درس نمبر۔4
اچھا بھئی! گزشتہ اسباق میں آپ نے پڑھا تھا کہ جملہ دو قسم پر ہے: جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ، اور جملہ اسمیہ کے اندر دو جزء ہوتے ہیں، ایک جزء مبتدا کہلاتا ہے اور دوسرا جزء خبر بھئی۔ اور مبتدا اکثر معرفہ ہوگا اور خبر نکرہ ہوگی اکثر، اور مبتدا اور خبر دونوں مرفوع ہوتے ہیں بھئی۔
پھر معرفہ کی اقسام آپ نے پڑھی تھیں کہ معرفہ چھ سات قسم پر ہے: تمام ضمیریں جو ہیں وہ معرفہ ہیں، اسی طرح علم ہے بھئی، اسمائے اشارہ ہیں، اسمائے موصولہ ہیں، معرف باللام ہے، معرفہ بالنداء ہے، اور ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو بھئی۔ یہ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونے چاہئیں۔ پھر مبنیات آپ نے پڑھے بھئی، مبنیات آٹھ ہیں بھئی، علمائے نحو بیان کرتے ہیں: اسمائے اشارہ ہیں، تمام ضمیریں ہیں، اسمائے موصولہ ہیں، اور کچھ ظروف ہیں، اصوات ہیں، اسمائے افعال ہیں، اور کنایات ہیں بھئی، اور کچھ مرکبات ہیں۔ اس کے بعد میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اعراب تین طرح سے آیا کرتا ہے: یا اعراب لفظاً ہوا کرتا ہے، یا تقدیراً ہوتا ہے، یا محلاً ہوتا ہے۔ مبنی کا اعراب ہمیشہ محلاً آئے گا، جبکہ معرب کا اعراب یا لفظاً ہوگا یا تقدیراً ہوگا۔
اس کے بعد ایک ضابطہ آپ نے پڑھا تھا کہ معرفہ کے بعد معرفہ جب آ جائیں، چاہے ایک ہو، دو ہوں یا زیادہ ہوں، تو پھر ترکیب کیا کریں گے؟ موصوف صفت کی ترکیب عموماً ہوگی بھئی۔ یہ ضابطے کلی نہیں ہیں، لیکن اکثری ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے۔ تو معرفہ کے بعد تین چار معرفہ آ جائیں، جتنے بھی آ جائیں، موصوف صفت کی ترکیب ہوگی۔ اسی طرح اگر نکرہ کے بعد نکرہ آ جائے، ایک ہو، دو ہوں یا تین ہوں، تو بھی کون سی ترکیب ہوگی؟ موصوف صفت کی، پہلے کو موصوف بنائیں گے، باقی کو صفات بنا دیں گے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ نکرہ کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے، اگر معرفہ آ جائے تو پھر کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب کریں گے بھئی۔ اور پھر ترجمے کا ضابطہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عربی کے اندر صفت جو ہوتی ہے مؤخر ہوتی ہے، لیکن اردو میں صفت موصوف پر مقدم ہوا کرتی ہے، تو صفت کو اٹھا کر موصوف پر مقدم کر دیں ترجمے میں۔ اور اگر آپ اسی ترتیب پر رکھنا چاہتے ہیں، موصوف کو اردو میں بھی پہلے لانا چاہتے ہیں، صفت کو بعد میں لانا چاہتے ہیں، تو پھر معرفہ اور نکرہ میں تھوڑا فرق کریں گے۔ معرفہ میں موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے پھر موصوف سے پہلے ”وہ“ کا لفظ لے آئیں اور اس کے بعد آگے پھر صفات، جیسے ”جَاءَ زَيْدٌ الْعَالِمُ“ اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ وہ زید جو عالم ہے۔ اور نکرہ کے اندر موصوف سے پہلے ”ایسا“ یا ”ایسی“ کا لفظ لے آئیں گے: ”رَجُلٌ فَاضِلٌ“ کیا ترجمہ کریں گے؟ ایسا آدمی جو فاضل ہے۔
اس کے بعد ایک اور ضابطہ آپ نے کل پڑھا کہ جس اسم کے آخر میں بھی ضمیر متصل آ جائے، چاہے غائب کی ضمیر ہو، چاہے حاضر کی اور مخاطب کی ضمیر ہو، اور چاہے متکلم کی ضمیر آئے بھئی، تو وہاں ہمیشہ کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب کریں گے بھئی۔ پھر جملہ فعلیہ کی ترکیب ہم نے شروع کی تھی بھئی۔ جملہ فعلیہ، میں نے بتلایا تھا فعل دو قسم پر ہے: ایک فعل لازم ہے اور ایک فعل متعدی ہے۔ فعل لازم وہ ہے جس میں فاعل پر بات پوری ہو جائے، فعل صرف فاعل کا تقاضا کرے، مفعول کا تقاضا نہ کرے۔ اور فعل متعدی وہ ہے جہاں فاعل پر بات پوری نہیں ہوتی، بلکہ وہ فعل مفعول کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ اور اردو ترجمے میں دونوں میں فرق یہ ہے کہ فعل متعدی کا جب ترجمہ کریں گے تو ”نے“ کا لفظ آئے گا بھئی، تو آپ اردو میں ترجمہ کر لیا کیجیے، اگر ”نے“ کا لفظ آئے تو پتہ چل جائے گا یہ فعل متعدی ہے، اگر ”نے“ کا لفظ نہیں آتا تو وہ فعل لازم ہے۔
اور پھر یہ بھی ضابطہ بتلایا تھا آپ کو کہ ہر فعل کے لیے فاعل کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ فعل آ جائے اور اس کا فاعل نہ ہو، تو جب بھی جملے میں فعل آئے پھر اس کے فوراً فاعل کو آپ تلاش کریں کہ فاعل کون ہے، جبکہ یہ فعل معروف ہو۔ اور اگر فعل مجہول ہے تو وہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ نائب فاعل کا تقاضا کرتا ہے، تو اس کے لیے پھر نائب فاعل کو تلاش کریں۔ اس کے بعد فعل کے جو صیغے ہیں، ان صیغوں میں میں نے آپ کو فاعل کی پہچان کروائی تھی، کون کون سی ضمیریں فاعل بنیں گی بھئی۔ ”ضَرَبَ“ پہلا صیغہ، اس کے اندر فاعل کون سی ضمیر ہے؟ ھو ضمیر۔ ”ضَرَبَا“ اس کے اندر فاعل؟ الف ہے، اس میں آپ نے اب ”ھما“ نہیں کہنا بھئی، وہ صرف آپ کو سمجھانے کے لیے اساتذہ نے ایک بات بتلائی تھی، لیکن اب کتابوں کے اندر جب بھی آپ پڑھیں گے تو وہاں ہمیشہ یہی لکھا ہوگا ”ضَرَبَا“ کے اندر کہ الف کیا ہے؟ فاعل ہے، ضمیر بارز ہے۔ اور ”ضَرَبُوا“ کے اندر؟ واؤ فاعل ہے۔
