درس نمبر۔33
کون شروع کرے گا بھئی؟
جی؟
چلو بھئی آپ شروع کرو۔
بسم الله الرحمن الرحيم
باء حرف جار، اسم مضاف، لفظ الله موصوف، الرحمن صفت اول، الرحيم صفت ثانی۔
اعراب کے ساتھ؟
جی؟
اعراب کے ساتھ تفصیلی ترکیب کرو بھئی تفصیلی ترکیب۔
باء حرف جار
اچھا جی بسم الله الرحمن الرحيم
باء جارّہ، جی؟
اسم مجرور لفظاً مضاف
اسم لفظِ اسم مجرور لفظاً مضاف
لفظِ الله مجرور لفظاً موصوف
لفظِ الله مجرور لفظاً موصوف
الرحمن مجرور لفظاً صفت اسمِ مبالغہ
الرحمن مجرور لفظاً صفت مشبہ
صفت مشبہ اور ھو ضمیر اس کا مرفوع محلاً اس کا فاعل راجع بسوئے الله، لفظ الله
جی
ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے لفظِ الله کو
یہ اپنے فاعل سے مل کر یہ شبہ جملہ ہو کر صفتِ اول ہوئی لفظِ الله موصوف کی۔
جی، الرحمن صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفتِ اول۔
الرحيم صفت صیغہ صفتِ مشبہ
صیغہ صفت کا
الرحيم صفت مشبہ
صیغہ صفت ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، الرحيم صیغہ اپنے فاعل سے مل کر یہ شبہ جملہ ہو کر صفتِ ثانی ہوئی لفظِ الله کی۔
جی، الرحيم صفتِ مشبہ ھو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، اس صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفتِ ثانی۔
ثانی ہوئی لفظ الله کی۔
جی
لفظِ الله موصوف اپنی دونوں صفتوں کے ساتھ مل کر یہ مجرور ہوا مضاف الیہ ہوا اسم مضاف کا۔
جی موصوف اپنی دونوں صفات سے مل کر مضافٌ الیہ۔
اسم مضاف کا، اسم مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا باء جار کا۔
جی اسم مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور۔
جار اپنے مجرور سے مل کر یہ ظرفِ مستقر متعلق ہوا متعلق ہوا اشعق کے یا أبتدئ کے۔
جی جار مجرور مل کر یہ ظرفِ مستقر ہوا مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ اس کے لیے عامل چاہیے اور اس کا عامل کیا ہے؟ محذوف، تو یہ متعلق ہوا أبتدئ کے ساتھ بھئی، أبتدئ۔
أبتدئ فعل، أنا ضمیر اس کا أبتدئ مؤخر کے ساتھ مولانا، سمجھ میں آیا؟ أبتدئ بالآخر میں نکالیں گے، بسم الله الرحمن الرحيم أبتدئ۔
جی
أبتدئ فعل، أنا ضمیر اس کا فاعل، اور باء جار اور اور اسم اس کے متعلق ہوئے، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر مرکب مفیدی ہو کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
جی، أبتدئ فعل، أنا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل اس کے اندر، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
جی
الحمد مرفوع لفظاً مضاف مضاف
لام حرف جار
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جملہ فعلیہ ہوا، فعلیہ خبریہ ہوا لفظاً، اور انشائیہ ہوا معناً بھئی، معناً انشاء، جی۔
الحمد مرفوع لفظاً مضاف
اچھا بھئی اور کون کرے گا بھئی ترکیب؟
چلو بھئی تم کرو بھئی۔
الحمد مرفوع لفظاً مبتدا
الحمد مرفوع لفظاً مبتدا
لام جارّہ
لام جارّہ
لفظِ الله مجرور لفظاً
لفظِ الله مجرور لفظاً
جار مجرور مل کے یہ متعلق ہوئے الحمد کے۔
جی؟
جار مجرور یہ متعلق ہوئے ثابتٌ صیغہ کے۔
جی الحمد، سمجھ میں آیا جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ثابتٌ صیغہ اسم فاعل کے ساتھ۔
علیٰ جارّہ
علیٰ جارّہ
نعماء مجرور لفظاً مضاف
نعماءِ مجرور لفظاً مضاف
ھی ضمیر، ھاء ضمیر مجرور محلاً موصوف
بھئی ضمیر نہ موصوف ہوتی ہے کبھی نہ صفت بنتی ہے بھئی۔
مضاف الیہ
سمجھ میں آیا؟ یہ ضابطہ یاد رکھنا مولانا، ضمیر نہ کبھی موصوف بنتی ہے اور نہ کبھی صفت بنتی ہے، جی۔ ھاء ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ اور یہ راجع ہے کس کو مولانا؟ لفظِ الله کو راجع ہے، جی۔
کیا کریں گے آگے بھئی؟
کس کو بنائیں گے موصوف؟
نعماءہِ بھئی، نعماء کو بھئی یہ مضاف مضاف الیہ مل کر اب کیا بن گئے؟
بھئی یہ نعماء نکرہ ہے اس کی اضافت ضمیر کی طرف ہو گئی اور ضمیر معرفہ ہے تو جب نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو جائے تو وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟
معرفہ بن جاتا ہے، غلام نکرہ ہے جب زید کی طرف اضافت ہو گئی غلامُ زیدٍ تو یہ بھی کیا بن گیا اب؟
معرفہ بن گیا تو آگے اس کی صفت الشاملة وہ بھی معرفہ آئے گی یہاں، جی۔
الشاملةِ مجرور لفظاً صفت
الشاملةِ، جی کیا ترکیب کریں گے اس کی؟
مجرور لفظاً صفت
جی؟
الشاملةِ
جی کیا ترکیب کریں گے؟
جی، اس پر الف لام، میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا بھئی؟ الف لام کی کتنی قسمیں بتلائی تھیں ابتدائً؟ دو قسمیں، ایک اسمی ہے اور ایک حرفی ہے۔ الف لام اسمی کس کو کہتے ہیں؟
اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو۔
