Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-016

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 30
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔16 اچھا بھئی لکھیے بھئی اور جملے کچھ لکھیے۔ اشتریت، اشتریت ھذہ الدار من زید، من زید۔ اچھا بھئی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی ترکیب نہیں آتی آپ کو؟ چلیے کیجیے۔ اشتریت فعل بافاعل۔ اب فاعل الگ بھی بتاؤ کون ہے؟ کون سی ضمیر؟ جی؟ تُو ضمیر اس کے اندر فاعل۔ اعراب بتلاؤ۔ مرفوع محلاً۔ مرفوع کیوں کہا؟ فاعل مرفوع ہوتا ہے شاباش، اور محلاً کیوں کہا؟ شاباش یہ ضمیر ہے اور ضمیر مبنیات میں سے ہوتی ہے، مبنیات میں سے ہے تو یہ محلاً مرفوع ہے جی، آگے۔ اسم اشارہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ترکیب میں۔ جی کیجیے جلدی جلدی بھئی۔ جی ترکیب کیجیے بھئی۔ اشتریت فعل، تُو ضمیر مرفوع محلاً فاعل، ھذہ منصوب محلاً موصوف۔ اچھا، موصوف کیوں بنایا آپ نے اس کو؟ شاباش، معرفہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ یاد رکھو اسم اشارہ کے بعد معرفہ آ جائے تو وہ عموماً موصوف صفت بنیں گے بھئی، کیا بنیں گے؟ موصوف صفت بھئی، سمجھ میں آیا؟ یعنی یا یوں کہو اسم اشارہ کے ساتھ مشار الیہ آ گیا بھئی تو عموماً یہ کیا بنیں گے؟ موصوف۔ اس میں اشارہ بھی ہے معرفہ، الدار بھی ہے معرفہ۔ جی اور منصوب کیوں کہا آپ نے بھئی؟ یہ مفعول بہ بنے گا، کیا بنے گا؟ فاعل گزر چکا ہے مرفوع تو آ نہیں سکتا، منصوب اور مجرور رہ گئے۔ مجرور یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ اس سے پہلے نہ مضاف آیا ہے نہ اس پر حرفِ جار داخل ہوا ہے تو یہ منصوب ہو گا، اور محلاً کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ مبنی ہے، اسم اشارہ مبنیات میں سے ہے بھئی۔ تو ھذہ منصوب محلاً موصوف۔ الدار منصوب لفظاً صفت بھئی۔ منصوب کیوں کہا آپ نے؟ ہاں موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے بھئی۔ لفظاً کیوں کہا؟ کیسے تلفظ کر کے دکھائیں؟ الدار، فتحہ پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ تو دیکھا ایک موصوف ہے دوسری صفت ہے، موصوف بھی ہے منصوب، صفت بھی ہے منصوب۔ باقی محلاً، لفظاً، تقدیراً اس کے اندر اختلاف ہو سکتا ہے بھئی۔ موصوف جو ہے وہ منصوب ہے محلاً، اور صفت منصوب ہے لفظاً بھئی لفظاً۔ جی آگے، موصوف صفت مل کر مفعول بہ ہوئے فعل کے لیے۔ من جارہ، زیدٍ مجرور لفظاً۔ جی مجرور ہوا اس حرفِ جار کے لیے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اشتریت فعل کے ساتھ بھئی، جوڑ کر دکھائیں، جڑتے ہیں بھئی؟ یہ اشتریت فعل کے ساتھ بھئی، جوڑ کر دکھائیں۔ ہاں اشتریت باقی لفظ ختم کریں، اشتریت من زید، میں نے خریدا زید سے، جڑ رہا ہے بھئی؟ جڑ رہا ہے جی شاباش۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے۔ اشتریت ھذہ الدار من زید۔ ترجمہ کیجیے۔ خریدا میں نے یہ گھر من زید، زید سے بھئی۔ جی ترکیب اگلا جملہ لکھیے۔ بعت، بعت ھذہ، ھذہ الدار، الدار من زید، من زید۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ بعت فعل بافاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً اس میں اس کا فاعل، ھذہ منصوب محلاً موصوف، الدار منصوب لفظاً صفت، موصوف صفت مل کر مفعول بہ ہوئے فعل کے لیے، من جارہ، زید مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے بعت فعل کے ساتھ بھئی۔ جڑ رہا ہے؟ جوڑ کر دکھاؤ۔ بعت من زید، جڑ رہا ہے؟ جی، جڑ رہا ہے بھئی، یہ من زید بھئی۔ جیسے اشتریٰ کا صلہ من آتا ہے، باع کا صلہ بھی من آتا ہے۔ اور اشتریٰ میں من اس پر داخل ہوا تھا جس سے چیز خریدی گئی، تو باع کے اندر من اس پر داخل ہو گا جس پر چیز بیچی گئی۔ تو بعت من زید کا معنیٰ ہے میں نے بیچی زید پر بھئی۔ من کا کیا ترجمہ اردو میں یہاں کرو بھئی؟ پر والا ترجمہ کرو، سے نہیں بنے گا یہاں۔ بیچی بیچا میں نے یہ گھر زید پر یعنی زید کو بیچا بھئی۔ تو فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ، ہاں یہ یاد رکھنا کہ باع کا صلہ بھی من آتا ہے اور کس پر داخل ہوتا ہے من؟ جس پر وہ چیز بیچی جائے بھئی، جس پر وہ چیز بیچی جائے۔ جی؟ نہیں بھئی، یہ کس نے آپ کو کہا یہ جملہ انشائیہ ہے؟ ہاں جب عقد ہو رہا ہو، اس وقت یہ جملہ انشائیہ بنے گا۔ عقد نہیں ہو رہا وہ تو میں آپ کو بتلا رہا ہوں میں نے یہ گھر کس سے خریدا ہے بھئی؟ زید سے خریدا ہے، سمجھ میں آیا؟ عقد ہو تو پھر بعت اور اشتریت کیا بن جاتے ہیں؟ انشائیہ بن جاتے ہیں، ورنہ خبریہ ہی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جب عقد ہو رہا ہو تو پھر یہ انشاء ہیں شرعاً بھئی، اور ویسے یہ خبر ہی ہے بھئی۔ تو اگر عقد ہو رہا ہوتا تو پھر تو من زید نہ میں کہتا، بلکہ میں تو منک کہتا، مخاطب سے عقد کر رہا ہوں نا، زید کون بن جاتا؟ مخاطب، تو میں یوں کہتا اشتریت ھذہ الدار منک، میں نے تجھ سے یہ گھر خریدا، وہ کہتا بھئی بعت ھذہ الدار منک، میں نے یہ گھر تجھ پر بیچا بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ جاءنی، قاضیان، قاضیان من لاھور، من لاھور۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر، اعراب؟ شاباش، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ قاضیان مرفوع لفظاً کہہ رہے ہیں بھئی، ہاں بھئی؟ جی؟ کیا کریں بھئی؟ یہ کہہ رہے ہیں بھئی قاضی یہ کون سا اسم ہے؟ جی؟ صحیح کہہ رہے ہیں یا غلط کہہ رہے ہیں بھئی؟ کیوں؟ ہاں اس وقت اب یہ اسم منقوص کی قسم سے نکل گیا، یہ کس قسم میں چلا گیا؟ تثنیہ میں چلا گیا، اب تثنیہ والا اعراب آئے گا بھئی۔ اور تثنیہ کا اعراب کس کے ساتھ آتا ہے؟ تو یہ الف آ تو رہا ہے، تو یہ مرفوع لفظاً ہے فاعل۔ آگے۔ من جارہ، مجرور لفظاً بھئی، جی۔ جی؟ متعلق ہوئے جاء فعل کی طرف۔ متعلق ہوئے کس سے؟ فعل سے، متعلق ہو رہے ہیں بھئی، جڑ رہے ہیں؟ کیسے ترجمہ کریں گے؟ آیا میرے پاس لاہور سے، ٹھیک بھئی جڑ رہا ہے۔ روانی سے پڑھیے بھئی۔ من لاہور، وقف کیوں کرتے ہو، قاری ہو؟ اچھا لاہور منصرف ہے کہ غیر منصرف بھئی؟ جی؟ کیا وجہ ہے؟ جی؟ علمیت ہے اور عجمہ ہے، شاباش، اور؟ اچھا جی، تو کیسے پڑھیں گے اس کو بھئی؟ من لاھورَ، شاباش۔ فعل اپنے فاعل، مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ؟ ہاں آئے میرے پاس دو قاضی لاہور سے۔ اگلا جملہ لکھیے، جی؟ ہاں اس میں فاعل ہے، تو پھر موصوف نکال لیں بھئی، اس کے لیے موصوف نکالیں گے۔ بس فی الحال اسی طرح چلنے دو بھئی، سمجھ میں آیا؟ آگے بھئی: جاءنی قاضیان من قریش، من قریش، من قریش۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے۔ جاء فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ ہاں اسم فاعل نہ بناؤ بس فی الحال اسی طرح کرو پھر وہ، قاضیان مرفوع لفظاً فاعل، من جارہ، کون سا مجرور؟ قریش تلفظ کر کے دکھاؤ، ہاں قریشٍ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق کس سے ہوئے؟ جاء فعل کے ساتھ۔ ہاں بھئی جڑ رہا ہے جاء کے ساتھ؟ جی؟ آئے کہاں سے آئے ہیں؟ قریش، قبیلہ قریش سے، ہاں بھئی۔ کیوں، کیا کریں بھئی؟ دونوں کے ساتھ احتمال ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ قبیلہ قریش سے آئے ہیں۔ دوسری کیا صورت بنائیں گے پھر بھئی؟ جی؟ کیا بنائیں گے؟ جار مجرور آ رہے ہیں نکرہ کے بعد، اور نکرہ کے بعد جار مجرور آئے تو کیا بناتے ہیں؟ صفت بناتے ہیں، جی صفت بنائیے ذرا بھئی وہ زیادہ بہتر ہو گا۔ قاضیان مرفوع لفظاً موصوف، من جارہ، قریشٍ مجرور۔ جاء کے ساتھ متعلق کرو گے پھر نہیں صفت بنے گی بھئی۔ یہ متعلق ہوا ثبتا فعل کے ساتھ شاباش۔ ہوا ثبتا فعل، ہوا ضمیر، ثبتا فعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ، جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت۔ آپ نے پورے جملے کو صفت بنا دیا، ربط کوئی نہیں بتلایا۔ ثبتا کے اندر ہوا ضمیر ہے وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ موصوف کو، موصوف تو ہے تثنیہ اور ضمیر تو ہے مفرد کی، ضمیر مرجع میں مطابقت نہیں بھئی۔ کیا کون سا فعل ہم تثنیہ والا پھر لے آؤ بھئی، کون سا فعل؟ ثبتا، اس کے اندر الف ضمیر فاعل، یہ لوٹے گی اور یہ عائد ہو جائے گا بھئی۔ اوہو، موصوف صفت مل کر اب یہ فاعل ہوئے کس کے لیے؟ جاء فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کیسے کریں گے؟ آئے بھئی، موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں میں نے کیا بتلایا تھا؟ آئے میرے پاس ایسے دو قاضی جو کس میں سے ہیں؟ قریش میں سے ہیں بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے۔ انت، انت تجیء، تجیء من منزلک، منزلک۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ انت ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ تجیء فعل۔ جی من جارہ۔ بھئی فعل جب بھی آئے سب سے پہلے کیا دیکھنا ہے اس میں آپ نے؟ کہ وہ دو میں سے ہے یا بارہ صیغوں میں سے ہے بھئی، واحد مذکر غائب یا واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ تو نہیں؟ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے، اس کے بعد پھر فاعل کو تلاش کرنے بعد میں دوسرا کام یہ ہے بھئی، جی۔ تجیء فعل، ہاں انت ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ تو یہ جو دو میں سے جب تھا ہی نہیں تو آپ کو آگے جانا ہی نہیں چاہیے تھا بھئی۔ یہ تو مخاطب کا صیغہ آ گیا، اگر غائب کا صیغہ ہوتا تو پھر ہم کیا کرتے؟ آگے جاتے بھئی فاعل تلاش کرتے۔ من جارہ۔ سوچنے کی کیا بات ہے؟ مجرور محلاً بھئی، محلاً کیوں کہا یہ مبنی کی کون سی قسم ہے؟ اسم اشارہ ہے، اسم ضمیر ہے، اسم موصول ہے وغیرہ؟ جی کیا پڑھیں گے بھئی؟ شاباش یہ دونوں آپس میں مضاف مضاف الیہ بنیں گے، لیکن منزل کا اعراب کیا ہو گا؟ مجرور لفظاً، میں نے منزلُک پڑھ دیا تو اب آپ نے منزلُک ہی رکھنا ہے بھئی؟ وہ تو میں نے جان کے اسی لیے پڑھا کہ دیکھیں بھئی اب آپ خود سوچتے ہیں یا نہیں، سمجھ میں آیا؟ ہاں من منزلِک بھئی جی۔ منزلِ مضاف، اعراب؟ مجرور لفظاً، کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے تجیء فعل سے، جی جڑتا ہے؟ جڑتا ہے یا نہیں جڑتا بھئی؟ کیا ترجمہ ہو گا؟ مضارع والا ترجمہ کرو۔ آپ آتے ہیں من منزلک اپنے گھر سے، یا آئیں گے آپ اپنے گھر سے، جی۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ آپ نے پورے جملے کو خبر بنایا مبتدا کے لیے، عائد نہیں بتلایا، ربط نہیں بتلایا۔ کیسے عائد ہے؟ شاباش، انت ضمیر اس کے اندر عائد ہے بھئی، لیکن یہ نہ کہنا کہ یہ انت ضمیر اس پہلے والی انت ضمیر کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ یہ تو کون سی ضمیر ہے؟ مخاطب کی ضمیر ہے اور مرجع صرف کس کا تلاش کیا جاتا ہے؟ غائب کی، مخاطب اور متکلم کی ضمیر کا کبھی بھی مرجع تلاش نہیں کرتے، پھر ربط کیسے آیا؟ ربط میں نے بتلایا تھا دوسری صورت یہ ہے کہ اسی اسم کا اعادہ ہو جائے جملے کے اندر۔ تو انت کے ساتھ ہم نے جوڑنا ہے اور دوبارہ تجیء کے اندر کون سی ضمیر آ گئی؟ انت کی ضمیر آ گئی تو دونوں میں ربط آ گیا بھئی۔ تو یہ مبتدا کی خبر ہوئی، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ پڑھیے ذرا بھئی اس کو۔ انت تجیء من منزلک، ترجمہ کیجیے۔ پھر ماضی والا ترجمہ کر رہے ہو۔ تم آتے ہو، آپ آتے ہیں اپنے گھر سے یا آپ آئیں گے اپنے گھر سے بھئی۔ اچھا کل میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ جار مجرور جو ہیں یہ ظرف کہلاتے ہیں اور اگر ان کا متعلق عبارت میں ذکر ہو تو ظرفِ لغو اور اگر ان کا متعلق محذوف ہو تو یہ ظرفِ مستقر کہلاتے ہیں۔ اور جب یہ ظرفِ مستقر، ہاں اور کلامِ عرب کے اندر ظرفِ مستقر کتنی جگہ پر آئے گا آپ کو؟ آپ کو ملے گا چار جگہ، پہلی جگہ؟ خبر کی جگہ ظرفِ مستقر آ سکتا ہے، دوسری جگہ؟ صفت کی جگہ پر بھی ظرفِ مستقر آ سکتا ہے، تیسرا؟ حال کے مقام میں بھی ظرفِ مستقر، جی اور؟ صلہ بھئی، صلے میں بھی آ سکتا ہے بھئی۔ تو یہ چار جگہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو جب ترکیب میں ذرا مہارت ہو جائے گی پھر ثابتٌ، ثابتانِ، ثابتینِ وغیرہ یہ نکالنے کی ضرورت نہیں بھئی۔ بس آپ یہ کہتے چلے جائیں یہ ظرفِ مستقر ہو کے حال ہوا، یہ ظرفِ مستقر ہو کے خبر ہوا، یہ ظرفِ مستقر ہو کر صلہ ہوا، یہ ظرفِ مستقر ہو کر صفت ہوئی بھئی۔ جیسے ہم نے پڑھا جاءنی قاضیان من قریش، من قریش کے لیے کس کو نکالا ہم نے؟ ثبتا کو نکالا یا ثابتانِ نکالیں گے بھئی، تو اس کے بجائے جب مہارت ہو جائے پھر یوں کہا جائے گا جاءنی قاضیان موصوف اور من قریش ظرفِ مستقر اس کی صفت، موصوف صفت مل کر کیا ہوئے؟ فاعل بن گئے فعل کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو بس ظرفِ مستقر جب کہہ دیا، معلوم ہوا اس کا عامل محذوف ہے بھئی۔ اچھا، ایک ضابطہ میں نے آپ کو یہ لکھوایا تھا کہ شاید لکھوایا ہو غالباً یاد نہیں مجھے کہ جار مجرور نکرہ کے بعد آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتے ہیں؟ ہاں یہ لکھوایا ضابطہ بھئی؟ ہاں ایک ضابطہ تو یہ تھا کہ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو عموماً وہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت، اور اسی طرح نکرہ کے بعد اگر جار مجرور آ جائے تو وہ بھی کیا بنیں گے عموماً اس کے لیے؟ صفت بنیں گے اگر کسی سے جڑ نہ رہے ہوں۔ اور اسی اگر معرفہ کے بعد بھئی جار مجرور آ جائے بھئی، یا فعل آ جائے عموماً تو وہ اس کے لیے حال بنتا ہے، کیا بنتا ہے؟ حال بنتا ہے بھئی۔ معرفہ کے بعد اگر فعل آ جائے یا جار مجرور آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے حال بنے گا بھئی۔ جی اور ایک اور بات بھی یاد رکھیں بھئی، آگے کہیں آ جائے گی کہ نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو تو وہ معرفہ بن جاتا ہے، لیکن اگر نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے تو وہ نکرہ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ، اور نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ چلیے آج بس کرتے ہیں، بس بھئی وما علینا الا البلاغ، واللہ اعلم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ۔
49 approved lectures · 16 of 49