درس نمبر۔2
جی، تو مولانا کل آپ نے پڑھا کہ جملہ جو ہے چار قسم پر ہے بھئی: جملہ اسمیہ، جملہ فعلیہ، جملہ ظرفیہ، اور جملہ شرطیہ۔ اور مآل کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پھر دو ہی جملے بنتے ہیں؛ یا جملہ اسمیہ بنے گا یا جملہ فعلیہ بنے گا۔ تو جملہ اسمیہ کی ترکیب ہم نے شروع کی تھی اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جملہ اسمیہ جتنا بھی طویل ہو اس میں دو ہی جزء بنیں گے: ایک مبتدا اور دوسرا خبر بھئی۔ کتنا ہی لمبا جملہ ہو بھئی، وہ مل کر، جڑ کر، بالآخر دو جزء بن جائیں گے؛ پہلا مبتدا کہلاتا ہے اور دوسرا خبر۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مبتدا بھی مرفوعات میں سے ہے اور خبر بھی مرفوعات میں سے ہے، ان پر رفع آئے گا۔
اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ معرفہ کی اقسام جو ہے وہ آپ یاد کریں، مبنی کی جو اقسام ہیں وہ ان کے نام کم از کم ذہن میں ہونے چاہئیں۔ معرفہ کتنے ہیں بھئی؟ سات ہیں بھئی۔ کون کون سے؟ ضمیریں ہیں اور اسمائے اشارہ ہیں اور اسمائے موصولہ ہیں اور علم ہے، معرفہ بالنداء ہے، معرف باللام ہے، اور ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو بھئی، جو مضاف ہو۔ اور اسی طرح مبنیات بھی بھئی آپ کو یاد ہونے چاہئیں، کیونکہ آپ نے اعراب بتانا ہے، کتاب کی عبارت پڑھ رہے ہیں، آپ کو پتہ ہو کہ یہ مبنی ہے، اس کا اعراب کس قسم کا آئے گا بھئی۔ تو مبنیات کتنے تھے؟ آٹھ تھے بھئی، آٹھ مبنیات ہیں۔ یہ اسم معرفہ کی اقسام، مبنیات کون کون سے ہیں، اور وہ سولہ قسمیں، یہ تو آپ کو ہر وقت یاد ہونی چاہئیں بھئی، سولہ قسمیں۔
جی، تو میں نے پھر بتلایا تھا آپ کو کہ معرب جو ہے، اس کا اعراب جو ہے یا لفظاً آئے گا یا تقدیراً آئے گا۔ اور مبنی کا اعراب محلاً آئے گا۔ مثلاً ہم نے ترکیب کی تھی: ضَرَبَ زَیْدٌ، یا زَیْدٌ رَجُلٌ بھئی۔ تو زَیْدٌ دیکھو معرب ہے اور یہ مرفوع ہے اور مرفوع بھی کون سا؟ لفظاً ہے: زَیْدٌ، دیکھا؟ رفع پر میں تلفظ کر رہا ہوں۔ اسی طرح رَجُلٌ بھی مرفوع ہے اور مرفوع ہے لفظاً، کیونکہ رفع پر میں تلفظ کر رہا ہوں۔ جبکہ دوسری مثال مثلاً: جَاءَ مُوسٰی، تو یہ موسیٰ، لفظ موسیٰ مرفوع ہے لفظاً، مرفوع ہے محلاً ہوگا یا تقدیراً بھئی؟ تقدیراً۔ دیکھو، رفع کا اس پر تلفظ تو ہو نہیں رہا، تو اب رہ گئے تقدیراً یا محلاً۔ اب وہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے اگر آپ کو مبنی کا پتہ ہوگا، وہ سولہ قسمیں یاد ہوں گی، تو فوراً آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ اس کا اعراب تقدیراً ہے یا محلاً۔ اور سولہ قسموں میں سے ایک قسم آپ نے اسم منقوص پڑھا ہے بھئی، جس کے آخر میں کیا ہے؟ الف مقصورہ آئے، تو معلوم ہوا یہ معرب میں سے ہے تو یہ اس کا اعراب تقدیراً ہوا۔ جبکہ مبنی کا اعراب محلاً آئے گا، جیسے: جَاءَ ھٰؤُلَاءِ، تو ھٰؤُلَاءِ فاعل ہے جَاءَ کے لیے اور مرفوع ہے، محلاً مرفوع ہے جی۔
آج ایک اور ضابطہ لکھ لیں بھئی: معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو عموماً وہ موصوف صفت بنیں گے بھئی۔ معرفہ کے بعد معرفہ آ جائے تو وہ عموماً موصوف صفت بنیں گے۔ یا ایک معرفہ کے بعد دو معرفہ آ جائیں، یا تین آ جائیں، یا چار آ جائیں، یا پانچ آ جائیں، جتنے بھی آئیں گے، وہ سارے آپس میں کیا بنیں گے؟ پہلے کو موصوف بنا دیں گے اور آگے اس کی صفت مانتے جائیں گے۔ اسی طرح اگر دو نکرہ اکٹھے آ جائیں یا دو سے زیادہ ہوں، تو پھر اس صورت میں بھی پہلے کو کیا بنائیں گے؟ موصوف بنائیں گے اور باقی جتنے نکرہ آگے آئیں گے، ان کو ان کی صفت بناتے جائیں گے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو کیا بنیں گے؟ پہلے کو موصوف اور باقیوں کو صفت۔ اور اگر نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو پہلے کو موصوف، باقیوں کو صفت۔ لیکن نکرہ کے اندر ایک شرط یاد رکھنا کہ اس، ان نکرہ کے بعد کوئی معرفہ نہ آ رہا ہو۔ اگر نکرہ کے بعد معرفہ آگے آ رہا ہو، چاہے دو کے بعد ہو، تین کے بعد ہو، یا چار کے بعد ہو، تو پھر اس صورت میں یہ سارے آپس میں مضاف، مضاف الیہ بن جائیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی ضابطہ؟ نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ موصوف صفت بنیں گے، لیکن کیا شرط ہے؟ آگے کوئی معرفہ، اگر آگے چاہے دو کے بعد معرفہ آئے، تین کے بعد آئے، یا چار کے بعد آئے، تو پھر کیا ترکیب آپ کریں گے؟ مضاف، مضاف الیہ والی ترکیب کریں گے بھئی۔
