درس نمبر۔44
أچھا، بھئی کون کرے گا آگے ترکیب؟ جی، کیجئیے بھئی: وَعَلَى لِلِاسْتِعْلَاءِ۔
عَلَى مرفوع محلاً مبتدا، لام جارة، اِسْتِعْلَاءِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتَةٌ سے۔ ثَابِتَةٌ صیغہ اسم فاعل، هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، جو راجع ہے مبتدا کو، یعنی یہ عائد ہے مولانا، جی۔ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا، خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی۔
آگے کون بھئی؟ چلیے بھئی!
نَحْوُ مرفوع لفظاً مبتدا، مضاف۔ زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ یہ مراد اللفظ اس کا مضاف الیہ۔ بھئی، زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ مراد اللفظ مجرور محلاً کہیں یا تقدیرًا کہیں، مجرور محلاً معطوف علیہ بھئی، واؤ حرف عطف، عَلَيْهِ دَيْنٌ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا معطوف۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا نَحْوُ کے لیے، نَحْوُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی مِثَالُهَا مبتدائے محذوف کی۔ مِثَالُ مرفوع لفظاً مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ جو کس کو راجع ہے؟ عَلَى کو، جی عَلَى کی مثال ہے۔ مضاف، مضاف الیہ مل کر مبتدا، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی۔
یہ ایک ترکیب، دوسری ترکیب: یا هِيَ مرفوع، یا مبتدا هِيَ نکال لیں جو راجع ہو کس کو؟ عَلَى کو۔ تیسری ترکیب: أَعْنِي، اس صورت میں نَحْوَ پڑھیں گے بھئی، یہ مفعول بنے گا أَعْنِي کے لیے، شاباش! أُمَثِّلُ، یہ مفعول مطلق بنے گا۔ أُمَثِّلُ کے لیے یہ کیا بن جائے گا؟ مفعول مطلق بن جائے گا، جی۔
اور اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے بھئی، کون کرے گا آگے ترکیب؟ چلیے:
زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، عَلَى جارة، السَّطْحِ مجرور لفظاً۔ جار، مجرور مل کر یہ ظرف مستقر ہوا بھئی، تو یہ کس سے متعلق نکالیں گے؟ اس کا متعلق کیا نکالیں گے؟ ثَابِتٌ، جی۔ ثَابِتٌ صیغہ اسم فاعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے مبتدا کو۔ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، جی۔ مبتدا، خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی۔ عَلَيْهِ دَيْنٌ کی ترکیب بھئی، کون کرے گا؟
چلیے بھئی، آپ کیجئیے:
واؤ حرف عطف، عَلَى جارة، هَا ضمیر مجرور محلاً، جی۔ جار، مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتٌ سے۔ ثَابِتٌ صیغہ اسم فاعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا، جو کس کو راجع ہے؟ دَيْنٌ کو، بھئی دَيْنٌ کو کیسے راجع کر رہے ہو؟ یہ دَيْنٌ تو مؤخر ہے، یہ تو إضمار قبل الذكر لازم آیا۔ رتبے کے اعتبار سے مقدم ہیں کیونکہ اس نے کیا بننا ہے؟ مبتدا، اور مبتدا رتبے کے اعتبار سے مقدم ہوتا ہے، جی۔ ثَابِتٌ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مقدم، دَيْنٌ مرفوع لفظاً مبتدا مؤخر بھئی۔ مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی۔
آگے بھئی کون کرے گا؟ چلیے بھئی:
