درس نمبر۔43
اچھا بھئی!
گزشتہ سبق میں ترکیب کی تھی اپ نے بھئی۔
نحوُ أكلتُ السمكةَ حتى رأسَها رأسِها رأسُها، یہاں راس پر تینوں اعراب پڑھنا جائز ہیں، میں نے بتلایا بھئی۔ ترکیبات ذہن میں ہیں بھئی؟
حتى رأسِها، یہ کب پڑھیں گے بھئی؟
جب حتیٰ کو کیا بنائیں؟ جارّہ بنائیں۔ رأسِ مجرور پڑھیں گے۔
اور یہ متعلق ہو جائے گا أكلتُ کے ساتھ۔
اور حتى رأسَها، بھئی اس صورت میں کیا ترکیب ہو گی؟
حتیٰ کو عاطفہ بنائیں، السمكةَ پر رأسَ کا عطف ہو رہا ہے، تو السمكةَ مفعول ہے، منصوب ہے، تو رأسَ بھی کیا ہے؟ منصوب ہو گا۔
اور رأسُها کی صورت میں کیا ترکیب ہو گی؟
حتیٰ ابتدائیہ ہے اور رأسُها کیا بن جائے گا؟ مبتدا بن جائے گا اور خبر کیا ہے؟ ماكولٌ، حتى رأسُها ماكولٌ۔
جی! آگے کون کرے گا ترکیب بھئی؟
چلیے بھئی، اپ کریں بھئی۔
واؤ حرفِ عطف، قد حرفِ تقلیل، لا حرفِ نفی، يكون فعلِ ناقصہ، ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم، کس کو راجع ہے؟
حتیٰ کو تو ہیَ ضمیر راجع ہونی چاہیے۔
پیچھے دیکھیں بھئی، کیا ار، کیا بات چل رہی تھی؟
پیچھے جملے پر غور کرو بھئی، آسان سی بات ہے کوئی مشکل تو نہیں ہے۔ کیا بات کر رہے ہیں؟ ترجمے میں غور کر لیں۔
بھئی، اپ نے واؤ کو عاطفہ بنایا، تو یہ عطف کس پر ہو رہا ہے اس کا؟
وما بعدَها قد يكونُ، تو قد يكونُ پیچھے بھی آیا، آگے بھی قد لا يكونُ آ رہا ہے، تو کس پر عطف ہو جائے گا؟ اسی پر بھئی، فعل کا عطف کس پر ہو جائے گا؟ فعل پر بھئی، اسم کا اسم پر ہوتا ہے، فعل کا عطف فعل پر ہوتا ہے۔
هو ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم، تو دیکھو وما بعدَها قد يكونُ داخلًا وما بعدَها قد لا يكونُ داخلًا بھئی، تو یہ قد لا يكونُ پر عطف ہوا بھئی۔
اچھا! تو اب کس کو ضمیر لوٹائی اپ نے؟
وما بعدَها قد يكونُ، جو پہلا قد يكونُ تھا اس میں کس کو ضمیر لوٹ رہی تھی؟
ما موصولہ کو لوٹ رہی تھی، تو یہاں پر بھی کس کو ضمیر راجع ہے؟ ما موصولہ کو ہی راجع ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ وما بعدَها کو راجع ہے۔
داخلًا، ترکیب کرو پوری بھئی۔
داخلًا اعراب بھئی؟ منصوب لفظاً، صیغہ اسمِ فاعل، هو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔
داخلًا کے اندر ضمیر آئی، یہ اپ نے مرجع کیوں نہیں بتلایا بھئی؟ کیوں نہیں تلاش کرتے ضمائر کا مرجع؟
کس کو لوٹ رہی ہے؟ شاباش! کانَ کے اسم کو، کیونکہ کانَ کی خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ کانَ کی خبر کو کانَ کے اسم سے جوڑتے ہیں، تو یہ ضمیر اسم کو راجع ہوئی۔
فی جارّہ، هِ ضمیر مجرور محلاً، هِ ضمیر کا مرجع بتلاؤ۔
ماقبل کلام سے ہی پتہ چل رہا ہے، یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟
بھئی قد يكونُ، پہلے کیا آیا تھا؟ قد يكونُ داخلًا في حكمِ ما قبلَها بھئی، في حكمِ ما قبلَها، اب پوری بات کرنے کے بجائے صرف ضمیر لوٹا دی، داخلًا فيهِ، تو هِ ضمیر کس کو راجع ہو گی؟ حکم کو راجع ہو گی، کس کو؟ کبھی کبھار مابعد ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے، اور کبھی مابعد ماقبل کے حکم میں نہیں ہوتا، تو بھئی وہاں بتلا دیا تھا داخلًا في حكمِ، اور یہاں آیا داخلًا فيهِ، تو هِ ضمیر کس کو راجع؟ اسی حکم کو راجع۔
جار مجرور مل کر متعلق ہوئے داخلًا کے۔ داخلًا صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی کانَ کی، جی!