اچھا، اب کچھ جملوں کی ترکیب کر لیجیے: زید رجل عالم، زید رجل عالم۔ جی، کون کرے گا ترکیب؟ وہ طلباء کریں جن کو ترکیب بالکل نہیں آتی بھئی۔ چلیے جی، شاباش! شرم نہیں کرنی بھئی، ہمت کریں انشاء اللہ تعالیٰ اور مستقل مزاجی سے آئیں بھئی۔ یہ کم از کم تین ہفتے تو آپ دیکھیں انشاء اللہ تعالیٰ، جو جن کو بنیادی ترکیب آتی بھی ہے، ان کے لیے بھی آگے بڑے قیمتی قوانین آ جائیں گے انشاء اللہ۔ تین ہفتے میں بھی آپ نے تو جتنا بھی ماہر ہو، انشاء اللہ وہ یقیناً وہ بھی نفع سے محروم نہیں رہے گا بھئی، جی۔ جی، کیا لکھ، کیا لکھا آپ نے؟ جی، اعراب بتاؤ سب سے پہلے، اسم وغیرہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں، بس اعراب بتاؤ۔ زید مرفوع ہے لفظاً بھئی، لفظاً کیسے مرفوع ہے بھئی؟ ہاں، یہاں زَیْدٌ دیکھا؟ رفع پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ، تو یہ مرفوع ہوا لفظاً، شاباش! آگے۔ تو اس کو کیا بنایا آپ نے؟ مبتدا کیوں بنایا؟ جملہ اسمیہ ہے پھر؟ آپ نے رجل کو کیوں نہیں مبتدا بنایا؟ آپ نے عالم کو کیوں نہیں مبتدا بنایا؟ شاباش، دیکھا؟ ضابطہ، کل والا ضابطہ بھئی، مبتدا ہمیشہ کیا ہوگا؟ معرفہ ہوگا اور یہاں ہمارے پاس تین لفظ ہیں: ایک زید ہے، ایک رجل ہے، ایک عالم، اور ان میں سے معرفہ صرف کیا ہے؟ زید معرفہ ہے، باقی دونوں لفظ تو نکرہ ہیں۔ معلوم ہوا زید طے ہو گیا کہ یہ کیا بنے گا؟ مبتدا۔ تو زید مرفوع لفظاً مبتدا۔
جی، شاباش! کیسے پتہ چلا آپ کو موصوف ہے بھئی؟ ہاں دیکھا؟ آج کا قانون لگایا۔ اب دو نکرہ اکٹھے آ گئے اور ان سے آگے کوئی معرفہ نہیں آ رہا، اور جب دو یا تین یا چار معرفہ اکٹھے آئیں اور ان کے بعد کوئی، نکرہ اکٹھے آئیں اور ان کے بعد کوئی معرفہ نہ ہو تو وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت۔ تو یہاں رجل کو کیا بنائیں گے؟ موصوف بھئی، جی۔ رجل بھئی، اعراب بتائیے بھئی۔ مرفوع لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ ہاں، تلفظ کر رہے ہیں ہم اس پر۔ اچھا، اس پر رفع کیوں پڑھ رہے ہو؟ اس کو مجرور کیوں نہیں پڑھتے آپ؟ کیونکہ پہلے مبتدا گزر گیا، اب مبتدا کے لیے ہمیں کیا چاہیے؟ خبر چاہیے، اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہوتی ہے، جی۔ بس اعراب بتاؤ، عَالِمٌ مرفوع لفظاً۔ تو یہ عَالِمٌ پر آپ نے رفع کیوں پڑھا بھئی؟ شاباش! کیونکہ یہ صفت ہے رَجُلٌ کے لیے اور صفت موصوف کا اعراب کیا ہوا کرتا ہے؟ ایک۔ تو موصوف مرفوع ہے، اس پر آپ رفع پڑھ رہے ہیں تو صفت پر بھی کیا پڑھیں گے؟ رفع پڑھیں گے، جی۔ جی، موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
جی، ترجمہ کیجیے، آپ نے دیکھیے عبارت حل کر لی اب اس کا ترجمہ بھی کر لیں۔ زید عالم آدمی ہے، شاباش، دیکھا؟ جی، روانی سے پڑھیں ذرا عبارت۔ زَیْدٌ رَجُلٌ عَالِمٌ، دیکھا؟ ہر ایک کا اعراب آپ کو پتہ چل گیا، کتاب میں بھی اسی طرح بھئی، ہر لفظ کا اعراب دیکھتے جائیں، اعراب کا پتہ چل گیا، اب اس کو تیزی سے پڑھ دیں: زَیْدٌ رَجُلٌ عَالِمٌ۔ تو زید عالم آدمی ہے، زید عالم آدمی ہے۔ یاد رکھو، عربی کے اندر صفت مؤخر ہوتی ہے اور اردو کے اندر صفت مقدم ہوتی ہے۔ تو وہی عالم جو صفت تھی، اس کو کیا کر دیں؟ مقدم کر دیں۔ زید عالم آدمی ہے۔
ایک اور طریقے سے بھی آپ ترجمہ کر سکتے ہیں بھئی۔ یاد رکھو، جب نکرہ کی صفت نکرہ آ رہی ہو تو ترجمہ کرتے ہوئے موصوف کو پہلے ہی رکھیں اور موصوف سے پہلے لفظ ایسا یا ایسی لے آئیں۔ جب کیا ہو؟ نکرہ کی صفت نکرہ آ رہی ہو، تو وہاں ترجمہ کرتے ہوئے کس طرح کریں گے؟ موصوف کو کئی، اردو میں ضابطہ تو یہ ہے کہ صفت کیا ہو جاتی ہے موصوف پر؟ مقدم ہو جاتی ہے، لیکن اگر آپ چاہیں آگے زیادہ صفات آ رہی ہیں یا کسی وجہ سے مقدم کرنا مشکل ہو جائے، تو پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ موصوف کو اردو میں بھی مقدم رکھیں لیکن اس سے پہلے کیا لفظ لے آئیں؟ ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں بھئی، اور صفت کو آگے لے آئیں۔ دیکھیے، اب یہ ترجمہ ہوگا: زَیْدٌ رَجُلٌ عَالِمٌ، زید، موصوف کون ہے بھئی؟ رجل، دیکھیے تو رجل آدمی، اس سے پہلے میں ایسا کا لفظ لاؤں گا: زید ایسا آدمی ہے جو عالم ہے۔ زید ایسا آدمی ہے جو عالم ہے۔ یہ ہے نکرہ کے اندر ترجمہ، اس طرح آپ نے کرنا ہے بھئی۔ معرفہ کے اندر جب آپ ترجمہ کریں تو پھر ایسا کا لفظ نہ لائیں بھئی، بلکہ پھر وہ کا لفظ لائیں، وہ۔ جیسے نکرہ میں موصوف سے پہلے آپ ایسا کا لفظ لاتے ہیں اور معرفہ کے اندر موصوف سے پہلے کیا لے آئیں؟ وہ کا لفظ لے آئیں بھئی، آگے مثالیں آ جائیں گی بھئی۔
