Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-045

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔45 جی، کہاں سے ہے بھئی؟ وَقَدْ تَكُونُ زَائِدَةً، یہ ہو گیا؟ کہ نہیں ہوا ابھی؟ نہیں ہوئی ابھی؟ اچھا، چلیے بھئی! وَقَدْ کیا تھا؟ وَالْكَافُ لِلتَّشْبِيهِ نحو زَيْدٌ كَالْأَسَدِ وَقَدْ تَكُونُ زَائِدَةً، جی کون کرے گا ترکیب؟ چلیے بھئی! قد حرف تحقیق ہے اور تحقیق کے لیے بھی آتا ہے تقلیل کے لیے بھی۔ مضارع پر عموماً کس لیے آئے گا؟ تقلیل، جی! تَكُونُ فعل افعال ناقصہ تَكُونُ فعل ناقص، هِيَ ضمیر مرفوع محلا اس کے اندر اس کا اسم جو راجع ہے كَاف کو، جی! زَائِدَةً منصوب لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلا اس کا فاعل جو راجع ہے کس کو؟ تَكُونُ کے اسم کو، کیونکہ تَكُونُ کی خبر کو تَكُونُ کے اسم سے جوڑا جاتا ہے۔ تو زَائِدَةً صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر بھئی! ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی، کیونکہ جملہ شبہ جملہ کو جوڑنے کے لیے عائد چاہیے، تو یہ وہ عائد ہے ضمیر بھئی! تَكُونُ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، شاباش! جی، نحو، جی کرتے جائیے۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف قول مصدر مجرور لفظاً مضاف هَا ضمیر مجرور محلاً ذو الحال، شاباش! جو کس کو راجع ہے؟ ذات باری تعالیٰ، جی! تَعَالَى فعل تَعَالَى فعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو راجع ہے ذو الحال کو، کیونکہ حال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ ذو الحال، جی! تَعَالَى فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر بتقدیر قد یہ حال۔ ذو الحال اپنے حال سے مل کر یہ مضاف الیہ۔ ابھی نہیں، ابھی نہیں، مقولہ بھی آ رہا ہے آگے، اس کو بھی جوڑنا ہے۔ لَيْسَ فعل افعال ناقصہ كَاف جارّہ زائدہ، کیونکہ کاف زائدہ کی مثال بنا رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ كَاف جارّہ زائدہ مِثْلِ مجرور اور بھئی! حروف زائدہ کے بارے میں میں نے آپ کو کیا بتلایا ہے؟ ہاں، شاباش! کہ کسی سے متعلق نہیں ہوتے بھئی! جی۔ مِثْلِ مجرور لفظاً اور خبر مقدم ہے لَيْسَ کی مِثْلُ، تو اصل کلام کس طرح ہے گویا؟ لَيْسَ شَيْءٌ مِثْلَهُ، لَيْسَ شَيْءٌ مِثْلَهُ، تو یہ مِثْلَ خبر مقدم ہے، تو یہ محلاً منصوب، تو كَاف جارّہ زائدہ، مِثْلِ مجرور لفظاً منصوب محلاً، کیونکہ یہ لَيْسَ کی خبر ہے، مضاف۔ هٰذَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر مقدم ہوئی کس کے لیے؟ لَيْسَ کے لیے۔ شَيْءٌ مرفوع لفظاً، جی! یہ اسم مؤخر ہے لَيْسَ کے لیے۔ لَيْسَ یہ افعال ناقصہ میں سے ہے، تو یہ لَيْسَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر مقولہ ہوا، تو محلاً یہ جملہ کیا ہے؟ منصوب ہوگا کیونکہ مقولہ کیا ہوتا ہے؟ مفعول ہوتا ہے، تو پورا جملہ منصوب محلاً، یہ مقولہ ہوا قَوْلِ کے لیے۔ قَوْلِ مصدر اپنے اپنے مضاف الیہ اور مقولہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا نحو کے لیے۔ نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مِثَالُهَا کے لیے بھئی! کس کے؟ مِثَالُهَا مبتدا محذوف ہے، مِثَالُ مرفوع لفظاً مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، کس کو راجع ہے؟ جی! كَاف کو، كَاف کی مثال ہے بھئی! كَاف جو زائدہ۔ اچھا جی! مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا. سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو یہاں پر کہا وَقَدْ تَكُونُ زَائِدَةً، کبھی یہ كَاف کیا ہوتا؟ كَاف التشبيه کے لیے آتا ہے اور کبھی زائدہ ہوتا ہے، تو جیسے یہاں لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، بھئی یہ زائدہ اس لیے ہے کہ یہ مِثْلِ کیا ہے؟ مِثْل کے معنی میں آتا ہے، کس معنی میں؟ یہ خود مِثْلُ کے معنی میں ہے اور مِثْلُ کا لفظ بھی آ رہا ہے، تو اگر اس کو زائدہ قرار نہ دیا جائے تو معنی خراب ہو جاتا ہے۔ کیسے؟ لَيْسَ مِثْلَ مِثْلِهِ بھئی ہو جائے گا۔ كَاف کی جگہ کیا رکھو ذرا؟ مِثْل رکھو، لَيْسَ مِثْلَ مِثْلِهِ شَيْءٌ، نہیں ہے اللہ کے مِثْل کے مِثْل کوئی شے نہیں ہے، اللہ کے مِثْل کے تو یہ تو کلام خراب ہوا، معلوم ہوا اللہ کا مِثْل موجود ہے اور آگے اس مِثْل کا کوئی مِثْل نہیں ہے، تو معنی کیا ہو گیا؟ خراب ہوا، لہٰذا اس کو زائد قرار دیا بھئی علماء نے، سمجھ میں آیا بھئی؟ بعض علماء نے اور تقریر کرتے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی! زائدہ نہیں ہے یہ، زائدہ نہیں، بلکہ یہ کلام کنایتاً ہوا ہے، کنائے کے انداز میں کلام ہوا ہے، مقصد یہ ہے اللہ کا مِثْل نہیں ہے اور اس کو ادا کس طرح کیا گیا؟ اللہ کے مِثْل کا مِثْل نہیں ہے بھئی! ملزوم بول کر لازم کا ارادہ بھئی! اللہ کے مِثْل کا مِثْل، جب اللہ کے مِثْل کا مِثْل نہیں ہے تو معلوم ہوا اللہ کا بھی مِثْل نہیں ہے۔ اللہ کے بھی مِثْل دیکھو! میں کہتا ہوں، میں کہنا یہ چاہتا ہوں: زید کا بھئی نہیں ہے، ایک میں صراحۃً آپ کو کہتا ہوں یوں: زید کا بھئی نہیں ہے، ایک کنایۃً کہتا ہوں: زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے، معنی اس کا بھی وہی ہے جو اس پہلے کلام کا تھا، پہلے کلام کیا کہنا چاہتا ہوں؟ میں زید کا بھئی اور کہتا کیا ہوں؟ زید کے بھئی کا بھئی کیوں؟ اس لیے کہ اگر زید کے... کیا کہا میں نے؟ زید کے بھئی کا بھئی اگر زید کا بھئی ہوتا، تو اس کا بھی کیا ہوتا؟ یہ دیکھو! یہ زید ہے، یہ اس کا بھئی ہے مثلاً، میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ زید کا بھئی نہیں، لیکن اس معنی کو میں کس طرح ادا کرتا ہوں؟ زید کے بھئی کا بھئی نہیں، اس لیے کہ زید کے کا اگر بھئی ہوتا، تو اس بھئی کا بھی کون ہوتا؟ وہ کون تھا؟ زید خود اس کا بھئی تھا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کنایۃً کلام ہوا، سمجھ میں آیا؟ اگر زید کا بھئی ہوتا تو اس بھئی کا بھی کون ہوتا؟ بھئی، جو خود کون ہوتا؟ تو یہاں بھی یہ ہوا، اللہ کے مِثْل کا مِثْل نہیں، کیونکہ اگر اللہ کا مِثْل ہوتا، تو اس مِثْل کا بھی کیا ہوتا؟ مِثْل ہوتا اور وہ خود کون؟ ذات باری تعالیٰ مِثْل ہوتے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کنائے کے انداز میں کلام ہوا، تو وہ كَاف کو زائدہ کہتے ہیں نہیں ہے بھئی یہ۔ جی آگے بھئی! کون کرے گا؟ جی! کیجیے بھئی! وَ حرف عطف مُذْ مرفوع محلاً معطوف علیہ وَ حرف عطف مُنْذُ مُذْ مرفوع محلاً معطوف مُنْذُ، جی اعراب بتاؤ اعراب! مرفوع محلاً، مُنْذُ اس پر تو پڑھ رہے ہیں آپ رفع۔ جی؟ ہاں شاباش! یہ مبنی ہے بھئی! کیا ہے؟ مبنی ہے، یہ اس کی حرکت ہے بھئی! اسی طرح یہ مبنی علی الضم ہے، یہ اعراب نہیں ہے اس پر، تو مُنْذُ مرفوع محلاً معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا بھئی، جی! لاَمِ جارہ اِبْتِدَاءِ اعراب؟ اِبْتِدَاءِ مجرور لفظاً مضاف، مصدر کہو مصدر مضاف، مضاف جی! الْغَايَةِ مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ الْغَايَةِ مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ نہیں بھئی! آگے بھی عبارت آ رہی ہے، دیکھو ابتداء کے ساتھ جڑنا تھا فِي الزَّمَانِ الْمَاضِي میں، ابتداء ہے مسافت کی ابتداء کس میں ہو رہی ہے؟ جی؟ جی! زمانۂ ماضی کے اندر بھئی! تو لہٰذا اب اس نے اس کے ساتھ جڑنا ہے، اسی لیے میں نے کہا مصدر بتلا دو تاکہ پتہ چل جائے یہ یہ اس کے یہ عمل بھی کر رہا ہے، جی! فِي جارہ الزَّمَانِ مجرور لفظاً موصوف الْمَاضِي مجرور تقدیراً صفت۔ الْمَاضِي مجرور تقدیراً بھئی! مجرور کیوں کہا آپ نے الْمَاضِي کو؟ شاباش! صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب... بھئی تقدیراً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! قاضی کی طرح ہے، اسم منقص ہے اور اسم منقص کا ایسا اعراب حالت رفعی اور جری میں کیا آتا ہے؟ تقدیراً، یہ حالت جری میں ہے، تو مجرور تقدیراً ہوا، جی! موصوف صفت مل کر مجرور جار مجرور مل کر متعلق ہوئے جی؟ جار مجرور کس سے متعلق ہوں گے؟ زمانۂ ماضی میں کیا ہے؟ ابتداء ہے، ابتداء غایت کس میں ہے؟ زمانۂ ماضی میں ہے، تو یہ متعلق ہوئے ابتداء مصدر کے ساتھ۔ ابتداء مصدر اپنے مضاف الیہ اور متعلق سے مل کر مجرور ہوا لاَمِ جارہ کے لیے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتَتَانِ کے، بھئی یہ ثَابِتَتَانِ تثنیہ کیوں نکالا آپ نے؟ شاباش! کیونکہ مبتدا کیا ہے؟ مُذْ اور مُنْذُ دو ہیں بھئی! تو یہاں جی! اور آپ نے ثَابِتَتَانِ حالت رفعی مرفوع کیوں نکالا؟ شاباش! خبر بن رہی ہے اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ تو ثَابِتَتَيْنِ نہیں نکالا، ثَابِتَتَانِ نکالا کیونکہ تثنیہ کا اعراب حالت رفعی میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف کے ساتھ۔ اچھا! پھر آپ نے ثَابِتَتَانِ کیوں نکالا؟ ثَابِتَانِ کیوں نہیں نکالا؟ شاباش! مُذْ اور مُنْذُ حروف ہیں، حروف جارہ اور حروف کیا استعمال ہوتے ہیں؟ مذکر بھی اور مؤنث بھی، لیکن زیادہ کیا استعمال ہوتے ہیں؟ مؤنث بھئی! تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتَتَانِ کے ساتھ۔ ثَابِتَتَانِ میں ثَابِتَتَانِ کے اندر کون سی ضمیر بھئی؟ هُمَا هُمَا ضمیر تثنیہ کی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ هُمَا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ مبتدا کو، یہ عائد ہے، ثَابِتَتَانِ مولانا یہ شبہ جملہ بنے گا اور جملے کو جیسے جوڑنے کے لیے عائد کی ضرورت ہوتی ہے، شبہ جملہ کو بھی جوڑنے کے لیے عائد کی۔ ثَابِتَتَانِ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی کرتے جائیے۔ نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف مَا رَأَيْتُهُ، جی! مَا رَأَيْتُهُ مُذْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مراد اللفظ شاباش! نحو جملے کی طرح مضاف نہیں ہوتا، کس کی طرح مضاف ہوتا ہے؟ مفرد، تو مفرد بنانا پڑے گا، تو مَا رَأَيْتُهُ مُذْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مراد اللفظ مجرور تقدیراً یا مجرور محلاً معطوف علیہ بھئی، آگے عطف ہو رہا ہے أَوْ کے ساتھ۔ أَوْ حرف عطف مُنْذُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ دیکھو! دو چیزیں آ رہی ہیں، مَا رَأَيْتُهُ مُذْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ اور مُنْذُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، یہاں پر بھی مَا رَأَيْتُهُ موجود ہے لیکن اس کو حذف کر دیا، کیا کر دیا؟ کیونکہ ماقبل کلام میں آ گیا تھا اس کا تکرار تھا، تو مثال دونوں کی ذکر کرنا چاہتے ہیں، تو پہلی مُذْ کی مثال، دوسری مُنْذُ کی مثال، تو یہاں پر بھی مَا رَأَيْتُهُ محذوف ہے بھئی! تو یہ یہ بھی مراد اللفظ ہو کر کیا بن جائے گا؟ معطوف، معطوف اور معطوف علیہ مل کر مولانا! اب آگے آ رہا ہے أَيْ اور أَيْ کس لیے آتا ہے؟ تفسیر کے لیے اور یہ اس کے ذریعے مفرد کی سے مفرد کی تفسیر ہوتی ہے اور جملے کی جملے کے ساتھ تفسیر ہوتی ہے، اور جب مفرد کی تفسیر مفرد کے ساتھ کی جائے تو ماقبل کیا بنا کرتا ہے؟ جی؟ بتلایا تو تھا بھئی! کتنا تکرار ہو چکا ہے؟ مبدل منہ بنتا ہے اور مابعد کیا بنتا ہے؟ بدل بنتا ہے، یا ماقبل معطوف علیہ بنتا ہے اور مابعد کیا بنتا ہے؟ عطف بیان بنا کرتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی! یہ چیزیں یاد کرتے جاؤ بھئی! یاد کرنی پڑے گی بھئی ترکیب تو کچھ نہ کچھ۔ تو مَا رَأَيْتُهُ مُذْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مراد اللفظ ہو کر مجرور تقدیراً معطوف علیہ، أَوْ حرف عطف، مُنْذُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ یہ بھی مولانا اپنے محذوف کے ساتھ مراد اللفظ یہ کیا ہے؟ محذوف بھی ساتھ ہے نا اس کے! تو یہ اپنے محذوف کے ساتھ یہ کیا ہے؟ مراد اللفظ معطوف، معطوف علیہ اور معطوف دونوں مل کر مبدل منہ، دونوں مل کر کیا بنیں گے؟ کیونکہ دونوں کی تفسیر ہے، ایک ہی تفسیر دونوں کی آ رہی ہے۔ مبدل منہ، أَيْ حرف تفسیر، اِبْتِدَاءِ، کیا پڑھیں گے بھئی؟ جی؟ کیا پڑھیں گے؟ بھئی مبدل منہ اور بدل کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ ایک، اور مبدل منہ کا اعراب میں نے کیا بتایا آپ کو؟ مجرور ہیں، کیونکہ نحو ان کی طرف کیا ہو رہا ہے؟ مضاف، تو اِبْتِدَاءِ عَدَمِ رُؤْيَتِي إِيَّاهُ كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْآنِ بھئی! یہ کیا ہے؟ یہ بھی کیا ہوا؟ ہاں ہاں، ہاں، ٹھیک ہے بھئی! یہ تو جملہ ہے پورا، ہاں جملہ ہے، سمجھ میں آیا؟ یہ بھی جملہ ہے، یہ مفرد نہیں ہے، میں نے تو پہلے لفظ پہ غور کیا صرف اِبْتِدَاءِ مصدر آ رہا ہے، اچھا! یہ بھی جملہ ہے، تو یہ بھی مجرور تقدیراً ہو جائے گا، سمجھ میں آیا؟ مراد اللفظ مجرور تقدیراً بدل، مبدل منہ اپنے بدل کے ساتھ مل کر اب کیا ہوا؟ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ نحو کے لیے، نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مِثَالُهَا کے لیے، کس کے لیے؟ مِثَالُهُمَا کے لیے بھئی! مثالهما، دونوں کی مثال ہے مذ کی بھی اور منذ کی بھی، یوم الجمعۃ۔ اس کو خبر بناؤ، کس کے لیے؟ جی؟ ہی؟ ہی؟ هی ہما کے لیے بھئی جس کی مثال ذکر ہو رہی ہے۔ ہما، ہما ضمیر کس کو راجع؟ مذ اور منذ کو، تو ہما ضمیر مبتدا اور نحو اس کے لیے خبر ہو جائے گی۔ یوم الجمعۃ، یہ مفعول بہ ہے کس کے لیے؟ اعنی، پھر نحو پڑھیں گے۔ اور یا یوم الجمعۃ مفعول مطلق ہے کس کے لیے؟ امثل نحو۔ جی۔ سمجھ میں ایا؟ نحو بمعنی مثل کے ہے نا۔ نحو کس معنی میں ہے؟ مثل، اور امثل کے لیے مثل کیا ہے؟ مصدر، بھئی اسی کا، تو مفعول مطلق بنتا ہے۔ یہ ترکیب سمجھ میں اگئی؟ جی، اب دیکھیے اگر، یہ تو تھا، اگر اب اگر معنی کا ارادہ ہو تو یوں ترکیب کی جائے گی بھئی۔ جی، کیسے۔ ما حرف نفی ہے، تو رایته، فعل بافاعل، ت ضمیر اس کے اندر فاعل، ہ ضمیر اعراب محلا منصوب، کیا بنے گا؟ مفعول بہ۔ مذ مذ جارة، یوم مجرور لفظا مضاف، الجمعة مجرور لفظا مضاف الیہ، مضاف، مضاف الیہ مل کر مجرور۔ جی؟ مجرور، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ ما رایته فعل کے ساتھ بھئی، تو یہ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ۔ اچھا جی۔ او حرف عطف، منذ منذ جارة، یوم مجرور لفظا مضاف مضاف مضاف، الجمعة مجرور لفظا مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ متعلق ہوئے کس سے؟ ما رایته محذوف کے ساتھ بھئی، سمجھ میں ایا؟ اور ما رایته کی ترکیب وہی گزری بھئی، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول اور متعلق سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، ہو کر، جی؟ معطوف، معطوف۔ یہ جملہ معطوفہ ہوا، سمجھ میں ایا بھئی؟ جملہ معطوفہ، اس کا عطف ہو رہا ہے۔ ای حرف تفسیر، ابتداء ابتداء مرفوع لفظا مضاف، بھئی میں نے اپ کو بتلایا تھا تین چار نکرہ اکٹھے ا جائیں، بعد میں معرفہ آئے تو اپس میں کیا ترکیب ہو گی؟ ابتداء بھی نکرہ، عدم بھی نکرہ، رؤیۃ بھی نکرہ اور بعد میں یا ضمیر ساتھ ا گئی جو معرفہ ہے۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو ابتداء مرفوع لفظا مضاف، عدم مجرور لفظا ماقبل کے لیے مضاف الیہ، مابعد کے لیے مضاف، تو عدم مجرور لفظا مضاف الیہ مضاف، رؤیة مجرور لفظا، جی؟ کیا ہو گا رؤیة کا اعراب بھئی؟ مجرور تقدیراً، شاباش، کیونکہ یہ کس قسم میں سے ہے؟ یہ غلامی کی طرح ہے، وہ اسم جو مضاف ہو کس کی طرف؟ یائے متکلم کی طرف، اس کا اعراب اس کا اعراب تینوں حالتوں میں کیا ہوتا ہے؟ تقدیر ی ہوتا ہے سوائے جمع مذکر سالم کے، کہ جب وہ مضاف ہو تو اس کے اور اعراب ہو۔ تو رؤیة مجرور تقدیراً مضاف الیہ مضاف، یا ضمیر اچھا، اب رؤیت بھئی، یہ رؤیت مصدر بھی ہے، یہ کیا ہے؟ اور مصدر بھی کس کی طرح عمل کرتا ہے؟ فعل کی طرح عمل کرتا ہے۔ تو رؤيتي، میرا دیکھنا، ایاه، اس کو، میرا دیکھنا تو یہ ایاه مفعول بن رہا ہے کس کے لیے؟ رؤیت، اضافت ہو رہی ہے فاعل کی طرف بھئی، دیکھنے نہ دیکھنے والا کون؟ متکلم، اور کس کو نہیں دیکھا؟ اس غائب جس کا وہ ذکر اس نے اوپر کیا تھا، ما رایته بھئی۔ سب سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہاں نہ دیکھنے والا ہے متکلم، فاعل کی طرف مصدر کی اضافت ہوئی، اور آگے ایاه کیا ا گیا؟ مفعول بہ، بھئی یہ ضمیر منصوب منفصل ہے، ضمیر جانتے ہو بھئی منصوب منفصل؟ جی؟ اچھا۔ ضمیر منصوب منفصل ہے جیسے نہیں آتا بھئی ایاک نعبد، یہ کیا ہے، ایاک نعبد۔ یہ ضمیر منصوب ہے منفصل ہے بھئی، سمجھ میں ایا؟ ایک میں کہتا ہوں ضربتک، یہ کیا ہے، ضمیر منصوب متصل ہے، اور ایک کیا ہے؟ منفصل کرو، تو پھر ساتھ پھر اس کی کیا صورت ہے بھئی؟ ایاک کے ساتھ، ایاک یا اور غائب کی ہو تو ایاه، ایاہما وغیرہ بھئی۔ تو رؤیتِ مجرور تقدیراً مصدر مضاف الیہ مضاف، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، ایاه، جی، کیا ترکیب ہو گی اس کی؟ محل، ضمیر ہے، اعراب بتلاؤ سب سے پہلے، محلاً منصوب، مفعول بہ کس کے لیے؟ رؤیت مصدر کے لیے، رؤیت مصدر اپنے مضاف اپنے مفعول بہ اور مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ عدم کے لیے، عدم مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر پھر مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ ابتداء کے لیے، ابتداء مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ کیا ہوا؟ مبتدا، کیا ہوا؟ مبتدا ہوا۔ کیا ترجمہ ہو گا؟ ابتداء عدم رؤیتی ایاه، ہاں، میرے اسے نہ دیکھنے کی ابتداء، میرا اسے نہ دیکھنے کی ابتداء، یہ جی یہ مبتدا بن گیا، آگے کان یوم الجمعة الی الان، الی الان، جی؟ یوم الجمعة، یہ کان یوم الجمعة الی الان، کیوں؟ کیا؟ یوم الجمعة، پھر کان یوم الجمعة الی الان ہو سکتا ہے؟ جمعے کا دن اس وقت سے ابھی تک ہے، ابھی تک تھا، معنی بنتا ہے؟ معنی تو بناؤ، کان یوم الجمعة الی الان، جمعے کا دن ابھی تک تھا، پتہ نہیں کب سے کب تک کی بات کر رہا ہے، معنی بن رہا ہے بھئی؟ نہیں، نہیں ا رہا۔ ہاں، وہ ابتداء کان وہ تھی یوم الجمعة کہاں، یوم الجمعة سے ابھی تک بھئی۔ اچھا، کان فعل از افعال ناقصہ، هو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا، جو کس کو راجع؟ ابتداء مبتدا کو راجع، کس کو راجع؟ کیونکہ یہ فعل، یہ جملہ فعلیہ بنے گا اور جملے کو جب کسی چیز پہ جوڑا جائے خبر بنایا جائے تو اس کے اندر عائد کا ہونا ضروری ہے، تو کان فعل از افعال ناقصہ، هو ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم جو راجع ہے مبتدا کو، یوم منصوب لفظاً، منصوب کیوں ہے مولانا؟ کان کی خبر ہے اور کان کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب، یوم منصوب لفظاً مضاف، الجمعة مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف، مضاف الیہ مل کر کان کی خبر، الی جارة، الان الی الان پڑھیں گے سمجھ میں ایا بھئی؟ مبنی ہے یہ، الی جارة الان مجرور محلاً، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ کان سے، کس سے متعلق؟ کان فعل کے ساتھ متعلق، فعل ناقص کے ساتھ، فعل ناقص اپنے اسم اور خبر اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے، خبر ہوئی؟ تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ مفسرہ ہوا، کیا ہوا؟ مف تفسير بیان کر رہا ہے بھئی ماقبل کے دونوں جملوں کی بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وقد تکونان بمعنی جمیع المدة، و حرف عطف، قد حرف تقلیل یا تحقیق، یہاں تقلیل کے لیے ہے، تکونان فعل از افعال ناقصہ، اس کے اندر جی؟ اس کا اسم کیا ہو گا؟ میں نے اپ کو بتلایا تھا بھئی، جی؟ الف ضمیر ہے اس کے اندر بھئی، الف کیا ہے؟ ہاں، وہ اپ کو شروع میں ہم ضرب یدربوا میں بتایا کرتے تھے کہ ضربا میں ہما ہے، ضربوا میں ہم ہے، ہما هم نہیں ہے بھئی، وہاں وہ الف جو ہے وہ فاعل، ضربوا میں جو و ہے وہ کیا ہے؟ فاعل، تو یہاں پر بھی یہ الف ہے مولانا فاعل ہے۔ تو یہ اسم ہے الف ضمیر تثنیہ کی مرفوع مرفوع محلاً کان کا اسم، جی۔ ب جارة، جی، معنی کیا ہو گا؟ بتلائیے بھئی کیا بنے گا؟ مضاف اپ کو کیسے پتہ چلا؟ دو نکرہ کے بعد کیا ا رہا ہے؟ معرفہ، معنی بھی نکرہ، جمیع بھی نکرہ اور المدة معرفہ۔ تو معنی بھئی یہ کون اس کا اعراب کیا ہوتا ہے بھئی؟ جی؟ تینوں حالتوں میں اس میں کون سا اسم ہے اس میں؟ مقصور، تو معنی مجرور تقدیراً مضاف، جمیع مجرور لفظاً مضاف الیہ مضاف، المدة مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ معنی کے لیے، معنی مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا کس کے لیے؟ ب جارة کے لیے، جار مجرور مل کر یہ کیا ہوئے؟ کس سے متعلق ہوں گے؟ ثابتتین، جی؟ ثابتتین کیوں کہہ رہے ہیں اپ؟ یہ کیا ہے کان کی خبر، اور کان کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب، اور ثابتتان ثابتتین تثنیہ ہے، اس کا نصب کس کے ساتھ ائے گا؟ یا کے ساتھ بھئی۔ تو متعلق ہوئے یہ ثابتتین کے ساتھ، ثابتتین منصوب لفظاً، صیغہ اسم فاعل، اسم فاعل، بھئی منصوب لفظاً کیوں ہے؟ بھئی منصوب تو ہے، ٹھیک ہے، خبر ہے، لفظاً میں کیوں کہہ رہا ہوں؟ کیونکہ اس کا اعراب کیا ہے، یا کے ساتھ ا رہا ہے، اور اس یا پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں بھئی، جی، تو منصوب لفظاً صیغہ اسم فاعل، اور اس کے اندر جی، بتلائیے بھئی۔ کون سی ضمیر ہے؟ کیا؟ یا نہیں ہے؟ یا کیوں نہیں ہے؟ شاباش، ثابتتانی اسم فاعل کے اندر جو الف اور و آتے ہیں یہ ضمیر نہیں ہیں بلکہ اس کی تثنیہ اور جمع کی ثابتتانی یہ الف تثنیہ کی علامت، ثابتونا یہ و کس کی علامت؟ جمع کی، یہ ضمیر نہیں ہیں جیسے فعل کے اندر الف اور و ضمیر ہوتے ہیں، ضمیر کیوں نہیں ہے، دلیل کیا ہے اس چیز کی؟ حالت نصبی جری میں یہ بدل جاتے ہیں مولانا اور ضمیر تو مبنی ہوتی ہے کبھی بدلتی نہیں، تو ثابتتانی حالت رفعی میں ہے، تو نصبی جری میں یہی الف یا سے بدل جاتا ہے، اپ کیا پڑھتے ہیں؟ ثابتتین، معلوم ہوا یہ ضمیر ثابتونا میں وہ و تھا، حالت نصبی جری میں کس سے بدل جائے گا؟ یا سے، کیا پڑھتے ہیں اپ؟ ثابتینا، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو معلوم ہوا یہ ضمیر نہیں، تو ثابتتین صیغہ اسم فاعل اس کے اندر ہما ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ کس کو راجع؟ بولو بھئی بولو، یہ کیا بنا رہے ہو؟ خبر، اور خبر کو کس سے جوڑیں گے؟ کان کے اسم سے، تو ہما ضمیر راجع ہے تکونان کے اسم کو، جی، صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر تکونان کے لیے، تکونان اپنے اسم اور خبر سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، نحو ما رایته مذ یومین او منذ یومین ای جمیع مدة انقطاع رؤیتی ایاه یومان۔ جی، کون کرے گا یہ ترکیب؟ جی؟ یا اسی طرح کرتے جائیں بھئی۔ یا بس کریں۔ چلو بھئی جلدی سنتے جاؤ، اسی طرح دیکھ لو۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، ما رایته مذ یومین مراد اللفظ مجرور تقدیراً معطوف علیہ، او حرف عطف، منذ یومین یہاں پر بھی کیا محذوف ہے؟ ما رایته، تو منذ یومین مراد اللفظ اپنے محذوف کے ساتھ مراد اللفظ یہ معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر کیا بنا؟ مبدل منہ، ای حرف تفسیر، جمیع مدة انقطاع رؤیتی ایاه یومان، یہ کیا ہے مراد اللفظ ہو کر بدل، مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر جی، مضاف ہوا کس کے لیے؟ نحو، نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ جی؟ مثالہما کے لیے، کس کے لیے؟ یا یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ ہما کے لیے، کس کے لیے؟ جی، کیونکہ مذ اور منذ دونوں کی مثال ہے، یا یہ خبر ہوئی کس، یا یہ مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ اعنی، یا یہ مفعول مطلق ہوا کس کے لیے؟ امثل کے لیے۔ اور اگر معنی کا ارادہ ہو تو یوں ہو گا، تو ما رایته فعل بافاعل، ت ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ہ ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، مذ جارة، یومین مجرور مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ ما رایته فعل سے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ، او حرف عطف، منذ جارة، یومین مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ما رایته فعل کے ساتھ، وہ فعل اپنے فاعل، مفعول اور اس متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر معطوف جی، اچھا، جملہ معطوفہ ہوا، اور یہ معطوف علیہ معطوف مل کر کیا ہوئے؟ یہ مفسر ہیں، اچھا جی، تو ای حرف تفسیر، جمیع مرفوع لفظاً، بھئی کیا ترکیب کریں گے؟ کیسے پتہ چلا اپ کو؟ جی، جمیع، تین چار نکرہ کے بعد معرفہ ا رہا ہے، جمیع بھی نکرہ، مدت بھی نکرہ، انقطاع بھی نکرہ، رؤیت بھی نکرہ، اور پھر یا ضمیر ا گئی جو کیا ہے؟ معرفہ، تو یہ مضاف مضاف الیہ بنیں گے، جمیع مرفوع لفظاً مضاف، مدة مجرور لفظاً مضاف الیہ مضاف، انقطاع مجرور لفظاً مضاف الیہ مضاف، رؤیت رؤیت مجرور تقدیراً مصدر مضاف الیہ مضاف بھئی، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، ایاه جی، کیا بنے گا؟ منصوب محلاً یہ مفعول ہوا کس کے لیے؟ رؤیت کے لیے، رؤیت مصدر اپنے مضاف الیہ اور مفعول بہ سے مل کر، یہ کیا مضاف الیہ ہوا انقطاع کے لیے، انقطاع مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر پھر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ مدت کے لیے، مدت مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ جمیع کے لیے، جمیع مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا دیکھو ساری چیزیں مل کر کیا بن گیا؟ مبتدا۔ "یومانِ" مرفوع لفظاً اس کی خبر۔ مبتدا، خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ مجم، مفسرہ ہوا، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس مولانا۔ جی؟ انقطاع مضاف نہیں ہے؟ کیا؟ انقطاع۔ ہاں یہ بھی مصدر ہے۔ انقطاع بھی مصدر ہے۔ پھر کیا مسئلہ ہے اس میں؟ اشکال کیا ہے اپ کو؟ فاعل وغیرہ؟ نہیں، نہیں مصدر کے لیے فاعل ضروری نہیں اجائے، ا بھی سکتا ہے اور نہیں بھی آ سکتا۔ باقیوں کے اندر اسم فاعل ہو، اسم مفعول ہو، صفت مشبہ ہو ان کے لیے فاعل یا نائب فاعل کا آنا ضروری ہے، مصدر کے لیے آنا ضروری نہیں، آ بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی آ سکتے۔ ہاں یہاں تو آرہا ہے اس کا فاعل تو آرہا ہے فاعل کی طرف اضافت ہو رہی ہے، انقطاع ہے کس چیز کا انقطاع ہے بھئی؟ جی؟ رؤیتی میری رؤیت کا انقطاع تو فاعل کی طرف یہ مضاف تو ہو رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ جی۔ تو یہ "رؤیتی" جو ہے نا یہ مجرور ہے لفظاً یا تقدیراً اور مرفوع ہے محلاً کیونکہ یہ فاعل ہے کس کا؟ انقطاع کا سمجھ میں آیا یا معناً معناً کہو محلاً نہ کہو، معناً یہ کیا ہے؟ معنی کے اعتبار سے یہ مرفوع ہے، انقطاع کا فاعل ہے بھئی۔ یہ مذ یومین ہے یا منذ یومین ہے؟ جار مجرور کا عطف جار مجرور پر نہیں ہوتا؟ جی؟ جار مجرور کا عطف جار مجرور پر نہیں ہوتا؟ نہیں بھئی یہاں یہاں عطف نہیں ہو سکتا، دونوں کی الگ الگ مثال دینا مقصد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی مث، عطف اور وہ یہاں نہیں اس طرح نہیں ہو سکتا بھئی۔ یہ یہ مذ اور منذ کبھی ابتداء غایت کے لیے ہوتا ہے؟ جی؟ یہ مذ اور منذ کبھی یہ ابتداء غایت کے لیے ہوتا ہے اور کبھی یہ جمیعِ مدت کی ابتداء کے لیے ہوتا ہے؟ جی۔ بھئی دیکھو ماقبل اس پہلے کے اندر کوئی متعین دن ذکر ہوگا۔ دوسرے کے اندر ایسا دن ذکر ہوگا جس کے ساتھ عدد ملا ہوگا۔ پہلے میں کیا ہے؟ "یوم الجمعۃ" کوئی متعین دن آگیا اور دوسرے میں کیا ہے؟ "منذ یومین" دن کا ذکر ہے ساتھ کیا ملا ہوا ہے؟ عدد، کتنے دن ہیں؟ دو ہوں گے یا ایک ہوگا یا تین ہوں گے یا چار ہوں گے۔ سمجھ میں آیا؟ یہ فرق ہے۔ چلیے مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الحال۔
49 approved lectures · 45 of 49