اب اس میں تھوڑا سا اضافہ اور کر لیں بھئی، اگر اسم فاعل، اسم مفعول بمعنیٰ حدوث کے ہوں تب یہ الف لام اسمی ہوگا اور اگر بمعنیٰ ثبوت کے ہوں تو پھر یہ الف لام حرفی ہی ہے۔
بھئی دوبارہ سنو الف لام کی قسمیں میں نے آپ کو بتلائی تھیں مولانا، میں نے کہا تھا الف لام دو قسم پر ہے، ایک الف لام اسمی اور ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو بشرطیکہ کہ وہ اسم فاعل اور اسم مفعول کس معنیٰ میں ہوں؟ حدوث کے معنیٰ میں ہوں ثبوت کے معنیٰ میں نہ ہوں بھئی، حدوث جس میں ہونا ہو کسی چیز کا، کسی چیز کا ہونا پایا جائے مولانا، اور ثبوت واضح ہے معنیٰ جس میں ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے، اس میں کسی چیز کا ہونا نہ ہو مولانا۔ سمجھ میں آیا؟
جیسے مولانا علم الصیغہ میں اس کی مثال دی گئی ہے سمیعٌ اور سامعٌ کے ساتھ بھئی، سمیع کس کو کہتے ہیں بھئی؟
جی؟
جس کے لیے سننے کا ثبوت ہے بالفِعل چاہے وہ سن رہا ہے یا سن نہیں رہا، ایک شخص ہے وہ سننے والا ہے اب کوئی شخص کلام نہیں کر رہا اس وقت تو وہ کوئی کلام سن رہا ہے؟ بالفِعل کوئی کلام سن رہا ہے وہ؟ بالفِعل کوئی کلام نہیں سن رہا لیکن پھر بھی سننا اس کے لیے ثابت ہے یعنی اس میں کیا ہے؟ سننے کی صلاحیت موجود ہے، جب بھی کوئی کلام کرے گا وہ کیا کر لے گا اس کو؟ سن لے گا۔ لیکن اس کو سامع نہیں کہہ سکتے جب تک کہ کوئی کلام نہ ہو اور وہ اس کو بالفِعل سنے نہ بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ ہے ایک ہے ثبوت اور ایک ہے حدوث، تو سمیع کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ ثبوت پر، اور سامع کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ حدوث پر جس میں سننا کیا ہے؟ بالفِعل پایا جائے، ہونا ہے کسی چیز کا بالفعل پایا جانا، جی۔
تو میں نے بتلایا الف لام دو قسم پر ہے ایک اسمی ہے اور ایک حرفی، الف لام جب اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر آئے تو وہ اسمی بھی ہو سکتا ہے اور حرفی بھی ہو سکتا ہے، اسمی وہ ہے جو ایسے اسم فاعل اور اسم مفعول پر داخل ہو جن میں کون سا معنیٰ پایا جائے؟ حدوث والا معنیٰ پایا جائے، اور اگر ثبوت والا معنیٰ پایا جائے تو پھر یہ الف لام اسمی نہیں ہے بلکہ کیا ہے الف لام حرفی ہے، تو الف لام اسمی کو اسمی اس لیے کہتے ہیں یہ کیا ہے دراصل اس میں موصول ہے جو بصورتِ الف لام آیا ہے بھئی، تو الضارب مولانا تو یہ ضارب کس پر دلالت کرتا ہے ثبوت پر یا حدوث پر بھئی؟ حدوث ہے ضرب کا کیا ہے اس میں؟ حدوث ہے، وقوع ہے، ضرب واقع کرے گا تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ ضارب کہیں گے۔
سمجھ میں آیا؟ تو ضرب بالفِعل کرے گا تو اس کو ضارب کہیں گے اگر بالفِعل نہیں تو پھر اس کو ضارب بھی نہیں کہیں گے۔
تو الضارب اس پر یہ الف لام آیا یہ کون سا ہے؟ اسم موصول ہے جو بصورتِ کس کے آیا ہے؟ الف لام کے، تو الضارب کس معنیٰ میں ہوا؟ الذی یضرب، اور المضروب یہ کس معنیٰ میں ہوا؟ الذی یضرب۔
اسی طرح المؤمن ہے مولانا یہ ثبوت پر کہ جس کے لیے صفتِ ایمان کیا ہو؟ ثابت ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مومن، کیا کہتے ہیں؟ مومن کہتے ہیں۔
اور دوسرا ہے مولانا الف لام حرفی، ان کے علاوہ جو الف لام ہے وہ کون سا ہے؟ الف لام حرفی، اور میں نے بتلایا تھا الف لام حرفی کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے لایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے کسی کی طرف اشارہ کیا جائے گا، کسی چیز کی طرف کیا کیا جائے گا؟ اشارہ کیا جائے گا۔
سمجھ میں آیا؟ تو المؤمن کا کیا معنیٰ؟ وہ مومن، اشارہ ہوا یا نہیں ہوا مولانا؟ مومن کا معنیٰ تو کوئی بھی ایمان والا، لیکن جب آپ نے الف لام غلام کا معنیٰ کیا ہے؟ کوئی بھی غلام، لیکن جب آپ نے کیا کر دیا اس پر الف لام داخل کر دیا تو کوئی متعین غلام مراد ہے اس کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں۔
سمجھ میں آ رہی ہے بات بھئی؟ کسی متعین غلام کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں۔
تو یہ جو الف لام حرفی ہے اس کے ذریعے اشارہ ہوگا کسی چیز کی طرف، اب اشارہ یا تو جنس اور حقیقت کی طرف ہوگا یا افراد کی طرف ہوگا۔ اگر اشارہ جنس اور حقیقت کی طرف ہو تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ الف لام جنسی کہلائے گا، مثلاً میں کہتا ہوں الرجل خیرٌ من المرأة تو کیا ترجمہ کریں گے؟ جنسِ رجل، حقیقتِ رجل افضل ہے کس سے؟ جنسِ عورت سے، افراد نہیں مراد ورنہ تو بعض عورتیں کیا ہیں مردوں سے افضل ہیں، نیک ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کبھی اس الف لام کے ذریعے بھی اشارہ ہو رہا ہے لیکن الرجل میں جو ہے المرأة میں لیکن کس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے؟ جنس اور حقیقت کی طرف نہ کہ افراد کی طرف۔