جی، اگلی اگلا جملہ لکھیے بھئی: زید العالم کاتب، زید العالم کاتب۔ جی، کل کس نے ترکیب کی تھی اس طرف کو؟ چلیے۔ زَیْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ جی، العالم کیا ہے؟ موصوف، کاتب صفت۔ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ العالم موصوف ہے اور کاتب اس کی صفت ہے؟ جی، ہاں غور کرو بھئی، جو ذہن میں آتا ہے بولو بھئی، پریشان نہیں ہونا بس۔ العالم صفت ہے، کس کے لیے؟ کاتب کے لیے، بھئی عربی میں تو صفت مؤخر ہوتی ہے۔ ہاں بھئی، حل کرنا ہے آپ نے ہی بھئی، غور کریں، جلدی بتائیں۔ جی، دیکھو بھئی، میں نے کیا ضابطہ آج بتلایا ہے بھئی؟ پہلا ضابطہ، معرفہ کے بعد معرفہ آ جائے تو وہ کیا بنیں گے آپس میں؟ تو زَیْدٌ لفظ کیا ہے؟ آگے العالم کا لفظ بھی کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ دونوں آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت، جی، اب کرو بھئی۔ جی، سب سے پہلے اعراب بتاؤ۔
بھئی، جو چھینکیں وہ زور سے الحمد للہ کہا کرے بھئی، اور باقی سارے ساتھی پھر اس کا جواب دیا کریں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، یہ ایسی سنت ہے جو اب تقریباً علماء میں بھی متروک ہو چکی ہے بھئی۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ اس پر بڑا سخت ناراض ہوتے تھے، ان کے درس میں کوئی طالب علم چھینکتا اور الحمد للہ زور سے نہ کہتا، اس کو درس سے نکال دیتے تھے۔ تو الحمد للہ بلند آواز سے کہیں بھئی اور سارے ساتھی بھئی آپ کو جواب دیں گے، اور کتنی بڑی سعادت مل گئی اس ساتھی کو کہ اتنے بھئی دین کے طلباء تو سارے اولیاء اللہ ہیں بھئی، آپ سارے اولیاء اللہ ہیں۔ اگر دین کی طلب کرنے والے اولیاء اللہ نہیں تو پھر کون اولیاء اللہ ہیں؟ تو وہ جب چھینکے گا، سارے جواب دیں گے، تو دیکھو اتنے ولیوں کی دعا اس کو ایک وقت میں مل گئی، خاص طور پہ اسی کو ملی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کی کوشش کریں، یہاں پر بھی، پھر کمرے کے اندر بھی، اپنے ساتھیوں میں بھی بھئی، گھروں کے اندر بھی سنتوں کا احیاء کریں بھئی، جی۔
زید اعراب بتائیے، کیا بتایا؟ مرفوع پہلے کہیں، مرفوع، پھر کون سا مرفوع ہے؟ کیسے پتہ چلا؟ تلفظ ہو رہا ہے، زَیْدٌ مرفوع لفظاً، جی۔ ہاں، مبتدا بھی نہ بناؤ، موصوف، اعراب سب سے پہلے۔ اعراب، مرفوع کیوں ہے العالم؟ مرفوع کیوں ہے بھئی؟ مرفوع تو ہے لیکن کیوں مرفوع ہے؟ وجہ کیا ہے؟ آپ نے زید العالمِ کیوں نہیں کہا بھئی؟ نہیں، وہ تو مرفوع ہے، ٹھیک ہے، لیکن کیوں مرفوع ہے؟ اس کو آپ کیا بنا رہے ہیں؟ صفت بنا رہے ہیں اور موصوف صفت کا اعراب کیا ہوتا ہے؟ ایک ہوتا ہے۔ موصوف پر رفع آیا تو صفت پر بھی کیا آئے گا؟ رفع، ہاں بس فرق یہ ہے کہ موصوف پہ تنوین آ رہی ہے، صفت پہ چونکہ الف لام ہے وہاں تنوین آ نہیں سکتی۔ تو زَیْدٌ مرفوع لفظاً موصوف، اَلْعَالِمُ مرفوع لفظاً صفت، موصوف صفت مل کر اب مبتدا ہوئے، جی آگے۔ اعراب سب سے پہلے، اعراب اعراب، مرفوع لفظاً یوں کہیں، پہلے مرفوع کہیں، مرفوع لفظاً۔ بھئی، کاتب پر آپ نے رفع کیوں پڑھا؟ نصب یا جر کیوں نہیں پڑھا؟ شاباش! خبر بن رہی ہے، اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ مرفوع، تو کَاتِبٌ بھی مرفوع لفظاً خبر۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی، جی۔
اچھا، ترجمہ کیجیے اس کا، پہلے تو روانگی سے ذرا عبارت پڑھ لیجیے، آپ نے ہر لفظ کا اعراب بتا دیا بھئی، اب اس کو تیزی سے کیسے پڑھیں گے؟ کیسے پڑھیں گے؟ زَیْدٌ اَلْعَالِمُ کَاتِبٌ۔ دیکھو، یہ جو تنوین ہوتی ہے یہ نون ساکن ہے: زَیْدُنْ، نون پڑھا یا نہیں میں نے آخر میں؟ زَیْدُنْ، یہ نون ساکن ہے تو نون بھی ساکن، آگے العالم میں سے ہمزہ وصلی گر جائے گا، لام بھی ساکن، تو دو ساکن جمع ہو گئے: نون اور لام۔ اور ضابطہ کیا ہے؟ اَلسَّاکِنُ اِذَا حُرِّکَ حُرِّکَ بِالْکَسْرِ، اس کو کسرہ دیا جائے گا، تو اب اس کو کیسے پڑھیں گے؟ زَیْدٌ تھا، اب زَیْدُ نِ الْعَالِمُ، زَیْدُ نِ الْعَالِمُ کَاتِبٌ، جی شاباش۔ ترجمہ بھی کیجیے اس کا، عبارت آپ نے پڑھ لی۔
اردو میں کیا کرتے ہیں بھئی صفت کو؟ مقدم کر دیتے ہیں، تو مقدم کر دیں صفت کو موصوف پر۔ صفت کیا ہے؟ اس کو مقدم کریں موصوف پر۔ عالم زید کاتب ہے، عالم زید کیا ہے؟ کاتب ہے، یہ ترجمہ۔ یا دوسرا ترجمہ بھئی، میں نے کیا بتلایا تھا؟ نکرہ کے اندر ترجمہ کرتے ہوئے کیا لائیں گے موصوف سے پہلے؟ ایسا، اور معرفہ کے اندر؟ وہ۔ تو ترجمہ یوں ہوگا: وہ زید جو عالم ہے، وہ کاتب ہے، وہ زید جو عالم ہے، کاتب ہے، جی۔
