درس نمبر۔11
کل ہم نے جار مجرور کی ترکیب شروع کی تھی۔ جار مجرور کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا کہ یہ ہمیشہ کسی نہ کسی چیز سے متعلق ہوتے ہیں اور وہ کتنی چیزیں ہیں جن کے ساتھ یہ متعلق ہو سکتے ہیں؟ آٹھ چیزیں ہیں۔ اول فعل، ثانی مصدر، ثالث اسم فاعل، رابع اسم مفعول، خامس صفت مشبہ، سادس اسم تفضیل، سابع مبالغہ کے صیغے اور ثامن اسم فعل۔ تو یہ آٹھ چیزیں ہیں، یہ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے۔
تو اگر جملے میں ان میں سے کوئی ایک موجود ہو تو جار مجرور کو اس سے متعلق کر دیں اور اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر آپ کو محذوف نکالنا پڑے گا محذوف۔ اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جار مجرور کو ظرف کہتے ہیں مجازاً۔ ایک ہے ظرفِ حقیقی، ایک ہے ظرفِ مجازی۔ ظرفِ حقیقی وہ ہے جس کے اندر زمانے یا مکان والا معنی پایا جائے اور ظرفِ مجازی جو ہے یہ جار مجرور کو کہتے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جار مجرور کو ظرفِ مجازی کیوں کہتے ہیں؟ ظرف کیوں کہتے ہیں؟ میں نے وجہ ذکر کی تھی اس لیے کہ ظروف کے اندر اور جار مجرور کے اندر مناسبت موجود ہے بہت زیادہ۔ جار مجرور کی مناسبت ہے ظروف کے ساتھ اور ظروف کی مناسبت ہے جار مجرور کے ساتھ تو ان کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ ظرف کہہ دیتے ہیں جار مجرور کو۔ ظرف کی مناسبت جار مجرور کے ساتھ یہ ہے کہ ظرف جو ہے وہ جار مجرور کی تقدیر میں ہوتا ہے بھئی۔ جار مجرور کی تقدیر میں۔ مثلاً میں نے کہا ضربت زیداً الیوم تو یہ کس تقدیر میں ہے؟ الیوم ظرف جو ہے کس تقدیر میں ہے؟ جار مجرور کی تقدیر میں۔ میں نے آج پٹائی کی زید کی یعنی آج کے دن میں پٹائی کی فی الیوم بھئی۔
تو یہ ظرف کی مناسبت ہوئی جار مجرور سے اور جار مجرور کی بھی مناسبت ہے ظرف کے ساتھ بھئی۔ کہ کیا مناسبت ذکر ہوئی جار جار مجرور کہ جیسے ظرف کے لیے عامل چاہیے اسی طرح جار مجرور کے لیے بھی کیا چاہیے؟ عامل چاہیے یعنی ان کا وہ متعلق جس سے یہ متعلق ہوتے ہیں بھئی۔
تو اس لیے انہیں ظرف کہتے ہیں۔ اب اگر ان کا وہ متعلق عبارت میں ذکر ہو تو انہیں ظرفِ لغو کہتے ہیں، اگر وہ محذوف ہو تو انہیں ظرفِ مستقر کہتے ہیں۔ تو کتابوں کے اندر بھئی صرف وہ یہ نہیں بتائیں گے محذوف ہے یا مذکور ہے یا کچھ ہے، بس وہ کہہ دیں گے یہ ظرفِ لغو ہے بس۔ یا کہہ دیں گے ظرفِ مستقر ہے، آپ فورا سمجھ جائیں جب ظرفِ لغو کہیں کیا معنی بھئی؟ کہ کسی مذکور کے ساتھ متعلق ہو رہے ہیں اور جب کتاب کے اندر کہیں ظرفِ مستقر کہہ کر وہ آگے چلے جائیں آپ کیا سمجھ جائیں؟ کہ اس کے لیے جو متعلق ہے وہ محذوف ہے، عبارت میں ذکر نہیں۔
اب متعلق جو محذوف ہے، وہ افعالِ عامہ میں سے بھی ہو سکتا ہے اور افعالِ خاصہ میں سے بھی۔ افعالِ عامہ مشہور چار ہیں۔ کون؟ ثبوت، وجود اور حصول، یہ چاروں۔ ان کو افعالِ عامہ اس لیے کہتے ہیں کہ ہر فعل کے اندر ان چاروں کا معنی پایا جاتا ہے۔ کوئی بھی فعل آپ دیکھ لیں بھئی۔ ضرب ہے، سمع ہے، اکلا ہے، فتحہ ہے، نصرہ ہے، کرمہ ہے، اکرامہ ہے، استخراج ہے، ہر فعل میں یہ چاروں چیزیں ہوں گی۔ کون؟ کسی چیز کا ہونا ہوگا اس میں، ثبوت، کسی چیز کا ثبوت ہوگا، وجود ہوگا اور حصول ہوگا۔ تو انہیں افعالِ عامہ کہتے ہیں، باقی افعال کو افعالِ خاصہ کہتے ہیں کہ وہاں ایک فعل کا معنی دوسرے فعل کے اندر نہیں۔ جیسے ظرف کے اندر اکلا والا معنی نہیں اور اکلا کے اندر ضربہ والا معنی نہیں پایا جاتا۔
اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جب آپ محذوف نکالنے لگیں تو فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسمِ فاعل بھی نکال سکتے ہیں۔ اسم، فعل بھی نکال سکتے ہیں اور اسم بھی نکال سکتے ہیں۔ تو جو تین ہیں بھئی۔ کون کون سے تین؟ کون، ثبوت اور حصول، ان کے اندر فعلِ معروف نکالیں گے اور اس میں اگر اسم نکالنا ہے تو پھر اس میں فاعل نکالیں۔ اور اگر وجود سے آپ فعل نکالنا چاہتے ہیں تو فعلِ مجہول نکالیں گے اور اگر اسم اسی سے نکالنا چاہیں تو پھر کیا نکالیں گے؟ اس میں مفعول۔ تو تین کے اندر فعلِ معروف اور اس میں فاعل نکالتے ہیں اور چوتھے کے اندر فعلِ مجہول اور اس میں مفعول نکالتے ہیں۔ تو اگر فعل نکالیں گے تو وہ جملہ فعلیہ بنے گا اور اگر اس میں فاعل نکالیں گے تو پھر وہ کیا بنے گا؟ شبہ جملہ بنے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
---
اچھا اب یہ کل انہوں نے سوال کیا تھا کہ ایک ہی جملہ کے اندر اگر مصدر بھی آ جائے، اس میں فاعل بھی آ جائے اور جار مجرور بھی آ جائیں تو اب اس جار مجرور کو فعل سے متعلق کریں گے یا اس اسم فاعل سے؟ مثلاً وہ آٹھ چیزوں میں سے دو، تین یا چار چیزیں اکٹھی آ گئیں تو جار مجرور کو کس سے جوڑیں گے بھئی؟
بھئی بڑا آسان ہے صرف جس سے جوڑنے لگے ہو اس کو پکڑو اور اس جار مجرور کو پکڑو اور پھر ان کو ملا کر ان کا ذرا ترجمہ کرو۔ کیا کرو؟ ترجمہ۔ اگر ترجمہ صحیح ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ اس سے متعلق ہو رہا ہے۔ آگے مثالیں آئیں گی آپ دیکھیں گے بھئی تین چار چیزیں اکٹھی آگئیں بھئی ایک سے جوڑ رہے ہیں تو معنی صحیح بنتا ہے، باقی تینوں سے جوڑتے ہیں تو معنی صحیح نہیں بنتا۔ تو آگے پھر مشق سمجھ میں آئے تو ترجمے میں پھر غور کریں آپ بھئی۔
جی لکھیے جملہ۔
ختم اللہ
ختم اللہ
علی
علی
قلوبہم
قلوبہم
جی کون کرے گا ترکیب اس کی بھئی؟ جس کو ترکیب نہ آتی ہو بھئی انہیں کوشش کرنے دو۔
جی آپ کو نہیں آتی ترکیب بھئی؟ جی چلیے کیجیے شاباش۔
ختم فعل۔
لفظِ اللہ کا لفظِ اللہ فاعل۔ لفظِ اللہ مرفوع لفظاً۔ ہاں مرفوع پہلے اعراب بتاؤ۔ مرفوع لفظاً بھئی۔ مرفوع کیوں کہا آپ نے؟
فاعل ہے۔ فاعل ہے۔ لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ ہو رہا ہے۔ ختم اللہ دیکھا رفع پر تلفظ کر رہے ہیں۔ جی۔
علی جارہ۔
علی جارہ۔
قلوب مضاف اعراب۔
مرفوع ہے۔ مرفوع محلاً شاباش۔ مرفوع کیوں ہے؟
خبر واضح ہو رہا ہے۔ مبتدا تو آپ نے کوئی بتایا نہیں بھئی، خبر کہاں سے بن گیا؟
پڑھو ذرا اس کو روانگی سے بھئی۔
ختم اللہ علی قلوبہم۔
پڑھ تو تو صحیح رہا ہے بھئی، بتا نہیں رہا کیا بات ہے۔
قلوب مضاف۔ اعراب۔
پڑھا کیا ہے اس کو آپ نے؟ پڑھو پھر پڑھو اس کو۔
ختم اللہ علی قلوبہم۔
ختم اللہ علی قلوبہم۔
یرحمک اللہ۔
پڑھ کیا رہا ہے؟
علی قلوب۔
ہاں، پڑھ مجرور رہا ہے، بتلا مرفوع رہے ہو بھئی۔
کیوں؟ اچھا جی، مجرور کون سا ہے پھر؟ لفظاً ہے کہ تقدیراً ہے یا محلاً ہے؟
