درس نمبر۔32
اچھا بھئی، کل جملہ شرطیہ کی ترکیب شروع کی تھی اور میں نے بتلایا تھا جملہ شرطیہ دو جملوں سے مرکب ہوتا ہے، پہلے کو شرط کہتے ہیں، ثانی کو جزا، اور شرط جو ہے وہ ہمیشہ جملہ فعلیہ ہوگی جبکہ جزا جملہ فعلیہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ اسمیہ بھی۔ اور ان کے اندر بھئی اصل جو ہے وہ جزا ہے، ان دونوں جملوں میں اصل جزا ہے، شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے۔ لہٰذا اگر شرط جملہ خبریہ ہے تو یہ کیا کہلائے گا؟ جملہ شرطیہ خبریہ اور اگر شرط جملہ انشائیہ جزا جملہ انشائیہ ہے تو یہ کیا کہلائے گا؟ جملہ شرطیہ انشائیہ کہلائے گا۔
تو جو جزا ہے اس پر تو خبر حکم لگا سکتے ہیں خبر یا انشاء ہونے کا، شرط کے اوپر خبر یا انشاء ہونے کا حکم نہیں لگا سکتے بھئی۔ کیونکہ اس میں بات ہی نہیں پوری۔
اور پھر بتلایا تھا آپ کو کہ جزا پر فاء داخل کرتے ہیں، یہ فاء ربط کا کام دیتی ہے بھئی دو جملوں کے درمیان بھئی، اور کہاں لے کر آئیں گے؟ غور کر لیں آپ خود اگر شرط کی وجہ سے جزا کے معنی میں کوئی تبدیلی آئی ہے، تو ربط آ چکا فاء کی ضرورت نہیں، اور اگر معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو اب ربط چاہیے تو کس کے ذریعے لائیں گے؟ فاء کے ذریعے تو لہٰذا اگر جزا جملہ ماضی ہو فعل ماضی ہو، تو اس صورت کے اندر فاء نہیں لائیں گے بھئی۔ اور اگر جزا ایسی ماضی ہو جس پر قد داخل ہوا ہے، تو پھر فاء کا لانا واجب، اور اسی طرح جملہ اسمیہ ہو یا جملہ انشائیہ ہو، تو بھی فاء کا لانا واجب ہے بھئی۔
اور یاد رکھو کبھی کبھار مبتدا بھی متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، تو اس صورت میں اس کی جزا پر بھی، اس کی خبر پر بھی فاء داخل کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی مبتدا کیا ہوتا ہے متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو تو اس کی خبر پر بھی فاء داخل کی جاتی ہے اور یہ دو ہیں بھئی، دو جو صاحب قافیہ بیان کرتے ہیں بھئی، ایک تو وہ اسم موصول جس کی جس کا صلہ جملہ فعلیہ ہو یا ظرف مستقر ہو بھئی۔
وہ اسم موصول جس کا صلہ کیا ہو؟ ایسا مبتدا، ایسا اسم موصول ہو جس کی، جس کا صلہ جملہ فعلیہ ہو یا ظرف مستقر ہو، مثلاً میں کہتا ہوں الذی یأتینی فلہ درہم تو الذی دیکھو، مبتدا ایسا اسم موصول ہے جس کی جس کا صلہ کیا آ رہا ہے؟ یأتینی فعل آ رہا ہے، تو ایسا مبتدا مبتدا اگر ایسا اسم موصول ہو جس کا صلہ فعل آ رہا ہو، تو وہ متضمن ہوگا معنی شرط کو، لہٰذا اس کی خبر پر فاء کا داخل کرنا جائز ہے، جائز، واجب نہیں ہے، جائز ہے۔
تو دیکھیے میں نے کہا الذی یأتینی فلہ درہم، ترکیب یوں ہوگی، الذی مرفوع محلاً اسم موصول جو متضمن ہے کس کو معنی شرط کو، یاتی فعل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً فاعل جو کس کو راجع؟ اسم موصول کو یہ عائد ہو گیا، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ۔ موصول صلہ مل کر مبتدا، موصول صلہ مل کر آگے فاء ہے جزائیہ اور کیا ہے؟ فلہ درہم، تو لہو ہو جائے گی خبر مقدم، اور درہم کیا ہو جائے گا؟ مبتدا مؤخر کیونکہ جار مجرور جو ہیں یہ مبتدا وغیرہ نہیں بن سکتے، البتہ خبر بن سکتے ہیں تو فلہ درہم یہ پورا جملہ ہے، یہ خبر بنے گی بھئی۔
