درس نمبر۔3
گزشتہ سبقوں میں آپ نے پڑھا تھا کہ جملہ دو قسم پر ہے: ایک جملہ اسمیہ ہے اور ایک جملہ فعلیہ ہے۔ اور پھر یہ بھی پڑھا تھا کہ جملہ اسمیہ کے اندر دو جزء ہوتے ہیں، پہلا جزء مبتدا کہلاتا ہے اور دوسرا جزء خبر۔ اور مبتدا اور خبر دونوں مرفوع ہوا کرتے ہیں۔ اور معرفہ کی اقسام آپ نے پڑھی تھیں کہ تمام ضمیریں جو ہیں وہ معرفہ ہیں، اسی طرح اسم اشارہ یہ بھی معرفہ ہے، اسم موصول یہ بھی معرفہ ہے، اور معرف باللام، جس پر الف لام آئے، یہ بھی معرفہ ہے، علم ہے یہ بھی معرفہ ہے، ایک معرفہ بالنداء ہے جس پر حرف ندا داخل ہو، اور ان میں سے کسی ایک کی طرف جو مضاف ہو جائے وہ بھی معرفہ، اس کی آپ کو پہچان ہونی چاہیے۔ اور پھر مبنی کی اقسام آپ نے پڑھی تھیں، مبنی آپ نے پڑھے کہ تمام ضمیریں جو ہیں وہ مبنیات میں سے ہیں، اسمائے اشارہ وہ مبنیات میں سے ہیں، اسمائے موصولہ جو ہیں وہ مبنیات میں سے ہیں، اور اسی طرح کچھ ظروف ہیں، کچھ مرکبات ہیں، اصوات ہیں، اور اسمائے افعال ہیں، اور کنایات بھئی۔
پھر ایک ضابطہ ذکر ہوا تھا کہ معرفہ کے بعد معرفہ آ جائے تو آپس میں کیا ترکیب ہو گی؟ موصوف صفت کی ترکیب ہو گی، چاہے ایک معرفہ آئے معرفہ کے بعد یا دو، تین، چار آ جائیں۔ اسی طرح کئی نکرہ اکٹھے آ جائیں تو پھر بھی کیا ترکیب کریں گے؟ موصوف صفت، لیکن اس میں شرط کیا تھی؟ کہ ان کے بعد کوئی معرفہ نہ آئے ورنہ معرفہ آ جائے ان کے بعد، چاہے دوسرے کے بعد آئے، تیسرے کے بعد یا چوتھے کے بعد، تو پھر عموماً جو ہے مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہوا کرتی ہے۔ اور پھر ترجمہ کرنے کا ضابطہ میں نے بتلایا تھا کہ موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے عموماً صفت کو اردو میں مقدم کرتے ہیں۔ عربی میں صفت مؤخر ہوتی ہے لیکن اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے، ایک طریقہ یہ ہے۔
اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ اردو میں بھی صفت کو مؤخر ہی رکھنا چاہتے ہیں تو معرفہ ہوں جب دونوں موصوف صفت تو موصوف سے پہلے کیا لے آئیں؟ وہ کا لفظ، معرفہ ہوں جب: جَاءَنِي زَيْدٌ الْعَالِمُ، آیا میرے پاس، یہ نہ کہیں ایسا زید، وہ زید جو عالم ہے۔ ہاں اور نکرہ ہوں تو پھر اس صورت میں موصوف سے پہلے ایسا کا، جَاءَنِي رَجُلٌ عَالِمٌ، آیا میرے پاس ایسا آدمی جو عالم ہے۔
اب ایک نیا ضابطہ لکھ لیں بھئی: جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آ جائے، اسم کی بات کر رہا ہوں بھئی فعل کی نہیں، جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آ جائے تو وہاں ہمیشہ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب کریں گے۔ جس اسم کے آخر میں ضمیر آ جائے تو وہاں ہمیشہ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب کریں گے۔ غُلَامُهُ، دیکھا، غلام کے لفظ کے ساتھ کیا آ گئی ضمیر متصل، تو غلام مضاف، ہا ضمیر مضاف الیہ۔ غُلَامُكَ، غلام مضاف اور کاف ضمیر متصل آ گئی تو یہ مضاف الیہ بھئی۔ غُلَامِي، دیکھا، یہ متکلم کی ضمیر ساتھ آ گئی تو اب بھی کیا ترجمہ کریں گے ہمیشہ؟ کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ والی۔
اچھا، اب اس ضابطے کے مطابق کچھ ترکیبیں کر لیجیے: غُلَامُ زَيْدٍ رَجُلٌ فَاضِلٌ، غُلَامُ زَيْدٍ رَجُلٌ فَاضِلٌ، غُلَامُ زَيْدٍ رَجُلٌ فَاضِلٌ۔ کون کرے گا ترکیب؟ جسے نہ آتی ہو بھئی، چلیے جی، کیجیے۔ سب سے پہلے اعراب بھئی۔ عبارت حل کرنی ہے آپ نے، کتاب دیکھ رہے ہیں، آپ نے صبح کے سبق کے لیے عبارت تیار کرنی ہے تو سب سے پہلے اعراب۔ ذہن میں آپ پہلے بنا لیں کہ اس نے بننا کیا ہے، کیا بنے گا، لیکن ترکیب میں بیان کرتے ہوئے پہلے اعراب بتلائیں۔
