Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 43
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔1 آپ نے پڑھا ہے بھئی جملہ دو قسم پر ہے، جملہ خبریہ ہوگا یا انشائیہ ہوگا بھئی۔ اور دوسری تقسیم یہ کہ جملہ، یا جملہ اسمیہ ہوگا یا فعلیہ ہوگا یا ظرفیہ ہوگا، تین قسمیں بھئی۔ جملہ اسمیہ، جملہ فعلیہ اور جملہ ظرفیہ۔ جملہ اسمیہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ ہاں، جس کا پہلا جزء اسم ہو، وہ جملہ اسمیہ کہلاتا ہے۔ اور جس کا پہلا جزء فعل ہو، وہ جملہ فعلیہ کہلاتا ہے۔ ایک تیسری قسم میں نے بتلائی جملہ ظرفیہ۔ جملہ ظرفیہ کی دو تعریفیں کرتے ہیں بھئی۔ بعض علماء کہتے ہیں جملہ ظرفیہ وہ ہے جس کا پہلا جزء ظرف ہو بھئی۔ جیسے میں کہتا ہوں: عِنْدِیْ مَالٌ، تو یہ عِنْدَ ظرف ہے اور جس جملے کا پہلا جزء ظرف ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ جملہ ظرفیہ کہلاتا ہے۔ تو متقدمین جو ہیں جملے کی یہی تین قسمیں بیان کرتے تھے یہاں تک کہ علامہ زمخشری کا دور آیا۔ علامہ زمخشری جنہوں نے قرآن کی عظیم تفسیر کشاف لکھی ہے، علماء فرماتے ہیں کہ کشاف ایسی تفسیر ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام علماء جو بھی تفسیر کرنا چاہیں، اس تفسیر کے وہ محتاج ہیں۔ تو علامہ زمخشری نے ایک تیسری قسم بیان کی جملہ شرطیہ۔ تو جملہ شرطیہ، جملہ ظرفیہ، جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ۔ اگرچہ ان کا مآل پھر دیکھا جائے تو صرف دو ہی قسم بنتی ہے: جملہ اسمیہ ہوگا یا فعلیہ ہوگا بھئی۔ جملہ ظرفیہ کے اندر بھی مبتدا خبر بن جائیں گے، وہ جملہ اسمیہ بن جائے گا۔ اور جملہ شرطیہ کے اندر بھی اسی طرح ہوگا، وہ جملہ اسمیہ بنے گا یا جملہ فعلیہ۔ تو بس آسان لفظوں میں یوں سمجھیں جملہ دو ہی قسم پر ہے: ایک جملہ اسمیہ ہے جس کا پہلا جزء اسم ہو، اور دوسرا جملہ فعلیہ ہے جس کا پہلا جزء فعل ہو۔ اب جملہ اسمیہ سے ہم ترکیب شروع کرتے ہیں بھئی۔ ابتداء میں بالکل آسان تراکیب سے شروع کریں گے، تاکہ کمزور طلباء کو ساتھ لے کر چلنا ہے بھئی۔ وہ بھی تاکہ ہمارے ساتھ چل سکیں۔ اور جن ساتھیوں کو آتی ہے، وہ بھی اپنے دوسرے ساتھیوں کی اعانت کرتے رہیں بھئی۔ دین کا کام آپ یہ نہ سوچیں کہ جب پڑھانے جائیں گے، وہاں پھر ہم دین کا کام کریں گے۔ نہیں بھئی، یہ بھی دین کا کام ہے یہاں پر اپنے ساتھیوں کو تیار کرو، ان کے ساتھ محنت کرو۔ آپ کی وجہ سے اگر آپ کے ایک یا دو ساتھی بھی تیار ہو جاتے ہیں، تو وہ ساری زندگی جتنے نیک عمل وغیرہ علم کے ذریعے جو اشاعت میں کام کرتے رہیں گے، اس سارے کے ثواب میں آپ بھی حصہ دار بن جائیں گے۔ تو جملہ اسمیہ یاد رکھیں۔ اس میں دو چیزیں ہوتی ہیں بس، ایک ہے پہلا جزء وہ مبتدا کہلاتا ہے اور دوسرا جزء خبر۔ مبتدا بھی مرفوع ہوگا اور خبر بھی مرفوع ہوگی۔ اور یاد رکھیں مبتدا ہمیشہ معرفہ آئے گا، اور خبر عموماً جو ہے وہ نکرہ آئے گی۔ مبتدا معرفہ اور خبر نکرہ۔ ہاں کبھی کبھار نکرہ بھی مبتدا بن جاتا ہے لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہیں جو اپنے مقام پر انشاءاللہ آ جائیں گی بھئی۔ بس فی الحال آپ یہ یاد رکھیں، جو ترکیب سے بالکل ناواقف ہیں، کہ مبتدا کیا ہوگا؟ معرفہ، اور خبر کیا ہوگی؟ نکرہ۔ ایک جملہ آ جاتا ہے آپ کے سامنے، ایک لفظ معرفہ ہے، ایک لفظ نکرہ ہے، آپ کس کو مبتدا بنائیں گے؟ معرفہ کو، اور خبر کس کو بنائیں گے؟ نکرہ کو بنائیں گے بھئی۔ اب اس کے بعد معرفہ کی قسمیں، تین چیزیں آپ کو یاد رکھنی ہیں بھئی اس میں ہمیشہ۔ معرفہ کی قسمیں آپ کو ساری معلوم ہونی چاہئیں، چھ سات قسمیں معرفہ کی۔ اسی طرح آپ کو مبنی کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے، مبنی آٹھ چیزیں ہیں کون کون سی ہیں، بس نام پتہ ہونا چاہیے کچھ بھئی۔ اور وہ سولہ قسمیں جو آپ نے نحو میر میں پڑھی ہیں وہ یاد ہونی چاہئیں۔ وہ سولہ قسمیں اگر آپ کو آتی ہیں تو پھر آپ کو اچھی طرح فائدہ ہوگا، اگر نہیں آتیں تو ان کو یاد کر لیں بھئی۔ انشاءاللہ پھر جو بھی کتاب اٹھائیں گے انشاءاللہ آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، عبارت حل کرنے میں۔ وہ سولہ قسموں میں سارے اعراب آ جائیں گے، وہ یاد ہونی چاہئیں۔ تو معرفہ جو ہے، کون کون سی قسمیں ہیں بھئی؟ ضمائر ہیں معرفہ، ضمیریں ہیں، علم ہے، اسم اشارہ ہے، اسم موصول ہے، معرف باللام ہے، معرفہ بالنداء ہے، اور ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو جائے، وہ بھی کیا ہوگا؟ معرفہ۔ مثلاً غلام نکرہ ہے، لیکن جب یہ مضاف بن گیا معرفہ مثلاً زید کی طرف: غُلَامُ زَیْدٍ، تو یہ غلام بھی کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ تو معرفہ کی یہ قسمیں: ضمائر ہیں اور علم ہیں، نام، زید، عمر، بکر وغیرہ، اور اسم اشارہ ہے، اسم موصول ہے، اور معرفہ بالنداء ہے، اور ان میں سے کسی ایک کی طرف مضاف ہے، اور معرف باللام ہے۔ مبنی بھئی مبنی، آٹھ ہیں بھئی مبنی، مبنیات آٹھ ہیں، وہ بھی یاد ہونے چاہئیں آپ کو۔ جی، مبنیات: تمام ضمیریں آ گئیں اس میں بھئی، ضمائر، اسمائے اشارہ، اسمائے موصولہ، جی، اور کچھ مرکبات ہیں بھئی وہ مبنی ہیں، اصوات ہیں، اور کتنے ہو گئے بھئی؟ جی، اور اسی طرح اسمائے افعال ہیں، کنایات ہیں، اور کچھ ظروف ہیں بھئی۔ بس یہ آٹھ قسمیں ہیں، بس یہ آپ کو یاد ہونی چاہئیں۔ کہتے کس کو ہیں؟ تھوڑا سا یہ اندازہ ہونا چاہیے بس۔ لکھ لیے بھئی مبنی؟ اچھا اب یاد رکھو، اسم دو قسم پر ہے: یا معرب ہوگا یا مبنی ہوگا۔ مبنی کا اعراب ہمیشہ محلاً آئے گا۔ یعنی اس پہ رفع، نصب، جر نہیں آ سکتے، محل کے اعتبار سے وہ مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجرور ہوگا۔ اور جبکہ معرب کا اعراب یا لفظی ہوگا یا تقدیراً ہوگا، یا لفظاً ہوگا یا تقدیراً ہوگا۔ دو قسم، تو اعراب تین قسم پر ہوا بھئی: یا لفظی ہوگا، یا تقدیری ہوگا، یا محلی ہوگا۔ تو یہ یاد رکھیں بھئی۔ مثال بھی دیکھ لیں اس سے آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی: جَاءَ زَیْدٌ، تو زید دیکھیے معرب ہے اور زیدٌ پر دیکھیے رفع کا میں تلفظ کر رہا ہوں۔ تو یہ زیدٌ مرفوع ہے لفظاً۔ مرفوع ہے لفظاً، جی۔ جَاءَ مُوْسٰی، اب موسیٰ فاعل ہے جاء کے لیے، تو یہ مرفوع ہے۔ لیکن مرفوع کس قسم کا ہے؟ تقدیراً ہے یہ، تقدیراً۔ سولہ قسمیں آپ نے پڑھی ہوں تو ان میں سے یہ اسم مقصور ہے۔ اور میں کہتا ہوں: جَاءَ ھٰٓؤُلَآءِ، دیکھو اسم اشارہ آ گیا ھٰٓؤُلَآءِ، اور اسم اشارہ آپ نے پڑھا کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے۔ تو جَاءَ ھٰٓؤُلَآءِ، دیکھو جاء کے لیے فاعل بن رہا ہے ھٰٓؤُلَآءِ لیکن اس پر رفع نہیں آ رہا، یہ ہمیشہ ھٰٓؤُلَآءِ ہی رہے گا چاہے یہ مرفوع ہو، منصوب ہو یا مجرور ہو۔ تو یہ مبنی ہے، تو اس کو ہم کہیں گے یہ محلاً مرفوع ہے کیونکہ یہ فاعل بن رہا ہے۔ اچھا اب ترکیب شروع کریں بھئی۔ پہلا جملہ: اَللہُ وَاحِدٌ۔ اچھا کون کرے گا ترکیب؟ ایسا طالب علم، ایسے طالب علم کریں گے ترکیب جن کو بالکل نہیں آتی۔ اور دیکھیے شرم آپ نے بالکل نہیں کرنی کہ میرے بارے میں میرے ساتھی کیا کہیں گے۔ شرم، اگر ابھی بھی شرم کی تو پھر کب سیکھیں گے؟ جب پڑھانے بیٹھیں گے پھر تو بڑی پریشانی ہوگی۔ بالکل شرم نہیں کرنی۔ مستقل مزاجی سے آئیں، شرم کیے بغیر سیکھیں، ترکیب کریں، غلطی ہو کوئی پرواہ نہیں، میں چاہوں گا یہ کہ آپ سے غلطی ہو۔ غلطی کے بعد جو چیز سیکھی جاتی ہے وہ کبھی نہیں بھولتی۔ اور کسی نے کسی ساتھی پر ہنسنا بالکل نہیں ہے۔ اگر کسی سے تعاون نہیں کر سکتے تو کم از کم دوسرے کی حوصلہ شکنی تو نہ کرو، اس کو سیکھنے دو بھئی، بالکل نہیں ہنسنا۔ تو پہلے بالکل آسان ترکیبیں ہم شروع کریں گے پھر آہستہ آہستہ مشکل ترکیبوں کی طرف بھی جائیں گے۔ جی۔ جی، آپ کو بالکل نہیں آتی ترکیب؟ چلو بھئی ٹھیک ہے بھئی، اَللہُ وَاحِدٌ، کیجیے۔ بیٹھے، بیٹھ کے، بیٹھ کے۔ دیکھو، اس کا ترجمہ کرو۔ اللہ ایک ہے، معلوم ہوا پورا جملہ ہے۔ جب، ”ہے“ کا لفظ اگر نہ ہوتا، اللہ ایک، یہ پورا جملہ نہیں ہے۔ جب ”ہے“ آپ نے کہہ دیا معلوم ہوا یہ پورا جملہ ہے، فائدہ دے رہا ہے، اس سے ایک بات پوری سمجھ میں آ رہی ہے۔ تو اب غور کریں یہ جملہ فعلیہ بنے گا یا جملہ اسمیہ بنے گا؟ اگر یہ جملہ اسمیہ بنتا ہے تو اس کے اندر تو دو ہی جزء ہوتے ہیں، ایک مبتدا ہوتا ہے اور دوسرا خبر ہوتی ہے۔ جی۔ جی، لفظ اللہ مبتدا۔ جی، اس کا اعراب بتلاؤ بھئی اب۔ اعراب، اعراب کے ذریعے بھئی آپ نے جب عبارت کتاب کے اندر حل کرنی ہے، وہاں ہر ہر لفظ کا اعراب نکالتے جاتے ہیں پھر اس کو تیزی سے پڑھ لیتے ہیں تو یہاں بھی اعراب بتائیں بھئی۔ مرفوع، اور مرفوع پھر میں نے بتلایا تھا تین قسم پر ہے: یا لفظاً ہوگا یا تقدیراً ہوگا یا محلاً ہوگا۔ بھئی لفظاً کہہ دیا، یہ تو تقدیراً ہے بھئی۔ جی؟ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ لفظاً ہے؟ نہیں اس کی بات کریں، اب اس میں بات سمجھائیں مجھے۔ دیکھو یہ مرفوع ہے، اَللہُ، دیکھو میں رفع پڑھ رہا ہوں یا نہیں پڑھ رہا بھئی؟ تلفظ کر رہا ہوں، یہ تلفظ بتلا رہا ہے کہ یہ مرفوع ہے۔ جی، تو یہ مرفوع ہوگا لفظاً، شاباش۔ جی، لفظ اللہ مرفوع لفظاً مبتدا۔ اعراب، سب سے پہلے اعراب۔ مرفوع کون سا؟ مرفوع محلاً، محلاً کون ہوتا ہے مرفوع بھئی؟ مبنی ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ مبنی ہے؟ جی؟ یہ کیا ہے؟ مرفوع لفظاً ہے، تقدیراً ہے یا محلاً ہے؟ لفظاً مرفوع، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ بھئی وَاحِدٌ، وَاحِدٌ، آپ تلفظ کر رہے ہیں یعنی رفع پر، تو یہ مرفوع ہے لفظاً۔ تو وَاحِدٌ مرفوع لفظاً خبر۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، زَیْدٌ رَجُلٌ، کون کرے گا ترکیب؟ ایسا طالب علم جسے بالکل نہ آتی ہو وہ ہاتھ اٹھائے بھئی، اور کوئی نہ ہاتھ اٹھائے، جی۔ زَیْدٌ رَجُلٌ، جی ترکیب، خلاصہ کلام نہ سنائیں بھئی، ترکیب کرو، ہاں۔ جی، لفظاً آپ کو کیسے پتہ چلا؟ جی، میں کہیں میں اس پر تلفظ کر رہا ہوں، زَیْدٌ، آپ تلفظ کر رہے ہیں یا نہیں؟ دیکھو زَیْداً پڑھتا تو یہ نصب پہ تلفظ ہوتا، زَیْدٍ پڑھتے تو یہ جر پہ تلفظ ہوتا، تو آپ اس کو کس پر تلفظ کر رہے ہیں؟ رفع پہ، تو زَیْدٌ مرفوع، مرفوع لفظاً کیا بنے گا؟ مبتدا کیسے بھئی؟ مبتدا تو آگے آ رہا ہے، رَجُلٌ۔ جی، جملہ اسمیہ کا پہلا جزء مبتدا۔ نہیں یہ تو علامت نہیں آپ نے کوئی بتائی۔ دیکھو غور کرو، دو لفظ ہیں آپ کے پاس صرف: ایک زید، ایک رجل۔ زید معرفہ ہے۔ معرفہ کی وہ چھ سات قسمیں یاد ہیں؟ ان میں سے یہ علم ہے، آپ غور کریں، نام ہے کسی کا۔ اور رجل یہ نکرہ ہے کیونکہ یہ نہ اسم اشارہ ہے، نہ یہ اسم موصول ہے، نہ یہ کسی کا نام ہے، نہ یہ معرفہ بالنداء ہے، نہ اس پہ الف لام، آپ چھ کی سات قسموں پہ غور کر لیں، ان میں سے کوئی بھی نہیں، معلوم ہوا یہ نکرہ ہے۔ تو یہ نکرہ ہوا، اور جب دو اسم آپ کے پاس ہوں، ایک معرفہ ہو ایک نکرہ ہو، تو مبتدا کس کو بنانا ہے؟ معرفہ کو بنانا ہے، جی۔ تو زَیْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ اسم، معرب کچھ بھی نہیں بتانا بس یہ بتائیں: مرفوع ہے، منصوب ہے یا مجرور ہے؟ مرفوع ہے، اور کون سا مرفوع ہے؟ مرفوع تین قسم پر ہے۔ لفظاً کہتے ہیں، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ تلفظ کر رہے ہیں اس رفع پر آپ، رَجُلٌ، جی۔ مرفوع لفظاً خبر، خبر۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، شاباش۔ ھٰذَا زَیْدٌ، یہ کون کرے گا ترکیب؟ اور کس کو ترکیب نہیں آتی بھئی؟ ہمت کرو بھئی۔ شرم کو چھوڑ دیں تھوڑی دیر کے لیے بھئی، شاباش۔ مستقل مزاجی سے آنا بھی ہے، ٹھیک ہے بھئی؟ جی، ھٰذَا زَیْدٌ۔ ہاں، اسم اشارہ ترکیب میں یعنی بتانے کی ضرورت، یہ کیا ہے بس، جی۔ ھٰذَا زَیْدٌ، کیا ترجمہ ہوا؟ یہ زید ہے، پورا جملہ ہے معلوم ہوا، اور اس میں کیا آ رہا ہے؟ اسم ہے یا فعل آ رہا ہے شروع میں؟ اسم آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ کون سا جملہ ہے؟ جملہ اسمیہ، اور جملہ اسمیہ میں کتنی چیزیں چاہیے ہوتی ہیں؟ جی؟ دو: ایک مبتدا، دوسرا خبر چاہیے، تو یہاں مبتدا ہم بناتے ہیں معرفہ کو اور خبر کس کو بناتے ہیں؟ نکرہ کو۔ اب آپ مجھے بتائیے بھئی کس کو مبتدا ہم بنائیں، کس کو خبر بنائیں؟ اس کو آپ نے کیوں مبتدا بنایا؟ مبنیات میں سے، شاباش، یہ ٹھیک ہے، لیکن مبتدا تو میں نے بتلایا تھا معرفہ کو بنانا ہے اور خبر کس کو بنانا ہے؟ نکرہ کو، اب؟ زید نکرہ ہے، معرفہ ہے؟ جی؟ معرفہ ہے، زید نام ہے بھئی۔ معرفہ کہتے ہیں جو کسی متعین ذات پہ دلالت کرتا ہے، معلوم ذات پہ دلالت کرتا ہے وہ۔ جب میں زید کہتا ہوں، آپ کے ذہن میں فوراً کس کا تصور آتا ہے؟ زید کا، تو معلوم ہوا یہ معرفہ ہے۔ جی، تو یہاں پر دیکھیے دونوں جزء کیا ہیں؟ معرفہ، اور جب دونوں جزء معرفہ ہوں تو پھر تو بات طے ہے، پہلا جزء مبتدا بنے گا اور دوسرا کیا بنے گا؟ خبر۔ ویسے کبھی مبتدا مؤخر بھی ہو سکتا ہے، لیکن جب دونوں جزء معرفہ ہوں، کیونکہ مبتدا میں اصل ہے معرفہ ہونا، مقدم ہونا، مبتدا میں اصل ہے مقدم ہونا۔ تو اب اگر آپ یہ کہیں کہ ھٰذَا زَیْدٌ، ھٰذا بھی معرفہ، زید بھی معرفہ، لہٰذا ھٰذا کو کیا کر دو؟ خبر بناؤ، اور زید کو کیا کر دو؟ مثلاً بعض ترکیبیں ایسی آتی ہیں جہاں دونوں طرف سے ترجمہ صحیح بنتا ہے۔ یہاں بھی، تو اس صورت میں پھر پتہ نہیں چلتا، اس لیے علماء لکھتے ہیں: جب خبر اور مبتدا دونوں معرفہ ہوں، تو مبتدا کا مقدم کرنا واجب ہے بھئی، ورنہ پتہ ہی نہیں چلے گا کون مبتدا ہے، کون خبر۔ تو یہاں دونوں جزء معرفہ، لہٰذا ایک کو کیا بنا دو؟ مبتدا، دوسرے کو کیا بنا دو؟ خبر بنا دو، جی۔ اب کریں ترکیب، ھٰذا، نہیں، اسم اشارہ کہنے کی نہیں ضرورت، بس اعراب بتاؤ اس کا۔ پہلے اعراب بتاؤ، پھر اس کو مبتدا بناؤ۔ جی، پہلے تو مجھے یہ بتائیں، مبتدا کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ خبر کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ مبتدا مرفوع ہوتا ہے، ہمیشہ یاد رکھو بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ ہمیشہ مبتدا مرفوعات میں سے ہے، اسی طرح خبر بھی مرفوعات میں سے ہوگی بھئی۔ منصوب آ رہا ہے کوئی، وہ مبتدا نہیں ہو سکتا، کوئی اور چیز ہوگی، جی۔ تو یہاں ھٰذا کیا ہے؟ اس نے مبتدا بننا ہے، اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ ہے مرفوع، یہ بات طے ہو گئی۔ اب مرفوع کی تین قسمیں میں نے بتائی تھیں: یا لفظاً ہوگا، یا تقدیراً ہوگا، یا محلاً ہوگا۔ یہ کون سی قسم ہے؟ جی؟ یہ تقدیراً ہے، کیسے آپ کو پتہ چلا؟ جی؟ تلفظ نہیں ہو رہا، معلوم ہوا تقدیراً یا محلاً میں سے کوئی ایک ہے یہ۔ تو ان میں سے پھر آپ نے تقدیراً کا کیسے طے کیا بھئی؟ وہ آٹھ قسمیں مبنیات کی یاد کر لو بھئی۔ مبنی، ان میں سے پہلی دوسری قسم میں نے کیا لکھوائی ہے؟ اسم اشارہ مبنیات میں سے ہے، تو ھٰذا بھی کیا ہے؟ اسم اشارہ، تو یہ مبنی ہوا، اور مبنی کا اعراب کیا ہوا کرتا ہے؟ محلاً ہوتا ہے، وہ آپ نے تقدیراً نہیں کہنا۔ مبنی ہے، پہلے یہ دیکھ لیا کرو یہ معرب ہے یا مبنی ہے، اور پھر فوراً اعراب بتایا کرو۔ تو یہ ہے مبنی، اور مبنی کا اعراب محلاً۔ تو اب اس کو کیسے پڑھیں گے؟ ھٰذا مرفوع، شاباش، دیکھا، ھٰذا مرفوع محلاً مبتدا۔ اگلے جزء کی طرف اب چلے جائیں۔ زید پر کیا اعراب آئے گا؟ زید کیا بن رہا ہے؟ خبر بن رہی ہے، اور خبر کا کیا اعراب ہوتا ہے؟ جی؟ خبر بھی مرفوع ہوتی ہے، تو اب کیسے پڑھیں گے اس کو؟ ھٰذَا زَیْدٌ، ھٰذَا زَیْدٌ۔ تو اب جی بتائیے، اب زید کا اعراب بتائیے۔ مرفوع کون سا؟ محلاً کیوں؟ لفظاً کیسے؟ زَیْدٌ، شاباش، زَیْدٌ پر کیا کر رہے ہیں ہم رفع پر؟ تلفظ کر رہے ہیں، تو اس لیے یہ مرفوع لفظاً ہوا۔ تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی، ھٰذَا زَیْدٌ، کیا ترجمہ ہوا؟ یہ زید ہے۔ اچھا اور کون کرے گا؟ ھُوَ رَجُلٌ۔ جن کو بالکل نہیں آتی وہ آئیں بھئی۔ گزشتہ مرتبہ چند ایک لڑکے تھے انہوں نے ہمت کی بھئی، شرم کو چھوڑ دیا، اور پھر بڑی مشکل مشکل ترکیبیں آگے آئیں گی انشاءاللہ بھئی، جو جاننے والے ہیں، کچھ نحو ترکیب کا جن کو پتہ بھی ہے، آگے بڑی مشکل مشکل ترکیبیں پھر آپ سے کروائیں گے بھئی۔ جی، ھُوَ رَجُلٌ کی ترکیب، آپ نے کی ہے ایک دفعہ؟ اور کوئی بھئی، جی ھُوَ رَجُلٌ کی ترکیب۔ ھُوَ، نہ، ھُوَ ضمیر ہے بھئی، جی، جی۔ مبتدا، ٹھیک ہے دو اسم ہیں بھئی: ایک معرفہ ہے، ایک نکرہ ہے بھئی اس میں، جی۔ جی۔ اچھا ھُوَ ضمیر ہے، آپ نے اس کو کیا بنایا؟ مبتدا، شاباش۔ جی اعراب بتائیں۔ اعراب محلاً، کیسے آپ کو پتہ چلا؟ جی؟ کیا ہے؟ ہاں یہ مبنی ہے بھئی یہ، ضمیر ہے اور ضمائر کس میں سے ہیں؟ اور مبنی کا اعراب کیا ہوا کرتا ہے؟ محلاً ہوتا ہے، تو ھُوَ مرفوع ہے، اور یہ اچھا کیا بتلایا آپ نے ھُوَ کا اعراب؟ محلاً کیا ہوا؟ مرفوع، آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مرفوع ہے؟ شاباش، مبتدا ہے، اور مبتدا کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع، تو یہ ھُوَ مرفوع ہے محلاً مبتدا، آگے؟ مرفوع کون سا؟ لفظاً کیسے آپ کو پتہ چلا؟ تلفظ کیسے کر رہے ہیں؟ رَجُلٌ، شاباش، دیکھا، لام پر کیا ہے؟ رفع کا تلفظ ہو رہا ہے، تو ھُوَ رَجُلٌ، رَجُلٌ مرفوع خبر، مرفوع لفظاً خبر۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، کیا ترجمہ ہوگا؟ وہ آدمی ہے۔ اچھا، چلیے بس میرا خیال ہے آج بس کرتے ہیں، کل سے پھر انشاءاللہ قوانین شروع ہوں گے۔ بس یہ یاد رکھو بھئی، جن کو ترکیب سے جنہوں نے نہیں سیکھی ہوئی، وہ سولہ قسمیں ضرور یاد کر لیں۔ سولہ قسمیں ان کو اچھی طرح آتی ہوں، اور یہ مبنی جو ہیں آٹھ، یہ آپ نے بتانا ہوگا بھئی یہ مبنی ہوگا فوراً آپ نے کہنا ہے اس کا اعراب محلاً آئے گا۔ اور معرفہ کی آپ کو پہچان ہونی چاہیے بھئی۔ بس یہ تین چیزیں یاد رکھیں، یہ نہیں میں کہوں گا ساری نحو میر آپ یاد کر کے آئیں یا سارے، بس یہ تین چیزیں تو کم از کم محنت کر کے یاد کر کے آئیں بھئی۔ انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلدی آپ دیکھیں گے مشکل عبارت کیسے حل ہوتی ہے بھئی۔ چلو جی دعا بھی کر لیں آخر میں، الحمد للہ۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، اس پڑھنے، پڑھنے پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ، اس پڑھنے پڑھانے کو مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ، طلباء کے لیے بے انتہا نافع بنا دے۔ اے اللہ، کوئی بھی یہاں سے محروم نہ جائے۔ اے اللہ، اے اللہ، ان طلباء کے لیے بے انتہا نافع بنا دے۔ اے اللہ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ اے اللہ، ہماری اس مجلس کو بھی مبارک مجالس میں سے بنا دے۔ اے اللہ، ہم یہاں تیرے دین کو سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، اے اللہ، اس کو بھی مبارک مجالس میں سے بنا دے۔ اے اللہ، اس کو بھی ان مبارک مجالس میں سے بنا دے جہاں پر فرشتے حاضر، حاضر ہوتے ہیں اور وہاں رہنے، بیٹھنے والوں کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔ اے اللہ، اے اللہ، جتنے طلباء یہاں حاضر ہیں اور جتنے خصوصاً یہ اور دیگر عام طلباء، اے اللہ، جن کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ وغیرہ ہو اس رکاوٹ کو دور فرما۔ اے اللہ، سب کے لیے اس سال کو مبارک فرما۔ اے اللہ، حصول علم کے اندر کوئی رکاوٹ ہو اس کو دور فرما۔ اے اللہ، جن کے گھروں میں کوئی پریشانی ہو، تکلیف ہو، اے اللہ، اس تکلیف اور پریشانی کو دور فرما۔ اے اللہ، کسی بھی قسم کی پریشانی ہو اس کو دور فرما۔ اے اللہ، راحت اور آسانیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، راحت اور آسانیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، بلند ہمت اور عزم نصیب فرما۔ اے اللہ، اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کو ہمارے لیے آسان فرما دیجیے۔ اے اللہ، ہمارے ہر عمل، ہمارا ہر عمل ایسا سنت کے مطابق فرما دیجیے۔ اے اللہ، ہمارے دلوں میں آپ کی محبت ہو، اے اللہ، آپ کے رسول کی محبت ہو، اے اللہ، صحابہ اور قرآن کی محبت ہو، اے اللہ، اولیاء اللہ کی محبت ہو، اے اللہ، علماء کی محبت ہو، اے اللہ، طلباء کی محبت ہو، اے اللہ، شہداء کی محبت ہو۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، جو ہمارے عزیز و اقارب ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، اے اللہ، ان سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ، ان کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، میرے تمام تلامذہ کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کو راحت اور آسانی نصیب فرما۔ اے اللہ، گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، جو معاشی مسائل کے اندر پریشان ہیں، اے اللہ، ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، دنیا میں بھی خوشیاں نصیب فرما، آخرت میں بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، ہمارا بھی اور ہماری آنے والی نسلوں کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ، ہمارے ایمان کی بھی حفاظت فرما اور قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی حلال رزق نصیب فرما اور ہماری قیامت تک آنے والی نسلوں کو بھی حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، حرام سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اپنے، میرے اساتذہ کے لیے بھی، بعض اساتذہ میرے جن کا انتقال ہو گیا ہے، اے اللہ، ان کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ، ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ، بلکہ جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ، جن کے جو اساتذہ وفات پا چکے ہیں، اے اللہ، سب کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ، سب کے درجات بلند فرما۔ اور اے اللہ، ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں، ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ میری ہمشیرہ بھی بیمار ہیں، انہوں نے بھی دعاؤں کا کہا ہے، آپ حضرات سے خصوصی درخواست کی ہے، دعا فرمائیں کہ اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ، ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، اور بھی جس کے گھر میں کوئی بیمار وغیرہ ہوں، اے اللہ، سب کو شفا نصیب فرما۔ میرے والد کے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے، اللہ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھے۔ اے اللہ، جن طلباء کے بھی والدین وغیرہ زندہ ہوں، اے اللہ، ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اور یہ جامعہ کے احباب کے لیے بھی دعا فرمائیں، اے اللہ، ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، خوشیاں نصیب فرما۔ حضرت مہتمم صاحب مدظلہ العالی، مولانا عبدالرحمٰن صاحب، مولانا فضل رحیم صاحب، اور قاری، اور مولانا ارشد عبید صاحب ناظم، ناظم اعلیٰ جامعہ اشرفیہ، ان سب کے لیے دعا فرمائیں بھئی، اتنے بڑے ادارے کو اتنے اہتمام کے ساتھ چلانا، بے انتہا مشکلات حالات کے، اس زمانے میں پیش آ رہی ہیں، اے اللہ، ان سب کی خدمات کو قبول فرما۔ اے اللہ، ان سب کے لیے آسانیاں پیدا فرما۔ یہ جو بیمار ہیں ان میں سے، اے اللہ، ان کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے لیے اس سال کو خوب مبارک فرما۔ اے اللہ، اس سال کے اندر اے اللہ ہر طرف دین کی ہوائیں چلا دے۔ اے اللہ، بے دینی کو دور فرما۔ اے اللہ، بے دینی کو دور فرما۔ اے اللہ، جو اسلام کو جس شکل میں بھی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اے اللہ، ان سب کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ، ان سب کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ۔
49 approved lectures · 1 of 49
Current dars-001
Next Last