Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔30 اچھا بھئی، جی اور ترکیب کیجیے، لکھیے بھئی۔ لَقِيَ مُوْسَى عِيْسَى۔ لَقِيَ مُوْسَى عِيْسَى۔ جی، کون کرے گا بھئی ترکیب؟ جی، کیجیے۔ لَقِيَ فعل۔ مُوْسَى مرفوع لفظاً، مرفوع تقدیراً فاعل۔ عِيْسَى منصوب تقدیراً مفعول به۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، لَقِيَ موسى عیسی ملاقات کی موسیٰ نے عیسیٰ سے۔ تو یہ ترکیب میں اس میں بتلانا یہ مقصد تھا بھئی کہ دیکھو، موسیٰ کا اعراب بھی تقدیری، عیسیٰ کا اعراب بھی تقدیری۔ تو اس صورت کے اندر یاد رکھیے جب فاعل اور مفعول دونوں کا اعراب تقدیری ہو تو فاعل کو مقدم کرنا واجب ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں یہ مقدم ہی کو فاعل بنائیں گے اس لیے کہ اصل یہ ہے کہ فعل کے بعد کیا آنا چاہیے بھئی؟ فاعل۔ تو فاعل کو مفعول پر مقدم ہوتا ہے تو لہٰذا یہاں پر اب خلافِ اصل ذکر کرنا جائز نہیں ہے بھئی، ورنہ تو پتہ ہی نہیں چلے گا اگر آپ کیا چاہتے ہیں کہ ثانی کو مفعول بنائیں، اول کو کیا بنا دیں مفعول تو پھر کوئی صورت نہیں سننے والے کو کبھی بھی پتہ نہیں چلے گا، تو ایسے موقع پر فاعل کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ اچھا، آج پھر بھئی، آج ہم جملہ ندائیہ کی ترکیب کریں گے۔ جی، آپ نے بھئی جملہ انشائیہ کی اقسام پڑھی ہوں گی۔ اس کے اندر وہ کون کون سی ہیں بھئی؟ جی، ندا ہے اس کے اندر بھئی؟ جی؟ جی، ندا بھی اس کے اندر ہے، معلوم ہوا یہ بھی کیا ہے؟ جملہ انشائیہ ہے۔ تو دیکھیے، مثلاً ایک ترکیب میں کروا دیتا ہوں۔ يَا زَيْدُ! اِضْرِبْ عَمْرًا۔ يَا زَيْدُ! اِضْرِبْ عَمْرًا۔ يَا حرفِ ندا، قائم مقام ادْعُوْ فعل کے بھئی۔ ادْعُوْ میں پکارتا ہوں بھئی، میں طلب کرتا ہوں۔ ادْعُوْ فعل کے، اس کے اندر انا ضمیر بھئی، مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اور یہ جو آگے منادی ہوتا ہے، یہ دراصل مفعول ہوتا ہے اس فعل کے لیے بھئی۔ فَزَيْدُ مبنی عَلى الضَّمِّ منصوب محلاً، یہ کیا ہے اس وقت؟ مبنی ہے بھئی۔ زید کیا ہے لفظ؟ کیونکہ آپ نے پڑھا ہے منادی اگر مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی علی الضم ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ زید بھی مبنی ہے، معرب نہیں، کیونکہ معرب ہوتا تو اس پر کیا آتی بھئی؟ یہ تو منصوب تھا بھئی۔ جی۔ اس پر علامت یہ بھی ہے، اس پر تنوین نہیں آ رہی بھئی، معلوم ہوا یہ مبنی ہے اس وقت، اور مبنی علی الضم ہے بھئی۔ فَزَيْدُ مبني على الضم، منصوب محلاً، مفعول به ہوا ادْعُوْ فعل کے لیے۔ ادْعُوْ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر کیا بنے گا بھئی؟ جملہ انشائیہ، کیا بنے گا؟ کیونکہ ندا کس میں سے ہے بھئی؟ إنشاء کی قبیل سے، یہ پورا جملہ نہیں بھئی، آگے جوابِ ندا ہے، وہ جملہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے، جملہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ جو کہتے ہیں کہ ندا جملہ انشا کی قبیل سے، اس سے کیا مراد ہے؟ یہ جو يا زَيْدُ، ادْعُوْ زيدًا جو ہے، یہ کیا ہے جملہ انشائیہ اور جوابِ ندا، وہ انشا بھی ہو سکتا ہے اور خبر بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آپ نے پڑھا ہے بھئی قسم کے بارے میں۔ قسم مثلاً کوئی شخص کہتا ہے: وَاللَّهِ! زَيْدٌ قَائِمٌ۔ وَاللَّهِ اِنَّ زَيْدًا لَّقَائِمٌ، مثلاً کوئی کہتا ہے بھئی، تو جملہ قسمیہ یہ بھی آپ نے پڑھا ہے بھئی، قسم بھی کس قبیل سے ہے؟ انشا کی قبیل سے، تو اس میں صرف یہ واللہ یہ انشائیہ ہوگا جملہ، اور باقی جو ہے، وہ جملہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے اور ہاں، وہ اس کی وہ، جو انشا کہتے ہیں وہ مراد نہیں ہوتا بھئی، صرف یہ قسم جو ہے، یہ انشا کی قبیل سے ہے بھئی۔ جی، تو يا زيدو، تو ادْعُوْ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، بھئی۔ اِضْرِبْ فعل امر، انتا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل۔ عَمْرًا منصوب لفظاً مفعول به۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا۔ وہ پہلا جملہ کیا بنا تھا بھئی؟ جملہ انشائیہ ہو کر ندا۔ اور یہ جو جملہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا۔ ندا، جوابِ ندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ دوبارہ سنو! يا يا حرفِ ندا، قائم مقام ادْعُوْ فعل کے، اس کے اندر انا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، زيدٌ مبني على الضم منصوب محلاً مفعول به، فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا۔ اِضْرِبْ فعل امر، انتا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، أمرًا منصوب لفظاً مفعول به، فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا۔ ندا، جوابِ ندا کے ساتھ مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، اب آپ کیجیے۔ يَا إِبْرَاهِيمُ! خَالِدٌ حَافِظُ الْقُرْآنِ بِفَضْلِ اللَّهِ۔ جی، لکھ لیا بھئی! يا إِبْرَاهِيمُ! خَالِدٌ حَافِظُ الْقُرْآنِ بِفَضْلِ اللَّهِ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ یا حرفِ ندا قائم مقام ادْعُوْ فعل کے۔ ادْعُوْ کے اندر انا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ إِبْرَاهِيمُ مبني على الضم۔ إِبْرَاهِيمُ مبني على الضم، منصوب محلاً مفعول به۔ شاباش! إِبْرَاهِيمُ مبني على الضم منصوب محلاً مفعول به بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشاء یہ ہو کر یہ مبتدا۔ یا ندا۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا، جی۔ خالد مفعول لفظاً موصوف۔ جی۔ بھئی دیکھو، یہ کیا آ گیا؟ آگے جوابِ ندا، وہ جملہ ہوگا بھئی، تو اب پھر آگے نیا جملہ شروع ہو رہا ہے، جی، خالدٌ مرفوع لفظاً۔ جی۔ خالدٌ مرفوع لفظاً بھئی، یہ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ خالد حافظ القرآن بفضل اللہ۔ ترجمے سے بھی ترکیب کا پتہ چل جاتا ہے بھئی۔ کیا کہنا چاہتے ہیں بھئی؟ خالد حافظ ہے، خالد حافظِ قرآن ہے، اللہ کے فضل سے۔ تو خالد حافظِ قرآن ہے، ترکیب کچھ سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ جملہ بن رہا ہے پورا بھئی، خالد حافظِ قرآن ہے، اور آپ کی بات مانی جائے اگر خالد اور حافظ القرآن موصوف صفت بنا دیں، تو ترجمہ ہوگا وہ خالد جو حافظِ قرآن وہ خالد جو حافظِ قرآن، بات پوری نہیں ہے بھئی صرف موصوف صفت ہے جملہ تو پورا نہیں۔ مرفوع لفظاً مبتدا۔ ہاں، شاباش! خالدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ حافِظُ مرفوع لفظاً مضاف۔ شاباش! حافِظُ مرفوع لفظاً مضاف۔ القرآن مجرور لفظاً مضافٌ إليه۔ شاباش! القرآن مجرور لفظاً مضاف إليه۔ مضاف اپنے مضاف إليه مل کر یہ صفت واو خارج موصوف کے لیے۔ پھر صفت۔ یہ خبر ہوئی۔ خبر ہوئی تو بِفَضْلِ اللہ کا کیا کیا بھئی؟ ساذبّار اشارہ۔ جی، با جارٌّ۔ بَاء جارٌّ۔ فاضلي مجرور لفظاً مضاف۔ فضلِ مجرور لفظاً مضاف۔ لفظِ اللہ مجرور لفظاً مضاف إليه۔ مضاف مضاف إليه سے مل کر یہ مجرور و جار کے لیے۔ جی، مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر مجرور ہوا بَاء جارَّ کے لیے۔ جار اپنے مجرور سے مل کر یہ متعلق ہوا۔ جی، بھئی میں نے بتلایا تھا کہ جی جار مجرور کو کتنی چیزوں سے جوڑ سکتے ہیں؟ آٹھ، اور ان آٹھ میں سے ایک یہاں پر کیا موجود ہے؟ اسم فاعل، تو پہلی تو یہ بات آپ نے اسم فاعل کی ترکیب ہی نہیں کی بھئی پوری۔ جی، اور یہ اس کے ساتھ جڑ بھی رہا ہے، حافظٌ بفضل اللہ، حافظ ہے اللہ کے دیکھا، جڑ بھی رہا ہے۔ جی، تو دوبارہ کیجیے بھئی خالدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ خالدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، حافظُ مرفوع لفظاً مضاف، صیغہ اسم فاعل مضاف، صیغہ اسم فاعل، مضاف، جی۔ هو ضمیر۔ جی۔ اس کے اندر۔ فاعل۔ جی، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے خالد کو، کیونکہ خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے مبتدا سے، جی۔ جی، تو اس کے اندر ضمیر اس مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے خالد کو، ہاں، جی، تو صیغہ اسم فاعل مضاف ہوا جلال قرآنی کی طرف۔ مضافٌ إليه مجرور لفظاً مضاف إليه۔ مضاف اپنے مضاف إليه مل کر یہ مجرور ہوا جار کے لیے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے۔ حافِظِ صیغہ اسم فاعل کے ساتھ، اس میں فاعل اپنے فاعل، متعلق اور مضاف إليه سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی۔ خالد مبتدا کے لیے، شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر جوابِ ندا۔ جی۔ جی، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر جوابِ ندا دیکھو، جوابِ ندا اوپر جملہ انشائیہ تھا، اب کون سا آیا جملہ؟ خبریہ آیا، بھئی، یہ دونوں آ سکتے ہیں۔ ہاں، جو ندا ہے، وہ جملہ انشائیہ ہوگی، وہ صرف يا إِبْرَاهِيمُ یا زَيْدُ۔ جی، اگلا جی روانی سے پڑھیے۔ يا إِبْرَاهِيمُ خَالِدٌ حَافِظُ الْقُرْآنِ بِفَضْلِ اللَّهِ۔ جی، دوبارہ پڑھو ایک ایک لفظ کا اعراب بتا دیا ابھی بھئی، اب اس کو ملا کر پڑھ دو بس۔ يا إِبْرَاهِيمُ خَالِدٌ حَافِظُ الْقُرْآنِ بِفَضْلِ اللَّهِ۔ يا إِبْرَاهِيمُ خَالِدٌ حَافِظُ الْقُرْآنِ بِفَضْلِ اللَّهِ، جی، ترجمہ کیجیے۔ اے ابراہیم! خالد قرآن کا حافظ ہے اللہ کے فضل سے۔ جی، اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ يَا عبدَ اللَّهِ، يَا عَبْدَ اللَّهِ، كُلِ الطَّعَامَ، كُلِ الطَّعَامَ، الَّذِي اشْتَرَيْتُهُ، الَّذِي اشْتَرَيْتُهُ، لَكَ فِيْ يَوْمِ الْجُمْعَةِ مِنَ السُّوْقِ، بِمِائَةِ رُبِيَّةٍ۔ بِمِائَةِ رُبِيَّةٍ۔ ربیہ بھئی روپیہ جیسے لکھتے ہیں بس پے کی جگہ کیا لکھ لو؟ با لکھ لو بھئی۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ يا حرفِ ندا قائم مقام ادْعُوْ فعل کے، ادْعُوْ فعل بفاعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ عبدَ۔ عبدَ منصوب لفظاً مضاف، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے منادی اگر مضاف ہو تو وہ معرب اور منصوب ہوتا ہے، تو یہ عبدَ منصوب لفظاً مضاف، لفظِ اللہ مجرور لفظاً مضاف إليه، مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر یہ مفعول به ہوا ادْعُوْ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا۔ كُلْ فعلِ امر، انتَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، الطَّعَامَ منصوب لفظاً موصوف۔ اَلَّذِي اسْمِ مَوْصُوْلٍ مَرْفُوْعٍ مَحَلًّا، کیا ہے؟ منصوب محلاً اسْمِ مَوْصُوْلٍ، اَلَّذِي منصوب محلاً اسْمِ مَوْصُوْلٍ، کیونکہ اس نے موصوف کیا ہے؟ منصوب، تو صفت بھی کیا ہوگی؟ منصوب، تو اَلَّذِي منصوب محلاً اسم موصول۔ اشْتَرَيْتُ فعل بفاعل، اشْتَرَيْتُ فعل، تَا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، هو ضمیر منصوب محلاً مفعول به، جو راجع ہے الطَّعَامَ کو، یہ عائد آ گیا، لَامِ جَارَّةٍ، كَافُ ضَمِيْرٍ مَجْرُوْرُ مَحَلًّا، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اشْتَرَيْتُ فعل سے، بھئی جڑ رہے ہیں، اشْتَرَيْتُ لَكَ، میں نے خریدا تمہارے لیے، جڑ رہا ہے۔ فِي جَارَّةٍ، يَوْمِ مَجْرُوْرُ لَفْظًا مُّضَافٌ۔ اَلْجُمْعَةِ مَجْرُوْرُ لَفْظًا مُّضَافُ إِلَيْهِ، مضاف مضاف إليه مل کر مفعول فیہ ہوا اشْتَرَيْتُ فعل کے لیے۔ مِنْ جَارَّةٍ، اَلْسُّوْقِ مَجْرُوْرُ لَفْظًا، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اشْتَرَيْتُ فعل کے ساتھ، مِنْ السُّوْقِ، بازار سے خریدا، جڑ رہا ہے۔ بَاءِ جَارَّةٍ، مِائَةِ مَجْرُوْرُ لَفْظًا مُّضَافٌ، رُبِيَّةٍ مَجْرُوْرُ لَفْظًا مُّضَافُ إِلَيْهِ۔ مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر مجرور ہوا بَاء جارَّة کے لیے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اشْتَرَيْتُ فعل کے ساتھ۔ اشْتَرَيْتُ فعل، اپنے فاعل، مفعولِ بہ، اور تمام متعلقات سے، تمام متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا اَلَّذِي موصول کا، بھئی صلہ کیسے بنایا آپ نے؟ ربطی کوئی نہیں دیا، صلہ موصول کا۔ وَ ذَمِيْرِ، ہاں، اَلَّذِي کے اندر جو ہا ضمیر تھی وہ طَعَامَ کو راجع ہے، تو عائد آ گیا بھئی۔ موصول اپنے صلے سے مل کر یہ صفت ہوئی الطَّعَامَ موصول کی، موصوف صفت مل کر مفعول به ہوا کُلْ فعل کے لیے، کُلْ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا ہوا۔ ندا اپنے جوابِ ندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ जी, روانی سے پڑھیے۔ يَا عَبْدَ اللَّهِ! كُلِ الطَّعَامَ الَّذِي اشْتَرَيْتُهُ لَكَ فِيْ يَوْمِ الْجُمْعَةِ مِنَ السُّوْقِ بِمِائَةِ رُبِيَّةٍ۔ ترجمہ کیجیے۔ اے عبداللہ! کھاؤ اس کھانے کو جسے میں نے خریدا تیرے لیے جمعہ کے دن بازار سے سو روپے کے بدلے۔ جی، اگلا جملہ کیا پڑھا تھا آپ نے، اس کو بھی روانی سے پڑھیے۔ يَا رَشِيْدُ! قَدْ جِئْتَ بِالتَّأْخِيْرِ الْيَوْمَ۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ اے رشید! تحقیق تو آج تاخیر سے آیا ہے۔ جی، اگلا جملہ لکھیے۔ يَا رَشِيْدُ! يَا رَشِيْدُ! اِسْمَعْ اِسْمَعْ كَلَامِيْ۔ يَا رَشِيْدُ! اِسْمَعْ كَلَامِيْ۔ جی، کون کرے گا بھئی ترکیب؟ جی، کیجیے۔ يَا حرفِ ندا قائم مقام ادْعُوْ فعل کے۔ ادْعُوْ فعل بفاعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، رَشِيْدُ منصوب محلاً مفعول به، رشیدو مبني على الضم منصوب محلاً مفعول به، فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا۔ اِسْمَعْ فعل امر، اَنتا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، كَلاَمِي منصوب تقدیراً مضافٌ إليه، کلام منصوب لفظاً مضاف، يا ضمیر مجرور محلاً مضاف إليه، مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر یہ مفعول به ہوا اسمع فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا۔ ندا جوابِ ندا مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ دوبارہ سنو! يا حرفِ ندا قائم مقام ادْعُوْ فعل کے، ادْعُوْ فعل بفاعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، رَشِيْدٌ مبني على الضم منصوب محلاً مفعول به، رشیدو منصوب محلاً مفعول به، فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا۔ اِسْمَعْ فعل امر، انتا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، كَلَامَ منصوب تقدیراً مضاف، يا ضمیر مجرور محلاً مضاف إليه، مضاف اپنے مضاف إليه سے مل کر یہ مفعول به ہوا اسمع فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول به سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا۔ ندا جوابِ ندا مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، روانی سے پڑھیے۔ يَا رَشِيْدُ! اِسْمَعْ كَلَامِيْ۔ جی، ترجمہ۔ اے رشید! سُنیے آپ میری بات۔ اے رشید! سُنیے آپ میرے کلام کو۔ جی، چلیے بھئی، بس کرتے ہیں بھئی، اب جملہ شرطیہ بس رہ گیا بھئی۔ جی، چلیے جی۔ الحمد للہ رب العالمین۔
49 approved lectures · 30 of 49