مرفوع، شاباش، غُلَامُ مرفوع لفظاً۔ مضاف بنے گا، کیوں بھئی؟ مضاف کیوں بنایا آپ نے؟ دیں بھئی، جو بھی جواب ذہن میں ہو بتلائیں تو سہی۔ آپ نے کہا یہ مضاف ہے، کیوں کہا مضاف ہے؟ جی، انہوں نے کیوں کہا مضاف ہے؟ شاباش، دیکھا، کل ضابطہ بتلایا تھا بھئی، نکرہ کے بعد ایک نکرہ ہو، دو ہوں، تین ہوں، چار ہوں، ان کے بعد معرفہ آ جائے تو کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ والی۔ یہاں غلام کا لفظ نکرہ ہے، معرفہ کی چھ سات قسموں میں سے یہ کوئی بھی نہیں، اور اس کے بعد زید کا لفظ آ رہا ہے جو نام ہے، معرفہ ہے، تو ترکیب کیا ہو گی؟ مضاف مضاف الیہ والی، جی۔ غُلَامُ مرفوع لفظاً مضاف۔ اب یہ بتلائیے آپ نے اسے مرفوع کیوں پڑھا؟ نہیں، وہ تو لفظاً کا جواب آپ دے رہے ہیں، مرفوع کیوں پڑھا آپ نے اس کو؟ نکرہ مرفوع ہونا تو ضروری نہیں۔ شاباش، اس نے کیا بننا ہے؟ مبتدا بننا ہے، بھئی مبتدا تو معرفہ بنا کرتا ہے۔ ہاں بھئی، آپ بتائیں۔ مبتدا تو معرفہ بنتا ہے، اس کو کیسے مبتدا بنا رہے ہیں یہ؟
دیکھو، مضاف جس کی طرف، مضاف کا وہی حکم ہوتا ہے جو مضاف الیہ کا ہوتا ہے۔ مضاف الیہ معرفہ ہے تو مضاف بھی کیا بن جائے گا؟ معرفہ بن جائے گا۔ تو غلام، ویسے آپ کہتے غلام، تو دنیا کے ہر غلام پر اس کا اطلاق صحیح ہے، وہ بھی غلام، دوسرا بھی غلام، تیسرا۔ لیکن جب آپ نے کہہ دیا غُلَامُ زَيْدٍ، اب بکر کے غلام کو کہہ سکتے ہیں؟ نہیں، متعین ہو گیا، معرفہ بن گیا، غُلَامُ زَيْدٍ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو معرفہ کی طرف جب ایک مضاف ہو جائے وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے، تو یہاں اس وقت یہ غلام معرفہ ہے بھئی اضافت کی وجہ سے۔ غُلَامُ مرفوع لفظاً، آپ نے لفظاً کیوں کہا بھئی؟ شاباش، تلفظ ہو رہا ہے۔
زَيْدٍ مرفوع لفظاً مضاف الیہ۔ بھئی، مضاف الیہ کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے؟ دو ہی تو مجرور ہیں پورے کلام عرب کے اندر: ایک وہ جس پہ حرف جر داخل ہو، اور ایک مضاف الیہ۔ مجرور کتنے ہیں بھئی؟ ہاں، مجرور فوراً پہچانا جائے گا عبارت کے اندر بھئی، اس پر یا حرف جر داخل ہو گا یا وہ مضاف الیہ بنے گا۔ اور آپ نے اس کو کیا بنا دیا؟ کیا بنایا؟ مضاف الیہ بنایا، اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ غُلَامُ، پڑھیں گے کیسے؟ صحیح تو آپ نے پڑھا تھا پہلے۔ مجرور پڑھیں اس کو بھئی مجرور: غُلَامُ زَيْدٍ، جی۔ ہاں، اعراب بتاؤ اب زید کا۔ مجرور، ہاں مضاف الیہ ہے نا، مضاف الیہ مجرور ہوا کرتا ہے، مجرور۔ کون سا مجرور ہے؟ تقدیراً ہے یا محلاً ہے؟ لفظاً کیسے ہے؟ شاباش، زَيْدٍ دیکھا جر پر یہ کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں، تو معلوم ہوا یہ مجرور ہے لفظاً، مضاف الیہ۔ آگے بھئی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا بن گئے۔ آگے۔ شاباش، رَجُلٌ مرفوع لفظاً موصوف۔ شاباش، فَاضِلٌ مرفوع لفظاً صفت۔ موصوف صفت مل کر خبر ہوئی۔ تو کوئی آپ سے پوچھے یہ رَجُلٌ کو کیوں مرفوع پڑھا؟ آپ فوراً کیا جواب دیں گے؟ کیونکہ اس نے کیا بننا ہے؟ خبر بننا ہے، اور خبر بھی مرفوع ہوا کرتی ہے۔ جیسے غلام کو آپ نے مرفوع اس لیے پڑھا تھا کہ اس نے مبتدا بننا تھا۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کیجیے۔ ہاں، زید کا غلام، وہاں تھا رَجُلٌ فَاضِلٌ، فاضل صفت ہے، صفت کو اردو میں موصوف سے پہلے لے آئیں بھئی، کیا پڑھیں گے؟ فاضل آدمی، زید کا غلام فاضل آدمی ہے۔