آگے ترکیب: زید رجل عالم فاضل کاتب شاعر۔ جی، کل یہاں سامنے کسی نے ترکیب کی تھی، وہ کدھر ہے؟ اور جسے ترکیب بالکل نہیں آتی بھئی؟ چلیے شاباش، ہمت کرو بھئی شاباش۔ کاپی ہے آپ کے پاس؟ تو پھر کیسے بھئی؟ حافظے کی مدد سے سارے لفظ یاد ہیں؟ کاپی نہیں ہے، معلوم ہوا آپ کو نحو آتی ہے، جی۔ شاباش! آپ کو کیسے پتہ چلا بھئی یہ مبتدا بنے گا؟ یہاں تو ہمارے پاس چھ لفظ ہیں۔ شاباش! مبتدا معرفہ ہوتا ہے اور ہمارے پاس چھ لفظوں میں صرف ایک معرفہ موجود ہے تو معلوم ہوا یہ متعین ہے، کس کے لیے؟ مبتدا بننے کے لیے، جی۔ دوبارہ اعراب بتاؤ، زید۔ شاباش! زَیْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ جی، رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف، آپ کو کیسے علم ہوا یہ موصوف ہے بھئی؟ جی، نکرہ کے بعد دیکھیے چار پانچ نکرہ اکٹھے آ رہے ہیں، سارے آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ جی، تو پہلے کو موصوف بنایا: رَجُلٌ موصوف۔ جی، رَجُلٌ پر اعراب کیا بتلایا آپ نے؟ لفظاً کیوں ہے؟ مرفوع کیوں پڑھا؟ منصوب کیوں نہیں پڑھا آپ نے اس کو؟ یہ خبر بن رہی ہے اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ مرفوع، جی۔
شاباش! عَالِمٌ مرفوع لفظاً صفت، اس عَالِمٌ کیوں آپ نے مرفوع پڑھا؟ شاباش! یہ صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، جی آگے۔ ہاں، عَالِمٌ مرفوع لفظاً صفت اول ہوئی، فَاضِلٌ مرفوع لفظاً صفت ثانی، آگے۔ شاباش! کَاتِبٌ مرفوع لفظاً صفت ثالث، شَاعِرٌ؟ یہ صفت رابع ہوئی، جی۔ ہاں، موصوف اپنی چاروں صفات سے مل کر خبر، جی۔ تو دیکھا؟ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ، تو سارے دیکھیے موصوف صفت چار پانچ لفظ مل کر خبر بن گئے بھئی، دو ہی جزء بن گئے: ایک مبتدا، ایک خبر۔ اب اس کو ذرا روانگی سے پڑھیے بھئی۔ شاباش! زَیْدٌ رَجُلٌ عَالِمٌ فَاضِلٌ کَاتِبٌ شَاعِرٌ۔ ترجمہ کیجیے۔ ہاں، زید عالم فاضل کاتب شاعر آدمی ہے، یا دوسرے طریقے سے ترجمہ کر لیں بھئی، کیسے کریں گے؟ ہاں، زید ایسا آدمی ہے جو عالم فاضل کاتب اور شاعر ہے۔
آگے لکھیے: زید العالم رجل کریم۔ کون کرے گا ترکیب؟ ترکیب جسے نہ آتی ہو، بھئی بالکل نہ آتی ہو۔ چلیے۔ جی، زَیْدٌ مرفوع لفظاً موصوف، سب سے پہلے تو یہ بتائیے آپ نے مرفوع کیوں کہا اس کو؟ وہ تو لفظاً میں ایک جواب بنے گا۔ مرفوع کیوں پڑھا؟ منصوب یا مجرور کیوں نہیں پڑھا اس کو؟ آپ نے زیداً یا زیدٍ کیوں نہیں پڑھا؟ معرفہ جو بھی ہو وہ مرفوع ہوتا ہے؟ رفع کیوں پڑھا؟ یہ بتائیں آپ، آپ نے زیداً کیوں نہیں پڑھا؟ آپ نے زیدٍ کیوں نہیں پڑھا؟ ہاں، اس نے کیا بننا ہے؟ اس نے مبتدا بننا ہے بھئی، جملہ اسمیہ بن رہا ہے تو اس میں پہلا جزء مبتدا آ رہا ہے تو اور مبتدا کیا ہوا کرتا ہے؟ شاباش! دیکھا؟ سوچا، ذہن پہ زور ڈالا تو مسئلہ حل ہوا بھئی، جی۔ زَیْدٌ مرفوع، لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ رفع کا آپ تلفظ کر رہے ہیں، شاباش! آپ نے اس کو موصوف کیوں بنایا؟ جی، نہیں آپ نے کہا: زَیْدٌ مرفوع لفظاً موصوف، یہ موصوف کیوں کہا آپ نے؟ وجہ بتائیں۔ آپ جو بات کر رہے ہیں اس کی وجہ تو آپ کو پتہ ہونی چاہیے۔ کیوں کہا موصوف ہے؟ کیسے پتہ چلا آپ کو العالم اس کی صفت ہے؟ اعراب ایک ہے بھئی؟ اعراب تو آپ ہی پڑھ رہے ہیں یہ والا، ہو سکتا ہے کوئی اور اعراب پڑھ دے پھر۔ شاباش، سوچیں بھئی سوچیں! زَیْدٌ کو آپ نے موصوف بنایا، تو کیوں موصوف بنایا؟ کیا وجہ بھئی؟ آپ نے اس کو سیدھا ہی مبتدا کیوں نہیں بنا دیا؟
ہاں بھئی، اور کون ہے؟ جس کو بالکل ترکیب نہیں آتی وہ ہاتھ اٹھائے بھئی، جی۔ موصوف کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! دو معرفہ اکٹھے آ رہے ہیں بھئی، دو اکٹھے ائیں تو پہلے کو کیا بناتے ہیں؟ موصوف، دوسرے کو اس کی صفت۔ اس لیے آپ نے موصوف کا لفظ کہا، جی۔ زَیْدٌ مرفوع لفظاً موصوف، آگے چلیے۔ مرفوع لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ تلفظ رفع پر کر رہے ہیں اور جی، صفت بنایا آپ نے، ٹھیک ہے جی۔ اچھا، مرفوع کیوں پڑھا اس کو آپ نے؟ معرفہ ہو تو مرفوع تو نہیں ہوتا، منصوب مجرور بھی ہو سکتا ہے۔ زید پر آپ نے رفع پڑھا کیوں؟ کیونکہ وہ کیا بننا ہے اس نے؟ مبتدا بننا ہے، اور العالم پہ رفع کیوں پڑھا؟ نہیں بھئی، باقی خاموش رہیں۔ اس کو دماغ پر زور تو ڈالنے دیں، چلنے تو دیں اس کو۔ یہ العالم اس کی صفت ہے اور موصوف صفت کا اعراب کیا ہوا کرتا ہے؟ ایک، تو موصوف مرفوع تھا، صفت بھی کیا ہوگی؟ مرفوع، تو موصوف صفت، جی آگے چلیے۔ موصوف صفت مل کر مبتدا بن گئے، شاباش۔
رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف، بس سب سے پہلے یہ بتائیں آپ نے اس کو مرفوع کیوں پڑھا؟ جی، موصوف ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے بھئی؟ ہاں، خبر بنے گی اور خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ مرفوع، تو رجل معلوم ہوا مرفوع آئے گا، اور پھر مرفوع کون سا ہے؟ لفظاً ہے، تقدیراً ہے؟ لفظاً ہے، کیوں لفظاً ہے؟ اس پہ تلفظ کر رہے ہیں آپ، شاباش! جی، اور موصوف کیوں بنایا آپ نے اس کو؟ رجل، معرفہ بھئی، معرفہ تو فوراً پہچانا جاتا ہے، یہ خود آپ دیکھ لیں: یہ ضمیر ہے؟ ضمیر بھی نہیں، علم، کسی کا نام بھی نہیں، اسم اشارہ بھی نہیں ہے، اسم موصول بھی نہیں ہے، اس پر حرف ندا بھی نہیں داخل، اور یہ کسی کی طرف مضاف بھی نہیں ہو رہا، جی؟ نکرہ ہے، پھر؟ جی، بتلایا ہے انہوں نے، کیا بتلایا ہے؟ ہاں، دو نکرہ اکٹھے آ گئے بھئی، اور میں نے ضابطہ کیا لکھوایا ہے؟ دو تین چار جتنے نکرہ اکٹھے آ جائیں، اگر ان سے آگے معرفہ نہ ہو تو وہ کیا بنیں گے؟ دو نکرہ اکٹھے آ گئے، آگے کوئی معرفہ نہیں، تو یہ آپس میں موصوف صفت بنیں گے، شاباش، جی۔