تو اس الف لام حرفی کے ذریعے یا تو اشارہ ہوتا ہے حقیقت کی طرف یا افراد کی طرف، اگر حقیقت کی طرف ہو تو کیا کہلائے گا؟ الف لام جنس، اور اگر افراد کی طرف ہو پھر یہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو تمام افراد کی طرف اشارہ ہوگا یا بعض افراد کی طرف بھئی، اگر تمام افراد کی طرف اشارہ ہو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ الف لام استغراقی، کیا کہلائے گا؟ جیسے قرآن میں کیا آتا ہے ان الانسان لفی خسر تو یہ الانسان پر جو الف لام داخل ہے یہ کون سا ہے؟ استغراقی، سمجھ میں آیا؟ استغراقی ہے اور اس کے ذریعے اشارہ ہے تمام افراد کی طرف یعنی تمام افرادِ انسان کس میں ہیں؟ خسارے میں ہیں الا الذین امنوا وعملوا الصالحات جو وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کیے۔
تو الف لام ابتدائً کتنی قسم پر ہوا؟ یا اسمی ہوگا یا حرفی، حرفی پھر اس کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے تو یا تو اشارہ ہوگا جنس کی طرف یا اشارہ ہوگا افراد کی طرف، اگر جنس کی طرف اشارہ ہو تو کیا کہلائے گا الف لام؟ اور اگر افراد کی طرف ہو تو پھر دو حال سے خالی نہیں یا تمام افراد کی طرف اشارہ ہوگا یا بعض بعض افراد کی طرف اشارہ ہوگا، اگر تمام کی طرف اشارہ ہو تو کیا کہلائے گا؟ اور اگر بعض افراد کی طرف اشارہ ہو پھر یہ دو حال سے خالی نہیں، وہ بعض افراد متعین ہوں گے یا متعین نہیں ہوں گے، اگر متعین ہیں تو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے، اور اگر متعین نہیں تو پھر یہ الف لام عہدِ ذہنی ہے الف لام عہدِ ذہنی۔
جیسے الف لام عہدِ خارجی کی تو عام مثال کوئی بھی آپ بنا سکتے ہیں مثلاً میں نے کیا کہا جاءنی الغلام جاءنی الغلام کیا، مثلاً یہ دوسری مثال بناؤ جاءنی غلامٌ فضربتُ الغلام، میرے پاس ایک غلام آیا کوئی ایک غلام آیا فضربتُ الغلام میں نے کیا کی اس غلام کی؟ پٹائی تو دیکھو پہلے غلام نکرہ آیا اور دوسرے غلام پر میں نے کیا داخل کیا؟ الف لام داخل کیا۔
کیا داخل کیا؟
تو دیکھو ایک غلام کا ایک دفعہ ذکر پہلے ہو چکا جب ہو چکا تو وہ متعین ہو گیا، کیا ہو گیا؟ متعین، اب اسی غلام کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اسی غلام کی پٹائی کی ہے تو اب کیا لے کر آؤں گا؟ الف لام لے کر آؤں گا تو اس الف لام کے ذریعے اشارہ ہوا اس غلام کی طرف بھئی، جاءنی رجلٌ فاکرمتُ الرجلا میرے پاس ایک شخص آیا پس میں نے اس شخص کا کیا کیا؟ اکرام تو دیکھو پہلے رجلٌ نکرہ تھا ایک شخص آیا لیکن جب ایک دفعہ ذکر آ گیا تو چیز آپ کو معلوم ہو گئی آپ نے اس کو پہچان لیا متعین ہو گئی، اب اسی کا دوبارہ میں اس کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں تو کس کے ذریعے اشارہ کروں گا؟ الف لام کے ذریعے تو یہ عہدِ الف لام عہدِ خارجی ہے مولانا، کیا ہے؟ خارجی ہے متعین فرد کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
اور پھر اگر وہ فرد متعین نہ ہو پھر یہ کون سا الف لام عہدِ؟ ذہنی ہے جیسے قرآن میں آتا ہے اخاف ان یاکلہ الذئب حضرت یعقوب علیہ السلام فرما رہے ہیں اپنے بیٹوں سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں کہ انہیں اپنے ساتھ نہ لے کر جاؤ مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑیا کھا جائے گا، الذئب آیا مولانا الذئب، تو آپ بتلائیے کوئی متعین بھیڑیا مراد ہے یہاں پر؟ کہ فلاں وہ بھیڑیا اس کو کھا جائے گا، نہیں کوئی متعین بھیڑیا یہاں پر مراد نہیں ہے بلکہ ذہن میں بھیڑیے کی جنس کا کوئی ایک فرد تصور کر لیا، سمجھ میں آیا؟ کوئی ایک فرد، اور الف لام کے ذریعے اس ذہن میں حاضر فرد کی طرف اشارہ کر دیا یعنی بھیڑیے کا تصور کیا اور اس کی طرف الف لام کے ذریعے کیا کر دیا؟ کیونکہ الف لام حرفی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ اشارہ کیا جاتا ہے تو اس الف لام کے ذریعے بھی اس کی طرف اشارہ کر دیا تو یہ الف لام عہدِ ذہنی کہلاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ذہنی کہلاتا ہے۔
اور اس کے بارے میں الف لام عہدِ تو یہ متعین کی طرف اشارہ نہیں ہوتا بلکہ فردِ غیر معین کی طرف اشارہ
آ رہا ہے، تو یہ مولانا لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ ہے لیکن معنیٰ کے اعتبار سے اب بھی نکرہ ہے۔
