Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-110

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔ 110 ثم ذكر بيان الصلاح، فقال: ونعني بصلاح الوصف ملاءمته، وهي أن يكون على موافقة العلل المنقولة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعن السلف، بأن تكون علة هذا المجتهد موافقة لعلة استنبط بها النبي عليه الصلاة والسلام والصحابة والتابعون، ولا تكون نابية عنها. بھئی گزشتہ سبق میں یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ ہمیں کس طرح پتہ چلے گا کہ یہ کوئی وصف جو ہے کسی حکم کے لیے علّت بن رہا ہے، اوصاف تو بہت سے ہوں گے، تو کسی وصف کے بارے میں کیسے پتہ چلے گا، کیسے طے ہوگا کہ یہ علّت بن رہی ہے؟ تو جواب دیا کہ کسی وصف کے علّت ہونے کی دلیل جو ہے اس وصف کی صلاحیت اور اس کی عدالت ہے، اس میں صلاحیت ہونی چاہیے علّت بننے کی اور اس کی عدالت وہ، اس کی عدالت ہونی چاہیے اس میں۔ اور عدالت کی پھر تعریف یہ کی کہ اس وصف جو ہے اس کا اثر ظاہر ہوا ہو اسی قسم کے حکم میں بھئی، جب اسی قسم کے حکم کے اندر اس کا اثر ظاہر ہو چکا ہے تو معلوم ہوا شریعت نے بھی اس کو مؤثر مانا ہے۔ جب شریعت کے نزدیک بھی اس کا مؤثر ہونا ثابت ہو گیا تو معلوم ہوا اس میں اس کی عدالت ثابت ہو گئی، اس میں علّت بننے کی صلاحیت ہے، اس کی عدالت ہے، یہ اس قابل ہے کہ حکم کے اندر اپنا اثر دکھا سکے اور اس کو ثابت کر سکے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہاں دو باتیں ذکر ہوئی تھیں، ایک عدالت اور ایک صلاح بھئی۔ اب وہ صلاح کے بارے میں اب ہم پڑھیں گے بھئی۔ ثم ذكر بيان الصلاح، پھر مصنف نے صلاح کا بیان ذکر کیا، فقال، پس فرمایا: ونعني بصلاح الوصف ملاءمته، اور ہماری مراد وصف کے صلاح سے جو ہے ملاءمته اس کی مناسبت ہے۔ وصف کیا ہونا چاہیے؟ اس کی ملاءمت ہونی چاہیے، یعنی اس کی مناسبت ہونی چاہیے۔ اس میں کیا پائی جائے؟ مناسبت پائی جائے بھئی۔ کیا معنی مناسبت؟ کہتے ہیں: وهي أن يكون على موافقة العلل المنقولة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن السلف، کہ وہ وصف جو ہے وہ موافق ہو ان علّتوں کے جو کہ منقول ہیں حضور علیہ السلام سے وعن السلف اور بزرگوں سے بھئی۔ حضور علیہ السلام سے اور بزرگوں سے جو منقول ہوں ان کے موافق ہونا چاہیے بھئی، یعنی جس طرح کے علّتیں جو نقل کی گئی ہیں حضور علیہ السلام سے، صحابہ اور تابعین سے، یہ علّت بھی انہی جیسی ہونی چاہیے بھئی۔ یہ علّت بھی انہی جیسی ہونی چاہیے، جب یہ ان کے موافق ہوگی، انہی جیسی ہوگی تو اس میں صلاحیت ہے بھئی، تو اس سے اس کی صلاحیت ثابت ہو جائے گی۔ اور پہلے یہ بیان ہو چکا کہ اسی جنس کے حکم کے اندر اگر اس کا اثر ظاہر ہوا ہو دوسری جگہ پر تو اس سے اس کی عدالت ثابت ہو جائے گی۔ جب صلاحیت اور عدالت ثابت ہو جائے تو پھر معلوم ہوا یہ علّت مؤثر ہے حکم کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آسان لفظوں میں یوں کہیے، ہمارے نزدیک کوئی وصف اس وقت علّت بنے گا جب وہ مؤثر بھی ہو، جب اس کی تاثیر بھی ہو۔ اور تاثیر کس طرح ہو؟ کیسے پتہ چلے گا؟ کہ اسی جنس کے اور حکموں میں اس نے اپنا اثر دکھایا ہو اور شریعت نے اس کی تاثیر کو مانا ہو، اس کو مؤثر بنایا ہو شریعت نے۔ جب شریعت نے اس کو مؤثر بنایا ہے تو معلوم ہوا یہ وصف کیا ہے؟ علّت بن سکتا ہے، یہ حکم میں مؤثر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں ہمارے نزدیک وصف کی صلاحیت سے مراد یہ ہے ملاءمته کہ اس کی مناسبت ہو، وهي أن يكون على موافقة العلل المنقولة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن السلف، بایں طور کہ یہ وصف جو ہے موافق ہو ان علّتوں کے جو منقول ہیں حضور علیہ السلام سے اور سلف سے یعنی بزرگوں سے۔ مراد سلف سے کون ہیں؟ صحابہ اور تابعین ہیں، آگے شرح میں بتلائیں گے۔ بأن تكون علة هذا المجتهد موافقة لعلة استنبط بها النبي عليه الصلاة والسلام والصحابة والتابعون، بایں طور کہ اس مجتہد کی یہ جو علّت ہے یہ موافق ہونی چاہیے اس علّت کے جس کا استنباط کیا ہو حضور علیہ السلام نے اور صحابہ اور تابعین نے، ولا تكون نابية عنها، اور یہ اس سے دور نہ ہو بھئی۔ یہ جو مجتہد نے علّت نکالی ہے اس حکم کی، یہ علّت کن کی علّتوں کی طرح ہونی چاہیے؟ حضور علیہ السلام اور صحابہ کی علّتوں کی طرح ہی ہو یہ والی مجتہد کی علّت، ان سے دور نہ ہو بھئی۔ ولا تكون نابية عنها، تو ولا تكون نابية عنها اس کا عطف وہ پیچھے جو بأن تكون آیا اسی تكون پر کریں بھئی۔ كتعليلينا بالصغر في ولاية المناكح، جیسے کہ ہماری علّت بیان کرنا صغر کے ساتھ نکاحوں کی ولایت میں۔ کس کی ولایت میں؟ نکاح کی ولایت میں ہم نے کیا علّت بیان کی تھی؟ ولی کو کیوں ولایت حاصل ہوگی؟ علّت کیا ہے؟ صغر ہے۔ تو کہتے ہیں: جمع منكح، یہ مناکح جو ہے منکح کی جمع ہے، بمعنى النكاح، اور یہ کس معنی میں ہے؟ نکاح کے معنی میں ہے۔ وقيل: جمع منكوحة، اور کہا گیا ہے کہ یہ منکوحہ کی جمع ہے، وهو ضعيف، اور یہ قول ضعیف ہے۔ بعض علماء نے کیا کہا کہ یہ تو منکح کی جمع ہے اور منکح کیا ہے؟ نکاح کو کہتے ہیں۔ اور دوسرا قول ذکر کیا کہ بعض نے کہا یہ منکوحۃ کی جمع ہے، شارح فرما رہے ہیں کہ یہ وجہ ضعیف ہے، اس کو منکوحہ کی جمع قرار دینا اور یہ والا قول کیا ہے؟ ضعیف ہے، وجہ یہ کہ اس صورت میں کہتے ہیں دو شاذ لازم آتے ہیں اگر اس کو منکوحہ کی جمع قرار دیا جائے مناکح کو۔ وجہ یہ کہ منکوحہ جو ہے اس کی جمع اگر مفاعل وزن پر ہو تو وہ مفاعل مناکیح ہونی چاہیے، کیا ہونی چاہیے؟ مناکیح۔ لیکن تو یہ مفعولۃ کی جمع مفاعیل آتی ہے، مفعولۃ کی جمع مفاعیل آتی ہے لیکن وہ بھی سماع پر بند ہے۔ جہاں عربوں سے سنا ہے وہی پر کیا جائے گا، تو یہ موقوف علی السماع ہے، یہ قیاسی نہیں ہے کہ ہر مفعولۃ وزن کی کیا جمع بنا لی جائے؟ مفاعیل جمع بنا لی جائے، مفاعیل بھئی عین، یا، لام بھئی۔ تو مفاعیل جمع بنا لی جائے، یہ قیاسی نہیں ہے، یہ موقوف علی السماع ہے بھئی۔ تو یہ پہلی بات، یہ شاذ ہوگا اگر ہم اس کو منکوحہ کی جمع بنائیں۔ کس کو جمع بنائیں؟ متن میں آیا مناکح، میں لفظ ذکر کر رہا ہوں مناکیح بھئی، کیونکہ ابھی دوسرا شاذ میں ذکر کروں گا۔ کیا کیا جائے؟ منکوحہ کی جمع کس کو قرار دیا جائے؟ مناکیح، تو یہ تو خلاف القیاس ہوا، تو شاذ ہوا شاذ بھئی۔ اور دوسرا شاذ اس میں یہ لازم آئے گا کہ پھر تو جمع مناکیح ہونی چاہیے تھی، لیکن متن میں تو مناکح ہے، معلوم ہوا یا کو بھی حذف کیا گیا ہے، تو یہ یا کا حذف بھی خلاف القیاس ہوا۔ تو یہ دوسرا شاذ اس کے اندر لازم آئے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مناکح کو اگر منکوحۃ کی جمع قرار دیا جائے تو دو شاذ لازم آتے ہیں، ایک تو یہ کہ یہ اس قسم کی جمع سماع پر موقوف ہے، قیاسی نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ پھر جمع مناکیح ہونی چاہیے تھی لیکن متن میں تو مناکح ہے تو پھر کہنا پڑے گا کہ یا کو حذف کیا گیا تو یہ حذف بھی کس قسم کا ہے؟ خلاف القیاس ہے۔ تو کہتے ہیں: وقيل: جمع منكوحة، وهو ضعيف، اور کہا گیا ہے کہ یہ منکوحۃ کی جمع ہے اور یہ قول ضعیف ہے۔ واختلف في علة ولاية النكاح، اور اختلاف کیا گیا ہے ولایتِ نکاح کی علّت میں، فعند الشافعي رحمه الله تعالى هي البكارة، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ علّت کیا ہے نکاح کی؟ بکارۃ ہے بھئی، باکرہ ہونا۔ وعندنا هي الصغر، اور ہمارے نزدیک صغر ہے، نابالغ ہونا۔ وبينهما عموم وخصوص من وجه، اور ان دونوں کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ کس کے اندر؟ صغر ہم نے علّت بیان کی ولایتِ نکاح حاصل ہوگی ولی کو کس بناء پر؟ صغر کی بناء پر، کہ وہ نابالغ ہے اس کی اولاد تو وہ ان کا نکاح کروا سکتا ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا علّت ذکر کرتے ہیں؟ بکر، یعنی باکرہ ہونا بھئی، تو باکرہ ہونا انہوں نے علّت بیان کی۔ اور یہ بکر اور صغر کے درمیان نسبت ہے عموم و خصوص من وجہ کی، عموم و خصوص من وجہ کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک مادہ اجتماع کا ہوتا ہے اور دو مادے افتراق کے۔ اجتماع کا مادہ کہ باکرہ بھی ہو اور صغیرہ بھی ہو، باکرہ بھی ہو اور صغیرہ نابالغ ہے اور باکرہ ہے تو یہاں پر دونوں جمع ہو گئے بھئی، بکر بھی اور صغر بھی۔ افتراق کے دو مادے کہ صرف صغر ہو، بکر نہ ہو، ہے صغیرہ لیکن ثیبہ ہے۔ افتراق کا دوسرا مادہ کہ باکرہ ہو لیکن صغیرہ نہ ہو، باکرہ ہے لیکن صغیرہ یعنی نابالغ نہیں ہے بلکہ بالغہ ہے بھئی بالغ۔ تو یہاں تین صورتیں بن گئیں معلوم ہوا۔ باکرہ بھی ہو اور صغیرہ بھی ہو تو بالاتفاق ولایتِ نکاح حاصل ہوگی ولی کو۔ ہمارے نزدیک ولایت حاصل ہوگی صغر کی وجہ سے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ولایت حاصل ہوگی بکر کی وجہ سے۔ اور باکرہ ہو اور صغیرہ نہ ہو یعنی بالغہ ہے، بالغہ ہے اور ہے کیا؟ باکرہ، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بکارۃ والی علّت موجود ہے، لہذا ولی کو ولایت حاصل ہوگی، ہمارے نزدیک چونکہ صغر نہیں، بالغہ ہو چکی لہذا ولی کو ولایتِ نکاح حاصل نہیں علمی۔ تیسری صورت افتراق والی کہ صغیرہ ہو لیکن باکرہ نہ ہو بلکہ ثیبہ ہو، تو ہمارے نزدیک صغر موجود ہے لہذا ولی کو ولایتِ نکاح حاصل ہوگی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک علّت بکارۃ ہے وہ موجود نہیں لہذا ولی کو ولایت حاصل نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وبينهما عموم وخصوص من وجه، ان دونوں کے درمیان یعنی بکارۃ اور صغر کے درمیان عموم و خصوص من وجہ ہے، فالصغيرة يجوز أن تكون بكرا وأن تكون ثيبا، کہ پس صغیرہ میں جائز ہے، ممکن ہے کہ وہ باکرہ ہو اور یہ کہ وہ ثیبہ ہو، وكذا البكر يجوز أن تكون صغيرة وأن تكون بالغة، اور باکرہ کے اندر جائز ہے کہ وہ صغیرہ ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ بالغہ ہو بھئی۔ فالبكر الصغيرة يولى عليها اتفاقا، پس باکرہ صغیرہ جو ہے اس پر ولایت حاصل ہوگی بالاتفاق، والثيب البالغة لا يولى عليها اتفاقا، اور ثیبہ بالغہ، ثیبہ بھی ہو اور بالغہ بھی ہو لا يولى عليها اتفاقا اس پر ولایت حاصل، اس پر ولایت نہیں دی جائے گی کیونکہ ثیبہ ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بکارۃ والی علّت نہیں اور ہمارے نزدیک بھی ولایت نہیں ہوگی کیونکہ بالغہ ہے، صغر والی علّت بھی نہیں ہے۔ والثيب الصغيرة يولى عليها عندنا دون الشافعي، جبکہ ثیبہ صغیرہ جو ہے اس پر ولایت ہوگی ہمارے نزدیک نہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، والبكر البالغة يولى عليها عند الشافعي لا عندنا، اور باکرہ بالغہ جو ہے اس پر ولایت ہوگی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نہ کہ ہمارے نزدیک بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آسان سی بات۔ فعندنا للصغر تأثير في ولاية النكاح، پس ہمارے نزدیک صغر جو ہے اس کی تاثیر ہے ولایتِ نکاح میں، یہ مؤثر ہے کس کے اندر؟ ولایتِ نکاح میں، لما يتصل به، اس چیز کی وجہ سے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے یعنی صغر کے ساتھ۔ لما يتصل به، علّت ذکر کر رہے ہیں، ہم نے کیا کہا؟ صغر مؤثر ہے کس کے اندر؟ ولایتِ نکاح میں، کیوں مؤثر ہے؟ لما اس چیز کی وجہ سے يتصل به جو اس صغر کے ساتھ ملی ہوئی ہے، بھئی وہ کیا چیز ہے؟ بیان چاہیے، من العجز، یعنی کہ عجز، یہ بیان ہے ما کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس چیز کی وجہ سے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے یعنی کہ عجز، تو من العجز کس کا بیان ہے؟ ما کا، اب با محاورہ ترجمہ کرنے کے لیے ما کی جگہ اسی بیان کو لے جائیں یعنی عجز کو لے جائیں، کس طرح ترجمہ ہوگا؟ کہ ہمارے نزدیک صغر کو اس کی تاثیر ہے ولایتِ نکاح میں بموجب اس عجز کے جو صغر کے ساتھ ملا ہوا ہے بھئی۔ صغر کے ساتھ کیا ملا ہوا ہے؟ عجز، وہ عاجز ہے بھئی، آپ نے پڑھا بھئی کہ جو نابالغ ہے وہ اس کو شریعت نے تصرف کا حق نہیں دیا، وہ اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا، تو اور نیز جس طرح اپنے مال میں تصرف کا اہل نہیں ہے اسی طرح اپنے نفس میں بھی وہ تصرف کا اہل نہیں، تو وہ عاجز ہے بھئی، تو صغر کے ساتھ کون سا وصف ملا ہوا ہے؟ عجز کا، وہ عاجز ہے بھئی۔ إذ الصغيرة عاجزة عن التصرف في نفسها ومالها، اس لیے کیونکہ صغیرہ عاجز ہے تصرف کرنے سے اپنے نفس میں اور اپنے مال میں، ولا تهتدي إليها سبيلا، اور وہ نہیں پاتی اس کی طرف کوئی راہ بھئی، اس کے لیے اس کی طرف کوئی راستہ نہیں اپنے نفس اور مال میں تصرف کرے۔ وقد ظهر تأثيره في ولاية المال بالاتفاق، اور تحقیق ظاہر ہو چکی ہے تأثيره أي تأثير الصغر، کس کی تاثیر؟ صغر کی تاثیر في ولاية المال، کس کے اندر؟ ولایتِ مال میں بالاتفاق، بھئی صغیر یا صغیرہ کے مال کی ولایت ولی کو حاصل ہوگی کس بناء پر؟ صغر بالاتفاق صغر کی وجہ سے حاصل ہوگی، تو دیکھو اس صغر کے کی تاثیر ظاہر ہو چکی ہے ولایتِ مال میں بالاتفاق، فكذا في ولاية النكاح، تو اسی طرح کس میں ہوگا؟ ولایتِ نکاح میں بھی یہ مؤثر بنے گا صغر اور ولی کو ولایتِ نکاح حاصل ہوگی۔ فإنه، أي الصغر، پس بے شک وہ یعنی کہ صغر، ضمیر کا مرجع بتلا دیے فإنه، یہاں ضمیر کس کو راجع ہے؟ صغر، پس بے شک یہ صغر جو ہے مؤثر في إثبات الولاية، یہ مؤثر ہے ولایت کے ثابت کرنے میں مثل تأثير الطواف، جیسے کہ طواف کی تاثیر ہے۔ في طهارة سؤر الهرة، کس چیز کے اندر؟ بلی کے جوٹھے کے پاک ہونے میں جیسے طواف مؤثر ہے اسی طرح یہ صغر بھی مؤثر ہے اثباتِ ولایت میں۔ تو صغر کس کی طرح ہوا؟ طواف کی طرح، جیسے طواف مؤثر تھا اس کی وجہ سے بلی کے جوٹھے کو پاک قرار دیا گیا، اسی طرح صغر بھی مؤثر ہے کس چیز کے اندر؟ ولایت کے اندر، تو یہ اسی طواف کے مثل ہوا یہ صغر۔ تو جیسے کہ کہتے ہیں مثل تأثير الطواف في طهارة سؤر الهرة، جیسے کہ طواف کی تاثیر ہے بلی کے جوٹھے کے پاک ہونے کے اندر لما يتصل به، بموجب اس چیز کے جو اس کے ساتھ اس طواف کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ بموجب اس چیز کے جو ملی ہوئی ہے اس طواف کے ساتھ، بھئی کیا چیز ملی ہوئی ہے؟ من الضرورة، یہ بیان آ گیا ما کا، یعنی کہ ضرورت، تو ضرورت کس کا بیان ہے؟ ما کا، اس کی جگہ پر ضرورت کو لے جائیں پھر ترجمہ کیجیے، جیسے کہ تاثیر ہے طواف کی بموجب اس ضرورت کے جو طواف کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ طواف کے ساتھ ضرورت کا وصف ملا ہوا ہے۔ لما يتصل به من الضرورة، بموجب اس ضرورت کے جو طواف کے ساتھ ملی ہوئی ہے، والحرج، اور حرج، یعنی کہ ضرورت اور حرج، حرج کا عطف ضرورت پر ہے۔ بھئی دیکھیے، بحث یہ چل رہی ہے کوئی وصف علّت تب بنے گا جب اس میں صلاحیت بھی ہو اور عدالت بھی ہو۔ عدالت کا بیان تو ہو چکا، اب صلاحیت کو بیان کر رہے ہیں۔ صلاحیت کا معنی انہوں نے یہ کیا کہ اس کی مناسبت ہو اس اس وصف کی یا اس علّت کی مناسبت ہو ان علّتوں کے ساتھ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور تابعین سے منقول ہیں، یعنی یہ علّت بھی انہی کے علّتوں کی طرح ہو۔ چنانچہ اب بیان کر رہے ہیں کہ دیکھیے ہم نے ولایتِ نکاح کے لیے صغر کو علّت بنایا، امام شافعی رحمہ اللہ نے بکارۃ کو علّت بنایا اور ہم نے صغر کو علّت بنایا اور ہماری جو علّت ہے وہ حضور علیہ السلام سے منقول علّت کی طرح ہے۔ ہماری یہ علّت صغر کس کی طرح ہے؟ حضور علیہ السلام سے جو علّت منقول ہے۔ تو ہماری یہ صغر کی علّت، وہ حضور علیہ السلام کی جو علّتِ طواف تھی بالکل اس کی طرح ہے۔ تو ہمارے نزدیک بھئی صغر جو ہے مؤثر ہے ولایتِ نکاح کے اندر اور یہ صغر اسی طرح ہے جس طرح کہ طواف مؤثر ہے کس کے اندر؟ بلی کے جوٹھے کے پاک قرار دینے کے اندر۔ بھئی ہم نے ولایتِ نکاح کی علت کس کو بنایا؟ صغیر کو بنایا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے جھوٹے کو پاک قرار دینے کے لیے کس کو علت بنایا؟ طواف کو علت بنایا کہ یہ بار بار آنے جانے والی ہے تو اس کی وجہ سے یہ ہر چیز میں منہ ڈالے گی۔ اگر اس کے، اگر اس کے جھوٹے کو پاک قرار نہ دیا جائے تو لوگ بڑے حرج میں پڑ جائیں گے، بڑی تکلیف میں پڑ جائیں گے۔ تو کثرتِ طواف کی وجہ سے ضرورت پیش آئی کہ اس کے جھوٹے کو پاک قرار دیا جائے۔ کثرتِ طواف کی وجہ سے ضرورت پیش آئی کہ اس کے جھوٹے کو پاک قرار دیا جائے۔ اسی طرح صغیر کی وجہ سے ضرورت پیش آئی کہ اس صغیر اور صغیرہ کے ولی کو ولایتِ نکاح حاصل ہو۔ جس طرح طواف کی وجہ سے ضرورت پیش آئی، کس چیز کی؟ کہ اس کے جھوٹے کو پاک قرار دیا جائے۔ اسی طرح صغیر کی وجہ سے ضرورت پیش آئی کہ صغیر اور صغیرہ پر ان کے ولی کو ولایتِ نکاح حاصل ہو تو دیکھیے، ضرورت بھئی! ایک علت ہے ولایتِ نکاح کی صغیر اور دوسری علت ہے بلی کو کہ جھوٹے کو پاک قرار دینے کی وہ طواف ہے۔ تو ایک علت ہے صغیر، ایک علت ہے طواف۔ صغیر علت ہم نے بیان کی ولایتِ نکاح میں اور طواف علت حضور علیہ السلام نے بیان کی طہارتِ سورِ ہرہ کے اندر اور یہ اگرچہ علتیں الگ الگ ہیں لیکن جن سے ضرورت میں متحد ہیں، جن سے ضرورت میں متحد ہیں جیسے طواف میں ضرورت پیش آئی۔ طواف کے ساتھ ضرورت لازم تھی تو اس وجہ سے اس کی بلی کے جھوٹے کو پاک کہا گیا تو یہاں صغیر میں بھی ضرورت پیش آئی کہ ولایتِ نکاح کس کو حاصل ہو؟ ولی کو حاصل ہو۔ کیونکہ صغیر اور صغیرہ اپنے جس طرح مال میں تصرف نہیں کر سکتے، اپنے نفس میں بھی تصرف نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے کوئی راستہ ہے ہی نہیں تو ضرورت پیش آئی کہ ولایتِ نکاح کن کو ہونی چاہیے؟ ولی کو۔ تو جیسے صغیر میں ضرورت کی بنا پر ولایتِ نکاح کس کو ملی؟ ولی کو۔ اسی طرح کثرتِ طواف میں بھی ضرورت پیش آئی تو اس ضرورت کی بنا پر بلی کے جھوٹے کو پاک قرار دیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو ہماری علتِ صغیر کس کی طرح ہے؟ حضور علیہ السلام کی علتِ حضور علیہ السلام کی بیان کردہ علتِ طواف کی طرح ہے اور دونوں میں کیا چیز اس دونوں کے ساتھ لازم ہے؟ ضرورت لازم ہے، ضرورت میں دونوں متحد ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں فانہ ای صغیر موثر فی اثبات الولایہ کہ صغیر جو ہے وہ موثر ہے ولایت کے ثابت کرنے میں مثل تاثیر الطوافی جیسے کہ طواف جو ہے اس کی تاثیر ہے فی طہارت سور ہرۃ بلی کے جھوٹے کی پاکی میں لما یتصل بہ من الضرورت بوجہ اس ضرورت کے جو طواف کے ساتھ ملی ہوئی ہے والحرج اور وہ جو حرج اس کے ساتھ ملا ہوا ہے بھئی۔ کیونکہ اگر اس کے جھوٹے کو پاک قرار نہ دیا جائے بلی کے جھوٹے کو تو حرج لازم آئے گا، لوگ تکلیف میں پڑ جائیں گے بھئی کیونکہ وہ تو ہر چیز کو منہ لگاتی ہے۔ تو جو یہ ہے لما یتصل بہ من الضرورت والحرج بوجہ اس ضرورت اور حرج کے جو طواف کے ساتھ ملا ہوا ہے فی کثرۃ المزاولۃ والمجیء۔ مزاولہ کا معنی ہے کوشش کرنا، بار بار کسی کام کو کرنا اور مجیء کا معنی آنا۔ کثرتِ مزاولت اور کثرتِ مجیء میں بھئی بلی بار بار کوشش کرتی ہے اور بار بار آتی ہے تو وہ ہر چیز کو منہ لگائے گی تو لہٰذا اگر اس کے جھوٹے کو پاک قرار نہ دیا جائے تو حرج لازم آئے گا، حرج لازم آئے گا تو اس ضرورت کی بنا پر اس کے جھوٹے کو پاک کہا گیا۔ فالحاصل حاصل یہ کہ ان وصف الصغیر الذی نقول بہ کہ صغیر کا وہ وصف جس کے ہم قائل ہیں فی ولایت النکاح ولایت نکاح میں موافق لوصف الطواف الذی قال بہ النبی علیہ الصلوۃ والسلام فی سور ہرۃ تو یہ جو صغیر جس کے ہم قائل ہیں ولایت نکاح میں یہ موافق ہے اس وصف طواف کے جس کا قائل ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فی سور ہرۃ کس کے اندر بلی کے جھوٹے میں تو یہ ہماری علت اس حضور علیہ السلام کی علت کے موافق ہے کس چیز میں؟ فی کونہما مفضیًا الی الحرج والضرورت۔ اس بات کے اندر کہ یہ دونوں یعنی صغیر اور طواف یہ پہنچانے والے ہیں حرج اور ضرورت تک۔ کہاں تک پہنچانے والے ہیں؟ حرج اور ضرورت تک پہنچانے والے ہیں۔ اگر یہ طواف کو پاکی کی علت نہ بنایا جائے تو لوگ حرج میں پڑ جائیں گے۔ طواف کی وجہ سے ضرورت پیش آئی کہ بلی کے جھوٹے کو پاک کہا جائے اور اسی طرح صغیر کو اگر ولایتِ نکاح کی علت نہ بنایا جائے تو صغیر بیچارے کو تو جس طرح اپنے مال میں ولایت نہیں، اسی طرح اپنے نفس میں بھی ولایت نہیں تو وہاں بھی پھر حرج لازم آئے گا تو اس ضرورت کی بنا پر ولی کو ولایتِ نکاح دی گئی۔ تو دونوں، دونوں جو ہیں وصف صغیر بھی کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ حرج اور ضرورت تک کہ وہاں ضرورت ہے چونکہ صغیر کو خود ولایت حاصل ہے نہیں، لہٰذا اس کے ولی کو ولایت ملنی چاہیے بھئی۔ تو صغیر بھی حرج اور ضرورت تک پہنچانے والا ہے اور طواف بھی کہاں تک؟ حرج اور ضرورت تک۔ فکما ان طواف فی الہرۃ صار ضرورۃ لازمۃ لطہارت سور، فکذا الصغیر فی النکاح صار ضرورۃ لازمۃ لولایت النکاح۔ پس جس طرح کہ طواف بلی میں وہ ضرورتِ لازمہ بن گیا جھوٹے کے پاکی میں، تو اسی طرح صغیر جو ہے وہ نکاح کے اندر وہ ضرورتِ لازمہ بن گیا کس کے لیے؟ ولایتِ نکاح میں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح۔ دون الاطراد نہ کہ اطراد دون الاطراد شارع فرما رہے ہیں متعلق بقولہ صلاحہ وعدالتہ کہ یہ دون الاطراد اس کا تعلق ماتن کے قول صلاحہ وعدالتہ سے ہے بھئی۔ بھئی یہ ایک ڈیڑھ صفحہ قبل متن آیا تھا ودلالت ودلالت کون الوصف علتًا صلاحہ وعدالتہ اور وصف کے علت ہونے کی دلیل اس وصف کی صلاحیت اور اس کی عدالت ہے دون الاطراد نہ کہ اطراد ہے تو اطراد کا اس سے تعلق ہے تو ہمارے نزدیک وصف کے علت ہونے کی دلیل کیا چیز ہے؟ صلاح اور عدالت ہے دون الاطراد نہ کہ نہ کہ اطراد بھئی۔ نہ کہ اطراد۔ بھئی اطراد اطراد یہ ہے کہ حکم کے ساتھ ساتھ وہ وصف بھی چکر لگاتا ہے۔ اطراد کا معنی ہے دوران بھئی چکر لگانا۔ یعنی جہاں جہاں جہاں حکم ہے وہاں علت ہے۔ جہاں حکم ہے وہاں علت ہے۔ جہاں بھی حکم ہوتا ہے وہاں علت بھی پائی جاتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں اطراد اور اطراد کے ساتھ انہوں نے ذکر کیا اسی کو طرد بھی کہتے ہیں۔ طرد اور اس کے ساتھ ایک اور لفظ عکس بھی استعمال ہوتا ہے۔ طرد کا معنی کیا کیا میں نے؟ جہاں حکم ہو وہاں علت۔ جہاں بھی حکم ہم نے دیکھا ایک حکم پایا جا رہا ہے وہاں وہ وصف اور وہ علت بھی پائی جا رہی ہے۔ اور عکس جہاں حکم نہیں ہے، ہم نے دیکھا وہاں وہ علت بھی نہیں ہے۔ تو وہ علت حکم کے ساتھ ساتھ چکر لگاتی ہے۔ جہاں حکم ہے وہاں وہ علت بھی ہمیں مل جاتی ہے اور جہاں حکم نہیں ہوتا وہاں دیکھتے ہیں تو وہ علت بھی نہیں ہوتی۔ تو اس کو کہتے ہیں طرد و عکس بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ طرد و عکس طرد کا معنی جہاں حکم ہے وہاں وہ وصف بھی ہمیں مل جاتا ہے دیکھتے ہیں تو وہاں ہوتا ہے اور عکس جہاں حکم نہیں ہوتا وہاں دیکھتے ہیں تو علت بھی نہیں ملتی۔ تو یاد رکھیے ہمارے نزدیک تو بیان ہو گیا بھئی کہ کوئی وصف تب علت بنے گا جب وہ موثر بھی ہو۔ جب اس کی تاثیر بھی ہو اور تاثیر کا پتہ چلے گا صلاح اور عدالت سے۔ تو ہمارے نزدیک علت تبھی علت بنے گی، تبھی معتبر ہوگی جبکہ وہ موثر بھی ہو، جب وہ اثر بھی دکھائے اور اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ صلاح اور وصف سے جبکہ بعض فقہاء کے نزدیک یہ طرد و عکس بھی علت ہے۔ طرد و عکس کو بھی وہ دلیل بناتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وصف علت تب بنے گا جب وہ موثر بھی ہو اور موثر ہونے کا پتہ کس سے چلے گا؟ صلاح اور عدالت سے۔ جبکہ بعض فقہاء وصف کو طرد و عکس کو دلیل بناتے ہیں علت کے لیے کہ جہاں دیکھیے جہاں حکم ہے یہ علت موجود ہے جہاں حکم نہیں وہاں علت بھی نہیں۔ معلوم ہوا یہی اس حکم کی علت ہے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی؟ کیا دلیل بناتے؟ طرد و عکس کہ آپ غور کر کے دیکھ لیں جہاں جہاں یہ حکم آپ کو مثلاً حرمت والا ایک کس چیز کا حکم ہے۔ جہاں جہاں یہ والا حکم آ رہا ہے وہاں وہاں یہ علت بھی پائی جا رہی ہے اور جہاں جہاں یہ حکم نہیں ہے وہاں پر یہ والی علت بھی نہیں۔ معلوم ہوا یہی اس کی علت ہے اس حکم کی۔ تو وہ ہمارے نزدیک کسی کوئی وصف تب علت بنے گا جب وہ موثر بھی ہو تو ہمارے نزدیک اعتبار ہے موثر ہونے کا، ساتھ گھومنے اور چکر لگانے کا کوئی اعتبار نہیں۔ کیونکہ آگے آپ کو بتائیں گے کہ ایسے تو شرط بھی حکم کے ساتھ گھومتی ہے۔ جہاں شرط ہوتی ہے وہاں حکم ہوتا ہے بھئی۔ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو شرط بھی تو حکم کے ساتھ چکر لگاتی ہے لیکن کوئی بھی اس کو علت نہیں قرار دیتا بھئی۔ تو کسی وصف کا حکم کے ساتھ ہونا، جہاں بھی حکم ہو وہاں ایک وصف بھی پایا جائے اور جہاں حکم نہیں وہاں وہ وصف بھی نہ ہو، اس سے اس وصف کا علت ہونا لازم نہیں آتا۔ تو ہمارے نزدیک اصل دارو مدار کس چیز پر ہے؟ اس علت کے موثر ہونے کا اب اعتبار کس چیز کا ہے؟ علت کے موثر ہونے کا اعتبار ہے، اس کی تاثیر ہونی چاہیے اور اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ صلاح اور عدالت سے۔ جبکہ ان کے نزدیک علت موثر ہو یا نہ ہو، بس وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ جہاں جہاں حکم ہے دیکھو یہ علت بھی ہے، جہاں حکم نہیں یہ علت بھی نہیں۔ معلوم ہوا یہی علت کیا ہے اس حکم یہ یہ وصف اس حکم کی علت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو وہ طرد و عکس کا اعتبار کرتے ہیں موثر ہونے کو نہیں دیکھتے، کہتے ہیں دیکھ لو طرد و عکس ہے، معلوم ہوا یہ وصف علت ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں طرد و عکس سے کسی وصف کا علت ہونا لازم نہیں آتا ساتھ ساتھ ہے اور جہاں وہ نہیں وہ تو ساتھ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا یہ اس کی علت ہو۔ بلکہ اس علت کے لیے باقاعدہ کیا ثابت کرنا پڑے گا آپ کو؟ کہ یہ موثر بھی ہے، اس کی تاثیر بھی ہے، اس کی صلاح اور عدالت کو بھی ثابت کرنا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو ہمارے نزدیک اطراد علت نہیں ہے، اطراد دلیل نہیں بن سکتی کسی وصف کی علت ہونے کے لیے جب ہمارے نزدیک اعتبار موثر ہونے کا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دون الاطراد نہ کہ اطراد۔ یاد رکھیے اب یہاں سے وہ چیزیں بیان کر رہے ہیں، کچھ چیزیں جو اور فقہاء کے نزدیک دلیل ہیں، ہمارے نزدیک دلیل نہیں۔ کچھ وہ چیزیں بیان کر رہے ہیں جو اور فقہاء کے نزدیک دلیل ہیں، ہمارے نزدیک دلیل نہیں۔ پہلی چیز طرد بیان ہوئی۔ طرد و عکس بعض کے نزدیک دلیل ہے، ہمارے نزدیک یہ دلیل نہیں۔ دون الاطراد نہ کہ اطراد متعلق بقولہ صلاحہ وعدالتہ یہ مصنف کے قول صلاحہ وعدالتہ سے متعلق ہے اور دلیل کون الوصف علتًا صلاحہ وعدالتہ اور وصف کے علت ہونے کی دلیل اس وصف کی صلاحی اور اس کی عدالت ہے دون الاطراد نہ کہ اطراد ہے تو اطراد کا اس سے تعلق ہے تو ہمارے نزدیک وصف کے علت ہونے کی دلیل کیا چیز ہے؟ صلاح اور عدالت ہے دون الاطراد نہ کہ نہ کہ اطراد بھئی، نہ کہ اطراد بھئی اطراد اطراد یہ ہے کہ حکم کے ساتھ ساتھ وہ وصف بھی چکر لگاتا ہے۔ اطراد کا معنی ہے دوران بھئی چکر لگانا۔ یعنی جہاں جہاں جہاں حکم ہے وہاں علت ہے۔ جہاں حکم ہے وہاں علت ہے۔ جہاں بھی حکم ہوتا ہے وہاں علت بھی پائی جاتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں اطراد اور ایک جی اور اطراد کے ساتھ انہوں نے ذکر کیا اسی کو طرد بھی کہتے ہیں۔ طرد۔ طرد اور اس کے ساتھ ایک اور لفظ عکس بھی استعمال ہوتا ہے۔ طرد کا معنی کیا کیا میں نے؟ جہاں حکم ہو وہاں علت۔ جہاں بھی حکم ہم نے دیکھا ایک حکم پایا جا رہا ہے وہاں وہ وصف اور وہ علت بھی پائی جا رہی ہے۔ اور عکس جہاں حکم نہیں ہے، ہم نے دیکھا وہاں وہ علت بھی نہیں ہے۔ تو وہ علت حکم کے ساتھ ساتھ چکر لگاتی ہے۔ جہاں حکم ہے وہاں وہ علت بھی ہمیں مل جاتی ہے اور جہاں حکم نہیں ہوتا وہاں دیکھتے ہیں تو وہ علت بھی نہیں ہوتی۔ تو اس کو کہتے ہیں طرد و عکس بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ طرد و عکس۔ طرد کا معنی جہاں حکم ہے وہاں وہ وصف بھی ہمیں مل جاتا ہے دیکھتے ہیں تو وہاں ہوتا ہے اور عکس جہاں حکم نہیں ہوتا وہاں دیکھتے ہیں تو علت بھی نہیں ملتی۔ تو یاد رکھیے ہمارے نزدیک تو بیان ہو گیا بھئی کہ کوئی وصف تب علت بنے گا جب وہ موثر بھی ہو۔ جب اس کی تاثیر بھی ہو اور تاثیر کا پتہ چلے گا صلاح اور عدالت سے۔ تو ہمارے نزدیک علت تبھی علت بنے گی، تبھی معتبر ہوگی جبکہ وہ موثر بھی ہو، جب وہ اثر بھی دکھائے اور اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ صلاح اور عدالت سے۔ جبکہ بعض فقہاء کے نزدیک یہ طرد و عکس بھی علت ہے۔ طرد و عکس کو بھی وہ دلیل بناتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وصف علت تب بنے گا جب وہ موثر بھی ہو تو ہمارے نزدیک اعتبار ہے موثر ہونے کا، ساتھ گھومنے اور چکر لگانے کا کوئی اعتبار نہیں۔ کیونکہ آگے آپ کو بتائیں گے کہ ایسے تو شرط بھی حکم کے ساتھ گھومتی ہے۔ جہاں شرط ہوتی ہے وہاں حکم ہوتا ہے بھئی۔ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو شرط بھی تو حکم کے ساتھ چکر لگاتی ہے لیکن کوئی بھی اس کو علت نہیں قرار دیتا بھئی۔ تو کسی وصف کا حکم کے ساتھ ہونا، جہاں بھی حکم ہو وہاں ایک وصف بھی پایا جائے اور جہاں حکم نہیں وہاں وہ وصف بھی نہ ہو، اس سے اس وصف کا علت ہونا لازم نہیں آتا۔ تو ہمارے نزدیک اصل دارو مدار کس چیز پر ہے؟ اس علت کے موثر ہونے کا اب اعتبار کس چیز کا ہے؟ علت کے موثر ہونے کا اعتبار ہے، اس کی تاثیر ہونی چاہیے اور اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ صلاح اور عدالت سے۔ جبکہ بعض فقہاء وصف کو طرد و عکس کو دلیل بناتے ہیں علت کے لیے کہ جہاں دیکھیے جہاں حکم ہے یہ علت موجود ہے جہاں حکم نہیں وہاں علت بھی نہیں۔ معلوم ہوا یہی اس حکم کی علت ہے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی؟ کیا دلیل بناتے؟ طرد و عکس کہ آپ غور کر کے دیکھ لیں جہاں جہاں یہ حکم آپ کو مثلاً حرمت والا ایک کس چیز کا حکم ہے۔ جہاں جہاں یہ والا حکم آ رہا ہے وہاں وہاں یہ علت بھی پائی جا رہی ہے اور جہاں جہاں یہ حکم نہیں ہے وہاں پر یہ والی علت بھی نہیں۔ معلوم ہوا یہی اس کی علت ہے اس حکم کی۔ تو وہ ہمارے نزدیک کسی کوئی وصف تب علت بنے گا جب وہ موثر بھی ہو تو ہمارے نزدیک اعتبار ہے موثر ہونے کا، ساتھ گھومنے اور چکر لگانے کا کوئی اعتبار نہیں۔ کیونکہ آگے آپ کو بتائیں گے کہ ایسے تو شرط بھی حکم کے ساتھ گھومتی ہے۔ جہاں شرط ہوتی ہے وہاں حکم ہوتا ہے بھئی۔ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو شرط بھی تو حکم کے ساتھ چکر لگاتی ہے لیکن کوئی بھی اس کو علت نہیں قرار دیتا بھئی۔ تو کسی وصف کا حکم کے ساتھ ہونا، جہاں بھی حکم ہو وہاں ایک وصف بھی پایا جائے اور جہاں حکم نہیں وہاں وہ وصف بھی نہ ہو، اس سے اس وصف کا علت ہونا لازم نہیں آتا۔ تو ہمارے نزدیک اصل دارو مدار کس چیز پر ہے؟ اس علت کے موثر ہونے کا اب اعتبار کس چیز کا ہے؟ علت کے موثر ہونے کا اعتبار ہے، اس کی تاثیر ہونی چاہیے اور اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ صلاح اور عدالت سے۔ جبکہ بعض فقہاء وصف کو طرد و عکس کو دلیل بناتے ہیں علت کے لیے کہ جہاں دیکھیے جہاں حکم ہے یہ علت موجود ہے جہاں حکم نہیں وہاں علت بھی نہیں۔ معلوم ہوا یہی اس حکم کی علت ہے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی؟ کیا دلیل بناتے؟ طرد و عکس کہ آپ غور کر کے دیکھ لیں جہاں جہاں یہ حکم آپ کو مثلاً حرمت والا ایک کس چیز کا حکم ہے۔ جہاں جہاں یہ والا حکم آ رہا ہے وہاں وہاں یہ علت بھی پائی جا رہی ہے اور جہاں جہاں یہ حکم نہیں ہے وہاں پر یہ والی علت بھی نہیں۔ معلوم ہوا یہی اس کی علت ہے اس حکم کی۔ عدم کا ایک چیز کا وجود ہی نہیں ہے، تو اس کو علت تو نہیں بنایا جا سکتا بھئی۔ علت تو ہمیشہ کیا چیز ہوگی؟ وجودی ہوگی۔ تو کہتے ہیں عدم جو ہے، اس کا کوئی دخل نہیں ہے کسی چیز کے علت ہونے میں بدیہی طور پر "ولظهوره" اور اس بات کے ظاہر ہونے کی وجہ سے "لم يتعرض له المصنف" اس کے پیچھے بھی نہیں پڑے، اور کہا "ومثله التعليل بـ" ہاں، اس کے پیچھے بھی نہیں پڑے اسی وجہ سے بھئی۔ پیچھے کہا نا مطرد کا کس چیز کے اعتبار سے ہے؟ "وجوداً وعدماً" وجود اور عدم دونوں کے اعتبار سے "أو وجوداً فقط" یا صرف وجود کے اعتبار سے۔ اب اگلے متن میں کہا "لأن الوجود قد يكون اتفاقياً" کیونکہ وجود تو کبھی کبھار اتفاقی بھی ہوتا ہے، تو وصف کا حکم کے ساتھ پایا جانا، یہ اس کے علت ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ صرف کس کی بات کی؟ "لأن الوجود" وجود کی بات کی، کس کی دلیل؟ وجود کے لیے، وجود کی دلیل ذکر کر دی کہ وصف حکم کے ساتھ ہو، جہاں جہاں حکم آ رہا ہے ہم دیکھتے ہیں ایک وصف بھی ساتھ ہے اس کے، تو یہ ضروری نہیں کہ یہ وصف کیا ہو؟ اس کی علت ہو، کیونکہ وصف کیونکہ اس طرح تو شرط بھی کیا ہوتی ہے؟ شرط بھی حکم کے ساتھ آتی ہے، لیکن کوئی بھی اس کو علت قرار نہیں دیتا۔ تو وجود تو معلوم ہوا اتفاقاً بھی ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے یہ وصف اتفاقاً اس کے ساتھ ہر جگہ پر جمع ہو رہا ہو بھئی۔ تو معلوم ہوا کسی وصف کا حکم کے ساتھ پایا جانا، اس کا وجود ہونا، یہ اس کے علت ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ تو یہ تو وجود کے بارے میں دلیل دے دی۔ عدم کی بھی تو بات آئی تھی؟ عدم کو چھیڑا ہی نہیں مصنف نے، کیوں نہیں چھیڑا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ عدم کا تو کوئی دخل ہی نہیں ہے کسی چیز کے علت ہونے میں، اور یہ بات ظاہر ہے، کوئی معدوم شئے کسی کے لیے علت نہیں بن سکتی، اس لیے اس کو انہوں نے چھیڑا ہی نہیں، صرف "لأن الوجود قد يكون اتفاقياً" کہہ کر بس آگے اگلی بات شروع کر دی بھئی۔ کہتے ہیں "ومثله التعليل بالنفي" اور اسی کے مثل ہے تعلیل بالنفی۔ تعلیل کا کیا معنی میں نے بیان کیا تھا؟ قیاس کرنا، یعنی علت بیان کرنا۔ کیا کرنا؟ علت بیان کرنا۔ "بالنفي" نفی کے ساتھ۔ نفی کے ساتھ علت بیان کرنا بھی "ومثله" یعنی "مثل الاطراد" یہ کس کی طرح ہے؟ اطراد کی طرح ہے۔ بھئی جیسے اطراد ہمارے ہاں معتبر نہیں، دلیل نہیں، اسی طرح تعلیل بالنفی بھی یہ کیا، یہ بھی اسی اطراد کی طرح ہے، یعنی یہ دلیل نہیں بن سکتی۔ تعلیل بالنفی کیا؟ نفی کے ساتھ علت بیان کرنا، یوں کہنا بھئی یہ حکم یہاں پر نہیں ہے کیونکہ یہ علت نہیں ہے۔ یہ تعلیل بالنفی ہے۔ آپ نے حکم کی نفی کی اور علت کیا بیان کی؟ وصف یہاں نہیں ہے، نفی کے ساتھ اس کی علت بیان کی۔ یہاں مثلاً حرمت والا حکم نہیں ہے، کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ وہ وصف یہاں نہیں ہے، تو یہ آپ علت دلیل کیا ذکر کر رہے ہیں؟ نفی کو دلیل کے طور پر ذکر کر رہے ہیں، یہ ہمارے نزدیک دلیل نہیں ہے۔ وصف کی نفی سے حکم کی نفی ہو، یہ ضروری نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے ایک چیز کی ایک ہی علت نہ ہو، ہو سکتا ہے اور بھی علتیں ہوں۔ ایک وصف کے لیے ایک علت، ایک حکم کے لیے ایک ہی وصف کا علت ہونا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے اس کی کئی علتیں ہوں، تو ایک علت کی تو آپ نے نفی کر دی، ہو سکتا ہے دوسری علت یہاں موجود ہو۔ تو اس علت کی نفی سے حکم کی نفی نہیں ہوگی، کیونکہ پھر حکم کس کی وجہ سے پایا جائے گا؟ دوسری علت کی وجہ سے پایا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ ہے تعلیل بالنفی۔ تعلیل بالنفی کا کیا معنی؟ انتفائے حکم پر دلیل پیش کرنا، کس چیز کو؟ انتفائے علت کو۔ حکم منتفی ہے، کیوں منتفی ہے؟ کیونکہ علت منتفی ہے، یہ دلیل ہمارے نزدیک یہ دلیل نہیں ہے بھئی۔ "ومثلها" یعنی "مثل الاطراد التعليل بالنفي" اطراد ہی کے مثل ہے، کون بھئی؟ تعلیل بالنفی۔ یہ تشبیہ دے رہے ہیں تعلیل بالنفی کو اطراد کے ساتھ۔ میں کہتا ہوں زید شیر کے مثل ہی ہے، تشبیہ دی یا نہیں دی میں نے؟ تو یہاں پر بھی تعلیل بالنفی کو کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ اطراد کے ساتھ۔ تشبیہ کے لیے وجہ تشبیہ چاہیے، کس چیز میں تشبیہ دی جا رہی ہے؟ وہ وجہ تشبیہ درمیان میں ذکر کر دی، مثلاً میں کہتا ہوں: زید شیر کی طرح ہے بہادری میں، تو یہ بہادری کیا ہوئی؟ وجہ تشبیہ، یہی بیچ میں ذکر کر دی کہ یہ تعلیل بالنفی بھی اطراد کی طرح ہے "في عدم صلاحيته للدليل" دلیل کی صلاحیت نہ رکھنے میں۔ جیسے اطراد دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اسی طرح تعلیل بالنفی بھی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یعنی ہمارے نزدیک یہ دونوں دلیل نہیں ہیں، یہ دلیل بن ہی نہیں سکتے بھئی۔ "ووقع في بعض النسخ" اور نور الانوار منار کے، منار کے بعض نسخوں میں یہ لفظ آیا ہے، کون سا لفظ؟ "ووقع في بعض النسخ قوله" مصنف کا یہ قول بھی آیا ہے بعض منار کے نسخوں میں "ومن جنسه"۔ یہ جو آیا ہے نا اوپر متن میں "ومثله"، اس کی جگہ بعض نسخوں میں آیا ہے "ومن جنسه"۔ اور اطراد ہی کی جنس میں سے کیا ہے؟ تعلیل بالنفی بھی ہے بھئی۔ "لأن استقصاء العدمي" اچھا، انہوں نے کیا کہا؟ اطراد کی مثل ہی ہے تعلیل بالنفی بھی۔ "لأن استقصاء العدمي لا يمنع الوجود من وجه آخر" استقصاء کا معنی ہے کسی چیز کو پورا شمار کر لینا۔ استقصاء کا کیا معنی؟ پورا شمار، انتہا تک پہنچا دینا، انتہا تک پہنچا دینا، پورا شمار۔ "لأن استقصاء العدمي" اس لیے کیونکہ عدم کو انتہا تک پہنچا دینا یا عدم کو پورا شمار کر لینا، کیا معنی؟ عدم سے کیا مراد ہے؟ الف لام آیا، عدمِ علت، کیا مراد ہے؟ عدمِ علت کو انتہا تک پہنچا دینا، یعنی یہ ثابت ہو جانا کہ علت موجود نہیں۔ استقصاء العدم کا کیا معنی؟ یہ ثابت کر دینا کہ علت موجود نہیں۔ تو "لا يمنع الوجود" یہ وجود کو، یعنی حکم کے وجود کو منع نہیں کرتا۔ علت کا نہ ہونا، کیا اس سے اس سے حکم کا نہ ہونا ثابت ہوگا؟ علت نہ ہو، تو حکم بھی نہ ہو۔ تعلیل بالنفی کی بات چل رہی ہے بھئی۔ علت کا نہ پایا جانا، اس سے حکم کا نہ پایا جانا اس کے ساتھ ضروری نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے حکم کی اور کوئی علت ہو، اس کی وجہ سے وہ پایا جا رہا ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جیسے جیسے سورج نہ ہو، تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے روشنی نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے روشنی آپ نے بلب جلایا ہو، لالٹین جلائی ہو، دیا جلایا ہو۔ تو سورج بھی ایک علت ہے روشنی کی، اسی طرح بلب بھی ہے، ٹیوب لائٹ بھی ہے، دیا بھی ہے، چراغ بھی ہے، تو ایک علت کی نفی سے حکم کی نفی ضروری نہیں، ہو سکتا ہے وہ حکم کسی دوسری علت کی وجہ سے پایا جاتا ہو، یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ "لأن استقصاء العدمي لا يمنع الوجود" عدم سے کیا مراد؟ عدمِ علت۔ الوجود سے کیا مراد؟ وجودِ حکم، کیا مراد ہے؟ وجودِ حکم۔ اس لیے کہ علت کا عدمِ علت کا شمار کر لینا، عدمِ علت کو انتہا تک پہنچا دینا، یعنی یہ ثابت کر دینا کہ علت موجود نہیں ہے، "لا يمنع الوجود" یہ حکم کے وجود کو منع نہیں کرتا، "من وجه آخر" کسی دوسری وجہ سے، ہو سکتا ہے حکم کسی دوسری، "لأن استقصاء العدمي لا يمنع الوجود من وجه آخر" اس لیے کیونکہ عدم کو پورے طور پر شمار کر لینا، یہ وجود کو روکتا نہیں ہے کسی دوسری وجہ سے۔ "لأن الحكم قد يثبت بعلل شتى" اس لیے کیونکہ حکم کبھی کبھار ثابت ہوتا ہے مختلف علتوں کے ذریعے۔ شتی جمع ہے شتیت کی، مختلف، معنی کیا ہے؟ مختلف۔ اس لیے کیونکہ حکم کبھی ثابت ہوتا ہے مختلف علتوں سے، "فلا يلزم من انتفاء علة ما انتفاء جميع العلل من الدنيا" پس لازم نہیں آتا کسی ایک علت کے منتفی ہو جانے سے "انتفاء جميع العلل من الدنيا" تمام علتوں کا منتفی ہو جانا "من الدنيا" دنیا سے۔ ایک کسی ایک علت کے منتفی ہو جانے سے دنیا کی میں اس چیز کی سارے علتوں کا منتفی ہونا لازم نہیں آتا، تو آپ کہیں یہ علت نہیں، لہٰذا حکم بھی نہیں، نہیں، یہ آپ نہیں کہہ سکتے۔ ٹھیک ہے، یہ علت تو نہیں ہے، لیکن حکم نہ ہو یہ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ ہو سکتا ہے یہ کسی دوسری علت کی وجہ سے موجود ہو۔ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں "فلا يلزم من انتفاء علة ما"، "علة ما" علت کے نکرہ ہے، نکرہ کے بعد کبھی "ما" کو بڑھایا جاتا ہے، اس نکرہ کے اندر ابہام ہوتا ہے، اسی ابہام کی تاکید کے طور پر۔ اسی ابہام کی تاکید، یا یوں کہیں، اس کے ابہام کو مزید بڑھانے کے لیے۔ "فلا يلزم من انتفاء علة ما" پس لازم نہیں آتا کسی بھی علت کے انتفاء سے، "انتفاء جميع العلل من الدنيا" دنیا بھر سے تمام علتوں کا انتفاء، وہ لازم نہیں آتا کسی علت کے انتفاء سے، "حتى يكون نفي العلل دالاً على نفي الحكم" یہاں تک کہ نفیِ علت دال ہو جائے نفیِ حکم پر۔ کسی ایک علت سے باقی علتوں کا انتفاء لازم نہیں آتا کہ پھر آپ کیا کریں؟ انتفاءِ علت کو دلیل بنا دیں کس پر؟ انتفاءِ حکم پر دلیل بنا دیں۔ "كقول الشافعي رحمه الله في النكاح" جیسے امامِ شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے نکاح کے اندر، "أي في عدم انعقاد النكاح" بھئی امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح عورتوں کی گواہی سے منعقد نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں یہ جو ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی، یہ صرف عقودِ مالیہ کے اندر قابلِ قبول ہے، مال کے مسائل میں تو عورتوں کی گواہی مردوں کے ساتھ قبول ہے، اور چیزوں کے اندر عورتوں کی گواہی قبول نہیں، لہٰذا نکاح کے لیے دو مردوں ہی کا ہونا ضروری ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نکاح کے بارے میں عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں، صرف مال کے مسئلے میں ان کی گواہی قابلِ قبول ہے، اور وجہ اس کی یہ ہے کیونکہ مال جو ہے ادنیٰ چیز ہے۔ مال کیا ہے؟ ادنیٰ چیز ہے، اور نکاح اعلیٰ چیز ہے۔ اور مال میں بھی عورتوں کی گواہی کی اجازت اس لیے دی گئی کیونکہ مال کے معاملات بہت کثرت سے پیش آتے ہیں، دن رات انسان مختلف قسم کے معاملات کرتا رہتا ہے، تو یہ کثرت سے پیش آتے ہیں، اس لیے اس کے اندر عورتوں کی بھی گواہی کی اجازت دے دی گئی، جبکہ نکاح، نکاح تو ایک ہی مرتبہ ہوگا يا دو مرتبہ کسی کا ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس میں عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ تو دلیل ان کی کیا ہوئی؟ نکاح میں عورتوں کی گواہی کیوں قبول نہیں؟ کیونکہ نکاح مال نہیں۔ نکاح مال نہیں، عورتوں کی گواہی تو صرف کس میں قبول ہے؟ مال کے مسائل، اور نکاح مال نہیں، جب نکاح مال نہیں تو اس میں عورتوں کی گواہی بھی قبول نہیں۔ تو انہوں نے کس چیز کو علت بنایا؟ نفی کو علت بنایا بھئی، تعلیل بالنفی کی، عورتوں کی گواہی نکاح میں نہیں کیونکہ نکاح مال نہیں ہے، اگر مال ہوتا تو قبول ہوتی، مال نہیں ہے تو گواہی بھی قبول نہیں ہے بھئی۔ تو عورتوں کی گواہی کے قبول کرنے کی وہ علت کیا ہے؟ مال ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ اور نکاح تو مال نہیں، تو علت منتفی، جب علت منتفی تو حکم بھی منتفی، اب ان کی گواہی بھی قبول نہیں، ہم کہتے ہیں یہ تعلیل بالنفی ہے، اور تعلیل بالنفی ہمارے نزدیک معتبر نہیں بھئی۔ "كقول الشافعي رحمه الله في النكاح" جیسے کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے نکاح میں، "أي في عدم انعقاد النكاح" یعنی نکاح کے منعقد نہ ہونے میں، "بشهادة النساء" عورتوں کی گواہی سے، "مع الرجال" مردوں کے ساتھ۔ وہ فرماتے ہیں کہ نکاح جو ہے وہ منعقد نہیں ہوگا مردوں کے ساتھ عورتوں کی گواہی سے کہ تو آگے آیا "إنه ليس بمال" یہ مقولہ ہے قولِ شافعی کا، جیسے کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے مردوں کے ساتھ عورتوں کی گواہی سے نکاح کے نہ منعقد ہونے کے بارے میں، ان کا یہ قول ہے کہ "إنه ليس بمال" کہ یہ نکاح مال نہیں ہے۔ تو یہ کیا ہوئی؟ تعلیل بالنفی ہوئی۔ "وكل ما هو ليس بمال لا ينعقد بشهادة النساء" اور ہر وہ چیز جو مال نہ ہو، وہ منعقد نہیں ہوتا عورتوں کی گواہی سے، "مع الرجال" مردوں کے ساتھ، "فلا بد في إثباته من أن يكون رجلين" پس ضروری ہوا اس نکاح کے اثبات میں کہ دو مرد ہونے چاہئیں، "دون رجل وامرأتين" نہ کہ ایک مرد اور دو عورتیں۔ "وعندنا ليس لعدم المالية تأثير في عدم صحته بالنساء" ہم کہتے ہیں مال کے نہ ہونے کی کوئی تاثیر نہیں ہے عورتوں کے ذریعے نکاح کے صحیح نہ ہونے میں، "لأن علة صحة شهادة النساء" اس لیے کہ عورتوں کی گواہی کے صحیح ہونے کی علت جو ہے، "هي كونه مما لا يسقط بالشبهة" کہ وہ چیز جس کی گواہی دی جا رہی ہے وہ ان چیزوں میں سے ہونا چاہیے جو شبہے کی وجہ سے ساقط نہ ہو۔ عورتوں کی گواہی کے صحیح ہونے کی علت کیا ہے؟ کہ جس چیز کی وہ گواہی دے رہی ہیں وہ ایسی چیز نہ ہو جو شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہو۔ اور حدود اور قصاص کو آپ جانتے ہیں وہ شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتے ہیں، تو عورتوں کی گواہی صحیح ہونے کی علت ہی یہ تھی کہ وہ حدود وہ شبہے کی وجہ سے ساقط نہ ہوتے ہوں، اور یہاں وہ علت نہیں پائی جا رہی بھئی، یہ تو شبہ کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں، لہٰذا ان میں عورتوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں، تو عورتوں کی گواہی کے صحیح ہونے کی علت کیا ہے؟ کہ وہ مشہود بہ وہ شبہے سے ساقط نہیں ہونا چاہیے، ایسا ہو جو شبہے سے ساقط نہ ہوتا ہو۔ کہتے ہیں "لأن علة صحة شهادة النساء" اس لیے کیونکہ عورتوں کی گواہی کے صحیح ہونے کی علت "هي كونه" وہ اس مشہود بہ کا ہونا ہے، "مما لا يسقط بالشبهة" ان چیزوں میں سے جو شبہے سے ساقط نہ ہوتے ہوں، "لا كونه مالاً" نہ کہ اس کا مال، نہ کہ یہ کہ وہ مشہود بہ مال ہونا چاہیے، یہ علت نہیں ہے۔ "بخلاف الحدود والقصاص" بخلاف حدود اور قصاص کے، "مما يندرئ بالشبهات" جو کہ ان چیزوں میں سے ہیں جو دور ہو جاتے ہیں، دفع ہو جاتے ہیں کس کی وجہ سے؟ شبہات کی وجہ سے۔ اندرا یندرء کا معنی ہے ساقط ہو جانا، دور ہو جانا۔ یہ ان چیزوں میں سے ہیں جو شبہات کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں، "فإنه لا يثبت بشهادة النساء قط" پس یہ کبھی بھی عورتوں کی گواہی کے ذریعے ثابت نہیں ہوں گے۔ "وأيضاً هو أدنى درجة من المال" نیز امامِ شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا کہ یہ نکاح مال سے اعلیٰ درجے کی چیز ہے، مال ادنیٰ درجے کی چیز اور نکاح اعلیٰ ہے، لہٰذا مال میں تو عورتوں کی گواہی قبول ادنیٰ کے اندر، اعلیٰ میں قبول نہیں۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ تو بلکہ دیکھا جائے تو اس سے ادنیٰ ہو گیا نکاح بھئی، کس اعتبار سے؟ کہ نکاح مذاق میں بھی منعقد ہو جاتا ہے۔ ہنسی مذاق میں بھی اگر دو گواہوں کے سامنے ایک مرد اور عورت کیا کر لیں؟ ایجاب و قبول کر لیں، تو ان کا نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اور حالانکہ عقودِ مالیہ ہنسی مذاق میں منعقد نہیں ہوتے، عقودِ مالیہ ہنسی مذاق میں منعقد نہیں ہوتے، اور نکاح ہنسی مذاق میں بھی منعقد ہو جاتا ہے، تو معلوم ہوا کہ یہ تو اس سے ادنیٰ ہوا، اور مال کے اندر جب عورتوں کی گواہی قابلِ قبول ہے، تو نکاح تو اس سے ادنیٰ ہو گیا، کیونکہ وہ تو مذاق میں بھی منعقد ہو جاتا ہے، تو نکاح کے اندر عورتوں کی گواہی بطریقِ اولیٰ قبول ہونی چاہیے بھئی۔ وإذا هو أدنى درجة من المال، اور نیز یہ مال سے نکاح جو ہے، یہ ادنیٰ درجے کا ہے بدليل ثبوته بالهزل، بوجہ اس کے مذاق کے ذریعے اس کے ثابت ہونے کی دلیل کی وجہ سے، الذي لا يثبت به المال، وہ مذاق جس کے ذریعے مال ثابت نہیں ہوتا۔ فلما كان المال يثبت بشهادة النساء، بس جب مال ثابت ہو جاتا ہے عورتوں کی گواہی سے، فبالأولى أن يثبت بها النكاح، تو بس بطریق اولیٰ ثابت ہوگا اس کے ذریعے عورتوں کی گواہی کے ذریعے نکاح بطریق اولیٰ ثابت ہوگا۔ إلا أن يكون السبب معينا، مگر یہ کہ وہ سبب معین ہو۔ بھئی! ہمارے نزدیک بتلایا طرد بھی دلیل بننے کی طرد دلیل نہیں، کیونکہ طرد دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسی طرح تعلیل بالنفی بھی ہمارے نزدیک معتبر نہیں، کیونکہ یہ دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یہ دلیل ہے ہی نہیں۔ تو تعلیل بالنفی کس کو کہتے تھے؟ دلیل پکڑنا، کس چیز سے؟ عدم علت سے، کس چیز پر؟ عدم حکم پر، کہ حکم موجود نہیں، کیوں نہیں موجود؟ کیونکہ علت موجود نہیں۔ یہ ہے تعلیل بالنفی بھئی! تو ہمارے نزدیک تعلیل بالنفی دلیل نہیں بن سکتی۔ ہاں! ایک صورت میں تعلیل بالنفی دلیل بنے گی۔ کب؟ جب ایک حکم کی ایک ہی علت ہو۔ جب ایک حکم کی ایک ہی علت متعین علت ہے اور یہ حکم اس علت کے علاوہ اور کسی اس حکم کے لیے اس علت کے علاوہ اور کوئی علت ہی نہیں ہے، تو اس وقت پھر تعلیل بالنفی صحیح ہے بھئی! کیونکہ اس حکم کی تو ایک ہی علت تھی اور جب وہ علت نہیں ہے، تو حکم بھی نہیں۔ جیسے دن کا ہونا، دن، اس کے لیے علت کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ سورج نکلے گا تو دن ہوگا، صرف روشنی کی اب بات نہیں کر رہا، بلکہ کس کی بات کر رہا ہوں؟ دن۔ دن ہونے کے لیے علت کیا ہے؟ سورج۔ اب اپ سورج نہیں ہے، تو اپ کیا کہیں گے؟ رات، سورج نہیں ہوگا، تو دن بھی نہیں ہوگا بھئی! سورج سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ دن کی تو ایک ہی علت تھی، تو یہاں تعلیل بالنفی صحیح ہے، اپ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت دن نہیں ہے، کیوں نہیں ہے؟ علت کیا ہے؟ اپ کہیں گے: سورج نہیں نکلا ہوا اور یہ لازمی بات ہے جب سورج نہیں ہے، تو دن بھی نہیں ہے بھئی! تو بات سمجھ میں آگئی؟ تو تعلیل بالنفی کس وقت صحیح ہے؟ جب علت متعین ہو، ایک ہی علت ہے، اور کوئی علت نہیں ہے۔ إلا أن يكون السبب معينا، مگر یہ کہ اس حکم کا سبب معین ہو، یعنی ایک ہی علت ہو۔ استثناء مفرغ من قوله، یہ استثناء مفرغ ہے مصنف کے قول "ومثله التعليل بالنفي"۔ مصنف کا جو اوپر قول آیا تھا "ومثله التعليل بالنفي"، اور طرد ہی کی طرح ہے تعلیل بالنفی، یہ اس سے استثناء مفرغ ہے "إلا أن يكون"۔ یہ کیا ہے؟ "إلا أن يكون السبب معينا"، إلا آیا نہ استثناء کے لیے آتا ہے اور یہ کون سا استثناء ہے؟ استثناء مفرغ۔ استثناء مستثنیٰ مفرغ، وہ استثناء جس میں مستثنیٰ منہ محذوف ہو۔ استثناء مستثنیٰ مفرغ، مستثنیٰ مفرغ کسے کہتے ہیں؟ وہ مستثنیٰ جس کا مستثنیٰ منہ محذوف ہو۔ ما جاءني إلا زيد. ما جاءني إلا زيد. اصل میں تھا "ما جاءني أحد إلا زيدا"۔ میرے پاس کوئی ایک بھی نہیں آیا سوائے زید کے۔ تو مستثنیٰ منہ کون؟ أحد۔ مستثنیٰ کون؟ زید۔ "ما جاءني أحد إلا زيدا"۔ یہ أحد کو رفع کون دے رہا ہے؟ یہ "ما جاء" جو فعل ہے، یہ کیا اس کے لیے یہ أحد فاعل بن رہا ہے۔ تو یہ مستثنیٰ منہ ہے بھئی! مستثنیٰ منہ کون اس عبارت میں "ما جاءني أحد إلا زيدا"؟ مستثنیٰ منہ: أحد۔ اور مستثنیٰ کون؟ زید۔ "ما جاءني أحد إلا زيدا"۔ اچھا! اور أحد ہوا مستثنیٰ منہ، اس کے اندر عامل کون؟ جاء، یا نفی کا حرف ساتھ ملا لیں "ما جاء"، اس کے اندر عامل ہے، یہ اس کو رفع دے رہا ہے۔ پھر اس أحد مستثنیٰ منہ کو ہم نے حذف کر لیا۔ اب کیسے پڑھیں گے؟ "ما جاءني إلا زيد"۔ اب یہ زید کو رفع کس نے دیا؟ یہ وہی "ما جاء" نے۔ "ما جاء" فاعل چاہتا تھا، أحد تو چلا گیا، اب اس نے کس میں عمل کیا؟ زید میں اور اس کو اپنا فاعل بنا لیا: "ما جاءني إلا زيد"۔ میرے پاس کوئی نہیں آیا سوائے زید کے، یعنی میرے پاس صرف زید ہی آیا بھئی! اب دیکھیے! "ما جاءني إلا زيد"، اس کو کیا کہیں گے؟ مستثنیٰ مفرغ۔ کیوں کہیں گے؟ کیونکہ مستثنیٰ منہ محذوف۔ اور اس کو مفرغ کیوں کہتے ہیں؟ مفرغ فارغ کیا گیا، چونکہ یہاں پر بھی وہ عامل جو تھا، عامل، اس کو فارغ کر دیا گیا مستثنیٰ منہ میں عمل کرنے سے، اب یہ کس کے اندر عمل کر رہا ہے؟ مستثنیٰ کے اندر عمل کر رہا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستثنیٰ مفرغ کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: إلا أن يكون السبب معينا استثناء مفرغ من قوله، یہ مستثنیٰ مفرغ ہے مصنف کے قول "ومثله التعليل بالنفي" سے۔ دیکھئے! اب وہ بتلائیں گے، مستثنیٰ منہ محذوف نکال کر بتلائیں گے: أي لا يقبل التعليل بالنفي في حال من الأحوال إلا في حال كون السبب معينا. تو مستثنیٰ منہ کیا ہے؟ "في حال من الأحوال" اور "إلا أن يكون السبب معينا"، یہ بھی ایک حال ہے، تو اس کو حال بنا کر مستثنیٰ بنا دیا بھئی! لا يقبل التعليل بالنفي، قبول نہیں کیا جائے گا تعلیل بالنفی کو، لا يقبل پڑھیں بھئی! لا يقبل التعليل بالنفي، قبول نہیں کیا جائے گا تعلیل بالنفی کو في حال من الأحوال، احوال میں سے کسی بھی حال کے اندر، إلا في حال كون السبب معينا، مگر اس حال میں جبکہ سبب معین ہو فان عدمه يمنع وجود الحكم من وجه آخر إذ لا وجه له، اس لیے کیونکہ اس سبب کا معدوم ہونا، سبب ایک ہی تھا نا، جب وہ نہیں ہوگا تو حکم بھی نہیں ہوگا، یہی بیان کر رہے ہیں: فان عدمه، اس لیے کیونکہ سبب کا معدوم ہونا يمنع وجود الحكم، یہ روک دیتا ہے حکم کے، جب سبب نہیں ہے تو حکم بھی نہیں ہوگا، تو یہ حکم کے وجود کو روک دیتا ہے من وجه آخر، کسی دوسری وجہ سے، کسی دوسری وجہ سے بھی اس کے نہیں آنے دیتا، کیوں؟ کہتے ہیں: إذ لا وجه له، کیونکہ اور کوئی وجہ یا اور کوئی سبب ہی نہیں ہے بھئی! یہ ایک ہی تھا، یہ خود نہیں ہے تو حکم بھی نہیں! كقول محمد رحمه الله، جیسے کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے في ولد الغصب، مغصوب کی اولاد میں، غصب کی اولاد میں، امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے: إنه لم يضمن لأنه لم يغصب، کہ یہ ولد الغصب جو ہے، یہ مضمون نہیں ہوگا لأنه لم يغصب، کیونکہ اس کو غصب نہیں کیا گیا۔ بھئی! دیکھیے ضمان غصب، غصب جانتے ہیں یعنی کسے کہتے ہیں غصب؟ کسی کی کوئی چیز زبردستی اٹھا لی، چھین لی، قبضہ کر لیا، یہ ہے غصب بھئی! اور غصب کی صورت میں غاصب پر ضمان آتا ہے، اولاً تو یہ ضروری کہ وہی چیز اسی طرح واپس لوٹائے، لیکن اگر وہ مغصوب شے اس کے پاس ہلاک ہو گئی، ضائع ہو گئی، برباد ہو گئی، تو کیا کرنا پڑے گا؟ ضمان دینا پڑے گا، اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضمان غصب۔ ضمان غصب۔ اور ضمان غصب کا سبب کیا ہے؟ کیوں آیا ضمان غصب؟ غصب کی وجہ سے۔ ضمان غصب کیوں آتا ہے؟ غصب کی وجہ سے۔ تو غصب ہوگا تو ضمان غصب بھی آئے گا، غصب نہیں تو ضمان غصب بھی نہیں۔ کیونکہ ضمان غصب نام ہی بتلا رہا ہے، اس کی ایک ہی علت ہے، کیا علت ہے؟ غصب۔ غصب ہو تو ضمان غصب آ سکتا ہے، غصب نہ ہو تو ضمان غصب بھی نہیں۔ اب دیکھیے! ایک شخص نے کسی کی گائے، بکری وغیرہ غصب کر لی اور اس گائے نے وہاں جا کر بچے کو جنم دیا۔ بچے کو جنم دیا۔ اب غاصب غاصب کے پاس گائے بھی ہلاک ہوئی، اس کا بچہ بھی ہلاک ہوا، تو فقہاء فرماتے ہیں: یہ گائے کا ضمان تو آئے گا اس غاصب پر، بچے کا ضمان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اس بچے میں غصب نہیں ہے، اس نے غصب صرف کس کو کیا تھا؟ گائے کو اور اس پر جو ضمان آ رہا ہے، وہ ہے ضمان غصب، تو ضمان غصب غصب کی وجہ سے آتا ہے، بغیر غصب کے نہیں۔ اور گائے میں تو غصب ہے، تو اس میں ضمان غصب بھی آئے گا، بچے میں تو غصب ہی نہیں، بچے کو تو اس نے نہیں غصب کیا، بچے کو تو وہاں جا کر اس نے جنم دیا ہے بھئی! تو بچے پر غصب نہیں پایا گیا، لہٰذا اس میں ضمان غصب بھی نہیں ہوگا۔ تو دیکھیے! امام محمد رحمہ اللہ تعلیل بالنفی کر رہے ہیں کہ بچے میں ضمان نہیں، کیوں نہیں؟ اس میں غصب نہیں۔ غصب نہیں ہے، اس لیے ضمان بھی نہیں، تو یہ نفی کو علت بنا رہے ہیں بھئی! اور یہاں جائز ہے تعلیل بالنفی، کیونکہ ضمان غصب کی علت غصب ہی ہے اور کوئی چیز ہے ہی نہیں، یہ معین سبب ہے اس کا، اس کی نفی سے حکم بھی منتفی ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ كقول محمد رحمه الله، جیسے کہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول ہے في ولد الغصب، غصب کی اولاد میں إنه لم يضمن، کہ یہ مضمون نہیں ہوگا، یعنی اس کا ضمان نہیں آئے گا لأنه لم يغصب، کیونکہ اس کو غصب نہیں کیا گیا۔ فإن من غصب جارية، میں نے گائے بکری وغیرہ کی مثال ذکر کی، یہ جاریہ کی مثال، باندی کی مثال ذکر کر رہے ہیں کہ باندی کو غصب کیا اور وہاں جا کر اس نے بچے کو جنم دیا۔ جي! فإن من غصب جارية حاملا، پس بے شک جس نے غصب کیا حاملہ باندی کو فولدت في يد الغاصب، پس اس نے جنم دیا اس باندی نے غاصب کے قبضے میں ثم هلكا، تثنیہ کا صیغہ ہے، پھر دونوں ہلاک ہو گئے، باندی بھی اور اس کی اولاد بھی، اس کا بچہ بھی، يضمن قيمة الجارية دون الولد، تو وہ شخص غاصب جو ہے، وہ ضامن ہوگا باندی کی قیمت کا، نہ کہ بچے کی قیمت کا، نہ کہ اولاد کی قیمت کا، لأن الغصب إنما وقع على الجارية دون الولد، اس لیے کیونکہ غصب جو ہے، وہ باندی پر واقع ہوا ہے، نہ کہ اولاد پر۔ فقد علل محمد رحمه الله تعالى هاهنا بالنفي، پس تحقیق تعلیل بیان کی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے یہاں پر نفی کے ساتھ بان علة الضمان في هذه الصورة ليست إلا الغصبا، بایں طور کہ ضمان کی علت جو ہے اس صورت میں نہیں ہے مگر غصب ہی، فبانتفائه ينتفي الضمان ضرورة، پس اس علت کے انتفاء سے ضمان منتفی ہو جائے گا ضرورةً، یقینی طور پر، بدیہی طور پر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ وهكذا قوله في المستخرج من البحر، اور اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے في المستخرج من البحر، اس چیز کے بارے میں جس کو نکالا گیا ہو سمندر سے، وہ چیز جس کو سمندر سے نکالا گیا ہو اس کے بارے میں كاللؤلؤ والعنبر، كاللؤلؤ، موتی بھئی! سمندر سے موتی بھی حاصل کیے جاتے ہیں والعنبر، اور اسی طرح عنبر بھی بھئی! عنبر یہ کوئی مادہ ہے سمندر سے حاصل کیا جاتا ہے، خوشبودار قسم کا بھئی! بطورِ خوشبو کے پھر اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ كاللؤلؤ والعنبر، جیسے کہ موتی اور عنبر، اس کے بارے میں امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے: إنه لا خمس فيه، کہ اس عنبر اور عنبر اور موتیوں کے اندر خمس نہیں ہے۔ بھئی! کیوں نہیں ہے؟ دیکھو! حکم نہیں ہے اور علت بھی نفی کے ساتھ بیان کریں گے۔ ان میں خمس خمس نہیں ہے لأنه لم يوجف عليه المسلمون، کیونکہ اس پر مسلمانوں نے گھوڑے نہیں دوڑائے، کیونکہ اس پر مسلمانوں نے گھوڑے نہیں عربی میں کہتے ہیں بھئی: أوجف الخيل، گھوڑے تیز، گھوڑے دوڑائے بھئی! اس نے تیز گھوڑے دوڑائے اور یہ کنایہ ہے یہاں پر حملہ کرنے سے، کس سے کنایہ ہے؟ حملہ کرنے سے۔ بھئی! دیکھیے! مالِ غنیمت کے اندر خمس نکالا جاتا ہے پانچواں حصہ بھئی! پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کیا جاتا ہے۔ اور یہ خمس کس میں سے نکالا جاتا ہے؟ مالِ غنیمت میں سے، کیوں؟ کیونکہ مالِ غنیمت وہ مال ہے جسے مسلمانوں نے لڑائی کے بعد کفار سے چھینا ہو۔ تو خمس کی علت کیا ہوئی؟ کہ مسلمانوں نے اس میں لڑائی کی ہو، کفار پر حملہ کیا ہو بھئی! اور یہاں سمندر سے موتی اور عنبر حاصل ہوئے، کیا اس میں مسلمانوں نے کوئی حملہ یا لڑائی کی ہے؟ نہیں! تو علت نہیں، لہٰذا حکم بھی نہیں، یعنی خمس بھی نہیں بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں بھی چونکہ خمس کا تو خمس کی تو ایک ہی علت ہے اور کوئی علت ہی نہیں ہے اور وہ علت کیا تھی؟ کفار کے ساتھ لڑائی اور وہ لڑائی یہاں پر موجود نہیں، جب علت منتفی تو خمس کا حکم بھی منتفی۔ جیسے اس کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ إنه لا خمس فيه، کہ عنبر اور موتی، جو چیزیں سمندر سے نکالی جائیں اس میں خمس نہیں ہے لأنه لم يوجف عليه المسلمون، اس لیے کیونکہ اس پر مسلمان حملہ آور نہیں ہوئے فإن علة وجوب خمس الغنيمة ليست إلا إيجاف المسلمين بالخيل، اس لیے کیونکہ خمس کے، غنیمت، خمسِ غنیمت جو ہے، غنیمت کا جو خمس ہے، اس کے واجب ہونے کی علت نہیں ہے مگر مسلمانوں کا گھوڑے دوڑانا، یعنی مسلمانوں کا حملہ کرنا وهو منتف هاهنا، اور وہ یہاں پر منتفی ہے بھئی! دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ امام محمد رحمہ اللہ نے کیا دلیل ذکر کی؟ انتفاءِ حکم کے لیے انتفاءِ علت کو دلیل بنایا، یعنی تعلیل بالنفی کی اور یہ صرف کس مقام پر کی جا سکتی ہے؟ جہاں حکم کی ایک ہی علت، متعین علت ہو اور کوئی علت ہی نہ ہو بھئی! چلیے! بس بھئی! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 63 of 84