Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 20
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔31 اچھا بھئی، آج جملہ شرطیہ کی ترکیب کریں گے۔ اچھا، تو ، آپ نے پڑھا ہے شرط کے لیے ان اور لو آتے ہیں بھئی۔ حروف میں سے ان اور لو کس لیے آتے ہیں؟ شرط کے لیے۔ اچھا بھئی، سن لو بھئی لکھنے کا وقت پھر بس آج تو طویل بات ہے ذرا، لکھنے میں وقت لگے گا۔ تو ان حروف میں سے ان اور لو شرط کے لیے آتے ہیں بھئی، اسی طرح کچھ اسماء بھی شرط کے لیے آتے ہیں ظروف وغیرہ جیسے از، اذا وغیرہ۔ اور جملہ شرطیہ آپ جانتے ہیں بھئی کہ دو جملوں سے مرکب ہوتا ہے، پہلے جملے کو شرط کہتے ہیں اور ثانی کو جزا۔ یاد رکھو شرط ہمیشہ جملہ فعلیہ ہوگی بھئی۔ شرط ہمیشہ کیا ہوگی؟ جملہ فعلیہ ہوگی۔ اس لیے کہ شرط تعلیق کے لیے آتی ہے، ایک چیز کو دوسری کے ساتھ معلق کر دیتی ہے بھئی۔ تو شرط آتی ہے تعلیق کے لیے، اور تعلیق ہوتی ہے زمانے کے اندر، اور زمانہ ہوتا ہے فعل کے اندر۔ تو لہٰذا شرط ہمیشہ کیا ہوگی؟ جملہ فعلیہ ہوگی بھئی۔ اور جزا وہ جملہ فعلیہ بھی ہو سکتا ہے، اسمیہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ اور یاد رکھیے شرط اور جزا میں سے یہ شرط جو ہے، یہ قید ہے اور اصل جملہ جو ہے وہ جزا ہے، اصل کیا ہے؟ تو جملہ شرطیہ بن گیا بھئی شرط کو جزا سے ملا دیا۔ اب جملہ شرطیہ خبریہ ہے یا انشائیہ، اس کا پتہ جزا سے چلے گا۔ اگر جزا ہوئی جملہ انشائیہ تو اسے کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ انشائیہ۔ جزا اگر کیا ہوئی؟ جملہ انشائیہ تو کہیں گے جملہ شرطیہ انشائیہ۔ اور اگر جزا ہوئی جملہ خبریہ تو پھر کیا کہیں گے؟ جملہ شرطیہ خبریہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جملہ شرطیہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے اور خبریہ بھی ہو سکتا ہے، اور پتہ کس سے چلے گا؟ جزا سے۔ اگر جزا انشا ہے تو جملہ شرطیہ بھی انشائیہ، اور اگر جزا خبر ہے تو جملہ شرطیہ بھی جملہ شرطیہ خبریہ کہلائے گا۔ تو جملہ شرطیہ کے اندر دو جزو ہوتے ہیں، پہلے جزو کو کہتے ہیں شرط، ثانی کو جزا کہتے ہیں، جزا۔ شرط اور جزا کے اندر ربط کے لیے فاء لائی جاتی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں بھئی، جزا پر عموماً کیا داخل کرتے ہیں؟ فاء۔ یہ فاء ربط کے لیے لائی جاتی ہے بھئی۔ پہلا جملہ ہے شرط، ثانی ہے جزا۔ تو اس فاء کے ذریعے دونوں میں کیا پیدا کیا جاتا ہے؟ ربط پیدا کیا جاتا ہے۔ تو بعض اوقات فاء لائی جاتی ہے، بعض اوقات فاء نہیں لائی جاتی۔ کہاں فاء لائیں گے، کہاں پر فاء نہیں لائیں گے، ضابطہ یاد رکھیں اس کا۔ میں نے بتلایا کہ یہ فاء کس لیے لائی جاتی ہے؟ ربط۔ تو اگر فاء کے بغیر ہی ربط آ چکا ہو تو فاء لانے کی ضرورت نہیں، اور اگر فاء کے بغیر پہلے ربط نہیں آیا تو پھر ربط کے لیے کیا لے کر آئیں گے؟ فاء۔ کیا بات کی یہاں تک کہ یہ فاء کس لیے لائی جاتی ہے شرط اور جزا میں؟ ربط کے لیے۔ تو ربط اگر پہلے سے آ چکا ہے تو فاء نہیں لائیں گے۔ اور اگر ربط پہلے سے نہیں آیا تو پھر کیا لے کر آئیں گے؟ فاء لے کر آئیں گے۔ بھئی کیسے پتہ چلے گا کہ ربط آ چکا ہے یا ربط نہیں آیا؟ بھئی غور کرنا ہے آپ نے کہ حرف شرط نے جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا کی ہے یا تبدیلی پیدا نہیں کی۔ اگر تبدیلی پیدا کی ہے تو ربط آ چکا، فاء لانے کی ضرورت نہیں۔ کس نے بھئی؟ حرف شرط نے۔ حرف شرط نے مثلاً اگر جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا کر دی ہے تو ربط آ چکا، پھر فاء لانے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر ربط اگر اس نے جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، تو ربط نہیں آیا۔ جب ربط نہیں آیا، تو پھر ربط کے لیے کیا لے آؤ؟ فاء۔ دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی۔ مثلا میں کہتا ہوں میں کہتا ہوں ان ضربتنی ضربتک۔ ان ضربتنی ضربتک، کیا ترجمہ کریں گے؟ اگر تم میری پٹائی کرو گے ان ضربتنی، اگر تم میری پٹائی کرو گے ضربتک، میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا۔ تو ان ضربتنی، یہ ہے شرط، اور ضربتک، یہ کیا ہے؟ جزا۔ یہاں ربط آ چکا، لہٰذا فاء نہیں لے کر آئیں گے۔ کیسے ربط آیا؟ دیکھو ان ضربتنی، یہ ضربت کون سا صیغہ ہے؟ ماضی ہے یا مضارع ہے؟ ہے ماضی لیکن میں ترجمہ کیا کر رہا ہوں؟ مستقبل والا کر رہا ہوں۔ اگر میری پٹائی آپ کریں گے، ضربتک، تو یہ ضربتک بھی ہے ماضی لیکن میں ترجمہ کون سا کر رہا ہوں؟ مستقبل والا۔ یہ مستقبل والا ترجمہ میں جزا کا کیوں کر رہا ہوں؟ یہ حرف شرط کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ تو دیکھو اس حرف شرط نے جزا کے معنی کو ماضی سے کس کی طرف بدل دیا؟ مستقبل کی طرف۔ جب مستقبل کی طرف معنی بدل دیا تو ربط آ چکا، جب ربط آ گیا تو اب فاء لانے کی ضرورت نہیں۔ مثال سمجھ میں آئی بھئی؟ تو ان ضربتنی ضربتک بھئی۔ دوسری مثال بھئی۔ فعل مضارع میں دیکھیں بھئی۔ بلکہ ماضی پر قد لائیں ذرا قد۔ قد کس لیے آیا کرتا ہے بھئی؟ ماضی کی تحقیق کے لیے آتا ہے، یعنی ماضی کو پکا کر دیتا ہے، پختہ کر دیتا ہے۔ جب ماضی پختہ ہو گئی بھئی، جزا میں مثلاً قد آ رہا ہے ماضی پر، اور قد نے ماضی کو پختہ کر دیا، اب وہ ادات شرط جو ہے، ماضی کو مستقبل کی طرف بدلنا چاہتا ہے، لیکن بدل نہیں سکتا کیونکہ قد آ رہا ہے۔ تو جب مستقبل کی طرف جزا کا معنی نہیں بدلا، تو معلوم ہوا ربط نہیں آیا بھئی، ربط نہیں۔ لذا پھر فاء لائیں گے۔ مثلاً دیکھو، میں کہتا ہوں ان ضربتنی فقد ضربتک۔ ان ضربتنی فقد ضربتک۔ کیا معنی، کیا ترجمہ کریں گے؟ اگر تم میری پٹائی کرو گے، تو تحقیق میں تمہاری پٹائی کر چکا ہوں۔ اگر تم میری پٹائی کرو گے تو میں زمانہ ماضی میں تمہاری پٹائی کر چکا ہوں دیکھو، جزا کا اب بھی میں کون سا ترجمہ کر رہا ہوں؟ مستقبل والا کر رہا ہوں یا ماضی والا؟ ماضی والا کیوں کر رہا ہوں یہ؟ قد کی وجہ سے۔ قد نے ماضی کو کیا کر دیا؟ پکا۔ جب ماضی پکی ہو گئی تو اب وہ ادات شرط اس کے معنی کو ماضی سے کس کی طرف بدلنا چاہتا ہے؟ مستقبل کی طرف، اور اس نے بدلا نہیں بدلا۔ جب نہیں بدلا، تو جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ربط نہیں آیا۔ جب ربط نہیں آیا تو پھر اب کس کو لے کر آؤ ربط کے لیے؟ فاء۔ اب فاء کا لانا واجب، تو کیا کہیں گے؟ ان ضربتنی فقد ضربتک۔ یہ ضابطہ لگاتے جائیں، آپ کو پتہ چلتا جائے گا کہاں فاء لانی ہے کہاں نہیں۔ جملہ انشائیہ لاؤ بھئی۔ ان کیا جملہ بنائیں بھئی؟ ان جئتنی فجزاك اللہ خیراً۔ ان جئتنی فجزاك اللہ خیراً۔ اگر تم میرے پاس آئے تو اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے۔ فجزاك اللہ، یہ جزا ہے تو ماضی بھئی، جزا کیا ہے؟ صیغہ ہے ماضی کا بھئی۔ یہ فعل ہے یہاں پر۔ صیغہ تو ماضی کا ہے لیکن عربی میں دعا دی ہی ماضی کے صیغے کے ساتھ دی جاتی ہے اور معنی کون سا ہوتا ہے؟ مستقبل والا، امر والا معنی کہ اللہ آپ کو کیا کرے؟ جزا دے دے، مستقبل والا معنی ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ کسی کو کہتے ہیں جزاک اللہ، کیا مطلب ہوتا ہے؟ آپ کو اللہ اچھا اللہ آپ کو بدلہ دے، یا اچھا بدلہ دے۔ یہ کون سا ترجمہ کر رہے ہیں آپ؟ ماضی والا کر رہے ہیں یا مستقبل والا کر رہے ہیں؟ مستقبل والا۔ تو یہ عربی کے اندر دعا عموماً دی ہی ماضی کے صیغے کے ساتھ جاتی ہے بھئی۔ تو ہوتا یہ ہے، ماضی۔ تو یہاں پر بھئی، میں نے کہا ان جئتنی فجزاك اللہ خیراً۔ دیکھو، جزاک اللہ خیراً، اس کے معنی میں ان نے کوئی تبدیلی پیدا کی؟ اگر آپ میرے پاس آئے تو اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے۔ پہلے بھی اس کا کیا معنی تھا؟ جزاک اللہ خیراً کا کیا معنی تھا؟ اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے۔ اب بھی وہی مستقبل والا معنی ہے، کوئی تبدیلی آئی؟ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جب تبدیلی نہیں آئی تو ربط آیا؟ ربط نہیں آیا۔ جب ربط نہیں آیا تو اب کیا لے کر آئیں گے ربط کے لیے؟ فاء لے کر آئیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ جملہ انشائیہ ہوا۔ اچھا، جملہ اسمیہ لے آؤ۔ مثلا میں کہتا ہوں ان جئتنی فلك درہم۔ ان جئتنی فلك درہم۔ بھئی لک درہم کا کیا معنی ہے؟ آپ کے لیے ایک درہم ہے۔ اور میں نے اب جملہ شرطیہ بنایا، کہ جزا اس کو بنا دیا، اگر میرے پاس آ پائے تو آپ کے لیے ایک درہم ہے۔ جزا میں کوئی تبدیلی آئی؟ پہلے بھی کیا ترجمہ تھا؟ آپ کے لیے ایک اور اب بھی کیا معنی ہے؟ آپ کے لیے ایک۔ کوئی معنی میں تبدیلی نہیں آئی تو ربط آیا؟ ربط نہیں آیا تو اس اب ربط کے لیے کیا لے کر آئیں گے بھئی؟ فاء لے کر آئیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فعل مضارع لے کر آؤ بھئی۔ اچھا، یہاں تک کیا بات ہوئی؟ ماضی اگر بغیر قد کے ہو تو فاء کو نہیں لائیں گے۔ ماضی اگر قد کے ساتھ ہو جزا، تو پھر فاء کا لانا واجب۔ اور اگر جملہ انشائیہ ہو یا جملہ اسمیہ ہو، تو پھر بھی جزا کا لانا واجب، اور فاء کا لانا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ماضی ہو تو فاء کا لانا جائز ہے یا جائز نہیں ہے بھئی؟ جزا اگر ماضی ہو۔ ان ضربنی ضربتکا۔ اگر جزا کیا ہو؟ ماضی، تو فاء نہیں لائیں گے۔ اور اگر ماضی مع قد کے ہو جزا، پھر فاء کا لانا واجب۔ جملہ انشائیہ ہو تو بھی فاء کا لانا واجب۔ جملہ اسمیہ ہو تو بھی فاء کا لانا واجب۔ اب فعل مضارع کی طرف آتے ہیں بھئی۔ اگر جزا فعل مضارع آئے، یاد رکھو، دیکھو میں نے کہا ان ضربنی اضربکا۔ ان ضربنی اضربکا۔ تو یہاں فاء لائیں گے یا نہیں؟ معنی کے اندر غور کرتے ہیں۔ کیا ترجمہ میں کر رہا ہوں؟ ان ضربنی، اگر آپ میری پٹائی کریں گے، اضربکا، میں بھی آپ کی کون سا ترجمہ کر رہا ہوں فعل مضارع والا؟ مستقبل والا۔ اور فعل مضارع میں مستقبل کا معنی پہلے سے تھا یا نہیں تھا بھئی؟ پہلے سے تھا، جب پہلے سے تھا تو معلوم ہوا ربط ابھی بھی نہیں آیا، جب ربط نہیں آیا تو کیا لے کر آئیں گے؟ فاء لائیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ میں نے کیا کہا ان ضربنی اضربکا۔ اضربکا میں کسی کو کہتا ہوں کیا ترجمہ کروں گا؟ میں آپ کی پٹائی کروں گا۔ تو معلوم ہوا مضارع میں تو پہلے ہی مستقبل میں آپ کا معنی ہے، اب میں نے کہا اس کو جزا بنایا ان ضربنی اضربکا، تو یہاں پر جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جب جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ربط نہیں آیا، جب ربط نہیں آیا تو اب کیا لے کر آئیں گے ربط کے لیے؟ فاء لے کر آئیں گے۔ صورۃ سمجھ میں آئی یہ جملہ انشائیہ ہوا۔ اچھا، جملہ اسمیہ لے آؤ۔ ماصلن میں کہتا ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ تو۔ مثلاً۔ ان جئتنی فا ف اضرب زیدا۔ ان جئتنی فاضرب زیدا۔ تو جزا کیا ہے بھئی؟ اضرب زیدا یہ ہے جزا، کون سا جملہ ہے؟ جملہ انشائیہ ہے۔ اگر آپ میرے پاس ائے تو زید کی پٹائی کیجیے۔ تو جزا کیا ہے بھئی اضرب زیدا۔ اور کون سا معنی ہے بھئی؟ کون سا جملہ ہے یہ؟ انشاء، مستقبل ہے میں۔ تو یہاں پر اب، میں شرط لے کر آیا، ان جئتنی ف اضرب زیدا۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ اگر آپ میرے پاس آئے تو زید کی پٹائی کیجیے۔ تو جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی آئی بھئی؟ جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بھئی۔ تو جب جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ربط نہیں آیا، تو ربط کے لیے کیا لے کر آئیں گے؟ فاء لے کر آئیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ جملہ انشائیہ ہوا۔ اچھا۔ جملہ اسمیہ لے آؤ۔ ماصلن میں کہتا ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ تو۔ مثلاً۔ ان جئتنی فلکا درہم۔ ان جئتنی فلکا درہم۔ بھئی لکا درہم کا کیا معنی ہے؟ آپ کے لیے ایک درہم ہے۔ اور میں نے اب جملہ شرطیہ بنایا، کہ جزا اس کو بنا دیا، اگر میرے پاس آ پائے تو آپ کے لیے ایک درہم ہے۔ جزا میں کوئی تبدیلی آئی؟ پہلے بھی کیا ترجمہ تھا؟ آپ کے لیے ایک۔ اور اب بھی کیا معنی ہے؟ آپ کے لیے ایک۔ کوئی معنی میں تبدیلی نہیں آئی تو ربط آیا؟ ربط نہیں آیا تو اس اب ربط کے لیے کیا لے کر آئیں گے بھئی؟ فاء لے کر آئیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فعل مضارع لے کر آؤ بھئی۔ اچھا، یہاں تک کیا بات ہوئی؟ ماضی اگر بغیر قد کے ہو تو فاء کو نہیں لائیں گے۔ ماضی اگر قد کے ساتھ ہو جزا، تو پھر فاء کا لانا واجب۔ اور اگر جملہ انشائیہ ہو یا جملہ اسمیہ ہو، تو پھر بھی جزا کا لانا واجب، اور فاء کا لانا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ماضی ہو تو فاء کا لانا جائز ہے یا جائز نہیں ہے بھئی؟ جزا اگر ماضی ہو۔ ان ضربنی ضربتکا۔ اگر جزا کیا ہو؟ ماضی، تو فاء نہیں لائیں گے۔ اور اگر ماضی مع قد کے ہو جزا، پھر فاء کا لانا واجب۔ جملہ انشائیہ ہو تو بھی فاء کا لانا واجب۔ جملہ اسمیہ ہو تو بھی فاء کا لانا واجب۔ اب فعل مضارع کی طرف آتے ہیں بھئی۔ اگر جزا فعل مضارع آئے۔ یاد رکھو، دیکھو میں نے کہا ان تجربنی اضربکا۔ ان تجربنی اضربکا۔ تو یہاں فاء لائیں گے یا نہیں؟ معنی کے اندر غور کرتے ہیں۔ کیا ترجمہ میں کر رہا ہوں؟ ان تجربنی، اگر آپ میری پٹائی کریں گے، اضربکا، میں بھی آپ کی۔ کون سا ترجمہ کر رہا ہوں فعل مضارع والا؟ مستقبل والا۔ اور فعل مضارع میں مستقبل کا معنی پہلے سے تھا یا نہیں تھا بھئی؟ پہلے سے تھا، جب پہلے سے تھا تو معلوم ہوا ربط ابھی بھی نہیں آیا، جب ربط نہیں آیا تو کیا لے کر آئیں گے؟ فاء لائیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ میں نے کیا کہا ان تجربنی اضربکا۔ اضربکا میں کسی کو کہتا ہوں کیا ترجمہ کروں گا؟ میں آپ کی پٹائی کروں گا۔ تو معلوم ہوا مضارع میں تو پہلے ہی مستقبل میں آپ کا معنی ہے، اب میں نے کہا اس کو جزا بنایا ان تجربنی اضربکا، تو یہاں پر جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جب جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ربط نہیں آیا، جب ربط نہیں آیا تو اب کیا لے کر آئیں گے ربط کے لیے؟ فاء لے کر آئیں گے۔ لیکن دیکھیں تو تبدیلی آ بھی چکی۔ کیونکہ مضارع کے اندر تو دو زمانے تھے، حال بھی اور۔ لیکن اب حال والا ترجمہ آپ نہیں کر سکتے، اب کون سا کرنا پڑے گا؟ استقبال والا ہی کرنا پڑے گا۔ تو بعید لحاظ دیکھا جائے تو تبدیلی آ چکی، جب تبدیلی آ چکی تو ربط آ چکا، جب ربط آ چکا تو اب فاء لانے کی ضرورت۔ لذا فعل مضارع میں دونوں جہتیں ہیں، دیکھا جائے تو تبدیلی آ چکی، دیکھا جائے تو تبدیلی۔ لذا فعل مضارع اگر جزا ہو تو اس میں فاء کا لانا بھی جائز اور حذف کرنا بھی، نہ لانا بھی جائز بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فعل مضارع میں کتنی جہتیں ہیں؟ دیکھا جائے تو تبدیلی آ چکی، کیسے تبدیلی آئی؟ کہ فعل مضارع میں تو دو زمانے تھے لیکن حرف شرط کے بعد اب صرف کون سا زمانہ رہ گیا؟ صرف مستقبل رہ گیا، حال والا ترجمہ آپ نہیں کر سکتے۔ اور دیکھا جائے تو تبدیلی نہیں آئی ہوئی، کیونکہ مستقبل والا معنی تو فعل مضارع میں پہلے سے ہی موجود تھا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ اچھا، اب چند جملوں کی ترکیب بھی کر لیں بھئی۔ جی ان ضربتنی ضربتکا۔ ان ضربتنی ضربتکا، جی کون کرے گا ترکیب؟ جی کیجیے۔ ان حرف شرط، ضربت فعل بافاعل، تو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر یہ شرط ہوا۔ ضربت فعل بافاعل، تو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، کاف ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا۔ شرط جزا، جی کیجیے آگے، شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ خبریہ بنے گا یا انشائیہ بھئی؟ خبریا بنے گا یا انشائیہ، جی؟ خبریہ بنے گا یا انشائیہ، کیسے پتہ چلے گا آپ کو؟ جزا کو دیکھو، اگر جزا ہے خبر، تو جملہ شرطیہ خبریہ، اگر جزا ہے انشاء، تو کیا کہیں گے جملہ شرطیہ انشائیہ، سمجھ میں آیا؟ تو یاد رکھو، یہ جزا اصل ہوتی ہے اور یہ شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے، قید بھئی۔ تو یہ جملہ شرطیہ خبریہ ہوا بھئی، جملہ شرطیہ جزائیہ نہ کہو، جزائیہ کوئی نام نہیں ہے، جملہ شرطیہ ہوا بھئی، جملہ شرطیہ خبریہ۔ سمجھ میں آیا؟ آپ کتابیں پڑھتے ہیں بھئی، ابھی تک کسی کتاب میں آیا جملہ شرطیہ جزائیہ؟ کہیں کسی نے ذکر کیا ہو بھئی۔ نہیں بھئی، یہی ذکر جملہ شرطیہ ہوا، جہاں بھی آپ پڑھیں گے یہیں آئے، یہی لفظ آئے گا جملہ شرطیہ ہوا، جملہ شرطیہ ہوا۔ جی۔ ان ضربتنی ضربتکا۔ جی کون کرے گا ترکیب؟ جی کیجیے۔ ان حرف شرط، ضربت فعل بافاعل، تو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ضربتو، فعل بافاعل، تو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، کاف ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ جزا، شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ خبریہ۔ خبریہ بنے گا یا انشائیہ، جی؟ خبریہ بنے گا یا انشائیہ، کیسے پتہ چلے گا آپ کو؟ جزا کو دیکھو۔ اگر جزا ہے خبر تو جملہ شرطیہ خبریہ، اگر جزا ہے انشا تو کیا کہیں گے جملہ شرطیہ انشائیہ، سمجھ میں آیا؟ تو یاد رکھو، یہ جزا اصل ہوتی ہے اور یہ شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے، قید بھئی۔ تو یہ جملہ شرطیہ خبریہ ہوا بھئی، جملہ شرطیہ جزائیہ نہ کہو، جزائیہ کوئی نام نہیں ہے، جملہ شرطیہ ہوا بھئی، جملہ شرطیہ خبریہ۔ سمجھ میں آیا؟ آپ کتابیں پڑھتے ہیں بھئی، ابھی تک کسی کتاب میں آیا جملہ شرطیہ جزائیہ؟ کہیں کسی نے ذکر کیا ہو بھئی۔ نہیں بھئی، یہی ذکر جملہ شرطیہ ہوا، جہاں بھی آپ پڑھیں گے یہیں آئے، یہی لفظ آئے گا جملہ شرطیہ ہوا، جملہ شرطیہ ہوا۔ جی۔ ان ضربتنی ضربتکا۔ جی کون کرے گا ترکیب؟ جی کیجیے۔ ان حرف شرط۔ ضربت فعل بافاعل، تو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، نون وقایہ، کاف ضمیر منصوب محلا مفعول بہ۔ ضربت فعل بافاعل، تو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، یا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر یہ شرط ہوا۔ ضربتو فعل بافاعل، تو ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، کاف ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، کاف ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ خبریہ نہ کہو، شرط کے اندر خبر کی قید نہ لگاؤ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط، جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ یاد رکھو یہ شرط خبر یا انشاء کے ساتھ اس کو موصوف نہیں کر سکتے بھئی۔ ہاں، فاء جزائیہ، انت مرفوع محلا مبتدا، شجاع مرفوع لفظا صفت مشبہ۔ اس میں انت ضمیر، وہ اس کا فاعل۔ شاباش، اس کے اندر انت ضمیر مرفوع محلا فاعل بھئی، صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر یہ جملہ اسمیہ ہو کر، جملہ اسمیہ ہاں جزا پہ لگاؤ بھئی، خبر یا انشاء نہ کہو، تم جزا پہ لگاؤ شرط پہ نہیں لگا سکتے۔ جملہ اسمیہ خبر، ہاں جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر جزا۔ اور شرط و جزا مل کر یہ جملہ، فعل یہ شرطیہ خبریہ، شاباش، شرط و جزا مل کر جملہ شرطیہ کون سا ہوا؟ انشاء ہے یا خبر؟ خبر، جملہ شرطیہ خبریہ ہوا بھئی، انشائیہ ہوا۔ جی، اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ ان جاءنی زید، فاضربه بالعصا۔ ان جاءنی زید، فاضربه بالعصا۔ جی کون کرے گا ترکیب؟ جی کیجیے۔ ان حرف شرط، جاء فعل، یمیر اس کا فاعل، نون وقایہ، جاء فعل ضمیر اس کا فاعل، یا ضمیر متکلم مفعول بہ۔ جی، آگے، جاء فعل ضمیر، نون وقایہ، یا ضمیر متکلم مفعول بہ، جی، نون وقایہ، اور یا ضمیر متکلم مفعول بہ، جی، منصوب محلا، جی، زید ان کا فاعل، ہاں، حکم ماضی وہ گزشتہ قول سے رجوع کر لیا انہوں نے بھئی، فاعل آگے آ رہا ہے جاء فعل نون وقایہ کا بھئی، یا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، زید مرفوع لفظا فاعل۔ جی، فعل اپنے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر۔ ف جزائیہ، اضربه فعل بافاعل، اضرب فعل امر، انتی ضمیر اس کا فاعل، انتا ضمیر مرفوع محلا اس کے اندر اس کا فاعل، ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل، جی، ہو، ہا، ہم، ہا ضمیر، جی، ہا ضمیر، مفعول بہ منصوب محلا، ہا ضمیر منصوب محلا مفعول بہ، کس کو راجع ہے بھئی؟ زید، زید کو راجع، شاباش۔ تھا مفعول بہ بال عصا۔ بالعصا، با جارہ، با جارہ، عصا مجرور محدث۔ جی، العصا۔ مجرور، تقدیر، مجرور تقدیراً، بھئی کیوں؟ مجرور تقدیراً کیوں کہا بھئی؟ یہ کون سا اسم ہے؟ نام، نام نہ بتاؤ بھئی، اس کو بھی ذرا اسم مقصور، بھئی اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری تو یہ مجرور تقدیراً بھئی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے۔ تعلق ہوئے اضرب کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اضرب فعل کے۔ ضربت اپنے مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر۔ فاعل کدھر گیا بھئی؟ ضربت فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر، جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر شرط جزا مل کر جملہ، شرط جزا مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر۔ جی، اضرب فعل امر اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جزا، جزا اپنے شرط سے مل کر شرط جزا مل کر جملہ، جملہ شرطیہ انشائیہ۔ جی، جملہ شرطیہ انشائیہ، شاباش، جملہ شرطیہ انشائیہ ہوا، انشائیہ ہوا۔ اچھا جی، اني شطہرتا فی الامتحان بھئی، بس نہ کریں بھئی۔ جی، چلیے، بس یہ ضابطے آج ذکر کیے، یہ یاد کریں اچھی طرح۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ان اور لو حروف یہ شرط کے لیے آتے ہیں، اور جملہ شرطیہ ہمیشہ دو جملوں سے مرکب ہوتا ہے، پہلے کو شرط کہتے ہیں، ثانی کو جزا کہتے ہیں، اور شرط ہمیشہ جملہ فعلیہ ہوگی جبکہ جزا جو ہے وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتی ہے، فعلیہ بھی، جملہ خبریہ بھی، انشائیہ بھی۔ اور شرط جملہ فعلیہ اس لیے ہوتی ہے کہ یہ شرط آتی ہے تعلیق کے لیے، اور تعلیق کس میں ہوگی؟ زمانے میں ہوگی، اور زمانہ کس کے اندر ہے؟ فعل کے اندر ہے۔ تو اس لیے یہ فعل ہوگی ہمیشہ۔ اور پھر شرط اور جزا میں اب ربط کے لیے فاء کو لے کر آتے ہیں، فاء، وہاں لائیں گے جہاں پہلے سے ربط نہ ہو، اگر پہلے سے ہی ربط آ چکا ہو تو پھر فاء نہیں لائیں گے۔ اور پتہ کیسے چلے گا ربط آیا یا نہیں؟ تو غور کر لیں کہ شرط نے یا ادات شرط کی وجہ سے جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں آئی، یعنی معنی اس کا ماضی سے مستقبل کی طرف بدلا ہے یا نہیں بدلا۔ اگر بدلا ہے تو ربط آ چکا، تو ففاء لانے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر اس کا معنی پہلے سے ہی مستقبل والا تھا، تو پھر ربط نہیں آیا، تو پھر اب کیا لے کر آئیں گے؟ فاء لے کر آئیں گے، بھئی فاء۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ شرط اور جزا میں سے اصل جو ہے نا وہ جزا ہے، اور یہ شرط کیا ہوتی ہے اس کے لیے قید ہوتی ہے، قید بھئی۔ تو جملہ شرطیہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے، انشائیہ بھی ہو سکتا ہے، کس کو دیکھا جائے گا؟ جزا۔ اگر جزا جملہ انشائیہ ہے، تو کیا کہیں گے جملہ شرطیہ انشائیہ۔ اور اگر جزا جملہ خبریہ ہے، تو پھر کیا کہیں گے جملہ شرطیہ خبریہ کہیں گے بھئی۔ یہ اہم بات ہے یاد رکھنا ہمیشہ، بھئی جملہ شرطیہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے، خبریہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ چلیے بس کریں۔ الحمدللہ رب العالمين۔
49 approved lectures · 31 of 49