پھر ایک یہ ضابطہ بھی یاد رکھیں بھئی، رسم الخط کا بھئی، رسم الخط کا ضابطہ۔ جب بھی جمع کا صیغہ لکھیں، اس کے ساتھ واؤ جمع کی آ رہی ہو، تو ساتھ الف ضرور لکھیں بھئی۔ جب بھی جمع کا صیغہ لکھیں اور اس کے ساتھ واو جمع آ جائے تو پھر، فعل میں، فعل میں بھئی، تو ”ضَرَبُوا“ کیسے لکھیں گے؟ واؤ کے بعد ساتھ ایک الف بھی لکھیں گے بھئی، الف۔ یہ علماء نے اس لیے لازمی رکھا تاکہ واو عطف سے اور اس واؤ میں فرق ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ورنہ وہ افعال بھئی جن کے آخر میں واؤ آئے، الف نہ ہو تو پھر تو شبہ ہو سکتا ہے شاید یہ واو عطف ہے۔ آپ کہیں گے ”ضَرَبُوا“ کے اندر تو واؤ با کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، واو عطف کا شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔ بھئی ہر فعل کے اندر تو واؤ ساتھ نہیں جڑی ہوتی، ”فَرَّ“ کا دیکھ لیں آپ، تو ”فَرُّوا“ دیکھا، را کے ساتھ واؤ جڑی ہوئی ہے کوئی؟ الگ ہے، تو بعض افعال میں وہ واؤ الگ ہوتی ہے، جڑ نہیں سکتی، ماقبل میں را ہے، تو پھر اس لیے الف کو لازمی قرار دیا، اب چاہے واؤ ساتھ جڑی ہو یا نہ ہو، ضابطہ کلی بنا دیا کہ جہاں بھی واو جمع آئے گا، اس کے بعد کیا لکھتے ہیں؟ الف ساتھ لکھتے ہیں۔ یہ الف ہمیں بتلا دے گا کہ یہ واو عطف کا نہیں ہے بلکہ یہ واو جمع ہے بھئی۔
جی اگلا صیغہ کیا تھا؟ ”ضَرَبَتْ“ اس کے اندر فاعل کیا ہے؟ ھی ضمیر ہے، اور یہ تا کس چیز کی علامت ہے؟ تانیث کی علامت ہے، یہ صرف یہ بتلا رہی ہے کہ اس فعل کا اسناد مؤنث کی طرف ہوا ہے، مذکر کی طرف نہیں ہوا۔ ”ضَرَبَتَا“ کے اندر فاعل؟ الف۔ ”ضَرَبْنَ“ کے اندر فاعل؟ نون۔ اور ”ضَرَبْتَ“ کے اندر؟ تا بھئی۔ اور ”ضَرَبْتُمَا“ میں؟ تما ضمیر بھئی۔ ”ضَرَبْتُمْ“ میں؟ تم۔ اور ”ضَرَبْتِ“ میں؟ تا کہیں تا، یا کہیں تیٌّ کہیں بھئی۔ اور جی اسی طرح ”ضَرَبْتُمَا“ میں پھر تما ضمیر۔ ”ضَرَبْتُنَّ“ میں تنَّ ضمیر۔ ”ضَرَبْتُ“ میں؟ یا تو تا ضمیر ہے، یا تُوٌّ اس کا خاص نام ہے۔ اور ”ضَرَبْنَا“ کے اندر؟ نا ضمیر ہے۔ تو جب بھی فعل آ جائے اس کا فوراً فاعل تلاش کریں۔ اور ان میں سے پھر بتلایا تھا کہ پہلا اور چوتھا صیغہ ایسا ہے کہ جب یہ آ جائیں تو ان کا فاعل اسم ظاہر آ سکتا ہے، یعنی ”ضَرَبَ“ اور ”ضَرَبَتْ“ والا صیغہ، واحد مذکر غائب کا صیغہ اور واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ۔ ان کے علاوہ باقی بارہ صیغوں میں سے کوئی عبارت کے اندر آ جائے، آنکھیں بند کر کے سمجھ جائیں بھئی، اس کا فاعل آگے اسم ظاہر نہیں آ سکتا، انہی کے ساتھ ضمیر جڑی ہوئی ہوگی بھئی، یا ضمیر بارز ہوگی یا ضمیر مستتر ہوگی بھئی۔
اچھا اب کچھ ترکیبیں کر لیجیے تاکہ مشق ہو جائے ان ضابطوں کی۔ قَامَ زَيْدٌ، قَامَ زَيْدٌ۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جس کو نہ آتی ہو بھئی، یہ آسان ترکیبیں ہیں مجھے پتہ ہے آپ میں سے اکثر کو آتی ہوں گی، لیکن جن کو بالکل نہیں آتیں، وہ فی الحال کوشش کریں بھئی۔ جن کو کچھ ترکیب آتی ہے وہ چند دن انتظار کر لیں بھئی، پھر ان کے مطلب کی بھی ترکیبیں آ جائیں گی، ان کو بھی جب تک وہاں تک پہنچا دیں بھئی۔ جی کون کرے گا ترکیب؟ جس کو بالکل نہ آتی ہو وہ کوشش کرے بھئی، جی۔ قَامَ زَيْدٌ: قَامَ فعل، قَامَ فعل، شاباش۔ زَيْدٌ فاعل۔ اعراب بتلائیں بھئی۔ زَيْدٌ لفظاً مرفوع، مرفوع ہے لفظاً۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ اس لیے کہ یہ فاعل ہے، شاباش! یہ فاعل بنے گا اور فاعل کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ شاباش، یہ رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں: زَيْدٌ، دیکھا رفع پڑھ رہے ہیں بھئی۔ تو یہ مرفوع لفظاً فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو دیکھا یہ قَامَ بھئی کون سا صیغہ ہے؟ بارہ میں سے ہے یا دو میں سے ہے؟ دو میں سے۔ اب اس کا فاعل آگے اسم ظاہر آ گیا، اگر باقی بارہ میں سے ہوتا تو آگے فاعل اسم ظاہر نہیں آ سکتا تھا۔
ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا۔ جی کیجیے ترکیب۔ ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ مرفوع، لفظاً، عَمْرًا مفعول، بتلائیں تو سہی کیا بنا؟ فاعل، ہاں مرفوع لفظاً فاعل، ہاں مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ فاعل بنے گا اور فاعل مرفوع ہوتا ہے، لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ تلفظ ہو رہا ہے رفع پر، جی مرفوع لفظاً فاعل، آگے؟ عَمْرًا مفعول، اعراب پہلے بتایا کرو۔ عَمْرًا منصوب، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ مفعول ہے اور مفعول آپ نے پڑھا ہے منصوبات میں سے ہے، اور لفظاً کیوں کہا؟ عَمْرًا، دیکھا نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، تو منصوب لفظاً مفعول، جی۔ فعل اپنے فاعل، سب سے پہلے فاعل چاہیے ہوتا ہے، پھر فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی ترجمہ کیجیے۔ مارا زید نے عمرو کو، جی پٹائی کی زید نے عمرو کی، فعل لازم ہے یا فعل متعدی ہے؟ فعل متعدی ہے مفعول آیا، اور ترجمے میں دیکھیے کیا آیا؟ ”نے“۔
یہاں رسم الخط کی ایک اور بات آپ کو بتلا دوں: عمرو کیسے لکھتے ہیں بھئی؟ واؤ لکھتے ہیں، ایک ہے عمر، ایک ہے عمرو۔ دونوں میں فرق کرنے کے لیے عمرو کے آخر میں علماء نے واؤ لازمی قرار دیا بھئی، اہل عرب کیا لکھتے ہیں اس کے آخر میں؟ واؤ لکھتے ہیں۔ تو آپ نے واؤ لکھی ہے بھئی؟ اب بھی نہیں لکھنی بھئی، یہ غلط لکھا آپ نے۔ جب یہ عَمْرًا آپ نے پڑھ دیا، بھئی عمر اور عمرو میں فرق کرنے کے لیے واؤ لکھتے ہیں، لیکن اس وقت عَمْرًا پر کیا آ رہا ہے؟ نصب، تنوین آ رہی ہے، الف لکھیں گے، اور عمر پر تو تنوین آتی نہیں، تو یہ الف بتلا دے گا اب یہاں پر کہ یہ عمر نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ عمرو ہے، تو عَمْرًا الف کے ساتھ ہوگا، واؤ نہیں ہوگی۔ حالت رفعی میں بھی واؤ لکھیں گے، جری میں بھی واؤ لکھیں گے، لیکن حالت نصبی میں واؤ نہیں، وہ الف فرق کر دے گا بھئی۔
جی آگے ترکیب لکھیے: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا يَوْمَ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ لکھیے۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے کیجیے۔ دیکھا جو کوشش کر رہے ہیں، ہمت کر رہے ہیں، وہ سیکھ جائیں گے انشاء اللہ آپ دیکھیں گے، جو شرم کر رہے ہیں، ان کو بھی ہمت کرنی چاہیے۔ جی۔ ضَرَبَ فعل، اعراب سب سے پہلے، اسم جو بھی آئے اس کا اعراب پہلے بتایا کرو۔ زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل، شاباش! زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل۔ عَمْرٍو مجرور لفظاً، مجرور کیوں کہا آپ نے؟ بھئی مجرور دنیا میں دو ہی ہیں: یا تو مضاف الیہ ہوگا، یا جس پہ حرف جر داخل ہو۔ یہ مضاف الیہ ہے؟ اس سے پہلے کوئی مضاف آیا بھئی؟ نہیں آیا، مضاف تو نہیں آیا، حرف جر اس پر کوئی داخل ہوا؟ حرف جر بھی داخل نہیں ہوا، معلوم ہوا کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ خود ہی اصلاح کرتے جاؤ بھئی، عبارت کے اعراب لگے ہوں، اس کے تابع نہ رہیں، آپ غور کریں اس کو کیا بننا چاہیے اور اس پر کون سا اعراب آئے گا۔ جی۔ ہاں بتاؤ بھئی، کیا اعراب آئے گا اس پر؟ بتلاؤ بھئی بتلاؤ۔
بتلاؤ بھئی، ابھی تو اس نے ترکیب کی ہے، اس جیسی ترکیب ابھی کی نہیں اس نے بھئی؟ کیا مشکل ہے؟ مجرور تو معلوم ہوا طے ہوا، مجرور یہ نہیں ہو سکتا، سمجھ میں آیا؟ اور ضابطہ چلیں لکھ لیں۔ فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آ سکتا ہے، اور کوئی چیز پھر مرفوع نہیں آ سکتی بھئی۔ فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آ سکتا ہے بھئی۔ اور فاعل تو آپ نے بتلا دیا، ایک پہلے گزر چکا ہے، اب کوئی اور مرفوع آ سکتا ہے؟ نہیں، مجرور بھی نہیں ہو سکتا یہ لفظ، مرفوع بھی نہیں ہو سکتا، تو تیسری ایک ہی چیز رہ گئی، کون سی؟ منصوب ہوگا بھئی یہ بھی۔ تو عَمْرًا منصوب بھئی، منصوب کون سا ہوگا؟ لفظاً ہوگا، شاباش! اور کیا بنے گا؟ مفعول بنے گا بھئی۔ تو منصوب ہو گیا، اب یہ سوچیں کیوں منصوب ہے، تو یہ مفعول بن رہا ہے بھئی، آگے۔ یَوْمَ مضاف، اعراب یَوْمَ کا۔ مرفوع لفظاً؟ ابھی میں نے آپ کو بتلایا بھئی فعل جب آ جائے تو فاعل کے علاوہ کوئی اور مرفوع؟ معلوم ہوا مرفوع نہیں ہو سکتا یہ۔ دوسری صورت؟ مضاف الیہ نہیں، مضاف الیہ کیوں مرفوع ہوتا ہے؟ مرفوع تو یہ ہو نہیں سکتا، کیونکہ فاعل آ چکا، ایک فاعل نے آنا تھا وہی مرفوع ہوتا ہے۔ مجرور ہو سکتا ہے؟ مجرور تو مضاف الیہ ہوتا ہے، مضاف نہیں بھئی، کون؟ مضاف الیہ، اور یہ مضاف الیہ ہے؟ نہیں، اس سے پہلے کوئی مضاف ابھی نہیں گزرا، آپ نے کوئی نہیں بتلایا۔ تو اب ایک ہی صورت رہ گئی، کون سی؟ منصوب ہوگا بھئی یہ بھی۔
