Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-039

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔39 ‏ بھئی کہاں سے ہے سبق؟ مولانا کل میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ حروف جارہ زائدہ جو ہوں گے، وہ کسی سے متعلق نہیں ہوں گے، بھئی۔ کسی سے متعلق نہیں ہوں گے۔ تو وہ جس لفظ پر داخل ہوں گے، لفظوں کے اعتبار سے تو وہ مجرور ہوگا، لیکن محل کے اعتبار سے کیا بنائیں گے اس کو؟ جو بن رہا ہو موقع و محل کے مطابق، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ فاعل بن رہا ہو یا مفعول بن رہا ہو، اس کے مطابق۔ تو "ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة"، تو "بأيديكم" کی کیا ترکیب کی تھی؟ با جارہ، ایدی مجرور تقدیراً اور منصوب محلاً، کیونکہ یہ کیا ہے؟ محل کے اعتبار سے یہ مفعول بہ ہے اور وہ منصوب ہوتا ہے۔ مفعول بہ منصوب ہوتا ہے، تو یہ محل کے اعتبار سے کیا ہے؟ منصوب ہے، البتہ با کی وجہ سے اس پر جر آئے گا بھئی، تقدیراً۔ اور ایک استعطاف کا معنی بتلایا تھا بھئی، استعطاف کا کیا معنی؟ نرمی کو طلب کرنا۔ اور اس کی جو مثال کتاب میں ذکر ہے مولانا، یہ درست مثال نہیں ہے بھئی۔ کسی لکھنے والے کی غلطی سے یہ مثال کتاب میں شامل ہوئی اور علماء نے اس کو جس طرح کوئی مقام آئے بھئی، کسی لکھنے والے کی وجہ سے کوئی لفظ کتاب میں آ جائے، تو نسخے کو بدلا نہیں جاتا، جیسے وہ نقل ہوتا چلا جاتا ہے، اسی طرح رکھا جاتا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ تو اپ جانتے ہی ہیں، بھئی۔ کتابوں میں تو دیکھتے ہیں یا نہیں اپ، بھئی؟ محشی کئی جگہ لکھتے ہیں، بھئی، یہ لفظ یہاں درست نہیں ہے، یہاں پر یہ لفظ ہونا چاہیے۔ مشکوٰۃ میں اپ دیکھتے ہیں مولانا، کئی جگہیں صاحبِ کتاب نے خالی چھوڑی تھیں حوالہ دینے کے لیے، وہ حوالے ان کو ملے نہیں، تو وہ جگہیں خالی رہیں، بعد والوں کو وہ حوالے مل گئے، لیکن انہوں نے کتاب میں نہیں درج کی، کتاب میں تبدیلی نہیں کی بھئی، بلکہ کیا کر دیا؟ حاشیے وغیرہ میں درج کر دیا کہ یہاں یہ اس کا حوالہ یہ ہے فلاں کتاب کی حدیث ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ کتاب امانت کی طرح جیسی پہنچی، اسی طرح اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرتے رہے، اگر تبدیلی کرنے لگیں ہر ایک، تو پھر تو اس کا حلیہ ہی بدل جائے چند سالوں میں بھئی۔ کوئی آئے گا کہے گا یہ لفظ نہیں صحیح، وہ اس کی جگہ بدل کے دوسرا رکھ دے گا، کوئی کہے گا یہ لفظ نہیں صحیح، اس کی جگہ دوسرا لفظ ہونا چاہیے۔ تو یہ اسی طرح "ارحم بپزيد" کی مثال کسی نقل کرنے والے نے غلطی سے یہ درج کر دی، اور یہ اسی طرح اب چلتی آ رہی ہے، البتہ دیگر شارحین وغیرہ اس کو ذکر کرتے ہیں، بھئی۔ تو میں نے بتلایا با استعطاف کے لیے آتی ہے، با استعطافی کون سی ہے؟ قسم کے لیے آتی ہے، کس کے لیے؟ قسم کے لیے، اور اس کا جواب جملہ انشائیہ ہوگا، بھئی۔ جملہ انشائیہ۔ "واللام للاختصاص"، "واللام للاختصاص" بھئی، اختصاص بھئی، اکثر عبارت جب پڑھتے ہیں حمزہ وصلی کو ملاتے نہیں بھئی، حمزہ وصلی کو گرنا چاہیے، درجِ عبارت میں حمزہ وصلی کو برقرار رکھنا یہ غلطی ہے بھئی بڑی۔ تو "للإختصاص" نہیں پڑھیں گے اس کو "للاختصاص"، اختصاص افعال باب ہے اور افعال کا حمزہ کیا ہے؟ وصلی ہے، وہ گر جائے گا۔ گر جائے گا، تو لام بھی ساکن اور خا بھی ساکن، تو پھر لام کو حرکت دیں گے کسرہ کی، "للاختصاص"، "للاختصاص"۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ نحو "الجل للفرس"، اچھا جی! "واللام للاختصاص"، کون کرے گا ترکیب، بھئی؟ جلدی جلدی ترکیب کریں۔ چلیے بھئی، کرو بھئی۔ واؤ حرفِ عطف، اللام مرفوع لفظاً مبتدا، لام جارہ، اختصاص مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق... بھئی، آگے عطف ہو رہا ہے اس پر کافی معطوفات ہیں، ان سب کو ملاؤ بھئی ساتھ۔ جار مجرور مل کر معطوف علیہ، واؤ حرفِ عطف، لام جارہ، الزيادة مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوف، واؤ حرفِ عطف، لام جارہ، التعليل مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوفِ ثانی، واؤ حرفِ عطف، لام جارہ، القسم مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوفِ ثالث، واؤ حرفِ عطف، لام جارہ، المعاقبة مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر معطوفِ رابع، معطوف علیہ اپنے تمام معطوفات سے مل کر ظرفِ مستقر ہو کر یہ متعلق ہوئے کس سے؟ ثابتة صیغہ اسم... ثابتة کے ساتھ، ثابتة صیغہ اسمِ فاعل... فاعل نکالؤ بھئی، هی ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، راجع ہے مبتدا کو، ثابتة صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، ثابتة نکالا مولانا، هی ضمیر، کیوں هی ضمیر کیوں نکالی بھئی؟ حروف عربی میں کیا مؤنث ہیں؟ زیادہ تر مؤنث استعمال ہوتے ہیں، مذکر بھی استعمال ہوتے ہیں اور مؤنث بھی، لیکن زیادہ کیا ہیں؟ مؤنث استعمال ہوتے ہیں بھئی، تو هی ضمیر چاہیے تھی، وہ ثابتة میں آئے گی۔ تو دیکھو اصل کلام یوں ہے: "واللام للاختصاص وللزيادة وللتعليل وللقسم وللمعاقبة"، یہ ہے بھئی، لام کے بارے میں بحث اپ کو بتائی۔ درمیان میں ہر ایک کی مثال ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں جس کا ماقبل مابعد سے تعلق نہیں ترکیب کے اعتبار سے، جی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، الجل للفرس مراد اللفظ مجرور تقدیراً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی مثالها محذوف کے لیے، جی، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ مثالها کی، هی کی خبر ہے، یا هی کی خبر ہے، یا هی اعنی کے لیے کیا ہے؟ مفعول بہ، پھر نحو پر کیا اعراب پڑھیں گے؟ نحوا، شاباش! اور چوتھی ترکیب؟ امثل کے لیے یہ کیا ہے؟ مفعولِ مطلق ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی آگے چلیے، آگے کون کرے گا؟ چلیے بھئی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، ردف لكم مراد اللفظ مجرور تقدیراً مبدل منہ، کیونکہ آگے ای حرفِ تفسیر آ رہا ہے اور ای حرفِ تفسیر کے لیے کبھی جملے کی تفسیر کی جاتی ہے اور کبھی مفرد کی تفسیر ہوتی ہے، اور جب مفرد کی تفسیر مفرد کے ساتھ ہو تو پھر اول کو کیا بناتے ہیں؟ معطوف علیہ، اور ثانی کو کیا بناتے ہیں؟ عطفِ بیان، یا اول کو بناتے ہیں مبدل منہ اور ثانی کو بناتے ہیں بدل بناتے ہیں بھئی، شاباش! تو یہاں پر بھی نحو آیا تو ہمیں اس کو مفرد کی تاویل میں کر لینا پڑے گا، کیونکہ نحو کس کی طرف مضاف ہوتا ہے؟ مفرد کی طرف، جی۔ تو "ردف لكم" مراد اللفظ مجرور تقدیراً مبدل منہ، ای حرفِ تفسیر، جی، "ردفكم" مراد اللفظ مجرور تقدیراً بدل، مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر یہ مضاف الیہ نحو کے لیے، نحو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر ہوئی مبتدائے محذوف کون سا؟ مثالها کے لیے، یا هی کے لیے، یا مفعول ہوا اعنی فعل کے لیے، یا مفعولِ مطلق ہوا امثل فعل کے لیے، شاباش! اور اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے اس ترکیب... تو یہ ترکیب کیسے ہوگی؟ ردف فعل، اب نہیں جوڑنا اس کو نحو سے، سمجھ میں آیا؟ جی، "ردف لكم" ای "ردفكم"، اب ترکیب سنو بھئی۔ ردف فعل، ردف فعل، هو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو غائب کو راجع، جی، لام جارہ، لام جارہ زائدہ، كم ضمیر مجرور محلاً... جی، کیا کہیں گے؟ مجرور محلاً، اور مجرور محلاً ضمیر ہے نا، ضمیر کا اعراب کیسا ہوتا ہے؟ محلی، پھر... بھئی، اب اس محل کے دو حصے کر دو، ایک محلِ قریب، ایک محلِ بعید۔ تو محلِ قریب اس کا کیا ہے؟ مجرور، اور محلِ بعید کیا ہے؟ منصوب، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لام جارہ زائدہ، كم ضمیر مجرور کس اعتبار سے؟ محلِ قریب کے اعتبار سے، کیونکہ لام داخل ہوا ہے، اور منصوب کس اعتبار سے؟ محلِ بعید کے اعتبار سے، اس لیے کہ لام زائدہ ہے، یہ براہ راست ردف کے لیے کیا بن رہا ہے؟ مفعول بن رہا ہے، ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ مفسرہ ہوا بھئی، جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جملہ مفسرہ ہوا، جی۔ ای حرفِ تفسیر، ردف فعل، هو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل جو راجع ہے غائب کو، كم ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ... جی، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ مفسرہ ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ پہلے کو کیا قرار دیا؟ مفسَرہ، دوسرے کو کیا بنایا؟ مفسِرہ۔ آگے کرتے جائیے، جی۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، جئتك لإكرامك مراد اللفظ مجرور تقدیراً مضاف الیہ، "جئتك لإكرامك"، باب افعال کا حمزہ قطعی ہے، وہ نہیں گرے گا بھئی، "جئتك لإكرامك" مراد اللفظ مجرور تقدیراً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئے مبتدائے محذوف مثالها کے لیے، یا هی کے لیے، یا مفعول ہوا اعنی فعل کے لیے، یا مفعولِ مطلق ہوا امثل فعل کے لیے، جی۔ سمجھ میں آیا؟ تو هی یا مثالها نکالیں تو جملہ اسمیہ بنے گا، اور امثل یا اعنی نکالیں تو جملہ فعلیہ بنے گا۔ اور اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے، پھر کیسے "جئتك لإكرامك"؟ جئت فعل با فاعل، تو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، ك ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، لام جارہ، إكرام مجرور لفظاً مضاف، ك ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، میں نے اپ کو بتلایا تھا جس اسم کے ساتھ ضمیرِ متصل آ جائے، کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ، اکرام مصدر ہے، اسم ہے، اس کے ساتھ ضمیرِ متصل آ گئی تو مضاف مضاف الیہ ہوئے، جی، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، مجرور ہوئے لام جارہ کے لیے، جی، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوا جئت فعل کے ساتھ، جئت فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ شاباش! جئت فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، کرتے جائیے آگے، نحو مرفوع لفظاً مضاف، "لله لا يؤخر الأجل"، "لله لا يؤخر الأجل" مراد اللفظ ہو کر مجرور تقدیراً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ خبر ہوئی کس مبتدا کے لیے؟ مثالها کے لیے، یا هی کے لیے، یا مفعول بہ ہوا اعنی کے لیے، یا مفعولِ مطلق ہوا امثل کے لیے، جی، اور اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے، پھر؟ لام جارہ، لفظِ اللہ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اقسم فعلِ محذوف کے ساتھ، اقسم فعل، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر... جی، ہو کر قسم۔ لا يؤخر فعل، الأجل... جی، فعلِ مجہول آ گیا، الأجل پھر اس کے لیے کیا بنے گا؟ نائب فاعل، مؤخر نہیں کیا جائے گا، اجل... کس کو؟ موت کو، اجل کو، موت کو مؤخر نہیں کیا جائے گا، جی، تو الأجل مرفوع لفظاً اس کا نائب فاعل۔ ناائبِ فاعل، نائبِ فاعل سے مل کر... جی! فعل اپنے فاعل... فعل... فعلِ مجہول اپنے نائبِ فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جوابِ قسم۔ جی! جملہ قضا... قسم جوابِ قسم مل کر جملہ قسمیہ ہوا، جی اگے۔ نحو مرفوع لفظاً مضاف، لزم الشر للشقاوت مراد اللفظ ہو کر، مراد اللفظ مجرور تقدیراً مضافٌ الیہ، جی! مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر خبر ہوئی مثالہا کے لیے، جی! اگر معنیٰ کا ارادہ کیا جائے تو پھر کیا ترکیب ہوگی؟ لزم فعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے غائب کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ عبارت چونکہ مثالیں چل رہی ہیں اس لیے غائب کو لوٹا رہے ہیں، اگر مسلسل عبارت ہوتی تو پھر کسی مرجع کو یہ جہاں سے مثال لی گئی ہے وہاں اس کا مرجع موجود ہوگا سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بطورِ مثال کے ذکر کیا اس کو ورنہ عام کتاب کی عبارت جب چل رہی ہو وہاں مرجع وغیرہ آئے اُم ضمیر آئے غائب کی تو اب اپ کو کیا تلاش کرنا ہے اس کا؟ مرجع تلاش کرنا ہے۔ تو بہتر یہ ہے کہ ایسی مثال ذکر کی جاتی جس میں... چلیے تو غائب کے لیے ٹھیک ہے بھئی لزم الشر للشقاوت۔ لزم فعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل جو راجع ہے غائب کو، الشر منصوب لفظاً مفعول بہ، لام جارّہ، الشقاوۃ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے لزم فعل کے ساتھ، لزم فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ، لزم الشر وہ لازم ہوا شر کے ساتھ، شر کے ساتھ ہوا وہ شخص شر کے ساتھ لازم ہوا للشقاوت کس کے لیے؟ بدبختی کے لیے، یعنی اس شر کے ساتھ لازم ہونے کی وجہ سے اس کو بدبختی حاصل ہوئی بھئی! بدبختی حاصل ہوئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ للمُعاقبۃ لامِ معاقبت وہ ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ اس کا مدخول اس فعل کے بعد حاصل ہوا۔ لامِ معاقبت، ایک لامِ تعلیل ہے جو علت بتلاتا ہے، یہ لامِ تعلیل نہیں ہے مولانا یہ کس معاقبت کا معنیٰ انجام، انجام بتلا رہا ہے کہ ماقبل والا فعل کیا تو یہ انجام ہوا، لازم ہوا وہ کس چیز کے ساتھ؟ شر کے ساتھ لازم ہوا تو کیا آئی؟ بدبختی آئی، یہ مفہوم ہے اس کا، سمجھ میں آیا؟ تو وہ لازم ہوا شر کے ساتھ بدبختی کے لیے تو یہ لامِ معاقبت ہے یعنی لزومِ شر کے بعد کیا حاصل ہوئی؟ شقاوت حاصل ہوئی۔ اور ایک لامِ تعلیل وہ پہلے گزر چکا ہے، جئتك لإكرامك بھئی سمجھ میں آیا؟ میں آیا تیرا اکرام کرنے کے لیے، یہاں اکرام ذہن میں مقدم ہے اگرچہ خارج میں مؤخر ہوگا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ علت ہے، علت ہے۔ بھئی معنیٰ بھی سمجھ میں آتا جا رہا ہے کہ معنیٰ تو ہم چھوڑتے ہی جا رہے ہیں؟ معنیٰ بھی تو یاد کروایا کرو بھئی! معنیٰ ساتھ ساتھ کرتے جائیں تو پھر بات سمجھ میں بھی آئے گی۔ تو لام آتا ہے مولانا اختصاص کے لیے، اختصاص کا ایک معنیٰ تو وہ خاص ہونا، ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا، بعض علماء اس کا یہ معنیٰ کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں خاص ہونا یہ اختصاص کا معنیٰ ارتباط ہے، مطلق درمیان کیا ہو؟ تعلق ہو، ارتباط ہو۔ تو الجلُّ للفرس، جل کس کو کہتے ہیں بھئی؟ زین کو نہیں کہتے بھئی زین کو نہیں کہتے، یہ گھوڑے کے اوپر زین سے پہلے ایک کپڑا وغیرہ ڈالا جاتا ہے جانور کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ اوپر ان پر ایک کپڑا باندھا جاتا ہے وہ یا اس زین کے علاوہ ویسے بھی باندھتے ہیں کپڑا اس کو کہتے ہیں بھئی جھول، جھول کہتے ہیں اس کو بھئی! الجلُّ للفرس جھول کس کے لیے ہے؟ گھوڑے کے لیے، اب وہ خاص والا معنیٰ کر لو چاہے وہ جھول خاص ہے کس کے ساتھ؟ گھوڑے کے لیے، گھوڑے کے لیے خاص ہے، یا مطلق ارتباط کے لیے بس! جھول کس کے لیے ہے؟ گھوڑے کے لیے ہے بس۔ وللزیادۃِ اور کبھی لام کس لیے آتا ہے؟ زیادت کے لیے، زائد ہوتا ہے کلام کے اندر، بھئی یہ حرفِ زائد کیوں لایا جاتا ہے کلام کے اندر؟ تاکید کا فائدہ دیتا ہے، نیز کلام میں کیا پیدا کرتا ہے؟ حسن پیدا کرتا ہے، نیز اور کیا فائدہ ہے اس کا؟ جی؟ وزن کی درستگی کا، تو یہ بالکل بھی بیکار نہیں ہوتا بھئی! اس کی وجہ سے عبارت میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ ہاں کہاں زائد لانا ہے کہاں زائد نہیں لانا، تو وہ جگہیں آپ نے پڑھی ہوں گی کچھ سماعی ہیں کچھ قیاسی ہیں بھئی۔ تو نحوُ ردِفَ لکم بھئی، ردِفَ لکم! أي رديف، رديف مولانا رديف کہتے ہیں سواری پر پیچھے سوار ہونے والا، آپ اس سواری پر سوار ہیں ساتھ پیچھے کوئی اور بھی بیٹھا ہے تو اس کو رديف کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ رديف کہیں گے بھئی! تو ردِفَ لکم یہ لام زائد ہے، ردِفَکم! آپ تمہارے پیچھے سوار ہوا۔ وللتعلیلِ اور کبھی لام کس لیے آتا ہے؟ کسی چیز کی علت بیان کرنے کے لیے، جئتك لإكرامك میں آیا تیرے پاس کس لیے؟ تیرے اکرام کے لیے آیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تیرے اکرام کے لیے۔ وللقسمِ کبھی قسم کے لیے آتا ہے جیسے للہِ لا يؤخَّرُ الأجلُ بھئی، تو یہ لام قسمیہ جارّہ ہے، جارّہ قسمیہ، لیکن یاد رکھو یہ عام قسم کے لیے نہیں آتا بلکہ امورِ عظیمہ کے لیے آئے گا، کس کے لیے؟ کوئی بڑی بات ہو اس پر قسم ہو تو پھر لام آئے گا ویسے نہیں بھئی۔ وللمعاقبۃِ اور کبھی لام کس لیے آتا ہے؟ معاقبت کے لیے، معاقبت کا کیا معنیٰ میں نے بتلایا؟ کہ لام کا مدخول ماقبل فعل کے بعد اس کا حصول ہوا ہے بھئی، یہ بتلاتا ہے۔ ومن وہی لابتداء الغایۃِ... جی آگے کون کرے گا ترکیب؟ چلو بھئی ٹھیک ہے۔ واؤ... جی واؤ عاطفہ... من مرفوع محلاً مبتدا، اچھا بھئی ایک اعتراض ہے یہاں بڑا ابھی تک آپ لوگوں نے کیا نہیں، چلو! بھئی من تو حرف ہے، من کیا ہے؟ اور آپ نے پڑھا ہے حرف نہ مسند بنتا ہے اور نہ مسندٌ الیہ بنتا ہے، یہاں تو یہ مبتدا بن رہا ہے بھئی مسندٌ الیہ بن رہا ہے، اعلیٰ جز بن رہا ہے کلام کا بھئی! آپ نے کیا پڑھا ہے؟ حروف نہ مسند بنتے ہیں اور نہ مسندٌ الیہ، پھر یہاں تو یہ مبتدا بن رہا ہے مسندٌ الیہ بن رہا ہے۔ جی؟ ہاں من لفظِ من مراد ہے، یہ حرف ہونے کے طور پہ استعمال نہیں ہو رہا بلکہ یہ تو علم ہے اس وقت، وہ جو عبارتوں میں آپ من من پڑھتے ہیں اس کا نام ہی ہم نے کیا رکھ دیا؟ من! اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ من رکھ دیا، تو یہ علم کی طرح ہے، تو ھذا اللفظ مراد ہے لفظِ من بھئی ھذا اللفظ کی تاویل میں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اسی لیے تو یہ آگے واؤ آ رہا ہے ورنہ تو آگے وہ من حرف ہو تو وہ تو کس پہ داخل ہوتا؟ اسم آتا اس کے بعد اور اس کا معنیٰ کیا، یہاں معنیٰ بھی اس کا نہیں کریں گے۔ من ہی لابتداء الغایۃِ من کس کے لیے ہے؟ ابتداءِ غایت، تو معنیٰ بھی دیکھو اس کا نہیں کیا بھئی! من مرفوع محلاً مبتدا... واؤ زائدہ، سمجھ میں آیا یہ مبتدا خبر کے درمیان آ رہا ہے تو یہ واؤ زائدہ ہوگا، جی! ہیہ مرفوع محلاً مبتدائے ثانی، بھئی یہ پھر آگے مبتدا آ رہا ہے، کبھی آپ بھئی خبر بھی کبھی کیا ہوتی ہے؟ جملہ ہوا کرتی ہے، مبتدا آئے گا اور آگے خبر بھی کیا ہوگی؟ جملہ ہوگی، تو وہاں وہ جملہ جملہ فعلیہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ اسمیہ بھی ہو سکتی ہے، تو پھر اول کو پھر دوبارہ مبتدا آئے گا، تو اس کے پہلے کو کیا کہو؟ مبتدائے اول، ثانی کو کیا کہو؟ مبتدائے ثانی، جی! تو من مرفوع محلاً مبتدائے اول... واؤ زائدہ... ہیہ مرفوع محلاً مبتدائے ثانی کس کو راجع ہے؟ من کو راجع ہے شاباش! یہ وہ عائد ہے جو اگلے جملے کو ربط دے گا من کے ساتھ... لابتداءِ، لام جارّہ... ابتداءِ مجرور لفظاً... مجرور لفظاً مضاف، میں نے بتایا تھا نکرہ کے بعد معرفہ آئے تو مضاف مضاف الیہ بنانا ہے، ابتداء نکرہ ہے اور الغایۃ معرفہ ہے تو کیا بنائیں گے؟ مضاف مضاف الیہ، جی! ابتداءِ مجرور لفظاً مضاف... الغایۃِ مجرور لفظاً مضافٌ الیہ... مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور... جار مجرور مل کر معطوفٌ علیہ، شاباش! يرحمك اللہ... واؤ عاطفہ... واؤ عاطفہ... لام جارّہ... التبعیضِ مجرور لفظاً... جار مجرور مل کر معطوفِ اول... واؤ عاطفہ... لام جارّہ... التبيینِ مجرور لفظاً... جار مجرور مل کر معطوفِ ثانی... واؤ عاطفہ... لام جارّہ... الزیادۃِ مجرور لفظاً... جار مجرور مل کر معطوفِ ثالث... جی! آگے بھی آ رہا ہے؟ بس بھئی! جی! گاڑی کی رفتار زیادہ تیز ہو گئی ہے۔ چلو! معطوفٌ علیہ اپنے تمام معطوفات سے مل کر یہ متعلق ہوا ثابتۃٍ... جی شاباش! معطوفٌ علیہ کون تھا؟ لابتداء الغایۃِ، وہ اپنے تمام معطوفات سے مل کر... جی یہ متعلقِ ظرفِ مستقر ہوا بھئی تو یہ متعلق ہوا کس سے؟ ثابتۃٍ کے ساتھ بھئی، جی شاباش! ثابتۃٍ صیغہ اسمِ فاعل... ہیہ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل... ثابتۃٍ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر کس کے لیے؟ ہیہ کے لیے، آپ نے کوئی ربط دیا نہیں کیسے آپ شبہ جملہ کو جوڑ رہے ہیں مبتدا کے ساتھ؟ ہاں وہ راجع کیا کرو ثابتۃٍ کے اندر ہیہ ضمیر جو کس کو راجع ہے؟ مبتدائے ثانی کو، تو شبہ جملہ ہو کر یہ اس کے لیے خبر، مبتدائے ثانی اپنے خبر کے ساتھ مل کر... شاباش! مبتدائے ثانی اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ اب خبر ہوئی کس کے لیے؟ مبتدائے اول کے لیے، تو دیکھو پورا جملہ خبر ہوئی من کے لیے، تو اب عائد چاہیے تھا اور وہ عائد کیا ہے؟ ہیہ ہے، وہ کیا ہے؟ ہیہ، مبتدائے ثانی جو ہے۔ شاباش! مبتدائے اول اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ تو عبارت در اصل یوں ہوئی: ومن وہی لابتداء الغایۃِ وللتبعیضِ وللتبيینِ وللزیادۃِ، درمیان میں ہر ایک کی مثالیں ہیں بھئی، جی! جملہ معترضہ کے طور پر۔ آگے کون کرے گا بھئی؟ چلیے۔ نحوُ مرفوع لفظاً مضاف... سرتُ من البصرۃِ إلی الکوفۃِ مراد اللفظ مجرور تقدیراً مضافٌ الیہ... مضاف مضاف الیہ مل کر یہ خبر ہوئی مبتدائے محذوف مثالہا کی یا... یا ہیہ کی یا... یا اعني فعل کے لیے نحوُ منصوب ہوگا مفعول بہ یا... یا امثلُ کے لیے یہ کیا ہوگا؟ مفعولِ مطلق ہوگا شاباش! اور اگر معنیٰ کا ارادہ ہو پھر کیا ترکیب کریں گے؟ سرتُ فعل با فاعل... تُ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل... من جارّہ... البصرۃِ مجرور لفظاً... البصرۃِ یا البصرۃَ پڑھیں گے بھئی؟ جی؟ بھئی یہ غیر منصرِف نہیں؟ دو اسباب ہیں بھئی، ایک تانيث ہے ایک عالميت ہے، دو آ چکے ہیں اس میں۔ جی؟ شاباش! الف لام داخل ہوا، معلوم ہوا بڑے نحوی ویسے ہیں وہ، چلیے شاباش! من جار مجرور مل کر متعلق ہوئے فعل کے ساتھ، جی! إلی جارّہ... الکوفۃِ مجرور لفظاً... جار مجرور مل کر یہ بھی متعلق ہوا سرتُ فعل کے ساتھ... سرتُ فعل اپنے فاعل اور دونوں متعلقین سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ تو سرتُ میں چلا بصرہ سے کوفہ کی طرف۔ یہ مثال نحویوں میں بڑی مشہور ہے بھئی! سمجھ میں آیا؟ سرتُ... حضرت شیخ رحمہ اللہ کی بھی عجیب تحقیقات ہوتیں، انہوں نے وجہ لکھی کہ کیوں یہ مشہور ہوا نحویوں کے درمیان یہ جملہ؟ یہ کیوں نہیں کہا سرتُ من الکوفۃِ إلی البصرۃِ، کوفہ سے میں بصرہ کی طرف گیا بلکہ یہ کہا گیا بصرہ سے کدھر کو گیا؟ کوفہ کی طرف گیا، سمجھ میں آیا؟ تو بڑی وجوہات لکھیں 10، 15 وجوہات انہوں نے لکھیں اس کی بھئی! ایک وجہ ان میں یہ تھی کہ کیونکہ کوفہ وطن تھا ہمارے امام، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اس لیے یہ نہیں کہا گیا کہ سرتُ من الکوفۃِ إلی البصرۃِ بلکہ کیا کہا گیا؟ سرتُ من البصرۃِ إلی الکوفۃِ، کوفہ کی طرف گئے بھئی سمجھ میں آیا؟ جی چلیے۔ باقی تفصیل دیکھنی ہو تو مولانا بغیۃ الکامل میں دیکھیے! حاصل محصول کی جو شرح حضرت شیخ نے لکھی اس میں آپ کو تفصیل مل جائے گی، جی! بھئی اپنے کتابوں میں عبارت میں کوشش کیا کرو، یہاں آپ مسائل دیکھتے ہیں ترکیب دیکھتے ہیں اس کے مطابق کسی کتاب کے عبارت حل کرنے کی کوشش کیا کرو، اعراب ایک ایک اسم پر کیا اعراب پڑھنا ہے کس طرح پڑھنا ہے، اس سے آپ کی مشق ہوگی بھئی! چلیے مولانا بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم!
49 approved lectures · 39 of 49