Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔86 کحدیث المصراۃ هی فی اللغۃ حبس البهائم عن حلب اللبن ایاماً وقت ارادۃ البيع ليحلب المشتري بعد ذلك فيغتر بكثرۃ لبنه ويشتريه بثمن غال۔ اچھا بھئی گزشتہ سبق میں میں مسئلہ مصراۃ لکھوا رہا تھا۔ کہاں تک لکھا بھئی؟ جی آخر میں آپ نے لکھا تھا، "لہذا اسے ترجیح ہے حدیث مصراۃ پر۔" آگے لکھیے بھئی، الگ سطر میں۔ نیز یہ حدیث اجماع کے بھی خلاف ہے۔ نیز یہ حدیث اجماع کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ بالاجماع، کیونکہ بالاجماع، شریعت میں ضمان دو قسم پر ہے۔ شریعت میں ضمان دو قسم پر ہے۔ نمبر ایک، ضمان بالمثل۔ نمبر ایک، ضمان بالمثل اگر وہ ہلاک شدہ چیز مثلیات میں سے ہو۔ اگر وہ ہلاک شدہ چیز مثلیات میں سے ہو۔ نمبر دو، ضمان بالقیمۃ۔ نمبر دو، ضمان بالقیمۃ اگر وہ ہلاک شدہ چیز ذوات القيم میں سے ہو۔ اگر وہ ہلاک شدہ چیز ذوات القيم میں سے ہو۔ پس صاع تمر، پس صاع تمر، دونوں قسموں میں سے، دونوں قسموں میں سے، ایک قسم میں بھی داخل نہیں ہے۔ ایک قسم میں بھی داخل نہیں ہے۔ کیونکہ صاع تمر نہ تو دودھ کے لیے مثل ہے، کیونکہ صاع تمر نہ تو دودھ کے لیے مثل ہے اور نہ ہی قیمت، اور نہ ہی قیمت۔ لہذا صاع تمر کو واجب قرار دینا، لہذا صاع تمر کو واجب قرار دینا خلاف الاجماع ہوا۔ خلاف الاجماع ہوا۔ اور اجماع دلیل قطعی ہے۔ اور اجماع دلیل قطعی ہے۔ آگے الگ سطر میں لکھیے۔ نیز اس حدیث کے الفاظ میں، نیز اس حدیث کے الفاظ میں اضطراب عظیم ہے۔ اضطراب ضاد اور ط کے ساتھ۔ نیز اس حدیث کے الفاظ میں اضطراب عظیم ہے۔ بعض روایتوں میں صاع تمر کا ذکر ہے، بعض روایتوں میں صاع تمر کا ذکر ہے، بعض روایتوں میں دودھ کے برابر، بعض روایتوں میں دودھ کے برابر گندم دینے کا ذکر ہے، بعض روایتوں میں دودھ کے برابر گندم دینے کا ذکر ہے، اور بعض روایتوں میں، اور بعض روایتوں میں دودھ سے دگنی گندم کا ذکر ہے، دودھ سے دگنی گندم کا ذکر ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ لہذا یہ حدیث قابل استدلال نہیں۔ لہذا یہ حدیث قابل استدلال نہیں۔ آگے الگ سطر لکھیے۔ نیز یہ حدیث، نیز یہ حدیث ہمارے نزدیک بھی متروک نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک بھی متروک نہیں ہے بلکہ معمول بہ ہے۔ بلکہ معمول بہ ہے۔ ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ مگر مصالحۃً نہ کہ قضاءً، مگر مصالحۃً نہ کہ قضاءً۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کے طور پر یہ فرمایا، نے مصالحت کے طور پر یہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے، مطلب یہ ہے کہ قضاءً اگرچہ، کہ قضاءً اگرچہ مصراۃ واپس نہیں کر سکتا، اگرچہ مصراۃ واپس نہیں کر سکتا لیکن اخلاقی طور پر، لیکن اخلاقی طور پر بائع کے لیے مناسب یہ ہے، بائع کے لیے مناسب یہ ہے کہ اگر مشتری، کہ اگر مشتری وہ جانور واپس کرے، وہ جانور واپس کرے تو بائع اسے واپس لے لے، تو بائع اسے واپس لے لے۔ اور چونکہ اس سے، اور چونکہ اس سے بائع کی بھی دل شکنی ہوگی، بائع کی بھی دل شکنی ہوگی تو اس کو دور کرنے کے لیے، تو اس کو دور کرنے کے لیے صاع تمر دینے کا کہا گیا ہے، تو اس کو دور کرنے کے لیے صاع تمر دینے کا کہا گیا ہے کہ بائع خوش ہو جائے، کہ بائع خوش ہو جائے۔ یہ صلح ہے، یہ صلح ہے، اس سے محبت پیدا ہوتی ہے، اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ معلوم ہوا، معلوم ہوا یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں، یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں۔ لکھ لیا بھئی؟ چلیے بس، یہ بحث مکمل ہوئی بھئی، مسئلہ مصراۃ کی۔ بحث سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہ یہ حدیث صاحب نور الانوار اور صاحب منار تو فرماتے ہیں کہ احناف نے اس حدیث کو خلاف القياس ہونے کی وجہ سے ترک کیا ہے کیونکہ یہ غیر فقیہ راوی کی حدیث ہے۔ اولا ًتو یہ بات ہی درست نہیں کہ یہ غیر فقیہ راوی کی ہے کیونکہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے اور وہ مجتہد تھے بھئی، فقیہ تھے۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ اس حدیث کو ہم نے خلاف القياس ہونے کی وجہ سے ترک نہیں کیا بلکہ یہ آیتوں کے اور سنت مشہورہ کے اور اجماع کے خلاف ہے اس لیے ہم نے اس کو ترک کر دیا۔ اور ایک جواب یہ بھی دیا کہ بلکہ ترک بھی نہیں کیا، ہمارے نزدیک بھی اس حدیث پر عمل ہے۔ اور لیکن وہ عمل کس طرح ہے؟ مصالحۃً ہے نہ کہ قضاءً، یعنی حضور علیہ السلام نے یہ جو فرمایا تھا، یہ بطور صلح کے فرمایا، بطور قضاء کے نہیں فرمایا بھئی۔ جی، اب آئیے بھئی، کتاب پر دیکھیے بھئی۔ کحدیث المصراۃ جیسے کہ حدیث مصراۃ ہے، هی فی اللغۃ حبس البهائم عن حلب اللبن ایاماً اور یہ لغت میں یعنی عربی زبان میں حبس البهائم، جانور کو روکنا، بند کرنا مویشیوں کو روکنا عن حلب اللبن، دودھ دوہنے سے، دودھ نکالنے سے، ایاماً کچھ دن، یعنی کچھ دن دودھ نکالنے سے روکنا یعنی ان کا دودھ نہ نکالنا وقت ارادۃ البيع، اس کو بیچنے کے ارادے کے وقت، ليحلب المشتري تاکہ مشتری دودھ نکالے بعد ذلك اس کے بعد، فيغتر بكثرۃ لبنه، پس وہ دھوکے میں پڑ جائے اس کے دودھ کی زیادتی اور کثرت کی وجہ سے، ويشتريه بثمن غال، اور خرید لے اس کو مہنگے قیمت کے ساتھ۔ ثم يظهر الخطأ بعد ذلك، پھر اس کے بعد غلطی ظاہر ہو اس کے بعد، فلا يحلب إلا قليلاً، تو پھر دودھ نہ نکالے مگر تھوڑا سا ہی۔ پھر اس کے بعد غلطی کا پتہ چلتا ہے تو پھر دودھ نہیں نکلتا مگر تھوڑا سا ہی۔ وحديثه اور حدیث اس کی، هو ما رواہ ابو هريرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ ہے جس کو روایت کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، أن النبي علیہ الصلاۃ والسلام قال، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لا تصروا الإبل والغنم، کہ تم تصریہ نہ کرو اونٹنی کا اور بھیڑ بکری کا، فمن ابتَاعها، پس جس نے اس کو خریدا بعد ذلك، اس کے بعد، فهو بخير النظرين، تو وہ دو باتوں میں سے بہتر کا اسے اختیار ہے بعد أن يحلبها، بعد اس کا دودھ نکالنے کے۔ تو اس کا دودھ نکالنے کے بعد اسے دو باتوں میں سے زیادہ بہتر بات کا اسے اختیار ہے۔ إن رضیها امسكها، اگر وہ اس پر راضی ہو تو اس کو روک لے یعنی اپنے پاس ہی رکھ لے مشتری، وإن سخطها ردها وصاعاً من تمر، اور اگر وہ اس کو ناپسند ہے تو اس کو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور میں سے۔ یہ تو تھی حدیث بھئی۔ ومعناہ اور معنیٰ اس کا یہ ہے کہ إن ابتلی المشتري بهذا الاغترار، کہ اگر مبتلا کیا گیا مشتری اس دھوکے کے اندر، فإن رضیها فخير وحسن، پس اگر وہ اس پر راضی ہوا تو بہتر ہے اور اچھی بات ہے، وإن غضبها ردها ورد صاعاً من تمر، اور اگر وہ اس کو ناراض کرے تو یہ بات اس کو ناراض کرے تو اس کو واپس کر دے اور ایک صاع تمر بھی واپس کرے، عوض اللبن الذي اكل فی يومٍ اولاً، اس دودھ کے بدلے جو اس نے پہلے دن کھایا یعنی پیا۔ فإن هذا الحديث مخالف للقياس من كل وجه، پس یہ جو حدیث ہے یہ مخالف ہے قیاس کے ہر اعتبار سے، فإن ضمان العدوانات والبيعات كلها مقدر بالمثل في المثلي وبالقيمۃ في ذوات القيم، اس لیے کیونکہ عدوانات، زیادتیاں، بیعات، جمع ہے بیعۃ کی اور بیعۃ وہ چیز جس کو بیچا جائے بھئی یعنی مبیعہ مبیعہ۔ اور عدوانات جمع ہے عدوان کی، زیادتی کو کہتے ہیں۔ پس کیونکہ زیادتیاں اور بیچی جانے والی چیزوں کا ضمان جو ہے سب کے سب کا مقدر بالمثل، وہ مقرر کیا جاتا ہے مثل کے ساتھ فی المثلی مثلی میں، وبالقيمۃ في ذوات القيم، اور قیمت کے ساتھ ذوات القيم میں۔ فظمان اللبن المشروب ينبغي أن يكون باللبن او بالقيمۃ، پس ضمان اس دودھ کا جس کو پیا گیا مناسب یہ ہے کہ وہ دودھ کے ساتھ ہونا چاہیے یا قیمت کے ساتھ۔ ولو كان بالتمر، اور اگر وہ کھجور کے ساتھ ہے، فينبغي أن يقاس بقلۃ اللبن وكثرته، تو مناسب یہ ہے کہ اس کھجور کو قیاس کیا جائے دودھ کی کمی اور کثرت کے ساتھ، یعنی اگر دودھ کم استعمال کیا ہے تو کھجوریں بھی کم ہونی چاہئیں اور اگر دودھ زیادہ استعمال کیا ہے تو کھجوریں بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔ لا انه يجب صاع من التمر البتۃ، نہ یہ کہ واجب ہو ایک ہی صاع، ایک صاع تمر قطعی طور پر، قل اللبن او كثر، دودھ چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ، ہر حال میں ایک صاع تمر ہی واجب ہوں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ فذهب مالك والشافعي رحمهما الله تعالى إلى ظاهر الحديث، پس گئے ہیں امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ حدیث کے ظاہر کی طرف۔ وابن ابي ليلى وابو يوسف رحمهما الله تعالى إلى انه ترد قيمۃ اللبن، اور ابن ابی لیلیٰ، یہ بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بھئی، یہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ دودھ کی قیمت واپس کرے گا۔ کیا کرے گا؟ دودھ کی قیمت، یعنی جانور بھی واپس کرے گا اور ساتھ دودھ کی قیمت، ایک صاع تمر کے بجائے دودھ کی قیمت وہ فرماتے ہیں۔ یہ بعض روایتوں میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ مذہب ہے اور ایک وہ میں نے ذکر کیا جو کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی باقی ائمہ کے ساتھ ہیں، ان کے نزدیک صاع تمر ہی دیں گے اور جانور بھی واپس کر سکتا ہے۔ وابو حنيفۃ رحمه الله إلى انه ليس له أن يردها، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نہیں ہے اس کے لیے اس جانور کو واپس کرنا، وہ جانور واپس نہیں کر سکتا بھئی، ويرجع على البائع بارشها، اور وہ رجوع کرے گا بیچنے والے پر اس کے ارش یعنی اس کے ضمان کے ساتھ، ضمان اس سے لے لے گا جتنا فرق ہے قیمت کا، ويمسكها، اور اس کو اپنے پاس روک لے گا۔ هكذا نقله بعض الشارحين، اسی طرح نقل کیا ہے بعض شارحین نے۔ ثم هذه التفرقۃ بين المعروف بالفقه والعدالۃ مذہب عيسى بن أبان، اور پھر یہ جو فرق ہے معروف بالفقه اور عدالت کے بیچ، یہ مذہب ہے عیسیٰ ابن ابان رحمہ اللہ کا بھئی، وہی بحث جو میں نے آپ کو لکھوائی تھی بھئی کہ یہ ان کا مذہب ہے۔ یہ پہلی بحث بھئی کہ حدیث کا راوی اگر فقیہ ہو تو وہ قیاس پر مقدم ہو گی اور اگر حدیث کا راوی غیر فقیہ ہو تو پھر قیاس مقدم ہو گا اور اس کو ترجیح دی جائے گی اور حدیث کو چھوڑ دیا جائے گا، یہ مذہب کس کا ہے؟ عیسیٰ ابن ابان کا۔ اور یہ بھی میں نے بتلایا تھا بھئی، والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے۔ کہ میری تحقیق کے مطابق، یہ عیسیٰ ابن ابان رحمہ اللہ کا قول بھی نہیں ہے، وہ بھی ایسی بات نہیں کر سکتے کبھی بھی، وہ بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں، وہ ایسی بات قطعا نہیں کر سکتے کہ قیاس کو حدیث مرفوع پر ترجیح دے دیں۔ چنانچہ فرماتے تھے کہ میں نے تحقیق کی مجھے کہیں کتابوں میں ان کا یہ قول نہیں ملا۔ معلوم ہوا کہ غلطی سے ان کی طرف یہ قول کسین منسوب ہوا ہے اور پتہ نہیں کیسے منسوب ہوا اور کس طرح یہ قول کتابوں میں آ گیا۔ جی آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَتَابَعَهُ أَكْثَرُ الْمُتَأَخِّرِينَ، تابع کے معنی موافقت کرنا اور موافقت کی ہے اس کی اکثر متاخرین نے۔ اکثر متاخرین نے کن کی موافقت کی ہے؟ کس کی طرف گئے ہیں؟ عیسیٰ ابن ابان رحمہ اللہ کے مذہب کی طرف، یہ بات صاحب نور الانوار کی قطعا قطعا درست نہیں ہے بھئی۔ اکثر متاخرین جو ہیں، اکثر وہ اسی طرف گئے ہیں کہ حدیث کو مقدم ہوگی قیاس پر ہر حال میں بھئی۔ بلکہ احناف کا مذہب بھی میں نے ذکر کیا کہ احناف تو سارے اس بات پر اکٹھے ہیں کہ امام صاحب کا کیا مذہب ہے؟ کہ ضعیف حدیث کو بھی قیاس پر ترجیح ہے بھئی۔ یہ ایک مذہب تھا، دوسرا بھئی جو جس کی طرف اکثر گئے ہیں، وہ اب آگے آ رہا ہے۔ وَأَمَّا عِنْدَ الْكَرْخِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، اور امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک وَمَنْ تَابَعَهُ مِنْ أَصْحَابِنَا، اور وہ جنہوں نے موافقت کی ہے ان کی ہمارے فقہاء میں سے، ان کے نزدیک: فَلَيْسَ فِقْهُ الرَّاوِي شَرْطًا لِتَقَدُّمِ الْحَدِيثِ عَلَى الْقِيَاسِ، راوی کے فقیہ ہونا یہ شرط نہیں ہے حدیث کے قیاس پر مقدم ہونے کے لیے، بَلْ خَبَرُ كُلِّ رَاوٍ عَدْلٍ مُقَدَّمٌ عَلَى الْقِيَاسِ، بلکہ ہر عادل راوی کی خبر جو ہے وہ مقدم ہے کس پر؟ قیاس پر، إِذَا لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ الْمَشْهُورَةِ، جبکہ وہ کتاب اللہ اور سنت مشہورہ کے خلاف نہ ہو بھئی۔ وَلِهَذَا قَبِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حَدِيثَ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الْجَنِينِ وَأَوْجَبَ الْغُرَّةَ فِيهِ، اور اسی وجہ سے قبول کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حمل ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کو فِي الْجَنِينِ جنین کے اندر بھئی، جنین وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو۔ وَأَوْجَبَ الْغُرَّةَ فِيهِ، اور اس میں غرہ واجب کیا، مَعَ أَنَّهُ مُخَالِفٌ لِلْقِيَاسِ، باوجود اس کے کہ یہ قیاس کے مخالف ہے بھئی۔ بھئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں کہیں یہ مسئلہ پیش آیا کہ عورت کے پیٹ میں جو بچہ تھا، بھئی کسی نے غالباً کوئی عورت نے دوسری عورت کو مارا اور وہ عورت بھی ہلاک ہوئی اور اس کا بچہ بھی پیٹ میں جو بچہ تھا، وہ بھی ہلاک ہوا۔ تو اب عورت کے بدلے تو عورت کو قتل کیا ہے، اس کے بدلے تو قصاص آئے گا بھئی اگر جان بوجھ کر کیا۔ اگر غلطی سے ہوا، اس میں کیا آ جائے گی؟ دیت آ جائے گی۔ اب یہ بچے کے اندر بھئی اس میں کیا واجب ہوگا؟ کیا واجب ہوگا؟ تو صحابہ کے سامنے یہ بات ذکر کی، تو حضرت حمل ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ سنا اسی قسم کے مسئلے کے اندر کہ ہمارے قبیلے کی کوئی عورت تھی، اس کو دوسری عورت نے مارا کسی لکڑی وغیرہ سے، اس کو بھی ہلاک کیا اور اس کے پیٹ میں بچہ بھی ہلاک ہوا، تو حضور علیہ السلام نے اس بچے کے لیے پھر غرہ واجب فرمایا بھئی۔ عورت کے اندر تو وہ قصاص وغیرہ جو آیا اور اس میں غرہ، غرہ واجب کیا بھئی۔ غرہ یہ آپ کے حاشیے میں تفصیل دی ہوئی ہے بھئی، کہتے ہیں اصل میں یہ گھوڑے کی جو پیشانی پر سفیدی ہوتی ہے، اس کو کہتے ہیں بھئی۔ گھوڑے کو اگر آپ نے توجہ سے غور سے دیکھا ہو، تو اس کے ماتھے پر کچھ سفید بڑا سا نشان ہوتا ہے بھئی، سفید نشان، سفید۔ تو اس کو غرہ کہتے ہیں اور اصل میں تو کہتے ہیں یہ اس کو کہتے تھے اور اس کا اطلاق غلام اور باندی پر پھر ہوتا ہے۔ اور یہاں پر فقہاء کے نزدیک غرہ سے مراد جو ہے دیت کا نصف عشر ہے۔ دیت کا نصف عشر ہے۔ دیت کتنی ہوتی ہے آدمی کی؟ 100 اونٹ، اس کا عشر دسویں حصہ کتنا ہوا؟ 10 اونٹ اور اس عشر کا نصف 5 اونٹ۔ تو یہ غرہ نصف عشر ہے دیت کا 5 اونٹ، یعنی کہ یہ 500 درہم بنتے ہیں بھئی۔ کتنے بنتے ہیں؟ 500 درہم بنتے ہیں، تو یہ 500 درہم یہ غرہ ہے۔ تو وہ حضرت حمل ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے اس بچے کے بارے میں جو ماں کے پیٹ میں تھا، اس کے بارے میں غرہ واجب فرمایا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی اس بات کو اس حدیث کو قبول کیا، باوجود اس کے کہ یہ قیاس کے مخالف ہے بھئی۔ کس کے؟ قیاس کے مخالف ہے بھئی، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اگر وہ بچہ زندہ تھا، پھر تو ایک جان گئی ہے، تو پوری دیت آنی چاہیے۔ اور اگر وہ پہلے سے ہی مردہ تھا، پھر تو اس میں کچھ بھی نہیں آنا چاہیے بھئی۔ تو قیاس کے مطابق یا تو دیت آنی چاہیے یا کچھ بھی نہیں آنا چاہیے، غرہ تو کسی صورت میں بھی نہیں، لیکن اس کے باوجود اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے قبول کیا، باوجود اس کے کہ یہ قیاس کے مخالف تھی۔ معلوم ہوا حدیث کو کیا ہے قیاس پر ترجیح ہے بھئی۔ مَعَ أَنَّهُ مُخَالِفٌ لِلْقِيَاسِ، باوجود اس کے کہ یہ قیاس کے مخالف ہے، لِأَنَّ الْجَنِينَ إِنْ كَانَ حَيًّا وَجَبَتِ الدِّيَةُ كَامِلَةً، اس لیے کیونکہ جنین جو ہے، اگر وہ زندہ ہو تو اس میں پوری دیت واجب ہونی چاہیے، وَإِنْ كَانَ مَيِّتًا فَلَا شَيْءَ فِيهِ، اور اگر وہ مردہ ہو تو کوئی چیز اس میں نہیں ہونی چاہیے، وَأَمَّا حَدِيثُ الْوُضُوءِ عَلَى مَنْ قَهْقَهَ فِي الصَّلَاةِ، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ جو مذہب متن میں بیان ہوا کہ اگر راوی غیر فقیہ ہو تو قیاس کو ترجیح ہوگی خبر واحد پر، اگر حدیث کا راوی غیر فقیہ ہو تو قیاس کو حدیث سے یعنی خبر واحد پر ترجیح ہوگی، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حدیث آتی ہے، حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو قہقہہ لگائے نماز کے اندر، اسے چاہیے کہ وضو اور نماز کا اعادہ کرے۔ وضو اور نماز دونوں کے اعادے کا حکم دیا گیا، یعنی اس کی نماز بھی ٹوٹ گئی قہقہہ لگانے کی وجہ سے اور اس کا وضو بھی ٹوٹ گیا۔ اب یہ حدیث خلاف القیاس ہے بھئی، خلاف القیاس۔ کیونکہ وضو جو ہے قہقہہ لگانے سے وضو، نماز تو ٹھیک ہے ٹوٹ گئی، اب وضو ٹوٹنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی بھئی، وضو تو نہیں ٹوٹنا چاہیے، ٹھیک ہے نماز ٹوٹ گئی۔ تو یہ حدیث خلاف القیاس ہوئی اور یہ تو یہاں پھر حدیث کو چھوڑ کر قیاس پر کیوں نہیں عمل کیا آپ لوگوں نے؟ آپ نے تو کیا بتلایا کہ راوی اگر غیر فقیہ ہو تو پھر حدیث کے بجائے کس پر عمل کیا جائے گا؟ قیاس پر عمل کیا جائے گا، تو یہاں حدیث پر عمل کیا گیا اور قیاس کو چھوڑ دیا گیا، اس کی کیا وجہ؟ تو جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: وَأَمَّا حَدِيثُ الْوُضُوءِ عَلَى مَنْ قَهْقَهَ فِي الصَّلَاةِ، اور باقی حدیث جو ہے وضو کی جو حدیث ہے عَلَى مَنْ اس شخص پر قَهْقَهَ فِي الصَّلَاةِ جو قہقہہ لگائے نماز کے اندر، فَهُوَ وَإِنْ كَانَ مُخَالِفًا لِلْقِيَاسِ، پس وہ حدیث اگرچہ قیاس کے مخالف ہے، لَكِنْ رَوَاهُ عِدَّةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ الْكُبَرَاءِ، لیکن روایت کیا ہے اس کو کئی بڑے صحابہ نے، كَجَابِرٍ وَأَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا وَغَيْرِهِمَا، جیسے کہ حضرت جابر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہما ہیں اور ان کے علاوہ صحابہ ہیں، وَلِذَا كَانَ مُقَدَّمًا عَلَى الْقِيَاسِ، اور اسی وجہ سے یہ حدیث کیا ہے قیاس پر مقدم ہے۔ وَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا، اور اگر وہ راوی جو ہے مجہول ہو، بھئی پیچھے بحث کے شروع میں کیا بتلایا تھا؟ کہ راوی اگر معروف کہ راوی یا تو معروف ہوگا یا مجہول، اور معروف پھر یا تو معروف بالفقہ ہوگا یا معروف بالعدالت ہوگا، اس کی دونوں قسمیں گزر گئیں بھئی اور تفصیل بیان ہو گئی، اور اگر راوی مجہول ہو تو پھر کیا کیا جائے گا؟ اس میں بتلایا تھا پانچ قسم پر بنے گی بات بھئی، کتنی صورتیں بنیں گی؟ پانچ قسم کی، پانچ قسم کا صورتیں بنیں گی۔ کون کون سی؟ دیکھیے صرف متن دیکھ لیجیے۔ ایک صورت تو یہ: فَإِنْ رَوَى عَنْهُ السَّلَفُ، کہ سلف نے یعنی بزرگوں نے کیا کیا ہو اس سے؟ روایت کیا ہو۔ اور علماء فقہاء صحابہ نے اس سے روایت کیا ہو۔ أَوِ اخْتَلَفُوا فِيهِ، یا اس میں کیا کیا ہو؟ بھئی ایسے راوی کی حدیث ہے، ایسے صحابی کی حدیث ہے جو روایت حدیث میں معروف نہیں، کس میں؟ روایت حدیث میں معروف نہیں، یعنی ایک دو حدیثیں اس سے مروی ہیں، زیادہ تو وہ روایت حدیث میں وہ معروف نہیں ہیں۔ تو اس قسم کا اگر راوی ہو، صحابی ہو، تو اگر اس سے بزرگوں نے یا تو روایت کیا ہوگا، یا اس میں اختلاف کیا ہوگا، یعنی بعض اس کو قبول کرتے ہیں، بعض اس کو رد کرتے ہیں، أَوْ سَكَتُوا عَنِ الطَّعْنِ، یا اس میں اعتراض کرنے سے سکوت کیا، یعنی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ اس کا اس پر اس کی روایت پر اعتراض نہیں کیا۔ یہ تین صورتیں ہو گئیں۔ چوتھی صورت آگے آ رہی ہے اگلے متن میں، اور اگر سلف کی طرف سے رد ظاہر ہو، سلف نے کیا کیا ہو؟ دیگر صحابہ، فقہاء وغیرہ نے اس کو رد کیا ہو۔ یہ چوتھی صورت ہو گئی۔ اور پانچویں صورت بھئی، اگر اس کی حدیث ظاہر نہیں ہوئی، یعنی معروف نہیں ہوئی فی السلف بزرگوں میں، فَلَمْ يُقَابَلْ بِرَدٍّ وَلَا قَبُولٍ، پس مقابل نہیں ہوا گیا اس کا نہ رد کے ساتھ اور نہ قبول کے ساتھ۔ بھئی اس وقت ان کو معلوم ہی نہیں ہوئی، ظاہر ہی نہیں ہوئی ان کے سامنے حدیث، ظاہر ہوتی تو وہ رد یا قبول کرتے۔ تو یہ پانچ صورتیں ہو گئیں بھئی کہ وہ راوی، صحابی روایت حدیث میں اگر مجہول ہے، تو پھر اس کی روایت کو دیگر صحابہ نے، فقہاء نے حدیث کو قبول کیا ہوگا، یا اس میں اختلاف کیا ہوگا، یا اس کے بارے میں سکوت کیا ہوگا، خاموشی کی ہوگی، یا اس کو رد کیا ہوگا، یا نہ رد کیا ہے اور نہ قبول کیا ہے، کیونکہ اس وقت ظاہر ہی نہیں ہوئی حدیث بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں یہ پانچ صورتیں بنیں گی بھئی۔ تو دیکھیے، کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا، اور اگر حدیث کا راوی صحابی جو ہے وہ مجہول ہو، أَيْ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ، یعنی کہ روایت حدیث میں، وَالْعَدَالَةِ، اور عدالت میں، عادل ہونے میں، یعنی قابل اعتماد ہونے میں۔ یہ لفظ شارح کو ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا بھئی، صحابہ تمام کے تمام عادل ہیں بھئی، اس امت کے سب سے بڑے عادل ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین۔ تو مجہول ہیں کس اعتبار سے بھئی؟ مجہول ہیں فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ، بس، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ عدالت میں نہیں، صحابی تو ہر ایک عادل ہے، تو صرف کس چیز میں مجہول ہے مثلاً وہ راوی؟ روایت حدیث میں، پہلے صحابہ جو گزرے، وہ معروف ہیں روایت حدیث میں، پھر ان میں کوئی فقیہ ہے، کوئی غیر فقیہ، اور یہ صحابی کس قسم کا ہے مثلاً؟ معروف نہیں ہے روایت حدیث میں، یعنی ایک دو حدیثیں ہی روایت ہیں ان سے، زیادہ نہیں روایت بھئی۔ اور اگر عدالت کا لفظ باقی رکھتے ہیں، تو پھر پھر اس سے صحابہ مراد نہیں۔ مطلق راوی حدیث، چاہے صحابہ، تابعین، تبع تابعین میں سے کوئی بھی ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر عدالت کا لفظ صحیح اگر اس کو عام رکھا جائے۔ وَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا، اور اگر وہ راوی مجہول ہو، أَيْ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ وَالْعَدَالَةِ، یعنی روایت حدیث اور عدالت میں، لَا فِي النَّسَبِ، نہ کہ نسب میں۔ نسب میں غیر معروف، مجہول ہونا اس سے کوئی نقصان نہیں کہ نسب کا پتہ ہی نہیں کس کی اولاد ہے، کون ہے، اس سے بھئی روایت حدیث پر اثر نہیں پڑتا، تو کہتے ہیں مجہول ہونا، روایت حدیث میں مجہول ہونا، نہ کہ نسب میں، نسب میں مجہول ہونا یہاں مراد نہیں ہے بھئی۔ بِأَنْ لَمْ يُعْرَفْ إِلَّا بِحَدِيثٍ أَوْ حَدِيثَيْنِ، بایں طور کہ معروف نہیں ہے مگر وہ ایک حدیث کے ساتھ یا دو حدیثوں کے ساتھ، كَوَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، جیسے کہ وابصہ ابن معبد رضی اللہ تعالی عنہ، فَحَالُهُ لَا يَخْلُو عَنْ خَمْسَةِ أَقْسَامٍ، تو اس قسم کا جو راوی ہے، اس کا حال خالی نہیں ہے پانچ قسموں میں سے، فَإِنْ رَوَى عَنْهُ السَّلَفُ، پس اگر اس سے روایت کی ہے سلف نے یعنی بزرگوں نے اور صحابہ نے، أَوِ اخْتَلَفُوا فِيهِ، یا اس میں اختلاف کیا ہے، أَوْ سَكَتُوا عَنِ الطَّعْنِ، یا سکوت کیا یعنی خاموشی کی ہے اس پر اعتراض کرنے سے، صَارَ كَالْمَعْرُوفِ، تو یہ راوی بھی کس کی طرح ہوا؟ معروف کی طرح، جیسے ان کی خبر کو قبول کیا جاتا تھا، اس کی خبر کو بھی کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا، فِي كُلٍّ مِنَ الْأَقْسَامِ الثَّلَاثَةِ، ان تینوں قسموں کے اندر، ان تینوں میں سے ہر قسم کے اندر اس کو قبول کیا جائے گا۔ کون سی تین قسمیں؟ یا تو بزرگوں نے اس کو کیا کیا ہو اس کی حدیث کو؟ قبول کیا ہو، یا اس میں اختلاف کیا ہو، یا اس میں سکوت کیا ہو، اعتراض نہ کیا ہو، تینوں صورتوں کے اندر وہ معروف کی طرح ہے، اس کی حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ لِأَنَّ رِوَايَةَ السَّلَفِ شَاهِدَةٌ بِصِحَّتِهِ، اس لیے کیونکہ سلف کا اس سے روایت کرنا یہ شاہد ہے اس کے صحیح ہونے کا، وَالسُّكُوتُ عَنِ الطَّعْنِ بِمَنْزِلَةِ قَبُولِهِمْ، اور ان کا اعتراض سے سکوت کرنا، یہ ان کے قبول کرنے کے درجے میں ہے، فَلِذَا يُقْبَلُ، اس وجہ سے قبول کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اگر قبول کیا اور روایت کی ہے، یہ تو صحیح ہونے کی علامت ہے، اگر انہوں نے اعتراض نہیں کیا، تو اعتراض نہ کرنا بھی کس چیز کی علامت ہے؟ اس کو قبول کرنے کی، فَلِذَا يُقْبَلُ، اس وجہ سے اس کو قبول کیا جائے گا۔ وَأَمَّا الْمُخْتَلَفُ فِيهِ، اور باقی وہ جس میں اختلاف کیا گیا ہو، فَأَوْرَدُوا فِي مِثَالِهِ، پس لے کر آئے ہیں علماء اس کی مثال میں، مَا، وہ حدیث، رُوِيَ، جو روایت کی گئی ہے، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ، سُئِلَ عَمَّنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا حَتَّى مَاتَ عَنْهَا، ان سے پوچھا گیا عَمَّنْ اس شخص کے بارے میں تَزَوَّجَ امْرَأَةً جس نے نکاح کیا، شادی کی ایک عورت سے، وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا، اور مہر مقرر نہیں کیا اس کے لیے، حَتَّى مَاتَ عَنْهَا، یہاں تک کہ اسے چھوڑ کر اس کا انتقال ہوا۔ مَاتَ عَنْهَا کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اس کو چھوڑ کر اس کا انتقال ہوا۔ تو بھئی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص ہے، اس کا ایک عورت سے نکاح تو ہوا، لیکن صحبت نہیں کی، رخصتی نہیں ہوئی، اس سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا، تو اب اس عورت کو مہر ملے گا یا مہر نہیں ملے گا؟ بیوی تو ہے، وارثہ تو بنے گی، لیکن مہر، بھئی مہر تو دین ہوتا ہے خاوند کے ذمے، اور آپ جانتے ہیں کہ وراثت کے اندر سب سے پہلے کفن دفن کا بندوبست کیا جاتا ہے، اس کے بعد دیون ادا کیے جاتے ہیں اگر مرنے والے پر کوئی قرضے تھے، وہ ان کی ادائیگی پہلے کی جاتی ہے، چاہے سارا مال ہی اس کے اندر کیوں نہ ختم ہو جائے، پھر اگر قرضوں کی ادائیگی کے بعد کچھ مال بچ جائے، تو پھر اس میں تیسرے حصے میں اس کی وصیت نافذ کی جاتی ہے اگر اس نے کوئی وصیت کی تھی، اور اس کے بعد آخر میں آتا ہے وارثوں کا نمبر، اب جو مال بچے گا آخر میں وہ کس میں تقسیم ہوگا؟ وارثوں میں۔ تو مال تو وارثوں میں تقسیم ہونا ہے، اس بیوی کو بھی وراثت میں سے حصہ ملے گا، لیکن کیا اس کو مہر ملے گا یا نہیں؟ مہر تو دین ہوتا ہے، تو مہر پہلے الگ سے دینا پڑے گا اور وراثت کا حصہ، تو آخر میں پھر اس کا جو حصہ بنتا ہے وہ بھی اس کو ملے گا۔ تو پوچھا گیا کہ اس عورت کو اب مہر دیا جائے گا یا مہر نہیں دیا جائے گا؟ صرف وراثت، مال میراث اس کو ملے گی بھئی؟ منهم سُئِلَ عمَّن تزوَّج امراةً اس کے بارے میں جس نے نکاح کیا ایک عورت سے ولم يُسمِّ لها مهراً اور مقرر نہیں کیا اس کے لیے مہر حتى مات عنها یہاں تک کہ اس عورت کو چھوڑ کر اس کا خاوند کا انتقال ہو گیا۔ فاجتهد شهرًا تو حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجتہاد کیا ایک ماہ تک۔ ایک ماہ تک غور و فکر کرتے رہے اس مسئلے کے بارے میں۔ وقال بعد ذلك اور فرمایا اس کے بعد: ما سمعت من رسول الله عليه الصلاة والسلام شيئاً، میں نے حضور علیہ السلام سے کچھ نہیں سنا، یعنی اس بارے میں میں نے کچھ نہیں سنا۔ ولكن اجتهد برأيي، لیکن میں اجتہاد کرتا ہوں اپنی رائے کے ساتھ۔ فإن أصبتُ، پس اگر میں مصیب ہوا، یعنی حق تک پہنچ گیا، فمن الله، تو یہ اللہ کی طرف سے ہو گا۔ اگر میں حق تک پہنچ گیا، تو یہ اللہ کی طرف سے ہو گا، اللہ کی نصرت سے ہو گا۔ وإن أخطأتُ، اور اگر میں نے غلطی کی، فمني ومن الشيطان، تو یہ میری طرف سے ہو گا اور شیطان کی طرف سے ہو گا کہ یعنی اس نے مجھے غلطی میں مبتلا کیا۔ أرى لها مهر مثل نسائها، میں خیال کرتا ہوں اس کے لیے اس جیسی عورتوں کے مہر کو۔ اس کے لیے، اس کے لیے کیا ہو گا؟ اس جیسی عورتوں کے کا مہر ہو گا، یعنی اسے مہرِ مثل دیا جائے گا بھئی، مہرِ مثل دیا جائے گا۔ یہ اس عورت کی بات ہو رہی ہے جس کے لیے مہر سرے سے ذکر ہی نہیں کیا تھا نکاح میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اگر مہر ذکر تھا، وہ تو پھر ملے گا ہی ملے گا۔ یہ اس عورت کی بات جس کے لیے مہر ذکر نہیں کیا تھا۔ تو وہ کہتے ہیں: أرى لها مهر مثل نسائها، میں خیال کرتا ہوں اس کے لیے اس جیسی عورتوں کے جیسا مہر، لا وكس ولا شطط، نہ تو اس میں کچھ کمی ہو اور نہ زیادتی، پورا اتنا مہر دیا جائے۔ فقام معقل بن سنان، تو کھڑے ہوئے حضرت معقل ابن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ وقال، اور فرمایا: أشهد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في بردع بنت واشق، کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضور علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا تھا بردع بنت واشق کے بارے میں، مثل قضائك، آپ جیسے فیصلے کے مثل۔ میں گواہی دیتا ہوں حضور علیہ السلام کے سامنے اسی طرح کا واقعہ پیش اس زمانے میں پیش آیا تھا اور حضور علیہ السلام نے بھی یہی فیصلہ فرمایا تھا جس طرح آپ نے فیصلہ فرمایا ہے۔ فسرّ ابن مسعود سروراً لم يُرَ مثله قط، تو خوش ہوئے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سروراً، اتنا خوش لم يُرَ مثله قط، کہ کبھی بھی اس کے مثل ان کو نہیں دیکھا گیا، یعنی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات سن کر اتنے اتنے خوش ہوئے کہ اتنا خوش ان کو کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ کیوں یہ خوش اتنے زیادہ خوش کیوں ہوئے؟ کہتے ہیں: لموافقة قضائه قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، بوجہ موافق ہونے ان کے فیصلے کے حضور علیہ السلام کے فیصلے کے، کہ ان کا فیصلہ کس کے مطابق ہوا تھا؟ حضور علیہ السلام کے فیصلے کے مطابق ہو گیا تھا، تو بہت خوش ہوئے بھئی۔ وردّه عليٌّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور رد کیا اس کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ اس طرح معقل ابن سنان جو ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے اس طرح فیصلہ فرمایا تھا، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات انہوں نے ان کی بات کو رد کر دیا وقال، اور فرمایا: ما نسغى بقول أعرابي بوال على عقبيه، ہم، اصغى يصغى کے معنی ہوتے ہیں توجہ سے سننا بھئی، کان لگا کر سننا، ما نسغى بقول أعرابي، ہم نہیں سنتے ایک دیہاتی کا قول، بوال على عقبيه، جو پیشاب کرنے والے ہیں اپنی ایڑیوں پر۔ ہم ایسے دیہاتیوں کی بات نہیں سنتے جو پیشاب کرنے والے ہیں اپنی ایڑیوں پر بھئی۔ بھئی، عرب کی عادت تھی زمانہِ جاہلیت کے اندر بھئی، وہ پیشاب وغیرہ میں احتیاط نہیں کرتے تھے بھئی۔ بیٹھ کر بھی کہیں پیشاب کر رہے ہیں، وہ پیشاب کے چھینٹے وغیرہ پاؤں پر پڑتے، جہالت کا زمانہ تھا، پروا ہی نہیں کرتے تھے۔ یہ نہیں کہ اسلام کے بعد بھی یہی حالت تھی بھئی، اسلام کے بعد تو ان کو اللہ نے دین کے اندر وہ مقام نصیب فرمایا، وہ بلند مقام کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا بھئی۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بس وہ جو گزشتہ عادت تھی، اس کے مطابق کلام کیا اور فرمایا کہ ہم ایک ایسے دیہاتی کی بات نہیں سنتے جو ایڑیوں پر پیشاب کرنے والے ہیں وحسبها الميراث ولا مهر لها، اس عورت کے لیے میراث کافی ہے اور اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہو گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرما رہے ہیں بھئی اور مجتہد ہیں، خلیفہِ راشد بھئی اور بڑے صحابہ میں سے، تو یہ وہ فرما سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وحسبها الميراث ولا مهر لها، اس کے لیے میراث ہے ولا مهر لها، اور اس کے لیے مہر نہیں، کا اس کے لیے میراث کافی ہے۔ لمخالفة رأيه، بوجہ حضرت علی کی رائے کے مخالف ہونے کے، کیونکہ حضرت علی کی رائے اس مسئلے میں کیا تھی؟ مخالف تھی۔ کیوں؟ وهو، اور وہ یہ کہ أن المعقود عليه عاد إليها مسلماً، اس لیے کیونکہ وہ چیز جس پر عقد ہوئی تھی، وہ تو لوٹ آیا اس عورت کی طرف پورا کا پورا۔ بھئی، خاوند نے تو اس سے نفع اٹھایا ہی نہیں عورت سے، اگر صحبت کرتا تو مہر پکا ہو جانا تھا، اس نے صحبت تو کی نہیں، تو معقود علیہ تو عورت کے پاس پورا لوٹ آیا، فلا تستوجب بمقابلته عوضاً، تو لہٰذا اس کے مقابلے میں عوض واجب نہیں کی ہو گا بھئی، عوض واجب نہیں کیا جائے گا، كما لو طلقها، جیسے کہ وہ جیسے کہ اس نے اس کو طلاق دی ہو قبل الدخول، صحبت سے پہلے بھئی، ولم يسمِّ لها مهراً، اور حال یہ ہو کہ مقرر نہ کیا ہو اس کے لیے مہر۔ بھئی، عورت کے لیے اگر مہر مقرر کیا ہو اور صحبت سے پہلے طلاق دے دے، تو کتنا مہر دیں گے؟ نصف مہر، لیکن اگر مہر مقرر ہی نہیں کیا اور پھر صحبت سے پہلے طلاق دے دے، پھر یاد رکھیے کچھ بھی نہیں آئے گا، صرف متعۃ النکاح دینا پڑے گا، یعنی دو تین کپڑے جو ہیں، وہ کپڑوں کا جوڑا اس کو دینا پڑے گا بھئی۔ ففي عليٍّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمل هاهنا بالرأي والقياس، پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں پر عمل کیا رائے اور قیاس پر وقدمه على خبر الواحد، اور قیاس کو مقدم کیا خبرِ واحد پر، ونحن عملنا بحديث معقل بن سنان، اور ہم نے عمل کیا حضرت معقل ابن سنان کی حدیث پر، لأن الثقات من الفقهاء، اس لیے کیونکہ قابلِ اعتماد جو ثقات جو ہیں فقہاء میں سے، قابلِ اعتماد جو فقہاء میں سے ہیں كعلقمة ومسروق والحسن، جیسے کہ حضرت علقمہ، حضرت مسروق اور حضرت حسن رحمہما اللہ، لما رووا عنه، جب انہوں نے روایت کیا اس سے، صار كالمعروف بالعدالة، تو وہ بھی کس کی طرح ہو گئے؟ وہ معروف بالعدالة کی طرح ہو گئے بھئی۔ وهو مؤكد بالقياس، اور یہ قیاس کے ساتھ بھی مؤکد ہے، قیاس کے ساتھ بھی پختہ ہوتا ہے، قیاس بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ کس طرح؟ کہتے ہیں: وهو أن الموت يؤكد مهر المثل كما يؤكد المسمى، کہ موت جو ہے، وہ پکا کر دیتی ہے مہرِ مثل کو جیسے کہ موت جو ہے، وہ پکا کر دیتی ہے مقررہ مہر کو۔ موت کی وجہ سے جس طرح مقررہ مہر پختہ ہو جاتا ہے، اسی طرح مہرِ مثل بھی پختہ ہو جاتا ہے۔ بھئی، اگر مہر مقرر کیا تھا، مہر مقرر کر دیا اور ابھی صحبت نہیں کی، پہلے خاوند کا انتقال ہو گیا، تو یاد رکھیے اس صورت میں مہر مقرر ہے، عورت کو پورا مہر ملے گا۔ تو موت کی وجہ سے جیسے مقررہ مہر پکا ہو جاتا ہے اور پختہ ہو جاتا ہے، اسی طرح مہرِ مثل بھی کیا ہو جاتا ہے موت کی وجہ سے؟ پختہ ہو جائے گا، تو اس کو مہرِ مثل ملنا چاہیے بھئی، جیسے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے ہے بھئی۔ تو ایک قیاس ان کا اور ایک قیاس ان کا ہے بھئی، تو دونوں قیاس ہیں بھئی۔ وإن لم يظهر من السلف إلا الرد، اور اگر ظاہر نہ ہو سلف بزرگوں کی طرف سے إلا الرد، مگر رد ہی، كان مستنكراً، تو یہ راوی کیا ہو گا؟ مستنکر۔ مستنکر کا معنی ہے ناپسندیدہ، مراد ہے یہاں غیرِ معروف، کیا معنی کریں یہاں؟ غیرِ معروف۔ اور اگر بزرگوں کی طرف سے ظاہر نہ ہو مگر رد ہی، كان مستنكراً، تو یہ راوی کیا ہوا؟ غیرِ معروف ہوا، فلا يقبل، تو قبول نہیں کیا جائے گا اس کی روایت کو، وهذا هو القسم الرابع من المجهول، اور یہ چوتھی قسم ہے مجہول میں سے، ومثاله ما روت فاطمة بنت قيس، اور مثال اس کی وہ جو روایت کیا ہے فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے أن زوجها طلقها ثلاثاً، وہ فرماتی ہیں کہ ان کے خاوند نے ان کو تین طلاقیں دی تھیں، ولم يفرض لها رسول الله صلى الله عليه وسلم سكنى ولا نفقة، اور حضور علیہ السلام نے مقرر نہیں فرمایا ان کے لیے نہ سکنیٰ اور نہ نفقہ۔ حضور علیہ السلام نے ان کو حضرت فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان کے خاوند نے طلاق دی تھی اور کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے نہ میرے لیے سکنیٰ، یعنی رہائش کا بھی حکم نہ فرمایا اور نفقے کا حکم بھی، حالانکہ آپ جانتے ہیں بھئی، عورت کو ہمارا مذہب کیا ہے؟ عورت کو طلاق دے خاوند تو عدت کے دوران رہائش دینا یہ بھی خاوند کی ذمہ داری اور خرچہ دینا بھی خاوند کی ذمہ داری، کیونکہ وہ اگلے نکاح سے رکی ہوئی ہے اور کیوں رکی ہوئی ہے اگلے نکاح سے؟ اس خاوند کے حق کی وجہ سے کہ کہیں اسی کے پیٹ میں اس کا اس کی اولاد نہ ہو بھئی۔ تو لہٰذا سکنیٰ اور نفقہ بھی کس کے ذمے ہوتا ہے؟ خاوند کے ذمے، تو وہ فرماتی ہیں کہ میرے لیے حضور علیہ السلام نے مقرر نہیں فرمایا۔ ورده عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور رد کیا اس کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقال، اور فرمایا: لا ندع كتاب ربنا وسنة نبينا بقول امرأة لا ندري أصدقت أم كذبت أحفظت أم نسيت، کہ لا ندع، ودع يدع کے معنی ہوتے ہیں چھوڑنے کے، لا ندع كتاب ربنا، ہم نہیں چھوڑ سکتے اپنے پروردگار کی کتاب کو وسنة نبينا، اور اپنے پیغمبر کی سنت کو بقول امرأة، ایک ایسی عورت کے قول کے ایک ایسی عورت کے کہنے پر لا ندري، کہ ہم نہیں جانتے أصدقت أم كذبت، أصدقت أم كذبت کہ اس نے سچ کہا یا جھوٹ کہا، أحفظت أم نسيت، کیا اسے یاد ہے یا وہ بھول گئی۔ فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول، میں نے سنا ہے حضور صلى الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے: لها النفقة والسكنى، کہ اس عورت کے لیے کیا ہو گا؟ نفقہ بھی ہو گا اور سکنیٰ بھی ہو گا۔ وقد قال ذلك عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بمحضر من الصحابة، اور تحقیق یہ فرمایا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کی موجودگی میں، فلم ينكره أحد، تو کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا، فكان إجماعاً، تو یہ اس بات پر اجماع ہوا على أن الحديث مستنكر، کہ یہ حدیث کیا ہے؟ مستنکر ہے، غیرِ معروف ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ فرماتی ہیں کہ میرے لیے حضور علیہ السلام نے مقرر نہیں فرمایا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رد کیا۔ حضور علیہ السلام نے ان کے لیے کیوں مقرر نہیں فرمایا بھئی؟ تو حضرت سعید ابن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ فاطمہ بنتِ قیس جو تھیں، یہ جو خاوند کے جو رشتے دار تھے، ان کے بارے میں بڑی سخت زبان استعمال کرتی تھیں۔ تو اس وجہ سے حضور علیہ السلام نے ان کے لیے سکنیٰ اور نفقے کا حکم نہیں فرمایا کہ یہ وہاں رہیں گی، تو پھر اسی طرح جھگڑا وغیرہ ہو گا، تو اس سے حضور علیہ السلام نے سکنیٰ اور نفقے کا حکم نہیں دیا ان کے لیے۔ اور جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے لیے سکنیٰ اور نفقے کا حکم اس لیے نہیں دیا کیونکہ ان کا جو گھر تھا، وہ جنگل میں تھا۔ تو بالکل جنگل ہے، خوفناک جگہ، تو اب خاوند سے بھی الگ ہیں، تو لہٰذا اس وجہ سے خوف چونکہ خوف کی جگہ تھی، اس وجہ سے حضور علیہ السلام نے پھر ان کو اجازت دی کہ یہ کہاں چلی جائیں؟ اپنے والدین یا رشتے دار جس کے پاس رہنا چاہیں، تو اقارب کے پاس، تو اس وجہ سے ان کے لیے حضور علیہ السلام نے سکنیٰ اور نفقے کا حکم نہیں دیا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ولكن قيل، لیکن کہا گیا ہے: أراد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالكتاب والسنة القياس، کہ ارادہ کیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتاب اللہ اور سنت کے ذریعے قیاس کا۔ حضرت عمر نے تو یہ فرمایا کہ ہم نہیں چھوڑ سکتے اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنے پیغمبر کی سنت کو، تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ کتاب اللہ اور سنتِ نبی صلى الله عليه وسلم جو انہوں نے ذکر کیا، ان کی اس سے مراد قیاس ہے بھئی، کیونکہ قیاس بھی کس سے کیا جائے گا بھئی؟ کتاب اللہ اور سنتِ رسول سے ایک چیز کا حکم معلوم ہوتا ہے نا، اسی کو پھر آگے دوسری چیز پر بھی وہی حکم لگا دیا جاتا ہے علتِ جامعہ کی وجہ سے بھئی کہ دونوں میں ایک علت پائی جاتی ہے، ایک ہی علت۔ جیسے مثلاً بھئی کہ شراب کا کیا حکم ہے؟ حرام ہے، تو یہ حکم تو موجود ہے کتاب اللہ اور سنت میں، اور اسی پر پھر قیاس کیا گیا، کیا جائے گا کس کو؟ ہیروئن کو بھی، اس کے اندر بھی وہی علت ہے نشے کی، جو علت کس کے اندر تھی؟ شراب کے اندر، تو جب وہی علت اس کے اندر ہے، تو حکم بھی اسی کا اس پر بھی لگا دیا جائے گا، تو اس کو بھی کیا قرار دیا جائے گا؟ حرام قرار دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارادہ کیا کتاب اور سنت کے ذریعے قیاس کو، قیاس کا ارادہ کیا على الحامل المبتوتة، وہ حاملہ جو مبتوتہ ہے، بتّ کے معنی ہوتے ہیں کاٹنے کے بھئی، مراد مبتوتہ سے مراد وہ جسے تین طلاقیں دی گئی ہیں بھئی۔ حاملہِ مبتوتہ، جو حاملہ ہے، وہ عورت جو حاملہ ہے، پیٹ میں اولاد ہے اور اس کو خاوند نے کتنی طلاقیں دے دی ہیں؟ تین، یہ ہے حاملہِ مبتوتہ۔ تو یہ حاملہِ مبتوتہ جو ہے اس کی عدت کتنی ہو گی؟ حاملہ کی عدت کتنی ہوتی ہے بھئی؟ وضعِ حمل، یعنی جب تک اس کو جنم دے دے بھئی، اور اس وقت تک سکنیٰ اور نفقہ کس کے ذمے ہے؟ خاوند کے ذمے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قیاس کیا اس عورت، جس کو طلاقیں دی گئی ہیں تین طلاقیں، اس کو کس پر قیاس کیا؟ حاملہِ مبتوتہ پر وعلى المعتدة عن طلاق رجعي، اور اس عورت پر جو عدت گزار رہی ہے کس سے؟ طلاقِ رجعی سے۔ جیسے طلاقِ رجعی والی جو ہے عدت گزار رہی ہے، اس کے لیے بھی سکنیٰ اور نفقہ کس کے ذمے؟ خاوند۔ جیسے حاملہِ مبتوتہ کے اندر بھی سکنیٰ اور نفقہ کس کے ذمے؟ خاوند کے، تو لہٰذا جو تو جس کو تین طلاقیں خاوند نے دی ہیں اور حاملہ نہیں ہے، اس کے لیے بھی سکنیٰ اور نفقہ ثابت ہو گا۔ تو اس کو قیاس کیا ان دونوں پر بجامع الاحتباس، کس کی وجہ سے؟ جامعِ احتباس۔ احتباس کا معنی ہے رکنا بھئی، رکنا۔ بھئی، علت کیا ہے؟ علت قیاس کے لیے تو علتِ جامعہ چاہیے، ایک ہی علت دونوں میں پائی جانی چاہیے بھئی، تو ان کے اندر جیسے احتباس ہے، یہ آگے نکاح نہیں کر سکتیں جب تک عدت نہ گزر جائے، یہ اپنے نفس کو روکتی ہیں بھئی، یہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسی طرح وہ جس کو تین طلاقیں ملیں، جب تک اس کی بھی عدت نہیں گزرتی، وہ بھی اپنے نفس کو روکنے والی ہے، تو دونوں میں علتِ جامعہ احتباس موجود ہے، تو حکم بھی دونوں میں، ان کے لیے سکنیٰ اور نفقہ ہے، تو اس کے لیے بھی سکنیٰ اور نفقہ ہو گا۔ تو یہ بعضوں نے کہا بھئی! بعض فقہاء نے۔ وَقِيلَ، اور بعضوں نے کہا کہ نہیں بھئی! اس سے قیاس نہیں مراد، کتاب اللہ سے کتاب اللہ ہی مراد ہے اور سنت سے سنت ہی مراد ہے۔ وَقِيلَ، اور کہا گیا: بَيَّنَ سُنَّتَهُ بِنَفْسِهِ، کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث کو تو خود بیان کر دیا۔ حدیث تو خود بیان کر دی کہ میں نے حضور علیہ السلام سے سنا ہے کہ اور اس کے لیے کیا ہوگا؟ نفقہ بھی ہوگا اور سکنیٰ بھی۔ وَأَرَادَ بِالْكِتَابِ، اور ارادہ کیا کتاب کے ذریعے قَوْلَهُ تَعَالَى، اللہ تعالی کے اس قول کا: وَلَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ، اور نہ نکالو ان کو ان کے گھروں سے۔ فِي بَابِ السُّكْنَى، یہ آیت ہے کس باب میں؟ سکنیٰ کے باب میں ہے بھئی! اس کا ارادہ کیا۔ وَقَوْلَهُ تَعَالَى، اور اللہ کے یہ قول جو ہے: وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ، اور مطلقہ عورتوں کے لیے مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ، متاع سے مراد یہاں نفقہ ہے۔ نفقہ ہے۔ ان کے لیے نفقہ ہے معروف طریقے سے، اچھے طریقے سے۔ فِي بَابِ النَّفَقَةِ، یہ آیت کس باب میں ہے؟ نفقہ کے باب میں ہے۔ تو کہتے ہیں، سنت سے مراد ان کی حدیث تھی اور کتاب اللہ سے مراد کتاب اللہ ہی تھی، قیاس نہیں تھا۔ وَإِنْ لَمْ يَظْهَرْ، اور اگر ظاہر نہ ہو، هَذَا هُوَ الْقِسْمُ الْخَامِسُ مِنَ الْمَجْهُولِ، یہ پانچویں قسم ہے مجہول میں سے۔ أَيْ لَمْ يَظْهَرْ حَدِيثُهُ فِي السَّلَفِ، یعنی اگر ظاہر نہ ہو اس مجہول راوی کی حدیث سلف کے اندر، فَلَمْ يُقَابَلْ بِرَدٍّ وَلَا قَبُولٍ، تو مقابل نہیں ہوا گیا اس کا نہ رد کے ساتھ اور نہ قبول، کیونکہ اس وقت ظاہر ہی نہیں تھی ان کو، علم ہی نہ ہوا۔ تو کہتے ہیں: يَجُوزُ الْعَمَلُ بِهِ وَلَا يَجِبُ، اس پر عمل جائز ہے، واجب نہیں۔ وَلَا يَجِبُ پر لکیر ہے بھئی۔ ہاں، یہ بھی متن کا حصہ ہے: يَجُوزُ الْعَمَلُ بِهِ وَلَا يَجِبُ، اس پر عمل جائز ہے، واجب نہیں۔ تو اس پر تو یہ ایسی حدیث آئی ہے، ایک ایسے راوی کی جو سلف سے نہ اس کے بارے میں قبولیت ذکر ہے اور نہ رد ذکر ہے۔ تو اس پر عمل جائز ہے، واجب نہیں۔ لیکن شرط ہے بھئی! عمل کے جائز ہونے کی۔ شرط کیا؟ کہتے ہیں: بِشَرْطِ إِنْ لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِلْقِيَاسِ، اس شرط کے ساتھ اگر یہ مخالف نہ ہو، کس کے؟ قیاس کے مخالف نہ ہو، پھر اس پر عمل جائز ہے۔ وَفَائِدَةُ إِضَافَةِ الْحُكْمِ حِينَئِذٍ إِلَى الْحَدِيثِ دُونَ الْقِيَاسِ أَنْ لَا يَتَمَكَّنَ، اچھا بھئی! اس پر پھر عمل جائز ہوگا، بشرطیکہ قیاس کے مخالف نہ ہو، یعنی قیاس بھی اسی کی تائید کر رہا ہو، تو اس حدیث پر عمل جائز ہے۔ اور فائدہ یہ ہوگا کہ اب حکم کی نسبت قیاس کے بجائے حدیث کی طرف کی جائے گی کہ حدیث سے یہ بات ثابت ہے بھئی۔ تو حکم کیا ہو جائے گا؟ قوی ہو جائے گا۔ ایک حکم قیاس سے معلوم ہو رہا ہے اور ایک حکم کس سے معلوم ہو رہا ہے؟ حدیث سے۔ تو قوی ہو گیا۔ وَفَائِدَةُ إِضَافَةِ الْحُكْمِ حِينَئِذٍ إِلَى الْحَدِيثِ دُونَ الْقِيَاسِ، اور حکم کی اضافت اس وقت قیاس کے بجائے حدیث کی طرف ہونے کا فائدہ یہ ہے: أَنْ لَا يَتَمَكَّنَ الْخَصْمُ فِيهِ مَا يَتَمَكَّنُ فِي الْقِيَاسِ، کہ فریق مخالف قادر نہیں ہوگا اس کے اندر وہ جو قادر تھا قیاس میں بھئی۔ بھئی! قیاس کو تو فریق مخالف آرام سے، قیاس کا جواب دے کر اس کو رد کر سکتا ہے، لیکن حدیث کا جواب دینا اتنا آسان نہ ہوگا بھئی۔ تو اس حکم کی اضافت قیاس کے بجائے حدیث کی طرف ہونے کا فائدہ یہ ہوگا کہ قادر نہ ہوگا فریق مخالف اس کے اندر جیسے کہ وہ قادر تھا کس میں؟ قیاس میں۔ کیا معنیٰ بھئی قیاس میں کس چیز پر قادر تھا؟ مِنْ مَنْعِ هَذَا الْحُكْمِ، یعنی اس حکم کو کا انکار کرنے، رد کرنے سے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ اب وہ اس حکم کا اس طرح انکار نہیں کر سکتا جس طرح وہ قیاس کی صورت میں کر سکتا تھا بھئی۔ مِنْ مَنْعِ هَذَا الْحُكْمِ، یعنی اس حکم کا رد کرنا، اس کا انکار کرنا بھئی۔ چلیے، بس بھئی۔ ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
84 approved lectures · 39 of 84