درس نمبر۔18
یہ حضرت شیخ صاحب، یہ حضرت شیخ صاحب کی آنکھوں کے نور ہیں، مولانا زہیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ۔ اللہ ان کی عمر میں، صحت میں اور خلوص میں برکت نصیب فرمائے۔ آمین۔ یہ حضرت شیخ صاحب کی توجہات کا خاص مرکز ہیں۔ ماشاءاللہ۔ اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اللہ ان کی عمر میں، صحت میں برکت عطا فرمائے۔ اللہ ہمارے نیک عزیزو کے علم میں، عمل میں، اخلاص میں برکت نصیب فرمائے۔ آمین۔
آپ حضرات کا یہ جذبہ یہ قابلِ قدر ہے۔ یہ اپنے عزیزو کے دلوں میں جو یہ نیک جذبہ چھپا ہوا ہے کہ اللہ پاک کے دین کی صحیح سمجھ ہو، یہ اندر کے خلوص اور تڑپ کی علامت ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں تقریباً ایک دو سال میرے ایسے گزرے کہ مجھے بالکل عبارت پڑھنی نہیں آتی تھی۔ عبارت کے بارے میں بڑا پریشان رہتا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ ہمارے چوبرجی میں ایک نیک استاد تھے حضرت مولانا قاضی عزیز اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالی، جو ہندوستان جامعہ صدیقیہ سے فارغ تھے۔ حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد بھی تھے اور ان کے خاص معالج بھی تھے۔
مجھے وہ حضرت استادوں کے بارے میں کسی نے بتلایا کہ حضرت استاد وہ طلباء کی وہ عبارت کے اوپر بہت نظر رکھتے ہیں، صرف نحو اور ان چیزوں کے اوپر۔ تو میں سال کے درمیان میں مجھے علم ہوا تو میں حضرت استادوں کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آواز تو آ رہی ہے؟ سال کے ہاں، میں حضرت استادوں کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ قافیہ اور شافیہ یہ دو کتابیں پڑھ لیں تو ذرا عبارت آ جائے گی۔ میری کوئی نئی عمر تھی بالکل۔
تو حضرت استادوں کی خدمت میں حاضر ہوا، استادوں نے کوئی خیریت پوچھی، اس کے بعد پوچھا کیوں آنا ہوا ہے؟ میں نے بس وہ پنجابی زبان میں پوچھ رہے تھے کوئی ٹوٹی پھوٹی پنجابی میں جواب عرض کیا۔ استاد جی، میں قافیہ تے شافیہ پڑھنا ہے، قافیہ تے شافیہ پڑھنا ہے۔ استاد وہ بڑے مسکرائے، فرمانے لگے قافیہ شافیہ پڑھنا ہے؟ ہور کوئی نہیں ٹکریا پڑھان والا؟ قافیہ شافیہ پڑھنا ہے۔ وہ مسکرائے قاضی۔
تو فرمانے لگے، فرمایا ابھی سال کا درمیان ہے، سال کے شروع میں آئیں، سال کے شروع میں۔ بس وہ طبیعت میں ایسی لگی ہوئی تھی کہ اللہ تعالی صحیح سمجھ نصیب فرما دے، اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ میں آپ کو عرض کروں کہ یہ طلباء ہیں نا، ان کے لیے چار دیواری کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر اندر کی لگن ٹھیک ہو جائے تو یہ طلباء ہیں نا، میں آپ کو عرض کروں وہ تو آپ نے پڑھا ہوگا نا ایک طالب علم قطبی کا مطالعہ کر رہا تھا، اس کے مطالعے نے اس کی بیوی کا نام تھا قطبو، قطبو کو بھلا دیا تھا۔ یہ ایسی چیز ہے، الحمدللہ یہ پھر خود آدمی کو کھینچ لیتی ہے اپنی طرف کو۔
تو حضرت استاد فرمانے لگے، فرمایا ابھی سال کا درمیان ہے، سال کے شروع میں آنا۔ بہرحال پانچ چھ ماہ بس اسی انتظار میں گزرے کہ اللہ کرے وہ کوئی دوبارہ سال آئے تو پھر میں استادوں کی خدمت میں حاضر ہوں۔ سال گزر گیا، پانچ چھ ماہ گزر گئے، طبیعت بڑی بے چین۔ بہرحال سال پورا ہوا تو سال کی ابتدا میں پھر میں حضرت استادوں کی خدمت میں حاضر ہوا کہ استاد جی مجھے، اب میں نے صرف قافیہ کا نام لیا، شافیہ کا نہیں بس۔ میں نے کہا کہیں ایسا نہ ہو دوبارہ، میں نے کہا استاد جی، میں نے قافیہ پڑھنا ہے قافیہ۔ استاد فرمانے لگے، فرمایا اگر قافیہ پڑھنا ہے تو قافیہ کا متن نہیں پڑھاؤں گا، اس کا حاشیہ پڑھاؤں گا۔ متن میں تو اعراب لگے ہوئے ہیں، اعراب والی کتاب میں نہیں پڑھاتا۔ اب میں بڑا پریشان ہوا کہ ہمارے لیے متن سمجھنا مشکل ہے، حاشیہ کیسے سمجھیں گے؟