کیسے؟ لہو جار مجرور متعلق ہو جائیں گی کس سے بھئی؟ ثابت سے۔ ثابت صیغہ اسم فاعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ مبتدا سے اور وہ مؤخر ہے تو ہوا ضمیر راجع ہے درہم کو، وہ جو مبتدا مؤخر ہے۔ تو یہ خبر مقدم ہوئی، درہم مبتدا مؤخر ہوا، تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر، یہ کیا ہوا؟ خبر ہوئی اس مبتدا اول کے لیے بھئی، تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟
اسی طرح ایسا نکرہ ہو جس کی صفت کیا رہی ہو؟ فعل ہو یا ظرف مستقر ہو تو اس کی خبر پر بھی فاء کا داخل کرنا جائز ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں کل رجل یأتینی فلہ درہم تو یہاں دیکھو، یأتینی فعل کیا آ رہی ہے نکرہ کی صفت ہے تو یہ نکرہ ایسا مبتدا ہے جس کی صفت جملہ فعلیہ یا ظرف مستقر ہے، تو اس کی خبر پر کیا داخل کرنا جائز؟ فاء کا داخل کرنا جائز بھئی۔
اچھا بھئی، یہ کچھ جملے ہیں۔ جی، ان کی ترکیب بھئی، بس جملے لکھ لیجیے ترکیب میں کروا دیتا ہوں، وقت کافی ہو گیا ہے بھئی۔ جملے لکھتے جائیے پھر اس پر نظر رکھیے گا میں ترکیب کرتا جاؤں گا۔
من تشبہ بقوم فھو منهم
جی تو اس کو آپ اس میں وہ ترکیب بھی کر سکتے ہیں ابھی جو میں نے بتلائی۔ من کو کیا بنا لیں اگر اس میں موصول، تو یہ ایسا اسم موصول ہے جس کا صلہ کیا آ رہا ہے؟ جی! مبتدا ایسا اسم موصول ہے جس کا صلہ فعل آ رہا ہے، تو اس صورت میں اس کی خبر پر فاء کا داخل کرنا جائز، تو یہاں دیکھو داخل کی گئی، تو من تشبہ بقوم، یہ من موصول اور تشبہ بقوم اس کی، اس کا صلہ، موصول صلہ مل کر مبتدا، اور ہوا منہم مبتدا خبر مل کر اس کی خبر، تو پھر من تشبہ بقوم یہ مبتدا اپنی خبر سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمیہ خبریہ۔
ایک یہ ترکیب ہے بھئی، دوسری بھئی کہ من کو شرطیہ بنا لو، کیا بنا لو؟ جی، عام ترکیب جو کرتے ہیں وہ یوں کرتے ہیں من شرطیہ بھئی، مرفوع محلاً مبتدا۔
یہ ہے مبتدا بھئی، اور آگے تشبہ بقوم فھو منہم یہ ساری اس کی خبر بنے گی بھئی، من شرطیہ کیا بنایا میں نے؟ مبتدا، اور تشبہ بقوم فھو منہم یہ شرط جزا مل کر یہ کیا بنیں گی اس کے لیے؟ خبر بنیں گے۔ تو اب دیکھیے سنیے ترکیب بھئی۔
من شرطیہ بھئی، مرفوع محلاً مبتدا۔ تشبہ فعل، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل جو کس کو راجع؟ مبتدا کی طرف راجع۔ با جارہ قوم مجرور، لفظاً جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ تشبہ سے۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔
فاء جزائیہ، ہوا مرفوع محلاً مبتدا۔ منہم من جار، ہو ضمیر مجرور محلاً، جار مجرور کس سے متعلق ہوں گے؟ ہوا کے لیے کیا چاہیے؟ خبر چاہیے، تو منہم ہے اس کی خبر۔
اور خبر کے مقام میں کیا آ رہا ہے؟ جار مجرور، تو جار مجرور کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ کوئی متعلق چاہیے، یہاں تو کوئی بھی نہیں تو محذوف نکالیں گے، فھو ثابت منہم، تو منہم متعلق ہوا ثابت کے ساتھ، ثابت کے اندر ہوا ضمیر جو کس کو راجع بھئی؟ مبتدا کیونکہ خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ ہوا ضمیر راجع مبتدا ہوا کو بھئی، اور تو ثابت صیغہ اسم فاعل، اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر، مبتدا خبر مل کر، یہ جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر جزا، شرط جزا مل کر، جملہ شرطیہ ہو کر خبر، کس کے لیے من مبتدا کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
یہی ترکیب ہوگی من تواضع للہ رفعہ اللہ بھئی۔
من تواضع للہ رفعہ اللہ
تو من تواضع للہ رفعہ اللہ، من شرطیہ بنا لیں، مرفوع محلاً مبتدا۔ تواضع فعل، ہوا ضمیر اس کے اندر فاعل، جی، اور للہ متعلق ہوا کس سے؟ تواضع سے، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ رفع فعل، ہا ضمیر، جی، مرفوع محل، منسوب بھئی، منسوب محلاً مفعول بہ، لفظ اللہ مرفوع، لفظاً فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا۔ شرط جزا مل کر، جملہ شرطیہ ہو کر خبر، کس کے لیے؟ من کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔
وإن يريدوا خیانتک فقد خانوا اللہ من قبل
وإن يريدوا خیانتک فقد خانوا اللہ من قبل
جی، ان کیا ہوا حرف شرط، یریدوا فعل، و ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، جی، خیانت منصوب لفظاً مضاف، کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ مفعول بہ ہوا یریدوا فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط، فاء جزائیہ، قد حرف تحقیق، خانو فعل بھئی، فعل بافاعل، و ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، لفظ اللہ منسوب محل، منسوب لفظاً مفعول بہ، من قبل، یہ قبل، من جارہ، قبل مجرور محلاً بھئی، مجرور محلاً کیونکہ اس کا مضاف الیہ یہاں کیا ہے؟ محذوف، تو یہ مبنی علی الضم ہوا۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے خانو فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل، مفعول بہ، اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزا، شرط جزا مل کر جملہ، شرطیہ خبریہ ہوا۔
من بنا مسجداً للہ
من بنا مسجداً للہ بنا، بنا اللہ لہ
بنا اللہ لہ، بیتًا فی الجنۃ
جی، تو وہی ترکیب من کو کیا بنا لیں؟ شرطیہ، مبتدا بنا لیں، اور بنا مسجداً للہ یہ کیا بن گئی؟ شرط، بن اللہ لہ بیتًا فی الجنۃ یہ کیا بن گئی؟ جزا بھئی، اور شرط جزا مل کر یہ خبر ہوئی کس کی؟ من مبتدا کے لیے، جی۔
آگے بھئی من راعی ہلال الفطر وحدہ
من راعی ہلال الفطر وحدہ لم یفطر
یہاں بھی دیکھیے وہی ترکیب بھئی، یا آپ اس کو من کو کیا بنا لیں؟ شرطیہ بنا لیں یا موصولہ بنا لیں جس کے اندر شرط والا معنی آ رہا ہے بھئی، تو من کو مبتدا بنائیں، جی، اور راعی ہلال الفطر، راعی کے اندر ہوا ضمیر کیا بنے گی؟ فاعل اور ہلال الفطر مضاف مضاف الیہ مل کر کیا بنیں گے اس کے لیے؟ مفعول بہ، وحدہ یہ جو وحدہ آیا کرتا ہے عبارتوں میں بھئی، یہ حال بنا کرتا ہے، کیا بنتا ہے؟ حال۔
حال اسے کہتے ہیں جو فاعل یا مفعول کی حالت کو بیان کرے، تو یہاں کون فاعل آیا تھا بھئی؟
