Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-089

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔89 وَالتَّقْسِيمُ الثَّالِثُ فِي بَيَانِ مَحَلِّ الْخَبَرِ الَّذِي جُعِلَ الْخَبَرُ فِيهِ حُجَّةً، وَهُوَ إِمَّا حُقُوقُ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ نَوْعَانِ: الْعُقُوبَاتُ وَغَيْرُهَا، وَإِمَّا حُقُوقُ الْعِبَادِ وَهُوَ ثَلَاثَةُ أَقْسَامٍ. والتقسيم الثالث في بيان محل الخبر، اور تیسری تقسیم جو ہے، یہ محل خبر کے بیان میں ہے۔ وہ محل خبر، الذي جعل الخبر فيه حجة، جس کے اندر خبر کو حجت بنایا گیا ہو، خبر کو دلیل بنایا گیا ہو۔ یہ تیسری تقسیم ہے بھئی۔ پہلی تقسیم آپ نے پڑھی تھی اتصال کے اندر کہ ہم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک خبر کا یعنی حدیث کا اتصال کس طریقہ پر ہے؛ خبر متواتر ہے، خبر مشہور ہے يا خبر واحد ہے۔ دوسری تقسیم آپ نے پڑھی تھی انقطاع کے اندر بھئی، اور یہ تیسری تقسیم ہے محل خبر کے بیان میں۔ محل خبر یعنی وہ مسئلہ جس کے بارے میں حدیث آئی ہے، وہ مسئلہ جس کے بارے میں خبر آئی ہے۔ تو کہتے ہیں: والتقسيم الثالث في بيان محل الخبر الذي جعل الخبر فيه حجة، اور یہ تیسری تقسیم جو ہے، اس محل خبر کے بیان میں ہے جس کے اندر خبر کو حجت بنایا گیا ہو، حجت قرار دیا گیا ہو۔ وهو إما حقوق الله تعالى، اور وہ یا تو اللہ کے حقوق ہوں گے۔ وهو نوعان، اور وہ اللہ کے حقوق دو قسم پر ہیں: العقوبات وغيرها، عقوبات ہیں کچھ اور کچھ غیر عقوبات ہیں، یعنی سزائیں ہیں کچھ اور کچھ غیر سزائیں، یعنی عبادات وغیرہ بھئی، عبادات۔ وإما حقوق العباد، یا وہ کیا ہوں گے؟ حقوق العباد ہوں گے۔ تو حقوق اللہ دو قسم پر ہوئے بھئی؛ عقوبات کچھ سزائیں ہیں اور عبادات ہیں۔ اور حقوق العباد، وهو ثلاثة أقسام، وہ تین قسم پر ہیں: ما فيه الزام محض، ایک وہ قسم جس کے اندر الزام محض ہو، یعنی دوسرے پر کوئی چیز لازم کی جائے۔ أو لا الزام فيه أصلا، یا وہ قسم جس میں سرے سے کوئی الزام نہ ہو، یعنی کسی پر کسی چیز کا لازم کرنا نہ ہو۔ أو فيه الزام من وجه دون وجه، یا اس کے اندر من وجہ الزام ہو، من وجہ الزام نہ ہو، یعنی بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو اس میں الزام ہے اور بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو اس میں الزام نہ ہو۔ تو یہ تین قسمیں ہیں، تفصیل آگے آ رہی ہے بھئی۔ فهذه خمسة أنواع، تو یہ پانچ انواع ہیں بھئی؛ دو حقوق اللہ میں اور تین حقوق العباد میں۔ حقوق اللہ کے اندر عقوبات اور عبادات، اور حقوق العباد کے اندر تین قسمیں: بعض وہ قسمیں جن میں الزام محض ہے، اور بعض وہ قسمیں جن میں سرے سے کوئی الزام نہ ہو، اور ایک بعض وہ قسمیں، بعض وہ قسمیں جن کے اندر من وجہ الزام ہو اور من وجہ الزام نہ ہو۔ وهذا التقسيم لمطلق الخبر الواحد أعم من أن يكون خبر الرسول عليه الصلاة والسلام أو أصحابه أو عامة الخلق من أهل السوق، اور یہ تقسیم ہے مطلق خبر واحد کی، اس حال میں کہ وہ عام ہو اس سے کہ وہ خبر رسول ہو یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی خبر ہو یا عام لوگوں کی خبر ہو من أهل السوق، بازار والوں میں سے۔ کس میں سے؟ یعنی اچھا، یہ مطلق خبر واحد کی تقسیم ہے چاہے وہ خبر رسول ہو، چاہے وہ خبر صحابہ ہو، چاہے یہ عام لوگوں کی خبر ہو۔ وهي من المسامحات المشهورة لجمهور السلف اقتداء بفخر الإسلام، اور یہ جمہور سلف کی، جمہور یعنی جمہور سلف کی، یعنی اکثر سلف کی یہ مشہور مسامحات میں سے ہے، اقتدا کرتے ہوئے علامہ فخر الاسلام کی۔ بھئی! بات تو چل رہی ہے اس وقت خبر رسول کی بھئی، حدیث، سنت کی بحث ہم پڑھ رہے ہیں، تو یہاں سنت سے متعلقہ بحث ہی ہونی چاہیے، لیکن علامہ فخر الاسلام نے یہاں پر مطلق خبر واحد کی بحث بھی ذکر کی ہے اور جمہور سلف نے بھی ان کی اقتدا کرتے ہوئے اس کو اپنی کتابوں میں اسی طرح ذکر کیا ہے بھئی، باقی سب نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔ فإن كان من حقوق الله تعالى يكون خبر الواحد فيه حجة، پس اگر، فإن كان، "كان" میں "هو" ضمیر راجع ہے محل خبر کو، اگر وہ محل خبر یعنی وہ مسئلہ جس کے بارے میں حدیث آئی ہے، یہ وہ خبر واحد آئی ہے، من حقوق الله تعالى، وہ کس میں سے ہو؟ اللہ کے حقوق میں سے ہو، يكون خبر الواحد فيه حجة، تو اس میں خبر واحد حجت ہو گی، دلیل ہو گی۔ سواء كان من العبادات أو العقوبات أو دائرة بينهما أو مؤنة مع أحدهما، برابر ہے کہ وہ عبادات میں سے ہوں حقوق اللہ، یا عقوبات میں سے ہوں، أو دائرة بينهما، یا ان دونوں کے درمیان دائر ہوں، جیسے کفارے ہیں بھئی کفارے، کفارہ جو ہے وہ دیکھا جائے تو عبادت ہے۔ بھئی! روزہ جان بوجھ کر توڑ دیا کسی شخص نے، رمضان کا فرض روزہ، تو کیا حکم ہے؟ 60 روزے رکھنا پڑیں گے اور ایک اس کی قضا بھی کرنا پڑے گی۔ تو یہ جو 60 روزے بطور کفارے کے آئے، دیکھا جائے تو یہ عبادت بھی ہیں اور دیکھا جائے تو یہ سزا بھی ہیں، تو اس میں دونوں پہلو ہیں؛ سزا کا بھی پہلو اور عبادت کا بھی۔ اسی لیے کہا کہ یا حقوق اللہ یا تو وہ عبادات میں سے ہوں گے، یا عقوبات یعنی سزاؤں میں سے ہوں گے، أو دائرة بينهما، یا ان دونوں کے درمیان دائر ہوں گے، یعنی اس میں عبادت کا بھی پہلو ہو گا اور سزا کا بھی پہلو ہو گا، أو مؤنة مع أحدهما، یا ان دونوں میں سے، یا مشقت ہو گی ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ۔ مؤنت: مشقت بھئی، مشقت۔ مشقت ہو گی ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھئی، یعنی عبادت یا سزا کے ساتھ۔ عبادت یا سزا کے ساتھ۔ اس سے مراد وہ عشر اور عشر اور خراج وغیرہ ہیں بھئی۔ عشر جو ہے اس میں عبادت کا پہلو ہے، اور خراج کے اندر سزا کا پہلو ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو مؤنت کا کیا معنی؟ مشقت اور محنت بھئی، تو اس میں بھی دیکھیے محنت ہے کہ زمین کو میں ہل چلانا پڑتا ہے، محنت کرنا پڑتی ہے اور پھر پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ولكن قيل بلا شرط عدد، مگر کہا گیا ہے کہ عدد کی شرط کے بغیر، کہ خبر واحد حقوق اللہ کے اندر حجت ہے، دلیل ہے، لیکن اس میں عدد کی شرط نہیں ہے بھئی، عدد کی شرط نہیں ہے، کوئی ایک بھی بیان کر دے تو کافی ہے، اس کو قبول کیا جائے گا۔ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: لأن الصحابة قبلوا حديث إذا التقى الختانان من عائشة رضي الله تعالى عنها وحدها، اس لیے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے قبول کیا اس حدیث کو، "إذا التقى الختانان" کی حدیث کو قبول کیا حضرت اکیلی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھئی، انہوں نے روایت کیا بھئی، انہوں نے روایت کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ إذا جاء، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا جاوز الختان الختان وجب الغسل، جب تجاوز کر جائے شرمگاہ، شرمگاہ کی طرف تو غسل واجب ہے۔ بھئی! بیوی سے کوئی شخص صحبت کرے اور انزال ہو پھر تو غسل واجب ہی ہے۔ اگر انزال نہ ہو یعنی خروجِ منی نہ پایا جائے تو پھر بھی کیا غسل واجب ہو گا یا واجب نہیں ہو گا؟ تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا: إذا جاوز الختان الختان، جب بڑھ جائے، تجاوز کر جائے شرمگاہ شرمگاہ کی طرف، وجب الغسل، تو غسل واجب ہے، غسل واجب۔ یعنی ایک شرمگاہ جب دوسری شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہے، یعنی انزال ہو یا انزال نہ ہو، اور تفصیل آپ فقہ میں پڑھ چکے ہیں کہ جب کچھ دخول ہو جائے بھئی، پھر واجب ہے۔ اب اس حدیث کو صرف حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روایت کیا اور صحابہ نے اس کو قبول کر لیا، معلوم ہوا کہ حقوق اللہ کے اندر بھئی، بھئی غسل واجب ہے یہ حق اللہ ہے بھئی، کیا ہے؟ حق اللہ، تو اس میں انہوں نے اس حدیث کو قبول کر لیا، صرف ایک روایت کرنے والی ہیں، معلوم ہوا حقوق اللہ کے اندر خبر واحد کو قبول کیا جائے گا اور اس میں عدد کی شرط بھی نہیں ہے کہ دو روایت کرنے والے ہوں یا تین۔ وقيل بشرط عدد، اور کہا گیا ہے عدد کی شرط کے ساتھ، لأن النبي عليه الصلاة والسلام لم يقبل خبر ذي اليدين، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے ذوالیدین کی خبر کو قبول نہیں فرمایا، في عدم تمام صلاته، اپنی نماز کے پورا نہ ہونے میں، ما لم ينضم إليه خبر غيره، جب تک کہ مل نہ گئی اس کے ساتھ ان کے علاوہ کی خبر۔ بھئی! روایات میں آتا ہے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں چار رکعت والی، آپ نے بھولے سے دو رکعت پر ہی سلام پھیر دیا۔ باقی صحابہ حیران ہیں، خاموش ہیں، حضرت ذوالیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ انہوں نے فرمایا: أقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله؟ کیا نماز چھوٹی ہو، چھوٹی ہو گئی یا آپ بھول گئے یا رسول اللہ؟ کیا نماز کو یعنی چھوٹا کر دیا گیا یا آپ بھول گئے؟ حضور علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: كل ذلك لم يكن، ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ہوئی، نہ نماز چھوٹی کی گئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ تو وہ جواب میں فرمانے لگے کہ ان میں سے کوئی ایک بات تو یا رسول اللہ ضرور ہوئی ہے، یا نماز چھوٹی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ تو حضور علیہ السلام باقی صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے بھی تصدیق کی کہ واقعی دو رکعت پر ہی آپ نے سلام پھیر دیا ہے۔ تو پھر حضور علیہ السلام کھڑے ہوئے اور بقیہ نماز پوری کروائی بھئی، بقیہ نماز پوری کروائی اور آخر میں سجدہ سہو کیا۔ اور اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ درمیان میں کلام کیا گیا اور پھر باقی نماز پوری کی گئی، حالانکہ نماز کے اندر تو کلام کیا جائے تو نماز تو ٹوٹ جاتی ہے۔ جواب یہ کہ یہ واقعہ نماز میں کلام کی حرمت سے پہلے کا ہے، ابھی اس وقت تک نماز کے اندر کلام کے حرام ہونے کا حکم نہیں آیا تھا۔ تو دیکھیے کہتے ہیں: یہ نماز کا مسئلہ ہے، حقوق اللہ کی بات ہے اور اس کے اندر حضرت ذوالیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی اور حضور علیہ السلام نے ان کے اکیلے کی خبر کو قبول نہیں فرمایا بلکہ باقی صحابہ سے بھی اس کی تائید کروائی پھر اس کے بعد اس کو قبول کیا بھئی، معلوم ہوا عدد بھی شرط ہے بھئی، عدد بھی شرط ہے۔ خلافا للكرخي في العقوبات، برخلاف امام کرخی کے سزاؤں کے اندر۔ بھئی! وہ فرماتے ہیں امام کرخی کہ باقی حقوق اللہ کے اندر تو خبر واحد دلیل بنے گی، اس کو قبول کیا جائے گا، لیکن سزاؤں کے اندر یعنی حدود کے اندر خبر واحد کو حجت نہیں بنایا جا سکتا، کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ آگے تفصیل آ رہی ہے شرح میں دیکھیے: خلافا للكرخي في العقوبات، برخلاف امام کرخی کے سزاؤں میں، فإنه لا يقبل فيها خبر الواحد، بس بے شک اس کے اندر قبول نہیں کیا جائے گا خبر واحد کو، ولا يثبت الحدود منه، اور ثابت نہیں ہوں گی حدود اس سے یعنی خبر واحد سے، لأن في اتصاله إلى الرسول عليه الصلاة والسلام شبهة، اس لیے کیونکہ اس کے حضور علیہ السلام تک متصل ہونے میں شبہ ہے۔ خبر واحد کے بھئی! جس کو ایک روایت کر رہا ہے یا دو روایت کر رہے ہیں، اس کے حضور علیہ السلام سے متصل ہونے میں کیا آ گیا؟ شبہ آ گیا بھئی شبہ آ گیا، کہ ہو سکتا ہے درمیان میں کسی راوی سے بھول ہوئی ہو، یا ہو سکتا ہے کوئی بیچ میں ایسا شخص آیا جس نے اپنی طرف سے ایک روایت گھڑ لی ہو وغیرہ بھئی، تو شبہ آ گیا بھئی کہ پتا نہیں یہ حضور علیہ السلام کا قول ہے یا قول نہیں ہے۔ تو لأن في اتصاله إلى الرسول عليه الصلاة والسلام شبهة، اس لیے کیونکہ اس کے حضور علیہ السلام کے ساتھ متصل ہونے میں شبہ ہے، والحدود تندرئ بها، اور حدود جو ہیں وہ ساقط ہو جاتی ہیں شبہے کی وجہ سے۔ آپ جانتے ہیں حد جو ہے وہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جایا کرتی ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں حدود شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، تو لہٰذا حدود کو خبر واحد کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سمجھ میں آئی بات؟ مثلاً بھئی کہ ایک مسئلہ ہے اس کے بارے میں حد، ایک خبر واحد، کوئی فرض کرو صورت بنائیں۔ ایک خبر واحد آئی، اس خبر واحد سے پتا چل رہا ہے کہ اس مسئلے میں بھی، اس جرم پر بھی حد ہے، اس جرم پر بھی حد ہے، وہ فرماتے ہیں بھئی اگر خبر واحد ہوئی تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا، امام کرخی فرماتے ہیں۔ وأما إثباتها بالبينات عند القاضي فيجوز بالنص على خلاف القياس، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ امام کرخی پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے کہا سزاؤں میں یعنی حدود کے اندر حدود میں خبر واحد کو قبول نہیں کیا، قبول نہیں کیا جائے گا وہ حجت نہیں بنے گی، اس سے حدود کا اثبات نہیں ہو سکتا، حالانکہ حدود کے اندر آپ نے پڑھا کہ دو مرد گواہ ہوں تو کافی ہیں بھئی، اور زنا کے مسئلے میں چار مرد گواہ ہوں تو کافی ہیں۔ اب یہ دو مرد گواہ ہوں یا چار مرد گواہ ہوں، ان سب کی خبر یہ خبر واحد ہی تو ہے؟ ان سب کی خبر کیا ہے؟ خبر واحد ہی تو ہے، بھئی خبر متواتر جس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ ہوں کہ ان کا اجتماع علی الکذب جو ہے عقل اس کو محال سمجھے، اور خبر مشہور جس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ تو نہیں، لیکن کثیر ہیں، اور جو اس سے کم ہیں یہ دو چار کی خبر یہ تو کیا ہے؟ خبر واحد۔ تو یہاں بھی دیکھیے خبر واحد کے ذریعے حد ثابت ہو جاتی ہے۔ دو آدمی آ کر مثلاً گواہی دے دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے، تو حد ثابت ہو جائے گی یا نہیں چوری کرنے والے پر؟ یا دو آدمی عادل آدمی آ کر گواہی دے دیتے ہیں دو گواہ کہ فلاں شخص نے فلاں پر زنا کی تہمت لگائی ہے، تو حد قذف ثابت ہو جائے گی اس پر۔ تو دیکھیے یہاں پر خبر واحد کے ذریعے حد ثابت ہو رہی ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں اس کا امام کرخی، وہ فرماتے ہیں: وأما إثباتها بالبينات، اور باقی حدود کا ثابت کرنا بینات کے ذریعے، عند القاضي، قاضی کے پاس، فيجوز، تو وہ جائز ہے، بالنص، نص کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ خبر واحد کو اس حدود کے مسئلے میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہاں نص آ گئی، على خلاف القياس، نص آ گئی خلاف القياس اور اس نص کی وجہ سے اب اس کو کیا کیا جائے گا؟ اس کی وجہ سے حد ثابت ہو جاتی ہے بھئی، وہ نص کیا ہے؟ کہتے ہیں: وهو قوله تعالى:، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ"، پس تم گواہ بنا لو ان پر چار اپنے میں سے، تم اپنوں میں سے کیا کر لو اس پر؟ چار گواہ بنا لو۔ دیکھو! اس نص سے پتا چلا کہ چار گواہوں کے ذریعے حد کیا ہو جائے گی؟ ثابت ہو جائے گی، "وامثالہ" اور جو اس کے مثل اور آیتیں ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ نص کی وجہ سے خلاف القیاس یہاں پر حد ثابت ہوگی ورنہ قیاس کا تو یہی تقاضا تھا کہ یہ دو یا چار کی گواہی سے حد کو ثابت نہیں ہونا چاہیے۔ "ولان" دوسرا جواب، "ولان الحدود لم تثبت بالبينات" اور اس لیے کیونکہ حدود جو ہیں وہ بینات کے ذریعے ثابت نہیں ہیں، "وانما تثبت اسبابہا" ان کے صرف اسباب جو ہیں وہ گواہی کے ذریعے ثابت ہیں، خبر واحد کے ذریعے، بھئی دیکھیے۔ دو آدمیوں نے آکر، دو عادل آدمیوں نے گواہی دی کسی شخص کے بارے میں کہ اس نے چوری کی ہے۔ تو اس کی وجہ سے اس شخص پر حد ثابت ہو جائے گی۔ تو امام کرخی فرما رہے ہیں، جواب دے رہے ہیں اعتراض کا کہ دیکھیے یہ جو حد ہے، یہ حد ان دو آدمیوں کی گواہی سے یہ حد نہیں ثابت ہوئی۔ ان کی گواہی سے سبب حد ثابت ہوا ہے۔ وہ چوری ثابت ہوئی ہے جو سبب ہے کس چیز کا؟ حد کا اور باقی حد کہتے ہیں "والحدود ثابتة بالكتاب" حدود تو کس کے ذریعے ثابت ہیں؟ کتاب اللہ کے ذریعے، تو یہ جو گواہیاں اور بینات ہیں ان کے ذریعے اسباب حدود ثابت ہوتے ہیں نہ کہ خود حدود بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ "وان كان من حقوق العباد" اور اگر وہ محل خبر جو ہے یعنی وہ مسئلہ جس کے بارے میں خبر واحد آئی ہے "من حقوق العباد" وہ حقوق العباد میں سے ہو، "مما فيه الزام محض" ان میں سے جن کے اندر کیا ہو؟ الزام محض۔ حقوق العباد بتلایا تھا تین قسم پر ہیں، بعضوں میں الزام محض ہوگا، بعضوں میں الزام ہوگا ہی نہیں اور بعضوں میں من وجہ الزام ہوگا، تو کہتے ہیں اگر وہ محل خبر حقوق العباد میں سے ہو "مما فيه الزام محض" جس میں الزام محض ہو "كخبر اثبات الحق على أحد في الديون" جیسے کہ حق کو ثابت کرنے کی خبر کسی ایک پر دیون کے مسئلے میں، قرضوں کے مسئلے میں "والأعيان المبيعة والمُرْتَهَنَةِ والمغصوبة" اور وہ اور وہ چیزیں جو مبیعہ ہیں جو بیچی گئی ہیں "والمرتهنة" اور جو رہن رکھوائی گئی ہیں وہ چیزیں "والمغصوبة" اور وہ اعیان جو غصب کیے گئے ہیں۔ بھئی دیکھیے۔ حقوق العباد تین قسم پر ہیں بھئی۔ بعضوں میں الزام محض ہوگا یعنی دوسرے پر کوئی چیز لازم کی جائے گی۔ بعضوں میں کوئی الزام نہیں ہوگا سرے سے اور بعضوں میں من وجہ الزام ہوگا اور من وجہ الزام نہیں ہوگا۔ آگے تفصیل ساری آرہی ہے یہی پر بات سمجھ لیں، مثلاً دیکھیے، زید نے عمر پر دعویٰ کر دیا کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے اور دو گواہ لے کر آیا، دو گواہ لے کر آیا اور ان دو گواہوں نے گواہی دی، تو یہ گواہی کیا ہے؟ دیکھو خبر واحد ہے، دو آدمیوں کی گواہی ہے نا یہ کیا ہے؟ خبر واحد اور یہ کس قسم کے مسئلے میں گواہی دے رہے ہیں؟ ان کی گواہی سے وہ مال عمر پر لازم ہو جائے گا، ثابت ہو جائے گا، تو یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں دوسرے پر ایک چیز کا لازم کرنا ہے۔ کیا ہے؟ لازم کرنا ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں دوسرے پر کسی چیز کا لازم کرنا نہیں ہوتا۔ مثلاً بھئی! آپ کے نے کسی کو ہدیہ دیا کہ جاؤ یہ زید کو میری طرف سے یہ چیز تحفے کے طور پر دے دو، وہ زید کے پاس تحفہ کے طور پر چیز لے گیا اور کہتا ہے کہ یہ فلاں شخص نے آپ کے لیے بطور تحفے کے بھیجی ہے۔ اب یہ ہدیہ لینے والے کی مرضی ہے کہ وہ اس کو قبول کرے یا قبول نہ کرے، تو یہ جو لے کر گیا ہدیہ یہ ایک آدمی خبر دے رہا ہے تو یہ خبر واحد ہے اور کس قسم کے مسئلے میں ہے؟ کیا اس سے جس کو ہدیہ دیا جا رہا ہے اس پر کوئی چیز لازم ہو جائے گی؟ نہیں، وہ تو اس کی مرضی ہے قبول کرے یا قبول نہ کرے، تو یہ خبر واحد ایسے مسئلے میں ہے جس میں سرے سے دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا نہیں ہے۔ تیسری صورت بھئی، جس میں من وجہ الزام ہوگا، من وجہ الزام نہیں ہوگا، جیسے آپ نے ایک شخص کو وکیل بنایا تھا کہ جاؤ میرے لیے ایک گاڑی خریدو فلاں قسم کی اتنے پیسوں تک میں، وہ وکیل ہے آپ کی طرف سے، اب وہ گاڑی خریدے گا تو یہ تصرف دراصل وہ کس کی طرف سے کر رہا ہے؟ آپ کی طرف سے، وہ گاڑی پھر آپ کی ہوگی، آپ کے ذمے ہوگی، آپ کو لینا پڑے گی وہ۔ تو آپ نے زید کو گاڑی خریدنے کے لیے وکیل بنایا ہے، اب وہ گاڑی خریدے گا تو وہ آپ کی گاڑی شمار ہوگی، زید کی گاڑی نہیں، تو اب آپ نے ایک دوسرے شخص کو روانہ کیا کہ جاؤ جا کر زید سے کہہ دو کہ میری طرف سے اسے گاڑی خریدنے کی اجازت نہیں، وہ میری طرف سے وکیل نہیں ہے، اسے میں نے وکالت سے ہٹا دیا ہے۔ اب یہ جو خبر لے جا کر دی اس نے وکیل کو وکالت سے معزول کرنے کی، اس مسئلے میں یہ جس میں خبر یہ خبر آئی ایک آدمی کی، یہ من وجہ الزام ہے، من وجہ الزام نہیں ہے، دیکھا جائے تو اس میں کوئی الزام نہیں، دیکھا جائے تو اس میں دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا نہیں ہے کیونکہ موکل اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے، اسی نے وکیل بنایا تھا اب وہی اپنے حق کو کیا کر رہا ہے؟ اب اسی اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے اور اس کو وکالت سے معزول کر رہا ہے، اس پر کوئی چیز لازم نہیں کر رہا بھئی، تو اس میں من وجہ الزام نہیں اور دیکھا جائے تو من وجہ الزام ہے، الزام بیں لحاظ ہے کہ اب اگر وکیل تصرف کرے گا تو اب وہ تصرف آپ کی طرف سے شمار نہیں ہوگا، وہ گاڑی خریدے گا تو وہ اب آپ پر نہیں پڑے گی بلکہ اسی پر پڑ جائے گی بھئی، تو دیکھو بیں اعتبار اب اس پر الزام ہے، وہ چیز کیا ہو جائے گی؟ وہ نقصان اس پر لازم ہو جائے گا بھئی، صورتیں سمجھ میں آگئیں بھئی؟ تو دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں "وان كان من حقوق العباد" اور اگر وہ محل خبر یعنی وہ مسئلہ جس میں خبر واحد آئی ہے وہ حقوق العباد میں سے ہو "مما" ان میں سے "فيه الزام محض" جن میں الزام محض ہو "كخبر اثبات الحق على أحد في الديون" جیسے کہ کسی پر حق کو ثابت کرنے کی خبر "في الديون" دیون کے اندر "والأعيان المبيعة" اور وہ چیزیں جو بیچی گئی ہیں، بیچی جاتی ہیں "والمرتهنة" اور وہ چیزیں جو رہن رکھوائی جاتی ہیں "والمغصوبة" اور وہ چیزیں جو غصب کی گئی ہیں۔ تو یہ سب مرتھنہ اور مغصوبہ کا عطف مبیعہ پر ہے بھئی، "والأعيان المبيعة والأعيان المرتهنة والأعيان المغصوبة"۔ "تُشْتَرَطُ فيه سائر شرائط الأخبار" اس قسم کے مسئلے میں حقوق العباد کے اندر جس میں الزام محض ہو اس میں شرط لگائی جائے گی خبر کی تمام شرائط کی، اس میں شرط لگائی جائے گی خبر کی تمام شرائط کی بھئی، وہ کیا ہیں تمام شرائط؟ "من العقل والعدالة والضبط والإسلام" یعنی عقل، عدالت، ضبط اور اسلام "مع العدد" ساتھ کس کے؟ عدد کے یعنی جو خبر دینے والے ہیں کم از کم دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ "ولفظ الشهادة" اور شہادت کے لفظ کے ساتھ۔ بھئی قاضی کے پاس گیا ہے نا مسئلہ وہاں پر خبر دے رہے ہیں، گواہی دے رہے ہیں، تو اس میں الزام محض ہے اور اس کے اندر یہ تمام راوی کی شرائط، خبر دینے والے کی شرائط بھی ان میں ہوں یعنی عقل، عدالت، ضبط اور اسلام بھی ہو اور عدد بھی ہو یعنی کم از کم دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں اور لفظ شہادت بھی کہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں۔ یہ اگر کہیں میں جانتا ہوں یا مجھے یقین ہے، نہیں بھئی! اس کو نہیں قبول کیا جائے گا بلکہ کیا کہنا پڑے گا؟ میں گواہی دیتا ہوں۔ "والولاية" اور ساتھ ولایت کے، عدد، لفظ شہادت اور ولایت کے ساتھ بھئی۔ ولایت یعنی وہ آزاد بھی ہو، غلام نہ ہو کیونکہ غلام کو ولایت حاصل نہیں بھئی۔ خود صورت بتلا رہے ہیں بھئی، متن میں کیا آیا؟ "مع العدد ولفظ الشهادة والولاية" "بأن يكون اثنين" بیں طور کہ وہ دو ہوں "ويتلفظ بقوله اشهد" اور وہ تلفظ کریں اپنے قول "اشہد" پر کہ میں گواہی دیتا ہوں "وتكون له الولاية بالحرية" اور اس کو ولایت بھی حاصل ہو کس کی وجہ سے؟ حریت، آزادی کی وجہ سے، غلام ایسے مسئلے میں گواہی دیتا ہے اس کی گواہی قابل قبول نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ غلام کو تو اپنے نفس پر ولایت حاصل نہیں ہے اور اس گواہی کے ذریعے تو دوسرے پر ایک چیز لازم ہو جائے گی تو دوسرے پر اس کو کیسے ولایت حاصل ہو سکتی ہے۔ یاد رکھیے عدد کی شرط انہوں نے کہا، یہ ان مسائل کے اندر ہے جس پر مرد مطلع ہو سکتے ہوں۔ وہاں عدد کی شرط ہے اور اگر ایسا مسئلہ ہے جس پر مرد مطلع نہیں ہو سکتے تو وہاں ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے۔ جیسے ولادت کے اندر کہ کوئی عورت گواہی دیتی ہے مثلاً دائی، آکر گواہی دیتی ہے کہ اس عورت نے اس بچے کو جنم دیا ہے۔ اس عورت نے اس بچے کو تو وہاں پر جنم دیتے وقت تو وہی دائی ہی موجود ہوگی، مردوں کو تو اس کا علم نہیں ہو سکتا تو وہاں اس ایک کی بھی گواہی قابل قبول، یا اسی طرح بھئی عورتوں کے جو عیوب ہیں جن پر عورت ہی مطلع ہو سکتی ہے مرد نہیں، تو وہاں بھی ایک عورت کی گواہی قبول کی جائے گی اور ایک اور بات شاید میں پہلے بھی آپ کو بتلا چکا ہوں کہ آپ جگہ جگہ پڑھتے ہیں کہ گواہوں کا عادل ہونا ضروری ہے گواہی کے اندر، کیا غیر عادل اگر گواہی دے تو اس پر قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا؟ ایسا نہیں ہے بھئی، عادل گواہی دیں پھر تو قاضی پر وہ فیصلہ کرنا واجب ہو جاتا ہے بھئی واجب ہو جاتا ہے، تو ان کی گواہی کو قبول کرنا اور اس پر فیصلہ کرنا، ہاں غیر عادل اگر گواہی دے اور قاضی کو اور قرائن سے پتہ چل جائے کہ یہ غیر عادل یا یہ فاسق جو ہے یہ سچ بول رہا ہے تو اس کی گواہی کو بھی وہ قبول کر سکتا ہے بھئی۔ "فاذا اجتمعت هذه الشرائط الثلاثة مع الأربعة المتقدمة فحينئذ يقبل خبر الواحد عند القاضي في المعاملات التي فيها الزام على المدعى عليه" پس جب جمع ہو جائیں یہ تین شرائط، کون سی تین شرائط؟ عدد، لفظ شہادت اور ولایت والی "مع الأربعة المتقدمة" ساتھ ان پہلی چار کے، کون سی پہلی چار؟ عقل، عدالت، ضبط اور اسلام "فحينئذ" تو اس وقت قبول کیا جائے گا خبر واحد کو قاضی کے پاس "في المعاملات التي" ان معاملات کے اندر "فيها الزام على المدعى عليه" جس میں مدعا علیہ پر الزام ہو، کسی چیز کا لازم کرنا ہو۔ "وان كان لا الزام فيه اصلا" اور اگر اس محل خبر کے اندر کوئی الزام نہ ہو سرے سے یعنی اس مسئلے میں کسی پر کوئی چیز لازم نہ آتی ہو جس میں خبر واحد آئی ہے "كخبر الوكالة والمضاربة والرسالة في الهدايا" جیسے کہ وکالت کی خبر ہے اور مضاربت کی خبر ہے اور رسالت یعنی پیغام رسانی ہے "في الهدايا" تحفوں میں "ونحوها" اور اس جیسی جو ہیں۔ "بأن يقول" کس طرح بھئی ان میں خبر ہوگی جس میں الزام نہیں ہے؟ کہتے ہیں "بأن يقول" بیں طور کہ یوں کہے کوئی "وكلك فلان" کہ فلاں نے تجھے وکیل بنایا ہے، اس مسئلے میں کوئی کسی کو جا کر کیا کہتا ہے کہ فلاں نے تمہیں اس مسئلے میں وکیل بنایا ہے، تو یاد رکھیے جسے کہا جا رہا ہے اس کی مرضی ہے وکالت کو قبول کرے یا وکالت کو قبول نہ کرے، تو دیکھو اس میں الزام ہے؟ اس کا تو اختیار ہے اس میں قبول کرے یا قبول نہ کرے تو لہذا اس میں سرے سے کوئی الزام نہیں "أو ضاربك في هذا" یا فلاں کوئی کسی سے کہے کہ فلاں نے تجھے مضارب بنایا ہے اس مسئلے میں۔ مضاربت جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ جس میں مال ایک شخص کا ہوتا ہے، محنت دوسرے شخص کی ہوتی ہے اور نفع پھر آپس میں متعینہ حساب کے مطابق تقسیم کرتے ہیں بھئی، یہ ہے مضاربت۔ تو ایک شخص دوسرے سے جا کر کہتا ہے کہ فلاں نے تمہیں مضارب بنایا ہے۔ تو اس دوسرے کی مرضی ہے وہ اس کو قبول کرے یا قبول نہ کرے بھئی، تو دیکھو اس میں الزام نہیں ہے۔ "أو ضاربك في هذا" یا تمہیں مضارب بنایا ہے اس کے اندر "أو أهدى إليك هذا الشيء هدية" یا بطور ہدیہ کے تمہیں یہ چیز بھیجی ہے "فانه لا الزام فيه على أحد" پس اس کے اندر کوئی الزام نہیں ہے کسی پر بھی "بل يختار بين أن يقبل الوكالة والمضاربة والهدية وبين أن لا يقبل" بل بل يختار بين بل يختار بين بل کے اختیار ہوگا اس کے درمیان کہ وہ قبول کرے وکالت کو اور مضاربت اور ہدیہ کو اور اس کے درمیان کہ وہ قبول نہ کرے۔ "يثبت بأخبار الآحاد بشرط التمييز دون العدالة" کس مسئلے کی بات چل رہی ہے؟ جس میں سرے سے کوئی الزام نہ ہو۔ تو اس میں کہتے ہیں "يثبت بأخبار الآحاد" یہ خبر آحاد سے ثابت ہو جائے گا "بشرط التمييز" بشرطیکہ تمیز ہو یعنی سمجھ ہو۔ خبر دینے والے میں سمجھ ہو، وہ سمجھتا ہو چیزوں کو "دون العدالة" نہ کہ عدالت کے، یعنی اس میں تمیز کی شرط ہوگی نہ کہ عدالت کی شرط، خبر دینے والے کا عادل ہونا ضروری نہیں۔ تو جس میں سمجھ ہو، معلوم ہوا بچہ بھی خبر دے گا تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، غلام بھی خبر جا کر دے تو اس مسئلے میں اس کو قبول کیا جا سکتا ہے کہ فلاں نے تمہیں وکیل بنایا ہے یا مضارب بنایا ہے۔ "يعني يشترط أن يكون المخبر مميزا صبيا" یعنی شرط ہوگی اس میں کہ خبر دینے والا وہ سمجھدار سمجھ تمیز کرنے والا یعنی سمجھدار بچہ ہو۔ "نعم"، "أن يكون المخبر مميزا" کہ خبر دینے والا سمجھدار ہو "صبيا كان أو بالغا" بچہ ہو یا بالغ "حرا كان أو عبدا" آزاد ہو یا غلام "مسلما كان أو كافرا" مسلمان ہو یا کافر "عادلا كان أو فاسقا" عادل ہو یا فاسق، معلوم ہوا ان چاروں شرطوں میں سے کوئی ایک شرط بھی یہاں پر نہیں ہے، عقل، عدالت، ضبط اور اسلام میں سے، بس سمجھدار ہونا چاہیے بھئی۔ "فيجوز لمن أخبره بالوكالة والمضاربة" پس جائز ہے اس شخص کے لیے جس کو خبر دی گئی ہے وکالت اور مضاربت کی "أن يتصرف فيه ويباشره" کہ وہ اس چیز میں تصرف کرے اور اس کو سرانجام دے دے "لأن الإنسان قلما يجد رجلا مستجمعا للشرائط" اس لیے کیونکہ انسان جو ہے "قلما يجد رجلا" وہ بہت کم پاتا ہے ایسے شخص کو، ایسے مرد کو "مستجمعا للشرائط" جو جمع کرنے والا ہو ان شرائط کو۔ جو جمع کرنے والا انسان کیونکہ انسان بہت کم کسی ایسے مرد کو پاتا ہے جو تمام شرائط کو جمع کرنے والا ہو یعنی اس میں جس میں تمام شرطیں جمع ہوں "أن يبعثه إلى وكيله" کہ بھیجے اس کو اپنے وکیل کی طرف "أو غلامه" یا اپنے غلام کی طرف "بالخبر" خبر کے ساتھ "فلو شرطت فيه الشروط" اگر شرط لگا دی جائے اس میں ان شرطوں کی "لتعطلت المصالح في العالم" تو البتہ معطل ہو جائیں گے مصلحتیں عالم کے اندر بھئی۔ عالم میں مصلحتیں کیا ہو جائیں گی؟ پھر تو کوئی کام چل ہی نہیں سکے گا بھئی! تو یہاں پر اب اگر کہا جائے کہ وکالت، مضاربت، تحفے وغیرہ ان چیزوں میں بھی کس کو بھیجنا پڑے گا؟ کسی عادل آدمی کو بھیجنا پڑے گا جس میں شارح شرائط پائی جائیں تو پھر ہر انسان کہاں سے اس قسم کے آدمی کو تلاش کرے بھئی؟ ولأن الخبر غير ملزم في الواقع، اور اس لیے کیونکہ خبر جو ہے وہ لازم کرنے والی نہیں ہے واقعہ کے اندر۔ کوئی چیز اس دوسرے پر لازم کرنے والی نہیں ہے، فلا تعتبر فيه شرائط الإلزام، تو اعتبار نہیں کیا جائے گا اس میں الزام کی شرائط کا۔ والنبي عليه الصلاة والسلام كان يقبل خبر الهدية من البر والفاجر، اور حضور علیہ السلام ہدیے کی خبر قبول فرما لیا کرتے تھے من البر والفاجر، نیک اور فاجر سے، نیک اور فاجر فاسق سے خبر کو ہدیے کی قبول کر لیتے تھے۔ میں نے بتلایا تھا کہ حضور علیہ السلام کے پاس کوئی چیز لائی جاتی اور کوئی آپ کی خدمت میں کوئی چیز پیش کرتا، تو آپ پوچھتے تھے کہ ہدیہ ہے یا صدقہ ہے؟ اگر وہ ہدیہ کہتا، تو پھر آپ اس کو لے لیتے اور خود بھی تناول فرماتے، خود بھی اس کو کھا لیتے، اور اگر وہ کہتا کہ صدقہ ہے، تو پھر خود نہیں کھاتے تھے، اوروں کو دے دیتے تھے بھئی۔ تو حضور قبول فرما لیتے تھے۔ وإن كان فيه إلزام من وجه دون وجه، اور اگر اس محل خبر کے اندر الزام من وجہ ہو، نہ کہ من وجہ—یعنی وہ مسئلہ جس میں خبر واحد آئی ہے، اس میں من وجہ الزام ہے اور من وجہ الزام نہیں ہے—كخبر عزل الوكيل، جیسے کہ وکیل کو معزول کر دینے کی خبر، وحجر المأذون، اور عبد مأذون کے پابند کرنے کی خبر۔ حجر، حجر، حجر، تینوں طرح پڑھنا جائز ہے، یہ مثلث الفاء ہے۔ اس کے فاء کلمے پر تینوں حرکتیں پڑھ سکتے ہیں، تو اس قسم کے لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ مثلث الفاء، اور اس کے معنی پابندی کے ہیں بھئی۔ بھئی، آپ جانتے ہیں کہ بچے پر بھی بعض پابندیاں ہوتی ہیں، وہ تصرفات نہیں کر سکتا، اسی طرح غلام پر بھی پابندیاں ہوتی ہیں، وہ تصرفات نہیں کر سکتا، تجارت وغیرہ نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر آقا اسے اجازت دے دے، تو پھر وہ تجارت وغیرہ کر سکتا ہے اور اسے عبد مأذون کہتے ہیں۔ عبد مأذون۔ اب اس کے پاس کسی نے، آقا نے کسی شخص کو بھیجا کہ جا کر کہو کہ میں نے تم پر پھر پابندی لگا دی ہے، اب تمہیں تجارت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تو اب یہ پھر عبد محجور ہو گیا، پہلے عبد مأذون تھا، اب پھر عام غلام کی طرح یعنی عبد محجور ہوا۔ تو کیا اس میں خبر کو قبول کیا جائے گا خبر واحد کو یا نہیں؟ کہتے ہیں یہ وہ مسئلہ ہے جس میں من وجہ الزام ہے اور من وجہ الزام نہیں ہے۔ من وجہ الزام نہیں ہے اس اعتبار سے کہ آقا اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے، اسی نے اجازت دی تھی، اسی نے اجازت واپس لے لی۔ اور دیکھا جائے تو من وجہ الزام بھی ہے کہ غلام اب جو تصرف کرے گا وہ اس پر پڑے گا، اب وہ آقا کی طرف سے شمار نہیں ہو گا۔ فإنه من حيث إن الموكل والمولى يتصرف في حق نفسه بالعزل، پس یہ اس حیثیت سے کہ موکل جو ہے اور آقا جو ہے وہ تصرف کر رہے ہیں اپنے نفس کے حق میں بالعزل والحجر، معزول کرنے اور پابندی لگانے کے ذریعے، كما يتصرف بالتوكيل والإذن، جیسے کہ وہ تصرف کرتے ہیں وکیل بنانے کے ذریعے والإذن اور اجازت کے ذریعے، فلا إلزام فيه أصلا، تو اس میں اس سرے سے کوئی الزام نہیں، کسی پر کوئی چیز لازم کرنا نہیں۔ ومن حيث، اور اس حیثیت سے، أن التصرف يقتصر على الوكيل والعبد بعد العزل والحجر، کہ تصرف وہ بند ہو جائے گا وکیل اور غلام پر معزول کرنے اور پابندی لگانے کے بعد بھئی، اب وہ انہی کا پر بند ہو گا، وہ تصرف ان کا کی طرف سے شمار ہو گا۔ وتلزمه العهدة في ذلك، اور لازم ہو گی اس پر ذمہ داری اس کے اندر۔ اس پر اب ان پر کیا ہو گی؟ ذمہ داری لازم ہو گی، یعنی ضمان وغیرہ ان پر آئے گا۔ ففيه إلزام ضرر على الوكيل والعبد، تو اس کے اندر ضرر کو لازم کرنا ہے، نقصان کو لازم کرنا ہے وکیل اور غلام پر، تو من وجہ اس میں الزام ہے۔ فلهذا يشترط فيه أحد شطري الشهادة، اسی وجہ سے اس میں شرط لگائی جائے گی شہادت کے دو جزوں میں سے ایک کی— شہادت کے دو جز تھے بھئی: ایک عدالت اور ایک عدد۔ گواہ کتنے ہونے چاہئیں؟ دو مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں، تو عدد بھی ضروری تھا، اور ان گواہوں کا کس قسم کا ہونا ضروری ہے؟ عادل ہونا بھی ضروری۔ تو گواہی کے دو جز ہوئے: ایک عدد اور ایک عدالت۔ اور یہ جو مسئلہ ہے اس میں دیکھا جائے من وجہ الزام ہے، من وجہ الزام نہیں—بھئی دیکھیے، بعض مسائل وہ تھے جن میں ہر لحاظ سے الزام ہی الزام تھا، دوسرے پر ایک چیز کا لازم کرنا تھا، اس میں دونوں شرطیں تھیں: عدد کی بھی اور عدالت کی بھی۔ اور بعض مسائل وہ تھے جن میں سرے سے کسی پر کوئی چیز لازم کرنا تھا ہی نہیں، تو وہاں پر نہ عدد کی شرط تھی اور نہ عدالت کی شرط تھی، وہاں سمجھدار ہونا ہی کافی تھا۔ اور یہ جو مسئلہ ہے اس میں من وجہ الزام ہے، من وجہ الزام نہیں، تو اس میں دونوں مشابہتوں کا لحاظ رکھا۔ دیکھا جائے تو اس کی مشابہت اس کے ساتھ بھی ہے جس میں الزام محض تھا۔ اور دیکھا جائے تو اس کی مشابہت اس کے ساتھ بھی ہے جس میں سرے سے کوئی الزام نہیں تھا۔ تو دونوں مشابہتوں کی رعایت رکھتے ہوئے ہم نے دونوں کا حصہ پورا پورا دیا اور ایک مشابہت تقاضا کر رہی تھی دونوں چیزیں ہونی چاہئیں، دوسری مشابہت تقاضا کر رہی تھی دونوں نہیں ہونی چاہئیں، تو ہم نے کیا کہا؟ عدد اور عدالت میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے، یا تو ایک ہی شخص ہو عادل قسم کا، یا اگر عادل شخص نہیں ہے، فاسق ہیں، تو پھر کم از کم دو ہونے چاہئیں بھئی۔ فلهذا يشترط فيه أحد شطري الشهادة، اسی وجہ سے اس میں شرط لگائی جائے گی شہادت کے دو جزوں میں سے ایک کی، عند أبي حنيفة رحمه الله، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ بھئی، کیا دو جز ہیں شہادت کے؟ يعني العدد أو العدالة، دو جزوں میں سے ایک کی شرط لگائی جائے گی یعنی عدد یا عدالت کی۔ أي لا بد أن يكون المخبر اثنين، یعنی ضروری ہے کہ وہ خبر دینے والے دو ہوں، أو واحدا عدلا، یا ایک عادل ہو، رعایت لشبه الجانبين، رعایت رکھتے ہوئے دونوں جانبوں کی مشابہت کا، دونوں جانبوں کی مشابہت۔ إذ لو كان إلزاما محضا، اس لیے کیونکہ اگر یہ جو محل خبر ہے اگر اس میں الزام محض ہوتا، فيشترط فيه كلاهما، تو اس میں شرط لگائی جاتی دونوں کی یعنی عدد کی بھی اور عدالت کی بھی۔ ولو لم يكن إلزاما أصلا ما شرط فيه شيء منهما، اور اگر اس میں سرے سے کوئی الزام نہ ہوتا تو اس میں کوئی بھی ان دو میں سے شرط نہ لگائی جاتی۔ فوفّرنا، وفر یوفر توفیر کے معنی پورا دینا۔ فوفّرنا، پس ہم نے پورا دیا، حظا من الجانبين، حظ کہتے ہیں حصے کو، تو ہم نے اس میں دونوں جانبین سے پورا حصہ دیا، یعنی دونوں جانبوں کی ہم نے رعایت رکھی، دونوں جانبوں کی۔ وعندهما، اور صاحبین—یہ تو امام صاحب کے نزدیک تھا کہ دو چیزوں میں سے ایک کی شرط ہو گی۔ وعندهما، اور صاحبین کے نزدیک، لا يشترط فيه شيء، اس میں کسی چیز کی شرط نہیں لگائی جائے گی، بل يثبت الحجر والعزل بخبر كل مميز، بلکہ یہ حجر پابندی اور معزول کرنا یہ ثابت ہو جائے گا ہر سمجھدار کی خبر کے ذریعے سے۔ وهذا إذا كان المخبر فضوليا، اور یہ جو اختلاف ہے، یہ اس وقت ہے جس وقت خبر دینے والا فضولی ہو۔ یہ جو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے، امام صاحب کے نزدیک بھئی دو چیزوں میں سے ایک کی شرط ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک کسی چیز کی شرط نہیں، تو یہ اختلاف اس وقت ہے جب خبر دینے والا فضولی ہو۔ تو هذا کے لیے اشارہ کس کی طرف ہوا؟ اس اختلاف کی طرف۔ یا هذا کے لیے اشارہ ہے یہ جو شرط لگائی امام صاحب نے، امام صاحب نے جو شرط لگائی کہ دو چیزوں میں سے ایک شرط ہے، یا عدد ہونا چاہیے یا عدالت، یہ کہتے ہیں اس وقت ہے جب خبر دینے والا فضولی ہو۔ فضولی کسے کہتے ہیں بھئی؟ فضولی جو زائد ہے، فضل سے ہے، زائد شخص، یعنی جسے آپ نے پیغام دے کر نہیں بھیجا، جسے آپ نے وکیل بنا کر نہیں بھیجا، وہ اپنی طرف سے خود جا کر خبر دیتا ہے۔ مثلاً بھئی، آپ نے ایک شخص سے کہا کہ بھئی، زید کو میں نے اپنے ایک مسئلے میں وکیل بنایا ہے، تم جاؤ زید کو جا کر کہو میں نے تمہیں معزول کر دیا۔ تو آپ نے مثلاً وکیل بنا کر جس کو بھیج رہے ہیں زید کے پاس وہ بکر ہے، کس کو بھیج رہے ہیں آپ؟ بکر۔ بکر کے ساتھ ایک اور شخص بھی کھڑا سن رہا تھا، اسے تو آپ نے وکیل بنا کر نہیں بھیجا، لیکن وہ خود ہی جا کر کیا کہہ دیتا ہے زید کو کہ تمہیں موکل نے وکالت سے معزول کر دیا ہے، تو یہ فضولی ہوا، اسے تو آپ نے نہیں بھیجا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں یہ اختلاف اس وقت ہے جب خبر دینے والا فضولی ہو جسے اس شخص نے یا آقا نے نہ بھیجا ہو۔ فإن كان وكيلا أو رسولا، اگر وہ خبر دینے والا وکیل ہو یا رسول ہو، من الموكل والمولى، اگر وہ وکیل یا رسول ہو یعنی ایلچی ہو موکل اور آقا کی طرف سے، لم تشترط العدالة والعدد اتفاقا، تو پھر تو بالاتفاق عدالت اور عدد کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ لأن عبارة الوكيل والرسول كعبارة الموكل والمرسل، اس لیے کیونکہ وکیل اور پیغام رساں کی جو عبارت ہے، ان کا جو کلام ہے، كعبارة الموكل والمرسل، وہ کس کی طرح ہے؟ موکل اور بھیجنے والے کے عبارت اور ان کے کلام کی طرح ہے۔ یعنی آپ نے مثلاً بکر کو بھیجا کہ جاؤ جا کر زید سے کہو میں نے تمہیں وکالت سے معزول کر دیا، تو اب بکر جا کر اس کو کہتا ہے اور یہ آپ کا پیغام رساں ہے بھئی، یہ کون ہے آپ کا؟ تو اس کا کہنا اسی طرح ہے جیسے آپ کا کہنا، لہٰذا اس میں نہ عدد کی شرط ہو گی اور نہ عدالت کی شرط ہو گی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ والتقسيم الرابع في بيان نفس الخبر، اور چوتھی تقسیم جو ہے نفس خبر کی بیان میں ہے۔ بھئی، پہلی تقسیم تھی کس کے اندر؟ اتصال خبر کے اندر، اور دوسری تقسیم کس کے اندر تھی؟ انقطاع خبر کے اندر، اور تیسری تقسیم محل خبر کے بیان میں تھی، اور یہ چوتھی تقسیم ہے، یہ نفس خبر کے بیان میں ہے۔ وهذا التقسيم أيضا لمطلق خبر الواحد، اور یہ تقسیم بھی مطلق خبر واحد کی ہے، أعم من أن يكون خبر الرسول أو غيره، اس حال میں کہ یہ عام ہے اس سے کہ یہ رسول کی خبر ہو یا غیر رسول کی خبر ہو، ولهذا قال، اور اسی وجہ سے مصنف نے فرمایا: وهو أربعة أقسام، اور یہ چار قسم پر ہے، یہ خبر خود کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم پر ہے۔ قسم يحيط العلم بصدقه، ایک وہ قسم ہے کہ احاطہ کیا ہوا ہو علم نے اس خبر کے سچ کا۔ علم نے احاطہ کیا ہو اس خبر کے سچ کا، یعنی علم ہو پوری طرح کہ یہ خبر سچی ہے ہر لحاظ سے، كخبر الرسول، جیسے کہ حضور علیہ السلام کی خبر۔ حضور علیہ السلام کی خبر، وہ حضور علیہ السلام اللہ کے پیغمبر ہیں اور وہ دلائل قطعیہ اس بات پر ثابت ہیں کہ وہ ہر قسم کے جھوٹ اور ہر قسم کے گناہوں سے معصوم اور محفوظ ہیں، تو ان دلائل قطعیہ کی وجہ سے ان کی جو بھی بات ہو گی، وہ یقیناً برحق ہو گی، سچی ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں وہ چار قسم ہے یہ نفس خبر: قسم يحيط العلم بصدقه، بصدقه أي بصدق الخبر، ایک وہ قسم ہے کہ علم نے احاطہ کیا ہو اس خبر کے سچ کا، كخبر الرسول عليه الصلاة والسلام، جیسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر، إذ الأدلة القطعية قائمة على عصمته، اس لیے کیونکہ قطعی دلائل جو ہیں وہ قائم ہیں اس پیغمبر کی عصمت پر، اس کے معصوم ہونے پر، عن الكذب وسائر الذنوب، جھوٹ سے اور تمام گناہوں سے۔ وقسم يحيط العلم بكذبه، اور ایک وہ قسم ہے کہ احاطہ کیا ہوا ہو علم نے بكذبه، اس خبر کے جھوٹا ہونے کا، کہ وہ خبر پوری طرح علم ہو کہ یہ خبر جھوٹی ہے، كدعوى فرعون الربوبية، جیسے کہ فرعون کا رب ہونے کا دعویٰ بھئی، لأن الحادث الفاني لا يكون إلها بالبداهة، اس لیے کیونکہ وہ جو حادث ہو—حادث کسے کہتے ہیں؟ جس کا وجود پہلے نہیں تھا اور بعد میں آیا۔ اس لیے کیونکہ جو حادث ہو، یعنی جس کا وجود خود پہلے تھا ہی نہیں، اس کا وجود خود بعد میں آیا ہے، الفاني، اور ہمیشہ رہنے والا بھی نہیں ہے، فنا ہو جانے والا ہے، لا يكون إلها، وہ معبود نہیں ہو سکتا، بالبداهة، بدیہی طور پر۔ یہ بات بدیہی ہے، غور و فکر کی بھی اس میں ضرورت نہیں، یقینی بات ہے کہ جو حادث ہو اور فانی ہو، وہ معبود نہیں ہو سکتا۔ وقسم يحتملهما على السواء، اور ایک وہ قسم ہے خبر کی جو احتمال رکھتی ہو ان دونوں کا على السواء، برابری پر، یعنی سچا ہونے کا بھی اس میں احتمال ہو اور جھوٹ کا بھی اس میں احتمال ہو، كخبر الفاسق، جیسے کہ فاسق کی خبر ہے۔ فإنه من حيث إسلامه يحتمل الصدق، پس وہ خبر جو ہے اس شخص کے اسلام کی حیثیت سے، یعنی اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے، يحتمل الصدق، کس چیز کا احتمال رکھتی ہے؟ سچے ہونے کا، ومن حيث فسقه يحتمل الكذب، اور اس کے فسق کی حیثیت سے، فاسق ہونے کی حیثیت سے وہ احتمال رکھتی ہے جھوٹ کا، فهو واجب التوقف، تو اس قسم کی خبر کیا ہے؟ واجب التوقف ہے، اس میں توقف کیا جائے گا، تحقیق کی جائے گی، اس وقت تک عمل نہیں ہو گا۔ وقسم يترجح أحد احتماليه على الآخر، اور ایک وہ قسم ہے کہ ترجیح پا جائے اس کے دو احتمالوں میں سے ایک على الآخر، دوسرے پر۔ بھئی، خبر میں دو احتمال تھے: صدق کا بھی اور کذب کا بھی، ان میں سے ایک احتمال ترجیح پا جائے یعنی صدق والا، کون سا احتمال؟ یعنی صدق والی جانب راجح ہو جائے، كخبر العدل المستجمع للشرائط، جیسے کہ اس عادل آدمی کی خبر جو جمع کرنے والا ہو ان تمام شرائط کا جس میں ساری شرائط پائی جائیں۔ ولهذا النوع الأخير المقصود هاهنا أطراف ثلاثة، اور یہ جو نوع ہے آخر والی جو مقصود ہے یہاں پر، أطراف ثلاثة، اس کی تین طرفیں ہیں۔ اس کی تین طرفیں ہیں، تین تین اطراف ہیں اس کے۔ بھئی، یہ صرف یہ خبر عدل کے بارے میں یہاں بحث کریں گے، عادل شخص کی خبر کے بارے میں۔ بتلایا خبر تو چار قسم پر ہو سکتی ہے: یا تو خبر ہے اس قسم کی جس کے سچا ہونے کا یقین، یا خبر ایسی ہو گی جس میں جس کا جھوٹا ہونے کا یقین، یا خبر ایسی ہو گی جس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا برابر احتمال ہو گا، یا خبر عادل شخص کی ہو گی جس میں سچ والی جہت راجح ہو گی۔ اس جو عادل آدمی کی خبر ہے اس کے بارے میں یہ بحث کریں گے۔ وجہ یہ کہ یہاں ہم بحث کر رہے ہیں احکام شرعیہ کے بارے میں، کس کے بارے میں؟ احکام شرعیہ، اور فرعون کی خبر وہ تو جھوٹی ہے، اس سے تو احکام شرعیہ کا تعلق نہیں، وہ قسم تو نکل گئی۔ فاسق آدمی کی خبر، فاسق آدمی کی خبر بھی آپ نے پڑھا قبول نہیں کی جاتی، وہ بھی نکل گئی بھئی۔ اور پیغمبر کی خبر رہ گئی، پیغمبر تو ہمیں احکام بتلاتے ہیں، تو ان کے بارے میں کیوں نہیں بحث؟ بھئی، وجہ یہ کہ پیغمبر کا زمانہ گزر چکا، اب پیغمبر کی بات بھی جو ہمیں پہنچے گی وہ کسی عادل ہی کے ذریعے پہنچے گی بھئی، تو اسی لیے یہاں صرف کس کے بارے میں بحث کریں گے؟ عادل کی خبر کے بارے میں۔ تو کہتے ہیں یہ جو آخری نوع ہے جو مقصود ہے یہاں پر اس کے تین اطراف ہیں: طرف السماع ایک تو اس کے سماع کی طرف ہے۔ بھئی دیکھیے تین طرفیں بتلائیں گے۔ ایک سماع والی طرف ہے کہ اس عادل نے اپنے استاد سے سنا۔ پھر اس کو یاد رکھنے والی طرف ہے کہ اس کے بعد اس نے اس کو یاد رکھا۔ پھر اس کے ادا والی طرف ہے کہ آگے اس نے دوسروں کو پہنچائی وہ حدیث، بھئی۔ تو کتنی طرفیں ہو گئیں؟ تین طرفیں۔ ایک طرفِ سماع ہے، ایک طرفِ حفظ ہے، اور ایک طرفِ ادا ہے۔ تو کہتے ہیں: ف اطرافهن ثلاثة اس کے تین اطراف ہیں۔ طرف السماع ایک سماع کی طرف ہے بان يسمع الحديث من المحدث اولا بایں طور کہ اس کو سنتا ہے حدیث کو محدث سے اولا یعنی شروع میں۔ وطرف الحفظ اور ایک حفظ والی طرف ہے بان يحفظ بعد ذلك من اوله الى اخره بایں صورت کہ اس کو یاد رکھتا ہے اس کے بعد اس کے اول سے لے کر اس کے آخر تک۔ وطرف الاداء اور تیسری طرف اداء ہے بان يلقيه الى الاخر لتفرغ ذمته بایں طور کہ اس کو حوالے کر دیتا ہے، ڈال دیتا ہے دوسرے پر لتفرغ ذمته تاکہ اس کا ذمہ فارغ ہو جائے۔ وفي كل طرف منها عزيمة ورخصة اور ہر طرف جو ہے ان میں سے اس میں رخصت ہے اور عزیمت ہے۔ یہ تین اطراف ہیں اور تینوں کے اندر ایک ایک صورت عزیمت والی ہے اور ایک ایک صورت رخصت والی۔ یعنی طرفِ سماع میں بھی ایک قسم ہے عزیمت اور ایک ہے رخصت۔ طرفِ حفظ کے اندر بھی ایک ہے عزیمت اور ایک ہے رخصت۔ اور طرفِ اداء کے اندر بھی ایک عزیمت ہے اور ایک رخصت ہے۔ اب وہ بیان کریں گے، بھئی۔ فالأول طرف السماع پس پہلی جو ہے وہ طرفِ سماع ہے۔ وذلك اما ان يكون عزيمة اور وہ یا تو عزیمت ہوگی وهو ما يكون من جنس الإسماع اور وہ ہے جو اسماع یعنی سنانے کی جنس سے ہو۔ کس جنس سے ہو؟ سنانے کی جنس سے ہو بھئی دیکھیے۔ طرفِ سماع کی بات ہو رہی ہے۔ طرفِ سماع، بھئی، اس میں ایک قسم ہے عزیمت اور ایک قسم کیا ہے؟ رخصت۔ عزیمت بتلائیں گے کہ یہ بھی عزیمت ہے کہ شاگرد پڑھے اور شاگرد احادیث پڑھ رہا ہے اور استاد سن رہا ہے اور تائید کرتا جا رہا ہے کہ ہاں، یہ حدیث اسی طرح ہے۔ یا استاد یعنی شیخ پڑھتا ہے اور شاگرد سن رہا ہے۔ یہ بھی عزیمت ہے۔ یا استاد کیا کرتا ہے؟ کوئی خط لکھ کر بھیجتا ہے کہ یہ حدیث میں نے فلاں استاد سے سنی تھی اور اس طرح اس کی سند ہے اور یہ حدیث تم اس کو اچھی طرح سمجھ لو اور پھر تمہیں اس کو میری طرف سے آگے بیان کرنے کی اجازت ہے۔ یا شیخ کیا کرتا ہے؟ کسی ایلچی کو، پیغام رساں کو بھیجتا ہے کہ یہ جو حدیث سنیں اپنے استاد سے، یہ فلاں کو جا کر سند کے ساتھ پوری سنا دینا اور اسے کہنا کہ اس کو کہ وہ جو ہے اس حدیث کو آگے روایت کر سکتا ہے، میری طرف سے اجازت ہے۔ تو یہ ہے سماع کے اندر عزیمت۔ کیا ہے؟ کہ استاد پڑھے، استاد حدیث سنائے اور شاگرد سنے یا شاگرد پڑھے اور استاد سن کر تائید کرے۔ یا استاد کیا کرے؟ خط کے ذریعے بھیجے اور اجازت دے۔ اور یا استاد کسی پیغام رساں کے ذریعے بھیجے اور اس کی اجازت دے۔ یہ ہے عزیمت۔ اور رخصت یہ ہے کہ وہ مثلاً اپنی لکھی ہوئی حدیث اس کے حوالے کرتا ہے، کتاب حوالے کرتا ہے اور یا کہہ دیتا ہے کہ تمہیں اس کتاب کی حدیثیں میری طرف سے آگے بیان کرنے کی اجازت ہے، آگے روایت کرنے کی اجازت ہے۔ تو یہ ہے رخصت، بھئی۔ نہ استاد نے پڑھا، نہ شاگرد نے پڑھا، نہ خط کے ذریعے بھیجیں، نہ پیغام رساں کے ذریعے، بس صرف کیا کہہ دیا؟ اجازت ہے۔ صرف اجازت کہہ دی یا وہ کتاب حوالے کر کے کہہ دیا اجازت ہے، پڑھی دونوں میں سے کسی نے بھی نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ رخصت ہے، اس صورت میں بھی یہ اجازت ہو گئی اور وہ روایت کر سکتا ہے۔ دیکھیے اب بھئی، تفصیل آرہی ہے۔ تو کہتے ہیں: وذلك اما ان يكون عزيمة اور وہ سماع جو ہے وہ یا تو عزیمت ہوگا وهو ما يكون من جنس الإسماع اور وہ سماع ہے وہ قسم ہے جو اسماع کی جنس میں سے ہو۔ اسمع يسمع إسماع کا معنیٰ سنانا۔ أي يسمع التلميذ عبارة الحديث یعنی کہ سنائے، کون سنائے؟ وہ استاد، وہ عادل جو ہے وہ سنائے التلميذ اس شاگرد کو، کیا سنائے؟ عبارة الحديث، حدیث کی عبارت۔ بین السطور التلمیذ کے نیچے فاعل لکھا ہے، جی؟ نہیں، یہ صورت نہیں، بھئی۔ اس لیے کہ یہ تو ایک صورت بنتی ہے۔ ایک صورت، بھئی۔ اور آگے آرہا ہے: مشافهة او مغايبة۔ استاد سنائے شاگرد کو حدیث کی عبارت مشافهة، شفاہاً کا معنیٰ ہے آمنے سامنے، روبرو۔ آمنے سامنے استاد سنائے۔ او مغايبة یا پسِ پشت یعنی غیر حاضری میں۔ اور وہ صورت تھی خط والی یا پیغام رساں بھیجنے والی، بھئی۔ اور یہ سنانا، بھئی شاگرد بھی پڑھتا ہے استاد کے سامنے اور استاد تائید کر رہا ہے تو گویا یہ استاد ہی کی طرف سے ہے نا؟ سنانا گویا کس کی طرف سے ہے؟ استاد ہی کی طرف سے۔ تو یہاں انہوں نے کہا: مشافهة او مغايبة۔ یہ حدیث وہ استاد سناتا ہے شاگرد کو حدیث کی عبارت آمنے سامنے یا پسِ پشت۔ تو یہ آمنے سامنے اور پسِ پشت، یہ لفظ بتلا رہے ہیں کہ یہاں التلمیذ کو فاعل نہیں پڑھنا، بھئی۔ التلمیذ کو فاعل صورت نہیں سمجھ میں آئی؟ بھئی، حدیث شاگرد نے حدیث کس سے لینی ہے؟ استاد سے لینی ہے نا؟ چاہے وہ شاگرد پڑھے اور استاد سنے لیکن دراصل لے کس سے رہا ہے؟ استاد سے لے رہا ہے۔ استاد پڑھے، شاگرد سنے، اس میں تو ظاہر ہی ہے۔ اور استاد خط کے ذریعے یا کسی پیغام رساں کے ذریعے وہ حدیث بھیجتا ہے اور اجازت دیتا ہے، تو ان ساروں کے اندر سنانا کس کی طرف سے ہے؟ استاد کی طرف سے سنانا ہے، شاگرد کی طرف سے سنانا تو صرف ایک صورت میں آتا ہے، بھئی۔ تو استاد کی طرف سے بالمشافہ بھی سنانا ہو سکتا ہے اور پسِ پشت بھی سنانا یعنی غیر موجودگی میں بھی ہو سکتا ہے۔ أي يسمع التلميذ عبارة الحديث یعنی سناتا ہے شاگرد کو حدیث کی عبارت مشافهة آمنے سامنے او مغايبة یا پسِ پشت یعنی غیر موجودگی میں بان تقرأ على المحدث بایں صورت کہ آپ پڑھتے ہیں محدث پر من كتاب او حفظ کتاب سے یا حفظ سے، حافظے سے وهو يسمع اس حال میں کہ وہ سن رہا ہو ثم تقول له پھر آپ اس سے کہتے ہیں ثم تقول له پھر آپ اس سے کہتے ہیں اہو كما قرأت عليك؟ کیا یہ اسی طرح ہے حدیث جیسے میں نے آپ پر پڑھی؟ فيقول هو نعم تو وہ کہتا ہے نعم۔ وهذا احوط اور اس میں زیادہ احتیاط ہے لانه اذا قرأ بنفسه اس لیے کہ جب شاگرد نے خود پڑھا كان اشد عناية في ضبط المتن تو وہ زیادہ اہتمام کرنے والا ہوا متن کے ضبط کرنے میں یا یاد کرنے میں۔ جب شاگرد پڑھے گا تو وہ زیادہ اہتمام کرے گا، زیادہ توجہ کرے گا اس کے یاد کرنے میں، بھئی، کہ میں نے استاد کے سامنے روایت پڑھنی ہے، بھئی۔ تو وہ زیادہ اہتمام کرے گا۔ تو، بھئی، بات دراصل یہ کہ آگے ذکر آرہا ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ شاگرد پڑھے اور استاد سن کر اس کی تائید کرے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ استاد پڑھے اور شاگرد سنتا جائے، بھئی۔ شاگرد کیا کرے؟ سنتا جائے۔ تو کون سی صورت بہتر ہے؟ یاد رکھیے، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ شاگرد پڑھے اور استاد سنے اور اس کی تائید کرے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ شاگرد پڑھے اور استاد سن کر اس کی تائید کرے، اس لیے کہ جب شاگرد خود پڑھے گا تو اس کی پوری توجہ ہوگی حدیث کی طرف، اس کے متن کو یاد کرنے کی طرف، بھئی۔ اور یہ ظاہر بات ہے مولانا، کہ پھر اس وقت توجہ زیادہ ہوگی جب خود پڑھ رہا ہے۔ تو محدثین کہتے ہیں کہ استاد پڑھے اور شاگرد سنے، یہ بہتر صورت ہے۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، بھئی آگے آپ دیکھیں گے امام صاحب کی شرائط آرہی ہیں، بھئی۔ کتنی احتیاط کرتے ہیں وہ حدیث کے معاملے میں! کتنی سخت شرائط ذکر کرتے ہیں، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ تو دیکھیے یہاں پر بھی محدثین کہہ رہے ہیں استاد پڑھے وہ صورت بہتر ہے، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ شاگرد پڑھے اور استاد اس کی تائید کرے، کیونکہ شاگرد جب پڑھے گا تو اس کی حدیث کے متن کی طرف، اس کے یاد کرنے کی طرف اس کی پوری پوری توجہ ہوگی انتہا درجے کی۔ تو کہتے ہیں: وهذا احوط اس میں زیادہ احتیاط ہے لانه اذا قرأ بنفسه اس لیے کہ جب وہ خود پڑھے گا كان اشد عناية في ضبط المتن۔ عنایت کہتے ہیں اہتمام کرنا یعنی توجہ دینا، تو وہ زیادہ توجہ دینے والا ہوگا متن کے ضبط کرنے میں لانه عامل لنفسه والمحدث عامل لغيره اس لیے کہ وہ عمل کرنے والا ہے اپنی ذات کے لیے والمحدث عامل لغيره اور محدث جو ہے وہ عمل کرنے والا ہے غیر کے لیے۔ شاگرد پڑھے گا تو وہ اپنے لیے عمل کر رہا ہے اور استاد پڑھ کر سنائے گا تو وہ غیر کے لیے عمل کر رہا ہے، اور جو اپنے لیے عمل ہو اس میں یقیناً کیا ہے احتیاط اور توجہ زیادہ ہوتی ہے۔ او يقرأ عليك المحدث بنفسه یا پڑھتا ہے آپ پر محدث خود من كتاب کتاب میں سے او حفظ یا حفظ سے یعنی زبانی حافظے سے وانت تسمعه اس حال میں کہ آپ سن رہے ہوں وقيل هذا احسن اور کہا گیا ہے کہ یہ زیادہ بہتر ہے لانه كان وظيفة النبي عليه الصلاة والسلام اس لیے کہ یہ حضور علیہ السلام کا طریقہ تھا، حضور علیہ السلام کی عادت تھی۔ حضور فرماتے تھے، احکام بتلاتے تھے اور صحابہ سنتے تھے۔ والجواب جواب یہ کہ انه معلم الامة کہ حضور علیہ السلام تو امت کے معلم ہیں، امت کے استاد ہیں وكان مامونا عن الخطأ والنسیان اور وہ تو محفوظ تھے غلطی اور بھول چوک سے، جبکہ ادھر تو یہ سننے والا ہے، اس میں تو غلطی اور بھول چوک کا بھی احتمال ہے، لہٰذا وہ خود پڑھے گا تو زیادہ توجہ ہوگی، وہ بہتر ہے۔ فالاحتياط في حقنا هو الاول تو احتیاط ہمارے حق میں وہ پہلی صورت ہی میں ہے۔ او يكتب اليك كتابا على رسم الكتاب يا یہ کہ وہ محدث يكتب اليك كتابا لکھتا ہے آپ کی طرف کوئی خط، بھئی۔ کتاب عربی میں خط کو بھی کہتے ہیں، بھئی۔ یا وہ لکھتا ہے آپ کی طرف کوئی خط على رسم الكتب خطوط کے طریقے پر، جس طرح خط بھیجے جاتے ہیں اس طریقے پر آپ کی طرف کوئی خط بھیجتا ہے بان يكتب قبل التسمية بایں صورت کہ وہ لکھتا ہے بسم اللہ سے پہلے من فلان بن فلان الى فلان بن فلان، فلاں ابن فلاں سے فلاں ابن فلاں کی طرف، یہ اوپر لکھتا ہے۔ ثم يسمي پھر بسم اللہ لکھتا ہے ويثني اور ثنا بیان کرتا ہے یعنی اللہ کی حمد ذکر کرتا ہے اور اسی طرح پھر حضور علیہ السلام پر صلاۃ کو ذکر کرتا ہے، جی۔ ويذكر فيه اور ذکر کرتا ہے اس کے اندر کہ حدثني فلان عن فلان الى اخره۔ یہ الخ مخفف ہے الى اخره کا، کہ بیان کرتا ہے، ذکر کرتا ہے اس کے اندر وہ محدث خط کے اندر کہ مجھ سے حدیث بیان کی تھی فلاں نے، انہوں نے فلاں سے، آخر تک۔ أي الى ان يتصل بالرسول صلى الله عليه وسلم یہاں تک کہ وہ مل جاتی ہے وہ سند حضور علیہ السلام کے ساتھ۔ ويذكر بعد ذلك متن الحديث اور اس کے بعد وہ محدث جو ہیں، حدیث کا متن ذکر کرتے ہیں۔ ثم يقول فيه پھر وہ اس خط میں کہتے ہیں۔ ثم يقول فيه پھر اس خط میں وہ کہتے ہیں۔ بھئی، کہنا تو چاہیے تھا پھر وہ اس خط میں لکھتے ہیں آگے، لیکن کیا ذکر کیا ماتن نے؟ ثم يقول فيه، بتلا دیا کہ یہ لکھنا بھی کہنے ہی کی طرح ہے، بھئی، یہ اسی کی طرح ہے۔ ثم يقول فيه پھر اس میں محدث کہتا ہے اذا بلغك كتابي هذا جب پہنچ جائے تجھے میرا یہ خط وفهمته اور تو اس کو سمجھ لے فحدث به عني تو تو اس حدیث کو بیان کر، تو یہ حدیث بیان کر عنی میری طرف سے۔ فهذا من الغائب كالخطاب من الحاضر تو یہ جو ہے غائب کی طرف سے، یہ اسی طرح ہے جیسے خطاب ہوتا ہے حاضر کی طرف سے۔ جیسے حاضر استاد موجودگی میں جب استاد، شاگرد دونوں ہیں استاد کیا استاد کے سامنے شاگرد موجود ہے تو استاد اس سے خطاب کرتا ہے۔ تو خط کے اندر یہ جو اس کو بھیج رہا ہے، یہاں پر یہ اسی کی طرح ہے، بھئی۔ یہ یعنی یہ خط کا بھیجنا غائب کی طرف سے یہ حاضر کی طرف سے خطاب ہی کی طرح ہے في جواز الرواية، روایت کے جائز ہونے میں۔ وكذلك الرسالة، کذالک یہ دو کاف لکھے گئے ہیں، یہ کذالک کا مخفف ہے۔ وكذلك الرسالة على هذا الوجه اور اسی طرح پیغام رسانی ہے اسی طریقے پر۔ اور اسی طرح ہے پیغام رسانی اسی طریقے پر بان يقول المحدث للرسول بایں طور کہ محدث کہتا ہے پیغام رساں سے بلغ عني فلانا پہنچا دے میری طرف سے فلاں کو انه قد حدثني بهذا الحديث فلان بن فلان کہ یہ حدیث بیان کی مجھ سے فلاں ابن فلاں نے الى اخره آخر تک، ساری حدیث بیان کرے۔ یہ محدث کس کو کہہ رہا ہے؟ پیغام، پیغمبر کو، پیغام رساں کو۔ فاذا بلغتك رسالتي هذه پس جب تجھ کو میری یہ پیغام پہنچ جائے فارو عني بهذا الحديث، فاروِ، روى يروي سے امر ہے، پس تو روایت کر میری طرف سے یہ حدیث۔ تو دیکھو، اجازت دے رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ اجازت دے رہا ہے۔ یاد رکھیے، علماء لکھتے ہیں کہ باقاعدہ یہ لفظ 'میری طرف سے تمہیں اجازت ہے' یہ کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جب خط میں حدیث لکھ کر یا پیغمبر کے پیغام رساں کے ذریعے بھیج رہا ہے تو ضمناً اسی کے اندر خود ہی اجازت آگئی، بھئی۔ تو صراحتاً اجازت کا کہنا ضروری نہیں، بھئی۔ فيكونان أي الكتاب والرسالة حجتين اذا ثبتا بالحجة پس یہ دونوں یعنی کہ کتاب اور رسالت جو ہیں، یہ دلیل ہوں گی، حجت ہوں گی اذا ثبتا بالحجة جب یہ ثابت ہوں کس کے ذریعے؟ حجت یعنی دلیل کے ذریعے، بینہ کے ذریعے، گواہوں کے ذریعے، خود بتلا رہے ہیں شارح أي بالبينة۔ بالحجة سے کیا مراد ہے؟ بالبینہ، گواہوں کے ذریعے کہ أنها ہذا كتاب فلان کہ یہ فلاں کا خط ہے او رسول فلان کہ یہ فلاں کا پیامبر ہے علیٰ ما عرف في كتاب القاضي بناءً اس کے جو جانا گیا ہے كتاب القاضي کے اندر بھئی۔ کس کے اندر؟ كتاب القاضي کتاب القاضي میں جیسا کہ جانا گیا ہے۔ بھئی کتاب القاضي پڑھی آپ نے کہ نہیں بھئی؟ ایک قاضی دوسرے قاضی کو خط لکھتا ہے کس طرح لکھے گا بھئی؟ یاد رکھیے۔ ایک قاضی دوسرے قاضی کو خط لکھتا ہے عام خط نہیں مراد بھئی کہ آپ کا کیا حال ہے؟ خیر خیریت سے ہیں۔ بھئی یہ وہ خط ہے جو کسی معاملے کے اندر لکھا جا رہا ہے اور اس خط کے ذریعے باقاعدہ گواہی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ گواہی کو منتقل کیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ لاہور کے قاضی کے پاس گئے، آپ نے مقدمہ کر دیا کہ قاضی صاحب! کراچی میں زید رہتا ہے، اس کے اس نے میرے دو لاکھ روپے دینے ہیں۔ آپ آپ نے مقدمہ کر دیا، آپ ہیں لاہور میں، زید ہے کراچی کے اندر، قاضی آپ سے گواہ طلب کرے گا۔ قاضی کیا کرے گا آپ سے؟ گواہ طلب کرے گا۔ آپ دو گواہ لے گئے، قاضی نے تحقیق کر لی کہ یہ دونوں گواہ کس قسم کے ہیں؟ عادل ہیں۔ دونوں گواہوں نے گواہی دے دی کہ ہم گواہی دیتے ہیں اس فلاں مسئلے کے اندر زید میں اور اس میں عقد ہوا تھا اور اس نے اس کے دو لاکھ روپے دینے ہیں۔ اس نے اس کے دو لاکھ روپے دینے ہیں، چنانچہ وہ لاہور کا قاضی اب ان چیزوں کو، ان باتوں کو، ان گواہیوں کو خط میں لکھے گا۔ اور پھر دو گواہ بلائے گا عادل، اب نئے گواہ اپنی طرف سے تیار کرے گا۔ ان دو گواہوں کی گواہی کو اب کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔ وہ اس خط لکھے گا، اس میں یہ ساری تفصیل اور گواہیاں لکھ لے گا اور دو گواہ، دو عادل آدمی بلائے گا ان کو ان کے سامنے یہ خط پڑھے گا کہ میں نے اس خط میں یہ یہ لکھا ہے تاکہ ان کو بھی پتہ ہو اس میں کیا ہے۔ پھر اس خط کو بند کرے گا اور ان کے سامنے مہر لگا کر بند کر دے گا تاکہ اس کو کوئی کھول نہ سکے، اگر کھولے تو پتہ چل جائے۔ پھر یہ خط وہ دو گواہ جو ہیں اس خط کو لے کر روانہ ہوں گے، کراچی کے قاضی کے پاس پہنچیں گے اور اس کو وہ خط دیں گے۔ وہ کہے گا بھئی کس کے خلاف مقدمہ ہے؟ کس کی گواہی لے کر آئے ہو، کس کے خلاف؟ وہ بتلائیں گے زید ہے فلاں شخص ہے، فلاں محلے میں رہتا ہے، فلاں قسم کا آدمی ہے۔ تو قاضی خط نہیں وصول کرے گا، کہے گا جاؤ اس کو لے کر آؤ پہلے یا اس کو بلائے گا۔ جب زید آ جائے گا اب قاضی ان دو گواہوں کو طلب کرے گا کہ لاؤ بھئی! کیا لے کر آئے ہو لاہور سے، کیا خط لائے ہو؟ وہ دو گواہ کہیں گے کہ یہ لاہور کے قاضی نے ہمیں خط دیا تھا اور اس کے اندر انہوں نے یہ یہ مسئلہ لکھا ہے، یوں یوں گواہی لکھی ہے، پوری تفصیل بیان کر دیں گے زید کے سامنے۔ تو وہ قاضی اب زید کی موجودگی میں یہ خط لے لے گا اور کھولے گا اور پھر پڑھ کر اسے سنائے گا اور پھر اس کے خلاف وہیں پر فیصلہ کر دے گا بھئی یا اور کوئی تحقیق ہوئی وہ کر لے گا اور پھر کیا کر لے گا؟ فیصلہ اس کے خلاف کر دے گا۔ بھئی یہاں والے قاضی نے کیوں نہیں زید کے خلاف فیصلہ کیا؟ وجہ یہ کہ آپ جانتے ہیں کہ قاضی فریق مخالف کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا۔ فریق مخالف موجود ہو یا اس کا کوئی نائب یا وکیل موجود ہو پھر تو قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے، ویسے فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تو گواہ تو آ گئے تھے لیکن فیصلہ نہیں کر سکتا تھا تو اس نے گواہی کو منتقل کر دیا دیکھو کہاں پر؟ جس جگہ پر وہ مدعی علیہ موجود تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے كتاب القاضي إلى القاضي، جس کے لیے باقاعدہ گواہی منتقل کی جاتی ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو خط کے ذریعے روایت حدیث کی اجازت دے رہا ہے، حدیث کو کی اجازت دے رہا ہے دوسرے کو بتلا رہا ہے یا کسی پیغام رساں کے ذریعے اس میں بھی یہی شرائط ہوں گی۔ دو گواہ ہونے چاہیں عادل قسم کے جو جا کر گواہی دیں کہ یہ فلاں محدث کا خط ہے اور اس میں انہوں نے یہ حدیث لکھی ہے یا یہ فلاں کا پیغام رساں ہے اور اس نے اس کو ہمارے سامنے پیغام رساں بنایا تھا، وغیرہ۔ جبکہ عام محدثین کہتے ہیں نہیں بھئی! یہ شرائط نہیں ہوں گی۔ یہ شرائط ضروری نہیں، جب جس کو خط ملا اس کو باقی نشانیوں سے تحریر وغیرہ اور چیزوں سے سچ کا یقین ہو تو پھر بھی اس کے لیے روایت حدیث جائز ہو جائے گی، باقاعدہ اس خط پر اور اس پیغام رساں پر گواہیوں کا قائم کرنا ضروری نہیں ہے بھئی۔ یہ عام محدثین فرماتے ہیں اور امام صاحب کتنی احتیاط فرما رہے ہیں دیکھیے بھئی، ان کی شدت کا اس مسئلے میں اندازہ لگائیے کہ باقاعدہ كتاب القاضي إلى القاضي کی طرح یہاں بھی کیا ہونے چاہئیں؟ دو دو، دو گواہ ہونے چاہئیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ انتہا درجے کی احتیاط ہے امام صاحب کی، تو فیكونان علی الكتاب والرسالة حجتكما إذا ثبت بالحجة۔ تو یہ دونوں یعنی کتاب اور رسالہ یعنی پیغام رساں یعنی جو ہے یہ دونوں حجت ہوں گے جب یہ دو سے ثابت ہو جائیں بینہ کے ذریعے أن هذا كتاب، أن هذا كتاب فلان او رسول فلان کہ فلاں کا خط ہے یا فلاں کا پیغام رساں ہے علیٰ ما عرف في كتاب القاضي جیسا کہ جانا گیا ہے کتاب القاضی کے اندر فهذه اربعة اقسام للعزيمة في طرف السماع، پس یہ چار قسمیں ہوئیں عزیمت کی فی طرف السماع سماع کی طرف میں والاولان اکملان من الاخیرین اور پہلی دو جو ہیں وہ زیادہ کامل ہیں آخر والی دو سے۔ پہلی دو کون سی صورتیں تھیں؟ شاگرد پڑھے، استاد اس کی تائید کرے ایک صورت اور استاد پڑھے اور شاگرد سنے، یہ دو پہلی صورتیں۔ اور آخری دو صورتیں کیا تھیں؟ کہ خط کے ذریعے بھیجے یا پیغام رساں کے ذریعے بھیجے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الکلام۔
84 approved lectures · 42 of 84