غُلَامِي حَاضِرٌ، غُلَامِي حَاضِرٌ۔ اور کون کرے گا ترکیب بھئی؟ شاباش، کوشش کریں، ہمت کریں، جسے بالکل بھی نہیں آتی اسے اور زیادہ کوشش کرنی چاہیے، جی شاباش۔ غُلَامِي، محلاً مرفوع، تقدیراً مرفوع، آگے؟ مبتدا، آگے۔ اوہو! غُلَامِي کہا میں نے، یا بھی ساتھ جڑی ہوئی ہے، متکلم کی ضمیر ہے بھئی۔ آپ نے مضاف مضاف الیہ بنایا، کس کو مضاف بنایا؟ اور مضاف الیہ کس کو بنایا؟ یا ضمیر متکلم کی ہے، آپ کو کیسے پتہ چلا ایک مضاف ہے دوسرا مضاف الیہ ہے؟ کیسے پتہ چلا؟ ہاں بھئی، یہ بھی ٹھیک کچھ بات، لیکن جی، آپ سے پوچھ رہا ہوں درمیان میں جو بیٹھے ہو، ہاں، کیسے پتہ چلا ایک مضاف ہے دوسرا مضاف الیہ ہے؟ جی۔ ابھی تو ضابطہ لکھوایا ہے، جس اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آ جائے، کیا ترکیب کریں گے؟ مضاف مضاف الیہ والی، تو غلام ایک اسم ہے، اس کے ساتھ یا ضمیر متکلم متصل آ گئی، تو اب یہاں کیا ترکیب ہو گی؟ مضاف مضاف الیہ، جی، یہ طے ہو گیا۔ اب جی، اعراب بتلائیے دوبارہ۔ غلام کا لفظ لیں پہلے، غلام، مرفوع تقدیراً، مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ شاباش، اس نے مبتدا بننا ہے، جی مرفوع، اور آپ نے آگے کیا کہا؟ تقدیراً ہے، کیوں؟ تقدیراً کیوں کہا؟ محلاً کیوں نہیں کہا آپ نے؟ یا لفظاً کیوں نہیں کہا؟ شاباش، رفع پہ تلفظ ہو رہا ہے؟ غُلَامِي، نہیں بھئی، رفع پہ تلفظ ہی نہیں ہو رہا میم پر۔ اچھا اب کیا رہ گیا، یا تو یہ محلاً مرفوع ہے یا تقدیراً مرفوع ہے، اب یہ طے کرنا ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ تقدیراً کیوں کہا؟ محلاً کیوں نہیں کہا؟ جی، آپ بتلائیے۔ نہیں، انہوں نے کہا اعراب اس کا ہے تقدیراً، میں کہتا ہوں اعراب ہے محلاً، اب آپ طے کریں بھئی: تقدیراً یہ ہے مرفوع یا محلاً مرفوع ہے، اور کیوں ہے؟ تقدیراً کیوں ہے؟ ہاں، یہ سولہ قسم، یعنی یہ مبنی نہیں ہے بھئی، محلاً اعراب کس کا آیا کرتا ہے؟ مبنی کا، اور مبنی میں نے آپ کو بتایا بھئی ضمیریں ہیں، اسمائے اشارہ ہیں، اسمائے موصولہ وغیرہ ہیں، یہ ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ وہ مبنی کا اعراب محلاً ہوتا ہے اور یہ تو ہے معرب، تو اس کا اعراب کیا آئے گا؟ تلفظ ہو رہا ہو تو لفظاً آئے گا، تلفظ نہ ہو رہا ہو تو تقدیراً، تو یہ غلام مرفوع ہے تقدیراً، شاباش، آگے۔ اعراب یا کا بتلاؤ، ہر ہر اسم کا آپ نے اعراب بتلانا ہے، یہ ضمیر ہے، اسم ہے بھئی۔
مرفوع کیوں کہا آپ نے؟ مجرور کیوں کہا؟ شاباش، یہ بات طے ہے بھئی، اس ضمیر نے کیا بننا ہے؟ مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کا کیا اعراب ہوا کرتا ہے؟ مجرور ہوتا ہے، تو یہ ضمیر کیا ہو گی؟ مجرور ہو گی۔ اب مجرور تین قسم پر ہے: یہ لفظاً ہے یا محلاً ہے یا تقدیراً ہے؟ کون سا ہو گا؟ محلاً کیوں؟ مبنیات میں سے ہے، شاباش، تو یا ضمیر محلاً مجرور ہے بھئی، مضاف الیہ ہونے کی بناء پر۔ آگے۔ شاباش، مضاف مضاف الیہ مل کر کیا بنے؟ تو غلام کا اعراب انہوں نے کہا تھا مرفوع ہے تقدیراً، سولہ قسموں میں آپ نے پڑھا ہو گا بھئی، غُلَامِي ایک قسم ہے بھئی، وہ اسم جمع مذکر سالم کے علاوہ کوئی اسم جو ہے مضاف ہو کس کی طرف؟ ضمیر متکلم کی طرف، غُلَامِي، اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوا کرتا ہے۔ یہ جو قسم ہے اس کا اعراب طلباء کو پریشان کرتا ہے، یہ ذہن میں بٹھا لیں، جما لیں بھئی، جہاں بھی کوئی اسم کس کی طرف آ جائے، مضاف کس کی طرف ہو؟ ضمیر متکلم کی طرف ہو، اس کا اعراب ہمیشہ کیا آئے گا؟ تقدیراً آئے گا، اب باقی محل دیکھ لیں، کہ وہاں مرفوع آتا ہے، منصوب یا مجرور۔ یہ ہے مبتدا، تو یہاں پر کیا ہو گا؟ مرفوع، اور مرفوع پھر کون سا ہو گا؟ تقدیراً ہی ہو گا ہمیشہ یہ، تو یہ مرفوع تقدیراً تھا، اور تو مبتدا، آگے مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا۔ حَاضِرٌ، اعراب بھئی۔ شاباش، حَاضِرٌ تلفظ کر رہے ہیں بھئی، مرفوع لفظاً خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کیجیے بھئی اب۔ غُلَامِي حَاضِرٌ، میرا غلام حاضر ہے۔
