Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-027

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔27 اچھا بھئی! آج الف لام کی بحثیں کریں گے۔ الف لام دو قسم پر ہے بھئی: الف لام اسمی اور الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے، جو اسم فاعل اور اسم مفعول پر داخل ہو۔ یہ بمانی الذی کے ہوتا ہے۔ یعنی یہ دراصل اسم موصول ہے، جو بصورتِ الف لام آیا ہے۔ یہ دراصل اسم موصول ہے، جو بصورتِ الف لام آیا ہے؛ اس لیے اسے الف لام اسمی کہتے ہیں بھئی؛ کیونکہ یہ کس معنی میں ہے؟ اسم موصول کے معنی میں۔ جیسے الضارب تو الضارب بھئی، یہ بمانی الذی یضرب کے ہے۔ اور المضروب بمانی الذی یضرب کے ہے۔ تو دیکھو بھئی! میں نے کیا بتلایا آپ کو؟ کہ الضارب کس معنی میں ہے؟ الذی یضرب بھئی۔ تو یہ اصل میں تھا الذی یضرب، پھر الذی کو کون سی صورت دے دی بھئی؟ الف لام والی صورت دے دی۔ تو آگے یضرب جو صلہ آ رہا تھا، وہ جملہ تھا؛ کیونکہ فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بن جاتا ہے؟ جملہ۔ اور صلے کا جملہ ہونا ضروری۔ تو جب ہم نے اسم موصول کو الف لام والی صورت دے دی، تو الف لام تو مفرد پر داخل ہوتا ہے، جملے پر داخل نہیں ہوتا؛ اس لیے یضرب کو ہم نے ضارب کی شکل دے دی، مفرد کی شکل دے دی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یضرب کو بھی ہم نے پھر کون سی صورت دے دی؟ مفرد والی صورت دے دی۔ اور جیسے المضروب کس معنی میں؟ الذی یضرب۔ تو یہاں پر بھی الذی یضرب تھا۔ الذی کو ہم نے کون سی صورت دے دی؟ الف لام والی۔ اور الف لام تو اب یضرب پر داخل نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ وہ تو جملہ ہے بھئی۔ تو پھر اس کو ہم نے مفرد والی صورت دے دی کون سی؟ مضروب والی تو المضروب بن گیا۔ کیا بن گیا؟ المضروب۔ تو یہ ہے الف لام اسمی بھئی۔ تو جو بھی اسم فاعل پر الف لام آئے گا، وہ کون سا ہے اسم فاعل یا اسم مفعول پر؟ وہ الف لام اسمی ہے۔ ہاں! بعض پھر فرق کرتے ہیں بھئی۔ وہ اسم فاعل اور اسم مفعول اسم مفعول جو حدوث کے معنی میں ہوں، اس پر کہتے ہیں یہ الف لام اسمی آئے گا اور جو ثبوت کے معنی میں ہو اس پر حرفی ہی آتا ہے۔ وہ آگے آپ تفصیل پڑھیں گے، بس یہاں مختصر بات یاد رکھیں بھئی۔ تو لہٰذا القاتل اس پر یہ الف لام کون سا ہے؟ اسمی۔ یہ کس معنی میں ہے؟ الذی یقتل اور المقتول اس پر بھی الف لام کون سا ہے؟ اسمی؛ کیونکہ اس میں مفعول کا صیغہ ہے، تو یہ المقتول کس معنی میں ہوا؟ الذی یقتل بھئی۔ دوسرا ہے الف لام حرفی بھئی۔ الف لام حرفی۔ الف لام حرفی کی بھئی بہترین تعبیر ہے، ہمیشہ یاد رکھنا بس کہ یہ کہنا الف لام حرفی کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ الف لام حرفی کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آئے گا بھئی، اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو اس کے ذریعے کبھی یا تو اشارہ ہوگا جنس کی طرف بھئی۔ الف لام حرفی کے ذریعے کبھی کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ جنس کی طرف اشارہ ہوگا قطع نظر افراد کے۔ قطع نظر افراد کے۔ اور کبھی اشارہ ہوگا افراد کی طرف۔ اور کبھی اشارہ ہوگا افراد کی طرف۔ اور جب افراد کی طرف اشارہ ہو تو تمام افراد مراد ہوں گے یا بعض افراد۔ اور جب افراد کی طرف اشارہ ہو تو تمام افراد مراد ہوں گے یا بعض افراد۔ اگر بعض افراد مراد ہیں تو پھر وہ معین ہوں گے یا غیر معین۔ وہ معین ہوں گے یا غیر معین۔ جی! لکھ لیا بھئی؟ تو چار صورتیں ہو گئیں۔ بھئی! الف لام حرفی کس لیے آیا کرتا ہے؟ کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے۔ یہ لفظ ہمیشہ یہ جملہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ تو پھر اس کے ذریعے یا تو اشارہ ہوگا جنس کی طرف، افراد کی طرف نہیں بھئی۔ تو یہ کیا کہلائے گا؟ الف لام جنسی۔ کیا کہلائے گا؟ اور اگر جنس کی طرف نہیں اشارہ، بلکہ کس کی طرف اشارہ ہے؟ افراد کی طرف اشارہ ہے، تو پھر یا سارے افراد کی طرف اشارہ ہوگا یا بعض کی طرف۔ اگر ساروں کی طرف اشارہ ہے، تو یہ الف لام استغراقی ہوا۔ اور اگر بعض کی طرف اشارہ ہے، تو وہ بعض پھر یا معین ہوں گے یا غیر معین۔ اگر معین ہیں تو وہ الف لام عہد خارجی ہوا اور اگر وہ غیر متعین ہیں تو وہ الف لام عہد ذہنی ہوا بھئی۔ ذہنی ہوا۔ تو چار قسمیں ہوئیں: الف لام جنسی، الف لام استغراقی، الف لام عہد خارجی اور الف لام عہد ذہنی بھئی۔ تو خلاصہ کلام یہ! الف لام جنسی کے ذریعے اشارہ ہوگا جنس کی طرف، افراد کی طرف نہیں۔ الف لام استغراقی میں اشارہ ہوگا تمام افراد کی طرف۔ الف لام عہد خارجی میں بعض معین افراد کی طرف اشارہ ہوگا اور الف لام عہد ذہنی میں بعض غیر معین افراد کی طرف اشارہ ہوگا بھئی۔ ذہن میں بعض افراد کا تصور کر لیا اور ان کی طرف اشارہ کر دیا۔ مثالیں ہیں ان کی بھئی۔ الف لام جنسی کی مثال: الرجل خير من المرأة۔ الرجل خير من المرأة۔ مرد عورت سے افضل ہے، بہتر ہے۔ لیکن کیا معنی؟ الف لام آیا بھئی! الف لام کس پر داخل ہو رہا ہے؟ اسم فاعل یا اسم مفعول پر یا کسی اور لفظ پر بھئی؟ اسم فاعل یا اسم مفعول پر نہیں معلوم، یہ الف لام اسمی نہیں، تو پھر کون سا ہوگا؟ الف لام حرفی۔ پھر اس میں چار صورتیں تھیں؛ تو یہاں پر جنس کی طرف اشارہ ہے، افراد کی طرف اشارہ نہیں ہے بھئی۔ یعنی جنس رجل افضل ہے کس سے؟ جنس عورت سے۔ افراد نہیں مراد بھئی؛ ورنہ تو بعض عورتیں مردوں سے افضل ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ نیک خاتون ہے بھئی ایک، وہ فاسق مرد سے بہتر ہے بھئی۔ تو افراد بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن جنس رجل من حيث الجنس جو ہے رجل وہ کیا ہے افضل ہے کس سے؟ جنس عورت سے بھئی۔ الف لام استغراقی کی مثال بھئی۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ان الانسان لفی خسر۔ ان الانسان لفی خسر۔ انسان پر الف لام آیا بھئی۔ تو یہ الف لام اسمی تو نہیں؛ کیونکہ انسان جو ہے اسم فاعل یا اسم مفعول نہیں۔ معلوم ہوا یہ الف لام حرفی ہے۔ اور یہاں پر جنس انسان نہیں مراد، بلکہ افراد مراد ہیں اور تمام افراد مراد ہیں کہ تمام انسان کس میں ہیں؟ خسارے میں ہیں الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات مگر وہ لوگ جو ایمان لائے بھئی۔ تو یہ الانسان پر الف لام استغراقی ہے، تمام افراد انسان مراد ہیں۔ الف لام عہد خارجی کی مثال بھئی۔ جیسے قرآن میں آتا ہے: فعصى فرعون الرسولا۔ فعصى فرعون الرسولا۔ نافرمانی کی فرعون نے اس رسول کی بھئی۔ یہاں رسول سے پر الف لام آیا، یہ الف لام اسمی نہیں ہے، بلکہ کون سا ہے؟ حرفی۔ اور پھر یہاں پر جنس نہیں مراد بھئی۔ تمام افراد بھی نہیں مراد بھئی رسول کے، بلکہ معین فرد مراد ہیں بھئی؛ معین فرد مراد ہیں جو خارج میں متعین ہیں، تو یہ الف لام کون سا ہوا بھئی؟ عہد خارجی ہوا بھئی، عہد خارجی۔ معہود کا معنی ہوتا ہے متعین بھئی۔ معہود کا کیا معنی ہے؟ متعین۔ اسی سے یہ عہد ہے بھئی۔ اچھا بھئی! الف لام عہد ذہنی کی مثال بھئی۔ جیسے قرآن میں آتا ہے: اخاف ان يأكله الذئب۔ اخاف ان يأكله الذئب۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا، جب وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو لے جا رہے تھے، ذکر کر رہے تھے؛ انہیں ہم لے کر جاتے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑیا کھا جائے گا۔ تو الذئب پر الف لام آیا، یہ الف لام اسمی نہیں ہے، بلکہ کون سا ہے؟ حرفی۔ اور حرفی میں پھر کون سا ہے بھئی؟ جنسی نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ کسی چیز کی جنس کسی کو کھاتی نہیں ہے، بلکہ اس کا فرد؛ بھیڑیے کی جنس نہیں کھائے گی، بلکہ اس کا فرد کھائے گا کوئی بھئی۔ اور پھر تمام بھیڑیے بھی نہیں مراد، ساری دنیا کے بھیڑیے مراد تھے وہاں سارے مل کر کھا لیں گے؟ نہیں۔ کوئی متعین بھیڑیا مراد تھا بھئی؟ متعین بھی نہیں۔ تو یہ کوئی ایک فرد جس کا انہوں نے ذہن میں تصور کیا، اس کی طرف اشارہ کر دیا الف لام کے ذریعے؛ تو یہ کیا ہوا؟ الف لام عہد ذہنی ہوا۔ خارجی میں کوئی متعین بھیڑیا نہیں مراد کہ فلاں بھیڑیا اس کو کھا لے گا، بلکہ کوئی بھیڑیا اس کو کھا لے گا۔ تو یہ الف لام عہد ذہنی ہوا بھئی۔ تو الف لام کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے، کبھی کس کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ جنس کی طرف۔ کبھی کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ تمام افراد کی طرف۔ کبھی کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ بعض معین افراد کی طرف اور کبھی اشارہ ہوگا غیر معین۔ تو یہاں پر بھی الذئب کا لفظ آیا، غیر معین بھیڑیا مراد ہے، کوئی ایک فرد اس کا ذہن میں تصور کیا اور الف لام کے ذریعے کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کر دیا بھئی۔ تو یاد رکھیے یہ جو چار قسمیں ہیں بھئی، الف لام حرفی کی، الف لام جنسی، استغراقی، عہد خارجی اور عہد ذہنی۔ یہ تینوں الف لام جب داخل، چاروں قسمیں جب کسی کلمے پر داخل ہوں گی، تو اس کو معرفہ بنا دیں گی۔ کیا بنا دیں گی؟ معرفہ بنا دیں گی۔ لفظوں کے اعتبار سے۔ اور پہلی تین قسمیں معنی کے اعتبار سے بھی معرفہ بنا دیں گی، لیکن آخری قسم معنی کے اعتبار سے معرفہ نہیں ہوگی بھئی۔ پہلی تین قسمیں ہیں جو ہیں بھئی، چاروں قسمیں بلکہ لفظوں کے اعتبار سے معرفہ بن جائیں گی، لیکن معنی کے اعتبار سے پہلی تین تو معرفہ بنی، آخری قسم معرفہ نہیں بنی۔ تو یوں کہو: الف لام جنسی جو ہے، یہ لفظ اور معنی دونوں میں تعارف کا فائدہ دیتا ہے۔ الف لام استغراقی یہ لفظ میں بھی تعریف کا فائدہ دیتا ہے اور معنی میں بھی۔ تیسری قسم کیا تھی؟ الف لام عہد حرف، لفظوں کے اعتبار سے بھی وہ معرفہ ہو جائے گا وہ کلمہ اور معنی کے اعتبار سے بھی معرفہ ہو جائے گا۔ لیکن یہ جو الف لام عہد ذہنی ہے بھئی، جس میں غیر معین کی طرف اشارہ ہوتا ہے، وہ لفظوں کے اعتبار سے تو معرفہ بن جائے گا، یعنی مبتدا وغیرہ بن سکتا ہے، لیکن معرفہ معنی کے اعتبار سے اب بھی وہ نکرہ ہے بھئی۔ ذئب اور الذئب یہ برابر ہیں بھئی۔ ذئب اور الذئب برابر ہیں معنی کے اعتبار سے؛ ہاں! لفظوں کے اعتبار سے الذئب معرفہ ہے اور ذئب کیا ہے؟ نکرہ ہے۔ تو دیکھیے! مثلا آپ کہتے ہیں رجل، کیا ترجمہ کرتے ہیں رجل کا؟ جی! کوئی ایک آدمی۔ کوئی متعین ہے؟ نہیں، لیکن جب آپ کہتے ہیں الرجل، تو وہ شخص کیا ہوتا ہے کوئی متعین مراد ہوگا۔ لیکن یہاں پر الذئب کوئی متعین بھیڑیا مراد ہے؟ کوئی متعین بھیڑیا مراد نہیں۔ تو یہ متعین بھیڑیا نہیں مراد بھئی، غیر معین مراد ہے۔ تو لہٰذا اس کا ترجمہ بھی اسی طرح ہوگا۔ مجھے خوف ہے ان يأكله الذئب کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے گا، کیا؟ کوئی بھی کوئی بھیڑیا کھا جائے گا بھئی۔ تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلی تینوں قسمیں لفظاً بھی معرفہ اور معناً بھی اور آخری قسم لفظاً تو معرفہ ہے، لیکن معناً معرفہ نہیں۔ یہ الف لام کی قسمیں ہیں۔ اچھا! چلیے بھئی، کچھ جملے کی ترکیب بھی کر لیجیے۔ یہ قسمیں یاد رکھنا بھئی الف لام کی۔ جی، لکھیے! قراْت۔ مقدمہ۔ قراْت۔ مقدمہ۔ الكتاب۔ الكتاب۔ وما بعدها۔ وما بعدها۔ لکھ لیا بھئی؟ جی! کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی! چلیے، کیجیے بھئی۔ قراْت فعل بافاعل۔ قراْت فعل بافاعل۔ تو ضمیر مفعول اندر مسند محل میں۔ توء ضمیر مرفوع محلاً اسم فاعل کے اندر اس کا فاعل بھئی۔ مقدمہ مقدمہ مقدمہ۔ مقدمہ توئی۔ مضاف۔ اعراب چاہیے۔ بھئی۔ مقدمتہ منسوب۔ منسوب لفظاً مضاف۔ منسوب لفظاً مضاف، اچھا تین لفظ آپ نے کہے، منسوب کیوں کہا؟ یہ مفعول ہے۔ شاباش! فاعل آ چکا، اب آگے مفعول ہی، منسوبات ہی آئیں گے، تو یہ مفعول بنے گا۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر رہے ہیں نصب پر مقدمۃ الکتاب۔ اور مضاف کیوں کہا آپ نے؟ یہ۔ نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ معرفہ اور نکرہ کے بعد معرفہ ہے تو عموماً کیا ترکیب ہوتی ہے؟ مضاف مضاف الیہ کی۔ جی! المجاری مضاف الیہ۔ اعراب بھئی۔ الكتاب مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ مضاف الیہ مل کر یہ۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر معطوف علیہ۔ و حرف عطف۔ و حرف عطف۔ ما اسم موصول۔ اعراب بھئی۔ ما اسم مضاف مجرور محلاً اسم موصول۔ شاباش! ما منصوب محلاً اسم موصول۔ بھئی! منصوب کیوں کہا؟ کیونکہ یہ۔ معطوف اور معطوف معطوف علیہ کی روایت ہے۔ شاباش! اس کا عطف مقدمہ پر ہے اور وہ منصوب تھا، تو یہ بھی منصوب اور محلاً کیوں کہا آپ نے؟ یہ مبنیات میں سے ہے، جی شاباش! بعدا۔ بعدا مضاف۔ اعراب بھئی۔ جو بھی اسم آئے، اس کا اعراب بتاتے جاؤ، دیکھتے جاؤ، عبارت حل ہوتی جائے۔ بعدا منصوب لفظاً مضاف۔ بعدا منصوب لفظاً مضاف بھئی۔ جی! منصوب کیوں کہا آپ نے؟ یہ۔ پورے جملے نے بننا ہے تو پھر ایک ایک جز تو اس کا منصوب نہیں ہوتا بھئی۔ پھر تو پورا جملہ آپ ہمیں کہیں منصوب ہے بھئی۔ صلے کا محل جہاں بھی نہیں، صلہ بس۔ جی۔ صلے کے اجزاء کا تو ہوتا ہے نا۔ صلے کے اندر مبتدا یا خبر یا فعل فاعل آتے ہیں، ان کا تو اعراب ہوتا ہے، ہاں پورے صلے کا من جملہ بن جاتا ہے صلے کے ہونے کی حیثیت سے اس کا کوئی اعراب نہیں۔ جی۔ منسوب کیوں کہا، منسوب بھئی۔ شاباش! بھئی قبل، بعد، وغیرہ یہ کیا بنا کرتے ہیں؟ بھئی یہ کچھ لفظ ہیں، یہ عموماً اکثر ہمیشہ یہ بھئی تقریباً مفعول فی بنا کرتے ہیں بھئی ہمیشہ۔ تو یہ مفعول فی بنے گا اور مفعول فی منصوب ہوتا ہے، اس لیے بھئی۔ بعدا۔ یرحمك اللہ۔ جی! بعداً منصوب لفظاً مضاف۔ بعداً منصوب لفظاً مضاف تو منصوب ہے، یہ مفعول فی ہونے کی وجہ سے اور آپ نے مضاف کیوں کہا بھئی، کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ یہ۔ نکرے کے بعد معرفہ۔ جی! میں نے بتایا تھا جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل ہو کیا بناؤ وہاں؟ مضاف مضاف الیہ۔ جی! ھا ضمیر مضاف۔ ھا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ ھا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی، جی۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ صلہ ہوا۔ صلہ اپنے مفرد کو بنا دیا۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ صلہ ہوا، صلہ اپنے مفرد کو بنا دیا، جملہ چاہیے۔ ہم اس صلے کے اندر۔ فتح کے اندر۔ ہاں! فتح کے اندر جو ہوا ضمیر ہے، وہ راجع ہے کس کو؟ ماں کو دیکھا، میں نے کہا تھا جو غائب کی ضمیر آئے، اس کا مرجع تلاش کیا کرو بھئی، بعد میں پریشانی نہیں ہوگی۔ تو یہ صلہ ہوا بھئی موصول کا، موصول اپنے صلے سے مل کر معطوف ہوا بھئی مقدمۃ الکتاب پر، جی۔ معطوف اپنے معطوف علی سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا کس کے لیے؟ قراْت فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے پڑھیے۔ قراْت مقدمۃ الكتاب وما بعدها۔ شاباش! دیکھا ہر لفظ کا اعراب پتہ چل چکا ہے، اب اس کو پڑھ لیجیے۔ قراْت مقدمۃ الكتاب وما بعدها ترجمہ کیجیے۔ میں نے پڑھا کتاب کا مقدمہ اور دود کے بعد۔ ہاں! میں نے پڑھا کتاب کا مقدمہ اور وہ جو صَبَتْ بعدها جو اس مقدمے کے بعد ہے ثابت ہے؛ تو میں نے مقدمہ پڑھا اور جو مقدمے کے بعد ہے، اسے پڑھو بھئی۔ جی! اگلا جملہ لکھیے۔ نظرْت۔ فی۔ فی۔ الفصل۔ الفصل۔ الاول۔ الاول۔ وفي۔ ما قبله۔ وفي ما قبله۔ جی! کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی! کیجیے بھئی آپ۔ نظرْت۔ فعل تو ضمیر فاعل۔ جی! نظرْت فعل بافاعل، توء ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل بھئی۔ فی حرف جارہ۔ فی جار۔ یرحمك اللہ۔ جی! الفصل۔ اونچا الحمدللہ کہا کریں بھئی، سارے طلباء اولیاء اللہ بیٹھے ہیں، اتنے لوگوں کی دعا آپ کو مل جائے گی بھئی، جی۔ فی جارہ بھئی۔ جارہ الفصل۔ الفصلی مجرور لفظاً۔ الفصلی مجرور لفظاً، مجرور کیوں کہا بھئی؟ کیونکہ حرف جر داخل۔ کیونکہ حرف جر داخل ہو رہا ہے بھئی اور لفظاً اس لیے کہ تلفظ ہو رہا ہے اس جار پر، جی۔ موصوف۔ شاباش! الفصلی مجرور لفظاً مووصوف؛ کیونکہ معرفہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ معرفہ تو موصوف صفت بنیں گے۔ موصوف، الاولی۔ الأول۔ مجرور لفظاً۔ صفت۔ مجرور لفظاً صفت بھئی، جی۔ موصوف صفت مل کر مجرور۔ موصوف صفت مل کر مجرور۔ جار مجرور مل کر ایک متعلق نظر۔ جار مجرور بھئی آگے ایک اور وفي ما قبله آ رہا ہے، تو اس جار مجرور کو کیا بنا دو بھئی اس ظرف کو؟ معطوف علیہ بناؤ بھئی، معطوف علیہ۔ جار مجرور مل کر معطوف علیہ۔ جار مجرور مل کر یہ معطوف علیہ۔ و عاطفہ۔ و حرف عطف۔ ما۔ اسم موصول۔ اعراب بھئی۔ ما اسم ذکر منصوب محلاً اسم موصول۔ شاباش! ما منصوب محلاً اسم موصول، بھئی منصوب کیوں کہا؟ یہ۔ معطوف مندر معطوف معطوف علیہ کے رائے ہے۔ شاباش! اس کا عطف مقدمہ پر ہے اور وہ منصوب تھا، تو یہ بھی منصوب اور محلاً کیوں کہا آپ نے؟ یہ مبنیات میں سے ہے، جی شاباش! بعدا۔ بعدا۔ منسوب لم۔ منسوب محلاً۔ مضاف۔ قبل منصوب محلاً مضاف بھئی۔ آپ نے کہا منسوب محلاً مضاف تینوں کی وجہ ذکر کیجیے، منسوب کیوں کہا بھئی؟ یہ۔ شاباش! یہ کیا بنے گا؟ مفعول فی بھئی، قبل و بعد میں نے بتایا مفعول فی بنتے ہیں۔ جی! محلاً کیوں کہا آپ نے؟ ہاں، منسوب لفظاً۔ ہاں، منسوب لفظاً ہے، شاباش! بھئی۔ اور۔ اور۔ منسوب لفظاً مضاف آپ نے کہا تھا۔ مضاف کیوں کہا آپ نے؟ یہ۔ اس معرفہ کے بعد۔ جی۔ میں نے بتایا تھا جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل ہو کیا بناؤ وہاں؟ مضاف مضاف الیہ۔ جی۔ ھا ضمیر مزاھا ضمیر منسوب۔ حا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ حا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی، جی۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے صلہ۔ صلہ اپ نے مفرد کو بنا دیا۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ صلہ ہوا، صلہ اپنے مفرد کو بنا دیا، جملہ چاہیے ہمیں صلے کے اندر۔ جی۔ بعد ہے یہ صبت پھر۔ شاباش! بھئی! بعد جب آپ نے کہہ دیا تھا یہ مفعول فی ہے، تو مفعول فی کے لیے عامل چاہیے یا نہیں؟ کوئی عامل ہوگا تو یہ مفعول فی بنے گا، عامل ہی نہیں تو یہ مفعول فی کا کیا معنی بھئی؟ مفعول فی کے لیے تو کیا چاہیے ہمیشہ؟ عامل چاہیے، کس نے اس کو نصب دیا ہے؟ تو یہ مت- مفعول فی ہوا، مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فی ہوئے صَبَتْ فعل کے لیے۔ صَبَتْ فعل، اس کے اندر ہوا ضمیر، مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ہاں صَبَتْ فعل، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل بھئی، جو کس کو راجع ہے۔ ما تو۔ جی! یہ ما موصولہ کو راجع ہے، یہ عائد ہے اس نے ربط دیا صلے کو موصول کے ساتھ، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فی سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا۔ شاباش! فعل اپنے صَبَتْ فعل اپنے فاعل اور مفعول فی سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا ما موصولہ کا، موصول صلہ مل کر مجرور فی کے لیے۔ جار مجرور مل کر یہ کیا ہوئے؟ معطوف ہوئے بھئی، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر اب یہ متعلق کس سے ہوئے؟ نظرْت فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ نظرْت في الفصل الأول وفي ما قبله۔ شاباش! دیکھا ہر لفظ کا اعراب پتہ چل چکا ہے، اب اس کو پڑھ لیجیے، نظرْت في الفصل الأول وفي ما قبله ترجمہ کیجیے۔ میں نے دیکھا۔ جی۔ نظرْت میں نے دیکھا، میں نے نظر کی۔ فصل اول۔ جی، پہلی فصل میں۔ پہلی فصل میں اور وہ جو ثابت ہے اس سے پہلے۔ ہاں اور وہ جو صابت ہے اس سے پہلے، یعنی جو اس سے پہلے ہے، میں نے فصل اول میں نظر ڈالی اور جو اس سے پہلے ہے، اس میں نظر ڈالی بھئی۔ جی، یہ ایک ترکیب اور بھی کر لیجیے، پہلے بھی آپ شاید کر چکے ہیں، دوبارہ کر لیجیے۔ اکرمْت۔ الرجل۔ من قريش۔ جی! کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی کیجیے بھئی آپ۔ اکرمْت فعل بافاعل۔ شاباش! اکرمْت فعل بافاعل۔ تو ضمیر اس کا فاعل۔ توون اعراب بھی بتاؤ بھئی۔ توون ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ توون ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ الرجلا۔ منسوب لفظاً، اس کا مفعول بہ۔ الرجل منسوب لفظاً مفعول بہ۔ من۔ حرف جار۔ من جارہ۔ قريشين۔ مجرور مجرور لفظاً۔ قريشين مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوا اکرمْت فعل کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے اکرمْت فعل کے بھئی۔ بھئی، جوڑ کے دیکھو، جڑتا بھی ہے یا نہیں بھئی؟ جی سر، میں نے اکرام کیا آدمی کا قریش سے۔ نہ یہ تو آپ سارے کا ترجمہ کر رہے ہیں، صرف متعلق کو پکڑو اور متعلق کو پکڑو، باقی سب ختم کرو۔ اکرمْت کو متعلق ہے، اور من قريشين کیا ہے؟ متعلق ہے، اکرمْت من قريشين۔ میں نے اکرام کیا قریش سے۔ کوئی بات بن رہی ہے بھئی؟ نہیں بن رہی بھئی، تو یہ معنی نہیں، فعل ائے تو اسی سے جوڑنا ہے، ترجمہ بھی کر کے دیکھو بھئی۔ جی اور کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی، آپ کریں۔ اکرمْت فعل بافاعل۔ اکرمْت فعل بافاعل۔ توون ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ توون ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ الرجلا اور منسوب محلاً، اور رجلا منسوب لفظاً ذوالحال۔ شاباش! بھئی میں نے ایک ضابطہ لکھوایا تھا۔ میرا خیال کافی عرصہ ہو گیا ہے، گزر گیا ہے، تو بس گزر ہی رہا ہے۔ کہ جار مجرور، میں نے بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل اجائے تو اس کے لیے کیا بنے گا؟ عموماً صفت۔ معرفہ کے بعد فعل اجائے تو وہ اس کے لیے حال بنے گا، کیا بنے گا؟ حال بنے گا۔ عموماً۔ اور اسی طرح نکرہ کے بعد جار مجرور آئے تو اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ لیکن اگر معرفہ کے بعد جار مجرور آئے، کسی سے جڑ بھی نہیں رہا تو وہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ حال بنے گا۔ کیا بنے گا؟ صفت تو بن نہیں سکتا، اس لیے کہ یہ نکرہ ہے اور وہ معرفہ تو حال بنائیں گے۔ جی۔ تو الرجل منسوب لفظاً ذوالحال بھئی۔ من جار۔ قريشين مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتہ فعل کے۔ ثابتہ فعل جو ہوا ضمیر فاعل ہو، راجع ہے تو۔ شاباش! ثابتہ فعل کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع بھئی؟ ذوالحال کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ تو وہ ضمیر راجع ہوئی ذوالحال یعنی الرجل کو۔ ضمیر اور مرجع میں بھی مطابقت ہے، الرجل بھی واحد مذکر ہے بھئی اور ہوا ضمیر بھی واحد مذکر، ضمیر مرجع میں مطابقت بھی ہے۔ جی۔ ثابتہ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ حال بنا۔ شاباش! ثابتہ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر، بہ تقدیر قد یہ حال ہوا۔ بہ تقدیر۔ اس لیے کہ حال کے ضابطوں میں آپ پڑھیں گے ایک ضابطہ کہ جب ماضی کو حال بنایا جائے، ثابتہ کون سا صیغہ ہے؟ ماضی، اس کو انہوں نے حال بنایا، تو ماضی کو جب بھی حال بناؤ وہاں قد لفظوں میں ہونا ضروری ہے یا تقدیراً ہونا ضروری ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ ماضی تو گزرے ہوئے زمانے کو کہتے ہیں، یہ قد جو ہے ماضی کو زمانہ حال کے قریب کر دیتا ہے، کیا کر دیتا ہے؟ قریب کر دیتا ہے۔ دیکھیے! میں آپ کے سامنے کہتا ہوں ضرب زید عمرا۔ زید نے عمر کی پٹائی کی۔ بھئی! کس زمانے میں کی؟ جی؟ بتلاو بھئی! ضرب زید عمرا زید نے عمر کی پٹائی کی کس زمانے میں کی؟ ماضی میں کی۔ اب ہو سکتا ہے ایک دن پہلے کی ہو، تو بھی بات ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے 20 سال پہلے اس نے پٹائی کی تھی، پھر بھی کہنا صحیح کہ زید نے کیا کی تھی؟ زمانہ ماضی میں عمر کی پٹائی۔ تو یہ ضرب ماضی مطلق ہے، یہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ یہ جو فعل ہوا ہے، یہ قریب کے زمانے میں ہوا ہے یا بعید کی۔ تو جب قریب کا زمانہ معنی ادا کرنا ہو تو اس وقت اس پر قد داخل کرتے ہیں: قد ضرب زید۔ اس کا معنی یہ ہے کہ زید نے عمر کی پٹائی کی ہے کس زمانے میں؟ ماضی قریب کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ تو ماضی، تو دیکھا اس قد نے ماضی کو حال کے قریب کر دیا۔ ماضی کو حال کے قریب کر دیا۔ تو لہٰذا جب آپ فعل ماضی کو حال بنانا چاہتے ہیں، حال تو کہتے ہیں موجودہ زمانے کو، تو اور حال جو لا رہے ہیں، وہ فعل کون سا ہے؟ ماضی کا ہے، تو لہٰذا اب اس پر قد لے آؤ۔ قد کی وجہ سے وہ ماضی حال کے قریب ہو گئی، حال تو نہ بنی، لیکن حال کے قریب ہو گئی اور قریب الی الشیء بحکم الشیء ہوتا ہے، تو گویا حال ہی بن گئی۔ کیا بن گئی؟ حال ہی بن گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا قد یہاں نکالیں گے بھئی۔ حال اپنے حال سے مل کر مفعول بہ ہوا اکرمْت کے لیے۔ ہاں! ذوالحال اپنے حال سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا اکرمْت فعل کے لیے۔ اکرمْت فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ اکرمْت الرجل من قريش۔ جی، ترجمہ کیجیے۔ اکرمْت میں نے اکرام کیا، اس آدمی کا۔ دیکھا! الف لام کے ذریعے اشارہ ہوا۔ میں نے اکرام کیا اس آدمی کا اس حال میں کہ وہ کس قبیلے سے ہے؟ قریش قبیلے سے ہے بھئی۔ اچھا بھئی! بھئی! آپ نے ثابتہ نکالا فعل، اگر مفرد نکالیں، پھر کیا نکالیں گے؟ جی۔ ثابتاً نکالیں گے، کیونکہ حال کے اعراب کیا ہوتا ہے؟ منسوب۔ تو ثابتاً نکالیں گے اور باقی ترکیب ساری اسی طرح ہو جائے گی، ثابتاً صیغہ اسم فاعل، اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر حال۔ ذوالحال اپنے حال سے مل کر مفعول بہ بن جائے گا بھئی۔ تو ثابت من قریش یہ جملہ بھی محلاً منصوب ہے؛ کیونکہ حال بنایا آپ نے، حال کا اعراب کیا ہے؟ منصوب ہوتا ہے بھئی۔ اچھا، چلیے پھر قال کی ترکیب پھر کل کر دیں گے بھئی۔ الحمدللہ رب العالمين۔
49 approved lectures · 27 of 49