لفظاً کہاں سے ہو گیا بھئی؟
جی؟
محلاً ہے۔ شاباش بھئی۔ فتویٰ بدل دیا انہوں نے۔
مبتدا کے لیے۔ محلاً کیوں ہے بھئی؟
سبق میں باقاعدگی سے آتے ہو؟
کہ چھٹیاں کرتے ہو؟ ہاں۔
لفظاً کس لیے کہاں آتا ہے؟ تقدیراً کہاں آتا ہے؟ محلاً کہاں آتا ہے بھئی؟ محلاً اعراب کب آتا ہے؟ کس پر آتا ہے؟
جی، ضمیر پر کیوں آتا ہے؟
کیونکہ وہ مبنی ہے بھئی۔ یہ تو بڑی پرانی بات ہو گئی، بڑی مشق ہو گئی اس چیز کی بھئی۔ کیونکہ ضمیر کس میں سے ہے؟ معلوم ہوا بھئی، پچھلے ضابطوں پہ نظر ڈالا کریں بھئی، لکھتے بھی جائیں اور ان پر نظر ڈالا کریں۔ مبنی ہے اور مبنی کا اعراب کس طرح ہوا کرتا ہے؟ محلاً تو صرف ضمیر نہیں مبنی، مبنی اور اور چھ سات چیزیں، سات اور بھی ہیں، آٹھ چیزیں مبنی ہیں بھئی، ان سب کا اعراب محلاً آپ کو بتلانا پڑے گا۔
اچھا، تو آپ نے اس کا اعراب محلاً بتلایا۔ معلوم ہوا یہ مبنی ہے،
پڑھ کیا رہے تھے آپ؟
قلوبہم۔ اعراب آپ پڑھ رہے ہیں لفظاً، تلفظ کر رہے ہیں یعنی کسرہ پر بھئی۔
کر رہے ہیں۔ جب تلفظ اس پر ہو رہا ہے، مبنی پر کبھی اعراب آتا ہے بھئی؟
مبنی پر تو اعراب ظاہر ہی نہیں ہوتا بھئی کبھی بھی۔ تو جب اعراب اس پہ ظاہر ہو رہا ہے، پھر تو لفظاً کہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں۔
مجرور لفظاً مضاف الیہ بھئی۔
بھئی! وجہ جب آپ کو پتہ ہو، کوئی آپ کو غلط کرنا بھی چاہے، آپ پھر غلط ہی نہیں کریں گے۔
اگر آپ کو یقین ہی نہیں ہے، میں نے آپ سے پہلے کہا تھا لفظاً، میں نے کہا بھئی لفظاً کہاں سے ہے؟ آپ نے فورا بدل دیا۔ اگر آپ کو لفظاً، محلاً، تقدیراً کا پتہ ہوتا، ٹس سے مس نہیں ہونا تھا آپ نے کہ نہیں، بس لفظاً ہے، ہے ہی لفظاً، میں اس پہ کیا کسرے پر کیا کر رہا ہوں؟ تو لفظ کر رہا ہوں، تو کوئی غلطی کا امکان ہی نہیں تھا وہاں۔
جی۔
ہم ضمیر جار۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف الیہ ہے؟
آپ کو کیسے پتہ چلا قلوب مضاف ہے؟
معلوم ہوا ضابطے پکے نہیں آپ کے بھئی، ضابطے یاد کرو بھئی۔ میں نے کیا ضابطہ بتلایا تھا؟ اسم کی حفاظت جس اسم کے ساتھ ضمیر ملی ہوئی ہو تو قلوب اسم ہے یا فعل ہے؟ اسم ہے، اور اس کے ساتھ ضمیر ملی ہوئی ہے، تو اب یہاں کیا ترکیب ہوگی؟ مضاف۔ مضاف الیہ والی بھئی، یہ ضابطہ جب موجود ہے، تو پھر سوچنے کی کیا بات ہے؟ تو قلوب مجرور لفظاً مضاف، جی۔
ہم ہم کہو، ہم ضمیر۔
اعراب بھئی۔
مرفوع محلاً۔
چلو۔ پھر غور کرو ذرا بھئی۔
مضاف الیہ کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے؟
ہاں، مضاف الیہ مجرور ہوا کرتا ہے، اب مجرور کون سا ہے یہ؟
محلاً۔ محلاً کیوں ہے؟
کیونکہ یہ ضمیر ہے، مبنیات میں سے ہے اور ضمیروں کا، مبنیات کا اعراب کیسے آتا ہے؟ محلاً تو یہ یا ضمیر مجرور محلاً ہوئی۔
ہم ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔
مجرور مجرور۔
مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ہوا۔
شاباش! مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ہوا۔
فی کے لیے۔
جار مجرور بھئی۔
فعل۔
ہمم۔ فعل نہیں۔
فعل کہاں ہے؟
تنوین نہیں آ رہی، تنوین کس چیز کی علامت ہے؟ شاباش بھئی۔ مال مبتدا، تیر نشانے پہ لگ گیا بھئی۔
یاد رکھو بھئی، یہ اب یہاں پر فعل تو ہے نہیں، تو لہٰذا یہ جملہ اسمیہ بنے گا بھئی، کیا بنے گا؟ جملہ اسمیہ تو اس نے بننا ہے بھئی۔