غُلَامُهُ قَائِمٌ، غُلَامُهُ قَائِمٌ۔ کون کرے گا ترکیب؟ جس کو نہ آتی ہو بھئی وہ ہاتھ اٹھائے، شاباش۔ ایک ایک لفظ کا بتائیں۔ غُلَامُ مرفوع لفظاً، سب سے پہلے تو یہ بتائیں آپ نے اس کو مرفوع کیوں پڑھا؟ شاباش، اس نے مبتدا بننا ہے اور مبتدا مرفوع ہوا کرتا ہے۔ آگے۔ لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ شاباش، یہ غُلَامُ، میم کے پر رفع پڑھ رہے ہیں آپ بھئی، تلفظ کر رہے ہیں، جی مرفوع لفظاً مضاف، یہ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ شاباش، جس کے ساتھ ضمیر متصل آ رہی ہے تو مضاف مضاف الیہ والی ترکیب ہو گی، جی آگے۔ ہا کہیں، ہا ضمیر۔ شاباش، ہا ضمیر مضاف الیہ ہے اور مضاف الیہ کا اعراب کیا ہوا کرتا ہے؟ مجرور، تو یہ مجرور ہوئی، اب مجرور کون سی ہے؟ محلاً بھئی، کیوں؟ محلاً کیوں کہا آپ نے؟ کیونکہ یہ مبنی ہے اور مبنی کا اعراب کیسے آتا ہے؟ محلاً بھئی۔ تو یہ جو اس پر آپ رفع پڑھ رہے ہیں یہ اعراب نہیں ہے بھئی، یہ حرکت ہے۔ ماقبل میم پہ چونکہ کیا تھا؟ رفع، تو ہا پر بھی ہم نے کون سی حرکت پڑھ دی؟ رفع پڑھ دیا، اگر ماقبل میں کسرہ ہوتا تو ہا پر بھی ہم کیا پڑھ دیتے؟ کسرہ۔ یہ اعراب نہیں ہے: غُلَامُهُ، غُلَامِهِ، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہا ضمیر مبنی ہے، اس پر اعراب نہیں آ سکتا بھئی۔ جی آگے، مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا۔ خبر، شاباش، قَائِمٌ مرفوع لفظاً خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترجمہ کیجیے بھئی اب۔ اس کا غلام کھڑا ہے، دیکھا، یہ عبارت حل ہو گئی بھئی، کتاب کی عبارت مثلاً چل رہی ہے، ایک ایک جملہ آپ حل کرتے جا رہے ہیں۔
جی، اب جملہ فعلیہ کی ترکیب ہم شروع کرتے ہیں، یہ بڑی تفصیلی بحث ہے بھئی اس میں، جملہ فعلیہ۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی فعل دو قسم پر ہے: ایک فعل لازم ہے، ایک فعل متعدی ہے۔ فعل لازم کسے کہتے ہیں؟ جو صرف فاعل کو چاہے، مفعول کو نہ چاہے۔ وہاں مفعول کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کے بغیر ہی بات پوری ہو جاتی ہے۔ مثلاً چلنا، زید چلا، مفعول کی ضرورت ہے؟ نہیں، اور ایک فعل متعدی ہے جو مفعول کے بغیر تام نہیں ہوتا، پورا نہیں ہوتا: زید نے پٹائی کی، ضَرَبَ زَيْدٌ، اب اس کے لیے کوئی مضروب ہونا چاہیے، کوئی مضروب نہ ہو تو پٹائی واقع ہو سکتی ہے؟ پٹائی واقع نہیں ہو سکتی۔ تو یہ فعل متعدی ہے: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، زید نے عمرو کی پٹائی کی۔ تو فعل لازم مفعول کا تقاضا نہیں کرتا، میں چلا، فعل لازم ہے۔ اسی طرح بھاگنا بھئی، یہ بھی فعل لازم ہے۔ اٹھنا، بیٹھنا، یہ فعل لازم ہیں بھئی۔
اب یاد رکھو، فعل متعدی کبھی ایک مفعول کا تقاضا کرتا ہے، کبھی دو مفعولوں کا تقاضا کرتا ہے، اور کبھی تین مفعول بھئی، تو کبھی ایک مفعول کو نصب دے گا، کبھی دو کا تقاضا کرے گا، دو کو نصب دے گا، اور کبھی تین کا تقاضا کرے گا، تین کو نصب دے گا۔ اردو میں ایک موٹی سی نشانی ہے بھئی فعل متعدی اور فعل لازم میں فرق کرنے کی: فعل لازم کا ترجمہ کرتے ہوئے جملے میں "نے" کا لفظ نہیں آتا، اور فعل متعدی کا آپ ترجمہ کریں گے تو "نے" کا لفظ آئے گا بھئی اردو ترجمے میں۔ فعل متعدی کا ترجمہ کریں گے تو جملے میں "نے" کا لفظ آئے گا بھئی۔ اب آپ دیکھیے، غور کر لیجیے: قُمْتُ، کیا ترجمہ ہو گا؟ میں کھڑا ہوا، میں اٹھا، "نے" آیا؟ نہیں آیا، معلوم ہوا یہ کون سا فعل ہے؟ فَرَّ زَيْدٌ، بھاگنا اس کا معنی، کیا ترجمہ کریں گے فَرَّ زَيْدٌ؟ زید بھاگا، "نے" کا لفظ آیا؟ معلوم ہوا یہ کون سا فعل ہے؟ فعل لازم ہے۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، جی ترجمہ کیجیے: زید نے عمرو کی پٹائی کی، تو دیکھا "نے" کا لفظ آ گیا، معلوم ہوا یہ کون سا فعل ہے؟ متعدی۔ اَكَلْتُ، کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے کھایا، اَكَلْتُ الطَّعَامَ، تو "نے" کا لفظ آ گیا، اس نے آپ کو کیا بتلا دیا؟ یہ فعل متعدی ہے۔ شَرِبْتُ، کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے پیا، دیکھا "نے" کا لفظ آیا، معلوم ہوا یہ کون سا فعل ہے؟ فعل متعدی ہے، مفعول کا تقاضا کر رہا ہے، اس کے لیے مفعول آنا چاہیے: شَرِبْتُ الْمَاءَ۔
اچھا، بات فعل کی آئی بھئی تو فعل کے اندر فاعل کا آپ کو بتلا دوں بھئی، گردان آپ کو یاد ہو گی ضَرَبَ کی، تو یاد رکھیے فعل کا فاعل اسم ظاہر بھی آ سکتا ہے اور ضمیر بھی۔ فعل کے لیے فاعل ہمیشہ چاہیے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا فعل تو آ جائے اور اس کا فاعل نہ ہو، جب بھی فعل آئے گا ساتھ ہی فوراً کون آ جائے گا؟ فاعل، کیونکہ فاعل نہیں تو فعل ہی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اَكَلْتُ الطَّعَامَ، تو دیکھا یا اَكَلَ زَيْدٌ، زید نے کھانا کھایا، اَكَلَ زَيْدٌ الطَّعَامَ، تو زید اگر نہ ہو تو یہ اکل کا فعل پایا جائے گا یہ والا جو ذکر ہوا؟ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ تو فاعل، جب بھی فعل آئے گا ہمیشہ فاعل آئے گا، تو فعل آنے کے فوراً بعد آپ نے کیا کرنا ہے جملے کے اندر، کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو تلاش کرنا ہے۔ اور فاعل کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع، منصوب یا مجرور بھئی؟ مرفوع ہوا کرتا ہے، فاعل آپ نے پڑھا ہے مرفوعات میں سے ہے۔ اب وہ فاعل اسم ظاہر بھی ہو سکتا ہے اور ضمیر بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً ضَرَبَ زَيْدٌ، یہاں فاعل کون ہے؟ زید، اور زید ضمیر ہے یا اسم ظاہر ہے؟ اسم ظاہر ہے۔ اور اگر ضمیر ہو، مثلاً میں کہتا ہوں صرف ضَرَبَ، کیا معنی؟ اس نے پٹائی کی، اس کے اندر ضمیر ہے بھئی۔ تو فعل کا فاعل اسم ظاہر بھی آ سکتا ہے، ضمیر بھی آ سکتی ہے، اور ضمیر پھر کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے: یا ظاہر ہو گی یا مستتر ہو گی بھئی۔ ضمیر یا ظاہر ہو گی یا مستتر ہو گی، پوشیدہ ہو گی، چھپی ہوئی ہو گی بھئی اس فعل کے اندر۔ دیکھیے، ضَرَبَ کے اندر ضمیر ہے لیکن کیا، کون سی ہے؟ مستتر ہے، پوشیدہ ہے، چھپی ہوئی ہے۔ اور کبھی ضمیر بارز ہو گی بھئی، نظر آئے گی بھئی: ضَرَبُوا، جمع کا صیغہ، اس کے اندر یہ واؤ کیا ہے؟ ضمیر بارز ہے بھئی۔ تو فعل کے لیے ہمیشہ فاعل چاہیے، وہ فاعل یا اسم ظاہر ہو گا یا ضمیر ہو گی، اور وہ ضمیر پھر کبھی کیا ہو گی؟ بارز ہو گی یا مستتر ہو گی بھئی، مستتر ہو گی۔