مجھے خوف ہے، کیا ترجمہ کریں گے؟ نکرہ والا بھئی، بھئی غلامٌ کا کیا معنیٰ ہے؟ کوئی ایک غلام۔ رجلٌ کا کیا معنیٰ ہے؟ کوئی ایک۔ لیکن جب الرّجلُ کہا تو پھر؟ متعین معرفہ۔ تو یہاں پر بھی الف لام آیا، لیکن یہ کون سا الف لام ہے عہدِ؟ عہدِ ذہنی ہے۔ الذّئبُ میں کون سا ہے الف لام؟ عہدِ ذہنی۔ اور عہدِ ذہنی لفظوں کے اعتبار سے تو یہ معرفہ بن گیا، معرفہ کے احکام جاری ہوں گے۔ لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ اب بھی؟ نکرہ۔ تو غلامٌ کا آپ نے کیا ترجمہ کیا تھا؟ کوئی ایک غلام، تو یہاں بھی الذّئبُ کا کیا ترجمہ کریں گے؟ کوئی ایک بھیڑیا، وہی نکرہ والا ترجمہ۔ مجھے خوف ہے اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا۔
جی، تو الف لام اسمی وہ ہے جو ایسے اسمِ فاعل اور ایسے اسمِ مفعول پر داخل ہوں جو کس معنیٰ میں ہوں؟ حدوث کے معنیٰ میں ہوں، ثبوت کے معنیٰ میں نہ ہوں۔ تو جو ثبوت کے معنیٰ میں ہو گا، اس پر الف لام کون سا ہو گا؟ حرفی، کیا ہو گا؟ حرفی۔ تو الشّاملۃِ بھی اسی طرح ہے مولانا، اس پر الف لام کون سا ہے؟ حرفی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔
شاملۃ کا معنیٰ عام بھئی، عام، ایسی نعمتیں جو اللہ کی ایسی نعمتیں جو عام ہیں، عام ہیں بھئی۔ تو اس میں مولانا ثبوت ہے، کیا ہے؟ ثبوت ہے، حدوث نہیں بھئی۔
چلیے بھئی، کیجیے ترکیب بھئی۔
عَلَى نَعَمَائِهِ، نعماءِ مجرور لفظاً مضاف، ھا ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ جو راجع ہے کس کو؟ لفظِ اللہ کو۔ مضاف مضافٌ الیہ مل کر کیا بن گئے بھئی؟ دیکھو معرفہ بن گیا نعماءِ اور اس کے بعد الشَّامِلَةِ پھر معرفہ ہے اور معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو عموماً کیا بناتے ہیں؟ موصوف۔
جی، تو الشَّامِلَةِ میں الف لام حرفی، شاملۃِ جی کیجیے ترکیب بھئی۔
کرو بھئی کرو، شروع کرو ترکیب۔ شاملۃِ، اعراب بتلاؤ بھئی۔ شاملۃِ مجرور لفظاً، شاباش! بھئی مجرور کیوں کہا آپ نے بھئی؟ وہ تو لفظاً ہوا۔ صفت ہے، شاباش! یہ صفت ہے نعماءِ کی اور نعماءِ کیا ہے؟ مجرور، تو صفت بھی کیا ہو گی؟ مجرور، جی۔ صیغہ اسمِ الشَّامِلَةِ مجرور لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس میں ھِیَ ضمیر اس میں ھِیَ ضمیر جو مرفوع محلاً اس کا فاعل، شاباش! اس کے اندر ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ نعماء کو، جی۔ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ صفت ہوا موصوف کے لیے، جی صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ موصوف کے لیے۔ موصوف صفت سے مل کے معطوفٌ علیہ، شاباش! موصوف اپنی صفت سے مل کر معطوفٌ علیہ۔ واؤ حرفِ عطف، آلائِ مجرور لفظاً مضاف، شاباش! واؤ حرفِ عطف آلائِ مجرور لفظاً مضاف، ھا ضمیر ھا ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ، ھا ضمیر مجرور محلاً مضافٌ الیہ جو کس کو راجع ہے؟ آلائِ، جو غائب کی ضمیر آئے اس کا مرجع تلاش کرو بھئی، جی۔ آلائِ، ضمیر کس کو راجع کی آپ نے؟ آلائِ۔ کس کو بھئی؟ آلائِ کا معنیٰ بھی نعمتیں، کس کی نعمتیں ہیں؟ لفظِ اللہ کی، جی ھا ضمیر راجع ہے لفظِ اللہ کو۔ مضاف مضافٌ الیہ مل کر یہ موصوف، مضاف مضافٌ الیہ مل کر موصوف، الْكَامِلَةِ صیغہ اسمِ فاعل، الْكَامِلَةِ الف لام حرفی، الف لام حرفی، کاملۃِ صیغہ اسمِ فاعل، جی، ھُوَ ضمیر اس کا ھِیَ ضمیر اس کا فاعل، کاملۃِ مجرور لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، ھِیَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، کس کو راجع ہے؟ آلائِ کو، آلائِ کو جی۔ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فعل سے مل کر یہ شبه جملہ ہو کر یہ صفت، جی کاملۃِ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف اور صفت مل کے معطوف، موصوف صفت مل کر معطوف۔ معطوفٌ معطوفٌ علیہ اور معطوف مل کر یہ مجرور ہوئے عَلَى جارّ کے، جی معطوفٌ علیہ اپنے معطوف سے مل کر مجرور عَلَى جارّہ کے لیے۔ جار اور مجرور یہ مل کے متعلق ثانی ہوئے ثابِتٌ کے، شاباش! جار مجرور مل کر یہ اب کیا بنے گا مولانا؟ پہلے لِلَّهِ اس کو ظرفِ مستقر بنایا تھا یا ظرفِ لغو بنایا تھا؟ ظرفِ مستقر کیونکہ اس کا عامل کیا ہے؟ محذوف ہے، اور یہ عَلَى نَعَمَائِهِ یہ اسی عامل سے متعلق ہو رہا ہے، تو وہ ظرفِ مستقر ہے تو یہ اس کے لیے کیا بن جائے گا؟ ظرفِ لغو۔ کیا بن جائے گا؟ ظرفِ لغو بن، آپ کہیں گے اس کا عامل بھی محذوف ہے بھئی، کیا ہے؟ بھئی آپ کو قیمتی بات بتلائیں بھئی، شاید غالباً پہلے بھی گزر چکی ہے۔