بہرحال، پھر میں نے استادوں کی خدمت میں عرض کی کہ استاد جی، میں نے ہدایۃ النحو پڑھنی، وہ پہلے پڑھ رکھی تھی لیکن میں نے عرض کیا استاد جی، دوبارہ مجھے آپ ہدایۃ النحو پڑھا دیں۔ تو پھر حضرت استادوں نے ہدایۃ النحو شروع کروائی۔ پھر وہ کچھ وہ معلوم تھا، کچھ ساتھیوں سے سن رکھا تھا کہ استادوں کا مزاج عبارت مطالعہ سننے کا ہے۔ تو یہ پہلا دن تھا تو ہم اپنی طرف سے وہ ہدایۃ النحو کی شروع کی عبارت ہے وہ خوب دیکھ کر ذرا گئے۔
تو حضرت استادوں نے پہلے دن بس بڑھاپا تھا، کوئی اس وقت ان کی عمر تھی ستتر سال ان کی عمر تھی، یعنی ستتر سال۔ ہمارے حضرت شیخ الحدیث صاحب مولانا سرفراز خان صفدر صاحب دامت برکاتہم العالیہ، ان سے عمر میں دو سال بڑے تھے۔ اب وہ اب ہدایۃ النحو کی عبارت سنی۔ تو عبارت سننے کے بعد پھر ایک موٹا سا مفہوم بیان کیا ہے۔ بس جو کتاب میں لکھا ہوا تھا وہی بیان کر دیا، کوئی باہر ہی کوئی زیادہ کوئی چیزیں نہیں تھیں۔ پھر اس کے بعد فرمانے لگے کہ اب ذرا لفظی ترجمہ خود کریں، لفظی ترجمہ کیا ہے اس کا؟
تو اما بعد فہذا، فہذا اسم اشارہ ہے اس کا ترجمہ بھی کچھ اندازے سے کر لیا، یہ۔ ہذا مختصر، مختصر کا لفظ ویسے ہی اردو میں سن رکھا تھا، میں نے کہا یہ مختصر ہے۔ مضبوط کا معنیٰ وہی کر دیا کہ یہ مضبوط ہے۔ یہ مضبوط، حالانکہ اس کا ہدایۃ النحو میں جو ترجمہ لکھا ہوا ہے نا وہاں بین، وہاں حاشیے میں لکھا ہے: ای خالٍ عن الحشو والتطویل، کہ یہ زائد اور لمبی باتوں سے محفوظ ہے، یہ زائد اور لمبی باتوں سے محفوظ ہے یہ۔
یا اللہ! یا اللہ، اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اللہ تعالی راضی ہو جائے۔ تو مضبوط کا معنیٰ محفوظ، لیکن اس وقت وہی کیا معنیٰ کہ یہ مضبوط ہے۔ جمعت فیہ مہمات النحو، جمعت کا ترجمہ بھی کر لیا لیکن آگے مہمات کا لفظ، اس کا ترجمہ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ترجمہ ہے۔ تو وہ نیچے مہمات کے نیچے ایک لفظ لکھا ہوا ہے بین السطور مقاصد، مقاصد لکھا ہوا۔ لیکن میرے ذہن میں نہیں تھا کہ یہ بھی کچھ دیکھنے کی چیز ہے۔
تو ہمارے حضرت بڑے استادوں نے یہاں پر ایک جملہ فرمایا، فرمانے لگے: اے تھلے کی لکھیا اے؟ تھلے کی لکھیا اے؟ دیکھا تو وہ مقاصد لکھا ہوا ہے۔ یہاں پر ایک جملہ فرمایا، فرمایا: اے کالا کالا ایویں نہیں لکھیا، اے سارا ویکھ کے آیا کرو ذرا۔ پھر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ بین السطور ہے، یہ حاشیہ ہے، یہ سب چیزیں یہ دیکھنے کی ہیں۔ اے بھئی، فرمانے لگے حاشیے کو حاشیہ کیوں کہتے ہیں؟ فرمایا حاشیے کا معنیٰ ہوتا ہے کنارہ۔ فرمایا جو اندر متن ہے، اندر متن ہے یا شرح والی کتاب ہے، فرمایا اس کی مثال دریا کی طرح ہے۔ اور فرمایا حاشیے کی مثال کنارے کی طرح ہے، تو دریا میں غوطہ لگانا ہو تو وہ کنارے سے ہی چھلانگ لگاتے ہیں نا۔ تو فرمایا یہ حاشیہ اس لیے ہے تاکہ حاشیے کو سمجھ کر اندر کی جو متن ہے، شرح اس کو سمجھ سکیں، وہ اندر غوطہ لگانے کے لیے ہے یہ حاشیہ ذرا۔
تو اس کے بعد پھر یہ ذرا پھر مجھے یاد پڑتا ہے، میرا خیال ہاں جمعرات کو ہمارا کوئی سبق، ہم دو طالب علم تھے، جمعرات کو ہمارے سبق کی چھٹی ہوتی تھی۔ تو پھر پیچھے سے جتنی عبارت پڑھی ہے نا وہ ساری حضرت استاد سنتے تھے۔ ہذا مختصر، اب مجھے یاد ہے اب بھی تھوڑی بہت: ہذا مختصر مضبوط فی النحو جمعت فیہ مہمات النحو علی ترتیب الکافیۃ مبوبا ومفصلا بعبارۃ واضحۃ، یہ ساری عبارت ذرا۔ یہ لگاتار وہ سنتے تھے عبارت ذرا۔ پھر درمیان میں اگر کوئی غلطی کی تو غلطی پر ٹوکتے نہیں تھے۔ جب پوری عبارت پڑھ لی جہاں تک سبق پڑھا ہے پھر غلطی ذہن میں رکھتے۔ تو پھر اس کے بعد جہاں سے عبارت میں غلطی کی ہے وہاں سے دوبارہ عبارت پڑھواتے۔ پھر اگر اس میں غلطی کرتے تو پھر بس صرف مارتے نہیں تھے باقی اپنا پورا درد نکال کے باہر رکھ دیتے تھے، ہاں یہ سارا۔