اور
جار مجرور پہلے آ رہے ہیں۔
تو جب جملہ اسمیہ میں جار مجرور آ جائیں شروع میں تو وہ عموماً خبرِ مقدم بنتے ہیں، کیا بنتے ہیں؟ خبر مقدم۔
خبر مقدم بنیں گے بھئی۔
(یعنی جار مجرور مبتدا نہیں بن سکتے بلکہ ہمیشہ کیا بنیں گے؟ خبر بنیں گے۔ جار مجرور خبر بن سکتے ہیں، مبتدا نہیں بن سکتے۔
جار اپنے مجرور سے مل کر، یہ خبر مقدم ہو گئی۔ شاباش! دیکھا بھئی دوسرا تیر بھی نشانے پر ہے۔
لیکن ترکیب آپ نے پوری نہیں کی بھئی۔ جار مجرور کے لیے تو کیا چاہیے؟ متعلق چاہیے۔ کوئی عبارت میں فعل ذکر ہے؟ نہیں، اس میں فاعل ہے؟ اس میں مفعول ان آٹھوں چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے، تو اب کیا کرنا پڑے گا؟ محذوف نکالنا پڑے گا۔ اب نکالیں محذوف بھئی یہاں،
ثابت کر کے متعلق شاباش! یہاں ثابت نکا لو، ثابت فعل۔
جی۔
ثابت فعل کے صالح ہو کر یہ
خبر مقدم ہوئی۔ نہ، ابھی نہ بناؤ۔ فعل آ گیا تو پھر اب کس کو تلاش کرو؟ فاعل کو۔ ڈھونڈو فاعل۔
ہوا ضمیر۔ ہاں ثابت کے اندر ہوا ضمیر فاعل ہے بھئی، جی۔
فعل اپنے فاعل سے مل کر، فاعل اور بھی تو کسی چیز کو جوڑا ہے فعل کے ساتھ،
متعلق۔ ہاں فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر،
خبر مقدم، شاباش بھئی۔ اور
آگے کیجیے ترکیب۔
مال مبتدا۔ اعراب۔
مال مرفوع مبتدا موخر۔ اعراب۔ مرفوع لفظاً مرفوع مرفوع کیوں کہا؟
کیونکہ مبتدا مرفوع ہوتا ہے۔ شاباش! لفظاً کیوں کہا؟ کیونکہ تنہا مال رفع پر تلفظ ہو رہا ہے، تو یہ مرفوع لفظاً لفظاً مبتدا مؤخر بھئی۔
مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
بھئی! آپ نے پورے جملہ فعلیہ خبریہ کو کیا بنایا تھا؟ خبر کس کے لیے؟ مبتدا کے لیے، تو پورے جملے کو آپ نے جوڑا مبتدا کے ساتھ۔
تو کوئی ربط تو آپ نے نہیں بتایا۔
کوئی عائد تو نہیں بتایا۔
شاباش! ایک ہی ضمیر تھی ہوا کی، وہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ مال کو بھئی۔
اس پہ فورا اشکال ہوگا بھئی۔
بھئی! ضمیر پہلے آگئی، مرجع بعد میں آیا، تو یہ تو اضمار قبل الذکر ہوا۔
جواب یہ کہ مال ہے مبتدا، لفظوں میں اگرچہ مؤخر ہے، رتبے کے اعتبار سے مبتدا کیا ہوا کرتا ہے؟ مقدم ہے۔ تو رتبے کے اعتبار سے وہ مقدم ہے، یوں سمجھو گویا کلام یوں ہے: مال في جيبی، سمجھ میں آیا؟ تو اضمار قبل الذکر لازم نہیں آیا، لفظاً تو ہے، لیکن رتبتاً نہیں ہے بھئی۔
ترکیب آ گئی سب کو سمجھ میں بھئی؟
اب ترجمہ کیجیے۔
ثابت ہے وہ میری جیب میں بھئی، اور وہ سے کیا مراد ہے؟ مال۔ میری جیب میں مال ثابت ہے، یعنی موجود ہے۔
چلیے بس کریں بھئی۔
شاباش! دیکھا بھئی! انہوں نے کوشش کی اور مشکل ترکیب حل کی ہے۔
دعا کر لیجیے، الحمدللہ رب العالمین، وصلّی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ و صحبہ اجمعین۔