لا يكونُ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر معطوف، اور قد يكونُ داخلًا في حكمِ ما قبلَها، یہ کیا تھا؟ معطوفٌ علیہ، تو معطوف اپنے معطوف علیہ سے مل کر اب کیا ہوئی ما بعدَها کے لیے خبر ہوئی، پہلے کیا تھا بھئی؟ ما بعدَها کو مبتدا بنایا تھا اور قد يكونُ کو اس کی کیا بنایا تھا؟ خبر بنایا تھا، تو اس کا عطف بھی اسی پر ہے، لہٰذا یہ بھی اس کے لیے کیا ہے؟ خبر ہے بواسطہ عطف کے، تو وہ معطوفٌ علیہ، یہ معطوف، معطوفٌ علیہ اپنے معطوف سے مل کر خبر، اور خبر، تو یہ جملہ کیا ہوا؟ اعراب کیا ہوا اس جملے کا؟
شاباش! خبر مرفوع ہوا کرتی ہے، تو یہ جملہ بھی محلاً مرفوع ہوا۔
آگے بھئی کون کرے گا؟ چلیے۔
نحوُ مرفوع لفظاً مضاف، المثالِ مجرور لفظاً موصوف، المذكورِ...
بھئی یہاں مذکور آیا، تو یہاں پر الف لام اسمی بھئی بمعنی الذی کے، الف لام اسمی بمعنی الذی کے، مذکور اسمِ مفعول ہے، کس کے معنی میں ہے؟ الذی ذُكِرَ، اس میں فعلِ مجہول کے معنی میں کر لیں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟ الضاربُ کس معنی میں تھا؟ الذی یضربُ یا الذی ضربَ کے معنی میں، اور المضروبُ کس معنی میں تھا؟ الذی یُضربُ یا الذی ضُرِبَ کے معنی میں، تو یہاں المذكورُ کس معنی میں ہوا؟ الذی ذُكِرَ، جی!
الف لام بمعنی الذی کے، مذکور بمعنی ذُكِرَ کے معنی میں، اس کے اندر هو ضمیر اس کا نائب فاعل، جو کس کو راجع ہو گا اس میں؟ موصول کو، موصول صلہ مل کر صفت ہوئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی!
یا یوں کر لیں، المذكورُ الف لام اسمی اس میں موصول، مذکور صفتِ اسمِ مفعول، هو ضمیر اس کے اندر نائب فاعل، جو کس کی راجع ہے؟ الف لام کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ پھر المذكورُ پھر صفت ہو گئی المثالِ کے لیے، جی!
موصوف اپنے صفت سے مل کر مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ نحوُ کے لیے۔
شاباش! نحوُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوا کس کے لیے؟ مثالُها کے لیے۔
مثالُها، مثالُ مرفوع لفظاً مضاف، ها ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، جو کس کو راجع ہے؟
کس کی مثال ہے؟ جی! حتیٰ کی، جی حتیٰ کی مثال ہے، کون سی مثال؟ کون سی مثالِ مذکور بھئی؟ انہوں نے کہا مابعد کبھی ماقبل کے حکم میں داخل ہو گا اور کبھی داخل نہیں ہو گا۔
بھئی ماقبل جیسے تھا أكلتُ السمكةَ حتى رأسِها بھئی، سمکہ کا کیا حکم بیان کیا تھا؟ کیا بات اس کی بیان ہوئی تھی؟ کہ اس کو کھایا گیا ہے، کھایا گیا ہے، تو رأس بھی کیا ہے مولانا؟ وہ بھی ماکول ہوا، کیا ہوا؟ ماکول ہوا۔
اور یہاں پر نِمتُ البارحةَ حتى الصباحِ، یہ مثال مراد ہے، مثالِ مذکور سے کیا مراد ہے؟ میں گزشتہ رات سویا صبح تک بھئی، تو یہاں سونے کی انتہا کہاں تک ہے؟ صبح تک، تو صبح کے لیے سونے کا حکم ثابت صبح میں نہیں ہے بھئی۔
وهي مختصةٌ، جی آگے کون کرے گا؟ چلو بھئی، یہ تم نے ترکیب... چلیے کیجیے بھئی۔
واؤ عاطفہ، هي مرفوع محلاً مبتدا، مرجع بتلاؤ ضمیر کا بھئی! حتیٰ، حتیٰ کی بات ہو رہی ہے، جی!
مختصةٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ مفعول...
مختصةٌ، یہ کون سا صیغہ ہو گا؟ گردان سناؤ ذرا۔ اختصّ يختصّ اختصاصًا فهو مختَصٌّ، اور فذاک مختَصٌّ، اسمِ فاعل بھی یہی آئے گا اور اسمِ مفعول بھی یہی آئے گا، پھر فرق کیسے پتہ چلے گا؟ اصل میں فرق ہے بھئی، صیغہ دونوں کے لیے مختَصٌّ اسمِ فاعل بھی ہے، مختَصٌّ اسمِ مفعول بھی ہے، اور ہاں البتہ اس میں فاعل کیا ہے؟ اصل اس کی کیا ہے؟
بھئی وزن نکالنا ہے، فوراً صحیح میں جایا کرو۔ یہ تو مضاعف ہے نا، مختصّ کیا ہے؟ مادہ کیا ہے اس کا؟ خَصَّ، خ، ص، ص، تو یہ مادہ یہ مضاعف ہوا بھئی، تو جب بھی کسی کے وزن کا پتہ چلانا ہو، فوراً کس کی طرف دوڑ لگایا کرو؟ جو صحیح کے ابواب اپ نے پڑھے ہیں، وہاں کیا پڑھا ہے؟ یہ کون سا باب ہے؟ اختصّ کون سا باب ہے؟ افتعال، تو وہاں کیا پڑھا؟ افتعل يفتعل اختصاصًا فهو مفتعِلٌ، تو مفتعِلٌ وزن پر بنا لیں اس کو اسمِ فاعل: مُخْتَصِصٌ، کیا ہے؟ معلوم ہوا اسمِ فاعل کی اصل ہے مُخْتَصِصٌ، اور اسمِ مفعول کی؟ مُخْتَصَصٌ، دیکھا وزن اس طرح نکالتے ہیں بھئی، جو صحیح کے ابواب ہیں، وہاں جا کر اس وزن پر اس کو بنا لیا کرو، تو مُخْتَصِصٌ ہے، پھر کیا کیا بھئی؟ دو حرف ایک جنس کے آئے، اول کو ساکن کر کے ثانی میں کیا کر دیا؟ ادغام کر دیا، مختَصٌّ ہوا بھئی۔
تو اصل ان دونوں کی مختلف ہے، یہاں پر بھئی اس کو اسمِ فاعل بناؤ بھئی: مختَصٌّ، سمجھ میں آیا؟ لازمی کہ مختص ہے، یہ خاص ہے یعنی خاص ہے۔
وهي مختصةٌ، مختصةٌ صیغہ اسمِ فاعل، جی!
هي ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، بھئی آگے دیکھو بالاسمِ الظاهرِ، یہ کس سے متعلق ہے؟ مختصةٌ سے، اور آگے آ رہا ہے بخلافِ إلیٰ، یہ حال بنے گا مولانا، کیا بنے گا؟ حال بنے گا یہ مختصةٌ کی هي ضمیر سے۔
یہ إلیٰ خاص ہے اسمِ ظاہر کے ساتھ اس حال میں کہ یہ خلاف ہے کس کے؟ إلیٰ کے، إلیٰ کس پر داخل ہوتا ہے بھئی؟ اسمِ ظاہر پر داخل ہوتا ہے اور اسمِ ضمیر پر بھی داخل ہوتا ہے، جبکہ حتیٰ صرف کس پر داخل ہوتا ہے؟ اسمِ ظاہر پر داخل ہوتا ہے۔
تو مختصةٌ صیغہ اسمِ فاعل، هي ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا پہلے فاعل ذوالحال بھئی، کیا ہے اس کے میں هي ضمیر؟ ذوالحال، آگے بخلافِ إلیٰ کو جوڑ دو پہلے۔
با جارّہ، خلافِ مجرور لفظاً مضاف، إلیٰ مجرور محلاً... یہ لفظِ إلیٰ مراد ہے ہاں، مجرور لفظاً مضاف الیہ، مجرور محلاً مضاف الیہ جی، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور با جارّہ کے، جار مجرور مل کر یہ متعلق کس سے ہوں گے؟ ثابتةً، بھئی یہ ثابتةً منصوب کیوں نکالا اپ نے؟ شاباش حال بنے گا، اور ثابتةً مؤنث کیوں نکالا؟ شاباش ذوالحال مؤنث ہے، تو اس کے اندر ضمیر ہمیں چاہیے جو کس کو لوٹے؟ ذوالحال کی طرف، تو یہاں حال کو بھی کیا نکالنا پڑے گا؟ مؤنث، تو متعلق ہوا ثابتةً کے ساتھ۔
ثابتةً صیغہ اسمِ فاعل، هي ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ ذوالحال کو۔
صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر فاعل ہوا مختصةٌ کے لیے۔
با جارّہ، الاسمِ مجرور لفظاً موصوف، الظاهرِ...
