Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-025

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 09 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔25 پچھلے میں حروفِ مشبہ بالفعل کی ترکیب کر رہے تھے ہم۔ انّ اور انَّ میں نے فرق بتلایا تھا کہ یہ دونوں جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں، لیکن فرق یہ کہ انَّ کے داخل ہونے کے بعد وہ جملہ جملہ نہیں رہتا بلکہ کس کے حکم میں ہو جاتا ہے؟ مفرد کے حکم میں ہو جاتا ہے، جبکہ انَّ کے داخل ہونے کے بعد وہ جملہ جملہ ہی رہتا ہے۔ اور مفرد کے حکم میں ہو جاتا ہے، یعنی اس پر سکوت کرنا صحیح نہیں ہوتا، بات پوری نہیں ہوتی بھئی، دوسرے کو پتہ ہی نہیں چلے گا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اور مفرد کے حکم میں کس طرح کرتا ہے بھئی؟ میں نے طریقہ بتلایا تھا کہ خبر کے مصدر کو مضاف کر دیں انَّ کے اسم کی طرف۔ جی، اب کچھ ترکیبیں کیجیے بھئی۔ انَّ فی الدار رجلا جی کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ نہیں بھئی، یہ نہیں، آپ سے کہا جی۔ جی، انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل۔ فی الدار، فی جارہ، الدار مجرور کون سا بھئی؟ مجرور لفظاً بھئی، مجرور کیوں کہا آپ نے؟ فی حرفِ جر داخل ہوا ہے، اور لفظاً کیوں کہا؟ جی لفظاً آپ نے کہا مجرور لفظاً، یہ لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ جی؟ کس چیز پر تلفظ ہو رہا ہے؟ ہاں، جر پر کیا ہو رہا ہے؟ تلفظ ہو رہا ہے، اس لیے مجرور لفظاً، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ ثبتا فعل کے ساتھ، شاباش، جی۔ جی، ثبتا فعل، ہو ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل۔ آگے جی؟ ثبتا پھر شاباش بھئی، کیسے آپ کو پتہ چلا بھئی؟ شاباش، آگے اس کا اسم آ رہا ہے اور وہ تثنیہ ہے اور یہ ماقبل میں خبر ہے اور خبر کو کس سے جوڑا جاتا ہے؟ اسم سے جوڑا جاتا ہے اور وہ تثنیہ ہے تو یہاں ہمیں ضمیر بھی کون سی چاہیے؟ تثنیہ کی چاہیے، اور تثنیہ کی ضمیر ثبتَ فعل میں نہیں ہے بلکہ ثبتا فعل میں ہے تثنیہ کا صیغہ بھئی، تو ثبتا فعل ہاں، الف ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع ہے؟ جو رجلانِ اسمِ مؤخر کو راجع، بھئی یہ تو اضمار قبل الذکر نہیں آیا، ضمیر پہلے آ گئی، مرجع بعد میں۔ ہاں شاباش، یہ جو آگے اسم ہے وہ صرف لفظاً مؤخر ہے، رتبے کے اعتبار سے فی الدار پر مقدم ہے تو یہ اضمار قبل الذکر نہیں بھئی، لفظاً تو ہے رتبۃً نہیں رجلانِ، اعراب کیا بتلایا آپ نے؟ مرفوع لفظاً بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ یہ انَّ کا اسم ہے اور انَّ کا اسم کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ اس کو کیا پڑھنا چاہیے؟ تثنیہ ہے اور حالتِ نصبی میں تثنیہ کو کس طرح پڑھیں گے اب رجلانِ کو؟ رجلینِ پڑھیں گے، معلوم ہوا کتابت کی غلطی دیکھا؟ آپ نے اس طرح غلطی بھی پکڑنی ہے ترکیب کے اندر جہاں آئے، تو رجلینِ جی، یہ منصوب لفظاً ہوا، منصوب لفظاً انَّ کا اسمِ مؤخر، جی۔ انَّ اپنے اسمِ مؤخر اور خبرِ مقدم سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی پڑھیے روانی سے۔ انَّ فی الدارِ رجلینِ، جی ترجمہ کیجیے۔ ہاں، یقیناً گھر میں دو آدمی ہیں۔ جی، اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ انَّ غلامی و غلامُکَ حاضرانِ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کوئی ایسا جسے نہ آتی ہو ترکیب بھئی۔ چلیے جی، آپ کریں بھئی۔ ہاں، آپ کو کہہ رہا ہوں بھئی۔ جی، انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل۔ غلامُ، غلامُ مضاف اعراب جی، اور کون کرے گا بھئی؟ اچھا، چلو بھئی کرو بھئی ترکیب۔ انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل غلامِ منصوب، منصوب تقدیراً شاباش، غلامُ منصوب تقدیراً مضاف بھئی، منصوب کیوں کہا؟ کیونکہ انَّ کا اسم ہے، اور تقدیراً کیوں کہا؟ ہاں، کیونکہ غلامی، 16 قسموں میں آپ نے پڑھا تھا کوئی بھی اسم سوائے جمع مذکر سالم کے جب وہ یائے متکلم کی طرف مضاف ہو تو تینوں حالتوں میں اس کا اعراب تقدیری، تو اب یہاں پر بھی اس کا اعراب تقدیری، تو غلامی مجرور، منصوب تقدیراً مضاف۔ یا ضمیر مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ یا ضمیر مجرور، مجرور محلاً مضاف الیہ ہے بھئی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ معطوف علیہ بن جائیں گے، آگے اسم ان پر کیا ہوگا؟ معطوف ہوگا بھئی۔ واو حرفِ عطف واو حرفِ عطف غلامِ مجرور لفظاً مضاف جی، دوسرا لفظ کیا لکھا ہے آپ نے؟ غلامُکَ جی ہاں اعراب جی؟ غلامِ مجرور لفظاً مضاف غلامِ مجرور لفظاً مضاف، جی مجرور کیوں کہا آپ نے؟ معطوف بنے گا، معطوف اور معطوف علیہ کا اعراب ایک ہی ہوتا ہے۔ معطوف اور معطوف علیہ کا اعراب تو ایک ہوتا ہے، کس پر عطف کر رہے ہیں آپ اس کا؟ مضاف سے ماقبل کے غلام مضاف سے عطف کر رہے ہیں یا مضاف الیہ پر بھئی؟ مضاف سے مضاف کا لفظ غلام، اور اس کا کیا اعراب آپ نے بتایا تھا؟ منصوب، تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ معطوف بھی منصوب ہوگا، جی۔ غلامَ منصوب لفظاً غلامَ منصوب لفظاً مضاف کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ بھئی، آپ کو کیسے پتہ چلا بھئی یہ غلامی آپس میں مضاف مضاف الیہ ہیں، غلامَکَ آپس میں مضاف مضاف الیہ ہیں؟ کسی بھی اسم کے ساتھ ضمیر راجع ہاں، کسی بھی اسم کے ساتھ ضمیرِ متصل آئے تو کیا ترکیب ہوتی ہے؟ مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں بھئی، جی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ معطوف ہوئے مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف ہوئے، جی۔ معطوف اور معطوف علیہ مل کر یہ انَّ کے لیے اسم ہاں، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ انَّ کا اسم ہوا بھئی، تو غلامی و غلامَکَ یہ انَّ کا اسم ہوا، جی۔ حاضرانِ حاضرانِ مرفوع لفظاً اس کا اس کی خبر ہوئی، انَّ کی خبر۔ حاضرانِ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا؟ تثنیہ، تثنیہ کا اعراب حالتِ رفعی میں کیونکہ یہ انَّ کی خبر ہے، اور انَّ کی خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہوتی ہے، اور لفظاً کیوں کہا کیونکہ الف تثنیہ کا حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ اعراب آتا ہے، ہم اس پر تلفظ کر رہے ہیں بھئی۔ جی، حاضرانِ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل بھئی۔ ہما ضمیر اس میں اس کا فاعل، مرفوع محلاً مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ جی، ہما ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع ہے؟ انَّ کے اسم کو انَّ کے اسم کو راجع ہے، کس کو راجع ہے؟ انَّ کے اسم کو بھئی، جی، وہ بھی دیکھو غلامی و غلامَکَ تثنیہ تھے تو ضمیر بھی راجع کی تثنیہ کی بھئی۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر یہ انَّ کے لیے خبر ہوئی اپنے اسم کے لیے۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی انَّ کی، انَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ انَّ غلامی و غلامَکَ حاضرانِ انَّ غلامی و غلامَکَ حاضرانِ بھئی، سمجھ میں آیا اعراب بھئی؟ جی ترجمہ کیجیے۔ یقیناً بے شک میرا غلام اور تمہارا غلام دو دونوں حاضر ہیں۔ ہاں، بے شک میرا غلام اور تمہارا غلام حاضر ہیں وہ دو، وہ دونوں بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ انَّ ھذا و ذاکَ اخوانِ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی؟ جی، کیجیے بھئی۔ انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل ھذا اسمِ اشارہ اسمِ اشارہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی، جی۔ اعراب بتاؤ بس۔ ھذا مرفوع محلاً معطوف ھذا جی، مرفوع محلاً مرفوع محلاً معطوف، پہلے کو معطوف علیہ کہتے ہیں۔ ھذا مرفوع محـ منصوب محلاً معطوف علیہ، مرفوع کیوں کہا آپ نے بھئی؟ کیونکہ یہ انَّ کا اسم بننا ہے۔ اور انَّ کا اسم کیا ہوتا ہے؟ منصوب کہو بھئی، معلوم ہوا سبقتِ لسانی ہوئی ہے، بھئی ذہن میں منصوب ہی ہے زبان پر مرفوع آ گیا۔ تو ھذا منصوب لفظاً منصوب محلاً، محلاً کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ اسمِ اشارہ ہے، اور اسمِ اشارہ مبنی ہوتا ہے۔ شاباش، یہ مبنی ہے بھئی، مبنی کا اعراب محلاً آتا ہے، تو ھذا منصوب محلاً معطوف علیہ۔ واو حرفِ عطف واو حرفِ عطف ذاکَ معطوف اعراب بھئی۔ ذاکَ منصوب منصوب محلاً معطوف ذاکَ منصوب محلاً معطوف، منصوب کیوں کہا آپ نے بھئی؟ کیونکہ یہ معطوف، معطوف کا اعراب ہمیشہ کا اعراب ایک شاباش، معطوف کا بھی وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ معطوف علیہ کا، تو محلاً اس لیے کہ یہ بھی اسمِ اشارہ مبنی بھئی۔ معطوف معطوف علیہ مل کر یہ انَّ کا اسم شاباش، معطوف علیہ اپنے معطوف کے ساتھ مل کر یہ انَّ کا اسم بھئی۔ اخوانِ جی یہ اخو اخوانِ معطوف مرفوع مرفوع تقدیراً اخوانِ مرفوع تقدیراً بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ انَّ کی خبر بن رہی ہے، انَّ کی خبر مرفوع ہوتی ہے۔ ہاں، یہ انَّ کی خبر ہے اور انَّ کی خبر مرفوع ہوتی ہے، تقدیراً کیوں کہا آپ نے؟ جی، یہ تثنیہ ہے۔ جی، یہ تثنیہ ہے۔ اور تثنیہ کا کیا اعراب ہوتا ہے بھئی؟ تثنیہ کا اعراب حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ ہوتا ہے۔ حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ، اور حالتِ نصبی جری میں یاء کے ساتھ یاء کے ساتھ، تو تقدیری تو کہیں بھی نہیں ہے۔ مرفوع لفظاً مرفوع لفظاً شاباش، حالتِ رفعی میں الف کے ساتھ آتا ہے اور اس الف پر ہم اس وقت کیا کر رہے ہیں بھئی؟ تلفظ کر رہے ہیں بھئی۔ یہ انَّ کی خبر ہوئی ہاں، تو یہ مرفوع لفظاً انَّ کی خبر، انَّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، روانی سے پڑھیے۔ انَّ ھذا و ذاکَ اخوانِ شاباش، انَّ ھذا و ذاکَ اخوانِ، ترجمہ کیجیے۔ بے شک یہ اور وہ وہ بھئی ہیں وہ بھئی ہیں، ہاں یہ بے شک یہ اور وہ بھئی بھئی ہیں بھئی، بھئی ہیں۔ جی، اگلی جملہ لکھیے۔ انَّکم انَّکم مجتہدون مجتہدون جی، کون کرے گا ترکیب؟ جی، کیجیے بھئی۔ انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل انَّ حرفٌ حروفِ مشبہ بالفعل کم ضمیر منصوب محلاً شاباش، کم ضمیر منصوب محلاً انَّ کا اسم بھئی، جی۔ مجتہدون، مجتہدون اسمِ مفعول اسمِ فاعل شاباش، مجتہدون اعراب سب سے پہلے بتاؤ۔ مرفوع لفظاً۔ مرفوع لفظاً بصيغة اسم فاعل۔ بھئی مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ یہ انّ کی خبر بنے گی۔ ہاں، یہ انّ کی خبر بنے گی، اور لفظاً کیوں کہا بھئی؟ جمع، اور جمع کے جو اعراب، واؤ کے ساتھ آتا ہے۔ ہاں، یہ جمع مذکر سالم ہے اور اس کا اعراب کس کے ساتھ آتا ہے حالت رفعی میں؟ واؤ، اور اس واؤ پر ہم اس وقت تلفظ کر رہے ہیں، مجتہدون بھئی، جی۔ شاباش بھئی! مجتہدون کے اندر کون سی ضمير، ضمیر فاعل؟ انتم کی ضمیر فاعل۔ انتم کی ضمیر فاعل، کیونکہ اس کو ہم کس کے ساتھ جوڑ رہے ہیں بھئی؟ انّ کے اسم کے ساتھ، اور وہ کون سی ضمیر ہے بھئی؟ وہ جمع مخاطب کی ضمیر ہے، تو اس میں فاعل اور صفت کے صیغوں کو جس قسم کی ضمیر سے جوڑا جائے، اسی کے مطابق اس میں فاعل نکالتے ہیں۔ تو یہاں مجتہدون کے اندر انتم ضمیر بھئی، وہ کیونکہ کم بھی جمع مخاطب کی ضمیر ہے اور انتم بھی کون سی ہے؟ جی، بس فرق یہ ہے کہ کم ضمیر جو ہے وہ منصوب متصل ہے، اور انتم کیا ہے؟ مرفوع متصل بھئی۔ مجتہدون صیغہ اسم فاعل، انتم ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اسم فاعل اپنے جملہ ہو کر یہ انّ کی خبر۔ ہاں، یہ مجتہدون صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر انّ کی خبر بھئی۔ تو بھئی آپ نے شبہ جملہ کو جوڑ دیا کس کے ساتھ؟ انّ کے اسم کے ساتھ، اور ربط کیا ہے بھئی، عائد کیا ہے یہاں پر؟ یہ ضمیر انتم عائد ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ عائد، وہی کم ضمیر دوبارہ آگئی مجتہدون کے اندر، لیکن وہاں منصوب تھی تو یہاں مرفوع ہے، ضمیر وہی ہے بھئی۔ تو انّ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی۔ إنكم مجتهدون۔ جی، إنكم مجتهدون، ترجمہ؟ ہاں، یقیناً تم جو ہے محنت کرنے والے ہو، جی۔ آگے لکھئیے بھئی! إنّ الذي إنّ الذي رأيته رأيته رجل يبيع الأثواب يبيع الأثواب، ثوب کی جمع بھئی۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی، کیجیے بھئی، ترکیب کرو بھئی! إنّ حرف، حروف مشبہ بالفعل۔ إنّ حرف، حروف مشبہ بالفعل۔ الذي منصوب محلاً اس کے اسم، اسم موصول کے ساتھ جب تک صلہ نہیں بنے گا، ملے گا، کچھ نہیں بن سکتا یہ۔ الذي منصوب محلاً اسم موصول۔ الذي منصوب محلاً اسم موصول۔ رأيت فعل۔ رأيت فعل۔ ت ضمیر اس کا فاعل، کون سی ضمیر بھئی؟ ت ضمیر۔ ہاں، ت ضمیر اس کی ضمیر ہوئی ہے، اعراب بھئی؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ ہٰ ضمیر مفعول بہ۔ ہاں، ہاں بھئی۔ ہٰ ضمیر مفعول بہ راجع بجانب الذی۔ شاباش! ہٰ ضمیر، اعراب نہیں بتایا بھئی آپ نے؟ ہٰ ضمیر مفعول بہ، منصوب محلاً۔ ہاں، ہٰ ضمیر منصوب محلاً بھئی، مفعول بہ، جو راجع ہے کس کو؟ الذی کو، یہ عائد آگیا بھئی، جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر الذی اسم موصول اپنے صلہ ہوا، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا موصول کے لیے، موصول اپنے صلے سے مل کر إنّ کا اسم ہوا بھئی۔ رجل مرفوع لفظاً۔ رجل مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ إنّ کی خبر بنے گی۔ کیونکہ إنّ کی خبر بنے گی، جی۔ مرفوع لفظاً۔ آگے چلے گئے، اس کو کیا بنایا آپ نے؟ رجل موصوف۔ جی، شاباش! رجل موصوف بھئی، کیونکہ میں نے کیا بتایا تھا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے عموماً؟ صفت، ہاں، یہ ضابطہ لگے گا یہاں، تو رجل مرفوع لفظاً موصوف، جی آگے؟ موصوف، يبيع فعل۔ يبيع فعل۔ ہو ضمیر اس کا فاعل مرفوع محلاً۔ ہو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ جو راجع ہے رجل کو۔ جو راجع ہے رجل کو بھئی، کیونکہ یہ رجل کی صفت بن رہی ہے تو جوڑنا بھی رجل سے ہی ہے بھئی، تو ہو ضمیر راجع ہوئی رجل کی طرف، یہ عائد آگیا، جی۔ الأثواب مفعول بہ۔ اعراب؟ الأثواب منصوب لفظاً۔ الأثواب منصوب لفظاً مفعول بہ۔ يبيع فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر رجل کے لیے صفت۔ يبيع فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی رجل کی، جی۔ موصوف اپنے صفت کے ساتھ مل کر خبر ہوئی کس کی؟ إنّ کی۔ بھئی رجل موصوف يبيع الأثواب اس کی صفت، تو رجل مرفوع تھا، تو يبيع الأثواب کا پورا جملہ بھی کیا ہے؟ مرفوع محلاً ہے، کیونکہ موصوف، صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ جی، روانی سے پڑھیے بھئی! إن الذي رأيته رجل يبيع الأثواب۔ إن الذي رأيته رجل يبيع الأثواب، دیکھا رجل کے آخر میں کیا آیا بھئی؟ تنوین، نون ساکن آیا، اور نون ساکن کس سے پہلے ہے، اس کے بعد کیا آرہا ہے بھئی؟ یا، اور ضابطہ میں نے بتلایا تھا کہ یرملون کے حروف سے پہلے نون ساکن آجائے، تو اس نون کو بھی اسی حرف کی جنس میں بدل سے بدل کر اس کے اندر ادغام کیا جاتا ہے، تو یرملون میں ایک یا بھی ہے، تو یہاں بھی يبيع کی یا آگئی، تو اس نون کو بھی یا کرکے یا میں ادغام کریں گے اور رجل يبيع پڑھیں گے بھئی۔ اچھا جی، ترجمہ کیجیے! بے شک وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا وہ ایسا آدمی تھا جو کپڑے بیچ رہا تھا۔ ہمم، بے شک، بے شک وہ شخص، وہ جسے کہ آپ نے دیکھا رجل وہ ایسا آدمی ہے يبيع الأثواب جو کپڑے بیچتا ہے۔ جی، اگلا جملہ لکھئیے بھئی! زيد أفضل من عمرو۔ زيد أفضل من عمرو۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی! زيد مرفوع لفظاً مبتدا۔ شاباش! زيد مرفوع لفظاً مبتدا۔ أفضل صیغہ اسم تفصیل۔ اعراب بھئی؟ جی، جلدی جلدی بتائیے بھئی، آسان ترکیب ہے۔ بھئی مبتدا آگیا، مبتدا کے لیے پھر کیا چاہیے ہوتی ہے؟ خبر چاہیے ہوتی ہے بس۔ أفضل مرفوع۔ شاباش، ٹھیک ہے، مرفوع کون سا؟ مرفوع لفظاً۔ مرفوع لفظاً، مرفوع تو اس لیے کیونکہ یہ مبتدا کی خبر ہے، لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ رفع پر ہم کیا کر رہے ہیں بھئی؟ تلفظ، أفضل دیکھا لام کا رفع پڑھ رہے ہیں ہم، تلفظ کر رہے ہیں، جی۔ أفضل مرفوع لفظاً صیغہ اسم تفصیل بھئی۔ اس میں ہو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ شاباش! اس کے اندر ہو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، دیکھا یہ صفت کا صیغہ اس کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل بھئی، تو جی۔ من جار۔ عمرو مجرور لفظاً۔ عمرو، عمرو۔ عمرو مجرور لفظاً۔ عمرو مجرور لفظاً، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے افضل سے۔ شاباش! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے کس سے؟ صیغہ اسم تفصیل أفضل کے ساتھ، جی۔ أفضل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ اسم تفصیل اپنے فاعل سے، راجع ہے زيد مبتدا کی طرف۔ جی، مل کر جملہ فعلیہ ہو کر۔۔ ہاں، جملہ نہیں! شبہ جملہ ہو کر۔ یہ خبر شاباش! تو أفضل صیغہ اسم تفصیل اس کے اندر ہو ضمیر فاعل کی تھی جو راجع ہے زيد کو بھئی، یہ عائد آگیا۔ تو اپنے فاعل سے اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی زيد کے لیے، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، روانی سے پڑھیے بھئی! زيد أفضل من عمرو۔ زيد أفضل من عمرو، جی ترجمہ کیجیے! زید افضل ہے عمر سے۔ زید افضل ہے عمر سے بھئی۔ جی، اگلا جملہ لکھئیے بھئی! أنت كريم۔ أنت كريم۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جسے نہ آتی ہو وہ ذرا کوشش کرے بھئی! جی، چلو بھئی آپ ہی کرو یہ ترکیب جو پیچھے بیٹھا ہے بھئی! بڑی گہری سوچ میں ڈوب گئے، دو ہی لفظ ہیں بھئی! چلو، کوئی اور کرے بھئی! چلو کرو بھئی ترکیب! أنت ضمیر مرفوع۔۔ چلو کرنے دو! ہاں، کرو کرو ٹھیک ہے جی، أنت۔۔ أنت ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ أنت ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ كريم صفت مشبہ۔ اعراب؟ مرفوع لفظاً۔ ہاں، كريم مرفوع لفظاً صفت مشبہ۔ اس میں أنت ضمیر راجع ہے، شاباش! اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ أنت ضمیر ہے بھئی، أنت ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل اور یہی عائد بن گیا کہ اس وہی أنت، أنت دوبارہ آیا بھئی، تو اس کے اندر أنت ضمیر فاعل بھئی، صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، أنت كريم بھئی، أنت كريم، جی کیجیے بھئی ترجمہ! تو مہربان ہے۔ ہاں، تو مہربان، تو سخی ہے یا تو معزز ہے، جی۔ أنت، آگے ترکیب کیجیے بھئی، لکھئیے بھئی! أنت رجل كريم بھئی۔ أنت رجل كريم، جی کون کرے گا بھئی؟ چلیے جی جو پیچھے بیٹھے ہیں، جی! أنت ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ أنت ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ رجل مرفوع لفظاً موصوف۔ رجل مرفوع لفظاً موصوف۔ كريم۔۔ سب سے پہلے اعراب بھئی! كريم مرفوع لفظاً صفت مشبہ، جی۔ اس کے اندر ہو ضمیر اس کا فاعل راجع ہے رجل کو۔ شاباش! كريم کے اندر بھئی ہو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل بھئی، جو کس کو راجع؟ رجل کو، جی! صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ صفت ہوئی رجل موصوف کی، كريم صفت مشبہ اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صفت ہوئی رجل کی، موصوف صفت مل کر یہ خبر ہوئی مبتدا کی، مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی پڑھیے روانی سے! أنت رجل كريم۔ أنت رجل كريم، ترجمہ کیجیے! آپ سخی آدمی ہیں۔ ہاں، آپ سخی آدمی ہیں بھئی، آپ معزز آدمی ہیں۔ دیکھا، فرق میں نے سمجھانا تھا، ایک ترکیب تھی أنت كريم، ایک ترکیب تھی أنت رجل كريم، پہلی ترکیب میں كريم کو ہم براہِ راست کس کے ساتھ جوڑ رہے تھے؟ أنت سے، تو اس کے اندر ضمیر بھی ہمیں کون سی چاہیے؟ أنت والی، اور یہاں پر كريم کو أنت سے ہم نہیں جوڑ رہے، کس سے جوڑ رہے ہیں؟ رجل، رجل کی صفت بن رہی ہے، اور رجل ہے اسم ظاہر بھئی، سمجھ میں آیا؟ کچھ ضمیریں ہیں باقی سارے اسم ظاہر ہیں بھئی، تو وہ اس لیے اس کو ضمیروں کو کیا، ضمیر کا معنی پوشیدہ یعنی، تو کچھ اسم ضمیر ہیں، کچھ اسم ظاہر ہیں بھئی، تو یہ اسم ظاہر ہے، اور اسم ظاہر میں نے بتلایا تھا کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ غائب کے درجے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس کی طرف ضمیر بھی کون سی لوٹائیں گے؟ غائب کی لوٹائیں گے بھئی، چلیے بس مولانا!
49 approved lectures · 25 of 49