ہاں، اس کو مرفوع کیوں پڑھا آپ نے؟ صفت ہے تو کیا ہوا؟ شاباش! موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو کَرِیْمٌ مرفوع لفظاً صفت، موصوف صفت مل کر خبر مبتدا کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اب اس کو ذرا روانگی سے عبارت، ایک ایک لفظ کا آپ نے اعراب حل کر لیا بھئی، اب اس کو پڑھیے روانگی سے۔ شاباش! زَیْدُ نِ الْعَالِمُ رَجُلٌ کَرِیْمٌ، ترجمہ کیجیے۔ صفت کو پہلے کر دیں: عالم زید، شاباش! آگے: رجل کریم، ہاں، عالم زید سخی آدمی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ معزز آدمی ہے، ٹھیک ہے۔
غلامی رجل فاضل، غلامی رجل فاضل۔ اچھا، کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی۔ ترکیب آتی ہے یا نہیں آتی کچھ؟ چلو کرو، پھر بھی کرو، ٹھیک ہے۔ اعراب بتاؤ بھئی، ہمیں تو اعراب سے غرض ہے۔ ہمیں تو اعراب سے غرض ہے بھئی، جی۔ پھر اعراب ہضم کر گئے، دیکھا بھئی؟ ہمیں تو اعراب چاہیے بھئی۔ غلامی کے ساتھ یا لکھی ہے یا نہیں لکھی؟ یا الگ کلمہ ہے یا نہیں؟ الگ کلمہ ہے، معلوم ہوا غلام کا الگ اعراب ہوگا، یا کا الگ اعراب ہوگا، جی۔ پھنس گئے نا، دیکھا؟ کرو حل شاباش، کوئی بات نہیں۔ اعراب کدھر گیا؟ اعراب نہیں بتانا، مرفوع ہے، مجرور ہے، منصوب ہے، کیا ہے؟ غلام، غلامی میں کہہ رہا ہوں، آپ کہہ رہے ہیں مرفوع ہے۔ مرفوع کہاں سے ہو گیا؟ یہ تو مجرور ہے بھئی، اتنا واضح ہے۔ جی، بتاؤ، حل کرو، دماغ پر زور ڈالو۔
محنت کرو، شاباش بھئی، دیکھا؟ محنت کرے تو یہ علم انسان کو اتنا اوپر لے جاتا ہے، اتنا اوپر لے جاتا ہے بھئی، علم آتا ذلت کے ساتھ ہے لیکن حاصل ہونے کے بعد پھر ذلت نہیں ہے بھئی، پھر بلندیاں ہی ہیں، عروج ہی ہے۔ اور اصل تو پھر اللہ آخرت میں دکھلائیں گے بھئی، جب بڑے بڑے تخت آپ لوگوں کے لیے رکھے جائیں گے انشاء اللہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑے بڑے تخت اولیاء، علماء کے لیے رکھے جائیں گے۔ کل بھی میں نے سنایا بھئی، عجیب ہمارے سلف، اکابر انہوں نے محنتیں کیں بھئی، جس نے بھی محنت کی، یہ نہ سوچیں کہ میرا حافظہ کمزور ہے، مجھے سبق زیادہ سمجھ میں نہیں آتا۔ بھئی، جس کا حافظہ قوی ہے، اس پر محنت اتنی زیادہ ضروری ہے بھئی، اس کو اللہ نے صلاحیت دی ہے اس کو اتنی ہی زیادہ محنت کرنی چاہیے۔ یہ مطلب نہیں اس کو ایک دفعہ پڑھنے سے سبق یاد ہو جاتا ہے تو وہ ایک دفعہ پڑھے اور چھوڑ دے، نہیں بھئی، اس کے لیے اب ضروری ہے اس کو خوب پکا کرے، خوب دہرائے کہ اس کو بھولے نہ پھر وہ۔ اور جس کا حافظہ کمزور ہے، صلاحیت کم ہے، اس کے لیے اپنی صلاحیت کے بقدر کوشش کرنا ہر ایک پر ہے، چاہے صلاحیت تھوڑی ہے یا زیادہ بھئی۔ محنت کرے، کوشش کرے، لگا رہے، لگا رہے۔ تو اجر اس کو بھی اسی طرح ملے گا بھئی، کہ اس کو تو صلاحیت ہی اللہ نے اتنی دی ہے، محنت تو وہ اتنی کر رہا ہے، بلکہ صلاحیت والے سے بڑھ کے محنت کر رہا ہے، صلاحیت والے سے بڑھ کر محنت کر رہا ہے۔
دیکھو، یہ علم ہی تھا جس نے حضرت شیخ رحمہ اللہ کو اتنی بلندی پہ پہنچا دیا۔ کون ان کو جانتا تھا بھئی؟ کہاں سے دیکھو اٹھے، کتنے کسی پسماندہ علاقے سے، لیکن محنتیں کیں۔ اتنی محنت کرتے تھے، ان کے طلباء جو ساتھی تھے ان کے ساتھ ہمدرس ساتھی، علماء وہ بتلاتے ہیں کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ جب سبق ختم ہوتے، جنگل میں دور نکل جاتے، ایک جگہ مختص کی ہوئی تھی اور وہاں پر سارا دن بیٹھ کر سبق یاد کرتے رہتے تھے۔ اور اگلے دن جب آتے تھے تو متن اور حاشیہ سارا ان کو زبانی یاد ہوتا تھا، سبحان اللہ! محنتیں کیں بھئی، شب و روز لگائے انہوں نے، ویسے ہی علم اس طرح نہیں آ جاتا بھئی۔ ٹھیک ہے، اللہ نے صلاحیت دی تھی لیکن اس کو پھر استعمال بھی کیا۔ دن رات لگے رہتے تھے، وہ ساتھی بتلاتے ہیں کہ مجذوبانہ حالت ہوتی، نہ ان کو کپڑوں کا دھیان، نہ کسی اور چیز کا، لیکن جب علمی بحث ہوا کرتی تھی تو ایسے پرجوش انداز میں، ایسے بولتے تھے، پتہ چلتا تھا بھئی۔ اور اتنی محنت کی، زمانہ طالب علمی کے اندر وہ جب پڑھا کرتے تھے اپنے مدرسے کے اندر طلباء کی جو انجمن ہوتی، ابھی رابعہ، خامسہ کے طالب علم تھے، اس کے اندر وہ عربی کے اندر فی البدیہہ تقریر کیا کرتے تھے، سبحان اللہ! بلکہ مدرسے کے اندر جب کہیں دور سے دارالعلوم دیوبند وغیرہ سے بڑے اکابرین تشریف لاتے تھے تو پھر بھی طلباء کی طرف سے یہ عربی کے اندر خطاب کیا کرتے تھے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ علم ہو اور اس کے ساتھ پھر عمل ہو، اللہ ہم سب کو نافع علم نصیب فرمائے بھئی، کہ ہم اس پر عمل بھی کریں بھئی۔ بغیر عمل کے علم انسان کے لیے آخرت میں وبال بنے گا بھئی، کہ تمہیں تو علم تھا، سارا کچھ پتہ تھا، پھر تم نے عمل کیوں نہیں کیا؟ عمل ہی ہمارے اکابرین ایک ایک دیکھیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت پر عمل کرتے تھے۔ صحابہ نے کس طرح محنت سے ہمیں سنتیں پہنچائیں بھئی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، جب خلیفہ بنے، ایک دن وضو فرمایا، بوڑھی بوڑھے ہیں بھئی، عمر تقریباً اسی کے لگ بھگ ہے، وضو فرمایا، کھڑے ہوئے اور ہلکا سا مسکرائے۔ صحابہ پاس کھڑے تھے، اب یہ معمولی سی بات تھی لیکن صحابہ حیران ہوئے کہ حضرت، آج تو آپ نے ایسا کام کیا جو اس سے پہلے کبھی اس طرح ہم نے آپ کو نہیں دیکھا، آپ نے وضو کیا اور پھر وضو کے بعد جب کھڑے ہوئے تو تھوڑا سا مسکرائے؟ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عجیب جواب دیا، فرمایا: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح مسکرائے تھے، میں نے سوچا آج حضور کی اس سنت پہ بھی عمل کر لوں، سبحان اللہ! کس طرح صحابہ نے ایک ایک سنت ہم تک پہنچا دی بھئی۔
حضرت شیخ رحمہ اللہ بھئی، ہر کام میں سنت پر عمل کرتے تھے، ہر ہر کام کے اندر سنت پر عمل ہوتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے اتنی محبت تھی، اتنی محبت! طلباء کی مجلس ہوا کرتی تھی تو طلباء پھر وہاں نعت وغیرہ کسی کو آتی، پوچھتے بھئی کسی کو نعت آتی ہے تو نعت سنائے۔ تو طلباء نعت سنا رہے ہوتے اور حضرت کے آنسو بہہ رہے ہوتے تھے۔ کوئی اچھا شعر آتا تو اس سے کہتے: پھر پڑھو بھئی اس شعر کو، پھر پڑھو اس شعر کو، پھر پڑھو اس شعر کو، آٹھ آٹھ، دس دس، پندرہ پندرہ، بیس بیس مرتبہ ایک شعر پڑھواتے تھے، بار بار سنتے تھے اور بعض اوقات ہچکیاں بندھ جاتی روتے روتے۔ عجیب محبت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم، ہم تو پڑھتے ہیں بھئی، حدیثیں آئیں، حدیث کے اندر یہ یہ مسئلے، یہ گزر گئے، وہ ہر ہر حدیث کو جب پڑھتے تھے، اس کو اپنے عمل کے اندر لے آتے تھے بھئی، اس پر عمل کیا کرتے تھے۔
چنانچہ وہ عجیب واقعہ، میں آج بھی حیران ہوتا ہوں، عجیب عجیب واقعات، اکثر ان کے واقعات بھئی انہوں نے اپنے آپ کو ایسا چھپا کر رکھا، کسی پہ ظاہر نہیں ہونے دیا۔ کوئی بھئی اپنی بڑائی والی بات تو کبھی ظاہر ہی نہیں کرنے دی، وفات کے بعد اب ہر آئے دن کوئی نہ کوئی ان، آتا ہے، ان کا جاننے والا، ملنے والا، شاگرد، کبھی کوئی عجیب واقعہ سناتا ہے، کوئی اور عجیب واقعہ سناتا ہے۔ ابھی اسی رمضان کے اندر ایک شخص آئے تھے، عالم آئے تھے، انہوں نے مجھے عجیب واقعہ سنایا بھئی۔ فرمایا: ایک مرتبہ حضرت شیخ رحمہ اللہ بیت اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں مسجد الحرام کے اندر، اور علماء بھی ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، باتیں ہو رہی ہیں۔ علماء سوالات وغیرہ کر رہے ہیں، حضرت ان کے جوابات دے رہے ہیں۔ ایک عالم نے سوال کیا کہ حضرت، یہ جو ہم نے سنا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہم ذکر کرتے کرتے ہم عرش پہ چلے گئے، ہم نے عرش کا مشاہدہ کیا، ذکر کرتے کرتے یہاں بیٹھے لاہور میں ہیں، کہتے ہیں بھئی ہم تو مکہ مکرمہ پہنچے ہوئے تھے اتنے میں، وہاں کا مشاہدہ اللہ کروا دیتے ہیں، تو کیا حضرت اس طرح ہوتا ہے؟ قاری صاحب نے عجیب جواب دیا، فرمایا: ہاں بھئی، یہ صحیح ہے، اس طرح ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات جو تھی، زیور کی طرح صندوق میں چھپا کر رکھنے والی تھی، لیکن اس کو افسوس سستی سی چیز کی طرح ریڑھی پر رکھ کر سامنے رکھ دیا گیا لوگوں کے، اللہ! یعنی یہ کیفیت جس پر آتی ہے اس کو چاہیے تھا اس کو چھپا کر رکھے، بھئی لوگوں پر بیان کرنے کی کیا حاجت ہے بھئی؟ واقعی اس طرح کی کیفیات آتی ہیں بھئی، اللہ تعالیٰ مشاہدہ کروا دیتے ہیں، لیکن وہ عالم مثال وغیرہ میں۔
تو وہ عالم حیران ہوئے، کہتے ہیں: حضرت، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہاں بیٹھا ہوا ہے، ذکر کر رہا ہے اور عرش، بزرگوں نے لکھا ہے بھئی، عرش کا مشاہدہ کر لیا، لوح محفوظ کا مشاہدہ کر لیا، جنت، جہنم کا مشاہدہ کر لیا۔ تو فرمایا کہ تم یہاں بیٹھے ہوئے ہو اور یہ حرم کے جو پہاڑ ہیں، پتھر ہیں، یہ سارے ذکر اللہ میں مصروف ہیں، کیا تم ان کے ذکر کو سن رہے ہو؟ عالم نے جواب دیا: نہیں، میں تو نہیں سن رہا۔ فرمایا: اگر تم ان کے ذکر کو سن لو تو تمہارا دل پھٹ جائے گا، اور میں اس وقت ان کے ذکر کو سن رہا ہوں۔ اللہ اکبر!