مجھے ایک دفعہ یاد پڑتا ہے اذ کی جگہ پر میں نے اذا کا لفظ پڑھا تو بہت سخت ڈانٹا۔ ہاں، پھر بار بار ذرا جب غلطی کی اصلاح کرتے یہ فرماتے، فرمایا: اے غلطی ہے کہ نہیں؟ میں نے کہا استاد جی، ہے۔ اینوں ٹھیک کرنے دی لوڑ ہے کہ نہیں؟ میں نے کہا استاد جی، ہے۔ تے فر راتی جا کے کی کردے او؟ پھر آگے فرماتے: یخاں ماردے او، یخاں۔ یہ ذرا یعنی گپ شپ لگاتے ہو جا کر ذرا۔ بس وہ ان کا حضرت استادوں کا درد کہ بالکل ہم حضرت استاد وہاں اپنے کمرے میں ہوتے، یہاں پر ہیں لیکن ہم بالکل پریشان رہتے سارا دن کہ کس طرح صبح جا کر استادوں کو عبارت سنائیں گے۔ درد بہت تھا، بڑے اللہ والے تھے، بہت۔
یہاں رائے ونڈ کے ہمارے حضرت حاجی افضل صاحب تھے، وہ ایک مرتبہ رائے ونڈ جا رہے، وہاں قریب سے گزرے۔ تو وہ گزرے تو انہوں نے پھر اپنی گاڑی کھڑی کر لی، کہتے میں یہاں سے گزرا تو میرے دل میں کوئی ٹھنڈک، سکون محسوس ہوا ہے۔ فرمانے لگے مجھے لگتا ہے یہاں کوئی اللہ کے ولی رہتے ہیں، پھر انہوں نے اپنی گاڑی روک کر اندر گئے اور حضرت استادوں کی زیارت کی۔ یعنی عجیب اللہ نے شان عطا فرما رکھی تھی، بڑا نورانی چہرہ تھا۔ بعض لوگ آ کر، ایک دفعہ میں سبق پڑھ رہا تھا تو ایک آدمی آ کر بس سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ استاد زیادہ کسی سے بات چیت نہیں کرتے تھے، خاموش مزاج تھا، ہاں۔ تو وہاں تو میرا خیال وہ کوئی پندرہ بیس منٹ بیٹھا رہا، حضرت استادوں کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا۔ بعد میں کہنے لگا کہ حضرت، مجھے آپ کی زیارت سے مجھے سکون ملتا ہے، دل کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے، ایسا۔
عجیب اپنی شان تھی، ان کی میرا خیال یہ تھا میرا خیال کپڑے وغیرہ اگر ان کے بعض دفعہ ایسا تھا کہ خود دھو لیتے اپنے، ہاں کوئی میرا خیال کپڑے سوکھ جاتے پھر ان کو یوں مروڑتے تھے، فرمایا ذرا ان میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے تو میں اس کو توڑنے کے لیے ذرا ان کو مروڑ رہا ہوں ذرا۔ عجیب ان کی اپنی شاہانہ شان تھی۔ حضرت مولانا اجمل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت استادوں کے شاگرد تھے تو کبھی کبھی حضرت استادوں کے پاس تشریف لاتے، اہروں کو ذرا کچھ لطائف کچھ وہ خوش کرنے والی باتیں سناتے۔ ایک دفعہ تشریف لائے فرمانے لگے استاد جی، حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ، فرمایا ان کا امام اہروں کو اتنی تیز نماز پڑھاتا ہے کہ شیطان کو موقع ہی نہیں ملتا وسوسہ ڈالنے کا۔
یا اللہ! عجیب ان کی شان ہے۔ ایسے اللہ نے اپنی رحمت سے، اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اللہ تعالی خیر و برکت سے نوازے۔ ہمارے اکابر حضرات الحمدللہ، یہ جو فیض ہے یہ انہی کا ہی فیض ہے، ہمارے جتنے بھی نیک حضرات، نیک شیوخ، اکابر یہ سب کا فیض ہے، ہم تو پرنالہ ہیں، ہماری کیا حیثیت ہے؟ بس انہی کا ہی جو کچھ ہے۔ ہمارے حضرت شیخ موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ صاحب، اللہ ان کی قبر کو، اللہ اللہ ان کے اوپر کروڑہا اللہ اللہ ان کی قبر پر رحمتیں برساوے۔ آمین۔
بڑے حضرات ان کی بڑی توجہات، اللہ قبول فرمائے۔ حضرت بھئی جو ہیں حضرت بھئی کے ساتھ میں حضرت شیخ صاحب کی خدمت میں الحمدللہ ایک مرتبہ حاضر ہوا تو حضرت شیخ صاحب دامت برکاتہم، رحمہ اللہ تعالی اس وقت حیات تھے تو دامت برکاتہم العالیہ، تو فرمائے فرمانے لگے بیضاوی، طلباء بیضاوی پڑھ رہے ہیں بیضاوی شریف۔ لیکن طلباء کو صیغوں کی پہچان نہیں تھی، عبارت کی پہچان نہیں تھی تو حضرت شیخ صاحب فرمانے لگے میں نے ان کو بیضاوی شریف کے ساتھ ان کو یہ صرف شروع کروا دی صرف۔ تو الحمدللہ چند دن انہوں نے گردانیں یاد کیں، صیغوں کی پہچان ہوئی۔ وہ طلباء بڑے خوش ہوئے، حضرت شیخ صاحب کی خدمت میں عرض کرنے لگے استاد جی، اب ہمیں بڑا فائدہ ہو رہا ہے کہ عبارت پڑھنے میں، سمجھنے میں، صیغوں کے پہچاننے میں اللہ کا شکر ہے اب آسانیاں ہیں، الحمدللہ۔