اے اللہ! تمام طلبہ کے لیے اس سبق کو آسان فرما۔ آمین۔ اے اللہ! تمام طلبہ کے لیے اس سبق کو آسان فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کے لیے بھی امتحان نافع فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کے لیے بھی امتحان نافع فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ان سب کے لیے اس فن کو، اس علم کو آسان فرما۔ آمین۔ اے اللہ! اس علم کو آسان فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہمارے تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ آمین۔ اے اللہ! جنہوں نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، اللہ ان سب کی حاجات پوری فرما۔ آمین۔ اے اللہ! آپ عالم الغیب ہیں، سب کو جانتے ہیں، اللہ سب کی حاجات پوری فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کی مشکلات حل فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں دور فرما۔ آمین۔ اے اللہ! جتنے حاضرینِ درس ہیں، اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔
اے اللہ! تمام علماء، طلبہ، مدارس، مساجد، مجاہدین، مبلغین، سب کی نصرت فرما۔ آمین۔ اے اللہ! اس زمانے میں جو بھی دین کے کام میں جس انداز میں بھی لگا ہوا ہے، اللہ! سب کی مدد و نصرت فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ان کی اعانت کرنے والوں کی بھی حفاظت فرما۔ آمین۔ اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں، اللہ! سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کو، سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ آمین۔ اے اللہ! امن، اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ان سب سے دین کا کام لے، آمین۔ اے اللہ! ان سب کو ہمارے لیے عظیم، ہمارے لیے اور اپنے والدین کے لیے عظیم صدقہ جاریہ فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو ایسا پہاڑ بنا دے، اے اللہ! جس سے شرک و بدعت کی آندھیاں ٹکرا کر دم توڑ جائیں۔ آمین۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو شرک و بدعت کو مٹانے والا بنا۔ آمین۔ اے اللہ! ہر ایک کو سنتوں کو زندہ کرنے والا بنا۔ آمین۔ اے اللہ! سنتوں کی محبت ہمارے دل میں پیدا فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ان پر عمل کو ہمارے لیے آسان فرما دیجیے۔ آمین۔ اے اللہ! سنتوں کو ہماری طبیعت بنا دیجیے۔ آمین۔ اے اللہ! جو چیزیں شرعاً ناپسندیدہ ہیں، اللہ! انہیں ہماری طبیعت کے لیے بھی ناپسندیدہ بنا دیجیے۔ آمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔ اے اللہ! اے اللہ! مسلمان اس زمانہ میں تکلیف میں ہیں، اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کی تکلیف اور پریشانیاں دور فرما۔ آمین۔ اے اللہ! سب کو دین پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ایسے اسباب پیدا فرما کہ سب کے لیے دین پر چلنا آسان ہو جائے۔ آمین۔ اے اللہ! اس زمانے میں کہ ہر روز نئے سے نیا فتنا سامنے آ رہا ہے، اللہ! ان فتنوں سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ان فتنوں کو دور فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ان فتنہ پھیلانے والوں کو ذلیل و رسوا فرما۔ آمین۔ اے اللہ! اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ آمین۔ اے اللہ! اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہم سب کے لیے اس سال کو نہایت مبارک فرما۔ آمین۔ خیر و عافیت کا باعث بنا۔ آمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ آمین۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ آمین۔
صلّی اللہ تعالی علی خير خلقہ محمد وآلہ وأصحابه اجمعین۔