Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-047

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔47 جي! تيجي بھئی! کون کرے گا؟ کس کی باری نہیں ہوئی؟ عرصہ ہو گیا کیا؟ باری نہیں آئی؟ جی؟ چلو جی، آپ کرو۔ الواؤ الواؤ مرفوع الواؤ حرفِ عطف الواؤ الواؤ مرفوع لفظاً مبتدا۔ شاباش! الواؤ مرفوع لفظاً مبتدا۔ لام جارہ، لام جارہ، القسم مجرور۔ یہ مجرور کون سا بھئی؟ مجرور محلاً۔ القسم مجرور محلاً، شاباش بھئی! کیوں بھئی محلاً کیوں کہا آپ نے؟ لفظاً۔ جی؟ لفظاً۔ لفظاً کیسے پتہ چلا آپ کو؟ تلفظ کر رہا ہے۔ یہ خود تلفظ کر رہا ہے؟ ہیں؟ بتاؤ بھئی! بتاؤ۔ تلفظ ہو رہا ہے۔ اس پہ تلفظ کیا تلفظ کس چیز کا ہو رہا ہے؟ لفظ ہے، یہ تو لفظ پہ تو تلفظ ہوگا تو لفظ کہیں گے اس کو۔ بتاؤ بھئی! قسم کی وجہ سے۔ شاباش! قسم کی وجہ سے کیا ہے اس پہ تلفظ کر رہے ہیں بھئی۔ اس کسرہ کی وجہ سے۔ کیا؟ اس کسرہ کی وجہ سے۔ ہاں شاباش! بھئی، اس پہ جو جار آ رہا ہے، کسرہ آ رہا ہے اس کو آپ پڑھ رہے ہیں، تلفظ کر رہے ہیں "لِلقَسَمِ"، دیکھا؟ جی، تو القسم مجرور لفظاً مضاف، مجرور، جی۔ جار مجرور مل کر ظرفِ لغو متعق ثابۃ سے۔ جار مجرور مل کر ظرفِ لغو ہوئے؟ ظرفِ مستقر۔ ظرفِ مستقر کسے کہتے ہیں؟ جس کا متعلق لفظوں میں موجود نہ ہو۔ ظرفِ ہاں، کسے کہتے ہیں؟ جس کا متعلق لفظوں میں موجود نہ ہو۔ جس کا متعلق کیا ہو؟ محذوف ہو بھئی، مذکور نہ ہو۔ جی، اس نے اس کی جگہ قرار پکڑا ہو۔ ثابۃ سے۔ جی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابۃ سے بھائی। بھئی! آپ نے ثابۃ مؤنث کیوں نکالا؟ یہ کہ یہ مؤنث کی وہ دلیل ہوتی ہے واؤ کی بھی۔ تو کیا کیوں واؤ مؤنث کیوں لوٹا رہے ہو؟ واؤ بیچارے کا کیا قصور ہے؟ محذوف ہے۔ بھئی! محذوف تو ہے، یہ تم مؤنث کی ضمیر کیوں لوٹا رہے ہو؟ واؤ کے ساتھ کیا دشمنی آگئی آپ کی؟ لگتا ہے آپ کے کچھ اختلافات ہیں واؤ سے، ہیں؟ بولو بھئی، بولو! بات پوری سمجھ میں آنی چاہیے پھر ترکیب کا فائدہ ہے نا، جب بات ہی نہیں سمجھ میں آئی تو کیا فائدہ؟ آپ نے مؤنث ہی کیوں نکالا؟ بھئی! وجہ یہ ہے، کیا وجہ ہے؟ میں نے کیا بتایا تھا؟ یہ حروف تمام مؤنث۔ یہ واؤ حرف ہے اور حروف کیا ہیں؟ مؤنث زیادہ تر مؤنث استعمال ہوتے ہیں، مذکر بھی استعمال ہوتے ہیں، مؤنث زیادہ ہیں بھئی، تو لہذا ثابۃ نکالا تاکہ ھِیَ کی ضمیر ہم اس کو لوٹائیں۔ جی، ثابۃ صیغہ اسمِ فاعل۔ صیغہ اسمِ فاعل، ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ واؤ کی طرف۔ واؤ کو، جی۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے شبه جملہ ہو کر یہ بن گیا مبتدا۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور یہ جو متعلق کو چھوڑ دیا آپ نے؟ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر کیا بن گیا؟ شبه جملہ ہو کر خبر واؤ کے لیے۔ شاباش! یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی۔ کرتے جاؤ آگے بھئی! واؤ عاطفہ۔ واؤ حرفِ عطف۔ واؤ حرفِ عطف، ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ شاباش! ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً مبتدا کس کو راجع ہے؟ واؤ کی طرف۔ واؤ کو شاباش، جی۔ لا تدخل فعل۔ لا تدخل فعل، یرحمک اللہ۔ ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ ھِیَ کے لیے، واؤ کے لیے۔ کس کو راجع ہے؟ مبتدا کو۔ شاباش! خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے۔ مبتدا سے، تو یہ اس نے خبر بننا ہے تو ضمیر مبتدا کو راجع کرو، جی۔ إلّا حرفِ استثناء۔ إلّا حرفِ استثناء، عَلَى حرفِ جارہ۔ عَلَى جارہ، الاسمِ مجرور الاسمِ مجرور الظاھرِ۔ کون سا مجرور؟ مجرور لفظاً۔ مجرور لفظاً، الظاھرِ صفۃ مجرور۔ ہاں، الاسمِ مجرور لفظاً موصوف۔ موصوف، الظاھرِ مجرور لفظاً صفت۔ الظاھرِ مجرور لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ صیغہ اسمِ فاعل، ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ جو کہ اسم کو راجع ہے۔ الاسم، اسم الاسم کو راجع مولانا، کیونکہ صفت کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ موصوف سے۔ موصوف سے، جی۔ تو الظاھر اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر اس کی صفت بن گئی الاسم کی۔ صفت، جی۔ موصوف صفت سے مل کر مجرور ہوا جار کا۔ موصوف صفت مل کر مجرور ہوئے عَلَى جارہ کے لیے۔ عَلَى جارہ کے لیے، جار مجرور مل کر متعلق ہوا لا تدخل کا۔ جار مجرور مل کر، آگے بھئی عطف ہو رہا ہے، عطف ہو رہا ہے لا کے ساتھ۔ معطوف علیہ۔ شاباش! جار مجرور مل کر معطوف علیہ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حروفِ عاطفہ میں سے آپ نے پڑھا ایک لا بھی ہے بھئی، لا۔ معطوف علیہ، جی۔ لا زائدہ۔ اوہو! لا حرفِ استثناء۔ جی، چلو پہنچ گئے کسی نہ کسی طرح، لا جی عاطفہ۔ لا عاطفہ، جی۔ عَلَى جارہ۔ عَلَى جارہ، المضمرِ مجرور لفظاً۔ المضمرِ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوا ظرفِ۔ یہ معطوف ہوا، جار مجرور مل کر، ایک پہلے معطوف علیہ آپ نے جار مجرور چھوڑا تھا، یہ اس پر معطوف۔ معطوف معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ ھِیَ کی خبر لا تدخل کا متعلق بنائیں گے۔ شاباش! یہ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے، معطوف معطوف علیہ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ متعلق ہوئے کس سے؟ لا تدخل فعل کے ساتھ بھئی۔ لا تدخل فعل اپنے۔ بھئی، جڑ رہا ہے اس کے ساتھ؟ جی۔ لا تدخل فعل اپنے فاعل متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر ھِیَ کی خبر۔ شاباش! لا تدخل فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر۔ ھِیَ کی، مبتدا خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔ شاباش! مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی। آگے کون کرے گا؟ جی چلیے بھئی! چلو بھئی، آپ کرو بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نَحوَ۔ نَحوَ منصوب لفظاً مضاف۔ نَحوَ منصوب لفظاً مضاف، وَاللّٰہِ لَاَشْرَبَنَّ اللَّبَنَ۔ یہ محلاً مجرور مضاف الیہ۔ جی، وَاللّٰہِ لَاَشْرَبَنَّ اللَّبَنَ یہ مراد اللفظ مجرور تقدیراً مضافٌ الیہ۔ مضاف اور مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا اَعْنِی فعل کے لیے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا اَعْنِی فعل کے لیے، شاباش! اَعْنِی فعل۔ اَعْنِی فعل، اپنے فاعل سے۔ اَعْنِی فعل، اَنَا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ۔ فعلیہ خبریہ ہوا، جی۔ اور اگر معنیٰ کا ارادہ ہو تو پھر؟ تو یہاں لفظ مراد ہیں، لفظ، سمجھ میں آیا بھئی؟ معنیٰ مراد نہیں ہے، واؤ کی مثال ذکر کرنی ہے بس، وَاللّٰہِ لَاَشْرَبَنَّ اللَّبَنَ، یہ کیا ہے؟ واؤ کی مثال ہے۔ اب معنیٰ کا ارادہ ہو پھر؟ واؤ جارہ۔ واؤ جارہ قسمیہ، لفظِ اللہ مجرور۔ لفظِ اللہ مجرور لفظاً، جار اپنے مجرور سے مل کر ظرفِ مستقر متعلق ہوا اُقْسِمُ فعل سے۔ شاباش! جار مجرور مل کر یہ ظرفِ مستقر متعلق ہوا کس سے؟ اُقْسِمُ فعل کے ساتھ۔ اُقْسِمُ فعل، اَنَا ضمیر محلاً مرفوع اس کا فاعل۔ شاباش! اُقْسِمُ فعل، اَنَا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر۔ اور؟ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر قسم۔ شاباش! فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ لفظاً اور انشائیہ معناً ہوا بھئی، سمجھ میں آیا؟ انشاء ہے نا، قسم کس قبیل سے ہے؟ انشاء۔ انشاء، جی انشائیہ، قسم۔ لَاَشْرَبَنَّ لَاَشْرَبَنَّ میں لام تاکید کے لیے ہے، اسی طرح نون اور نون بھی کس لیے آ رہا ہے؟ تاکید کے لیے۔ تاکید، نونِ ثقیلہ اور یہ اَشْرَبَنَّ تو یہ لامِ تاکید اور نونِ ثقیلہ کے ساتھ ہے، لَاَشْرَبَنَّ فعل، اَنَا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اَنَا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اللَبَنَ منصوب منصوب لفظاً مفعول۔ اللَبَنَ منصوب لفظاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ قسم۔ جی! اس کو کیوں انشائیہ بنا رہے ہو؟ خبریہ ہو کر۔ ہاں، میں دودھ پیوں، میں ضرور دودھ پیوں گا، یہ تو خبر دے رہے ہیں آپ بھئی! سمجھ میں آیا؟ یہ خبر۔ جواب، تو یہ جو کہتے ہیں نا قسم انشاء ہے، یاد رکھو! یہ صرف وہ جو "اُقْسِمُ وَاللّٰہِ" یہ یہ حصہ کیا ہے؟ انشاء۔ آگے جوابِ قسم کی بات نہیں بھئی، جوابِ قسم کے تو کہنے والے اس پر تو قسم کھانے والے کو آپ سچا یا جھوٹا کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ اس نے سچی قسم کھائی ہے یا اس نے جھوٹی قسم کھائی ہے؟ یہ کس اعتبار سے کہتے ہیں؟ وہ جو جوابِ قسم ہے اس کے اعتبار سے کہا جاتا ہے، تو وہ مولانا انشاء بھی ہو سکتا ہے، خبر بھی ہو سکتی ہے۔ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم۔ جی، جملہ فعلیہ لَاَشْرَبَنَّ اللَّبَنَ جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم، قسم جوابِ قسم سے مل کر جملہ قسمیہ ہوا بھئی۔ جی، کرتے جائیے بھئی! وَقَدْ تَکُوْنُ بِمَعْنٰی رُبَّ۔ جی، واؤ عاطفہ، قَدْ حرفِ تقلیل، تَکُوْنُ فعل از افعالِ ناقصہ، ھِیَ ضمیر محلاً مرفوع اس کا اسم۔ شاباش! تَکُوْنُ کے اندر ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم جو کس کو راجع ہے؟ راجع ہے واؤ کو۔ جو راجع ہے واؤ کو، بَا حرفِ جار۔ بَا جارہ، مَعْنٰی مجرور تقدیراً مضاف۔ شاباش! مَعْنٰی مجرور تقدیراً مضاف، رُبَّ محلاً مجرور مضاف الیہ۔ شاباش! رُبَّ مجرور محلاً مضافٌ الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مجرور ہوا بَا حرفِ جار کا۔ جی، مضاف مضاف الیہ کر مجرور ہوئے بَا جارہ کے لیے، جار مجرور۔ جار مجرور مل کر ظرفِ مستقر متعلق ہوا ثَابِتَۃً کے۔ شاباش! یہ متعلق ہوئے ثَابِتَۃً کے بھئی۔ بھئی! ثَابِتَۃً آپ نے مؤنث کیوں نکالا؟ کیونکہ تَکُوْنُ کا اسم مؤنث ہے۔ ہاں، کیونکہ تَکُوْنُ کا اسم مؤنث ہے تو اس کی خبر بھی کیا بنائیں گے؟ مؤنث بنائیں گے، اور آپ نے منصوب کیوں نکالا؟ شاباش! تَکُوْنُ کانَ کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب ہوتی ہے، تو ثَابِتَۃً صیغہ اسمِ فاعل، ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو راجع ہے تَکُوْنُ کے اسم کو، اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، تَکُوْنُ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی کرتے جائیے! نَحْوُ وَعَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ اَیْ رُبَّ عَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ۔ جی، نَحْوُ منصوب لفظاً مضاف۔ نَحْوُ منصوب لفظاً مضاف، وَعَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ۔ جی، وَعَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ مراد اللفظ۔ جی، مراد اللفظ مجرور تقدیراً مبدل منہ، مراد اللفظ مجرور تقدیراً مبدل منہ، جی۔ اَیْ حرفِ تفسیر، اَیْ حرفِ تفسیر، رُبَّ عَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ۔ مجرور تقدیراً بدل۔ جی، رُبَّ عَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ مراد اللفظ مجرور تقدیراً بدل، مبدل منہ اپنے بدل کے ساتھ مل کر مضافٌ الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا اَعْنِی فعل کے لیے، مضاف اپنے مضاف الیہ کے ساتھ مل کر یہ مفعول بہ ہوا اَعْنِی فعل کے لیے، اَعْنِی فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، اور اگر معنیٰ کا ارادہ ہو پھر کیا ترکیب ہوگی؟ واؤ بمعنیٰ رُبَّ۔ واؤ بمعنیٰ رُبَّ جارہ، جی! واؤ جارہ بمعنیٰ رُبَّ کے، جی۔ عَالِمٍ صیغہ اسمِ فاعل۔ عَالِمٍ، جی! بس اس کو اسی طرح رکھو ورنہ اس کے لیے پھر آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ موصوف شَخْصٍ نَاحِیَہٍ نکالنا پڑے گا، تو بس یہی اسی کو موصوف بنا لو یہی پر، ضمیر کیونکہ ضمیر لوٹانی پڑے گی یا نہیں پڑے گی بھئی؟ جی، بس اسی کو موصوف بنا لو، جی! عَالِمٍ مجرور لفظاً موصوف، یَعْمَلُ فعل۔ یَعْمَلُ، جی! بس یہ ذہن میں آپ کے ہونی چاہیے یہ بات، سمجھ میں آیا؟ کہ یہ صفت کا صیغہ آ جائے تو اس کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے؟ موصوف چاہیے ہوگا تو وہ موصوف محذوف ہوتا ہے، بس اس کی ضرورت ہی نہیں ذکر کرنے کی، اسی کو موصوف بنا دو بس، عَالِمٍ مجرور لفظاً موصوف، یَعْمَلُ فعل۔ یَعْمَلُ فعل، ھُوَ ضمیر محلاً مرفوع اس کا فاعل۔ ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ موصوف کو۔ موصوف کو شاباش! آگے آگے، بَا حرفِ جار۔ بَا جارہ، عِلْمِ مجرور لفظاً مضاف۔ عِلْمِ مجرور لفظاً مضاف، ہٖ ضمیر محلاً مجرور مضافٌ الیہ۔ ہٖ ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مجرور ہوا بَا حرفِ جار کا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، بَا جار۔ جی، جار اپنے مجرور سے مل کر ظرفِ لغو متعلق ہوا یَعْمَلُ فعل کے۔ شاباش! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ یَعْمَلُ فعل کے ساتھ بھئی، فعل۔ یَعْمَلُ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صفت۔ شاباش! فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت، دیکھو پورا جملہ کس کی صفت بن گیا؟ نکرہ کی صفت بن گیا، تو جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے بھئی۔ جی، موصوف اپنے صفت کے ساتھ مل کر مجرور ہوا، مجرور واؤ جار کا۔ واؤ جارہ کے لیے، جی۔ جار اپنے مجرور سے مل کر جی! جار اپنے مجرور کے ساتھ مل کر یہ متعلق ہوں گے، یہ ہاں! وہی ترکیب جو میں نے بتائی تھی آپ کو وہ کریں بھئی۔ یہ جار، یہ جو عَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ بھئی! یہ کیا ہے؟ مجرور ہے لفظاً یہ موصوف، لیکن مرفوع ہے کس اعتبار سے؟ مبتدا ہے، یہ کیا ہے؟ کل آپ نے ترکیب نہیں کی بھئی! رُبَّ رَجُلٍ کَرِیْمٍ، رَجُلٍ کَرِیْمٍ کو کیا بنایا تھا ہم نے؟ مجرور لفظاً، مرفوع محلاً مبتدا، تو یہ واؤ بھی بمعنیٰ رُبَّ کے ہے، تو یہ بھی مجرور لفظاً اور مرفوع محلاً مبتدا، اور خبر اس کی جو جوابِ رُبَّ ہے محذوف ہے، کیا؟ لَقِیْتُہٗ مثلاً، کیا ہے؟ لَقِیْتُہٗ، تو لَقِیْتُ فعل با فاعل، اَنْتَ تُو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، ہٖ ضمیر مجرور منصوب محلاً اس کا مفعول، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جوابِ رُبَّ، جو جواب ہے یہ واؤ بمعنیٰ رُبَّ کے جو آیا، تو مبتدا اپنے خبر سے مل کر جی؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہو ہوا بھئی، جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی۔ یہاں مفسر بنا دو تو ٹھیک ہے، جی۔ اَیْ حرفِ تفسیر، اَیْ حرفِ تفسیر رُبَّ عَالِمٍ یَّعْمَلُ بِعِلْمِہٖ۔ جی، یہ بھی وہی ترکیب بِعَیْنِہٖ آپ دیکھ رہے ہیں بھئی؟ صرف واؤ کی جگہ کیا آگیا؟ رُبَّ، تو دیکھو رُبَّ جارہ، عَالِمٍ مجرور لفظاً، مرفوع مرفوع محلاً بھئی، تو یہ موصوف ہے، یَعْمَلُ بِعِلْمِہٖ یہ کیا ہے؟ جملہ پورا جملہ فعلیہ خبریہ یہ بھی محل یہ محلاً مجرور ہے، یہ بھی کیا ہے؟ بھئی! جملہ کیا ہے، مبنی ہے، اور مبنی کا اعراب کیسا ہوتا ہے؟ محلاً، تو یہ بھی محلاً مجرور ہے، لیکن یہ محلِ قریب اس کا ہے۔ اور محلِ بعید کیا ہے؟ مرفوع ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ نہیں خبر نہیں بھئی، یہ یہ مبتدا کی صفت ہے، عَالِمٍ کی صفت ہے بھئی، اور وہ کیا ہے؟ محلاً مرفوع، تو یہ بھی کیا ہے محلِ بعید کے اعتبار سے؟ مرفوع ہے، تو یہ موصوف صفت مل کر مبتدا، اور آگے لَقِیْتُہٗ اس کے لیے کیا نکال لیں گے؟ خبر نکال لیں گے بھئی۔ تو یہ جملہ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ مفسرہ ہوا، مفسرہ ہوا، تفسیر بیان کر رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا، چلیے بھئی، وقت بھی اج تو تھوڑا ہوا، چلیے ایک قیمتی نقطہ آپ کو بتلا دیتا ہوں بھئی۔ بھئی، آپ نے پڑھا ہے ہمیشہ کہ یہ جو مفعول فیہ ہے اس کو ظرف کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف کہتے ہیں۔ اسی طرح جار مجرور کو بھی ظرف کہتے ہیں مجازاً۔ تو وہ جو مفعول فیہ ہے وہ تو ہے ظرف حقیقۃً، کیونکہ وہ زمانے اور مکان کا نام ہے اور ہر فعل کسی زمانے یا کسی مکان میں ہوگا، تو زمانہ اور مکان اس فعل کے لیے ظرف کی طرح ہوا، کس کی طرح ہوا؟ ظرف کی طرح ہوا، تو وہ تو ہے مفعول فیہ جو ہے ظرف حقیقی۔ یہ جار مجرور کو ظرف مجازی کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ ظرف مجازی۔ اب ان کو ظرف مجازی کیوں کہتے ہیں؟ کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ مولانا کہ دونوں کی مناسبت ہے ایک دوسرے کے ساتھ۔ ظرف حقیقی کی مناسبت ہے جار مجرور کے ساتھ اور جار مجرور کی مناسبت ہے ظرف حقیقی کے ساتھ۔ ظرف حقیقی کی مناسبت کس کے ساتھ ہے؟ جار مجرور کے ساتھ اور جار مجرور کی مناسبت کس کے ساتھ ہے؟ ظرف حقیقی، یعنی دونوں کے درمیان مناسبت ہے، دونوں طرف سے مناسبت موجود۔ ظرف حقیقی کی مناسبت جار مجرور کے ساتھ اس طرح ہے کہ ہر ظرف حقیقی جار مجرور کی تقدیر میں ہوتا ہے، تقدیراً کیا ہے وہ؟ جار مجرور، تقدیراً وہ کیا ہے؟ جار مجرور۔ کیا بات کی میں نے بھئی؟ ہر ظرف حقیقی تقدیراً کیا ہے؟ جار مجرور۔ مثلاً اس کی مثال بھئی، میں کہتا ہوں، کیا کہوں گا؟ "دخلت البيت" کیا کہتا ہوں؟ "دخلت البيت" اب دیکھیے یہ کیا ہے البيت؟ مفعول فیہ ہے، یہ کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے، یہ ظرف حقیقی ہے بھئی۔ چلیے دخلت کی مثال نہیں ذکر کرتے، اس میں تو اختلاف ہے بھئی، کوئی اس کو مفعول بہ بناتے ہیں بھئی۔ اچھا، اور کوئی مثال ذکر کرو جس میں ظرف آئے، منصوب آئے بھئی، مفعول فیہ۔ جی؟ اچھا، چلیے، یہ دیکھیے: "صمت يوم الجمعة" یا یوں کہے "صمت اليوم" میں نے اج روزہ رکھا، تو اليوم منصوب ہے، مفعول فیہ ہے، ظرف حقیقی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے مولانا؟ ظرف حقیقی۔ تو یہ جار مجرور کی تقدیر میں ہے، یعنی صمت اليوم کا کیا معنی؟ یعنی صمت في اليوم۔ صمت اليوم کا کیا معنی؟ صمت في، تو في کا معنی وہاں مقدر ہوتا ہے ہر ظرف حقیقی سے پہلے۔ ہر ظرف حقیقی سے پہلے کیا ہوتا ہے مولانا؟ في کا معنی مقدر، في کا لفظ نہیں کہنا، في کا لفظ نہیں مقدر ہوتا کیونکہ اگر لفظ ہو تو المقدر كالملفوظ، مقدر کس کی طرح ہوتا ہے؟ ملفوظ کی طرح، ہاں اس کا معنی وہاں مقدر ہوتا ہے معنی۔ تو صمت اليوم کس معنی میں ہے؟ صمت في اليوم، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو ظرف حقیقی کس کی تقدیر میں ہے؟ جار مجرور کی تقدیر میں۔ اور اسی طرح اگر وہ مثال بھی بنا لیں "دخلت البيت" اب یہ دخلت کے آگے جو منصوب آتا ہے ظرف، بھئی اس میں اختلاف ہے، بعض اس کو مفعول فیہ بناتے ہیں، بعض اس کو مفعول بہ بناتے ہیں۔ چلیے، اگر ہم اس کو مفعول فیہ بنائیں، کیا بنائیں؟ تو دخلت فعل بافاعل اور البيت کیا ہے؟ مفعول فیہ، تو یہ کس معنی میں ہوا؟ یعنی دخلت في البيت، تو في کا معنی کیا ہے وہاں؟ مقدر ہے في کا معنی۔ تو ہر ظرف حقیقی کس کی تقدیر میں ہے؟ جار مجرور کی تقدیر میں، دیکھا ظرف حقیقی کی مناسبت ہے جار مجرور کے ساتھ۔ اور دوسری بات میں نے کیا کی تھی؟ جار مجرور کی بھی مناسبت ہے کس کے ساتھ؟ ظرف حقیقی کے ساتھ۔ وہ کیسے؟ کہ بھئی جیسے کہ جار مجرور کے لیے بھی عامل چاہیے ہوتا ہے، متعلق چاہیے یا نہیں آٹھ چیزوں میں سے؟ جیسے کہ ظرف حقیقی کے لیے کوئی عامل چاہیے آٹھ چیزوں میں سے۔ تو جار مجرور کے لیے بھی عامل چاہیے جیسے کس کے لیے عامل چاہیے؟ ظرف حقیقی کے لیے، تو دونوں ایک تو کی ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت آگئی۔ ظرف حقیقی کی مناسبت کیسے آئی؟ کہ اس کے لیے، جی وہ تقدیراً کس کے حکم میں ہے؟ جار مجرور کی طرح ہے اور جار مجرور کی مناسبت اس کے ساتھ کیسے آئی؟ کہ اس کے لیے بھی ویسے ہی عامل چاہیے، یہ بھی ویسے ہی عامل کا محتاج ہے جیسے کہ وہ کس کا محتاج ہے؟ ظرف حقیقی عامل کا محتاج ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بات یاد رکھنا بھئی، یہ بات یاد رکھنا۔ چلیے بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
49 approved lectures · 47 of 49