تو یاد رکھیں، جو لفظ زمانے یا جگہ کے معنی دے، وہ ظرف ہوتا ہے اور منصوب ہوا کرتا ہے۔ جو لفظ بھی کس چیز کا معنی دے؟ زمانے یا جگہ کا معنی ادا کرے، وہ ظرف ہوتا ہے اور منصوب ہوا کرتا ہے۔ جی غور کریں بھئی، حل کریں اب اس عبارت کو۔ یَوْمَ منصوب کہہ رہے ہیں تو منصوب پڑھیں بھی اس کو، یَوْمَ منصوب بھئی، یَوْمَ منصوب، کون سا منصوب ہے؟ لفظاً کیوں ہے؟ تلفظ کر رہے ہیں آپ: یَوْمَ، جی منصوب لفظاً۔ مضاف بنے گا، شاباش بھئی، یَوْمَ منصوب لفظاً مضاف۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف بنے گا؟ ضابطہ لکھوایا تھا میں نے بھئی، کیا ضابطہ تھا؟ نکرہ کے بعد معرفہ آ جائے تو آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف مضاف الیہ، تو یہ یَوْمَ کا لفظ نکرہ ہے، اس کے بعد الْجُمُعَةِ کا لفظ آ رہا ہے وہ معرفہ، تو مضاف مضاف الیہ بن گئے۔ تو یَوْمَ منصوب لفظاً مضاف، آگے۔ مضاف الیہ تو آپ بتا رہے ہیں، شاباش، مجرور، کون سا مجرور؟ مجرور محلاً، کیوں کہ یہ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے بھئی، یہ ضمیر ہے؟ اسم اشارہ ہے؟ اسم موصول ہے؟ اصوات، ان میں سے کسی میں بھی داخل نہیں بھئی، معلوم ہوا مبنیات میں سے تو یہ ہے ہی نہیں۔ پڑھیں ذرا اس کو کیسے پڑھیں گے؟ یَوْمَ الْجُمُعَةِ، ہاں پھر؟ شاباش! مجرور لفظاً ہوگا: یَوْمَ الْجُمُعَةِ۔ دیکھا کوشش کریں بھئی، آپ کو آتا ہے، سارا کچھ پڑھا ہے آپ نے، اجراء نہیں کیا اس کا صحیح طرح، تو غور کریں، خود بنائیں بھئی، جملے کو حل کریں۔ تو الْجُمُعَةِ مجرور لفظاً مضاف الیہ، جی مضاف مضاف الیہ مل کر یہ کیا بن جائیں گے؟ مفعول فیہ بن جائے گا بھئی، ظرف کیا بنتا ہے؟ مفعول فیہ بنتا ہے۔ تو وہ زمانہ یا وہ جگہ جس میں فعل واقع ہو، تو یہ ضرب کس زمانے میں واقع ہوئی ہے؟ یوم الجمعہ میں واقع ہوئی، تو یہ ظرف بنے گا بھئی۔ اب جوڑیے سب کو فعل کے ساتھ بھئی: فعل اپنے فاعل، مفعول اور، پہلا جو تھا وہ مفعول بہ ہے، فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کیجیے: مارا، پٹائی کی زید نے عمرو کی جمعہ کے دن بھئی۔ جی؟ میں نے کیا کہا تھا؟ کچھ ظروف ہیں، ساروں کا تو میں نے نہیں کہا، کچھ ظروف ہیں۔ پہچان ہو جائے گی بھئی، کچھ وہ کتابوں میں ذکر کیے ہیں علماء نے، ہدایۃ النحو کے اندر ذکر ہیں کون کون سے ظروف مبنیات میں سے ہیں بھئی اور کب بھئی۔
اگلا جملہ لکھیے: ضَرَبَا، الف کے ساتھ، ضَرَبَا الزَّيْدَانِ، ضَرَبَا الزَّيْدَانِ۔ جی اب کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جلدی جلدی شاباش کریں ترکیب۔ کون بھئی؟ آپ کو ترکیب بالکل نہیں آتی بھئی؟ چلو کرو بھئی شاباش۔ ضَرَبَا فعل، آگے؟ آگے بھئی، جلدی جلدی کریں، سوچیں۔ ضَرَبَا فعل، الزَّيْدَانِ فاعل بنے گا بھئی، دیکھا وہ ضابطہ میں نے آپ کو کل لکھوایا تھا بھئی، کیا ضابطہ تھا؟ سب سے پہلے فعل آئے تو غور کریں یہ دو میں سے ہے یا بارہ میں سے ہے؟ یہ کن میں سے ہے؟ بارہ میں سے، اور جب بارہ میں سے فعل آ جائے تو پھر اس کے اندر طے ہے، کیا چیز طے ہے؟ فاعل ہمیشہ ضمیر ہوگی بھئی، تو یہاں پر کیا جڑا ہوا ہے ساتھ بھئی؟ الف، یہ الف تثنیہ کی ضمیر ہے، یہ فاعل ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ فاعل، تو ضَرَبَا فعل بافاعل ہوا بھئی، الف کیا ہے اس کا؟ فاعل۔ جی اعراب بتلائیے اس الف کا بھئی، مرفوع کیوں ہے؟ فاعل ہے اور فاعل کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع، یہ بات تو طے ہو گئی، اب کون سا مرفوع ہے؟ لفظاً ہے، تقدیراً ہے یا محلاً ہے، وہ بتلا دیجیے۔ جی؟ ضمیر کن میں سے ہے بھئی؟ مبنیات میں سے ہے، وہ آٹھ میں نے اسی لیے کہا مبنیات آپ کو یاد، معرفہ کی قسمیں، مبنیات اور وہ سولہ قسمیں آپ کو یاد ہوں گی تو بڑی جلدی آپ حل کرتے چلے جائیں گے۔ تو یہ ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات، اور مبنی کا اعراب کس طرح آیا کرتا ہے؟ محلاً، معلوم ہوا یہ الف مرفوع ہے محلاً بھئی، الف مرفوع محلاً فاعل۔ آگے؟ جی، اعراب بھئی، منصوب ہے، تو ضابطہ آپ کو بتلایا بھئی: فعل کے آنے کے بعد صرف کون مرفوع ہوا کرتا ہے؟ فاعل مرفوع ہوتا ہے، اور آگے کیا آ رہا ہے؟ الزَّيْدَانِ، اب فاعل تو گزر گیا، آگے یا منصوبات آ سکتے ہیں یا مجرورات آ سکتے ہیں، اور الزَّيْدَانِ آ رہا ہے، اور الزَّيْدَانِ سولہ قسموں میں سے کیا ہے؟ تثنیہ ہے، زید کی تثنیہ ہے بھئی، اور تثنیہ کا اعراب کس کے ساتھ آتا ہے؟ حالت رفعی میں الف کے ساتھ، حالت نصبی، جری میں یا کے ساتھ۔ الزَّيْدَانِ یہ حالت رفعی میں ہے، الزَّيْدَيْنِ یہ کس میں، حالت نصبی، جری میں ہے۔ اور جملے میں کیا آ رہا ہے؟ الزَّيْدَانِ، معلوم ہوا کتابت کی غلطی ہے بھئی، الزَّيْدَانِ آ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس نے تو کیا بننا ہے؟ مفعول بن سکتا ہے، فاعل تو بن ہی نہیں سکتا، وہ تو ضمیر آ چکی ہے، تو معلوم ہوا اس کو کیا ہونا چاہیے؟ الزَّيْدَيْنِ ہونا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ نون کے کسرہ کو نہ دیکھیں بھئی، یہ تثنیہ ہے، تثنیہ کا اعراب یہ الف اور یا سے پتہ چلتا ہے، تو الزَّيْدَيْنِ، جی اب اعراب بتلائیے۔ الزَّيْدَيْنِ، شاباش منصوب، یہ تو طے ہو گیا، منصوب کون سا ہے؟ محلاً کیوں کہا؟ مبنی ہے یہ؟ حالت رفعی میں کیا آتا؟ الزَّيْدَانِ، حالت نصبی، جری میں کیا آتا؟ الزَّيْدَيْنِ، یہ تو واضح طور پر بدل رہا ہے، معلوم ہوا مبنی تو ہو ہی نہیں سکتا، مبنی تو بدلتا نہیں ہے۔ تو یہ معرب ہوا، اب معرب کا اعراب یا لفظاً آیا کرتا ہے یا تقدیراً، اب اس میں سے طے کر لیں یہ لفظاً ہے یا تقدیراً ہے بھئی۔
