Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 21
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔34 اچھا مولانا، کل شرح مائۃ عامل کی ترکیب شروع کی تھی ہم نے۔ تو سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی ترکیب کی بھئی۔ اس میں آپ نے دیکھا بھئی، اسم نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد لفظِ اللہ معرفہ آیا، اور نکرہ کے بعد معرفہ آئے تو پھر کیا ترکیب کرنی ہے؟ مضاف، مضاف الیہ کی۔ اور لفظِ اللہ معرفہ تھا، اس کے بعد پھر معرفہ آئے الرحمن بھی معرفہ، الرحیم بھی معرفہ۔ تو ان دونوں کو کیا بنا دیا؟ صفت بنا دی، صفت بنا دیا ماقبل کے لیے۔ اور پھر یہ با جارہ تھی تو یہ مجرور ہوئے اور جار مجرور میں نے بتایا تھا ہمیشہ اٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوتے ہیں۔ اور پھر اس کے لیے ہم نے متعلق کیا نکالا تھا؟ أبتدئ۔ اور أبتدئ کہاں نکالیں گے؟ میں نے کیا بتلایا تھا؟ مؤخر نکالیں گے، اس لیے کہ ضابطہ ہے: "تقدیم ما حقہ التأخیر یفید الحصر والقصر والتخصیص"۔ حصر، قصر اور تخصیص کا ایک معنی ہے بھئی۔ حصر، قصر اور تخصیص۔ تو اگر شروع میں نکالیں، تو پھر تخصیص نہیں آتی، "میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں"۔ اور بعد میں آخر میں نکالیں، "تو میں اللہ ہی کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں"، باقی سب کی نفی ہو گئی بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا، یہ جملہ خبریہ ہوا لفظاً اور انشائیہ ہوا معناً، کیونکہ با ہے استعانت کے لیے، استعانت کے لیے۔ مدد طلب، استعانت کا کیا معنی ہے؟ مدد طلب کرنا۔ تو یہاں خبر نہیں دی جا رہی کہ اللہ کے نام کے ساتھ کیا کی میں نے؟ مدد طلب کی، بلکہ کیا کی جا رہی ہے؟ مدد کو طلب کیا جا رہا ہے، کیا کیا جا رہا ہے؟ طلب۔ تو طلب ہے، تو یہ انشاء ہوا مولانا۔ لفظاً ہوا خبریہ اور معناً کیا ہوا؟ انشائیہ۔ اس کے بعد مولانا، الحمد للہ۔ الحمد کو ہم نے کیا بنایا تھا؟ مبتدا بنایا، اور للہ اس کے لیے کیا ہے؟ خبر ہے بھئی، خبر ہے۔ تو للہ جار مجرور ہے، اور جار مجرور ہمیشہ کسی سے متعلق ہوتے ہیں۔ تو یہ بھی مولانا جار مجرور خبر کے مقام میں آیا، ظرفِ مستقر ہوا۔ ظرفِ مستقر کتنی جگہ آیا کرتا ہے؟ چار جگہ مولانا، کون کون سی؟ خبر ہے، حال ہے، صلہ ہے اور صفت ہے۔ تو یہ بھی ان چار میں سے ایک مقام ہے، خبر کے مقام میں آیا۔ تو لہٰذا، یہ متعلق ہوگا ثابت محذوف کے ساتھ بھئی۔ اسی طرح آگے علی نعائمہ الشاملۃ وآلائہ الکاملۃ، یہ بھی جار مجرور کس سے متعلق ہے؟ اسی ثابت سے متعلق ہے۔ لیکن یہاں آپ پڑھیں گے جب ترکیب، تو للہ کے لیے لکھا ہوگا انہوں نے یہ ظرفِ مستقر ہے اور علی نعائمہ کے لیے کیا لکھا ہوگا ظرفِ لغو ہے۔ تو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک کو ظرفِ مستقر قرار دے دیں اور ایک کو ظرفِ لغو، حالانکہ وہ ثابت جس سے متعلق ہو رہے ہیں تو وہ تو دونوں کے لیے محذوف ہے۔ تو جب ایک کا وہی ثابت عامل ہے، تو جب ایک کے لیے محذوف، عامل محذوف ہو تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ ظرفِ مستقر۔ تو علی نعائمہ کو بھی کیا قرار دینا چاہیے؟ ظرفِ مستقر۔ میں نے ضابطہ آپ کو بتلایا تھا بھئی، وہ ضابطہ یاد رکھیں ہمیشہ بھئی۔ کیا؟ کہ یہ للہ تو ظرفِ مستقر ہے، اس نے کیا کیا اس ثابت کی جگہ قرار پکڑ لیا بھئی، یہ اس کی جگہ پر آ گیا۔ اور جب اس نے اس کی جگہ قرار پکڑ لیا، تو جو عمل وہ کر رہا تھا اب وہی عمل یہ کرے گا بھئی۔ اور وہی ثابت عامل تھا، ثابت عامل تھا ایک تو فاعل کی ضمیر میں بھئی، تو اب وہ فاعل کی ضمیر میں عامل کون ہوگا؟ للہ، یہ جار مجرور بھئی۔ تو ثابت ختم ہوا، لیکن اس میں سے ھو کی ضمیر کہاں آ کر چھپ گئی بھئی؟ للہ جار مجرور کے اندر آ کر چھپ گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور وہی ثابت عامل تھا کس کے اندر؟ علی نعائمہ کے اندر بھئی۔ اور اب عامل کون بن گیا؟ للہ۔ تو اس کے اب علی نعائمہ کے اندر عامل کون؟ للہ۔ تو معلوم ہوا علی نعائمہ کا عامل مذکور ہے، محذوف نہیں۔ جب محذوف نہیں، تو پھر یہ کیا ہوا؟ ظرفِ لغو ہوا بھئی، ظرفِ لغو ہوا۔۔ یہاں سے ایک اور بڑا مسئلہ بھی آپ کا حل ہو جاتا ہے بھئی۔ بھئی جہاں جار مجرور کی بحث آتی ہے قافیہ وغیرہ میں اور ہدایت النحو میں بھئی، وہاں پر حرفِ جر کی تعریف کرتے ہیں کہ جس کو، جو کیا کرتا ہے؟ فعل کو یا معنیٰ فعل کو کیا کرتا ہے؟ اپنے مدخول تک پہنچا دیتا ہے۔ فعل کو یا معنیٰ فعل کو کہاں تک پہنچاتا ہے؟ اپنے مدخول تک۔ دیکھو، میں نے کہا: "زید قام فی الدار"۔ "قام"، اب "فی" حرفِ جر ہے اور اس کا مدخول کون ہے؟ یہ کس پر داخل ہوا؟ الدار پر، کس پر داخل ہوا؟ الدار پر۔ تو یہ "فی" نے "قام" کے معنیٰ کو "الدار" تک پہنچا دیا اور بتلا دیا کہ یہ قیام کہاں پر ہوا ہے؟ گھر میں ہوا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حرفِ جر کس کو کہتے ہیں؟ جو فعل کے، فعل کو یا معنیٰ فعل کو کہاں تک پہنچائے اپنے مدخول تک پہنچائے۔ تو یہ "فی" نے معنیٰ فعل یعنی قیام کو کہاں تک پہنچا دیا؟ دار، اپنے مدخول "الدار" تک بھئی۔ اور معنیٰ فعل کی بعد میں بحث میں محشی وہاں تحریر کرتے ہیں، معنیٰ فعل سے کیا مراد ہے؟ جار مجرور بھی اس میں ذکر کرتے ہیں۔ کس کو ذکر کرتے ہیں؟ جار مجرور کو۔ تو حرفِ جر، جار مجرور کے معنیٰ کو اپنے مدخول تک پہنچا دیتے ہیں۔ پہلے کیا تھا؟ حروفِ جارہ کیا کرتے ہیں؟ فعل کے معنیٰ کو اپنے مدخول تک پہنچاتے ہیں۔ اور آگے معنیٰ فعل میں کئی اور چیزیں ذکر ہیں، ایک جار مجرور بھی ہے۔ یعنی جار مجرور کے معنیٰ کو بھی کس تک پہنچا دیتے ہیں اپنے مدخول تک۔ جیسے یہاں مولانا "للہ" جار مجرور کے معنیٰ کو "نعائمہ" تک کس نے پہنچایا؟ کتاب پر دیکھیں، "للہ" جار مجرور کے معنیٰ کو اپنے مدخول "نعماء"، "نعماء" تک کس نے پہنچایا؟ "علی" نے پہنچایا۔ تو دیکھو "علی" حرفِ جر ہے، اس نے معنیٰ فعل کو کہاں تک پہنچا دیا؟ اپنے مدخول تک پہنچایا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور علی نعائمہ بھئی، "نعماء" اسم ہے اور اسم کے ساتھ ضمیرِ متصل آ گئی۔ اور میں نے بتایا جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے، کیا ترکیب کریں گے؟ تو یہ مضاف، مضاف الیہ ہوئے۔ اور جب نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے، تو وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ تو یہ "نعماء" بھی کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ تو لہٰذا، الشاملۃ معرفہ کے بعد معرفہ آ گیا، تو اس کو کیا بنائیں گے اس کی؟ صفت بنا دیں گے اس کے لیے۔ اسی طرح آلائہ، اس میں بھی "آلاء" کی اضافت کس کی طرف ہے؟ ھا ضمیر کی طرف، تو یہ "آلاء" کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ اور جب یہ معرفہ بنا، تو آگے الکاملۃ وہ بھی معرفہ آیا، اور معرفہ کے بعد معرفہ آ جائے تو پہلے کو کیا بناتے ہیں موصوف اور دوسرے کو صفت۔ تو لہٰذا، پہلے کو موصوف بنایا اور دوسرے کو صفت بنایا۔ جی، تو ترجمہ کیا ہوگا؟ حمد ثابت ہے اللہ کے لیے، اس کی نعمتوں پر الشاملۃ جو کیا ہیں؟ عام ہیں، جو کیا ہیں؟ شامل ہیں، شامل ہیں ہر چیز کو یعنی عام ہیں، ہر ایک تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اور "آلاء" کا معنیٰ بھی نعمتیں، اور اس کی نعمتیں الکاملۃ جو کیا ہیں؟ کامل ہیں۔ تو اللہ کی نعمتیں عام ہیں، ہر شخص تک پہنچی، ہر ساری مخلوق تک پہنچی ہوئی ہیں، اور اس کی نعمتیں بڑی کامل ہیں بھئی۔ تو حمد ہے اللہ کے لیے، اس کی نعمتوں پر جو کہ عام ہیں، اور اس کی نعمتوں پر جو کہ کامل ہیں، کامل ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پھر یہ بھی میں نے بتلایا تھا کہ الف لام، الف لام کی قسمیں بتلائی تھیں آپ کو۔ الف لام کی قسمیں، میں نے بتلایا تھا الف لام کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر: ایک اسمی ہے اور ایک حرفی۔ اسمی وہ ہے جو کس پر داخل ہو؟ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر، بشرطیکہ وہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کس معنیٰ میں ہوں؟ حدوث کے معنیٰ میں ہوں، ثبوت کے معنیٰ میں نہ ہوں۔ تو حدوث، ثبوت کا معنیٰ تو ظاہر ہے جس میں ایک چیز کا ثابت، چیز کو ثابت کیا جائے دوسری کے لیے۔ حدوث جس میں ہونا پایا جائے، کسی چیز کا ہونا پایا جائے۔ تو فرق جیسے وہ ذکر کیا ہے حدوث اور ثبوت کے لحاظ سے، صفتِ مشبہ دلالت کرتی ہے ثبوت پر، اور فاعل اسمِ فاعل کیا کرتا ہے دلالت عموماً؟ حدوث پر۔ جیسے سمیع ہے اور سامع ہے۔ سمیع کس کو کہیں گے؟ کہ جس میں سننے کی صلاحیت ہے، بالفعل سننا ضروری ہے؟ نہیں۔ ایک شخص ہے، وہ سننے کی صلاحیت رکھتا ہے، اب اس کے سامنے کوئی کلام نہیں ہو رہا، بالفعل وہ کچھ بھی نہیں سن رہا، لیکن سننے کی صلاحیت اس کے لیے ثابت ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ سمیعٌ۔ لیکن سامع نہیں کہہ سکتے، کیونکہ سامع کس کو کہیں گے؟ جو بالفعل کلام کو سن رہا ہو۔ تو الف لام کی قسمیں میں نے ذکر کی تھیں، تو جو اسمِ فاعل جو کس معنیٰ میں ہو؟ ثبوت کے معنیٰ میں، اس پر جو الف لام آئے وہ کون سا ہے؟ حرفی۔ اور جو اسمِ فاعل بمعنیٰ حدوث کے ہو، اس پر جو الف لام آئے وہ کس معنیٰ میں ہے؟ اسمی ہے بمعنیٰ الذی کے ہے، الذی کے ہے بھئی۔ تو وہ اسمِ موصول ہے۔ وہ کیا ہے؟ اسمِ موصول ہے جو بصورتِ الف لام کے آیا ہے بھئی، الف لام کی صورت میں۔ تو الضارب کس معنیٰ میں ہوا؟ الذی یضرب، اور المضروب کس معنیٰ میں ہوا؟ الذی یضرب کے معنیٰ میں ہوا۔۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کہ آپ نے کیا کہا: یہ الف لام کیا ہے؟ اسمِ موصول ہے۔ تو بھئی، اسمِ موصول کا صلہ تو جملہ آنا چاہیے، یہاں تو اس کا صلہ شبہِ جملہ آ رہا ہے۔ ضابطہ لکھوایا تھا یا نہیں؟ اسمِ موصول کا صلہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے، اور یہاں تو اس کا صلہ کیا آ رہا ہے؟ شبہِ جملہ آ رہا ہے۔ تو جواب یہ مولانا کہ یہ الف لام، یہ اسمِ موصول چونکہ بصورتِ کس کے آ گیا؟ الف لام کے، اور الف لام مفرد پر داخل ہوتا ہے یا جملے پر؟ کس پر داخل ہوتا ہے؟ مفرد پر داخل ہوتا ہے، جملے پر داخل نہیں ہوتا۔ تو اس کے صلے کو بھی ہم نے مفرد کی شکل دے دی۔ "یضرب" کو کون سی شکل دے دی؟ ضارب کی، اور "یضرب" کو کون سی شکل دے دی؟ مضروب کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا یہ الف لام چونکہ اسمِ موصول تھا، لیکن یہ آیا الف لام کی صورت میں، اور الف لام تو داخل ہوتا ہے مفرد پر، جملے پر داخل نہیں ہوتا۔ الرجل پر داخل ہوا، رجل مفرد ہے یا جملہ؟ الغلام، اس پر الف لام داخل ہوا، مفرد ہے یا جملہ؟ مفرد ہے، یہ تو مفرد پر داخل ہوتا ہے۔ تو چونکہ یہ اسمِ موصول الف لام کی صورت میں آیا، اور الف لام داخل ہوتا ہے مفرد پر، تو اس کے صلہ جو تھا، وہ تھا تو "یضرب"، لیکن ہم نے کس کی صورت دے دی؟ ضارب مفرد کی صورت دے دی۔ یا "یضرب" تھا، لیکن ہم نے کس کی صورت دے دی؟ مضروب کی، تو المضروب ہوا بھئی۔ اور وہ دوسرا الف لام حرفی ہے، الف لام حرفی کس لیے آتا ہے؟ کسی اسم کو معرفہ بنانے کے لیے آتا ہے، اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو اب اس کی اشارہ یا تو کسی چیز کی جنس اور حقیقت کی طرف ہوگا، تو کیا کہلائے گا الف لام؟ جنسی۔ یا افراد کی طرف ہوگا، اگر افراد کی طرف ہے پھر وہ دو حال سے خالی نہیں: یا تو تمام افراد کی طرف اشارہ ہوگا یا بعض افراد۔ اگر تمام کی طرف ہو تو یہ کیا کہلائے گا؟ الف لامِ استغراقی۔ اگر بعض کی طرف ہے، تو پھر وہ بعض متعین ہوں گے یا متعین نہیں؟ اگر متعین ہیں تو یہ پھر الف لامِ عہدِ خارجی، اور اگر متعین نہیں تو پھر یہ الف لامِ عہدِ ذہنی ہے۔ اور الف لامِ عہدِ ذہنی کے بارے میں ہمیشہ یاد رکھنا کہ یہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ ہوتا ہے، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے نکرہ ہوتا ہے، نکرہ ہوتا ہے۔ والصلاۃ علی سید الانبیاء، یہاں آپ کو میں نے ایک اور ضابطہ بتلایا تھا کہ نام سے پہلے اوصاف آ جائیں، تو وہ آپس میں مبدل منہ اور بدل بنتے ہیں۔ اوصاف کو کیا بنا لو؟ مبدل منہ، اور نام کو کیا بنا لو؟ بدل۔ تو سید الانبیاء آیا مولانا، اور یہ اس کو کیا بنائیں گے؟ مبدل منہ، اور اس کے بعد لفظِ محمد آیا بھئی صلی اللہ علیہ وسلم، تو لفظِ محمد کو کیا بنائیں گے؟ بدل بنائیں گے۔ اور لفظِ محمد ہے معرفہ، اور اس کے بعد آیا المصطفیٰ، یہ بھی ہے معرفہ۔ تو معرفہ کے بعد معرفہ آیا تو ان کو آپس میں کیا بنا لیں گے؟ موصوف صفت بنا لیں گے۔ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا بھئی، سید الانبیاء کہ اس کے اندر ضمیر نہیں ہے مولانا۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے کیا تحریر کیا ہے؟ کہ کبھی کبھار مشتق ضمیر سے خالی بھی ہو سکتا ہے۔ مشتق کیا ہے؟ ضمیر سے، اور اس کی مثال ذکر کی ہے کہ علماء نے لکھا ہے کہ سید الانبیاء، اب اس میں سید کیا ہے؟ اس کے لیے کیا چاہیے تھا ورنہ تو؟ مشتق ہے تو اس کے لیے کیا چاہیے؟ ضمیر چاہیے فاعل کی، لیکن یہ کیا ہے؟ مشتق ہے اور مشتق کے لیے فاعل کا ہونا ضروری، ضمیر سے کبھی خالی بھی ہو سکتا ہے، یہاں پر یہ خالی ہے، علماء کیا لکھتے ہیں؟ یہ ضمیر سے خالی ہے۔ اچھا، پھر مولانا "علی سید الانبیاء محمد ن المصطفیٰ" آگے آیا ہے "وعلی آلِہ"۔ تو مولانا، یہ جار مجرور کا عطف بتلایا تھا میں نے آپ کو، اسم کا عطف اسم پر ہوگا، فعل کا عطف فعل پر ہوگا، اور ظرف کا عطف ظرف پر، سمجھ میں آیا؟ تو یہ جار مجرور ہیں مولانا "علی سید" اور آگے بھی "علی آلِہ" جار مجرور آیا، تو جار مجرور کا عطف کس پر ہو جائے گا؟ جار مجرور پر۔ اور یہ پھر یہ خبر بنے گا، ظرفِ مستقر ہو کر صلاۃ کے لیے۔ اور صلاۃ ہے مؤنث، تو لہٰذا یہاں پر محذوف بھی کیا نکالیں گے؟ مؤنث نکالیں گے، ثابتۃٌ بھئی۔ اچھا بھئی، آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی، آپ کرو۔ توجه سے بھئی، مطالعہ کر کے آؤ، یہ یاد رکھو۔ اگر آپ چاہتے ہیں آپ کو صحیح فائدہ ہو، آپ کو عبارت حل کرنا آ جائے تو مطالعہ ضرور کر کے آؤ۔ انشاء اللہ ایک ہفتے بعد ہی آپ واضح فرق محسوس کریں گے، آپ کی رفتار بڑھ جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ رفتار بڑھتی چلی جائے گی، تو عبارت اسی طرح، طریقہ اسی طرح آتا ہے۔ جی۔ اعلم، فعلِ امر۔ انت ضمیر، مرفوع محلاً، اندر اس کا فاعل۔ انّ، حروفِ مشبہ بالفعل۔ یاد رکھو، اعلم کے بعد ہمیشہ انّ پڑھتے ہیں، قالَ کے بعد ہمیشہ کیا پڑھتے ہیں؟ انّ۔ جی۔ العواملَ، منصوب لفظاً، کیونکہ انّ کا کیا ہے؟ اسم، اور معرفہ ہے، اور معرفہ کے بعد فی النحوِ جار مجرور آ رہا ہے، اور معرفہ کے بعد جار مجرور آئے تو اس کے اس کے لیے کیا بناتے ہیں؟ حال بنایا کرتے ہیں بھئی۔ العواملَ منصوب لفظاً ذو الحال، فی جارہ۔ النحوِ، مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق۔۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ثابتۃً سے بھئی۔ على: حرف جار۔ ما: موصولہ۔ اسم موصول آ گیا مولانا، اسم موصول کے فوراً بعد کس کو دیکھنا ہے ہم نے؟ صلے کو جی۔ ألَّفَ: فعل۔ ہُ: ضمیر منصوب لفظاً مفعول بہ، منصوب محلاً مفعول بہ۔ مرجع بھئی، غائب کی ضمیر آ گئی۔ جی؟ ہُ ضمیر جی راجع کی العوامل کو، بھئی العوامل تو جمع ہے اس کی طرف تو ویسے ہی نہیں راجع کر سکتے۔ وہ تو بتاویل جماعت کے واحد مؤنث کے، اس کے لیے تو پھر مؤنث کی ضمیر چاہیے بھئی۔ جمع بتاویل جماعت کے کس کے حکم میں ہوتی ہے؟ واحد مؤنث۔ تو پھر تو مؤنث بھی، ألَّفَہا ہونا چاہیے تھا۔ شاباش! یہ ضمیر راجع ہے کس کی طرف اسمِ؟ موصول کی طرف، یہی وہ عائد ہے جو ربط دے رہا ہے صلے کو موصول کے ساتھ۔ تو دیکھو ألَّفَ کون سا فعل ہے؟ پہلا ہے؟ یا تـ..، جی؟ پہلا فعل ہے۔ اور پہلا فعل یا چوتھا فعل آ جائے تو آگے فاعل اسمِ ظاہر کو آپ تلاش کر سکتے ہیں۔ اگر ان کے علاوہ کوئی اور ہو تو پھر آگے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، جی۔ الشيخُ: مرفوع لفظاً موصوف۔ الشيخُ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! اسی اسمِ ظاہر نے کیا بننا ہے؟ یرحمک اللہ۔ اسمِ ظاہر نے کیا بننا ہے؟ فاعل، جی۔ تو یہ مرفوع لفظاً موصوف۔ الإمامُ: مرفوع لفظاً صفتِ اول۔ افضلُ۔۔۔ جی؟ اعراب بتاؤ بھئی اعراب۔ جی کیا بنے گا؟ کیا ہوگا؟ مرفوع لفظاً کیوں ہوگا؟ یہ صفتِ ثانی ہے بھئی صفتِ ثانی۔ آپ کہیں گے یہ تو نکرہ ہے اور موصوف تو اس کا معرفہ ہے۔ بھئی میں نے کیا کہا تھا؟ نکرہ کے بعد اگر معرفہ آ جائے تو آپس میں کیا بنیں گے؟ ایک نکرہ ہو یا دو تین نکرہ ہوں اور ان کے بعد کیا آ جائے؟ معرفہ، تو وہ پھر آپس میں کیا بنیں گے؟ تو دیکھا یہاں افضلُ ایک یہ بھی نکرہ، علماءِ یہ بھی نکرہ اور اس کے بعد الأنامِ معرفہ آیا۔ اور دو نکرہ کے بعد معرفہ آئے تو آپس میں کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ। تو یہ مضاف ہوا معرفہ کی طرف، تو یہ افضلُ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ تو یہ معرفہ کی کیا بن جائے گا؟ صفت بن جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ افضلُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ علماءِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ مضاف۔ ماقبل کے لیے مضاف الیہ اور مابعد کے لیے مضاف، جی۔ الأنامِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ علماءِ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا افضلُ کا، جی۔ علماءِ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ پھر مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ افضلُ کے لیے۔ افضلُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ صفتِ ثانی ہوا الشيخُ کا۔ اچھا! بھئی آپ نے ترکیب کی، افضلُ کون سا صیغہ ہے؟ اور اسمِ تفضیل کس کا تقاضا کرتا ہے؟ آپ نے فاعل کو ذکر ہی نہیں کیا بھئی۔ بھئی یاد رکھو اسمِ تفضیل کا فاعل ہمیشہ ضمیر ہوگی۔ سمجھ میں آیا؟ اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وغیرہ کے لیے تو فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور آگے اسمِ ظاہر بھی، لیکن اسمِ تفضیل میں ہمیشہ ضمیر ہوتی ہے۔ ایک دو صورتیں ہیں جن میں اس کا فاعل اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے جو کتابوں میں مذکور، لیکن وہ بھی نہایت نادر، قلیل الاستعمال، تو اس میں ضمیر ہوا کرتی ہے ہمیشہ بھئی۔ تو افضلُ صیغہ اسمِ تفضیل۔۔۔ اسمِ تفضیل مرفوع لفظاً مضاف، ہُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ اسمِ تفضیل اپنے فاعل اور مضاف الیہ سے بھئی وہ علماءِ الأنامِ کو کیا بنایا تھا آپ نے؟ تو اسمِ تفضیل اپنے فاعل اور مضاف الیہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفتِ ثانی الشيخُ کے لیے۔ الشيخُ موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر مبدل منہ، شاباش! الشيخُ موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر مبدل منہ۔ دیکھو صفات آئیں، الشيخُ، الإمامُ، افضلُ علماءِ الأنامِ، ان کے بعد عبدُ القاہر نام آ رہا ہے اور نام سے پہلے صفات آ جائیں تو کیا بنتے ہیں آپس میں؟ بدل مبدل منہ۔ تو الشيخُ اپنی دونوں صفات سے مل کر مبدل منہ۔ عبدُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ عبدُ مرفوع لفظاً مضاف، بھئی آپ نے اس کو مرفوع کیوں پڑھا؟ بدل بن رہا ہے تو کیا ہوا؟ شاباش! یہ بدل بن رہا ہے اور مبدل منہ اور بدل کا اعراب۔۔۔ اور یہ کس سے بدل ہے؟ الشيخُ سے۔ اور الشيخُ کیا ہے؟ مرفوع۔ تو عبدُ بھی کیا آئے گا، بدل بھی کیا آئے گا؟ مرفوع۔ عبدُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ القاہرِ: مجرور لفظاً موصوف مضاف الیہ۔ القاہرِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر یہ اسم ہے اللہ کا، تو یہاں اس میں فاعل وغیرہ کی ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں، عبدُ القاہر، کیا ترجمہ کرتے ہیں اس کا القاہر کا؟ قاہر کا بندہ، تو بس اسی طرح رکھیں آپ اس کو۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کیا بنے؟ بھئی میں نے بتایا تھا ابنُ کا لفظ جب دو علمین کے درمیان آئے تو ماقبل کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور مابعد کے لیے؟ مضاف الیہ۔ عبدُ القاہر کون ہے؟ ابنُ عبدِ الرحمنِ ہے، عبدُ القاہر کون ہے؟ تو یہ صفت ہے اس کی مولانا، سمجھ میں آیا؟ ابنُ عبدِ الرحمنِ، جی۔ تو عبدُ القاہر مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف، اور ابنُ۔۔۔ مرفوع لفظاً۔۔۔ ابھی نہ بناؤ، ابھی مابعد سے جوڑ لو بھئی، پھر اس کے بعد صفت بنانا۔ ابنو: مرفوع لفظاً مضاف۔ عبدِ: مجرور لفظاً ماقبل کے لیے مضاف الیہ اور مابعد کے لیے مضاف۔ الرحمنِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ یہ شروع کی ذرا ترکیب مشکل ہے بھئی، آگے انشاء اللہ پھر آسان ہے۔ چلو بھئی سمیٹتے جاؤ ان کو واپس اب۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا ابنُ کے لیے، شاباش! مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ پھر مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ ابنُ کے لیے۔ یرحمک اللہ، یرحمک اللہ۔ تو پھر مولانا مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ کیا صفت ہوئی کس کے لیے؟ عبدُ القاہر، ابنُ عبدِ الرحمنِ یہ صفت ہوئی کس کے لیے؟ عبدُ القاہر کے لیے، اور یہ صفتِ اول ہے، یہ کیا ہے صفتِ اول؟ آگے پھر الجرجانیُّ آ رہا ہے الجرجانیُّ۔ الجرجانيُّ: مجرور لفظاً مضاف۔۔۔ جی یہ کیا ہوگا؟ یہ یاد رکھو، یہ جو یا آخر میں لگاتے ہیں اس کو اسمِ منسوب کہتے ہیں۔ جیسے آپ کہتے ہیں لاہوریٌّ بھئی، یا مشدد لگا۔ کیا معنیٰ لاہوریٌّ کا؟ لاہور والا، سمجھ میں آیا؟ پاکستانیٌّ کیا معنیٰ؟ تو جرجانیٌّ کیا معنیٰ؟ یعنی جرجان جرجان والا، یعنی جرجان کے رہنے والے۔ تو اور یہ جو اسمِ منسوب ہے، اس کے اندر یاد رکھو ہمیشہ نائب فاعل ہوگا۔ اسمِ منسوب کے اندر ہمیشہ کیا ہوگا؟ لاہوریٌّ کیا ترکیب کریں گے؟ اسمِ منسوب، منسوب کون سا صیغہ ہے؟ مفعول، اور مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، تو اس کے اندر کیا ہے؟ ہُوَ ضمیر ہوگی، مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ بات سمجھ آئی؟ یہ کیا ہے اسمِ منسوب، اور منسوب کون سا صیغہ ہے؟ مفعول، تو یہ اسمِ مفعول کی طرح ہوا اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، تو اسمِ منسوب میں ہمیشہ نائب فاعل ہوگا بھئی۔ تو جرجانیُّ۔۔۔ اعراب کیا ہوگا اس کا؟ اعراب اعراب۔ مرفوع کیوں ہوگا؟ یہ صفت ہے عبدُ القاہر کی اور عبدُ القاہر مرفوع ہے تو الجرجانیُّ بھی کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا۔ تو مرفوع لفظاً اسمِ منسوب مولانا، اس کے اندر ہُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا۔۔۔ جو کس کو راجع؟ کس کو راجع ہوگی؟ موصوف کو، کیونکہ اسمِ منسوب کو کس سے جوڑ رہے ہیں آپ؟ موصوف کے ساتھ صفت بنا رہے ہیں آپ اس کو بھئی، تو ہُوَ ضمیر کس کو راجع؟ موصوف کو۔ تو اسمِ منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفتِ ثانی ہوئی۔ جی۔ موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر بدل ہوا، شاباش! موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر بدل ہوا، جی۔ مبدل منہ جو الشيخُ تھا، وہ اپنے بدل سے مل کر کیا ہوا؟ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ألَّفَ فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ سے مل کر صلہ ہوا ما موصول کا، شاباش! فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا اسمِ موصول کا، اور ربط آ چکا۔ موصول صلہ مل کر مجرور ہوا علیٰ جارّہ کے لیے۔ جار مجرور مل کر یہ پھر متعلق ہوا اسی ثابتۃً سے مولانا। تو فِي النَّحْوِ اس کے لیے کیا نکالا تھا آپ نے؟ ثابتۃً، اور عَلَى مَا أَلَّفَهُ اس کو بھی آپ نے کس سے جوڑا؟ اسی ثابتۃً سے، تو فِي النَّحْوِ یہ کون سا ظرف ہوا؟ ظرفِ مستقر، اور عَلَى مَا یہ کون سا ظرف ہوا؟ یہ ظرفِ لغو ہوا، کیونکہ ثابتۃً کی جگہ کون سنبھال چکا؟ فِي النَّحْوِ، لہٰذا عَلَى مَا کے اندر عامل کون؟ فِي النَّحْوِ، تو عَلَى مَا ألَّفَ کا فاعل، عامل مذکور ہوا تو یہ کیا ہوا ظرفِ لغو ہوا بھئی۔ جی، یہ متعلق، تو یہ ظرفِ لغو ہوا مولانا، سمجھ میں آیا ثابتۃً کے لیے، ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل۔۔۔ ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل، بھئی ثابتۃً آپ نے منصوب کیوں نکالا؟ تو پھر؟ کس نے؟ العواملَ نے تو اسم بننا ہے اس پہ آپ نے نصب پڑھا تھا، یہ ثابتۃً پہ نصب کیوں پڑھا ہے آپ نے؟ ثابتٌ کیوں نہیں کہا، ثابتٍ کیوں نہیں کہا آپ نے؟ نصب کیوں پڑھا، نصب کی وجہ بتاؤ؟ شاباش! کیونکہ ثابتۃً نے کیا بننا ہے؟ حال، اور حال کیا ہوتا ہے؟ منصوب، لہٰذا ہم نے بھی کیا نکالا اسمِ فاعل کو؟ منصوب نکالا، ثابتۃً بھئی۔ ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل، ہُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔۔۔ ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل، اپنے فاعل اور ظرفِ مستقر اور ظرفِ لغو سے مل کر، یا یوں کہیں دونوں متعلقین سے مل کر کیا ہوا؟ شبہ جملہ ہو کر حال۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر أَنَّ کا اسم، ذوالحال اپنے حال سے مل کر أَنَّ کا اسم، جی۔ یہ ابھی چھوڑ دیں، یہ درمیان میں دو دعائیہ کلمات ہیں مولانا، جملہ معترضہ، آگے خبر، مِائَةُ عَامِلٍ بھئی، یہ کیا ہے أَنَّ کی خبر ہے، یہاں پر ان کو حل کریں بھئی۔ مِائَةُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ عَامِلٍ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر۔۔۔ جی؟ مضاف مضاف الیہ، بھئی آپ نے مِائَةُ مرفوع کیوں پڑھا؟ أَنَّ کی خبر بنے گی اور أَنَّ اپنی خبر کو کیا دیتا ہے؟ رفع دیتا ہے تو اس کو مرفوع پڑھا، اور مِائَةُ کا لفظ مضاف ہوتا ہے اپنی تمیز کی طرف، تو عَامِلٍ کیا ہے مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ أَنَّ کی خبر۔ أَنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر بتاویلِ مفرد، أَنَّ کس کی تاویل میں کر دیتا ہے؟ مفرد کی تاویل میں، تو بتاویلِ مفرد یہ مفعول ہوا کس کے لیے؟ اِعْلَمْ فعل کے لیے، جی۔ اِعْلَمْ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، شاباش! اِعْلَمْ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا کیونکہ فعلِ امر ہے بھئی۔ جی، اب یہاں درمیان میں سَقَى اللّٰهُ ثَرَاهُ وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ اس کی ترکیب کیجیے۔ سَقَى: فعل۔ لفظِ اللہ: مرفوع۔۔۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ثابتۃً سے بھئی۔ على: حرف جار۔ ما: موصولہ۔ اسم موصول آ گیا مولانا، اسم موصول کے فوراً بعد کس کو دیکھنا ہے ہم نے؟ صلے کو جی۔ ألَّفَ: فعل۔ ہُ: ضمیر منصوب لفظاً مفعول بہ، منصوب محلاً مفعول بہ۔ مرجع بھئی، غائب کی ضمیر آ گئی۔ جی؟ ہُ ضمیر جی راجع کی العوامل کو، بھئی العوامل تو جمع ہے اس کی طرف تو ویسے ہی نہیں راجع کر سکتے۔ وہ تو بتاویل جماعت کے واحد مؤنث کے، اس کے لیے تو پھر مؤنث کی ضمیر چاہیے بھئی۔ جمع بتاویل جماعت کے کس کے حکم میں ہوتی ہے؟ واحد مؤنث۔ تو پھر تو مؤنث بھی، ألَّفَہا ہونا چاہیے تھا۔ شاباش! یہ ضمیر راجع ہے کس کی طرف اسمِ؟ موصول کی طرف، یہی وہ عائد ہے جو ربط دے رہا ہے صلے کو موصول کے ساتھ۔ تو دیکھو ألَّفَ کون سا فعل ہے؟ پہلا ہے؟ یا تـ..، جی؟ پہلا فعل ہے۔ اور پہلا فعل یا چوتھا فعل آ جائے تو آگے فاعل اسمِ ظاہر کو آپ تلاش کر سکتے ہیں۔ اگر ان کے علاوہ کوئی اور ہو تو پھر آگے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، جی۔ الشيخُ: مرفوع لفظاً موصوف۔ الشيخُ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! اسی اسمِ ظاہر نے کیا بننا ہے؟ یرحمک اللہ۔ اسمِ ظاہر نے کیا بننا ہے؟ فاعل، جی۔ تو یہ مرفوع لفظاً موصوف۔ الإمامُ: مرفوع لفظاً صفتِ اول۔ افضلُ۔۔۔ جی؟ اعراب بتاؤ بھئی اعراب۔ جی کیا بنے گا؟ کیا ہوگا؟ مرفوع لفظاً کیوں ہوگا؟ یہ صفتِ ثانی ہے بھئی صفتِ ثانی۔ آپ کہیں گے یہ تو نکرہ ہے اور موصوف تو اس کا معرفہ ہے۔ بھئی میں نے کیا کہا تھا؟ نکرہ کے بعد اگر معرفہ آ جائے تو آپس میں کیا بنیں گے؟ ایک نکرہ ہو یا دو تین نکرہ ہوں اور ان کے بعد کیا آ جائے؟ معرفہ، تو وہ پھر آپس میں کیا بنیں گے؟ تو دیکھا یہاں افضلُ ایک یہ بھی نکرہ، علماءِ یہ بھی نکرہ اور اس کے بعد الأنامِ معرفہ آیا۔ اور دو نکرہ کے بعد معرفہ آئے تو آپس میں کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ۔ تو یہ مضاف ہوا معرفہ کی طرف، تو یہ افضلُ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔ تو یہ معرفہ کی کیا بن جائے گا؟ صفت بن جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ افضلُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ علماءِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ مضاف۔ ماقبل کے لیے مضاف الیہ اور مابعد کے لیے مضاف، جی۔ الأنامِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ علماءِ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا افضلُ کا، جی۔ علماءِ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ پھر مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ افضلُ کے لیے۔ افضلُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ صفتِ ثانی ہوا الشيخُ کا۔ اچھا! بھئی آپ نے ترکیب کی، افضلُ کون سا صیغہ ہے؟ اور اسمِ تفضیل کس کا تقاضا کرتا ہے؟ آپ نے فاعل کو ذکر ہی نہیں کیا بھئی۔ بھئی یاد رکھو اسمِ تفضیل کا فاعل ہمیشہ ضمیر ہوگی۔ سمجھ میں آیا؟ اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وغیرہ کے لیے تو فاعل ضمیر بھی ہو سکتی ہے اور آگے اسمِ ظاہر بھی، لیکن اسمِ تفضیل میں ہمیشہ ضمیر ہوتی ہے۔ ایک دو صورتیں ہیں جن میں اس کا فاعل اسمِ ظاہر بھی آ سکتا ہے جو کتابوں میں مذکور، لیکن وہ بھی نہایت نادر، قلیل الاستعمال، تو اس میں ضمیر ہوا کرتی ہے ہمیشہ بھئی۔ تو افضلُ صیغہ اسمِ تفضیل۔۔۔ اسمِ تفضیل مرفوع لفظاً مضاف، ہُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ اسمِ تفضیل اپنے فاعل اور مضاف الیہ سے بھئی وہ علماءِ الأنامِ کو کیا بنایا تھا آپ نے؟ تو اسمِ تفضیل اپنے فاعل اور مضاف الیہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفتِ ثانی الشيخُ کے لیے۔ الشيخُ موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر مبدل منہ، شاباش! الشيخُ موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر مبدل منہ۔ دیکھو صفات آئیں، الشيخُ، الإمامُ، افضلُ علماءِ الأنامِ، ان کے بعد عبدُ القاہر نام آ رہا ہے اور نام سے پہلے صفات آ جائیں تو کیا بنتے ہیں آپس میں؟ بدل مبدل منہ۔ تو الشيخُ اپنی دونوں صفات سے مل کر مبدل منہ۔ عبدُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ عبدُ مرفوع لفظاً مضاف، بھئی آپ نے اس کو مرفوع کیوں پڑھا؟ بدل بن رہا ہے تو کیا ہوا؟ شاباش! یہ بدل بن رہا ہے اور مبدل منہ اور بدل کا اعراب۔۔۔ اور یہ کس سے بدل ہے؟ الشيخُ سے۔ اور الشيخُ کیا ہے؟ مرفوع۔ تو عبدُ بھی کیا آئے گا، بدل بھی کیا آئے گا؟ مرفوع۔ عبدُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ القاہرِ: مجرور لفظاً موصوف مضاف الیہ۔ القاہرِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر یہ اسم ہے اللہ کا، تو یہاں اس میں فاعل وغیرہ کی ضمیر نکالنے کی ضرورت نہیں، عبدُ القاہر، کیا ترجمہ کرتے ہیں اس کا القاہر کا؟ قاہر کا بندہ، تو بس اسی طرح رکھیں آپ اس کو۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کیا بنے؟ بھئی میں نے بتایا تھا ابنُ کا لفظ جب دو علمین کے درمیان آئے تو ماقبل کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور مابعد کے لیے؟ مضاف الیہ۔ عبدُ القاہر کون ہے؟ ابنُ عبدِ الرحمنِ ہے، عبدُ القاہر کون ہے؟ تو یہ صفت ہے اس کی مولانا، سمجھ میں آیا؟ ابنُ عبدِ الرحمنِ، جی۔ تو عبدُ القاہر مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف، اور ابنُ۔۔۔ مرفوع لفظاً۔۔۔ ابھی نہ بناؤ، ابھی مابعد سے جوڑ لو بھئی، پھر اس کے بعد صفت بنانا۔ ابنو: مرفوع لفظاً مضاف۔ عبدِ: مجرور لفظاً ماقبل کے لیے مضاف الیہ اور مابعد کے لیے مضاف۔ الرحمنِ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ یہ شروع کی ذرا ترکیب مشکل ہے بھئی، آگے انشاء اللہ پھر آسان ہے۔ چلو بھئی سمیٹتے جاؤ ان کو واپس اب۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا ابنُ کے لیے، شاباش! مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ پھر مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ ابنُ کے لیے۔ یرحمک اللہ، یرحمک اللہ۔ تو پھر مولانا مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ کیا صفت ہوئی کس کے لیے؟ عبدُ القاہر، ابنُ عبدِ الرحمنِ یہ صفت ہوئی کس کے لیے؟ عبدُ القاہر کے لیے، اور یہ صفتِ اول ہے، یہ کیا ہے صفتِ اول؟ آگے پھر الجرجانیُّ آ رہا ہے الجرجانیُّ۔ الجرجانيُّ: مجرور لفظاً مضاف۔۔۔ جی یہ کیا ہوگا؟ یہ یاد رکھو، یہ جو یا آخر میں لگاتے ہیں اس کو اسمِ منسوب کہتے ہیں۔ جیسے آپ کہتے ہیں لاہوریٌّ بھئی، یا مشدد لگا۔ کیا معنیٰ لاہوریٌّ کا؟ لاہور والا، سمجھ میں آیا؟ پاکستانیٌّ کیا معنیٰ؟ تو جرجانیٌّ کیا معنیٰ؟ یعنی جرجان جرجان والا، یعنی جرجان کے رہنے والے۔ تو اور یہ جو اسمِ منسوب ہے، اس کے اندر یاد رکھو ہمیشہ نائب فاعل ہوگا۔ اسمِ منسوب کے اندر ہمیشہ کیا ہوگا؟ لاہوریٌّ کیا ترکیب کریں گے؟ اسمِ منسوب، منسوب کون سا صیغہ ہے؟ مفعول، اور مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، تو اس کے اندر کیا ہے؟ ہُوَ ضمیر ہوگی، مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ بات سمجھ آئی؟ یہ کیا ہے اسمِ منسوب، اور منسوب کون سا صیغہ ہے؟ مفعول، تو یہ اسمِ مفعول کی طرح ہوا اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، تو اسمِ منسوب میں ہمیشہ نائب فاعل ہوگا بھئی۔ تو جرجانیُّ۔۔۔ اعراب کیا ہوگا اس کا؟ اعراب اعراب۔ مرفوع کیوں ہوگا؟ یہ صفت ہے عبدُ القاہر کی اور عبدُ القاہر مرفوع ہے تو الجرجانیُّ بھی کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا۔ تو مرفوع لفظاً اسمِ منسوب مولانا، اس کے اندر ہُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا۔۔۔ جو کس کو راجع؟ کس کو راجع ہوگی؟ موصوف کو، کیونکہ اسمِ منسوب کو کس سے جوڑ رہے ہیں آپ؟ موصوف کے ساتھ صفت بنا رہے ہیں آپ اس کو بھئی، تو ہُوَ ضمیر کس کو راجع؟ موصوف کو۔ تو اسمِ منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفتِ ثانی ہوئی۔ جی۔ موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر بدل ہوا، شاباش! موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر بدل ہوا، جی۔ مبدل منہ جو الشيخُ تھا، وہ اپنے بدل سے مل کر کیا ہوا؟ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ألَّفَ فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ سے مل کر صلہ ہوا ما موصول کا، شاباش! فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا اسمِ موصول کا، اور ربط آ چکا۔ موصول صلہ مل کر مجرور ہوا علیٰ جارّہ کے لیے۔ جار مجرور مل کر یہ پھر متعلق ہوا اسی ثابتۃً سے مولانا۔ تو فِي النَّحْوِ اس کے لیے کیا نکالا تھا آپ نے؟ ثابتۃً، اور عَلَى مَا أَلَّفَهُ اس کو بھی آپ نے کس سے جوڑا؟ اسی ثابتۃً سے، تو فِي النَّحْوِ یہ کون سا ظرف ہوا؟ ظرفِ مستقر، اور عَلَى مَا یہ کون سا ظرف ہوا؟ یہ ظرفِ لغو ہوا، کیونکہ ثابتۃً کی جگہ کون سنبھال چکا؟ فِي النَّحْوِ، لہٰذا عَلَى مَا کے اندر عامل کون؟ فِي النَّحْوِ، تو عَلَى مَا ألَّفَ کا فاعل، عامل مذکور ہوا تو یہ کیا ہوا ظرفِ لغو ہوا بھئی۔ جی، یہ متعلق، تو یہ ظرفِ لغو ہوا مولانا، سمجھ میں آیا ثابتۃً کے لیے، ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل۔۔۔ ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل، بھئی ثابتۃً آپ نے منصوب کیوں نکالا؟ تو پھر؟ کس نے؟ العواملَ نے تو اسم بننا ہے اس پہ آپ نے نصب پڑھا تھا، یہ ثابتۃً پہ نصب کیوں پڑھا ہے آپ نے؟ ثابتٌ کیوں نہیں کہا، ثابتٍ کیوں نہیں کہا آپ نے؟ نصب کیوں پڑھا، نصب کی وجہ بتاؤ؟ شاباش! کیونکہ ثابتۃً نے کیا بننا ہے؟ حال، اور حال کیا ہوتا ہے؟ منصوب، لہٰذا ہم نے بھی کیا نکالا اسمِ فاعل کو؟ منصوب نکالا، ثابتۃً بھئی۔ ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل، ہُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔۔۔ ثابتۃً صیغہ اسمِ فاعل، اپنے فاعل اور ظرفِ مستقر اور ظرفِ لغو سے مل کر، یا یوں کہیں دونوں متعلقین سے مل کر کیا ہوا؟ شبہ جملہ ہو کر حال۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر أَنَّ کا اسم، ذوالحال اپنے حال سے مل کر أَنَّ کا اسم، جی۔ یہ ابھی چھوڑ دیں، یہ درمیان میں دو دعائیہ کلمات ہیں مولانا، جملہ معترضہ، آگے خبر، مِائَةُ عَامِلٍ بھئی، یہ کیا ہے أَنَّ کی خبر ہے، یہاں پر ان کو حل کریں بھئی۔ مِائَةُ: مرفوع لفظاً مضاف۔ عَامِلٍ: مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر۔۔۔ جی؟ مضاف مضاف الیہ، بھئی آپ نے مِائَةُ مرفوع کیوں پڑھا؟ أَنَّ کی خبر بنے گی اور أَنَّ اپنی خبر کو کیا دیتا ہے؟ رفع دیتا ہے تو اس کو مرفوع پڑھا، اور مِائَةُ کا لفظ مضاف ہوتا ہے اپنی تمیز کی طرف، تو عَامِلٍ کیا ہے مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ أَنَّ کی خبر۔ أَنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر بتاویلِ مفرد، أَنَّ کس کی تاویل میں کر دیتا ہے؟ مفرد کی تاویل میں، تو بتاویلِ مفرد یہ مفعول ہوا کس کے لیے؟ اِعْلَمْ فعل کے لیے، جی۔ اِعْلَمْ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، شاباش! اِعْلَمْ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا کیونکہ فعلِ امر ہے بھئی۔ جی، اب یہاں درمیان میں سَقَى اللّٰهُ ثَرَاهُ وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ اس کی ترکیب کیجیے۔ سَقَى: فعل۔ لفظِ اللہ مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ منصوب لفظاً مضاف۔ منصوب لفظاً۔۔۔ ہاں بھئی اس کا کیا اعراب ہوگا؟ ثرَاہُ کا؟ کیوں؟ یہ مفعول بن رہا ہے۔ وہ تو منصوب ہوا، مفعول تو منصوب ہوتا ہے، یہ تقدیراً یا محلاً یا لفظاً؟ اسمِ مقصور ہے۔ شاباش! اس میں مقصور ہے۔ مقصور، منقص ناقص سے ہے، نقاصہ مادہ ہے، منقص، جی وہ جس کے آخر میں کیا ہے مولانا؟ یا ہے، یا۔ تو یہ اسم مقصور ہے اور اسم مقصور کا اعراب تینوں حالتوں میں کیا ہوتا ہے؟ تقدیری، تو ثرَى منصوب تقدیراً مضاف، ہِ ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ۔ کس کو راجع ہِ ضمیر؟ عبدالقاہر کو، کس کو راجع؟ عبدالقاہر کو، جی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوا سَقَى فعل کے لیے۔ سَقَى فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا بھئی، دعا ہے۔ جی، ہو کر معطوف علیہ، و حرفِ عطف، جَعَلَ فعل، ہُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ لفظِ اللہ کو، جی۔ الجَنَّۃَ منصوب لفظاً مفعولِ اول، مَثْوٰى مضاف اعراب؟ شاباش! مَثْوٰى منصوب تقدیراً مضاف، ہِ ضمیر مجرور تقدیراً مضافٌ الیہ جو کس کو راجع ہے؟ یہ بھی کس کو راجع؟ عبدالقاہر کو، جی۔ مَثْوٰى مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعولِ ثانی ہوا جَعَلَ فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ معطوف۔ جَعَلَ فعل اپنے فاعل اور دونوں جملوں سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ یہ جملہ معطوفہ ہے، یہ کیا ہے جملہ؟ اس کا عطف ہو رہا ہے سَقَى اللّٰهُ ثَرَاهُ پر بھئی، تو یہ جملہ معطوفہ ہوا۔ تو ترجمہ کیا ہوگا بھئی؟ اعْلَمْ جان لے تو کہ یقیناً عوامل جو ہیں اس حال میں کہ وہ کس میں سے ہیں؟ نحو میں، عَلَى مَا أَلَّفَ، أَلَّفَ کا معنیٰ جمع کرنا، بناءً پر اس کے کہ ان کو جمع کیا ہے، کس نے شیخ؟ جو شیخ ہیں، امام ہیں، أَفْضَلُ عُلَمَاءِ الأَنَامِ، انام کس کو کہتے ہیں؟ مخلوق۔ مخلوق کے علماء میں سے افضل ہیں، نام کیا ہے ان کا؟ عبدالقاہر، بیٹے کس کے ہیں؟ عبدالرحمٰن کے، اور کہاں کے رہنے والے ہیں؟ جرجان کے رہنے والے ہیں۔ تو عوامل نحو میں کتنے ہیں مولانا؟ مِائَةُ عَامِلٍ، سو عوامل ہیں بھئی۔ سَقَى اللّٰهُ ثَرَاهُ، اللہ سیراب کرے ان کی قبر کو، ثَرَى مولانا تر مٹی کو کہتے ہیں، مراد قبر ہے بھئی، یعنی اس پر اپنی رحمت نازل کرے، راحت پہنچائے ان کو اللہ، وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ، اور بنائے جنت کو ان کا ٹھکانہ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو یہ دعا ہے، اور عربی میں دعا عموماً ماضی کے صیغے کے ساتھ دی جاتی ہے، یہاں بھی سَقَى ماضی کا صیغہ، جَعَلَ ماضی کا صیغہ استعمال ہوا، اس لیے کیوں؟ بطورِ تفاؤل کے، نیک فالی کے طور پر مولانا، نیک فالی کے طور پر، کہ جیسے ماضی کا تحقق یقینی ہوتا ہے، اسی طرح اللہ اس دعا کو بھی یقیناً کیا فرما لیں؟ قبول فرما لیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا ھٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ دعاؤں کا التماس ہے، الحمدللہ رب العالمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! سب کو علمِ نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو علمِ نافع نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو علمِ نافع نصیب فرما۔ بہت سے طلباء وغیرہ نے اور لوگوں نے دعاؤں کا کہا ہے، اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! سب کے بیماروں کو شفاء نصیب فرما۔ یہ آپ کے ساتھی نے بھی لکھا ہے، ان کے بھئی بیمار ہیں، دعا کریں اللہ ان کو صحت و عافیت نصیب فرمائے، اللہ ان کو شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرمائے۔ میرے بڑے بھئی مولانا زبیر صاحب بھی بیمار ہیں، دعا فرمائیں، اللہ ان کو صحت و عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! ان کو شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ! تمام تکالیف کو دور فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ۔
49 approved lectures · 34 of 49