تو میں یہ ہاں یہ یعنی صحیح سمجھ کے شوق اللہ نے رکھا ہے، یہ طلباء ہیں اللہ کی بڑی رحمت ہیں، اللہ پاک اللہ نے سب میں اپنے دین کا دین کی عظمت، محبت، شوق اللہ نے چھپا رکھا ہے۔ تو یہ عمر ہے میں یہ یہی پڑھنے کی ہے، یہی سمجھنے کی ہے، یہی بڑھنے کی عمر ہے آپ حضرات کی، اس میں جتنی محنت کر لیں گے، کوشش کر لیں گے انشاءاللہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ہمارے حضرت شیخ الحدیث صاحب مولانا ہاں ہاں حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ، ایک مرتبہ حضرت کی مجلس میں میں بیٹھا ہوا تو فرمانے لگے غالباً سن چوون میں حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا میں نے دورۂ حدیث کیا، تو فرمایا ہم یہاں تیس طالب علم تھے، دورۂ حدیث میں تیس طالب علم، لیکن حضرت کے ہاں تین طلباء کو عبارت پڑھنے کی اجازت تھی، باقی طلباء کو عبارت پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ طلباء زبر زیر میں غلطی کرتے، حضرت فرماتے فرمایا ہاں اگر یہ زبر زیر میں غلطی کرنے کی وجہ سے، حدیث شریف کی عبارت میں اگر زبر زیر کی غلطی ہو جائے تو مفہوم بدل جاتا ہے، فرمایا خطرہ ہے کہیں اس حدیث کا مصداق نہ بن جاؤ: مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ تو اس لیے فرماتے فرمایا جو صحیح عبارت پڑھ سکیں وہی عبارت پڑھیں۔
تو میں صحیح سمجھ کی ضرورت ہے، محنت بقدرِ ہمت، جتنی ہمت ہے اتنی کوشش کر لیں، پھر نتیجہ اور ثمرہ اللہ کے حوالے ہے، اللہ اپنی ہمت کے مطابق لگے رہیں، ایک لفظ کی سمجھ میں آئے، دو کی سمجھ میں آئے، لیکن جب الحمدللہ لگے رہتے ہیں ساتھی خلوص کے ساتھ پھر اللہ پاک محروم نہیں کرتے، اللہ اپنے دین کے کسی نہ کسی شعبے کے اندر اللہ قبول فرما لیتے ہیں۔
آپ حضرات سب کی، اللہ آپ کے صدقے میں ہم سب کی، ہماری مثال ایسی ہے کہ آپ آپ سب کے سب اللہ کے دین کے نوکر ہیں، نوکر کو کچھ پتہ نہیں ہوتا میں نے کیا کرنا ہے، اس کے کام کا پتہ مالک کو ہوتا ہے۔ ہاں، آ، آ دیکھو اسکول، کالج ان کا جو مستقبل ہے وہ بظاہر وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مستقبل وہ وہ حکومت کے حوالے ہے، وہی کہ حکومت کی نوکری ملے گی تو پھر ہم کچھ کریں گے، لیکن اللہ کے دین پڑھنے والے طلباء کا مستقبل وہ اللہ کے حوالے ہے، میں آپ کو اس میں کوئی شک نہیں ہے، بالکل ایسے ہے۔ ہمارے تصور سے باہر ہے کہ اللہ کیا کام لیتے ہیں، بالکل۔ اب آپ دیکھ لو افغانستان میں میرا خیال وہاں پندرہ بیس ہزار کے قریب طلباء شہید ہوئے، سب کے ذہن میں یہ تھا کہ ہم دورۂ حدیث کریں گے تو پھر جا کر کسی مسند کے اوپر بیٹھیں گے، لیکن اللہ نے ان سب کا دورۂ حدیث کرنے سے پہلے ہی اللہ نے سب کا دورہ کروا دیا ہے اور جنت میں پہنچا دیا ہے، ہے کہ نہیں؟ ایسے ہی ہے۔
مجھے ہمارے ایک جمعیت علماء اسلام کے نائب امیر وہ فرمانے لگے کہ میں قندھار میں گیا، وہاں جو حضرت ملا امیر المومنین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے شہداء کے لیے قندھار میں علیحدہ قبرستان بنوایا ہے، تو میں نے وہاں قریب بستی والوں سے جا کر پوچھا: اس قبرستان کے بارے میں کوئی خاص بات بتلائیں؟ فرمایا خاص بات یہ ہے، رات کے وقت ان کی قبروں سے قرآن پاک کی تلاوت کی آواز آتی ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے، یہ جنت نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