لفظاً کیسے ہے بھئی؟ جی؟ الزَّيْدَيْنَ تو نہیں ہے، الزَّيْدَيْنِ ہے۔ منصوب ہے اور منصوب یاد رکھو یہ لفظاً ہے بھئی، کیونکہ یہ یا پر آپ تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ تثنیہ کا اعراب الف اور یا کے ساتھ آتا ہے، الزَّيْدَانِ اگر ہوتا تو یہ الف پر آپ کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں: زَيْدَانِ، پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے الف کو آپ؟ الزَّيْدَيْنِ، یا کو پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے بھئی؟ یا کو پڑھ رہے ہیں بھئی آپ باقاعدہ: زَيْدَيْنِ، تو یہ منصوب ہے اور کون سا ہے؟ لفظاً ہے، کیونکہ تلفظ کر رہے ہیں آپ یا پر بھئی، تو یہ منصوب ہوا لفظاً اور کیا بنے گا؟ مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی اب اس کو ذرا روانگی سے پڑھیں، کیسے پڑھیں گے؟ ہاں الف گر جائے گا التقائے ساکنین کی وجہ سے: ضَرَبَ الزَّيْدَيْنِ، کیسے پڑھیں گے؟ ضَرَبَ الزَّيْدَيْنِ، ضَرَبَا الزَّيْدَيْنِ تھا، تو زا بھی شروع میں ساکن ہے، ادھر ضَرَبَا کے آخر میں الف بھی کیا آیا؟ ساکن، اجتماع ساکنین آ گئے، اول حرف مدہ تھا اس کو کیا کر دیا؟ گرا دیا، تو کیسے پڑھیں گے؟ ضَرَبَ الزَّيْدَيْنِ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ترجمہ کیجیے: ہاں شاباش، ضَرَبَا: پٹائی کی، الف کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ مذکر غائب کی، پٹائی کی ان دونوں نے الزَّيْدَيْنِ، کن کی؟ ان دو زید کی پٹائی کی، ان دو آدمیوں نے ان دو زید کی پٹائی کی۔
سَمِعْتُ صَوْتًا، ص کے ساتھ، سَمِعْتُ صَوْتًا۔ صوت آواز کو کہتے ہیں بھئی، جی اب کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی شاباش۔ سَمِعْتُ فعل بافاعل، بھئی یہ دو میں سے ہے یا بارہ میں سے ہے؟ بارہ میں سے ہے، معلوم ہوا اسی کے ساتھ فاعل کی ضمیر آ رہی ہے بھئی۔ اگر دو میں سے ہوتا پھر آگے امکان تھا اسم ظاہر فاعل آ سکتا ہے، ہم پھر تلاش کرتے، اب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ تو سَمِعْتُ فعل بافاعل، اس میں فاعل کیا ہے؟ کون سی ضمیر؟ تُو ضمیر بھئی، ابھی کل تو میں نے بتلایا ہے تُو ضمیر نہیں کہنا بھئی، تا کہیں، الف با تا، یہ کیا جڑی ہوئی ہے آخر میں؟ تا جڑی ہوئی ہے، تو تا ضمیر فاعل، یا یوں کہیں خاص نام لینا چاہتے ہیں تو کیا کہیں؟ تُوٌّ ضمیر فاعل، جی۔ اعراب بتاؤ بھئی اس تا کا۔ مرفوع ہے لفظاً، شاباش بھئی! مرفوع کیوں ہے؟ فاعل ہے، شاباش! تا مرفوع کیونکہ اس نے فاعل بننا ہے، اور فاعل کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع، پھر مرفوع کون سا ہے؟ لفظاً ہے، کیوں لفظاً ہے بھئی؟ کہہ رہے ہیں تلفظ ہو رہا ہے اس پر بھئی، تا ضمیر ہے یا نہیں؟ ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، اور مبنی کا اعراب کیسے آیا کرتا ہے؟ کبھی لفظاً آتا ہے؟ نہیں، مبنی کا اعراب ہمیشہ محلاً آیا کرتا ہے، تو یہ جو ہے اس پر پیش آپ پڑھ رہے ہیں یہ کیا ہے؟ یہ اس کی حرکت ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ حرکت ہے، اعراب نہیں ہے بھئی، تو یہ مرفوع کون سا ہوا؟ مرفوع محلاً بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مرفوع محلاً فاعل، جی آگے۔ اعراب بھئی۔ منصوب کون سا؟ منصوب لفظاً، شاباش، جی، تو یہ منصوب لفظاً کیا بنے گا؟ مفعول، شاباش۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب اس کو ذرا پڑھیں پورے جملے کو اعراب کے ساتھ، آپ نے ایک ایک چیز کا اعراب بتلا دیا۔ سَمِعْتُ صَوْتًا، بھئی تنوین پڑھیں: سَمِعْتُ صَوْتًا، جی۔ ترجمہ کیجیے: ہاں سَمِعْتُ: میں نے سنا صَوْتًا: آواز کو، کوئی آواز میں نے سنی بھئی۔
جَاءَ زَيْدٌ الْعَالِمُ، جَاءَ زَيْدٌ الْعَالِمُ، یہ کون کرے گا ترکیب؟ جی۔ جَاءَ فعل، جی۔ زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل، شاباش! زَيْدٌ مرفوع، بھئی مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! یہ فاعل بنے گا بھئی، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کیونکہ یہ جَاءَ کون سے افعال میں سے ہے؟ دو میں سے ہے اور ان کا فاعل آگے اسم ظاہر آ سکتا ہے۔ تو زَيْدٌ مرفوع لفظاً، لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ تلفظ، شاباش! آگے۔ پہلا ضابطہ میں نے کیا لکھوایا تھا؟ معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو کیا ترکیب کرنی ہے عموماً؟ موصوف صفت والی، جی۔ زَيْدٌ مرفوع لفظاً موصوف بھئی۔ الْعَالِمُ صفت، اعراب بھئی؟ مرفوع کیوں کہا الْعَالِمُ کو آپ نے؟ زَيْدٌ کی صفت ہے تو کیا ہوا؟ شاباش! اس پر بھی وہی اعراب آئے گا جو کس پر آیا تھا؟ موصوف پر، تو الْعَالِمُ مرفوع لفظاً صفت۔ موصوف صفت مل کر؟ فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب عبارت کو روانی سے پڑھیے بھئی، روانی سے پڑھیں بھئی۔ ہاں جَاءَ زَيْدُ نِ الْعَالِمُ، زَيْدٌ پر تنوین تھی بھئی اور تنوین کیا ہوتی ہے؟ نون ساکن ہے، تو نون ساکن آیا، آگے الْعَالِمُ میں الف تو گر گیا درجۂ عبارت کی وجہ سے اور لام بھی ساکن، نون بھی ساکن آیا ماقبل میں اور لام بھی ساکن، اب اس نون کو کیا دے دیں گے؟ کسرہ دے دیں گے، تو جَاءَ زَيْدُ نِ الْعَالِمُ، ترجمہ کیجیے۔ صفت کو کیا کر دیں موصوف پر؟ مقدم کر دیں، یوں کہیں: عالم زید آیا۔ یا دوسرا طریقہ کیا تھا؟ آیا وہ زید جو کہ عالم ہے۔
تو شاباش بھئی، اس طرح محنت کرو، کوشش کرو بھئی کوشش، انشاء اللہ تعالیٰ ایک ڈیڑھ ہفتے کے بعد پھر آپ مجھے بتائیے اکثر عبارتیں آسانی سے آپ حل کرتے چلے جائیں گے۔
شاباش بھئی محنت کرو، بھئی یہ کون چھینک کے الحمد للہ کیوں نہیں کہتے بھئی؟ بلند آواز سے کہا کرو، سارے ساتھی آپ کے سنیں بھئی، ساروں کی دعا آپ کو حاصل ہو جائے بھئی۔ سنتوں پر عمل کرو بھئی، سنتوں کو صرف پڑھو نہ، اس کو اپنی عملی زندگی کے اندر لے کر آؤ۔ یہ تو عجیب سنت ہے، علماء کے ہاں بھی متروک تقریباً ہو چکی میں نے بتایا، بھئی آپ علماء ہیں یا نہیں بھئی سارے؟ پڑھا بھی ہوگا، سنا بھی ہوگا، اساتذہ نے بتلایا بھی ہوگا، لیکن توجہ کی نہیں آپ نے۔ اب کوشش کریں بھئی، چھینکیں تو زور سے الحمد للہ کہیں، سارے جواب دیں گے بھئی، آپ کو دعا دیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ سنت بھئی، سارا دین سارا سنتوں ہی کا تو نام ہے بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی محبت زیادہ ہوگی، اتنا سنتوں پر عمل کرنے کا شوق ہوگا بھئی۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے،
ہو اگر اس میں کچھ خامی تو سب کچھ نامکمل ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھئی، ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی محبت تھی؟ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ اتنی محبت، اتنی محبت کہ تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی بھئی۔ اسی لیے انبیاء کے بعد سب سے بلند درجہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک طریقے پر، ایک ایک فرمان پر قربان ہونے کو تیار رہتے تھے بھئی۔
کتنی محبت تھی بھئی حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابو عبیدہ بن الجراح بھئی، بڑے یہ بڑے سردار تھے بھئی اپنے قوم کے بھئی۔ اور اپنے والدین کے اتنے فرماں بردار تھے، اسلام لانے سے پہلے بھئی ان کی شہرت تھی پورے عرب کے اندر، عرب میں بطور مثال کے ان کا نام لیا جاتا تھا بھئی کہ والدین کی فرماں برداری تو اس طرح کرنی چاہیے جیسے ابو عبیدہ کرتے ہیں بھئی۔ بڑے تھے، سردار تھے، لیکن باپ آتا، بھری مجلس کے اندر ڈانٹتا، تھپڑ وغیرہ بھی لگا دیتا، یہ خاموشی سے سر جھکا کر کھڑے رہتے، کچھ نہیں کہتے تھے۔ اتنا ادب تھا، اتنا ادب تھا اپنے والدین کا۔ لیکن جب اسلام لے کر آئے بھئی، یہ اسلام لے کر آئے، والدین وغیرہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں والدین وغیرہ سب کو چھوڑ دیا بھئی۔ اور پھر غزوہ بدر کے موقع پر بھئی، کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جب جنگ ہوئی، تو ان کے والد جو تھے وہ کفار کی طرف سے لڑنے آئے تھے بھئی۔ اور وہ شخص جس نے کبھی والد کے سامنے کوئی آواز بلند نہیں کی، کوئی جواب نہیں دیا، آج وہی شخص اپنے والد کو گرفتار کر لیتا ہے جنگ کے اندر، اور کیونکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر آیا ہے، اور والد کو گرفتار کیا ہے اور باندھ کر اونٹ پر اب واپس لے جا رہے ہیں قیدیوں کو، سب کو لے کر جا رہے ہیں، ابو عبیدہ نے خود اپنے باپ کو گرفتار کیا ہوا ہے، باندھا ہے اونٹ پر اب لے کر چل رہے ہیں مدینہ کی طرف بھئی۔ یہ دیکھو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تھی بھئی، دیکھا کہ میرے حبیب کے مقابلے میں لڑنے کے لیے آیا ہے، اب وہ ادب وغیرہ سب ختم بھئی۔