الظَّاهِرِ مجرور لفظاً، صیغہ اسمِ فاعل۔ الظَّاهِرِ میں، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ الفِ موصوف کو راجع ہے، جی۔ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف صفت مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے مُخْتَصَّةٌ سے۔ مُخْتَصَّةٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی سب کو؟ جی!
جی، آگے کون کرے گا؟ چلیے۔ فَلَا، فَ فصیحہ، جی۔ لَا نافیہ، جی؟ فَ فصیحہ کس کو کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا بھئی۔ فَقَطْ کے اندر یہ فَ آئی تھی، میں نے بتلایا تھا فَقَطْ لفظ کی ترکیب میں۔ شاباش! فَ فصیحہ وہ ہے جو شرطِ محذوف پر دلالت کرے۔ یہ بھی شرطِ محذوف پر دلالت کرے۔ یہ شرطِ محذوف یہاں کیا ہے؟ وہی وہی جہاں، وہاں کیا نکالی تھی؟ ہاں، وہاں اور تھی بھئی، چلو! إِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذٰلِكَ۔ دیکھا! یہ خاص ہے اِسْمِ ظَاهِر کے ساتھ، بخلاف إِلَى کے کہ إِلَى کس پر داخل ہوتا ہے؟ اِسْمِ ظَاهِر پر بھی اور اِسْمِ ضَمِیر پر بھی۔ إِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذٰلِكَ جب معاملہ ایسا ہی ہے فَلَا يُقَالُ حَتَّى هُوَ تو حَتَّى هُوَ نہیں کہا جائے گا وَيُقَالُ إِلَيْهِ اور کیا کہا جائے گا؟ إِلَيْهِ کہا جائے گا بھئی، ترکیب سمجھ میں آئی؟ جی!
اچھا، شرط کی ترکیب پہلے اس کی کر لو بھئی، بعد میں اس کی کرنا۔ فَ فصیحہ، لَا يُقَالُ فعل، اس میں ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، بھئی فعلِ مجہول ہے۔ نائب فاعل، وہ کس کو راجع ہے؟ جو جملے کو راجع، حَتَّى کو راجع، جی؟ کیوں بھئی؟ لَا يُقَالُ نہیں کہا جائے گا، کیا نہیں کہا جائے گا؟ حَتَّى هُوَ۔ بھئی مقولہ کیا ہوتا ہے قَالَ کے لیے؟ مقولہ کیا بنتا ہے قَالَ کے لیے؟ مفعول، اور جب فعل کو مجہول بنا دیا جائے تو وہی مفعول کیا بن جایا کرتا ہے؟ نائب فاعل، تو یہی آگے مقولہ تو ہے، اسی کو کیا بناؤ گے؟ نائب فاعل۔ لَا يُقَالُ فعلِ مجہول، حَتَّى هُوَ، اوہو! لَا يُقَالُ فعلِ مجہول، بھئی جب یہ کہا ہی نہیں جاتا، تو ترکیب لفظ مراد ہے، حَتَّى هُوَ نہیں کہا جائے گا اور إِلَيْهِ کہا جائے گا۔ ترجمہ کریں گے آپ اس کا جب آپ سے کوئی کہے: فَلَا يُقَالُ حَتَّى هُوَ وَيُقَالُ إِلَيْهِ، اس کا ذرا ترجمہ کرو، آپ کیا ترجمہ کریں گے؟ حَتَّى هُوَ نہیں کہا جائے گا اور إِلَيْهِ، تو بس یہ لفظ مراد ہیں مولانا، لفظ مراد ہیں یہاں، ترجمہ نہیں مراد۔
لَا يُقَالُ فعلِ مجہول، حَتَّى هُوَ اس کا نائب فاعل، حَتَّى اعراب بتلاؤ، مرفوع تقدیراً کہہ لو یا محلاً کہہ لو، جی۔ اس کا نائب فاعل، فعلِ مجہول اپنے نائب فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر معطوفٌ علیہ، و حرفِ عطف، يُقَالُ فعلِ مجہول، إِلَيْهِ مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، فعلِ مجہول اپنے نائب فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر معطوف، معطوفٌ علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ جزا ہوئی کس کے لیے؟ شرطِ محذوف کے لیے اور وہ کیا ہے؟ إِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذٰلِكَ، جی، اب اس کی ترکیب کیجیے شرط کی۔
