Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-076

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔76 وعندنا المعلق بالشرط لا ينعقد سببا حقيقة وإن انعقد صورة. فإذا قال: إن دخلت الدار فأنت طالق، فكأنه لم يتكلم بقوله "أنت طالق" قبل دخول الدار. فحين يوجد دخول الدار، يوجد التكلم بقوله "أنت طالق". یہاں تک شوافع کا مذہب بیان ہوا تھا۔ اب احناف کا مذہب بیان ہو رہا ہے بھئی۔ میں نے بتلا دیا آپ کو کہ شوافع کے نزدیک بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی شرط جو ہوتی ہے، وہ حکم سے مانع ہوتی ہے، سبب سے مانع نہیں ہوتی۔ جبکہ احناف کے نزدیک شرط سبب ہی سے مانع ہوتی ہے۔ شرط کی وجہ سے سبب سبب بن ہی نہیں سکتا بھئی، تو گویا سبب پایا ہی نہیں گیا۔ تو جب خاوند نے اپنی بیوی سے کہا "أنت طالق إن دخلت الدار"، تو یہ والا "أنت طالق" یہ گویا اس وقت موجود ہی نہیں ہے، کیونکہ شرط اس کو سبب بننے ہی نہیں دے رہی۔ تو سبب ہی نہیں ہے اس وقت۔ اور پھر یہ جس وقت دخولِ دار پایا جائے گا، تو اس وقت شرط پائی گئی، جب شرط پائی گئی تو اب وہ سبب کو سبب بننے دے گی، تو گویا اس وقت "أنت طالق" پایا گیا، اور اس وقت جب "أنت طالق" پایا گیا تو فوراً اس کا حکم بھی آ جائے گا اور طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں دیکھئے بھئی: وعندنا المعلق بالشرط لا ينعقد سببا، اور ہمارے نزدیک معلق بالشرط جو ہوتا ہے "لا ينعقد سببا" وہ سبب ہو کر منعقد نہیں ہوتا، یعنی سبب نہیں بنتا "حقيقة" باعتبارِ حقیقت۔ حقیقۃً وہ سبب نہیں بنتا "وإن انعقد صورة" اگرچہ صورۃً وہ منعقد ہوا ہے بھئی، صورۃً سبب بن رہا ہے، حقیقۃً سبب ہے ہی نہیں اس وقت یہ۔ فإذا قال إن دخلت الدار فأنت طالق، پس جب خاوند نے یوں کہا بیوی سے: اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ فكأنه لم يتكلم بقوله أنت طالق قبل دخول الدار، تو گویا اس نے اپنے قول "أنت طالق" پر تکلم ہی نہیں کیا، یہ لفظ اس نے گویا کہ کہے ہی نہیں ہیں قبل دخول الدار، قبل اس گھر میں داخل ہونے کے۔ فحين يوجد دخول الدار يوجد التكلم بقوله أنت طالق، پس جس وقت پایا جائے گا دخولِ دار، اس وقت اس خاوند کا تکلم اپنے قول "أنت طالق" پر پایا جائے گا۔ لان الإيجاب لا يوجد إلا بركنه، اس لیے کیونکہ ایجاب یعنی اثبات بھئی، اثبات بھئی "لا يوجد إلا بركنه" وہ نہیں پایا جاتا مگر اپنے رکن کے ساتھ۔ بھئی دیکھئے، ایجاب اثبات کسی چیز کا کرنا ہے، ایجاب کا کیا معنیٰ کیا میں نے؟ اثبات۔ اس لیے کیونکہ ایجاب یعنی جب کسی چیز کا اثبات کرنا ہو، تو اس کا اثبات اپنے رکن سے ہوتا ہے۔ طلاق واقع کرنی ہو، تو اس کا رکن کیا ہے؟ کیا کہے؟ "أنت طالق"، یہ رکن ہے، یہ ہوگی، یہ پایا جائے گا، یہ کلام تو پھر طلاق کا بھی اثبات ہوگا، طلاق بھی ثابت ہوگی۔ آزادی کو ثابت کرنا ہے، تو "أنت حر" کہے گا، یہ "أنت حر" رکن ہے، یہ رکن پایا جائے گا، تو اثباتِ حریت بھی ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ معنیٰ ہے "لان الإيجاب لا يوجد إلا بركنه"، ایجاب یعنی اثبات نہیں پایا جاتا مگر اپنے رکن کے ساتھ بھئی۔ رکن سے یہاں کیا مراد؟ مسئلہ کس کا چل رہا ہے؟ مسئلہ یہ اگر طلاق کا ہو، تو اس میں رکن کیا ہوگا؟ "أنت طالق"۔ اور اگر عتاق ہو، تو اس میں رکن کیا ہوگا؟ "أنت حر" ہوگا بھئی۔ محشی اور تقریر کرتے ہیں اس، جی، وہ درست نہیں ہے، آگے شارح خود بتلا رہے ہیں، آگے شرح میں دیکھیے، آئے گا بھئی۔ ولا يثبت إلا في محله، اور حکم ثابت نہیں، اور رکن "ولا يثبت إلا في محله" رکن ثابت نہیں ہوتا مگر اپنے محل میں۔ بھئی جس چیز کا اثبات کرنا ہے، وہ اپنے رکن کے بغیر نہیں ہوگی، رکن آئے گا تو اس کا اثبات ہو سکے گا، رکن نہیں تو اثبات بھی نہیں۔ "أنت طالق" نہیں، تو طلاق بھی نہیں ہوگی بھئی۔ "أنت حر" نہیں، تو حریت کا ثبوت بھی نہیں ہوگا۔ ہاں، اور یہ جو رکن ہے، یہ ثابت نہیں ہوتا مگر اپنے محل میں، یعنی "أنت طالق" اپنے محل یعنی ملکِ نکاح میں ہوگی، تو اس کے ذریعے طلاق کا اثبات ہو سکے گا۔ منکوحہ کو کہے گا، منکوحہ محل ہے اس کا، کیونکہ اس میں ملکِ نکاح ہے بھئی، تو وہاں پر "أنت طالق" کا رکن پایا جائے گا، تو یہ کیا کرے گا؟ طلاق کو ثابت کر دے گا۔ غلام کسی کا مملوک ہے، تو یہ اس کا محل ہے، یہاں پر "أنت حر" کہے گا، اپنے محل کے اندر دیکھو، اپنی ملک کے اندر، تو پھر کیا ہوگا؟ اس سے حریت ثابت ہوگی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہی بات کر رہے ہیں: "لان الإيجاب لا يوجد إلا بركنه"، ایجاب نہیں پایا جاتا، یعنی اثبات نہیں پایا جاتا مگر اپنے رکن کے ساتھ "ولا يثبت إلا في محله"، اور رکن وہ ثابت نہیں ہوتا مگر اپنے محل میں، یعنی ملکیت میں۔ وهاهنا وإن وجد الركن وهو أنت طالق، اور یہاں پر اگرچہ رکن پایا گیا، اور وہ "أنت طالق" ہے، رکن کیا ہے؟ "أنت طالق"۔ محشی اور چیز بتلاتے ہیں بھئی، میں نے اسی لیے کہا اس کو چھوڑیں، یہ تقریر آسان، بہتر ہے بھئی۔ لكن لم يوجد المحل، تو یہاں رکن یعنی "أنت طالق" تو پایا گیا، لیکن محل نہیں پایا گیا۔ کیوں؟ احناف کے نزدیک گویا محل ہی نہیں ہے اس وقت بھئی۔ لان الشرط حال بينه وبين المحل، اس لیے کیونکہ شرط حائل ہو گئی بینہ یعنی بین الرکن بھئی، کس کے درمیان؟ رکن کے درمیان "وبين المحل" اور محل کے درمیان بھئی۔ فيبقى غير مضاف إليه، بدون الاتصال، متن صرف دیکھیں۔ فيبقى غير مضاف إليه بدون الاتصال بالمحل لا ينعقد سببا، کیونکہ شرط حائل ہو گئی رکن کے درمیان اور محل کے درمیان، فریبقی یعنی فریبقی الرکن، تو رکن باقی رہ گیا "غير مضاف إليه" اس حال میں کہ وہ محل کی طرف منسوب نہیں ہے، یعنی اس سے ملا نہیں ہوا، غیر مضاف کا کیا معنیٰ؟ آگے شارح بتلا رہے ہیں: أي غير متصل بالمحل۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ اپنے محل کی طرف مضاف نہیں، یعنی اس کے ساتھ ملا نہیں ہوا بھئی، کیوں نہیں ملا ہوا؟ رکن اب اپنے محل، یعنی ملکِ نکاح کے ساتھ نہیں ملا، کیوں نہیں ملا؟ کیونکہ مانع کیا آیا بیچ میں؟ شرط مانع بن گئی۔ اس نے "أنت طالق" کو اپنے محل یعنی اس کی بیوی کے ساتھ متصل ہونے ہی نہیں دیا۔ وبدون الاتصال بالمحل لا ينعقد سببا، اور محل کے ساتھ اتصال کے بغیر "لا ينعقد سببا" یہ سبب بن ہی نہیں سکتا۔ "أنت طالق" کب سبب بنتا ہے طلاق کا؟ جب اپنی منکوحہ سے کہا جائے، اور یہاں تو وہ شرط اس کو منکوحہ سے ملنے ہی نہیں دے رہا، لہذا یہ سبب بھی نہیں بنے گا بھئی۔ تو جب سبب نہیں بن رہا، گویا اس وقت یہ پایا ہی نہیں گیا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دوبارہ دیکھیے، متن میں انہوں نے کہا: "فيبقى غير مضاف إليه"، پس باقی رہے گا رکن اس حال میں کہ وہ مضاف نہیں ہے۔ آگے اشکال ہوتا تھا کہ پیچھے آپ نے غیر مضاف کہا، منسوب نہیں ہوگا، اور آگے آپ نے کہا "بدون الاتصال"، اتصال کے بغیر۔ پیچھے آپ نے مضاف ہونے کی نفی کی ہے، اور آگے اتصال کی نفی بتلا رہے ہیں۔ تو شارح بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ مضاف وہی اتصال کے معنیٰ میں ہے بھئی۔ دونوں کیا ہیں؟ ایک ہی چیز ہیں: "غير مضاف إليه أي غير متصل بالمحل"، دیکھیے اسی لیے انہوں نے متصل کے ساتھ مضاف کا ترجمہ کیا۔ کہ وہ ملا نہ ہوا ہو اپنے محل کے ساتھ "وبدون الاتصال بالمحل لا ينعقد سببا"، اور محل کے ساتھ اتصال کے بغیر تو "أنت طالق" جو ہے وہ سبب بن کر منعقد ہی نہیں ہوتا۔ فإذا كان كذلك، پس جب یہ معاملہ اس طرح ہے، بات اس طرح ہے "انعكس حال التفريعات"، تو عکس ہو جائے گا تمام تفریعات کا حال، جو ابھی تک گزریں، ان تمام تفریعات کا حال کیا ہو جائے گا؟ عکس ہو جائے گا۔ یعنی جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا، اس کے برعکس ہو جائے گا۔ فيصح تعليق الطلاق والعتاق بالملك، پس صحیح ہو جائے گی طلاق کی تعلیق اور عتاق کی تعلیق ملکیت کے ساتھ "فيما إذا قال" اس صورت کے اندر جب کسی شخص نے یہ کہا تھا، مثلاً اجنبیہ سے: "إن نكحتك فأنت طالق"، اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے۔ "أو إن ملكتك فأنت حر"، یا یہ کہا تھا کسی غیر کے غلام کو: اگر میں تیرا مالک ہوا تو تو آزاد ہے۔ لأنه لم يوجد قوله أنت طالق وأنت حر، اس لیے کیونکہ اس شخص کا قول "أنت طالق" اور "أنت حر" پایا ہی نہیں گیا۔ تعلیق کر رہا ہے نہ وہ تو، تو تعلیق کے وقت گویا اس کا یہ قول پایا ہی نہیں گیا۔ اگر اس وقت پایا جاتا تو کیا ہوتا؟ لغو چلا جاتا، لازمی بات ہے کیونکہ محل ہی نہیں تھا، لیکن یہ تو اس وقت گویا پایا ہی نہیں گیا "حتى يحتاج إلى المحل"، یہاں تک کہ پھر یہ محتاج ہوتا محل کا، اگر پایا جاتا تو پھر یہ محل کا محتاج ہوتا، لیکن پایا ہی نہیں گیا، تو محل کا بھی محتاج نہیں ہے۔ فإذا وجد النكاح والملك فحينئذ يكون محلا لورود قوله أنت طالق وأنت حر، پس جس وقت نکاح اور ملکیت پائی جائے گی، تو اس وقت جو ہے محل ہوگا اس کے آنے کا، کس کے؟ اس شخص کے قول "أنت طالق" اور "أنت حر" کے وارد ہونے کا یعنی نازل ہونے کا محل ہوگا اس وقت "فلا بأس به لوقوعه في محله"، تو پھر کوئی حرج نہیں ہے اس کے واقع ہونے میں اپنے، اپنے محل میں واقع ہونے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ اب تو محل موجود ہے، وہ واقع ہو سکتے ہیں۔ وبطل التكفير بالمال قبل الحنث، اور اسی طرح کفارہ بالمال دینا یہ بھی باطل ہو جائے گا حانث ہونے سے پہلے۔ لان اليمين لا ينعقد إلا للبر، بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ کفارہ، کفارے کا سبب وہ یمین ہے، ہم کہتے ہیں: نہیں، یمین سبب ہی نہیں ہے، یمین تو پوری کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ قسم کھانے کا کیا مقصد ہوتا ہے کہ انسان اس کو کیا کرے گا؟ پورا کرے گا، تو اس کو کفارے کا سبب نہیں بنایا جا سکتا، کفارے کا سبب کس کو بنانا پڑے گا؟ حانث ہونے کو بھئی۔ لان اليمين لا ينعقد إلا للبر، اس لیے کیونکہ قسم منعقد نہیں ہوتی مگر پوری کرنے کے لیے "فكيف يكون سببا للحنث"، تو یہ کیسے سبب بنے گی حانث ہونے کے لیے؟ فلا يصح تقديمه على سببه، لہذا صحیح نہیں ہے مقدم کرنا سبب پر، یعنی کفارہ بالمال کو سبب پر، یعنی حانث ہونے پر مقدم کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ حانث ہونا سبب ہے۔ وصح أن عدم الحكم عندنا ليس لعدم الشرط بل لعدم السبب، اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہمارے نزدیک جو عدمِ حکم ہوتا ہے، وہ عدمِ شرط کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ "بل لعدم السبب" کس وجہ سے ہوتا ہے؟ عدمِ سبب، کہ سبب ہی موجود نہیں ہے بھئی، جب "أنت طالق" یہ ہے سبب، یہ موجود ہی نہیں ہے، تو طلاق کہاں سے واقع ہو بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ سبب کے نہ ہونے کی وجہ سے حکم نہیں ہوتا۔ فلا يكون عدما شرعيا، لہذا یہ عدمِ شرعی نہیں ہے "بل عدما أصليا"، بلکہ یہ عدمِ اصلی ہے۔ بھئی عدمِ شرعی ہوتا، تو پھر تو وہ شرعی حکم تھا، اور شرعی حکم میں کیا کیا جاتا ہے؟ حکم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ متعدی، اور ہمارے نزدیک یہ عدمِ شرعی ہے ہی نہیں، یہ شرعی حکم ہے ہی نہیں، بلکہ یہ عدمِ اصلی ہے، سرے سے یہ چیز ہی موجود نہیں، جب ایک چیز کا وجود ہی نہیں ہے، تو اس کو متعدی کرنے کا کیا معنیٰ بھئی؟ تو یہ معنیٰ ہے: "فلا يكون عدما شرعيا بل عدما أصليا لا يعدى إلى غيره"، متعدی نہیں کیا جائے گا اس کو اس کے غیر کی طرف، کیونکہ وجود ہی نہیں ہے، تو متعدی کیا کیا جائے اس حکم کو غیر کی طرف؟ وهذا هو ثمرة الخلاف بيننا وبينه، اور یہ ہے ثمرۂ اختلاف ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان، یہ ہے ثمرۂ اختلاف ہمارے اور ان کے درمیان بھئی۔ وإلا فلا يخفى، ورنہ یہ بات مخفی نہیں ہے "أن قبل دخول الدار في قوله أنت طالق إن دخلت الدار"، کہ اگر گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی خاوند کے اس قول کے اندر "أنت طالق إن دخلت الدار"، تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی "لو طلق بتطليقة أخرى يقع بالاتفاق بيننا وبينه"، اگر اس نے اس کو دوسری طلاق دے دی، "يقع بالاتفاق" تو پھر بالاتفاق واقع ہو جائے گی ہمارے اور ان کے درمیان، بالاتفاق یہ طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ کیا ہوگی یہ طلاق؟ واقع ہو جائے گی بھئی۔ بھئی دیکھیے، خاوند نے اپنی بیوی سے کہا ہے "أنت طالق إن دخلت الدار"، تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں گئی۔ ابھی وہ اس گھر میں گئی نہیں، اس سے پہلے خاوند پھر بغیر شرط کے کہہ دیتا ہے "أنت طالق"، تجھے کیا ہے؟ طلاق، تو طلاق کیا ہو جائے گی اس پر؟ واقع ہو جائے گی بھئی۔ فتقرر، پس یہ بات ثابت ہو گئی "أن الشرط في التعليقات يدخل في السبب والحكم جميعا"، کہ شرط جو ہے تعلیقات کے اندر، بھئی دیکھئے! یاد رکھیے، ایک لفظ آ رہا ہے تعلیقات، ایک اور لفظ آگے آئے گا اثباتات بھئی، تعلیقات وہ چیزیں جو تعلیق کو قبول کر لیتی ہیں، وہ چیزیں جو تعلیق کو قبول کر لیتی ہیں۔ اور بعض چیزیں تعلیق کو قبول نہیں کرتی۔ بھئی، طلاق دینا، طلاق، اسی طرح آزاد کرنا، یہ تعلیق کو قبول کر لیتے ہیں۔ طلاق کو معلق کیا دخولِ دار پر، طلاق معلق ہو جاتی ہے یا نہیں ہوتی بھئی؟ معلق ہو جاتی ہے۔ اسی طرح آزادی کو کسی چیز پر معلق کیا جائے، تو آزادی بھی معلق ہو جائے گی۔ اور کچھ چیزیں ہیں جو اثبات، اچھا، یہ کیوں ان میں تعلیق، یہ تعلیق کو کیوں قبول کر لیتی ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ اسقاطات کے قبیل سے ہیں۔ کس قبیل سے؟ اسقاط، ان میں ساقط کرنا ہوتا ہے، ساقط کرنا، اسی لیے تعلیق کو قبول کر لیتی ہیں۔ بھئی دیکھیے، جب "أنت طالق" کہا جائے، تو کوئی خاوند کا بیوی پر کوئی حق ثابت ہوتا ہے یا خاوند کا حق بیوی پر سے ساقط ہو جاتا ہے؟ خاوند کا حق "أنت طالق" کہنے سے بیوی پر حق ثابت نہیں ہوتا، بلکہ ساقط ہو جاتا ہے، تو یہ اسقاط کی قبیل سے ہے۔ اسی طرح غلام اپنے غلام کو اگر "أنت حر" کہا جائے، تو آقا کا حکم غلام پر کوئی حق جو ہے آقا کا، وہ ثابت ہوتا ہے یا اس پر سے ساقط ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے اس پر سے آقا کا حق بھئی، تو لہذا معلوم ہوا یہ طلاق اور عتاق اسقاط کی قبیل سے ہیں، اور اسقاط کو کسی چیز سے معلق کرنا صحیح ہے، اسقاط کو کسی چیز سے معلق کرنا صحیح۔ جبکہ بیع وغیرہ یہ اثبات کی قبیل سے ہیں، اثبات کی، دیکھیے آپ جب بیع کرتے ہیں، تو مبیع کے مالک بن جاتے ہیں مشتری، آپ اگر مشتری ہیں، تو وہاں مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، تو ملکیت کا اثبات ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ تو معلوم ہوا بیع کس قبیل سے ہے؟ اثبات کی قبیل سے ہے، اور اثبات کی قبیل سے جو چیز ہو، اس کو معلق کرنا صحیح نہیں۔ کیونکہ اگر معلق کریں گے، تو یہ تو جوئے کی طرح ہو جائے گا بھئی، کہ اگر یہ کام ہوا تو میرے اور تمہارے درمیان بیع ہے، اگر نہ ہوا تو بیع، یہ تو جوئے کی طرح ہو گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا اسقاطات جو ہیں، وہ تعلیق کو قبول کر لیتے ہیں، اور جو اثباتات ہیں، وہ تعلیق کو قبول نہیں کرتے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فتقرر أن الشرط في التعليقات يدخل في السبب والحكم جميعا، پس یہ بات ثابت ہو گئی کہ شرط جو ہے تعلیقات کے اندر، وہ داخل ہوتی ہے سبب اور حکم دونوں پر، ہمارے نزدیک اگر کسی طلاق کو معلق کیا جائے کسی شرط کے ساتھ، تو سبب اور حکم دونوں سے وہ مانع بن جائے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک شرط صرف کس چیز سے مانع؟ حکما سے ہمارے نزدیک حکم اور سبب دونوں سے مانع بن جائے گی بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ شرط جب داخل ہو جائے تعلیقات میں "يدخل في السببي والحكم جميعا" تو وہ داخل ہوگی سبب اور حکم دونوں میں، یعنی دونوں کو کیا کر دے گی؟ معلق کر دے گی۔ "لأنها من قبیل الإسقاطات" اس لیے کیونکہ یہ اسقاطات کے قبیل سے ہیں، "فتقبل التعليق ب كماله" تو یہ تعلیق کو کامل طور پر قبول کر لیں گے۔ تعلیق کو کیا کریں گے؟ کامل تعلیق کیا ہے؟ کہ صرف حکم کو معلق ہونا چاہیے يا حکم اور سبب دونوں کو معلق ہونا چاہیے؟ کامل تعلیق تو یہی ہے کہ حکم اور سبب دونوں کو معلق ہونا چاہیے۔ اور یہ چیزیں چونکہ اسقاطات کے قبیل سے ہیں، تو یہ کامل تعلیق کو قبول کر لیں گی، حکم بھی معلق ہو جائے گا اور سبب بھی۔ یہ معنی ہے، کہ یہ اسقاطات کے قبیل سے ہیں، "فتقبل التعليق ب كماله" تو یہ تعلیق کو پورے طور پر قبول کر لیں گے۔ "بخلاف البيع" برخلاف بیع کے، "فإنه من قبیل الإثباتات" اس لیے کیونکہ وہ اثباتات کے قبیل سے ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ملکیت ثابت ہوتی ہے، "ولا يقبل التعليق" اور یہ تعلیق کو قبول نہیں کرتی، "إذ به يصير قمارا" کیونکہ اس کے ذریعے پھر یہ جووا بن جائے گی بھئی، کیا بن جائے گی؟ جووا بن جائے گی۔ "فإذا دخل عليه خيار الشرط" جی یہاں پر سے، یہاں ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ سوال یہ، کہ بیع کے اندر خیارِ شرط تو آتا ہے، ہم نے پڑھا ہے، اور خیارِ شرط اس کی وجہ، اس کی وجہ سے بھی بیع کو تین دن تک کیا کر سکتا ہے؟ زیادہ سے زیادہ تین دن تک یہ خیار ہوتا ہے اور اس کے اندر بیع کو کیا کیا جا سکتا ہے؟ فسخ کیا جا سکتا ہے، تو گویا یہاں بھی بیع معلق ہوئی۔ کیا ہوئی؟ تو جواب دیں گے اس کا بھئی، کہ بھئی، قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ بیع اثباتات کے قبیل سے ہے، یہ تعلیق کو سرے سے قبول اس کو کرنا ہی نہیں چاہیے، بیع کو معلق ہونا ہی نہیں چاہیے، لیکن چونکہ نصوص میں اس کا ذکر ہے، اس کی حاجت ہے، ضرورت پیش آتی ہے۔ آپ ایک چیز خریدنے گئے بھئی اور وہ چیز مل رہی ہے اس وقت، لیکن آپ کو خطرہ ہے کہ پتہ نہیں یہ اگر میں خریدتا ہوں تو نفع کا سودا ہوگا یا گھاٹے کا سودا ہوگا، مجھے تو زیادہ اس چیز کا پتہ ہی نہیں، تو شریعت نے پھر خیارِ شرط کی اجازت دی کہ آپ خیارِ شرط کے ساتھ چیز خرید لیں اور کچھ دیر کا، جتنی دیر تین دن کے اندر اندر، جتنا ایک دن، دو دن، تین دن کا خیار رکھنا چاہتے ہیں خیار رکھ لیں اور اس خیار پر وہ چیز خرید لیں، پھر آ کر اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں تو اگر وہ کہیں آپ نے ٹھیک سودا کیا ہے تو اس بیع کی اجازت دے دیں اور اگر اگر سودا درست نہیں ہے تو پھر آپ کو فسخ کا حق آپ نے رکھا ہوا تھا، اس کو استعمال کریں اور بیع کو کیا کر دیں؟ فسخ کر دیں۔ تو اس کی، تو لہٰذا بیع تو اثباتات کے قبیل سے ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس کے اندر تعلیق سرے سے ہونی ہی نہیں چاہیے، لیکن چونکہ نصوص میں خیارِ شرط آیا ہے اور اس کی حاجت اور ضرورت بھی ہے، اس لیے یہاں پر تعلیق جائز ہوگی، یہاں پر تعلیق جائز ہوگی۔ لیکن یہاں پر بھی پھر تعلیق ہم کم سے کم ثابت کریں گے اور کم تعلیق کس کے اندر ہے؟ صرف حکم کو معلق کیا جائے یا حکم اور سبب دونوں کو معلق کیا جائے؟ کم، کم درجے کی تعلیق، صرف حکم کو معلق کیا جائے۔ لہٰذا ہم وہاں پر کہیں گے کہ بیع تو کہ بیع کے ارکان تو موجود ہیں، سبب تو موجود ہے، صرف حکم کیا ہے؟ وہ حکم معلق ہوا اس خیارِ شرط کے ساتھ بھئی۔ تو وہاں کم درجے کی تعلیق ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں ضرورت تھی اور ضرورت صرف حکم کو معلق کر دیں تو ضرورت پوری ہو جاتی ہے، لہٰذا صرف حکم معلق ہوگا، بیع خود معلق نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: "فإذا دخل عليه خيار الشرط" پس جب داخل ہو جائے بیع پر خیارِ شرط، "يكون مانعا للحكم فقط" یہ صرف حکم سے مانع ہوگا خیارِ شرط، "دون السبب" نہ کہ سبب سے، "ليقل أثر الشرط حد الإمكان" تاکہ کم ہو جائے شرط کا اثر بقدرِ امکان۔ شرط کا اثر کیا ہوتا کے؟ کم سے کم۔ بھئی شرط تو یہاں ہونی، یہاں تو تعلیق ہونی ہی نہیں چاہیے تھی، لیکن ضرورت کی وجہ سے آ رہی ہے تعلیق، تو ضرورت کی وجہ سے پھر کم سے کم شرط کا اثر رکھنا چاہیے اور شرط کا اثر اگر حکم اور سبب دونوں مانع بنے شرط دونوں سے، پھر تو یہ شرط نے پورا اثر دکھایا اور اگر صرف حکم سے مانع بنے تو پھر شرط کا اثر کم۔ تو ہم نے دونوں جانبوں کی رعایت کی۔ بیع کی جانب کی بھی رعایت کر دی اور شرط کی جانب کی بھی رعایت کر دی۔ بیع کی جانب کی یہ رعایت کی کہ سبب کے اندر شرط مانع نہیں، اور شرط کی رعایت کی کہ حکم کے اندر وہ کیا بن گئی؟ مانع بن گئی بھئی۔ یہ معنی ہے: "ليقل أثر الشرط حد الإمكان" تاکہ کم ہو جائے شرط کا اثر بقدرِ امکان، یعنی جتنا ممکن ہو سکے۔ "وقد يقرر الاختلاف بيننا وبينهم بعنوان آخر" اور تحقیق ثابت کیا جاتا ہے اس اختلاف کو جو ہمارے درمیان ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان ہے "بعنوان آخر" دوسرے عنوان سے۔ بھئی یہ تو ایک طریقے سے اختلاف بیان ہوا۔ ایک طریقے سے، کہ ان کے نزدیک، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک شرط صرف حکم سے مانع ہوتی ہے، سبب سے نہیں۔ ہمارے نزدیک شرط حکم اور سبب دونوں سے مانع ہوتی ہے۔ بعض علماء نے اسی اختلاف کو دوسرے انداز میں ذکر کیا بھئی، دوسرے عنوان سے، یعنی دوسرے طریقے سے انہوں نے دوسرے انداز میں اس کو ذکر کیا۔ "وهو" وہ، اور وہ یہ، "أن الشافعي رحمه الله تعالى يقول:" کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن الكلام هو الجزاء والشرط قيد له" کہ کلام اصل میں وہ جزا ہے اور شرط اس کے لیے قید ہے۔ بھئی دیکھیے، یہ اہل عربیت کا مذہب ہے بھئی، اہل لغت کا، یعنی عرب والوں کا، کہ کلام، یہ جو شرط اور جزا ہوتے ہیں، شرط اور جزا میں سے یاد رکھیے اصل جو ہے، جزا ہوا کرتی ہے، نحوی ترکیب میں بھی یاد رکھنا، نحوی ترکیب بھی اسی طرح ہے۔ اصل جزا ہوا کرتی ہے اور شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے، شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ بھئی، اگلے سال آپ انشاء اللہ جب روح المعانی پڑھیں گے، وہاں علامہ تفتازانی آپ کو بتلائیں گے بھئی، کہ جزا اصل ہے اور شرط اس کے لیے قید بھئی۔ بھئی یاد رکھیے، یہ مفعول بہ، یہ حال، یہ صفت وغیرہ، یہ ساری قیودات ہوتی ہیں، یہ کیا ہوتی ہیں؟ یہ ساری قیدیں ہوا کرتی ہیں بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں "ضربت" میں نے پٹائی کی، اس کے ساتھ اگر میں مفعول بہ لگا دوں "ضربت زيدا" اب کیا معنی ہوا؟ میں نے زید کی پٹائی کی، معلوم ہوا میری ضرب زید میں ہے، زید مقید ہو گئی کس کے ساتھ؟ زید کے ساتھ، کہ یہ ضرب کس پر واقع ہوئی ہے؟ زید پر واقع ہوئی ہے۔ اور اسی طرح بھئی حال اگر آ جائے، "ضربت زيدا قائما" میں نے پٹائی کی زید کی کہ اس حال میں کہ میں کھڑا تھا، تو دیکھو حال بھی قید ہے، معلوم ہوا یہ جو ضرب واقع ہوئی ہے، عام حالت ہر حالت میں نہیں ہوئی، بلکہ کون سی حالت میں ہے؟ قیام کی حالت میں ہے۔ اسی طرح اگر میں اس کے ساتھ ظرف ذکر کر دوں "ضربت زيدا قائما أمس" وقت ذکر کر دیا، یہ بھی قید ہے، معلوم ہوا جو میں نے ضرب پٹائی کی ہے، وہ زید کی کی ہے اور کھڑے ہو کر کی ہے اور ویسے ہر وقت کسی اور وقت میں نہیں، بلکہ کس وقت میں کی ہے؟ گزشتہ کل میں، میں نے اس کی پٹائی کی ہے۔ تو یہ جو مفعول بہ ہیں، صفت ہیں، حال وغیرہ، یہ سب قیدیں ہوا کرتی ہیں بھئی، قیدیں۔ اسی طرح کہتے ہیں، جزا جو ہے وہ اصل کلام ہے اور یہ شرط اس کے لیے قید ہے۔ چنانچہ بھئی، شرط اور جزا مل کر جملہ شرطیہ بنتے ہیں، کیا بنتے ہیں؟ ایک اور بات بھی آپ کو بتلا دوں بھئی، ہمارے ہاں ایک عام رائج ہے، کہتے ہیں جملہ شرطیہ جزائیہ ہوا، جملہ شرطیہ، نہیں بھئی، صرف اتنا کہو: جملہ شرطیہ ہوا بھئی، جملہ چنانچہ آپ کو کسی کتاب کے اندر بڑی پرانی بڑی کتابوں کے اندر کہیں یہ لفظ نہیں ملے گا "جملہ شرطیہ جزائیہ ہوا"، وہ جب بھی ذکر کریں گے، کیا کہیں گے؟ "جملہ شرطیہ ہوا"۔ اب یہ جملہ شرطیہ یاد رکھیے انشا بھی ہو سکتا ہے اور خبر بھی، جملہ دو قسم پر ہے نا، یا جملہ انشائیہ ہوگا یا جملہ خبریہ۔ اب یہ جملہ شرطیہ بھی اسی طرح ہے، یہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے، خبریہ بھی۔ اب اس کا پتہ کیسے چلے گا کہ یہ جملہ شرطیہ خبریہ ہے یا جزائیہ ہے؟ تو یاد رکھو، علماء بتلاتے ہیں کہ جزا پہ نظر کرو، اگر جزا جملہ خبریہ ہے، تو اس جملہ شرطیہ کو خبریہ کہیں گے، اور اگر جزا جملہ انشائیہ ہے، تو اس جملہ شرطیہ کو انشائیہ کہیں گے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "إن جاءني زيد فعمرو أخي" "إن جاءني زيد فعمرو أخي" مثلاً کوئی شخص صورت بنا لیں، اگر زید میرے پاس آیا تو عمر میرا بھئی ہے بھئی، یعنی بھائیوں کی طرح ہے، یوں سمجھنا، "إن جاءني زيد فعمرو أخي" اب بتائیے جزا کیا ہے؟ "فعمرو أخي" عمر میرا بھئی ہے، یہ جزا، اور شرط اس کے لیے قید، اور پھر یہ جملہ شرطیہ کون سا ہوگا؟ خبریہ، کیونکہ جزا "عمرو أخي" یہ کیا ہے؟ خبر ہے، جملہ خبریہ، تو اس جملہ شرطیہ کو پھر کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ خبریہ۔ اور اگر یہ جزا جملہ انشائیہ ہوئی، مثلاً میں کہتا ہوں: "إن جاءني زيد فأکرمه" اگر میرے پاس زید آئے "فأکرمه" تو آپ اس کا اکرام کرنا۔ اب یہ دیکھیے "أکرم" امر آیا بھئی، اور امر، جزا امر ہے، تو یہ کون سا جملہ بنے گا؟ جملہ انشائیہ، امر انشا کی قسم ہے۔ تو لہٰذا اس جملہ شرطیہ کو کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ انشائیہ بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا جزا اصل ہے اور شرط اس کے لیے قید ہے۔ تو لہٰذا جب شرط اس کے لیے قید ہے تو یہ حصر کا فائدہ دے گی، کس چیز کا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بیان ہو رہا ہے، ان کا وہی مذہب ہے جو اہل عربیت کا ہے، اور اہل عربیت کے نزدیک جزا اصل ہے اور شرط اس کے لیے قید ہے۔ میں نے کہا بھئی "أكلت خبزا باردا" کیا معنی؟ میں نے ٹھنڈی روٹی کھائی۔ دیکھو یہ "باردا" صفت آئی "خبزا" کی، اس نے بتلا دیا، روٹی کو بند کر دیا کس صفت کے اندر؟ ٹھنڈا ہونے میں، معلوم ہوا میں نے ٹھنڈی روٹی کھائی ہے، گرم کی نفی ہو گئی، میں نے گرم نہیں کھائی۔ یہ صفت، یہ قید ہوتی ہے، یہ حصر کا فائدہ دیتی ہے، اس کو دوسری میں بند کر دیتی ہے۔ جیسے گزشتہ مثال میں میں نے اس پچھلی مثال میں میں نے کہا تھا "ضربت زيدا" "ضربت زيدا" آگے کیا تھا؟ بھئی کوئی قید، قیدیں ذکر کر رہا تھا۔ ہاں، "ضربت زيدا قائما" میں نے زید کی پٹائی کی قیام کی حالت میں، معلوم ہوا میری یہ ضرب قیام کی حالت میں ہے، غیرِ قیام کی حالت میں نہیں، دیکھو حصر کا فائدہ دیا، غیرِ قیام والی ضرب یہ نہیں ہے بھئی، کون سی حالت میں ہے؟ اسی طرح میں نے کہا "ضربت زيدا قائما أمس" گزشتہ کل میں میری یہ ضرب بند ہو گئی، معلوم ہوا میری یہ ضرب کس زمانے میں واقع ہوئی ہے؟ گزشتہ کل، باقی زمانے میں کسی میں یہ والی ضرب واقع، تو دیکھو یہ حصر، تو یہ قید جو ہوتی ہے، یہ حصر کا فائدہ دیتی ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں پر جزا اصل ہے، شرط اس کے لیے قید ہے، تو گویا اور یہ قید ہے جب، تو قید تو حصر کا فائدہ دیتی ہے، معلوم ہوا کہ شرط ہوگی تو یہ حکم ہے، شرط نہیں تو حکم بھی نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس طرح وہ استدلال کرتے ہیں۔ دیکھیے بھئی: "وهو" اور وہ یہ "أن الشافعي رحمه الله يقول:" امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "إن الكلام هو الجزاء والشرط قيد له" کہ کلام جو ہے وہ جزا ہے "والشرط قيد له" اور شرط اس کے لیے قید ہے، یہ بھی یعنی ظرف، حال وغیرہ کی طرح ہے، جیسے وہ قیدیں ہوتی ہیں۔ "فكأنه قال" گویا کہ اس کہنے والے نے، خاوند نے یوں کہا: "أنت طالق في وقت دخولك الدار" کہا تو کیا تھا؟ "إن دخلت الدار" لیکن یہ "إن دخلت الدار" کیا ہے؟ شرط، اور شرط بھی کس کی طرح ہوتی ہے؟ ظرف اور حال کی طرح ہوتی ہے، تو یہ گویا اس نے یوں کہا: "أنت طالق في وقت دخولك الدار" تجھے طلاق ہے اس گھر میں داخل ہوتے وقت، تو لہٰذا اسی وقت طلاق واقع ہوگی بھئی۔ "فهذا القيد يفيد حصر الطلاق فيه" تو یہ قید جو ہے فائدہ دے گی طلاق کا اس کے اندر بند کرنے کا، طلاق اسی کے اندر بند ہوگی بھئی۔ یعنی گھر میں دخول ہوگا تو طلاق ہوگی، شرط پائی جائے گی تو حکم بھی ہوگا، شرط نہیں تو حکم بھی نہیں بھئی، دیکھا؟ انتفائے شرط سے انتفائے حکم ہو رہا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ بھی یہی مفہومِ مخالف نکالتے ہیں، کہ شرط ہے تو حکم ہے، شرط نہیں تو حکم بھی نہیں۔ اس طرح وہ اپنا مذہب ثابت کر رہے ہیں۔ اور کہتے ہیں: "وهو مذهب أهل العربية" اور یہ مذہب ہے اہل عربیت کا، "وأبو حنيفة رحمه الله يقول" اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن الشرط والجزاء كلاهما بمنزلة كلام واحد" کہ شرط اور جزا دونوں ایک کلام کے درجے میں ہیں۔ یہ دونوں کس کے درجے میں ہیں؟ بھئی دیکھیے، امام صاحب فرماتے ہیں، یہ منطقہ کا مذہب ہے بھئی، اہل معقول کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے تو فرمایا تھا کہ جزا کلام ہے اور شرط اس کے لیے قید ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، جزا اصل کلام نہیں، شرط اور جزا دونوں سے مل کر کلام بن رہا ہے، یعنی شرط پر جزا کا حکم لگایا جا رہا ہے، کس پر؟ گویا شرط ہے محکوم علیہ، یعنی مسند علیہ، اور جزا کیا ہے؟ مسند ہے، مسند ہے۔ شرط کیا تھی؟ یہاں اس جو جو کلام ہم ذکر کر رہے ہیں مثال، اس مثال میں شرط کیا تھی؟ "إن دخلت الدار" یہ ہے محکوم علیہ، یعنی مسند علیہ، اور "فأنت طالق" یہ کیا ہے؟ مسند ہے، مسند ہے۔ شرط کیا تھی؟ دخولِ دار، یہ ہے مسند علیہ، اور وقوعِ طلاق، یہ ہے مسند، تو دخولِ دار پر وقوعِ طلاق ہوگی، یہ حکم ہوا بھئی، فرق سمجھ میں آیا؟ دخولِ دار کے لیے وقوعِ طلاق ہے، یعنی دخولِ دار میں وقوعِ طلاق ہے۔ اس نے صرف اتنا بتایا، کہ دخولِ دار میں، دخولِ دار کے لیے اس اس پر وقوعِ طلاق ثابت ہے، باقیوں سے کوئی نفی نہیں ہوئی، حصر ہے ہی نہیں یہاں۔ میں کہتا ہوں "زيد قائم" کیا معنی؟ زید کھڑا ہے، تو زید کے لیے قیام ثابت ہوا، تو کیا باقیوں سے نفی ہو گئی؟ باقیوں سے نفی نہیں، صرف زید کے لیے قیام ثابت ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں بھی صرف دخولِ دار پر وقوعِ طلاق ہے، باقی سے یہ کلام خاموش ہے، اس کا اس میں ذکر ہی نہیں ہے، تو لہٰذا حصر نہیں، جب حصر نہیں، تو لہٰذا شرط پائے جانے پر یہ حکم تو پایا جائے گا، لیکن شرط کے انتفا سے حکم نہ پایا جائے ایسا نہیں، ابھی مثال گزری، خاوند بیوی سے کہہ دیتا ہے "أنت طالق" معلق کرنے کے بعد کیا کہہ دیتا ہے؟ "أنت طالق" کہہ دیتا ہے، طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں واقع ہو جائے گی؟ اور آپ نے تو کیا کہا تھا؟ انتفائے شرط سے کیا ہوگا؟ شرط پائی گئی؟ بھئی دیکھو! خاوند نے بیوی سے کہا "إن دخلت الدار فأنت طالق" اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ ابھی وہ اس گھر میں نہیں گئی، خاوند نے پھر صرف اتنا کہا "أنت طالق" اب کیا کہیں گے؟ طلاق ہو گئی۔ دیکھا؟ حالانکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا تو کیا مذہب ہے؟ شرط نہیں تو حکمِ طلاق بھی نہیں، حالانکہ طلاق ہو رہی ہے دیکھو۔ شرط نہیں ہے اور طلاق ہو رہی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھو، یہاں حصر ہے ہی نہیں بھئی۔ انتفائے، انتفائے وجودِ شرط پر تو وقوعِ طلاق ہوگا، لیکن انتفائے شرط سے انتفائے طلاق بھی ہو جائے، ایسا نہیں، بلکہ "أنتِ طالقٌ" کہے گا تو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا یہ کلام جو ہے، اس میں صرف دخولِ دار پر وقوعِ طلاق کا حکم لگایا گیا ہے، اس میں حصر نہیں ہے، یعنی انتفائے دخولِ دار پر انتفائے وقوعِ طلاق نہیں ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا، ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ بھی آ گئی کہ مشکل ہے بھئی؟ "وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ" اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إِنَّ الشَّرْطَ وَالْجَزَاءَ كِلاَهُمَا بِمَنْزِلَةِ كَلاَمٍ وَاحِدٍ" کہ شرط اور جزا دونوں ایک ہی کلام کے درجے میں ہیں، "يَدُلُّ عَلَى وُقُوعِ الطَّلاَقِ حِينَ الشَّرْطِ" یہ دلالت کرتے ہیں کس چیز پر؟ وقوعِ طلاق پر، یہ ایک کلام کے درجے میں ہے جو دلالت کرتا ہے "عَلَى وُقُوعِ الطَّلاَقِ حِينَ الشَّرْطِ" وقوعِ طلاق پر شرط کے وقت میں، "وَسَاكِتٌ عَنْ سَائِرِ التَّقَادِيرِ" اور یہ ساکت ہے، خاموش ہے باقی تقدیروں سے، یعنی باقی احوال سے۔ تقدیریں کس معنی میں؟ احوال۔ باقی احوال کا ذکر نہیں، اس میں صرف اتنا ذکر ہے شرط پائی جائے گی تو طلاق بھی پائی جائے گی، بس۔ یہ اس میں نہیں ہے کہ شرط نہیں ہوگی تو طلاق بھی نہیں ہوگی بھئی۔ "فَلاَ يَدُلُّ عَلَى الْحَصْرِ" تو یہ حصر پر دلالت نہیں کرتا، "وَهُوَ مَذْهَبُ أَهْلِ الْمَعْقُولِ" اور یہ مذہب ہے کس کا؟ اہل معقول یعنی مناطقہ کا بھئی۔ "وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ جَوَاباً عَنِ الْوَصْفِ" بھئی یہاں تک تو جواب ہوا شرط کا۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وجودِ شرط ہے تو حکم بھی ہے، شرط منتفی تو حکم بھی منتفی، اس کا جواب ہم نے دے دیا۔ باقی وصف، وہ کہتے تھے وصف ہے تو حکم ہے، وصف نہیں تو حکم بھی نہیں، ماتن نے اس کا جواب نہیں دیا۔ کیوں نہیں جواب دیا؟ کہتے ہیں شارح بتلائیں گے۔ یا تو اس وجہ سے جواب نہیں دیا کیونکہ وصف یہ آپ انہوں نے بتایا تھا وصف شرط کی طرح ہے، جب شرط کا جواب دے دیا تو وہی جواب کس کا ہو گیا؟ وصف کا بھی ہو گیا۔ یا اس وجہ سے جواب نہیں دیا کیونکہ وصف کا جو جواب جو ہے وہ واضح ہے اور مشہور ہے بھئی، سب کو پتہ ہے، اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی۔ "وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى جَوَاباً عَنِ الْوَصْفِ" اور مصنف رحمہ اللہ نے وصف کے جواب سے وہ ذکر نہیں کیا، "إِمَّا لأَنَّ الْجَوَابَ عَنِ الشَّرْطِ جَوَابٌ عَنْهُ" یا تو اس وجہ سے کیونکہ شرط سے جو جواب ہے وہی جواب وصف کا بھی ہے، "وَإِمَّا لِوُضُوحِهِ وَشُهْرَتِهِ" یا اس وجہ سے، بوجہ اس کے واضح ہونے اور مشہور ہونے کے۔ "وَهُوَ" اور وہ یہ، واضح اور مشہور ہے اور وہ کیا ہے وہ خود اب شارح بتلا بھی رہے ہیں، "وَهُوَ أَنَّ لِلْوَصْفِ دَرَجَاتٍ ثَلاَثاً" اور یہ کہ وہ وصف کے تین درجات ہیں بھئی، تین درجے ہیں بھئی۔ ایک ادنیٰ درجہ ہے، ایک متوسط درجہ ہے اور ایک اعلیٰ درجہ۔ "أَدْنَاهَا" ادنیٰ درجہ اس کا تین میں سے یہ ہے: "أَنْ يَكُونَ اتِّفَاقِيّاً" کہ وصف کس قسم کا ہو؟ اتفاقی ہو یعنی احترازی نہ ہو، "كَقَوْلِهِ تَعَالَى" جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: "وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُم" اور تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہوں۔ اب یہاں ان عورتوں کا ذکر چل رہا تھا جن سے نکاح کرنا حرام ہے، ان میں سوتیلی بیٹی کا ذکر آیا، لیکن ساتھ وصف ذکر کر دیا گیا، وہ جو تمہاری پرورش میں ہوں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو پرورش میں نہیں ہے اس خاوند کی، اس کے لیے اس سے ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، بلکہ یہ قیدِ اتفاقی ہے، کیونکہ عموماً اور عادتاً ہوتا کیا ہے، جو سوتیلی بیٹی ہوتی ہے، ماں کے پاس ہے تو اسی خاوند کی پرورش میں ہوتی ہے بھئی۔ تو یہ قیدِ اتفاقی ہے۔ جی، تو دیکھو قیدِ اتفاقی ہے، تو اس کے اندر اگر صفت کیا آئی؟ وہ جو تمہاری پرورش میں ہیں، ان سے نکاح حرام، نکاح حرام ہے۔ تو کیا یہ ثابت ہوا جو پرورش میں نہیں ہیں ان سے نکاح جائز ہے؟ یہ تو اس سے ثابت نہیں ہوا، کیونکہ یہ قید کون سی ہے؟ قید صفتِ اتفاقی ہے بھئی، قیدِ اتفاقی ہے۔ تو اس میں تو سرے سے مفہومِ مخالف معتبر ہی نہیں ہے کسی کے بھی نزدیک۔ "وَأَوْسَطُهَا" اور ایک متوسط درجے کا وصف ہے: "أَنْ يَكُونَ بِمَعْنَى الشَّرْطِ" جو کس معنی میں ہوتا ہے؟ جو شرط کے معنی میں ہوتا ہے، "كَقَوْلِهِ تَعَالَى" جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول گزرا بھئی: "مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ" یعنی کہ جو تمہاری مومن باندیاں ہیں بھئی، مومن باندیاں۔ یہاں امامِ شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ مومنات صفت کس کے درجے میں ہے؟ شرط کے درجے میں ہے، اور لہٰذا یہ شرط ہوتی ہے تو حکم ہوتا ہے، شرط نہ ہو تو حکم بھی نہیں، تو یہاں پر بھی یہ صفت ہے تو نکاح بھی جائز ہے باندی سے اگر وہ مومنہ ہے، اگر صفت نہیں یہ والی یعنی وہ مومنہ نہیں تو پھر اس سے نکاح بھی جائز نہیں ہے۔ اچھا، یہ دوسرے درجے میں ہے، "وَأَعْلاَهَا" اور تیسرا وہ وصف ہے جو ان تین میں سے سب سے اعلیٰ درجے کا ہے: "أَنْ يَكُونَ بِمَعْنَى العِلَّةِ" کہ وہ وصف کس معنی میں ہو؟ علت کے درجے معنی میں ہو بھئی، علت اسے کہتے ہیں کہ علت ہو تو معلول ضرور پایا جائے بھئی، معلول بھئی۔ یعنی وہ علت ہے تو یعنی حکم بھی پھر پایا جائے گا، جیسے کہ "كَقَوْلِهِ" جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے: "السَّارِقُ"، اسی طرح "الزَّانِي"। قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ "السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا"، اسی طرح قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ "الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا"। سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہاں پر دیکھیے، "السَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ" آیا، سارق مذکر کو مقدم کیا گیا اور السارقۃ مؤنث کو، ویسے ایک اور فائدہ بتلا رہا ہوں بھئی، سارق مذکر کو مقدم کیا گیا، السارقۃ مؤنث کو مؤخر کیا گیا، وجہ اس کی یہ، کیونکہ بات چوری کی ہو رہی ہے اور چوری کے لیے بھی جرات کی ضرورت ہوتی ہے بھئی، تو اور جرات کس کے اندر زیادہ؟ مرد میں زیادہ، اس لیے اس کو مقدم کیا گیا۔ اور دوسری جگہ آیا "الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي"، وہاں زانیہ مؤنث کو مقدم کیا گیا، کیونکہ زنا کا سبب شہوت ہے اور شہوت عورت میں زیادہ ہے، اس لیے وہاں پر اس کو مقدم کیا گیا بھئی۔ تو دیکھیے، یہاں پر بھی دیکھیے، وصفِ سرقہ پر حکم لگایا گیا ہے ہاتھ کاٹنے کا، کس پر؟ "السَّارِقُ" کس معنی میں ہے؟ "الَّذِي سَرَقَ"، وہ جس نے چوری کی۔ تو وہ مرد جس نے چوری کی، تو یہ علت ہے مولانا، وصفِ سرقہ علت ہے اور حکم کیا ہے؟ کیا کیا جائے گا اس کا؟ ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اسی طرح زنا، یہ وصف ہے اور یہ علت ہے، اس پر کیا کیا جائے گا غیر شادی شدہ کو؟ سو کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ تو یہ وصف علت کے معنی میں ہے، علت کے معنی میں ہے۔ "وَلاَ أَثَرَ لاِنْتِفَاءِ العِلَّةِ فِي انْتِفَاءِ الْحُكْمِ" اور کوئی اثر نہیں ہے انتفائے علت کا انتفائے حکم میں۔ بھئی انتفائے علت سے انتفائے حکم ثابت نہیں ہوتا، یہ سب سے اعلیٰ درجہ تھا، وصف کے کتنے درجے؟ تین درجے، ایک ادنیٰ درجے کا، ایک متوسط درجے کا، ایک اعلیٰ۔ اعلیٰ درجے کا وصف وہ ہے جو علت کے درجے میں ہوتا ہے اور علت جب پائی جائے تو حکم ضرور پایا جاتا ہے، وہ تو ٹھیک ہے، وصف ہوگا تو حکم بھی پایا جائے گا، لیکن وصف نہیں تو حکم بھی نہیں۔ یہ، یہ ایسا نہیں ہے، انتفائے علت سے انتفائے حکم نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے ایک چیز کی اور بھی کئی علتیں ہوں، وہ کسی اور علت کی وجہ سے وہ حکم پایا جائے۔ مثلاً دیکھیے، سورج علت ہے روشنی معلول ہے اس کا، سورج ہے تو روشنی ہے، روشنی کی علت کیا ہے؟ سورج۔ تو سورج ہے پھر تو روشنی ہے، علت ہے تو حکم بھی ہے، لیکن علت نہ ہو تو کیا حکم بھی نہیں ہوگا؟ سورج نہ ہو تو کیا روشنی بھی نہیں ہوگی؟ آپ رات کو لائٹ جلاتے ہیں یا نہیں جلاتے؟ روشنی تو ہوتی ہے۔ تو علت کے انتفا سے حکم کا انتفا نہیں ہوتا، کیونکہ ہو سکتا ہے ایک حکم کی اور علت ہو اس کی وجہ سے ہو، جیسے روشنی کی اور علت ہے بھئی، چراغ جلا لیا، لالٹین جلا لی، بلب جلا لیا، تو ایک ہی چیز کی کئی علتیں ہو سکتی ہیں۔ تو علت جب پائی جائے حکم تو ضرور پایا جائے گا، لیکن علت کے منتفی ہونے سے یہ ضروری نہیں کہ حکم بھی کیا ہو جائے؟ منتفی ہو جائے، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ کسی اور علت کی وجہ سے پھر پایا جائے۔ تو جب سب سے اعلیٰ درجے کی صفت ہے، وہاں پر انتفائے وصف سے انتفائے حکم نہیں ہے، تو ادنیٰ درجے میں بطریقِ اولیٰ جو ہے انتفائے وصف سے انتفائے حکم نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: "وَلاَ أَثَرَ لاِنْتِفَاءِ العِلَّةِ فِي انْتِفَاءِ الْحُكْمِ" اور کوئی اثر نہیں ہے انتفائے علت کا انتفائے حکم میں، "فَمَا دُونَهُ أَوْلَى" تو جو اس سے ادنیٰ درجے کے ہیں وہ بطریقِ اولیٰ وہاں پر انتفائے وصف سے انتفائے حکم نہیں ہوگا۔ "وَالْمُطْلَقُ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ" اور مطلق جو ہے وہ محمول ہوگا مقید پر۔ "هَذَا وَجْهٌ ثَالِثٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ" یہ تیسری وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے، بھئی ان وجوہ کا ذکر چل رہا ہے جو اور فقہاء کے نزدیک تو معتبر ہیں، ہمارے نزدیک معتبر نہیں، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا۔ ایک جگہ ایک چیز کا حکم مطلق ہے، دوسری جگہ مقید ہے، تو مطلق کو بھی مقید پر محمول کیا جائے گا اور مطلق میں بھی اس قید کا اعتبار کیا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ قید کا اعتبار کیا جائے گا۔ جیسے دیکھیے بھئی، قتل کے کفارے میں اللہ فرماتے ہیں: "فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ"، رقبہ کے ساتھ مومنہ کی قید ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ظہار اور یمین کا جو کفارہ ہے، قسم کا کفارہ، وہاں اللہ صرف یہ فرماتے ہیں: "فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ"، وہاں مومنہ کی قید نہیں، لیکن امامِ شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ مطلق کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ مقید پر، لہٰذا ایک مطلق تھا اس میں مومنہ کی قید نہیں، ایک مقید تھا اس میں مومنہ کی قید تھی، تو مطلق کو بھی مقید پر محمول کیا جائے گا اور وہاں بھی اس قید کا اعتبار کیا جائے گا، لہٰذا کفارۂ ظہار اور کفارۂ یمین میں بھی مطلق رقبہ کو آزاد مطلق رقبہ نہیں بلکہ کفارہ کس سے ادا ہوگا؟ رقبۂ مومنہ سے ادا ہوگا بھئی، آزاد مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرے گا تو کفارہ ادا ہوگا۔ بات واضح ہو گئی؟ "هَذَا وَجْهٌ ثَالِثٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ" یہ تیسری وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے، "وَالْمُطْلَقُ هُوَ الْمُتَعَرِّضُ لِلذَّاتِ" اب معنی، فرق بتلا رہے ہیں بھئی مطلق کسے کہتے ہیں، مقید کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: "وَالْمُطْلَقُ هُوَ الْمُتَعَرِّضُ لِلذَّاتِ دُونَ الصِّفَاتِ" مطلق وہ ہے جو ذات کے درپے ہو نہ کہ صفات کے، یعنی جس میں ذات کا ذکر ہو، صفت کا ذکر نہ ہو، وہ ہے مطلق۔ "لاَ بِالنَّفْيِ وَلاَ بِالإِثْبَاتِ" نہ تو نفی کے طریقے پر اور نہ اثبات، بھئی جس میں صرف ذات کا ذکر کیا جائے صفات کا ذکر نہ ہو، نہ نفی کے طریقے پر یعنی نہ تو صفات کی کوئی نفی کی جائے، نہ صفت کا اثبات کیا جائے۔ اگر نفی صفت کی کر دی تو بھی مقید بن جائے گا بھئی، قید آ جائے گی یا نہیں بھئی؟ اور اگر اثبات کریں گے تو بھی کیا آ جائے گی؟ قید آ جائے گی بھئی۔ تو مطلق وہ ہے جس میں صرف ذات کا ذکر ہو نہ کہ صفات کا، "لاَ بِالنَّفْيِ وَلاَ بِالإِثْبَاتِ" نہ تو نفی کے طور پر اور نہ اثبات کے طور پر، "وَالْمُقَيَّدُ هُوَ الْمُتَعَرِّضُ لِلذَّاتِ مَعَ صِفَةٍ مِنْهَا" اور مقید وہ ہے جو ذات کے درپے ہو، ذات کے پیچھے ہو مع صفتٍ منہا، ساتھ اس کی صفت کے، یعنی اس میں صفت بھی ذکر ہو۔ "فَإِذَا وَرَدَا فِي مَسْأَلَةٍ شَرَعِيَّةٍ" پس اب یہ دونوں وارد ہو جائیں کسی مسئلہ شرعیہ کے اندر، یعنی مطلق بھی اور مقید بھی، وردا تثنیہ کا صیغہ آیا نا، پس جب یہ دونوں وارد ہو جائیں کسی مسئلہ شرعی کے اندر، "فَالْمُطْلَقُ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ" پس مطلق جو ہے وہ محمول ہوگا مقید پر، کیا معنی؟ "أَيْ يُرَادُ بِهِ الْمُقَيَّدُ" مطلق کے ذریعے بھی کیا مراد ہوگا؟ مقید ہی مراد ہوگا، "وَإِنْ كَانَا فِي حَادِثَتَيْنِ" اگرچہ وہ دونوں دو حادثوں میں ہی کیوں نہ ہوں، اگرچہ وہ دونوں دو حادثوں میں ہوں، یعنی حادثہ، واقعہ یعنی مسئلہ مسئلہ، اگرچہ دو الگ الگ مسئلوں میں ہی کیوں نہ ہوں بھئی، ایک میں کفارۂ قتل ذکر تھا، ایک میں کفارۂ یمین ذکر تھا، ایک میں کفارۂ ظہار ذکر تھا، تینوں الگ الگ مسئلے ہیں، لیکن امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں چاہے الگ مسئلے ہیں پھر بھی مطلق کو کس پر محمول کریں گے؟ مقید پر محمول کریں گے۔ یہ معنی ہے "وَإِنْ كَانَا فِي حَادِثَتَيْنِ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ" اگرچہ وہ دونوں دو مختلف مسئلوں میں ہوں امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ بھئی جب دو مختلف مسئلوں کے اندر مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، تو ایک مسئلے کے اندر بطریقِ اولیٰ مطلق کو مقید پر محمول کریں گے۔ یہی بتلا رہے ہیں: "وَيُعْلَمُ مِنْهُ" اور اس سے یہ معلوم ہوا "أَنَّهُمَا إِنْ كَانَا فِي حَادِثَةٍ وَاحِدَةٍ" کہ اگر یہ دونوں ایک ہی حادثے، ایک ہی مسئلے میں ہوئے "فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى الْمُقَيَّدِ عِنْدَهُ بِالطَّرِيقِ الأَوْلَى" تو مطلق جو ہے محمول ہوگا مقید پر امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بطریقِ اولیٰ اس پر محمول ہوگا۔ "وَنَظِيرُهُ لَمْ يُذْكَرْ فِي الْمَتْنِ" اور اس کی مثال متن میں ذکر نہیں کی، کس کی؟ ایک ہی مسئلے کے اندر مطلق بھی آیا ہو اور مقید بھی آیا ہو، اس کی مثال متن میں انہوں نے ماتن نے ذکر نہیں کی، دو الگ الگ مسئلوں میں ایک میں مطلق ہو، ایک میں مقید ہو وہ تو متن میں ذکر ہے، لیکن ایک ہی مسئلے میں مطلق اور مقید آئے ہوں اس کو متن میں ذکر نہیں کیا، وہ شارح اب آپ کو خود بتلا رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں اس کی مثال کو یعنی ایک ہی حادثے ایک ہی مسئلے میں دونوں آئے ہوں اس کو ذکر نہیں کیا متن میں، "وَهُوَ آيَةُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ" اور وہ جو ہے اس کی مثال جو ہے وہ کفارۂ ظہار کی آیت ہے، "فَإِنَّهَا حَادِثَةٌ وَاحِدَةٌ" بس بے شک وہ جو ہے ایک ہی حادثہ، ایک ہی واقعہ ہے، ایک ہی مسئلہ ہے، "ذُكِرَ فِيهَا ثَلاَثُ أَحْكَامٍ" اس کے اندر تین احکام ذکر ہوئے ہیں: "مِنَ التَّحْرِيرِ وَالصِّيَامِ وَالإِطْعَامِ"، تین احکام کیا بیان ہوئے؟ یعنی کہ آزاد کرنا اور روزے اور کھانا کھلانا۔ "وَقُيِّدَ الأَوَّلُ وَالثَّانِي" اور مقید کیا گیا اول اور ثانی کو "بِقَوْلِهِ: مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا" اپنے قول "مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا" کے ساتھ، قبل اس کے کہ باہم اختلاط کریں۔ بھئی دیکھیے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ" اور وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے "ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا" پھر وہ تلافی کرنا چاہیں اس کی جو انہوں نے کہا تھا "فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ" تو ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے "مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا" قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں، یعنی دونوں میاں بیوی کے اختلاط کرنے سے پہلے، یعنی صحبت کرنے سے پہلے غلام یا باندی کو آزاد، تو یہاں "مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا" کی قید ہے تحریرِ رقبہ سے پہلے سے پہلے کیا ہے؟ صحبت نہ ہو بھئی۔ "ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ" یہ وہ چیز ہے جس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہیں۔ "فَمَن لَّمْ يَجِدْ" پس جو نہ پائے یعنی جس کو غلام میسر نہ ہو "فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" تو دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں بھئی "مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا" قبل اس کے کہ باہم دونوں اختلاط کریں یعنی صحبت کریں۔ "فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ" پس جو اس کی استطاعت نہ رکھے "فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا" تو پھر 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ تو تحریرِ رقبہ میں بھی اللہ تعالیٰ "مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا" کی قید ذکر فرما رہے ہیں اور دو ماہ کے مسلسل روزوں میں بھی اللہ "مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا" کی قید ذکر فرما رہے ہیں، لیکن 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا اس کے اندر یہ قید ذکر نہیں، تو یہ ہوا مطلق اور وہ دونوں ہوئے مقید بھئی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب میں متن پر۔ تو کہتے ہیں: وَقَيَّدَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِيَ بِقَوْلِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا. تو اللہ تعالی نے اول اور ثانی کو یعنی تحریر اور صیام جو ہیں ان کو مقید کیا اپنے قول مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا سے، وَلَمْ يُقَيِّدِ الْإِطْعَامَ بِهِ، اور اطعام یعنی کھانا کھلانے کو اس کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ فَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَحْمِلُ الْإِطْعَامَ عَلَى التَّحْرِيرِ وَالصِّيَامِ. تو امام شافعی رحمہ اللہ اطعام کو بھی محمول کرتے ہیں کس پر؟ تحریر اور صیام پر، کہ مطلق محمول ہوگا مقید پر۔ لہذا اطعام کے اندر بھی مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا کی قید معتبر ہوگی۔ صحبت کرنے سے پہلے کھانا کھلایا جائے گا بھئی۔ تو وہ اس اطعام کو محمول کرتے ہیں تحریر اور صیام پر وَيُقَيِّدُهُ بِقَوْلِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا، اور اس کو بھی وہ مقید کرتے ہیں اللہ کے قول مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا کے ساتھ بھئی۔ وَالنَّظِيرُ مَا وَرَدَا فِي حَادِثَتَيْنِ، اور مثال اس کی جو کہ جو وارد ہوئے ہیں مطلق اور مقید دونوں فِي حَادِثَتَيْنِ دو الگ حادثوں میں هُوَ قَوْلُهُ وہ یہ قول ہے مصنف کا بھئی: مِثْلُ كَفَّارَةِ الْقَتْلِ وَسَائِرِ الْكَفَّارَاتِ، جیسے قتل کا کفارہ ہے اور باقی کفارات ہیں۔ فَإِنَّ كَفَّارَةَ الْقَتْلِ حَادِثَةٌ، بس کفارۂ قتل جو ہے وہ ایک حادثہ ہے، ایک مسئلہ ہے، وَرَدَ فِيهَا الْمُقَيَّدُ، جس میں مقید آیا ہے، وارد ہوا ہے۔ وَهُوَ قَوْلُهُ، اور وہ اللہ کا یہ قول ہے: فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ. وَكَفَّارَةُ الظِّهَارِ وَالْيَمِينِ حَادِثَةٌ أُخْرَى، اور کفارۂ ظہار اور کفارۂ یمین یہ دوسرا مسئلہ ہے، وَرَدَ فِيهَا الْمُطْلَقُ، اس میں مطلق وارد ہوا ہے، مطلق آیا ہے۔ وَهُوَ قَوْلُهُ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ، اور وہ اللہ کا قول فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ہے۔ فَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ، پس امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إِنَّ قَيْدَ الْإِيمَانِ مُرَادٌ هَا هُنَا أَيْضًا، کہ ایمان کی قید وہ یہاں پر بھی مراد ہے۔ کفارۂ ظہار میں بھی ایمان، مومن ہونے کی قید ہے اور کفارۂ یمین میں بھی۔ لِأَنَّ قَيْدَ الْإِيمَانِ زِيَادَةُ وَصْفٍ، اس لیے کہ ایمان کی جو قید ہے وہ وصف کی زیادتی ہے، يَجْرِي مَجْرَى الشَّرْطِ، ایسا وصف جو کس کے قائم مقام ہے؟ شرط کے قائم مقام ہے، فَيُوجِبُ النَّفْيَ عِنْدَ عَدَمِهِ، تو یہ نفی کو ثابت کرے گا اپنے عدم کے وقت میں فِي الْمَنْصُوصِ، کس کے اندر؟ منصوص میں جس پر نص لائی گئی۔ بائی، نص میں تو صرف اس بات کا ذکر ہے۔ نص میں تو کیا ذکر ہے؟ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ. اور ظہار اور یمین میں فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں بھی ایمان کی قید معتبر ہے۔ یہاں بھی رقبہ جو آزاد کرے کیا ہونا چاہیے؟ مومن ہو وہ بھئی۔ لہذا مومن نہیں ہوگا تو کفارہ بھی ادا نہیں ہوگا۔ یہی بات کر رہے ہیں۔ فَيُوجِبُ النَّفْيَ عِنْدَ عَدَمِهِ فِي الْمَنْصُوصِ، تو یہ ثابت کر دے گا، یہ نفی کو ثابت کر دے گا اپنے نہ ہوتے ہوئے یعنی اس وصفِ ایمان کے نہ ہونے کے وقت میں منصوص میں جس پر نص لائی گئی ہے اس میں۔ فَكَأَنَّهُ قَالَ فِي كَفَّارَةِ الْقَتْلِ، تو گویا کہ اللہ تعالی نے کفارۂ قتل میں یوں فرمایا: فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ... آیت میں تو کیا تھا؟ مُؤْمِنَةٍ. فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ. اور مومنہ وصف ہے اور وصف کس کے درجے میں ہے؟ شرط، اسی لیے اس کو دیکھو شرط کی صورت دے رہے ہیں: فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ إِنْ كَانَتْ مُؤْمِنَةً، پس گردن کا آزاد کرنا ہے اگر وہ مومنہ ہو، وَيُفْهَمُ مِنْهُ، اور اس سے یہ مفہوم ہوا، أَنَّهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ مُؤْمِنَةً، کہ اگر وہ مومنہ نہ ہوئی وہ رقبہ، لَا يَجُوزُ فِي كَفَّارَةِ الْقَتْلِ، تو وہ کفارۂ قتل میں جائز نہیں، بِنَاءً عَلَى مَا مَضَى مِنْ أَصْلِهِ، بناء بر اس کے جو گزر گیا مِنْ أَصْلِهِ یعنی کہ ان کا قانون بھئی، ان کا ضابطہ۔ کیا قانون اور ضابطہ ان کا گزرا؟ کہ أَنَّ الشَّرْطَ وَالْوَصْفَ كِلَاهُمَا يُوجِبُ نَفْيَ الْحُكْمِ عِنْدَ عَدَمِهِمَا، کہ شرط اور وصف یہ دونوں نفیٔ حکم کو ثابت کرتے ہیں عِنْدَ عَدَمِهِمَا اپنے عدم کے وقت۔ جب شرط اور وصف نہیں ہوں گے تو حکم بھی نہیں ہوگا۔ وَإِذَا ثَبَتَ هَذَا فِي الْمَنْصُوصِ، اور جب یہ بات ثابت ہو گئی منصوص کے اندر، وَهُوَ عَدَمٌ شَرْعِيٌّ، اور وہ کیا ہے؟ عدمِ شرعی ہے بھئی۔ جب یہ بات منصوص میں ثابت ہو گئی، کون سی بات؟ کہ جب شرط اور وصف نہیں ہوں گے تو حکم بھی نہیں ہوگا۔ اور وَهُوَ عَدَمٌ شَرْعِيٌّ، اور یہ عدمِ اصلی ہے یا عدمِ شرعی ہے ان کے نزدیک بھئی؟ ان کے نزدیک یہ عدمِ شرعی ہے۔ يُحْمَلُ عَلَيْهِ سَائِرُ الْكَفَّارَاتِ بِطَرِيقِ الْقِيَاسِ، تو محمول کیا جائے گا اسی پر باقی کفارات کو بھی قیاس کے ذریعےے۔ بائی، قیاس میں کیا کیا جاتا ہے؟ ایک حکم کو متعدی کیا جاتا ہے دوسری چیز کی طرف اور متعدی کس کو کرتے ہیں؟ حکمِ شرعی کو اور یہاں پر بھی جو عدم ہے وہ عدم کیا ہے؟ حکمِ شرعی ہے لہذا اس کو متعدی کرنا صحیح۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ عدم کون سا ہے؟ عدمِ اصلی ہے، گویا وجود ہی نہیں ایک چیز کا، جب وجود ہی نہیں، ہے ہی نہیں ایک چیز تو متعدی کس چیز کو کرتے ہو بھئی؟ حکم ہے ہی نہیں کوئی بھئی۔ اچھا، تو لہذا وہ فرماتے ہیں یہ عدمِ شرعی ہے، يُحْمَلُ عَلَيْهِ سَائِرُ الْكَفَّارَاتِ بِطَرِيقِ الْقِيَاسِ، محمول کیا جائے گا اسی پر باقی کفارات کو بھی قیاس کے طریقے پر۔ بھئی، قیاس کے طریقے پر؟ باقی کفارات پر بھی یہ حکم لگایا جائے گا؟ بھئی، قیاس کے لیے تو علتِ جامعہ کا ہونا ضروری۔ ایسی علت جو دونوں میں پائی جائے، مقیس میں بھی اور مقیس علیہ میں بھی۔ پھر علتِ جامعہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِاشْتِرَاكِهَا فِي كَوْنِهَا كَفَّارَةً، بوجہ ان کے شریک ہونے کے کفارہ ہونے میں۔ یہ سارے کفارات کیا ہیں؟ آپس میں شریک ہیں، کس چیز میں شریک ہیں؟ کہ ان میں سے ہر ایک کفارہ ہے۔ تو سارے کفارے ہو گئے یا نہیں بھئی؟ ایک جیسے ہو گئے، ایک جیسی چیزیں ہوئیں، تو لہذا اور جب ایک جیسی چیز ہو تو حکم اس کی طرف متعدی کر دیا جاتا ہے بھئی۔ وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِهِ، اور یہ معنی ہے مصنف کے قول کا: وَفِي نَظِيرِهَا مِنَ الْكَفَّارَاتِ. وَفِي نَظِيرِهَا مِنَ الْكَفَّارَاتِ أَيْ بَعْضِ الْكَفَّارَاتِ، بَعْضِ الْكَفَّارَاتِ. یہ مِنْ تبعیضیہ ہے اور مِنْ تبعیضیہ یاد رکھیے یہ اسم ہے بھئی، کیا ہے؟ اسم، اسم۔ تو یہ بَعْضِ الْكَفَّارَاتِ، یہ مِنَ الْكَفَّارَاتِ یہ بَعْضِ الْكَفَّارَاتِ کے معنی میں ہوا اور یہ ہے مبتدائے مؤخر اور وَفِي نَظِيرِهَا ہے خبرِ مقدم بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، یہ اگلے سال انشاء اللہ آپ مختصر المعانی کے اندر پڑھ لیں گے بھئی۔ انشاء اللہ۔ وَفِي نَظِيرِهَا مِنَ الْكَفَّارَاتِ، اور اس کی نظیر اس کی مثالوں میں ہے بَعْضِ الْكَفَّارَاتِ بعض کفارات، لِأَنَّهَا جِنْسٌ وَاحِدٌ، کیونکہ یہ جنسِ واحد ہیں۔ وَعِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے بعض فقہاء کے نزدیک، يُحْمَلُ عَلَيْهِ لَا بِطَرِيقِ الْقِيَاسِ، کہ محمول کیا جائے گا مطلق کو عَلَيْهِ کس پر؟ مقید پر، لَا بِطَرِيقِ الْقِيَاسِ، قیاس کے طریقے پر نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں بھئی ان کے، کہ وہ کس طریقے پر ثابت کرتے ہیں مصنف نے کیا بتلایا؟ قیاس کے طریقے پر کہ سارے کفارات ہیں تو ایک جنس ہوئے، تو جب ایک کے اندر ایک وصف معتبر ہے تو دوسرے کے اندر بھی اس کا اس وصف کا اعتبار کرنا پڑے گا کیونکہ سب کیا ہیں؟ کفارات، ایک جیسی چیزیں ہیں۔ تو جو ایک کا حکم ہوگا وہی دوسرے کا بھی حکم ہوگا۔ تو مطلق کو کس پر محمول کریں گے؟ مقید پر، اور مطلق کے اندر بھی وہ قید معتبر ہوگی۔ بعض فقہائے شوافع کہتے ہیں کہ قیاس کے طریقے پر نہیں محمول کریں گے۔ قیاس کے طریقے پر نہیں؟ بھئی قیاس میں تو یہ تھا کہ قیاس ایک چیز کو تقاضا کرتا ہے تو پھر حکم ثابت کرتے ہیں یا حکم ثابت نہیں کرتے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، قیاس تقاضا کرے یا نہ کرے مطلق کو کیا کریں گے؟ مقید پر محمول کریں گے کیونکہ عرب کی یہ عادت ہے کہ وہ ایک جگہ جب ایک چیز کو ذکر کر دیتے ہیں تو دوسری جگہ اس کو پھر ذکر نہیں کرتے، اسی پر اکتفا کرتے ہوئے کہ پہلے ذکر ہو چکی ہے لہذا اسی سے سمجھ جائیں گے لوگ بھئی۔ تو یہ عرب کی عادت ہے کہ ایک جگہ جب قید کو ذکر کر دیتے ہیں تو دوسری جگہ قید کو ذکر نہیں کرتے، تو یہاں بھی اسی طرح ایک جگہ قید ذکر کر دی گئی ہے باقی جگہ اسی کی پر اکتفا کرتے ہوئے قید چھوڑ دی گئی ہے۔ لہذا اس مطلق کو بھی کس پر محمول کریں گے؟ مقید پر، تو لیکن یہ بات قیاس کے طریقے پر نہیں ہے۔ وَهُوَ مَعْرُوفٌ، اور یہ معروف ہے بھئی کہ بعض فقہائے شوافع جو ہیں محمول کرتے ہیں مطلق کو مقید پر مگر قیاس کے طریقے پر نہیں، وَهُوَ مَعْرُوفٌ اور یہ معروف ہے سب کو معلوم ہے بھئی کہ عرب کیا کرتے ہیں؟ ایک جگہ قید ذکر کر دیں تو اسی پر اکتفا کرتے ہوئے دوسری جگہ قید کو ذکر نہیں کرتے۔ ثُمَّ اعْتُرِضَ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، پھر اعتراض، اعتراض کیا گیا امام شافعی رحمہ اللہ پر، أَنَّكُمْ كَمَا حَمَلْتُمُ الْيَمِينَ عَلَى الْقَتْلِ فِي حَقِّ قَيْدِ الْإِيمَانِ، کہ آپ نے جیسے محمول کیا ہے قسم کو قتل پر فِي حَقِّ قَيْدِ الْإِيمَانِ، ایمان کی قید کے حق میں، اس کے اعتبار سے، فَيَنْبَغِي أَنْ تَحْمِلُوا الْقَتْلَ عَلَى الْيَمِينِ فِي حَقِّ طَعَامِ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، تو مناسب یہ ہے کہ آپ محمول کریں قتل کو یمین پر۔ یمین کو آپ نے محمول کیا تھا کس پر؟ قتل پر، تو اب قتل کو بھی محمول کرو کس پر؟ یمین پر، اور یمین کے اندر تو یہ بھی ذکر ہے کہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو یا ان کو کپڑے پہنا سکتے ہو۔ تو قتل کے اندر بھی یہ ہونا چاہیے، 10 مسکینوں کو یا کھانا کھلا دو یا اس کو ان کو کپڑے پہنا دو۔ تو کہتے ہیں جیسے آپ نے یمین کو قتل پر محمول کیا تھا ایمان کی قید کے حق میں، تو مناسب یہ ہے کہ قتل کو بھی اب محمول کریں یمین پر فِي حَقِّ طَعَامِ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانے کے حق میں، وَتُثْبِتُوا فِيهِ الطَّعَامَ أَيْضًا، اور اس میں بھی کیا کرو؟ طعام کو ثابت کرو۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ پر اعتراض ہوتا تھا، ماتن اب اسی کا جواب ذکر کریں گے۔ امام شافعی رحمہ اللہ پر ہونے، وارد ہونے والے ایک اعتراض کا جواب ذکر کر رہے ہیں آگے: فَأَجَابَ عَنْهُ بِقَوْلِهِ، تو جواب دیا اس اعتراض سے مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے: وَالطَّعَامُ فِي الْيَمِينِ لَمْ يَثْبُتْ فِي الْقَتْلِ، اور طعام جو ہے، وہ طعام، وہ طعام فِي الْيَمِينِ جو قسم میں ہے لَمْ يَثْبُتْ فِي الْقَتْلِ وہ قتل میں ثابت نہیں ہے، لِأَنَّ التَّفَاوُتَ ثَابِتٌ بِاسْمِ الْعَلَمِ، اس لیے کیونکہ فرق ثابت ہے اسمِ علم کی وجہ سے۔ فرق ثابت ہے کس کی وجہ سے؟ اسمِ علم کی وجہ سے، وَهُوَ لَا يُوجِبُ إِلَّا الْوُجُودَ، اور وہ ثابت نہیں کرتا مگر وجود ہی کو۔ بائی، دیکھیے سب سے وجوہِ فاسدہ میں سے سب سے پہلی وجہ کیا ذکر ہوئی تھی؟ وجوہِ فاسدہ میں سے سب سے پہلی وجہ۔ مفہومِ لقب آیا تھا بھئی، مفہومِ لقب کہ اگر کسی چیز پر کسی چیز کو اسمِ علم کے ساتھ ذکر کیا جائے اور اس پر کوئی حکم لگایا جائے تو یہ کس پر دلالت کرے گا؟ خصوص پر، یعنی یہ حکم اسی کا ہے، باقیوں سے حکم کی کیا کر دے گا؟ نفی کر دے گا۔ اس میں، اور اس میں علم کا کیا معنی کیا تھا؟ جو وہ جو علم ہے وہ بھی اس میں داخل اور اسمِ جنس بھی اس کے اندر داخل، اسمِ جنس جس کے جو قلیل اور کثیر پر صادق، جس کے افراد کیا ہوتے ہیں؟ ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں۔ تو وہ مفہومِ لقب تھا بھئی۔ اور یہاں پر بھی کہتے ہیں کہ یہاں پر بھی دونوں میں فرق ثابت ہے اسمِ علم کی وجہ سے اور اسمِ علم وہ بعض فقہاء کے نزدیک وہ تخصیص کا فائدہ دیتا تھا، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ تخصیص کا فائدہ نہیں دیتا۔ تو یہاں پر بھی عَشَرَةِ مَسَاكِينَ یہ اسمِ عدد ہے، اسماءِ عدد میں سے۔ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ کیا ہے؟ اسمِ علم ہے اسماءِ عدد میں سے عشَرة کا لفظ، وَهُوَ لَا يُوجِبُ إِلَّا وُجُودَ الْحُكْمِ عِنْدَ وُجُودِهِ، اور یہ ثابت نہیں کرتا مگر حکم کے وجود کو عِنْدَ وُجُودِهِ اپنے وجود کے وقت۔ اس سے صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ جب یہ ہے تو حکم بھی ہے، اس سے انتفاء، یہ جب نہ ہو تو انتفاءِ حکم پر یہ دلالت نہیں کرتا کہ یہ نہ ہو تو حکم، یعنی یہ علم، اسمِ علم منتفی ہو تو حکم بھی منتفی ہوگا، ایسا نہیں۔ بائی، دیکھیے، قسم کے کفارے میں عَشَرَةِ مَسَاكِينَ کی بات آئی اور عَشَرَةِ مَسَاكِينَ عشرۃ عدد ہے اور عدد اسمِ جنس ہے بھئی، عدد کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے کہ بھئی اس کے اجزاء الگ الگ کر دیں بھئی، اجزاء الگ الگ، تو افراد ایک جیسے ہیں یا نہیں بھئی؟ 10 مسکین ہیں، 10 سارے مسکین ہیں۔ تو 10، تو یہ صرف اپنے افراد، یہ اپنے وجود کے وقت حکم سے ثابت کرتا ہے لیکن اپنے انتفاء کے وقت یہ حکم کی نفی کر دے، ایسا نہیں ہے۔ 10 مسکین اگر ہوئے اور آپ نے ان کو کھانا کھلا دیا، تو کفارہ قسم کا ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ ہو جائے گا۔ 10 مسکین جب وجود ہیں، موجود ہیں تو کفارہ بھی ادا ہے۔ لیکن 10 مسکین نہ ہوں تو کفارہ نہ ہو، ایسا نہیں۔ یہ اس بات حکم تو کرے گا اپنے وجود کے وقت، لیکن یہ اپنے انتفاء کے وقت انتفاءِ حکم نہیں کرے گا۔ مثلاً صرف ایک مسکین ہے۔ آپ اس ایک ہی کو 10 دن تک کھانا کھلاتے رہیں، تو بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔ صرف 5 مسکین ہیں، آپ ان کو دو دن کھانا کھلا دیں، تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، یہاں حکم لگایا گیا، یہاں پر کس چیز کا ذکر آیا؟ اسمِ علم کا ذکر آیا۔ اور اسمِ علم بعض فقہاء کے نزدیک تو تخصیص پر دلالت کرتا تھا، لیکن ان کے نزدیک وہ وہ چیز ہے تو حکم ہے، وہ چیز نہیں تو حکم بھی نہیں، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو یہاں اس میں یہ ضابطہ ثابت نہیں بھئی۔ وہ شرط اور وصف کی بات تو امام شافعی رحمہ اللہ نے کی ہے، اسمِ علم کی بات انہوں نے، اور یہاں اسمِ علم آیا اور اسمِ علم وہ فرماتے ہیں کہ اسمِ علم جب وہ موجود ہے تو حکم ہوگا، لیکن جب وہ منتفی ہو جائے تو حکم بھی منتفی ہو، ایسا نہیں۔ حکم بھی منتفی ہو جائے، ایسا نہیں ہے۔ تو پھر جب یہ اصل کے اندر نفیِ حکم پر، نفیِ وجود پر نفیِ حکم نہیں آتا یہاں اصل میں، تو کسی دوسرے کی طرف اس کو کیسے متعدی کیا جا سکتا ہے؟ یہاں مفہومِ مخالف معتبر ہی نہیں ہے، جب معتبر ہی نہیں ہے ایک چیز، حکم ہی نہیں ہے تو اس کو متعدی بھی نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ اب دوبارہ دیکھیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالطَّعَامُ فِي الْيَمِينِ لَمْ يَثْبُتْ فِي الْقَتْلِ، اور وہ طعام جو یمین میں ثابت ہے وہ قتل میں ثابت نہیں ہے، لِأَنَّ التَّفَاوُتَ ثَابِتٌ بِاسْمِ الْعَلَمِ، اس لیے کیونکہ فرق ثابت ہے اسمِ علم کے ذریعے، یہاں کوئی شرط ذکر ہے؟ نہیں، کوئی وصف ذکر ہے؟ نہیں، اسمِ علم ذکر ہے تو اس کے لیے فرق آ جائے گا، وَهُوَ لَا يُوجِبُ إِلَّا الْوُجُودَ، اور وہ تو صرف کس کو ثابت کرتا ہے؟ وجود کو کہ جب اسمِ علم ہے تو حکم بھی ہے، صرف وجود ثابت کر رہا ہے۔ اور جب اسمِ علم نہ ہو تو انتفاءِ حکم ہو جائے، یہ یہ ثابت نہیں کرتا بھئی، تو یہ صرف وجود کو ثابت کرتا ہے۔ لِأَنَّ لَفْظَ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ اسْمُ عَلَمٍ مِنْ أَسْمَاءِ الْعَدَدِ، اس لیے کیونکہ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ کا لفظ جو ہے یہ اسمِ علم ہے اسماءِ عدد میں سے، وَهُوَ لَا يُوجِبُ إِلَّا وُجُودَ الْحُكْمِ عِنْدَ وُجُودِهِ، اور یہ ثابت نہیں کرتا مگر صرف حکم کے وجود کو اپنے وجود کے وقت، وَلَا يَنْفِي عِنْدَ نَفْيِهِ، اور یہ اس کی نفی نہیں کرتا اپنی نفی کے وقت، فَإِذَا لَمْ يُوجِبِ النَّفْيَ فِي الْأَصْلِ، جب یہ اصل کے اندر نفی کو ثابت نہیں کرتا، وَهُوَ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ، اصل کون؟ کفارۂ یمین، جب کفارۂ یمین کے اندر یہ نفی کو ثابت نہیں کرتا، فَكَيْفَ يُعَدَّى إِلَى الْفَرِعِ؟ تو اس کو کیسے متعدی کیا جا سکتا ہے فرع کی طرف بھئی؟ وَهُوَ كَفَّارَةُ الْقَتْلِ، اور وہ کیا ہے؟ کفارۂ قتل، بِخِلَافِ الْوَصْفِ، برخلاف کس کے؟ وصف کے، فَإِنَّهُ يُوجِبُ النَّفْيَ عِنْدَ نَفْيِهِ. ہم نے جس کی تمہید بیان کی بھئی پیچھے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فرق سمجھ میں آیا؟ وصف اور شرط کی بات تھی تو کہتے ہیں وہاں ہم حکم کو متعدی کرتے ہیں، یہاں وصف کی خلاصہ یہ خلاصہ یہ کہ وصف اور شرط وہاں وصف اور شرط ہیں تو حکم ہے، وصف اور شرط نہیں تو حکم بھی نہیں، تو وہاں مفہوم مخالف ہمارے نزدیک معتبر ہے تو جب تو اس کو متعدی بھی ہم کریں گے وہ باقاعدہ ایک حکم شرعی ہے۔ اور یہاں پر بات ہے صرف کس کی؟ اسم علم آیا ہے اور اسم علم وہاں پر تو ہمارے نزدیک مفہوم مخالف کا اعتبار ہی نہیں ہے، جب مفہوم مخالف کا اعتبار ہی نہیں ہے تو اس کو متعدی بھی نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ وَإِنَّمَا قَيَّدَ الطَّعَامَ بِالْيَمِينِ اور مقید کیا طعام کو یمین کے ساتھ، بھئی متن میں کیا آیا تھا؟ وَالطَّعَامُ فِي الْيَمِينِ، ماتن نے کیا قید لگائی طعام کے ساتھ؟ یمین کی کہ یمین میں جو طعام ہے اس کو اپ قتل میں کیوں نہیں ثابت کرتے؟ اس کا جواب دیا وہ طعام جو ظہار میں ہے 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا اس کو ذکر نہیں کیا تو یمین کی قید لگا کر وہ طعام جو کس میں تھا ظہار میں اس کو نکال دیا، کیوں؟ کیا وجہ؟ یہ قید کیوں لگائی یمین کی؟ اس کو کیوں نکال دیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی ایک روایت کے مطابق 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ قتل میں بھی ثابت ہے۔ ایک امام شافعی رحمہ اللہ ایک روایت کے مطابق کیا کرتے ہیں؟ کفارہٴ قتل میں 60 مسکینوں کا ذکر تو نہیں لیکن امام شافعی رحمہ اللہ وہ حکم وہاں پر بھی ثابت کرتے ہیں، تو چونکہ وہ وہاں ثابت کرتے ہیں تو اس میں ان پر اعتراض ہی واقع نہیں ہوتا اس روایت کے مطابق، تو لہٰذا اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا، البتہ طعام یمین میں ان پر اعتراض ہوتا تھا، اس کا جواب دے دیا۔ وَإِنَّمَا قَيَّدَ الطَّعَامَ بِالْيَمِينِ لِأَنَّ طَعَامَ الظِّهَارِ وَهُوَ إِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثَابِتٌ فِي الْقَتْلِ فِي رِوَايَةٍ عَنِ الشَّافِعِيِّ عَلَى مَا قِيلَ، وَعِنْدَنَا لَا يُحْمَلُ الْمُطْلَقُ عَلَى الْمُقَيَّدِ وَإِنْ كَانَا فِي حَادِثَةٍ وَاحِدَةٍ لِإِمْكَانِ الْعَمَلِ، اور ہمارے نزدیک، بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو ضابطہ یہ تھا کہ مطلق کو محمول کیا جائے گا مقید پر اگرچہ دو الگ الگ حادثوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے نزدیک ایک حادثے میں ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی مطلق کو مقید پر محمول نہیں کریں گے۔ وَعِنْدَنَا لَا يُحْمَلُ الْمُطْلَقُ عَلَى الْمُقَيَّدِ وَإِنْ كَانَا فِي حَادِثَةٍ وَاحِدَةٍ، اور ہمارے نزدیک مطلق کو محمول نہیں کیا جائے گا مقید پر اگرچہ وہ دونوں ایک ہی حادثے، ایک ہی مسئلے میں کیوں نہ ہوں، بھئی کیوں نہیں محمول کیا جائے گا؟ کہتے ہیں لِإِمْكَانِ الْعَمَلِ بِهِمَا، بوجہ ان دونوں پر عمل کے ممکن ہونے کے۔ چونکہ دونوں پر عمل ممکن ہے، جب دونوں پر عمل ممکن ہے تو پھر کوئی ضرورت نہیں ہے مطلق کو مقید پر محمول کرنے کی۔ ہاں اگر عمل نہ ہو سکے پھر محمول کریں گے بھئی۔ اگر عمل نہ ہو سکے دونوں پر تو پھر محمول کریں گے، اگر جب دونوں پر عمل ممکن ہے مطلق کے اطلاق پر اور مقید کی تقیید پر تو پھر محمول نہیں کریں گے ہمارے نزدیک۔ إِذْ لَا تَضَادَّ وَلَا تَنَافِيَ بَيْنَهُمَا، اس لیے کہ دونوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے، کوئی منافات نہیں ہے۔ دونوں پر جب عمل ممکن ہے تو دونوں میں کوئی تضاد نہیں اور دونوں میں کوئی منافات نہیں، فَيَكُونُ فِي الظِّهَارِ الصِّيَامُ وَالتَّحْرِيرُ قَبْلَ التَّمَاسِّ، پس ظہار کے اندر جو ہے روزے اور تحریر یعنی آزاد کرنا قَبْلَ التَّمَاسِّ وہ اختلاط سے پہلے ہوگا یعنی صحبت کرنے سے پہلے ہوگا، وَالطَّعَامُ أَعَمُّ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَبْلَ التَّمَاسِّ أَوْ بَعْدَهُ، اور طعام جو ہے وہ عام ہوگا اس سے کہ وہ اختلاط سے پہلے ہو یا اختلاط کے بعد۔ طعام میں تو یہ قید نہیں، اور تحریر اور صیام میں مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا کی قید تھی، تو وہ مقید تھے اور یہ مطلق تھا اور دونوں پر عمل ہو سکتا ہے، مطلق کو کے اسی طرح مطلق رکھ کر اس پر عمل ہو سکتا ہے اور مقید کے اوپر تقیید کے ساتھ عمل ہو سکتا ہے تو لہٰذا اب ان کو محمول نہیں کیا جائے گا ایک دوسرے پر۔ وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي حَادِثَةٍ وَاحِدَةٍ، اور جب یہ ایک ہی مسئلے میں ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا فَفِي الْحَادِثَتَيْنِ بِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى، تو دو مسئلوں میں بطریق اولیٰ محمول نہیں کیا جائے گا مطلق کو مقید پر۔ فَيُحْكَمُ فِي الْقَتْلِ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ، پس حکم لگایا جائے گا قتل کے اندر کس کے آزاد کرنے کا؟ رقبہٴ مومنہ کے آزاد کرنے کا حکم لگایا جائے گا قتل میں۔ کیونکہ وہ مسئلہ الگ اور یمین اور ظہار الگ، تو یہاں پر ہمارے نزدیک ایک مسئلے کے اندر مطلق کو مقید پر محمول نہیں کرتے تو دو میں بطریق اولیٰ محمول نہیں کریں گے۔ لہٰذا ظہار اور یمین میں رقبہٴ مطلقہ ہے تو وہاں رقبہٴ مطلقہ ہی رکھیں گے اور قتل کے اندر رقبہٴ مومنہ ہے تو وہاں اس کو مقید اسی پر اسی طرح عمل کیا جائے گا اور مطلق پر اطلاق کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔ فَيُحْكَمُ فِي الْقَتْلِ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ، پس حکم حکم لگایا جائے گا قتل میں اعتاقِ رقبہٴ مومنہ کا، وَفِي غَيْرِهِ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَعَمَّ، اور اس کے علاوہ یعنی ظہار اور یمین کے اندر ایسے رقبہ کے اعتاق کا أَعَمَّ جو عام ہو۔ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمٍ وَاحِدٍ، مگر یہ کہ یہ دونوں ایک ہی حکم میں ہوں مِثْلُ صَوْمِ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، جیسے کہ کفارہٴ یمین کا روزہ ہے۔ ایک ہی حکم میں ہوں پھر تو عمل ہی ممکن نہیں ہوگا۔ ایک جگہ سے پتہ چل رہا ہے ایک نص سے کہ یہ حکم مطلق ہے اور دوسری نص سے بعینہٖ اسی حکم کا پتہ چل رہا ہے کہ یہ مقید ہے، اب ایک حکم پر وہ مطلق بھی ہو، مقید بھی ہو یہ تو عمل ہو ہی نہیں سکتا تو وہاں مجبوری ہوتی ہے تو چنانچہ پھر ہم وہاں مطلق کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ مقید پر، جیسے یمین کے کفارے کا روزہ ہے۔ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، پس جو شخص نہ پائے یعنی وہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا اور غلام وغیرہ آزاد کرنا جو ہے وہ اگر اس کو میسر نہ ہوں فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، تو وہ روزے رکھے تین دن۔ اور یہاں تین دن کے ساتھ متتابعات کی قید نہیں، مسلسل کی قید نہیں، تو یہ مطلق ہوا، مطلق ہوا، فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْعَامَّةِ مُطْلَقَةٌ، پس عام اکثر کی قرائت کیا ہے؟ مطلق ہے بھئی، وَقِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ مُقَيَّدَةٌ بِالتَّتَابُعِ، اور جب جبکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرائت جو ہے فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، وہاں متتابعات مسلسل کی قید ہے تو یہ مُقَيَّدَةٌ بِالتَّتَابُعِ مقید ہے تتابع کے ساتھ، یہ روزے کیا ہیں؟ مقید ہیں تتابع پے در پے ہونے چاہئیں۔ وَالْقِرَاءَتَانِ بِمَنْزِلَةِ الْآيَتَيْنِ فِي حَقِّ الْمُعَامَلَةِ، اور دو قرائتیں جو ہیں وہ دو آیتوں کے درجے میں ہوتی ہیں فِي حَقِّ الْمُعَامَلَةِ کسی معاملے کے حق میں۔ اگرچہ یہی آیت ہے لیکن حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرائت میں متتابعات کی قید موجود تو وہ ہوا مقید، اور عام جو قرائتیں ہیں ان میں مطلق کی قید وہ مطلق ہے تو لہٰذا دو یہ دو اگرچہ ایک آیت ہے لیکن قرائتیں تو دو آ گئیں اور دو قرائتیں کس کے درجے میں ہیں؟ دو آیتوں کے درجے میں ہیں بھئی۔ فِي حَقِّ الْمُعَامَلَةِ ایک معاملے میں، تو گویا یوں سمجھو ایک آیت میں ایک چیز مطلق بیان ہوئی اور دوسری آیت میں وہی چیز بعینہٖ مقید بیان ہوئی۔ فَيَجِبُ هَاهُنَا أَنْ يُقَيَّدَ قِرَاءَةُ الْعَامَّةِ أَيْضًا بِالتَّتَابُعِ، پس واجب ہوا کہ یہاں پر مقید کیا جائے عام قراء کی قرائت کو کس قید کے ساتھ؟ تتابع کی قید کے ساتھ اس کا اعتبار کیا جائے۔ لِأَنَّ الْحُكْمَ، اس لیے کہ حکم وَهُوَ الصَّوْمُ، اور وہ روزہ ہے لَا يَقْبَلُ وَصْفَيْنِ مُتَضَادَّيْنِ، وہ دو متضاد وصفوں کو قبول نہیں کرتا۔ جو کفارہٴ یمین ہے تین روزے یا تو وہ مطلق ہو سکتے ہیں یا وہ مقید ہو سکتے ہیں، ایک ہی حکم مطلق بھی ہو، مقید بھی ہو یہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ دونوں متضاد وصف ہیں، مطلق اور مقید ہونا ایک دوسرے کی ضد ہیں، یا تو ان کو مطلق ماننا پڑے گا یا مقید۔ فَإِذَا ثَبَتَ تَقْيِيدُهُ بَطَلَ إِطْلَاقُهُ، تو جب اس کی تقیید ثابت ہوئی تو اس کا اطلاق باطل ہو جائے گا۔ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّمَا لَمْ يَحْمِلْ هَذَا الْمُطْلَقَ عَلَى الْمُقَيَّدِ، امام شافعی رحمہ اللہ محمول نہیں کرتے اس مطلق کو مقید پر، مَعَ أَنَّهُ قَاعِدَةٌ مُسْتَمِرَّةٌ لَهُ، باوجود اس کے کہ یہ ان کا مستمراََ قاعدہ ہے استمرار کے ساتھ یہ قاعدہ ہے یعنی دائمی قاعدہ ہے اگرچہ یہ ان کا دائمی قاعدہ ہے، کون سا پیچھے گزرا تھا؟ کہ مطلق کو ہمیشہ کس پر محمول کریں گے؟ مقید پر، لیکن یہاں پر وہ مطلق کو مقید پر محمول نہیں کرتے، کیوں؟ کہتے ہیں لِأَنَّهُ لَا يَعْمَلُ بِالْقِرَاءَاتِ الْغَيْرِ الْمُتَوَاتِرَةِ مَشْهُورَةً أَوْ آحَادًا، اس لیے کہ وہ عمل نہیں کرتے قرائت غیر متواترہ پر بھئی۔ بھئی سات قرائتیں تو متواتر ہیں اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو قرائت ہے وہ متواتر نہیں، تو وہ غیر متواتر ہوئے اور امام شافعی رحمہ اللہ غیر متواتر قرائت پر عمل ہی نہیں کرتے مَشْهُورَةً أَوْ آحَادًا، چاہے وہ مشہور ہو یا آحاد ہو بھئی۔ بھئی ایک متواتر ہوتا ہے، ایک مشہور، ایک آحاد، یہ ہے ذہن میں یعنی پہلے بیان ہو چکا؟ متواتر جس کو نقل کرنے والے اتنے زیادہ ہوں ہر طبقے کے اندر کہ ان کا اجتماع علی الکذب محال ہو۔ اور مشہور جس میں اتنے زیادہ روایت کرنے والے تو نہیں لیکن کسی بھی طبقے میں روایت کرنے والے تین سے کم نہیں، اور آحاد جو کے روایت کرنے والے کسی ایک یا تمام طبقوں میں تین سے کم ہوں بھئی۔ فَالْمِثَالُ الْمُتَّفَقُ عَلَى قَبُولِهِ، پس وہ مثال کہ اتفاق ہے اس کے قبول کرنے پر، یہ تو مختلف فیہ مثال تھی بھئی ہمارے نزدیک یہاں مطلق کو مقید پر محمول کریں گے، ان کے نزدیک محمول نہیں کریں گے۔ وہ مثال کہ اتفاق ہے جس کے قبول کرنے پر، وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے لِأَعْرَابِيٍّ، دیہاتی سے، جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اس دیہاتی سے جس نے صحبت کی اپنی بیوی سے رمضان کے دن میں مُتَعَمِّدًا، جان بوجھ کر، اس سے جو حضور علیہ السلام نے فرمایا: صُمْ شَهْرَيْنِ، یہ آیا حضور علیہ السلام کا قول بھئی: صُمْ شَهْرَيْنِ، روزے رکھو دو ماہ، وَفِي رِوَايَةٍ، اور دوسری روایت میں آتا ہے: صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، دو ماہ کے لاگتار روزے رکھو۔ اب دیکھیے بھئی، ایک میں دو ماہ کے روزے مطلق ہیں، دوسرے میں دو ماہ کے روزے مقید ہیں لگاتار کی قید کے ساتھ۔ وَحِينَئِذٍ يَرِدُ عَلَيْنَا، تو اس میں اب یہاں پر دونوں متتابعین کی قید کا اعتبار کرتے ہیں، ہم بھی کرتے ہیں اور امام شافعی، کیونکہ ایک ہی حکم بیان ہو رہا ہے وہ روزے یا تو مطلق ہو سکتے ہیں یا مقید، ایک وصف ہی ہو سکتا ہے، جب مقید ثابت ہے تو اطلاق کیا ہوا؟ باطل ہوا، ان کے نزدیک بھی مسلسل روزے رکھنے پڑیں گے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اور ہمارے نزدیک بھی۔ وَحِينَئِذٍ يَرِدُ عَلَيْنَا أَنَّكُمْ إِذَا قَرَّرْتُمْ أَنَّهُ يَجِبُ الْعَمَلُ بِالْحَمْلِ فِي الْحَادِثَةِ الْوَاحِدَةِ وَالْحُكْمِ الْوَاحِدِ، اب ہمارے پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے، اعتراض یہ کہ اے احناف! آپ کا مذہب یہ ہے کہ ایک ہی حکم کے بارے میں اگر ایک حکم مطلق ایک نص مطلق ہو اور دوسری نص مقید ہو ایک ہی حکم کے بارے میں، تو آپ کیا کرتے ہیں؟ مطلق کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ مقید پر۔ تو یہاں آپ کا ضابطہ ہم دکھاتے ہیں، آپ اپنے ضابطے پر عمل نہیں کر رہے، اس کے خلاف کر رہے ہیں۔ کس طرح؟ کہ صدقہٴ فطر کے بارے میں ایک حدیث میں آتا ہے: أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، کہ صدقہٴ فطر ادا کرو ہر آزاد اور ہر غلام کی طرف سے، غلام کے ساتھ کوئی قید نہیں ہے کہ وہ کافر ہو یا مومن ہو، ہر ایک کی طرف سے ادا کرو۔ اور دوسری حدیث میں آتا ہے: أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ہر آزاد کی طرف سے اور ہر اس غلام کی طرف سے جو مسلمانوں میں سے ہو اس کی طرف سے ادا کرو۔ تو یہاں ایک میں مسلمان ہونے کی قید ہے، ایک میں مسلمان ہونے کی قید نہیں، تو ایک مقید ایک مطلق، تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ مطلق کو مقید پر محمول کرنا چاہیے، معلوم ہوا صدقہٴ فطر صرف مسلمان غلام کا ہونا چاہیے، کافر غلام کا نہیں ہونا چاہیے، لیکن آپ یہاں مطلق کو مقید پر محمول نہیں کرتے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَحِينَئِذٍ يَرِدُ عَلَيْنَا، اور اس وقت ہمارے اوپر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ أَنَّكُمْ إِذَا قَرَّرْتُمْ، کہ جب تم نے یہ مان لیا یہ ثابت کر دیا کہ أَنَّهُ يَجِبُ الْعَمَلُ بِالْحَمْلِ، کہ واجب ہے عمل کرنا حمل پر، واجب ہے عمل کرنا حمل پر یعنی حمل کرنا واجب ہے فِي الْحَادِثَةِ الْوَاحِدَةِ وَالْحُكْمِ الْوَاحِدِ ایک ہی حادثے اور ایک ہی حکم کے اندر۔ فَفِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، تو حضور علیہ السلام کے اس قول کے اندر: أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، ادا کرو صدقہٴ فطر ہر آزاد اور غلام کی طرف سے، وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور حضور علیہ السلام کے اس قول میں: أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ادا کرو ہر آزاد اور ہر اس غلام کی طرف سے جو مسلمانوں میں سے ہو۔ يَنْبَغِي أَنْ يُحْمَلَ الْمُطْلَقُ عَلَى الْمُقَيَّدِ، تو مناسب یہ ہے کہ محمول کیا جائے مطلق کو کس پر؟ مقید پر۔ إِذِ الْحَادِثَةُ وَاحِدَةٌ، کیونکہ حادثہ اور مسئلہ ایک ہی ہے وَهِيَ صَدَقَةُ الْفِطْرِ، اور وہ صدقہٴ فطر ہے، وَالْحُكْمُ وَاحِدٌ، اور حکم بھی ایک ہی ہے وَهُوَ أَدَاءُ الصَّاعِ أَوْ نِصْفِهِ، ایک صاع یا نصف صاع کا ادا کرنا۔ فَأَجَابَ بِقَوْلِهِ، تو جواب دیا مصنف نے اس کا اپنے اس قول کے ذریعے: وَفِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ، اور اس صدقہٴ فطر وہ صدقہ صدقہٴ فطر جو ہے، وَرَدَ النَّصَّانِ فِي السَّبَبِ، صدقہٴ فطر میں دو نصیں وارد ہوئی ہیں، دو نصیں آئی ہیں یعنی دو حدیثیں آئی ہیں فِي السَّبَبِ، کس کے اندر؟ سبب میں۔ وَلَا مُزَاحَمَةَ فِي الْأَسْبَابِ، اور اسباب میں کوئی مزاحمت، کوئی مقابلہ نہیں ہے بھئی، فَوَجَبَ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا، تو واجب ہوا ان کے درمیان جمع کرنا۔ بھئی حکم کے اندر تو مزاحمت ہے، حکم یا تو مطلق ہو سکتا ہے یا مقید، ایک پر عمل ہو سکتا ہے، ایک وقت میں دونوں پر عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ سبب؟ سبب ایک چیز کے دو ہو جائیں، تین ہو جائیں، چار ہو جائیں، 10 ہو جائیں اسباب میں تو کوئی مقابلہ نہیں ہے بھئی، لہٰذا اور یہاں پر صدقہٴ فطر کے سبب میں کے بارے میں دو نصیں آئیں۔ پہلا پہلی نص بتلا رہی ہے کہ صدقہٴ فطر کا سبب مطلقِ راس ہے، کیا بتلا رہی ہے؟ مطلقِ راس، یہ سبب ہے یعنی ذات ذات، جتنی ذات جتنے افراد ہوں گے ان سب کی طرف سے ادا کرو، اور دوسرا کیا بتلا رہی ہے دوسری نص؟ صدقہٴ فطر کا سبب ذاتِ مسلم ہے بھئی، تو ایک میں سبب ذاتِ مسلم، ایک میں سبب مطلق آیا، تو دونوں میں کوئی تعارض نہیں، وہ بھی سبب اور یہ بھی سبب۔ ہاں یہ اعتراض ہوتا ہے پھر فائدہ کیا ہوا؟ مطلق کے اندر ہی مسلم بھی تو آ گیا تھا، الگ ذکر کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ تو جواب یہ کہ افضل بطلانے کے لیے، اس کی اہمیت بطلانے کے لیے بھئی، کہ اہم یہ ہے بھئی، یعنی یہ اہم ہے، یہ زیادہ لائق ہے سبب بننے کے، اگرچہ سبب کافر ذات بھی بن رہی ہے، کافر غلام بھی بن رہا ہے لیکن یہ مسلمان زیادہ لائق ہے سبب بننے کے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ وَرَدَ النَّصَّانِ فِي السَّبَبِ، اور صدقہٴ فطر میں دو نصیں وارد ہوئی ہیں سبب کے اندر، وَلَا مُزَاحَمَةَ فِي الْأَسْبَابِ، اور اسباب کے اندر تو کوئی مزاحمت کوئی مقابلہ نہیں ہے، فَوَجَبَ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا، تو واجب ہوا ان دونوں کے درمیان جمع کرنا، يَعْنِي أَنَّ مَا قُلْنَا، یعنی وہ جو ہم نے کہا کہ إِنَّهُ يُحْمَلُ الْمُطْلَقُ عَلَى الْمُقَيَّدِ فِي الْحَادِثَةِ الْوَاحِدَةِ وَالْحُكْمِ الْوَاحِدِ، وہ جو ہم نے کہا تھا کہ مطلق کو محمول کیا جائے گا مقید پر ایک ہی حادثے میں اور ایک ہی حکم میں، إِنَّمَا هُوَ إِذَا وَرَدَا فِي الْحُكْمِ، جو یہ اس وقت ہے جب یہ دونوں ایک ہی حکم میں وارد ہوں لِلتَّضَادِّ، بوجہ تضاد کے کہ وہاں تو تضاد تھا عمل نہیں ہو سکتا تھا ”واما اذا ورد فی الاسباب او الشروط“ اور اگر باقی جب اگر دو نصیں وارد ہوئی ہوں یا یہ یہ المطلق اور المقید وارد ہوں ”فی الاسباب“ کس کے اندر؟ اسباب میں اور یا شروط میں ”فلا مضایقۃ فیہ“ تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں بھئی۔ کوئی حرج نہیں اس کے اندر ”ولا تضاد“ اور اس میں کوئی تضاد نہیں ”فیمکن ان یکون المطلق سببا باطلاقه“ پس ممکن ہے کہ مطلق جو ہے وہ سبب ہو اپنے اطلاق کے ساتھ ”والمقید سببا بتقییده“ اور مقید سبب ہو اپنی تقیید کے ساتھ ”فالحاصل حاصل“ حاصل یہ کہ ”ان فی اتحاد الحکم والحادثۃ یجب الحمل بالاتفاق“ کہ حکم اور حادثہ جب دونوں متحد ہوں تو واجب ہے حمل کرنا بالاتفاق، ہمارے نزدیک بھی مطلق کو کا حمل کس پر ہوگا؟ مقید پر، جب حادثہ بھی ایک ہو اور حکم بھی ایک ہو اور اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ”وفی تعددهما لا یجب الحمل بالاتفاق“ اور جب دونوں کے دونوں متعدد ہوں یعنی حادثے بھی دو ہوں اور حکم بھی دو ہوں تو پھر ”لا یجب الحمل بالاتفاق“ تو پھر حمل واجب نہیں ہے بالاتفاق ”وفیما سواهما اختلاف“ اور ان کے علاوہ میں اختلاف ہے ”وتحقیق ذلک فی التوضیح“ اور تحقیق اس کی کس کے اندر ہے؟ توضیح کے اندر ہے۔ ”ثم شرع فی جواب الشافعی رحمہ اللہ“ پھر شروع ہوئے مصنف امام شافعی رحمہ اللہ کا جواب دینے میں ”فقال“ پس فرمایا ”ولا نسلم ان القید بمعنی الشرط“ اور ہمیں یہ تسلیم ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قید کس کے معنی میں ہوتی ہے؟ شرط۔ اپ نے کہا تھا وصف کس کے معنی میں ہوتا ہے؟ شرط، وصف ہے تو حکم ہے، وصف نہیں تو حکم بھی نہیں۔ ہمیں اولاً تو یہ بات ہی تسلیم نہیں ہے کہ قید یعنی وصف کس کے معنی میں ہوتا ہے؟ شرط ”لان الوصف قد یکون اتفاقیا“ اس لیے کیونکہ وصف کبھی کبھار کیا ہوتا ہے؟ اتفاقی ہوتا ہے جیسے اللہ کے اس قول میں ایا تھا ”وربائبکم اللاتی فی حجورکم“ یہاں وصف کیا ہے؟ اتفاقی ہے ”وقد یکون بمعنی العله“ اور کبھی کبھار وصف کس معنی میں ہوتا ہے؟ علت کے معنی میں ہوتا ہے جیسے السارق اور الزانی اور کبھی کبھار جو ہے وصف جو ہے کشف کے لیے ہوتا ہے یعنی اسی موصوف کے معنی کو کھولنے کے لیے جیسے مثال گزری تھی بھئی ”الجسم العریض الطویل العمیق“ تو ”العریض الطویل العمیق“ یہ صفت ہے جسم کی اور اسی کے معنی کو کھول کر بیان کر رہی ہے کیونکہ جسم کہتے ہی کس کو ہیں؟ جس میں طول، عرض اور عمق ہو بھئی ”او للمدح“ اور کبھی صفت کس لیے ہوتی ہے؟ مدح کے لیے ہوتی ہے جیسے بسم اللہ الرحمن الرحیم بھئی۔ یاد رکھیے نکرہ کے اندر صفت ائے تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، تخصیص کا فائدہ اور معرفہ کے اندر معرفہ کی صفت لائی جائے تو وہ توضیح کا فائدہ دیتی ہے۔ توضیح کا معنی یہ ہے غیر کے احتمال کو ختم کر دیتی ہے، مثلاً میں نے کہا جاءنی زید العالم، ایا میرے پاس وہ زید جو عالم ہے عالم ہے تو العالم اس زید کے اندر عالم ہونے کا بھی احتمال تھا اور عالم نہ ہونے کا بھی احتمال تھا۔ تو العالم صفت نے ا کر کیا کر دیا؟ غیر عالم ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا، تو دیکھو زید ہے معرفہ، معرفہ کی جب صفت لائی جائے وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ توضیح کا، توضیح کا کیا معنی؟ غیر کے احتمال کو ختم کر دیتی ہے، غیر کے احتمال کو تو یہاں سے کس احتمال کو ختم کیا العالم نے؟ غیر عالم ہونے کو۔ اچھا لیکن اگر یہی صفت پہلے سے معلوم ہو اپ کو، اپ کو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ زید عالم ہے، میں پھر بھی کہتا ہوں جاءنی زید العالم تو پھر یہ کس لیے ہوگی؟ یہ مدح کے لیے ہوگی بھئی کیونکہ اپ کو پہلے سے ہی پتہ ہے زید عالم ہے، اس میں غیر عالم ہونے کا احتمال اپ کے نزدیک ہے ہی نہیں۔ تو یہ جو میں پھر صفت لایا یہ کس لیے ہوگی؟ مدح کے لیے۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ اسی طرح بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کی دو صفات ذکر کی گئیں الرحمن، الرحیم اور لفظِ اللہ ہے معرفہ اور معرفہ کی صفت ائے تو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ توضیح، توضیح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ غیر کے احتمال کو ختم کر دینا۔ لیکن یہاں پر یہ الرحمن اور الرحیم جو صفات ہیں یہ توضیح کے لیے نہیں ہیں یہ مدح کے لیے ہیں، توضیح کے لیے اس لیے نہیں کیونکہ اللہ کی ذات الرحمن اور الرحیم ہے وہاں غیرِ رحمن یا غیرِ رحیم ہونے کا امک- احتمال ہی نہیں ہے، اللہ کی ذات تو ارحم الراحمین ہے تو لہذا توضیح کے لیے یہ صفت نہیں، جب توضیح کے لیے نہیں تو کس لیے ہے؟ مدح کے لیے ہے۔ اسی طرح اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، شیطان کی صفت رجیم لائی گئی، الشیطان معرفہ، الرجیم صفت معرفہ کی لائی گئی اور معرفہ کی صفت لائی جائے تو وہ توضیح کا فائدہ دیتی ہے اور توضیح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ غیر کے احتمال کو ختم کر دینا لیکن یہاں پر یہ صفت جو ہے توضیح کے لیے نہیں بلکہ یہ مذمت کے لیے ہے، توضیح کے لیے اس لیے نہیں کیونکہ شیطان کے اندر غیرِ رجیم ہونے کا احتمال ہے ہی نہیں، شیطان جو ہے وہ مردود ہی مردود ہے کسی بھی درجے میں وہاں غیرِ مردود ہونے کا احتمال نہیں بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں ”لا نسلم ان القید بمعنی الشرط“ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ قید شرط کے معنی میں یعنی وصف شرط کے معنی میں ہوتا ہے کیونکہ وصف تو بہت سی باتوں کبھی کس لیے اتا ہے؟ اتفاقی طور پر وصف لایا جاتا ہے، کبھی وصف علت کے درجے میں ہوتا ہے، کبھی وہ کشف کے لیے ہوتا ہے، کشف کا معنی کھولنا یعنی وہی موصوف کے معنی کو کھول کر بیان کرتا ہے، کبھی وصف کس لیے ہوتا ہے؟ مدح کے لیے ہوتا ہے، کبھی وصف کس لیے ہوتا ہے؟ مذمت کے لیے، تو لہذا پہ یہ جب یہ مختلف مقاصد کے لیے ہوتا ہے تو لہذا یہ کہنا کہ وصف ہے تو حکم ہے، وصف نہیں تو حکم بھی نہیں یہ درست نہیں بھئی، یہ ہمیں تسلیم نہیں۔ ”ولئن کان“ اور اگر ای- اگر ہو ایسا یعنی اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ وصف کس کے معنی میں ہے؟ شرط کے معنی میں ہے ”فلا نسلم“ تو پھر ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے ”انه یوجب النفی“ کہ وہ کس کو ثابت کرتا ہے؟ نفی کو کہ جب وہ نہیں ہوگا تو حکم بھی نہیں ہوگا یہ پھر ہمیں تسلیم نہیں ہے بھئی ”لان المتنازع فیہ هو الشرط النحوی“ اس لیے کیونکہ متنازع فیہ یعنی جس میں تنازع ہے، جس میں جھگڑا ہے وہ شرطِ نحوی ہے، وہ شرطِ نحوی ”الذی تدخل علیہ الادوات“ جس پر ادوات داخل ہوں یعنی ادواتِ شرط بھئی ”ان“ وغیرہ، جس پر ”ان“ وغیرہ داخل ہوتے ہیں وہ شرطِ نحوی جو ہے ”ان ضربت زیدا فاکرم عمرا“ شرط کون؟ ”ان ضربت زیدا“ کس سے پتہ چلا اپ کو؟ ”ان“ سے، تو دیکھا یہ ادواتِ شرط بتلاتے ہیں شرط یہ شرط ہے، تو کہتے ہیں اختلاف اور جھگڑا تو اس شرط کے اندر ہے، اس شرطِ نحوی میں ہے جس پر ادواتِ شرط داخل ہوتے ہیں۔ ”ولا تاثیر لنفیه فی نفی الحکم“ اور اس شرط کی کوئی تاثیر نہیں ہے وہ کوئی اثر نہیں دکھاتی ”لنفیه فی نفی الحکم“ اس کی نفی کی وجہ سے نفیِ حکم ہو، اس کی وجہ سے نفیِ نفیِ شرط کی وجہ سے نفیِ حکم ہو اس میں شرط تا- اثر نہیں ڈالتی اثر نہیں دکھاتی۔ تو جب شرط نہیں دکھاتی تو جو شرط جیسا ہے وہ بطریقِ اولیٰ نہیں ہوگا۔ تو جھگڑا تو کس میں ہے؟ شرط میں ہے۔ باقی وصف وصف تو اپ نے یہ کہا نہ شرط جیسا ہے تو پہلے شرط کے اندر تو یہ بات ثابت کر دیں کہ شرط کی نفی ہوگی تو حکم کی بھی ہمیں شرط میں یہ بات تسلیم نہیں ہے، یہ ٹھیک ہے شرط ہے تو حکم بھی ہے لیکن شرط نہ ہو تو حکم بھی نہ ہو ایسا یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے۔ ”لان نفی الحکم نفی اصلی لا شرعی علی ما قدمنا“ اس لیے کیونکہ نفیِ حکم جو ہے وہ نفیِ اصلی ہے نہ کہ نفیِ شرعی بناء بر اس کے جو ہم نے ا مقدم ذکر کر دیا، پہلے ذکر کر دیا۔ ”ولئن کان“ اور اگر ایسا ہو، پہلی بات کیا کہی انہوں نے؟ کہ ہمیں تو یہ بات ہی تسلیم نہیں کہ وصف کس کے درجے میں ہے؟ شرط کے درجے۔ اگر یہ بات ہم تسلیم کر لیں کہ وصف شرط کے معنی میں ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ وصف کی نفی سے حکم کی بھی نفی، اگر ہم یہ بھی تسلیم کر لیں کہ وصف کی نفی سے حکم کی نفی ہوگی تو پھر بھی ایک حکم دوسری جگہ تب ہی ثابت کریں گے اپ جب دونوں چیزوں میں مماثلت ہو، ایک چیز دوسری چیز جیسی ہوگی تو اس کا حکم وہاں بھی لگائیں گے، جب ایک چیز اس جیسی ہی نہیں مماثلت ہی نہیں دونوں میں تو حکم بھی نہیں لگا سکتے۔ لہذا ایک طرف ہے قتل، ایک طرف ہے کف- ظہار، قتل اور ظہار ایک جیسی چیزیں ہی نہیں ہیں، قتل سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے اور ظہار اس جتنا بڑا گناہ نہیں ہے، اس تیسری طرف یمین ہے اس کا درجہ اس سے بھی کم ہے بھئی، تو لہذا مماثلت ثابت کر دیں تو پھر ہم تعدیِ حکم کو بھی مان لیں گے۔ اولاً تو ہمیں یہی تسلیم نہیں کہ یہ وصف شرط کے درجے میں ہے، اگر تسلیم کر لیں تو پھر یہ تسلیم نہیں کہ حکم وصف کی نفی سے حکم کی بھی نفی، اگر یہ بھی ہم تسلیم کر لیں کہ ٹھیک ہے وصف کی نفی سے حکم کی بھی نفی ہو جائے گی، اپ اس حکم کو متعدی بھی کر سکتے ہیں لیکن پہلے مماثلت تو بتاؤ کہ یہ دونوں چیزیں ایک جیسی ہیں، یہ اس جیسی ہوگی تو حکم کو بھی کیا کر دینا متعدی کر لینا، جب ایک جیسی نہیں تو حکم بھی متعدی نہیں ہوگا۔ ”ولئن کان“ اور اگر یہ دونوں اگر یہ بھی ایسا ہو بھی ”فانما یصح الاستدلال بہ علی غیرہ“ تو صحیح ہے استدلال کرنا اس کے ذریعے اس کے علاوہ پر ”ان صحت المماثلۃ“ اگر مماثلت صحیح ہو یعنی درست ہو۔ ”ولیس کذلک“ اور ایسا نہیں ہے ”فان القتل من اعظم الکبائر“ اس لیے کیونکہ قتل اعظمِ کبائر میں سے ہے بھئی، کبیرہ گناہوں میں سے بڑا گناہ ہے بھئی شرک کے بعد بھئی، یعنی ”لو سلمنا“ یعنی اگر ہم تسلیم کر لیں ”نفی الحکم فی الاصل المنصوص“ نفیِ حکم کو تسلیم کر لیں کس کے اندر؟ اصل اس اصل کے اندر جو منصوص ہے جس پر نص لائی گئی ہے ”لکن لا نسلم المساواۃ بینہ وبین المسکوت“ یعنی اگر اس میں اگر ہم تسلیم کر بھی لیں کہ نفیِ وصف سے نفیِ حکم ہوگا لیکن پھر دوسرے میں ہمیں تسلیم نہیں کیونکہ وہاں مساوات نہیں ہے بھئی ”لکن لا نسلم المساواۃ بینہ وبین المسکوت“ لیکن ہمیں تسلیم نہیں ہے مساوات، برابری اس کے درمیان جو منصوص ہے ”وبین المسکوت“ اور جو مسکوت ہے جس پر سکوت کیا گیا ”حتی يحمل عليه“ یہاں تک کہ اس کو اس کو اس پر محمول کیا جائے ”فان القتل من اعظم الکبائر“ اس لیے کیونکہ قتل اعظمِ کبائر میں سے ہے ”فيمكن ان تشترط فیہ الرقبۃ المؤمنۃ“ تو ممکن ہے یہ ممکن ہے اس کے اندر رقَبہ مومنہ کی شرط لگائی جائے ”بخلاف الظهار“ بخلاف ظہار، بھئی دیکھیے اطلاق کے اندر وسعت ملحوظ ہوتی ہے، جب ایک چیز مطلق اللہ کی طرف سے مطلق حکم دیا جا رہا ہے کہ مطلق رقَبہ ازاد کر دو معلوم ہوا اللہ کی طرف سے سہولت مطلوب ہے کہ جو بھی چاہے کافر مل جائے اسے ازاد کر دو، مومن مل جائے تو اسے ازاد کر دو اور یہ جو تقیید مقید ہوتا ہے یہاں تنگی اور سختی مقصود ہوتی ہے کہ یہی والا کرنا ہے کسی اور کو یعنی مومن ہی کو ازاد کرنا ہے کسی اور کو ازاد نہیں کرنا، تو قتل چونکہ بڑا گناہ ہے تو اس کے اندر مقید ذکر کیا گیا سختی کہ یہی مومن غلام ازاد کرنا ہے کسی اور کو نہیں اور وہ ادنیٰ درجے کے گناہ تھے لہذا وہاں پر مطلق رکھا گیا کہ جو بھی غلام مل جائے اس کو کیا کر دو؟ ازاد کر دو تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔ تو قتل جو ہے وہ اعظمِ کبائر میں سے ہے ”فيمكن ان تشترط فیہ الرقبۃ المؤمنۃ“ تو ممکن ہے کہ اس کے اندر شرط لگائی جائے رقَبہ مومنہ کی ”بخلاف الظهار والیمین“ بخلاف ظہار اور یمین کے ”فانهما صغیرتان“ پس وہ دونوں صغیرہ ہیں ”يمكن جبرهما بالرقبۃ المطلقۃ“ وہ ممکن ہے ان دونوں کی تلافی رقَبہ مطلقہ کے ذریعے ”اعم من ان تکون کافرۃ او مؤمنۃ“ اس حال میں کہ وہ رقَبہ مطلقہ عام ہو اس سے کہ وہ کافرہ ہو یا مومنہ ہو ”وایضا توزیع کل منهما مختلف“ اور نیز ہر ایک کی تقسیم بھی مختلف ہے، ہر ایک کی تقسیم جو کفارہ اللہ ذکر فرما رہے ہیں دو دو تین تین چیزیں مختلف طریقوں سے اللہ ذکر فرما رہے ہیں، دیکھو ”فان فی القتل حکم اولا بالتحریر“ اس لیے کیونکہ قتل کے اندر حکم دیا گیا پہلے ازاد کرنے کا، غلام ازاد کرو ”ثم بالصوم“ پھر کہا گیا اگر غلام میسر نہ ہو تو پھر ”بالصیام فی الشهرین“ ”فی شهرین“ حکم دیا گیا روزوں کا دو ماہ میں یعنی مسلسل ”وفی الظهار“ اور ظہار میں ”حکم اولا بالتحریر“ پہلے حکم دیا گیا غلام ازاد کرنے کا ”ثم بالصیام فی شهرین“ پھر اگر وہ میسر نہ ہو تو پھر دو ماہ میں روزے رکھنے کا ”ثم باطعام ستین مسکینا“ پھر اس کے بعد 60 مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا گیا ”وفی الیمین خیر اولا“ اور قسم کے اندر جو ہے پہلے اختیار دیا گیا ”بین اطعام عشرۃ او کسوتہم او تحریر رقبۃ“ اختیار دیا گیا 10 مسکینوں کو کھانا کھلانے یا ان کو کپڑے پہنانے یا ایک غلام ازاد کرنے کے درمیان اختیار دیا گیا، جو بھی ان میں سے چاہو کر لو ”ثم ان لم یتیسر هؤلاء“ پھر اگر ان میں سے کوئی بھی میسر نہ ہو ”فصیام ثلاثۃ ایام“ پھر تین روزے ہیں ان کا حکم دیا گیا۔ ”فاللہ تعالی العالم بمصالح عبادہ“ پس اللہ تعالیٰ وہ جاننے والے ہیں اپنے بندوں کی مصلحتوں کو ”وحکمتہم“ اور ان کی حکمتوں کو ”قد حکم بما شاء فی کل جنایۃ علی حالہا“ تحقیق اللہ نے حکم دیا جو چاہا ہر جنایت کے اندر اس کے حال پر، جو جنایت جس حال جس قسم کی تھی اللہ نے اسی طرح کا حکم دیا ”فلا ينبغي لنا ان نتعرض لشيء منها“ پس ہمارے لیے مناسب نہیں ہے کہ ان میں سے کسی چیز کے پیچھے پڑیں ”او نحمل نص احدهما علی الاخر بالاطلاق والتقیید“ اور یہ کہ محمول کریں ان میں سے ایک کی نص کو ہم دوسرے پر اطلاق اور تقیید کے ساتھ کہ ایک مطلق ہے تو ہم اس کو کس پر مقید محمول کر لیں؟ مقید پر، ہمیں اس کے پیچھے نہیں پڑھنا چاہیے، جب اللہ نے ایک چیز کو مطلق رکھا ہے تو اس کو بھی مطلق رہنے دو، جس کو مقید رکھا ہے اس کو مقید رکھیں ”فان فیہ تضییع الاسرار اللتی اودعہا فیہا“ پس کیونکہ اس کے اندر کہ اگر ہم ایک کا حمل دوسری پر کر دیں تو اس میں تضییع الاسرار ضائع کرنا ہے ان اسرار کو ”اللتی اودعہا فیہا“ جو اللہ نے اس کے اندر ودیعت رکھے ہیں۔ ہر چیز کا اللہ نے ہر ایک کا الگ الگ حکم دیا ہے تو ہر ایک کے اپنے اسرار، اپنی حکمتیں ہیں، اللہ نے ہر ایک میں اس کے حکمت کے موافق، اپنی حکمت کے موافق حکم دیا ہے بھئی۔ تو اگر ہم ایک کو دوسرے پر محمول کریں گے تو وہ اسرار جو اللہ نے ان میں رکھے ہیں ان کو گویا کہ ضائع کرنا ہے، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقۃ الكلام۔
84 approved lectures · 29 of 84