Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-058

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 29 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 1
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مسند الیہ کی تقدیم کا مسئلہ چل رہا تھا۔ آپ نے پڑھا مسند الیہ کو کبھی کبھار مقدم کیا جاتا ہے اس لیے کہ اس کا ذکر کیا ہوتا ہے، اہم ہوتا ہے، اور اس کی پھر کئی وجوہات ذکر کیں۔ پھر اس کے بعد شیخ عبد القاہر جرجانی کا قول ذکر کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسند الیہ کو خبر فعلی پر مقدم کیا جائے، بشرطے کہ اس مسند الیہ کے ساتھ کیا ملا ہو، حرف نفی ملا ہوا ہو، تو وہ پھر تخصیص کا فائدہ دیا کرتا ہے بھئی۔ جیسے مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا، اور تخصیص کا معنی یہ ہے کہ اگر سلب مذکور سے ہو تو اثبات ہو غیر کے لیے، اور اگر اثبات غیر کے لیے ہو تو سلب ہو مذکور سے۔ چنانچہ پھر اس پر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا وَلَا غَيْرِي، یہ ترکیب صحیح نہیں، اس طرح کہنا صحیح نہیں۔ وَلَا مَا أَنَا رَأَيْتُ أَحَدًا، یہ کہنا بھی صحیح نہیں، اور مَا أَنَا ضَرَبْتُ إِلَّا زَيْدًا، یہ بھی کہنا صحیح نہیں بھئی۔ پھر اس کے بعد یہ بتلایا تھا کہ اگر حرف نفی ساتھ ملا ہوا نہ ہو مسند الیہ کے، یعنی سرے سے ہو ہی نہ یا ہو تو لیکن مؤخر ہو، یعنی فعل کے ساتھ ملا ہو، تو پھر یہ تقدیم کبھی تخصیص کے لیے آئے گی اور کبھی تقوی کے لیے آئے گی بھئی۔ تقوی کے لیے۔ اور پھر انہوں نے آپ کو فرق بتلایا تھا کہ ایک ہے تاکید حکم کی، اور ایک ہے تاکید مسند الیہ کی، دونوں میں فرق ہے بھئی۔ مثلاً أَنْتَ ایک جملہ ہے، أَنْتَ لَا تَكْذِبُ، ایک جملہ ہے لَا تَكْذِبُ، اور ایک ہے لَا تَكْذِبُ أَنْتَ۔ ان میں نفی کذب کس کے اندر سب سے اشد ہے؟ أَنْتَ لَا تَكْذِبُ کے اندر، کیونکہ اس کے اندر اسناد دو مرتبہ آیا اور جس کی وجہ سے حکم میں تاکید پیدا ہو گئی، جبکہ لَا تَكْذِبُ أَنْتَ کہیں تو پھر مسند الیہ کی تاکید آتی ہے، اس میں پختگی آتی ہے، حکم میں تکرار نہیں آیا بھئی۔ اور پھر مصنف نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو ابھی تک باتیں ہوئیں کہ مسند الیہ کے ساتھ حرف نفی ملا ہو تو تقدیم تخصیص کا فائدہ دے گا، اگر نہ ملا ہو یا مؤخر ہو اس سے تو پھر یہ تقدیم تقوی کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تخصیص کے لیے بھی۔ یہ اس وقت ہے جبکہ مسند الیہ معرفہ ہو، اور اگر مسند الیہ نکرہ تھا تو اس صورت میں، مثلاً آپ کہتے ہیں رَجُلٌ جَاءَنِي، تو اس صورت میں یہ تقدیم صرف اور صرف تخصیص کا فائدہ دے گی، اور یا تَخْصِيصُ الْجِنْسِ ہو گی یہاں پر یا تَخْصِيصُ الْفَرْدِ۔ اس لیے کہ اس میں جنس نکرہ جو ہے دونوں کا احتمال رکھتا ہے، دو معانی کا احتمال رکھتا ہے، ایک فرد کا اور ایک جنس کا۔ تو فرد مراد لیا تو پھر افراد کی نفی ہو گئی بھئی، اور اگر جنس مراد لی تو جنس کے علاوہ کی کیا ہو گئی نفی ہو گئی بھئی۔ اور پھر علامہ تفتازانی نے اعتراض کیا تھا مصنف پر، کہ آپ کے کلام سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری بات شیخ عبد القاہر کی ہے، یعنی انہوں نے معرفہ اور نکرہ کے درمیان فرق کیا ہے۔ کہتے ہیں حالانکہ ہم نے ان کی کتابیں دیکھیں، وہاں ہمیں کوئی ایسی بات نہیں ملی جس سے کوئی اشارہ ہو رہا ہو اس بات کی طرف کہ انہوں نے معرفہ اور نکرہ میں فرق کیا ہے۔ انہوں نے کوئی معرفہ اور نکرہ میں فرق نہیں کیا، مطلقاً کہا ہے کہ جب مسند الیہ خبر فعلی پر مقدم ہو اور حرف نفی ساتھ ملا ہو، تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخصیص ہی کا فائدہ دے گا، چاہے وہ معرفہ ہو چاہے نکرہ ہو۔ معرفہ ہونے کی صورت میں چاہے اسم ظاہر ہو اور چاہے اسم ضمیر ہو بھئی۔ اور اس کے بعد علامہ سکاکی کی بات شروع کی تھی کہ علامہ سکاکی نے موافقت کی ہے شیخ عبد القاہر کی نفس مسئلہ میں، لیکن شرائط کے اندر اختلاف کیا ہے۔ نفس مسئلہ کیا تھا کہ مسند الیہ خبر فعلی پر مقدم ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ یہ تقدیم تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ کہتے ہیں علامہ سکاکی بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، لیکن انہوں نے شرائط اور لگائیں بھئی۔ شیخ عبد القاہر تو حرف نفی کی بات کرتے تھے کہ حرف نفی مسند الیہ کے ساتھ ملا ہے تو اور حکم، اور اگر نہیں ملا تو پھر اور حکم۔ علامہ سکاکی فرماتے ہیں نہیں بھئی، حرف نفی کو نہیں دیکھنا بلکہ یہاں پر مسند الیہ کو خود دیکھو، وہ معرفہ ہے یا نکرہ، اسم ظاہر ہے یا اسم ضمیر ہے۔ اگر نکرہ ہے تو پھر اور حکم، معرفہ میں اسم ظاہر ہے تو پھر اور حکم، اور اگر اسم ضمیر ہے تو پھر اور حکم۔ تو وہ کہتے ہیں شیخ عبد القاہر کے نزدیک دارومدار حرف نفی پر ہے، جبکہ علامہ سکاکی کے نزدیک مسند الیہ پر ہے بھئی۔ تو علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ اگر مسند الیہ نکرہ ہو تو اور تخصیص سے کوئی مانع بھی وہاں موجود نہ ہو تو پھر یہ تقدیم کس چیز کا فائدہ دے گی؟ تخصیص کا فائدہ دے گی، اور اگر مسند الیہ معرفہ ہو، پھر معرفہ کے اندر دو صورتیں ہیں، یا اسم ظاہر ہو گا یا اسم ضمیر۔ اگر اسم ظاہر ہو تو پھر یہ تقدیم صرف تقوی کا فائدہ دے گی، اور اگر یہ اسم ضمیر ہو تو پھر اس میں تقوی کا بھی احتمال ہے اور تخصیص کا بھی احتمال ہے۔ وَإِلَى هَذَا أَشَارَ بِقَوْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ التَّقْدِيمُ يُفِيدُ الِاخْتِصَاصَ إِنْ جَازَ تَقْدِيرُ كَوْنِهِ أَيْ كَوْنِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ فِي الْأَصْلِ مُؤَخَّرًا عَلَى أَنَّهُ فَاعِلٌ مَعْنًى فَقَطْ لَا لَفْظًا نَحْوَ أَنَا قُمْتُ۔ جی علامہ تفتازانی، علامہ سکاکی جو ہیں اب فرما رہے ہیں، ان کی شرائط وہ ذکر کرنے لگے ہیں بھئی ماتن۔ بھئی شیخ عبد القاہر نے کیا فرمایا تھا، تقدیم خبر فعلی پر کس چیز کا فائدہ دے گی؟ تخصیص کا، یہ نفس مسئلہ تھا۔ ہاں شرط انہوں نے لگائی تھی، حرف نفی ساتھ ملا ہوا ہو۔ علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ مسند الیہ کو خبر فعلی پر مقدم کیا جائے تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخصیص کا، لیکن شرائط میں اختلاف کر رہے ہیں۔ کیا شرط ہے؟ کہتے ہیں کہ تقدیم تخصیص کا فائدہ دے گی بشرطے کہ اس مسند الیہ کو مؤخر فرض کرنا جائز ہو بھئی۔ اس مسند الیہ کو مؤخر فرض کرنا جائز ہو، یعنی وہ فاعل معنوی ہو فاعل لفظی نہ ہو بھئی۔ یعنی تاکید ہو بھئی۔ کیا ہو، تاکید ہو بھئی۔ فاعل معنوی آپ کو بتلائیں گے، تاکید ہے اور بدل ہے بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں قُمْتُ أَنَا، تو دیکھو قُمْتُ فعل با فاعل، تُ ضمیر مرفوع محلاً مؤکد اور أَنَا ضمیر اس کی تاکید۔ تو لفظوں کے اعتبار سے فاعل کون؟ بھئی تُ ضمیر ہے، اور یہ أَنَا جو تاکید ہے، یہ معنی کے اعتبار سے فاعل ہے کیونکہ یہ اسی فاعل سے عبارت ہے۔ اس سے وہی فاعل مراد ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جو تاکید ہے یہ لفظوں کے اعتبار سے تو فاعل نہیں لیکن معنی کے اعتبار سے فاعل ہے۔ اسی طرح بدل ہے بھئی، اس کے اندر بھی اسی طرح ہے۔ آپ نے کہا جَاءَنِي أَخُوكَ زَيْدٌ، آیا میرے پاس تمہارا بھئی زید۔ تو یہ زَيْدٌ بدل ہے أَخُوكَ سے، تو لفظوں کے اعتبار سے تو فاعل ہے أَخُوكَ، لیکن معنی کے اعتبار سے زَيْدٌ بھی کیا ہے فاعل ہے، کیونکہ یہ اسی فاعل سے بدل بن رہا ہے، اس سے وہی ذات مراد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی، فاعل معنوی کون کون سے ہوئے؟ تاکید اور بدل ہوئے۔ تو علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ خبر فعلی پر مسند الیہ کو مقدم کیا جائے تو یہ تخصیص کا فائدہ دے گی یہ تقدیم، بشرطے کہ اس مسند الیہ کو، وہ جو مقدم ہے، اس کو مؤخر فرض کرنا جائز ہو۔ مثلاً میں نے کہا أَنَا قُمْتُ، تو یہاں أَنَا کو میں نے قُمْتُ پر مقدم کیا بھئی، تو وہ نفس مسئلہ کیا ہے، مسند فعلی پر اس کو مقدم کیا تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ شرط کیا لگا رہے ہیں علامہ سکاکی، کہ اس کو مؤخر فرض کرنا جائز ہو، یعنی یہ فاعل معنوی ہو، قُمْتُ أَنَا بھئی۔ مؤخر فرض کریں بھئی، قُمْتُ أَنَا فرض کرنا ٹھیک ہے یا ٹھیک نہیں ہے بھئی؟ ٹھیک ہے، کیونکہ یہ کیا بن جائے گی؟ تاکید، یعنی فاعل معنوی ہو۔ کیونکہ فاعل لفظی تو فعل پر کبھی بھی مقدم نہیں ہو سکتا، ہمیشہ پہلے فعل آیا کرتا ہے اور اس کے بعد کون آیا کرتا ہے، فاعل لفظی آیا کرتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ تقدیم تخصیص کا فائدہ دے گی جبکہ مسند الیہ کو مؤخر فرض کرنا جائز ہو، ایک شرط۔ دوسری شرط، کہ عین اس حالت تقدیم میں اس کو مؤخر فرض کیا بھی جائے کہ یہ اصل میں تھا بھی کیا، مؤخر ہی تھا، پھر اس کو کیا کیا گیا، مقدم کیا گیا۔ بھئی أَنَا قُمْتُ، اس أَنَا کو مؤخر فرض کرنا جائز ہے یا جائز نہیں؟ مؤخر فرض کرنا جائز بھی ہو اور پھر اس کو فرض بھی کیا جائے کہ یہ تھا بھی کیا اصل میں مؤخر تھا، پھر اس کو کیا کر دیا گیا مقدم کیا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دو شرطیں ہیں، کہ یہ جائز بھی ہو اور ویسا فرض بھی کیا جائے تو پھر یہ تخصیص کا فائدہ دے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی دونوں شرطیں نہ پائی جائیں یا کوئی ایک شرط نہ پائی جائے۔ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں، مثلاً کہ اس کو مؤخر فرض کرنا ہی جائز نہ ہو بھئی۔ جیسے زَيْدٌ قَامَ، اس میں زَيْدٌ کو مؤخر فرض کرنا ہی جائز نہیں، کیونکہ اگر ہم اس کو مؤخر فرض کریں گے تو پھر تو یہ فاعل لفظی بن جائے گا۔ آپ کہتے ہیں قَامَ زَيْدٌ، کیا ترکیب کریں گے؟ قَامَ فعل زَيْدٌ اس کا فاعل، تو یہ تو فاعل لفظی بن جائے گا۔ تو کہہ رہے ہیں کہ دو شرطیں ہیں کہ اس کو مؤخر فرض کرنا بھی جائز ہو، اور اس کو مؤخر فرض بھی کیا جائے، اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی جائے، یا دونوں شرطیں نہ پائی جائیں، تو پھر یہ صرف تقوی کا فائدہ دے گا بھئی۔ مثلاً دونوں شرطیں نہیں پائی جاتیں، اس کی کیا صورت میں نے بتلائی بھئی؟ مثلاً آپ کیا کہتے ہیں زَيْدٌ قَامَ، اب اس زَيْدٌ کو مؤخر فرض کرنا ہی جائز نہیں ہے، کیونکہ اگر آپ اس کو مؤخر فرض کرتے ہیں تو کیا بن جائے گا جملہ؟ قَامَ زَيْدٌ، اور پھر تو یہ کیا بن جائے گا فاعل لفظی بن جائے گا، اور فاعل لفظی کو تو فعل پر کبھی بھی مقدم نہیں کر سکتے۔ تو یہاں دیکھو دونوں ہی شرطیں جائز نہیں ہیں بھئی، نہ اس کو فرض کرنا جائز ہے اور نہ اس کو مؤخر فرض کیا گیا ہے۔ اور دوسری صورت کیا کہ ایک شرط نہ پائی جائے۔ مؤخر فرض کرنا تو جائز ہے، لیکن مؤخر اس کو فرض نہیں کیا گیا۔ مثلاً وہی مثال ہے أَنَا قُمْتُ، أَنَا کو مؤخر فرض کرنا جائز ہے کہ پھر یہ کیا بن جائے گی تاکید بن جائے گی، لیکن مؤخر فرض نہیں کیا گیا۔ تو أَنَا قُمْتُ کے اندر بھئی مؤخر فرض کرنا بھی جائز، مؤخر فرض نہ کرنا بھی جائز۔ اگر آپ مؤخر فرض کر لیں گے تو پھر دونوں شرطیں پوری ہوئیں، یہ اب کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخصیص کا۔ اور اگر آپ اس کا اعتبار نہیں کرتے کہ مؤخر نہیں تھا یہ، تو اس صورت میں پھر یہ تخصیص کا فائدہ نہیں دے گا بلکہ صرف کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تقوی کا بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے سب کو؟ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ، مگر وہ فرماتے ہیں علامہ سکاکی، التَّقْدِيمُ يُفِيدُ الِاخْتِصَاصَ، کہ تقدیم اختصاص کا فائدہ دیتی ہے، إِنْ جَازَ تَقْدِيرُ كَوْنِهِ أَيْ كَوْنِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ فِي الْأَصْلِ مُؤَخَّرًا، اگر جائز ہو فرض کرنا مسند الیہ کا اصل میں مؤخر ہونا، مسند الیہ کو اصل میں مؤخر فرض کرنا کیا ہو؟ جائز ہو۔ عَلَى أَنَّهُ فَاعِلٌ مَعْنًى فَقَطْ لَا لَفْظًا، بنا بر اس کے کہ یہ فاعل ہے معنی کے اعتبار سے، نہ کہ لفظوں کے اعتبار سے۔ نَحْوَ أَنَا قُمْتُ، جیسے أَنَا قُمْتُ ہے۔ فَإِنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُقَدَّرَ أَنَّ أَصْلَهُ قُمْتُ أَنَا، اس لیے کہ جائز ہے یہ فرض کیا جائے کہ اس کی اصل کیا تھی قُمْتُ أَنَا، فَيَكُونَ أَنَا فَاعِلًا مَعْنًى تَأْكِيدًا لَفْظًا، تو أَنَا کیا ہوا فاعل ہوا کس اعتبار سے؟ معنی کے اعتبار سے، اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے تاکید لفظی ہے۔ ایک شرط۔ دوسری شرط، وَقُدِّرَ ذَلِكَ، ایسا کرنا جائز بھی ہو اور فرض بھی کیا جائے۔ یہ شرط ثانی ہے۔ عَطْفٌ عَلَى جَازَ، یہ جاز پر عطف ہے بھئی، وہ جاز جو إِنْ جَازَ شرط آئی تھی بھئی، کہ جائز بھی ہو اور کیا بھی جائے فرض۔ أَيْ أَنَّ إِفَادَةَ التَّخْصِيصِ مَشْرُوطَةٌ بِشَرْطَيْنِ، یعنی تخصیص کا فائدہ دینا یہ مشروط ہے دو شرطوں کے ساتھ، أَحَدُهُمَا جَوَازُ التَّقْدِيرِ، ایک شرط تو کیا ہے کہ وہ فرض کرنا جائز ہو، وَالْآخَرُ أَنْ يُعْتَبَرَ ذَلِكَ أَيْ يُقَدَّرَ أَنَّهُ كَانَ فِي الْأَصْلِ مُؤَخَّرًا، اور دوسری شرط یہ کہ اس کا اعتبار بھی کیا جائے کہ یہ فرض بھی کیا جائے کہ یہ اصل میں کیا تھا مؤخر تھا۔ وَإِلَّا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ أَيْ وَإِنْ لَمْ يُوجَدِ الشَّرْطَانِ، اور اگر ایسا نہ ہو، اور اگر دونوں شرطیں نہ پائی جائیں، فَلَا يُفِيدُ التَّقْدِيمُ إِلَّا تَقَوِّيَ الْحُكْمِ، تو فائدہ نہیں دیتی تقدیم مگر کس چیز کا؟ پھر تخصیص نہیں آئے گی پھر صرف تقوی حکم آئے گی۔ سَوَاءٌ جَازَ، برابر ہے کہ جائز ہو، برابر ہے کہ مؤخر فرض کرنا تو جائز ہے، كَمَا مَرَّ فِي أَنَا قُمْتُ، جیسے کس میں گزرا کہ مؤخر فرض کرنا تو جائز ہے، وَلَمْ يُقَدَّرْ، لیکن فرض نہیں کیا، دوسری شرط نہ پائی گئی۔ أَوْ لَمْ يَجُزْ تَقْدِيرُ التَّأْخِيرِ أَصْلًا، یا سرے سے مؤخر فرض کرنا ہی جائز نہ ہو، یعنی دونوں ہی شرطیں نہ پائی جائیں، نَحْوَ زَيْدٌ قَامَ، فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُقَدَّرَ أَنَّ أَصْلَهُ قَامَ زَيْدٌ فَقُدِّمَ، اس لیے کہ یہ جائز نہیں کہ یہ فرض کیا جائے کہ اس کی اصل کیا تھی قَامَ زَيْدٌ پھر اس کو کیا کیا گیا، یہ فرض کرنا جائز نہیں۔ لِمَا سَنَذْكُرُهُ، جو ہم عنقریب کیا کریں گے، ذکر کریں گے، کیونکہ یہ کیا بن جائے گا میں نے بتلایا، اگر مؤخر فرض کریں فاعل لفظی یہ تو بن جائے گا اور فاعل لفظی کو تو مقدم کرنا جائز نہیں۔ اب یہ جو بات کی علامہ سکاکی نے، علامہ سکاکی نے کیا شرط ذکر کی کہ مسند الیہ کو خبر فعلی پر مقدم کیا جائے تو یہ تخصیص کا فائدہ دے گا بشرطے کہ اس کو مؤخر فرض کرنا جائز ہو۔ اس پر اشکال ہوتا ہے۔ معلوم ہوا رَجُلٌ جَاءَنِي، دیکھو نکرہ کو خبر فعلی پر مقدم کیا گیا ہے، معلوم ہوا یہ کلام تخصیص کا فائدہ نہیں دے گا کیونکہ رَجُلٌ جَاءَنِي میں رَجُلٌ کو مؤخر فرض کرنا ہی جائز نہیں۔ کیونکہ اگر آپ اس کو مؤخر کریں ذرا جَاءَنِي رَجُلٌ، تو یہ رَجُلٌ تو کیا بن گیا فاعل لفظی بن گیا، جب فاعل لفظی بن گیا تو فاعل لفظی کو تو مقدم کرنا جائز نہیں، تو پھر تو اس صورت میں تو انہوں نے کیا شرط لگائی تھی کہ اس مسند الیہ کو مؤخر فرض کرنا جائز ہو، یعنی فاعل لفظی نہ ہو بلکہ صرف کیا ہو فاعل معنوی۔ معلوم ہوا جَاءَنِي رَجُلٌ، یہ اس میں تخصیص نہیں آ سکتی کیونکہ یہاں پر مسند الیہ کو مؤخر فرض کرنا ہی جائز نہیں، کیونکہ اس کو اگر مؤخر فرض کرتے ہیں تو پھر تو یہ فاعل لفظی بنتا ہے فاعل معنوی نہیں بنتا۔ تو یہ اشکال ہوتا تھا علامہ سکاکی کے قول پر، تو علامہ سکاکی اس کا استثناء کریں گے بھئی۔ اس کا کیا کر دیں گے استثناء کر دیں گے بھئی۔ اس حکم سے اس کو نکال دیں گے اور اس میں بھی کہیں گے کہ یہ بھی اصل میں کیا تھا مؤخر تھا، اور کس طرح تھا؟ رَجُلٌ جَاءَنِي اصل میں کیا تھا جَاءَنِي رَجُلٌ تھا۔ وَلَمَّا كَانَ مُقْتَضَى هَذَا الْكَلَامِ أَنْ لَا يَكُونَ نَحْوَ رَجُلٌ جَاءَنِي مُفِيدًا لِلتَّخْصِيصِ، اور جب مقتضی اس کلام کا یہ تھا کہ رَجُلٌ جَاءَنِي جیسے کلام جو ہے وہ تخصیص کا فائدہ نہ دے کیوں؟ لِأَنَّهُ إِذَا أُخِّرَ فَهُوَ فَاعِلٌ لَفْظًا لَا مَعْنًى، اس لیے کہ اگر اس کو مؤخر کیا جائے تو یہ فاعل بن جائے گا لفظوں کے اعتبار سے نہ کہ معنی کے اعتبار سے، تو یہ تو تخصیص کا فائدہ نہیں دے گا، تو یہ کلام یہ تقاضہ کر رہا ہے۔ تو اسی لیے اسْتَثْنَاهُ السَّكَّاكِيُّ الْمُنَكَّرَ، استثناء کیا ہے علامہ سکاکی نے اسم نکرہ کا، بِجَعْلِهِ مِنْ بَابِ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا، اور اس کو قرار دیا ہے وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا کے باب سے اس کو بناتے ہوئے۔ أَيْ عَلَى الْقَوْلِ بِالْإِبْدَالِ مِنَ الضَّمِيرِ، یعنی اس ضمیر سے بدل بنانے کے قول پر۔ ضمیر سے بدل بنانے کے قول پر یہاں اور بھی کئی ترکیبیں ہو سکتی ہیں بھئی۔ بھئی دیکھو اس آیت کے اندر وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا، پوشیدہ کیا سرگوشی کو، الَّذِينَ ظَلَمُوا، وہ جنہوں نے ظلم کیا۔ پوشیدہ کیا سرگوشی کو انہوں نے جنہوں نے کہ ظلم کیا۔ اب یہاں الَّذِينَ فاعل ہے أَسَرُّوا کے لیے، کیا بن رہا ہے فاعل۔ لیکن اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ الَّذِينَ أَسَرُّوا کیا ہے فعل، اور الَّذِينَ کو اس کے لیے کیا بنانا ہے فاعل بنانا ہے، اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ جب بھی فاعل اسم ظاہر آ جائے، فعل کو ہمیشہ کیا لایا جاتا ہے واحد مفرد لایا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں ضَرَبَ رَجُلٌ، تو رَجُلٌ اسم ظاہر ہے تو ضَرَبَ کو کیا لائیں گے؟ مفرد۔ میں کہتا ہوں رَجُلٌ کی جگہ رَجُلَانِ تثنیہ لے کر آتا ہوں، فعل پھر بھی اسی طرح رہے گا ضَرَبَ رَجُلَانِ۔ میں جمع لے آتا ہوں فاعل کو، فعل پھر بھی اسی طرح رہے گا ضَرَبَ رِجَالٌ بھئی۔ فاعل اسم ظاہر ہو پھر چاہے وہ مفرد ہو تثنیہ ہو جمع ہو جو بھی ہو، جب بھی فاعل اسم ظاہر آ جائے، فعل کو ہمیشہ کیا لے کر آتے ہیں مفرد لے کر آتے ہیں۔ تو جب الَّذِينَ فاعل بنانا ہے تو اس أَسَرُّوا کو کیا ہونا چاہیے؟ مفرد ہونا چاہیے، حالانکہ یہ تو کون سا صیغہ آیا؟ جمع کا صیغہ آیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ پھر انہوں نے حیلہ کیا اور یہ کہا کہ بھئی یہ الَّذِينَ بدل ہے بھئی کیا ہے؟ بدل ہے۔ أَسَرُّوا فعل ہے، واؤ ضمیر اس کے اندر فاعل کی، یہ مبدل منہ ہے، اور الَّذِينَ کیا ہے اس سے بدل ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو فاعل لفظی کس کو بنایا واؤ کو جو جمع کی ضمیر ہے، اور فاعل معنوی کس کو بنایا انہوں نے الَّذِينَ کو۔ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس کے اندر واؤ مبدل منہ ہے اور الَّذِينَ کیا ہے اس سے بدل۔ الَّذِينَ کو کیوں نہیں بنا سکتے فاعل بھئی کیا وجہ ہے؟ کیونکہ اگر اس کو بناتے ہیں تو فعل کو کیا آنا چاہیے تھا؟ مفرد آنا چاہیے تھا، حالانکہ فعل تو یہاں پر جمع آ رہا ہے بھئی۔ تو علامہ سکاکی نکرہ کو بھی اسی باب سے قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں جَاءَنِي رَجُلٌ یہ بھی اسی طرح ہے۔ جَاءَ کے اندر هُوَ ضمیر مبدل منہ اور رَجُلٌ اس سے کیا ہے؟ بدل ہے۔ ایک ترکیب یہ بھئی أَسَرُّوا النَّجْوَى یہ جملہ فعلیہ، اس کو خبر مقدم بنا لیا جائے، اور الَّذِينَ ظَلَمُوا موصول صلہ کو کیا بنا لیا جائے مبتدا بنا دیا جائے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس میں موصول ہوا مبتدائے مؤخر اور أَسَرُّوا النَّجْوَى کیا ہوئی؟ خبر مقدم۔ دو ترکیبیں ہو گئیں۔ تیسری ترکیب أَسَرُّوا النَّجْوَى یہاں پر یہ واؤ جو ہے اس کو ہم ضمیر مانتے ہی نہیں بھئی۔ ضمیر نہیں مانتے بلکہ یہ صرف فاعل کی علامت ہے۔ یہ واؤ صرف یہ بتلا رہا ہے کہ یہ آگے اس کا فاعل جو ہے وہ مفرد نہیں، وہ تثنیہ نہیں، بلکہ کس قسم کا آنے والا ہے؟ جمع ہے، اس کا اسناد جمع کی طرف ہوا ہے۔ جیسے دیکھیے بھئی آپ کہتے ہیں ضَرَبَتْ هِنْدٌ، ضَرَبَتْ هِنْدٌ، تو یہ ضَرَبَتْ کے اندر تاء جو ہے یہ ضمیر نہیں، بلکہ یہ تاء کیا چیز ہے صرف تانیث کی علامت ہے۔ اس تاء نے صرف یہ بتلا دیا کہ اس ضَرَبَتْ کا اسناد کس کی طرف کیا گیا ہے؟ مؤنث کی طرف مذکر کی طرف نہیں۔ تو جیسے ضَرَبَتْ کے اندر تاء صرف تانیث کی علامت ہے ضمیر نہیں، اسی طرح یہاں پر وَأَسَرُّوا کے اندر جو واؤ ہے اس کو بھی ہم کیا مان لیتے ہیں کہ یہ صرف جمع کی علامت ہے، یہ صرف یہ بتلا رہا ہے کہ اس فعل کا اسناد کس کی طرف کیا گیا ہے جمع کی طرف کیا گیا ہے، یہ فاعل ہے ہی نہیں۔ تو اب فاعل کون بن گیا الَّذِينَ، اور واؤ کیا بن گئی صرف جمع کی علامت بن گئی۔ تین ترکیبیں ہو گئیں بھئی۔ جی چوتھی ترکیب أَسَرُّوا النَّجْوَى ایک جملہ ہو گیا، اور أَعْنِي الَّذِينَ ظَلَمُوا اس کو منصوب مان لیں بھئی، کیا مان لیں بنا بر ذم کے بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے یا نہیں، کبھی کبھار نصب آتا ہے کس کی وجہ سے؟ مدح کی بنا پر، اور کبھی نصب آتا ہے ذم کی بنا پر بھئی۔ کبھی رفع بھی آیا کرتا ہے مدح کی بنا پر، کبھی رفع آیا کرتا ہے ذم کی بنا پر بھئی۔ یہ بات تو میں پہلے بھی بتلا چکا ہوں۔ میں نے بتلایا تھا آپ پڑھتے ہیں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، تو لفظ اللّٰهِ مجرور ہے موصوف، الرَّحْمٰنِ بھی مجرور ہے صفت اول، الرَّحِيمِ بھی کیا ہے مجرور ہے صفت ثانی ہے۔ لیکن اگر آپ چاہیں تو یہاں یوں بھی پڑھ سکتے ہیں الرَّحْمٰنَ الرَّحِيمَ، دونوں کو کیا پڑھ لیں منصوب پڑھ لیں۔ تو یہاں پھر کیا أَعْنِي محذوف ہے بھئی۔ تو أَعْنِي فعل أَنَا ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل، اور الرَّحْمٰنَ الرَّحِيمَ اس کے لیے کیا بن جائیں گے مفعول بن جائیں گے، اور مفعول کیا ہوا کرتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے۔ تو یہ نصب دیا، تو یہ نصب کس بنا پر دیا جاتا ہے؟ مدح کی بنا پر، موقع دیکھیں گے مدح کا موقع ہے یا ذم کا، تو یہاں کون سا موقع ہے مدح کا ہے، تو یہ منصوب ہوگا مدح کی بنا پر۔ اور اسی کو آپ مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ مرفوع پڑھا، یہ مرفوع بھی کس بنا پر پڑھا؟ مدح کی بنا پر پڑھا۔ تو اصل میں کیا ہے هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ بھئی، تو یہ دراصل تو صفت تھی لیکن آپ بتلانا چاہتے ہیں یہ صفت کس لیے لائی گئی ہے مدح کے لیے لائی گئی ہے، تو اب آپ الرَّحْمٰنَ الرَّحِيمَ نصب بھی پڑھ سکتے ہیں الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ پڑھ لیں، تو اس پر رفع بھی۔ جب رفع پڑھیں گے یہ کیا بن جائے گی خبر بن جائے گی مبتدائے محذوف کے لیے، هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ، هُوَ مبتدا اور الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ اس کی خبر بھئی۔ تو کبھی نصب دیا جاتا ہے مدح کی بنا پر، اور کبھی رفع دیا جاتا ہے مدح کی بنا پر، اسی طرح کبھی ذم کی بنا پر بھی رفع دیا جاتا ہے اور کبھی نصب۔ جیسے آپ پڑھتے ہیں أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، شَیْطَانِ مجرور ہے اس کی صفت بھی کیا ہے مجرور۔ لیکن آپ الرَّجِيمِ پڑھنے کے بجائے الرَّجِيمَ بھی پڑھ سکتے ہیں، پھر کیا ترکیب ہو جائے گی؟ أَعْنِي الرَّجِيمَ، تو بتلایا آپ نے نصب دے کر کیا بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ صفت کس لیے لائی گئی ہے ذم کے طور پر لائی گئی ہے۔ اسی طرح آپ کہتے ہیں الرَّجِيمُ، تو کیا ترکیب ہوئی اصل میں هُوَ الرَّجِيمُ، تو یہ تھی تو صفت لیکن اس کو رفع کیوں دیا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ کس بنا پر ہے ذم کی بنا پر ہے۔ تو یہاں پر بھی أَعْنِي الَّذِينَ یہاں پہ اس کو منصوب بنا لیں ذم کی بنا پر، کیونکہ یہ ذم کا موقع ہے بھئی الَّذِينَ ظَلَمُوا آ رہا ہے ظلم کیا بھئی جنہوں نے۔ تو چوتھی ترکیب کیا کہ الَّذِينَ کو کیا بنا لو منصوب بنا لو ذم کی بنا پر۔ تو یہ چوتھی ترکیب ہے۔ تو علامہ سکاکی نکرہ کو بھی اسی باب سے قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں جَاءَنِي رَجُلٌ یہ بھی اسی طرح ہے، جَاءَ کے اندر هُوَ ضمیر مبدل منہ اور رَجُلٌ اس سے کیا ہے بدل ہے۔ مُقَدَّم تھا، اس وَقْت ہمیں تَخْصِیْص چاہیے تھی، تو اُس تَخْصِیْص کو لانے کے لیے ہم ہم نے اس وَجْہ بَعِید کا کیا کیا؟ اِرْتِکاب کیا، وَرنہ جب یہ مُوَاخَّر ہو، تو اُس وَقْت یہ فاعِلِ مَعْنَوِی نہیں بنے گا، بلکہ اُس وَقْت کیا بنے گا؟ فاعِلِ لَفْظِی ہی بنے گا، صُورَت سَمْجھ میں آئی بھئی؟ فَاِنْ قِیلَ اگر یہ اِعْتِراض کیا جائے فَيَلْزَمُہ اِبرازُ الضَّمِیرِ فِی مِثْلِ جاءَنی رَجُلانِ وَجاءَنی رِجالٌ، کہ بَس لازِم آتا ہے علامہ سکاکی پر کیا لازِم آتا ہے؟ اِبرازُ الضَّمِیرِ، ضَمِیر کا ظاہِر کرنا، یعنی ضَمِیر ظاہِر تَثْنِیَہ اور جَمْع کی لانی چاہیے فِی مِثْلِ جاءَنی رَجُلانِ، جاءَنی رَجُلانِ کے اندر کیا کہنا چاہیے ضَمِیر کو ظاہِر کرتے ہوئے؟ جاءانی رَجُلانِ اور جاءانی رِجالٌ اِس کے اندر بھی ضَمِیر کو ظاہِر کرتے ہوئے کیا کہنا چاہیے؟ جاءُونی رِجالٌ یہ کہنا چاہیے تھا، وَالاسْتِعْمَالُ بِخِلافِہ اور حالانکہ اِسْتِعْمَال تو اِس کے خِلاف ہے۔ قُلْنا علامہ تفتازانی جَواب دے رہے ہیں اُن کی تَرَف سے کہ لَيْسَ مُرادُہ کہ اُن کی یہ مُراد نہیں ہے کہ انَّ المَرْفُوعَ فِی قَوْلِنا جاءَنی رَجُلٌ بَدَلٌ لا فاعِلٌ، کہ یہ جو مَرْفُوع آ رہا ہے ہمارے اِس قَوْل میں، جاءَنی رَجُلٌ، جِس میں ہے ہی مُوَاخَّر مولانا، اِس جاءَنی رَجُلٌ کے اندر وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ رَجُلٌ بَدَلٌ لا فاعِلٌ، فاعِل اِس میں یہ نہیں کہتے، فَانَّہ مِمَّا لا یَقُولُ بِہ عاقِلٌ، فَضْلاً عَنْ فاضِلٍ، اِس لیے یہ تو اِس لیے کہ یہ تو اِیسی بات ہے کہ ایک عاقِلْمَنْد آدمی بھی اِسِی بات نہیں کر سکتا، چَے جايیکہ کہ علامہ سکاکی جیسا اَهْلِ عِلْم و فَضْل شَخْص کیا کرے اِس جیسی بات۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ جاءَنی رَجُلٌ میں رَجُلٌ بَدَل ہے۔ فَانَّہ مِمَّا اِس لیے کہ اُن چِیزوں میں سے ہے لا یَقُولُ بِہ عاقِلٌ جِس کو کوئی عاقِل بھی ایسا نہیں کہتا، فَضْلاً عَنْ فاضِلٍ چَے جايیکہ کہ ایک فَضِیلَت والا شَخْص اِیسا کہے۔ بَلِ المُُرادُ بلکہ مُراد اُن کی یہ ہے کہ انَّ فِی مِثْلِ قَوْلِنا رَجُلٌ جاءَنی کہ اِس قِسْم کا قَوْل جِس میں نَکِرَہ مُقَدَّم ہو، یُقَدَّر یہاں یہ فَرْض کِیا جاتا ہے کہ انَّ الْأَصْلَ جاءَنی رَجُلٌ کہ اَصْل کیا تھا؟ جاءَنی رَجُلٌ تھا۔ عَلیٰ اَنَّ رَجُلاً بَدَلٌ لا فاعِلٌ، بِنَا بَر اِس کے کہ رَجُل کیا تھا؟ بَدَل تھا، فاعِل نہیں تھا۔ فَفِی مِثْلِ قَوْلِنا رِجالٌ جاءُونی، تو اِسِی طَرْح ہمارے اِس قَوْل کے اندر ہم کہتے ہیں رِجالٌ جاءُونی، نَکِرَہ ہے رِجالٌ، جَمْع ہے، لیکن ہے کیا؟ نَکِرَہ، اور نَکِرَہ کے مُبْتَدَا بَننے کے لیے کیا ضَرُوری ہے؟ تَخْصِیْص، تو مَعْلُوم ہوا رِجالٌ جاءُونی اَصْل میں کیا تھا؟ جاءُونی رِجالٌ تھا بھئی! یہ کیوں ہم نے جاءُونی رِجالٌ فَرْض کِیا؟ کیونکہ رِجالٌ کا تاکہ مُبْتَدَا بَننا صَحِیح ہو جائے۔ تو ہمارے اِس قِسْم اس قِسْم کے قَوْل رِجالٌ جاءُونی یُقَدَّر ان میں فَرْض کِیا جائے گا کہ انَّ الْأَصْلَ جاءُونی رِجالٌ کہ اَصْل اِس میں کیا تھا؟ جاءُونی رِجالٌ تھا، فَلْیَتَآمَلْ بھئی، پس چاہیے کہ غَوْر و فِکْر کَر، تو غَوْر و فِکْر کرے بھئی! کیونکہ یہ سِرْف ہم اِعْتِبَار کرتے ہیں، حَقِیقَت میں اِیسا نہیں، اور اُس صُورَت میں اِعْتِبَار کرتے ہیں، جب اُس نَکِرَہ کو فِعْل پر کیا کیا گیا ہو؟ مُقَدَّم کِیا گیا ہو، جب مُوَاخَّر ہو، فِیر وہ فاعِلِ لَفْظِی ہی بَنتا ہے، فاعِلِ مَعْنَوِی نہیں بنتا۔ چلیے مولانا! ہَذا ہو الْمَرام، واللَّہُ اَعْلَمُ بِحَقِیقَتِ الْکَلام۔
121 approved lectures · 58 of 121