Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔ 17 اچھا بھئی، گزشتہ اسباق میں آپ نے پڑھا تھا کہ جملہ مستقل ہوتا ہے، اس کو جب بھی کسی چیز کے ساتھ جوڑا جائے تو ربط کی ضرورت ہے اور وہ ربط عائد کہلاتا ہے، عائد کہلاتا ہے۔ اسی طرح شبہ جملہ کو بھی جب کسی چیز سے جوڑا جائے تو عائد کی ضرورت پڑے گی بھئی۔ عائد، ربط ضروری ہو گا وہاں پر۔ اور جار مجرور کے بارے میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہو گا، یا تو یہ فعل سے متعلق ہو گا، یا اسم فاعل سے، یا اسم مفعول سے، یا صفت مشبہ سے، یا اسم تفضیل سے، یا مبالغے کے صیغے سے، یا اسم فعل کے ساتھ۔ اور اگر ان کا ان میں سے کوئی ایک جملے میں موجود ہے اور یہ اس سے جڑ سکتے ہیں تو اسی سے جوڑ دیں۔ اور اگر یہ اس کے ساتھ نہیں جڑ سکتے تو پھر اس کے لیے محذوف نکالیں گے، محذوف۔ اور اگر ان کا متعلق محذوف ہو تو یہ ظرف مستقر کہلاتے ہیں بھئی۔ کیا کہلاتے ہیں؟ ظرف مستقر کہلاتے ہیں کہ اس نے اپنے عامل کی جگہ قرار پکڑ لیا ہے۔ اور یہ بھی ضابطہ آپ کو بتلایا تھا کہ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ عموماً اس نکرہ کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔ اور اسی طرح اگر نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے تو وہ بھی عموماً ظرف مستقر ہو کر اس کے لیے صفت بنے گا بھئی۔ جبکہ معرفہ کے بعد اگر فعل آئے تو پھر وہ حال بنے گا، بشرطیکہ خبر وغیرہ نہ بن رہا ہو، اگر خبر بن رہا ہے پھر تو الگ بات ہے۔ تو کبھی حال بھی بنے گا۔ اور اسی طرح معرفہ کے بعد اگر جار مجرور آئے تو وہ بھی اس کے لیے کیا بنے گا؟ حال عموماً بنے گا۔ اور یہ بھی آپ کو بتلایا کہ ظرف مستقر کلام عرب میں آپ کو چار جگہ ملے گا: خبر کے مقام میں، صفت کے مقام میں، حال کے مقام میں اور صلے کے مقام میں، چار جگہ ظرف مستقر آئے گا، اس کے علاوہ کہیں نہیں آئے گا۔ اور ایک یہ بات کل میں نے آپ کو بتلائی کہ نکرہ کی اضافت اگر نکرہ کی طرف ہو جائے تو بھی وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ ہاں، اگر نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے تو پھر وہ معرفہ بن جاتا ہے۔ اچھا، اب کچھ اور جملوں کی ترکیب کیجیے بھئی۔ غَابَتْ، غَابَتْ الشَّمْسُ، الشَّمْسُ المُنِيْرُ، المُنِيْرُ فِي، فِي الأُفُقِ، فِي الأُفُقِ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی، کیجیے بھئی۔ غابت فعل۔ الشمسُ مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ الشمسُ مرفوع لفظاً فاعل۔ بھئی، غابت کا فعل تو مؤنث ہے، شمس کو آپ اس کے لیے کیسے فاعل بنا رہے ہیں؟ معلوم ہوا فعل مؤنث ہے بھئی، تانیث کی تا لگی ہوئی ہے، تو کیا کریں گے؟ تا لگی ہوئی ہے یہ بتلا رہی ہے کہ اس کا اسناد کسی مؤنث کی طرف ہو رہا ہے۔ کیا جواب ہے بھئی اس کا؟ مؤنث سماعی ہے۔ میں نے بتلایا تھا شمس کا لفظ عربی میں مؤنث سماعی ہے، تو یہ مؤنث کے طور پر استعمال ہوتا ہے اس لیے فعل بھی مؤنث آیا، جی۔ لیکن چونکہ یہ مؤنث غیر حقیقی ہے اس کے لیے مذکر فعل بھی آ سکتا ہے، دونوں جائز ہیں۔ الشمسُ مرفوع لفظاً فاعل موصوف ہے۔ الشمسُ مرفوع لفظاً موصوف بھئی، شاباش۔ المنیرُ مرفوع لفظاً اس کی صفت۔ جی؟ المنیرُ مرفوع لفظاً اس کی صفت۔ پوری ترکیب کرو، میں نے کیا بتلایا تھا؟ اسم فاعل آ جائے تو اس کا فاعل دیکھو، اسم مفعول آ جائے اس کا نائب فاعل دیکھو، صفت مشبہ آ جائے تو اس کا بھی فاعل دیکھو، اسم تفضیل آئے اس کا بھی فاعل تلاش کرو۔ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ منیر کس وزن پر ہے؟ ہاں، یہ اسم فاعل، شاباش بھئی، کس باب سے؟ کس باب سے بنے گا یہ؟ باب، باب افعال سے بھئی، شاباش۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ اسم فاعل اور اسم مفعول پر جو الف لام آئے وہ الف لام اسمی کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ یہ دراصل اسم موصول ہے جو کس کی صورت میں آیا ہے؟ الف لام کی صورت میں آیا ہے۔ تو اب اس کی تاویل بھئی، تو الف لام بمعنی کس کے ہوا؟ الذی کے، یہ تو الذی تو مذکر کے لیے آتا ہے، آپ کس کی صفت بنا رہے ہیں؟ شمس کی، تو مؤنث نکالو بھئی، کیا نکالیں گے؟ التی۔ اور منیر جو ہے یہ کون سا، یہ ہے اسم فاعل، لیکن یہ اسم فاعل تو مفرد ہوتا ہے، اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے، جملہ یا شبہ جملہ؟ شبہ جملہ، جملہ تو نہیں بنتا، اور موصول کا صلہ ہمیشہ جملہ ہوا کرتا ہے۔ تو یہ اسم فاعل اس سے جملہ بنا لو، یعنی فعل بنا لو بھئی۔ منیر سے کیا بنا لیں گے؟ انار، کیا بنا لیں گے؟ باب افعال ہے نا: انار، ینیر، انارۃ فھو منیرٌ بھئی۔ جی، التی انار، منیر ہے مذکر ہے تو انار فعل بھی میں نے کون سا نکالا؟ مذکر والا۔ اب کیجیے، التی، یہ تو اسم موصول کی ترکیب آ گئی بھئی، یہ تو ابھی شروع نہیں کی، ہفتے سے انشاءاللہ اسم موصول کی ترکیب بھی کر لیں گے بھئی۔ تو یہ التی انارت پھر نکالیں گے، کیونکہ التی مؤنث ہے تو فعل کے اندر ہمیں ضمیر بھی کون سی چاہیے؟ مؤنث کی چاہیے بھئی، تو یہ میرا، آپ نے ابھی یہ ترکیب پڑھی نہیں ورنہ جب آپ عائد لوٹاتے تو آپ کو غلطی کا پتہ چل جاتا کہ انار کے اندر ہوا ضمیر ہے اور یہ لوٹانی ہے التی کو، اور التی کو تو ہوا ضمیر نہیں لوٹ سکتی، پھر کون سی ضمیر بنا لیتے آپ؟ ہیا، تو وہ کس فعل میں آتی؟ انارت کے اندر آتی ہیا ضمیر لوٹاتے بھئی۔ تو پھر اس فعل اپنے فاعل سے مل کر صلہ ہوا موصول کا، موصول اپنے صلے سے مل کر صفت ہوئی کس کی؟ الشمس کی بھئی۔ چلیے، پوری ترکیب آپ اسی طرح کر لیجیے المنیرۃ، جی۔ اعراب؟ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ المنیرۃُ کرو بھئی، جی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ آپ ضمیر جب لوٹائیں گے پھر آپ غلطی خود ہی پکڑ لیتے، میں نے اسی لیے جان بوجھ کر مذکر لکھوایا تھا کہ آپ ضمیر لوٹائیں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا، جی۔ ہیا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو راجع ہے الشمس کو۔ جی، اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ صفت ہوئی کس کے لیے؟ الشمس، جی۔ فی جارہ، جی۔ الانی مجرور لفظاً۔ الافقِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور؟ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے۔ غابت کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے غابت کے ساتھ، ترکیب کیجیے، جڑتے ہیں یا نہیں جڑتے بھئی؟ غائب ہوا فی الافق، کس میں؟ افق میں، کناروں پہ، آسمان کے کنارے۔ جی، جڑ رہا ہے۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ غَابَتِ الشَّمْسُ المُنِيْرَةُ فِي الأُفُقِ۔ ترجمہ بھئی۔ ہاں، چھپ گیا روشن سورج افق کے اندر، افق میں۔ جی، اگلا جملہ لکھیے۔ قَرَأْتُ، قَرَأْتُ مُقَدَّمَةً، مُقَدَّمَةً تُنَوِّرُ القُلُوْبَ، تُنَوِّرُ القُلُوْبَ اليَوْمَ۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی؟ جی، آپ کیجیے۔ قرأتُ فعل بافاعل۔ آگے نہ جائیں، پہلے فاعل تو بتا دیں۔ کیا ہے فاعل؟ ہاں، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ اعراب سب سے پہلے۔ مقدمۃً منصوب، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ مفعول بہ بنے گا، لفظاً کیوں کہا؟ کیسے تلفظ کر کے دکھائیں؟ مقدمۃً بھئی، شاباش، مقدمۃً منصوب لفظاً موصوف، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ موصوف ہے بھئی؟ شاباش، نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے اور وہ اس صورت میں عموماً کیا بنتا ہے؟ موصوف صفت بھئی، جی۔ تنور فعل، اس کے اندر ہیا ضمیر، اعراب اس کا پہلے۔ ہیا ضمیر مرفوع محلاً جو اس کا فاعل ہے، کس کو راجع ہے؟ مقدمہ کو راجع ہے، یہ عائد بھی آ گیا بھئی، ضمیر مرجع میں مطابقت بھی ہے، مقدمہ بھی مؤنث، ضمیر بھی مؤنث واحد، جی۔ القلوبَ منصوب لفظاً مفعول بہ بھئی، بھئی لفظاً تلفظ کر کے دکھائیں۔ تُنَوِّرُ القُلُوْبَ، جی، تو یہ منصوب لفظاً مفعول بہ بھئی۔ الیومَ منصوب لفظاً مفعول فیہ۔ بھئی، القلوب کو مفعول بہ کس کے لیے بنایا آپ نے؟ دو فعل آ رہے ہیں: قرأتُ بھی اور تنورُ بھی بھئی۔ تنور کے لیے القلوب مفعول بہ، اور الیومَ؟ الیومَ یہ بھی کس کے لیے مفعول فیہ ہے؟ شاباش، منصوب، منصوب لفظاً مفعول فیہ ہوا تنور کے لیے، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی مقدمہ کے لیے۔ اور یہ پورا جملہ منصوب محلاً ہے، منصوب اس لیے کہ موصوف منصوب، تو یہ جملہ بھی منصوب ہے بھئی۔ اور محلاً اس لیے کہ جملہ مبنیات میں سے ہے بھئی، مبنی ہے بھئی، حتیٰ کہ بعض تو کہتے ہیں مبنی الاصل ہے یہ۔ صفت ہوئی موصوف کے لیے، موصوف اپنی صفت سے مل کر مفعول بہ ہوا فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، روانی سے پڑھیے۔ قَرَأْتُ مُقَدَّمَةً تُنَوِّرُ القُلُوْبَ اليَوْمَ۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ قرأتُ، پڑھا میں نے ایسا مقدمہ کہ وہ آج منور کرتا ہے دلوں کو، کہ وہ آج، یہ بات بنتی ہے؟ منور کرتا ہے آج دلوں کو۔ آج کے دن منور کرتا ہے، معلوم ہوا آگے پیچھے کبھی پڑھیں تو منور نہیں کرتا بھئی۔ منور کرتا ہے دلوں کو آج بھئی، کیا کریں بھئی؟ کیا خرابی آئی بھئی؟ ہاں دیکھا، اب آپ نے ترجمہ اس کے ساتھ جوڑ کر کیا تو پھر معنیٰ خراب تھا، معلوم ہوا آپ نے مفعول فیہ تنور کے لیے جو بنایا وہ درست نہیں ہے، اس کو کس کے لیے مفعول فیہ ہونا چاہیے؟ قرأتُ کے لیے۔ تو پڑھا آج میں نے، پڑھا میں نے آج ایسا مقدمہ جو دلوں کو منور کرتا ہے۔ اب بات کیا بن گئی؟ ٹھیک ہو گئی بھئی۔ تو الیوم کو مفعول فیہ بنائیں گے قرأتُ کے لیے۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: قَرَأْتُ مُقَدَّمَةً هِيَ، هِيَ تُنَوِّرُ القُلُوْبَ، هِيَ تُنَوِّرُ القُلُوْبَ۔ چلیے بھئی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلو بھئی، تم کرو بھئی، ہاں تم کرو۔ قرأتُ فعل بافاعل۔ اعراب؟ تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ اعراب؟ مقدمۃً منصوب لفظاً مفعول بہ۔ ہاں، مقدمۃً منصوب لفظاً موصوف، آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ موصوف ہے بھئی؟ بتائیے بھئی، پتہ کیسے چلا آپ کو؟ بھئی دیکھو، نکرہ کے بعد نکرہ آ رہا ہے اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ عموماً کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت۔ مقدمۃً یہ بھی نکرہ اور آگے پورا جملہ ہے: هِيَ تُنَوِّرُ القُلُوْبَ بھئی، هِيَ تُنَوِّرُ، یہ پورا جملہ ہے، ہیا ہے، چلیے، ہیا مبتدا ہے اور تنور القلوب اس کی خبر ہے، اور مبتدا خبر مل کر کیا بن جائے گا؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں ہوا کرتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں، تو جب فعل آتا تھا تو فعل بھی کیا بنا کرتا تھا؟ صفت، کیسے بنتا تھا؟ جملہ ہو کر نا، کیسے صفت بنتا تھا؟ جملہ ہو کر، تو یہ میں نے کہا اسی لیے جملہ اسمیہ لے آیا تاکہ یہ بھی سمجھ لیں کہ صفت جملہ اسمیہ بھی آ سکتی ہے کبھی کبھار بھئی۔ اچھا، جی کیجیے آگے: مقدمۃً منصوب لفظاً موصوف۔ جی۔ شاباش، یہ عائد ہو گیا، اعراب بتاؤ اس کا۔ منصوب محلاً، بھئی صرف ہیا ضمیر کو صفت میں نے بنایا یا پورے جملے کو بنایا؟ پورے جملے کو جب صفت بنائیں، پورے جملے کو جب حال بنائیں، پورے جملے کو جب کیا بنائیں؟ خبر وغیرہ بنائیں، تو اس صورت میں اس کے اجزاء پہ نہیں وہ اعراب آئے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ پورے جملے پہ محلاً اعراب آئے گا، باقی اجزاء اسی طرح اس کے پہلے بنا لو سارے، پھر اس کو جوڑ دو بھئی۔ اعراب؟ ہاں، مبتدا میں نے بتا بھی دیا تھا یہ مبتدا ہے، تو مبتدا کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، تو ہیا مرفوع، کون سا مرفوع؟ ہاں، ہیا ضمیر مرفوع محلاً مبتدا، جو لوٹ رہی ہے مقدمۃً کو، یہ عائد آ گیا بھئی، آگے۔ جی، تنور فعل۔ ہیا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اعراب؟ القلوبَ منصوب لفظاً مفعول بہ بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ ہیا مبتدا کے لیے۔ کیسے خبر بنا دیا آپ نے اس کو؟ اس کے لیے تو خبر آپ اس کو نہیں بنا سکتے، کبھی بھی نہیں بنا سکتے۔ بنا سکتے ہیں خبر؟ کیوں نہیں بنا سکتے بھئی؟ ربط ہی نہیں دیا آپ نے بھئی، کہاں سے آپ اس کو ربط دے رہے ہیں بھئی؟ اس خبر کیسے بنا رہے ہیں؟ پہلے ربط دو بھئی۔ جی؟ ہاں، اس کے اندر بھئی ضمیر ہے ہیا کی تنور کے اندر، جو انہوں نے کس کو راجع کر دی؟ مقدمہ کو، جوڑنا ہے ہیا کے ساتھ اور راجع کس کو کر رہے ہیں؟ جس کے ساتھ جملے کو جوڑو ضمیر بھی اسی کو لوٹاؤ، ہاں آپ کے ذہن میں یہ اشکال آئے گا، ضمیر کو ضمیر لوٹ رہی ہے، ہیا کو ہیا ضمیر لوٹ رہی ہے، میں نے بتایا تھا تعبیر بدل لو: ہیا ضمیر مبتدا کو لوٹ رہی ہے، اب کوئی اشکال ہوا؟ نہیں بھئی، جو بھی ہے ہمیں اس سے غرض ہی نہیں، بس یہ دیکھو مطابقت ہے یا نہیں، وہ بھی ہیا یہ بھی ہیا، تو اب کہو جی تنور کے اندر جو ہیا ضمیر ہے وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ تو جس سے جوڑنا ہے عائد بھی اسی کی طرف ہو گا بھئی۔ تو یہ جملہ فعلیہ ہو کر خبر ہوئی ہیا کے لیے، اور ہیا مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی مقدمۃً کے لیے، اور وہ تھا منصوب تو یہ پورا جملہ بھی محلاً کیا ہے؟ منصوب ہے، موصوف صفت مل کر پھر یہ مفعول ہوا کس کے لیے؟ قرأتُ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، روانی سے پڑھیے بھئی۔ قَرَأْتُ مُقَدَّمَةً هِيَ تُنَوِّرُ القُلُوْبَ۔ ترجمہ کیجیے۔ پڑھا میں نے ایسا مقدمہ کہ منور کرتا ہے وہ دلوں کو۔ ترجمہ وہی ہو گا جو پہلے ہوا تھا بھئی پچھلے جملے کا، بس ترکیب میں نے آپ کو بتلانا تھی بھئی۔ تو دیکھو، کبھی کبھار اب اس قرأتُ کے اندر میں نے آپ کو ضابطہ لکھوایا تھا کہ فعل کے آ جانے کے بعد مرفوع صرف فاعل آتا ہے اور کوئی چیز مرفوع نہیں آتی، لیکن آج آپ دیکھ رہے ہیں ہیا بھی، ہیا کیا آ گیا؟ آگے مرفوع، اور تنور القلوب یہ پورا جملہ بھی کیا ہے؟ خبر بن رہا ہے اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع، تو ایسا ہو گا کبھی کبھار بھئی، آگے اگر پورا جملہ آ رہا ہے اور وہ جملہ حال بن رہا ہے یا صفت بن رہا ہے یا خبر کچھ بن رہا ہے، تو اس صورت میں وہ کیا ہو گا؟ مرفوع ہو سکتے ہیں لیکن قلیل ہوں گے بھئی، قلیل۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: مَرَرْتُ، مَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، مِنْ قُرَيْشٍ۔ کون کرے گا اس کی ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ مررتُ فعل بافاعل۔ کون سی ضمیر؟ تُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ با جارہ۔ رجلٍ، اعراب بتاؤ بھئی۔ رجلٍ مجرور لفظاً موصوف بھئی۔ من جارہ۔ قریشٍ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبت فعل کے ساتھ بھئی، جی۔ فاعل تو بتایا نہیں آپ نے؟ ثبت فعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل۔ جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ کس کو؟ قریش کو لوٹ رہی ہے بھئی۔ تو ضمیر پہلے آ گئی، مرجع بعد میں آیا، اور ترجمہ ہوا ثبت ہوا، ہوا سے کون مراد ہے؟ قریش، ثابت ہے قریش من قریش، کس سے؟ قریش سے، ثابت ہے قریش قریش سے، یہ کوئی بات بنتی بھی ہے؟ ہاں، آپ نے رجلٍ کو موصوف بنایا تھا تو عائد چاہیے ہمیں، یہ ثبت کے اندر ہوا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ رجل کو، یہ عائد ہے بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر کیا بنے گا پہلے؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر مجرور۔ ہاں، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ مررتُ فعل۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، روانی سے پڑھیے بھئی۔ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِّنْ قُرَيْشٍ بھئی۔ اچھا بھئی، ترجمہ کیجیے۔ ہاں، میں گزرا ایک ایسے آدمی پر جو کہ قریش میں سے ہے، یعنی قریشی ہے بھئی۔ اچھا بھئی، آپ نے من قریش کو فعل سے متعلق کیا، مفرد سے متعلق کر کے دکھاؤ یہاں پر بھئی۔ ثبت سے اسم فاعل بناؤ بھئی۔ کس سے جڑے گا بھئی من قریش؟ ثابتٌ، ثابتاً، یا ثابتٍ بھئی؟ ثابتٍ نکالیں گے، کیونکہ ثابتٍ نے کیا بننا ہے؟ صفت بننا ہے، تو پہلے تو ثبت نکالا تھا وہ تھا جملہ اور جملہ تو مبنی ہوتا ہے اس پہ تو اعراب نہیں آ سکتا بھئی لفظاً، ہاں ثابتٍ تو مفرد ہے اس پر تو اعراب لفظوں میں آ سکتا ہے، تو موصوف مجرور تو صفت بھی کیا نکالو؟ مجرور بھئی، پھر اور یہ پھر اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہوگا، فعل کیا بنا تھا؟ جملہ اور یہ شبہ جملہ بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی: أَكَلْتُ، أَكَلْتُ طَعَامَ، طَعَامَ تُحِبُّهُ، تُحِبُّهُ فِي اللَّيْلِ، فِي اللَّيْلِ۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ اکلتُ فعل بافاعل، تُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، طعاماً منصوب لفظاً موصوف، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ مفعول بہ بنے گا بھئی اور وہ منصوب ہوتا ہے، لفظاً کیوں کہا؟ اس پر نصب پر تلفظ ہو رہا ہے، کر کے دکھائیں بھئی: طعاماً، جی، اور موصوف کیوں بنایا پھر آپ نے؟ ہاں شاباش، کیونکہ موصوف اس لیے کہ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل آ رہا ہے، تو یہ موصوف بنا، جی آگے: تحب فعل، ہیا ضمیر بھئی اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل بھئی۔ جی، کس کو لوٹائی ضمیر بھئی؟ مخاطب کا صیغہ بناؤ اس کو بھئی، مخاطب کا: تحب فعل بافاعل۔ فعل بافاعل ہے فاعل تو بتلاؤ۔ اس کے اندر انت ضمیر ہے مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ ہا ضمیر بھئی، اعراب؟ محلاً منصوب، جی، مفعول بہ، فی جارہ، اللیلِ مجرور، مجرور لفظاً شاباش۔ جی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے تحب، یہاں دو فعل آ رہے ہیں: اکلتُ بھی اور تحب بھی بھئی، کس سے جوڑا آپ نے؟ تحب سے بھئی۔ اچھا، اب سمیٹیے سب کو: فعل تحب فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی طعام کے لیے بھئی۔ آپ نے کیسے پورے جملے کو صفت بنا دیا طعام کے لیے بھئی؟ صفت کیسے بنایا، کوئی ربط ہی نہیں دیا آپ نے؟ تحبہ کے ساتھ یہ جو ہا ضمیر ملی ہوئی ہے مفعول بہ کی، یہ کس کو راجع ہے؟ طعام کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ عائد کی ضمیر ہونی چاہیے، یہ نہیں کہ ہمیشہ فاعل کی ضمیر ہوگی، کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو ربط دے بھئی۔ یہ عائد، تو پھر یہ صفت ہوئی طعاماً کے لیے، موصوف اپنی صفت سے مل کر مفعول بہ ہوا اکلتُ فعل کے لیے، فعل، ہاں، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ، جی روانی سے پڑھیے: أَكَلْتُ طَعَامًا تُحِبُّهُ فِي اللَّيْلِ۔ ترجمہ کیجیے۔ جی، کیجیے جلدی جلدی، کھایا میں نے طعاماً، کھایا میں نے ایسا کھانا تحبہ، ترجمہ صیغے کے مطابق کرو، کہ پسند کرتے ہو آپ بھئی، کیا ضمیر فاعل کون سی ضمیر تھی؟ انت، اس کے مطابق: تحب انت بھئی، کہ پسند کرتے ہو آپ اس، ہا ضمیر کس کو راجع تھی؟ کھانے کو، کہ پسند کرتے ہو آپ اس کھانے کو فی اللیل، کس وقت میں؟ رات میں بھئی۔ جی، انہوں نے تو یہ ترجمہ ہوا کہ آپ پسند کرتے ہو اس کھانے کو رات میں۔ اب فی اللیل کو ذرا اکلتُ سے جوڑیں بھئی: کھایا میں نے رات میں، یعنی رات کو ایسا کھانا جس کو آپ کیا کرتے ہیں؟ پسند کرتے ہیں، رات کو میں نے ایسا کھانا کھایا جسے آپ پسند کرتے ہیں، کس سے زیادہ جڑ رہا ہے بھئی؟ اکلتُ سے جڑ رہا ہے زیادہ بھئی۔ ضَرَبْتُ زَيْدَ، ضَرَبْتُ زَيْدَ بِعَصَا، بِعَصَا اِشْتَرَيْتُهُ، اِشْتَرَيْتُهُ مِنْ عَمْرٍو، مِنْ عَمْرٍو بِدِرْهَمَيْنِ، بِدِرْهَمَيْنِ۔ لکھ لیا بھئی؟ کون کرے گا ترکیب اس کی بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ ضربتُ فعل بافاعل، تُو ضمیر اس کے اندر اس میں مرفوع محلاً اس کا فاعل، زیداً منصوب لفظاً مفعول بہ، با جارہ، عصا، عصا مجرور تقدیراً بھئی۔ بھئی، مجرور تقدیراً آپ نے کیوں کہا بھئی، تقدیراً کیوں کہا، یہ کون سی قسم ہے سولہ قسموں میں سے؟ اسم، اسم مقصور ہے بھئی، اس کے آخر میں کیا آتا ہے؟ الف مقصورہ آتا ہے، اسم منقوص میں نے علامت بتلائی تھی کہ اشتباہ ہو جاتا ہے، منقوص ناقص سے ہے نقص بھئی، اور تو ناقص کس کو کہتے ہیں جس کے آخر میں حرف علت آئے، تو یہاں بھی منقوص وہ، جیسے قاضی ہے، آخر میں یا آئے اور ما قبل کسرہ ہو۔ عصا تقدیراً مجرور، کیا بنایا؟ موصوف، شاباش، کیسے پتہ چلا آپ کو موصوف ہے؟ نکرہ کے بعد فعل آیا، شاباش۔ اشتریتُ فعل بافاعل، تُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ہا ضمیر، ہا ضمیر منصوب محلاً مفعول، مفعول بہ، من جارہ، عمراً، عمرٍ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اشتریتُ سے، با جارہ، درہمینِ مجرور لفظاً بھئی، جی، سولہ قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ سولہ قسموں میں سے کون سی قسم ہے؟ تثنیہ ہے، اور اس کا اعراب حالت نصبی جری میں یا کے ساتھ آتا ہے اور ابھی ہم یہاں پر تلفظ کر رہے ہیں اس وقت، اس لیے مجرور لفظاً ہوا۔ جار مجرور یہ بھی متعلق ہوئے کس کے ساتھ بھئی؟ اشتریتُ فعل کے ساتھ، جی۔ ہاں، اشتریتُ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور دونوں متعلقین سے مل کر یہ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ عصا کے لیے۔ پھر وہی بات بار بار آ رہی ہے، آپ نے ربط کوئی نہیں دیا، صفت جملے کو جوڑ دیا۔ ہاں، اشتریتُہ کے آخر میں جو ہا ضمیر آ رہی ہے وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ عصا کو، ضمیر مرجع میں مطابقت موجود ہے بھئی، جی۔ تو عصا موصوف، آگے پورے پورا جملہ اس کی صفت، موصوف صفت مل کر مجرور ہوئے با جارہ کے لیے، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ضربتُ فعل کے ساتھ بھئی۔ ضربتُ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے ذرا پڑھیے اس کو۔ روانی سے: اِشْتَرَيْتُ، جی، اشترا کا تو یہ ہمزہ گرے گا نہیں بھئی؟ جی؟ گر جائے گا کہ نہیں گرے گا؟ کیوں بھئی؟ بھئی یہ کون سا باب ہے؟ اشتریٰ، باب افتعال، باب افتعال کا ہمزہ کون سا ہے؟ ہمزہ وصل ہے یا اصلی ہے بھئی؟ ہمزہ وصل ہے، اور ہمزہ وصل درج عبارت میں ہمیشہ، اگر کہیں اس کو برقرار رکھا تو یہ غلطی ہے، اور عموماً عبارتوں کے اندر ہم برقرار رکھتے ہیں بھئی، عموماً برقرار رکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں اس کو، حالانکہ اس کو برقرار رکھنا درج عبارت میں یہ غلطی ہے، آگے انشاءاللہ مجھے پھر یاد کروائیے گا، جگہ جگہ کتابوں میں ایسا آتا ہے کہ ہم اس کو پڑھ دیتے ہیں، حالانکہ یہ غلط ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ شافعیہ کی عبارت ہے: "واثباتها وصلاً لحنٌ" بھئی، اس کو ثابت رکھنا وصل کی حالت میں یہ کیا ہے؟ لحن ہے، غلطی ہے بھئی، جی۔ اچھا، دوبارہ پڑھو بھئی، گراؤ ہمزہ کو۔ جی، اب پتہ چلے گا بھئی۔ یہ آسان نہیں، جی کون پڑھے گا؟ جی؟ بِعَصَاشْتَرَيْتُهُ، اور کون پڑھے گا بھئی؟ جی؟ شاباش، بِعَصَنِ اشْتَرَيْتُهُ، عصا بھئی عصاً، میں نے بتایا نہیں تھا بھئی الف کبھی کبھار گر جاتا ہے اسم منقوص کے، اسم مقصور کے آخر سے، ابھی پرسوں مثال گزری: معنًى بھئی، معنًى کس میں سے ہے بھئی؟ کون سی قسم ہے؟ اسم مقصور، تو معنًى بھئی اس کے آخر میں تو الف نہیں ہے، میں نے بتلایا تھا الف کیا ہے؟ تقدیراً موجود ہے، کس کی وجہ سے گر چکا ہے؟ التقائے ساکنین کی وجہ سے، اسی طرح فتًى کا لفظ پڑھتے ہیں آپ جگہ جگہ، آپ کو کہا جائے گا یہ اسم مقصور ہے، آپ حیران ہوں گے بھئی اس کے اس کے آخر میں تو الف ہوتا ہے، اس کے آخر میں تو الف نہیں، تو میں نے کیا بتلایا؟ وہاں الف تقدیراً موجود ہے، کس کی وجہ سے گر گیا ہے؟ التقائے ساکنین کی وجہ سے، التقائے ساکنین کی وجہ سے گر چکا ہے بھئی۔ اسی طرح عصا بھئی، تو یہاں پر بھی الف کیا ہے؟ التقائے ساکنین کی وجہ سے گر چکا ہے، عصاً بھئی، عصاً۔ یہ عصاً غالباً واوی ہے بھئی، عصوٌ تھا، اصل میں کیا تھا؟ عصوٌ، پھر واو متحرک ما قبل فتحہ، اس کو کس سے بدلا؟ الف سے، تو الف بھی ساکن اور وہ تنوین والا نون بھی تو اجتماع ساکنین آیا تو الف کو کیا کر دیا؟ گرا دیا، کیا رہ گیا؟ عصاً، ہاں اگر الف لام آ جائے پھر وہ الف نہیں گرے گا، العصا پڑھیں گے، کیا پڑھیں گے؟ کیونکہ اب تنوین نہیں آئی، تنوین آتی تو الف گر جاتا، اب تنوین نہیں تو الف بھی نہیں گرے گا، اسی لیے الف لام معنیٰ پہ آئے تو پڑھیں گے المعنى، الف لام نہ ہو تو پڑھیں گے معنًى، فتیٰ پر بھئی الف لام آئے تو پڑھیں گے الفتى، اگر الف لام نہ ہو تو کیا پڑھیں گے؟ فتًى، یہاں بھی عصا پر الف لام آئے تو پڑھیں گے العصا، الف لام نہ ہو تو عصاً، تو عصاً کے آخر میں نون ساکن آیا، اور وہ ساکن اور اشتریتُ کے شروع سے ہمزہ گر گیا تو شین بھی ساکن، نون بھی ساکن، شین بھی ساکن، تو اب نون کو حرکت دی جائے گی اور "الساكن إذا حرك حرك بالكسر"، کسرہ کی حرکت، تو نِشْتَرَيْتُ: ضَرَبْتُ زَيْدًا بِعَصَنِ اشْتَرَيْتُ، جی، بلکہ زیداً بھی نہیں پڑھیں گے بھئی، کیا پڑھیں گے؟ میم، با سے پہلے نون ساکن آئے تو وہ کس سے بدلتا ہے؟ میم سے: ضَرَبْتُ زَيْدَمْ بِعَصَنِ اشْتَرَيْتُهُ مِنْ عَمْرٍمْ بِدِرْهَمَيْنِ، مِنْ عَمْرٍمْ بِدِرْهَمَيْنِ، یہاں بھی میم سے بدل جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ پہلے کبھی پڑھا ہے اس طرح؟ ضابطے ہیں، ان کے مطابق اسی طرح پڑھا جائے گا نا، چلیے، بس مولانا۔ ترجمہ رہ گیا بھئی، ترجمہ تو دیکھ لو: ضربتُ، پٹائی کی میں نے زیداً زید کی بعصاً ایسی لاٹھی کے ساتھ اشتریتُہ کہ خریدا تھا میں نے ہ اس لاٹھی کو من عمروٍ عمرو سے بدرہمینِ دو درہم کے بدلے میں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے آئیے، الحمد للہ رب العالمین۔ صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ۔
49 approved lectures · 17 of 49