Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-021

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔21 اچھا بھئی، کچھ اور جملوں کی ترکیب کیجیے بھئی۔ اُحِبُّ، اُحِبُّ الَّذِيْنَ، الَّذِيْنَ عَلَّمُوْنِيْ، عَلَّمُوْنِيْ۔ چلیے جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ اُحِبُّ فعل۔ انا ضمیر اس کے اندر۔ کون سی ضمیر؟ انا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل۔ ہاں، انا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، شاباش۔ الذینَ اسم موصول، اعراب؟ منصوب محلاً۔ الذینَ منصوب محلاً اسم موصول بھئی، منصوب کیوں بنایا آپ نے؟ مفعول بن رہا ہے۔ کیونکہ یہ مفعول بنے گا، شاباش، محلاً کیوں کہا؟ مبنیات میں سے۔ کیونکہ یہ مبنیات میں سے ہے اور مبنی کا اعراب محلاً آتا ہے، جی۔ عَلَّمُوْنِيْ فعل۔ عَلَّمُوْنِيْ، جی۔ اور واو ضمیر اس کا فاعل، مرفوع محلاً۔ شاباش، علّمو فعل، واو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ راجع ہے الذینَ کی طرف۔ شاباش، یہ راجع ہے کس کو واو ضمیر؟ الذینَ کو۔ یہ عائد آ گیا بھئی اور ضمیر مرجع میں مطابقت ہے، الذینَ بھی جمع مذکر کے لیے، واو بھی جمع مذکر کے لیے۔ نون وقایہ، یا ضمیر مفعول بہ۔ نون وقایہ، یا ضمیر، اعراب؟ منصوب محلاً۔ منصوب محلاً بھئی، مفعول بہ۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا الذینَ اسم موصول کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ ہوا موصول کا۔ اسم موصول اپنے صلے سے مل کر مفعول ہوا اُحِبُّ فعل کے لیے۔ موصول اپنے صلے سے مل کر یہ مفعول ہوا اُحِبُّ فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ جی، پڑھیے ذرا پورا۔ اُحِبُّ الَّذِيْنَ عَلَّمُوْنِيْ۔ اُحِبُّ الَّذِيْنَ عَلَّمُوْنِيْ، ترجمہ بھئی۔ میں محبت کرتا ہوں ان سے جنہوں نے مجھے تعلیم دی۔ اُحِبُّ، میں محبت کرتا ہوں الذینَ ان سے عَلَّمُوْنِيْ جنہوں نے مجھے تعلیم دی بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ المَعْرِفَةُ، المَعْرِفَةُ اِسْمٌ، اِسْمٌ يَدُلُّ، يَدُلُّ عَلَى، عَلَى شَيْءٍ، شَيْءٍ مُعَيَّنٍ، مُعَيَّنٍ۔ المَعْرِفَةُ اِسْمٌ يَدُلُّ عَلَى شَيْءٍ مُعَيَّنٍ۔ چلیے جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے بھئی۔ المعرفۃُ مبتدا۔ اعراب؟ مرفوع لفظاً۔ المعرفۃُ مرفوع لفظاً مبتدا۔ اسمٌ موصوف، اعراب بتاؤ، سب سے پہلے اعراب بتایا کرو بھئی۔ مرفوع لفظاً۔ ہاں، اسمٌ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ اس نے خبر بننا ہے۔ اس نے خبر بننا ہے، شاباش، جی، مرفوع لفظاً۔ یدلُّ فعل بافاعل۔ جی، کیا بنایا اسمٌ کو آپ نے؟ موصوف۔ ہاں، یہ موصوف، آپ کو کیسے پتہ چلا اسمٌ موصوف ہے بھئی؟ نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے۔ نکرہ کے بعد آگے فعل آ رہا ہے تو یہ موصوف بنے گا، شاباش۔ یدلُّ فعل بافاعل۔ یدلُّ فعل بافاعل۔ راجع ہے، فاعل بتاؤ بھئی۔ ہوا ضمیر اس کا فاعل۔ ہوا ضمیر، اعراب؟ مرفوع محلاً۔ مرفوع محلاً، اعراب بتایا کرو بھئی، یہ ساری بحث ہماری چلی اسی لیے رہی ہے کہ اعراب ایک ایک اسم کا پتہ چل جائے گا تو عبارت پڑھنا آسان ہو جائے گا، جی۔ علیٰ جارہ، شیءٍ۔ تو یدلُّ میں کیا فاعل نکالا آپ نے؟ ہوا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ علیٰ جارہ۔ شیءٍ مجرور۔ کون سا مجرور؟ مجرور لفظاً۔ مجرور لفظاً۔ موصوف، یا شیءٍ کے اگے معین لفظ بھی ہے بھئی۔ معین اس کی صفت۔ شیءٍ کو آپ نے کیا بنایا؟ شیءٍ موصوف۔ ہاں، موصوف، کیونکہ شیءٍ بھی نکرہ، معین بھی نکرہ۔ شیءٍ مجرور لفظاً موصوف۔ معینٍ اسم فاعل۔ معینٌ بھئی، اسم مفعول بھئی۔ اسم مفعول، اس میں ہوا ضمیر اس کا فاعل۔ اس کے اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا نائب فاعل۔ فعل اپنے فاعل، نائب فاعل اور موصول سے مل کر جملہ شبہ ہو کر۔ اُم ہُم، کیا تعبیرات کر رہے ہیں؟ توبہ! کیا ہوا؟ شیءٍ کے لیے۔ پہلے مکمل تو اس کو کرو، کون کس سے مل کر صفت بنی بھئی؟ اسم مفعول اپنے نائب فاعل۔ شاباش، اسم مفعول اپنے نائب فاعل سے مل کر شبہ جملہ کہو بھئی، شبہ جملہ ہو کر صفت، صفت بھئی، صفت ہوئی موصوف کے لیے بھئی۔ کیسے شبہ جملہ کو آپ نے صفت بنا دیا بغیر کسی عائد کے؟ جو فاعل، جو ضمیر ہے وہ شیءٍ کی طرف۔ ہاں، وہ جی، وہ ضمیر جو تھی معین کے اندر وہ شیءٍ کو راجع تھی، جی، تو یہ شبہ جملہ ہو کر صفت۔ موصوف صفت مل کر مجرور۔ موصوف اپنی صفت سے مل کر مجرور ہوا علیٰ کے لیے۔ علیٰ اپنے جار سے مل کر متعلق ہوئے یدلُّ فعل کے۔ جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوئے یدلُّ فعل کے ساتھ بھئی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے یدلُّ فعل کے۔ ہاں، یہ جار مجرور مل کر بھئی ثبَتَ کی کیا ضرورت ہے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے یدلُّ فعل کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوا اسمٌ موصوف کے لیے۔ ہاں، خلاصۂ ترکیب بھئی، فعل اپنے فاعل اور متعلق بھی تو تھا، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر پھر یہ کیا ہوئی؟ صفت ہوئی، کیسے صفت بنایا آپ نے، کوئی ربط ہی نہیں دیا؟ یدلُّ کے اندر جو ضمیر ہے وہ اسمٌ کی طرف۔ شاباش، یدلُّ کے اندر جو فاعل کی ضمیر تھی وہ اسمٌ کو راجع ہے، وہ عائد ہے۔ تو یہ صفت ہوئی اسمٌ کے لیے۔ اب اس پورے جملے کا اعراب بتاؤ: يَدُلُّ عَلَى شَيْءٍ مُعَيَّنٍ؟ اس کا اعراب ہوا ہے۔ مرفوع کیوں؟ اس لیے کہ یہ صفت ہے۔ موصوف کا اعراب جو ہے یہ مرفوع ہے اور جو صفت ہوتی ہے وہ اپنے موصوف کے اعراب کے مطابق۔ شاباش بھئی، دیکھا بھئی یہ جملہ صفت ہے، تو اس کا تو یہ مرفوع محلاً ہے صفت ہے، جی۔ موصوف صفت مل کر خبر ہوئے المعرفۃ مبتدا کے لیے۔ شاباش، موصوف صفت مل کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی، روانی سے ذرا پڑھو اس جملے کو۔ المعرفۃُ اسمٌ یدلُّ علٰی شیءٍ۔ نہیں بھئی، پھر پڑھو ذرا، غور کرو بھئی۔ المعرفۃُ اسمٌ یدلُّ علٰی شیءٍ غیرِ معینٍ۔ ہاں شاباش، اب کچھ قریب پہنچ گئے ہیں بھئی، اور تھوڑا بھئی۔ بھئی، یہ اسمٌ کا ہمزہ کون سا ہے؟ وصلی، یہ بھی گراؤ بھئی۔ المعرفۃُ اسمٌ یدلُّ علٰی شیءٍ غیرِ معینٍ۔ شاباش، اَلْمَعْرِفَةُ اسْمٌ يَّدُلُّ عَلَى شَيْءٍ مُّعَيَّنٍ۔ اسمٌ پر جو تنوین آ رہی تھی اس کے بعد چونکہ یا ہے تو وہ نون بھی یا ہو کر یا میں ادغام، تو اَلْمَعْرِفَةُ اسْمٌ يَّدُلُّ عَلَى شَيْءٍ مُّعَيَّنٍ، ترجمہ کیجیے۔ معرفہ ایسا اسم ہے جو کہ دلالت کرتا ہے ایک معنی پر، ایک معین معنی پر۔ ایک معرفہ ایسا اسم ہے جو دلالت کرتا ہے عَلَى شَيْءٍ مُعَيَّنٍ، کس پر؟ ایک معین شے، ایک معین چیز پر بھئی۔ جی، اگلا جملہ لکھیے۔ أَحْسِنْ، أَحْسِنْ إِلَى مَنْ، أَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ، أَحْسَنَ إِلَيْكَ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ احسن فعل بافاعل۔ جی۔ انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ احسن بھئی، کون سا صیغہ ہے؟ احسن امر کا۔ جی، اکرم کے وزن پر ہے: احسن، صیغۂ امر ہے بھئی۔ احسن فعل امر۔ جی۔ انت ضمیر اس کے اندر، شاباش، امر ہے، امر مخاطب کو کیا جاتا ہے۔ احسن، فعل امر، انت ضمیر، اعراب بتاؤ۔ مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ مرفوع محلاً، یہ انت ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل۔ الیٰ حرف جارہ۔ الیٰ جارہ۔ من اسم موصول۔ شاباش، من اسم موصول، اعراب بتاؤ بھئی پہلے۔ مجرور محلاً۔ مجرور محلاً، جی شاباش، اسم موصول۔ احسنَ فعل بافاعل۔ احسنَ فعل بافاعل۔ اس میں ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اس کے اندر ہوا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ الیٰ حرف جارہ۔ ضمیر کا مرجع اسی وقت بتایا کرو۔ راجع ہے من موصولہ کی طرف۔ جی، یہ عائد ہے، یہ ہوا ضمیر راجع ہے من کی طرف، یہ عائد ہے، جی۔ الیٰ حرف جارہ۔ الیٰ جارہ۔ کاف ضمیر مجرور محلاً اس کا، مجرور، کاف ضمیر مجرور محلاً۔ کاف ضمیر مجرور محلاً۔ جار اپنے مجرور سے مل کر یہ متعلق ہوئے احسنَ فعل کے۔ شاباش، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے احسنَ فعل کے ساتھ بھئی۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا من موصولہ کے لیے۔ شاباش، احسنَ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ ہوا من موصول کے لیے۔ صلہ، موصول اپنے صلہ سے مل کر یہ مجرور ہوا الیٰ حرفِ جار کے لیے۔ شاباش، اسم موصول اپنے صلے سے مل کر مجرور ہوا جہر، الیٰ جارہ کے لیے۔ الیٰ حرفِ جار اپنے مجرور سے مل کر یہ متعلق ہوئے احسن فعل کے۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے احسن فعل کے ساتھ۔ یاد رکھو احسن یحسن احساناً، احسان اس کا صلہ الیٰ آتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ الیٰ۔ بعض افعال کے صلے مشہور ہوتے ہیں وہ آپ کو یاد ہونے چاہییں بھئی۔ احسن فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ شاباش، احسن چونکہ امر تھا تو جملہ اب خبریہ نہیں بنے گا بلکہ کون سا بنے گا؟ ہاں، تو احسن فعل امر اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ روانی سے پڑھیے بھئی۔ أَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ۔ أَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ، ترجمہ کیجیے۔ احسان کر اس شخص کے ساتھ جو احسان کرتا ہے تیرے ساتھ۔ شاباش، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں الیٰ پہ اپ نہ کہنا کی طرف، کی طرف ترجمہ کریں، نہیں بھئی۔ اب یہاں لغوی لفظی ترجمہ اردو میں نہیں ہوتا تھا، ہو سکتا بھئی۔ احسن، تو احسان کر الیٰ من، اس شخص کی طرف یعنی اس شخص کے ساتھ احسن الیک جس نے احسان کیا تیرے ساتھ بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ قَائِمٌ۔ جی، کون کرے گا ترکیب؟ جی، کیجیے۔ زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ شاباش، زیدٌ مرفوع لفظاً مبتدا۔ قائمٌ، جی؟ قائمٌ اسم فاعل۔ اعراب پہلے۔ جی؟ اعراب کیا ہوگا؟ جی؟ جی، مرفوع کون سا؟ قائمٌ مرفوع لفظاً بھئی، صیغہ اسم فاعل، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ خبر بننا ہے۔ خبر بننا ہے اور خبر مرفوع ہوتی ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کر رہے ہیں، کس چیز پر؟ کیسے؟ قائمٌ، دیکھا رفع پر تلفظ ہو رہا ہے باقاعدہ، جی، صیغہ اسم فاعل، آگے۔ اس کے اندر۔ ہاں، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جی۔ پھر وہی بات، پھر وہی کام بھئی۔ اب ضمیریں لوٹاتے جاؤ جہاں بھی آئے بھئی، جی۔ ہوا ضمیر اس کے اندر فاعل ہے، جو راجع ہے زید کی طرف۔ شاباش، ہوا ضمیر جو فاعل کی ہے وہ راجع ہے زید کی طرف بھئی، یہ عائد بن گیا۔ صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ خبر ہوئی۔ شاباش، صیغہ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی روانی سے پڑھیے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، جی، ترجمہ کیجیے۔ زید کھڑا ہے بھئی۔ اگلا جملہ لکھیے بھئی۔ أَنَا قَائِمٌ بھئی، أَنَا قَائِمٌ۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ جی، کیجیے۔ انا ضمیر مرفوع محلاً مبتدا۔ شاباش، انا ضمیر مرفوع محلاً مبتدا بھئی۔ قائمٌ صیغہ اسم فاعل۔ قائمٌ صیغہ، اعراب پہلے۔ مرفوع لفظاً۔ قائمٌ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ ہوا ضمیر اس کا فاعل۔ ہوا ضمیر بھئی اس کے اندر اس کا، ہاں بھئی یہ میں نے اس لیے ترکیب، بھئی بڑا قیمتی ضابطہ لکھوا رہا ہوں آپ کو بھئی۔ یاد رکھو، یہ اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اور اسم تفضیل میں اگر یہ غائب کے لیے خبر بنے تو ان میں غائب کی ضمیر ہوگی۔ اگر یہ غائب کے لیے خبر بنے تو ان میں غائب کی ضمیر ہوگی۔ اور اگر یہ متکلم کے لیے خبر بنے تو اس میں متکلم کی ضمیر ہوگی۔ اور اگر یہ متکلم کے لیے خبر بنے تو ان میں متکلم کی ضمیر ہوگی۔ اور اگر یہ مخاطب کے لیے خبر بنے، اور اگر یہ مخاطب کے لیے خبر بنے تو ان میں مخاطب کی ضمیر ہوگی۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے، پہلے زَيْدٌ قَائِمٌ تھا، قائمٌ کس کی خبر تھی؟ زید کے لیے۔ یاد رکھو یہ جو اسم ظاہر ہوتا ہے یہ غائب کے درجے میں ہوتا ہے، یہ غائب شمار ہوتا ہے۔ مخاطب نہیں بھئی، کیونکہ مخاطب کا نام نہیں لیا جاتا، اس کو تو انتَ، انتم وغیرہ کے ساتھ بات کی جاتی ہے اس سے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اسی طرح متکلم بھی ہے، اگر وہ اپنا نام لے لیتا ہے وہ نام اب غائب کے درجے میں، غائب شمار ہوگا کیونکہ متکلم بھی اپنا نام نہیں لیتا بلکہ کیا ضمیر استعمال کرتا ہے؟ انا اور نحن، میں نے یوں کیا، میں نے یہ کام کیا، نام نہیں ذکر کرتا۔ مخاطب کو بھی کہتا ہے آپ نے یوں کیا، اس کا نام نہیں لیتا بھئی۔ تو یہ جو نام وغیرہ، اسم ظاہر جو ہوگا وہ غائب کے درجے میں ہے بھئی۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ بھئی، قائمٌ کس کی خبر بنی؟ زید کی۔ اور زید کون ہے؟ غائب، تو قائم کے اندر آپ نے ضمیر بھی کون سی نکالی؟ غائب کی۔ اب میں کہتا ہوں أَنَا قَائِمٌ، تو یہ قائم کس کی خبر بن رہا ہے؟ انا۔ تو قائم کے اندر ضمیر بھی کون سی ہوگی؟ انا کی بھئی، کون سی ضمیر؟ انا ضمیر بھئی، وہ فاعل بنے گی اور یہ عائد بھی ہے اس لیے کیونکہ کون سا عائد ہے یہ؟ یہ عائد کی وہ دوسری صورت ہے بھئی، وہی اسم جس کے ساتھ ہم جوڑ رہے ہیں اسی کا تکرار آ رہا ہے اگلے میں بھئی۔ انا سے جوڑنا ہے اور قائم کے اندر خود کون موجود؟ انا، تو ربط آ گیا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں أَنْتَ قَائِمٌ بھئی، اب قائم کے اندر کون سی ضمیر ہوگی؟ انتَ کی ضمیر ہوگی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور یہ بات میں پہلے بھی بتلا چکا ہوں کہ یہ فعل کے ساتھ جو الف، واو وغیرہ لگتے ہیں یہ فاعل کی ضمیریں ہیں، لیکن اسم فاعل، صفت مشبہ کے ساتھ جو الف اور واو لگتے ہیں، قائمٌ سے کیا بناتے ہیں تثنیہ؟ قَائِمَانِ۔ جمع کیا بناتے ہیں؟ قَائِمُوْنَ۔ یہ جو الف اور واو صفت کے صیغوں میں آتا ہے یہ فاعل نہیں ہیں۔ یہ الف آئے تو وہ تثنیہ کی علامت ہے صرف، واو آئے تو یہ صرف جمع کی علامت ہے بھئی، ضمیر نہیں ہے بھئی۔ فعل میں یہ الف اور واو آئے تو ضمیر، صفت کے صیغوں میں الف اور واو آئے تو یہ علامت ہے۔ دلیل بھی میں نے بتلائی تھی کہ دلیل یاد رکھو پھر آپ کو یہ بھولے گا نہیں۔ دلیل کیا تھی اس کی؟ حالت نصبی اور جری میں یہ بدل جاتے ہیں۔ حالت رفعی میں تو کہتے ہیں قَائِمَانِ، حالت نصبی جری میں کیا کہیں گے؟ قَائِمَیْنِ، اگر یہ ضمیر ہوتی تو کبھی بھی نہ بدلتی۔ حالت رفعی میں آپ کہتے ہیں قَائِمُوْنَ واو کے ساتھ، لیکن حالت نصبی جری میں کیا کہتے ہیں؟ قَائِمِیْنَ، یہ واو کس سے بدل گیا بھئی؟ یا سے، معلوم ہوا یہ ضمیر نہیں کیونکہ ضمیر تو مبنی ہے وہ بدلتی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جی۔ اب میں کہتا ہوں: اَلزَّيْدَانِ قَائِمَانِ۔ تو الزیدانِ ہے مبتدا، قَائِمَانِ اس کی خبر، اس قَائِمَانِ کے اندر کون سی ضمیر ہے بھئی؟ یہ الف نہ کہنا ضمیر ہے بلکہ کون سی ضمیر ہے؟ ہما ضمیر اس کے اندر ہے بھئی۔ اچھا، میں کہتا ہوں: اَلزَّيْدُوْنَ قَائِمُوْنَ۔ جی، اب قَائِمُوْنَ کے اندر یہ نہ کہنا یہ واو ضمیر ہے بلکہ کیا ضمیر ہے اس کے اندر؟ ہم ضمیر ہے۔ ہاں، اگر ہوتا اَلزَّيْدُوْنَ قَامُوْا بھئی، فعل ہوتا تو پھر کیا کہتے؟ یہ واو ضمیر ہے۔ میں کہتا ہوں: أَنَا قَائِمٌ بھئی، کون سی ضمیر ہے قائم میں؟ انا۔ میں کہتا ہوں: نَحْنُ قَائِمُوْنَ بھئی، اب قَائِمُوْنَ میں کون سی ضمیر ہے؟ نحن ہی ہے، متکلم کے لیے خبر بنے تو کون سی ضمیر نکالیں گے؟ متکلم کی، یاد رکھنا۔ اچھا، میں کہتا ہوں: أَنْتَ قَائِمٌ بھئی، کون سی ضمیر قائم میں؟ انتَ۔ میں کہتا ہوں: أَنْتُمَا قَائِمَانِ بھئی، قَائِمَانِ میں کون سی ضمیر؟ انتما، یہ الف نہیں ضمیر بلکہ اس کے اندر بھی انتما ضمیر۔ میں کہتا ہوں: أَنْتُمْ قَائِمُوْنَ بھئی، اب کون سی ضمیر بھئی؟ قَائِمُوْنَ میں یہ واو ضمیر نہیں بلکہ انتم ضمیر ہے۔ یاد رکھنا یہ قیمتی ضابطہ بھئی، جس کے لیے خبر بناؤ اسی کی ضمیر اس میں آئے گی بھئی۔ اچھا بھئی، اب ترکیب کیجیے بھئی۔ أَنْتُمَا فَارَّانِ، فَرَّ يَفِرُّ کے معنی ہوتے ہیں بھاگنے کے، دوڑنے کے، فَارَّانِ، فَارَّانِ، را مشدد ہے، فِي المَيْدَانِ، فِي المَيْدَانِ أَمْسِ، أَمْسِ۔ أَمْسِ، یاد رکھنا یہ أَمْسِ کا لفظ یہ کس کو کہتے ہیں؟ اس کا معنی کیا ہے؟ گزشتہ کل جو گزرا ہوا ہے، امس، جی۔ امس گزشتہ کل، اور یہ مبنی علی الکسر ہے بھئی، یہ مبنی علی الکسر ہے اسی طرح پڑھنا ہے آپ نے۔ جی، کون کرے گا ترکیب بھئی؟ چلیے جی، کیجیے۔ انتما مبتدا۔ اعراب؟ مرفوع محلاً۔ انتما مرفوع محلاً مبتدا۔ فارانِ صفت۔ فارانِ، فارانِ کیا ہے بھئی؟ گردان کرو بھئی: فَرَّ يَفِرُّ۔ مرفوع لفظاً، مرفوع۔ بھئی، یہ صیغہ اسم فاعل کا ہے، فارٌّ، اس کی تثنیہ ہے بھئی، فارّانِ۔ اچھا جی۔ فارانِ صیغہ اسم فاعل، مرفوع لفظاً خبر۔ مرفوع کون سا بھئی؟ جی؟ مرفوع لفظاً بھئی، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ خبر ہے۔ شاباش، یہ خبر بنے گی، خبر مرفوع ہوتی ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ کس چیز پر کر رہے ہیں؟ جی؟ تلفظ کر رہے ہو کسرہ پہ اور مرفوع بتا رہے ہو۔ یہ تثنیہ ہے۔ ہاں شاباش، یہ تثنیہ ہے، تثنیہ کا اعراب کس کے ساتھ آتا ہے؟ حالت رفعی میں الف کے ساتھ، حالت نصبی جری میں۔ ہاں، حالت رفعی میں الف کے ساتھ اور نصبی جری میں اور اس وقت ہم اس الف پر تلفظ کر رہے ہیں تو یہ مرفوع لفظاً ہوا، جی۔ فارانِ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل بھئی۔ اور اس کے اندر انتما ضمیر۔ شاباش، اس کے اندر انتما ضمیر کیونکہ یہ خبر انتما کے لیے بن رہا ہے تو انتما ضمیر، اعراب بھئی؟ مرفوع محلاً۔ شاباش، مرفوع محلاً اس کا فاعل، یہ ہی عائد ہے، جی۔ آگے؟ فی جارہ۔ فی جارہ۔ المیدانِ مجرور لفظاً۔ المیدانِ مجرور لفظاً بھئی۔ مضاف۔ مضاف پر تو الف لام نہیں آتا بھئی۔ جار مجرور کو جوڑو بھئی، کس سے جوڑتے ہو؟ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے فارانِ۔ شاباش، یہ جار مجرور متعلق ہوئے کس سے؟ فارانِ سے، جڑتے ہیں یا نہیں؟ فارانِ بھاگنے والے فی المیدان، کس میں؟ میدان میں، جڑ رہے ہیں بھئی۔ اگے بھی تو چلو۔ امس کا معنی، امس کا میں نے معنی بتلا دیا، اب ترکیب کا آپ کو پتہ چل جانا چاہیے۔ کیا بنے گا؟ مفعول فیہ بنے گا، زمانے کا نام ہے گزشتہ کل کا، تو یہ مفعول، اعراب بتاؤ بھئی۔ منصوب محلاً۔ شاباش، منصوب محلاً بھئی، منصوب کیوں کہا کیونکہ مفعول فیہ ہے، محلاً کیوں کہا؟ مبنی ہے، جی۔ فعل اپنے فاعل، اسم فاعل اپنے فاعل سے متعلق اور مفعول فیہ سے مل کر۔ ہاں، تو یہ مفعول فیہ ہے فارانِ کے لیے، جیسے فعل بھئی عمل کرتا ہے فاعل میں بھی، مفعول میں بھی، متعلق میں بھی، مفعول فیہ میں بھی، اسی طرح اسم فاعل یہ صفت کے صیغے بھی اسی طرح ہوتے ہیں۔ تو ان سب میں عامل یہ فارانِ ہے، تو فارانِ صیغہ اسم فاعل جو ہے اپنے فاعل، مفعول فیہ اور متعلق سے مل کر کیا ہوا؟ شبہ جملہ ہو کر خبر ہوئی مبتدا کے لیے، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، جی پڑھیے اس کو۔ نہیں، ترجمہ نہیں پہلے عبارت پڑھیے۔ أَنْتُمَا فَارَّانِ فِي المَيْدَانِ أَمْسِ، جی۔ بھاگنے والے ہو میدان میں گزشتہ کل۔ ہاں، تم دونوں بھاگنے والے تھے میدان میں گزشتہ کل بھئی، یعنی کل تم دونوں میدان میں بھاگ رہے تھے بھئی۔ چلیے بھئی، بس کریں بھئی۔ اچھا بس بھئی، اج انشاءاللہ اب چھٹیوں کے بعد دیکھیں گے بھئی فی الحال، انشاءاللہ۔ اچھا جی، آئیے جی دعا کر لیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! گناہوں والی مجالس سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! تمام تکالیف اور پریشانیوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! گھروں میں خیر و برکت اور اطمینان و سکون نازل فرما۔ اے اللہ! تمام پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ سب کی تمام پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! مشکلات کو حل فرما۔ اے اللہ! یہ چھٹیوں میں جو گھر جا رہے ہیں، اے اللہ ان کو خیر و عافیت سے یہ سب گھر پہنچیں۔ اے اللہ! وہاں پر بھی خوشیاں ہی خوشیاں ہوں۔ اے اللہ! جو پریشانی بھی ہو اس کو دور فرما۔ اے اللہ! خیر و عافیت سے گھر پہنچا اور خیر و عافیت سے ہی یہ واپس پڑھنے کے لیے آئیں۔ اے اللہ! اے اللہ! تمام تکالیف کو دور فرما۔ اے اللہ! ان میں سے کوئی بیمار ہیں اللہ یا ان کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہو، سب کو شفا نصیب فرما۔ سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے جتنے اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، اے اللہ سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ پھر ان کے اساتذہ جتنا سلسلہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک، اے اللہ سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی بھی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! تمام عالم کے مسلمانوں کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! اسلام کو پھر غلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنانِ اسلام کو ذلیل و رسوا فرما، ان کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ اے اللہ! جو بھی اسلام کو اس وقت بدنام کرنے میں، اس کو نقصان پہنچانے میں لگا ہوا ہے، اے اللہ سب کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! سب کے مکر و فریب کو انہی پر لوٹا دے۔ اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! اسلام کا بول بالا فرما۔ اے اللہ! ہر طرف پھر دین کی ہوائیں چلا دے۔ اے اللہ! اسلام کو پھر غلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کو قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! اتفاق و اتحاد نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنان پر مجاہدین کا رعب طاری فرما۔ اے اللہ! جو مجاہدین دشمن کی قید میں ہیں ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا۔ اے اللہ! ان کے گھر والوں کو بھی اطمینان و سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! آپ تو قادر ہیں، اے اللہ ان مجاہدین جو دشمن کی قید میں ہیں ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا۔ اے اللہ! ان کو اطمینان و سکون نصیب فرما۔ اے اللہ! ان مجاہدین کے وسیلے سے ہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ان مجاہدین کے وسیلے سے ہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اس خطے میں خصوصاً اسلام کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! خصوصاً اس خطے کے اندر اسلام کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس خطے والوں کو اسلام سے محروم نہ فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اس علم دین کی برکت سے، اے اللہ تمام علماء کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! تمام طلباء کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! تمام مجاہدین و مبلغین کی حفاظت فرما۔ اے اور اے اللہ! جو شخص جس انداز میں بھی دین کے کام میں لگا ہوا ہے سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں میں بے انتہا اتفاق اور اتحاد پیدا فرما۔ اے اللہ! کفر کی ساری سازشوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس وطن کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو بھی ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو اے اللہ اسلام کے لیے کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ! ریاکاری سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! اخلاصِ کامل نصیب فرما۔ اے اللہ! اس کے لیے صحیح سمجھ بھی نصیب فرما۔ اے اللہ! دین کے ہر کام کے لیے صحیح سمجھ بھی نصیب فرما۔ اے اللہ! اس کے لیے ہمت اور قوت بھی نصیب فرما۔ اے اللہ! گمراہیوں اور بدعات کو مٹانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! گمراہیوں اور بدعات کو مٹانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہماری یہ چھوٹی سی جماعت ہے، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ ہماری کسی دعا کو اے اللہ رد نہ فرما۔ اے اللہ! سب جتنے حاضرین ہیں سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام مشکلات اور پریشانیاں اے اللہ دور فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! جن کے گھروں میں کوئی پریشانی ہے، اللہ اس پریشانی کو بھی دور فرما۔ اے اللہ! جس کی تحصیلِ علم میں کوئی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور فرما۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! قوی حافظہ نصیب فرما۔ اے اللہ! دینی، علمی کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام جسمانی اور روحانی امراض سے ہمیں ہمیں صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام جسمانی اور روحانی امراض سے ہمیں شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! ہمارے ایمان کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور جن بہت سے حضرات نے دعاؤں کو کہا ہے ان کے لیے بھی دعا کریں، اللہ ان کی بھی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آپ تو علیم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں، اے اللہ ان سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! مشکلات کو حل فرما۔ اے اللہ! ہمارے اس درس کو بھی اے اللہ قبول فرما۔ اے اللہ! پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہر ایک کے لیے نافع بنا دے۔ اے اللہ! کوئی بھی یہاں سے محروم نہ جائے، اے اللہ ہر ایک کے لیے نافع بنا دے۔ اے اللہ! اس علم کو سب کے لیے آسان فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یہ آپ کے بعض ساتھیوں نے بھی رقعے لکھے ہیں بھئی، ایک کے کسی عزیز کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور اس کے والد بیمار ہیں، فالج وغیرہ، ان کے لیے بھی دعا کریں، اللہ ان کو صحت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! ان کو صحت نصیب فرما۔ اور وہ طالب علم جن والدہ کا کہا تھا، اے اللہ انہیں بھی صحت اور شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت نصیب فرما۔ اے اللہ! یہ تیرے دین کے پڑھنے والے ہیں، اے اللہ تمام مشکلات سے ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کو دنیا میں بھی مکرم و محترم فرما۔ اے اللہ! آخرت میں بھی انہیں محترم و مکرم فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن جب ہم آپ کے سامنے آئیں تو آپ ہم سے راضی ہوں۔ اے اللہ! آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے راضی ہوں۔ اے اللہ! ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے والا بنا۔ اے اللہ! اس کی اشاعت کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! بدعات و گمراہیوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنی بھی اہل حق کی دینی جماعتیں ہیں سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! تمام جماعتوں کی نصرت فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ۔
49 approved lectures · 21 of 49