اب آپ بتلاتے جائیے بھئی ماضی کی گردان میں فاعل کی ضمیریں بھئی: ضَرَبَ، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے، بارز ہے، مستتر؟ کیا، کون سی ضمیر ہے؟ هُوَ ضمیر، ضَرَبَ کے اندر هُوَ ضمیر ہے، معلوم ہوا پہلا صیغہ جو ہے اس کے اندر کون سی ضمیر آ سکتی ہے؟ مستتر بھئی، هُوَ ضمیر اس کے اندر ہے۔ دوسرا صیغہ کون سا ہے؟ ضَرَبَا، اس میں کون سی ضمیر؟ کون سی ہے، تلفظ کرو ذرا اس پہ؟ ہما نہ کہنا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، وہ آپ کو سکھانے کے لیے اساتذہ ابتدائی درجوں میں بتلاتے تھے، ہما ضمیر نہیں ہے ضَرَبَا کے اندر فاعل، یہ ضَرَبَا کے ساتھ جو الف لگا ہوا ہے یہ فاعل کی ضمیر ہے، تثنیہ کی ضمیر۔ تو اس ضَرَبَا کے اندر فاعل کون سی ضمیر، بارز یا مستتر بھئی؟ بارز، اور وہ کون سی ہے؟ الف، معلوم ہوا یہ الف تثنیہ کی ضمیر ہے بھئی، تثنیہ مذکر۔ ضَرَبُوا بھئی، اس کے اندر؟ ہاں، ہم نہ کہنا، ابتدائی زمانے میں آپ کو سکھانے کے لیے کہا گیا تھا، اب کوئی پوچھے تو آپ کیا کہیں گے؟ یہ واؤ ضمیر بارز جو ہے یہ فاعل ہے بھئی، جمع مذکر کی ضمیر ہے۔ آگے کون سا صیغہ ہے؟ ضَرَبَتْ بھئی، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ ضمیر مستتر ہو گی، ضَرَبَتْ، یہ تا ضمیر نہیں ہے بھئی، یہ صرف تانیث کی علامت ہے۔ یہ ضَرَبَتْ کی تا صرف ہمیں یہ بتلا رہی ہے کہ اس فعل کا اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے؟ کسی مؤنث کی طرف ہو رہا ہے، اس کا فاعل کون ہے؟ کوئی مؤنث ہے بھئی۔ ضَرَبَتْ کی تا، یہ تائے تانیث آ گئی مولانا، اور اس کے اندر ضمیر کون سی ہو گی؟ هِيَ ضمیر مستتر جو ہے وہ فاعل کی اس کے اندر ہو گی بھئی۔ اگلا صیغہ کون سا؟ ضَرَبَتَا، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ یہ الف الف تثنیہ کا، یہ تثنیہ مؤنث کی ضمیر ہے، اور یہ جو ضَرَبَتَا الف سے پہلے تا آ رہی ہے یہ کون سی تا ہے؟ یہ وہی تانیث والی تا ہے۔ آگے چلیے بھئی: ضَرَبْنَ، اس میں کون سی ضمیر ہے؟ بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز، اور کون سی؟ نون ہے بھئی یہ، ضَرَبْنَ، یہ نون کیا ہے؟ جمع مؤنث غائب کی ضمیر ہے، ضَرَبْنَ۔ آگے چلیے: ضَرَبْتَ، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ مستتر ہے یا بارز؟ بارز، ضَرَبْتَ، یہ تا ضمیر ہے بھئی، تا ضمیر، الف با تا، حرف کے ساتھ اس کا نام ہے، تا حرف ہے۔ تو یہ تا ضمیر ہے، اور کون سی ضمیر ہے یہ؟ بارز تو ہے لیکن کس کے لیے، مذکر، مؤنث، حاضر، غائب؟ واحد مذکر حاضر کی ضمیر ہے۔ ضَرَبْتُمَا، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ تما یہ ضمیر بارز ہے۔ ضَرَبْتُمْ، یہ کون سی ضمیر ہے؟ بارز، تم ضمیر بارز ہے۔ آگے: ضَرَبْتِ، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے، بارز ہے، مستتر ہے؟ بارز ہے جی، اور کیا کہیں گے؟ تا کہیں گے، وہی تا بھئی، سمجھ میں آیا؟ میں نے بتلایا تا حرف ہے، حرف۔ اچھا، تا جڑی ہوئی ہے نا آخر میں، الف با تا جو ہوتی ہے وہ تا جڑی ہوئی ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ ضَرَبْتَ کے اندر بھی کہیں گے یہ تا ضمیر ہے، ضَرَبْتِ کے اندر بھی کیا کہیں گے؟ تا ضمیر ہے۔ آگے ضَرَبْتُمَا، یہ تما کیا ہے؟ ضمیر، اس سے آگے ضَرَبْتُنَّ، یہ ضمیر ہے، آگے ضَرَبْتُ، اس میں کیا کہیں گے، کون سی ضمیر ہے؟ بارز، نام لو۔ تا، وہی ابھی تو میں بتلا رہا ہوں وہ حرف کا نام لو، تا، تی، تو نہیں کہنا بھئی، یہ تا، تی، تو جو کہتے ہیں یہ غلط ہے بھئی، یہی شئے رائج ہے بھئی۔ ضَرَبْتَ میں کہتے ہیں تَ ضمیر ہے، ضَرَبْتِ میں کہتے ہیں تِ ضمیر ہے، ضَرَبْتُ میں کیا کہتے ہیں؟ تُ ضمیر ہے، نہیں بھئی یہ نام ہی نہیں ہے اس کا بھئی۔ تو اس کا کیا نام ہے؟ تا، وہ جو حرف جڑا ہوا ہے اس کا نام لو بھئی، تا جڑی ہوئی ہے آخر میں، تو تا ضمیر ہے۔ تو ضَرَبْتَ کے اندر بھی کیا ضمیر ہے؟ تا، ضَرَبْتِ کے اندر بھی؟ تا، ضَرَبْتُ کے اندر بھی؟ تا۔ یہ عام نام ہے، اب جب کہتے ہیں تا ضمیر تو سننے والے کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ کون سی ضمیر ہے، ضَرَبْتَ والی تا ہے جو واحد مذکر حاضر کے لیے آتی ہے، یا ضَرَبْتِ والی ضمیر ہے جو واحد مؤنث حاضرہ کے لیے آتی ہے، یا ضَرَبْتُ والی تا ہے جو کس کے لیے آتی ہے؟ واحد متکلم کے لیے، تو یہ تا تینوں کا مشترکہ نام ہے۔ لیکن اگر آپ ہر ایک کا الگ نام لینا چاہتے ہیں تو ضَرَبْتُ، اس کے اندر اس ضمیر کا خاص نام جو ہے تُوٌّ ہے بھئی، کیا ہے؟ میں کہتا ہوں ضَرَبْتُ، آپ ترکیب کیا کریں گے؟ فاعل کون ہے اس کے اندر؟ تُوٌّ ضمیر، تو یا تو یوں کہیں تا ضمیر، یا یوں کہیں تُوٌّ ضمیر۔ اور ضَرَبْتِ کے اندر بھئی آپ کیا کہیں گے؟ فاعل کون ہے؟ تا بھئی کہیں، یا اگر اس کا خاص نام لینا چاہتے ہیں تو پھر کیا لیں؟ تِیٌّ ضمیر بھئی۔ اور ضَرَبْتَ کے اندر، اس میں وہی تا ہے یا تَاءٌ کہہ لیں آپ اس کو، اس کا یہی نام ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ان کے خاص نام، تو تا عام ہے جو تینوں پر بولا جاتا ہے، اور الگ الگ نام کیا ہیں؟ تُوٌّ، تِیٌّ، اور تَاءٌ۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ یہ یاد رکھیں۔
اسی طرح بھئی فعل مضارع کے اندر بھی، چلیے اب آپ مجھے ذرا بتلا دیں میں نے آپ کو بتلا دیا۔ جی، يَضْرِبُ کے اندر کون سی ضمیر؟ مستتر، بارز کو چھوڑیں، وہ ضمیر ذکر کریں، يَضْرِبُ میں؟ هُوَ ضمیر۔ تَضْرِبُ میں؟ هِيَ ضمیر۔ ضَرَبْتَ میں؟ تَاء ضمیر۔ ضَرَبْنَا؟ نَا ضمیر، اور ضَرَبْنَ؟ نون ضمیر، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ضَرَبَا؟ الف ضمیر ہے، شاباش۔ اسی طرح مضارع میں دیکھ لیجیے بھئی، یہ تو فعل ماضی ختم ہوا۔ يَضْرِبُ، اس کے اندر کون سی ضمیر؟ هُوَ ضمیر ہے مستتر۔ يَضْرِبَانِ؟ الف ہے بھئی، الف، الف ضمیر ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور یہ نون کیا چیز ہے؟ جی؟ یہ نون اعرابی نہیں بھئی؟ حالت رفعی کو بیان کرتا ہے، سمجھ میں آیا؟ فعل مضارع کا اعراب آپ کو یاد ہو، جن کے آخر میں نون اعرابی آتا ہے، حالت رفعی کے اندر نون اعرابی برقرار رہتا ہے، اور حالت نصبی اور جزمی میں نون اعرابی گر جاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ اچھا تو يَضْرِبَانِ کے اندر ضمیر کیا ہوئی بھئی؟ الف۔ يَضْرِبُونَ کے اندر؟ واؤ ہے، اور نون کون سا ہے؟ نون اعرابی۔ آگے کیا ہے صیغہ؟ تَضْرِبُ، اس کے اندر؟ هِيَ ضمیر۔ تَضْرِبَانِ؟ الف، اور نون؟ اعرابی ہے۔ يَضْرِبْنَ، اس کے اندر؟ نون ہے بھئی۔ پھر تَضْرِبُ، اس کے اندر؟ تَضْرِبُ کے اندر بھئی؟ اَنْتَ بھئی، مخاطب کا صیغہ ہے تو مخاطب کے لیے کون سی ضمیر آتی ہے؟ اَنْتَ۔ تَضْرِبَانِ؟ الف، یہی الف بھئی ہر مختلف صیغوں میں استعمال ہو گا تو اس کے مطابق، اب اس وقت یہ جو الف ہے یہ کون سی ضمیر ہے؟ تثنیہ مذکر حاضر کی بھئی، یہی الف کبھی کس کے لیے ہو گا؟ تثنیہ مؤنث غائب کے لیے، کبھی تثنیہ مذکر غائب وغیرہ کے لیے۔ اس کے بعد کون سا صیغہ ہے؟ تَضْرِبُونَ، اس کے اندر؟ واؤ بھئی، اور نون کون سا ہے؟ اعرابی۔ اس کے بعد تَضْرِبِينَ، اس کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ یا ہے تَضْرِبِينَ، اور نون کون سا ہے؟ نون اعرابی۔ آگے صیغہ کون سا ہے؟ تَضْرِبَانِ، اس کے اندر؟ الف، اور تَضْرِبْنَ، اس میں؟ اس میں نون آ گیا۔ آگے اَضْرِبُ، اَضْرِبُ میں؟ یہ الف کو نہ کہہ دینا ضمیر، یہ الف، یا، تا جو شروع میں آتے ہیں بھئی، یاد رکھو فاعل کبھی بھی فعل پر مقدم نہیں ہو سکتا، اور یہ تو علامتیں ہیں بھئی یہ مقدم ہیں، معلوم ہوا یہ فاعل کبھی بھی نہیں ہیں۔ فاعل ہمیشہ کہاں آئے گا؟ فعل کے بعد آیا کرتا ہے، اس لیے آپ دیکھ رہے ہیں جتنی بھی ضمیریں ہیں فعل کے بعد جڑی ہوئی ہیں اس کے ساتھ۔ تو اَضْرِبُ میں کون سی ضمیر ہے؟ اَنَا، اور نَضْرِبُ میں؟ نَحْنُ بھئی، پہچان ہو گئی بھئی سب صیغوں میں؟