تو راستے میں لے کر چل رہے ہیں، اور صحابہ بھی سارے ساتھ ہیں بھئی، سب نے قیدیوں کو باندھا ہوا ہے، راستے میں یہ ان کے والد نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ گستاخی کی بھئی۔ تکلیف پہنچی تھی، قید میں تھے بھئی کہ پکڑا ہے، ابو عبیدہ ساتھ چل رہے ہیں اونٹ کے، سوچا بیٹا ہے، یہ کیا کہے گا، اس نے تو کبھی مجھے کچھ کہا ہی نہیں بھئی، تو حضور کی شان میں گستاخی کی، کوئی گالیاں وغیرہ دی ہوں گی۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے آج تک کبھی جواب نہیں دیا، فوراً غصے سے بولے کہ ابا جان! خبردار میرے حبیب کی شان میں کوئی گستاخی نہ کیجیے بھئی۔ باپ خاموش ہو گیا کہ آج تک تو ایسا نہیں ہوا، یہ کیا کر رہا ہے میرا بیٹا؟ کچھ دیر خاموش رہا، تھوڑی دیر، کچھ اور آگے گئے، پھر اس نے بھئی کوئی گالیاں وغیرہ دیں، حضرت ابو عبیدہ پھر فوراً بولے کہ ابا جان! یہ میں آپ کو آخری مرتبہ کہہ رہا ہوں، اب میرے حبیب کی شان میں گستاخی نہ ہو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ باپ پھر خاموش ہو گیا۔ پھر چند قدم اور آگے چلے ہوں گے، پھر انہوں نے کوئی بری باتیں وغیرہ کیں، ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلوار نکالی اور اپنے باپ کی گردن اڑا دی۔ عجیب لوگ تھے صحابہ بھئی، عجیب لوگ۔
صحابہ کے اندر کہرام مچ گیا بھئی، یہ کیا کیا؟ اے ابو عبیدہ، یہ آپ نے کیا کیا؟ قیدی کو قتل کر دیا اور وہ بھی اپنے باپ کو قتل کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر بھئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر ملی۔ پوچھا: اے ابو عبیدہ! یہ تم نے کیا کیا بھئی؟ کہا: یا رسول اللہ! اس نے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی، میری غیرت نے گوارا نہیں کیا، میں نے گردن اڑا دی اس کی۔ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ اے پیغمبر! ابو عبیدہ سے کہہ دیجیے: آپ نے جو کیا، ٹھیک کیا۔ تو کتنی محبت بھئی! اتنی محبت کا تو انسان تصور بھی نہیں کر سکتا بھئی۔
اتنی محبت! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کسی کے لیے کوئی نام نکل آتا، بس بھئی اس کا اصل نام گم ہو جایا کرتا اور وہی نام اس کو سب سے محبوب بن جاتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، سفینہ کے نام سے مشہور ہیں بھئی، آپ نے پڑھا ہوگا کتابوں میں۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، ایک غزوہ میں چل رہے ہیں، بڑے مضبوط اور قوی آدمی تھے، تو چلتے چلتے کوئی صحابہ ساتھ تھے، ایک نے کہا بھئی میں تھک گیا ہوں، یہ اسلحہ وغیرہ تلوار وغیرہ اٹھائی ہوئی ہیں چیزیں، یہ کچھ دیر کے لیے آپ پکڑ لیجیے، ان کے کندھے پر ڈال دیں۔ دوسرے نے دیکھا بھئی لو بھئی یہ میرا بھی سامان پکڑ لو، تو کئی ساتھیوں نے سامان پکڑا دیا بھئی، اب یہ خوب لدے ہوئے چل رہے ہیں، مضبوط آدمی آرام سے اٹھا کر چل رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی کہ بھئی اتنا سامان اٹھایا، فرمایا: بھئی تم تو سفینہ ہو۔ کشتی ہو جیسے، کشتی میں زیادہ سامان آ جاتا ہے بھئی، تم تو سفینہ ہو۔ بس یہ ایک مرتبہ حضور نے فرمایا بھئی، اب ان کے صحیح نام کے بارے میں، اب ایسا ہر ایک جو ہے یہ ان کو بھی سب سے پسند ہے، اس کے بعد ہر ایک ان کو سفینہ کے نام سے پکارتا تھا بھئی، ہر ایک سفینہ کہتا۔ کتابوں میں بھی جہاں ان کا ذکر آئے گا بھئی، سفینہ کے نام سے آپ پڑھیں گے۔
یہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک غزوہ کے دوران سمندر میں سفر کر رہے تھے، تو بحری جہاز میں سفر کر رہے تھے، طوفان آیا بھئی، بحری جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، سارے ساتھی غرق ہو گئے، میں ایک تختے پر چمٹ گیا اور تختہ بہتے بہتے ایک ساحل جزیرے پر، ساحل پر پہنچا بھئی، کنارے پر۔ تختے سے اترا بھئی، کنارے پر پہنچا، سامنے جنگل تھا بھئی، اچانک میری نظر پڑی، کچھ بھی نہیں ہے بھئی، کوئی سامان وغیرہ ساتھ نہیں ہے، نہ کھانے پینے کو کوئی چیز ہے۔ سامنے نظر پڑی جنگل کی طرف تو کیا دیکھتا ہوں بھئی، ایک شیر جنگل سے نکل کر سامنے کھڑا ہے اور غصے سے میری طرف دیکھ رہا ہے بھئی۔ میں نے کہا سمندر یہاں سے تو بچ گیا، اب پتہ نہیں اب کیا حال ہوگا بھئی ادھر اب سامنے شیر آ گیا ہے، کوئی چھپنے کی جگہ، بھاگنے کی جگہ بھی کوئی نہیں ہے۔ شیر کچھ دیر کھڑا مجھے غصے سے دیکھتا رہا اور پھر اس نے بڑی تیزی سے میری طرف دوڑنا شروع کر دیا بھئی، مجھ پر حملہ کرنے کے لیے۔ بالکل قریب پہنچا بھئی، مجھے اور تو کچھ نہیں سمجھ آیا کہ اب کیا کروں، میں نے زور سے کہا: اے شیر! خبردار، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام سفینہ ہوں بھئی۔ شیر نے جیسے ہی یہ سنا بھئی، آرام سے تھم گیا، آیا میرے قریب بھئی، حملہ نہیں کیا اور محبت کی وجہ سے میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم رگڑنے لگا بھئی۔ اور پھر میرے آگے چل پڑا، کچھ دور چلتا، پھر رک کر میری طرف دیکھتا، یعنی اشارہ کرتا کہ آؤ میرے پیچھے پیچھے آؤ، میں پیچھے چل پڑا بھئی، وہ مجھے لے کر جنگل میں سے گزرتا رہا اور کہیں سے کسی جانور وغیرہ کی آواز سنائی دیتی تو شیر دوڑ کر اس طرف جاتا، اس جانور کو بھگا دیتا کہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچائے اور پھر میرے پاس آتا، مجھے لے کر چل پڑتا۔ رہنمائی کرتے کرتے وہ مجھے ایک طرف لے آیا، جنگل سے باہر اور ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر ایک طرف دیکھنے لگا، میں وہاں پہنچا، دیکھا دور بھئی مسلمانوں کا جو لشکر تھا وہ خیمہ زن تھا بھئی۔ تو پھر وہاں تک وہ مجھے پہنچا کر واپس چلا گیا اور میں پھر مسلمانوں تک اس طرح پہنچ گیا بھئی۔ عجیب عجیب بھئی۔
