Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-028

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔28 اچھا بھئی گزشتہ سبق میں الف لام کی قسمیں آپ نے پڑھی تھیں۔ میں نے بتلایا تھا الف لام دو قسم پر ہے، الف لام اسمی اور الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہوتا ہے اور یہ بمعنی الذی کے ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ الف لام دراصل ہے اسم موصول اور الف لام کی صورت میں آیا ہے، اس لیے اسے الف لام اسمی کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ جو دوسرا الف لام وہ حرفی کہلاتا ہے بھئی۔ الف لام حرفی، اور الف لام حرفی کی تعبیر یاد رکھنا بھئی ہمیشہ، اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اب اشارہ اگر جنس کی طرف ہو تو یہ الف لام جنسی، اگر افراد کی طرف ہو تو پھر یا تمام افراد کی طرف ہوگا یا بعض افراد کی طرف۔ اگر تمام افراد کی طرف ہو تو یہ الف لام استغراقی، اور اگر بعض افراد کی طرف ہو تو پھر بعض معین کی طرف اشارہ ہوگا یا بعض غیر معین کی طرف۔ اگر معین افراد کی طرف اشارہ ہو تو یہ الف لام عہد خارجی، اور اگر غیر معین کی طرف اشارہ ہو تو یہ الف لام عہد ذہنی ہے بھئی۔ اچھا بھئی، آج قال کی ترکیب کر لیتے ہیں بھئی۔ بھئی قال یاد رکھو فعل متعدی ہے بھئی، اور فعل متعدی فاعل کے ساتھ ساتھ مفعول کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ تو اس کے لیے بھی مفعول چاہیے، وہ مفعول اس کا مقولہ ہے بھئی۔ جو بات کہی جائے، وہ کیا ہے؟ مقولہ، مفعول ہے اس کا بھئی۔ تو وہ جملہ ہوگا اکثر، ہمیشہ تقریباً بھئی۔ مفرد بھی آ جاتا ہے، لیکن نہایت قلیل ہے، عموماً اکثر اس کا مقولہ جو ہے وہ جملہ ہوگا بھئی۔ پھر وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتا ہے، فعلیہ بھی ہو سکتا ہے، خبریہ بھی ہو سکتا ہے اور انشائیہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ اور اس کا صلہ لام آتا ہے بھئی۔ اس کا صلہ کیا آئے گا عموماً؟ لام آئے گا بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں قلْتُ لَکَ، دیکھو یہ لَکَ، یہ لام جو آیا یہ کیا ہے؟ قالَ کا صلہ ہے، یعنی قالَ سے یہ متعلق ہوگا بھئی۔ متعلق ہوگا اور یہ اس پر داخل ہوتا ہے جس سے بات کی جائے۔ جس سے بات کی جائے۔ مثلاً میں نے آپ سے بات کی تو میں کہوں گا قلْتُ لَکُمْ، اگر ایک ہے تو میں کہوں گا قلْتُ لَکَ، اگر میں نے مثلاً زید سے بات کی تو میں کہوں گا قلْتُ لِزَیْدٍ، میں نے زید سے کہا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اگر مثلاً میں کہتا ہوں زید نے مجھ سے کہا، تو کیسے کہوں گا؟ قالَ زَیْدٌ لِی، یا قالَ لِی زَیْدٌ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ لام صلہ آتا ہے، یہ اس پر داخل جس سے بات کی جائے۔ اور آگے آنے والا جملہ جو ہے، وہ اس کا مقولہ ہوتا ہے، مفعول ہوتا ہے۔ جی، اب کچھ ترکیبیں کر لیجیے۔ جی لکھیے بھئی، قالَ زَیْدٌ۔ قالَ زَیْدٌ اَنَا رَجُلٌ کَرِیْمٌ۔ اَنَا رَجُلٌ کَرِیْمٌ۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی، آپ کریں گے بھئی؟ ہاں، آپ سے کہہ رہا ہوں۔ قالَ فعل، زیدٌ مرفوع لفظاً فاعل، جی، اَنَا منصوب محلاً مبتدا، آپ نے منصوب کہا، محلاً کہا، منصوب کیوں کہا بھئی آپ نے؟ جی؟ مقولہ تو پورا جملہ بنے گا بھئی، اور پورا جملہ پھر کیا ہوگا محلاً منصوب، جملے کے اجزا پہ نہیں اعراب آیا کرتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جب جملے پورا جملہ جب مفعول بن رہا ہے تو پورا جملہ محلاً منصوب ہوگا، اس کے اجزا کا اعراب اسی طرح آئے گا بھئی، ہاں تو مبتدا جب آپ نے کہا تو مبتدا ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے، تو اَنَا مرفوع محلاً مبتدا، محلاً کیوں کہا آپ نے بھئی؟ مبنی ہے، شاباش، ضمیر ہے بھئی۔ رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف، پہلے اعراب بھئی، کَرِیْمٌ مرفوع لفظاً بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے بھئی؟ شاباش، صفت بن رہی ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، جی، شاباش، کَرِیْمٌ مرفوع لفظاً صیغہ صفتِ مشبہ، اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، اس کے اندر ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع ہے بھئی؟ صفت کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ موصوف سے، تو ھُوَ ضمیر راجع موصوف یعنی رَجُلٌ کو، اور صفتِ مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت، شاباش، موصوف اپنے صفت سے مل کر خبر بھئی، رَجُلٌ اس لیے مرفوع تھا کہ یہ خبر بن رہی تھی، جی، مبتدا، شاباش، یہ خبر ہوئی مبتدا کی، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، خبریہ ہو کر منصوب محلاً، پورا جملہ کیا ہے منصوب محلاً مقولہ ہوا جی، مفعول ہوا قالَ کے لیے، جی، قالَ اپنے فاعل اور مقولے سے مل کر مل کیا ہوا؟ جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بھئی، جی روانگی سے پڑھیے۔ قالَ زَیْدٌ اَنَا رَجُلٌ کَرِیْمٌ، جی ترجمہ کیجیے۔ زید نے کہا میں معزز آدمی ہوں۔ جی اگلا لکھیے جملہ۔ قلْتُ لَکَ۔ قلْتُ لَکَ اِضْرِبْ زَیْدًا۔ اِضْرِبْ زَیْدًا۔ جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ قلْتُ فعل بافاعل، فاعل کیا ہے اس کے اندر؟ تَ ضمیر اعراب بھئی، تَ ضمیر مرفوع محلاً فاعل، لام جارہ، شاباش، کَ ضمیر مجرور محلاً، شاباش، جار اپنے مجرور سے مل کر کس سے متعلق ہوا؟ قلْتُ، میں نے بتایا تھا قالَ کا صلہ لام آتا ہے، یہ اس سے متعلق ہوا بھئی، جی، جی اِضْرِبْ فعل، ہاں اِضْرِبْ فعلِ امر، اَنْتَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، شاباش، زَیْدًا منصوب لفظاً مفعول بہ، جملہ پہلے بناؤ بھئی، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، امر ہے بھئی، جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر مقولہ ہوا قال کے لیے، یعنی منصوب محلاً ہے یہ جملہ، جی، ہاں فعل اپنے فاعل، متعلق اور مقولے سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی روانگی سے پڑھیے۔ قلْتُ لَکَ اِضْرِبْ زَیْدًا، جی۔ جی روانگی، اِضْرِبْ کی ہمزہ گراؤ بھئی، قلْتُ لَکَ ضْرِبْ زَیْدًا، جی زَیْدًا، ترجمہ کیجیے۔ میں نے آپ سے کہا کہ زید کی آپ پٹائی کریں۔ جی اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ قالَ الْاُسْتَاذُ لِتَلَامِیْذَتِہٖ ھٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ قالَ الْاُسْتَاذُ لِتَلَامِیْذَتِہٖ ھٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ جی لکھ لیا بھئی؟ قالَ الْاُسْتَاذُ لِتَلَامِیْذَتِہٖ ھٰذَا ذِکْرٌ مُّبٰرَکٌ اَنْزَلَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی، جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی۔ قالَ فعل، شاباش، الْاُسْتَاذُ مرفوع لفظاً فاعل، مرفوع کیوں کہا آپ نے بھئی؟ فاعل مرفوع ہوتا ہے، شاباش، اور لفظاً کیوں کہا؟ کس چیز پر تلفظ ہو رہا ہے؟ رفع پر تلفظ ہو رہا ہے، قالَ الْاُسْتَاذُ، جی، لام جارہ، شاباش، تَلَامِیْذَ مجرور لفظاً مضاف، تین لفظ آپ نے کہے مجرور لفظاً مضاف، مجرور کیوں کہا آپ نے بھئی؟ ہاں لام جارہ داخل ہوا تو یہ مجرور ہوگا، لفظاً کیوں کہا؟ ہاں کیونکہ جر پر تلفظ ہو رہا ہے، جی، اور مضاف کیوں کہا آپ نے؟ شاباش، اسم کے ساتھ آگے ضمیر متصل آ رہی ہے اور اس صورت میں مضاف مضاف الیہ بنا کرتے ہیں، جی، ہاں لفظ کہو، ھِ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی، جی، غائب کی ضمیر، جی کس کو راجع؟ مرجع بھی بتلایا کرو بھئی، جی تلامذہ کے تلامذہ؟ جی ھِ ضمیر راجع استاذ کی طرف، جی، ضمیر مرجع میں مطابقت وہ بھی واحد مذکر یہ بھی واحد مذکر، جی، جی مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مجرور ہوا لام جارہ کے لیے، شاباش، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے قالَ فعل کے ساتھ بھئی۔ جی آپ نے کہا ھٰذَا مرفوع محلاً موصوف بھئی، جی مرفوع کیوں کہا؟ کیونکہ یہ مبتدا بنے گا، شاباش بھئی، مقولہ شروع ہو گیا وہ جملہ ہوتا ہے، ھٰذَا مرفوع محلاً، جی، اور موصوف کیوں کہا بھئی آپ نے؟ ہاں مبتدا بنے گا آگے تو نکرہ آ رہا ہے بھئی، موصوف نہیں بن سکتا، جی، تو ھٰذَا مرفوع محلاً مبتدا، شاباش، ذِکْرٌ مرفوع لفظاً موصوف، مرفوع کیوں کہا آپ نے بھئی؟ شاباش، یہ خبر بنے گی اور خبر مرفوع ہوتی ہے۔ مُبٰرَکٌ مرفوع لفظاً بھئی، جی صیغہ، جی صیغہ اسم مفعول، جی اس کے اندر ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل، بھئی اسم مفعول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، جی مرجع بتلا دیجیے۔ ذکر کی طرف راجع، ذکر کی طرف کیوں راجع کیا آپ نے ھُوَ ضمیر بھئی؟ کیونکہ یہ اس کی صفت ہے بھئی، ذکر کو کیا بنایا موصوف، یہ اس کی صفت، اور صفت کو موصوف سے جوڑا جاتا ہے، مبارک، کیا چیز مبارک ہے؟ ذکر بھئی، جی تو یہ مُبٰرَکٌ اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی ذکر کے لیے، جی، آگے بھی تو ہے جملہ بھئی، جی۔ صفت، تو یہ صفتِ ثانی بنے گی اس کے لیے۔ جی، تو مباركٌ بھئی، شبهِ جملہ ہو کر صفتِ اول ہوئی ذکر کے لیے، آگے انزل فعل ھا ضمیر منصوب ھا ضمیر منصوب محلاً ہاں، ھا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ فعل کے لیے، شاباش! مرجع بتلائیے بھئی۔ شاباش! انزلہُ، ذِکر، تو یہ راجع ہے بھئی کس کی طرف؟ ذکر کی طرف بھئی، جی۔ یہ عائد آ گیا بھئی دیکھا بھئی، ربط آ گیا موصوف کے ساتھ صفت کا۔ لفظِ اللہ مرفوع لفظاً فاعل ابھی فاعل نہ کہو بھئی، آگے بھی تعالی آ رہا ہے بھئی۔ کیا بنائیں گے اس کو بھئی؟ جی؟ میں نے بتلایا تھا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بناؤ؟ صفت بناؤ، معرفہ کے بعد فعل آئے تو کیا بناؤ؟ حال بنا کر، عموماً بھئی۔ تو لفظِ اللہ ہے معرفہ اس کے بعد فعل آیا تو وہ اس کے لیے حال بنے گا بھئی، تو لفظِ اللہ مرفوع لفظاً ذوالحال، مرفوع اس لیے کہ یہ انزل کا فاعل ہے بھئی، جی۔ ذوالحال ہوا، آگے تعالی فعل ھوا ضمیر ہاں، فعل آ گیا تو فوراً کیا چاہیے؟ فاعل، تو اس کے اندر ھوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ لفظِ اللہ کو، ذوالحال کو راجع، بھئی۔ جی، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ حال یہ حال، ذوالحال ہاں، جملہ فعلیہ بتقدیرِ قد یہ حال بنے گا، کیونکہ ماضی جب حال بنے تو وہاں کیا ضروری ہے؟ قد لفظوں میں یا تقدیرًا ہونا ضروری، تو یہ ماضی ہے قد تقدیرًا ہے، یہ حال ہوا بھئی، ذوالحال اپنے حال سے مل کر فاعل ہوا فاعل ہوا بھئی، فعل کے لیے انزل فعل کے لیے، فعل شاباش! فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفتِ ثانی ہوئی ذکر کے لیے۔ شاباش! موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر یہ خبر ہوئی ھٰذا مبتدا کے لیے۔ جی، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ، جی، منصوب محلاً مقولہ ہے، کس کا بھئی؟ قال کے لیے۔ قال فعل قال فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر اور مقولہ سے، ہاں، قال فعل اپنے فاعل اور متعلق اور مقولہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی، روانی سے پڑھیے بھئی۔ قال الاستاذ لتلامذتہ هذا ذکر مبارک انزله الله تعالی جی، ترجمہ کیجیے۔ استاد نے اپنے شاگردوں کے لیے کہا کہ یہ کے لیے کیوں؟ کے لیے کیوں بھئی؟ ہاں، میں نے کہا نہیں جس سے بات کی جائے اس پر لام داخل ہوتا ہے۔ استاد نے اپنے شاگردوں سے، اپنے تلامذہ سے کہا یہ ایسا مبارک ہاں، مبارک کو کبھی اردو میں کیا کرتے ہیں صفت کو بھئی؟ موصوف پر مقدم کر دیتے ہیں بھئی، تو یہاں ایک کو مقدم کر دو بھئی، ذرا آسان ہو جائے گا، یہ ایسا مبارک ذکر ہے جسے اللہ تعالی نے نازل فرمایا ہے بھئی۔ جسے اللہ تعالی نے نازل فرمایا نازل فرمایا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟ اچھا، یہ ایک فائدہ بھی بھئی یہ بھی سن لیں بھئی۔ کہ عربی میں دعائیں جو دی جاتی ہیں عموماً ماضی کے صیغوں سے دی جاتی ہیں بھئی۔ دعائیں کس کے ساتھ دی جاتی ہیں عموماً؟ ماضی کے صیغوں سے دی جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں بھئی، بزرگوں کا جب نام ہم لیتے ہیں جن کا انتقال ہو چکا ہو، ہم کیا کہتے ہیں؟ رحمہُ اللہ، رحمہ یہ کونسا صیغہ ہے بھئی؟ ماضی ہے، ماضی ہے۔ تو عربی میں دعا عموماً کس سے کس صیغے سے دی جاتی ہے؟ ماضی کے صیغے سے دی جاتی ہے، نیک فالی کے طور پر، تفاؤل کے طور پر، تفاؤل کے طور پر بھئی۔ کیونکہ ماضی میں جو بات ہو چکی وہ نہایت یقینی ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں، تو یہ دعا بھی ماضی کے صیغے کے ساتھ دی جاتی ہے تاکہ اسے بھی اللہ یقیناً کیا فرما لیں؟ قبول فرما لیں بھئی، قبول فرما لیں۔ اسی طرح بھئی مئۃٌ کا لفظ آپ لکھتے ہیں بھئی کہ رسم الخط کا ایک نقطہ بھی لکھ لیجیے۔ مئۃٌ بھئی، الف کے ساتھ لکھتے ہیں۔ مئۃٌ لکھنا آتا ہے بھئی؟ میم، الف، پھر دندانا جس پر ہمزہ ہوگی اور پھر آگے گول تا، میم، الف۔ یہ الف کیوں لکھتے ہیں بھئی؟ حالانکہ یہ پڑھنے میں تو نہیں آتا، یہ منہُ سے فرق کرنے کے لیے، کس سے فرق کرنے کے لیے؟ منہُ سے فرق کرنے کے لیے۔ اگر الف نہ لکھا جائے مئۃٌ لکھا جائے بھئی، تو پھر بعض اوقات ہمزہ واضح نہ ہوا، یہ تو پتا ہی نہیں چلے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ منہُ فوراً وہ تو بن جائے گا بھئی۔ تو الف لکھتے ہیں تاکہ غلطی کا امکان ہی نہ رہے وہاں پر بھئی۔ جی، اگلا جملہ لکھیے۔ جاء جاء زیدٌ العالمُ الذی فی الدار فی الدار جاء زیدٌ العالمُ الذی فی الدار، جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ جاء فعل جی، جاء فعل زیدٌ یہ مرفوع مرفوع لفظاً موصوف شاباش! زیدٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ العالمُ صفت جی موصوف اپنی اس صفت سے مل کر موصوف اپنی الف العالم بھئی، اس میں فاعل کا صیغہ ہے بھئی، الف لام اسمی بھئی، سمجھ میں آیا، ہاں اس میں فرق کرتے ہیں بھئی جو ثبوت کے معنی میں ہو، وہاں پر پھر الف لام حرفی ہی بناتے ہیں، لیکن چلیے بھئی وہ پھر پڑھیں گے آپ جب اس الف لام، جی آگے عالم یہ یہ بنے گی صفت اعراب بھئی۔ یہ بھی مرفوع ہوگی۔ مرفوع لفظاً جی، اسمِ فاعل اس کے اندر اسمِ فاعل ھوا ضمیر اس کا فاعل ھوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع بھئی؟ جو زید کو راجع بھئی، جی شاباش۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ صفت ہوئی زید کے لیے۔ آگے الذی اسمِ موصول اعراب، الذی کا الذی الذی کا اعراب یہ منصوب جی منصوب، منصوب جی، کیوں کہا آپ نے منصوب بھئی؟ کیوں؟ اس لیے کہ اس میں مفعول بنتا ہے، ہمم؟ بھئی، دیکھو معرفہ کے بعد میں نے کہا تھا ایک، دو، تین، چار جتنے معرفہ آئیں، کیا بناؤ سب کو آپس میں؟ موصوف، صفت، اور جب بن بھی رہے ہیں بھئی تو جاء فعلِ لازم ہے بھئی۔ تو یہ صفتِ ثانی بناؤ، العالمُ صفتِ اول ہوئی، آگے چلیے الذی الذی صفتِ ثانی، الذی اسمِ موصول اعراب یہ بھی مرفوع ہوگی، محلاً مرفوع محلاً اسمِ موصول۔ فی جارًّا فی جارًّا، جی۔ والداری مجرور الداری مجرور لفظاً۔ جار مجرور یہ مل کر یہ متعلق ہوئے جاء فعل کے لیے۔ جی، جار مجرور کس سے متعلق ہوئے؟ یہ جار مجرور مل کر یہ متعلق ثابتٌ جی، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتٌ کے ساتھ، جی، شبهِ فعل اور ھوا ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل نہیں، ثابتٌ صیغہ اسمِ فاعل بھئی، اس کے اندر ھوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کے کس کو راجع ہے؟ جو راجع ہے زید کی کس کو راجع ہے؟ زید کو راجع، جی، شاباش۔ جار مجرور مل کر یہ متعلق ہوئے ثابتٌ شبهِ فعل کے ساتھ، ثابتٌ شبهِ فعل ھوا ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل جو ضمیر راجع ہے زید کی طرف جی، تو ثابتٌ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور اور شبهِ فعل اور متعلق سے مل کر ثابتٌ اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ تو جملہ نہیں بنے گا، یہ تو شبهِ جملہ بنے گا بھئی۔ شبهِ جملہ ہو کے یہ مجرور ہوا، شبهِ جملہ ہو کر کیا ہوا؟ شبهِ جملہ ہو کر یہ صفت اسمِ موصول کے لیے صلہ ہوا۔ صلہ ہوا، صلے کے لیے جملہ ہونا چاہیے یا شبهِ جملہ ہونا چاہیے بھئی؟ بھئی موصول کچھ بھی نہیں بن سکتا، اس کے لیے صلہ چاہیے اور صلہ ہمیشہ جملہ ہوا کرتا ہے بھئی۔ اس کے لیے پھر کہیں گے ثبت شاباش! فی الدار کو ثابتٌ سے نہ جوڑو بھئی، کس سے جوڑو؟ ثبتَ فعل سے، ثبتَ فعل اس کے اندر ھوا ضمیر مرفوع محلاً فاعل بھئی، جی۔ ثبتَ فعل ھوا ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، جی، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا صلہ ہوا الذی کے لیے، بھئی کیسے صلہ بناتے ہو؟ آپ نے کوئی ربط دیا نہیں ہے اور جملے کو صلہ بنا رہے ہو، ھوا ضمیر جو ہاں، ھوا ضمیر جو آپ نے زید کو راجع کی تھی وہ کس کو راجع ہے بھئی؟ وہ الذی کی طرف الذی کو راجع ہے اور الذی سے مراد ہے وہی زید بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی کی صفت ہے۔ اسمِ موصول اسمِ موصول اپنے صلے سے مل کر جی۔ یہ صفت ہوگی۔ شاباش! اسمِ موصول اپنے صلے سے مل کر اب یہ صفت پھر صفتِ ثانی ہوئی زید کے لیے، موصوف اپنی دونوں صفتوں سے مل کر دونوں صفتوں سے مل کر فاعل ہوا جاء کے لیے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، بس دو ہی چیزیں ہیں بھئی، ایک فعل ہے اور ایک فاعل، جی، روانی سے پڑھیے۔ جاء زیدٌ جاء زیدٌ العالمُ الذی فی الداری جاء زیدٌ العالمُ الذی فی الداری نہیں بھئی جاء زیدٌ جاء زیدٌ العالمُ الذی فی الداری جوڑ کر پڑھو بھئی، جوڑ کر، رکنا نہیں کہیں پر، روان زیدٌ نِ ال ہاں، شاباش! زیدٌ کی تنوین وہ نونِ ساکن ہے بھئی، وہ نون بھی ساکن، ساکن بھئی، العالمُ بھئی، اس میں ہمزہِ وصلی تھا گر گیا، لام بھی ساکن، تو پھر نون کو کیا دے دیں گے؟ کسرہ۔ جاء زیدٌ نِ العالمُ الذی فی الداری شاباش! جاء زیدٌ نِ العالمُ الذی فی الداری، ترجمہ کیجیے۔ آیا میرے پاس زید جو کہ عالم ہے۔ آیا میں آیا وہ زید جو کہ عالم ہے فی الدار گھر میں۔ ہاں، عالم کو مقدم کر دو زید پر بھئی ایک صفت، مقدم کر دو، باقی اسی طرح رکھ لو۔ آیا وہ عالم زید الذی فی الدار، جو کس میں تھا؟ گھر میں جو گھر میں تھا، جی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ قال رجلٌ یضربُ زیدٌ یضربُ زیدٌ انا ابوہُ انا ابوہُ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی، کیجیے بھئی۔ قال فعل قال فعل رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف شاباش! رجلٌ مرفوع رجلٌ مرفوع لفظاً موصوف، کیسے پتا چلا یہ موصوف ہے بھئی؟ نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے، جی۔ یضربُ فعل یضربُ فعل ھوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل اس کے اندر ھوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ زیداً منصوب لفظاً مفعول زیداً منصوب لفظاً بھئی۔ جی، موصوف کیوں بناتے ہو بھئی؟ کیا وجہ ہے؟ کیا ہے؟ معرفہ کے بعد معرفہ آ رہا ہے، زیدٌ بھی معرفہ، آگے انا ضمیر بھی بھئی، ترجمہ ہی نہیں بنتا، غور کرو۔ زیدٌ انا، اے وہ زید جو انا، جو میں ہے، جو میں ہوں، وہ زید جو میں ہے، پتا نہیں معنی ہی نہیں بنتا بھئی۔ بھئی، یاد رکھو یہ ضمیر آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ صراحتاً لکھتے ہیں بھئی، صاحبِ ہدایت النحو وغیرہ کہ ضمیر اور اسی طرح صاحبِ کافیہ وغیرہ ضمیر نہ موصوف بنا کرتی ہے کبھی، نہ کبھی صفت بنتی ہے۔ ضمیر کبھی بھی بھئی، موصوف بھی نہیں بنتی اور صفت بھی نہیں بنتی، یاد رکھنا ہمیشہ، کبھی اس کو موصوف نہ بنانا، کبھی اس کو صفت نہ بنانا۔ زیداً مفعول بہ شاباش! زیداً منصوب لفظاً مفعول بہ بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر یہ صفت ہوئی رجلٌ کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صفت ہوئی رجلٌ کے لیے، لیکن کیسے آپ نے صفت بنا دی؟ ھوا ضمیر راجع ہے ہاں، ربط نہیں بتایا تھا آپ نے، یضربُ کے اندر جو ھوا ضمیر ہے وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ رجلٌ موصوف کی طرف بھئی، جی۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر بھئی، یہ فاعل ہوا قالَ کے لیے۔ انا مرفوع محلاً مبتدا ہاں، دیکھا قالَ آیا تھا، اس کے لیے ہمیں مقولہ چاہیے تھا، تو آپ پہلے سے نظر رکھتے مقولہ آگے کہاں سے بن رہا ہے، اس کے علاوہ باقی کی ترکیب اور آسان ہو جاتی۔ جی، تو انا مرفوع محلاً مبتدا۔ ابوہُ مرفوع لفظاً ابوہُ مرفوع لفظاً مضاف ابوہُ مرفوع لفظاً مضاف بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ یہ خبر ہے خبر مرفوع ہوتی ہے، لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ ہاں، یہ اسماءِ ستہ مکبرہ میں سے ہے، اسماءِ ستہ مکبرہ، موحدہ، مضافہ، الی غیرِیاءِ الـ ہاں! اس کے ساتھ ضمیر متصل آ رہی ہے، اور جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آئے وہاں کیا ترکیب کرتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ مضاف الیہ بنے گا آگے تو ابوہ مرفوع لفظاً مضاف، ھا ضمیر ھا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی۔ مرجع بتلاؤ بھئی۔ جی؟ انا کو، وہ ھا ضمیر لوٹاتے ہو بھئی؟ ترجمے پہ بھی غور کر لیا کرو، آدھا تو وہیں سے پتہ چل جاتا ہے ہر چیز کا۔ زید کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ہاں! یہ زید کی طرف لوٹ رہی ہے بھئی، شاباش، جی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر خبر، مضاف مضاف الیہ مل کر خبر مبتدا کی، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر منصوب محلاً بھئی، یہ جملہ کیا ہے؟ مقولہ ہے، منصوب ہے، یہ مقولہ ہوا، قال فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مقولے سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ قال رجل یضرب زیداً انا ابوہ۔ قال رجل یضرب زیداً انا ابوہ، ترجمہ کیجئے۔ کہا ایسے شخص نے جس نے مارا زید کو کہ میں اس کا باپ ہوں، ہاں! کہا ایسے آدمی نے جو کہ پٹائی کر رہا تھا زید کی انا ابوہ، یا جو پٹائی کر رہا ہے زید کی، اس شخص نے کہا انا ابوہ میں اس زید کا باپ ہوں بھئی، چلیے بس کریں بھئی آج کا۔ اوہو! میں نے کہا تھا خبر جب جملہ ہو یا شبہ جملہ ہو، تب وہاں پر عائد کی ضرورت پڑتی ہے، ہر جگہ نہیں عائد کی ضرورت پڑتی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں کہتا ہوں: زيد رجل، زید مبتدا، رجل خبر، کوئی عائد ہے؟ نہیں بھئی۔ جہاں جملے یا شبہ جملہ کو کسی سے جوڑو وہاں ربط کی ضرورت ہے، کیونکہ جملہ کیا ہوتا ہے؟ مستقل، اس کو کسی سے جڑنے کی حاجت نہیں بھئی، تو وہاں پر ربط کی ضرورت بھئی، تو جملے کا یہ حکم ہے تو جو اس کے مشابہ ہے اس کا بھی یہی حکم ہے، شبہ جملہ کا بھی یہی حکم، وہاں پر بھی ضمیر کی ضرورت۔ سمجھ میں آیا بھئی مسئلہ؟ چلیے بھئی! بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین۔
49 approved lectures · 28 of 49