واؤ حرف عطف، قَدْ حرف تقلیل، تَكُونُ فعل ناقص، اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم، جو کس کو راجع ہے؟ عَلَى کو، جی۔ بَاء جارة، مَعْنَى مجرور، کون سا مجرور ہوگا؟ جی؟ مجرور تقدیرًا کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! یہ اسم مقصور ہے بھئی، الف مقصورہ ہو جس کے آخر میں۔ تو مَعْنَى مجرور تقدیرًا مضاف، الْبَاءِ مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ مضاف، مضاف الیہ مل کر مجرور، جی۔ جار، مجرور مل کر متعلق کس سے ہوئے؟ ثَابِتَةً، بھئی ثَابِتَةً آپ نے منصوب کیوں نکالا؟ شاباش! کیونکہ ثَابِتَةً نے تَكُونُ کی خبر بننا ہے، فعل ناقص ہے، اور فعل ناقص کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب ہوتی ہے۔ پھر آپ نے یہ مؤنث کیوں نکالا، مذکر ثَابِتًا کیوں نہیں نکالا؟ شاباش! اس کا اسم کیا ہے؟ مؤنث ہے، تو لہٰذا خبر بھی کیا لے کر آئیں گے؟ مؤنث لائیں گے۔ تو ثَابِتَةً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ بھئی، ثَابِتَةً صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر کس کے لیے؟ فعل ناقص کی خبر ہوئی بھئی، آپ نے خبر کو جوڑا ہے اور ربط کوئی نہیں بتلایا آپ نے۔ ثَابِتَةً میں هِيَ ضمیر جو اس کا فاعل ہے، وہ راجع ہے كَانَ کے اسم کو، وہ عائد ہے۔ تو تَكُونُ فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، شاباش!
آگے بھئی کون کرے گا؟ نَحْوُ:
اور کون کرے گا ترکیب بھئی؟ کوئی نہیں ہے کرنے والا؟ چلو بھئی:
نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف، مَرَرْتُ عَلَيْهِ بِمَعْنَى مَرَرْتُ بِهِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا، شاباش! مَرَرْتُ عَلَيْهِ بِمَعْنَى مَرَرْتُ بِهِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا مضاف الیہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر ہوئی مبتدائے محذوف هِيَ کے لیے، شاباش! مبتدا، خبر مل کر کیا ہوئے؟ جملہ اسمیہ خبریہ ہوئے، تو یہاں بھی وہی چار ترکیبیں۔ اور اگر معنیٰ کا ارادہ ہو بھئی، پھر کیسے ترکیب کریں گے؟
جی؟ نہیں بھئی نہیں، یہ ترکیب نہیں ہوگی یہاں۔ جی؟ بھئی یہ پہلے کیا ترکیب کی تھی نَحْوُ کے ساتھ بھئی؟ ہاں وہ یوں کریں، یوں کریں ترکیب بھئی پہلی: نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف، مَرَرْتُ عَلَيْهِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا ذوالحال، مجرور تقدیرًا ذوالحال، کیونکہ آگے اس کا معنیٰ بیان ہو رہا ہے تو وہ جس کا معنیٰ بیان ہو اس کو ذوالحال بنایا کرو بھئی۔ مَرَرْتُ عَلَيْهِ کا معنیٰ بیان ہو رہا ہے، تو مَرَرْتُ عَلَيْهِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا ذوالحال، بَاء جارة، مَعْنَى مجرور تقدیرًا۔ ترکیب پہ نظر رکھنا بھئی، آگے بھی اس طرح کی ترکیبیں آئیں تو یہ اس طرح ہی کرنی ہیں۔ تو بَاء جارة، مَعْنَى مجرور تقدیرًا مضاف، مَرَرْتُ بِهِ مراد اللفظ (یعنی مَرَرْتُ عَلَيْهِ کس معنیٰ میں ہے؟ مَرَرْتُ بِهِ کے معنیٰ میں ہے)، تو مَرَرْتُ بِهِ مراد اللفظ مجرور تقدیرًا بھئی، کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور بَاء جارة کے لیے، جار، مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے کس سے؟ ثَابِتًا سے، کس سے متعلق ہوئے؟ ثَابِتًا سے بھئی۔ ثَابِتًا صیغہ اسم فاعل، جی؟ ثَابِتًا صیغہ اسم فاعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا، جو کس کو راجع؟ ذوالحال کو، حال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ اور ذوالحال کون تھا؟ مَرَرْتُ عَلَيْهِ، اور وہ هَذَا اللَّفْظُ کی تاویل میں ہے، کس تاویل میں ہے؟ هَذَا اللَّفْظُ، تو مذکر ہوا، تو اس کے اندر اس لیے ہم نے حال ثَابِتًا مذکر نکالا۔ ثَابِتًا صیغہ اسم فاعل، هُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے ذوالحال کو، صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ کیا ہوا؟ مضاف الیہ ہوا نَحْوُ کے لیے، نَحْوُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر جی؟ خبر ہوئی مِثَالُهَا کے لیے، یا یہ خبر ہوئی هِيَ کے لیے، یا یہ مفعول بہ ہوا أَعْنِي کے لیے، یا یہ مفعول مطلق ہوا أُمَثِّلُ کے لیے۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مَرَرْتُ عَلَيْهِ کس معنیٰ میں ہے؟ مَرَرْتُ بِهِ کے معنیٰ میں ہے بھئی۔
جی، آگے کون کرے گا؟ چلیے:
واؤ حرف عطف، قَدْ یہاں تحقیق کے لیے بھی آتا ہے، یہاں تقلیل کے لیے ہے۔ جی، قَدْ حرف تقلیل، تَكُونُ فعل ناقص، شاباش! هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا اسم، جو کس کو راجع ہے؟ عَلَى کو۔ بَاء جارة، مَعْنَى مجرور تقدیرًا مضاف، إعراب مَعْنَى مجرور تقدیرًا مضاف، فِي مجرور محلاً مضاف الیہ، شاباش! کبھی کبھار عَلَى بمعنیٰ فِي کے ہوتا ہے، تو یہاں لفظِ فِي مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو فِي کیا ہوا؟ فِي مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مضاف، مضاف الیہ مل کر مجرور ہوئے بَاء جارة کے لیے۔ جار، مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے ثَابِتَةً سے، جی۔ ثَابِتَةً صیغہ اسم فاعل، هِيَ ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل جو راجع ہے تَكُونُ کی هِيَ کی طرف، تَكُونُ کے اسم کی طرف۔ تَكُونُ کا اسم کہو بھئی، بَاء جارة جار، مجرور مل کر متعلق ہوئے ثَابِتَةً کے ساتھ، ثَابِتَةً صیغہ اسم فاعل، هِيَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ تَكُونُ کے اسم کو، اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر تَكُونُ کی خبر، تَكُونُ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی:
نَحْوُ مرفوع لفظاً مضاف، قَوْلِ مجرور لفظاً مصدر مضاف، هَا ضمیر مجرور محلاً ذوالحال، تَعَالَى فعل، هُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کہ راجع ہے ذوالحال کو، جی۔ تَعَالَى فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا ہوا؟ حال ہوا ذوالحال کے لیے۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مضاف الیہ، إِنْ حرف شرط، كُنْتُمْ فعل ناقص، اس میں تُمْ ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم، عَلَى جارة، سَفَرٍ مجرور لفظاً، جار، مجرور مل کر یہ... جی؟ جار، مجرور مل کر...
جار، مجرور مل کر کیا بنیں گے بھئی؟ ابھی چھوڑو، أَيْ کو چھوڑو، اسی ترکیب کو...
دو حرفوں سے پہلے۔
جی جار مجرور مل کر متعلق ہے ثابتاً۔
جی جار مجرور مل کر متعلق کس سے کر رہے ہیں آپ؟ ثابتاً، یہ منصوب کیوں نکال رہے ہیں آپ؟ کان کی خبر ہے اور کان کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب تو انہوں نے منصوب نکالا، شاباش۔ جی!