صحابہ نے بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر، دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا تو ہر چیز کو اللہ نے ان کے تابع کر دیا بھئی، ہر چیز کو۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آتا ہے بھئی، ایک مرتبہ ان کے کچھ مہمان آئے بھئی، اب مہمان کو کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا ان کے پاس، تو جنگل قریب تھا، جنگل کے قریب گئے اور اونچی آواز سے بولے بھئی کہ اے جانورو! تم میں سے ایک ہرن، اچھا سا ہرن میرے پاس آ جائے، میرا مہمان آیا ہے میں اس کی مہمان نوازی کرنا چاہتا ہوں۔ مہمان دیکھ رہے ہیں اچانک جنگل سے ایک ہرن دوڑتا ہوا آیا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گیا بھئی۔ حیران ہو گئے کہ جانور بھی آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے۔ کہا: جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر چلتا ہے، جو اللہ کے حکم پر چلتا ہے، تمام چیزیں اس کے حکم پر چلتی ہیں بھئی۔
اسی طرح حضرت علاء بن الحضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، بڑے جلیل القدر صحابی گزرے ہیں۔ عجیب ہے مولانا، اس دنیا کے اندر بھی سعادت اور شقاوت کی عجیب تقسیم ہے، انہی حضرت علاء بن الحضرمی کے دو بھئی بھئی کفر کی حالت میں مارے گئے بھئی، ہمیشہ کی شقاوت اور بدبختی ان کے حصے میں آئی اور یہ اسلام سے بہرہ ور ہوئے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے، ایک مرتبہ یہ لشکر لے کر چل رہے تھے، کہیں راستے میں پانی ختم ہو گیا، جنگل میں ہیں، صحرا میں ہیں بھئی، کوئی پانی کی جگہ نہیں، ساتھی ان کے کہتے ہیں کہ قریب تھے ہم مرنے والے ہو گئے پیاس کی وجہ سے، نہ جانوروں کے لیے، نہ وضو، نہ پینے، کسی چیز کے لیے پانی کہیں نہیں مل رہا۔ آخر پریشان ہو کر کہ حضرت دعا کیجیے، ہم تو مرنے کے قریب ہو گئے، کوئی پانی کہیں دکھائی نہیں دے رہا، کسی کے پاس پانی نہیں۔ حضرت علاء بن الحضرمی نے پھر دعا کی وہاں پر بھئی، کہتے ہیں ابھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، آسمان صاف تھا مولانا، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے بھئی، ابھی ہاتھ نیچے کیے نہیں تھے کہ تیزی سے ایک طرف سے بادل بننا شروع ہوئے، بادل آئے اور ہاتھ جھکانے سے پہلے ہی بڑی تیز موسلادھار بارش شروع ہو گئی بھئی۔ ساروں نے بھئی خوب پانی خود جانوروں کو بھی پلایا، خود بھی پیا، برتنوں میں بھی اکٹھا کیا۔
پھر آگے کہتے ہیں چلتے ایک لشکر کے پیچھے تھے، وہ لشکر جن کے ساتھ لڑنے گئے تھے وہ ایک جزیرے پر تھے، اب ساحل پر پہنچے تو کوئی کشتی وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے، ہزاروں کا لشکر ساتھ ہے، چار ہزار کا غالباً لشکر ساتھ ہے، اب کیا کریں؟ اس جزیرے پر کیسے پہنچیں؟ پھر انہوں نے دعا کی اللہ سے: یا حلیم یا علیم یا علی یا عظیم، اور دعا کی اور کہا سارے لشکر والوں سے: چلو بھئی میرے ساتھ۔ یہ فرمایا اور پھر پانی پر چل پڑے بھئی، اور پھر ساروں نے حیرت انگیز منظر دیکھا، سارا لشکر پانی پر چل رہا ہے اور بخیر و عافیت سارے دوسری طرف پہنچ گئے، پانی کو ان کے لیے اسی طرح بنا دیا گیا جیسے زمین ہوتی ہے بھئی۔ کہتے ہیں دوسری طرف ساتھی بلکہ کہتے ہیں بھئی ان کے کہ ہم جب دوسری طرف پہنچے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات وغیرہ بھی ہیں، کسی کے نہ قدم گیلے ہوئے تھے، نہ کسی گھوڑے کے کھر گیلے ہوئے تھے، سارے خیر و عافیت سے پہنچ گئے۔
سمجھ میں آیا؟ تو بھئی یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلنے کی برکات ہیں:
من کان للہ کان اللہ لہ۔
تو بات تو لمبی ہو گئی، میں تو آپ سے یہ کہہ رہا تھا بھئی سنتوں پر عمل کرو، جتنا ہو سکے، چھوٹی سے چھوٹی سنت ہو اس کو بھی معمولی نہ سمجھو، اس پر عمل کرو بھئی۔ بے انتہا برکات آپ کو حاصل ہوں گی جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔
چلیے بس کریں بھئی، آؤ بھئی دعا کر لیں: الحمد للہ رب العالمین، اللہم صل علیٰ سیدنا و مولانا محمد۔
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