اللہ کی رحمت کا بہت بڑا سلسلہ ہے الحمدللہ۔ قبر ہے نا، یہ مٹی کا ڈھیر نہیں، یہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ یا اللہ! اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ یہ عالمِ برزخ اور عالمِ خواب، عالمِ برزخ کی مثال یہ عالمِ خواب کی طرح ہے۔ اب دیکھو، میں ایک موٹی سی مثال عرض کر دوں، آپ حضرات یہ بھئی ہیں نا ہمارے، اللہ قبول فرمائے، اب آپ حضرات آرام کر رہے ہوں، رضائی میں آرام کر رہے ہوں رضائی میں، باہر سے دیکھنے والا یہی اب بالکل اس کی مثال قبر کی طرح ہی بن جاتی ہے، ایسی سردیوں کے موسم میں پاؤں اگر بالکل اگر یعنی پھیلے ہوئے ہوں اور اوپر رضائی ڈال رکھی ہو تو اس کی مثال بالکل یہ یہ کہہ لو کہ بالکل وہ قبر میں لیٹنے والے شخص کی طرح ہے، ایسی ہے کہ نہیں؟ بالکل ذرا۔
تو اب باہر دیکھنے والا یہی سمجھے گا کہ حضرت رضائی میں آرام کر رہے ہیں، تو حضرت سے پوچھیں آپ کہاں تھے؟ وہ کہنے لگا الحمدللہ، میں تو ابھی مکہ مدینہ کی سیر کر کے آ رہا ہوں۔ دیکھنے والا یہی سمجھ رہا ہے کہ یہ رضائی میں ہیں لیکن اندر والے ان سے پوچھیں، وہ کہہ رہا ہے میں تو مکہ مدینہ کی سیر کر کے آ رہا ہوں، خواب ہے نا عالمِ خواب، وہ اتنا وسیع ہے اتنا وسیع کہ ساتوں زمین، ساتوں آسمان اللہ ان کو رضائی کے اندر ہی یعنی ان کو سمیٹ دیں گے، ایسا ہے، اور سب کچھ یہاں نظر آئے گا۔
فرمایا ایسی عالمِ برزخ جو قبر ہے اس کی مثال بھی ایسی ہی ہے، اب دیکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ یہ مٹی پڑی ہوئی ہے، مٹی کا ڈھیر ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ یہ مٹی کا ڈھیر مت سمجھو، جو اندر لیٹا ہوا ہے اس کے لیے اگر مومن ہے، نیک ہے تو یہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ آپ کو معلوم ہے ہمارے حضرت شیخ موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ، اللہ نے ان کے باغ سے پردہ اٹھا کر دکھلایا کہ نہیں دکھلایا ہے؟ ایسے ہی ہے۔ بعض دفعہ اللہ پردہ اٹھا دیتے ہیں، جیسے عالمِ خواب سے بعض مرتبہ اللہ پاک پردہ اٹھا دیتے ہیں، جو کوئی خواب میں کیفیت پیش آ رہی ہوتی ہے وہ باہر بھی سنائی دیتی ہے۔
جیسے ہمارے حضرت قاری طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کی ایک تقریر ہے، تقریرِ منامی، تقریرِ منابی۔ وہ حضرت نے خواب کے اندر ہی تقریر کی، حضرت آرام فرما تھے لیٹے ہوئے، آرام کر رہے تھے بس وہ خواب میں تقریر کرنا شروع کر دی۔ گھر والوں نے وہ ٹیپ ریکارڈ لی اور حضرت کے منہ کے قریب رکھ دی، وہ خواب میں نیند کی حالت میں جتنی تقریر کی وہ ساری کی ساری ریکارڈ ہو گئی، یہ تھا، وہ عالمِ خواب کی جو کچھ ہے۔
ایسے ہی کہتے ہیں عالمِ برزخ کی جو عام طور پر اللہ پاک اس کو پردے میں رکھتے ہیں لیکن بعض مرتبہ اللہ پاک اس سے پردہ اٹھا بھی دیتے ہیں، کبھی نیک ہو تو اللہ اس کے احوال سے پردہ اٹھا دیتے ہیں، اس کے احوال سے پردہ اٹھا دیتے ہیں۔ جیسے ہمارے حضرت شیخ موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت کی قبر کو اللہ نے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنایا اور باغ سے پردہ اٹھا کے دکھلا دیا ہے۔ ہمارے مدرسے کے طالب علم، اللہ کی توفیق کے ساتھ، اللہ کا فضل ہے، بندے کو اللہ تعالی نے حضرت کے غسل میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرمائی، دفن میں شریک ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ اللہ نے اپنی رحمت سے، اللہ نے اپنے فضل سے، اللہ کی توفیق سے الحمدللہ۔
تو ہمارے مدرسے کے طالب علم فرمانے لگے کہ میں نے حضرت کی قبر سے رات کے آخری حصے میں مٹی اٹھائی، فرمائے کہ جہاں سے مٹی اٹھاتے ہر جگہ سے نئی خوشبو آتی، ہر جگہ سے۔ کہتے ہیں تقریباً کوئی چالیس قسم کی خوشبو تو میں نے سونگھی ہے، کہتے چالیس قسم کی ہے، ایسے جہاں سے مٹی اٹھاتے ہر جگہ سے نئی خوشبو ہے۔ تو میں یہ یہ حضرت شیخ صاحب کی الحمدللہ ان کی دعائیں ہیں، ہمارے اکابر حضرات ان کی بڑی شان ہے، الحمدللہ۔ اللہ کے یہ اللہ نے یعنی اپنے نیک مقبول بندے، اللہ نے ان کی قبر سے یعنی پردہ اٹھا کر اللہ نے بتلا دیا کہ یہ ہمارے مقبول اور نیک مقبول بندوں میں سے ہے، ایسے ہیں۔
