؟ کیا بیان ہو رہا ہے؟ حکم۔ تو اس کے لیے تعلیل صحیح نہیں۔ قیاس اور رائے کا اس میں دخل نہیں۔ اس کا تو پتہ کس سے چلے گا؟ نص سے چلے گا قیاس سے ان چیزوں کا پتہ نہیں چل سکتا۔ تو لہذا قیاس کے ذریعے یہ بات ثابت کرنا کہ یہ نماز جائز ہے یا نہیں یہ درست نہیں۔ ولا ینبغی ان یتکلم فیہ بالرای والعلیۃ اور مناسب نہیں ہے کہ تکلم کیا جائے اس میں اس شرط کے وصف میں بالتلیل تعلیل کے ذریعے صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بل نقول ہاں بلکہ ہم کہتے ہیں اطلاق قول اطلاق قول علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ السلام کا کے قول کا مطلق ہونا کہ لا نکاح الا بشہود نکاح نہیں ہے مگر گواہوں کے ساتھ مطلق لایا اس میں کوئی مذکر ہونے کی قید نہیں۔ اس میں کوئی عادل ہونے کی قید نہیں۔ معلوم ہوا گواہ مذکر ہوں یا مؤنث، چاہے عادل ہوں چاہے غیر عادل، ہر صورت میں نکاح ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ تو تو اس میں معلوم ہوا عورتوں کی گواہی سے بھی نکاح ہو جائے گا بشرطیکہ ان کے ساتھ ایک مرد ہو۔ یہ دل علی عدم اشتراط العدالة والذکورة یہ حدیث دلالت کرتی ہے عدالت اور ذکورت کی شرط کے نہ ہونے پر۔ والشافعی رحمہ اللہ یشترطہ اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کی شرط لگاتے ہیں لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے لا نکاح الا ولی وشاہدی عدل نکاح نہیں ہے مگر ولی سے ولی کے ساتھ ہی اور دو عادل گواہوں کے ساتھ وہ حدیث پیش کرتے ہیں بھئی۔ وہ بھی قیاس کے ذریعے نہیں ثابت کر رہے شرط کے وصف کو بلکہ حدیث کے ذریعے اور حدیث میں کیا ہے؟ عدل کا لفظ معلوم ہوا گواہ کیا ہونے چاہیے؟ عادل اور شاہدید شاہد ہے مذکر کے صیغہ اس کی تثنیہ ہے معلوم ہوا دونوں گواہ کیا ہونے چاہیے؟ مذکر ولکونه لیس بما ایک تو یہ وجہ ذکر کرتے ہیں کہ یہاں جو مذکر کے صیغے ہیں یا یوں کہیں یا یوں کہیں کہ عادل کی شرط اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور مذکر ہونے کی شرط وہ سابقہ ضابطہ جو گزرا تھا کہ یہ نکاح چونکہ مال نہیں ہے اور صرف مال کے اندر عورتوں کی گواہی قبول ہے اور نکاح تو مال نہیں لہذا اس میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ تو لہذا وہ عدل کو اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں اور ذکورت کو نکاح کے مال نہ ہونے کی وجہ سے ثابت کرتے ہیں۔ تو یہ معنی ہے وہ ثابت کرتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے لا نکاح الا ولی وشاہد عدل ولکونه لیس بمحال اور بوجہ اس نکاح کے مال نہ ہونے کے کما نقلناہ سابقا جیسے کہ ہم پہلے نقل چکے۔ والبتیرہ اور بتیرہ بھئی بتیرہ یہ کیا معنی ہے اس کا؟ کہتے ہیں تصغیر بتراؤ تصغیر بترا یہ تصغیر ہے کس چیز کی؟ بترا کی تصغیر ہے التی تانیث الابتر جو تانیث ہے ابتر کی بھئی ابتر احمر کے وزن پر ہے صفت مشبہ۔ احمر کا کیا معنی؟ سرخ صفت مشبہ اسی طرح ابتر ہے صفت مشبہ، ابتر کا معنی ہے لغوی اعتبار سے دم کٹا۔ ابتر کا کیا معنی؟ دم کٹا جس کی دم کٹی ہوئی ہو تو ابتر کا معنی ہوا دم کٹا اور مراد اس سے ادھورا ہے کوئی بھی چیز ادھوری ہو، ناقص ہو، مکمل نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ابتر اور مؤنث ہو تو کیا کہیں گے؟ بترا بھئی جیسے احمر کی مؤنث کیا آتی ہے؟ حمرا بھئی، تو اس ابتر کی مؤنث بترا ہے اور اس بترا کی تصغیر کیا ہے؟ بتیرہ۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور والمراد بہ الصلوة برکعۃ واحدۃ اور مراد اس کے لیے ایک رکعت کی نماز ہے بھئی۔ وہ نماز جو ایک رکعت کے ساتھ ہو بھئی صرف ایک رکعت۔ بھئی آپ نوافل وغیرہ پڑھتے ہیں کم از کم کتنے رکعت ضروری بھئی؟ دو رکعت ضروری تو ایک رکعت یہ جو ہے یہ ادھوری نماز ہے بھئی اس کو کوئی بھی نماز نہیں کہے گا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وھو مثال للحکم اور یہ مثال ہے حکم کی ای اثبات ان ای اثبات پڑھیں بھئی۔ یہ حکم کی تفسیر بیان ہو رہی ہے یہ مثال ہے کس کی؟ حکم کی ای اثبات ان ھذہ الصلوة مشروعۃ ام لا یعنی یہ ثابت کرنا کہ یہ نماز مشروع ہے یا مشروع نہیں۔ بھئی ایک رکعت والی نماز جائز ہے یا جائز نہیں ہے، یہ حکم بیان ہو رہا ہے نا؟ کیا بیان ہو رہا ہے؟ حکم۔ تو اس کے لیے تعلیل صحیح نہیں۔ قیاس اور رائے کا اس میں دخل نہیں۔ اس کا تو پتہ کس سے چلے گا؟ نص سے چلے گا قیاس سے ان چیزوں کا پتہ نہیں چل سکتا۔ تو لہذا قیاس کے ذریعے یہ بات ثابت کرنا کہ یہ نماز جائز ہے یا نہیں یہ درست نہیں۔ ولا ینبغی ان یتکلم فیہ بالرای والعلیۃ اور مناسب نہیں ہے کہ تکلم کیا جائے اس میں اس شرط کے وصف میں بالتلیل تعلیل کے ذریعے
جواب ہم دیتے ہیں، بہت سے جوابات بھئی ہمارے پاس احادیث وغیرہ، بہت سے ادلہ موجود ہیں۔ احناف کے پاس اتنے قوی ادلہ ہیں کہ انسان حیران رہتا ہے۔ والد صاحب احناف کے ادلہ ذکر کرتے کرتے بے ساختہ ان کی زبان پر یہ جملہ آ جاتا تھا کہ "مولانا! یہ احناف کا مذہب ہے، یوں معلوم ہوتا ہے براہِ راست آسمان سے نازل ہو رہا ہے بھئی۔" اتنے قوی ادلہ ہمارے پاس موجود ہیں۔
ایک جواب اس حدیث کا یہ دیا جا سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ وجوبِ وتر سے پہلے کا واقعہ ہو۔ ہو سکتا ہے یہ وجوبِ وتر سے پہلے کا واقعہ ہو بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام.