Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-029

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمر۔ 29 اچھا بھئی، کچھ اور جملوں کی بھی ترکیب کر لیجیے۔ جی۔ ضربَ زيدٌ رجلٌ أكلَ طعامَهُ۔ ضربَ زيدٌ رجلٌ أكلَ طعامَهُ۔ جی، کون کرے گا بھئی ترکیب؟ جی کیجیے۔ ضربَ فعل۔ زیدٌ مرفوع لفظاً فاعل۔ رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ أكلَ فعل، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے رجل کو۔ طعامَهُ منصوب لفظاً مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی رجلٌ کے لیے۔ موصوف صفت مل کر مفعول بہ ہوا ضربَ فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے پڑھیے۔ ضربَ زيدٌ رجلًا أكلَ طعامَهُ۔ ترجمہ کیجیے۔ زید نے ایسے آدمی کی پٹائی کی جس نے اس کا کھانا کھایا۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ جَمَعْتُ المَالَ فِي الْكِيْسِ۔ جَمَعْتُ المَالَ فِي الْكِيْسِ، چھوٹا قاف، یا اور سین بھئی۔ چھوٹا قاف، یا، سین۔ جَمَعْتُ المَالَ فِي الْكِيْسِ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ جَمَعْتُ فعل بافاعل، فاعل اس میں کون سا ہے وہ بھی بتلاؤ بھئی۔ تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، جی۔ الْمَالَ منصوب لفظاً مفعول بہ، جی۔ فِي جارٌّ، الْكِيْسِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے جَمَعْتُ سے، بھئی جڑتا ہے یا نہیں؟ کیس کہتے ہیں تھیلے کو، بٹویے کو، بھئی۔ جَمَعْتُ فِي الْكِيْسِ، بٹویے میں جمع کیا۔ جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا بھئی؟ جڑ رہا ہے، معلوم ہوا یہ اس سے متعلق ہوا۔ جَمَعْتُ فعل اپنے فاعل، مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے پڑھیے۔ جَمَعْتُ المَالَ فِي الْكِيْسِ۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ جمع کیا مال کو میں نے، فل کیسی بٹویے میں، تھیلے میں۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ لَيْتَ زَيْدٌ حَاضِرٌ۔ لَيْتَ زَيْدٌ حَاضِرٌ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ لَيْتَ حرف از حروف مشبہ بالفعل، جی۔ شاباش، دیکھا لَيْتَ حرف از حروف مشبہ بالفعل، بھئی، جی۔ اور یہ کیا عمل کرتے ہیں حروف مشبہ بالفعل؟ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع لو، بھئی، مسئلہ حل ہو گیا آگے، زَيْدًا منصوب لفظاً اس کا اسم، بَخَيْدًا منصوب لفظاً اس کا اسم بھئی۔ حَاضِرٌ مرفوع لفظ، مرفوع لفظاً لَيْتَ کی خبر۔ حَاضِرٌ مرفوع لفظاً صیغۂ اسم فاعل، صیغۂ اسم فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے زَيْدٌ کی طرف۔ زَيْدًا کی طرف، سمجھ میں آیا؟ خبر کو اسم سے جوڑا جاتا ہے یا مبتدا سے جوڑا جاتا ہے، جی۔ تو یہ عائد آ گیا، ربط آ گیا، تو اس میں فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر لَيْتَ کی خبر ہوئی۔ لَيْتَ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے پڑھیے۔ لَيْتَ زَيْدًا حَاضِرٌ، جی، ترجمہ کیجیے۔ کاش زید حاضر ہوتا، جی، شاباش۔ جی، اگلا جملہ لکھیے۔ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ۔ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ، صلی اللہ علیہ وسلم۔ اچھا بھئی، جی۔ कौन کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ أَشْهَدُ فعل، جی۔ اس کے اندر انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ اَنَّ حرف از حروف مشبہ بالفعل۔ مُحَمَّدًا منصوب لفظاً اَنَّ کا اسم بھئی۔ رَسُوْلُ مرفوع لفظاً مضاف۔ لفظ اللہ مجرور لفظاً مضافٌ إليه۔ مضاف مضاف إليه مل کر یہ خبر ہوئی اَنَّ کی، جی۔ اَنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر مفعول به ہوا أَشْهَدُ فعل کے لیے۔ دیکھا، یہ مفعول به اَنَّ محمدًا رسولُ اللہ یہ سارا مفعول به بن رہا ہے بھئی۔ اور مفعول به تو یہ مقام کون سا ہے بھئی؟ مفرد کا ہے، اور جو مقام مفرد کا ہو وہاں اِنَّ نہیں پڑھتے بلکہ کیا پڑھتے ہیں؟ اَنَّ پڑھتے ہیں۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے پڑھیے۔ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ۔ اچھا، اشہدُ اَنَّ محمدًا رسولُ اللہ، دیکھا یہاں بھی وہ نون راء میں بدل کر راء کے اندر اس کا کیا ہوا؟ ادغام، محمدًا رسولُ اللہ۔ بھئی، رسول اللہ، رسول پر آپ نے الف لام تو نہیں لکھا کہیں بھئی؟ جی؟ الف لام نہیں آئے گا، کیونکہ یہ مضاف ہے، مضاف پر الف لام نہیں آتا بھئی۔ جی۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جی، اگلا جملہ لکھیے۔ اِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ اِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ اِنَّ حرف از حروف مشبہ بالفعل۔ لفظِ اللہ منصوب لفظاً اس کا اسم، جی۔ عَلَى جارٌّ۔ کُلِّي مجرور لفظاً مضاف، مجرور لفظاً مضاف۔ شَيْءٍ مجرور لفظاً مضاف إليه۔ مضاف مضاف إليه مل کر یہ مجرور ہوئے عَلَى جارَّ کے لیے، جار مجرور مل کر یہ دونوں متعلق ہوئے۔ جی، جار اپنے مجرور سے مل کر کس سے متعلق ہوا بھئی؟ ثابتٌ سے، بھئی، میں نے کیا بتلایا تھا جار مجرور کتنی چیزوں سے متعلق ہوتا ہے؟ آٹھ چیزوں میں سے اس جملے میں کوئی چیز ہے بھئی؟ جی؟ پہلے اس سے جوڑ کر دیکھا کرو بھئی، نہ جڑے تو پھر محذوف کی طرف جایا کرو بھئی۔ اس میں سر۔ کس کے ساتھ متعلق ہوگا یہ بھئی؟ قدیر صفتِ مشبہ ہے بھئی، تو اس کے ساتھ جڑ سکتا ہے، صفت مشبہ، اور صفت مشبہ کے ساتھ اس کو جوڑ کر دیکھو، قَدِيْرٌ، قادر ہے عَلَى كل شيء ہر چیز پر، جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا بھئی؟ جی، جب جڑ رہا ہے تو اسی کے ساتھ جوڑو، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے قَدِيْرٌ صفتِ مشبہ کے ساتھ۔ قَدِيْرٌ صیغه اسم فاعل، اور ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے لفظِ اللہ کو، یہ عائد آگیا بھئی۔ تو صفتی مشبہ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی اِنَّ کی، قَدِيْرٌ، مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، صفت مشبہ، قَدِيْرٌ مرفوع لفظاً صفت مشبہ، بھئی، کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ اِنَّ کی خبر بن رہی ہے۔ یہ تو لفظاً کی بات، مرفوع کیوں کہا؟ انَّ کی خبر، انَّ کی خبر مرفوع ہوا کرتی ہے، تو قَدِيْرٌ مرفوع لفظاً صفت مشبہ، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے لفظِ اللہ کو، اس لیے کہ اِنَّ کی خبر کو اِنَّ کے اسم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو یہ عائد آگیا بھئی۔ تو یہ اس میں صفت مشبہ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی اِنَّ کی، اِنَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ اِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، وہ جب آپ وقف کریں وہاں پھر الگ ہے یہاں پتہ چلنا چاہیے آپ نے پڑھا کیا اس پر بھئی۔ جی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قادر ہیں ہر چیز پر۔ جی، اگلا جملہ لکھیے۔ سَمِعَ عَلِيٌّ كَلَامَ الرَّجُلِ الَّذِي فِي الدَّارِ۔ سَمِعَ عَلِيٌّ كَلَامَ الرَّجُلِ الَّذِي فِي الدَّارِ۔ جی، لکھ لیا بھئی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی، کیجیے۔ کریں کرو بھئی آپ۔ سَمِعَ فعل۔ سَمِعَ فعل۔ عَلِيٌّ مسم لفظ مفعول لفظاً اس کا فاعل۔ شاباش، عَلِيٌّ مرفوع لفظاً فاعل بھئی، جی۔ كَلاَمَ۔ جی، جلدی جلدی بھئی۔ كَلاَمَ منصوب لفظاً مضاف۔ شاباش، كَلَامَ منصوب لفظاً مضاف، سَمِعَ فعل آ گیا، سنا علی نے، کس چیز کو سنا؟ کلام کو سنا، ظاہری بات ہے یہ کلام مفعول بنے گا، جی۔ منسوب لفظاً مضاف بھئی۔ اَلرَّجُلُ۔ مفعول لفظاً۔ جے۔ اَلرَّجُلِ مجرور لفظاً موصوف۔ اَلرَّجُلِ مجرور لفظاً موصوف، بھئی آپ نے موصوف مجرور لفظاً کیوں کہا، موصوف کیوں کہا؟ نکرہ کے بعد معرفہ آ رہا ہے، تو معرفہ کے بعد معرفہ ہے، تو کیا ترکیب ہوتی ہے موصوف صفت، موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، تو مضافٌ إليه مجرور تھا تو موصوف بھی مجرور، اور لفظاً اس لیے کہ جر کا تلفظ ہو رہا ہے اور آگے کیا بنایا؟ موصوف، بھئی۔ اَلَّذِي مجرور محلاً اِسْمِ مَوْصُوْلٍ۔ بِّي، اس میں موصول کو آپ براہ راست کیسے صفت بنا رہے ہیں بغیر صلے کے؟ اَلَّذِي۔ اَلَّذِي مجرور محلاً اِسْمِ مَوْصُوْلٌ، مجرور کیوں ہے یہ؟ یہ صفت بننا ہے، کیونکہ موصوف مجرور ہے تو صفت بھی مجرور ہوگی اور محلاً کیوں ہے؟ مبنی ہے، جی۔ اِلَى جَارٌّ۔ فِي جارٌّ۔ الدَّارِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے، جَا فعل کے لیے۔ یہ متعلق ہوں گے بھئی، ثابتٌ سے، کیوں کہ اس جملے کے اندر نہ کوئی مصدر ہے، نہ فعل ہے، تو محذوف نکالیں گے ثابتٌ۔ ثَبَتَ فِعْلِ، ہوا ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، ثابتٌ صیغہ اسم فاعل، ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے کس کو؟ الَّذِي کو راجع ہے۔ ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے، الَّذِي بھی واحد مذکر، ضمیر بھی کون سی ہے؟ ہوا ہے۔ تو ثابتٌ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر، یہ جملہ ہوا موصول کا۔ ثَبَتَ فعل، ہوا ضمیر مستتر اس کا فاعل، جو راجع ہے اَلَّذِي کو، بھئی یہ عائد بن گیا، تو صبتا فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر اس کا متعلق بن جائے گا، قَبْلِ کے لیے، تو قَبْلِ مضاف، اسفوع مضاف الیہ مل کر مفعولِ فیہ صبتا فعل کے لیے۔ صبتا فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا اَلَّذِي موصول کا، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ معطوف بنے گا زَيْدٌ کا، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ کیا بنا؟ معطوف ہوا۔ معطوفٌ علیہ اپنے معطوف سے مل کر ابتداء۔ معطوفٌ علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا ہوا۔ آگے خبر آئے گی، جی۔ ذَهَبُوْا إِلَى السُّوْقِ۔ ذَهَبُوْا فِعْلٌ، وَ بَا فَاعِلْ، فِلْمًّّ، ذَهَبُوْا فِعْلٌ فِلْمًّّ فِلْمًّ فِلْمًّّ فِلْمًّ فِلْمًّّ فِلْمًّ، ذَهَبُوْا فعل بافاعل، بھئی۔ اور ہوا ضمیر۔ زَهَبُوْ فِعْلِ میں کیا فاعل ہوگا؟ وَ ضَمِیْرُ۔ ہاں، ذَهَبُوْا کے اندر واو ضمیر کیا ہے؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل ہے، جی، غائب کی ضمیر آ گئی، مرجع بتلائیے بھئی۔ جو راجع ہے مبتدا کو، اور مبتدا جمع تھا بھئی: عَامِرٌ وَالَّذِينَ مَعَهُ، عامر اور جو اس کے ساتھ ہیں، وہ جمع بھئی، تو جمع کی یہ عائد بن گیا بھئی، خبر کو مبتدا سے جوڑ رہا ہے بھئی۔ إِلَى جَارٌّ، اَلْسُّوْقِ مَجْرُورٌ. إِلَى جَارٌّ، اَلْسُّوْقِ مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ذَهَبُوْا کے ساتھ۔ ذَهَبُوْا فِعْلٌ اَمْرِ فَا، فَعْلِ بَفَاعِلْ، وَمُتَعَلِّقِ مِلْكَ، جُمْلَةٌ فِعْلِيَّةٌ خَبَرِيَّةٌ وُّكَلِّ مُّصْدَرِ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کی۔ شاباش! فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ عَامِرٌ وَالَّذِينَ مَعَهُ ذَهَبُوا إِلَى السُّوْقِ۔ عَامِرٌ وَالَّذِينَ مَعَهُ ذَهَبُوا إِلَى السُّوْقِ، جی ترجمہ کیجیے۔ عامر اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، گئے ہیں بازار کی طرف۔ جی، عامر اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں، گئے ہیں بازار کی طرف۔ جی، ایک اور ترکیب، شاید پہلے بھی آپ کر چکے ہیں، دوبارہ کر لیں اگر کی بھی ہے۔ اَخِيْ، اَخِيْ، اَلَّذِي لَقِيْتَهُ، اَلَّذِي لَقِيْتَهُ، قَبْلَ أُسْبُوْعٍ عَالِمٌ۔ قَبْلَ أُسْبُوْعٍ عَالِمٌ۔ جی، لکھ لیا بھئی! اَخِيْ اَلَّذِيْ لَقِيْتَهُ قَبْلَ أُسْبُوْعٍ عَالِمٌ۔ اعراب آپ نے بتانے ہیں بھئی ہر لفظ کے، جی۔ کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ اَخِيْ مَضَافٌ۔ عراب، سب سے پہلے اعراب چاہیے۔ بھئی۔ اَلَّذِيْ مَرْفُوْعُ مَحَلًّا مُّبْتَدَا۔ اَخِيْ بھئی، اَخِيْ مرفوع تقدیراً مبتدا۔ مبتدا بناؤ۔ اَخِيْ بھئی، مرفوع تقدیراً مبتدا۔ مبتدا بنے نہ بناؤ، اَخِيْ بھئی، مرفوع تو تقدیراً، مضاف بھئی۔ بھئی، یہ مرفوع کیوں آپ نے کہا؟ یہ مبتدا بنے گا۔ شاباش! اس نے کیا بننا ہے؟ مبتدا بننا ہے، جی۔ اور تقدیراً کیوں کہا؟ اس لیے کہ زَیْدَ نے مذکر سالم مضاف ہے یا متکلم کا، اعراب جو ہوتا ہے تینوں حالتوں میں۔ شاباش! یہ وہ ایک قسم آپ نے سولہ قسموں میں پڑھی تھی کہ جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی بھی اسم مضاف ہو، یاء متکلم کی طرف تو اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری، تو یہاں پر بھی اس کا اعراب تقدیری۔ تو یہ اَخِيْ مجرو منصوب تقدیراً، مضاف۔ يا ضَمِيْرُ مَجْرُوْرُ مَحَلًّا مُّضَافُ اِلَيْهِ۔ یا ضمیر مجرور محلاً مضافٌ إِلَيْهِ۔ عراب، اِطَّلَعْتَ عَلَى اِسْمِ۔ اَسْمَاءِ سِتَّةٌ مُكَبَّرَةٌ مُوَحَّدَةٌ مُّضَافَةٌ اِلَى غَيْرِ ياءِ الْمُتَكَلِّمِ، وہاں قاعدے موجود ہیں، اس کو کیا ہونا چاہیے؟ یاء متکلم کی طرف مضاف۔ ہاں، یاء متکلم کی طرف اعراب ان کیا کیا کہتے ہیں؟ اسمائے ستہ ہوں، چھ میں سے ہوں، مکبرہ ہوں، معلوم ہوا تصغیر کسی کی نہ ہو۔ موحدہ ہوں، معلوم ہوا مفرد ہوں تثنیہ یا جمع۔ مضاف ہوں، کس کی طرف؟ کیا؟ نہیں نہیں، اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ مضافاً الی غَيْرِ ياءِ الْمُتَكَلِّمِ، يا متکلم کے علاوہ کسی چیز کی طرف کیا ہوں؟ مضاف۔ اور یہ تو مضاف ہے بھئی يا متکلم کی طرف، یہ اس سے نکل گیا بھئی۔ جی، جو بھی اسم ہو، جمع مذکر سالم کے علاوہ، جب اس کے ساتھ یا جڑی ہوئی آپ کو نظر آجائے، فوراً حکم لگا دیں، تینوں حالتوں میں اس کا اعراب تقدیری ہے۔ یا ضمیر متکلم مجرور محلاً۔ شاباش! یا ضمیر مجرور محلاً مضافٌ إِلَيْهِ۔ موصوف۔ جی، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ کیا ہوئے؟ موصوف بنے۔ مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف ہوئے بھئی، اس لیے کہ اَفّ کا لفظ اکیلا ہو تو نکرہ ہے، لیکن جب اس کی اضافت کس کی طرف ہو گئی؟ ضمیر کی طرف، معرفہ کی طرف، تو جو اسم معرفہ کی طرف مضاف ہو وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ بن جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں غلام، غلام نکرہ ہے دنیا کے ہر، کوئی بھی غلام آپ کے سامنے آئے آپ کہہ سکتے ہیں یہ کیا ہے؟ غلام۔ لیکن جب میں نے کہا غلامُ زَيْدٍ بھئی، اب یہ زید کی معرفہ کی طرف مضاف ہوا تو اب ہر غلام پر اس کا اطلاق صحیح نہیں۔ معرفہ بن گیا، متعین ہو گیا تو یہاں بھی یہ اخی بھئی معرفہ بن گیا، اور اَلَّذِي معرفہ کے بعد معرفہ آ رہا ہے تو یہ موصوف صفت بنیں گے۔ اَلَّذِي اِسْمُ مَوْصُوْلٍ، عراب بھئی۔ اَلَّذِي مَرْفُوْعُ مَحَلًّا، مَرْفُوْعُ مَحَلًّا، اَلَّذِي مَرْفُوْعُ مَحَلًّا اِسْمُ مَوْصُوْلٍ، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ ما قبل کی صفت بنے گا۔ ہاں، اور موصوف کیا ہے؟ مرفوع تو صفت بھی کیا ہوگی؟ مرفوع تو فرق آیا دیکھو، وہ بھی مرفوع ہے اَفّ، لیکن وہ مرفوع ہے تقدیراً۔ اور یہ بھی اَلَّذِي اس کی صفت یہ بھی مرفوع ہے، لیکن یہ ہے مرفوع محلاً۔ جی، تو یہ اس میں موصول، آگے لَقِيْتَ فِعْلٌ بَفَاعِلْ۔ لَقِيْتَ فعل بافاعل۔ تُو ضمیر اس کے اندر فاعل جو کہ۔ تَا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل بھئی۔ وُ ضَمِيْرٌ، هَذَا حَرْفٌ، هَذَا، هَذَا ضَمِيْرٌ، مَنْصُوْبٌ مَحَلًّا، شاباش! ها ضمیر منصوب محلاً مفعولِ بہ۔ دیکھا، فاعل آ گیا تھا، فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آتا ہے، باقی کیا آئیں گے؟ منصوب یا مجرور، تو یہ مفعولِ بہ بنا منصوب محلاً، جو راجع ہے کس کو؟ اَخِيْ کو، راجع، جی، آگے چلیے۔ قَبْلَ، جی۔ مَنْصُوْبٌ لَفْظًا، قَبْلَ مَنْصُوْبٌ لَفْظًا مُّضَافُ۔ مُّضَافٌ۔ مُّضَافُ، مُّضَافٌ۔ مُّضَافٌ۔ وَمَعَ مَنْصُوْبٌ مَّرْفُوْعٌ۔ حُبُّكَ، مَجْرُوْرُ لَفْظًا مُّضَافُ اِلَيْهِ۔ أُسْبُوْعٍ، ہفتے کو کہتے ہیں بھئی، تو أُسْبُوْعٍ مجرور لفظاً مضافٌ إِلَيْهِ۔ مُّضَافٌ مُّضَافٌ إِلَيْهِ مِلْکَرَّ، یہ ظَرْفٌ ہوا لَقِيْتَ فِعْلِ كِيْ۔ شاباش! مضاف مضاف الیہ مل کر یہ ظرف ہوا کس کے لیے؟ لَقِيْتَ فعل کے لیے بھئی۔ لَقِيْتَ فِعْلِ، اپنے فاعل اور مَفْعُوْلُ بِهِيِ سے مِلْكَرْ جُمْلَةُ صِفَةٌ، جملہ فعلیہ ہو کر صِلَةٌ، صِلَةٌ هُوا اَلَّذِي مَوْصُوْلِ كِيْ۔ لَقِيْتَ فعل اپنے فاعل، مفعولِ بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا اَلَّذِي موصول کا، آپ نے صلہ کو بغیر عائد کے جوڑ دیا بھئی، عائد بھی تو چاہیے تھا۔ لَقِيْتَ فُهّْ، هُوِّ ضَمِيْرِ، ها ضمیر جو تھی، وہ راجع تھی کس کی طرف؟ اَخِيْ کی طرف، موصول کی طرف، تو وہ عائد آ گیا بھئی۔ مَوْصُوْلٌ اَفْرَدَهُ صِلَةٍ مِّثْلَ كَرَ، اِيْهَّ مَفْعُوْلُ فِيْهِ صَبَدَةِ فِعْلِ۔ جی، شاباش! تو یہ مفعول فیہ بن رہا ہے اس کے لیے عامل چاہیے، تو یہاں پر عامل محذوف نکالیں گے، وَالَّذِيْ صَبَتَ مَعَهُ۔ ثَبَتَ فِعْلِ، ثَبَتَ فِعْلٌ، هُوَّ ضَمِيْرٌ مُّسْتَتِرُ الْفَاعِلِ، وَالْذَّيْنِ مَحَلَّ مَرْفُوْعُ مَّرْفُوْعُ مَّرْفُوْعٌ، ثَبَتَ فعل ہوا ضمیر مستتر اس کا فاعل، جو راجع ہے اَلَّذِي کو، بھئی یہ عائد بن گیا، تو صبتا فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر اس کا متعلق بن جائے گا، قَبْلِ کے لیے، تو قَبْلِ مضاف، اسفوع مضاف الیہ مل کر مفعولِ فیہ صبتا فعل کے لیے۔ صبتا فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا اَلَّذِي موصول کا، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ معطوف بنے گا زَيْدٌ کا، موصول اپنے صلے سے مل کر یہ کیا بنا؟ عَالِمٌ، سِعَّةٌ اِسْمُ فَاعِلْ، عَالِمٌ، صِيْغَةٌ اِسْمُ فَاعِلْ، اس کے اندر۔ هُوَ ضَمِيْرٌ، مَرْفُوْعٌ مَحَلًّا اِسْمُ فَاعِلْ، فاعل جو راجع ہے اَخِيْ کو، بھئی دیکھو، صفت کے صیغے کے اندر بھی فاعل کی ضمیر ہوتی ہے، تو عامٌ صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو راجع ہے کس کو؟ اَخِيْ کو راجع ہے، اور یہی عائد ہے، تو اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی اَخِيْ مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی، روانی سے پڑھیے۔ اَخِيْ الَّذِيْ لَقِيْتَهُ قَبْلَ أُسْبُوْعٍ عَالِمٌ۔ اَخِيْ الَّذِيْ لَقِيْتَهُ قَبْلَ أُسْبُوْعٍ عَالِمٌ، ترجمہ کیجیے۔ میرا وہ بھئی، جس سے آپ ایک ہفتہ قبل ملے تھے، وہ عالم ہے۔ شاباش! اَخِيْ، میرا وہ بھئی اَلَّذِيْ لَقِيْتَهُ، کہ جس سے ملاقات کی تھی تو نے قَبْلَ أُسْبُوْعٍ، ایک ہفتہ قبل، عَالِمٌ، وہ عالم ہے۔ قَبْلُ اور بَعْدُ میں آپ نے پڑھا ہے تین حالتیں ہیں، اس میں بننا تو ظرف ہی ہے، یہ تو طے ہے، اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں۔ اب جب یہ ظرف بنے گا، ظرف پر آئے گا نصب بھئی۔ تو یہ تقاضا کرتے ہیں مضاف الیہ کا، قَبْلَ کس سے؟ قَبْلَ زَيْدٍ عَمْرٍو بَكْرٍ، مضاف الیہ کا چاہتے ہیں ہمیشہ۔ اب ان کے مضاف الیہ میں تین حالتیں ہیں۔ یہ چاہتے ہیں مضاف الیہ کو، آپ بھی ذکر کر دیں۔ جب آپ نے بھی ان کے مضاف الیہ کو ذکر کر دیا، ان کی ضرورت پوری ہو گئی بھئی، یہ مبنی نہیں۔ یہ اسی طرح معرب رہیں گے، ارہم کو۔ تو ان کی ضرورت کیا ہوئی؟ پوری ہو گئی، لہٰذا یہ معرب کے معرب رہے، دوسری صورت یہ ہے کہ آپ ان کے مضاف الیہ کو عبارت سے تو حذف کر لیتے ہیں، لیکن نیت میں ابھی بھی موجود ہے۔ میں یہاں قَبْلَ أُسْبُوْعٍ، أُسْبُوْعٍ کو حذف کر لیتا ہوں بھئی، لیکن نیت میں ابھی بھی ہے۔ تو جب نیت میں ابھی بھی ہے تو، معلوم ہوا اس کا مضاف الیہ چاہیے یا نہیں چاہیے بھئی؟ چاہیے تو، اور آپ نے اس کو حذف کر لیا۔ جب آپ نے حذف کر لیا تو آپ نے اس کا نقصان عظیم کیا، بھئی۔ تو جب نقصان عظیم کیا تو اب اس کے لیے جبیرہ چاہیے، اور وہ جبیرہ پھر ضمّے کا جبیرہ لگاتے ہیں، اس کو قَبْلُ مبنی علی الـ زَمْب بنا دیتے ہیں، کیا بنا دیتے ہیں؟ مبنی علی الزم بنا دیتے ہیں۔ یہ دوسری صورت ہے، جب مضاف الیہ عبارت سے حذف ہو لیکن نیت میں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ عبارت سے بھی حذف کر دیا، ذہن میں بھی نہیں رکھا، ختم بھئی۔ اس کا مضاف الیہ کوئی ہے ہی نہیں بھئی، کوئی مضاف الیہ۔ جب مضاف الیہ ہے ہی نہیں، تو اس کا کوئی نقصان ہوا؟ تھا بھی نہیں گویا اور غائب ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جب آپ عبارت سے حذف کر لیتے ہیں، ذہن میں رکھتے ہیں، اس کو تو ابھی بھی معلوم مضاف الیہ چاہیے، اور آپ اس کو حذف کر کے بیٹھے تو نقصان ہے۔ لیکن جب آپ کیا کر لیتے ہیں؟ عبارت سے بھی حذف، نیت سے بھی حذف، گویا تھا ہی نہیں، یہ چاہتا ہی نہیں تھا، تو اس صورت میں بھی کوئی نقصان گویا نہیں ہوا بھئی، کیونکہ نیت میں بھی نہیں ہے بھئی۔ تو اس صورت میں بھی یہ معرب ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تین حالتیں ہیں ان کی، مضاف الیہ عبارت میں ذکر ہوگا یا صرف نیت میں ہوگا، یا نیت میں بھی نہیں ہوگا، عبارت میں بھی نہیں۔ تو وہ ایک صورت جب عبارت میں تو نہ ہو، لیکن نیت میں ہو، اس صورت میں یہ مبنی ہے، اور باقی دونوں صورتوں میں معرب اور اس اس وقت اس کا مضاف الیہ موجود، تو یہ معرب ہے، بھئی۔ اور معرب کا اعراب لفظاً آتا ہے یا تقدیراً آتا ہے، بھئی، یہاں لفظاً آ رہا ہے۔ جی، بس کریں بھئی۔ جی۔
49 approved lectures · 29 of 49