تو اب ان کی روح کو ہم نے، اللہ تعالی توفیق نصیب فرمائے، اپنے عزیز جو یہ پڑھ رہے ہیں الحمدللہ یہ گویا کہ حضرت شیخ صاحب کی روح کو خوش کر رہے ہیں، اللہ کی بڑی رحمت، بہت ہی اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس میں جتنا بھی اپنے آپ کو لگائے رکھیں گے، چمٹائے رکھیں گے انشاء محنت بقدرِ ہمت، جتنی ہمت ہے اتنی کوشش کر لیں، نتیجہ اور ثمرہ یہ اللہ کے حوالے ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ محنت کرتے کرتے بعض دفعہ آپ سے اللہ کام لے لیں، آپ کی نسلوں سے کام لے لیں، یہ اللہ کو معلوم ہے۔ ہم کیا ہیں، ہماری کیا حیثیت ہے؟ میں ایک ویسے مثال کے طور پر عرض کر رہا ہوں، اس کو میرے متعلق نہ سمجھا جائے، ہاں، یعنی ہمارے والد صاحب تھے میں آپ کو عرض کروں، ان کا جو پڑھنے کا عرصہ ہے تقریباً چالیس سال پڑھنے کا عرصہ ہے، یعنی بالکل ہندوستان سے پڑھنا شروع کیا اور پوری زندگی پڑھنے میں گزری۔ میں نے تقریباً طلباء کو تکرار کرانا شروع کر دیا وہ پڑھتے تھے۔
بلکہ آخر میں ہمارے والد صاحب ایک مدرسے کے استاد چلے گئے تو مجھ سے فرمانے لگے کہ بیٹا، میرے لیے کوئی مدرسہ تلاش کریں کہ جہاں میں پڑھوں۔ تو پھر چوبرجی والے مدرسے میں والد صاحب کو میں نے خود داخل کروایا کہ ابا جی، آپ یہاں پر پڑھیں ذرا۔ تو ایسا ہے، اللہ اپنی میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ آپ کوشش کریں گے الحمدللہ، اللہ کا کہ اللہ کے ہاں بس یہ اندر کا جو خلوص ہے اس کے اوپر قدر ہے، اللہ آپ سے کام لے لیں، آپ کی نسلوں سے کام لے لیں، بس اپنے اساتذہ کی دعاؤں کے ساتھ ان کے ادب و احترام کے ساتھ اس نیک سفر کو جاری رکھنا ہے۔ انشاءاللہ پھر اللہ اپنی رحمت سے اللہ محروم نہیں فرماتے، اللہ پاک کی ذات بڑی قدردان ذات ہے، وہ الحمدللہ کہ میں بلکہ میں عرض کر دوں ایک ہم لگا رہے ان کی طرف رخ کر کے، چاہے خدمت کا موقع ملے نہ ملے، لیکن مقصد تو ان کی ذات کو خوش کرنا ہے، ہاں یہ ہے اصل ذرا۔
ہمارا میں ایک مرتبہ مدرسہ صولتیہ ہے مکہ مکرمہ، وہاں پر بیٹھا ہوا، چونکہ طبعی ہوتی ہے کہ ذرا کہ وہاں حج کے مسائل، دار الافتاء میں وہ جا کر ذرا کچھ حج کے مسائل سیکھنے کے لیے اس نیت سے میں بیٹھ جاتا ہوں۔ وہاں ایک مرتبہ حضرت مولانا اسماعیل کٹکی صاحب رحمہ دامت برکاتہم العالیہ، امید ہے کہ حیات ہی ہوں گے، دو سال پہلے کا واقعہ ہے، وہ وہاں پر تشریف لائے مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں، یہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے بھی شاگرد اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی شاگرد ہیں، ایسے خاص طور پہ۔ وہاں تشریف لائے تو سنانے لگے، فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب فرمائے تھے، حضرت شاہ صاحب حضرت شاہ صاحب کا، تو دیکھو ایک بات عجیب انہوں نے سنائی، فرمایا دیکھو پہلے یہاں پر شیخ الحدیث حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ تھے، پھر حضرت ڈابھیل چلے گئے، پھر حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ان کی جگہ پر تشریف لائے۔ لیکن ہمارے اکابر، ان کی خلوص کی کیا شان ہے؟ فرمانے لگے کہ حضرت شاہ صاحب ڈابھیل سے دیوبند تشریف لاتے اور حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ملنے کے لیے تشریف لے جاتے حضرت شاہ صاحب کے ہاں، تو فرمایا حضرت شاہ صاحب اپنے ہاتھ سے چائے پکا کر حضرت مدنی کو پلاتے، یہ تھا، کیا شان تھی!