ثابتاً کے اندر فاعل ہے، هي ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے۔
کون سی ضمیر ثابتاً میں؟
ہی۔
هي ضمیر ہے، هي ضمیر کو کس کی طرف لوٹانا ہے؟
ہاں یہ غور سے سننا بھئی، بتاؤ بھئی بتاؤ، جلدی کرو۔ ابھی پتہ چل جائے گا۔
ثابتين۔
کیا نکالیں گے؟ ثابتين، سمجھ میں آیا بھئی؟ ثابتاً نکالا تھا پھر تو آپ نے کون سی ضمیر راجع کی؟ هي کی ضمیر اور ادھر کون سی ہے؟ جمع مذکر حاضر کی تو مطابقت ہوئی؟ نہیں، ہم مطابقت ہمیں چاہیے۔ اب کیا کریں گے؟
کیا نکالیں گے؟
ثابتون، ثابتون تو آپ نے حالت رفع میں نکال لیا حالانکہ کان کی خبر کیا ہوا کرتی ہے؟ منصوب ہوا کرتی ہے، کیا نکالیں گے؟ ثابتين نکالیں گے، کیا نکالیں گے؟ ثابتين شاباش، ثابتين صيغہ اسم فاعل،
جی!
بتاؤ بھئی بتاؤ بھئی، کیا بتلایا تھا میں نے آپ کو؟
جی!
میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ جو ہیں اگر یہ خبر بنیں غائب کے لیے تو ان میں ضمیر بھی کون سی ہوگی؟ غائب کی، اگر یہ خبر بنیں متکلم کے لیے تو ان میں ضمیر بھی کون سی ہوگی؟ متکلم کی اور اگر یہ خبر بنیں کس کے لیے؟ مخاطب کے لیے تو ان میں ضمیر بھی کون سی ہوگی؟ مخاطب کی، میں نے کہا هو ضارب، تو ضارب کے اندر کون سی ضمیر؟ هو، اور میں نے کہا أنا ضارب، اب ضارب میں کون سی ضمیر؟ أنا، اور میں نے کہا أنت ضارب، اب ضارب میں کون سی ضمیر؟ أنت ہوگی، سمجھ میں آیا بھئی؟
میں کہتا ہوں، نحن ضاربون، اب نحن مرفوع محلاً مبتدا، اور ضاربون صيغہ اسم فاعل، اور اس کے اندر نحن ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، تو صيغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں کہتا ہوں، زيد شريف، کیا ترکیب کریں گے؟ زيد مرفوع لفظاً مبتدا، شريف مرفوع لفظاً صفت مشبہ، اور هو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ زید کو، صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، اور میں ترکیب کرتا ہوں مثلاً أنتما ضاربان، أنتما؟ ضاربان، اب کیا ترکیب کریں گے؟ أنتما مرفوع محلاً مبتدا، ضاربان مرفوع لفظاً صيغہ اسم فاعل، اس میں کون سی ضمیر فاعل؟ أنتما، أنتما ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، اور سمجھ میں آیا؟ اور پھر مرجع نہ تلاش کرنا شروع کر دینا کہ أنتما ضمیر کا مرجع یہ ہے یا میں نے کہا أنا ضارب، ضارب کے اندر أنا ضمیر اس کا فاعل، اب آپ أنا کا مرجع تلاش کر کے بتائیں بھئی یہ أنا، أنا کو راجع ہے، نہیں بھئی راجع صرف غائب کی ضمیر ہوا کرتی ہے، متکلم اور مخاطب کی ضمیر، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی!
تو یہ عائد بھی ہے مولانا کیونکہ وہی جمع مذکر کی دیکھا یہاں ہم نے کیا نکالا؟ ثابتين اور یہ ثابتين خبر ہے کس کے لیے؟ کان کا اسم کیا ہے؟ جمع مذکر حاضر کی ضمیر ہے بھئی، تو لہذا ثابتين کے اندر بھی کون سی ہوگی؟ جمع مذکر حاضر کی ضمیر، تو وہی جمع مذکر حاضر کی ضمیر جو پہلے گزری تھی دوبارہ آگئی، یہ کیا ہے؟ عائد ہے، یہ کیا ہے؟ عائد ہے بھئی، وہی اسم دوبارہ آجائے یہ بھی عائد ہے مولانا، ربط آگیا اس سے۔
تو ثابتين سے متعلق ثابتين صيغہ اسم فاعل، أنتم ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر،
جی!
شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی، جی!