اور پھر وہ ایک واقعہ، دوسرا عجیب خواب والا بھئی، وہ تو کتابوں میں بھی شروع میں درج کیا میں نے۔ مدینہ منورہ کا ایک شخص تھا، والد صاحب ایک مرتبہ، ہم سب ساتھ تھے، مدینہ منورہ پہنچے، وہاں تبلیغ جماعت کے امیر مولانا سید احمد خان صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ، انہوں نے والد صاحب کی دعوت کی۔ والد صاحب سے بہت زیادہ ان کا قلبی تعلق تھا بھئی، تو جب بھی والد صاحب جاتے، ہمیشہ ان کی دعوت کرتے، تو دعوت کی، والد صاحب چلے گئے وہاں، بھئی بھی ساتھ تھے۔ تو وہاں بیٹھے ہوئے باتیں ہو رہی ہیں، مولانا سید احمد خان صاحب رحمہ اللہ بڑے سخی شخص تھے بھئی، بہت بڑے ولی اللہ، اور اتنے سخی کہ ہر وقت ان کے دسترخوان پہ ہجوم ہوا کرتا تھا، بڑے لوگ آتے تھے۔ تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک شخص آیا، اس نے والد صاحب کو دیکھا تو پاس آ کر ادب سے سلام کیا اور بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ حضرت، میں معافی مانگنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، مجھے معاف فرما دیجیے۔ والد صاحب نے فرمایا: بھئی، میں تو تمہیں جانتا ہی نہیں، دیکھا ہی نہیں، معافی کس، کس بات کی معافی؟ کہا: نہیں بس حضرت، آپ مجھے معاف فرما دیں، کہا: بھئی، کس بات کی معافی؟ مجھے پتہ ہی نہیں ہے، میں نے آپ کو دیکھا ہی نہیں۔ کہا: حضرت، آپ معاف فرما دیں، پھر میں آپ کو پوری بات بتلاؤں گا۔ والد صاحب نے فرمایا: اچھا بھئی، میں نے آپ کو معاف کیا، بتلاؤ۔
کہا: میں مدینہ منورہ ہی کا رہائشی ہوں، یہیں پر رہتا ہوں بڑے عرصے سے، اور میں اپنے ساتھیوں سے آپ کا تذکرہ سنتا رہتا تھا اور آپ کے علم کی باتیں اور آپ کے جلال وغیرہ کی باتیں اکثر میں سنتا رہتا تھا، تو مجھے بڑا شوق تھا آپ سے ملنے کا، ساتھ، لیکن آپ چند دن کے لیے ہر سال آتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا تھا، تو میں نے ساتھیوں سے کہا کہ جب وہ آئیں تو مجھے ضرور بتانا۔ ہر ساتھی کو میں نے اپنے کہہ رکھا تھا کہ جب بھی وہ آئیں مجھے ضرور بتانا، میں ان کی زیارت کر لوں، ان سے ملاقات کر لوں۔ تو دو تین دن قبل آپ مسجد نبوی کے اندر نوافل کے اندر مشغول تھے، میرے ایک ساتھی نے آپ کو دیکھا، میں بھی کہیں وہیں پر تھا، اس نے مجھے بتلایا کہ بھئی یہ ہیں مولانا موسیٰ صاحب جن کا آپ پوچھتے رہے ہیں۔ تو حضرت شیخ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جتنا جلال دیا تھا بھئی، پتہ نہیں آپ حضرات نے زیارت کی یا نہیں، کوئی میرا خیال کوئی بھی نہیں جس نے زیارت کی آپ میں سے بھئی۔ ہاں، دو، یہ دو تین ہیں جنہوں نے زیارت کی بھئی۔ اللہ نے جمال بھئی، جتنا جلال تھا اللہ نے جمال بھی اتنا دیا تھا بھئی۔ اتنا حسین و جمیل شخص، عجیب، انسان حیران ہوتا تھا بھئی۔ اور اور پھر وہ سفید پگڑی باندھتے، اس کے اوپر سفید رومال ہوتا، کپڑے بھی بھئی سفید رنگ کے اور قمیص کافی لمبی ہوتی تھی، نصف پنڈلی تک تقریباً قمیص ہوتی تھی اور جبہ نما، تو وہ لباس ان کے ساتھ بڑا ہی جچتا تھا، بہت زیادہ بھئی۔ دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے بھئی، وہ بیان نہیں ہو سکتا۔
تو اس لباس کے اندر وہ بڑے بڑا ہی جیسے کوئی بڑا شاہانہ لباس ان کے ساتھ معلوم ہوتا، حالانکہ عام سفید کپڑے ہوتے، بس سفید پگڑی ہوتی، سفید رومال۔ تو کہتے ہیں وہ شخص کہتا ہے، بتلا رہا تھا کہ اس میرے ساتھی نے میری، مجھے بتلایا بھئی یہ ہیں وہ مولانا صاحب۔ تو میرے، حضرت میرے دل میں آپ کی باتیں سن سن کے یہ گمان بنا ہوا تھا کہ حضرت کے جو حضرت ہوں گے، انہیں دنیا کا کچھ پتہ نہیں ہوگا، بوسیدہ سے کپڑے ہوں گے، پرانی سی چادر وغیرہ ہوگی، بالکل دنیا سے بے رغبت ہوں گے، لیکن جب میں نے دیکھا تو مجھے اچھا نہیں لگا یہ اتنا بھئی لباس، ایسا لباس پہنا ہوا ہے بھئی۔ تو میرے دل میں ناگواری آئی اور میں آپ سے ملے بغیر ہی چلا گیا۔ میں نے کہا بھئی یہ تو کسی ولی کا اس طرح لباس نہیں ہو سکتا، حالانکہ وہ عام صاف سفید لباس لیکن ان پہ جچتا ہی بہت زیادہ تھا بھئی۔ تو میں ملے بغیر چلا گیا۔ رات کو جب میں سویا تو اپنا خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، سخت غصے کی حالت میں ہیں، میں حیران و پریشان ہوں کیوں ناراض ہیں۔ میں نے سلام کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہیں اسی طرح بھئی، میں نے، یا رسول اللہ، مجھ سے کیا غلطی ہو گئی آپ ناراض ہیں؟ حضور علیہ السلام نے بڑے غصے سے فرمایا کہ تم میرے موسیٰ کے بارے میں برا گمان کرتے ہو؟ نکل جاؤ میرے مدینے سے! تو میں رونے لگ پڑا اور معافی کی درخواست کی، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جاؤ بھئی، ان سے معافی مانگو، اگر وہ معاف کر دیں تو ٹھیک، ورنہ بھئی تمہیں اجازت نہیں۔ اللہ! تو اس دن سے کہتے ہیں میں آپ کو تلاش کر رہا ہوں اور آج آپ سے یہاں ملاقات ہو گئی تو معافی مانگنے کے لیے حاضر ہو گیا۔
عجیب واقعات بھئی، میں سنتا ہوں، حیران ہوتا ہوں، یہ وہ پرانے بزرگوں کے جو واقعات ہم پڑھتے تھے بھئی کتابوں کے اندر، وہ واقعات اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں دکھلا دیے۔ حضرت شیخ اس زمانے کے لگتے ہی نہیں تھے اگر آپ نے دیکھے ہوتے۔ جو ان کو دیکھتا تھا کہتا تھا یہ اس زمانے کا شخص نہیں معلوم ہوتا۔ جو بھی دیکھتا تھا کہتا تھا اس زمانے کے یہ شخص نہیں لگتے۔ ایک مرتبہ مسجد میں یہاں صحن میں جمعہ کی نماز پڑھ کر بڑی دیر سے نکلتے تھے پھر، جمعہ کی نماز پڑھنے سے فارغ ہوئے، وہاں بیٹھے نوافل وغیرہ پڑھ رہے ہیں۔ کچھ کالج کے لڑکے صحن کے درمیان میں چار پانچ کھڑے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے ہیں، گپ شپ لگا رہے ہیں خوب۔ تو حضرت شیخ رحمہ اللہ جب فارغ ہوئے نوافل وغیرہ سے، کھڑے ہوئے، کھڑے ہو کر چل پڑے بھئی، مصلیٰ اٹھایا، کندھے پہ ڈالا اور گھر کی طرف چل پڑے۔ ان میں سے ایک کی نظر پڑی، اس نے باتیں چھوڑ کر دیکھنا، اسی طرح دیکھتا جا رہا ہے۔ باقیوں کی بھی نظر پڑی، وہ سارے دیکھتے جا رہے ہیں، وہ ساری گپ شپ ایک دم ختم ہو گئی۔ دیکھتے جا رہے ہیں، حضرت چلتے چلتے چلتے آرام سے مسجد سے نکلے اور پھر گھر کی طرف چلے گئے، وہ ساتھ ساتھ گھومتے جا رہے ہیں، دیکھتے جا رہے ہیں بس۔
ایک طالب علم کھڑا ہوا تھا وہاں، حضرت کا شاگرد، کہتا ہے میں حیران ہوا یہ کس طرح دیکھ رہے ہیں بھئی؟ پتہ نہیں کون لوگ ہیں؟ تو میں قریب ہوا: کیوں بھئی، کیا بات ہے؟ آپ لوگ کس طرح دیکھ رہے ہیں؟ تو کہتے ہیں عجیب، جیسے سوچ میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے، کہتے ہیں: بھئی، یہ شخص تو اس زمانے کا نہیں لگتا۔ اللہ اکبر! بڑے لوگوں نے کہا بھئی، بڑے۔ مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہ العالی تشریف لائے، ملاقات کی، جب گئے تو دیگر علماء وغیرہ سے فرمانے لگے کہ بھئی یہ تو یوں لگتا ہے کہ قدیم ہمارے علماء میں سے کوئی روح بچھڑ کر پیچھے رہ گئی تھی جسے آج کے زمانے میں اللہ نے بھیج دیا ہے انسانی شکل میں۔
