Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-090

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔90 ‏أَوْ يَكُونَ رُخْصَةً وَهُوَ الَّذِي لَا إِسْمَاعَ فِيهِ، أَيْ لَمْ تَكُنْ مُذَاكَرَةُ الْكَلَامِ فِيمَا بَيْنَهُمَا لَا غَيْبًا وَلَا مُشَافَهَةً، كَالْإِجَازَةِ بِأَنْ يَقُولَ الْمُحَدِّثُ لِغَيْرِهِ: أَجَزْتُ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ عَنِّي هَذَا الْكِتَابَ الَّذِي حَدَّثَنِي فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ إِلَى آخِرِهِ، وَالْمُنَاوَلَةِ بِأَنْ يُعْطِيَ الشَّيْخُ كِتَابَ سَمَاعِهِ بِيَدِهِ إِلَى الْمُسْتَفِيدِ. بَئی گزشتہ سبق میں، چوتھی تقسیم ہم نے شروع کی تھی جو کہ نفسِ خبر کے بارے میں تھی اور بتلایا تھا کہ یہ چار قسم پر ہوگی، یا تو اس کے سچا ہونے کا یقین ہوگا، یا اس کے جھوٹا ہونے کا یقین ہوگا، یا ایک وہ جس میں دونوں طرف کا احتمال ہوگا، اور ایک قسم وہ ہے جس میں صدق والی جہت راجح ہوگی یعنی عادل آدمی کی خبر، وہ عادل جس میں باقی تمام شرائط بھی جمع ہوں۔ اور بتلایا تھا یہ ہمارا مقصود ہے یہاں پر اور اسی سے بحث کریں گے، اور اس میں پھر بتلایا تھا کہ اس کی تین طرفیں ہیں: ایک طرفِ سماع ہے، ایک طرفِ حفظ ہے، اور ایک طرفِ ادا ہے۔ اور تینوں کے اندر، طرفِ سماع، طرفِ حفظ، اور طرفِ ادا، تینوں میں عزیمت بھی ہے اور رخصت بھی ہے۔ اور گزشتہ سبق کے اندر ہم نے طرفِ سماع کے اندر جو عزیمت تھی اس کو، اس کی بحث مکمل کی تھی کہ وہاں پر عزیمت کے اندر طرفِ سماع میں چار صورتیں ہیں بَئی: ایک یہ کہ شاگرد پڑھے اور استاد سنے اور پھر اس کی تائید کرے، دوسری قسم یہ کہ استاد پڑھے اور شاگرد سنے، ان میں تو حقیقۃً سماع تھا بَئی، اور دو قسمیں وہ تھیں جن میں حکماً سماع تھا کہ استاد جو ہے خط میں حدیث لکھ کر بھیجے بَئی، یا کسی پیغام رساں کے ذریعے حدیث پہنچائے کسی دوسرے شخص تک بَئی، تو یہ چار قسمیں تھیں عزیمت کے اندر طرفِ سماع میں۔ اب جانبِ طرفِ سماع میں رخصت کو بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: ”أَوْ يَكُونَ رُخْصَةً“ یا یہ جو خبرِ عدل کے اندر جو سماع والی طرف ہے اس میں رخصت ہوگی، ”وَهُوَ الَّذِي لَا إِسْمَاعَ فِيهِ“ اور یہ وہ قسم ہے جس میں اسماع نہیں ہوتا، سنانا نہیں ہوتا، یعنی نہ حقیقۃً اس میں اسماع ہوگا اور نہ حکماً ہوگا۔ ”أَيْ لَمْ تَكُنْ مُذَاكَرَةُ الْكَلَامِ فِيمَا بَيْنَهُمَا“ یعنی مذاکرۂ کلام ہوگا ہی نہیں درمیان میں، ”لَا غَيْبًا وَلَا مُشَافَهَةً“ نہ تو غیر حاضری کی صورت یعنی نہ تو پسِ پشت ہوگا اور نہ آمنے سامنے، ”كَالْإِجَازَةِ“ جیسے کہ اجازت ہے۔ ”بِأَنْ يَقُولَ الْمُحَدِّثُ لِغَيْرِهِ“ بایں طور کہ کہتا ہے محدث غیر سے: ”أَجَزْتُ لَكَ“ میں نے تمہیں اجازت دے دی ”أَنْ تَرْوِيَ عَنِّي هَذَا الْكِتَابَ الَّذِي حَدَّثَنِي فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ“ کہ تم روایت کرو مجھ سے یہ کتاب جس کو روایت کیا جس کی حدیث مجھ سے بیان کی ہے فلاں نے عن فلاںٍ فلاں سے ”إِلَى آخِرِهِ“ آخر تک۔ دیکھیے! حدیث نہ استاد سنا رہا ہے، نہ شاگرد سنا رہا ہے، شیخ صرف کیا کہہ رہا ہے؟ کہ تمہیں اس کتاب کی حدیثیں میری طرف سے روایت کرنے کی اجازت ہے اور میں نے فلاں سے یہ سنی تھی، فلاں استاد سے، انہوں نے فلاں سے، پوری سند بیان کرتا ہے۔ یہ ایک صورت ہے۔ ”وَالْمُنَاوَلَةِ“ ”كَالْإِجَازَةِ وَالْمُنَاوَلَةِ“، مناولہ کا معنیٰ ہے حوالے کرنا۔ جیسے کہ اجازت ہے اور حوالے کرنا ہے بَئی، کیا معنیٰ حوالے کرنے کا؟ کہتے ہیں: ”بِأَنْ يُعْطِيَ الشَّيْخُ كِتَابَ سَمَاعِهِ بِيَدِهِ إِلَى الْمُسْتَفِيدِ“ بایں صورت کہ عطا کرے شیخ اپنے سماع کی کتاب حوالے کرے اپنے ہاتھ سے استفادہ کرنے والے کے، یعنی شاگرد کے حوالے کرتا ہے وہ کتاب، اور کہتا ہے: ”هَذَا كِتَابُ سَمَاعِي مِنْ شَيْخِي فُلَانٍ“ کہ یہ میرے سماع کی کتاب ہے فلاں میرے فلاں شیخ سے، ”أَجَزْتُ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ عَنِّي هَذَا“ میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ تم روایت کرو مجھ سے یہ۔ ”فَهُوَ لَا يَصِحُّ بِدُونِ الْإِجَازَةِ“ تو یہ جو مناولہ ہے یہ صحیح نہیں ہے بغیر اجازت کے، ”وَالْإِجَازَةُ تَصِحُّ بِدُونِ الْمُنَاوَلَةِ“ اور اجازت صحیح ہے بغیر مناولہ کے۔ مناولہ میں کیا تھا؟ باقاعدہ کتاب اپنے ہاتھ سے اس کے حوالے کرتا تھا جو حدیثیں لکھی ہوتی تھیں استاد نے، وہ حوالے کرتا تھا، تو بتلایا کہ اجازت ہر حال میں ضروری ہے بَئی۔ مناولہ، اجازت مناولہ کے بغیر اجازت صحیح، لیکن اجازت کے بغیر مناولہ صحیح نہیں ہے۔ ”فَهُوَ لَا يَصِحُّ بِدُونِ الْإِجَازَةِ“ تو مناولہ صحیح نہیں ہے بغیر اجازت کے، ”وَالْإِجَازَةُ تَصِحُّ بِدُونِ الْمُنَاوَلَةِ“ اور اجازت صحیح ہے بغیر مناولہ کے، ”فَالْإِجَازَةُ لَا بُدَّ مِنْهَا فِي كُلِّ حَالٍ“ تو اجازت ضروری ہے اس میں ہر حال کے اندر۔ ”وَالْمُجَازُ لَهُ إِنْ كَانَ عَالِمًا بِهِ“ اور وہ شخص جس کو اجازت دی گئی ہے یعنی وہ شاگرد، اگر وہ جاننے والا ہے اس کو، کس چیز کو؟ ”أَيْ بِمَا فِي الْكِتَابِ“ وہ جو اس کے اندر وہ جو کس کے اندر ہے؟ کتاب، یعنی اگر وہ عالم ہے ان احادیث کا جو اس کتاب میں ہیں ”قَبْلَ الْإِجَازَةِ“ اجازت سے پہلے ہی، ”تَصِحُّ الْإِجَازَةُ“ تو پھر یہ اجازت صحیح ہے، ”وَإِلَّا فَلَا“ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر صحیح نہیں ہے بَئی۔ یعنی شارح ذکر کر رہے ہیں اور بات واضح ہو جائے گی: ”يعنِي إِذَا أَجَزْنَا بِكِتَابِ الْمِشْكَاةِ مَثَلًا لِأَحَدٍ“ جب ہم نے اجازت دی مشکوٰۃ کتاب کی مثال کے طور پر کسی کو، ”فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الشَّخْصُ عَالِمًا بِكِتَابِ الْمِشْكَاةِ قَبْلَ ذَلِكَ“ پس اگر وہ شخص عالم تھا کتابِ مشکوٰۃ کا اس سے پہلے ہی ”بِالْمُطَالَعَةِ“ کس کے ذریعے؟ مطالعے کے ذریعے، یعنی وہ پہلے ہی عالم تھا اس کا مطالعہ کر چکا تھا، ”بِقُوَّةِ نَفْسِهِ“ اپنے نفس کی قوت سے، اپنی ذاتی قوت سے خود ہی اس کا مطالعہ کر چکا تھا کسی استاد سے نہیں پڑھی تھی، ”أَوْ بِإِعَانَةِ الشُّرُوحِ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ“ یا شروح وغیرہ کی مدد سے، شروح وغیرہ کی مدد سے وہ اس کتاب کا مطالعہ کر چکا تھا اس کا عالم تھا۔ ”وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ سَنَدٌ صَحِيحٌ يَتَّصِلُ بِالْمُصَنِّفِ“ لیکن نہیں تھی اس کی کوئی ایسی صحیح سند جو اس کتاب کے مصنف سے ملی ہو، کس سے ملی ہوئی ہو؟ اس کتاب کے مصنف یعنی مشکوٰۃ کے مصنف تک پہنچنے والی کوئی صحیح سند نہیں تھی اس کے پاس، یعنی کوئی اس کا ایسا استاد نہیں تھا جس کی سند کہاں تک پہنچتی ہو؟ صاحبِ مشکوٰۃ تک۔ ”فَحِينَئِذٍ تَصِحُّ إِجَازَتُنَا لَهُ“ تو پھر اس وقت صحیح ہے ہمارا اجازت دینا اسے، ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ“ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی اس کتاب کا اس نے مطالعہ ہی نہیں کیا اس کا عالم ہی نہیں ہے، ”بَلْ يَعْتَمِدُ عَلَى أَنْ يُطَالِعَ بَعْدَ الْإِجَازَةِ“ بلکہ وہ اعتماد کرتا ہے اس بات پر کہ اس کا مطالعہ کر لے گا اجازت ملنے کے بعد، ”وَيُعَلِّمَ النَّاسَ“ اور لوگوں کو پھر تعلیم دے گا، لوگوں کو سکھائے گا ”كَمَا فِي زَمَانِنَا“ جیسے کہ ہمارے زمانے میں ہے، ”لَمْ تَكُنْ تِلْكَ الْإِجَازَةُ حُجَّةً“ تو پھر یہ اجازت حجت نہیں ہوگی، ”بَلْ إِجَازَةَ تَبَرُّكٍ“ بلکہ یہ تبرک والی اجازت ہوگی صرف برکت حاصل کرنے کے لیے، یہ اجازت صحیح نہیں ہے بَئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بَئی؟ یہ تھی سماع کے اندر رخصت بَئی کہ اجازت دے یا حوالے کرے، اور شرط تھی اس میں کہ وہ پہلے سے اس کا عالم ہو، اس کا جاننے والا ہو۔ نہ حدیث شاگرد پڑھ رہا ہے نہ استاد، صرف کیا کر رہا ہے؟ اجازت دے رہا ہے یا وہ کتاب دے کر ساتھ اجازت دے رہا ہے۔ ”وَالثَّانِي طَرَفُ الْحِفْظِ“ اور دوسری طرف جو ہے اس کی طرفِ حفظ ہے، بتلایا تھا تین طرفیں ہیں بَئی خبرِ عادل کی، دوسری طرف طرفِ حفظ ہے، ”وَالْعَزِيمَةُ فِيهِ أَنْ يَحْفَظَ الْمَسْمُوعَ مِنْ وَقْتِ السَّمَاعِ إِلَى وَقْتِ الْأَدَاءِ“ اور عزیمت اس کے اندر یہ ہے کہ یاد رکھے اس سنی ہوئی بات کو، مسموع، وہ سنی ہوئی بات یعنی وہ حدیث، اس کو یاد رکھے سماع کے وقت سے لے کر ادا کے وقت تک۔ اس میں عزیمت کیا ہے حفظ میں؟ کہ جب سے اس شاگرد نے اپنے جس شیخ سے وہ احادیث سنی ہیں، جب تک وہ آگے کسی کو پہنچا دیتا ہے اس وقت تک کے سارے بیچ کے وقت میں اسے وہ روایات یاد ہونی چاہئیں، کسی بھی وقت اسے بھولیں نہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یاد رکھتا ہے ان کو، ”وَلَمْ يَعْتَمِدْ عَلَى الْكِتَابِ“ اور کتاب پر اعتماد نہیں کرتا، لکھی ہوئی بھی اس کے پاس موجود ہیں لیکن اس پر وہ اعتماد نہیں کرتا بلکہ اس کے حافظے میں محفوظ ہیں اس دن سے لے کر آج تک جب وہ ادا کر رہا ہے آگے کسی کو پہنچا رہا ہے۔ ”وَلِهَذَا لَمْ يَجْمَعْ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى كِتَابًا فِي الْحَدِيثِ“ اور اسی وجہ سے جمع نہیں فرمائی امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کوئی کتاب حدیث کے اندر۔ کتنی کڑی شرط ہے مولانا! اندازہ تو لگائیے، جس دن سے حدیث سنی ہے، جس دن اس کو روایت کرتا ہے، اس سارے درمیانی عرصے میں اس کو حدیث یاد ہونی چاہیے بَئی۔ تو چونکہ یہ بڑی سخت شرط ہے اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ یہ شرط لگاتے ہیں احتیاط کی وجہ سے، دیکھو حد درجے کی احتیاط امام صاحب کی! تو اسی وجہ سے انہوں نے کوئی کتاب جمع نہیں فرمائی حدیث کے اندر، ”وَلَمْ يَسْتَجِزِ الرِّوَايَةَ بِاعْتِمَادِ الْكِتَابِ“ اور اجازت نہیں دی روایت کرنے کی کتاب پر اعتماد کرتے ہوئے، امام صاحب اس کی اجازت نہیں دیتے کہ صرف کتاب پر اعتماد کر کے اجازت دی جائے۔ ”وَكَانَ ذَلِكَ سَبَبًا لِطَعْنِ الْمُتَعَصِّبِينَ الْقَاصِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ اور یہ سبب ہے تعصب کرنے والوں کے طعن کا، اعتراض کا، القاصرین، وہ جو کوتاہ ہیں، چھوٹے ہیں، کم نظر لوگ ہیں، الی یوم الدین، قیامت کے دن تک۔ بَئی آپ بھی سنتے ہوں گے امام صاحب کی شان میں بڑے لوگ گستاخی کرتے ہیں بَئی، اور عجیب عجیب اعتراضات کرتے ہیں، ان میں سے ایک اعتراض یہ کہ امام صاحب کو تو صرف سترہ حدیثیں یاد تھیں۔ سمجھ میں آیا بَئی؟ آج کا جاہلِ اجھل بھی اٹھتا ہے اور امام صاحب پر اعتراض کر دیتا ہے، خود چاہے اس کو عربی عبارت کتاب کی پڑھنا بھی نہ آئے، حدیثیں بھی کوئی اس کو صرف ترجمے کچھ جو ہیں ان کو سمجھ لیتا ہے، ترجمہ بھی صحیح طور پر نہیں یاد ہوتے اس کو، لیکن امام صاحب پہ طعن کرتے ہوئے اپنی لمبی زبان نکالتے ہیں اور طعن کرتے ہیں، وہ نہیں جانتے ان ائمہ کا مقام کیا ہے! یہ وہ ائمہ ہیں مولانا! کہ جن کو اللہ نے مقتدا بنایا۔ چاروں ائمہ ہیں بَئی، فقہاء بہت تھے بَئی لیکن باقیوں کے مذاہب ختم ہوئے اور ان چار کو اللہ نے وہ مقبولیت دی کہ اس وقت بَئی، اس وقت اکثر مسلمان، اکثر مسلمان وہ ان چاروں ائمہ کے متبعین ہیں بَئی۔ کچھ اہلحدیث ہیں جو غیر مقلد کہلاتے ہیں اور وہ کسی ایک امام کے مقلد نہیں، اگرچہ وہ بھی مقلد ہی ہوتے ہیں بَئی، ہیں وہ بھی مقلد، سمجھ میں آیا بَئی؟ وہ خود تو کسی حدیث، قرآن وغیرہ سے خود تو مسائل کا استنباط نہیں کرتے، وہی علماء کے بتلائے ہوئے طریقے پر چلتے ہیں، تو ہیں وہ بھی مقلد، لیکن کسی ایک امام کے مقلد نہیں ہیں اس وجہ سے ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ غیر مقلد۔ تو یہ لوگ غیر مقلد کہلاتے ہیں اور باقی ائمہ کے مقلدین ہیں، اور تقریباً تقریباً پچانوے فیصد جو مسلمان ہیں وہ سارے بلکہ پچانوے فیصد سے بھی زائد جو ہیں وہ سارے مسلمان وہ ان چار ائمہ کے مقلدین ہیں، اور پھر ان میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اللہ تعالیٰ نے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کو دی بَئی، سب سے زیادہ مسلمان جو ہیں اس وقت ان کے مذہب پر ہیں بَئی، ان کے مذہب پر۔ اور اس شخص کا کیا مقام ہوگا ذرا اندازہ تو لگاؤ بَئی! کہ تقریباً تقریباً بارہ تیرہ سو سال گزر گئے بَئی، کروڑوں، اربوں لوگ ان کے مذہب پر عمل کرنے والے ہیں بَئی، کروڑوں۔ اس شخص کے کتنا اجر و ثواب اور اس کا کیا مقام ہوگا! ثواب کے یوں سمجھیں سمندر کے سمندر چل رہے ہیں جو ان کے ان کے حصے میں جا رہے ہیں بَئی۔ آپ اپنی زندگی گزارتے ہیں، ہم زندگی گزارتے ہیں، ایک ایک مسئلے میں ان کے بتلائے ہوئے طریقے پر چلتے ہیں جو انہوں نے قرآن و حدیث سے اخذ کیے، اور ہمارے لیے کتنی آسانی بنا دی بَئی! اور ان سب کا ثواب جو ہے انہیں مل رہا ہے بَئی، تو ان کا کیا مقام ہوگا! اور آج کے زمانے میں اندازہ لگاؤ، یہ شخص جو ان پر طعن کرنے والا ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟ کس منہ سے یہ ان پر طعن کرتا ہے بَئی! ان کی شرائط کو دیکھیے بَئی! شرائط بَئی۔ سمجھ میں آیا؟ علماء، فقہاء نے لکھا ہے، تمام علماء نے کہ بالاتفاق چاروں ائمہ عادل ہیں مولانا! چاروں ائمہ کیا ہیں؟ عادل ہیں بَئی۔ تو امام صاحب دیکھیے بڑی کڑی شرائط لگاتے ہیں اور محدثین وہ شرائط نہیں لگاتے بَئی۔ تو یہ بعض لوگ امام صاحب پر طعن کرتے ہیں، اور طعن کا ایک ایک وجہ یہ کہ امامِ بخاری رحمہ اللہ جو تھے، وہ طعن کرتے ہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر، بڑا سبب یہ ہے۔ لیکن بَئی امامِ بخاری، امامِ بخاری کی تو پیدائش ہی اس وقت ہوئی جب غالباً امام صاحب کا انتقال ہوا، اس کے لگ بھگ ان کی پیدائش ہوئی ان کے انتقال، تو امام صاحب ان سے پہلے گزرے ہیں اور امام صاحب تابعی ہیں بَئی تابعی! وہ زمانہ جس کے بہتر ہونے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دی کہ: ”خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“. اور امام صاحب کے زمانے میں وہ تابعی ہیں، تو وہ ان کا علم دیکھیے! وہاں پر احادیث جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انہیں پہنچ رہی ہیں، جن کے ذریعے وہ مسائل، مسائل کو مرتب فرما رہے ہیں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان کتنے واسطے ہوں گے بَئی؟ ایک دو واسطے ہی ہوں گے بَئی ان کی احادیث میں، اور امامِ بخاری رحمہ اللہ جو ہیں، ان کی روایتوں میں تو زیادہ واسطے ہیں بَئی، زیادہ واسطے۔ تو یقیناً ان کے پاس جو احادیث بھی پہنچیں، وہ زیادہ قوت والی تھیں، زیادہ مضبوط تھیں بَئی۔ اور چلیے! امامِ بخاری رحمہ اللہ، وہ خود بھی بڑے آدمی ہیں بَئی، وہ تو طعن چلو کوئی بنتی بھی ہے بات وہ طعن کر رہے ہیں، یہ آج کے شخص جو طعن کرتا ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟ کس اعتبار سے یہ طعن کرتا ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر! سمجھ میں آیا بَئی؟ تو امام صاحب نے اسی لیے حدیث کے اندر کتاب تصنیف نہیں فرمائی، احادیث کو جمع نہیں فرمایا کہ ان کی شرائط بہت کڑی ہیں، باقی محدثین سے کئی گنا بڑھ کر سخت شرائط وہ لگاتے ہیں۔ تو دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَكَانَ ذَلِكَ سَبَبًا لِطَعْنِ الْمُتَعَصِّبِينَ الْقَاصِرِينَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ“. اور یہ سبب ہے طعنہ کرنے تعصب کرنے والے اور کوتاہ لوگ جو ہیں، کوتاہ نظر کم نظر لوگ جو ہیں، چھوٹے لوگ اور تعصب کرنے والے ان کے طعنے کا یہ سبب ہے۔ الَى يَوْمِ الدِّينِ کب تک؟ قیامت کے دن تک، بھئی۔ وَلَمْ يَفْهَمُوا وَرَعَهُ وَتَقْوَاهُ وَلَا عَمَلَهُ وَلَا وَهُدَاهُ اور انہوں نے نہیں سمجھا امام صاحب کے ورع اور تقویٰ کو اور نہ ان کے عمل اور ان کی رہنمائی کو، وہ اس کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ایک ہے تقویٰ، ایک ہے ورع، بھئی۔ تقویٰ یہ کہ انسان جو ہے حرام چیزوں سے بچتا ہے، بھئی۔ اور ورع یہ اس سے بھی اونچا مقام کہ مشتبہات سے بھی انسان بچے، جن چیزوں میں شبہ ہو ان سے بھی بچے، بھئی۔ وَالرُّخْصَةُ اور رخصت اس میں یہ ہے وَالرُّخْصَةُ أَنْ يَعْتَمِدَ الْكِتَابَ کہ اعتماد کرے راوی کتاب پر، فَإِنْ نَظَرَ فِيهِ پس اگر وہ اس میں نظر ڈالتا ہے وَتَذَكَّرَ سَمَاعَهُ اور یاد کرتا ہے اپنے سماع کو وَمَجْلِسَ دَرْسِهِ اور اپنے درس کی مجلس کو وَمَا جَرَى فِيهِ اور وہ جو اس میں جاری ہوا، جو اس میں ہوا تھا، يَكُونُ حُجَّةً تو پھر یہ خبر حجت ہوگی وَإِلَّا فَلَا ورنہ نہیں۔ رخصت اس میں کیا ہے؟ بھئی، حفظ کی بات چل رہی ہے۔ عزیمت تو یہ ہے کہ جس دن سے روایت سنی تھی اور جس دن اس کو ادا کر رہا ہے، آگے پہنچا رہا ہے اس سارے درمیانی عرصہ میں اس کو وہ روایت یاد ہو۔ اور رخصت یہ ہے کہ کتاب پر اعتماد کرتا ہے، کتاب میں اس کے پاس لکھی ہوئی ہیں جو اس نے اپنے شیوخ سے سنی تھیں۔ پس اگر جب وہ کتاب میں نظر ڈالتا ہے تو اس کو وہ سماع یاد آ جاتا ہے کہ میں نے فلاں جگہ پر یہ اپنے فلاں شیخ سے اس طرح یہ حدیث سنی تھی۔ تو وَتَذَكَّرَ سَمَاعَهُ کیا کرتا ہے؟ یاد کرتا ہے اپنے سماع کو، یاد آ جاتا ہے اس کو اپنا سماع، بھئی۔ وَمَجْلِسَ دَرْسِهِ اور اپنے درس کی مجلس اس کو یاد آتی ہے، وَمَا جَرَى فِيهِ اور وہ جو اس میں جاری ہوا، جو کچھ ہوا تھا، یعنی وہ ساری مجلس اس کو اچھی طرح یاد آ جاتی ہے۔ اعتماد تو کس پر کر رہا ہے؟ کتاب پر، لیکن جب کتاب پر نظر ڈالتا ہے تو اسے وہ سارا یاد آ جاتا ہے کہ کس وقت کس طرح میں نے اپنے شیخ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ مجلس درس پوری طرح اس کو یاد ہے، بھئی۔ تو يَكُونُ حُجَّةً تو اب یہ خبر خبر جو ہے یہ حجت ہوگی وَإِلَّا فَلَا اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہ خبر حجت نہیں، یعنی کتاب پر نظر ڈالی لیکن اسے وہ یاد نہیں کہ یہ میں نے کس وقت اپنے شیخ سے کس مقام پر سنی تھی، کس طرح سنی تھی، تو پھر یہ بھی جائز نہیں ہے اس کو آگے روایت کرنا اس کے لیے، حجت نہیں ہے۔ فَإِنْ لَمْ يَتَذَكَّرْ ذَلِكَ اور اگر اس کو یاد نہیں ہے وہ فَلَا يَكُونُ حُجَّةً عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو پھر یہ حجت نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک سَوَاءٌ كَانَ خَطَّهُ برابر ہے کہ چاہے یہ اس کی اپنی تحریر ہو أَوْ خَطَّ غَيْرِهِ یا اس کے علاوہ کسی کی تحریر ہو۔ تحریر چاہے اپنی ہو، چاہے کسی اور کی ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اسے وہ مجلس درس یاد ہونی چاہیے۔ مجلس درس، بھئی۔ دیکھیے اور کتنی سخت شرط لگا دی کہ اگر عزیمت نہیں تو رخصت پھر یہ ہے کہ چلو کتاب سے حدیث آگے روایت کر سکتا ہے جو اس نے لکھی ہیں، لیکن اس میں بھی شرط ہے کہ کیا کیا ہو کہ وہ مجالس اس کو یاد ہوں اچھی طرح۔ وَعِنْدَهُمَا وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ يَجُوزُ لَهُ الرِّوَايَةُ اور صاحبین کے نزدیک اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے اس کے لیے روایت کرنا وَيَجِبُ الْعَمَلُ بِهَا اور اس پر عمل واجب ہوگا وَعِنْدَ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجُوزُ الِاعْتِمَادُ عَلَى الْخَطِّ اور انس رحمہ اللہ کے نزدیک خط پر، تحریر پر اعتماد کرنا بھی جائز ہے إِنْ كَانَ فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِ أَمِينِهِ اگر وہ تحریر اس کے اپنے قبضے میں تھی أَوْ فِي يَدِ أَمِينِهِ یا اس کے کسی امین، امانت دار کے قبضے میں تھی۔ امام صاحب تو کیا فرماتے ہیں کہ مجلس درس یاد ہو، صرف تحریر پر اعتماد کافی نہیں کہ یہ میری تحریر ہے، نہیں بھئی، امام صاحب فرماتے ہیں مجلس درس اس کو یاد ہونی چاہیے۔ جبکہ صاحبین اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، بھئی، پھر بھی اس کے لیے روایت کرنا جائز ہے کتاب پر اعتماد کرتے ہوئے، جبکہ اس نے وہ احادیث لکھی تھیں، بھئی۔ اور جبکہ انس رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ خط پر بھی اعتماد، تحریر پر بھی اعتماد کر سکتا ہے اگر وہ تحریر اسی کے پاس تھی۔ مجلس درس تو نہیں یاد اس کو لیکن وہ احادیث لکھی ہوئی اس کے پاس موجود ہیں تو یہ کافی ہے۔ کہ شرط یہ ہے کہ وہ تحریر اسی کے پاس ہو یا اس کے کسی امین، امانت دار کے پاس وہ تحریر موجود تھی جہاں گڑبڑ کا اس میں کوئی تبدیلی وغیرہ کا شبہ نہیں ہوتا، بھئی۔ وَلَا يَجُوزُ إِنْ كَانَ فِي يَدِ غَيْرِهِ اور جائز نہیں ہے اعتماد کرنا اگر کسی اور کے قبضے میں تھی لِأَنَّهُ لَا يُؤْمَنُ عَنِ التَّغَيُّرِ اس لیے کیونکہ وہ پھر محفوظ نہیں ہے تغیر سے، تبدیلی سے۔ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ سے ہے کہ يَجُوزُ الْعَمَلُ بِالْخَطِّ کہ عمل تحریر پر بھی عمل جائز ہے وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي يَدِهِ اگرچہ وہ اس کے قبضے میں نہ ہو فَذَهَبَ إِلَيْهِ تو امام محمد رحمہ اللہ اس طرف گئے ہیں رُخْصَةً بطور رخصت کے تَيْسِيرًۧا عَلَى النَّاسِ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے۔ ان کے نزدیک اگر پہچانتا ہے کہ یہ میری تحریر ہے تو پھر بھی جائز ہے۔ جبکہ انس رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ اپنی تحریر بھی ہو لیکن اگر کسی غیر کے پاس تھی تو صرف تحریر پر اعتماد کرتے ہوئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں تبدیلی ممکن ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، جب اپنی تحریر کو پہچانتا ہے تو پھر وہ اس کے لیے روایت کرنا جائز ہے، وہ آگے لوگوں کو وہ حدیث پہنچا سکتا ہے۔ وَالثَّالِثُ طَرَفُ الْأَدَاءِ اور تیسری طرف جو ہے وہ ادا ہے، تیسری جو ہے طرف ادا ہے وَالْعَزِيمَةُ فِيهِ اور عزیمت اس میں یہ ہے أَنْ يُؤَدِّيَ عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي سَمِعَ کہ ادا کرے عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي سَمِعَ کہ اسی طریقے پر جس طرح اس نے سنا تھا بِلَفْظِهِ وَمَعْنَاهُ اس حدیث کے لفظ اور معنی کے ساتھ، بھئی، اسی طرح ادا کرے۔ یعنی لفظ بھی وہی ذکر کرے جو اس نے اپنے شیخ سے حدیث کے سنے تھے۔ وَالرُّخْصَةُ اور رخصت یہ ہے أَنْ يَنْقُلَهُ بِمَعْنَاهُ کہ نقل کرے اس حدیث کو اس کے معنی، یعنی لفظ اپنے استعمال کر لیتا ہے اور اسی معنی کو بیان کر دیتا ہے، یہ بھی یہ رخصت ہے۔ أَيْ بِلَفْظٍ آخَرَ يُؤَدِّي مَعْنَى الْحَدِيثِ یعنی کہ دوسرے لفظ کے ساتھ جو ادا کر دے حدیث کے معنی کو وَهَذَا صَحِيحٌ عِنْدَ الْعَامَّةِ اور یہ صحیح ہے اکثر کے نزدیک لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ اس لیے کیونکہ صحابہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین كَانُوا يَقُولُونَ وہ فرماتے تھے قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَذَا کہ حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ یا اس کے قریب ہی اس طرح کا فرمایا أَوْ نَحْوًا مِنْهُ یا اس جیسا فرمایا۔ معلوم ہوا وہ صحابی کہہ رہے ہیں روایت کر رہے ہیں اور کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے اس طرح یا اس کے قریب فرمایا یا اس جیسا فرمایا، معلوم ہوا حضور علیہ السلام کے الفاظ کو صحابی نے کیا کیا ہے؟ اس کی جگہ اپنے لفظ استعمال کیے ہیں، جبھی کہہ رہا ہے کہ اس کے قریب یا اس جیسا فرمایا تھا حضور علیہ السلام نے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا وہ لفظ حضور کے پوری طرح یاد نہیں لیکن مفہوم پوری طرح یاد ہے اور اس کو آگے پہنچا رہا ہے، تو معلوم ہوا روایت بالمعنیٰ بھی جائز ہے۔ وَعِنْدَ الْبَعْضِ لَا يَجُوزُ ذَلِكَ اور بعض علماء کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، روایت بالمعنیٰ جائز نہیں لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَخْصُوصٌ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام مخصوص تھے جوامع الکلم کے ساتھ۔ حضور علیہ السلام کو، بھئی، اللہ تعالیٰ نے جوامع الکلم بنایا، آپ کو جامع کلمات عطا ہوئے تھے، یعنی لفظ بڑے تھوڑے ہوتے اور معانی ان کے بڑے وسیع ہوا کرتے تھے، بھئی۔ یوں کہیں، بڑی مختصر بات فرماتے تھے، بھئی، مختصر الفاظ میں لمبی بات فرما دیا کرتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام تو جوامع الکلم تھے، آپ کو جامع کلمات عطا ہوئے تھے، اور کسی کو تو یہ عطا نہیں ہوئے، تو لہٰذا وہ جب اپنے حضور کے الفاظ کے بجائے اپنے الفاظ استعمال کرے گا تو بات اس طرح نہ رہے گی جیسے کہ پہلے تھی، اس لیے روایت بالمعنیٰ جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں وہ بعض نے کہا یہ جائز نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ السلام مخصوص تھے جوامع الکلم کے ساتھ فَلَا يُؤْمَنُ فِي النَّقْلِ بِالْمَعْنَى مِنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ تو یہ محفوظ نہیں رہے گا نقل میں نقل بالمعنیٰ کے اندر زیادتی اور کمی سے محفوظ نہیں رہے گا، کچھ نہ کچھ زیادتی یا کمی ہو جائے گی۔ وَالْحَقُّ هُوَ التَّفْصِيلُ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ اور حق وہی تفصیل ہے جس کو مصنف نے ذکر کیا، بھئی، کہ عزیمت تو یہ ہے کہ لفظ بھی وہی ذکر کیے جائیں اور رخصت یہ ہے کہ اس کے معنیٰ کو ذکر کر دیا جائے اپنے لفظوں میں۔ فَإِنْ كَانَ مُحْكَمًا تفصيل بیان کر رہے ہیں، بھئی، یہ جو آگے مصنف کہ کس قسم کی حدیث جو ہے اس میں روایت بالمعنیٰ جائز ہے اور کس میں روایت بالمعنیٰ نہیں جائز، اور جائز ہے تو کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے جائز نہیں ہے۔ فرماتے ہیں فَإِنْ كَانَ مُحْكَمًا اگر وہ خبر کیا ہے؟ محکم ہے لَا يَحْتَمِلُ غَيْرَهُ جس میں اس کے غیر کا احتمال نہیں يَجُوزُ نَقْلُهُ بِالْمَعْنَى تو جائز ہے اس کو نقل کرنا معنیٰ کے ساتھ لِمَنْ لَهُ بَصَرٌ فِي وُجُوهِ اللُّغَةِ اس شخص کے لیے جس کو بصیرت حاصل ہو فِي وُجُوهِ اللُّغَةِ لغت کے وجوہ، یعنی لغت کے مفہومات میں، لغت کے مفہوموں میں جس کو بصیرت حاصل ہے، یعنی جو پوری طرح لغت کو جاننے والا ہے۔ اس کے لیے روایت بالمعنیٰ جائز ہوگا جب خبر کیا ہو؟ محکم ہو، یعنی جس میں اور معنیٰ کا احتمال ہی نہیں ہے، ایک ہی معنیٰ کا اس میں احتمال تھا، تو یہ روایت بالمعنیٰ کے ذریعے اسی معنیٰ کو کیا کرے گا؟ جو لغت کو پوری طرح جاننے والا ہے، لغت میں جس کو بصیرت حاصل ہے، وہ اس کو اپنے الفاظ میں ذکر کر دے گا، مثلاً قعد کی جگہ جلس کہہ دیتا ہے، سمجھ میں آئی بات؟ قعد کی جگہ اپنا جلس کا لفظ استعمال کر لیتا ہے اور اس طرح اپنے الفاظ استعمال کر لیتا ہے کیونکہ اس کو لغت میں پوری بصیرت حاصل ہے۔ إِذْ لَا يَشْتَبِهُ مَعْنَاهُ عَلَيْهِ کیونکہ اس پر معنیٰ مشتبہ نہیں ہوگا بِحَيْثُ يَحْتَمِلُ الزِّيَادَةَ وَالنُّقْصَانَ اس حیثیت سے کہ وہ کمی یا زیادتی کا احتمال رکھتا ہو۔ بھئی، اس کا تو ایک ہی معنیٰ تھا، محکم تھی نا حدیث، تو اس میں اور معانی کا تو احتمال ہی نہیں تھا، تو اب یہ جب ادا کرے گا تو وہی معنیٰ ادا کرے گا، لازمی بات ہے، پوری لغت جب جاننے والا ہے اس میں کسی کمی یا زیادتی کا احتمال نہیں ہوگا۔ وَإِنْ كَانَ ظَاهِرًا اور اگر وہ خبر کیا ہے؟ ایسی ظاہر ہے يَحْتَمِلُ غَيْرَهُ جس میں اور معانی کا بھی احتمال ہے، حدیث ہے اور اس میں اور معانی کا بھی احتمال ہے بِأَنْ يَكُونَ عَامًّا يَحْتَمِلُ التَّخْصِيصَ أَوْ حَقِيقَةً تَحْتَمِلُ الْمَجَازَ بایں صورت کہ وہ ایسے عام ہے جس میں تخصیص کا احتمال ہے یا ایسی حقیقت ہے جس میں مجاز کا احتمال ہے فَلَا يَجُوزُ نَقْلُهُ بِالْمَعْنَى إِلَّا لِلْفَقِيهِ الْمُجْتَهِدِ تو پھر جائز نہیں ہے اس کو نقل بالمعنیٰ کرنا مگر کس کے لیے؟ فقیہ مجتہد کے لیے لِأَنَّهُ يَقِفُ عَلَى الْمُرَادِ اس لیے کیونکہ وہ فقیہ مجتہد جو ہے وہ واقف ہوگا حضور علیہ السلام کی مراد پر فَلَا يَقَعُ الْخَلَلُ فِي نَقْلِهِ بِمَعْنَاهُ لہٰذا اس کے نقل بالمعنیٰ کے اندر کوئی خلل نہیں آئے گا، مثلاً مثال کے طور پر قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام کا قول ہے مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ جو بدل دے اپنے دین کو تو اسے قتل کر دو۔ كَلِمَةُ مَنْ عَامَّةٌ کلمہ "من" کیا ہے؟ عام ہے تُخَصُّ مِنْهَا الْمَرْأَةُ تخصیص کی گئی ہے اس سے عورت کی۔ حدیث میں کیا آیا؟ جو شخص اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو، اس میں "من" آیا اور "من" عموم کا فائدہ دیتا ہے، لیکن اس میں سے عورت کی تخصیص کر لی گئی۔ آپ بھی جانتے ہیں کوئی شخص مرد مرتد ہو جائے تو اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی کہ وہ واپس لوٹ آئے اسلام کی طرف، اگر نہیں لوٹتا تو پھر اسے قتل کر دیا جائے گا، حدیث کے مطابق، مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ، لیکن عورت کے بارے میں آپ نے پڑھا ہے کہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، وہ مرتد ہو جائے تو پھر اسے جیل میں ڈال دیں گے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ واپس نہ لوٹ آئے ورنہ جیل ہی میں رہے گی، بھئی۔ تو معلوم ہوا عورت کی کیا کر لی گئی ہے اس حدیث سے؟ تخصیص کی گئی ہے۔ فَإِنْ نَقَلَهُ نَاقِلٌ پس اگر نقل کرتا ہے اس حدیث کو کوئی ناقل وَيَقُولُ اور کہتا ہے كُلُّ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ، اب دیکھو اپنے لفظ لا رہا ہے، كُلُّ، "کل" کا لفظ لے آیا، بھئی، كُلُّ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ، ہر وہ شخص جو شخص اپنے، ہر وہ شخص جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو، اب "کل" کا لفظ لے آیا، بھئی، جس نے تخصیص کا دروازہ ہی بند کر دیا، جس نے بھی اپنے دین کو بدلا ہر اس شخص کو کیا کر دو؟ قتل کر دو، يَشْمُلُ الْمَرْأَةَ أَيْضًا تو یہ شامل ہو جائے گا عورت کو بھی فَيَقَعُ الْخَلَلُ فِي الْأَحْكَامِ تو احکام میں خلل آ جائے گا، جبکہ فقیہ جو ہے وہ چونکہ حدیث کی مراد کو جانتے ہیں لہٰذا وہ روایت بالمعنیٰ کرے گا تو وہ ان چیزوں کا خیال رکھے گا تو اس میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔ وَمَا كَانَ مِنْ جَوَامِعِ الْكَلِمِ اور وہ جو جوامع الکلم میں سے ہو، بتلا رہے ہیں، بھئی، اگر محکم ہو تو روایت جو جسے لغت میں بصیرت ہو وہ نقل بالمعنیٰ کر سکتا ہے، اور اگر ظاہر ہے جس میں اور معانی کا بھی احتمال ہے تو فقیہ مجتہد اس کو نقل بالمعنیٰ کر سکتا ہے۔ وَمَا كَانَ مِنْ جَوَامِعِ الْكَلِمِ اور وہ خبر جو کس میں سے ہو؟ جوامع الکلم میں سے ہو بِأَنْ كَانَ لَفْظًا وَجِيزًا تَحْتَهُ مَعَانٍ جَمَّةٌ بایں طور کہ بایں صورت کہ لفظ جو ہے وَجِيزًا مختصر ہو، یعنی تھوڑے لفظ ہوں تَحْتَهُ مَعَانٍ جَمَّةٌ اور اس کے تحت کثیر معانی ہوں، اس کے تحت لفظ تھوڑے سے ہوں اور اس کے تحت کثیر معانی ہوں كَقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ جیسے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا قول ہے الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ، الغرم، را ساکن ہے غین پر پیش ہے را ساکن، اسی طرح غنم میں بھی غین پر پیش ہے اور نون ساکن، الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ۔ غرم کہتے ہیں ضمان کو اور غنم کہتے ہیں نفع کو، الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ، ضمان نفع کے بدلے ہے، ضمان نفع کے بدلے ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی چیز سے نفع اٹھاتا ہے تو اس چیز کے ہلاکت کی صورت میں ضمان بھی اسی پر آئے گا، یہ ضمان اس نفع کے بدلے ہے، بھئی، یہ نفع بھی یہ، نفع بھی تو یہی اٹھا رہا تھا تو ضمان بھی اسی پر آئے گا۔ مثلاً آپ نے پڑھا ہے خیار العیب، بھئی، ایک آدمی کسی سے کوئی چیز خریدتا ہے اور اس کو اپنے پاس اس چیز کا استعمال شروع کر دیا، کچھ عرصے بعد پتہ چلا اس چیز میں تو فلاں عیب ہے اور یہ عیب بائع کی طرف سے ہی آیا ہے، جب بیچنے والے نے یہ چیز مجھے بیچی تھی اس وقت ہی یہ عیب اس میں تھا لیکن مجھے پتہ نہیں تھا، آج پتہ چلا۔ تو اب اس کو شریعت نے اختیار دیا ہے کہ یہ کیا کر سکتا ہے؟ اس عیب کی وجہ سے اس چیز کو واپس کر سکتا ہے بائع کو اور اسے خیار عیب کہتے ہیں۔ اب اگر آپ وہ چیز لے کر گئے اور وہ چیز واپس کر رہے ہیں وہ بائع کہتا ہے کہ بھئی اتنے ٹھیک ہے، یہ میری طرف سے عیب آیا تھا میں یہ چیز واپس لیتا ہوں لیکن اتنا عرصہ جو آپ اس سے نفع اٹھاتے رہے ہیں اس کا بھی بدلہ دینا پڑے گا آپ کو۔ تو یاد رکھیے شریعت کا حکم آ گیا، بڑے ہی مختصر الفاظ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا، الغرم بالغنم ضمان نفع کے بدلے ہے۔ کہ بھئی یہ شخص اگر اس چیز سے نفع اٹھا رہا تھا تو ضمان بھی تو اسی پر تھا، اگر یہ چیز اس پر کے پاس اس وقت ہلاک ہو جاتی تو اسی پر ضمان تھا یا نہیں بھئی؟ اسی کی چیز جانی تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ ضمان بھی اسی پر پڑ رہا تھا لہذا معلوم ہوا اب اسے یہ جو نفع اس نے اٹھایا یہ اس ضمان کے بدلے تھا بھئی لہذا اب وہ نفع جو اٹھایا ہے وہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اگر ان دنوں میں اس نے اس سے کچھ نفع اٹھایا ہے تو ان دنوں میں ضمان بھی اسی پر تھا، اگر وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو جاتی تو اس کے پیسے پھر واپس نہیں آ سکتے تھے، اب تو زندہ ہے واپس کر رہا ہے ٹھیک ہے وہ چیز واپس کر رہا ہے تو پیسے واپس لے لے گا بائع سے لیکن اس صورت میں کیا ہوتا؟ اسی کے پیسے جاتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے جوامع الکلم بھئی دیکھیے۔ دو لفظ ذکر کیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سمجھانے کے لیے لمبی تقریر کرنا پڑتی ہے بھئی اور بھی بڑی تفصیل فقہاء بیان کرتے ہیں، یہ مختصراً میں نے مفہوم بیان کر دیا۔ والخراج بالضمان، اور خراج ضمان کے بدلے ہے، خراج نفع، نفع کس کے بدلے ہے؟ ضمان کے بدلے ہے بھئی، یہ بھی اسی قسم کی حدیث بھئی اور یہ تفصیل بیان ہو چکی مسئلہ مسراۃ کے اندر بھئی، یہ بھی اسی طرح۔ والعجماء جبار والعجماء جبار۔ عجماء یہ جس کی زبان نہ ہو، عجماء کسے کہتے ہیں؟ جس کی زبان نہ ہو یعنی گونگا، بے زبان اور مؤنث کا صیغہ ہے بھئی۔ اور جبار کا معنی ہے رائگاں، ضائع۔ جبار کا کیا معنی؟ ضائع، رائگاں۔ بھئی یہ حدیث اس طرح آتی ہے: العجماء جرحها جبار، العجماء جرحها جبار۔ اچھا عجماء کا کیا معنی کیا؟ بے زبان، بے زبان بھئی اور مراد اس سے جانور ہیں بھئی مویشی وغیرہ کہ وہ بات نہیں کر سکتے بے زبان ہیں بھئی۔ تو حدیث میں کیا آیا؟ العجماء جرحها جبار کہ مویشی جو ہیں ان کا زخمی کرنا یہ رائگاں ہے، مویشیوں کا زخمی کرنا رائگاں ہے یعنی اس صورت میں مالک پر ضمان نہیں آئے گا۔ مالک پر ضمان نہیں آئے گا۔ تفصیل یہ جو فقہاء بیان فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کا کوئی جانور ہے مویشی دن کے وقت اس نے کسی دوسرے کی کوئی چیز خراب کر دی یا کسی کو زخمی وغیرہ کر دیا دن کے وقت اور جانور کے ساتھ کوئی تھا نہیں کوئی آدمی وغیرہ جو اس کو لے کر جا رہا ہو۔ مالک وغیرہ یا اس کا کوئی غلام وغیرہ کوئی بھی نہیں تھا تو اس جانور نے دن کے وقت کسی کو زخمی کیا یا کسی کی کوئی چیز ضائع کر دی تو مالک پر ضمان نہیں آئے گا۔ ہاں اگر رات کے وقت بلکہ پہلے دوسری صورت بناؤ، اگر ساتھ مالک خود تھا تو پھر اس صورت میں مالک پر ضمان آئے گا یا رات کے وقت اس جانور نے کسی کو زخمی کیا اور یا کسی کی کوئی چیز تلف کر دی تو اس صورت میں بھی مالک پر ضمان آئے گا۔ لیکن بہرحال دن کے وقت اگر یہ جانور ہے اکیلا اور اس نے کسی کو زخمی کیا یا کسی کی کوئی چیز ضائع کی تو اس صورت میں مالک پر ضمان نہیں، وجہ اس کی یہ کہ بھئی عموماً جانوروں کو دن کے وقت سبھی لوگ چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں، سب لوگ اسی طرح کرتے ہیں۔ تو جن کی چیزیں ہیں ان کو خود اپنا خیال چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے مالک کی ذمہ داری نہیں، لیکن اگر مالک ساتھ تھا پھر ضمان آئے گا کیونکہ یہ اس کی کوتاہی ہے بھئی، یہ ساتھ تھا پھر کس طرح جانور نے دوسرے کو کوئی تکلیف دی، اس کی کوئی چیز ضائع کر دی یا اسے زخمی کیا۔ اور نیز رات کو بھی اگر جانور نے کسی کو زخمی کیا یا کوئی چیز تلف کی تو ضمان آئے گا کیونکہ رات کے وقت جانوروں کو کھلا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ان کو باندھ کر رکھا جاتا ہے تو اگر رات کو مالک نے کھلا چھوڑا ہے تو یہ اس کی کوتاہی ہے تو ضمان دینا پڑے گا، تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے حدیث کا مفہوم دیکھیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو تین لفظوں کے اندر اس کو بیان فرما دیا۔ العجماء جرحها جبار مویشیوں کا زخمی کرنا رائگاں ہے یعنی اس میں ضمان نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں وہ حدیث جو جوامع الکلم میں سے ہو او المشكل او المشترك او المجمل یا وہ خبر کیا ہو؟ مشکل ہو یا مشترک ہو یا مجمل ہو لا يجوز نقله بالمعنى للكل تو جائز نہیں ہے اس کو نقل بالمعنى اس کا نقل بالمعنى سب کے لیے یعنی کوئی کسی کے لیے بھی اس حدیث کو نقل بالمعنى کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔ کب؟ جب خبر کس میں سے ہو؟ جوامع الکلم میں سے ہو یا وہ کیا ہو؟ مشکل ہو یا مشترک ہو یا مجمل ہو۔ تو کسی کے لیے بھی اس کا نقل بالمعنى جائز نہیں، اي لا للمجتهد ولا لغيره یعنی نہ تو مجتہد کے لیے اور نہ غیر مجتہد کے لیے، وجہ کیا ہے وہ تفصیل بیان کر رہے ہیں: اما في جوامع الكلم باقی جوامع الکلم کے اندر فلأنه عليه الصلاة عليه الصلاة والسلام لما كان مخصوصا به اس لیے کیونکہ جب حضور علیہ السلام مخصوص تھے جوامع الکلم کے ساتھ، آپ ہی صرف کیا ہیں؟ جوامع الکلم، آپ صرف آپ ہی کو عطا ہوئے تھے فلا يقدر احد على نقله تو کوئی ایک بھی قادر نہیں ہوگا اس کے نقل کرنے پر۔ واما في المشكل والمشترك، بھئی مشکل اور مشترک میں کیوں روایت بالمعنى جائز نہیں ہے؟ بھئی دیکھیے مشکل وہ ہے جس میں خفی سے بھی بڑھ کر خفا ہوتا ہے۔ تو اس میں پھر کئی معانی کا احتمال آتا ہے اور مجتہد کیا کرتا ہے؟ غور و فکر کر کے ایک معنی کو متعین کرتا ہے کہ یہ معنی ہے بھئی اس کا۔ تو جب یہ مجتہد اس کو روایت بالمعنى کرے گا تو لازمی بات ہے لفظ وہ ذکر نہیں کر رہا تو پھر اپنی جو جس معنی کو اس نے ترجیح دی تھی۔ غور کر کے ایک معنی کو اس نے ترجیح دی کہ یہ معنی ہوگا تو اسی معنی کو لازمی بات ہے وہ بیان کرے گا۔ تو جب اسی معنی کو بیان کرے گا تو یہ تو بھئی اس کا اجتہاد تھا، اس کے لیے حجت تھا یہ تو کسی اور کے لیے حجت نہیں ہے لہذا یہاں روایت بالمعنى جائز نہیں، یہ تو جس کو پہنچا رہا ہے وہ مجتہد پھر خود غور کر کے پھر غور کرے اس کے معنی کے اندر اور اپنے لیے متعین کرے کہ کیا معنی مراد ہو سکتا ہے دلائل کے ذریعے بھئی، تو اس مجتہد کا اجتہاد تو دوسروں کے لیے حجت نہیں لہذا یہاں روایت بالمعنى جائز نہیں کیونکہ اگر روایت بالمعنى کرے گا تو پھر وہ اپنی تاویل کے ساتھ کرے گا لازمی بات ہے۔ اسی طرح مشترک وہ جس میں کئی معانی کا احتمال ہوتا ہے اور پھر مجتہد ایک معنی کو ترجیح دیتا ہے تو اس میں بھی روایت بالمعنى جائز نہیں کیونکہ یہاں پر بھی مجتہد کیا کرے گا؟ اپنی تاویل کو ذکر کرے گا، اپنے ترجیح دیے ہوئے معنی کو ذکر کرے گا تو دیگر احتمالات کو اس نے گویا ختم ہی کر دیا تو یہ بھی درست نہیں بھئی۔ اور مجمل جو ہے اس کو بھی اپنے لفظوں میں اپنے لفظوں کے ساتھ روایت نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ مجمل کے تو معنی ہی کا پتہ نہیں چلتا جب تک مجمل سے پوچھا نہ جائے، تو یہ کس طرح اس کو اپنے معنی کے ساتھ ذکر کر سکتا ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے واما في المشكل والمشترك باقی مشکل اور مشترک کے اندر فلانه انما ينقله بتاويل مخصوص کہ یہ اس کو نقل کرے گا اپنی مخصوص تاویل ہی کے ساتھ لا يكون حجة على غيره تو یہ حجت نہ رہے گی کسی دوسرے پر واما في المجمل اور باقی مجمل کے اندر فلعدم الوقوف على معناه بدون الاستفسار من المجمل بموجب واقف نہ ہونے کے اس کے معنی پر بغیر پوچھے مجمل سے، تو مجمل میں بھی روایت بالمعنى کی اجازت نہیں اور متشابہ وہ تو اس مجمل سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے خفا میں تو اس میں بھی بطریق اولیٰ کیا ہوگی روایت بالمعنى کی اجازت نہیں ہوگی بھئی۔ یاد رکھیے یہ جو آیا کہ بعض صورتوں میں روایت بالمعنى بھی جائز ہے یہ اس وقت تھا جب تک احادیث ابھی مدون نہیں ہوئی تھیں اور کتابوں کی صورت میں ان کو جمع نہیں کیا گیا تھا، پھر جب احادیث مدون ہو چکیں اب اور کتابی صورت میں جمع کی جا چکیں تو یاد رکھیے اب روایت بالمعنى جائز نہیں ہے بھئی، اب حدیث کو اگر روایت کیا جائے گا تو اس کے لفظوں کے ساتھ روایت کرنا ضروری ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب اس کی گنجائش نہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 43 of 84