تو کان فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط، جملہ فعلیہ ہو کر شرط بھئی، اور اس کی جزا محذوف ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟
جی! کس طرح آیا ہے قرآن میں؟ إن كنتم على سفر،
جی!
کوئی حافظ ہے؟ کوئی ایک بھی مل جائے کافی ہے۔ فرهان مقبوضة تو نہیں آتا بھئی؟ فرهان مقبوضة۔
چلیے بھئی! جس مقام پر تو شرط اس کی ہے یہاں پر ذکر نہیں، محذوف بھئی، سمجھ میں آیا؟ قرآن میں مذکور ہوگی، تو شرط جزا مل کر کیا ہوا؟ جملہ شرطیہ ہو جائے گا اور یہ جملہ شرطیہ۔
اور یہ کیا بنا؟ یہ بن جائے گا مولانا مبدل منہ، کیا بن جائے گا؟ یہ جملہ شرطیہ مبدل منہ، أي حرف تفسیر، اور في سفر یہاں پر بھی مولانا شرط اور جزا دونوں محذوف نکال لیں گے بس، شرط پہلے تھی إن كنتم على سفر، اب کیا بنا دیں گے؟ إن كنتم في سفر، اور جزا بھی وہی محذوف ہو جائے گی، یہ کیا بن جائے گا؟
جی!
نہیں، یہ تو ہم جملے کی تفسیر کر رہے ہیں نا، بدل مبدل منہ تو نہیں بنے گا، تو یہ پہلا بن جائے گا جملہ مفسرہ اور ثانی کیا بن جائے گا؟ جملہ مفسرہ بن جائے گا، تو یہ مولانا تو یہ مفسر ہو کر یہ کیا ہوا؟ مقولہ ہوا قول کا، مقولہ ہوا قول کا بھئی، یہ پہلا پہلا جملہ مقولہ ہوا قول کا، قول اپنے مصدر اپنے مضاف الیہ اور مقولے سے مل کر یہ کیا ہوا؟ مضاف الیہ ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو أي في سفر، یہ اس کو قول کے ساتھ نہیں جوڑنا آپ نے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ قول نہیں، یہ اس کے لیے مقولہ نہیں اس قول کے لیے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ اللہ کا قول نہیں ہے في سفر جو انہوں نے، یہ تو تشریح کر رہے ہیں اس کی تفسیر کر رہے ہیں، تو لہذا إن كنتم على سفر یہ شرط اپنی جزا کے ساتھ مل کر یہ کیا ہوا؟ مقولہ ہوا کس کے لیے؟ قول کے لیے۔
قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مقولے سے مل کر مضاف الیہ کس کے لیے؟ نحو کے لیے، نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی هي کے لیے، اور أي في سفر، اب ترکیب اس کی کر دینا بھئی، أي حرف تفسیر، اور في سفر بھئی یہ متعلق ہے کس سے؟
جی!
اسی طرح ثابتين سے، اور ثابتين یہ خبر ہے کس کی؟ کنتم کی، اور کنتم فعل اپنے اسم اور خبر سے مل کر کیا بن جائے گا؟ شرط، اور اس کی جزا کیا ہے؟ محذوف، شرط جزا مل کر جملہ شرطیہ مفسرہ ہوا، کیا ہوا جملہ شرطیہ؟ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟
وعن للبعد، مولانا! جلدی جلدی دیکھتے جائیے۔ وعن للبعد، عن مولانا مرفوع محلاً مبتدا، للبعد ظرف مستقر ہو کر اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر کیا ہوا؟ اور ظرف مستقر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ خبر، مبتدا خبر مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمیہ، جی! آگے معطوف بھی تو آ رہا ہے، لام جاره ہے، البعد معطوف علیہ، واؤ حرف عطف، المجاوزة معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر کیا ہوا؟ مجرور، جار مجرور مل کر ظرف مستقر ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جانتے ہو یا نہیں جانتے ظرف مستقر؟ ہاں بس! تو اس کے لیے پھر وہ نکال لیں گے ثابتة، جی!
