Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-042

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 17
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔42 کہاں سے ہے ترکیب بھئی؟ مراد یہ اچھا کون کرے گا ترکیب؟ اچھا۔ بھئی آپ کو کتنے دن ہو گئے ہیں ترکیب کیے ہوئے؟ ہاں بھئی؟ آپ کو؟ کتنے دن ہو گئے؟ تم نے کب کی ہے؟ تین دن ہو گئے ہیں؟ آپ کو؟ آپ کو؟ کافی دن ہو گئے ہیں؟ چلو کرو کرو۔ واو حرف عاطف وہ دی تو یہ وقد لا يكون ما بعدها، اچھا جی واو حرف عاطف قد حرف تقلیل یہاں پر قد حرف تقلیل لا يكون فعل ناقص جی، فعل ناقص لا يكون ما موصولہ ما موصولہ بعد اعراب چاہیے، اسم آگیا تو اسم کا اعراب بتاؤ بھئی۔ مرفوع محلا شاباش مرفوع محلا، بھئی مرفوع آپ نے کیوں کہا؟ کان کا اسم کان کا اسم مرفوع ہوتا ہے اور محلا کیوں کہا؟ مبنی ہے شاباش، مبنی ہے۔ بعد بھئی یہ علامات یہ چیزیں یاد رکھیں بھئی، آپ کوشش کرتے ہیں کوئی عبارت تیار کرنے کی یا نہیں کرتے؟ جی، کوشش کرو کوشش کرو بھئی۔ کوشش کرو گے تو پھر بات بنے گی، اگر کوشش نہیں کرتے سماع جتنا مرضی کرتے رہیں اس سے اتنا فائدہ نہیں ہو گا بھئی۔ خود کوشش کرو بھئی، جی۔ بعد منصوب لفظا مضاف بعد منصوب لفظا مضاف ہا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ ہا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ کس کو راجع ہے؟ إلى کو شاباش إلى کو۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ ثبت کا مفعول فیہ ہے۔ شاباش مضاف مضاف الیہ مل کر ظرف کون سا ظرف ہوا؟ ظرف لغو ہوا یا ظرف مستقر ہوا؟ ظرف مستقر ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کس کے لیے مفعول فیہ بنے گا؟ ثبت فعل کے لیے ثبت فعل، ہوا ضمیر اس کا فاعل، ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل جی، ثبت فعل ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، بھئی ضمیر کا مرجع بتلایا کرو۔ ما موصول یہ اسم موصول کو راجع ہے، یہ مولانا فاعل کی ضمیر یہی عائد ہے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر یہ صلہ ہوا ما موصولہ کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا اسم موصول کے لیے۔ صلہ موصول مل کر یہ يكون کا اسم اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ يكون کے لیے اسم ہوا، جی۔ داخلا منصوب لفظا اسم خبر، يكون کی خبر داخلا منصوب لفظا صیغہ اسم فاعل، ابھی آگے اور چیزیں اس سے جڑیں گی بھئی۔ تو یہ منصوب کیوں کہا آپ نے بھئی؟ یہ خبر ہے یہ کان کی خبر ہے اور کان کی خبر منصوب ہوتی ہے، جی۔ ہوا ضمیر اس کا فاعل ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، مرجع بتلاؤ غائب کی ضمیر آئی۔ جی؟ يكون فعل کو کبھی کیسے ضمیر راجع کر رہے ہو؟ کون غائب؟ بات کیا ہو رہی ہے؟ کیا کہہ رہے ہیں؟ کبھی کبھار تو کبھی کبھار إلى جو ہے وہ تو کبھی کبھار إلى داخل ہوتا ہے إلى کا ما بعد، ما بعد إلى کبھی کبھار إلى کا ما بعد کیا ہے؟ داخل ہوتا ہے، کون داخل ہوتا ہے؟ إلى کا ما بعد ترکیب تو میں نے بتا دی آپ کو۔ داخل کا فاعل بتلا دیا یا نہیں بتلا دیا بھئی؟ کون داخل ہوتا ہے؟ ما بعد غور کیا کرو بھئی اس طرح بھئی۔ تو پھر کس کو ضمیر راجع ہے؟ ما بعد ہاں، یہ ما کو راجع ہے یعنی یوں کہو، کان کے اسم کو راجع کیونکہ خبر کان کی خبر کس سے جڑتی ہے؟ کان کے مبتدا کی خبر، یہ خبر کس سے جڑتی ہے مبتدا سے، تو خبر میں ایک ضمیر ہو گی جو کس کو راجع ہو گی؟ مبتدا کو، اور یہ کان کی خبر ہے اور کان کی خبر کس سے جڑتی ہے؟ کان کے اسم سے، تو یہ اسم کی طرف ضمیر راجع، جی۔ في جارہ ما موصولہ مجرور محلا شاباش، ما مجرور محلا اسم موصول قبل منصوب لفظا مضاف قبل منصوب لفظا مضاف، قبل منصوب کیوں پڑھا آپ نے؟ شاباش، یہ مفعول فیہ بنے گا ظرف ہے، جی۔ ہا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ ہا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ کس کو راجع ہے؟ إلى کو إلى کو راجع ہے شاباش، بھئی آپ کو کیسے پتہ چلا یہ ضمیر مضاف الیہ ہے؟ کسی اسم کے ساتھ ضمیر متصل آ جائے، کیا ترکیب ہو گی؟ مضاف مضاف الیہ، جی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ثبت فعل کا۔ جی مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فیہ ہوئے ثبت فعل کے لیے، بھئی آپ ہر جگہ ثبت نکال رہے ہیں ثابت کیوں نہیں نکالتے؟ صلہ کیونکہ صلہ جملہ ہوتا ہے۔ شاباش، کیونکہ اس نے صلہ بننا ہے بھئی اور صلہ کیا ہوا کرتا ہے ہمیشہ؟ جملہ، تو ثابت نکالیں گے پھر تو وہ مفرد بن جائے گا اور ہمیں جملہ چاہیے تو فعل نکالنا پڑے گا۔ تو ثبت فعل ہوا ضمیر اس کا فاعل مرفوع محلا ثبت فعل ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل غائب کی ضمیروں کا مرجع تلاش کرو، یہ اہم ترین چیز ترکیب میں یہ ہوتی ہے غائب کی ضمیر آ جائے، مرجع فوراً تلاش کرو۔ ما موصولہ یہ راجع ہے ما موصولہ کو، یہی عائد ہے بھئی۔ ثبت فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر یہ صلہ ہوا ما موصولہ کے لیے۔ ثبت فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ، موصول اپنے صلے سے مل کر لم يكن کا اسم۔ من جار من جارة جنس جنس مجرور لفظاً جنس مجرور لفظاً جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے داخلاً سے کیوں بھئی؟ میں نے ضابطہ بتلایا تھا، کیا ضابطہ؟ نکرہ کے بعد معرفہ آ جائے، جنس ہے نکرہ ما موصولہ ہے معرفہ، تو کیا ترکیب ہو گی؟ مضاف مضاف الیہ، جی۔ تو من جارة جنس مجرور لفظاً مضاف، اب اس پہ تنوین بھی نہیں آئے گی۔ ما مجرور محلا ما مجرور محلا اسم موصول قبل منصوب لفظاً قبل منصوب لفظاً مضاف الیہ قبل منصوب لفظاً مضاف ہا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ ہا ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ جو راجع ہے إلى کو جو راجع ہے إلى کو، جی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول فیہ ہوئے ثبت فعل کے لیے۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول فیہ ہوئے ثبت فعل کے لیے۔ ثبت فعل ہوا ضمیر اس کا فاعل مرفوع محلاً جو راجع ہے ما اسم موصول کو۔ ہاں ثبت فعل ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلا اس کا فاعل جو راجع ہے ما اسم موصول کو۔ ثبت فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر یہ صلہ ہوا ما موصولہ کے لیے۔ بھئی جملہ تو کہا کرو، ثبت فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ صلہ موصول صلہ موصول مل کر اسم موصول اپنے صلے سے مل کر اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا جنس کے لیے۔ جی، یہ مضاف اسم موصول اپنے صلے سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا، جی۔ مضاف اور مضاف الیہ مل کر یہ مجرور ہوئے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مجرور من کے لیے۔ جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے داخلاً سے جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ثابتاً سے جی؟ یہ متعلق ہوں گے ثابتاً سے، ثابتاً آپ نے منصوب کیوں نکالا؟ کان کی خبر کان کی خبر ہے اور کان کی خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ منصوب، تو یہ منصوب ہے لفظاً۔ آپ چاہتے ہیں تو ثبتا نکال لیں تو پھر یہ کیا ہو جائے گا؟ ثابتاً نکالیں گے تو ثابتاً ہے مفرد، اس مفرد کے ساتھ من جنس ما قبلها یہ سارا جڑ گیا، اس مفرد کے ساتھ یہ سارے لفظ جڑ گئے من کے ذریعے، تو مفرد کے ساتھ جتنی بھی چیزیں مل جائیں وہ پھر بھی کیا رہتا ہے؟ مفرد، تو یہ مفرد ہے بھئی اور تو کان کی خبر مفرد آپ نے بنا دی۔ اور اس پر نصب بھی آ گیا لفظوں کے اندر، اور اگر آپ چاہیں تو اس یہاں کیا نکال لیں؟ ثبتا نکال لیں، تو پھر یہ کیا کان کی خبر کیا بن جائے گی؟ جملہ ہوگی کیونکہ ثبتا فعل ہے یہ فاعل کے ساتھ مل کر کیا بن جائے گا؟ جملہ۔ تو پھر بھی یہ منصوب ہو گی کیونکہ کان کی خبر ہے، البتہ پھر اعراب کون سا ہو گا؟ محلا ہو جائے گا، جملہ یہ منصوب محلا ہو گا، جی۔ تو ثابتاً کے ساتھ متعلق ہوئے، ثابتاً صیغہ اسم فاعل ہوا ضمیر، ہیا ضمیر اس کا فاعل کیوں؟ ثابتاً میں ہوا ضمیر، جی۔ مرفوع محلاً اس کا فاعل فاعل فعل اپنے فاعل اور مرجع نہیں تلاش کیا بھئی۔ جو راجع ہے ما کو جو راجع ہے ما کو یعنی کان کے اسم کو راجع۔ فعل اپنے، ثابتاً فعل اپنے، ثابتاً فعل اپنے فاعل اسم فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر یہ شبہ جملہ ہو کر خبر کان کی خبر جی ثابتاً صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر کان کی خبر، جی۔ کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر یہ تو یہ خبر لم يكن کو، لم يكن اپنے اسم اور خبر سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ فعلیہ ہو کر شرط مؤخر تو شرط مؤخر اپنی جزائے مقدم سے مل کر جملہ جملہ شرطیہ ہوا، جملہ شرطیہ ہوا۔ آگے کون کرے گا؟ آپ کو کتنے دن ہو گئے ہیں ترکیب کیے ہوئے؟ کبھی نہیں کی جی؟ کبھی نہیں کی کبھی نہیں کی؟ چلو بھئی آپ تو سب سے زیادہ حقدار ہو، کرو۔ نحو مضاف اعراب؟ لفظاً مجرور لفظاً مرفوع، نحوُ مرفوع لفظاً بھئی آپ نے مرفوع کیوں کہا اس کو؟ کیوں پڑھا مرفوع؟ یہ یہ خبر بنے گی شاباش یہ خبر بنے گی اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ مرفوعات میں سے ہے، اور آپ نے لفظاً کیوں کہا؟ اس لفظ پر شاباش اس رفع پر تلفظ کر رہے ہیں، نحوُ، جی۔ قول مصدر محلاً مجرور قولِ مجرور لفظاً مصدر مضاف ہا ضمیر ذوالحال ہا ضمیر اعراب بھئی؟ لفظاً مجرور جی؟ محلاً مجرور محلاً کیوں کہا آپ نے؟ یہ ضمیر ہے ضمیر ہے مبنیات میں سے ہے، تو یہ جو اس پر آپ کیا پڑھ رہے ہیں بھئی؟ کسرہ پڑھ رہے ہیں، یہ کسرہ یہ حرف یہ کیا ہے؟ ماقبل کی وجہ سے پڑھ رہے ہیں ماقبل میں کسرہ تھا تو اس لیے ہم نے اس پر بھی کون سی حرکت پڑھی کسرہ والی، یہ اعراب نہیں ہے بھئی۔ تو یہ مجرور محلا مضاف الیہ ذوالحال۔ تعالیٰ فعل تعالیٰ فعل ہوا ضمیر اس کا فاعل ہوا ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل ہوا ضمیر اس کا فاعل راجع ببعض ذوالحال راجع ہے ذوالحال کو شاباش۔ ثم تعالیٰ فعل ہوا ضمیر اس کا فاعل فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر ذوالحال کا حال۔ جی شاباش تعالىٰ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ حال، اور میں نے بتایا ہے یہاں کیا مقدر ہے؟ قد مقدر ہو گا جی، کیونکہ ماضی ہے۔ حال ذوالحال مل کر مضاف الیہ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مضاف الیہ قول مصدر کے لیے۔ ثم ثم حرف عاطف ثم حرف عاطف، أتموا صیغہ امر فعل أتموا فعل واؤ ضمیر اس کا فاعل شاباش واؤ ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، دیکھو جمع کے لیے واؤ آئی ہے تو اب بعد میں ساتھ الف لکھا ہوا ہے، میں نے بتایا تھا واؤ جمع کے بعد کیا لکھنی ہے آپ نے؟ الف لکھنا ہے تاکہ پتہ چل جائے بھئی جی، فرق ہو جائے واؤ عاطف سے۔ الصيام منصوب لفظاً مفعول بہ بھئی اچھا ٹھیک ہے، الصيام منصوب لفظاً مفعول بہ۔ إلى حرف جار إلى جارة الليل مجرور لفظاً الليل مجرور لفظاً جار مجرور مل کے متعلق أتموا کے۔ شاباش جار مجرور مل کر متعلق ہوئے أتموا فعل کے ساتھ۔ أتموا فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ انشائیہ ہو کر قول کا مقولہ۔ شاباش، فعل اپنے فعل امر اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر مقولہ ہوا کس کے لیے؟ قول کے لیے۔ قول مقولہ مل کر مضاف الیہ۔ نہيں، وہ تو قول کے لیے مصدر کے لیے ایک مضاف الیہ بھی تو آپ چھوڑ کر آئے تھے پیچھے، اس کو بھی جوڑو۔ قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مقولے سے مل کر یہ کیا ہوا؟ مضاف الیہ ہوا نحوُ کے لیے۔ نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر شاباش، نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ ہی مضاف کے لیے ہی مبتدا کے لیے بھئی، ہی ضمیر غائب کی آ گئی مرجع بتلا دو۔ إلى جی؟ إلى کی مثال ہے، کس کی مثال ہے؟ إلى جی۔ اور جس میں ما بعد، ما قبل کی جنس میں داخل نہیں ہے بھئی، داخل نہیں ہے۔ اچھا بھئی۔ آگے بھئی کون کرے گا؟ کوئی جس نے نہ کی ہو، بھئی، بڑا عرصہ ہو گیا ہو۔ چلو بھئی اب، کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟ پہلی مرتبہ؟ چلو، چلو شاباش، کرو بھئی۔ واؤ حرفِ عطف۔ حتیٰ مرفوع محلاً مبتدا۔ لام جارة۔ لام جارة انتهاءِ کیا بنے گا؟ شاباش، مجرور لفظاً مضاف، اور انتهاءِ مجرور لفظاً مضاف، الغایةِ مجرور لفظاً مضافٌ الیہ۔ اگے بھی چلو، ابھی آگے بھی ہے۔ فی جارة، فی جارة الزمانِ مجرور لفظاً۔ شاباش، الزمانِ مجرور لفظاً۔ نہیں بھئی، کیوں معطوفٌ علیہ؟ اچھا، ٹھیک ہے، شاباش بھئی، واہ! شاباش۔ جار مجرور آگے ایک اور بھی تو آ رہا ہے، وفِي الْمَكَانِ، اس کا بھی اس پر عطف ہے۔ تو جار مجرور مل کر معطوفٌ علیہ۔ واؤ حرفِ عطف۔ فی جارة، المكانِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر معطوف۔ معطوف، معطوفٌ علیہ مل کر یہ متعلق ہوئے انتهاءِ کے۔ شاباش، اپنے معطوف سے مل کر یہ متعلق ہوا کس سے؟ انتهاء مصدر کے ساتھ۔ جی، اس لیے وہیں پر آپ کو بتانا چاہیے تھا کہ یہ مصدر ہے کیونکہ آگے اس سے آپ نے کیا کرنی ہیں؟ چیزیں جوڑنی ہیں، تو یوں کہتے: لام جارة، انتهاء مجرور لفظاً مصدر مضاف بھئی۔ چلیے جی۔ انتهاء مصدر اپنے مضافٌ الیہ اور متعلق سے مل کر مجرور۔ جار اپنے مجرور سے مل کر معطوفٌ علیہ۔ دیکھو، حتیٰ آتا ہے انتہائے غایت کے لیے بھی، وللمصاحبةِ، اور بس یہی دو ہیں؟ جی، تو یہ معطوف بھی آ رہا ہے آگے، تو للانتهاءِ یہ کیا ہوا؟ جار مجرور مل کر معطوفٌ علیہ۔ واؤ حرفِ عطف۔ لام جارة۔ المصاحبةِ مجرور لفظاً۔ جار اپنے مجرور سے مل کر معطوف۔ معطوفٌ علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ متعلق ہوئے ثابتٌ صغہ اسمِ فاعل سے۔ جی، جار اپنے مجرور سے مل کر معطوف، معطوفٌ علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ متعلق ہوئے کس سے؟ ثابتٌ صیغہ اسمِ فاعل کے ساتھ۔ ثابتٌ میں کون سی ضمیر ہے؟ ہاں، ثابتٌ کے اندر ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے حتىٰ کو، یہ عائد ہے بھئی۔ ثابتٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ کیا ہوئے؟ حتیٰ کی خبر۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی۔ بھئی ثابتٌ نکالا، ٹھیک نکالا ہے یا جی؟ جی؟ ثابتةٌ بھی نکال سکتے ہیں، ثابتٌ بھی نکال سکتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ دونوں درست ہیں بھئی۔ کیونکہ حتىٰ کیا ہے؟ حرف ہے، اور حرف کس طرح مستعمل ہے عربی میں؟ مذکر بھی مستعمل ہے اور اور زیادہ تر کیا ہیں؟ زیادہ مؤنث ہیں، تو ثابتةٌ نکال لیتے بہتر تھا، لیکن ثابتٌ پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا، یہ بھی درست ہے۔ نحوُ منصوب لفظاً، شاباش! منصوب لفظاً، بھئی منصوب کیوں پڑھا آپ نے اس کو؟ شاباش، اعني کے لیے مفعول ہے، اور مفعول منصوب ہوا کرتا ہے۔ نحوُ منصوب لفظاً مضاف۔ ہاں، یہ بھئی نحوُ مضاف ہوتا ہے مفرد کی طرف، اور یہ تو آگے جملہ ہے، تو اس کو کیا کریں گے؟ ہاں مراد اللفظ، لفظ کی تاویل میں لیں گے، تو مراد اللفظ۔ شاباش، نِمْتُ الْبَارِحَةَ حَتَّى الصَّبَاحِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا مضافٌ الیہ۔ مضافٌ الیہ شاباش۔ مضاف اپنے مضافٌ الیہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا اعني فعل کے لیے۔ شاباش، اعني فعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا ۔ جی، اور اگر معنیٰ کا ارادہ ہو تو نِمْتُ الْبَارِحَةَ حَتَّى الصَّبَاحِ کی کیا ترکیب ہوگی؟ شاباش، نِمْتُ فعل با فاعل، تُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ الْبَارِحَةَ منصوب لفظاً مفعول فیہ۔ حَتَّى جارة الصَّبَاحِ مجرور لفظاً۔ جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوئے نِمْتُ فعل کے ساتھ۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اچھا ترجمہ تو رہتا ہی جا رہا ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ سارا؟ بارحہ کہتے ہیں گزشتہ رات بھئی، گزشتہ رات۔ آگے کون کرے گا؟ چلو بھئی آگے کرو تم۔ نحوُ مرفوع لفظاً مضاف۔ شاباش، سِرْتُ الْبَلَدَ حَتَّى السُّوقِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا مضافٌ الیہ۔ مضاف مضافٌ الیہ مل کر یہ خبر ہوئے هِیَ مبتدا کے لیے۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، اور اگر معنیٰ کا ارادہ ہو تو سِرْتُ الْبَلَدَ حَتَّى السُّوقِ کی کیا ترکیب ہوگی؟ سِرْتُ فعل با فاعل، تُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ شاباش، الْبَلَدَ اعراب بتاؤ؟ منصوب لفظاً مفعول فیہ ہوا بھئی فعل کے لیے۔ حَتَّى جارة۔ السُّوقِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوا سِرْتُ کے ساتھ۔ سِرْتُ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ آگے کون کرے گا؟ چلیے بھئی آگے کیجیے۔ نحوُ مرفوع لفظاً مضاف۔ قَرَأْتُ وِرْدِي حَتَّى الدُّعَاءِ مجرور تقدیرًا مبدل منہ۔ أي حرفِ تفسیر۔ یہ مجرور تقدیرًا اپنے محذوف کے ساتھ مراد اللفظ ہو کر، بھئی یہاں پر بھی ہمیں قَرَأْتُ وِرْدِي نکالنا پڑے گا محذوف، تو یوں کہو: مع الدُّعاءِ اپنے محذوف کے ساتھ مل کر مراد اللفظ ہو کر یہ کیا ہے؟ یا یوں کہو مع الدُّعاءِ اپنے محذوف کے ساتھ مراد اللفظ کی تاویل میں یہ کیا ہے؟ مجرور تقدیرًا بدل بھئی، مجرور تقدیرًا بدل۔ بھئی وہی بات کر رہا ہوں کوئی نئی بات نہیں کر رہا، پہلے بعد میں، ہاں بتلاتا تھا میں محذوف ہے، ابھی سے اب آپ بتلا دیں کہ یہ اپنے محذوف کے ساتھ یہ کیا ہے مراد اللفظ ہے بھئی۔ مبدل منہ اپنے بدل کے ساتھ مل کر یہ مضافٌ الیہ ہوا نحوُ کے لیے۔ نحوُ مضاف اپنے مضافٌ الیہ سے مل کر۔۔۔ آپ نے کیا پڑھا تھا؟ نحوُ تو کہہ رہے تھے اعراب آپ نے کہا تھا مرفوع ہے، چلو پھر منصوب لفظاً ہوا، تو یہ اب مفعول ہوا کس کے لیے؟ اعني فعل کے لیے۔ اعني فعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ جی، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ کیا ترجمہ ہوگا؟ کیا جی، اب تو اگر معنیٰ کا ارادہ ہو پھر کیا ترکیب ہوگی؟ شاباش، قَرَأْتُ فعل با فاعل، تُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ وِرْدِي منصوب تقدیرًا مضافٌ الیہ۔۔۔ وِرْدِي منصوب کیوں کہا آپ نے اس کو؟ یہ مفعول بنے گا قرائت کے لیے بھئی، قَرَأْتُ فعل کے لیے، اور تقدیرًا کیوں کہا؟ یہ کس کی طرح ہے؟ غلامی کی طرح ہے، کوئی بھی اسم مضاف ہو یا یاءِ متکلم کی طرف سوائے جمع مذکر سالم کے، تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیسا ہوتا ہے؟ تقدیری ہوتا ہے۔ شاباش، وِرْدِي منصوب تقدیرًا مضاف۔ یاء ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ۔ مضاف اپنے مضافٌ الیہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا فعل کے لیے۔ حَتَّى جارة۔ الدُّعَاءِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے قَرَأْتُ فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ مفسَّرہ ہوا بھئی۔ آگے کیا آ رہی ہے اس کی؟ تفسیر، اور جملے کی تفسیر کس سے آئے گی؟ جملے سے، جی۔ أي حرفِ تفسیر۔ مع منصوب محلاً مضاف، بھئی آپ نے مع کو منصوب کیوں قرار دیا؟ کس کے کیا بن رہا ہے؟ مفعول تو چار پانچ ہیں بھئی۔ جی نہیں بھئی، مع کس میں سے ہے بھئی؟ یہ ظرف ہے، یہ کیا بنے گا؟ مفعول فیہ، اور مفعول فیہ کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، تو یہ منصوب محلاً مضاف۔ الدُّعَاءِ مجرور لفظاً مضافٌ الیہ، یہاں ہمزہ ہوگا ہمزہ بھئی، ہمزہ پر وہ کسرہ کا تلفظ ہو رہا ہے، الدُّعَاءِ مجرور لفظاً مضاف۔ شاباش، مضاف اپنے مضافٌ الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ قَرَأْتُ فعلِ محذوف کے لیے۔ بس وہ سارا جملہ باقی اسی طرح ہے بھئی، قَرَأْتُ وِرْدِي یہاں پورا محذوف نکال لیں، اور یا صرف قَرَأْتُ نکال لیں بھئی، ٹھیک ہے؟ قَرَأْتُہُ، تو وہ اسی طرح باقی فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے اور مع الدُّعَاءِ یہ کیا بن جائے گا؟ مفعول فیہ، مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ مفسَّرہ ہوا، کیا ہوا؟ مفسَّرہ ہوا بھئی۔ آگے کون کرے گا؟ جی، ترجمہ بھئی؟ پڑھا میں نے اپنا وظیفہ کہاں تک؟ حَتَّى الدُّعَاءِ، حتیٰ کس معنیٰ میں ہے؟ مع کے معنیٰ میں ہے۔ دعاء کے ساتھ بھئی، یہ اس دعاء کے ساتھ، الف لام نہیں آ رہا؟ کوئی خاص دعاء مراد ہے، الف لام کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ اشارہ کیا جاتا ہے، تو کوئی خاص متعین دعاء مراد ہے، پڑھا میں نے اپنا وظیفہ اس دعاء کے ساتھ۔ جی، آگے کون کرے گا؟ چلو بھئی آگے کیجیے ترکیب۔ واؤ حرفِ عطف۔ اعراب، اعراب؟ ما مرفوع محلاً، بھئی آپ نے اس کو مرفوع کیوں پڑھا؟ شاباش، مبتدا بنے گا، ما مرفوع محلاً۔ اسمِ موصول۔ بعدَ منصوب لفظاً مضاف۔ ها ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ، مرجع بتلاؤ بھئی؟ حتىٰ کی بات چل رہی ہے، حتىٰ کو راجع ہے، دیکھا ها ضمیر مؤنث کی راجع کی بھئی، حروف اکثر کس طرح مستعمل ہیں؟ مؤنث، جی۔ مضاف مضافٌ الیہ مل کر مفعول فیہ ہوئے ثَبَتَ فعل کے لیے۔ ثَبَتَ فعل ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔۔۔ بھئی کیوں کیا کرتے ہو بھئی؟ کتنی دفعہ بتایا، غائب کی ضمیر آئی ہے، اس کا مرجع بتلاؤ! ضمائر کا خاص خیال رکھو بھئی، غائب کی ضمیر کا مرجع تلاش کرو بھئی! تو ثَبَتَ فعل، ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ موصول کو، اسمِ موصول کو راجع، یہی عائد ہے جو صلے کو جوڑ رہا ہے اسمِ موصول کے ساتھ۔ ثَبَتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول۔۔۔ ثَبَتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ موصول صلہ مل کر مبتدا۔ موصول اپنے صلے سے مل کر مبتدا دیکھا؟ موصول کو کیا بنانا تھا؟ مبتدا اور بغیر صلے کے یہ کچھ بن سکتا ہے؟ تو صلہ ساتھ ملایا پھر اس کو مبتدا بنایا۔ قَدْ حرفِ تقلیل۔ يَكُونُ فعل افعالِ ناقصہ۔ اس میں هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم۔ شاباش دیکھا؟ میں نے کہا پہلے ضَرَبَ زَيْدٌ، کیا ترکیب کریں گے؟ ضَرَبَ فعل اور زَيْدٌ اس کا فاعل۔ اور اگر میں زَيْدٌ کو مقدم لے جاؤں، زَيْدٌ ضَرَبَ، اب کیا ترکیب کریں گے؟ زَيْدٌ مبتدا اور ضَرَبَ فعل۔ فعل اور فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل۔ اب وہ ضمیر ہے جو کس کو راجع ہے؟ زید کو۔ تو یہاں بھی اسی طرح جب ما بعد اس کا اسم تھا مقدم کر دیا تو اب اس کے اندر کیا آ گئی اس کی؟ ضمیر آ گئی جو ما بعد کو راجع ہے، تو يَكُونُ فعل افعالِ ناقصہ، هُوَ ضمیر اس کا اسم مرفوع محلاً اس کا اسم، جو راجع ہے کس کو؟ مبتدا کو۔ اور یہی عائد ہے، قَدْ يَكُونُ دَاخِلًا یہ جملہ فعلیہ بنے گا اور اس جملہ فعلیہ کو اپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ مَا بَعْدَهَا سے، تو یہ هُوَ ضمیر کیا بن گئی؟ عائد بن گئی۔ دَاخِلًا اعراب منصوب لفظاً، صیغہ اسمِ فاعل۔ فِي جَارَّه۔ حُكْمِ مجرور لفظاً مضاف۔ بھئی دَاخِلًا کے لیے فاعل بھی تو چاہیے؟ هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ہاں آگے کوئی نہیں آ رہا اس لیے یہیں نکال لو، پھر بعد میں بتلانا پڑے گا، دَاخِلًا صیغہ اسمِ فاعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ شاباش يَكُونُ کا اسم اور وہ کیا تھا؟ هُوَ ضمیر، وہ کیا تھی؟ هُوَ ضمیر، تو یہ هُوَ ضمیر اس کَانَ کے اسم کو راجع ہے، کیونکہ کَانَ کی یہ دَاخِلًا کَانَ کی خبر ہے اور کَانَ کی خبر کس سے جڑتی ہے؟ کَانَ کے اسم سے۔ فِي جَارَّه۔ حُكْمِ مجرور لفظاً مضاف۔ شاباش، مجرور لفظاً مضاف۔ مَا مجرور محلاً اسمِ موصول۔ قَبْلَ منصوب لفظاً مضاف۔ هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، راجع بجانبِ حَتَّى۔ شاباش، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ جو راجع ہے حَتَّى کو۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا ثَبَتَ فعل کے لیے۔ ثَبَتَ فعل اس میں هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے مَا کو۔ شاباش، ثَبَتَ فعل هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ مَا موصول کو، یہ عائد ہوا، جی۔ ثَبَتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ۔ شاباش، ثَبَتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ موصول صلہ مل کر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ موصول، اسمِ موصول اپنے صلے سے مل کر مضاف الیہ، دیکھا؟ مضاف الیہ بنا رہا تھا لیکن اسمِ موصول اکیلا نہیں بنے گا بلکہ کس کے ساتھ مل کر بنے گا؟ صلے سے مل کر بنے گا۔ حُكْمِ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مجرور ہوا فِي کے لیے۔ حُكْمِ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مجرور ہوا فِي کے لیے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے دَاخِلًا۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے دَاخِلًا صیغہ اسمِ فاعل کے ساتھ۔ دَاخِلًا صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی يَكُونُ کے لیے۔ شاباش، صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی يَكُونُ کے لیے۔ يَكُونُ فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی۔ شاباش، يَكُونُ فعلِ ناقص اپنے اسم اور خبر کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی، کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، مَا کے لیے، جی۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمِیہ خبریہ ہوا۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمِیہ خبریہ ہوا، آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلیے۔ نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف۔ أَكَلْتُ فعل با فاعل۔ تُ ضمیر مرفوع محلاً اس میں اس کا فاعل۔ السَّمَكَةَ منصوب لفظاً مفعول بہ، شاباش۔ حَتَّى جَارَّه۔ رَأْسِ مجرور لفظاً مضاف۔ هَا ضمیر اعراب، مجرور محلاً مضاف الیہ، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، کس کو راجع ہے؟ السَّمَكَةَ کو، شاباش۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جَارّ مجرور مل کر متعلق ہوئے أَكَلْتُ فعل کے ساتھ۔ شاباش، جَارّ مجرور مل کر متعلق ہوئے أَكَلْتُ فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے مفعول بہ، فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر نَحْوُ۔ او ہو، یہ بات تو رہ گئی تھی دیکھا؟ بھئی پہلے نَحْوُ مضاف ہے اور أَكَلْتُ السَّمَكَةَ حَتَّى رَأْسِهَا یہ سارا جملہ ہے اور نَحْوُ تو کس کی طرف مضاف ہوتا ہے؟ مفرد کی طرف، تو یہ تو جملہ ہے تو یہ کیا ہوگا؟ مراد اللفظ مجرور تقدیراً مضاف الیہ، ٹھیک ہے؟ ہاں اگر معنیٰ کا ارادہ ہے تو پھر اب نَحْوُ سے نہ جوڑو بھئی، یہ ترکیب اگر کرنی پڑے تو یوں ہوگی یہ۔ تو یہ فعل، أَكَلْتُ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، بس! اب نَحْوُ سے نہ جوڑو۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی یہاں دو تین تر- اس جملے میں حَتَّى رَأْسَهَا، رَأْسِهَا، رَأْسُهَا تینوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ تینوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ دیکھو، اب ترکیب اپ کو آ گئی ہے اب سمجھ میں آئے گا اپ کو کیسے تینوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ أَكَلْتُ- دیکھو، پہلے کیا پڑھ لیا ہم نے؟ رَأْسِهَا، حَتَّى کو کیا بنایا؟ جَارَّه، تو رَأْسِهَا اس نے جر دے دیا۔ اب اس پر ذرا نصب پڑھتے ہیں، وہ کس طرح؟ کہ حَتَّى کو عاطفہ بنائیں گے اور رَأْسَهَا کا عطف کس پر ہو جائے گا؟ السَّمَكَةَ پر، اور السَّمَكَةَ ہے منصوب تو رَأْسَهَا معطوف علیہ منصوب ہے تو معطوف بھی کیا ہوگا؟ منصوب۔ تو ترکیب یوں ہوگی: أَكَلْتُ فعل با فاعل، اس میں تُ ضمیرِ بارز مرفوع محلاً اس کا فاعل، السَّمَكَةَ منصوب لفظاً معطوف علیہ، حَتَّى عاطفہ، رَأْسَ منصوب لفظاً مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ جو راجع ہے السَّمَكَةَ کو، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ کیا ہوا؟ مفعول بہ ہوا فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ ہوا۔ حَتَّى رَأْسُهَا بھی پڑھ سکتے ہیں اپ بھئی۔ ترکیب کیسے ہوگی؟ پھر أَكَلْتُ السَّمَكَةَ حَتَّى رَأْسُهَا مَأْكُولٌ، حَتَّى- پھر دو جملے بن جائیں گے، أَكَلْتُ السَّمَكَةَ یہ جملہ فعلیہ اور یہ حَتَّى ابتدائیہ ہوا اور آگے رَأْسُهَا مبتدا اور مَأْكُولٌ اس کی خبر۔ تو دیکھو، أَكَلْتُ فعل با فاعل، تُ ضمیرِ بارز اس کا مرفوع محلاً اس کا فاعل، السَّمَكَةَ منصوب لفظاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ، یہ بات پوری ہو گئی۔ آگے ہے حَتَّى رَأْسُهَا مَأْكُولٌ، حَتَّى ابتدائیہ، رَأْسُ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں پڑھا میں نے؟ کیا بنے گا؟ مبتدا بنے گا، رَأْسُ مرفوع لفظاً مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ جو کس کو راجع؟ السَّمَكَةَ کو، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، مَأْكُولٌ صیغہ اسمِ مفعول، هُوَ ضمیر اس کے اندر نائب فاعل، کس کو راجع؟ خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے، تو یہ مبتدا کو راجع ہے بھئی رَأْسُهَا کو، تو صیغہ اسمِ مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمِیہ خبریہ، میں نے مچھلی کھائی یہاں تک رَأْسُهَا مَأْكُولٌ اس کا سر بھی کھایا گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے، بس بھئی مولانا! هَذَا هُوَ المَرَام وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔ اچھا بھئی، کہہ رہے ہیں: "کل میرا نکاح ہے دعا فرما دیں اس کے لیے۔" ماشاء اللہ! چلو بھئی، پیشگی مبارک ہو بھئی سب کی طرف سے! کیا؟ بھئی نکاح تو ہو جانے دو ایک دفعہ! تم پہلے سے ہی مٹھائی جو ہے کام خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اچھا، چلو بھئی دعا کرلو، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! سب کے گھروں میں اطمینان و سکون نازل فرما۔ اے اللہ! سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! جس کی تعلیم میں کوئی رکاوٹیں وغیرہ ہیں، اے اللہ! ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ہم سب پر علم کے دروازے کھول دے۔ اے اللہ! علم پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! علمِ نافع نصیب فرما۔ اور بہت سے لوگوں نے دعاؤں کا کہا ہے، ان کے لیے بھی دعا کریں، اے اللہ! ان کی حاجات کو پورا فرما۔ اے اللہ! اپ عالم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں، اللہ! سب کی حاجات پوری فر- اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف دور فرما۔ اور یہ طالبِ علم اپ کے ساتھی نے بھی دعا کا کہا ہے، نکاح کے لیے دعا کرو، اللہ اس نکاح کو ان کے لیے مبارک فرمائے، ان کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث بنائے، کوئی تکلیف اور پریشانی، ہر قسم کی تکلیف اور پریشانی سے اللہ حفاظت فرمائے، اور دنیا اور آخرت میں، دنیا اور آخرت میں خوشیوں کا باعث بنائے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ۔
49 approved lectures · 42 of 49