Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-024

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 09 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔24 آج ہم حروفِ مشبہ بالفعل کی ترکیب کریں گے بھئی۔ حروفِ مشبہ بالفعل بھئی۔ اِنَّ ہے، اَنَّ، کَاَنَّ، لَیْتَ، لٰکِنَّ اور لَعَلَّ۔ حروفِ مشبہ بالفعل کون کون سے ہیں؟ اِنَّ ہے، اَنَّ ہے، کَاَنَّ، لَیْتَ، لٰکِنَّ اور لَعَلَّ۔ اچھا بھئی، حروفِ مشبہ بالفعل کے بارے میں آپ نے پڑھا ہے کہ یہ اپنے اسم کو نصب دیتے ہیں اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ مثلاً: زَیْدٌ قَائِمٌ بھئی۔ اس پر کیا داخل ہوا؟ اِنَّ۔ تو اب اس کو کیسے پڑھیں گے؟ اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ بھئی۔ اس نے اپنے زَیْدًا جو مبتدا تھا وہ اِنَّ کا اسم بن جائے گا اور جو مبتدا کی خبر تھی وہ اِنَّ کی خبر بن جائے گی بھئی۔ اچھا اور یہ یاد رکھنا بھئی کہ آپ نے جار مجرور کے بارے میں پڑھا اور ظرف کے بارے میں، جار مجرور کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مجازاً ظرف کہتے ہیں۔ یہ جار مجرور اور یہ جو ظرف ہیں، یہ بھئی مبتدا نہیں بنیں گے بلکہ کلام میں جب بھی آئیں خبر بنیں گے۔ کیا بنیں گے؟ خبر بنیں گے بھئی، مبتدا نہیں بنیں گے۔ تو لہٰذا مبتدا بنیں گے... مبتدا نہیں بنیں گے بلکہ یہ کیا بنیں گے؟ خبر بنیں گے۔ تو لہٰذا اِنَّ کے بعد یا اسی طرح کَانَ وغیرہ ہیں ان کے بعد اگر جار مجرور آ جائے تو وہ ان کی خبرِ مقدم ہوگی بھئی، ان کا اسم نہیں بنے گا بلکہ کیا بنے گی؟ خبرِ مقدم بنے گی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: اِنَّ فِی الدَّارِ رَجُلًا۔ تو اِنَّ کے بعد کیا آیا بھئی؟ فِی الدَّارِ۔ یہ اِنَّ کے لیے کیا بنے گی؟ خبرِ مقدم اور جو آگے اسم آ رہا ہے رَجُلًا وہ کیا بنے گا اِنَّ کا؟ اسم، اور اِنَّ اپنے اسم کو کیا دیتا تھا؟ نصب، تو رَجُلًا منصوب ہوگا بھئی: اِنَّ فِی الدَّارِ رَجُلًا۔ تو حروفِ مشبہ بالفعل جو ہیں ان کا اسم جو ہے اگر معرفہ ہو اور خبر مثلاً ظرف ہے، جار مجرور ہے تو پھر اس صورت میں خبر کو اسم پر مقدم بھی کر سکتے ہیں اور مؤخر بھی کر سکتے ہیں۔ مثلاً: زَیْدٌ فِی الدَّارِ۔ اس پر کیا داخل کرنا چاہتا ہوں میں؟ اِنَّ بھئی۔ تو اس صورت میں یہ کہنا بھی درست: اِنَّ زَیْدًا فِی الدَّارِ اور یہ کہنا بھی صحیح: اِنَّ فِی الدَّارِ زَیْدًا۔ جب اسم ان کا معرفہ ہو اور خبر کیا ہو؟ خبر تو ان کی خبر جو بھی ہو، ان کی خبر کو ان کے اسم پر مقدم کرنا جائز ہے، جب ان کا اسم کیا ہو؟ معرفہ۔ لیکن اگر ان کا اسم نکرہ ہو تو پھر خبر کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ پھر خبر کو مقدم کرنا واجب۔ مثلاً بھئی میں کہنا چاہتا ہوں "گھر میں کوئی آدمی ہے" تو یوں کہوں گا: اِنَّ فِی الدَّارِ رَجُلًا۔ یوں نہیں کہہ سکتا: اِنَّ رَجُلًا فِی الدَّارِ۔ کیونکہ رَجُلٌ جو اس کا اسم کیا ہے؟ نکرہ، اور جب بھی ان کا اسم نکرہ ہوگا تو خبر کو کیا کیا جائے گا؟ مقدم کیا جائے گا۔ تو اِنَّ فِی الدَّارِ رَجُلًا کہوں گا، اِنَّ رَجُلًا فِی الدَّارِ کہنا صحیح نہیں، لیکن اگر ان کا اسم معرفہ ہو تو خبر پر مقدم کرنا بھی صحیح اور مؤخر کرنا بھی صحیح ہے بھئی۔ اب اِنَّ اور اَنَّ میں فرق سمجھ لو بھئی۔ یہ حروفِ مشبہ بالفعل کے بارے میں یہ تو آپ جانتے ہی ہیں بھئی، یہ کس پر داخل ہوتے ہیں؟ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں، جملہ فعلیہ پر داخل نہیں ہوتے۔ لیکن فرق یہ کہ اِنَّ کے داخل ہونے کے بعد بھی وہ جملہ جملہ ہی رہتا ہے، لیکن اَنَّ کے داخل ہونے کے بعد وہ جملہ مفرد بن جاتا ہے بھئی۔ اِنَّ کے داخل ہونے کے بعد وہ جملہ جملہ ہی رہتا ہے، البتہ اَنَّ کے داخل ہونے کے بعد وہ جملہ مفرد بن جائے گا بھئی۔ یعنی اس پر اب سکوت صحیح نہیں بھئی، اگر آپ سکوت کرتے ہیں بات پوری نہیں ہوتی، پتہ نہیں چلے گا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں بھئی۔ دیکھو مثلاً میں کہتا ہوں بھئی، مثلاً جملہ ہے: زَیْدٌ قَائِمٌ بھئی۔ اس کا کیا ترجمہ کریں گے آپ بھئی؟ زید کھڑا ہے، پورا جملہ ہے یا پورا جملہ نہیں ہے بھئی؟ پورا جملہ ہے۔ اب اس پر آپ اِنَّ داخل کرتے ہیں تو اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، کیا ترجمہ کریں گے؟ بے شک زید کھڑا ہے یا یقیناً زید کھڑا ہے۔ لیکن اگر آپ اَنَّ لے آئیں بھئی، اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، اب وہ ترجمہ نہیں بھئی۔ بلکہ اب یہ مفرد کے حکم میں ہو گیا، کیا ترجمہ کریں گے بھئی؟ زید کا قیام، بس۔ کیا ہوا قیامِ زید کو بھئی؟ آگے کوئی خبر نہیں، کچھ پتہ نہیں بھئی، یہ مفرد بن گیا۔ اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ بھئی، یہ کیا بن گیا؟ مفرد بن گیا۔ اور مفرد کیسے بنتا ہے بھئی؟ کہتے ہیں کہ جو اَنَّ کی خبر ہے، اس کا مصدر نکالیں اور اس مصدر کو اَنَّ کے اسم کی طرف مضاف کر دیں، اَنَّ کے اسم کی طرف مضاف کر دیں بھئی۔ تو دیکھیے! اَنَّ کا اسم کیا ہے بھئی؟ اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ۔ اسم ہے زید اور خبر کیا ہے؟ قَائِمٌ۔ قَائِمٌ کا ذرا مصدر نکالو بھئی، قیام بھئی۔ قَائِمٌ کا مصدر کیا ہے؟ قیام۔ اس مصدر کو اسم کی طرف مضاف کر دو، کیا بن گیا؟ قِیَامُ زَیْدٍ۔ کیا بن گیا؟ قِیَامُ زَیْدٍ۔ اب آپ سے کوئی کہے بھئی "قِیَامُ زَیْدٍ"، "زید کا قیام"، تو کیا آپ کو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بات سمجھ میں... کیا کہنا چاہتے ہو بھئی قیامِ زید کو کیا ہوا؟ کوئی بات پوری نہیں ہے۔ تو اگر میں کہتا ہوں اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ تو بات پوری ہے بھئی، زید کھڑا ہے۔ لیکن اگر میں کہتا ہوں اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ تو بات پوری ہے اب؟ نہیں، تو یہ اَنَّ کیا کرتا ہے؟ اپنے اسم اور خبر کو کس کے آگے... جس جملے پر یہ داخل ہوتا ہے اس کو کس کے حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد کے حکم میں، اور مفرد کے حکم میں کرنے کا کیا طریقہ میں نے بتلایا بھئی؟ خبر کا کیا نکال لو؟ مصدر نکال لو اور اس کو اس کے اسم کی طرف کیا کر دو؟ مضاف کر دو۔ تو اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ یہ کس معنی میں ہوا بھئی؟ قِیَامُ زَیْدٍ۔ کس معنی میں ہوا؟ قِیَامُ زَیْدٍ، اور بات پوری ہے اس وقت؟ اس وقت بات پوری نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا اَنَّ جب بھی داخل ہوگا اپنے جملے پر اس کو مفرد کے حکم میں کر دے گا، بات پوری نہیں ہوگی، لہٰذا اس کے لیے دوسرا جز چاہیے بھئی کلام کا بھئی۔ مسند یا مسند الیہ اس کے لیے چاہیے بھئی، مسند الیہ۔ تو لہٰذا جو خبر کے مقامات ہیں، جو جملے کے مقامات ہیں وہاں اِنَّ پڑھیں گے اور جو مفرد کے مقامات ہیں وہاں پر کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ پڑھیں گے بھئی۔ مثلاً ابتدائے کلام میں آیا بھئی، وہاں کیا پڑھیں گے؟ اِنَّ پڑھیں گے بھئی۔ اسی طرح بھئی، قَالَ کے بعد کیا پڑھیں گے بھئی؟ اِنَّ پڑھیں گے کیونکہ قَالَ کا مفعول جو مقولہ ہے وہ جملہ... جملہ ہوتا ہے بھئی، جملہ۔ لیکن اگر مثلاً فاعل کے مقام میں آ جائے بھئی تو وہاں کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ، کیونکہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مفرد ہوتا ہے۔ مفعول کے مقام میں آ جائے تو کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ پڑھیں گے بھئی۔ مضاف یا مضاف الیہ کے مقام میں آ جائے تو کیا پڑھیں گے؟ اَنَّ پڑھیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھا بھئی، اب کچھ جملوں کی ترکیب کر لیجیے بھئی۔ جی، جلدی جلدی کرتے ہیں بھئی، آسان ترکیبات ہیں بھئی۔ اِنَّ... ابتدائی آسان ترکیب سے شروع کرتے ہیں: اِنَّ زَیْدٌ قَائِمٌ، اِنَّ زَیْدٌ قَائِمٌ بھئی۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ شاباش! اِنَّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل۔ اعراب سب سے پہلے بھئی۔ شاباش! زَیْدًا منصوب لفظاً بھئی۔ بھئی منصوب کیوں کہا بھئی؟ ہاں یہ اِنَّ کا اسم ہے اور وہ اِنَّ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے، لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! کیونکہ اس نصب پر ہم تلفظ کر... زید پر نہیں، نصب پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں، زَیْدًا، جی اگے۔ اوہو! پوری ترکیب کرو بھئی۔ شاباش! صفت کا صیغہ آ جائے تو پوری ترکیب کرنی ہے آپ نے اس کی بھئی۔ ہاں قَائِمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل... اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی کس کی؟ اِنَّ کی بھئی، تو اس کو آپ نے کس سے جوڑا؟ خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ اِنَّ کے اسم سے، آپ نے ربط کوئی دیا نہیں اور شبہ جملہ کو جوڑ دیا بھئی۔ ہاں هُوَ ضمیر زید کو راجع ہے اِنَّ کے اسم کو، یہ ربط ہے، عائد ہے بھئی۔ تو یہ قَائِمٌ شبہ جملہ ہو کر خبر اِنَّ کی، اِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، جی ترجمہ کیجیے۔ بے شک زید کھڑا ہے یا یقیناً زید کھڑا ہے، جی۔ جی اگلا جملہ لکھیے: اِنَّ فِی الدَّارِ عِیْسٰی، عِیْسٰی۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے۔ اِنَّ حرف از حروفِ مشبہ بالفعل، فِی جارہ، اَلدَّارِ مجرور لفظاً، جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق کس سے ہوا؟ ہاں جی، کوئی اس میں اس جملے کے اندر دیکھیے نہ کوئی مصدر ہے، نہ فعل ہے، نہ اس میں فاعل، نہ اسمِ مفعول، نہ صفتِ مشبہ، نہ اسمِ تفضیل وغیرہ جو آٹھ چیزیں بتلائی تھیں ان میں سے کوئی بھی نہیں تو محذوف نکالیں گے اور وہ آپ نے کیا نکالا؟ ثَابِتٌ بھئی شاباش! ثَابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل، هُوَ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل... تو ثَابِتٌ صیغہ... اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر کیا بنا؟ شبہ جملہ ہو کر خبرِ مقدم ہوئی بھئی جی اِنَّ کے لیے، جی۔ عِیْسٰی منصوب تقدیرًا بھئی، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ اِنَّ کا... بھئی آپ نے فِی الدَّارِ کو اِنَّ کا اسم کیوں نہیں بنایا؟ ہاں جو جار مجرور وغیرہ ہیں جار مجرور یہ خبر بنتے ہیں، کبھی بھی مبتدا یا اسم نہیں بنتے بھئی، تو یہ خبرِ مقدم انہوں نے بنائی، اور تقدیرًا کیوں کہا آپ نے بھئی عیسیٰ کو منصوب؟ یہ اسمِ مقصور ہے، اس کا اعراب تقدیری ہے تینوں حالتوں میں، تو یہ منصوب تقدیرًا اِنَّ کا اسمِ مؤخر، جی۔ بھئی آپ نے ربط تو کوئی بتلایا ہی نہیں بھئی، شبہ جملہ ثَابِتٌ کو آپ نے عیسیٰ سے جوڑ دیا، اس کی خبر بنا دی بھئی اور ربط کوئی نہیں بتلایا۔ ثَابِتٌ میں جو هُوَ ضمیر ہے شاباش! ثَابِتٌ کے اندر جو هُوَ ضمیر ہے وہ کس کو راجع ہے؟ عیسیٰ کو راجع ہے، ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے، عیسیٰ بھی واحد مذکر، ضمیر بھی کون سی ہے؟ واحد... لیکن بھئی ایک خرابی نظر آ رہی ہے یہاں پر کہ ضمیر پہلے آ گئی اور مرجع بعد میں آیا تو یہ تو اضمار قبل الذکر ہوا بھئی۔ جی کیا جواب دیں گے؟ ہاں بھئی یہ عیسیٰ دراصل اِنَّ کا کیا ہے؟ اسم ہے، اور اسم کا مقام مقدم ہوتا ہے یا مؤخر ہوتا ہے؟ مقدم ہوتا ہے، تو یہ فی الحال لفظوں میں تو مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، تو گویا یہ فِی الدَّارِ سے پہلے آیا ہے بھئی، فِی الدَّارِ سے پہلے ہے، لہٰذا اضمار قبل الذکر صرف لفظاً ہے یہاں پر، رتبتاً نہیں ہے بھئی۔ ہاں اگر لفظاً بھی ہو اور رتبتاً بھی ہو پھر وہ جائز نہیں بھئی۔ تو اِنَّ فِی الدَّارِ عِیْسٰی، تو یہ فِی الدَّارِ متعلق کرنا پڑے گا ثَابِتٌ سے پہلے بھئی، اور ثَابِتٌ مرفوع نکالا اس لیے کہ اِنَّ اپنے اسم... اپنی خبر کو کیا دیتا ہے؟ رفع بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ ثَابِتٌ مرفوع اس لیے ہے بھئی، تو اِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، روانی سے پڑھیے بھئی: اِنَّ فِی الدَّارِ عِیْسٰی، اِنَّ فِی الدَّارِ عِیْسٰی، جی ترجمہ کیجیے۔ ہاں یقین... بے شک گھر کے اندر عیسیٰ ہے، اِنَّ... جی۔ آگے بھئی، اگلا جملہ لکھیے بھئی: اِنَّ البیع ینعقد بالإیجاب والقبول جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی، آخر میں۔ ان حرف من الحروف المشبہ بالفعل۔ جی؟ جی، کیجیے ترکیب۔ ہاں البیع منصوب لفظاً ان کا اسم، بھئی۔ ینعقد فعل۔ ہاں، ھو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، بھئی۔ با جارہ الإیجاب مجرور لفظاً۔ ہاں، یہ اب معطوف معطوف علیہ کی بات آ گئی بھئی، ابھی تک بتلایا نہیں۔ یاد رکھو معطوف معطوف علیہ کے بارے میں، اسم کا عطف اسم پر ہوتا ہے، فعل کا عطف فعل پر ہو گا، اور ظرف کا عطف کس پر ہو گا؟ ظرف پر ہو گا۔ اسم کا عطف کس پر ہوتا ہے؟ اسم پر۔ اور فعل کا عطف کس پر ہوتا ہے؟ فعل پر ہی ہو گا۔ اور ظرف کا عطف کس پر ہو گا؟ چاہے وہ ظرف حقیقی ہو چاہے ظرف مجازی، یعنی جار مجرور ہو، تو جار مجرور کا عطف جار مجرور پر ہوتا ہے، بھئی۔ ظرف پر ہی ہوتا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اسم کا عطف اسم پر، فعل کا عطف فعل پر، ظرف کا عطف ظرف پر، بھئی۔ ہاں، حرف کا عطف حرف پر نہیں ہوتا بھئی، حرف کا عطف حرف پر نہیں ہے بھئی کلام عرب میں۔ تو یہاں پر دیکھیے بھئی وؤ آیا، وؤ یہ عطف کے لیے آیا کرتا ہے اور اس میں عطف کی صورت میں پہلے کو کہتے ہیں معطوف علیہ، یعنی اس پر عطف کیا گیا ہے۔ معطوف علیہ، اس پر کیا کیا گیا ہے؟ عطف کیا گیا ہے اور ثانی کو کیا کہتے ہیں؟ معطوف، بھئی۔ ثانی کو معطوف کہتے ہیں، بھئی۔ جی، اب کیجیے ترکیب۔ با جارا الإیجاب مجرور لفظاً معطوف علیہ، بھئی، شاباش۔ وؤ حرف عطف۔ اعراب، بھئی؟ القبول مجرور لفظاً معطوف۔ بھئی، اس پر آپ نے اس کو مجرور کیوں کہا؟ ہاں، کیونکہ اس کا معطوف علیہ مجرور ہے، تو معطوف بھی کیا ہو گا؟ مجرور، اور لفظاً اس لیے کہ تلفظ ہو رہا ہے جر پر والقبول۔ جی۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مجرور ہوا، بھئی۔ جی۔ جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے کس سے؟ ینعقد فعل سے، بھئی۔ بھئی، جڑ بھی رہا ہے یا نہیں جڑ رہا، بھئی؟ کیسے؟ ترجمہ کیجیے۔ پورے کا نہیں ترجمہ کرو، بھئی۔ صرف جس کو جس سے جوڑا ہے ان دو کو ان کا کرو، بھئی۔ ینعقد سے جوڑا اور کس کو جوڑا؟ بالإیجاب والقبول۔ صرف اس کا ترجمہ کرو بھئی، ینعقد بالإیجاب والقبول۔ منعقد ہوتی ہے ایجاب اور قبول کے ساتھ، بھئی۔ ہاں، جڑ رہا ہے، بھئی۔ شاباش! ینعقد فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کی؟ ان کی، خبر ہوئی کس کی؟ ان کی خبر ہوئی، بھئی۔ بھئی، آپ یہ خبر پورا جملہ ہے، جملہ فعلیہ ہو کر خبر ہوئی اور میں نے بتلایا تھا جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑیں، کس کی ضرورت پڑے گی؟ عائد کی۔ بغیر عائد کے جڑ سکتا ہے، بھئی؟ بغیر عائد کے نہیں جڑ سکتا۔ آپ نے کوئی عائد نہیں بتلایا، بھئی۔ کس کو لوٹ رہی ہے؟ بیع کی طرف، شاباش! خبر کو اسم سے جوڑا جاتا ہے، تو اس کے اندر جو ھو ضمیر تھی، وہ بیع کو لوٹ رہی ہے، وہی عائد ہے، بھئی۔ جی، تو یہ خبر ہوئی ان کی، بھئی۔ اور ان کی خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ مرفوع۔ تو ینعقد بالإیجاب والقبول یہ پورا جملہ محلاً کیا ہوا؟ مرفوع ہے، محلاً مرفوع۔ لیکن جملہ ہے مبنی، اس پر اعراب نہیں محلاً آئے گا بھئی، کہیں ظاہر نہیں ہو گا۔ ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، بھئی۔ جی، روانیگی سے پڑھیے۔ إن البيع ينعقد بالإيجاب والقبول، ترجمہ کیجیے۔ جی، تحقیق بیع منعقد ہوتی ہے ایجاب اور قبول کے ساتھ، بھئی۔ جی، اگلی ترکیب لکھیے، بھئی۔ ثبت إنك قائم إنك قائم، بھئی۔ چلیے جی، کون کرے گا ترکیب، بھئی؟ جی، کیجیے، بھئی۔ ابھی آپ نے کی نہیں پہلے؟ نہیں بھئی، جس نے ایک کر لی بس ایک کافی ہے، بھئی۔ جی، کیجیے! ثبت فعل ثبت فعل، آگے کیا پڑھا آپ نے؟ إن حرف من الحروف المشبہ بالفعل کاف ضمیر، بھئی، یہ کیا ہے؟ منصوب محلاً ان کا اسم، کیونکہ ان کا اسم منصوب ہوتا ہے اور یہ ضمیر ہے، تو محلاً منصوب ہو گی کیونکہ یہ مبنی ہے، بھئی۔ قائم مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل قائم مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل ان کے اسم جی؟ ان کے اسم کی طرف۔ ان کا اسم تو مخاطب کی ضمیر ہے اور آپ نے جو قائم کے اندر نکالی ہے، وہ غائب کی ضمیر نکالی، بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا جس قسم کی ضمیر سے صفت کے صیغے کو جوڑیں، اسی قسم کی ضمیر اس کے اندر نکالیں، بھئی۔ بھئی، وہ کاف تو ہاں، کاف تو منصوب متصل ہے اور جو آپ اس کے اندر نکال رہے ہیں، وہ فاعل کی ضمیر نکالیں، بھئی۔ کون سی ضمیر نکالیں؟ فاعل کی نکالیں، وہ مرفوع ہوتی ہے، بھئی۔ ہاں، اس کے اندر انت ضمیر۔ کاف اور انت ایک ہی چیز ہیں مولانا، کس کے لیے آتے ہیں؟ واحد مذکر مخاطب کے لیے آتی ہیں، بس ہاں ایک کاف کون سی حالت میں ہے؟ حالت منصوب متصل وہ استعمال ہوتی ہے اور مرفوع منفصل کیا ہے؟ یہ انت استعمال ہوتی ہے اور مرفوع متصل بھی، بھئی۔ تو قائم کے اندر، بھئی، کون سی ضمیر آپ نے نکالی؟ انت ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، بھئی۔ اور یہی عائد ہے، بھئی، یہی کیا ہے؟ عائد ہے، کیونکہ ماقبل جس ضمیر سے ہم اس کو جوڑ رہے ہیں، اس کے اندر بھی وہی ضمیر آ گئی۔ جوڑ بھی مخاطب کی ضمیر سے رہے ہیں اور قائم کے اندر بھی کون سی ضمیر آ گئی؟ تو یوں سمجھو وہ انت کو انت ہی کے ساتھ ہم نے جوڑ دیا۔ کیا کیا؟ ہاں، وہ کاف ضمیر صرف حالت نصبی کی وجہ سے اس کی صورت ذرا الگ ہے ورنہ ہے وہی واحد مذکر مخاطب کی، بھئی۔ قائم صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنا؟ شبہ جملہ ہو کر یہ ان کی خبر، بھئی۔ ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر، بھئی، کیونکہ ان کیا ہے؟ جملہ ہی رہتا ہے بھئی ان جب داخل ہو۔ جملہ ان جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر، آپ نے اس کو کیا بنا دیا ثبت کے لیے؟ فاعل، بھئی! اور فاعل بھئی مفرد ہونا چاہیے یا جملہ، بھئی؟ مفرد ہونا چاہیے، معلوم ہوا یہاں ان نہیں پڑھیں گے بلکہ کیا پڑھیں گے؟ ان پڑھیں گے، بھئی۔ ثبت أنك قائم، بھئی۔ ترکیب سمجھ میں آئی سب کو، بھئی؟ اچھا، اب ذرا اس کو مفرد بنا بھی دو، ان کیا کرتا ہے، بھئی؟ اپنے جس جملے پر داخل ہوتا ہے، اس کو کس حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد کے حکم میں، تو آپ ذرا أنك قائم کو اٹھاؤ اور مفرد یہاں پر رکھو، بھئی۔ خبر کا مصدر نکالو۔ قیام، اور اس کو مضاف کرو ان کے اسم کی طرف۔ قیامک، قیامک۔ اب اٹھا دو اس کو أنك قائم کی جگہ کیا رکھو؟ قیامک، ثبت قیامک، آپ کا قیام ثابت ہوا، بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا جملے کا، بھئی؟ اس طرح ترجمہ ہو گا، بھئی۔ تو ثبت آپ کا قیام ثابت ہوا یا یوں کر لو، ثابت ہوا کہ آپ کھڑے ہیں۔ جی، تو ثبت قیامک، وہی ترکیب ثبت فعل، قیام مضاف ہے مرفوع کیونکہ ثبت کے لیے کیا بن رہا ہے، بھئی؟ فاعل بن رہا ہے اور کاف ضمیر کیا بن رہی ہے؟ مضاف الیہ، جی، تو یہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر ثبت کے لیے فاعل بنا۔ تو یہ جو ان، ان ہوتا ہے، یہ آپ نے حروف مصدر بھی پڑھے ہیں، بھئی۔ حروف مصدر کی بحث جہاں آتی ہے، وہاں صاحبِ قافیہ، صاحبِ ہدایت النحو وغیرہ آپ کو بتلاتے ہیں کہ حروف مصدر تین ہیں: أن، إن اور ما، أن، إن اور ما۔ یہ وہی أن ہے، بھئی، حروف جملہ جس کو ہم نے کس میں شمار کیا تھا، بھئی؟ حروف مشبہ بالفعل، یہ اپنے مدخول کو کس معنی میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں، تو دیکھو أنك قائم اس کو کس معنی میں کر دیا ہے اس نے؟ قیامک، مصدر کے معنی میں کر دیا، بھئی، کس معنی میں کر دیا؟ مصدر کے معنی میں کر دیا، بھئی۔ اگلی ترکیب کیجیے، بھئی۔ أن ما قبل أن ما قبل هذا الفصل هذا الفصل بحث جید بحث جید جی، کون کرے گا؟ اب ذرا مشکل ترکیب آئی، بھئی۔ کون کرے گا، بھئی؟ چلیے، کیجیے، بھئی۔ ہاں، دیکھا! میں نے کہا تھا أن، لیکن انہوں نے کس سے بدل دیا اس کو؟ إن سے، اس لیے کہ یہ جملے کے شروع میں آ رہی ہے، ابتداءِ کلام میں أن نہیں پڑھتے بلکہ کیا پڑھتے ہیں؟ إن، تو إن، بھئی۔ إن حرف من الحروف المشبہ بالفعل۔ ما مرفوع محلاً مضاف ما مرفوع محلاً مضاف، بھئی۔ اور کوئی، بھئی؟ جی! إن حرف من الحروف المشبہ بالفعل وہ إنما وہ اکٹھا لکھتے ہیں بھئی، میں نے اسی لیے الگ الگ بولا بھئی۔ ما کافہ آئے گا؟ وہ إن کے ساتھ جڑا ہوا لکھتے ہیں، بھئی۔ جی، اور کون کرے گا، بھئی؟ جی، کیجیے! ٹھہرو بھئی، آپ کر چکے ہیں جی، انہیں کرنے دیں۔ إن حرف من الحروف المشبہ بالفعل شاباش بھئی! یہ ما کون سا ہے؟ ما موصولہ ہے بھئی، سب جی۔ ما موصولہ، اعراب بتاؤ بھئی۔ شاباش! ما منصوب محلاً بھئی، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ یہ إن کا اسم بنے گا، محلاً کیوں کہا؟ مبنیات میں سے ہے، اسمائے موصولہ مبنی ہوتے ہیں، آپ نے پڑھا ہے، جی۔ قبل منصوب لفظاً مضاف قبل منصوب لفظاً مضاف، بھئی۔ منصوب کیوں کہا آپ نے؟ منصوب منصوب بھئی، صلے کا تو کوئی محلِ اعراب نہیں ہوتا۔ نہیں، تلفظ تو وہ تو لفظاً کی بات آپ کریں گے، منصوب آپ نے کہا منصوب لفظاً، ٹھیک ہے، لفظاً تو اس لیے کہ تلفظ ہو رہا ہے، منصوب کیوں کہا؟ جی؟ اوہو! یہی تو بات میں کر رہا تھا، موصول منصوب ہو تو صلہ کوئی منصوب ہوتا ہے بھئی؟ میں نے پہلے بتایا تھا، صلے کا کوئی محلِ اعراب نہیں ہے۔ صلہ جملہ ہو گا پورا اور اس کا کوئی محلِ اعراب نہیں ہے۔ ما موصول موصول آ گیا۔ اب ہمیں آگے صلہ چاہیے، بھئی۔ اور کون کرے گا، بھئی؟ جی؟ مبنی پہ اعراب ظاہر نہ ہو تو ما بعد پہ اعراب منتقل کر دیتے ہیں۔ نہیں نہیں، یہ آپ نے کیسی بات کی؟ کبھی اس کا اعراب اگلے لفظ کو کبھی بھی نہیں منتقل ہوتا، بھئی۔ ہر ایک پر اس کا اپنا اعراب آئے گا۔ جی! شاباش بھئی، آسان سی بات ہے۔ "قبلُ"، "بعدُ" کس میں سے ہیں؟ اور ظرف کیا ہوتا ہے؟ مفعول فیہ ہے، اس پر کون سا اعراب آتا ہے؟ نصب آتا ہے، بھئی! آسان سی بات، جی! اب کیجیے آگے ترکیب، بھئی۔ قبلَ منصوب لفظاً مضاف۔ قبلَ منصوب لفظاً مضاف۔ ھٰذا مجرور محلاً مضاف الیہ۔ ھٰذا مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مجرور کیوں کہا آپ نے؟ مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے۔ محلاً کیوں کہا؟ مبنیات میں سے اسم اشارہ ہے، شاباش! الفصلِ مجرور لفظاً مضاف ثانی۔ او ہو! ایک مضاف آئے گا، دو مضاف کیوں آئیں گے؟ موصوف موصوف کون ہے؟ ھٰذا۔ ہاں، یہ صفت۔ ھٰذا معرفہ ہے اور اس کے بعد الف لام والا اسم آ رہا ہے تو عموماً معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو آپس میں کیا بنیں گے، بھئی؟ موصوف، صفت۔ تو ھٰذا ہوا موصوف اور الفصلِ کیا ہے اس کی؟ صفت ہے۔ تو ھٰذا کا کیا اعراب بتایا تھا؟ مجرور محلاً۔ تو الفصلِ کا کیا اعراب ہو گا؟ مجرور لفظاً، بھئی! موصوف، صفت کا ایک اعراب ہوتا ہے۔ ھٰذا مجرور ہے تو الفصلِ بھی کیا ہو گا؟ مجرور۔ البتہ محلاً، لفظاً، تقدیراً اس میں اختلاف ہو سکتا ہے، اس کے مطابق آئے گا۔ موصوف چونکہ مبنی ہے، لہٰذا ہے تو مجرور، لیکن کون سا مجرور ہے؟ محلاً۔ صفت بھی اب مجرور ہونی چاہیے، لیکن وہ مبنی ہے یا معرب ہے، بھئی؟ صفت معرب، لہٰذا اس پر اعراب آئے گا اگر آ سکتا ہو تو۔ الفصلِ مجرور لفظاً صفت، بھئی۔ موصوف، صفت مل کر یہ مضاف الیہ ہوا قبلَ کا۔ شاباش! موصوف، صفت مل کر مضاف الیہ ہوئے کس کے لیے؟ قبل کے لیے، جی! قبلُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ صلہ ہوا ما موصولہ کا۔ قبلُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ کیا ہوا؟ بھئی، یہ تو مفرد ہو گیا اور مفرد موصول کا صلہ ہمیشہ کیا بنانا ہے، میں نے کیا بتایا تھا آپ کو؟ جملہ چاہیے ہمیں یہاں پر، بھئی۔ جملہ ثبَتت کے۔ شاباش! مفعول فیہ ہے بھئی، آپ نے خود بتایا تھا۔ قبلَ کیا ہے؟ ظروف میں سے، اور ظرف کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے کوئی؟ جیسے جار، مجرور کے لیے ہمیشہ کوئی متعلق چاہیے، اسی طرح ظرف کے لیے بھی ہمیشہ کوئی نہ کوئی عامل چاہیے اور عامل یہاں پر کون ہے، بھئی؟ ثبَتَ نکالیں گے، کیا نکال لیں گے؟ ثبَتَ نکال لیں گے، بھئی۔ وہ آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک چیز عامل ہونا ضروری ہے، بھئی۔ وہی آٹھ چیزیں جو کس میں ذکر ہوئی تھیں؟ جار، مجرور میں، وہی ان میں سے کوئی ایک یہاں نکالیں۔ لیکن یہاں اب "ثابتٌ" نہیں نکالنا، کیوں؟ صلہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ، اور یہاں موصول کے صلے میں صرف ظرف آ رہا ہے تو محذوف کیا نکالیں گے؟ فعل نکالیں گے یا مفرد نکالیں گے؟ فعل نکالیں گے کیونکہ فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنے گا؟ جملہ، لیکن اگر ہم "ثابتٌ" نکال لیں تو پھر جملہ بنے گا؟ پھر جملہ نہیں، اور ہمیں تو کیا چاہیے؟ جملہ چاہیے، تو ثبَتَ فعل نکالا انہوں نے، شاباش بھئی! ثبَتَ فعل، ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ تو قبلَ ظرف ہوا ثبَتَ فعل کے لیے، ثبَتَ فعل، ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل۔ شاباش، جو کس کو لوٹ رہی ہے وہ ضمیر، بھئی؟ موصول، بھئی صلہ جملہ ہوتا ہے اور اس کو موصول کے ساتھ جوڑنے کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے، بھئی؟ عائد چاہیے، تو عائد یہاں پر کیا ہے؟ یہ ثبَتَ کی ھو ضمیر ہے، بھئی۔ ثبَتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا ما موصولہ کا۔ شاباش! ثبَتَ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا کس کا؟ ما موصولہ کا۔ ما موصولہ، ما موصولہ اپنے صلے سے مل کر یہ اِنَّ کا اسم ہوا بھئی، اِنَّ کا اسم، جی! بحثٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ بحثٌ مرفوع لفظاً موصوف، مرفوع کیوں کہا آپ نے، بھئی؟ یہ اِنَّ کی خبر بنے گی، جی! جیدٌ مرفوع لفظاً صفت۔ جیدٌ بھئی، مرفوع لفظاً صفت۔ بھئی یہ، جیدٌ کون سا صیغہ ہے؟ صفتِ مشبہ، صفت کا صیغہ ہے اور صفت کا صیغہ جب آئے، آپ نے اس کے لیے کیا تلاش کرنا ہے؟ فاعل یا نائب فاعل، تو اس کے لیے بھی فاعل تلاش کرو، بھئی۔ ھو ضمیر۔ جیدٌ، جی، اس کے اندر ھو ضمیر جو کس کو راجع ہے؟ بحثٌ کو، وہ اس کا فاعل۔ تو صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی بحثٌ کے لیے، بھئی، جی! موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ خبر ہوئی اِنَّ کی۔ شاباش! موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ خبر ہوئی اِنَّ کی، بھئی۔ اِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔ اِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے، بھئی! اِنَّ مَا قَبْلَ هٰذَا الْفَصْلِ بَحْثٌ جَیِّدٌ۔ شاباش بھئی! ہر ہر لفظ کا اعراب آپ کو پتہ چل گیا، بھئی! اب روانی سے بس عبارت پڑھ لو، اسی طرح کتاب کی عبارت حل ہوتی ہے۔ اِنَّ مَا قَبْلَ هٰذَا الْفَصْلِ بَحْثٌ جَیِّدٌ، بھئی۔ ترجمہ، بھئی! یقیناً جو اس سے پہلے فصل ہے، وہ جو، وہ جو! میں نے بتلایا تھا بھئی، کس کے ساتھ ترجمہ کرنا ہے موصول کا، بھئی؟ "وہ جو" کے۔ یقیناً وہ جو کہ اس سے پہلے فصل ہے، بہت عمدہ ہے۔ یقیناً وہ جو کہ ثابت ہے قبلَ ھٰذَا الفصلِ، اس فصل سے پہلے۔ وہ بحث جو اس فصل سے پہلے ثابت ہے، یعنی جو پہلے آئی ہے، بحثٌ جیدٌ، وہ بڑی اچھی بحث ہے، بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی، چلیے۔ بس کرتے ہیں، بھئی۔
49 approved lectures · 24 of 49