راعی کے اندر ہوا ضمیر تھی، وہ کیا تھی؟ فاعل تو یہ وحدہ اس سے کیا بن جائے گا؟ حال بنے گا بھئی، تو ذوالحال وہ ذوالحال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر راعی کے لیے فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ شرط بھئی، لم یفطر یہ اس کی جزا بھئی، شرط جزا مل کر بھئی، یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ من مبتدا کے لیے۔
آگے لکھیے بھئی انکم ظلمتم أنفسکم
بإتخاذكم العجل
بإتخاذ، الف کے ساتھ لکھنا بھئی۔ بإتخاذكم العجل
جی، کون کرے گا اس کی ترکیب بھئی؟ چلیے جی کیجیے بھئی۔
ان حرف حروف مشبہ بالفعل، جی، کم ضمیر منسوب محلاً ان کا اسم شاباش، جی۔
ظلمتم فعل بافاعل، فاعل کیا ہے اس کے اندر بھئی؟ تم ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔
اعراب بھئی أنفسکم، أنفس منصوب لفظاً مضاف، کم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔
جی، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول بہ ہوا بھئی، ظلمتم فعل کے لیے، جی، با جارہ، اتخاذ مصدر مضاف، ہاں اتخاذ اعراب بھی تو بتاؤ، اتخاذ مجرور لفظاً، مصدر مضاف، کم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، جی، العجل کا کیا کیا آپ نے بھئی؟
جی، کیا بنے گا العجل بھئی؟
مفعول کس کے لیے؟ اتخاذ مصدر کے لیے بھئی، جیسے فعل کے لیے کیا چاہیے بھئی؟ فاعل اور مفعول وغیرہ چاہیے ہوتے ہیں، تو مصدر کے لیے لازم تو نہیں لیکن آ جاتے ہیں کبھی اس کے لیے فاعل آگے ذکر ہو جاتا ہے بھئی، فاعل تو اس کے لیے چاہیے کیونکہ ہر فعل کے لیے کیا ہوتا ہے؟ فاعل چاہیے، لیکن اس کے ساتھ عبارت میں ہونا ضروری نہیں۔
تو فاعل بھی اس کا آ سکتا ہے اور مفعول بھی، تو اتخاذ بھئی ترجمے میں ذرا غور کرو، تم نے بیشک تم نے ظلم کیا، کس پر ظلم کیا؟ أنفسکم اپنے، دیکھا أنفسکم معلوم ہوا یہ مفعول بن رہا ہے۔
با سبب، بھئی با سببیہ، با سبب پکڑنے بنانے تمہارے، کس کو بنانے بھئی؟ بإتخاذكم العجل الی ان، وہ آگے محذوف ہوگا بھئی مفعول ثانی، کہ تم نے بچھڑے کو کیا بنا لیا؟ الہ بنا لیا، سمجھ میں آیا بھئی؟
الہ بنایا، تو العجل کو بنایا الہ، تو العجل مفعول اول، اول اور الہ مفعول ثانی کس کے لیے؟ اتخاذ مصدر کے لیے، تو مصدر مضاف اپنے مضاف الیہ اور دونوں مفعولوں سے مل کر یہ مجرور ہوا، جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے ظلمتم فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر ان کی خبر۔
ان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
عائد کیا ہے یہاں پر بھئی؟
جی، عائد کیا ہے بھئی؟
یہ دیکھیے، کم ان، یہ ظلمتم أنفسکم بإتخاذكم العجل اس جملے کو ہم نے کس سے جوڑنا ہے؟ ان کے اسم یعنی مخاطب جمع مخاطب کی ضمیر سے، تو آگے جملے کے اندر جمع مخاطب کی ضمیر آ رہی ہے بھئی، تو وہی کیا ہے، یعنی اسی اسم کا دوبارہ تکرار آ رہا ہے اگلے جملے میں۔
ایک اور فائدہ یاد رکھیے بھئی۔
اسم منسوب جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ لاہوریون بھئی، کیا معنی ہوتا ہے لاہوریون؟ لاہور والا، یعنی کوئی چیز لاہور کی طرف منسوب ہو، اسے لاہوری کہیں گے۔
عربیون، جو کس کی طرف منسوب ہو؟ عرب کی طرف بھئی۔
