Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نحوي تركيب · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 28
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔9 اچھا بھئی! گزشتہ اسباق میں آپ نے پڑھا تھا کہ فعل جب بھی آ جائے، فعل معروف، وہ ہمیشہ فاعل کا تقاضا کرے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ فعل معروف تو موجود ہو اور اس کا فاعل موجود نہ ہو۔ اسی طرح جب بھی فعل مجہول جملے کے اندر آئے گا، وہ ہمیشہ نائب فاعل کا تقاضا کرے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا فعل مجہول تو موجود ہو لیکن اس کا نائب فاعل نہ ہو۔ تو لہٰذا جب بھی فعل معروف آئے سب سے پہلے فاعل کو تلاش کریں، فعل مجہول آئے تو نائب فاعل کو تلاش کریں۔ پھر بتلایا تھا کہ کل چودہ صیغوں میں سے دو صیغے ایسے ہیں جن کا فاعل آگے اسم ظاہر آ سکتا ہے۔ ضمیر بھی ہو سکتی ہے ان کے اندر اور آگے فاعل اسم ظاہر بھی آ سکتا ہے اور وہ پہلا اور چوتھا فعل ہیں، یعنی واحد مذکر غائب کا صیغہ اور واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ۔ ان کے علاوہ جتنے صیغے ہیں، ان کا فاعل ہمیشہ ضمیر ہو گی، کبھی بھی آگے اسم ظاہر نہیں آ سکتا۔ اور پھر یہ ضابطہ بھی بتلایا تھا آپ کو کہ فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ تو جب بھی فاعل آئے گا، فعل کے بعد آئے گا، فعل سے پہلے نہیں آ سکتا۔ اور یہ ضابطہ بھی آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ جملہ اسمیہ کے اندر دو جزء ہیں: پہلا جزء مبتدا کہلاتا ہے، دوسرا جزء خبر کہلاتا ہے۔ اور خبر کبھی کبھار جملہ ہوا کرتی ہے۔ اور جملہ تو ہے مستقل، وہ کسی سے جڑنے کا محتاج نہیں، لیکن آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس جملے کو مبتدا سے جوڑ رہے ہیں۔ تو درمیان میں ربط چاہیے اور وہ ربط عائد کہلاتا ہے اور وہ عموماً ضمیر کی صورت میں آیا کرتا ہے۔ تو معنی یہ ہوا کہ جملہ جب بھی خبر واقع ہو گا، اس کے اندر کوئی عائد یعنی کوئی ضمیر ہو گی جو کس کی جانب لوٹے؟ مبتدا کی۔ اسی طرح کبھی جملہ حال بھی بنتا ہے، کبھی جملہ صفت بھی بنتا ہے، اور جملہ صلہ بھی بنتا ہے۔ تو جس صورت میں بھی جملہ آئے، جس چیز سے آپ اس کو جوڑیں، اس کی ضمیر کا جملے کے اندر ہونا ضروری بھئی۔ اگر آپ جملے کو مبتدا کے لیے خبر بنا رہے تھے تو مبتدا کی ضمیر اس میں ہو گی، اگر آپ جملے کو موصوف کے لیے صفت بنا رہے ہیں تو اس میں موصوف کی ضمیر ہو گی، اگر آپ جملے کو ذوالحال سے کیا بنا رہے ہیں؟ حال، تو پھر اس میں ایسی ضمیر ہو گی جو ذوالحال کی جانب لوٹے، اور جب جملہ صلہ بنتا ہے تو اس وقت اس میں ایک ایسی ضمیر کا ہونا ضروری جو کس کی جانب لوٹے؟ اسم موصول کی جانب۔ پھر اس کے بعد یہ ضابطہ بھی بیان ہوا تھا کہ جملہ جو ہے، جملہ، وہ نکرہ کے حکم میں ہوا کرتا ہے۔ جملے کے اپنے اندر بھئی کتنے ہی معرفہ کیوں نہ ہوں، لیکن جب وہ پورا جملہ بن گیا، اب کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں ہے۔ میں نے کہا: زَيْدٌ ضَارِبٌ، زَيْدٌ ہے مبتدا، ضَارِبٌ ہے اس کی خبر، تو آپ زید اکیلا ہو تو معرفہ، لیکن جب یہ ضَارِبٌ کے ساتھ جڑا اور پورا جملہ بن گیا، اب اس پورے جملے کا کیا حکم ہے؟ یہ نکرہ کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں ہے۔ تو لہٰذا یہ بات ذکر ہوئی تھی کہ جملہ کبھی صفت بھی بنتا ہے، تو یہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں، تو یہ صفت بھی کس کی بنے گا؟ نکرہ کی صفت بنے گا، کبھی بھی معرفہ کی صفت نہیں بن سکتا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور نیز جملہ مبنی ہے بھئی، مبنی۔ حتیٰ کہ بعض علماء تو فرماتے ہیں یہ مبنی الاصل ہے بھئی۔ تو جب مبنی ہے تو مبنی کا اعراب آپ کس طرح بتلایا کرتے ہیں؟ محلاً بتلاتے ہیں۔ جیسے هٰذَا یا هُوَ وغیرہ، یہ بھی مبنیات میں سے ہیں، ان کا اعراب محلاً ہوتا ہے، تو جملے کا بھی کیا اعراب ہو گا؟ محلاً۔ اب اگر وہ جملہ خبر بن رہا ہے تو خبر ہوتی ہے مرفوع، تو وہ جملہ بھی محلاً کیا ہو گا؟ مرفوع۔ اگر وہ جملہ صفت بن رہا ہے نکرہ کی، تو صفت کا وہی اعراب ہوا کرتا ہے جو موصوف کا ہوتا ہے۔ تو اگر موصوف مرفوع ہوا تو یہ صفت بھی محلاً مرفوع، تو یہ جملہ بھی محلاً مرفوع ہو گا۔ اگر صفت منصوب یا مجرور ہوئی تو یہ جملہ بھی محلاً منصوب یا مجرور ہو گا۔ اور جملہ جب حال بنتا ہے تو حال ہوا کرتا ہے منصوب، تو یہ جملہ بھی محلاً کیا ہو گا؟ منصوب۔ اور جب جملہ صلہ بنتا ہے تو یاد رکھیے، اس صورت میں اس کا کوئی محل اعراب نہیں بھئی۔ صلے کا کوئی محل اعراب نہیں ہوتا۔ موصول کا تو کوئی بھی اعراب آ سکتا ہے، وہ فاعل ہوا تو مرفوع ہو گا، اور مفعول ہوا تو منصوب ہو گا، اس پر حرف جر داخل ہوا تو وہ مجرور ہو گا محلاً، کیونکہ اسم موصول کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے۔ تو اس کا اعراب تو محلاً، وہ مرفوع بھی، منصوب بھی، مجرور بھی، لیکن جو اس کا صلہ ہے یاد رکھیے، اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں، تو صلے کے لیے کوئی اعراب آپ سے پوچھیں تو آپ کہیں گے: لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ، اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں ہے۔ اچھا بھئی، اب کچھ اور مشق کر لیجیے ان قوانین کے مطابق۔ جَاءَنِي رَجُلٌ، جَاءَنِي رَجُلٌ، جَاءَنِي رَجُلٌ، ضَرَبَكَ۔ بھئی یہ تو میں نے ضابطہ بھی نہیں لکھوایا، جملہ آ گیا، چلیے پہلے ضابطہ بھی ساتھ لکھ لیجیے۔ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنا کرتا ہے۔ نکرہ کے بعد فعل آ جائے تو وہ اس نکرہ کے لیے عموماً صفت بنے گا۔ چلیے جی، اب کون کرے گا ترکیب؟ جی، شروع کیجیے۔ جَاءَ فعل۔ یاد رکھیے، جَاءَنِي، یہ نون ہے، یہ نون وقایہ کہلاتا ہے اور آگے ضمیر ہے متکلم کی بھئی۔ نون وقایہ اس کو کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے کہ اس نے اپنے ماقبل کو کسرے سے بچا لیا۔ وقا کے معنی بچانے کے، وقایہ کے معنی بچانا۔ تو یہ بچاتا ہے ماقبل پر کسرہ آنے سے۔ جَاءَنِي بھئی، دیکھو جَاءَ فعل تھا، اس کے ساتھ متکلم کی ضمیر نے جڑنا ہے اور وہ کون سی ہے؟ یا۔ تو پھر کیا پڑھنا پڑے گا؟ جَائِي، لیکن جَائِي تو پڑھ نہیں سکتے اس لیے کہ جَاءَ ہے ماضی، اور آپ نے پڑھا ہے کہ ماضی مبنی ہوا کرتی ہے بھئی، مبنی، مبنی علی الفتح ہے۔ تو اس صورت میں اب یا ماقبل چاہتی ہے کسرہ اور وہ ماضی ہے مبنی، وہ کسرہ آنے نہیں دے رہا، تو پھر درمیان میں ایک نون لے آتے ہیں اور وہ کسرہ نون کو دے دیتے ہیں۔ تو اس کو نون وقایہ کہتے ہیں، اس نے اپنے ماقبل فعل کے آخر کو کسرے سے بچایا بھئی۔ جی، ترکیب کیجیے: جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر متکلم کی، اعراب بتاؤ بھئی۔ جو بھی اسم آ جائے اس کا اعراب بتلاتے جاؤ، بس آپ کی عبارت حل ہوتی چلی گئی، پھر بعد میں اس کو روانی سے پڑھ دیں بس۔ کتاب میں بھی اسی طرح ہے، آپ کتاب کی عبارت تیار کر رہے ہیں بھئی، تھوڑا معنی پہ غور کرتے چلے جائیں اور ہر ہر لفظ کا اعراب نکالیں بھئی، پھر اس کے مطابق دیکھیں معنی صحیح بن رہا ہے، اس کو روانی سے پڑھ دیں، آپ کی ساری عبارت تیار ہو گئی۔ کوئی مشکل لفظ آتا ہے تو اس کے لیے آپ کو لغت دیکھنا پڑے گی بھئی، لغت سے لفظ کے معنی کا پتہ چل گیا تو پورے جملے کا بھی با محاورہ ترجمہ بنانا آپ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے انشاء اللہ۔ جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر مرفوع محلاً، مرفوع کیوں کہا؟ فاعل، مرفوع آپ نے کہا بھئی، فاعل۔ جَاءَ، سب سے پہلے تو آپ یہ تعین کریں، جَاءَ دو میں سے ہے یا بارہ میں سے؟ جی، کس میں سے ہے؟ دو میں سے ہے، اور ان دو کے اندر فاعل ضمیر مستتر آیا کرتی ہے۔ اگر ضمیر کو بنانا ہے تو ضمیر مستتر ہو گی اور یا تو ضمیر بارز ہے بھئی، وہ تو ظاہر ہے۔ سمجھ میں آیا؟ وہ ضمیر بارز ہے۔ تو اگر فاعل ضمیر کو بنانا ہے تو اسی کے اندر بھئی ھُوَ کی ضمیر نکالنا پڑے گی۔ جَاءَ فعل، ھُوَ ضمیر اس کے اندر، اعراب اس کا مرفوع محلاً فاعل۔ شاباش، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، کیونکہ فاعل تو اب آگے نہیں آ سکتا، ایک گزر گیا، اور آگے مجرور بھی یہ نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اس پر کوئی حرف جر بھی داخل نہیں، اس سے پہلے کوئی مضاف بھی نہیں۔ مجرور کو تو ایک منٹ میں آپ پہچانیں بھئی، دیکھ لیں حرف جر نہیں ہے یا مضاف اس سے پہلے نہیں ہے تو بس مجرور نہیں ہے۔ مرفوع بھی ایک، فعل کے آنے کے بعد مرفوع ایک آ سکتا تھا، وہ آ گیا بھئی، اب یہ منصوب ہی ہو گی، جی۔ رَجُلٌ موصوف، اعراب؟ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ نکرہ آیا تو کیا ہوا؟ رفع کی وجہ پوچھ رہا ہوں میں، رفع کی۔ جی، آپ بتائیے۔ شاباش، اس نے کیا بننا ہے؟ فاعل بننا ہے بھئی۔ جب دو صیغوں میں سے آ گیا تو پہلے آگے دیکھ لو، کوئی اور تو فاعل اس کا نہیں بن سکتا؟ اگر بن سکتا ہے پھر ضمیر کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو آپ نے ھُوَ ضمیر نکالی تھی، کوئی ضرورت نہیں نکالنے کی، کیونکہ آگے رَجُلٌ خود کیا آ رہا ہے؟ اسم ظاہر اس کے لیے فاعل آ رہا ہے، تو دوبارہ کیجیے ترکیب بھئی۔ جَاءَ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر متکلم کی منصوب محلاً مفعول بہ، رَجُلٌ مرفوع لفظاً اس کا فاعل، رَجُلٌ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں کہا؟ فاعل مرفوع ہوا کرتا ہے، شاباش، اور لفظاً کیوں کہا؟ تلفظ، رَجُلٌ، دیکھا ضمہ پر تلفظ کر رہے ہیں، پھر کیا بنایا آپ نے؟ فاعل بنا دیا جی۔ آگے، ابھی ضابطہ آپ کو لکھوایا بھئی، کیا ضابطہ لکھوایا؟ نکرہ کے بعد عموماً فعل آ جائے، فعل آ جائے تو وہ عموماً فعل کیا ہوا کرتا ہے اس کے لیے؟ صفت بنے گا، بنائیے بھئی۔ شاباش، ابھی فاعل نہ کہو اس کو، یوں کہو: مرفوع لفظاً موصوف، اگلے کو بھی اس کے ساتھ جوڑو۔ ضَرَبَ فعل، پہلا صیغہ ہے، تو پھر پہلے صیغے میں کون سی ضمیر فاعل ہوا کرتی ہے؟ میں نے پہچان تو کروائی تھی ساروں میں، پہلے اور چوتھے صیغے میں ضمیر بھی فاعل آ سکتی ہے لیکن وہ ہمیشہ کون سی ہو گی؟ مستتر ہو گی۔ ھُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے۔ شاباش، کاف ضمیر منصوب محلاً مفعول، فاعل یہ ہو نہیں سکتی، فاعل گزر چکا، مرفوع اور نہیں آئے گا۔ منصوب محلاً، منصوب اس لیے کہ مجرور یہ ہے نہیں، نہ اس سے پہلے مضاف ہے نہ اس پر کوئی حرف جر ہے، منصوب طے ہو گیا جی، منصوب محلاً مفعول جی۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر کیا بنا کرتا ہے؟ جملہ بنتا ہے بھئی، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی رجل کے لیے، کیسے صفت بنا رہے ہو؟ ربط کوئی دیا نہیں ہے، اس کو کیا ضرورت ہے صفت بننے کی، جڑنے کی؟ ہاں، یہ ھُوَ ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ رَجُلٌ کو، اور ھُوَ ضمیر بھی مفرد کی، رَجُلٌ بھی، مطابقت بھی موجود ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اور مرجع میں نے آپ کو بتلایا ہمیشہ غائب کی ضمیر کا مرجع دیکھا جاتا ہے، مخاطب اور متکلم کی ضمیر کے مرجع کو تلاش، مخاطب متکلم تو آپ خود ہیں، مخاطب تو آپ کے سامنے موجود ہے، مرجع صرف کس کا تلاش کرو؟ غائب کی ضمیر کا، اور غائب کی ضمیر ھُوَ کی تھی، مرجع ضمیر میں مطابقت بھی آ گئی، جی ربط بھی آ گیا۔ تو فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت ہوئی کس کے لیے؟ اور رَجُلٌ ہے مرفوع، تو کوئی آپ سے پوچھے ضَرَبَ کا اعراب کیا ہے، آپ کیا کہیں گے؟ یہ بھی مرفوع محلاً، کیونکہ یہ صفت ہے اور صفت موصوف کا اعراب ایک ہے، تو یہ جملہ محلاً مرفوع ہے بھئی۔ جی، موصوف اپنی صفت سے مل کر جَاءَ کے لیے فاعل بن گیا، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اب روانی سے پڑھیے اس کو: جَاءَنِي رَجُلٌ ضَرَبَكَ، جَاءَنِي رَجُلٌ ضَرَبَكَ، جی، ترجمہ کیجیے۔ جَاءَنِي: آیا میرے پاس رَجُلٌ ضَرَبَكَ، وہ آدمی، وہ کیوں کہہ رہے ہیں بھئی؟ یہ معرفہ ہے، نکرہ ہے رَجُلٌ؟ نکرہ میں کیسے ترجمہ کرنا ہے؟ ایسا آدمی۔ وہ سے معلوم ہوا کوئی متعین کی طرف آپ نے اشارہ کر دیا، وہ تو معرفہ ہوا۔ دیکھو، غور سے دیکھو ترجمہ: جَاءَنِي: آیا میرے پاس رَجُلٌ: ایسا آدمی، ضَرَبَكَ: کہ پٹائی کی اس نے تیری، میرے پاس ایسا آدمی آیا جس نے تیری پٹائی کی۔ ترجمہ بنا یا نہیں بنا بھئی؟ آیا میرے پاس ایسا آدمی کہ پٹائی کی اس نے تمہاری۔ جی، اس کے لیے مفعول آ جاتا ہے کبھی، یہ دراصل یہاں حذف و ایصال ہوا ہے بھئی۔ میری بات کی طرف آپ لے جا رہے ہیں، جَاءَنِي اصل میں تھا: جَاءَ إِلَيَّ، سمجھ میں آیا؟ جَاءَ إِلَيَّ، میری طرف آیا، میرے پاس آیا، پھر اِلیٰ کو حذف کر دیا اور یا کو کیا بنا دیا؟ مفعول، پہلے مجرور تھا، اب کیا بنا دیا؟ مفعول بنا دیا، اس کو سمجھ میں آیا؟ تو اِلیٰ کو جو حذف کیا وہ کہلایا حذف، اور ساتھ ملایا، اس کو کہتے ہیں ایصال، ساتھ ملانا، تو یہاں حذف و ایصال ہوا ہے بھئی، حذف و ایصال۔ اچھا بھئی، جلدی ایک ترکیب اور کر لیں۔ بھئی آج مجھے کہیں جانا تھا، لیکن سبق کی اتنی چھٹیاں ہو چکی ہیں، میں نے کہا طلباء بھی پریشان ہوں گے سبق نہ ہو، تو میری بھی طبیعت پہ بڑا بوجھ رہتا ہے کہ طلباء کا نقصان ہو گیا، میں نے کہا کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو جائے بھئی۔ زَيْدٌ ضَرَبَكَ، جی، کیجیے ترکیب۔ زَيْدٌ مرفوع لفظاً مبتدا، ضَرَبَ فعل، ھُوَ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، کاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ مبتدا بیچارہ انتظار میں ہے میری خبر کدھر گئی؟ ہمم، محذوف تو نہیں یہاں پر، غور کرو بھئی۔ ہاں بھئی، کیا خبر ہوئی؟ شاباش! میں نے بتلایا تھا خبر کبھی کیا ہوا کرتی ہے؟ جملہ، تو یہ پورا جملہ آپ کے پاس ہے تو، اس کو اٹھا کر کیا بنا دو؟ خبر بنا دو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ پورا جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ زید مبتدا کے لیے، لیکن نہیں بنا سکتے، کہاں سے بنائیں گے؟ کوئی ربط دیا آپ نے؟ ربط چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے، جملے کو کسی سے جوڑنے کی ضرورت نہیں، وہ اپنا معنی پورا ادا کر رہا ہے بھئی، تو اب ربط کس سے دیں گے بھئی؟ وہ جو ھُوَ ضمیر تھی فاعل کی، اس کے بارے میں آپ نے بتلایا ہی نہیں کہ وہ کس کی طرف لوٹ رہی ہے، اگر آپ بتلا دیتے تو وہ پتہ چل جاتا کہ یہ عائد ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ ھُوَ ضمیر کس کو لوٹ رہی تھی؟ زید کی طرف لوٹ رہی ہے، یہی عائد ہے بھئی جس کو آپ نے فاعل بنایا۔ اب ترجمہ کیجیے۔ ایک ایک لفظ کے مطابق ترجمہ کرو بھئی، اس طرح ترجمہ کرنا آتا ہے بھئی۔ زَيْدٌ: زید، ضَرَبَكَ: کہ پٹائی کی، فاعل نکالا تھا یا نہیں؟ وہ بھی، اس نے، ھُوَ ضمیر کا ترجمہ بھی کر رہا ہوں۔ زید کہ پٹائی کی اس نے آپ کی بھئی، زید کہ پٹائی کی اس نے آپ کی، اب با محاورہ کہیں گے: کیا ترجمہ ہوا؟ زید نے آپ کی پٹائی کی بھئی۔ بَكْرٌ، بَكْرٌ، بَكْرٌ، اَكَلَ، طَعَامَ، طَعَامَكَ، طَعَامَكَ، اَلْيَوْمَ، اَلْيَوْمَ۔ اچھا بھئی، کون کرے گا ترکیب؟ جی، کیجیے۔ بَكْرٌ مرفوع لفظاً، مبتدا، بَكْرٌ مرفوع لفظاً مبتدا، اَكَلَ فعل، ھُوَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، طَعَامَ منصوب، کون سا منصوب؟ لفظاً، منصوب کیوں کہا آپ نے؟ یہ مفعول بنے گا، شاباش! سمجھ میں آیا؟ اور لفظاً کہا وہ کیوں آپ نے؟ تلفظ، طَعَامَ، اس پر میم پر فتحہ کا تلفظ کر رہے ہیں آپ، جی۔ منصوب محلاً مفعول بہ، جی، کاف ضمیر مضاف تو ہمیں آپ نے کوئی بتایا ہی نہیں، مضاف، طَعَامَ بھئی، وہ ضابطہ لگے گا، کیا ضابطہ تھا بھئی؟ جس اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہو کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ والی، وہ پہلے ضَرَبَكَ، فعل کے ساتھ ضمیر ملی ہوئی تھی بھئی، اور یہ طَعَامَكَ، یہ اسم کے ساتھ ملی ہوئی ہے، طَعَامَ منصوب لفظاً مضاف اور کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر اب کیا بنا دو؟ مفعول بناؤ بھئی۔ اَلْيَوْمَ منصوب لفظاً، منصوب کیوں کہا؟ جی؟ کیوں؟ مفعول فیہ، کون سا مفعول؟ مفعول فیہ، شاباش! یہ ظرف ہے بھئی، ظرف بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جس میں زمانے اور مکان والا معنی ہے بھئی، اور لفظاً ہے، اَلْيَوْمَ، دیکھا نصب پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں، منصوب لفظاً مفعول فیہ بھئی، شاباش۔ شاباش، دیکھا؟ اب سب کو سمیٹ دو: فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر خبر ہوئی کس کے لیے؟ آپ نے ربط نہیں بتایا، کیسے خبر بنا دی؟ ہاں، غائب کی ضمیر کا ہمیشہ مرجع تلاش کیا کرو بھئی، تو ھُوَ ضمیر لوٹ رہی ہے کس کو؟ بکر کو لوٹ رہی ہے، یہی عائد ہے۔ اب اس کو روانی سے پڑھو جملے کو بھئی۔ بَكْرٌ اَكَلَ طَعَامَكَ الْيَوْمَ، جی، ترجمہ کیجیے۔ ہاں، بکر کہ کھایا اس نے آپ کا کھانا آج بھئی، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے بھئی، بس کرتے ہیں اب۔ اچھا، دعا بھی کر لیں، آئیے: الحمد للہ رب العالمین۔ اے اللہ! ہمارے تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! جو ان میں سے بیمار ہیں یا گھروں میں کوئی بیمار ہے، اے اللہ! سب کو اس علم دین کی برکت سے، اے اللہ! شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو احباب ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! سب کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! گناہوں والی مجالس سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! بدعات اور گمراہیوں سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! بدعات اور گمراہیوں کو مٹانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اس کے لیے ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ بہت سے احباب نے بھی دعاؤں کو کہا ہے، اے اللہ! ان سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں، سب کی حاجات جانتے ہیں اور ان سب کو جانتے ہیں، اے اللہ! ان سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ان سب کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ یہ آپ کے ساتھ ایک ساتھی نے بھی لکھا ہے، ان کے کوئی عزیز ہیں، زمین کے مسئلے میں کوئی پریشانی ہے، دعا فرمائیں: اے اللہ! اے اللہ! ان کی اس پریشانی کو دور فرما۔ اے اللہ! ظالموں کے ظلم کو ان سے دور فرما۔ اے اللہ! ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کی اس حاجت کو پورا فرما، تکلیف اور پریشانی کو دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میری ہمشیرہ کے لیے بھی بھئی دعا کریں، اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے۔ اے اللہ! ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ یہ آپ حضرات ہی کی دعائیں تھیں کہ اللہ، کہ ان کی جان بچ گئی بھئی، اللہ تعالیٰ نے ان کو نئی زندگی عطا فرمائی، یہ آپ حضرات ہی کی دعائیں تھیں، اللہ آپ سب کو جزائے خیر نصیب فرمائے۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور جن ساتھیوں نے بھئی کئی ساتھیوں نے خون دیا ہے، اے اللہ! ان سب کو جزائے خیر نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو دنیا میں بھی اس کا اچھا بدلہ نصیب فرما، اور اے اللہ! ان کو آخرت میں بھی اس کا اچھا بدلہ نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو بھی دور فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جن طالب علموں کی تحصیل علم میں کوئی رکاوٹیں ہوں، ان رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک سے خیر کے چشمے جاری فرما۔ اے اللہ! ہر ایک سے خیر کے عظیم چشمے جاری فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ۔
49 approved lectures · 9 of 49