Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-049

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 18
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔49 جی کہاں سے ہے؟ جی وہ جو ترکیب تھی، اعلم انه لا بد للقسم من الجواب. یہاں بد جو ہے مبنی علی الفتح ہے، منصوب محلاً ہوگا۔ کیا ہوگا؟ منصوب محلاً، لا نفی جنس کا اسم، للقسم خبر اول، من الجواب خبر ثانی۔ لا نفی جنس اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر انّ کی خبر۔ اور انّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر بتاویلِ مفرد یہ مفعول ہوا اعلم کے لیے۔ اعلم فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا. جی کہاں سے ہے بھئی؟ جی کون کرے گا؟ چلیے جی۔ نحوُ واللّٰہِ اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ وَ وَاللّٰہِ لَزَیْدٌ قَائِمٌ۔ جی نحوُ مرفوع لفظاً مضاف، واؤ قسمیہ جارہ، لفظِ اللّٰہ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اقسمُ فعل کے ساتھ۔ اقسمُ فعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر قسم۔ انّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل، زیداً منصوب لفظاً اس کا اسم، بس یہ اعراب آپ نے ہر ہر اسم کا اعراب دیکھتے جانا ہے ترکیب میں، عبارت آپ کی حل ہو جائے گی بھئی۔ کہ یہ مرفوع ہے، منصوب ہے، یا مجرور ہے۔ اور مجرور تو دو ہی ہیں بھئی، ایک کون ہے؟ مضاف الیہ، ایک وہ جس پر کیا داخل ہو؟ حرفِ جار۔ اور تو کوئی آپ نے مجرور عبارت میں پڑھنا نہیں. اور مرفوعات کی آپ کو پہچان ہو کہ مرفوعات کون کون سے ہیں، مبتدا ہے، خبر ہے، انّ کی خبر ہے، کانَ کا اسم ہے، وغیرہ یہ مرفوع ہوتے ہیں۔ اور منصوبات کا بھی علم ہو اور دوسرا میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فعل جب جملے میں ا جائے تو صرف فاعل مرفوع ہوا کرتا ہے اور کوئی مرفوع نہیں آئے گا۔ اور بتلایا تھا کہ فاعل جو اسمِ ظاہر ہے وہ صرف دو صیغے ہیں جن کا فاعل اسمِ ظاہر آ سکتا ہے اور کسی کا فاعل اسمِ ظاہر بلکہ باقی سب میں ضمیریں ہوں گی۔ ایک پہلا صیغہ ہے، ایک چوتھا بھئی، واحد مذکر غائب کا صیغہ اور واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ جو ہے ان دونوں کا فاعل آگے اسمِ ظاہر آ سکتا ہے اور کسی کا فاعل اسمِ ظاہر تو کوئی اور صیغہ ہے تو اس میں تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں اسی کے اندر ضمیر ہوگی فاعل کی بھئی۔ ہاں ان دو کے اندر ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور آگے فاعل اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے بھئی۔ معلوم ہوا فاعل چاہے مفرد ہو، تثنیہ ہو، جمع ہو، فعل ہمیشہ مفرد رہے گا، ضرب زیدٌ، ضرب زیدانِ، ضرب زیدون۔ تو دیکھو فاعل مفرد سے تثنیہ ہوا، تثنیہ سے جمع ہو گیا لیکن ضرب اسی طرح مفرد کا مفرد ہے بھئی۔ جی تو انّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل، زیداً منصوب لفظاً اس کا اسم، قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، یہ ایک قیمتی بات یاد رکھنا بس ہمیشہ کے لیے کہ ہر جیسے فعلِ معروف کے لیے فاعل چاہیے، فعلِ مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے، اسی طرح اسمِ فاعل، صفتِ مشبہ، اسمِ تفضیل وغیرہ کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ ظرف کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی ظرف کے لیے بھی۔ اور تو پھر یہ کبھی فاعل، یہ جو ابھی تک تو ہم نکال رہے ہیں فاعل جب بھی نکالا اسمِ فاعل کے لیے کیا نکالا؟ اسی کے اندر ضمیر نکالی، کبھی فاعل اسمِ ظاہر بھی آ جایا کرتا ہے جیسے زیدٌ قائمٌ ابوہُ۔ تو یہ ابوہُ کو رفع کس نے دیا؟ قائمٌ نے۔ اب قائمٌ کے اندر ضمیر نہیں کیونکہ فاعل نے آنا تھا وہ اسمِ ظاہر کی صورت میں آ گیا ہے، اب اس کے اندر فاعل کی ضمیر نہیں ہوگی بھئی۔ اور یہ اسی طرح مفعول کو بھی جب، اگر یہ فعلِ متعدی سے بنے ہیں تو فعلِ متعدی تو مفعول بھی چاہتا ہے تو ان کا مفعول بھی آ سکتا ہے بھئی، ہاں البتہ مفعول کو حذف کرنا بھی جائز کیونکہ وہ فضلہ ہوتا ہے بھئی، کیا ہوتا ہے؟ فضلہ، زائد چیز بھئی۔ جس کو اکثر وہ فضلا پڑھتے ہیں بھئی، فضلا کوئی لفظ نہیں ہے بھئی فضلہ ہے فضلہ، سمجھ میں آیا؟ زائد لفظ۔ تو مثلاً میں کہتا ہوں زیدٌ ضاربٌ ابوہُ عمراً، زیدٌ ضاربٌ ابوہُ عمراً، تو یہ ابوہُ کو رفع کس نے دیا؟ ضاربٌ نے، عمراً کو نصب کس نے دیا؟ ضاربٌ نے۔ ترکیب کیسے ہوگی؟ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضاربٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، ابو مرفوع لفظاً مضاف، ہا ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ، مضاف مضافٌ الیہ مل کر یہ ضاربٌ کے لیے کیا ہوئے؟ فاعل، اور عمراً منصوب لفظاً ضاربٌ کے لیے مفعول۔ تو اسمِ فاعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر کیا ہوا جملہ، شبہ جملہ ہو کر خبر بھئی۔ اور مبتدا خبر مل کر کیا ہوئے؟ جملہ اسمیہ خبریہ۔ تو زیدٌ ہے مبتدا، ضاربٌ ہے اس کی خبر، آگے ابوہُ اور عمراً وہ ضاربٌ کے لیے فاعل اور مفعول ہیں بھئی۔ اور یہ ضابطہ بھی ہمیشہ یاد، ضمیر ایک ضمیروں کے مرجع تلاش کرو بھئی، یہ اہم ترین چیز ہے عبارت کے اندر بھئی کہ ضمیر کا مرجع کا آپ کو پتہ چلے۔ اور اکثر مرجعوں کا پتہ اسی سے چل جائے گا جو میں نے آپ کو طریقہ بتلایا کہ جب بھی جملے کو کسی چیز سے جوڑیں یا شبہ جملہ کو کسی چیز سے جوڑیں تو درمیان میں کیا دینا ضروری ہے؟ ربط کا ہونا ضروری اور وہ ربط اور وہ عائد، وہ ربط عائد کہلاتا ہے اور وہ عموماً کس شکل میں آیا کرتا ہے؟ ضمیر کی شکل میں آیا کرتا ہے بھئی۔ اور یہ بات یاد رکھنا ہمیشہ کہ جو ظرفِ مستقر ہے وہ چار جگہوں پر آیا کرتا ہے اور کہیں پر ظرفِ مستقر نہیں آتا بھئی ظرفِ مستقر۔ چار جگہ پر، کون کون سی چار جگہیں ہیں بھئی؟ خبر ہے اور صلے کے اندر اور صفت ہے اور حال ہے بھئی، ان چار جگہوں میں یہ ظرفِ مستقر ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چار جگہوں کے اندر بھئی۔ کتنی جگہ ہیں؟ ایک خبر ہے، صفت ہے اور صلہ جو موصول کا ہوتا ہے اور حال ہے بھئی۔ تو پیچھے جو مثال گزری تھی مولانا مذ اور منذُ کی، ما رأیتُہُ مذ یومِ الجمعۃِ او منذُ یومِ الجمعۃِ، یہاں منذُ کے لیے ہم نے فعل کو کیا کیا تھا؟ محذوف نکالا تھا بھئی، ما رأیتُہُ یہاں پر بھی نکالا تھا۔ لیکن اس کو ظرفِ مستقر نہیں کہیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ظرفِ مستقر نہیں کہیں گے، کیوں؟ کیونکہ ظرفِ مستقر تو کتنی جگہ آیا کرتا ہے؟ چار جگہ، اور یہ ان چار میں سے کوئی بھی نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ نہ صلہ بن رہا ہے منذُ یومِ الجمعۃِ، نہ یہ صفت ہے مولانا، نہ یہ حال ہے اور نہ خبر ہے، اور ظرفِ مستقر چار ہی جگہوں پر آیا کرتا ہے یہ ان میں سے کوئی بھی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو عامل کا صرف محذوف ہونا ضروری نہیں، یہاں عامل کو حذف کر دیا کیونکہ ماقبل کلام اس پر دلالت کر رہا تھا بھئی۔ کہ عامل کی جگہ پر وہ قرار بھی پکڑ لے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کی جگہ پر قرار پکڑ کر اس کی جگہ پر آ جائے اور وہی کام اپنے عامل والا یہ ظرف شروع کر دیا کرتا ہے، جیسے وہ عامل رفع دیتا تھا، نصب وغیرہ دیتا تھا، یہ ظرف بھی پھر کیا کرتا ہے؟ رفع دیتا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا زیدٌ فی الدارِ، زیدٌ فی الدار کے اندر ہم کیا کرتے ہیں؟ زیدٌ مرفوع لفظاً، فی جارہ، الدارِ مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کرتے ہیں کس سے؟ ثابتٌ سے، اور ثابتٌ کے اندر کیا نکالتے ہیں؟ ہوَ ضمیر، اور ہوَ ضمیر کو رفع کون دے رہا ہے؟ ثابتٌ بھئی، کون دے رہا ہے؟ ثابتٌ۔ تو یاد رکھو یہ سمجھانے کے لیے بتلایا جاتا ہے کہ اصل میں یہ عامل تھا، لیکن اب یہ عامل جا چکا ہے، ختم ہو چکا، اب اس کی جگہ فی الدار نے سنبھال لی بھئی، یہ اس کی جگہ پر اس نے قرار پکڑ لیا، اب وہ جو کام کر رہا تھا وہ سارے کام یہ ظرف کرے گا بھئی۔ وہ کیا کر رہا تھا؟ فاعل کو رفع دے رہا تھا، اب فاعل کو رفع یہ ظرف فی الدار دے رہا ہے، ثابتٌ چلا گیا اور اس کے اندر جو فاعل کی ضمیر تھی وہ فی الدار کے اندر آ کر چھپ گئی بھئی۔ یہ گہری اور باریک بات ہے، ہمیشہ اس کو یاد رکھنا، تو وہ ہوَ ضمیر اب فی الدار کے اندر چھپی ہوئی ہے اور اس ہوَ ضمیر کو اب رفع کون دے رہا ہے؟ یہ فی الدار جو ظرف ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ فی الدار ظرف ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ کوئی مفعول کو ثابتٌ مثلاً نصب دے رہا تھا، کوئی اور اسم ہوتا جو کیا کرتا؟ وہ نصب بھی دے رہا ہوتا کسی کو، تو اب وہ عمل بھی کون کرے گا؟ یہ فی الدار، یہ ظرف عمل کرے گا بھئی، یہ ظرف عمل کرے گا۔ تو ترکیب یہ ہے مولانا، میرے نزدیک یہ جو شرح مائۃ عامل کو پہلے پڑھا دیتے ہیں اور ہدایت النحو کو بعد میں پڑھایا جاتا ہے بھئی، یہ ترتیب بالکل مناسب نہیں ہے بھئی۔ رٹوا دی جاتی ہے ترکیب، یہ رٹنے سے کیا ہوتا ہے بھئی؟ ترکیب کا تو تعلق کلام کے سمجھنے سے ہے بھئی۔ کلام سمجھ میں آئے گا اس کے مطابق ترکیب ہوگی، معنی کے مطابق ترکیب کرنا پڑے گی بھئی۔ ترکیب سے معنی پر اثر پڑے گا بھئی۔ تو یہ میرے خیال میں ہدایت النحو کے بعد ہونی چاہیے کہ کچھ نحو آ جائے طالب علم کو، اس کو پتہ چل جائے مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں، مفعول بہِ کسے کہتے ہیں، فاعل کسے کہتے ہیں، وغیرہ، ہر ہر چیز کی پہچان ہو گئی، اب اس کو ترکیب پڑھائی جائے تو انشاء اللہ بڑی جلدی وہ سمجھے گا اس کو۔ اور یہاں پر عموماً نحو میر پڑھا کر سیدھی پھر ترکیب کروا دی جاتی ہے تو اس کو کیا ترکیب سمجھ میں آئے گی بھئی؟ ہدایت النحو اچھے طریقے سے پڑھائی جائے اور پھر اس کے بعد ترکیب پڑھائی جائے تو وہ بڑی جلدی سمجھ جائے گا طالب علم بھئی۔ یہ زیادہ ترکیب کی کمزوری اسی وجہ سے ہے کہ وہ پہلے پڑھا دی جاتی ہے، ہدایت النحو اور کافیہ بعد میں۔ اور پھر کافیہ پڑھائی جاتی ہے ہمارے ہاں ایسا انداز ہے کہ ہدایت النحو اور کافیہ کے اندر اتنی لمبی لمبی تقریریں ہوتی ہیں کہ انسان حیران ہوتا ہے۔ بتاتے ہیں آ کے، استاد بتاتے ہیں بھئی میں نے یہ الکلمۃُ پہ 45 اعتراضات کیے اور ان کے جوابات ذکر کیے۔ بھئی اس 45 اعتراضات کا کیا فائدہ ہوا؟ آپ منطق پڑھا رہے ہیں یا نحو پڑھا رہے ہیں بھئی؟ اصل میں یہ شارحین نے شرحیں لکھیں کافیہ کی، کافیہ ہے بڑی دقیق کتاب تو اس کی شروحات ہی انہوں نے بہترین قسم کی لکھیں تا کہ کوئی اس کو پڑھے اس کے ذہن میں کسی قسم کا اشکال آئے اس کو فوراً کیا مل جائے؟ پوری طرح حل ہو کتاب۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب طالب علم کو بھی وہ سارا جو مطالعہ کر کے آؤ سارا پڑھانا شروع کر دو بھئی۔ پڑھانی وہ چاہیے طلباء کے لحاظ سے جس بات کو وہ سمجھے بھئی، اس کو پتہ تو چلے کہ میں نحو پڑھ رہا ہوں، منطق نہیں پڑھ رہا۔ اور بات وہ سمجھے بھئی، اب لمبی لمبی تقریریں کر لیں بھئی، اتنی لمبی تقریریں، تو وہ طالب علم نحو کا تو پتہ ہی نہیں چلتا گئی کدھر بیچ میں بھئی! منطقی اعتراضات، یوں ہو تو یوں ہوگا، یوں ہو تو کیا ہوگا! تو ان کے ذہن کے مطابق پڑھانا چاہیے، نفسِ کافیہ اگر سمجھا دی جائے کہ اس کے متن میں کیا کیا مسائل ہیں تو اگلے سال وہ جامی کو بہترین طریقے سے سمجھ جائے گا بھئی۔ اور اس سے محنت کروائی جائے بھئی، خوب محنت کرے، مسائل کو سمجھ کر ذہن میں بار بار تکرار کر کے انہیں محفوظ کر لے۔ تو اتنے اعتراضات ہی اتنے ہیں بھئی، طلباء پڑھتے ہیں بعد میں کہتے ہیں جب جامی پڑھتے ہیں کہتے ہیں جامی میں اتنی تفصیل نہیں ہے جتنی ہم نے کافیہ میں پڑھی تھی بھئی! ہاں سامنے علماء بیٹھے ہوں، ماہرینِ نحو بیٹھے ہوں، پھر تقریریں لمبی لمبی کی جائیں بھئی، اب ان کو سارا کچھ پتہ ہے تو اب کچھ ان کو زائد چیزیں بتائی جائیں بھئی۔ یہاں طلباء کو نفسِ کتاب، مسائل کا ہی پتہ نہ ہو اور اس کو گہرائی میں لے جائیں آپ، کیا فائدہ بھئی؟ اچھا بھئی، بات کہاں سے کہاں نکل گئی، کیا بحث ہو رہی تھی؟ جی تو قائمٌ سے بات شروع ہوئی تھی، قائمٌ تو یہ صفت، شبہ جملہ ہو کر انّ کی خبر، انّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم، قسم اپنے جوابِ قسم کے ساتھ مل کر جملہ قسمیہ ہوا. وَ وَاللّٰہِ لَزَیْدٌ قَائِمٌ، اچھا بھئی آپ نے تو وہ ترکیب ہی شروع کر دی بھئی، نحو کے بعد کیا لینا تھا ہم نے؟ بھئی وہ تو چھوڑ ہی دیا آپ نے نحوُ، تو جملے کی طرف مضاف نہیں ہوتا بھئی، نحوُ مرفوع لفظاً مضاف، واللّٰہِ انّ زیداً قائمٌ مراد اللفظ مجرور تقدیراً یا مجرور محلاً بھئی، یرحمک اللہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو یہ اعراب ہے، مراد اللفظ، تو مجرور تقدیراً یہ کیا ہوا مضافٌ الیہ، مضاف مضافٌ الیہ مل کر یہ خبر ہوئے کس کی؟ مثالُہا بھئی مثالُہا، ہا ضمیر راجع ہے جملے کی وہ جو جوابِ قسم ہے یا مثالُہُ بھئی جوابِ قسم کو راجع کرو۔ اور واؤ عاطفہ اور واللّٰہِ لزیدٌ قائمٌ یہ بھی مراد اللفظ معطوف ہے بھئی، اور اگر معنیٰ کا ارادہ ہو پھر کریں گے بھئی واللّٰہِ انّ زیداً قائمٌ کی پوری ترکیب، اور دوسرا جملہ واللّٰہِ لزیدٌ قائمٌ، واؤ عاطفہ فا واؤ قسمیہ جارّہ، لفظِ اللہ مجرور، لفظاً جار مجرور مل کر متعلق ہے اقسمُ فعل کے ساتھ۔ اقسمُ فعل، انا ضمیر اس کے اندر فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر قسم۔ لام تاکید کے لیے ہے، زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ زید کو بھئی، کیونکہ خبر ہے اور خبر کو مبتدا سے جوڑا جاتا ہے۔ تو قائمٌ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم۔ جی قسم اور جوابِ قسم مل کر جملہ قسمیہ ہوا۔ وإن كانت منفيةً بھئی، جی اس کا عطف کس پر ہے بھئی؟ فإن كانت مثبتةً پیچھے گزرا تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ جملہ شرطیہ پورا معطوف بنائیں گے اور اس کو معطوف علیہ اس کو بنائیں گے اور اس کو کیا بنائیں گے؟ معطوف بھئی۔ تو واؤ حرف عطف، ان حرف شرط، كانت فعل از افعال ناقصہ، ھي ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم، جو کس کو راجع؟ جملے کو بھئی۔ منفيةً بھئی، یہ صیغہ اسمِ منسوب لفظاً، صیغہ اسم مفعول، ھي ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، جو کس کو راجع؟ كانت کے اسم کو بھئی۔ كانت اس اپنے اسم اور خبر سے مل یہ جی شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی، كانت اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر شرط۔ كانت مصدرةً بما ولا وإن، كانت فعل از افعال ناقصہ، ھي ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم، مصدرةً صیغہ اسم مفعول، ھي ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا نائب فاعل، با جارّہ، ما لفظ مراد ہے مولانا، مجرور محلاً معطوف علیہ، واؤ حرف عطف، لا مجرور محلاً معطوفِ اول، واؤ حرف عطف، ان مجرور محلاً معطوفِ ثانی۔ معطوف علیہ اپنے دونوں معطوفوں سے مل کر مجرور با جارّہ کے لیے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ مصدرةً سے۔ مصدرةً اسم مفعول اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر كانت کی خبر۔ كانت اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ کون سا؟ جملہ شرطیہ اور خبریہ۔ میں نے بتایا تھا شرطیہ جملہ شرطیہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے، انشائیہ بھی، دارومدار کس پر ہے؟ جزا، اگر خبر ہے تو خبریہ، انشاء ہے تو انشائیہ۔ تو جملہ شرطیہ خبریہ ہو کر یہ معطوف ہوا بھئی، وہ فإن كانت مثبتةً وجب أن تكون مصدرةً بإن أو لام الابتداء اس پر۔ تو اور وہ تھا خبر، یہ بھی پھر کیا بن گیا اس کے لیے؟ خبر بن گیا، جزا بن گئی ماقبل کے لیے۔ چلیے بھئی، بس کریں بھئی۔ اچھا بھئی، دعا بھی کر لیں۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! سب پر علم کے دروازے کھول دے۔ اے اللہ! سب کو علمِ دین کے لیے قبول فرما۔ اے اللہ! ہر ایک سے دین کا خوب کام لےے۔ اے اللہ! اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! یہ جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ! ان میں سے اے اللہ! ہر ایک کو عظیم صدقہ جاریہ بنا۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو اپنے والدین اور اساتذہ وغیرہ سب کے لیے عظیم صدقہ جاریہ بنا۔ اے اللہ! ان میں سے، اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ایسا بنا دے، اے اللہ! جس سے کہ یہ جہاں پر جائیں، اے اللہ! بدعات کا خاتمہ کرنے والے ہوں۔ اے اللہ! گمراہیوں کو ختم کرنے والے ہوں۔ اے اللہ! قرآن و سنت کی تعلیم کو پھیلانے والے ہوں۔ اے اللہ! احیائے سنت کرنے والے ہوں۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمیں خود بھی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اور سنتوں کی اشاعت کرنے کی بھی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! جتنے لوگ جس انداز میں دنیا میں دینی کام، اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں، اللہ! سب کی مدد فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصاً مدد اور نصرت فرما۔ اے اللہ! ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام پر ان کا رعب طاری فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو نیست و نابود فرما۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ اے اللہ! جو جس انداز میں دینی کام میں لگا ہوا ہے، اللہ! سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! ان سب کے وسیلے سے ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے، اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اللہ! سب کے گھروں میں خیر و برکت نازل فرما۔ اے اللہ! پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان میں سے بہت سوں نے دعاؤں کا کہا ہے، اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں، اللہ! سب کی حاجات جانتے ہیں۔ اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اللہ! سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! جو بیمار ہیں ان کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! جن کے گھروں میں کوئی اور بیمار ہے، اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ بعض طلبہ نے بھی کہا، بعض ہیں انہوں نے کہا ان کی بہن کی شادی کو چار پانچ سال گزر چکے ہیں، اولاد کوئی نہیں اب تک، اے اللہ! ان کو نیک اور صالح اولاد نصیب فرما۔ اے اللہ! اس علمِ دین کی برکت سے، اے اللہ! اتنے تیرے اولیاء نے تیرے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، یہ طلبہ یقیناً اے اللہ! آپ کے اولیاء ہیں۔ اے اللہ! اس زمانے کے اندر جو تیرے دین کی تحصیل میں مشغول ہیں۔ اے اللہ! ان کے ہاتھوں کے وسیلے سے ہم دعا کرتے ہیں، اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! جنہوں نے دعا کا کہا ہے ان کے، اے اللہ! نیک اور صالح اولاد نصیب فرما۔ اے اللہ! نیک اور صالح اولاد نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! سب کے گھروں میں خیر و برکت نازل فرما۔ اطمینان اور سکون نازل فرما۔ اے اللہ! پریشانیوں کو دور فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ میری والدہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست، ان کی صحت خراب رہتی ہے، دعا فرمائیں اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! ان کا سایہ ہمارے سروں پر تا دیر خوشی اور مسرت کے ساتھ قائم و دائم رکھ۔ اے اللہ! ہماری تمام پریشانیوں کو دور فرما۔ میری ہمشیرہ کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست، والد صاحب کی وفات کے بعد سے وہ بڑی پریشان رہتی ہیں، دعا کریں اے اللہ! ان کی پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان کو خوشی اور مسرت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی اولاد کو نیک اور صالح بنا اور جی، بڑا ہر ایک کو بڑا عالم بنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں ان میں سے ہر ایک کو بڑا نیک عالم بنا۔ اے اللہ! ہر ایک کو عالمِ باعمل بنا۔ اے اللہ! عالمِ باعمل بنا۔ اے اللہ! ایسا علم نصیب، علمِ نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! علمِ نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اللہ! سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں تکلیف اور پریشانی سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے رزق سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری بھی، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہمارے بھی ایمان کی حفاظت فرما، ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں جن کے جو جو عزیز و اقارب وفات پا گئے ہیں، اللہ! اس علمِ دین کی برکت سے، اللہ! سب کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! ان سب کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! ان کی جو اولاد باقی ہے ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! اور جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ وصلى الله
49 approved lectures · 49 of 49
First Previous
Current dars-049