تو یاد رکھو، یہ جو اسم منسوب ہے، اس کا کیا نام میں نے ذکر کیا؟ منسوب، منسوب کون سا صیغہ ہے؟ مفعول تو یہ بھی مفعول کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں ہے؟ مفعول اور مفعول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ اسم مفعول کے لیے نائب فاعل چاہیے، مضروب کے اندر ہمیشہ کون سی ضمیر ہوتی ہے؟ نائب فاعل کی ضمیر، تو یہاں جو اسم منسوب ہوتا ہے، اس کے اندر بھی نائب فاعل کی ضمیر ہوتی ہے۔
ضابطہ یاد رہے گا بھئی؟ جہاں بھی اسم منسوب آ جائے، ہمیشہ اس کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے، اور وہ عموماً اسی کے اندر کیا ہوا کرتی ہے؟ ضمیر ہوا کرتی ہے۔
یہ جگہ جگہ عبارتوں میں اسم منسوب استعمال ہوتا ہے بھئی، یہ اہم ضابطہ یاد رکھنا۔
مثلاً دیکھیے، میں ایک ترکیب کرتا ہوں آپ کے سامنے۔
ہذا رجل لاہوری
ہذا رجل لاہوری
دیکھو ترکیب یوں ہوگی، ہذا مرفوع محلاً مبتدا، رجل مرفوع، جی، مرفوع لفظاً موصوف، لاہوریون لاہور والا، یہ معرفہ نہیں ہے بھئی، صرف لاہور ہوتا تو معرفہ تھا، لاہور والا، لاہور کی طرف منسوب، وہ تو کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے، تو یہ نکرہ ہے۔
تو لاہوریون مرفوع لفظاً اسم منسوب بھئی، اسم منسوب، م، ن، س، ی، ن ہے سین۔
تو یہ اسم منسوب، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً نائب فاعل جو کس کو راجع؟ موصوف کو، کیونکہ صفت کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ تو جی، نائب فاعل جو راجع تو یہ اسم منسوب اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر، یہ کیا ہوا؟ صفت، موصوف صفت مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ۔
ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح میں کہتا ہوں ہذہ حکایۃ عربیۃ
ہذہ
ہذہ حکایۃ عربیۃ
کیا ترکیب ہوگی؟ ہذہ مرفوع محلاً مبتدا، حکایۃ مرفوع محلاً، مرفوع لفظاً موصوف، عربیۃ مرفوع لفظاً اسم منسوب بھئی، اس کے اندر ہیہ ضمیر مرفوع محلاً نائب فاعل جو کس کو راجع؟ حکایت کو، صفت کو موصوف سے جوڑتے ہیں، تو یہ اپنے نائب فاعل سے مل کر بھئی، شبہ جملہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ ضابطہ ہمیشہ یاد رکھنا۔
ایک یہ بھی ضابطہ یاد رکھنا کہ صفات بھئی،
معارفہ پر اس کی صفت مقدم ہو جائے تو پھر اس کو بدل مبدل منہ بناتے ہیں بھئی۔
دیکھیے، میں کہتا ہوں جاءنی زید العالم، یہ العالم کو کیا بناتے ہیں اب زید کے لیے؟ لیکن یہ کبھی صفت ہوئی، اور صفت اس پر مقدم آ جائے، میں کہتا ہوں جاءنی الشیخ زید۔
کیا شیخ کیا ہوئی بھئی؟ مقدم ہوا زید پر، تو کیا بنائیں گے؟ اس کو مبدل منہ، اور زید کو اس سے کیا بنا دیں گے؟ بدل بنا دیں گے بھئی۔
اچھا، اسی طرح ابن کے لفظ کا ایک ضابطہ یاد رکھیے بھئی۔
ابن، ابن کے ہم، کا ہمزہ وصلی ہے بھئی، آپ جانتے ہیں درج عبارت میں یہ گر جاتا ہے۔
ابن ہے، اسم ہے، اور اثنانی اثنتان ہے،
اور
ایک اور اسم بھی ہے بھئی۔
جی، تو یہ حمزہ کون سے ہیں بھئی؟ حمزہ وصلی، اور حمزہ وصلی درج عبارت سے ہمیشہ گر جاتا ہے۔ لیکن تلفظ سے گرتا ہے، کتابت سے نہیں گرتا۔ لکھا جاتا ہے اس کو، تو ابن کا حمزہ بھی وصلی ہے، درمیان عبارت میں، درج عبارت میں یہ گر جائے گا، لیکن کتابتاً نہیں گرے گا بلکہ لکھنا پڑے گا۔
لیکن اگر یہ ابن کا لفظ دو عالمین متناسلین کے درمیان آ جائے،
