Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 20
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔26 ‏اکچھا بھئی کچھ ترکیبیں کیجیے بھئی مزید۔ معطوف اور معطوف علیہ کے بارے میں، میں نے بتلایا تھا اپ کو کہ اسم کا عطف کس پر ہوگا؟ اسم پر ہوگا اور فعل کا عطف فعل پر ہوگا اور ظرف کا عطف ظرف پر ہوگا بھئی۔ جی۔ جی، لکھیے بھئی، "سَلَّمْتُ، سَلَّمْتُ عَلَى زَيْدٍ وَعَمْرٍو وَبَكْرٍ، وَبَكْرٍ"۔ جی کیجیے کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ "سَلَّمْتُ" فعل با فاعل، فاعل کیا ہے اس میں؟ جی، کون سی ضمیر؟ ہاں، یہ "تُ" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے جی۔ "عَلَى" جارا، "زَيْدٍ" مجرور لفظاً معطوف علیہ، پہلے جس کو کیا کہتے ہیں، معطوف علیہ، اس پر عطف کیا گیا ہے جی۔ "وَ" حرفِ عطف، اعراب بھئی، "عَمْرٍو" مجرور لفظاً، کیونکہ معطوف علیہ مجرور تھا تو یہ بھی مجرور ہوگا، ہاں وہ الگ ہے ہو سکتا ہے وہ لفظاً ہو یا محلاً ہو یا تقدیراً ہو اس اسم میں اختلاف ہو سکتا ہے، تو "عَمْرٍو" مجرور لفظاً معطوف بھئی۔ تو یہ معطوفِ اول ہوا بھئی، آگے "وَبَكْرٍ" بھی آ رہا ہے۔ "وَ" حرفِ عطف، "بَكْرٍ" اعراب سب سے پہلے بھئی، ہم اعراب حل کر رہے ہیں بھئی، مجرور لفظاً معطوفِ ثانی بھئی۔ معطوف علیہ اپنے دونوں معطوفوں سے مل کر مجرور ہوا "عَلَى" کے لیے، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ "سَلَّمْتُ" فعل کے ساتھ بھئی، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا جی۔ روانی سے پڑھیے بھئی، "سَلَّمْتُ عَلَى زَيْدٍ وَعَمْرٍو وَبَكْرٍ"۔ جی، کیا ترجمہ ہوگا؟ جی، میں نے سلام کیا زید اور عمرو اور بکر پر بھئی، میں نے انہیں سلام کیا۔ دیکھیے بھئی، یہ جو بکر تھا اگر ماقبل میں زید بھی اس کے آ رہا ہے اور اس کے ماقبل عمرو بھی ہے بھئی، تو بکر کا عطف اس زید پر جو اول ہے، اول بھئی جو اصل ہے یہاں پر، یعنی معطوف معطوف علیہ، اس پر بھی عطف کر لیں یہ بھی درست ہے، اور یا جو اس کے سب سے قریب ہو اس پر بھی عطف کرنا صحیح۔ مثلاً پانچ چھ لفظ آ جاتے ہیں بھئی، تو جو آخری آ رہا ہے جوں جوں آگے چلتے جائیں اسی طرح ہوگا، سب سے پہلے پر بھی عطف صحیح ہوتا ہے، اور سب سے آخر میں جو اس سے ماقبل آ رہا ہے اس پر بھی عطف، درمیان والوں پر نہیں۔ ہاں بات اگرچہ وہی رہے گی، اسی طرح مجرور آئے گا، یا مرفوع یا منصوب جو بھی ہو۔ جی، اگلا جملہ لکھیے بھئی، "ذَهَبَ زَيْدٌ وَالَّذِي مَعَهُ إِلَى الْبُسْتَانِ، إِلَى الْبُسْتَانِ"۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ "ذَهَبَ" فعل، "زَيْدٌ" مرفوع لفظاً فاعل جی، "وَ" یہ "زَيْدٌ" معطوف علیہ، ہاں آگے حرفِ عطف آ رہا ہے بھئی، تو "زَيْدٌ" مرفوع لفظاً معطوف علیہ بھئی۔ "وَ" حرفِ عطف، "الَّذِي" اچھا، "الَّذِي" یہ زید کیا تھا؟ مرفوع، تو "الَّذِي" جس کا عطف کیا جا رہا ہے اس پر وہ بھی مرفوع ہوگا لیکن یہ محلاً ہوگا، وہ مرفوع تھا لفظاً یہ مرفوع محلاً۔ "الَّذِي" مرفوع محلاً اسمِ موصول بھئی، اس کو ابھی اپ معطوف نہیں بنائیں گے کیونکہ اسمِ موصول کے لیے پہلے کیا چاہیے؟ صلہ، پھر اس کو فاعل یا مفعول بناؤ جی۔ جی، اور کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ "الَّذِي" اسمِ موصول مرفوع محلاً، "مَعَ" اعراب بھئی، "مَعَ" مرفوع کیوں کہا اپ نے؟ یہ ظرف بنتا ہے، "مَعَ" کیا بنے گا؟ ظرف ہوتا ہے بھئی جملے میں جب بھی آئے ظرف ہوگا بھئی۔ تو یہ جی، اور مبنی ہے بھئی، تو یہ اور ظرف کا کیا اعراب پڑھا اپ نے؟ ظرف کیا ہوتا ہے؟ مفعول فیہ کیا ہوتا ہے بھئی؟ منصوب، تو یہ بھی منصوب ہے لیکن مبنی ہے تو محلاً کہو، منصوب محلاً، اور یہ ماقبل کی طرف مضاف ہوتا ہے بھئی۔ وہی ضابطہ لگے گا، یہ اسم ہے اسم کے ساتھ کیا ہے؟ ضمیر ملی ہوئی ہے اور جس اسم کے ساتھ یہ ضمیر ملی ہوئی ہو کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف، مضاف علیہ والی۔ جی، تو "مَعَ" منصوب محلاً مضاف، "هُ" ضمیر، "هُ" ضمیر راجع بسوئے "الَّذِي"، یہ مضاف علیہ بنے گا۔ جی، یہ اچھا جی، اعراب کیا بتایا؟ مجرور محلاً مضاف علیہ جی۔ شاباش، تو یہ مفعول فیہ بن رہا ہے اس کے لیے عامل چاہیے، تو یہاں پر عامل محذوف نکالیں گے بھئی، "وَالَّذِي ثَبَتَ مَعَهُ"۔ جی، "ثَبَتَ" فعل، "ثَبَتَ" فعل "هُوَ" ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، کس کو راجع ہے؟ غائب کی ضمیر آئے اس کا مرجع تلاش کرو۔ راجع بسوئے "الَّذِي" کو بھئی، اچھا جی۔ بھئی دیکھو، اپ نے "ثَبَتَ" کی "هُوَ" ضمیر بھی "الَّذِي" کو راجع کی، "مَعَهُ" کی "هُ" ضمیر بھی اپ نے "الَّذِي" کو راجع کی بھئی، معنی ہی نہیں صحیح بنتا۔ "وَالَّذِي" اور وہ جو "ثَبَتَ" کہ ثابت تھا "مَعَهُ" اپنے ساتھ؟ "هُ" ضمیر بھی اسی کو راجع نہ، جو ثابت تھا اپنے ساتھ۔ جی، ہاں یہ زید کی طرف، وہ جو اس کے، زید کے ساتھ تھا بھئی، زید کے ساتھ ثابت تھا۔ تو "ثَبَتَ" فعل اپنے فاعل بھئی اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ ہوا بھئی۔ تو دیکھا یہاں پر "الَّذِي" کے صلے میں صرف ظرف آ رہا تھا، تو یہاں "ثَابِتٌ" نہیں نکال سکتے کیونکہ صلہ ہمیں کیا چاہیے؟ جملہ چاہیے، تو "ثَبَتَ" نکالیں گے "ثَابِتٌ" نہیں بھئی۔ موصول اپنے صلے کے ساتھ مل کر یہ معطوف ہوا جی، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر فاعل ہوا "ذَهَبَ" کے لیے۔ "إِلَى" جارا، "الْبُسْتَانِ" مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر کس سے متعلق ہیں بھئی؟ "ذَهَبَ" کے ساتھ متعلق ہیں بھئی، جی شاباش۔ "ذَهَبَ" فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ جی، "ذَهَبَ زَيْدٌ وَالَّذِي مَعَهُ إِلَى الْبُسْتَانِ"۔ جی، "ذَهَبَ زَيْدٌ"، وہ نون کو واؤ کر کے واؤ میں ادغام ہوگا، "ذَهَبَ زَيْدٌ وَالَّذِي مَعَهُ إِلَى الْبُسْتَانِ" جی، ترجمہ کیجیے۔ گیا زید اور وہ شخص جو اس کے ساتھ تھا باغ کی طرف۔ ہاں، گیا زید اور وہ شخص جو کہ اس کے ساتھ تھا، بھئی کس کے ساتھ تھا؟ زید کے ساتھ، دیکھا "هُ" ضمیر زید کو راجع، گیا زید اور وہ شخص جو اس کے ساتھ تھا "إِلَى الْبُسْتَانِ" باغ کی طرف۔ جی، اگلا جملہ لکھیے بھئی، "قُمْتُ، قُمْتُ، فَمَشَيْتُ، فَمَشَيْتُ، ثُمَّ مَرَرْتُ، ثُمَّ مَرَرْتُ، بِكَ وَبِزَيْدٍ، بِكَ وَبِزَيْدٍ"۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ "قُمْتُ" فعل با فاعل بھئی، فاعل کیا ہے اس میں؟ کون سی ضمیر بھئی؟ جی، "تُ" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ معطوف علیہ بھئی۔ "فَ" عاطفہ جی، "مَشَيْتُ" فعل با فاعل، "مَشَيْتُ" فعل با فاعل اس کے اندر بھی "تُ" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جملہ معطوفہ ہوا جی۔ "ثُمَّ" حرفِ عطف، "مَرَرْتُ" فعل با فاعل، "مَرَرْتُ" فعل با فاعل، "تُ" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل بھئی۔ "بِ" جارا، "كَ" ضمیر مجرور محلاً بھئی، آگے ایک اور بھی "وَبِزَيْدٍ" بھی آ رہا ہے بھئی، اس کو معطوف علیہ بناؤ بھئی، جار مجرور بھئی یہ معطوف علیہ ہوئے ظرفِ لغو ہوا جی آگے، "وَ" حرفِ عطف، "بِ" جارا، "زَيْدٍ" مجرور لفظاً، جار مجرور یہ کیا ہوئے؟ معطوف جی، شاباش، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ متعلق ہوا "مَرَرْتُ" فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، بھئی جملہ معطوفہ ماقبل پر اس کا عطف ہو رہا ہے بھئی۔ جی، جی پڑھیے، "قُمْتُ فَمَشَيْتُ ثُمَّ مَرَرْتُ بِكَ وَبِزَيْدٍ" ترجمہ کیجیے۔ "قُمْتُ" میں کھڑا ہوا، "فَمَشَيْتُ" پھر میں چلا، "ثُمَّ مَرَرْتُ بِكَ وَبِزَيْدٍ" پھر میں اپ پر اور زید پر گزرا۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی، "عَمْرٌو وَالَّذِينَ مَعَهُ، عَمْرٌو وَالَّذِينَ مَعَهُ، ذَهَبُوا إِلَى السُّوقِ، ذَهَبُوا إِلَى السُّوقِ"۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، اپ کیجیے بھئی۔ "عَمْرٌو" مرفوع لفظاً معطوف علیہ بھئی، مرفوع کیوں پڑھا اپ نے کہ اس نے کیا بننا ہے؟ مبتدا بننا ہے جی، مرفوع لفظاً معطوف علیہ۔ "وَ" حرفِ عطف، "الَّذِينَ" شاباش، "الَّذِينَ" مرفوع، مرفوع محلاً بھئی، یہ اسمِ موصول، ابھی نہ معطوف بناؤ بھئی، ابھی صلہ چاہیے اس کے لیے۔ "مَعَ" اعراب بھئی، اس نے کیا بننا ہے بھئی؟ جی، صلہ تو بنے گا، یہ "مَعَ" نے کیا بننا ہے صرف؟ یہ ظرف بنتا ہے بھئی، کیا بنتا ہے؟ ظرف ہے بھئی، تو یہ منصوب ہوگا بھئی، منصوب محلاً میں نے کہا بھئی، تو "مَعَ" منصوب ہے لیکن مبنی ہے تو محلاً، مضاف بھئی۔ "هُ" ضمیر، "هُ" ضمیر مجرور محلاً مضاف علیہ، جو کس کو راجع ہے؟ عمرو کو راجع ہے، شاباش۔ شاباش، مضاف مضاف علیہ مل کر متعلق نہ کہو، یہ مفعول فیہ ہوئے، جار مجرور نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ظرف ہے۔ تو یہ مفعول فیہ ہوئے کس کے لیے؟ جی، "ثَبَتَ" فعل کے لیے، "ثَبَتَ" فعل "هُوَ" ضمیر مستتر اس کا فاعل جی مرفوع محلاً، جو راجع کیا اپ نے "الَّذِينَ" کو بھئی، "الَّذِينَ" تو جمع ہے، "هُوَ" ضمیر تو اپ نے مفرد کی راجع کر دی۔ شاباش، اس کے مطابق فعل نکالو بھئی، تو کیا فعل نکالیں گے؟ کہ ہاں۔ ثَبَتُوا بھئی، تو ثَبَتُوا فعل بافاعل۔ واؤ ضمیر اس کے اندر کیا ہے مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ اَلَّذِیْنَ کو بھئی، شاباش! تو فعل اپنے فاعل اور اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ جی موصول اپنے صلے سے مل کر یہ کیا بنا؟ معطوف بھئی۔ شاباش! معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا، آگے اب خبر آئے گی جی۔ ذَهَبُوْا اِلَی السُّوْقِ بھئی۔ ذَهَبُوا فعل بافاعل بھئی۔ ذَهَبُوا فعل میں کیا فاعل ہوگا؟ ہاں، ذَهَبُوا کے اندر واؤ ضمیر کیا ہے؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے جی۔ غائب کی ضمیر آگئی، مرجع بتلائیے بھئی۔ جو راجع ہے مبتدا کو، اور مبتدا جمع تھا بھئی، عَمْرٌو وَّالَّذِیْنَ مَعَهٗ، عمرو اور جو اس کے ساتھ ہیں، وہ جمع بھئی۔ تو جمع کی یہ عائد بن گیا بھئی خبر کو مبتدا سے جوڑ رہا ہے بھئی۔ اِلَى جَارٌّ، اَلسُّوْقِ مجرور لفظاً، جار مجرور کس سے متعلق ہوں گے؟ ذَهَبُوا بھئی، ترجمہ بھی ہو رہا ہے ذَهَبُوْا اِلَی السُّوْقِ گئے وہ بازار کی طرف، جی۔ شاباش! فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ عَمْرٌو وَّالَّذِیْنَ مَعَهٗ ذَهَبُوْا اِلَی السُّوْقِ عَمْرٌو وَّالَّذِیْنَ مَعَهٗ ذَهَبُوْا اِلَی السُّوْقِ جی، ترجمہ کیجیے۔ جی، عمرو اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں ذَهَبُوْا اِلَی السُّوْقِ، وہ گئے ہیں بازار کی طرف بھئی۔ جی، ایک اور ترکیب شاید پہلے بھی آپ نے کی ہو، دوبارہ کر لیں اگر کی بھی ہے۔ اَخِيْ اَلَّذِيْ لَقِيْتَهٗ قَبْلَ اُسْبُوْعٍ عَالِمٌ جی، لکھ لیا بھئی؟ اَخِي الَّذِيْ لَقِيْتَهٗ قَبْلَ اُسْبُوْعٍ عَالِمٌ۔ اعراب آپ نے بتانے ہیں بھئی ہر لفظ کے، جی۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ اعراب، سب سے پہلے اعراب چاہیے بھئی۔ اَخِیْ بھئی، مرفوعٌ تقدیرًا مبتدا۔ مبتدا نہ بناؤ، اَخِیْ بھئی، مرفوعٌ تقدیرًا مضاف بھئی۔ بھئی، یہ مرفوع کیوں آپ نے کہا؟ شاباش! اس نے کیا بننا ہے؟ مبتدا بننا ہے بھئی، اور تقدیرًا کیوں کہا؟ شاباش! یہ وہ ایک قسم آپ نے سولہ قسموں میں پڑھی تھی کہ جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی بھی اسم مضاف ہو یاء متکلم کی ضمیر کی طرف، تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے، تو اس کا اعراب بھی تقدیری ہے۔ تو یہ مرفوعٌ تقدیرًا مضاف، یا ضمیر؟ اسماء ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم، وہاں قیدیں موجود ہیں۔ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ یاء متکلم کی طرف مضاف، ہاں یاء متکلم کی طرف اعراب ان کیا کہ کیا کیا کہتے ہیں؟ اسماء ستہ ہوں، چھ میں سے ہوں۔ مکبرہ ہوں، معلوم ہوا تصغیر کسی کی نہ ہو۔ موحدہ ہوں، معلوم ہوا مفرد ہوں، تثنیہ یا جمع مضاف ہوں۔ کس کی طرف؟ ہاں، کیا؟ نہیں۔ اسماء ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یاء المتکلم، یاء متکلم کے علاوہ کسی چیز کی طرف کیا ہوں؟ مضاف، اور یہ تو مضاف ہے بھئی یاء متکلم کی طرف، یہ اس سے نکل گیا بھئی۔ جی، جو بھی اسم ہو جمع مذکر سالم کے علاوہ، جب اس کے ساتھ یاء جڑی ہوئی آپ کو نظر آ جائے فورا حکم لگا دیں تینوں حالتوں میں اس کا اعراب تقدیری ہے۔ شاباش! یاء ضمیر مجرورٌ محلاً مضافٌ الیہ بھئی۔ جی، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ کیا ہوئے؟ مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف ہوئے۔ موصوف ہوئے بھئی، اس لیے کہ اَخٌ کا لفظ اکیلا ہو تو نکرہ ہے، لیکن جب اس کی اضافت کس کی طرف ہو گئی؟ ضمیر کی طرف، معرفہ کی طرف، تو جو اسم معرفہ کی طرف مضاف ہو وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ میں کہتا ہوں غلام، غلام نکرہ ہے، دنیا کے ہر کوئی بھی غلام آپ کے سامنے آئے آپ کہہ سکتے ہیں یہ کیا ہے؟ غلام، لیکن جب میں نے کہا غُلاَمُ زَیْدٍ بھئی، اب یہ زید کی معرفہ کی طرف مضاف ہوا، تو اب ہر غلام پر اس کا اطلاق صحیح نہیں، معرفہ بن گیا، متعین ہو گیا۔ تو یہاں بھی یہ اَخِیْ بھئی معرفہ بن گیا، اور اَلَّذِيْ معرفہ کے بعد معرفہ آ رہا ہے تو یہ موصوف صفت بنیں گے بھئی۔ اعراب بھئی۔ اَلَّذِيْ مرفوعٌ محلاً اسمِ موصول، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ ہاں، اور موصوف کیا ہے؟ مرفوع، تو صفت بھی کیا ہوگی؟ تو فرق آیا، دیکھو وہ بھی مرفوع ہے اَخٌ، لیکن وہ مرفوع ہے تقدیرًا، اور یہ بھی اَلَّذِيْ اس کی صفت یہ بھی مرفوع ہے، لیکن یہ ہے مرفوعٌ محلاً۔ جی، تو یہ اسمِ موصول، آگے لَقِيْتَ فعل بافاعل۔ تَ ضمیر مرفوعٌ محلاً اس کا فاعل بھئی۔ ہاء ضمیر، ہاء ہاء بھئی، وہ حرف جو آپ پڑھتے ہیں، وہ حرف کا نام لو بھئی، جی۔ شاباش! ہاء ضمیر منصوبٌ محلاً مفعولٌ بہ، دیکھا! فاعل آ گیا تھا فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آتا ہے، باقی کیا آئیں گے؟ منصوب بھئی، تو یہ ہاء ضمیر منصوب ہوئی۔ جی، یہ کس کو راجع بھئی؟ جی؟ اچھا جی، یہ آتا، شاباش بھئی! یہ ضمیر راجع ہے اَخِیْ کو، جی، آگے چلیے۔ قَبْلَ منصوبٌ لفظًا۔ قَبْلَ منصوبٌ لفظًا مضاف، شاباش! یہ قَبْلُ بَعْدُ مضاف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، ورنہ تنوین آنی چاہیے تھی۔ قَبْلُ سے اضافت سے تنوین گر گئی بھئی، قَبْلَ منصوبٌ لفظًا مضاف۔ بھئی منصوب کیوں کہا، وجہ تو بتاؤ؟ یہ ظرف بنے گا، قَبْلُ بَعْدُ کیا بنتے ہیں؟ ظرف، اور مفعول فیہ منصوب ہوتا ہے۔ جی، تو مضاف، آگے اُسْبُوْعٍ ہفتے کو کہتے ہیں بھئی، تو اُسْبُوْعٍ مجرورٌ لفظًا مضافٌ الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ ظرف ہوا لَقِيْتَ فعل کے لیے۔ شاباش! مضاف مضاف الیہ مل کر یہ ظرف ہوا کس کے لیے؟ لَقِيْتَ فعل کے لیے بھئی۔ لَقِيْتَ فعل بھئی اپنے فاعل، مفعول بہ، اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا کس کا؟ اَلَّذِيْ کا۔ آپ نے صلے کو بغیر کسی عائد کے موصول کے ساتھ جوڑ دیا بھئی۔ ہاں، انہوں نے رجوع کر لیا، اچھا چلیے بھئی، ہاء ضمیر کس کو راجع ہے؟ اَلَّذِيْ کو بھئی۔ یہ عائد ہے بھئی۔ اچھا تو، تو یہ صلہ ہوا موصول کا، موصول اپنے صلے کے ساتھ مل کر یہ صفت ہوئی اَخِیْ موصوف کے لیے، موصوف اپنی صفت سے مل کر یہ مبتدا بنا بھئی، شاباش! سمجھ میں آیا بھئی، یہ سارا مبتدا ہے اَخِي الَّذِيْ، اچھا آگے عَالِمٌ مرفوعٌ لفظًا۔ عَالِمٌ مرفوعٌ لفظًا، مرفوع کیوں کہا بھئی آپ نے؟ یہ خبر بن رہی ہے اور خبر مرفوع ہوتی ہے، جی۔ اوہو! میں نے کیا بتلایا تھا، صفت کے صیغے آ جائیں تو پوری ترکیب کیا کرو۔ عَالِمٌ صیغہ اسمِ فاعل بھئی، اس کے لیے فاعل چاہیے، کون سی ضمیر ہے؟ هُوَ ضمیر مرفوعٌ محلاً اس کا فاعل، غائب کی ضمیر آ جائے تو فوراً مرجع تلاش کرو بھئی۔ راجح بجانب اَخِیْ کو، شاباش بھئی دیکھ، یہ خبر ہے، خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے بھئی۔ تو یہ عائد آ گیا بھئی، تو اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر بھئی۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ اَخِي الَّذِيْ لَقِيْتَهٗ قَبْلَ اُسْبُوْعٍ عَالِمٌ اَخِي الَّذِيْ لَقِيْتَهٗ قَبْلَ اُسْبُوْعٍ عَالِمٌ دیکھا، اَخِي الَّذِيْ یہ یاء گر جائے گی بھئی التقاء ساکنین کی وجہ سے۔ اچھا، ترجمہ کیجیے۔ شاباش! اَخِي الَّذِيْ میرا وہ بھئی، کہ لَقِيْتَهٗ کہ جس سے آپ ملے تھے، قَبْلَ اُسْبُوْعٍ ایک ہفتہ قبل، عَالِمٌ وہ عالم ہے۔ جی۔ قَبْلُ اور بَعْدُ میں آپ نے پڑھا ہے تین حالتیں، اس نے بننا تو ظرف ہی ہے یہ تو طے ہے، اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں، اب جب یہ ظرف بنے گا، ظرف پر آئے گا نصب بھئی، تو یہ تقاضا کرتے ہیں مضاف الیہ کا، قَبْلَ کس سے قبل بھئی؟ قَبْلَ زَیْدٍ، عَمْرٍو، بَکْرٍ مضاف الیہ کا چاہتے ہیں ہمیشہ۔ اب ان کے مضاف الیہ میں تین حالتیں ہیں۔ یہ چاہتے کس کو ہیں؟ مضاف الیہ کو، آپ بھی ذکر کر دیں۔ جب آپ نے بھی ان کے مضاف الیہ کو ذکر کر دیا ان کی ضرورت پوری ہو گئی بھئی، یہ مبنی نہیں یہ اسی طرح معرب رہیں گے، یرحمک اللہ۔ تو ان کی ضرورت کیا ہوئی؟ پوری ہو گئی، لہذا یہ معرب کے معرب رہے۔ دوسری صورت یہ ہے آپ ان کے مضاف الیہ کو عبارت سے تو حذف کر لیتے ہیں، لیکن نیت میں ابھی بھی موجود ہے۔ میں یہاں قَبْلَ اُسْبُوْعٍ، اُسْبُوْعٍ کو حذف کر لیتا ہوں بھئی، لیکن نیت میں ابھی بھی ہے۔ تو جب نیت میں ابھی بھی ہے تو معلوم ہوا اس کا مضاف الیہ چاہیے یا نہیں چاہیے بھئی؟ چاہیے تو، اور آپ نے اس کو حذف کر لیا، جب آپ نے حذف کر لیا تو آپ نے اس کا نقصانِ عظیم کیا بھئی، تو جب نقصانِ عظیم کیا تو اب اس کے لیے جبیرہ چاہیے، اور وہ جبیرہ پھر ضمہ کا جبیرہ لگاتے ہیں اس کو، قَبْلُ مبنی علی الضم بنا دیتے ہیں، کیا بنا دیتے ہیں؟ مبنی علی الضم بنا دیتے ہیں، یہ دوسری صورت ہے، جب مضاف الیہ عبارت سے حذف ہو لیکن نیت میں موجود۔ تیسری صورت یہ ہے کہ عبارت سے بھی حذف کر دیا، ذہن میں بھی نہیں رکھا، ختم بھئی، اس کا مضاف الیہ کوئی ہے ہی نہیں بھئی، کوئی مضاف الیہ جب مضاف الیہ ہے ہی نہیں تو اس کا کوئی نقصان ہوا؟ تھا بھی نہیں گویا اور ہے بھی نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو جب آپ عبارت سے حذف کر لیتے ہیں، ذہن میں رکھتے ہیں، تو اس کو تو ابھی بھی معلوم ہے مضاف الیہ چاہیے، اور آپ اس کو حذف کرکے بیٹھے ہیں، تو نقصان ہے، لیکن جب آپ کیا کر لیتے ہیں؟ عبارت سے بھی حذف، نیت سے بھی حذف، گویا تھا ہی نہیں، یہ چاہتا ہی نہیں تھا، تو اس صورت میں بھی کوئی نقصان گویا نہیں ہوا بھئی، کیونکہ نیت میں بھی نہیں ہے بھئی، تو اس صورت میں بھی یہ معرب ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تین حالتیں ہیں ان کی، مضاف الیہ عبارت میں ذکر ہوگا یا صرف نیت میں ہوگا، یا نیت میں بھی نہیں ہوگا عبارت میں بھی نہیں، تو وہ ایک صورت جب عبارت میں تو نہ ہو لیکن نیت میں ہو تو اس صورت میں یہ مبنی ہے اور باقی دونوں صورتوں میں معرب، اور اس وقت اس کا مضاف الیہ موجود تو یہ معرب ہے بھئی۔ جی، اور معرب کا اعراب لفظاً آتا ہے یا تقدیرًا آتا ہے بھئی؟ یہاں لفظاً آ رہا ہے بھئی۔ جی، بس کریں بھئی؟ مَعَ ظرف ہے نہ بھئی، مَعَ کیا بنتا ہے؟ ظرف ہے، ظرف بنتا ہے، مفعول فیہ بنتا ہے، اور ظرف کا اعراب آپ پڑھ چکے ہیں مفعول فیہ کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب، تو یہ بھی منصوب ہوگا، لیکن یہ چونکہ ہے دو حروف پر مبنی، اس لیے یہ دو حروف سے بنا ہے اس لیے یہ مبنی ہے، اور جب مبنی ہے تو یہ منصوب تو ہوگا لیکن محلاً ہوگا بھئی۔ اچھا بھئی، چلیے کل پھر الف لام کی قسمیں انشاء اللہ کل پڑھ لیں گے بھئی۔ چلیے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں، اے اللہ! ہماری یہ چھوٹی سی جماعت ہے۔ اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ! سب کے گھروں میں اطمینان اور سکون نازل فرما۔ اے اللہ! پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جن طلباء کے حصولِ علم میں کچھ رکاوٹیں ہیں، اے اللہ! ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! علوم کے لیے سینوں کو کھول دے۔ اے اللہ! علم پر عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ! اس کے علاوہ جن کے گھروں میں کوئی بیمار ہیں یا خود بیمار ہیں، اے اللہ! سب کو شفاء نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام عالم کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس خطے کے اندر خصوصاً، اے اللہ! تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! تمام علماء، طلباء، مدارس، مساجد، مجاہدین، مبلغین، اے اللہ! سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! جو شخص جس انداز میں بھی دین کے کام میں مصروف ہے، اے اللہ! سب کی نصرت فرما، اور اے اللہ! جو شخص، اے اللہ! دین کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے اس کو ذلیل و خوار فرما۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ہم، اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہمارے اساتذہ ہم سے وفات ہو چکے، ان سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے ہمارے اساتذہ اور ان کے اساتذہ کے اساتذہ، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما، سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں، ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی بھی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! معاشی تنگی کو دور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہمارے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں بھی حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام سے ہماری بھی حفاظت فرما، اور قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ان کی اشاعت کرنے والا بنا۔ اے اللہ! تمام فتنوں اور گمراہیوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں گناہ سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! نیک اعمال کے لیے ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اور بھی بہت سے احباب نے دعاؤں کا کہا ہے، ان کے لیے بھی دعا فرما۔ اے اللہ! ان سب کی حاجات پوری فرما، اے اللہ! ان سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ان کے کاموں میں جو رکاوٹیں ہیں، ان کو دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
49 approved lectures · 26 of 49