یعنی اندر اللہ معاف فرمائے، ہاں کوئی میں ہوں یاد رکھنا تو میرا دماغ تو چکرائے گا یاد رکھنا بھئی، ایسے ہی ہے۔ میں اگر یہاں پڑھا رہا ہوں میری جگہ پر کوئی آ کر بیٹھ جائے یاد رکھنا، میرے دماغ میں تو یہ ہوگا کہ میرا خیال اللہ معاف فرمائے کہ بالکل میں ہر کہیں کونے میں جا کر بیٹھ جاؤں، ایسا ہے۔ لیکن فرمایا یہ آپس میں محبت تھی ہمارے بڑوں کی ذرا، اللہ کی رضا کے لیے، بس یہ ہے۔ تو فرمایا حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شاہ صاحب اپنے ہاتھ سے چائے پکا کر حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مدنی کو پلاتے۔ ہاں، پھر ایک مقولہ سنایا، فرمانے لگے حضرت شاہ صاحب فرمائے تھے، حضرت شاہ صاحب کہ میرے دو دوست ہیں، میرے دو دوست ہیں: ایک باوفا دوست اور ایک ہے بے وفا دوست۔ فرمایا، فرمایا علم فرمایا یہ علم فرمایا یہ میرا بے وفا دوست ہے، ہاں، فرمایا یہ کبھی کبھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، علم بے وفا دوست ہے یہ کبھی کبھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، فرمایا باقی رہی جہالت، فرمایا وہ تو یارِ غار ہے، ہر وقت ساتھ رہتی ہے۔ اب آپ بتاؤ، حضرت شاہ صاحب کی کیا شان تھی!
میں کیا عرض کروں، باتوں میں بات ہاں، دارالعلوم دیوبند میں دارالعلوم دیوبند میں یہ مرزائی کچھ مرزائی آئے، یہ کوئی مصر سے عربی سیکھ کر آ گئے، کچھ عربی وہ زبان، اور دارالعلوم دیوبند میں آئے اور وہاں آ کر انہوں نے کچھ وہ شور مچانا شروع کیا کہ ہم نے عربی کے اندر مناظرہ کرنا ہے، عربی کے اندر مناظرہ کرنا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ فرمانے لگے کہ مناظرے سے مقصد سمجھنا سمجھانا ہے، عوام ہیں یہ اردو جاننے والے ہیں، سب عربی نہیں جانتے ہیں، تو اردو اردو زبان میں مناظرہ ہو جائے، عربی میں کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن وہ مصر تھے کہ ہم نے عربی زبان میں مناظرہ کرنا ہے، ہم نے عربی زبان میں مناظرہ کرنا ہے۔ تو یہ لیکن اساتذہ اس پر اصرار کرتے کر رہے تھے کہ اردو زبان میں، تو یہ آواز یہ شور حضرت شاہ صاحب ذرا کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت شاہ صاحب تک یہ شور پہنچا، تو حضرت شاہ صاحب نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو حضرت شاہ صاحب کو بتلایا کہ یہ کچھ مرزائی آئے ہوئے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے عربی زبان کے اندر مناظرہ کرنا ہے، عربی زبان کے اندر ذرا۔ تو حضرت شاہ صاحب نے فرمایا جاؤ ان سے کہہ دو کہ عربی زبان میں مناظرہ ہوگا، ہاں نظم میں ہوگا، نثر میں نہیں ہوگا، اشعار کے اندر مناظرہ ہوگا۔
وہ گئے حضرات اور انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، مناظرہ عربی زبان میں ہوگا لیکن نظم میں ہوگا، نثر میں نہیں، اشعار کے اندر مناظرہ ہوگا۔ بس کہتے ہیں نا میرا خیال بس جو کچھ تھا وہ سب کچھ نکل گیا۔ میں اب کیا لفظ بولوں، ہمارے جو بزرگوں نے سنایا نا واقعہ، فرمایا پھر ایسی انہوں نے دوڑ لگائی، دوڑ لگاتے وقت ان کا وہی شیطان والا حال ہوا یاد رکھنا، جو اذان کے وقت ہوتا ہے شیطان کا بس ذرا، میں کیا عرض کروں۔ ایسی انہوں نے دوڑ لگائی، وہاں سے بھاگے ذرا۔ تو ہمارے بزرگوں کی یہ شان تھی، میں آپ کو عرض کروں، اللہ نے عجیب ان کو شان سے، اللہ نے عجیب ان کو کرامات سے ان کو نوازا تھا، یہ تھا۔
تو اپنے عزیز بھی انہی کے نام لیوا ہیں، بس اس نیک سلسلے میں اپنے آپ کو جوڑے رکھنا ہے، اپنے آپ کو اس میں لگائے رکھنا ہے، ہاں بالکل احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہونا ہے، اللہ نے اپنے عزیزو کو جو دولت عطا فرما رکھی ہے نا یہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہمارے ایک استاد تھے، وہ فرمانے لگے فرمایا تم جس میں بیٹھے ہو جنت میں، پھر خود ہی ان سے پوچھنے لگے طلباء سے: بتاؤ، ہاں آٹا کیا بھاؤ ہے، آٹا کیا بھاؤ ہے؟ وہ کسی طالب علم کو پتہ نہیں کہ آٹا کیا بھاؤ ہے، ہاں، پھر فرمانے لگے فرمایا یہ جنت نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ جنت میں جو کچھ ملے گا وہ بغیر بھاؤ کے ملے گا، وہ اللہ پاک آپ کو دنیا میں عطا کر رہے ہیں، ہاں تو اور کیا ہے؟ الحمدللہ یہ اللہ کی رحمت ہے ساری ذرا۔