نحو رميت السهم عن القوس، نحو مرفوع لفظاً مضاف، رميت السهم عن القوس مراد اللفظ ہو کر مجرور تقدیرًا مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر خبر کس کے لیے؟ مثالها کے لیے یا هي کے لیے، اور اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے تو رميت فعل بافاعل، ت ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، السهم منصوب لفظاً مفعول بہ، عن جاره، القوس مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ رميت فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
وفي للظرفية، في مولانا مرفوع محلاً مبتدا، للظرفية یہ کیا ہے؟ للظرفية، جی! لام جاره، الظرفية مجرور لفظاً معطوف علیہ، نہیں، جار مجرور مل کر کیا ہوا؟ معطوف علیہ، آگے کیا آ رہا ہے؟ وللاستعلاء، لام جاره، الاستعلاء مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوف، آگے کوئی اور آ رہا ہے بھئی؟ آگے کوئی نہیں، تو یہ معطوف معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ کیا ہوا مولانا؟ یہ کیا ہوا؟ ظرف مستقر ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ في کے لیے، کس سے کیا متعلق متعلق کیا نکالیں گے؟ ثابتة نکالیں گے۔
نحو المال في الكيس، كيس بٹوے کو کہتے ہیں مولانا، المال مرفوع لفظاً مبتدا، في جاره، الكيس مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوں گے کس سے؟
جی!
ثابت کر لیں بھئی، یا
جی!
موجود کر لیں، المال موجود في الكيس، تو موجود صيغہ اسم مفعول، هو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا نائب فاعل جو کس کو راجع؟ المال مبتدا کو بھئی، تو اسم مفعول اپنے نائب فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ۔
ونظرت في الكتاب، تو دیکھا المال في الكيس پہلے وہی ترکیب یاد رکھنا مولانا کیا؟ مراد اللفظ بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ پورا جملہ ہے اور نحو جملے کی طرف مضاف نہیں ہوتا، مراد اللفظ معطوف علیہ، واؤ حرف عطف، نظرت في الكتاب، یہ بھی مراد اللفظ کیا ہے؟ معطوف، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ مضاف ہوا کس کے لیے؟ نحو۔
جی! اور تو اور نظرت في الكتاب کی کیا ترکیب ہوگی؟ نظرت فعل بافاعل، ت ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، في جاره، الكتاب مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ نظرت سے، نظرت فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ معطوفہ ہوا۔
وللاستعلاء، یہ ہو گیا بھئی۔
نحو قوله تعالى ولاصلبنكم في جذوع النخل، نحو مرفوع لفظاً مضاف، قول مجرور لفظاً مضاف الیہ مصدر مضاف، ه ضمیر مجرور محلاً جو راجع ہے ذات باری تعالیٰ کو ذوالحال، تعالى تعالى فعل، هو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ ذوالحال کو، فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر حال، اور قد میں نے بتایا تھا یہاں کیا ہوگا؟ تو بتقدیر قد حال بھئی، ذوالحال اپنے حال کے ساتھ مل کر مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ قول کے لیے، آگے مقولے کی طرف اب چلیں، ولاصلبنكم، واؤ عاطفہ، لام تاکید کے لیے، لاصلبن فعل، اس میں بھی نون تاکید کے لیے آیا بھئی نون ثقیلہ، كم ضمیر اس کے اندر لاصلبن کے اندر أنا ضمیر کیا ہے؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور كم ضمیر منصوب محلاً اس کا مفعول، مفعول بہ، في جاره، جذوع النخل، کیا ترکیب کریں گے؟ شاباش! نکرہ کے بعد معرفہ آ رہا ہے، جذوع مجرور لفظاً مضاف، النخل مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ لاصلبن کے اس فعل کے ساتھ متعلق، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر کیا ہوا؟ مقولہ ہوا اور جب مقولہ ہوا تو مقولے کا اعراب کیا ہوگا؟
جی!