یاد رکھو، یہ ہم کہہ سمجھانے کے لیے یوں کہا جاتا ہے کہ کیا؟ کہ یہ اچھا، یہ جو ہوتا ہے کیا کہتے ہیں؟ جس کا عامل محذوف ہو جس ظرف کا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ مستقر، کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ مستقر۔ اور جس کا عامل عبارت میں مذکور ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ لغو کہتے ہیں۔ اب یاد رکھو، یہ جو ظرفِ مستقر ہوتا ہے، اس کا عامل چلا گیا۔ ثابِتٌ کو کیا کر دیا آپ نے؟ کیا کیا آپ نے؟ حذف کر دیا نا، جب حذف کر دیا، تو اب اس نے اپنے عامل کی جگہ پر قرار پکڑ لیا، یہ اس کی جگہ پر آ گیا مولانا۔ اسی لیے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظرفِ مستقر کہتے ہیں، اسی لیے اس کو ظرفِ، اس نے کیا کیا؟ اپنے عامل کی جگہ پر قرار پکڑ لیا، تو اب ہاں، اور عامل کے اندر جو ضمیر تھی وہ اس نے اپنے اندر چھپا لی، ثابِتٌ گیا لیکن اس کے اندر جو فاعل کی ضمیر تھی وہ کس کے اندر چھپ گئی؟ اس ظرفِ مستقر میں، کہاں چھپ گئی؟ ظرفِ مستقر میں، سمجھ میں آیا بھئی؟
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی ظرف کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے؟ ظرف کے لیے بھی فاعل چاہیے ہوتا ہے، کیا چاہیے ہوتا ہے؟ فاعل چاہیے ہوتا ہے۔ تو اب مولانا وہ ثابِتٌ جا چکا ہے اور وہ جو ھُوَ ضمیر فاعل کی ہے اس کو یہی لِلَّهِ ظرف، یہ عمل دے رہا ہے، یہ اس کو رفع دے رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ ذرا باریک سی بات ہے لیکن ایک دفعہ سمجھ لو انشاء اللہ بڑا فائدہ ہو گا۔ کیا کیا بھئی؟ یہاں لِلَّهِ کس سے متعلق ہو رہا ہے؟ اور وہ ثابِتٌ تو عبارت میں نہیں، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ ظرفِ مستقر، اور وہ عامل چلا چکا مولانا، اس لِلَّهِ جار مجرور نے اس کی جگہ پر کیا کر لیا؟ قرار پکڑ لیا، جب اس کی جگہ قرار پکڑ لیا تو جو کام وہ عامل کر رہا تھا، جو عمل وہ عامل کر رہا تھا سارے عمل اب یہ خود کرے گا۔ یہی جار مجرور یہ سارے کام اب وہ خود کرے گا، قرار پکڑنے کا یہی معنیٰ ہے نا کہ اس کے سارے کام کون سرانجام دے گا؟ اور وہ ثابِتٌ ایک فاعل کو رفع دے رہا تھا، اب وہ تو ہے نہیں، لہٰذا اس فاعل کو رفع کون دے گا؟ جار مجرور دے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟
اور یہ جو آپ جس سے متعلق کرتے ہیں وہ عامل ہوتا ہے دراصل، کیا ہوتا ہے؟ یہ جو ہم نے نکالا ثابِتٌ لِلَّهِ، یا مثلاً کوئی ایسا بنا لو، زَیْدٌ قَائِمٌ فِي الدَّارِ، یہ فِي الدَّارِ کس سے متعلق ہے؟ کس سے؟ قَائِمٌ سے، کس سے متعلق ہے؟ تو اب اس فِي الدَّارِ میں عامل کون؟ قَائِمٌ، فِي الدَّارِ میں کون عامل؟ قَائِمٌ عامل ہے۔
تو جیسے مولانا یہ فعل، اسمِ فاعل وغیرہ یہ جو عامل تھے، یہ ظرف کے اندر عامل ہوتے تھے، کس ظرف میں؟ ظرفِ لغو میں، بھئی زَیْدٌ قَائِمٌ فِي الدَّارِ، یہ فِي الدَّارِ ظرفِ لغو ہے یا ظرفِ مستقر ہے؟ ظرفِ لغو، تو ظرفِ لغو میں عامل کون؟ وہ جو متعلق ہے، کون ہے؟ متعلق ہے، تو یہاں پر مولانا لِلَّهِ نے جگہ پکڑ لی کس کی؟ ثابِتٌ کی، تو وہ جو وہ جو عمل کر رہا تھا، اب سارے عمل کون سرانجام دے گا؟ یہ، اور یہ عَلَى نَعَمَائِهِ یہ بھی اسی ثابِتٌ سے متعلق ہو رہا تھا، اور جب اسی ثابِتٌ سے متعلق تھا تو اس عَلَى نَعَمَائِهِ کے اندر بھی عامل کون تھا؟ یہ بھی اسی سے متعلق ہے نا، اور جس سے متعلق ہوتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے ان کے اندر؟ بھئی فِي الدَّارِ کے اندر عامل کون تھا؟ قَائِمٌ، تو قَائِمٌ، تو یہاں پر یہ عَلَى نَعَمَائِهِ کس سے متعلق ہو رہا ہے؟ اسی سے، اور وہ ثابِتٌ اس کے اندر کیا تھا؟ عامل تھا، کیا تھا اس کے اندر؟ عامل تھا، اور وہ ثابِتٌ تو جا چکا، اس ثابِتٌ کی جگہ کس نے پکڑ لی؟ جار مجرور نے، تو جو وہ عمل کر رہا تھا اب یہ عمل کرے گا، لہٰذا اس عَلَى نَعَمَائِهِ کے اندر عامل کون؟ لِلَّهِ، اس کے اندر کون عامل؟ تو اب اس کا عامل مولانا محذوف ہے یا مذکور ہے؟ تو یہ ظرفِ لغو ہوا، یہ کیا ہوا ظرفِ؟ بات سمجھ میں آئی؟ اچھی طرح؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی؟
سمجھ، تو یہ جو جار مجرور ہوتے ہیں یہ متعلق ہوں گے اور جس سے متعلق ہوتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے ان کا؟ عامل ہوتا ہے۔ اب جب وہ عامل چلا گیا تو ایک ظرف نے اس کی جگہ سنبھال لی، تو وہ ظرفِ مستقر کہلایا، جب یہ ظرفِ مستقر کہلایا، ظرفِ مستقر ہوا اس کی جگہ پکڑ لی تو اب سارے اس کے عمل یہ سرانجام دے گا۔ سمجھ میں آیا؟ جب یہ سرانجام دے گا تو جیسے وہ فاعل کو رفع دے رہا تھا، اب تو وہ ہے نہیں، لہٰذا اب ھُوَ ضمیر کو رفع کون دے رہا ہے؟ جار مجرور، یہ ظرف رفع دے رہا ہے، کون دے رہا ہے؟ ظرف، اور وہی ثابِتٌ عامل تھا کس کے اندر؟ عَلَى نَعَمَائِهِ کے اندر، اور وہ ثابِتٌ کی جگہ اب کس نے پکڑ لی ہے؟ لِلَّهِ جار مجرور نے، ظرفِ مستقر نے، تو اب اس عَلَى نَعَمَائِهِ کے اندر بھی کون عامل ہو گا؟ وہی ظرفِ وہی ظرفِ مستقر، اور وہ ظرفِ مستقر لفظوں میں ہے یا نہیں ہے مولانا؟ تو معلوم ہوا اس عَلَى نَعَمَائِهِ کا عامل لفظوں میں مذکور ہے، جب مذکور ہے تو پھر یہ ظرفِ لغو ہوا یا مستقر ہوا؟ ظرفِ لغو ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بس یہ سمجھانے کے لیے آپ کو میں نے بات بتلا دی۔
