Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 25
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔12 اچھا بھئی، ہم نے جار مجرور کی ترکیب شروع کی تھی۔ جار مجرور ہمیشہ کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ متعلق کا بھئی، اور یہ کتنی چیزوں سے متعلق ہو سکتا ہے؟ متعلق ہو سکتا ہے۔ آٹھ چیزیں بھئی۔ پہلی چیز فعل، دوسری مصدر، تیسری اسم فاعل، چوتھی اسم مفعول، پانچویں صفت مشبہ، چھٹی اسم تفضیل، ساتویں مبالغے کے صیغے اور آٹھویں اسم فعل بھئی۔ ہاں، تو یہ آٹھ چیزیں ہیں بھئی؛ فعل ہے، مصدر ہے، اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل، مبالغے کے صیغے اور اسم فعل بھئی۔ اور پھر اگر ان کا ان میں سے کوئی ایک عبارت کے اندر ذکر ہو تو اس سے متعلق کر دیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں محذوف نکالنا پڑے گا۔ تو جار مجرور کا متعلق اگر محذوف ہو تو یہ ظرف مستقر کہلاتے ہیں اور اگر مذکور ہو تو یہ ظرف لغو کہلاتے ہیں۔ اور پھر جب محذوف نکالیں تو فعل بھی محذوف نکال سکتے ہیں، اسم بھی محذوف نکال سکتے ہیں اور عموماً افعال عامہ میں سے نکالتے ہیں اور افعال عامہ چار ہیں، کون؟ ثبوت، وجود اور حصول۔ تو ان سب میں سے فعل بھی نکال سکتے ہیں، اسم بھی۔ البتہ ان میں سے تین جو ہیں، کون؟ ثبوت اور حصول، ان سے فعل معروف نکالتے ہیں اور اسم فاعل نکالتے ہیں۔ جبکہ وجود سے فعل مجہول نکالیں گے اور اسم مفعول بھئی۔ جی، اب ترکیبیں ہم کر رہے تھے بھئی۔ اچھا بھئی، کل ہم نے ایک ترکیب کی تھی بھئی، اس وقت میں نے ذکر نہیں کیا کہ چلیں مختصراً کر لیں ہم۔ غَسَلَ زَيْدٌ وَجْهَهُ المَجْرُوْحَ بِالمَاءِ البَارِدِ۔ بھئی، اس ترکیب کو کیا تو تھا لیکن مختصر طریقے سے کیا تھا، کامل طریقے سے نہیں کیا جو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب بھی اسم فاعل آ جائے اس کے لیے ہمیشہ کیا تلاش کرو؟ فاعل۔ جب بھی اسم مفعول آ جائے اس کے لیے کیا تلاش کرو؟ نائب فاعل۔ تو یہاں المجروح مفعول کا صیغہ آیا بھئی، اسم مفعول کا۔ اور البارد اسم فاعل کا صیغہ آیا بھئی۔ تو اس کے لیے کیا تلاش کرنا پڑے گا، المجروح کے لیے؟ نائب فاعل تلاش کرنا پڑے گا۔ اور بارد کے لیے، اسم فاعل جو ہے اس کے لیے؟ فاعل تلاش کرنا پڑے گا بھئی۔ فاعل تلاش کرنا پڑے گا۔ لیکن اس سے پہلے ایک ضابطہ لکھ لو بھئی۔ ایک ضابطہ بھئی۔ الحمد للہ۔ یرحمک اللہ۔ اسم فاعل اور اسم مفعول پر جو الف لام داخل ہو، اسم فاعل اور اسم مفعول پر جو الف لام داخل ہو، وہ اسم موصول ہوتا ہے، وہ اسم موصول ہوتا ہے، جو بصورت الف لام آیا ہے۔ جو بصورت الف لام آیا ہے۔ تو اسے الف لام اسمی کہتے ہیں۔ تو اسے الف لام اسمی کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو، المجروح، وجہہ تو بنا دیا تھا آپ نے موصوف۔ المجروح کے اندر بھئی مجروح کون سا صیغہ ہے؟ اسم مفعول۔ اور اسم مفعول پر جو الف لام آئے وہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ وہ دراصل اسم موصول ہے، اسی لیے الف اسے الف لام اسمی کہتے ہیں، الف لام اسمی۔ تو المجروح بھئی، یہ مجروح مفعول کا صیغہ، اس پر الف لام آیا۔ یہ الف لام اسمی، تو یہ اسم موصول ہے بھئی۔ کیا ہے؟ اسم موصول ہے بھئی، حرف کی صورت میں آیا ہے۔ اور مجروح یہ اس کا صلہ ہے بھئی۔ یہ کیا ہے اس کا؟ صلہ۔ تو موصول کا صلہ ہمیشہ جو ہے، موصول کا صلہ ہمیشہ جملہ ہوا کرتا ہے بھئی۔ کیا ہوا کرتا ہے؟ جملہ۔ لیکن جب الف لام کی صورت میں یہ آ جائے تو پھر اس کا صلہ مفرد ہی ہو گا بھئی، اس لیے کہ الف لام کس کی صورت میں آیا ہے، اسم موصول کس کی صورت میں آیا ہے؟ حرف کی صورت میں آیا ہے اور الف لام کی صورت میں اور الف لام جملے پر داخل ہوتا ہے یا مفرد پر داخل ہوتا ہے؟ یہ تو مفرد پر داخل ہوتا ہے بھئی، کسی اسم پر داخل ہوتا ہے۔ تو لہٰذا اس کے صلے کو بھی ہم نے کس کی صورت دے دی ہے؟ مفرد والی صورت۔ بات یہ کر رہا ہوں کہ موصول کا صلہ ہمیشہ کیا ہوا کرتا ہے؟ جملہ ہوا کرتا ہے، لیکن مجروح یہ جملہ ہے یا شبہ جملہ ہے بھئی؟ شبہ جملہ، معلوم ہوا جملہ نہیں ہے۔ تو بھئی موصول کا صلہ تو جملہ ہوتا ہے، تو صلے کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ جملہ۔ اور یہاں کس کی صورت میں آ رہا ہے؟ شبہ جملہ۔ وجہ یہ کہ وہ اسم موصول کس کی صورت میں آیا ہے؟ الف لام کی صورت میں آ گیا اور الف لام تو کس پر داخل ہوا کرتا ہے، مفرد پر یا جملے پر بھئی؟ مفرد بھئی، کسی اسم پہ داخل ہوتا ہے الف لام۔ تو لہٰذا اس جملے، اس صلے کو ہم نے مفرد والی صورت دے دی۔ کون سی صورت دے دی؟ مفرد والی۔ تو المجروح بمعنی ہوا الذی جرح، کس معنی میں ہوا؟ الف لام سے بنا لو کیا بھئی؟ اسم موصول، الذی۔ اور مجروح ہے بھئی، مفعول کا صیغہ ہے تو اس سے فعل مجہول بنا لو، کیا ہو گیا؟ الذی جرح۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور جرح کے اندر پھر بھئی یا مجروح کے اندر ضمیر نکالیں گے جو اس کے لیے کیا ہوگی؟ اگر مجروح میں نکال رہے ہیں تو یہ کیا ہوگی؟ نائب فاعل، کیونکہ اسم مفعول کے صیغے کے لیے کیا چاہیے ہمیشہ بھئی؟ نائب فاعل چاہیے۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی بھئی؟ اسم مفعول کے صیغے کے لیے نائب فاعل چاہیے، وہ ہمیں چاہیے۔ تو المجروح کے اندر ہوا ضمیر ہے جو اس کا نائب فاعل ہے بھئی۔ اور یہ ضمیر پھر لوٹے گی، کس کی طرف لوٹے گی؟ جی؟ یہ المجروح بمعنی ہوا الذی جرح کے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جرح کی ہوا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ الذی کو راجع ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھا، اسی طرح البارد بھئی، اس کے بارے میں آپ سے کوئی پوچھے تو آپ کیا کہیں گے بھئی؟ یہ کس معنی میں ہے؟ الف لام بمعنی الذی اور بارد بمعنی فعل، اسم فاعل سے کون سا فعل بنائیں گے، معروف یا مجہول بھئی؟ معروف، کیا بن جائے گا؟ الذی برد۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جس باب سے بھی آتا ہو تو اس کے مطابق بنا لیں گے۔ موصوف کے ساتھ یا ربط کیا صفت بنائیں گے؟ جی؟ بھئی، اسم موصول ہے بھئی، اسم موصول، وہ صفت بن رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ میں نے بتایا تھا ربط کس میں ضروری ہے؟ جی؟ جملے میں یا شبہ جملہ میں، یہاں کس کو بنا رہے ہیں آپ؟ اسم موصول کو بنا رہے ہیں، اس میں تو میں نے کوئی ذکر نہیں کیا کہ اس میں کسی ضمیر کا ہونا ضروری جو کس کی جانب لوٹے۔ ہاں، یہ اسم موصول خود اسی پر دلالت کر رہا ہے بھئی، کیا کر رہا ہے؟ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ چلیے، یہ تو ذرا گہری بات آ گئی۔ بہرحال یاد رکھیں بھئی یہ ہمیشہ۔ اب چند جملے لکھیے، ترکیب کیجیے بھئی۔ نصرت، ہاں اب بڑی مشکل ترکیب آ رہی ہے، لکھو بھئی: نصرت زید یوم ذہبت الی الامیر، الی الامیر فیہ، فیہ۔ سمجھ میں آیا؟ مشکل جملہ آیا لیکن گھبرانا نہیں، وہی ساری علامتیں دیکھنا، استعمال کرتے چلے جاؤ، کیسے حل ہوتی ہے مشکل ترکیب بھئی۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ بھئی، جس کو آتی ہے وہ نہ ہاتھ اٹھائے۔ چلو بھئی شاباش، تم کرو بھئی۔ نصرت فعل۔ زید اس کا فاعل بھئی۔ بھئی، معلوم ہوا آپ کی تو صرف بڑی کمزور ہے بھئی۔ گردانیں یاد ہیں؟ نصرت کون سا صیغہ ہے؟ دو میں سے ہے، بارہ میں سے ہے؟ جی؟ بارہ میں سے ہے اور بارہ کے اندر فاعل کون ہوا کرتا ہے؟ ہمیشہ ضمیر ہوتی ہے، تو آپ زید کو کیسے اس کے لیے فاعل بنا رہے ہو؟ ہاں، نصرت فعل بافاعل۔ فاعل کون ہے اس کے اندر؟ پھر تُو ضمیر کہہ رہے ہو بھئی۔ کیا کہیں گے؟ تا کہو، الف با کے بعد کیا آتی ہے؟ تا، یہ تا ہے بھئی حرف، تا ضمیر۔ یا یوں کہو، خاص نام لینا چاہتے ہو پھر کیا لو؟ تُو ضمیر کہو بھئی، کیا کہو؟ تُو۔ اعراب بتاؤ اس کا۔ مرفوع کیوں ہے؟ کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے۔ کون سا مرفوع؟ لفظاً کیوں ہے؟ تلفظ ہو رہا ہے بھئی۔ ہاں بھئی، آپ بتائیے۔ مرفوع محلاً۔ ہاں بھئی، آپ بتائیے، کیوں مرفوع محلاً کہا انہوں نے؟ اور محلاً؟ کیونکہ یہ مبنیات میں سے ہے بھئی۔ آپ پہلے بتایا کسی اسم پہ کیا حرکت آ رہی ہے اس کو نہ دیکھا کرو، پہلے یہ تو سوچو یہ مبنی ہے یا معرب ہے۔ مبنی صرف آٹھ چیزیں ہیں وہ آپ یاد کر لیں بس۔ کون کون سے ہیں مبنیات؟ ضمیریں ہیں، اسمائے اشارہ ہیں، اسمائے موصولہ ہیں اور اسمائے افعال، وہ چیزیں قلیل استعمال ہیں۔ کم از کم یہ تین تو ہر وقت ذہن میں ہونے چاہییں بھئی؛ ضمیریں بھی مبنیات میں سے، اسمائے اشارہ بھی مبنیات میں سے، اسمائے موصولہ بھی، وہاں تو سوچنے کی بات ہی نہیں ہے بھئی۔ اچھا، کیا بتایا بھئی پہلے؟ تا کا اعراب بتاؤ۔ مرفوع محلاً فاعل، شاباش۔ آگے چلو۔ اعراب بتاؤ۔ منصوب بھئی، شاباش۔ کون سا منصوب؟ لفظاً کیسے ہے؟ کر کے دکھاؤ تلفظ۔ تلفظ، کیا؟ پورا پڑھو بھئی، واضح پڑھو۔ نصرت زیداً بھئی، واضح پڑھو۔ زیداً منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ مفعول ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ کس چیز پر؟ تلفظ کس چیز پر ہو رہا ہے؟ کس چیز کا؟ نصب کا، نصب پر کیا ہو رہا ہے باقاعدہ؟ تلفظ ہو رہا ہے، جی۔ یوماً مضاف بھئی۔ ہاں بھئی، اور کون کرے گا بھئی؟ آپ کو ترکیب آتی ہے؟ چلیے کیجیے شاباش بھئی۔ شروع سے کرو جلدی جلدی۔ نصرت فعل بافاعل، اب اس کے اندر فاعل بھی بتا دو، اس کا اعراب بھی بتا دو۔ کون سی ضمیر؟ تا ضمیر، دیکھا، تا ضمیر اس کے اندر مرفوع، کون سی مرفوع؟ مرفوع محلاً فاعل۔ آگے چلو۔ شاباش، زیداً منصوب لفظاً مفعول بہٖ، آگے۔ جی؟ مفعول، ہاں ترجمے پہ غور کرتے جاؤ، آپ کو کچھ نہ کچھ ترجمے سے ہی پتہ چل جائے گا یہ کیا بن رہا ہے اس وقت۔ کیا بن رہا ہے یہ؟ ہاں بتاؤ بھئی، اعراب بتاؤ چلو۔ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ مفعول کون سا؟ مفعول فیہ، ہاں بتایا کرو، گھبرانا نہیں ہے، غلط بتاؤ لیکن بتاؤ ضرور بھئی۔ اچھا، مفعول فیہ۔ اور منصوب پھر کون سا ہے؟ منصوب محلاً، محلاً کیوں کہا آپ نے؟ ظروف میں سے ہے پھر۔ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے ہے بھئی۔ اچھا، وہ کچھ ظروف ہیں بھئی، کچھ ظروف، وہ کس میں سے ہیں؟ مبنیات میں سے، سارے ظروف نہیں ہیں، وہ انہوں نے لکھے ہوئے ہیں کتابوں کے اندر یہ یہ ظرف ہے، یہ مبنیات میں سے ہے۔ تو یہ منصوب لفظاً کہو بھئی، کیا کہو؟ ہاں، ایک ضابطہ بھی ہے جس کے مطابق ظرف کی اضافت اگر جملے کی طرف ہو تو وہ مبنی بن جایا کرتا ہے، لیکن اضافت نہیں ہے یہاں پر بھئی، جی۔ اچھا، یوماً منصوب لفظاً آپ نے کہا مفعول فیہ، آگے چلو۔ ذہبت فعل، ہاں، ذہبت فعل بافاعل ہے، اس کے اندر تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ الیٰ جارہ، الامیر مجرور، کون سا؟ اچھا، مجرور کیوں کہا آپ نے؟ اس پہ حرف جر آیا، شاباش۔ اور لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر رہے ہیں، کیسے کر رہے ہیں؟ کر کے دکھائیں ذرا۔ الی الامیر، شاباش۔ جی، آگے کیوں جا رہے ہو، جار مجرور ختم ہو گئے۔ جار مجرور کہہ رہے ہیں مل کر متعلق ہوئے ذہبت فعل کے ساتھ بھئی۔ نصرت بھی فعل موجود، ذہبت بھی موجود، دو فعل آ گئے۔ کس سے جوڑو گے؟ جی، قریب ہو بھئی، یہ کوئی نیا ضابطہ ہے بھئی؟ کس سے جوڑو گے بھئی؟ میں نے کل باقاعدہ طریقہ بتلایا تھا، کل کے سبق میں تھے؟ پھر کیسے ترکیب کرتے ہو بھئی؟ اور کون ہے بھئی؟ جو باقاعدگی سے آئے وہ ہاتھ اٹھائیں بس بھئی۔ ہاں بھئی، آپ کرو۔ نہیں نہیں، یہیں سے کرو بھئی۔ چلو ٹھہرو بھئی آپ، آپ کرو گے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ذہبت سے، بھئی میں کہتا ہوں نصرت سے متعلق ہیں، پھر؟ ہاں، جس کے ساتھ ملا کر کیا ہو رہا ہو؟ معنیٰ صحیح ہو۔ اب ذرا کر کے دکھاؤ بھئی۔ متعلق کو پکڑو، ذہبت، اور متعلق کو پکڑو الی الامیر، تو ذہبت الی الامیر، اب صرف یہ ٹکڑا نکال لو اور ترجمہ کرو۔ میں گیا امیر کی طرف۔ ترجمہ ٹھیک ہو رہا ہے یا غلط ہو رہا ہے؟ صحیح۔ اب ذرا وہ دوسرے کے ساتھ بھی دیکھو، جڑتا ہے یا نہیں۔ نصرت الی الامیر، کیا ترجمہ ہوا؟ میں نے مدد کی امیر کی طرف۔ میں نے مدد کی امیر کی طرف، کوئی بات بنتی ہے بھئی؟ امیر کی مدد تو کی، یہ تو کہہ سکتے ہیں میں نے امیر کی مدد کی۔ امیر کی طرف مدد کی، وہ تو اس کے ساتھ جڑ ہی نہیں رہا بھئی۔ دیکھا، اس طرح پتہ چلاتے ہیں بھئی۔ تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ذہبت فعل کے ساتھ۔ آگے۔ فی جارہ، ہا ضمیر مجرور محلاً۔ جی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے، کس سے متعلق ہوئے؟ نصرت۔ اچھا، چلیے جی، جار مجرور مل کر متعلق کس سے ہو گئے بھئی؟ نصرت سے، اچھا۔ چلیے، اب سمیٹیے بھئی۔ سمیٹیں بھئی، ختم ہو گیا، آگے تو کوئی لفظ نہیں باقی۔ ہاں، اب ان کو جوڑتے، جی۔ آخر کی طرف سے سمیٹتے جاؤ بھئی۔ ذہبت فعل، ذہبت فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، اوہ جملہ کیسے متعلق کر رہے ہو؟ جار مجرور متعلق ہوتا ہے۔ ہاں بھئی، کیا بنائیں گے ذہبت کو بھئی؟ کیا بنائیں گے؟ ضابطہ میں نے لکھوایا تھا، کیا ضابطہ تھا؟ نکرہ کے بعد اگر فعل آ جائے، لکھوایا تھا یا نہیں؟ لکھوایا ضابطہ؟ لکھوایا بھئی؟ ہاں بھئی، نکرہ، میں نے ضابطہ لکھوایا تھا: نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ عموماً اس نکرہ کے لیے کیا بنا کرتا ہے؟ صفت۔ اس لیے کہ اس فعل نے بننا ہے جملہ اور جملہ کس کے حکم میں ہوا کرتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں، تو وہ نکرہ کے لیے کیا بن سکتا ہے؟ اس ضابطے کو تو ہمیشہ یاد رکھو، یہ تو جگہ جگہ عبارتوں میں آتا ہے اور اس کے ذریعے ترجمہ بڑی آسانی سے آپ کر سکیں گے ہر جگہ۔ جب بھی نکرہ کے بعد کیا آ جائے؟ فعل آ جائے تو کون سی ترکیب کرنے کی کوشش کرو پہلے؟ موصوف صفت والی، اس کے بعد کسی اور طرف جاؤ بھئی۔ موصوف صفت سے ہی وہ معاملہ اکثر جگہ حل ہو جائے گا۔ تو یوماً ہے نکرہ اور اس کے بعد آ رہا ہے فعل اور فعل نکرہ کے بعد آئے تو کیا بنتا ہے؟ صفت۔ معلوم ہوا یوماً کو بناؤ موصوف اور آگے جملہ فعلیہ خبریہ کو بناؤ اس کی صفت۔ لیکن پھر اشکال ہوا کہ صفت تو ٹھیک ہے بھئی، بنا لیتے ہیں ہم، لیکن ربط ہی نہیں ہے، کیسے بنائیں بھئی؟ عائد ہی کوئی نہیں بتایا، کوئی ضمیر لوٹ رہی ہے بھئی جملے کے اندر موصوف کی طرف؟ جملے کو کس سے جوڑ رہے ہیں آپ؟ موصوف سے، تو کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، یہاں کوئی عائد ذکر کیا انہوں نے؟ نہیں، تو پھر کیسے جوڑ رہے ہیں بھئی؟ تا ضمیر تو متکلم کی ہے، متکلم کی ضمیر ہے اور میں نے بتایا تھا مرجع صرف کس ضمیر کا ہوتا ہے؟ صرف غائب کی ضمیر کا مرجع تلاش کیا جاتا ہے، متکلم تو وہ خود ہے اور مخاطب تو سامنے موجود ہے، تو متکلم اور مخاطب کی ضمیر کا کبھی بھی مرجع تلاش نہیں کرنا بھئی، غائب کی ضمیر کا مرجع تلاش کیا جاتا ہے۔ تو اتنا تو میں نے بتا دیا کہ اس نے بننا صفت ہے بھئی۔ دیکھو، انہوں نے غلطی یہ کی کہ فیہ کو انہوں نے متعلق کر دیا نصرت کے ساتھ۔ اگر اس کو کس کے ساتھ متعلق کرتے؟ ذہبت سے، تو اب فیہ کی ہا ضمیر کس کو لوٹ جاتی؟ یوماً کو، تو عائد ہمیں حاصل ہو جاتا۔ لیکن انہوں نے تو اس کو جوڑ دیا نصرت سے، اس حصے میں وہ رہا ہی نہیں، گویا یوماً سے نکل کر پیچھے چلا گیا، تو عائد باقی نہ رہا۔ لہٰذا اس فیہ کو کس سے جوڑو بھئی؟ ذہبت سے۔ تو ذہبت فعل اپنے فاعل اور دونوں متعلقین سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ یوماً کے لیے۔ اور یوماً تو ہے منصوب، تو یہ جملہ بھی کیا ہوگا؟ منصوب ہوگا محلاً، کیونکہ جملہ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے ہے بھئی، مبنیات میں سے۔ جی، موصوف صفت مل کر اب کیا بنے؟ پہلے جز کو دیکھ لیا کرو بھئی۔ کیا بنے؟ مفعول فیہ، ظرف بن گئے بھئی نصرت کے لیے۔ نصرت پھر کیا کیا رہ گیا؟ نصرت فعل اپنے فاعل، مفعول اور اور مفعول فیہ سے، مفعول بہٖ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ مشکل ترکیب تھی بھئی، دماغ پہ ذرا بوجھ پڑا ہوگا لیکن مشکل ترکیبیں کرو گے تو پھر آہستہ آہستہ سیکھتے جاؤ گے۔ جی، پڑھیے ذرا اس کو روانی سے۔ دوبارہ پڑھو۔ نصرت، یہ پڑھ رہے ہیں: نَصَرْتُ زَيْدًا يَوْمًا ذَهَبْتُ إِلَى الأَمِيْرِ فِيْهِ۔ بھئی، زیداً یوماً نہ پڑھو، زَيْدَيَّوْمًا پڑھو۔ کیونکہ یرملون سے پہلے کیا آیا بھئی؟ نون ساکن، یا آئی بھئی اور یا یرملون میں سے ہے اور اس سے پہلے نون ساکن آیا اور یرملون سے پہلے نون ساکن آئے تو اس کو اس حرف کی جنس میں بدل کر اس میں ادغام کرتے ہیں تو زیدَیَّوماً۔ نَصَرْتُ زَيْدَيَّوْمًا ذَهَبْتُ إِلَى الأَمِيْرِ فِيْهِ۔ جی، اب ترجمہ بھی کیجیے۔ نصرت زیداً، میں نے مدد کی زید کی، ایسے دن میں کہ گیا تھا میں امیر کی طرف اس دن میں۔ شاباش۔ میں نے مدد، سنو بھئی غور سے، میں نے مدد کی زید کی ایسے دن میں کہ گیا تھا میں امیر کی طرف اس دن میں۔ گیا تھا میں امیر کی طرف اس دن میں۔ یعنی جس، اب یہ تو لفظی ترجمہ تھا، با محاورہ کیا ترجمہ ہوا؟ جس دن میں امیر کے پاس گیا تھا اس دن میں نے زید کی مدد کی بھئی۔ زَيْنَبُ فِي الدَّارِ۔ زَيْنَبُ فِي الدَّارِ۔ الحمد للہ۔ یرحمک اللہ۔ چلیے جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ آپ کیجیے۔ اعراب سب سے پہلے۔ زینبُ مرفوع لفظاً بھئی۔ جی؟ منصرف ہوگا یا غیر منصرف بھئی؟ کس وجہ سے؟ تانیث، تانیثِ معنوی، تانیث آ گئی اور علمیت آ گئی، دو بھئی اسباب، یہ غیر منصرف، اس لیے تنوین، زینبٌ نہیں پڑھنا بھئی۔ زینبُ مرفوع لفظاً مبتدا، مرفوع کیوں کہا بھئی؟ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کس چیز پر ہو رہا ہے؟ رفع پر تلفظ ہو رہا ہے بھئی۔ آگے۔ فی جارہ، کون سا مجرور؟ الدارِ مجرور لفظاً، مجرور کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ اس پر حرف جر داخل ہوا۔ لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ تلفظ کر رہے ہیں ہم اس جر پر بھئی، کسرہ پر۔ جی، جار مجرور۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبت فعل کے ساتھ بھئی، شاباش۔ کیونکہ اس جملے کے اندر نہ کوئی فعل ہے، نہ مصدر ہے، نہ اسم فاعل، اسم مفعول، وہ آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی یہاں موجود نہیں، تو پھر محذوف نکالنی پڑتی ہے۔ معلوم ہوا فی الدار کون سا ظرف ہے بھئی؟ جی؟ مستقر یا لغو بھئی؟ محذوف ہے، یہ ظرف مستقر ہے فی الدار بھئی۔ اچھا، یہ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثبت فعل کے ساتھ انہوں نے کہا اور اب پوری کیجیے ترکیب۔ شاباش، ثبت فعل، ہوا ضمیر اس کے اندر، اعراب بتاؤ بھئی۔ مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ شاباش، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر، جملہ کہو، جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے۔ بھئی، آپ نے جملے کو دیکھا، جملہ بن گیا اور جملے کو آپ نے جوڑا مبتدا سے، ربط آپ نے کوئی بھی نہیں بتایا۔ اس میں ہوا ضمیر ہے جو کس کو لوٹ رہی ہے بھئی؟ کس کو لوٹ رہی ہے؟ ہیا ضمیر کہاں سے لائیں اب بھئی؟ ہوا ضمیر آپ نے نکالی، وہ زینب کو لوٹ سکتی ہے؟ وہ تو مذکر کی ضمیر ہے، پھر کیا کرنا پڑے گا؟ ہمیں چاہیے کون سی ضمیر؟ مونث کی، تو وہ محذوف اس کے مطابق نکالو بھئی۔ کون سا صیغہ نکالیں کہ ہمیں ہیا ضمیر اس میں مل جائے؟ واحد مونث غائبہ کا صیغہ نکال لو، ثبت، ثبتت بھئی۔ ثبتت، شاباش بھئی۔ تو ثبتت فعل، ہیا ضمیر اس کے اندر فاعل، دیکھا، مرجع تلاش کرو بھئی، اس کو ملاؤ، پھر دیکھو جملے صحیح ہوتے چلے جائیں گے۔ تو اس میں ہیا ضمیر عائد ہوئی، ثبتت فعل اب جوڑو سب کو، اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر۔ تو معلوم ہوا اس جملے کا اعراب کیا ہے بھئی؟ یہ کس کی جگہ پر آ رہا ہے؟ یہ پورا جملہ اس کو کیا بنایا آپ نے؟ خبر، خبر کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے؟ مرفوع، معلوم ہوا یہ جملہ بھی مرفوع ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مبتدا، خبر مل کے جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، اب روانی سے پڑھیے اس کو۔ زَيْنَبُ فِي الدَّارِ۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ ہاں، زینب ثبتت کا بھی کر دو ترجمہ۔ زینب کہ ثابت ہے وہ فی الدار گھر میں، یعنی گھر میں ہے، زینب گھر میں ہے، وہی ترجمہ۔ اِشْتَدَّ، اِشْتَدَّ، البَرْدُ، البَرْدُ، اليَوْمَ، مِنْ، السَّاعَةِ، مِنْ، السَّاعَةِ، السَّاعَةِ، الثَّالِثَةِ، الثَّالِثَةِ۔ جی، کون کرے گا بھئی ترکیب اس طرف بھئی؟ چلیے جی، کیجیے آپ بھئی۔ اشتد فعل۔ اشتد کا کیا معنیٰ؟ شدید ہونا۔ اور برد کا کیا معنیٰ؟ سردی، جی۔ جی، جلدی جلدی کرو ترکیب، کیا مشکل ہے اس میں؟ اشتد فعل۔ البردُ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا؟ مبتدا بن رہا ہے، فعل کے بعد فوراً کون آیا کرتا ہے بھئی؟ مبتدا، چلو ہاں ٹھیک ہے، سبقت لسانی ہو گئی، معلوم ہوا فاعل کہنا چاہتے تھے۔ فاعل ہے بھئی، جی، اور مرفوع لفظاً کیوں کہا؟ کس چیز پہ؟ رفع پر تلفظ ہو رہا ہے، البردُ، جی، آگے۔ الیومَ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا؟ مفعول فیہ بنے گا، مفعول فیہ بنے گا اور لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر رہے ہیں الیومَ، میم پر نصب پڑھ رہے ہیں باقاعدہ، جی، آگے۔ من جارہ، الساعۃِ مجرور، مجرور کون سا؟ مجرور کیوں کہا آپ نے؟ ہاں شاباش، اس پہ حرف جر داخل ہوا ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے کسرہ پہ، الساعۃِ، آگے۔ ضابطہ لگے گا بھئی، کون سا ضابطہ؟ کون سا ضابطہ؟ معرفہ کے بعد معرفہ ہے تو پہلے کیا کوشش کرو؟ موصوف صفت بن سکتے ہیں تو بنا دو، نہیں بن سکتے تو الگ بات ہے۔ ساعۃ کا کیا معنیٰ؟ گھنٹہ، گھنٹہ، وقت۔ اچھا، موصوف صفت بن سکتے ہیں یا نہیں بن سکتے؟ تو پھر بناتے کیوں نہیں ہو؟ کہہ رہے ہیں بن بھی سکتے ہیں لیکن بنانا نہیں بھئی۔ گھنٹہ ہو، الثالثہ کون سا ہو؟ تیسرا گھنٹہ، تو بن سکتے ہیں یا نہیں بن سکتے؟ ترجمے پہ غور کرو، وہیں سے موصوف صفت ہو، اور طرف جانے کی ضرورت نہیں، ترجمہ ہی دیکھ کے آدھی ترکیب حل کر دیا کرو۔ جی، کیا بنایا آپ نے؟ موصوف صفت، چلو شکر ہے اتنا مان گئے بھئی۔ اب اعراب بتاؤ الثالثہ کا۔ مجرور، کیوں مجرور ہے؟ ایک ہوتا ہے، شاباش، موصوف مجرور تھا تو صفت بھی کیا ہوئی؟ مجرور، یہ بات تو طے ہے۔ اب بتاؤ لفظاً ہے، محلاً ہے یا تقدیراً ہے؟ لفظاً کیوں ہے؟ کیسے؟ شاباش، الثالثۃِ، کسرہ پر کیا ہو رہا ہے؟ تلفظ بھئی۔ اب ذرا اس کو روانی سے، ابھی تو جوڑ رہے ہو آپ، ہاں جوڑو، پھر موصوف اپنی صفت سے مل کر موصوف صفت پر کیا آیا ہے بھئی؟ من آیا، ہاں موصوف صفت مل کر مجرور۔ آگے۔ ہاں شاباش، جار مجرور مل کر، خبر کیا، پچھلے لفظ نکل گئے ذہن سے اب۔ خبر تو تب بنتی جب پیچھے آپ مبتدا ذکر کرتے، کوئی مبتدا تو نہیں ذکر کیا آپ نے۔ مجرور، جی، متعلق ہوئے، شاباش، کس سے؟ شاباش، اشتد فعل کے ساتھ۔ بھئی، ترجمہ جڑتے بھی ہیں یا نہیں؟ اِشْتَدَّ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، شدید ہو گئی فی الساعۃ الثالثۃ، تیسرے گھنٹے میں۔ جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ جڑ رہا ہے بھئی، شاباش، ہاں اب باقی کرو۔ سارے لفظ ختم ہو گئے، جار مجرور کو بھی جوڑ دیا، اب سمیٹ لو سب کو۔ جی۔ فعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر، ہاں۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ اور اور بھی ایک چیز جوڑی تھی آپ نے۔ یہ جار مجرور کو نہیں جوڑا آپ نے، اس کو نہیں گننا؟ فعل اپنے فاعل، مفعول اور متعلق سے مل کر کیا بن گیا؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھو بھئی۔ جی شاباش، اِشْتَدَّ البَرْدُ اليَوْمَ فِي السَّاعَةِ، مِنَ، فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ یا مِنَ السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ترجمہ کیجیے۔ فعل والا ترجمہ کرو، زیادہ ہے نہیں، زیادہ ہوئی۔ سردی، آج، آج کے دن، تیسرے گھنٹے سے، شاباش بھئی۔ اشتد البرد، زیادہ ہو گئی سردی، الیوم، آج کے دن، فی الساعۃ الثالثۃ یا من الساعۃ الثالثۃ، تیسرے گھنٹے سے، یعنی تین بجے سے۔ تین بجے سے سردی زیادہ ہو گئی۔ اچھا، چلیے بھئی، بس کریں بھئی، ہاں۔ اچھا بھئی، آئیے بھئی، دعا کرتے ہیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ آپ کے ایک ساتھی، ایک دو ساتھی ہیں انہوں نے بھی دعا کا کہا ہے، وہ بھی پریشان ہیں، ان کے لیے بھی دعا کریں، اللہ ان کی پریشانی دور فرمائے۔ اے اللہ! ان کی پریشانی دور فرما۔ اے اللہ! ان کی پریشانی دور فرما۔ ایک اور میرے جاننے والے ہیں ان کا بھی ابھی ٹیلیفون آیا تھا، بڑی پریشانی میں ہیں، دعا کریں کہ اللہ ان کی بھی پریشانی دور فرمائے۔ اے اللہ! ان کی پریشانی دور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اللہ سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام پریشانیاں اور تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! علم، تحصیل علم کے راستے میں اے اللہ جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور فرما۔ اے اللہ! سب کو علم نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے علم پر عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ! اس علم سے ہماری حفاظت فرما جو آخرت میں ہمارے لیے وبال بن جائے۔ اے اللہ! علم نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! سنتوں کی بے انتہا محبت نصیب فرما۔ اے اللہ! سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! گمراہی اور بدعتوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جو مسلمان جس انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، اے اللہ سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ دشمنان اسلام کو اے اللہ ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! اپنے فضل سے ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرہ۔
49 approved lectures · 12 of 49