Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-104

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Usman
📍 Location Kabul, Afghanistan
📅 Approved Date 09 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 22
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس 104 وَحَدِيثُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مَعْرُوفٌ وَهُوَ مَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حِينَ بَعَثَ مُعَاذًا إلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ بِمَ تَقْضِي يَا مُعَاذُ؟ فَقَالَ بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟ قَالَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟ قَالَ أَجْتَهِدُ بِرَأْيِي، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِهِ بِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُهُ. گزشتہ سبق میں ہم نے ادلہ اربعہ میں سے آخری دلیل یعنی قیاس کی بحث شروع کی تھی اور مصنف نے آپ کو بتلایا کہ عربی زبان میں قیاس جو ہے وہ تقدیر کو کہتے ہیں، اس کا معنی کیا ہے؟ تقدیر۔ یعنی اندازہ کر کے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ برابر کرنا۔ یہ لغوی معنی بیان کیا، اور اصطلاحِ شریعت میں، یعنی اس کی اصطلاحی تعریف جو ہے "تقدير الفرع بالأصل في الحكم والعلة"، برابر کرنا فرع کو اصل کے ساتھ حکم اور علت میں۔ حکم اور علت میں۔ اور چونکہ یہ تعریف جو ہے، یہ لغوی معنی کے زیادہ قریب تھی، اسی لیے مصنف نے اس تعریف کو اختیار کیا۔ ورنہ قیاس کی اور بھی تعریفیں کی گئی ہیں۔ اور اس پر پھر ایک اعتراض، ایک شبہ جو پڑتا تھا، اس کو اور اس کے جواب کو بھی شارح نے ذکر کیا کہ بعض علماء نے، تو یہ وہم ہوا کہ یہ قیاس کی تعریف جامع نہیں، کیونکہ یہ دو معدوم چیزوں کے درمیان قیاس کو شامل نہیں۔ وجہ یہ کہ اس کے اندر فرع اور اصل کا ذکر آیا، اور اصل بھی وجودی اور فرع بھی وجودی۔ اصل کسے کہتے ہیں؟ "ما يبتنى عليه غيره"، جس پر غیر کی بنیاد ہو۔ جیسے یہ دیواریں ہیں اور چھت بھئی، چھت کی بنیاد دیواروں پر ہے۔ چھت کی بنیاد؟ تو دیکھئے یہ دیواریں جو ہیں، ان پر غیر کی بنیاد ہے یعنی چھت کی، تو یہ چھت کے لیے اصل ہوئیں۔ اور فرع کسے کہتے تھے؟ "ما يبتنى على الغير"، وہ جس کی بنیاد غیر پر ہو۔ تو چھت کی بنیاد دیواروں پر ہے تو وہ فرع ہوئی۔ دیواریں ہوئیں اصل، اور چھت ہوئی فرع۔ تو اصل اور فرع کی یہ جو تعریف ہے، یہ دونوں وجودی چیزیں ہیں، یہ عدمی چیزوں کو شامل ہی نہیں۔ لہٰذا عدیم العقل، ایک شخص جو ہے وہ عدیم العقل ہے جنون کی وجہ سے، اس کو قیاس کرنا بچے پر کیونکہ وہ بھی عدیم العقل ہے، تو یہ قیاس اس کو، یہ تعریف آپ کی اس کو شامل نہیں ہو رہی تھی۔ تو جواب دیا تھا شارح نے کہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ اصل اور فرع کا اطلاق معدوم پر نہیں ہوتا۔ ہم اصل اور فرع کی وہ تعریف نہیں کرتے جو آپ نے سمجھی، بلکہ اصل وہ ہے جس کا حکم معلوم ہو۔ اور فرع وہ جس کا حکم پہلے معلوم نہ ہو بھئی۔ اب حکم معلوم ہو یا حکم معلوم نہ ہو، اس اعتبار سے اصل اور فرع کہا جائے گا اور یہ وجودی کو بھی شامل اور عدمی کو بھی، چاہے وجودی چیز ہے اس کا حکم معلوم ہے یا معلوم نہیں، یا ایک عدمی چیز ہے بھئی، دونوں اس میں داخل ہو گئے۔ اور اس کے بعد شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض علماء نے قیاس کی تعریف کی ہے، وہ حکم کو متعدی کرنا اصل سے فرع کی طرف۔ بتلایا کہ یہ تعریف بھی درست نہیں اس لیے کیونکہ اصل کے حکم کو نہیں متعدی کیا جاتا، اصل کا حکم تو اسی کے ساتھ ہے۔ بلکہ کس کو متعدی کیا جاتا ہے؟ اس کے مثلِ حکم کو بھئی، اس کے مثل، اس جیسے حکم کو متعدی کیا جاتا ہے۔ اگر اصل کے حکم کو متعدی کر دیا جائے تو اصل تو بغیر حکم کے رہ جائے گا، حالانکہ اصل کے ساتھ اپنا حکم اسی طرح قائم ہوتا ہے، ہاں اس جیسا حکم ہم دوسری چیز کو بھی دے دیتے ہیں اسی جیسی علت کی وجہ سے۔ چنانچہ کہتے ہیں اسی لیے بعضوں نے قیاس کی تعریف ابانت کے ساتھ کی، ابانت کا کیا معنی؟ ظاہر کرنا۔ تو قیاس بھی مظہرِ حکم ہے، مثبتِ حکم نہیں۔ یہ کوئی اپنی طرف سے نیا حکم ثابت نہیں کرتا قیاس، بلکہ قیاس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ حکم تو پہلے سے موجود تھا لیکن ہمیں علم نہیں تھا، قیاس نے آ کر اس کو ظاہر کر دیا۔ تو قیاس مظہرِ حکم ہے، مثبتِ حکم نہیں۔ پھر اس کے بعد آپ کو مصنف نے بتلایا کہ قیاس جو ہے، یہ حجت ہے، دلیل ہے نقل کے اعتبار سے بھی اور عقل کے اعتبار سے بھی۔ نقل سے کیا مراد؟ قرآن و حدیث۔ قرآن و حدیث بھی، اس سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ قیاس حجت ہے، اور عقل بھی یہی بتلاتی ہے کہ قیاس کو حجت ہونا چاہیے بھئی۔ نقل کی ایک، جی، تو یہ مصنف نے فرمایا بھئی۔ اور پھر بعض علماء جو اس کا رد کرتے تھے، انکار کرتے تھے، ان کے جواب میں یہ مصنف نے ذکر کیا تھا کہ یہ حجت ہے قیاس نقلاً بھی اور عقلاً بھی۔ اور پھر ان منکرینِ قیاس کے تین ادلہ ذکر کیے تھے اور ان کے جوابات دیےے۔ پہلا اعتراض، پہلا اعتراض، پہلی دلیل ان کی کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ" کہ ہم نے آپ پر اے پیغمبر ایسی کتاب نازل کی ہے جو بیان کرنے والی ہے ہر چیز کو۔ بیان کرنے والی ہے ہر چیز کو۔ جب وہ ہر چیز کو بیان کر رہی ہے تو قیاس کی حاجت نہیں، قیاس کی ضرورت نہیں۔ تو جواب دیا تھا بھئی کہ قیاس کتاب اللہ ہی کے اندر موجود حکم کو ظاہر کرنے والا ہے۔ جی اس کے لیے کاشف ہے، یہ کوئی اس کے مخالف نہیں ہے۔ کتاب اللہ ہر چیز کو بیان کر رہی ہے لیکن بعض چیزیں اس کے اندر خفی ہیں، بعض جلی ہیں، ظاہر ہیں۔ جو ظاہر ہیں وہ تو ہر ایک کو سمجھ میں آ جائیں گی لیکن جو خفی ہیں وہ ان کا پتہ نہیں چلے گا، تو قیاس کیا کرتا ہے؟ اسی کو کھول کر بیان کر دیتا ہے۔ تو قیاس مظہرِ حکم ہے، مثبتِ حکم نہیں، تو قیاس اس بات کے مخالف نہیں کہ جو قرآن میں آیا کہ قرآن ہر چیز کو بیان کرنے والا ہے۔ اور دوسری دلیل ان کی ذکر کی تھی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کا معاملہ ہمیشہ درست رہا، سیدھا رہا، یہاں تک کہ ان میں باندیوں کی اولاد بڑھ گئی تو انہوں نے قیاس کیا "ما لم يكن"، جو چیز نہیں تھی اس کو قیاس کیا "بما قد كان"، جو چیز تھی۔ تو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ معلوم ہوا قیاس تو گمراہی کا سبب ہے، لہٰذا قیاس نہیں کرنا چاہیے، یہ ان منکرینِ قیاس کی دلیل چل رہی ہے۔ ہم نے جواب دیا اس کا کہ بھئی بنی اسرائیل کا قیاس جو تھا جس کی وجہ سے وہ گمراہی میں پڑھ گئے، وہ صرف شرارت اور ضد کی وجہ سے تھا، وہ صرف شرارت اور ضد کے طور پر قیاس کرتے تھے، جبکہ ہمارا قیاس جو ہے حکم کو ظاہر کرنے کے لیے ہے، تو یہ وہ قیاس ہے ہی نہیں، یہ اور چیز ہے، وہ اور چیز۔ تیسری دلیل انہوں نے یہ ذکر کی تھی کہ بھئی قیاس کی اصل یعنی علت کے اندر ہی شبہ ہے، مجتہد ایک چیز کی ایک علت نکالتا ہے، ہو سکتا ہے یہ علت ہی نہ ہو، علت کوئی اور چیز ہو، تو جس چیز کی اصل کے اندر شبہ ہو وہ حجت نہیں بن سکتی۔ حجت نہیں بن سکتی۔ تو جواب دیا کہ بھئی قیاس کی اصل میں شبہ ہے، ٹھیک ہے یہ بات ہمیں تسلیم، لیکن تو یہ عمل کے، یہ عمل کے منافی نہیں ہے، یقین کے تو منافی ہے، ٹھیک ہے شبہ ہے، یقینی نہیں، لیکن عمل کے منافی نہیں، عمل پھر بھی کیا جائے گا، جیسے کہ خبرِ واحد جو ہے، خبرِ واحد، وہ بھی یقینی نہیں، یقین کا فائدہ تو نہیں دیتی، لیکن عمل اس پر واجب ہے، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ جوابات سمجھ میں آ گئے بھئی؟ یہ پھر تھے منکرینِ قیاس کے ادلہ اور ان کے جوابات۔ اس کے بعد جو انہوں نے اوپر ذکر کیا تھا متن میں کہ قیاس حجت ہے نقلاً بھی اور عقلاً بھی۔ نقلاً یعنی قرآن و حدیث سے۔ قرآن و حدیث بھی یہی بتلاتے ہیں کہ قیاس حجت ہے، چنانچہ قرآن سے ایک آیت ذکر کی: "فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ"۔ "فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ"۔ اور بتلایا کہ اعتبار آیا لفظ یہاں بھئی، اور اعتبار کہتے ہیں ایک چیز کو اس کے مثل کی طرف لوٹانا۔ تو قرآن میں آیا "فَاعْتَبِرُوا"، گویا یوں کہا گیا "قِيسُوا"، کیا کرو؟ قیاس کرو، کیونکہ قیاس میں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کو اس کے مثل کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ تو یہ آیت اگرچہ نازل تو سزاؤں کے بارے میں ہوئی ہے لیکن الفاظ تو عام ہیں اس کے، "فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ"، یہاں تو کوئی سزاؤں کا ذکر نہیں ہے، سزاؤں کی قید نہیں، الفاظ تو عام ہیں اس کے، اگرچہ نازل کس کے بارے میں ہوئی ہے؟ سزاؤں، لیکن الفاظ عام ہیں، اور مشہور ضابطہ ہے، آپ پڑھ چکے ہیں: "العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب"، اعتبار کس چیز کا ہے؟ عمومِ لفظ کا اعتبار ہوتا ہے، خصوصِ سبب یعنی جس سبب کے بارے میں آیت وغیرہ نازل ہوئی اس کا اعتبار نہیں، جب الفاظ عام ہیں تو یہ ہر قسم کے قیاس کو شامل ہوا، چاہے وہ سزاؤں کا سزاؤں پر قیاس ہو یا کسی اور چیز کا کسی اور چیز پر قیاس ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو سزاؤں کے بارے میں تو یہ آیت ہوئی عبارۃ النص، لیکن الفاظ تو عام ہیں، تو ہر قسم کا قیاس اس سے ثابت ہو رہا ہے، تو قیاس کا اس سے اثبات ہوا کس طریقے پر؟ اشارۃ النص کے طریقے پر بھئی، عبارۃ النص تو نہیں، کیونکہ عبارۃ النص تو جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا گیا۔ تو وہ عبارۃ النص تو نہیں، لیکن الفاظ سے تو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ہر قسم کا قیاس ضروری ہے، واجب ہے، تو یہ قیاس کا اثبات ہوا اشارۃ النص کے ذریعے اس آیت سے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تھی قرآن سے دلیل قیاس کے حجت ہونے کی۔ اب حدیث سے بھی قیاس کے حجت ہونے کی دلیل پیش کر رہے ہیں بھئی۔ یاد رکھیے، ایک حدیث ذکر کریں گے حدیث سے، اسی طرح نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے قیاسات مشہور ہیں بھئی، اسی طرح صحابہ کے قیاسات، صحابہ بھی قیاس کرتے تھے، یہ بات بھی کسی پر مخفی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ حضور صلى الله عليه وسلم کے پاس ایک مرتبہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور آ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے پیغمبر! میرے والد صاحب بڑے ضعیف ہیں، سواری پر بھی جم کر نہیں بیٹھ سکتے، تو کیا ان کی طرف سے میں حج کر لوں تو حج ادا ہو جائے گا؟ حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کر دیتی تو ادا ہوتا یا نہ ہوتا؟ اس نے کہا: جی ہاں! وہ تو ادا ہو جاتا، تو حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تو پھر اللہ کا دین زیادہ لائق ہے کہ وہ ادا ہو جائے۔ تو دیکھئے اس حدیث کے اندر حضور صلى الله عليه وسلم نے دین اللہ کو قیاس کیا کس پر؟ دین العبد پر، کہ وہ بھی دین، یہ بھی دین، تو جب دین العبد ادا ہو جاتا ہے تو پھر دین اللہ بطریقِ اولیٰ ادا ہونا چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح بخاری و مسلم شریف میں روایت آتی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم فرماتے ہیں کہ جب کوئی حاکم کوئی فیصلہ کرتا ہے اور اجتہاد کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ حاکم کوئی فیصلہ کرے یعنی کوئی عالم جو ہے، عالم حاکم ہے وہ فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے، اور اگر وہ حق کو پہنچ جائے، اجتہاد میں تو غلطی کا بھی امکان، تو اگر وہ حق کو پہنچ جائے تو اسے دو اجر ملتے ہیں، اور اگر وہ حق کو نہ پہنچے، غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ معلوم ہوا دیکھو غلطی پر بھی ایک اجر مل رہا ہے، معلوم ہوا قیاس کیا ہے؟ حجت ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ قیاس حجت ہے بھئی۔ اور نیز یہ ایک حدیث ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "وَحَدِيثُ مُعَاذٍ مَعْرُوفٌ"، حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث معروف ہے۔ بھئی حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور صلى الله عليه وسلم نے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا۔ قاضی بنا کر بھیجا اور پوچھا: اے معاذ! کس چیز کے ذریعے فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ! اللہ کی کتاب کے ذریعے۔ حضور علیہ السلام نے پوچھا: اگر کتاب اللہ میں تمہیں وہ بات، وہ مسئلہ نہ ملے تو؟ تو کہا: یا رسول اللہ! آپ کی سنت کے ذریعے فیصلہ کروں گا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میری سنت میں بھی وہ تمہیں مسئلہ نہ ملے تو؟ تو فرمایا: "أَجْتَهِدُ بِرَأْيِي"، میں کیا کروں گا؟ اپنی رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اپنی رائے کے ساتھ۔ تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم فرمانے لگے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِهِ بِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُهُ"، کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اپنے رسول کے رسول کو، اپنے رسول کے پیام رساں، اللہ کے رسول حضور صلى الله عليه وسلم اور آپ کے آگے پیام رساں اور قاصد کون تھے؟ حضرت معاذ، یعنی اللہ کے رسول کے رسول یعنی حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ نے یہ توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہو۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے معاذ کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہو بھئی، اللہ کا رسول راضی ہو بھئی۔ تو دیکھئے، حضور علیہ السلام اگر انہوں نے فرمایا میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اس پر حضور صلى الله عليه وسلم اللہ کا، اللہ کی حمد بیان فرما رہے ہیں، اور اگر یہ قیاس حجت نہ ہوتا، اجتہاد درست نہ ہوتا، تو پھر حضور علیہ السلام اس کا انکار فرماتے، رد فرماتے اور اس پر اللہ کی حمد نہ فرماتے، لیکن آپ تو کیا کر رہے ہیں؟ اللہ کی حمد بیان کر رہے ہیں اور انکار نہیں کر رہے، معلوم ہوا قیاس حجت ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھئے بھئی: "وَحَدِيثُ مُعَاذٍ مَعْرُوفٌ"، حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث معروف ہے، "وَهُوَ مَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حِينَ بَعَثَ مُعَاذًا إلَى الْيَمَنِ"، اور وہ حدیث جو روایت کی گئی ہے کہ حضور علیہ السلام نے جس وقت بھیجا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کی طرف، "قَالَ لَهُ بِمَ تَقْضِي يَا مُعَاذُ؟"، تو ان سے فرمایا: کس چیز سے فیصلہ کرو گے اے معاذ؟ "فَقَالَ بِكِتَابِ اللَّهِ"، تو فرمایا: اللہ کی کتاب کے ذریعے، "قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟"، اگر کتاب اللہ میں نہ پاؤ؟ "قَالَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، تو فرمایا: اللہ کے رسول کی سنت کے ذریعے، "قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟"، اگر اس میں بھی نہ پاؤ؟ "قَالَ أَجْتَهِدُ بِرَأْيِي"، میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، "فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِهِ بِمَا يَرْضَى بِهِ رَسُولُهُ"، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے توفیق دی اپنے رسول کے رسول کو، اپنے رسول کے پیام رساں کو بما اس چیز کی "يَرْضَى بِهِ رَسُولُهُ" جس سے اللہ کا رسول راضی ہوتا ہے، "فَلَوْ لَمْ يَكُنِ الْقِيَاسُ حُجَّةً لَأَنْكَرَهُ"، اگر قیاس حجت نہ ہوتا، دلیل نہ ہوتا تو حضور علیہ السلام اس کا انکار فرماتے، اس کا رد فرماتے، "وَلَمَا حَمِدَ اللَّهَ عَلَيْهِ"، اور اس پر اللہ کی حمد بیان نہ فرماتے، اگر قیاس حجت نہ ہوتا۔ "وَلَا يُقَالُ إنَّهُ يُنَاقِضُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ" شارح کہتے ہیں بھئی یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ اللہ کے اس قول کے مخالف ہے، اللہ کا قول "مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ"، نہیں کمی کی ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کی، ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں کی، یعنی ہر چیز کتاب اللہ میں موجود ہے۔ بھئی شارح فرما رہے ہیں کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرے کہ یہ قیاس، یہ جو حدیث ہے یہ تو کتاب اللہ کے خلاف ہے، اور جب کتاب اللہ کے خلاف ہے تو اس کو بطورِ دلیل کے ذکر کرنا صحیح نہیں۔ کتاب اللہ کے کس طرح خلاف ہے؟ کہتے ہیں کتاب اللہ میں فرماتے ہیں ہم نے اس کی کتاب میں کوئی کسی چیز کی کمی نہیں کی، کوئی چیز اس میں نہیں چھوڑی، ہر چیز اس کے اندر موجود ہے۔ اللہ تو فرما رہے ہیں اس میں ہر چیز موجود ہے، اور حدیث میں وہ وہ اہ میں آ رہا ہے کہ اگر کتاب اللہ میں نہ ہوئی تو، اگر سنت میں نہ ہوئی تو۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ قرآن تو کیا کہہ رہا ہے؟ ہر چیز ہے اس کے اندر، اور حدیث میں کیا آ رہا ہے؟ اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو۔ اعتراض سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ حدیث تو قرآن کے خلاف ہے بھئی، لہٰذا اس کو حجت کے طور پر آپ پیش ہی نہیں کر سکتے، جواب دیں گے بھئی۔ کہ بھئی حدیث میں یہ کب آیا کہ اگر قرآن میں نہ ہو؟ حدیث میں تو آیا اگر قرآن میں تمہیں نہ ملے۔ نہ ملنا اور چیز ہے، نہ ہونا اور چیز ہے بھئی۔ مثلاً لائبریری کے اندر اپ کو میں بھیجتا ہوں، میں ایک جگہ کتاب رکھ کر آیا ہوں لائبریری میں، میں آپ کو بھیجتا ہوں کہ جاؤ وہ کتاب لے اؤ۔ فلاں جگہ پر چلے جاؤ، کتاب پڑی ہے، لے اؤ۔ آپ گئے، آپ تلاش کرتے رہے، آپ کو نہیں ملی۔ تو کیا آپ کے نہ ملنے سے یہ لازم آیا کہ کتاب ہی وہاں پر نہیں ہے؟ بھئی کتاب تو میں خود رکھ کر آیا تھا وہاں پر، تو نہ ملنا اور چیز ہے اور نہ ہونا اور، اور حدیث میں آیا اگر نہ پاؤ تم، یعنی کتاب اللہ میں تو ہے لیکن اگر تمہیں نہ ملے تو پھر کیا کرو گے؟ بات جواب سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو ایک ہے عدمِ وجدان نہ ملنا نہ پانا، اور ایک ہے عدمِ وجود، عدمِ وجود اور چیز ہے، عدمِ وجدان اور چیز ہے، حدیث میں عدمِ وجدان کا ذکر ہے ”فَإِنْ لَمْ تَجِدْ“ اگر تم نہ پاؤ، تمہیں نہ ملے۔ معلوم ہوا موجود تو ہے لیکن اگر تمہیں نہ ملے بھئی۔ ”وَلَا يُقَالُ“ اور یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ ”إِنَّهُ يُنَاقِضُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى“ کہ یہ تو مخالف ہے اللہ کے اس قول کے ”مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ“ کہ نہیں کمی کی ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کی، ”فَكُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ“ تو ہر چیز قرآن میں ہے، ”فَكَيْفَ يُقَالُ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ“ تو کیسے کہا جائے کہ اگر تم نہ پاؤ کتاب اللہ میں؟ ”لِأَنَّنَا نَقُولُ“ جواب دے رہے ہیں ”لِأَنَّنَا نَقُولُ“ اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں ”إِنَّ عَدَمَ الْوِجْدَانِ لَا يَقْتَضِي عَدَمَ كَوْنِهِ فِي الْكِتَابِ“ کہ عدمِ وجدان جو ہے وہ تقاضا نہیں کرتا اس کے کتاب اللہ میں نہ ہونے کا۔ نہ ملنا یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ کتاب اللہ میں نہ ہو بھئی۔ یہ تھی نقلی دلیلیں بھئی، انہوں نے کہا تھا ”إِنَّهُ حُجَّةٌ نَقْلًا وَعَقْلًا“ کہ قیاس حجت ہے، دلیل ہے، نقل بھی یہی کہتی ہے اور عقل بھی۔ نقلی دلیلیں گزر گئیں بھئی کتاب و سنت سے، اب عقلی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں۔ ”وَأَمَّا الْمَعْقُولُ“ اور باقی عقلی دلیل ”فَهُوَ أَنَّ الْإِعْتِبَارَ وَاجِبٌ“ وہ یہ کہ اعتبار واجب ہے۔ اعتبار کیا ہے؟ واجب ہے، قرآن میں کیا آیا؟ ”فَاعْتَبِرُوا“ کون سا صیغہ ہے ”فَاعْتَبِرُوا“؟ امر کا ہے، اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، معلوم ہوا اعتبار واجب ہے بھئی۔ یہ معنی ”فَهُوَ أَنَّ الْإِعْتِبَارَ وَاجِبٌ“، بس یہ اعتبار جو ہے یہ واجب ہے ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ”فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“، اللہ کے اس قول کی وجہ سے اعتبار واجب ہے۔ ”وَهُوَ وَارِدٌ فِي قَضِيَّةِ عُقُوبَاتِ الْكُفَّارِ كَمَا سَيَأْتِي“ اور یہ اللہ کا قول جو ہے یہ وارد ہوا ہے کس بارے میں؟ ”فِي قَضِيَّةِ عُقُوبَاتِ الْكُفَّارِ“ کفار کی سزاؤں کے مسئلے میں، یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی ہے؟ کفار کی سزاؤں کے بارے میں ”كَمَا سَيَأْتِي“ جیسے کہ عنقریب آ جائے گا بھئی، آگے بیان کریں گے۔ ”فَمَعْنَاهُ“ تو معنی اس کا ہوا ”وَهُوَ التَّأَمُّلُ فِي مَا أَصَابَ مَنْ قَبْلَنَا“، ”وَهُوَ التَّأَمُّلُ فِي مَا أَصَابَ“ یاد رکھیے یہ بھی متن ہے بھئی۔ ”وَهُوَ التَّأَمُّلُ فِي مَا أَصَابَ مَنْ قَبْلَنَا“ یہ سارا متن ہے ”وَهُوَ“ سے لے کر ”مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الْمَثُلَاتِ“ سارا۔ اللہ فرما رہے ہیں اعتبار کرو اور اعتبار واجب ہے، تو معنی کیا ہوا؟ اعتبار کسے کہتے ہیں؟ ”وَهُوَ التَّأَمُّلُ فِي مَا أَصَابَ مَنْ قَبْلَنَا“ وہ غور و فکر کرنا ہے ”فِي مَا“ ان چیزوں میں ”أَصَابَ مَنْ قَبْلَنَا“ جو پہنچی ہم سے پہلے لوگوں کو ”مِنَ الْمَثُلَاتِ“ یہ بیان ہے ”مَا“ کا، کیا چیز پہنچی ان پہلے لوگوں کو؟ ”مِنَ الْمَثُلَاتِ“ یعنی کہ سزائیں۔ مثلات جمع ہے مثلۃ کی، کل میں ذکر کر چکا ہوں، سزاؤں کو کہتے ہیں بھئی۔ وہ غور و فکر کرنا ہے ”فِي مَا“ ان چیزوں میں ”أَصَابَ مَنْ قَبْلَنَا“ جو ہم سے پہلے لوگوں کو پہنچی تھیں ”مِنَ الْمَثُلَاتِ“ یعنی کہ سزائیں۔ تو یہ ”مِنَ الْمَثُلَاتِ“ اس کا ترجمہ "یعنی" کے ساتھ کریں گے، یا اور با محاورہ ترجمہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ مثلات کس کا بیان ہے؟ ”مَا“ کا، تو ”مَا“ کی جگہ پر اس کو لے جائیں، اور وہ غور و فکر کرنا ہے ان سزاؤں کے اندر جو ہم سے پہلے لوگوں کو پہنچی تھیں بھئی۔ بھئی ماتن کیا فرما رہے ہیں؟ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، عقلی دلیل ذکر کرتے ہوئے اولاً انہوں نے کہا اعتبار واجب ہے۔ اعتبار کیا ہے؟ واجب ہے، واجب ہے، اور اعتبار کسے کہتے ہیں؟ اب وہ بتلا رہے ہیں کہ وہ غور و فکر کرنا ہے ان سزاؤں میں جو ہم سے پہلے لوگوں کو پہنچی تھیں۔ اعتبار کا کیا معنیٰ کیا؟ غور و فکر کرنا ہے، بھئی اعتبار کا معنیٰ تو شارح نے پیچھے ذکر کیا تھا ”رَدُّ الشَّيْءِ إِلَى نَظِيرِهِ“ چیز کو اس کی نظیر، اس کے مثل کی طرف لوٹانا، اور یہاں ماتن کیا فرما رہے ہیں؟ اعتبار کا کیا معنیٰ ہے؟ تامل ہے ”وَهُوَ التَّأَمُّلُ“ غور و فکر، تو اعتبار کا معنیٰ تو وہی ہے چیز کو اس کی نظیر کی طرف لوٹانا، پھر یہ تامل کیوں معنیٰ کیا اس کا؟ وجہ یہ کہ چیز کو اس کی اصل کی چیز کو اس کے مثل کی طرف، یہ غور و فکر کے چیز کو اس کی مثل کی طرف لوٹانا جو ہے یہ کس کے ذریعے ہوگا؟ غور و فکر ہی کے ذریعے ہوگا نا، تو وہ ہے مسبب اور غور و فکر اس کا سبب ہے بھئی۔ چیز کو اس کے مثل کی طرف لوٹانا یہ ہے مسبب، کیونکہ یہ کس کے ذریعے ہوگا؟ غور و فکر، تو غور و فکر ہوا اس کا سبب، اس لیے یہاں سبب ہی کو مسبب کے قائم مقام کر دیا گیا کہ گویا یہ غور و فکر ہی کیا ہے دراصل اعتبار ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں اعتبار واجب ہے اور وہ غور و فکر کرنا ہے ”فِي مَا“ ان سزاؤں کے اندر جو پہنچی تھیں ہم سے پہلے لوگوں کو، ”مِنَ الْمَثُلَاتِ“ بیان آ گیا یعنی کہ سزائیں۔ معنیٰ بیان کر رہے ہیں مثلات کا ”أَيِ الْعُقُوبَاتِ بِالْقَتْلِ وَالْجَلَاءِ“ یعنی سزائیں قتل اور جلاوطنی کے ساتھ۔ کون سی سزائیں دی گئی تھیں ان کو؟ بعضوں کو قتل کیا گیا، بعضوں کو جلاوطن کیا گیا۔ تو تو غور و فکر کرنا اللہ فرما رہے ہیں کہ اعتبار کرو، یہ تو اعتبار واجب ہوا اور اعتبار کس چیز کا نام ہے؟ وہ غور و فکر کا نام ہے ان سزاؤں کے اندر جو ہم سے پہلے لوگوں کو پہلے لوگوں کو پہنچی تھیں۔ اور ”بِأَسْبَابٍ نُقِلَتْ عَنْهُمْ“ ان اسباب کی وجہ سے جو ان سے منقول ہیں بھئی، جو ان سے نقل کیے گئے ہیں۔ آگے بیان ہے اسباب کا کہ کون سے اسباب؟ ”مِنَ الْعَدَاوَةِ وَتَكْذِيبِ الرَّسُولِ“ یعنی عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول۔ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول، ان لوگوں کو یہ جلاوطنی اور قتل کی سزائیں کیوں ملی تھیں؟ اس کا سبب کیا تھا؟ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو کہ دوبارہ متن متن پہ نظر رکھیں، تو اعتبار جو ہے وہ غور و فکر کرنا ہے اس چیز میں جو ہم سے پہلے لوگوں کو پہنچی یعنی کہ سزائیں، ”بِأَسْبَابٍ نُقِلَتْ عَنْهُمْ“ ان اسباب کی وجہ سے جو ان سے منقول ہیں یعنی عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول، ”لِنَكُفَّ عَنْهَا“ تاکہ ہم اس سے باز رہیں، تاکہ ہم اس سے رک جائیں، بھئی تاکہ ہم ان اسباب سے رک جائیں۔ اللہ فرما رہے ہیں غور کر لو، ان کو سزائیں دی گئیں، جو سزائیں دی گئیں کس وجہ سے یہ جلاوطنی اور قتل کی سزائیں کیوں ملیں؟ اس کے اسباب کیا تھے؟ اس کی علت کیا تھی؟ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول، تو اپنے احوال کو ان کے احوال پر قیاس کر لو، اگر وہی سبب تمہارے اندر آ گئے یعنی معاذ اللہ اگر عداوتِ رسول یا تکذیبِ رسول تم میں آ گئی تو جو ان کا حکم تھا وہی تمہارا بھی حکم ہو جائے گا، ان کو قتل اور جلاوطنی جیسی سزائیں دی گئیں تمہیں بھی وہی سزائیں دی جا سکتی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”لِنَكُفَّ عَنْهَا“ تاکہ ہم اس سے رک جائیں، باز رہیں ان اسباب سے، ”احْتِرَازًا“، احتراز "ز" کے بعد الف ہے؟ جی؟ الف ہونا چاہیے، ”احْتِرَازًا عَنْ مِثْلِهَا مِنَ الْجَزَاءِ“ احتراز کرنے کے لیے، بچنے کے لیے ”عَنْ مِثْلِهَا مِنَ الْجَزَاءِ“ اسی کے مثل جزا سے۔ انہی سزاؤں کے مثل جزا سے، بدلے سے بچنے کے لیے بھئی، تاکہ ہم اس سے رک جائیں انہی کے مثل سزاؤں جیسی سزاؤں سے بچنے کے لیے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ تم ان کفار کے، ان کے یہود کے اور جو پیغمبر کے جتنے دشمن ہیں ان کے احوال میں غور کر لو کہ ان کو یہ سزائیں کس سبب سے دی گئی تھیں؟ کس سبب سے؟ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول کی وجہ سے، ان کو قتل اور جلاوطنی جیسی سزائیں ملیں، اگر تمہارے اندر وہ اسباب آ گئے تو تمہیں بھی وہی سزائیں ملیں گی۔ تو غور غور و فکر کرنے کا حکم دیا گیا، کس چیز کا؟ اعتبار کا معنیٰ کیا کیا؟ تامل، غور و فکر، تو غور و فکر کرنے کا حکم دیا گیا، کیوں؟ تاکہ ہم رک جائیں ان ان جیسے اسباب سے، جب ہم رک جائیں گے تو پھر ان جیسی سزاؤں سے بھی بچ جائیں گے بھئی، بچ جائیں گے۔ ”لِنَكُفَّ عَنْهَا“ تاکہ ہم رک باز رہیں ”عَنْهَا“ ان اسباب سے ”احْتِرَازًا عَنْ مِثْلِهَا“ بچنے کے لیے انہی کے مثل سزاؤں سے، انہی جیسی سزاؤں سے بچنے کے لیے ”مِنَ الْجَزَاءِ“ بدلے میں سے، بطورِ بدلہ کہ انہی جیسی سزاؤں سے بچنے کے لیے ہم ان اسباب سے تاکہ باز رہیں۔ ”فَيَصِيرُ حَاصِلُ الْمَعْنَى“ تو حاصلِ معنیٰ یہ ہوا ”قِيسُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“، ”فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“ کا حاصلِ معنیٰ کیا ہوا؟ ”قِيسُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“ قیاس کرو اے عقل والو! ”أَحْوَالَكُمْ بِأَحْوَالِ هَؤُلَاءِ الْكُفَّارِ“ اپنے احوال کو ان کفار کے احوال پر قیاس کرو، ”وَتَأَمَّلُوا“ اور غور و فکر کرو ”بِأَنَّكُمْ إِنْ تَتَصَدَّوْا لِعَدَاوَةِ الرَّسُولِ وَتَكْذِيبِهِ“، تصدی کے معنیٰ ہیں درپے ہونا، کسی چیز کے پیچھے پڑنا، اور غور و فکر کرو ”بِأَنَّكُمْ إِنْ تَتَصَدَّوْا لِعَدَاوَةِ الرَّسُولِ وَتَكْذِيبِهِ“ اگر تم لوگ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول کے پیچھے پڑے ”تُبْتَلَوْا بِالْجَلَاءِ وَالْقَتْلِ“ تو تم مبتلا کیے جاؤ گے جلاوطنی اور قتل میں ”كَمَا ابْتُلِيَ أُولَئِكَ الْكُفَّارُ بِهِ“ جیسے کہ وہ کفار مبتلا کیے گئے تھے، ”وَهَذَا هُوَ الثَّابِتُ بِعِبَارَةِ النَّصِّ“ اور یہ کس سے ثابت ہے؟ عبارتِ نص سے، بھئی یہ آیت نازل ہی کس سلسلے میں ہوئی ہے؟ سزاؤں کے بارے میں، تو غور کر لو اگر ان کو سزائیں جلاوطنی اور قتل کی سزائیں ملی تھیں کس علت کی بناء پر؟ عداوتِ رسول اور تکذیب، تو تم اپنے احوال میں غور کر لو، اگر تمہارے اندر وہ علت آ گئی تو تمہارے لیے بھی وہی حکم ہوگا۔ یہ تو تھا عبارتِ نص، اسی مقصد کے لیے آیت کو چلایا گیا۔ اسی مقصد کے لیے کہ ان اسباب سے اپنے آپ کو بچاؤ تاکہ کہیں تمہارا حال بھی ان جیسا نہ ہو جائے۔ اور بات دلیل کون سی چل رہی ہے؟ عقلی دلیل، اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں ”وَالْقِيَاسُ الشَّرْعِيُّ نَظِيرُ هَذَا التَّأَمُّلِ“ اور قیاسِ شرعی بھی تو اسی غور و فکر کی، اسی تامل کی مثل اسی کی نظیر ہے، ”فَكَمَا أَنَّ الْعَدَاوَةَ عِلَّةٌ وَالْعُقُوبَةَ حُكْمٌ“ تو جیسے عداوت علت ہے اور سزا اس کا حکم، عداوت علت تھی عداوتِ رسول اور سزا کیا تھی؟ اس کا حکم، ”فَيَتَعَدَّى مِنَ الْكُفَّارِ الْمَهْوُدِينَ إِلَى حَالِ كُلِّ أُولِي الْأَبْصَارِ“ پس یہ حکم متعدی ہوگا کس سے؟ بھئی ان کو سزائیں دی گئیں، تو یہ سزائیں ہیں حکم اور علت کیا تھی اس کی؟ عداوت، عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول، تو یہ حکم جو ہے یہ متعدی ہوگا کفار سے، وہ کفار المہودین وہ جو متعین ہیں۔ معہود کا کیا معنیٰ ہے؟ متعین، تو یہ حکم متعدی ہوگا ان متعین کفار سے جن کا حال جن کے بارے میں نازل ہوئی یہ آیت، تو یہ حکم متعدی ہوگا ان متعین کفار سے ”إِلَى حَالِ كُلِّ أُولِي الْأَبْصَارِ“ ہر عقل والے کے حال کی طرف، ہر عقل والے کے اگر اس میں بھی وہ سبب ہوئے، اگر اس میں بھی عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول والے اسباب ہوئے تو یہ حکم کفار والا، کفار سے متعدی ہوگا کس کی طرف؟ حالِ اولی الابصار کی طرف جس میں وہ سبب آئے گا، یہ حکم بھی ان کی طرف متعدی ہو جائے گا، ان کو بھی یہی سزا ملے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”فَكَذَلِكَ الْعِلَّةُ الشَّرْعِيَّةُ عِلَّةٌ وَالْحُرْمَةُ حُكْمٌ“ اسی طرح علتِ شرعیہ وہ بھی علت ہے اور حرمت مثال کے طور پر حکم ہے۔ علتِ شرعیہ کیا ہے؟ علت، اور حرمت اس کا حکم، مثلاً بھئی شراب ہے شراب، شراب کا حکم کیا ہے؟ حرام ہے حرمت، اور علت کیا ہے اس کی؟ نشہ، یہی نشہ ہمیں بھنگ میں اور ہیروئن میں ملا تو وہاں پر بھی کیا حکم لگا دیا گیا؟ حرام ہونے کا، تو یہ قیاسِ شرعی بھی تو اسی کی طرح ہے جیسے وہاں پر عداوتِ رسول علت تھی اور عقوبت اس کا، سزا اس کا حکم تھا تو اللہ فرما رہے ہیں کہ تم اپنے حال کو ان کے حال پر قیاس کر لو، ان کے اوپر جو سزا والا حکم آیا وہ ان کی اس علت عداوتِ رسول کی وجہ سے تھا، اگر یہ علت تمہارے اندر آ گئی تو تمہارے اندر بھی یہی حکم آ جائے گا، تو قیاسِ شرعی بھی تو بالکل اسی طرح ہوتا ہے، وہ ایک چیز کا حکم معلوم ہوتا ہے، اس علت اس کے نکال کر وہ علت دوسری جگہ ملے تو وہاں پر بھی وہی حکم متعدی ہو جاتا ہے بھئی۔ تو قیاسِ شرعی بالکل اسی کے مثل ہے یا نہیں بھئی؟ بالکل اسی کے مثل ہے بھئی، اسی جیسا ہے، تو جب وہ حجت ہے تو تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ حجت ہونا چاہیے۔ یہ معنیٰ ہے ”فَكَذَلِكَ الْعِلَّةُ الشَّرْعِيَّةُ عِلَّةٌ وَالْحُرْمَةُ حُكْمٌ“ علتِ شرعیہ علت ہے اور حرمت اس کا حکم ہے، ”فَيَتَعَدَّى مِنَ الْمَقِيسِ عَلَيْهِ إِلَى الْمَقِيسِ“ تو وہ حکم متعدی ہوگا مقیس علیہ سے کس کی طرف؟ مقیس کی طرف، ”فَتَكُونُ حُجِّيَّةُ الْقِيَاسِ حِينَئِذٍ بِالدَّلِيلِ الْمَعْقُولِ“ تو پس حجیتِ قیاس اس وقت عقلی دلیل کے ذریعے ہو جائے گی۔ حجیتِ قیاس کیا ہے؟ عقلی دلیل کے ذریعے ہو جائے گی، کس طرح عقلی دلیل بھئی؟ بھئی دیکھیے انہوں نے کہا یہ آیت جو ہے یہ سزاؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ہم خلاصۂ کلام آگے شارح بھی بیان کریں گے، پہلے یہی پر سمجھ لیجیے۔ بھئی دیکھیے، پہلے اسی ”فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“ کو نقلی دلیل ذکر کیا گیا، پیچھے متن میں آیا تھا۔ اب عقلی دلیل میں بھی اسی کو ذکر کر رہے ہیں۔ عقلی دلیل میں بھی اسی بھئی نقلی دلیل اس طرح بنایا تھا کہ ہم نے کہا تھا ”فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“، یہ العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص السبب، وہ خاص سبب جس کے بارے میں آیت نازل ہوئی اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا بلکہ اعتبار کس چیز کا کیا جاتا ہے؟ عمومِ لفظ کا، تو فاعتبروا کے لفظ سے عام، فاعتبروا کہ چیز کو اپنی نظیر کی طرف لوٹاؤ، اپنے مثل کی طرف لوٹاؤ، تو لفظ سے عام، لفظ کیا تھے؟ یہ ہر قسم کے قیاس کو شامل ہیں۔ ہر چیز کو اس کی نظیر کی طرف لوٹاؤ، آیت کے معنیٰ ذکر یہ ہوئے بھئی، ہر چیز کو اس کے، فاعتبروا، کوئی قید ذکر ہے کہ سزاؤں کو سزاؤں کی طرف لوٹاؤ؟ نہیں، فاعتبروا، تو یہاں معلوم ہوا ہر چیز کو اس کے مثل کی طرف لوٹاؤ، تو آیت نازل ہوئی ہے کس کے بارے میں؟ سزاؤں کے بارے میں، تو اس سزاؤں کے بارے میں تو یہ ہے عبارت النص، لیکن الفاظ تو عام ہیں تو اس سے قیاس کی حجیت بھی ثابت ہو رہی ہے، کس طریقے پر؟ اشارۃ النص کے طریقے پر، کیونکہ اس کے بارے میں تو نہیں نازل ہوئی، جس کے بارے میں نازل ہوئی، جس مقصد کے لیے، اس کو عبارت النص کہتے ہیں اور جو خود سمجھ میں تو آ رہا ہے واضح طور پر اس کو کیا کہیں گے؟ اس مقصد کے لیے نہیں لیکن وہ سمجھ میں آ رہا ہے، وہ کیا ہے؟ اشارۃ النص، تو دیکھیے اگر اس آیت کو، کے الفاظ کو عام رکھا جائے، اس آیت کے الفاظ کو عام رکھا جائے کیونکہ اعتبار عمومِ لفظ کا ہے، تو یہی آیت اس کے ذریعے حجیتِ قیاس ثابت ہو گی اشارۃ النص کے طریقے پر۔ یعنی یہ نقلی دلیل بنے گی۔ کیا دلیل بنے گی؟ نقلی دلیل، کیونکہ الفاظ عام ہیں، قیاس اس میں داخل ہو رہا ہے بھئی، اس سے تو کیا ثابت ہو رہا ہے کہ قیاس کرنا چاہیے بھئی، قیاس واجب ہے بھئی۔ تو یہ کیا بن گئی؟ نقلی دلیل۔ کب؟ جب الفاظ کو ہم نے عام رکھا، الفاظ عام ہیں تو عام حکم ہو گا اس کا بھئی۔ توجه ہے سبق کی طرف؟ تو یہ جب الفاظ کو عموم پر رکھیں، عام ہیں عموم پر ہی رکھیں تو پھر یہ کیا ہو گی؟ حجیتِ قیاس کی دلیل، کون سی دلیل؟ نقلی دلیل، الفاظ عام ہیں اس سے حجیتِ قیاس ثابت ہو گی۔ قیاس اور اگر اس آیت کو خاص رکھیں سزاؤں کے ساتھ ہی، کس کے ساتھ؟ سزاؤں کے ساتھ ہی خاص رکھیں۔ تو پھر حجیتِ قیاس کے لیے یہی عقلی دلیل ہو جائے گی۔ توجہ ہے؟ اس آیت کو اگر آپ عموم پر رکھیں تو یہی آیت نقلی دلیل اور اس آیت کو اگر خاص رکھیں کس کے بارے میں؟ سزاؤں کے بارے میں تو یہی آیت عقلی دلیل بھی بن جائے گی بھئی، کس طرح؟ عقلی دلیل، دیکھیے بھئی، یہ آیت تو نازل ہوئی ہے سزاؤں کے بارے میں۔ کیا فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ؟ کہ اے عقل والو! اپنے احوال کا قیاس کرو ان کفار پر جن کو یہ یہ سزائیں ملیں اس اس علت کی وجہ سے، اگر یہ علت تمہارے اندر آ گئی تو تمہیں بھی وہی سزا، تو ان کا حکم کیا تھا ان کفار کا؟ حکم، حکم، سزا جلا وطنی اور قتل اور علت کیا تھی؟ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول، اگر وہ علت اے عقل والو تمہارے اندر آ گئی تو تمہارے اوپر بھی یہی حکم آ جائے گا، یعنی اگر تم میں عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول آ گئی تو تمہیں بھی اسی طرح جلا وطنی اور قتل کی سزا ملے گی۔ یہ آیت سزا کے بارے میں نازل ہوئی، ہم نے بھی سزا ہی کے بارے میں اس کو رکھا بھئی۔ اگر وہ علت تم میں آ گئی تو تمہارا بھی وہی حکم ہے۔ تو یہاں سے یہاں سے دیکھا، غور کیا، تو قیاسِ شرعی بھی تو بالکل اسی کے مثل ہے، اسی طرح تو ہوتا ہے قیاسِ شرعی میں بھی، ایک علت کی وجہ، ایک حکم ہے ایک چیز پر، اس حکم کی کیا کی جاتی ہے؟ علت نکال لی جاتی ہے اور وہ علت دوسری جگہ ملتی ہے تو حکم بھی وہاں وہی لگا دیا جاتا ہے، جیسے یہاں سزاؤں کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: وہی علت تم میں آ گئی تو تمہارا بھی وہی حکم ہو گا، تو قیاسِ شرعی میں بھی کیا ہوتا ہے؟ اسی، اسی جیسے وہی علت پائے جانے کی وجہ سے وہی حکم دوسری چیز کی طرف بھی متعدی ہو جاتا ہے، تو قیاسِ شرعی اس کی نظیر ہوئی بھئی، کیا ہوئی اس کے؟ اسی کے مثل ہے، جب وہ حجت ہے کون سا؟ سزاؤں کا جو قیاس ہے، اپنے احوال کو قیاس کرو ان کفار کے احوال پر، تو وہاں پر حکم کیا تھا؟ سزا اور علت کیا تھی؟ عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول، تو قیاسِ شرعی بھی تو بالکل اسی طرح ہوتا ہے، ایک چیز کا ایک حکم ہے، اس کے علت نکال کر وہی علت دوسری جگہ ملتی ہے تو وہاں بھی وہی حکم لگا دیا جاتا ہے جیسے اللہ فرماتے ہیں: اگر وہ علت تم میں پائی گئی تو تمہارا بھی وہی حکم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں قیاس، تو یہاں قیاسِ شرعی کے لیے یہی عقلی دلیل بن جائے گی۔ اگر آیت کو اپنے الفاظ کے عموم پر رکھا جائے تو یہی کیا بن جائے گی؟ توجہ سے، اگر آیت کو عموم پر رکھا جائے تو پھر یہی ”فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“ یہ کیا ہے؟ نقلی دلیل، اور اگر آیت کو خاص رکھا جائے شانِ نزول کے ساتھ کہ سزاؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، سزائیں ہی مراد ہیں، تو پھر اس صورت میں یہی آیت کیا ہو گی؟ عقلی دلیل بن جائے گی بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ والحاصل، حاصلِ معنیٰ بیان کرنے لگے ہیں، أن قوله تعالىٰ، دیکھیے یہی دو تقریریں ذکر ہوں گی کہ یہی آیت کس طرح نقلی دلیل ہے اور یہی آیت کس طرح عقلی دلیل۔ حاصل یہ کہ أن قوله تعالىٰ فاعتبروا يا أولي الأبصار، کہ اللہ کا قول ”فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“ لو أجري على عمومه، اگر اس کو چلایا، جاری کیا جائے، چلایا جائے اس کے عموم پر، من كل رد شيء إلى نظيره، ہر رد شیء الی نظیرہ، اگر آیت کو اس کے عموم پر جاری رکھا جائے، یعنی ہر رد شیء الی نظیرہ مراد ہو۔ عموم کا کیا معنیٰ ہے بھئی؟ الفاظ عام ہیں۔ اعتبار کا کیا معنیٰ تھا؟ رد شیء الی نظیرہ، تو الفاظ عام ہیں تو ہر رد شیء الی نظیرہ کو یہ شامل ہوا اور قیاس بھی کس چیز کا نام تھا؟ رد شیء الی، تو یہ معنیٰ ہوا یعنی فقیسوا، قیاس کرو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ قیاس اس میں داخل ہو گیا۔ یعنی ہر رد، اگر آیت کو اگر اپنے عموم پر رکھا جائے، من کل رد شیء الی نظیرہ، یعنی رد، ہر وہ رد، رد شیء الی نظیرہ جو ہے، ہر چیز کا اپنے اصل کی طرف لوٹانا، وإن كان واقعاً في حق العقوبات خاصةً، وإن كان، اگرچہ یہ آیت یا اللہ کا قول واقع ہوا ہے خاص طور پر سزاؤں کے حق میں، اگرچہ اللہ کا یہ قول سزاؤں کے حق میں واقع ہوا ہے لیکن الفاظ تو عام ہیں۔ کان إثبات حجية القياس به نقلاً، أي ثابتاً بإشارة النص لا بعبارته، تو اس کے ذریعے حجیتِ قیاس کا اثبات یہ نقلاً ہو گا، یعنی ثابت ہو گا اشارۃ النص سے نہ کہ عبارت النص سے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ وإن اختص بالتأمل في العقوبات، اور اگر اس کو خاص رکھا جائے سزاؤں میں غور و فکر کے ساتھ، کس کے ساتھ خاص رکھا جائے؟ سزاؤں کے بارے میں غور و فکر کے ساتھ خاص رکھا جائے، الوروده فيها، بوجہ اس کے کہ یہ اسی کے بارے میں، یہ اللہ کا قول وارد ہوا ہے، کان إثبات حجية القياس به عقلاً، تو یہ اس کے ذریعے حجیتِ قیاس کو ثابت کرنا ہے عقلاً، أي ثابتاً بدلالة النص، یعنی کس طریقے پر؟ دلالۃ النص کے طریقے پر، لا بالقياس، قیاس کے ذریعے نہیں، وإلا يلزم الدور، ورنہ کیا لازم آئے گا؟ دور۔ ورنہ دور لازم آئے گا۔ بھئی دیکھیے، دور اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز اس چیز پر موقوف ہو جو خود اس پر موقوف ہے۔ ایک چیز ایک چیز دوسری چیز پر موقوف ہے اور وہ خود کیا ہے؟ اس پر موقوف، فتوقف الشيء على ما يتوقف عليه، یہ ہے دور بھئی اور دور باطل ہے بھئی۔ اس سے ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا، اس چیز کا سمجھنا دوسری چیز کے سمجھنے پر موقوف ہے، وہ سمجھ میں آئے گی تو یہ سمجھ میں آئے گی اور اس کا سمجھنا اس کے سمجھنے پر موقوف ہے، وہ تب سمجھ آئے گی جب یہ سمجھ میں آئے گی بھئی، تو دونوں میں سے ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا بھئی، لازمی بات ہے، اس کو سمجھنے کے لیے آپ ادھر جائیں گے، ادھر دیکھا تو اس کو سمجھنے کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے، اب یہ تو ابھی سمجھ میں نہیں آیا تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا، وہ بھی نہیں سمجھ میں آیا، ایک بھی بات پلے نہیں پڑے گی بھئی، تو دور کیا ہے؟ باطل، تو یہاں دیکھیے کہتے ہیں: یہاں جو اس ہم نے کہا نا حجیتِ قیاس ثابت ہو گی عقلاً، تو یہ اعتراض نہ کرنا کہ یہ تو آپ قیاس کا اثبات قیاس کے ذریعے کر رہے ہیں ورنہ تو دور لازم آئے گا۔ قیاس کا اثبات کس کے ذریعے؟ یہ تو آپ قیاس کا اثبات قیاس کے ذریعے کر رہے ہیں بھئی دیکھیے بھئی، آپ کیا کہتے، آپ نے کس طرح قیاس کیا؟ کہ ان کفار، اللہ فرما رہے ہیں: ”فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ“، اے عقل والو! اپنے احوال کا بھی ان پر قیاس کر لو، ان، ان کی جو علت تھی، یعنی عداوتِ اور ت، عداوتِ رسول اور تکذیبِ رسول، اگر وہ علت تمہارے اندر آ گئی تو ان کا جو حکم ہے وہ بھی تمہارے اوپر آ جائے گا بھئی، اور آپ نے پھر کہا: دیکھا، یہاں تو قیاسِ شرعی، یہ بھی تو بالکل اسی کی طرح ہے، وہاں بھی ایک علت جو حکم کی بنیاد تھی وہ علت دوسری جگہ پائی جائے تو وہی حکم متعدی ہو جاتا ہے، وہ، وہ حکم اس پر بھی لگا دیا جاتا ہے، تو یہ آپ کیا کر رہے ہیں قیاس کے ذریعے؟ آپ کہہ رہے ہیں نا کہ یہ قیاس بھی اسی کی طرح ہے، قیاس بھی اسی کی طرح ہے، تو یہ تو قیاس کی دلی، ثابت کر رہے ہیں قیاس کو اور دلیل کیا ذکر کر رہے ہیں؟ قیاس کو ذکر کر رہے ہیں۔ کیسے ذکر کر رہے ہیں قیاس کو؟ جی؟ آسان سی تو بات ہے بھئی، وہ تو ہے صرف سزاؤں کے بارے میں، آپ کہہ رہے ہیں یہ بھی اس کے مثل ہے، قیاسِ شرعی بھی اسی کے مثل ہے۔ تو وہاں یہ حکم ہے تو یہاں بھی وہی حکم ہو گا، وہاں ایک علت دوسری جگہ پائی جائے گی تو حکم بھی آ جائے گا سزا والا، تو یہاں بھی ایک علت دوسری جگہ پائی جائے تو وہی حکم دوسرے کا یہاں پر بھی، تو قیاس کی دلیل کے طور پر آپ کس کو ذکر کر رہے ہیں؟ قیاس ہی کو ذکر کر رہے ہیں، کہ قیاسِ شرعی بھی اس آیت کی طرح ہی ہے، لہٰذا جب وہ حجت ہے، وہ تو قرآن سے ثابت، تو قیاس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ تو قیاس کو حجت میں آپ کیا ذکر کر رہے ہیں؟ قیاس ہی کو ذکر کر رہے ہیں بھئی، پہلے قیاس کی حجیت تو ثابت کریں پھر آپ قیاس کو دلیل کے طور پر ذکر کر سکتے ہیں اور ابھی تو بات حجیت ہی کی چل رہی ہے کہ قیاس دلیل بھی ہے یا نہیں، تو شارح نے جواب دے دیا۔ کہ نہیں بھئی، قیاس کے لیے ہم نے قیاس کو دلیل نہیں بنایا، قیاس کے لیے ہم نے دلالۃ النص کو دلیل بنایا ہے، کس کو؟ دلالۃ النص کو، اور دلالۃ النص کسے کہتے تھے؟ آیت آئی تھی: ”فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ“، والدین کو اف نہ کہو، ہر عربی زبان جاننے والا اسے سمجھ جاتا ہے، کیا مطلب ہے اس آیت کا؟ والدین کو تکلیف نہ دو، سمجھ جاتا ہے یا نہیں؟ یہاں کوئی اجتہاد وغیرہ کی ضرورت ہے؟ اجتہاد کی ضرورت ہی نہیں ہے بھئی، یہ تو ہر عربی زبان جاننے والا سمجھ لیتا ہے، تو یہاں پر بھی دلالۃ النص کو ہم دلیل بنا رہے ہیں جس میں اجتہاد کے بغیر ہی ہر ایک سمجھ لیتا ہے، اجتہاد کے بغیر ہی یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے، جب اللہ فرما رہے ہیں کہ اپنے احوال کو کس پر قیاس کر لو؟ ان کفار کے احوال پر قیاس کر لو، اگر ان کے اندر جو سبب پایا جا رہا تھا، یعنی عداوتِ رسول، وہ اگر سبب تم میں پایا گیا تو وہی سزا تمہارے پر بھی آ جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی سے یہ بات خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے کہ قیاسِ شرعی بھی تو بالکل اسی کی طرح ہے، قیاسِ شرعی بھی تو بالکل اسی کی طرح ہے، وہاں پر بھی ایک علت جس کی وجہ سے حکم لگایا گیا ہے وہ علت دوسری جگہ ملی تو وہاں بھی وہی حکم لگا دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں پر دلالۃ النص کو ہم نے دلیل بنایا ہے اور دلالۃ النص کو ہر زبان جاننے والا سمجھ لیتا ہے۔ اس میں غور و فکر کی ضرورت ہی نہیں، جیسے بھئی، مثال گزری تھی، حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہُ، ان کو تو رجم کیا گیا، کیا کیا گیا؟ رجم کیا گیا، لیکن اسی سے ہر جان، زبان جاننے والا، سب لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ ان کو یہ رجم کیوں کیا گیا ہے؟ زنا کرنے کی وجہ سے، معلوم ہوا یہ چیز کہیں اور آئے گی تو وہاں پر بھی رجم آئے گا بھئی، کیا آ جائے گا؟ رجم آ جائے گا، اس میں کسی اجتہاد کی ضرورت پڑی؟ یا جیسے وہ ایک صحابی تھے، انہوں نے رمضان میں دن کے وقت بیوی سے صحبت کر لی تھی، تو ان کے لیے کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا حکم دیا؟ غلام آزاد کرو، غلام آزاد نہیں کر سکتے، 60 روزے رکھو، انہوں نے کہا 60 روزے بھی مشکل ہیں، فرمایا 60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ یہ سزا ان کو کیوں ملی؟ یہ کفارہ کیوں آیا ان پر؟ جی؟ روزے، روزہ جان بوجھ کر توڑنے کی وجہ سے، تو باقیوں کا حکم خود بخود پتہ چل گیا یا نہیں؟ اگرچہ کسی کا ذکر نہیں ہوا، لیکن ہر ایک سمجھ گیا کہ یہ ان کو صرف اس خاص آدمی ہونے کی وجہ سے یہ سزا نہیں ملی، اس عمل کی وجہ سے یہ کفارہ آیا ہے، معلوم ہوا جو بھی یہ عمل کرے گا اس کا یہی کفارہ اس پر آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دلالۃ النص جو ہے وہ خود ہر زبان والا اس کو سمجھ جاتا ہے، اس میں اجتہاد وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو یہاں بھی ہم نے یہ جو قیاس کے لیے عقلی دلیل بنائی وہ دلالۃ النص کو بنایا بھئی، جس کو ہر ایک سمجھ لیتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس آیت کے اندر جیسے عداوتِ رسول علت تھی اور سزا اس کا حکم تھا، تو اگر یہی علت دوسرے میں آیا کسی عقل والے میں تو اس کے لیے بھی وہی حکم آ جائے گا۔ تو قیاسِ شرعی بھی تو بالکل اسی کی مثل ہے بھئی، وہاں پر بھی ایک علت ہوتی ہے اور ایک حکم بھئی، وہی وہی علت دوسری جگہ ہے تو وہاں پر بھی وہی حکم آ جاتا ہے۔ ۔وَكَذَلِكَ التَّأَمُّلُ فِي حَقَائِقِ اللُّغَةِ یہ دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ اور اسی طرح غور و فکر کرنا، اوپر بھی آیا تھا تَأَمُّلُ، غور و فکر کرنا، وہ لیکن وہ غور و فکر تھا کس چیز کے اندر؟ ان کفار کی سزاؤں کے اندر۔ اب دوسری تأمل ذکر کر رہے ہیں، اور اسی طرح غور و فکر کرنا فِي حَقَائِقِ اللُّغَةِ، لغت کی حقیقتوں میں کہ کون سا لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے، اسد کا کیا معنی، رجل شجاع کا کیا معنی۔ تو یہ غور کرنا حقائق لغت میں کہ کس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے لِاسْتِعَارَةِ غَيْرِهَا بوجہ اس جو حقائق لغت کے غیر کا استعارہ لَهَا ان کے لیے شَائِعٌ مشہور ہے۔ بھئی دیکھیے! کہتے ہیں قیاس کی حجیت ہونے کی دوسری عقلی دلیل وہ حقائق لغت میں غور کرنا ہے، کس کے اندر؟ حقائق لغت میں غور کرنا ہے۔ حقائق لغت کیا مراد؟ کہ کس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ کس معنی کے لیے، مثلاً بھئی شیر بہادر جانور ہے اور اس کی شجاعت معروف و مشہور ہے، ہر ایک کو معلوم ہے۔ اور ایک ہے رجل شجاع، ہم نے رجل شجاع کے معنی میں غور کیا بھئی کہ معلوم ہوا یہ ایک انسان ہے جس میں بے انتہا بہادری پائی جا رہی ہے، تو ہم نے اس کے لیے اس کے غیر کا لفظ یعنی اسد رجل شجاع کے لیے اسد کا لفظ تو نہیں وضع، لیکن ہم نے اس کے علاوہ اس کے غیر کا لفظ یعنی اسد مستعار لے لیا اس کے لیے، کس کے لیے؟ مستعار لے لیا اس کے لیے۔ مستعار عاریت سے ہے بھئی، گھروں میں عام طور پر برتن وغیرہ ہمسائے ایک دوسرے سے مہمان آ جائیں منگوا لیتے ہیں یا کوئی اور اس طرح کی چیزیں، عاریتاً کسی سے کوئی چیز مانگنا لینا، آپ بھی کو آپ کو بھی کہیں جانا ہو مثلاً اپنے ساتھی سے سائیکل لے لیتے ہیں عاریتاً بھئی، کچھ استعمال کے لیے لے لی پھر واپس کر دیں گے۔ تو اسی سے ہے مستعار بھئی، مستعار بھئی۔ تو یہاں پر بھی کیا کیا گیا؟ رجل شجاع کے لیے عاریتاً اسد کے لفظ کو گویا لے لیا گیا۔ کون سا لفظ؟ اب بہادر آدمی اس کے لیے اسد کا لفظ وضع تو نہیں، لیکن اس کے اندر وہی وصف پایا جا رہا تھا جو شیر کے اندر ہے، شیر میں انتہا درجے کی بہادری ہے تو اس کے اندر بھی بہادری ہے لہٰذا ہم نے کیا کیا؟ اسد کے لفظ کو مستعار لے لیا اس کے لیے، تو یہ ہے استعارہ بھئی۔ اب اسد بول کر رجل شجاع مراد لیا، یہ لفظ معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا لفظ اسد یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، یہ اس معنی کے لیے وضع تو نہیں رجل شجاع کے لیے، لیکن ہم نے اس کو اس میں استعمال کر لیا تو اس کو کہتے ہیں استعارہ، کیا کہتے ہیں؟ استعارہ، وہی مجاز بھئی، مجاز۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مجاز ہے۔ تو دیکھیے آپ حقائق لغت میں غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ایک معنی کے لیے اس کے غیر کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ ایک معنی کے لیے اس کے غیر کا لفظ، کون سا؟ کون سا لفظ استعمال کیا؟ اسد کا، کس کے لیے؟ رجل شجاع کے معنی کے لیے، لیکن یہ اسی کا لفظ ہے یا غیر کا ہے؟ غیر کا ہے، تو غیر کے لفظ کو اس کے لیے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ شائع ہے، شائع ہے بالاتفاق جائز ہے۔ بالاتفاق جائز ہے، سب جائز کہتے ہیں۔ تو یہاں دیکھیے اسد کا لفظ رجل شجاع کے لیے مستعار لیا گیا کس وجہ سے؟ کیونکہ اس کے اندر بھی وہی وصف پایا جا رہا تھا جو کس کے اندر تھا؟ اسد کے اندر تھا بھائی। تو قیاس شرعی بھی تو بالکل اسی طرح ہے، وہاں پر ایک چیز کا پر حکم ہے وہ حکم کی علت ہے، وہی علت ہمیں دوسری جگہ ملی دوسری چیز میں ملی تو وہی حکم اس کے لیے بھی لے لیا گیا، وہی حکم، جیسے یہاں پر وہ بہادری والا وصف رجل شجاع میں تھا تو اس کے لیے کون سا لفظ لے لیا گیا؟ اسد کا لفظ لے لیا گیا، تو اسی طرح اس چیز کے اندر وہی علت تھی جو اصل کے اندر تھی فرع کے اندر ہمیں وہی علت ملی تو وہی فرع والا حکم اس کے لیے آ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو استعارہ تو بالاتفاق جائز ہے، ایک وصف جو جو جامع تھا دونوں میں پایا جا رہا تھا، اس وصف کی وجہ سے اس کا نام اس کا لفظ اس کے لیے استعمال کر لیا گیا۔ اسی طرح قیاس شرعی میں ایک علت جامعہ کی وجہ سے کہ وہ علت جو اس میں تھی وہ اس کے اندر بھی ہے، تو وہی حکم کس پر لگا دیا گیا؟ اس پر بھی وہی حکم لگا دیا گیا، جیسے وہ لفظ اس دوسرے کے لیے استعارے میں استعمال ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو استعارہ تو بالاتفاق جائز ہے تو یہ بھی معلوم ہوا قیاس شرعی کو بھی حجت ہونا چاہیے بھئی، قیاس شرعی کو بھی حجت ہونا، وہ جائز ہے تو یہ بھی جائز بھئی، وہاں نام لیا وصف کی وجہ سے یہاں حکم لیا علت جامعہ کی وجہ سے بھئی۔ وَكَذَلِكَ التَّأَمُّلُ فِي حَقَائِقِ اللُّغَةِ اور اسی طرح غور و فکر کرنا لغت کی حقیقتوں میں لِاسْتِعَارَةِ غَيْرِهَا لِاسْتِعَارَةِ غَيْرِهَا بوجہ ان حقیقتوں کے غیر کا استعارہ، کون تھا کون سا لفظ تھا؟ اسد، یہ رجل شجاع کے لیے ہے یا یہ غیر ہے اس سے؟ غیر، یہ تو وضع تھا شیر کے لیے بھئی، ایک جنگلی درندے کے لیے وضع تھا، تو یہ اس کے لیے تو نہیں یہ تو اس کے غیر کے لیے وضع ہے۔ تو اس غیر کو لے لیا کس کے لیے؟ لَهَا اس ان حقیقتوں کے لیے، حقائق کے علاوہ کے لفظ کو لے لینا اور کے غیر کے لفظ کو لے لینا ان کے لیے شَائِعٌ یہ کیا ہے؟ شائع ہے۔ بَيَانٌ لِلِاسْتِدْلَالِ الْمَعْقُولِ بِوَجْهٍ آخَرَ یہ بیان ہے عقلی استدلال کا ایک اور طریقے پر وَهُوَ اور وہ یہ کہ أَنْ يَتَأَمَّلَ مَثَلًا وہ یہ کہ غور کیا جائے مثال کے طور پر فِي حَقِيقَةِ الْأَسَدِ کس میں غور کیا جائے؟ شیر کی حقیقت میں غور کیا جائے کیا جائے اور وَهُوَ الْـ ہَيْكَلُ الْمَعْلُومُ، هيكل کہتے ہیں بڑے جسم والا جانور بھئی، بڑا قد آور جانور، اور وہ ایک معلوم بڑا قد آور جانور ہے فِي غَايَةِ الْجُرْأَةِ وَنِهَايَةِ الشَّجَاعَةِ جو جو جو انتہا درجے کی جرات اور انتہا درجے کی شجاعت والا ہے، جو یعنی جرات میں بھی انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہے اور شجاعت میں بھی انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہے، ثُمَّ يُسْتَعَارُ هَذَا اللَّفْظُ لِلرَّجُلِ الشَّجَاعِ پھر مستعار لے لیا گیا اس لفظ کو رجل شجاع کے لیے بِوَاسِطَةِ الشِّرْكَةِ فِي الشَّجَاعَةِ کس واسطے سے؟ شجاعت میں شرکت کے واسطے سے، کہ یہ بھی بہادر آدمی بھی شجاعت میں اس کے ساتھ شریک ہے، یعنی جیسے یہ وصف اس میں ہے اس کے اندر بھی موجود ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہ یہاں شارح سے تسامح ہوا ہے بھئی، یہ ان کی شرح متن پر منطبق نہیں ہوتی بھئی متن پر۔ شارح کیا فرما رہے ہیں؟ حقیقت اسد میں مثلاً غور کیا جائے، بھئی حقیقت اسد میں اس کے معنی میں غور نہیں کیا جائے گا، رجل شجاع کے معنی میں غور کیا جائے گا۔ کس میں؟ رجل شجاع کے معنی میں غور کریں گے اور پھر اس کے لیے اس کے غیر کا لفظ یعنی اسد لے آئیں گے۔ بات سمجھ میں آئی؟ کس میں غور کریں گے؟ رجل شجاع میں، دیکھو متن میں دیکھو، غور کرنا حقائق لغت میں، مثلاً رجل شجاع میں، کس میں غور کیا ہم نے؟ حقائق لغت کی جگہ ذرا کیا لے آؤ؟ رجل شجاع، مثلاً غور کیا رجل شجاع کے اندر لِاسْتِعَارَةِ غَيْرِهَا لَهَا اس کے لیے اس کے غیر کا استعارہ، رجل شجاع کے لیے اس کے غیر یعنی اسد کا استعارہ شَائِعٌ یہ کیا ہے؟ شائع ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو غور کس میں کیا جائے گا؟ رجل شجاع، جس کے لیے لفظ مستعار لیا جا رہا ہے نہ کہ اس میں جس سے لفظ مستعار لیا جا رہا ہے۔ وَالْقِيَاسُ نَظِيرُهُ اور قیاس اسی کی نظیر ہے أَيِ الْقِيَاسُ الشَّرْعِيُّ نَظِيرُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ التَّأَمُّلِ فِي الْعُقُوبَاتِ لِلِاحْتِرَازِ عَنْ أَسْبَابِهَا وَالتَّأَمُّلِ فِي حَقَائِقِ اللُّغَةِ لِاسْتِعَارَةِ غَيْرِهَا لَهَا اور قیاس شرعی نظیر ہے ان میں سے ہر ایک کی، بھئی دو تأمل کروائے انہوں نے، ایک تأمل کس کے اندر؟ ان سزاؤں کے اندر، اور ایک تأمل کس کے اندر؟ حقائق لغت کے اندر، کہتے ہیں یہ دونوں تأمل نظیر ہیں کس کی؟ قیاس شرعی کی نظیر ہیں۔ تو کہتے ہیں نظیر کل الـ یہ قیاس شرعی نظیر کل واحد، قیاس شرعی ان میں سے ہر ایک کی نظیر ہے، کون ہر ایک؟ بیان کر رہے ہیں مِنَ التَّأَمُّلِ فِي الْعُقُوبَاتِ یعنی کہ پہلا تأمل کیا تھا؟ سزاؤں میں تأمل لِلِاحْتِرَازِ عَنْ أَسْبَابِهَا تاکہ ہم بچ جائیں اس کے تاکہ بچے ہم تاکہ اس کے اسباب سے بچا جائے وَالتَّأَمُّلِ فِي حَقَائِقِ اللُّغَةِ اور اسی طرح حقائق لغت میں تأمل کی نظیر ہے لِاسْتِعَارَةِ غَيْرِهَا لَهَا بوجہ اس کا اس کے غیر کا استعارہ اس کے لیے۔ فَيَكُونُ إِثْبَاتُ حُجِّيَّةِ الْقِيَاسِ عَقْلًا تو اس صورت میں حجیت قیاس کا اثبات کس طرح ہوگا؟ عقلاً ہوگا بِدَلَالَةِ الْإِجْمَاعِ کس سے کس طرح؟ بدلالت اجماع کے ذریعے لَا بِالْقِيَاسِ نہ کہ قیاس کے ذریعے لِيَلْزَمَ الدَّوْرُ تاکہ کیا لازم آئے؟ دور لازم آئے۔ بھئی ایک معنی کے لیے اس کے غیر کا استعارہ جائز ہے، مشہور ہے، شائع ہے، سب کا اس پر اتفاق ہے، جیسے مثلاً رجل شجاع کے لیے کیا لفظ استعمال کر لیتے ہیں؟ اسد کا لفظ، اور سب کا اس پر اتفاق ہے، یعنی سب کا گویا اس پر اجماع ہے۔ تو یہاں پر ہم نے کس کے ذریعے؟ قیاس کے لیے عقلی دلیل ہے کس طریقہ پر؟ دلالت اجماع، سب کا اس پر اتفاق ہے، سب کا اس پر اجماع ہے، تو دلالت اجماع کے ذریعے حجیت قیاس ثابت کی ہے نہ کہ قیاس کے ذریعے قیاس کی حجیت ثابت کی ہے، ورنہ تو دور لازم آئے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
84 approved lectures · 57 of 84