تو اب آپ لِلَّهِ بھی اسی ثابِتٌ سے متعلق کر رہے ہیں، عَلَى نَعَمَائِهِ بھی اسی ثابِتٌ سے متعلق کر رہے ہیں، لیکن لِلَّهِ کو کہیں گے ظرفِ مستقر اور عَلَى نَعَمَائِهِ کو کیا کہیں گے؟ ظرفِ لغو، وجہ سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
تو عَلَى نَعَمَائِهِ مضاف معطوف معطوفٌ علیہ مل کر مولانا یہ ظرفِ لغو ہوا اسی ثابِتٌ کہہ لیں بھئی یہ سمجھانے کے لیے، ورنہ دراصل میں بتا چکا ہوں کہ عامل کون ہے اس کے اندر؟ یہی ظرف، جی چلیے بھئی۔
ثابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل ھُوَ ضمیر اس کا ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی ھُوَ ضمیر غائب کی ضمیر آ گئی، کس کو راجع؟ ثابِتٌ، ثابت ہے، کیا ثابت ہے؟ ثابِتٌ لِلَّهِ، ثابت ہے اللہ کے لیے، کیا چیز ثابت ہے؟ تعریف، تو معلوم ہوا یہ ھُوَ ضمیر کس کو راجع؟ الْحَمْدُ مبتدا کو راجع بھئی، تو ثابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل، ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل جو کس کو راجع ہے؟ مبتدا، تو ثابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے اپنے فاعل اور دونوں متعلقین متعلقین سے مل کر جی یہ شبہ جملہ ہو کر یہ مبتدا یہ خبر ہوا مبتدا کے، شاباش! ثابِتٌ صیغہ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلقین سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مبتدا کے لیے، الْحَمْدُ کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا لفظاً، اور انشائیہ ہوا معنًى بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
اور انشائیہ ہوا معنًى، انشاءِ حمد ہے، خبر دینا مقصد نہیں ہے یہاں پر کہ حمد اللہ کے لیے ہے، بلکہ مقصد یہاں کیا ہے؟ اللہ کی تعریف کرنا ہے یہاں پر، انشاءِ حمد ہے۔
جی آگے کون کرے گا؟
چلو بھئی۔
واؤ حرفِ عطف، واؤ حرفِ عطف، الصَّلَاةُ مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! الصَّلَاةُ مرفوع لفظاً مبتدا، عَلَى حرفِ جار، عَلَى جارّہ، سَيِّدِ مجرور لفظاً مضاف، سَيِّدِ مجرور لفظاً مضاف، الْأَنْبِيَاءِ مضاف مجرور لفظاً مضافٌ الیہ، الْأَنْبِيَاءِ مجرور لفظاً مضافٌ الیہ، مضاف مضافٌ الیہ مل کر مبدل منہ، شاباش! مضاف مضافٌ الیہ مل کر کیا ہوئے؟ یاد رکھو مولانا! نام سے پہلے اگر صفات آ جائیں تو یہ آپس میں مبدل منہ اور بدل بنتے ہیں، ان صفات کو کیا بناؤ؟ مبدل منہ، اور اس نام کو کیا بناؤ؟ بدل بناؤ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مبدل منہ، اور مبدل منہ اور بدل میں اصل مقصود کون ہوتا ہے؟ بدل۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بھی دراصل بدل مقصود ہے، صفات شروع میں، شروع میں پہلے لے کر آئے لیکن اصل مقصود وہ نہیں ہے بھئی صفات۔
جی، تو سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ مضاف مضافٌ الیہ مل کر مبدل منہ، مُحَمَّدٍ مجرور لفظاً موصوف، تو جی مُحَمَّدٍ مجرور لفظاً موصوف بھئی، ضابطہ یاد رہے گا بھئی؟ نام سے پہلے کیا آ جائیں؟ صفات، تو کیا ان صفات کو کیا بنائیں گے؟ مبدل منہ، اور نام کو بدل بنائیں گے، لیکن بدل، تو لفظِ مُحَمَّدٍ نے بدل بننا تھا، کیا بننا تھا؟ بدل بننا تھا، اور یہ ہے معرفہ، اور اس کے بعد معرفہ کے بعد پھر آگے کیا آ رہی ہیں مولانا؟ معرفہ آ رہے ہیں، تو اس کو کیا بنا دیں گے؟ موصوف اس لیے بنائیں گے بھئی۔ مُحَمَّدٍ لفظِ مُحَمَّدٍ مجرور لفظاً موصوف، بھئی یہ مجرور کیوں ہے؟ جی، مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو مبدل منہ سَيِّدِ مجرور تھا تو لفظِ مُحَمَّدٍ بھی مجرور، جی۔