مقولہ کیا ہوتا ہے؟ مفعول بہ ہوتا ہے، تو یہ کیا ہوا جملہ پورا؟ منصوب محلاً بھئی، کیونکہ جملہ مبنی ہے منصوب محلاً، یہ مقولہ ہوا قول کے لیے، قول مصدر اپنے مضاف الیہ اور مقولے سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا کس کے لیے؟ نحو کے لیے، نحو مضاف اپنے مضاف مضاف الیہ سے مل کر خبر کس کے لیے؟ هي کے لیے۔
ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟
والكاف للتشبيه، کاف مولانا یہ مبتدا ہے، مرفوع لفظاً، للتشبيه ظرف مستقر یہ اس کی خبر، کیا نکل کس سے متعلق کیا نکالیں گے اس کا؟ ثابتة نکالیں گے، نحو زيد كالأسد، زيد ك الأسد، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہ نہ آپ کہہ دینا نحو زيد، کہ نحو تو مضاف ہے، زید کو کیا پڑھنا ہے؟ مجرور، کیوں نہیں پڑھیں گے بھئی مجرور؟
جی! کیونکہ نحو کی اضافت پورے جملے کی طرف ہو رہی ہے یہاں پر، سمجھ میں آیا بھئی؟
جی!
اور جملہ کیا ہے؟ مبنی، تو اس پہ اعراب، تو یہ زيد كالأسد پورا جملہ کیا ہے؟ مجرور محلاً کہہ دیں یا مجرور تقدیرًا۔
اچھا، اور زيد كالأسد اس کی کیا ترکیب ہوگی؟ زيد مرفوع لفظاً مبتدا، کاف جاره، الأسد مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ ثابت سے، ثابتة صيغہ اسم فاعل، هو ثابت سے بھئی، ثابت صيغہ اسم فاعل، هو ضمیر اس کا اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید مبتدا کو بھئی، صيغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ، وقد تكون زائدة، أي قد تكون قد تكون الكاف زائدة بھئی، هي ضمیر کس کو راجع ہے؟ کاف، تكون فعل ناقص، اس کے اندر هي ضمیر مرفوع محلاً اس کا اسم جو کس کو راجع؟ کاف، زائدة بھئی، صيغہ اسم منصوب لفظاً صيغہ اسم فاعل، هي ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ تكون کے اسم کو، صيغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔
تو فعل فعل ناقص اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، نحو قوله تعالى،
چلیے مولانا بس کرتے ہیں بھئی۔
ترکیب بھی سمجھ میں آئی یا بہت تیز چلے ہیں بھئی؟ سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟
بس دیکھا ہر ہر لفظ کا اعراب ہم نکالتے جا رہے ہیں، جب ہر لفظ کا اعراب آپ نکال لیں گے عبارت میں، تو پھر اس کو تیزی کے ساتھ پڑھنا آسان ہے، پھر آپ تیزی سے اس کو پڑھ سکتے ہیں بھئی۔
کیا ہوا بھئی ان کو؟
ہمم؟
یہ بیمار ہوئے ہیں، کیا ہوا؟
چلیے دعا بھی کر لیجیے بھئی۔
آپ کے ساتھی طالب علم بیمار ہیں بھئی، ان کے لیے بھی دعا کیجیے، اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے، اے اللہ! ان کو شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرما۔
اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اور یہ طالبِ علم، جن کے بارے میں بتلایا بھئی، یہ درجۂ خامسہ والے، ان کے لیے بھی دعا کریں، اللہ ان کو صحت و عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! ان کو شفائے کاملہ عاجلہ نصیب فرما۔
اے اللہ! اور بھی جو حاضرین میں سے کوئی بیمار ہیں یا گھروں میں ان کے کوئی بیمار ہیں، اللہ سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت و عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کے گھروں میں خیر و برکت نازل فرما۔ اے اللہ! تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! خوشیوں اور مسرتوں سے ہمکنار فرما۔
اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل فرما۔ اے اللہ! جہنم کے عذاب سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری حفاظت فرما۔
اے اللہ! سب، جتنے حاضرین ہیں، سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری بھی حفاظت، ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔
صلی اللہ تعالیٰ