اللہ تعالی میں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اللہ اپنی رضا اور خوشنودی سے نوازے، اللہ اس نیک سلسلے میں جوڑے رکھے، اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ یہ علاماتِ ایک کتاب ہے، بس اللہ نے اپنی رحمت سے ہی لکھوا دی تھی، بس اس کی ایک علامت میں بتلا دیتا ہوں، چلو کبھی الحمدللہ بھئی۔ مضاف مضاف الیہ کی علامات میں سے ایک علامت، موٹی سی علامت، عربی ترکیب میں بہت سی علامات ہیں نا، چلو ایک علامت اس نیت سے پڑھا دیتا ہوں میں، چلو کچھ یہ کیا کروں کچھ چند ایک اللہ نے اللہ نے اپنی رحمت سے میں، اللہ قبول فرمائے۔ مضاف مضاف الیہ کی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ دو اسم ہوں، دو اسم ہوں، ہمارے ایک استاد فیصل آباد میں پڑھاتے تو وہ ذرا وہ شروع کی جو چھ علامات ہیں وہ میرا خیال چھ سات آٹھ علامات، وہ مجھے آ کر بتلانے لگے میں ان طلباء کو یوں پڑھاتا ہوں ذرا۔ ہاں کہ ویسے ہی پہلے علیحدہ علیحدہ بھی ذرا پڑھ لیں، ہاں کہ دو اے اے کیا دو اسم ہوں، پہلے اسم پر الف لام نہ ہو، دوسرے پر الف لام ہو تو عام طور پر یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف مضاف الیہ بنیں گے۔
اب کتاب الصلاۃ، کتاب الزکاۃ، کتاب الحج، باب الاذان، غسل الوضوء، فرض الوضوء، ربع الرأس، مسح الرأس، یہ سب کے سب آپس میں کیا بن رہے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ یہ اب یہ ساری الحمدللہ یہ ساری عبارتیں، ترکیبیں اللہ کا شکر ہے، حضرت استاد بھئی حضرت بھئی مولانا زہیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرمانے لگے فرمایا کہ ترکیب سے بڑی اسانی، طلباء بہت جلد الحمدللہ اللہ کا شکر ہے، اللہ نے انہیں سمجھ عطا فرما دی ہے، یہ بالکل آپ نے موٹی سی ایک علامت، دنیا میں کوئی بھی اسم ہو اور اس کے بعد ضمیر آ جائے تو یہ سب کے سب آپس میں کیا بنیں گے؟ مضاف مضاف الیہ۔ اب قرآن پاک میں اللہ پاک کا ارشاد: خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ، آگے ہاں شرح جامی میں آپ پڑھ لیں گے: الحمد لوليه، والصلاۃ علی نبیہ، وعلى آلہ، واصحابہ المتأدبین بآدابہ، الحمد لله علی نعمائه الشاملة، وآلائه الکاملة، علی سید الانبیاء محمد المصطفی، وعلى آل، محمد المصطفی وعلى آلہ المجتبی، اب نعمائه، آلائه، آلہ، یہ سب آپس میں کیا بن رہے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ تو یہ مختصر سی الحمدللہ، اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں اللہ اپنی رحمتوں سے نوازے، اللہ اپنے عزیزو کے علم میں، عمل میں، اخلاص میں برکت عطا فرمائے، اللہ تعالی دونوں جہانوں میں خوش رکھے، جو کچھ ٹوٹی پھوٹی بات کہی گئی اللہ اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
اللہم صل علی سیدنا و مولانا محمد وعلی ال سیدنا و مولانا محمد وبارک وسلم وصل علیہ۔
یا اللہ! یا اللہ، ہمارے سب نیک عزیزو کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ، ان کے علم میں، عمل میں، اخلاص میں برکت نصیب فرما۔ دونوں جہانوں میں خوشیوں سے مالامال فرما۔ یا اللہ! یا اللہ، آخری سانس تک اپنے دین پر قائم رہنے کی اور اس کے ساتھ چمٹے رہنے کی اور اس کی خدمت میں لگے رہنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ، ہمارے حضرت ہمارے حضرت مولانا محمد زہیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت استادوں کی عمر میں، صحت میں، خلوص میں، ہمت میں، نیک جذبے میں، یا اللہ برکت نصیب فرما۔ یا اللہ، ان کے فیض کو عام فرما۔ یا اللہ، حضرت شیخ صاحب کی روحانی، نسبی اولاد کو سب کو نسبی اولاد بھی روحانی اولاد میں داخل ہے دین پڑھنے پڑھانے کی وجہ سے، یا اللہ ان سب کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ سب کو حضرت شیخ صاحب کی روح کو خوش کرنے کا، آپ کی روح کی تسکین کا، آپ کے قلب کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ فرما۔ یا اللہ! یا اللہ، ہمارے جتنے بھی طلباء ہیں جہاں جہاں پڑھ رہے ہیں، ہمارے نیک اساتذہ جہاں بھی خدمت کر رہے ہیں، یا اللہ سب کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ہمارے تمام مراکز کی، مدارس کی، یا اللہ تمام خانقاہوں کی سب کی حفاظت فرما۔
وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وعلی الہ واصحابہ اجمعین، برحمتک یا ارحم الراحمین۔