دو کس کے درمیان آ جائے؟ عالمین متناسلین کے درمیان آ جائے بھئی،
اور مذکر ہوں، یعنی باپ بیٹا ہیں دونوں بھئی، ان کے درمیان ابن کا لفظ آیا، تو پھر حمزہ صرف تلفظ سے نہیں گرتا، بلکہ کتابتاً بھی اس کو گرا دیتے ہیں۔ کیا کر دیتے ہیں؟ کتابتاً بھی گرا دیتے ہیں۔
مثلاً میں کہتا ہوں زید ابن بکر بھئی۔
تو کیسے لکھیں گے؟ حمزہ وصلی کو کیا کر دیں گے؟ کتابتاً بھی گرا دیں گے، نہیں لکھیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی لیے آپ کتابوں میں اکثر دیکھیں گے وہاں حمزہ وصلی نہیں لکھا ہوتا، کیونکہ عموماً کس کے درمیان آتا ہے؟ دو عالمین متناسلین کے درمیان بھئی۔
تو کیسے لکھیں گے؟
ابن کا حمزہ نہیں لکھیں گے۔ نیز، پہلے عالم سے تنوین کو بھی گرا دیتے ہیں۔
پہلے عالم سے کیا کرتے ہیں؟ تنوین کو بھی گرا دیتے ہیں۔ کیوں گراتے ہیں؟ کثرت استعمال کی وجہ سے۔ عربی میں اس طرح کے نام بہت کثرت سے استعمال ہوتے ہیں اور کثرت چاہتی ہے خفت کو۔ تو تخفیفاً کیا کرتے ہیں؟ پہلے عالم سے تنوین کو، تو ضابطے کے مطابق یوں پڑھنا چاہیے تھا، زید کے نون، نون ساکن جو ہے اس کو کسرہ دیتے، زید ابن بکر، کیا پڑھتے؟
زید ابن بکر، لیکن کبھی آپ ایسے نہیں پڑھتے، آپ کیا پڑھتے ہیں؟ زید بن بکر، دیکھا تنوین کو بالکل سرے سے ہی گرا دیا، تخفیفاً بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔
تو ابن کے لفظ کا جو ہے حمزہ گر جاتا ہے، دو عالمین متناسلین، مذکریں کے درمیان جب یہ آجائے۔
اور اس لیکن اگر یہ سطر کے شروع میں آ رہا ہو ابن کا لفظ، پھر لکھیں گے۔
پھر کیا کریں گے؟ لکھیں گے۔ کیونکہ بن کوئی لفظ نہیں ہے، لفظ تو اصل کیا ہے؟ ابن ہے۔ مثلاً آپ نے لکھنا تھا، زید، زید ابن بکر، زید لفظ لکھا سطر ختم ہو گئی، اب ابن بکر آپ اگلی سطر میں لکھیں گے، تو جب سطر کے شروع میں آئے، تو اب اس حمزہ کو لکھنا پڑے گا بھئی۔
یہ یاد رکھنا بھئی کتابت کا ضابطہ بھئی۔
عربی میں یہ حمزہ کے رسم الخط بڑا مشکل ہے بھئی، بڑا مشکل ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
جگہ جگہ مختلف طریقوں سے آپ دیکھتے ہیں، یہ کئی اس کے لیے ضابطے ہیں بھئی۔ مثلاً آپ سوال پڑھتے ہیں، سوال،
سین کے بعد کیا لکھتے ہیں؟ واؤ۔
اور واؤ پر کیا لکھتے ہیں؟ حمزہ، تو ہے یہ حمزہ، لیکن آپ نے کس کس صورت میں لکھا؟ واؤ کی صورت میں لکھا۔ سمجھ میں آیا؟
واؤ کی صورت میں، کبھی حمزہ واؤ کی صورت میں لکھتے ہیں، کبھی الف کی صورت میں،
مسألہ لفظ ہے، مسألہ،
آج کل جدید کتابیں آپ عربی کی اٹھائیں، مسألہ کو انہوں نے الف کے ساتھ لکھا ہوتا ہے اوپر حمزہ ڈالی ہوتی ہے۔
آپ تو کیسے لکھتے تھے؟ دندان ڈالتے تھے حمزہ کے لیے، میم، سین اور حمزہ کے لیے دندان، لیکن آج کل کی کتابیں آپ اٹھائیں گے، وہاں میم، سین، الف ہوگا، الف کے اوپر حمزہ لکھا ہوگا۔
تو کبھی دیکھو حمزہ کو الف کی صورت میں لکھتے ہیں، کبھی یا کی صورت میں لکھتے ہیں حمزہ کو، مثلاً کیا مثال ہوگی بھئی؟
جی، کیا مثال؟
یا کی صورت میں تو عام ہے بھئی، یا کی صورت میں تو عام ہے، میں کہتا ہوں شیء ان، شیء ان، تو حمزہ کو دندانے پہ لکھا ہے، تو یہ تو کس کی صورت ہے دراصل؟ دندانے کے ساتھ تو کس کو لکھتے ہیں درمیان میں؟
