Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-014

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔14 اچھا بھئی گزشتہ اسباق میں آپ نے پڑھا تھا کہ فاعل جب بھی آئے گا فعل کے بعد آئے گا, فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا। اور فعل کے آ جانے کے بعد صرف فاعل مرفوع آئے گا اور کوئی چیز مرفوع نہیں آئے گی। اور مجرور صرف دو ہی ہیں، ایک وہ جس پر مضاف الیہ داخل ہو مضاف داخل ہو اور دوسرا وہ جس پر حرفِ جار داخل ہو، اور باقی سارے منصوب ہوں گے بھئی। اب وہ آپ کا کام ہے پہچاننا کہ یہ مفعول بہ واقع ہو رہا ہے، مفعول مطلق ہے، مفعول لہ ہے، یا حال وغیرہ بھئی। اور یہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ جملے کی خبر کہ مبتدا کی خبر کبھی جملہ ہوا کرتی ہے، اور وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتا ہے وہ خبر اور جملہ فعلیہ بھی ہو سکتا ہے। لیکن جب بھی جملے کو کسی چیز سے جوڑا جائے ربط کی ضرورت پڑتی ہے اس کے لیے عائد چاہیے بھئی۔ وہ ربط کیا کہلاتا ہے؟ عائد। عائد کی کئی صورتیں ہیں لیکن سب سے زیادہ عام جو استعمال ہوتا ہے وہ ضمیر ہے بھئی। یعنی جملے کو جس چیز سے بھی آپ جوڑیں جملے کے اندر ایک ضمیر کا ہونا ضروری جو اس چیز کی جانب لوٹ رہی ہو। تو جملہ کبھی خبر بنتا ہے، جملہ کبھی صفت بنتا ہے، جملہ کبھی حال بنتا ہے اور اسی طرح موصول کا صلہ بھی جملہ آیا کرتا ہے। تو جس سے بھی جملے کو جوڑیں عائد ضرور چاہیے। جملے کو صفت بنا رہے ہیں تو اس میں موصوف کی ضمیر ہونی چاہیے، اس کو آپ خبر بنا رہے ہیں تو مبتدا کے لیے ضمیر ہونی چاہیے بھئی۔ صفت ہو تو موصوف کی ضمیر، خبر ہو تو مبتدا کی، حال بنے تو پھر اس میں ذوالحال کے لیے کوئی ضمیر ہونی چاہیے اور صلہ بنے تو اس میں موصول کی طرف کوئی ضمیر لوٹنی چاہیے بھئی۔ اور آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے اور مبنی ہوتا ہے لہٰذا اس کا اعراب محلاً آئے گا۔ اور جملہ جب صفت بنے گا تو ہمیشہ نکرہ کی صفت بنے گا، اس لیے کہ یہ جملہ خود کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ، تو نکرہ کے لیے نکرہ صفت آتی ہے معرفہ کے لیے نکرہ صفت نہیں آتی। اور ایک یہ بات بھی آپ کو بتلائی تھی کہ نکرہ کے بعد فعل آ جائے بھئی تو وہ عموماً کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ اس لیے کہ فعل نے اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ بننا ہے اور جملہ نکرہ کے حکم میں ہے تو ما قبل بھی نکرہ آیا تو یہ اس نکرہ کے لیے کیا بن جائے گا؟ صفت بن جائے گا। اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے نکرہ کے اندر میں نے بتلایا تھا موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آؤ؟ ایسا کا لفظ لے آؤ بھئی، بڑا بہترین ترجمہ وہاں پر بن جائے گا। پھر جار مجرور کی ترکیب شروع کی تھی، میں نے بتلایا تھا جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ متعلق ہو گا بھئی۔ جب بھی آ جائے جار مجرور اس کو کچھ بھی نہیں بنا سکتے آپ جب تک آپ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کو متعلق نہ کر دیں۔ تو اور وہ آٹھ چیزوں میں سے پہلی چیز کیا ہے؟ فعل ہے، ثانی؟ مصدر ہے، ثالث؟ اسم فاعل ہے، رابع؟ اسم مفعول ہے، خامس؟ صفت مشبہ، سادس؟ اسم تفضیل، سابع؟ مبالغے کے صیغے اور ثامن؟ اسم فعل ہے بھئی۔ اگر ان میں سے کوئی جملے میں موجود ہے تو اس کے ساتھ جوڑ لیں بشرطیکہ ترجمہ صحیح ہو رہا ہو۔ تو جس سے بھی جوڑیں میں نے بتلایا تھا دیکھیں کہ ترجمہ بھی صحیح بنتا ہے یا نہیں بنتا، اور کیسے دیکھیں گے اس کا طریقہ کیا ہے؟ کہ جار مجرور یہ متعلق ہوئے اور جس سے جوڑا وہ متعلق ہوئے، صرف متعلق اور متعلق کو پکڑیں اور باقی جملے میں جتنے لفظ بھی آئیں سب کو ختم کر دیں۔ صرف ان دو کو پکڑ کر ان کا ترجمہ کریں، اگر ترجمہ صحیح ہوتا ہے تو معلوم ہوا یہ اس کے ساتھ جڑ رہا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جڑنے سے ترجمہ صحیح نہیں ہو رہا تو پھر معلوم ہوا یہ اس کے ساتھ متعلق نہیں ہے، پھر کسی اور کے ساتھ جوڑ کر دیکھو، اگر کوئی اور بھی نہیں ہے تو محذوف نکالنا پڑے گا بھئی، محذوف۔ اور پھر یہ جار مجرور کا متعلق اگر مذکور ہو تو یہ ظرفِ لغو کہلاتا ہے اور اگر ان کا متعلق محذوف ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ ظرفِ مستقر کہلاتا ہے۔ اور اس کے لیے پھر محذوف آپ فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسم بھی نکال سکتے ہیں۔ چاہے وہ افعال عامہ سے ہو چاہے افعال خاصہ سے۔ افعال عامہ مشہور میں نے کتنے بتلائے تھے؟ چار ہیں بھئی، کون کون سے؟ ہاں کون، ثبوت، وجود، حصول بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ چار ہیں۔ تو ان سے فعل بھی بنا سکتے ہیں، اسم بھی۔ تو کون سے فعل کون سا بنے گا؟ کان بن گیا مثلاً اور اسم کون سا بنے گا؟ کائن اسم فاعل۔ اسی طرح ثبوت سے کیا بنے گا؟ ثبت اور ثابت، اور اسی طرح حصول سے؟ حصل اور حاصل، یعنی ان تین سے فعل معروف نکالیں گے یا اسم فاعل نکالیں گے، لیکن اگر وجود سے بنائیں تو پھر؟ فعل مجہول نکالیں گے یا اسم مفعول نکالیں گے۔ اور جیسے فعل کے لیے فاعل کا ہونا ضروری، بغیر فاعل کے کبھی بھی فعل نہیں آ سکتا، اسی طرح ہمیشہ اسم فاعل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، بغیر فاعل کے کبھی بھی اسم فاعل کبھی بھی نہیں آئے گا۔ اسی طرح صفت مشبہ کے لیے بھی ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، اسم تفضیل کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے اور اسم مفعول کے لیے؟ نائب فاعل چاہیے ہمیشہ۔ ہاں وہ الگ بات ہے عموماً آپ کو عبارت میں نظر نہیں آئے گا کیونکہ ان کا فاعل یا نائب فاعل ضمیر ہو گی جو انہی کے اندر چھپی ہوئی ہو گی بھئی۔ یہ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھا بھئی اب کچھ ترکیب کر رہے تھے بھئی ہم۔ جی کچھ اور جملے کیجیے ابھی۔ کیا کر رہے تھے ترکیب؟ جی یہ جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا؟ اچھا بھئی جملہ تھا انا اکرمت رجلین یبنیان مسجد مسجد، یہ الفاظ ہیں۔ اب آپ نے عبارت تیار کرنی ہے، ترجمہ بھی ساتھ ہو جائے گا، ہر ایک کا اعراب بھی پتہ چل جائے گا، عبارت حل ہو جائے گی بھئی۔ چلیے جی کون کرے گا اس کی ترکیب بھئی؟ جس کو نہیں آتی بھئی ان میں سے کوئی کوشش کرے بھئی۔ چلیے جی آپ کیجیے۔ اعراب، سب سے پہلے اعراب بھئی، اعراب ہی تو آپ نے پھر عبارت کو روانی سے پڑھنا ہے۔ شاباش، انا مرفوع محلاً مبتدا۔ اکرمت فعل، ہاں یوں کہو اکرمت، جن فعلوں کے ساتھ ضمیر جن صیغوں کے ساتھ ضمیر ملی ہوئی ہو وہاں کہیں فعل بافاعل۔ اکرمت فعل بافاعل، اب ضمیر فاعل کی کون سی ہے وہ بتلاؤ۔ تُو ضمیر، اعراب بتلاؤ۔ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ فاعل شاباش، یہ مرفوع محلاً فاعل۔ آگے۔ اعراب؟ منصوب لفظاً بھئی، منصوب کیوں بنایا آپ نے؟ شاباش یہ مفعول بہ بنے گا اور لفظاً کیوں کہا، رجلینِ میں تو اس پہ کسرہ پڑھ رہا ہوں؟ ہاں، کیونکہ رجلین تثنیہ ہے اور تثنیہ کا اعراب حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ اور نصبی جری میں یا کے ساتھ آتا ہے اور اس وقت یا آ رہی ہے، جی تو رجلینِ جی، منصوب لفظاً، کیا بنایا آپ نے اس کو؟ موصوف کیوں بنایا بھئی؟ تو پھر؟ نکرہ ہو تو ہمیشہ موصوف بنتا ہے؟ جاءنی رجلٌ، رجلٌ بھی تو نکرہ ہے لیکن وہ تو فاعل بن رہا ہے، موصوف بھی نہیں بن رہا۔ جی رجلینِ، معرفہ کیسے ہے بھئی؟ معرفہ میں نے شروع میں یاد کروائے تھے چھ سات ہیں۔ معرفہ یا تو ضمیریں ہیں، یا علم ہے، یا معرف باللام ہے، یا اسمائے اشارہ ہیں، اسمائے موصولہ ہیں، معرف بالنداء ہے، یا ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہے، ان میں سے تو یہ کوئی بھی نہیں۔ نکرہ ہے، تو موصوف کیوں کہا یہ پوچھ رہا ہوں میں آپ سے؟ نکرہ کے بعد کیا ہو؟ فعل ہوں، ہاں یہ ضابطہ بتلاؤ نا، نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے بھئی؟ فعل آ رہا ہے اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت، ہمیشہ نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں اب ترجمہ کر کے دیکھ لینا اگر بن رہا ہے، عموماً اکثر بن جایا کرتا ہے بھئی۔ جی تو رجلینِ منصوب لفظاً موصوف بھئی۔ یبنیانِ فعل۔ ضمیر بھئی، کون سی ضمیر؟ ہما، دیکھا بھئی میں نے کیا بتلایا تھا؟ یہ الف ضمیر ہے، وہ ہما سمجھانے کے لیے کہتے تھے بھئی، یہ الف تثنیہ کی ضمیر ہے بھئی، تثنیہ کی ضمیر ہے بھئی، تثنیہ مذکر غائب کی۔ جی یہ اس کا اعراب بتاؤ۔ یہ نون اعرابی ہے، نون کیا ہے؟ اعرابی بھئی، حالتِ رفعی میں آتا ہے نصبی جری میں گر جایا کرتا ہے۔ تو الف فاعل ہے بھئی، کیا اعراب ہوا الف کا؟ مرفوع محلاً، مرفوع کیوں کہا؟ فاعل مرفوع ہوتا ہے شاباش، اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ یہ ضمیر ہے اور ضمیر کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے، جی۔ جی اعراب بتلاؤ۔ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ مفعول بہ بنے گا بھئی، اور لفظاً کیوں کہا؟ کیسے کر کے، تلفظ کر کے دکھاؤ؟ جی؟ مسجداً بھئی، کوئی مانعِ تنوین یہاں پر؟ الف لام ہوتا تو تنوین نہ آتی، آگے مضاف الیہ ہوتا تو تنوین، اب تو تنوین آئے گی بھئی۔ جہاں مانعِ تنوین ہو وہاں تنوین نہ لاؤ، کوئی یا غیر منصرف ہو، ورنہ تنوین لایا کرو نکرہ پہ۔ تو مسجداً منصوب لفظاً مفعول بہ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو جملے کے اندر فاعل گزر چکا تھا آگے اب صرف منصوبات یا مجرورات آ سکتے تھے، مجرور یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ اس پہ حرفِ جار بھی نہیں داخل ہوا، کوئی مضاف بھی داخل، تیسری صورت منصوب ہونے کی رہ گئی یہ معلوم ہوا منصوب ہے۔ اب یہ پتہ چلاؤ یہ کون سا منصوب ہے، غور کیا تو آپ کو پتہ چلا یہ فعل کے لیے کیا بن رہا ہے؟ مفعول بہ بن رہا ہے بھئی۔ جی؟ کیا بنے گا؟ ہاں ابھی بتاتا ہوں بھئی مفعول، کہہ رہے ہیں مفعول فیہ نہیں بنے گا؟ مفعول فیہ، چلیے پہلے آپ کر لیجیے ترکیب پوری پھر میں بتلاتا ہوں بھئی۔ مفعول بہ شاباش مسجداً۔ جی آگے بھی ہے؟ فی بلدتِی شاباش، جی فی جارہ۔ بلدتی کہہ رہے ہیں مضاف مضاف الیہ بھئی آپ کو کیسے پتہ چلا؟ اضافت تو ہے، میں نے ضابطہ ایک لکھوایا تھا وہ ضابطہ یاد رکھو ہر وقت۔ آخر میں کیا آ رہی ہے اسم کے؟ جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل ملی ہوئی ہو کیا ترکیب کرنی ہے؟ مضاف مضاف الیہ۔ شاباش یہ ضابطہ یاد رکھو، جی اب بلدہ کا اعراب بتاؤ، بلدہ۔ مجرور، مجرور تقدیراً بھئی شاباش۔ یہ بلدہ کیا ہے؟ مجرور، مجرور تو پکی بات ہے کیونکہ کیا داخل ہو رہا ہے؟ فی داخل ہو رہا ہے، مجرور تو کہنا ہی کہنا ہے آپ نے اس میں سوچنے کی بات نہیں۔ باقی یہ سوچنا ہے کہ یہ محلاً مجرور ہے یا لفظاً مجرور ہے یا تقدیراً۔ تو آپ نے اب پھر سولہ قسموں میں چلے جائیں، اگر ان میں سے کوئی قسم ہے تو اس کے مطابق اعراب بتا دیں، ورنہ دیکھ لیں مبنی تو نہیں، سب سے پہلے دیکھیں مبنی ہے کہ مبنی نہیں؟ تو بلدہ کا لفظ تو مبنی نہیں، سمجھ میں آیا؟ اس پہ تینوں اعراب آئیں گے، تینوں اعراب، بلدۃٌ، بلدۃً، بلدۃٍ بھئی تینوں اعراب آیا کرتے ہیں، معلوم ہوا یہ مبنی نہیں۔ اب معلوم ہوا محلاً اعراب نہیں، اب دو چیزیں رہ گئیں یا تقدیراً ہے یا لفظاً۔ اب سولہ قسموں میں سے ایک قسم آپ نے پڑھی تھی، میں نے آپ کو کہا تھا اس قسم کو ہمیشہ یاد رکھو بار بار ذہن سے نکل جاتی ہے بھئی، کون سی قسم؟ کوئی بھی اسم کس کی جانب مضاف ہو؟ یائے متکلم کی طرف، اس کے یائے متکلم کی طرف بھئی، اس کا اعراب ہر تینوں حالتوں میں کیا آئے گا؟ تقدیری آئے گا۔ یہ قسم تو ہمیشہ یاد رکھو یہ ہمیشہ پریشان کرتی ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو بلدتی یہ مجرور، اگر یہ فاعل بھی بن رہا ہوتا تو اس نے بلدتی ہی رہنا تھا، البتہ آپ یوں کہتے مرفوع تقدیراً، مرفوع تقدیراً کہتے۔ اس قسم کا اعراب ہمیشہ یاد رکھو، تو یہ بلدتی کیا ہوا بھئی؟ بلدة کا کیا اعراب بتایا؟ مجرور تقدیراً بھئی۔ آگے یا کا اعراب، اچھا بلدة مجرور تقدیراً مضاف، یا اعراب؟ ہاں یا مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی، جی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہوئے؟ یبنیانِ فعل کے ساتھ، کس سے متعلق ہوئے؟ یبنیانِ کے ساتھ بھئی۔ اچھا جوڑ کے دکھاؤ بھئی۔ شاباش، یبنیان فی بلدتی، یبنیانِ کا کیا معنیٰ؟ تعمیر کرنا۔ تعمیر کیا، یہ تو ماضی والا ترجمہ کر رہے ہیں بھئی، مضارع والا کرو مضارع والا۔ تعمیر کرتے ہیں یا تعمیر کریں گے، جی۔ تعمیر کر رہے ہیں فی بلدتی، کس میں؟ میرے شہر میں، تعمیر کر رہے ہیں میرے شہر میں، جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا بھئی؟ جڑ رہا ہے، معلوم ہوا یہ اسی سے متعلق ہے بھئی، شاباش، جی اب سمیٹیے سب کو۔ یبنیانِ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر کیا ہوئی؟ صفت ہوئی موصوف کے لیے۔ بھئی صفت آپ نے کیسے بنا دی، کوئی ربط بتلایا نہیں اور صفت جملے کو جوڑ رہے ہو؟ یبنیانِ کے اندر جو الف ضمیر تھی وہ کس کو راجع ہے؟ رجلینِ موصوف کو بھئی، اب بتلاؤ مجھے ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے؟ رجلینِ بھی تثنیہ مذکر ہے اور الف ضمیر بھی کون سی ہے؟ تثنیہ مذکر کی ہے بھئی، ضمیر مرجع میں مطابقت، شاباش۔ تو یہ جملہ فعلیہ ہو کر صفت موصوف کے لیے، موصوف صفت مل کر مفعول بہ ہوا فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی بھئی، جی، کس کے لیے؟ انا ضمیر مبتدا کے لیے۔ بھئی جملے کو آپ نے کس کے ساتھ جوڑ دیا؟ جی؟ مبتدا کے ساتھ، کوئی عائد تو آپ نے بتلایا نہیں۔ شاباش، یہ جو اکرمتُ میں تُو ضمیر ہے یہ عائد ہے، یہ کیا ہے؟ یہ عائد ہے مولانا۔ بھئی آپ کہیں گے کہ آپ نے تو کہا تھا کہ صرف غائب کی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے، مخاطب اور متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں ہوتا، تو میں نے ابھی بھی یہی کہہ رہا ہوں بھئی، میں نے کوئی مرجع نہیں تلاش کیا، میں نے صرف یہ کہا ہے کہ تُو ضمیر کیا ہے؟ عائد ہے۔ یاد رکھو یہ عائد کی دوسری صورت آ گئی۔ عائد کی دوسری صورت، عائد کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اسم جس کے ساتھ آپ اس کو جوڑ رہے ہیں اگلے جملے میں پھر وہی اسم آ جائے۔ عائد کی دوسری قسم کیا ہے بھئی؟ مشکل بات ہے بھئی، توجہ سے سمجھ لو اس کو۔ پہلے تو صورت کیا تھی کہ جس کے ساتھ جملے کو جوڑ رہے ہیں وہی کیا ہونی چاہیے؟ اس کی ایک ضمیر ہونی چاہیے جو کس کی طرف لوٹے؟ اسی اسم کی جانب لوٹے، اور لوٹتی کون سی ضمیر ہے ہمیشہ؟ غائب کی ضمیر، اور یہاں تو کون سی ضمیر آئی؟ متکلم کی ضمیر آئی، لہٰذا یہ تو لوٹ نہیں سکتی بھئی، یہ عائد کی دوسری قسم ہے کہ جو اسم جس اسم کے ساتھ اس جملے کو جوڑ رہے ہو اسی کا اعادہ ہو جائے اگلے جملے میں۔ میں کس کے ساتھ جوڑ رہا ہوں پورے جملے کو بھئی؟ انا، اب انا کون سی ضمیر ہے؟ واحد متکلم، کون سی ضمیر ہے؟ اور جملے کے اندر بھی ایک ضمیر آ گئی، کون سی؟ واحد متکلم کی، تو اسی اسم کا اعادہ ہو گیا، کیا ہو گیا؟ بات سمجھ میں آئی؟ یہاں ذرا مشکل ہے تو دوسری قرآن سے مثال بھئی، بڑی پیاری مثال: الحاقة ما الحاقة۔ الحاقة مبتدا ہے اور ما الحاقة اس کی خبر ہے بھئی۔ ما الحاقة کیا ہے؟ اس کی خبر ہے۔ تو الحاقة مبتدا، ما الحاقة پورا جملہ اس کی خبر، اب آپ سے پوچھے بھئی اس ما الحاقة کے اندر عائد کیا ہے، آپ کیا کہیں گے؟ اسی الحاقة کا اس میں کیا ہو رہا ہے؟ تکرار ہو رہا ہے، بعینہٖ وہی اسم دوبارہ آ رہا ہے، یہی عائد ہے۔ اسی نے اس کے ساتھ کیا کر دیا جملے کو؟ جوڑ دیا، وہی اسم جب دوبارہ آیا تو ربط آ گیا یا نہیں آ گیا بھئی؟ دونوں میں ربط آ گیا، بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ کہ جس اسم کے ساتھ جوڑ رہے ہیں یا تو اس کی ضمیر آنی چاہیے، اگر اس کی ضمیر نہیں آتی تو پھر بعینہٖ اسی اسم کا کیا ہونا چاہیے؟ تکرار ہونا چاہیے بھئی، کیا ہونا چاہیے؟ تکرار ہونا چاہیے۔ تو یہاں بھی انا ضمیر کے ساتھ ہم جوڑ رہے ہیں پورے جملے کو اور اس پورے جملے میں تو انا ہے واحد متکلم کی ضمیر، تو اکرمتُ کے اندر بھی کون سی ضمیر آ گئی؟ بھئی دونوں ایک ضمیریں ہیں، بس فرق صرف اتنا ہے ایک منفصل ہے، ایک کون سی ہے؟ متصل ہے، ہیں دونوں واحد متکلم کی ضمیریں، عائد سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا بھئی اب جملے کو ذرا، تو مبتدا کے لیے یہ خبر ہوئی اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر کیا بنا؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب ذرا روانی سے پڑھیے اس جملے کو۔ دوبارہ؟ شاباش، اب ہر لفظ کا اعراب پتہ چل گیا، اب ذرا اس کو تیزی سے پڑھ لو: انا اکرمت رجلین یبنیان مسجدا فی بلدتی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ترجمہ کیجیے۔ ہاں مضارع والا ترجمہ کرو، انا اکرمت رجلین، میں نے اکرام کیا رجلین دو ایسے آدمیوں کا یبنیان کہ تعمیر کر رہے ہیں وہ دونوں مسجداً ایک مسجد کی فی بلدتی میرے شہر میں۔ تو میں نے دو ایسے آدمیوں کا اکرام کیا جو میرے شہر میں مسجد تعمیر کر رہے ہیں، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی سمعتُ، یہ ہو گیا الیومَ سمعتُ، جی لکھیے بھئی۔ الیومَ سمعتُ صوتَک، صاد کے ساتھ، صوت آواز کو کہتے ہیں بھئی، صوتَک عن بعیدٍ، عن بعیدٍ بھئی۔ اچھا، لکھ لیا بھئی؟ الیومَ سمعتُ صوتَک عن بعیدٍ، جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی آپ کیجیے۔ الیومُ مرفوع لفظاً مبتدا، بھئی آنکھیں بند نہیں رکھنی کچھ غور بھی کرنا ہے۔ الیوم کیا ہے؟ کون سا لفظ ہے بھئی؟ ظرف ہے، اس نے کیا بننا ہے جملے میں؟ مفعول فیہ بنا کرتا ہے یوم وغیرہ کہ جن میں جن، اچھا ہاں ایک بات رہ گئی تھی پچھلے جملے میں بھئی۔ بھئی انہوں نے کہا تھا پچھلے جملے میں کہ یہ مسجداً کیا ہے؟ جگہ کے معنیٰ ادا کر رہا ہے لہٰذا اس کو کیا بننا چاہیے؟ مفعول فیہ بننا چاہیے۔ بھئی مفعول فیہ وہ ہوتا ہے جس میں جس جگہ میں وہ فعل سرانجام دیا جائے، جس جگہ میں۔ میں کہتا ہوں ضربت زیداً، کیا کہیں؟ ضربت زیداً، جس جگہ میں یا جس مکان جس وقت کے اندر وہ فعل سرانجام دیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ مفعول فیہ۔ میں کہتا ہوں ضربت زیداً الیومَ، میں نے زید کی پٹائی کی آج کے دن، بتائیے یہ ضرب کس زمانے کے اندر واقع ہوئی ہے؟ آج کے دن میں واقع ہوئی ہے، تو یہ دن جو ہے آج والا یہ ضرب کے لیے ظرف ہے، کیا ہے؟ اس کے اندر ضرب واقع ہوئی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کیا ہوا؟ مفعول فیہ۔ اور اسی طرح مکان کا کر لو بھئی۔ مکان کے اندر تو فی لانا پڑتا ہے، مکان کے اندر وہ پھر ذرا مشکل ہو جائے گی بھئی بات، طلبہ کے لیے وہ بات۔ اچھا مکان کے اندر بھئی، مکان میں عموماً فی لے کر آتے ہیں بھئی سمجھ میں آیا؟ جو محدود ہو، محدود ہو، اور غیر محدود کے اندر فی نہیں لاتے بھئی۔ چلیے اب وہ خلف والی مثال بنا لیتے ہیں یا امام کا۔ ضربت زیداً امامَک، میں نے زید کی پٹائی کی آپ کے سامنے، آپ کے سامنے، آپ کے سامنے۔ معلوم ہوا زید کی پٹائی کس جگہ میں ہوئی ہے؟ جہاں آپ کھڑے تھے آپ کے سامنے والی جگہ میں، تو معلوم ہوا وہ ظرف ہے وہ مکان بھئی جو آپ کے سامنے والی جگہ ہے ساری بھئی اس کے اندر اندر کیا ہوا ہے؟ یہ ضرب والا فعل واقع ہوا ہے۔ جبکہ یہاں پر ہے تعمیر کر رہے ہیں مسجد کو بھئی، کیا کر رہے ہیں؟ مسجد میں تعمیر نہیں ہو رہی بلکہ مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے بھئی، تو تعمیر کا کام کیا مسجد کے اندر ہو رہا ہے یا مسجد ہی کو تعمیر کیا جا رہا ہے؟ مسجد ہی کو کیا کیا جا رہا ہے؟ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ہاں وہ جو بلدتِی تھا وہ ظرف ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ وہ مسجد کس جگہ میں ہے، کہاں بن رہی ہے؟ شہر کے اندر، تو تعمیر کا کام بھی کہاں پر ہوا؟ شہر کے اندر، تو وہ مفعول فیہ ہوا لیکن مسجد تو مفعول بہ ہے، یہ تعمیر کا فعل کس پر واقع ہو رہا ہے؟ مسجد پر واقع ہو رہا ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھا بھئی جی کیجیے وہ جملہ: الیومَ سمعتُ صوتَک عن بعیدٍ۔ الیومَ منصوب لفظاً مفعول فیہ ہوا، مفعول فیہ۔ سمعتُ فعل کے لیے، جی۔ سمعتُ فعل بافاعل، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ تُو ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ آگے۔ صوتَک شاباش، اعراب؟ صوتَ منصوب لفظاً مفعول بہ بھئی شاباش، آگے۔ کیجیے آگے۔ ہاں صوتَک منصوب لفظ، صوتَ منصوب لفظاً کیونکہ جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آئے اس کو کیا بنانا ہے؟ مضاف۔ اچھا کاف ضمیر؟ مجرور محلاً کیا بنے گی؟ جی؟ مضاف الیہ، مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کیا بنیں گے؟ مفعول بہ ہوئے بھئی شاباش۔ آگے۔ عن جارہ۔ بعیدٍ مجرور لفظاً۔ بھئی دیکھو بعید کون سا صیغہ ہے؟ بعید، شریف یہ صفت مشبہ ہے اور صفت مشبہ جب بھی آ جائے کیا کرنا ہے؟ اس کا فاعل تلاش کرنا ہے بھئی۔ بعید صفت، مجرور لفظاً صفت مشبہ۔ اب نکالو بھئی کیا کریں گے بھئی اس کے فاعل کدھر گیا؟ اسی کے اندر کیا ہے؟ کیونکہ اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل وغیرہ میں ہمیں اکثر کیا ہوا کرتی ہے؟ ضمیر ہوتی ہے آگے فاعل ظاہر کم ہی آتا ہے، تو اسی کے اندر اس کی ضمیر ہے فاعل کی بھئی، وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ بھئی موصوف محذوف ہے عن بعیدٍ ای عن مکانٍ بعیدٍ بھئی، مکانٍ بعیدٍ، سمجھ میں آیا؟ تو بعید صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ مکان کے لیے، اور موصوف صفت مل کر کیا ہوئے؟ مجرور ہو گئے، تو موصوف کو یہاں حذف کر لیا گیا، اصل میں کیا ہے عن مکانٍ بعیدٍ، جی۔ پھر جار مجرور مل کر، جی؟ کس سے جڑیں گے؟ کتنی چیزوں سے جڑا کرتا ہے جار مجرور؟ آٹھ، پھر سوچنے کی کیا بات ہے، یاد ہیں وہ آٹھ چیزیں؟ ہاں پھر جوڑو۔ صوت کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ آواز، تو آواز ہے بھئی تو یہ تو اسم ہے بھئی، یہ نہ فعل ہے، نہ مصدر ہے، نہ اسم فاعل ہے، نہ اسم مفعول ہے، نہ صفت مشبہ ہے، نہ اسم تفضیل ہے، نہ مبالغے کا صیغہ ہے، نہ اسم فعل ہے، پھر آپ اس سے کیسے جوڑ رہے ہیں؟ کس سے جڑے گا بھئی؟ ہاں بھئی کس سے جڑے گا؟ ٹھہرو بھئی، ہاں۔ شاباش، اتنا بھئی سب سے پہلے نمبر پر فعل ہے، فعل آپ کے سامنے پڑا ہوا ہے، ابھی آپ نے مجھے خود بتایا ہے سمعتُ فعل بافاعل ہے، تو سوچتے کیوں ہو؟ جب ایک چیز موجود ہے فوراً اس سے آنکھیں بند کر کے جوڑو اور ترجمہ کرو۔ باقی لفظوں کو بعد میں توجہ دو، جو پتہ ہے اس کے ساتھ تو جوڑ کر دیکھو۔ ہاں تو یہ متعلق ہوا کس سے جار مجرور؟ سمعتُ سے متعلق ہوا بھئی، جی، جڑتا ہے یا نہیں جڑتا؟ کیسے جڑتا ہے؟ جوڑ کر دکھاؤ۔ شاباش، سمعتُ عن بعیدٍ، ترجمہ کیجیے۔ میں نے سنا دور سے، جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا بھئی؟ جڑ رہا ہے بھئی، دیکھا، شاباش جی۔ اب سمیٹ دیجیے ساروں کو۔ متعلق ہوئے، جار مجرور کس سے متعلق ہوئے؟ سمعتُ فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، بھئی باقیوں کا کیا قصور ہے کیوں چھوڑ دیا ان کو؟ مفعول فیہ بھی آپ نے ہمیں بتایا تھا، فعل کا ایک متعلق بھی ہمیں بتایا ہے، جو اس کے ساتھ جوڑ رہے ہو ان ساروں کو ذکر کرو۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول فیہ مقدم جو الیوم تھا وہ اور، اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، شاباش۔ اب اس کو ذرا روانی سے پڑھو۔ شاباش، الیومَ سمعتُ صوتَک عن، کیا پڑھا؟ الیومَ سمعتُ صوتَک، آگے کیا پڑھیں گے؟ عَمْبعیدٍ، یہ نون کس سے بدل جائے گا؟ میم سے بدل جائے گا۔ قرآن میں پڑھتے ہیں یا نہیں جگہ جگہ با سے پہلے نون ساکن آ جائے اس کو کیا پڑھ دیتے ہیں؟ وہ میم سے بدل جاتا ہے: سمعتُ صوتَک عَمْبعیدٍ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ قرآن میں بھی اسی طرح یہ سارے قوانین لگے ہیں وہ سارے لفظ ایک دوسرے سے جڑے ہیں پھر اعراب اس کے مطابق لگا دیے گئے، عرب کو تو اعراب کی ضرورت نہیں تھی بھئی یہ جو اوپر لگے ہوتے ہیں۔ اچھا بھئی، بھئی یہ کہہ رہے ہیں جملہ فعلیہ وہ ہوتا ہے جس کا پہلا جز فعل ہو، یہاں تو پہلا جز کیا ہے؟ اسم ہے، بھئی یہ پہلا جز نہیں ہے یہ مقدم ہو گیا ہے، ورنہ اس کا مقام تو کیا ہے؟ مؤخر ہے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ظرف ہے، ظرف مقدم بھی ہو جایا کرتا ہے اس کے اندر، اسی طرح مفعول بہ بھی کبھی مقدم ہو جائے گا فعل پر۔ بھئی میں کہتا ہوں ضربتُ زیداً، کبھی میں کہوں گا زیداً ضربتُ، زیداً ضربتُ، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی؟ کیا؟ ہاں، ہاں اکرمتُ رجلینِ یہ بھی ٹھیک ہے بھئی، اکرمتُ رجلینِ یبنیانِ، پھر وہ جملہ فعلیہ ہو جائے گا اور انا کو جب میں نے مقدم کر دیا تو یہ کیا بن گیا؟ جملہ اسمیہ، کیونکہ انا یہ ظرف وغیرہ یا مفعول بہ تو نہیں یہ تو مرفوع ہے، ضمیرِ مرفوع ہے اس کو تو مبتدا ہی بنانا پڑے گا، وہ جبکہ الیوم وہ تو زمانے والا معنیٰ ادا کر رہا ہے جس کے اندر سننے والا فعل ہوا ہے، سننے کا فعل کب ہوا ہے؟ الیوم، آج کے دن، تو وہ مفعول فیہ بنے گا۔ اچھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ الیومَ ویسے مقدم ہے بھئی کیونکہ یہ ظرف ہے اور ظرف کے لیے کیا چاہیے؟ عامل چاہیے، اور عامل اس کے اندر کون ہے؟ سمعتُ فعل عامل ہے، تو عامل پہلے آتا ہے یا معمول پہلے آتا ہے؟ پہلے عامل آنا چاہیے پھر کس کو آنا چاہیے؟ معمول کو، لیکن کبھی معمول بھی مقدم ہو جاتا ہے، لیکن رتبے کے اعتبار سے کون مقدم ہے؟ عامل مقدم ہے اور وہ ہے سمع اور وہ ہے فعل تو یہ جملہ کون سا ہوا؟ فعلیہ ہوا بھئی۔ تو الیومَ آج کے دن سنی میں نے صوتَک آپ کی آواز عن بعیدٍ دور سے۔ اچھا جلدی جلدی ترکیب کیجیے بھئی: ضرب زیدٌ، ضرب کیا بنے گا؟ لکھ بھی لیجیے بس، لکھ لیجیے بس باقی سنتے جائیے۔ اچھا ضرب زیدٌ، ضرب؟ فعل، زیدٌ؟ فاعل، اعراب؟ مرفوع لفظاً فاعل، جملہ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ۔ زیدٌ ضربَ، اب کیا کریں گے؟ زیدٌ؟ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضربَ؟ فعل، پھر؟ ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل جو کہ زید کو راجع ہے، یہی عائد ہے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ تو یہ زید کو پہلے تو فاعل تھا، اب مبتدا کیوں بنایا آپ نے؟ کیونکہ فاعل کبھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، مؤخر تھا فاعل بننے کا امکان تھا اور بنا بھی، ہم نے بنا دیا اور مقدم ہو گیا اب فاعل بن ہی نہیں سکتا۔ اچھا۔ زید ضربتَ، زید ضربتَ، یہ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے کیجیے۔ زیداً منصوب لفظاً مفعول بہ مقدم۔ ضربتَ فعل بافاعل۔ ضربتَ میں تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، جو راجع ہے زید کی طرف، میں تو سمجھا سمجھا کے تھک گیا، متکلم کی ضمیر کبھی نہیں لوٹانی بھئی، مخاطب کی ضمیر کبھی نہیں، لوٹے گی تو صرف کون سی ضمیر لوٹے گی؟ غائب کی ضمیر بھئی، ہاں اب زندگی بھر یہ انشاءاللہ نہیں بھولتے بھئی۔ اچھا بھئی تو تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ہاں فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اب زید مقدم تھا لیکن آپ نے جملہ اسمیہ نہیں بنایا بلکہ کیا بنایا اس کو؟ مفعول بہ، تو یہ اگرچہ لفظوں کے اعتبار سے تو مقدم ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مؤخر ہے کیونکہ پہلے عامل کو آنا چاہیے جو ضربتُ ہے پھر اس کے بعد کیا آنا چاہیے؟ معمول کو آنا چاہیے، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اگر آپ اس کو مبتدا بنائیں پھر نہیں بن سکتا، ذرا کوشش کرتے ہیں دیکھو۔ ہم دیکھا آپ نے کہ یہ شروع میں اسم آ رہا ہے مبتدا بنائیں، ضمیریں عائد وغیرہ ذہن میں رکھو سارے مسئلے حل ہوتے چلے جائیں گے۔ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضربتَ فعل بافاعل، فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے۔ بھئی جملے کو جب بھی مبتدا سے جوڑا جائے کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، عائد کی دو صورتیں پڑھ چکے آپ، ایک تو عائد یہ ہے کہ بعینہٖ کیا کیا جائے؟ اسی اسم کا اعادہ کر دیا جائے یا دوسری صورت کیا پڑھی؟ کوئی ضمیر اس کی جانب لوٹا دی جائے۔ اب ضربتَ کے اندر کوئی ضمیر ہے غائب کی جو لوٹا دیں؟ نہیں، بعینہٖ زید کا اعادہ ہوا؟ نہیں، معلوم ہوا اس کو خبر بنا ہی نہیں سکتے، عائد نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ ہاں ایک صورت ہے جو بڑا نحوی ہو گا وہ جوڑ دے گا اس کو بھئی۔ کیسے؟ وہ کہے گا عائد محذوف ہے بھئی، عائد کیا ہے؟ محذوف ہے، اصل میں ہے زیدٌ ضربتَہُ، زیدٌ ضربتَہُ، اب یہ ضربتَہُ ہا ضمیر بھئی تو ضربتُ فعل بافاعل، تُو ضمیر مرفوع محلاً فاعل اور آگے ہا ضمیر ساتھ جڑی ہوئی ہے وہ منصوب محلاً کون کیا ہے؟ مفعول، مفعول بہ اور یہ کس کی جانب لوٹ رہی ہے؟ زید کی جانب لوٹ رہی ہے اور یہ عائد ہے، اس نے کیا کیا؟ ربط دے دیا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو محذوف نکالنا پڑے گا، بغیر محذوف کے آپ زیدٌ کو مبتدا اور ضربتُ کو اس کی خبر نہیں بنا سکتے۔ زید تو ترجمہ یوں ہو گا: زیدٌ ضربتَہُ، زید کہ پٹائی کی ضربتُ کہا ہے یا تَ؟ چلو ضربتَ، زیدٌ ضربتَہُ، زید کہ پٹائی کی تم نے ہ اس زید کی، اس کی، زید کہ پٹائی کی تم نے اس کی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو عائد سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے، اگر آپ ویسے بنانا چاہیں پھر نہیں خبر بن سکتی۔ جی؟ زیداً ضربتَہُ، ہاں اتنی مشکل بات کی طرف نہ جاؤ وہ پہلے ہی پریشان ہو گئے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ما اَضمر عاملہ علی شریطة التفسیر وہ بھی آ جائے گا۔ اچھا بھئی، یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی سب کو؟ چلیے بس کرتے ہیں، بس وما علینا الا البلاغ، واللہ اعلم بالصواب۔ بھئی یہ آپ کے ایک ساتھی نے بھی رقعہ لکھا ہے کہہ رہے ہیں کہ میں بڑا سخت بیمار ہوں، دعا کریں، اے اللہ ان کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ ان کو مکمل شفا نصیب فرما۔ اے اللہ شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرما۔ اے اللہ اور بھی جتنے بیمار ہیں اللہ ان سب کو بھی شفا نصیب فرما۔ اے اللہ جتنے حاضرین ہیں اللہ سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ یہ تو چھوٹی سی ہماری جماعت ہے اے اللہ سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں، اے اللہ ہماری اس چھوٹی سی جماعت سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ جس کی تحصیلِ علم میں کوئی رکاوٹ ہے اے اللہ ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ جن کے گھروں میں کوئی پریشانی ہے اس پریشانی کو دور فرما۔ اے اللہ اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ ان کے ان پر گھروں پر اور ان پر اے اللہ سکینہ نازل فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور بھی کبار ساتھیوں نے آپ کے دعاؤں کے لیے کہا ہے، آپ کے ایک ساتھی بڑے پریشان تھے، دعا فرمائیں اللہ ان کی پریشانی اے اللہ ان کی پریشانی دور فرما۔ اے اللہ ان کی مشکل بھی حل فرما۔ اے اللہ اور بھی بہت سے احباب نے دعاؤں کا کہا ہے اللہ سب کی پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ آپ تو علیم الغیب ہیں سب کو جانتے ہیں، اے اللہ ان کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرِ خلقہٖ۔
49 approved lectures · 14 of 49