إِذَا ظرفیہ شرطیہ، جی۔ تو یہ إِذَا ظرفیہ شرطیہ جو ہوتا ہے اور یہ ظرفیہ ہے، یہ مفعولِ فیہ بنا کرتا ہے بھئی، کیا بنا کرتا ہے؟ مفعولِ فیہ۔ آپ نے پڑھا ہے جار مجرور کے لیے جیسے کیا چاہیے؟ کوئی متعلق چاہیے، ہمیشہ وہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح میں نے آپ کو بتلایا تھا ظرف بھی آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے لیے ضرور کسی ایک کے لیے مفعولِ فیہ بنے گا اور وہ کون سی وہی آٹھ چیزیں ہیں بھئی۔ تو یاد رکھو یہ إِذَا ظرفیہ شرطیہ کے اندر عامل کون ہے؟ یہ تو ظرف ہے، اس کے لیے عامل چاہیے۔ یاد رکھو یہ جو آگے فعلِ شرط آ رہا ہے، یہی اس کے اندر عامل ہے۔ یہی اس کے اندر عامل، إِذَا كَانَ، یہ كَانَ کیا ہے؟ اس إِذَا کے اندر عامل ہے، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ مفعولِ فیہ بنے گا، جی، ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی!
إِذَا ظرفیہ شرطیہ مفعولِ فیہ ہوا كَانَ کے لیے، جی۔ كَانَ فعل، إِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذٰلِكَ۔ شاباش! كَانَ فعل از افعالِ ناقصہ، الْأَمْرُ مرفوع لفظاً اس کا اسم، كاف جارہ، ذٰلِكَ مجرور محلاً کیوں کہا آپ نے؟ یہ مبنی ہے اور یہ ضمیر ہے، کیا ہے؟ ذٰلِكَ کیا ہے بھئی؟ اسمِ اشارہ، اسمِ اشارہ اور اسمِ اشارہ کس میں سے ہے؟ مبنیات، اور مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً، تو اس پر كاف جارہ داخل ہوا تو ذٰلِكَ مجرور محلاً۔ شاباش! جار اپنے مجرور سے مل کر کیا ہوا؟ متعلق کس سے؟ ثَابِتًا سے، کیونکہ اس نے کیا بننا ہے كَانَ کی؟ خبر، خبر بننا ہے اور كَانَ کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب، منصوب اور یہ جار مجرور ہیں ان کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی متعلق، اور وہ متعلق اب کیا نکالیں گے؟ ثَابِتًا منصوب نکالیں گے بھئی، شاباش! متعلق ہوئے ثَابِتًا صیغہ اسمِ فاعل کے ساتھ۔
شاباش! ثَابِتًا صیغہ اسمِ فاعل هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ الْأَمْرُ كَانَ کے اسم کو راجع، کیونکہ كَانَ کی خبر کس سے جڑتی ہے؟ اسم سے، جی۔ شاباش! اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر كَانَ کی خبر۔ كَانَ اپنے اسم اور خبر اور ظرفِ مفعولِ فیہ سے مل کر، جی! جملہ فعلیہ ہو کر شرط، اور جزا آگے آپ نے بتلا دیا تھا: فَلَا يُقَالُ حَتَّى هُوَ وَيُقَالُ إِلَيْهِ، شرط اور جزا مل کر جملہ شرطیہ، جی؟ کیا کہیں گے؟ کیوں بھئی؟ جملہ شرطیہ کون سا، خبریہ یا انشائیہ؟ جی؟ کیا بات ہے، آگے دوڑ پیچھے چھوڑ والا مسئلہ ہے؟ میں نے کیا بتایا تھا؟ جملہ شرطیہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے اور... کیسے پتہ چلے گا؟ جزا سے، جزا اگر خبر ہے تو جملہ شرطیہ خبریہ، اگر جزا انشا ہے تو جملہ شرطیہ انشائیہ، تو یہاں بتا دیجیے اب آپ یہ جملہ شرطیہ خبریہ ہے یا انشائیہ ہے؟ خبریہ، خبریہ ہے، کیا ہے؟ خبریہ، جملہ شرطیہ خبریہ ہوا!
جی، آگے... وَ عاطفہ... چلو بس، آج اتنا ہی کافی ہے، بس کرو۔