یا کو لکھتے ہیں، ہاں آخر میں یا کی صورت میں بھئی، آخر میں ہے وہ، اور یا کی صورت میں ہوگا۔
چلیے، سب ذہن میں مثال نہیں ہے، تو حمزہ کا رسم الخط عربی میں بڑا مشکل ہے بھئی، عموماً اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں اس میں۔
ہاں تفصیل دیکھنی ہو، تو المنجد عربی لغت جو ہے، اس کے شروع میں بڑے قیمتی ضابطے دیے ہوئے ہیں، وہیں پر آپ کو حمزہ کے رسم الخط کے قاعدے بھی مل جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟
چلیے جی، بس کریں۔
الحمدللہ رب العالمين۔
اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی طرف پھیر دے۔ اے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی طرف پھیر دے۔ اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ جہنم کی اگ سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ قبر کی تاریکی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ جہنم کی اگ سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، اے اللہ ہم سب کو اللہ حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ حرام کے ایک ذرے سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ شرک و بدعت اور گمراہیوں سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ ہماری دین و حفاظت فرما، ہمارے آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ ہمیں اپنے محبوب اور رحم بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ تو خالق ہیں، اے اللہ، اے اللہ ہمیں نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ سب کے علم کے دروازے کھول دے۔ اے اللہ ہر ایک کو باعمل عالم بنا۔ اے اللہ ہر ایک کو علم کی ایک روشن شمع بنا جس سے آگے لاکھوں شمعیں روشن ہوں۔ اے اللہ ہر ایک کے فیض کو قیامت تک جاری و ساری فرما۔ اے اللہ ہم سب کو خوب اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ ریاکاری سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ ریاکاری سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ تمام جسمانی اور روحانی امراض سے ہمیں شفا نصیب فرما۔ اے اللہ تمام جسمانی اور روحانی امراض سے شفا نصیب فرما۔ اے اللہ ہمارے جو عزیز و اقارب فوت ہو چکے ہیں سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ جو حاضرین میں سے جو بیمار ہیں، اوروں میں سے جو بیمار ہیں، سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ سب کو شفا نصیب فرما۔ اور بھی بہت سے لوگوں نے دعاؤں کا کہا ہے، بعض پریشانیوں میں مبتلا ہیں، اے اللہ سب، آپ تو سب کو جانتے ہیں، عالم الغیب ہیں، اے اللہ سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ اس علم دین کی برکت سے، اے اللہ ان طلبہ کی برکت سے، اے اللہ سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ انہیں نیک اعمال کی ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا، اے اللہ بدعات اور کوتاہیوں کو مٹانے والا بنا، اے اللہ اس کے لیے جرأت اور حوصلہ نصیب فرما، اے اللہ اس کے لیے صحیح نہج، صحیح سمجھ بوجھ اور حکمت نصیب فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔
والحمدللہ رب العالمين۔