اب قیمتی ضابطہ بھئی، بہت ضروری ہے عبارت حل کرنے کے لیے۔ یہ ضابطہ ذہن میں ہو گا تو انشاء اللہ اکثر عبارتیں تو ویسے ہی حل ہوتی چلی جائیں گی۔ یاد رکھیے بھئی، آپ نے پڑھا ماضی کے بھی چودہ صیغے ہیں، مضارع کے بھی چودہ صیغے ہیں، اور فعل جب بھی عبارت کے اندر آ جائے، میں نے آپ کو بتلایا فعل کبھی بھی فاعل کے بغیر نہیں آ سکتا، تو فعل کے آنے کے فوراً بعد آپ نے کس کو تلاش کرنا ہے؟ فاعل کو تلاش کرنا ہے، اور میں نے بتلایا تھا کہ فاعل کون کون آ سکتے ہیں؟ اسم ظاہر بھی آ سکتا ہے اور ضمیر بھی آ سکتی ہے۔ اب یاد رکھو، یہ چودہ صیغوں میں سے صرف دو صیغے ایسے ہیں جن کا فاعل اسم ظاہر آ سکتا ہے، باقی سب کا فاعل ہمیشہ ضمیر آئے گی بھئی۔ وہ دو صیغے آپ نے پہچان لیے بھئی، پتہ چل گیا آپ کو، اور ذہن میں جم گئے، تو اکثر عبارتیں آرام سے آپ حل کرتے چلے جائیں گے۔ جہاں فعل آئے گا فوراً دیکھا بھئی یہ دو میں سے ہے کہ باقی بارہ میں سے ہے؟ اگر دو میں سے ہے تو امکان ہے آگے فاعل اسم ظاہر آ جائے، اگر باقی بارہ میں سے ہے تو فاعل ہمیشہ کیا آئے گی؟ ضمیر آئے گی۔ تو وہ دو صیغے جن کا فاعل اسم ظاہر آ سکتا ہے، وہ پہلا اور چوتھا صیغہ ہیں بھئی، پہلا اور کون کون سا ہے؟ پہلا صیغہ کون سا ہے؟ واحد مذکر غائب کا، اور چوتھا صیغہ؟ واحد مؤنث غائبہ کا۔ معلوم ہوا ضَرَبَ کا فاعل آگے زید آ سکتا ہے، اسی طرح ضَرَبَتْ کا فاعل آگے ہند آ سکتا ہے، لیکن ان کے علاوہ کسی اور فعل کے لیے زید یا ہند فاعل نہیں بن سکتے۔ پہلا اور چوتھا صیغہ، یہ یاد رکھیں بھئی۔
تو جب عبارت میں واحد مذکر غائب کا صیغہ آ جائے، یا واحد مؤنث غائبہ کا صیغہ آ جائے، تو اب آپ کر سکتے ہیں، دیکھ سکتے ہیں آگے کہیں فاعل تو نہیں آ رہا اسم ظاہر۔ اگر آگے اسم ظاہر فاعل آ رہا ہو تو اس پر کیا پڑھیں گے؟ رفع پڑھیں گے، اور اگر آگے کوئی فاعل اسم ظاہر نہیں آ رہا تو پھر کیا کہیں گے؟ اسی کے اندر ضمیر نکال لیں گے بھئی، کیونکہ ضَرَبَ کے اندر کبھی کیا ہوا کرتی ہے؟ ضمیر۔ ضَرَبَ زَيْدٌ میں نے کہا، ضَرَبَ کے لیے فاعل کون؟ زَيْدٌ، اور اگر میں زید نہیں کہتا، صرف کہتا ہوں ضَرَبَ، اب کیا کہیں گے آپ؟ ضَرَبَ کے اندر کیا ہے؟ هُوَ ضمیر ہے، تو پہلا صیغہ آیا ضَرَبَ، اب آپ دیکھتے ہیں بھئی یہ تو پہلا صیغہ ہے، اس کا فاعل کیا ہے آگے اسم ظاہر آ سکتا ہے، اب آپ آگے تلاش کر رہے ہیں کوئی فاعل آ رہا ہے؟ آگے تو فاعل ہی کوئی نہیں آ رہا، معلوم ہوا اسی کے اندر کیا ہے؟ ضمیر ہے بھئی، اسی کے اندر ضمیر ہے۔
اور اسی طرح ضَرَبَتْ ہے بھئی۔ جب میں نے کہا ضَرَبَتْ هِنْدٌ، آپ نے دیکھا ضَرَبَتْ فعل آیا، پہلا ہے یا چوتھا ہے بھئی؟ چوتھا صیغہ، معلوم ہوا اس کا فاعل اسم ظاہر آ سکتا ہے۔ اب آگے تلاش کرنا شروع کریں، کوئی فاعل آ رہا ہے؟ آپ نے دیکھا ہند کا لفظ آ رہا ہے، معلوم ہوا وہ اس کے لیے کیا بن رہا ہے؟ فاعل۔ اگر آگے ہند کا لفظ نہ ہوتا پھر کس کو فاعل بناتے؟ هِيَ ضمیر اسی کے اندر بناتے، معلوم ہوا ان دو میں بھی اسم ظاہر کا فاعل آنا ضروری نہیں ہے، ہاں آ سکتا ہے، کبھی آئے گا اور کبھی نہیں آئے گا۔ جبکہ باقی بارہ صیغے جو ہیں، ان میں ہمیشہ فاعل کیا ہو گی؟ ضمیر ہو گی، جو میں نے ابھی آپ کو بتلا دی کس صیغے میں کون سی ضمیر ہے۔ یہ ضابطہ یاد رہے گا بھئی؟ یہ بڑا قیمتی ضابطہ ہے بھئی، یہ خوب پختہ کر لیں۔
چلیے، بس کرتے ہیں بھئی۔ تو یہ ضابطے جو آج بیان ہوئے ان سب کو خوب یاد کر کے آئیں، کل ان سب کی پھر مشق کریں گے بھئی، جملے بنائیں گے۔ آئیے بھئی، دعا کر لیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