Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-022

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 34
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔22 اچھا بھئی، درمیان میں بڑی لمبی چھٹیاں آ گئی تھیں تو اب ان قوانین کو ذرا جلدی جلدی دوبارہ دہرا لیتے ہیں تمام قوانین کو۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جملہ دو قسم پر ہے: ایک جملہ اسمیہ اور دوسرا جملہ فعلیہ۔ اور جملہ اسمیہ کی ترکیب پہلے ہم نے شروع کی تھی۔ میں نے بتایا تھا جملہ اسمیہ میں دو چیزیں ہوں گی: ایک مبتدا اور دوسرے خبر بھئی۔ مبتدا ہمیشہ معرفہ ہو گا اور خبر نکرہ ہوتی ہے بھئی۔ ہاں، کبھی کبھار مبتدا بھی نکرہ آ جاتا ہے لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں جو کتابوں میں مذکور ہیں اور میں نے آپ سے کہا تھا معرفہ کی اقسام بھی یاد رکھیں، معرفہ چھ سات ہیں بھئی: تمام ضمیریں معرفہ ہیں، علم ہے، اسم اشارہ ہے، اسم موصول ہے اور معرف باللام ہے، معرف بالنداء ہے اور ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو بھئی۔ اسی طرح اس میں مبنی، مبنیات کون کون سے ہیں؟ یہ بھی آپ کو یاد ہونا چاہیے اور پھر اعراب کے بارے میں بتلایا تھا کہ جو مبنی ہے اس کا اعراب ہمیشہ محلاً بتلائیں گے آپ، محلاً مرفوع ہے یا محلاً منصوب ہے یا محلاً مجرور ہے مجرور ہے۔ جبکہ معرب کا اعراب یا لفظاً آئے گا یا تقدیراً آئے گا۔ وہ سولہ قسمیں جو ذکر ہوئیں بھئی ان میں آپ سب میں آپ دیکھیں یا اعراب لفظاً ہے یا تقدیراً ہے بھئی۔ اس کے بعد یہ ضابطہ آپ کو بتلایا تھا کہ معرفہ کے بعد معرفہ آ جائیں تو پھر وہ عموماً کیا بنیں گے؟ موصوف صفت بھئی۔ ایک معرفہ کے بعد ایک معرفہ آئے، دو آئے، تین، چار جتنے بھی آ جائیں عموماً کیا بنیں گے؟ موصوف صفت بھئی۔ اور اسی طرح اگر نکرہ کے بعد نکرہ آئیں چاہے ایک آئے، دو یا تین تو بھی یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ لیکن ایک شرط اس میں ہے کہ کہ آخری نکرہ کے بعد کوئی معرفہ نہ آ رہا ہو۔ اگر اس آخری نکرہ کے بعد کوئی معرفہ آ رہا ہے تو پھر عموماً کیا بنیں گے؟ مضاف مضاف الیہ بنیں گے بھئی، مضاف مضاف الیہ۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے اگر موصوف صفت معرفہ ہیں تو موصوف سے پہلے وہ کا لفظ لے آئیں گے بھئی، یا اگر ایک ہی صفت ہے تو پھر تو عربی میں صفت مؤخر ہوتی ہے اور اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے تو اس صفت کو کیا کر دیں اردو میں؟ مقدم۔ مثلاً جَاءَنِيْ زَيْدٌ الْعَالِمُ، زید معرفہ، العالم معرفہ، تو کیا ترجمہ کریں گے؟ آیا میرے پاس عالم زید، تو صفت کو مقدم کر دیں اردو میں۔ اور اگر نکرہ ہیں موصوف صفت تو پھر بھی اسی طرح کریں، اس صفت کو اردو میں کیا کر دیں اس پر؟ مقدم کر دیں، یا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ موصوف سے پہلے ایسا کا لفظ لے آئیں۔ جَاءَنِيْ رَجُلٌ عَالِمٌ، رجل نکرہ، عالم صفت بھی نکرہ، تو کیسے ترجمہ کریں گے؟ آیا میرے پاس یا تو یوں کہیں آیا میرے پاس عالم آدمی، یا یوں کہیں آیا میرے پاس ایسا آدمی جو عالم ہے۔ اور پھر یہ ضابطہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ جس اسم کے ساتھ ہی ضمیر متصل آ جائے وہاں ہمیشہ کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ۔ مثلاً غلامُہ ہے تو کیا ترکیب کریں گے؟ غلام مضاف، ہا ضمیر مضاف الیہ بھئی۔ غلامِی، غلام مضاف اور یا ضمیر مضاف الیہ بھئی۔ اس کے بعد جملہ فعلیہ کی ترکیب پھر ہم نے شروع کی تھی۔ جملہ فعلیہ کے اندر میں نے پہلے آپ کو بتلایا تھا فعل دو قسم پر ہے: ایک فعل لازم ہے، ایک فعل متعدی ہے۔ فعل لازم وہ ہے جہاں بات صرف فاعل پر پوری ہو جائے، وہ مفعول کا تقاضا نہ کرے اور فعل متعدی وہ ہے جہاں صرف فاعل پر بات پوری نہیں ہوتی بلکہ فاعل کے ساتھ مفعول کی بھی ضرورت پڑتی ہے بھئی۔ اور اردو میں اس کی موٹی نشانی یہ ہے کہ فعل لازم کا ترجمہ کریں تو "نے" کا لفظ نہیں آئے گا جبکہ فعل متعدی کا ترجمہ کریں تو کیا لفظ آئے گا؟ "نے" کا لفظ بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں اَكَلْتُ الطَّعَامَ، میں نے کھانا کھایا تو دیکھو "نے" کا لفظ آیا۔ ضَرَبْتُ زَيْدًا، میں نے زید کی پٹائی کی، "نے" کا لفظ آیا۔ جبکہ فعل لازم میں ایسا نہیں ہو گا بھئی۔ جیسے فَرَّ زَيْدٌ، زید دوڑا، زید بھاگا، اس کے اندر دیکھو "نے" کا لفظ نہیں آ رہا۔ اور یہ ضابطہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فعل کے آ جانے کے بعد جملے میں صرف فاعل مرفوع آئے گا اور کوئی مرفوع نہیں آئے گا۔ تو اس کے بعد صرف فاعل مرفوع ہے، باقی جتنے آئیں گے یا وہ سارے منصوب ہوں گے یا وہ مجرور ہوں گے بھئی مجرور۔ اور مجرور صرف دو ہی ہیں: ایک وہ جس پر جس پر حرفِ جار داخل ہو، دوسرا وہ جس سے پہلے مضاف آ جائے تو مضاف الیہ صرف مجرور ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان فعل کے جو چودہ صیغے ہیں ان میں میں نے آپ کو فاعل کی پہچان کروائی تھی۔ ضَرَبَ کے اندر کون سی ضمیر فاعل ہے؟ ہوا ضمیر۔ ضَرَبَا تثنیہ کے صیغے کے اندر یہ الف فاعل ہے۔ اب آپ نے ضَرَبَا میں یہ نہیں کہنا کہ ہما ضمیر فاعل ہے بلکہ الف۔ ضَرَبُوْا کے اندر واو فاعل۔ ضَرَبَتْ کے اندر البتہ یہ تا کس چیز کی علامت ہے؟ تانیث کی علامت ہے، یہ نہیں فاعل بھئی، اس کے اندر ہیا ضمیر فاعل ہے۔ آگے ضَرَبَتَا، اس کے اندر الف فاعل ہے۔ ضَرَبْنَ کے اندر نون ہے جمع مؤنث کی ضمیر اور ضَرَبْتَ کے اندر تا اور ضَرَبْتُمَا کے اندر تما ضمیر، ضَرَبْتُمْ کے اندر تم، اسی طرح ہے۔ تو یہ ضَرَبْتَ، ضَرَبْتِ، ضَرَبْتُ، ان تینوں کے آخر میں ضمیریں ہیں۔ ایک تو ان کا عام نام ہے، ایک ان کا خاص نام۔ عام نام ان کا تا ہے، کون سا حرف ساتھ جڑا ہوا ہے ضَرَبْتَ، ضَرَبْتِ، ضَرَبْتُ؟ ضَرَبَ کے ساتھ کیا جڑی ہوئی ہے؟ تا جڑی ہوئی ہے تو تا کہیں یہ تا ضمیر فاعل۔ اب اس ضَرَبْتُ کے اندر بھی تا فاعل، ضَرَبْتِ کے اندر بھی تا فاعل، ضَرَبْتَ میں بھی تا فاعل۔ لیکن اگر خاص نام لینا چاہتے ہیں تو پھر کیا کہیں گے؟ ضَرَبْتُ میں تُو ضمیر فاعل ہے، ضَرَبْتِ میں تِی ضمیر فاعل ہے اور ضَرَبْتَ میں تا ضمیر فاعل ہے بھئی، تا۔ تو یوں کبھی بھی نہ کہیں ضَرَبْتُ کے اندر تُو فاعل ہے تُو، عموماً یوں ہی ترکیب کرتے ہیں ضَرَبْتُ میں تُو فاعل ہے، یہ نہیں بھئی۔ تُو کوئی لفظ نہیں ہے ایک تو اس کے ساتھ دو واو ملا کر پھر تُوْنْ پڑھتے ہیں۔ ضَرَبْتِ ہے، اس میں تِی فاعل ہے، یوں نہ کہیں بلکہ دو یا ملائیں ساتھ تِیْن کیا ہے؟ فاعل۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا بھئی کہ فعل کے جو چودہ صیغے ہیں ان میں سے صرف دو صیغے ایسے ہیں جن کا آگے جملے میں فاعل آ سکتا ہے۔ اور وہ کون کون سے ہیں؟ پہلا اور چوتھا، یعنی واحد مذکر غائب کا صیغہ اور واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ بھئی: ضَرَبَ اور ضَرَبَتْ۔ ان کے علاوہ کوئی بھی فعل آ جائے جملے میں تو آگے آپ کو فاعل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسی کے ساتھ ضمیر متصل کیا ہو گی؟ فاعل ہو گی۔ معلوم ہوا پھر آگے منصوبات یا مجرورات ہی آئیں گے، کوئی مرفوع نہیں۔ لیکن اگر جملے کے اندر فعل پہلا صیغہ آ جاتا ہے ضَرَبَ یا چوتھا صیغہ آ جاتا ہے ضَرَبَتْ، ان دو صیغوں کا فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے انہی کے اندر مستتر اور آگے کوئی اسم ظاہر بھی ان کا فاعل آ سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ضمائر کے علاوہ باقی اسم اسم ظاہر ہیں بھئی سارے۔ تو انہی کے اندر ضمیر مستتر بھی ہو سکتی ہے، آگے کوئی اسم بھی ہو سکتا ہے۔ اب آپ کا کام ہے آگے تلاش کریں بھئی، شروع میں واحد مذکر غائب کا صیغہ آ گیا یا واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ آ گیا تو اب آگے آپ تلاش کریں کوئی لفظ آگے اس کا فاعل تو نہیں آ رہا بھئی۔ اگر فاعل آ رہا ہے پھر تو ان کے اندر ضمیر نہیں ہو گی، اگر آگے کوئی فاعل نہیں ہے پھر انہی کے اندر کیا نکالیں گے؟ ضمیر نکالیں گے۔ اچھا پھر اس کے بعد بھئی ترکیبیں بھی کی تھیں، مثلاً قَامَ زَيْدٌ جملہ ہے، کیا ترکیب؟ قَامَ کون سے افعال میں سے ہے؟ دو میں سے یا بارہ میں سے؟ دو میں سے ہے اور ان کا فاعل آگے اسم ظاہر آ سکتا ہے، معلوم ہوا زَيْدٌ اس کے لیے کیا بن رہا ہے؟ فاعل۔ تو قَامَ فعل، زَيْدٌ مرفوع لفظاً فاعل۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا بھئی، تو ضَرَبَ فعل، زَيْدٌ مرفوع لفظاً اس کا فاعل اور عَمْرًا منصوب لفظاً اس کا مفعول بھئی۔ اس کے بعد یہ ضابطہ بھی ذکر ہوا تھا کہ جمع بتاویلِ جماعت کے واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے لہٰذا عربی میں عموماً آپ دیکھیں گے جمع کی صفت واحد مؤنث لائی جاتی ہے۔ جمع کی صفت کیا لاتے ہیں؟ واحد اور جمع کی طرف عموماً ضمیر بھی کون سی لوٹاتے ہیں؟ واحد مؤنث کی ضمیر لوٹائی جاتی ہے بھئی، واحد مؤنث کی۔ تو وہاں جمع مؤنث کی ضمیر لوٹانا بھی صحیح اور واحد مؤنث کی ضمیر لوٹانا بھی صحیح ہے بھئی۔ اور پھر ایک اور بڑا اہم اور قیمتی ضابطہ یہ ذکر ہوا تھا کہ فاعل جب بھی آئے گا فعل کے بعد آئے گا، فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ نیز فعل جب بھی آ جائے آپ نے فوراً فاعل کو تلاش کرنا ہے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل تو آ جائے اور فاعل نہ ہو۔ تو جب بھی فعل آئے گا فاعل ضرور آئے گا اور فاعل ہمیشہ اس سے مؤخر ہو گا کبھی بھی اس پر مقدم نہیں۔ اب مثلاً میں کہتا ہوں بھئی ضَرَبَ زَيْدٌ، کیا ترکیب کریں گے؟ یا قَامَ زَيْدٌ، قَامَ فعل، زَيْدٌ مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ لیکن اسی زید کو اٹھا کر ذرا قَامَ پر مقدم کر دیں: زَيْدٌ قَامَ۔ اب آپ کبھی یہ نہ کہنا بھئی یہ زید قَامَ کے لیے کیا ہے؟ فاعل۔ نہیں بھئی، فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، تو اب آپ کیا ترکیب کریں گے بھئی؟ زَيْدٌ مبتدا مرفوع لفظاً اور قَامَ فعل، اب قَامَ فعل ہے دو میں سے اور ان کا آگے فاعل اسم ظاہر آ سکتا ہے لیکن آگے کوئی اسم ظاہر ہے ہی نہیں، معلوم ہوا اسی کے اندر ضمیر ہے اور وہ ہوا ضمیر اس کے اندر فاعل ہے جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید۔ تو زید بھی واحد مذکر، قَامَ کے اندر ضمیر بھی واحد، ضمیر اور مرجع میں مطابقت بھی ہے تو یہ پورا فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر زید کے لیے کیا بن جائے گا؟ خبر بن جائے گا۔ تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی۔ تو یہاں سے یہ جملے سے ایک اور بات کا بھی پتہ چل گیا، ایک اور ضابطہ جو ذکر ہوا تھا کہ بھئی کبھی کبھار مبتدا کی خبر مفرد ہوا کرتی ہے اور کبھی کبھار مفرد مبتدا کی خبر جملہ بھی ہوتی ہے۔ لیکن جملہ ہے مستقل، وہ اپنا معنی پورا ادا کر رہا ہے، وہ کسی کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں لیکن آپ اس جملے کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو جملے کو جس چیز سے بھی جوڑا جائے گا ربط ضروری ہے اور اس ربط کو کیا کہتے ہیں؟ عائد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عائد۔ اب عائد کی کئی صورتیں ہیں لیکن سب سے زیادہ جو استعمال ہوتا ہے عائد وہ کس صورت میں آتا ہے؟ ضمیر کی صورت میں، یعنی جملے کے اندر کوئی ضمیر ہوتی ہے جو اس چیز کی جانب لوٹتی ہے جس کے ساتھ آپ اس کو جوڑ رہے ہیں۔ تو یہی جملہ کبھی صفت بھی بنتا ہے، یہی جملہ کبھی حال بھی بنتا ہے، یہی جملہ صلہ بھی بنتا ہے، یہی جملہ کبھی خبر بھی بنتا ہے۔ خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے، تو جملے میں کوئی ضمیر ہو گی جو کس کو لوٹے؟ مبتدا کو، اور صلے کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ موصول سے، تو صلہ جملہ ہے اس کے اندر کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کو لوٹے؟ موصول کی طرف، اور صفت کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ موصوف سے، تو جب جملہ صفت بنے تو اس میں ضمیر ہو جو کس کو لوٹے؟ موصوف کی طرف، اور اسی طرح حال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ ذوالحال سے، تو اس وہ جملہ جو حال بنے اس کے اندر کوئی ضمیر ہونی چاہیے جو کس کی طرف لوٹے؟ ذوالحال کی طرف لوٹے بھئی۔ اور یہ ضابطہ بھی ذکر کیا تھا کہ جملہ جو ہے وہ نکرہ کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم، جملے کے اپنے اندر چاہے دس معرفہ آ جائیں لیکن جب سارے جڑ گئے اور جملہ بن گیا اب یہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ، لہٰذا یہ صفت بھی کس کی بنے گا؟ نکرہ کی صفت بنے گا۔ جملہ ہمیشہ کس کی صفت بنے گا؟ نکرہ کی صفت بنے گا، معرفہ کی صفت نہیں بن سکتا، معرفہ سے حال تو بن سکتا ہے اس کی صفت نہیں، کیونکہ اسم تو ہے معرفہ اور جملہ ہے نکرہ اور موصوف صفت میں تعریف اور تنکیر کے اندر مطابقت ضروری، موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ، موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی تو جب موصوف معرفہ ہے تو جملہ اس کی صفت نہیں بن سکتا کیونکہ جملہ تو نکرہ ہے بھئی نکرہ۔ اور نیز جملہ میں نے بتلایا تھا مبنی ہے بھئی، حتیٰ کہ بعض علماء نے تو اسے کیا قرار دیا؟ مبنی الاصل قرار دیا، تو جب یہ مبنی ہے تو مبنی کا اعراب ہم کس طرح بتایا کرتے تھے بھئی؟ محلاً، تو جملے کا بھی کیا اعراب کس طرح بتلائیں گے اعراب؟ محلاً بتلائیں گے۔ اگر اس کا موصوف مرفوع ہے تو وہ جملہ بھی محلاً، اس کے اجزاء نہیں بھئی، اجزاء اسی طرح رہیں گے جس طرح کوئی فاعل بیچ میں بن رہا ہے، کوئی خبر ہے، کوئی حال ہے، تو جملے کے اپنے اجزاء اپنی حالت پر رہیں گے ان پر ان کے اپنے اپنے اعراب آئیں گے، البتہ اب پورا جملہ بن گیا اب آپ کہہ رہے ہیں یہ پورا جملہ کیا ہے ما قبل کے لیے صفت ہے تو ما قبل اگر مرفوع تھا تو یہ جملہ بھی محلاً کیا کہیں گے؟ مرفوع ہے۔ اگر ما قبل منصوب یا مجرور ہے تو یہ جملہ بھی محلاً منصوب یا مجرور ہو گا اور اگر جملہ حال بنے بھئی تو حال کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب، تو وہاں کیا کہیں گے یہ جملہ محلاً منصوب ہے بھئی، منصوب ہے۔ اور جب جملہ خبر بنے تو خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع، تو وہ جملہ بھی کیا کہیں گے محلاً مرفوع، لیکن جب جملہ صلہ بنے تو یاد رکھنا اس وقت صلے کا کوئی محل اعراب نہیں۔ تو اس وقت کیا کہیں گے؟ لَا مَحَلَّ لَهَا مِنَ الْإِعْرَابِ۔ اس کے بعد ایک اور بڑا اہم اور قیمتی ضابطہ آپ کو بتلایا تھا کہ جیسے جب بھی فعل آئے گا ہمیشہ اس کے لیے فوراً کیا تلاش کرنا ہے؟ فاعل۔ اسی طرح یہ جو صفت کے صیغے ہیں: اسم فاعل، اسم مفعول، ایک ہے فاعل، ایک ہے اسم فاعل۔ فاعل کسے کہتے ہیں بھئی؟ جس کی طرف فعل یا شبہ فعل کا اسناد ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ اسناد ہوتا ہے: ضَرَبَ زَيْدٌ، یہ زَيْدٌ کیا ہے؟ فاعل ہے۔ لیکن اسم فاعل، یہ وہ مخصوص وزن ہے جو آپ نے گردان میں پڑھا ہے: ضاربٌ، ناصرٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ وغیرہ، یہ کیا ہیں؟ اسم فاعل۔ اسی طرح ایک ہے مفعول، ایک ہے اسم مفعول۔ مفعول وہ ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، یہ عَمْرًا کیا ہے بھئی؟ مفعول ہے، اور ایک ہے اسم مفعول، وہ مخصوص وزن جو آپ نے گردان میں پڑھا ہے: مضروبٌ، منصورٌ، مجموعٌ، یہ سارے کیا ہیں بھئی؟ اسم مفعول ہیں۔ تو جو اسم فاعل ہوتا ہے اور اسم اسم مفعول، صفت مشبہ اور اسم تفضیل اور یہ مبالغے کے صیغے یہ سارے چونکہ صفت کے صیغے ہیں اور صفت کے صیغے بھی کس کا تقاضا کرتے ہیں؟ فاعل یا نائب فاعل، جیسے فعل معروف تقاضا کرتا ہے فاعل کا ہمیشہ، فعل مجہول ہمیشہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ نائب فاعل، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ فعل معروف تو آئے فاعل نہ آئے، فعل مجہول تو آئے نائب فاعل نہ آئے۔ اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ضاربٌ کا صیغہ تو آ جائے لیکن اس کا فاعل موجود نہ ہو، مضروبٌ کا صیغہ تو آ جائے لیکن اس کا نائب فاعل موجود نہ ہو۔ ہاں، وہ الگ بات ہے آپ کو عموماً جملوں کے اندر ان کے فاعل یا نائب فاعل نظر نہیں آئیں گے، جملہ ہو گا زَيْدٌ قَائِمٌ، اب قائمٌ کیا ہے؟ صفت کا صیغہ اور صفت کے صیغے کے لیے کیا چاہیے؟ یہ اسم فاعل ہے تو اس کے لیے فاعل ضروری لیکن آپ کو جملے میں نظر کوئی نہیں آ رہا، وہ عموماً انہی کے اندر ضمیر مستتر ہوتی ہے بھئی۔ تو قائمٌ کے اندر کون سی ضمیر ہو گی؟ ہوا ضمیر، کون سی ضمیر؟ ہوا ضمیر وہ فاعل ہو گی بھئی فاعل۔ اور یہ بھی آپ کو بتلایا تھا جی تو ہاں تو ان صفت کے صیغوں میں بھی ہمیشہ آپ نے کیا تلاش کرنا ہے؟ فاعل یا نائب فاعل کو تلاش کرنا ہے بھئی۔ اور جیسے جملے کو کسی چیز سے جوڑا جاتا ہے تو وہاں پر عائد کا ہونا ضروری، اسی طرح جب صفت کے صیغوں کو بھی کسی چیز سے جوڑا جائے تو وہاں پر بھی عائد کا ہونا ضروری، تو انہیں شبہ جملہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ کہتے ہیں، یہ مشابہ ہیں فعل کی طرح ہیں، لیکن فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بن جاتا ہے؟ جملہ، اور اس قائمٌ یا ضاربٌ کا صیغہ اپنے فاعل سے مل کر جملہ تو نہیں بنتا لیکن جیسے فعل نے فاعل کا تقاضا کیا تھا اس نے بھی کس کا تقاضا کیا ہے؟ فاعل کا، اس کو شبہ جملہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ۔ اب بھئی ان کو شبہ جملہ کیوں کہتے ہیں؟ چلیے یہ وجہ بھی آپ کو بتاؤں۔ بھئی جیسے ضَرَبَ کے اندر ہوا ضمیر تھی تو ہم نے کیا کہا بھئی؟ یہ جملہ بن گیا، تو بھئی ضاربٌ کے اندر بھی ہوا ضمیر ہے اس کو کیا بنانا چاہیے؟ اس کو بھی جملہ بنانا چاہیے لیکن اس کو جملہ نہیں کہتے بلکہ کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ۔ وجہ اس کی یہ کہ اس کی مشابہت جیسے فعل کے ساتھ ہے اسی طرح اس کی مشابہت مفرد کے ساتھ بھی ہے، اسم جامد مفرد کے ساتھ بھی ہے۔ اس کی مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ اسم جامد اس صفت کے صیغے کی مشابہت ہے اسم جامد کے ساتھ یا یوں کہیں مفرد کے ساتھ۔ فعل کے ساتھ تو مشابہت آپ کو پتہ چل گئی، جیسے فعل کے لیے فاعل چاہیے ہوتا ہے ان کے لیے بھی کیا چاہیے؟ فاعل یا نائب فاعل، تو فعل کے ساتھ ان کی مشابہت ہے۔ لیکن مفرد کے ساتھ یا اسم جامد کے ساتھ بھی مشابہت ہے، جیسے مثلاً میں کہتا ہوں أَنَا رَجُلٌ، أَنْتَ رَجُلٌ، هُوَ رَجُلٌ، أَنَا رَجُلٌ، أَنْتَ رَجُلٌ، هُوَ رَجُلٌ، تو رجل دیکھو اسم جامد ہے، انا کے لیے خبر بنا متکلم کی ضمیر کے لیے یہ پھر بھی رجل رہا۔ میں نے پھر مخاطب کی ضمیر لایا أَنْتَ رَجُلٌ، اب یہ انتَ کے لیے رجل خبر بنا لیکن پھر بھی اسی طرح برقرار، کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پھر غائب کے لیے میں نے خبر بنایا هُوَ رَجُلٌ، اب بھی یہ اسی طرح رجل ہے۔ تو دیکھو یہ اسم جامد جو ہے چاہے یہ متکلم کے لیے خبر بنے، چاہے یہ مخاطب کے لیے خبر بنے، چاہے یہ غائب کے لیے خبر بنے اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اسم جامد میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ البتہ اگر فعل ہو تو اس میں تبدیلی آتی ہے، مثلاً میں کہتا ہوں أَنَا ضَرَبْتُ، أَنْتَ ضَرَبْتَ، هُوَ ضَرَبَ، فعل بدل رہا ہے یا نہیں بدل رہا بھئی؟ تو فعل بدلتا ہے لیکن یہاں پر اسم جامد دیکھیں وہ نہیں بدل رہا اور صفت کے صیغوں کو دیکھیں وہ بھی نہیں بدلتے، میں کہتا ہوں أَنَا قَائِمٌ، أَنْتَ قَائِمٌ، هُوَ قَائِمٌ، تو دیکھو تینوں صورتوں میں قائمٌ اسی طرح رہتا ہے، اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ تو اس کی مشابہت آ گئی رجل کے ساتھ اور رجل جملہ ہے یا مفرد ہے بھئی؟ مفرد ہے، تو اس لیے یہ صفت کے صیغوں کو جملہ نہیں کہتے اس لیے کہ جیسے اس کی مشابہت فعل کے ساتھ تھی تو اس کو کہنا تو جملہ چاہیے تھا لیکن اس کی مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ مفرد کے ساتھ اس کی مشابہت ہے تو جیسے رجل تو مفرد ہے اس کو کوئی جملہ نہیں کہتا، اس کے ساتھ اس کی مشابہت آ گئی لہٰذا اب ہم اس کو جملہ نہیں کہتے قائمٌ کو بلکہ کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ، کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ۔ اور یہاں ایک اہم ضابطہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا، ہمیشہ یاد رکھنا بھئی، بڑا قیمتی ضابطہ۔ یاد رکھو یہ صفت کے صیغوں کو جس قسم کی ضمیر کے ساتھ آپ جوڑ رہے ہیں یا جس قسم کے اسم سے جوڑ رہے ہیں ان کے اندر ضمیر بھی اسی قسم کی ہو گی۔ صفت کے صیغوں کو جس قسم کے اسم کے ساتھ آپ جوڑیں ان کے اندر ضمیر بھی وہی اسی قسم کی ہو گی، مثلاً ھوا کے لیے میں قائمٌ کو خبر بناتا ہوں: هُوَ قَائِمٌ، ھوا مبتدا ہے اور قائمٌ اس کی خبر، اور قائمٌ صیغہ ہے صفت کا اور صفت کے صیغے کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے، کیا چاہیے؟ فاعل چاہیے۔ تو اب اس کے اندر ضمیر بھی غائب کی نکالیں گے، کون سی ضمیر فاعل ہے اس کے اندر بھئی؟ ھوا کی، تو قائمٌ صیغہ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے مبتدا کو بھئی، کس کو راجع ہے؟ تو صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ ہوا ضمیر کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر۔ اب اسی قائمٌ کو میں متکلم کی ضمیر کے لیے خبر بناتا ہوں: أَنَا قَائِمٌ، تو یاد رکھو اب قائمٌ کے اندر ہوا ضمیر نہیں نکالنی بلکہ کون سی ضمیر نکالنی ہے؟ انا ہی کی ضمیر نکالنی ہے۔ انا مرفوع محلاً مبتدا، قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر کون سی ضمیر فاعل؟ انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، یہ عائد ہے مولانا، یہ عائد کی قسم ثانی ہے بھئی۔ عائد اول تو کیا صورت تھی؟ ایک ضمیر ہو جو کس کو لوٹے؟ جس کے ساتھ جملے یا شبہ جملہ کو جوڑا جائے۔ لیکن یہاں مرجع ہمیشہ ہوتا ہے غائب کی ضمیر کا، مخاطب یا متکلم کی ضمیر کا مرجع نہیں، تو یہاں تو آ گئی ہے مخاطب کی، متکلم کی ضمیر۔ اب آپ سے کوئی کہے بھئی عائد کیا ہے؟ اب آپ کہیں گے انا ضمیر لوٹ رہی ہے جو پیچھے ماقبل میں انا مبتدا تھا، بھئی انا ضمیر تو کبھی نہیں لوٹتی، یہ تو کون سی ضمیر ہے؟ متکلم کی، تو پھر عائد کیسے آیا؟ بھئی بعینہٖ اسی اسم کا تکرار آ گیا جس کے ساتھ آپ اس جملے کو یا شبہ جملہ کو جوڑ رہے تھے، یہ بھی عائد ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ قائم کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ انا سے، تو اسی کے اندر کون سی ضمیر آ گئی؟ وہی انا آ گئی بھئی، تو یہ اسی سے جڑ گیا بھئی۔ تو اسی اسم کا تکرار آ جائے اگلے جملے کے اندر، یہ بھی ربط دے دیتا ہے، جیسے اس کی مثال میں نے قرآن سے ذکر کی تھی: اَلْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ، الحاقۃ ہے مبتدا اور ما الحاقۃ پورا جملہ اس کی خبر ہے بھئی، پورا جملہ اس کی خبر۔ اب آپ سے کوئی سوال کرے کہ مبتدا اور خبر، خبر تو ہے جملہ اور جملے کے اندر کیا آنا چاہیے؟ ربط ہونا چاہیے، عائد ہونا چاہیے، یہاں کیا عائد ہے؟ تو ضمیر تو کوئی ہے نہیں اگلے جملے کے اندر، تو آپ کیا جواب دیں گے کہ جس اسم سے ہم جوڑ رہے ہیں یعنی الحاقۃ سے جو پہلے آیا، اگلے جملے کے جو خبر ہے اس کے اندر بعینہٖ اسی اسم کا کیا آ رہا ہے؟ تکرار آ رہا ہے تو ربط آ گیا بھئی۔ تو اسی طرح صفت کے صیغے کو جس قسم کے اسم سے آپ جوڑیں اسی قسم کی اس میں ضمیر ہو گی۔ تو انا سے جوڑا تو قائمٌ کے اندر کون سی ضمیر نکالی؟ انا۔ اب مخاطب کے ساتھ اگر اس کو جوڑیں: أَنْتَ قَائِمٌ، تو اب اس کے اندر کون سی ضمیر ہو گی؟ انتَ کی ضمیر ہو گی، کون سی ضمیر ہو گی؟ مثلاً أَنْتَ قَائِمٌ، انتَ مرفوع محلاً مبتدا اور قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر کون سی ضمیر فاعل؟ انتَ، اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ انتَ اول کے لیے، تو یہ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اہم ضابطہ ہے بھئی، یہ ہمیشہ یاد رکھنا۔ پھر ایک یہ ضابطہ ذکر ہوا تھا کہ جملہ جو ہے وہ نکرہ کے حکم میں ہے اور فعل نے اپنے فاعل سے مل کر کیا بننا ہے؟ جملہ، تو نکرہ کے بعد جہاں بھی فعل آ جائے وہ عموماً موصوف صفت بنیں گے۔ نکرہ کے بعد کیا آ جائے؟ فعل آ جائے تو وہ فعل پورا جملہ ہو کر اس نکرہ کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، اور ترجمہ پھر کیسے کریں گے؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں گے بھئی، ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں گے۔ بھئی، کافی نہیں آج کے لیے؟ ہاں؟ کافی ضابطے ذکر ہو گئے اور آپ گھروں سے صاف ستھرے ہو کر آ گئے ہوں گے، ہے نا؟ چھٹیاں گزار کے بالکل صاف ستھرے ہو کر آ گئے ہیں، تو چلو کچھ جو ہے تکرار ہو گیا، انشاءاللہ ایک دو دن میں پہنچ جائیں گے بلکہ شاید کل ہی پہنچ جائیں اپنے مقام پر، پھر آگے انشاءاللہ تعالی۔ اچھا بھئی، دعا کر لیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! گناہوں والی مجالس سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! تمام تکالیف اور پریشانیوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! گھروں میں خیر و برکت اور اطمینان و سکون نازل فرما۔ اے اللہ! تمام پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ سب کی تمام پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! مشکلات کو حل فرما۔ اے اللہ! یہ چھٹیوں میں جو گھر جا رہے ہیں، اے اللہ ان کو خیر و عافیت سے یہ سب گھر پہنچیں۔ اے اللہ! وہاں پر بھی خوشیاں ہی خوشیاں ہوں۔ اے اللہ! جو پریشانی بھی ہو اس کو دور فرما۔ اے اللہ! خیر و عافیت سے گھر پہنچا اور خیر و عافیت سے ہی یہ واپس پڑھنے کے لیے آئیں۔ اے اللہ! اے اللہ! تمام تکالیف کو دور فرما۔ اے اللہ! ان میں سے کوئی بیمار ہیں اللہ یا ان کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہو، سب کو شفا نصیب فرما، سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے جتنے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، اے اللہ سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ پھر ان کے اساتذہ جتنا سلسلہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک، اے اللہ سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی بھی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد۔
49 approved lectures · 22 of 49