الْمُصْطَفَى صیغہ اسمِ مفعول مجرور تقدیراً، جی۔ ھُوَ ھُوَ ضمیر اس کا نائب فاعل، جی الْمُصْطَفَى یہ بھی مولانا اسمِ مفعول کا صیغہ ہے لیکن اس پر بھی الف لام یہ بھی بمعنیٰ ثبوت کے ہے، کس کے معنیٰ میں ہے؟ ثبوت کے، اس لیے الف لام حرفی، یہاں بھی حرفی الف لام حرفی مُصْطَفَى صیغہ اسمِ مفعول، اعراب بھئی اعراب، مجرور تقدیراً، مجرور تقدیراً، کیوں بھئی مجرور کیوں کہا آپ نے؟ صفت ہے، جی، شاباش! کیونکہ موصوف مجرور تو صفت بھی، اور تقدیراً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! یہ کیا ہے؟ اسمِ اسمِ مقصور ہے، اور اسمِ مقصور کا اعراب تینوں حالتوں میں کیسے آتا ہے؟ تقدیری ہوتا ہے تو یہاں بھی تقدیراً، جی۔ ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً نائب فاعل، ھُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً نائب فاعل، بھئی اسمِ فاعل میں تو فاعل ہوتا ہے لیکن اسمِ مفعول میں کیا ہوتا ہے؟ نائب فاعل، تو ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، جی۔ بھئی غائب کی ضمیر کا مرجع تلاش کرو بھئی، ویسے کوئی فائدہ نہیں عبارت کے اس کے بغیر فائدہ نہیں بھئی۔ لفظِ مُحَمَّدٍ، جی ہاں ھُوَ ضمیر راجع ہے لفظِ مُحَمَّدٍ کو، جی۔ کیونکہ صفت شبہ جملہ ہے آپ اس کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ موصوف
تو صیغہ اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر کیا بنے گا؟ شبہ جملہ اور جملہ اور شبہ جملہ کو جس سے جوڑا جائے، درمیان میں کیا چاہیے؟ عائد چاہیے، تو یہ وہ عائد ہے مولانا۔ شبہ جملہ ہوا اور اس کو کیا بنا رہے ہیں؟ صفت، تو لازمی بات ہے اس کے اندر جو ضمیر ہوگی، وہ کس کو لوٹائیں گے؟ موصوف کو۔
تو صیغہ اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف اپنے صفت سے مل کر بدل۔ مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر معطوف علیہ بھئی۔ واؤ حرف عطف، علی جارّہ، آل مجرور لفظاً مضاف، ھا ضمیر ھا بھئی ھا، ھا ضمیر مجرور محلاً مضاف علیہ۔ بھئی مرجع پھر نہیں ڈھونڈا غائب کی ضمیر کا؟ یار حد ہو گئی۔ ھا ضمیر کا مرجع پھر نہیں بتایا بھئی۔ جی، یہ بھی راجع ہے کس کو؟ لفظ محمد کو راجع ہے، جی۔ مضاف، مضاف علیہ مل کر موصوف۔ المجتبیٰ اس میں پھر الف لام کون سا آیا؟ حرفی، جی۔ باقیوں میں تو بحث ہی نہیں، باقیوں میں تو الف لام حرفی ہی آئیں گے، اس میں فاعل اسم مفعول میں دیکھیں گے بھئی، جی۔ الف لام حرفی، مجتبیٰ صیغہ اسم مفعول، مجرور تقدیراً۔ شاباش! مجتبیٰ صیغہ اسم مفعول مجرور تقدیراً۔ ھُوَ ضمیر نائب فاعل جو لوٹ رہی ہے لفظ محمد کو۔ جی؟ جی، المجتبیٰ شاباش بھئی! اس کے اندر ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً نائب فاعل جو کس کو لوٹ رہی ہے؟ لفظ محمد کو، جی۔ صیغہ اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، کس کے لیے صفت؟ آلِهِ کے لیے، کس کے لیے؟ آلِهِ کے لیے۔ آ رہا ہوں، آ رہا ہوں۔ جی، آپ نے بھئی شبہ جملہ کو کس سے جوڑا ہے؟ آلِهِ، اور ربط کوئی دیا نہیں آپ نے۔ جی، المجتبیٰ کے اندر جو ھُوَ ضمیر ہے یہ، ہاں شاباش! دیکھا عائد بھی ڈھونڈو گے تو بہت سی ضمیروں کا پتہ چل جائے گا۔ مجتبیٰ میں ھُوَ ضمیر یہاں لفظ محمد کو نہیں لوٹ رہی، بلکہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ آل کو لوٹ رہی ہے آل کو، جی۔ موصوف صفت مل کر یہ علیٰ جار کے مجرور۔ جی، تو مجتبیٰ صیغہ اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف صفت مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر معطوف۔ معطوف علیہ اور معطوف مل کر یہ متعلق ہوئے ثابتۃٍ کے۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر ظرف مستقر ہوا، سمجھ میں آیا؟ کس کے لیے؟ ثابتۃٍ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا نازلۃٍ فعلِ خاص نکال لیں۔
تو یہ متعلق ہوا کس سے؟ نازلۃٍ، جی ثابتۃٍ ہے تو وہ فعلِ عام ہے، نازلۃٍ ہے تو فعلِ خاص ہے، دونوں جائز ہیں بھئی۔ تو ثابتۃٍ صیغہ اسم متعلق ہوئے ثابتۃٍ سے، ثابتۃٍ صیغہ اسم فاعل، ھِیَ ضمیر اس کے اندر نائب فاعل جو شاباش! بھئی ھِیَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی؟ اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ مبتدا بھئی، الصَّلَاۃُ مونث تھا، تو ہم نے بھی خبر کیا نکالی؟ ثابتۃٍ نکالی بھئی، جی۔ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے۔ جی، صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا لفظاً اور انشائیہ ہوا معنًى، سمجھ میں آیا بھئی؟
اور انشائیہ ہوا معنًى، انشاءِ حمد ہے، خبر دینا مقصد نہیں ہے یہاں پر کہ حمد اللہ کے لیے ہے، بلکہ مقصد یہاں کیا ہے؟ اللہ کی تعریف کرنا ہے یہاں پر، انشاءِ حمد ہے۔
جی، آگے کون کرے گا؟ چلو بھئی۔
واؤ حرفِ عطف، واؤ حرفِ عطف، الصَّلَاةُ مرفوع لفظاً مبتدا، شاباش! الصَّلَاةُ مرفوع لفظاً مبتدا، عَلَى حرفِ جار، عَلَى جارّہ، سَيِّدِ مجرور لفظاً مضاف، سَيِّدِ مجرور لفظاً مضاف، الْأَنْبِيَاءِ مضاف مجرور لفظاً مضافٌ الیہ، الْأَنْبِيَاءِ مجرور لفظاً مضافٌ الیہ، مضاف مضافٌ الیہ مل کر مبدل منہ، شاباش! مضاف مضافٌ الیہ مل کر کیا ہوئے؟ یاد رکھو مولانا! نام سے پہلے اگر صفات آ جائیں تو یہ آپس میں مبدل منہ اور بدل بنتے ہیں، ان صفات کو کیا بناؤ؟ مبدل منہ، اور اس نام کو کیا بناؤ؟ بدل بناؤ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مبدل منہ، اور مبدل منہ اور بدل میں اصل مقصود کون ہوتا ہے؟ بدل۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بھی دراصل بدل مقصود ہے، صفات شروع میں، شروع میں پہلے لے کر آئے لیکن اصل مقصود وہ نہیں ہے بھئی صفات۔
جی، تو سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ مضاف مضافٌ الیہ مل کر مبدل منہ، مُحَمَّدٍ مجرور لفظاً موصوف، تو جی مُحَمَّدٍ مجرور لفظاً موصوف بھئی، ضابطہ یاد رہے گا بھئی؟ نام سے پہلے کیا آ جائیں؟ صفات، تو کیا ان صفات کو کیا بنائیں گے؟ مبدل منہ، اور نام کو بدل بنائیں گے، لیکن بدل، تو لفظِ مُحَمَّدٍ نے بدل بننا تھا، کیا بننا تھا؟ بدل بننا تھا، اور یہ ہے معرفہ، اور اس کے بعد معرفہ کے بعد پھر آگے کیا آ رہی ہیں مولانا؟ معرفہ آ رہے ہیں، تو اس کو کیا بنا دیں گے؟ موصوف اس لیے بنائیں گے بھئی۔ مُحَمَّدٍ لفظِ مُحَمَّدٍ مجرور لفظاً موصوف، بھئی یہ مجرور کیوں ہے؟ جی، مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو مبدل منہ سَيِّدِ مجرور تھا تو لفظِ مُحَمَّدٍ بھی مجرور، جی۔
الْمُصْطَفَى صیغہ اسمِ مفعول مجرور تقدیراً، جی۔ ھُوَ ھُوَ ضمیر اس کا نائب فاعل، جی الْمُصْطَفَى یہ بھی مولانا اسمِ مفعول کا صیغہ ہے لیکن اس پر بھی الف لام یہ بھی بمعنیٰ ثبوت کے ہے، کس کے معنیٰ میں ہے؟ ثبوت کے، اس لیے الف لام حرفی، یہاں بھی حرفی الف لام حرفی مُصْطَفَى صیغہ اسمِ مفعول، اعراب بھئی اعراب، مجرور تقدیراً، مجرور تقدیراً، کیوں بھئی مجرور کیوں کہا آپ نے؟ صفت ہے، جی، شاباش! کیونکہ موصوف مجرور تو صفت بھی، اور تقدیراً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش! یہ کیا ہے؟ اسمِ اسمِ مقصور ہے، اور اسمِ مقصور کا اعراب تینوں حالتوں میں کیسے آتا ہے؟ تقدیری ہوتا ہے تو یہاں بھی تقدیراً، جی۔ ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً نائب فاعل، ھُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، بھئی اسمِ فاعل میں تو فاعل ہوتا ہے لیکن اسمِ مفعول میں کیا ہوتا ہے؟ نائب فاعل، تو ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، جی۔ بھئی غائب کی ضمیر کا مرجع تلاش کرو بھئی، ویسے کوئی فائدہ نہیں عبارت کے اس کے بغیر فائدہ نہیں بھئی۔ لفظِ مُحَمَّدٍ، جی ہاں ھُوَ ضمیر راجع ہے لفظِ مُحَمَّدٍ کو، جی۔ کیونکہ صفت شبہ جملہ ہے آپ اس کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ موصوف سے۔
شاباش! دیکھو:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى نَعَمَائِهِ الشَّامِلَةِ وَآلَائِهِ الْكَامِلَةِ وَالصَّلَاةُ عَلٰى سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ مُحَمَّدِ نِالْمُصْطَفَى وَعَلٰى آلِهِ الْمُجْتَبَى
محمدِ نالمصطفیٰ، یہ نون کہاں سے آیا بھئی؟ یہ تنوین ہے، سمجھ میں آیا؟ وہ تنوین ہے تو تنوین نونِ ساکن کو کہتے ہیں اور یہ نون ساکن تھا، المصطفیٰ آگے آیا اس میں ہمزہ وصلی گر گیا، لام ساکن آ گیا، تو لام بھی ساکن، نون بھی ساکن، تو اول کو ہم حرکت دیں گے اور اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ حُرِّكَ بِالْكَسْرِ تو اس کو محمدِ نالمصطفیٰ پڑھیں گے اس کو بھئی۔ دیکھا بھئی! ایک ایک لفظ کا آپ نے اعراب بتلایا، عبارت حل ہو گئی، اب آپ اس کو پڑھ سکتے ہیں اس طرح۔
تو تمام تعریفیں ثابت ہیں اللہ کے لیے عَلَى نَعَمَائِهِ الشَّامِلَةِ، اس کی ان نعمتوں پر جو عام ہیں، جو کیا ہیں؟ شامل ہیں یعنی عام ہیں، وَآلَائِهِ الْكَامِلَةِ اور وہ نعمتیں الکاملۃِ جو کیا ہیں؟ کامل ہیں، وَالصَّلَاةُ عَلَى سَيِّدِ اور رحمت نازل ہو انبیاء کے سردار پر جن کا نام محمد ہے الْمُصْطَفَى برگزیدہ ہیں، چنے ہوئے ہیں، وَعَلَى آلِهِ الْمُجْتَبَى ان کی آل پر جو چنی ہوئی ہے بھئی، آل سے مراد ہر مومنِ متقی مراد ہے بھئی۔
تو المصطفیٰ، المجتبیٰ کا ایک معنیٰ ہے۔
سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ، سید مولانا کونسا صیغہ ہے؟ صفتِ مشبہ ہے اور صفتِ مشبہ کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، لیکن یہاں نہیں نکالیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی، یہ ضمیر سے خالی ہے، یہ کیا ہے ضمیر سے خالی ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فیض الباری میں لکھتے ہیں اس کے سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ کہ مشتق جو ہے، مشتق کبھی ضمیر سے خالی بھی ہو سکتا ہے جیسے سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ ہے بھئی، یہاں پر بھی سید کے اندر ضمیر نہیں۔
چلیے مولانا ھٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