چلو جی، باتوں کی طرف بھئی ہمارا تو سبق ہی درمیان میں رہ گیا۔ اللہ! تو محنت کرو بھئی، انشاء اللہ یہ علم آپ کو بہت بلندی پر لے جائے گا، بہت بلندی پر۔ بس محنت اور اخلاص کے ساتھ لگے رہو، لگے رہو اخلاص کے ساتھ، کوشش کرتے رہو بھئی۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھی تعاون کرو اور ادب کو اپنا زیور بناؤ بھئی، ہر چیز کا ادب اور احترام، اپنے ساتھیوں کا بھی احترام، اپنے ساتھیوں کی بھی خدمت کرو بھئی۔ معلوم ہے کتنا اجر ملتا ہے بھئی؟ جی، چلیے ترکیب بھئی، بڑی بات لمبی ہو گئی۔ کیا ترکیب کر رہے تھے ہم؟ غلامی رجل فاضل۔ چلو بھئی، یہ پھر کل کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ، بس کرتے ہیں، کافی ہو گیا۔ آؤ بھئی، دعا کر لیں: الحمد للہ رب العالمین۔ دعا کا طریقہ بھی یاد رکھیں بھئی، شروع میں الحمد للہ ہو، پھر درود شریف ہو، اور اس کے بعد آخر میں آمین اور درود شریف ہو، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔
اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ حدیث شریف میں آتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو مقرر فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص تین مرتبہ یا ارحم الراحمین کہتا ہے، تو وہ فرشتہ پکار کر کہتا ہے کہ اے مانگنے والے، مانگ، ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہیں، اللہ! یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، یقیناً ہمارے گناہ بہت زیادہ ہیں، لیکن اے اللہ، آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے، اے اللہ، آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے، اے اللہ، ہمارے سارے گناہوں کو معاف فرما۔
اے اللہ، ہماری، گناہوں والی مجالس سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں اس راستے کے اندر اے اللہ، اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ، ریاکاری سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ریاکاری سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، شب و روز نئے نئے فتنے نمودار ہو رہے ہیں، اے اللہ، ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، تمام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، قبر میں جائیں، ایمان کو لے کر کے جائیں۔ اے اللہ، ہمارے ایمان کی بھی حفاظت فرما، اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، جو طلباء و جو طلباء رزق کے مسئلے میں پریشان ہیں، اے اللہ، ان سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، حرام سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، حرام سے ہماری بھی حفاظت فرما، اے اللہ، ہماری قیامت تک آنے والی نسلوں کی بھی حرام سے حفاظت فرما۔
اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے جو عزیز و اقارب ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ، سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ، سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ان کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ، جو ہمارے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ، ان سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ان کے جو اولاد وغیرہ باقی ہے، اے اللہ، ان سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں، ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ، جو جتنے طلباء ہیں، اے اللہ، ان سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کو دنیا میں بھی معزز و مکرم فرما، اے اللہ، آخرت میں بھی ان کو معزز و محترم فرما۔
اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ان میں سے جو بیمار ہیں، ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہیں، ان کو شفا نصیب فرما۔ میری ہمشیرہ بھی بیمار ہیں، ان کے لیے بھی دعا فرمائیں، اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے، اور بھی گھر والوں کو اللہ صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ، جتنے تلامذہ ہیں میرے، اے اللہ، سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، جن کے والدین زندہ ہیں، ان کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر تادیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو والدین کی خدمت کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو والدین کی صحیح طریقے سے خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔
اے اللہ، ہمارے لیے دین پر چلنا آسان فرما دیجیے۔ اے اللہ، ہمارے لیے دین پر چلنا آسان فرما دیجیے۔ اے اللہ، جتنے طلباء ہیں، اے اللہ، سب کے لیے یا اللہ، آئندہ زندگی کے اندر اے اللہ، ان سب کو دین کا کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، سنتوں کے احیاء کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، بدعتوں اور گمراہیوں کو مٹانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری اس مملکت کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، تمام عالم میں، تمام عالم میں مسلمان تکلیف میں ہیں، اے اللہ، سب کو عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، دشمنان اسلام کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ، ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ، جو شخص اسلام کو جس انداز میں بھی نقصان پہنچانے کے درپے ہے، اے اللہ، ان سب کو ذلیل و رسوا فرما۔
اے اللہ، مجاہدین کو خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ، ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، دشمنان اسلام پر ان کا رعب طاری فرما، اور جو دشمن کی قید میں ہیں، اے اللہ، ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا دیجیے۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، اس سال کو ہمارے لیے مبارک فرما۔ اے اللہ، تکلیف اور پریشانیوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، تمام مقاصد پورے فرما۔ اے اللہ، قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی صحیح طریقے سے توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین ثم آمین، اللھم صل علیٰ، صلی اللہ علیہ وسلم۔