Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-151

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بسم الله الرحمن الرحيم کل مولانا ہم نے مبالغے کی بحث پڑھی تھی اور مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہر مبالغہ مقبول نہیں ہے بلکہ مبالغہ کی بعض اقسام مقبول ہیں اور کچھ اقسام کیا ہیں؟ مردود ہیں۔ اور مبالغہ کس کو کہتے ہیں؟ کہتے ہیں وہ یہ کہ دعویٰ کیا جائے کسی وصف کے لیے کہ وہ شدت یا ضعف کے اندر حدِ محال کو پہنچا ہوا ہے یا بڑی بعید حد تک پہنچا ہوا ہے۔ یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہیں سننے والا یہ گمان نہ کرے کہ یہ وصف انتہاء کو نہیں پہنچا ہوا، بلکہ یہ وصف تو کیا ہے موصوف کے اندر انتہاء کو پہنچا ہوا ہے بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ اس کی تین اقسام ہیں: تبلیغ، اغراق اور غلو۔ اور ان میں سے تبلیغ اور اغراق مقبول ہیں جبکہ غلو کی کچھ اقسام مقبول ہیں اور کچھ اقسام کیا ہیں؟ مردود ہیں۔ تبلیغ کس کو کہتے ہیں کہ مدعا جو ہے عقلاً بھی ممکن ہو اور عادتاً بھی ممکن ہو، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ تبلیغ کہلاتا ہے۔ جیسے شاعر نے ذکر کیا تھا کہ میں نے اپنے گھوڑے کو پے در پے دو شکاروں کے پیچھے دوڑایا، گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے، دوڑایا اور پھر بھی اس پر پسینہ نہیں آیا بھئی، اور یہ عقلاً بھی ممکن ہے اور عادتاً بھی ممکن ہے، تو یہ تبلیغ۔ اور اگر مبالغہ مولانا عقلاً تو ممکن ہے لیکن عادتاً ہوتا نہیں ویسا، تو اس کو اغراق کہتے ہیں جیسے شاعر نے کہا تھا کہ ہم اپنے پڑوسیوں کا اکرام کرتے ہیں جب وہ ہمارے پاس ہوتے ہیں اور جب وہ ہم سے دور چلے جاتے ہیں تو بھی ہم کیا کرتے ہیں؟ ہمارے احسانات ختم نہیں ہوتے، ہم ان کے پیچھے کیا کرتے ہیں؟ احسانات کو بھیجتے ہیں۔ تو کہتے ہیں یہ ممکن عقلاً تو ممکن ہے لیکن عادتاً ہوتا نہیں ایسا بھئی، اور یہ دونوں مقبول ہیں۔ اور یہ دو قسمیں تھیں، تیسری قسم ہے غلو کہ نہ عقلاً ممکن ہو اور نہ عادتاً ممکن ہو۔ چوتھی قسم جو تھی کہ جو عقلاً تو ممکن نہ ہو لیکن عادتاً ممکن ہو، اس کو ذکر نہیں کیا اس لیے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک چیز عقلاً ممکن نہ ہو اور عادتاً ممکن، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو غلو جیسے مولانا شاعر کہتا ہے کسی بادشاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہ تو نے مشرکوں کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ ان کے وہ نطفے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے وہ بھی تجھ سے ڈرتے ہیں بھئی۔ اب یہ نہ عقلاً ممکن ہے اور نہ عادتاً ممکن ہے۔ اور غلو کے میں سے مقبول وہ ہے مولانا جس پر کوئی ایسا حرف داخل کر دیا جائے جو اس کو صحت کے قریب کر دے، جیسے کہ یکاد کا لفظ ہے قرآن کی اس آیت میں: ”يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ“۔ تو ایک وہ جس میں کوئی ایسا لفظ داخل کر دیں جو اس کو صحت کے قریب کر دے، اور دوسری قسم وہ ہے جس کے اندر عمدہ قسم کی تخییل پائی جائے مولانا۔ مخاطب کے خیال میں کیا کریں؟ کوئی اچھا خیال آپ ڈالیں بھئی۔ جیسے شاعر کہتا ہے کہ ان گھوڑوں کے کھروں نے جما دیا، شاعر کہتا ہے کہ جنگ یا لڑائی وغیرہ میں کتنے گھوڑے ہم نے دوڑائے اور ایسی جنگ کی کہ اس قدر گرد اڑی کہ وہ گرد فضا میں جم گئی اور اس سے ایک زمین بن گئی اور اس زمین پر اگر آپ عمدہ قسم کے گھوڑے کو دوڑانا چاہیں تو کیا کر سکتے ہیں؟ دوڑا سکتے ہیں۔ تو دیکھو اب یہ نہ عقلاً ممکن، نہ عادتاً ممکن لیکن کیا ہے؟ ایک اچھے نوع کی تخییل ہے لہٰذا یہ مقبول ہے بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا کبھی کبھار یہ دونوں جمع ہو جاتے ہیں، کوئی ایسا لفظ بھی داخل کیا جاتا ہے جو صحت کے قریب کر دیتا ہے اور اس میں اچھی اور عمدہ قسم کی تخییل بھی ہوتی ہے جیسے اس شعر کے اندر شاعر کو کہتا ہے کہ مجھے رات بڑی نیند نہیں آئی اور رات بڑی طویل تھی، گزر ہی نہیں رہی تھی، تو مجھے یوں گمان ہوتا تھا کہ گویا ستاروں کو کیل لگا کر روک دیا گیا ہے ایک ہی جگہ پر، ان میں کیل لگے ہوئے ہیں اور میرے آنکھوں کے پپوٹے جو ہیں وہ پلکوں کے ساتھ ان ستاروں سے باندھے ہوئے ہیں۔ تو دیکھو یہاں پر عمدہ قسم کی خیال بھی ہے موجود تخییل بھی ہے اور ساتھ ساتھ شاعر نے يخيل کا لفظ بھی بڑھا دیا کہ مجھے یوں گمان ہوتا ہے مولانا، یعنی وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا ہے، تو گمان کے لفظ کے ساتھ تو دونوں جمع ہو گئے: عمدہ خیال بھی اور ایسا لفظ بھی جس نے اس کو کس کے قریب کر دیا؟ صحت کے۔ اور اسی طرح وہ مبالغہ بھی مقبول ہے جو مذاق وغیرہ کے طور پر کیا جائے جیسے شاعر نے کہا تھا کہ نشہ تو دراصل میں ہی کرتا ہوں، مجھے ہی اتنا شغف وغیرہ ہے شراب سے کہ اگر میں ایک نشہ شراب پینے کا ارادہ کر لوں تو ایک دن پہلے ہی مجھے کیا ہے؟ نشہ چڑھ جاتا ہے اور یہ بات بڑی عجیب ہے بھئی۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الْمَذْهَبُ الْكَلَامِيُّ“، اور قسمِ معنوی میں سے مولانا ایک صفت ہے مذہبِ کلامی بھئی، مذہبِ کلامی، اور وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ إِيرَادُ حُجَّةٍ لِلْمَطْلُوبِ عَلَى طَرِيقَةِ أَهْلِ الْكَلَامِ“، وہ لانا ہے مولانا دلیل کو للمطلوب مدعا کے لیے علی طریقہ اہل الکلام کس طریقے پر؟ اہل کلام کے طریقے پر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دلیل لے کر آنا کس کے لیے؟ مدعا کے لیے، کس طریقے پر؟ اہل کلام کے طریقے پر بھئی۔ وہ اہل کلام کا طریقہ کیا ہے بھئی؟ بھئی وہ قیاس وغیرہ کی صورت صغریٰ کبریٰ ملایا جائے اور اس کے ساتھ کیا نکالا جائے؟ نتیجہ نکالا جائے، قیاسِ اقترانی، اور یا مولانا قیاسِ استثنائی ہو گا جس کے اندر قضیہ شرطیہ ذکر ہوتا ہے اور لیکن کے ذریعے جواب نکالا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آپ کہتے ہیں: ”لَوْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ وَلَكِنَّهَا لَيْسَتْ بِطَالِعَةٍ“ دیکھا، ”وَلَكِنَّ النَّهَارَ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ“ نتیجہ کیا نکلے گا؟ ”فَالشَّمْسُ لَيْسَتْ بِطَالِعَةٍ“۔ اگر سورج نکلا ہو تو دن ہو گا، لیکن دن تو ہے نہیں، نتیجہ کیا نکلا؟ معلوم ہوا سورج بھی نہیں نکلا ہوا۔ تو سمجھ میں آیا قیاس دو طریقے پر ہے: ایک قیاسِ اقترانی جس میں صغریٰ کبریٰ ذکر کیا جاتا ہے، ایک قیاسِ استثنائی مولانا، قیاسِ استثنائی میں قضیہ شرطیہ ذکر ہوتا ہے اور لیکن کے ذریعے کیا نکالا جاتا ہے؟ نتیجہ نکالا جاتا ہے جیسے ابھی مثال ذکر ہوئی ہے۔ ”وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ“ بھئی وہ طریقہ ذکر کر رہے ہیں بھئی اہل کلام، ”وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ تَسْلِيمِ الْمُقَدِّمَاتِ مُسْتَلْزِمَةً لِلْمَطْلُوبِ“ اور وہ یہ ہے کہ مولانا کہ دلیل جو ہے وہ مقدمات کو تسلیم کرنے کے بعد مستلزم ہوتی ہے کس کو؟ مطلوب کو۔ یعنی بھئی مقدمات تسلیم کر لیے جائیں تو کیا نکل آئے گا بھئی؟ مطلوب یعنی دعویٰ ثابت ہو جائے گا، نتیجہ نکل آئے گا بھئی۔ جیسے ”نَحْوُ لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا“، اگر اس زمین اور آسمان میں آلہہ ہوتے اللہ کے علاوہ لفسدتا تو ان دونوں کا نظام فاسد ہو جاتا، خراب ہو جاتا بھئی۔ ”وَاللَّازِمُ وَهُوَ فَسَادُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَاطِلٌ“ اور لازم وہ تو باطل ہے، لازم کیا مولانا؟ زمین اور آسمان کا میں فساد کا برپا ہونا یہ تو باطل ہے بھئی، فاسد تو نہیں، اس وقت تو نظام تو صحیح چل رہا ہے، تو ”لِأَنَّ الْمُرَادَ بِهِ خُرُوجُهُمَا عَنِ النِّظَامِ الَّذِي هُمَا عَلَيْهِ“ اس لیے کہ مراد فساد سے کیا مراد ہے؟ خود ذکر کر رہے ہیں کہ اس سے مراد ان دونوں کا نکل جانا ہے اس نظام سے جس پر یہ دونوں ہیں۔ تو یہ مولانا لازم باطل ہوا، لازم کیا ہے؟ اگر اس میں تعددِ آلہہ اور آلہہ ہوتے زمین اور آسمان میں تو لازم کیا تھا کہ اس کا نظام فاسد ہو جاتا، فساد آ جاتا اس میں، تو ملزوم یعنی تعددِ آلہہ بھی کیا ہوا؟ باطل ہوا، معلوم ہوا آلہہ زیادہ نہیں بلکہ ایک ہی خالق ہے، ایک ہی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَهَذِهِ الْمُلَازَمَةُ مِنَ الْمَشْهُورَاتِ الَّتِي يُكْتَفَى بِهَا فِي الْخَطَابِيَّاتِ“، اور یہ ملازمت مشہورات میں سے ہے جس میں جس پر اکتفاء کیا جاتا ہے خطابیات، ظنیات کے اندر مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ خطابی باتیں کن کو کہتے ہیں بھئی؟ جو ظنی ہوں، یقینی نہ ہوں مولانا، سمجھ میں آیا؟ خطابی بفتح الخاء، تو خطابی باتیں، سمجھ میں آیا؟ یعنی ان کو حسنِ ظن کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ یعنی خطیبوں کی باتیں مولانا، خطیبوں کی باتیں کیا کیسی ہوتی ہیں؟ حسنِ ظن پر مشتمل ہوتی ہیں بھئی، اس قسم کی باتیں عوام پسند کرتے ہیں اور کیا کر لیتے ہیں؟ حسنِ ظن کی وجہ سے ان کو قبول کر لیتے ہیں مولانا۔ علامہ تفتازانی، یہ جو دلیل ذکر ہوئی مولانا، توحید کی بہت سی قرآنی ادلہ ہیں بھئی، عقلی نقلی دلائل تو ہیں، قرآنی ادلہ میں سے ان میں سے یہ دلیل مولانا مشہور دلیل ہے توحید کی، اور یہ برہانِ تمانع کہلاتی ہے بھئی، کیا کہلاتی ہے؟ برہانِ تمانع، تمانع کا معنی ہے تخالف، تخالف، تخالف۔ اور اس میں تمام منطقی اور فلسفی اصولوں کی رعایت رکھی گئی ہے، اور قطعی دلائل میں سے ہے مولانا، یقین کا فائدہ دیتی ہے، یقین، یقین کا فائدہ دیتی ہے۔ اس لیے کہ اس کائنات میں اگر دو آلہہ ہوتے تو تمانع ممکن تھا، تخالف ممکن تھا مولانا ان کا آپس میں بھئی، مثلاً ایک خدا کہتا میں زید کو سکون دیتا ہوں، ایک خدا کہتا میں زید کو حرکت دیتا ہوں بھئی، اور برہان کے لیے امکان ہی کافی ہے، امکان ہی کافی ہے، تو امکانِ تخالف تھا بھئی۔ اب مولانا دو شقیں ہوئیں، دو صورتیں بن گئیں مولانا: یا دونوں باتیں پائی جائیں گی یا ایک بات پائی جائے گی بھئی۔ ایک خدا کیا کہتا ہے؟ سکون دیتا ہوں، دوسرا؟ حرکت دیتا ہوں، یا تو یہ دونوں باتیں پائی جائیں گی یا دونوں میں سے ایک پائی جائے گی۔ اور دونوں صورتوں میں محال لازم آتا ہے بھئی، دونوں باتیں پائی جائیں یہ محال ہے اس لیے کہ اجتماعِ ضدین ہے بھئی، زید ایک ہی وقت میں متحرک بھی ہو اور ساکن بھی ہو، ایسا ہو سکتا ہے بھئی؟ نہیں، تو یہ محال لازم آئے گا۔ دوسری صورت کہ زید میں صرف حرکت پائی جائے یا صرف کیا پایا جائے؟ سکون پایا جائے، تو اس صورت میں ایک خدا کی مراد تو پائی گئی، دوسرے کی مراد نہیں پائی گئی، اور جس کی مراد نہیں پائی گئی معلوم ہوا وہ عاجز ہوا، کیا ہوا؟ عاجز ہوا، اور عاجز ہونا حدوث کی علامت ہے مولانا، اور حدوث اللہ کے حق میں محال ہے، معبود اور الٰہ کے حق میں حدوث کیا ہے؟ محال ہے۔ اور یہ محال کس سے لازم آیا تھا؟ تعددِ آلہہ سے، کس سے لازم آیا یہ محال؟ تعددِ آلہہ سے، دونوں صورتوں میں مولانا محال لازم آ رہا ہے اور یہ کس سے لازم آ رہا ہے؟ تعددِ آلہہ سے لازم آ رہا ہے، معلوم ہوا تعددِ آلہہ بھی باطل اور محال ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا ہمارا مدعا ثابت ہوا کہ خدا ایک ہے مولانا، معبود ایک ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ برہانِ تمانع ہے، برہانِ تمانع۔ اعتراض ہوتا ہے بھئی کہ بھئی ممکن ہے کہ بھئی وہ آلہہ زیادہ ہوں اور آپس میں جھگڑا ہی نہ کریں بھئی، آپس میں جھگڑا ہی نہ کریں۔ تو آپ کی ساری دلیل ختم ہوئی ابھی جو آپ نے ذکر کی تھی، تو آلہہ کا تعدد بھی آیا اور وہ آپس میں جھگڑا بھی نہیں کرتے، تو آپ کی تو تمانع سارا ختم ہوا بھئی۔ جواب: مولانا ہم نے بالفعل کی بات ہی کب کی ہے؟ امکان ہے یا نہیں؟ امکان تو پھر بھی ہے چاہے بالفعل نہ کریں، اور دلیل کے لیے اس دلیل کے لیے امکان ہی کافی ہے مولانا، اس دلیل کے لیے امکان ہی کافی ہے۔ تو دراصل یہ کلام پورا اس طرح، دلیل اس طرح بنے گی مولانا: ”لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا وَلَكِنَّ الْفَسَادَ مُنْتَفٍ“۔ ”لَوْ“ آیا مولانا، ”لَوْ“ بھئی ”لَوْ“ آتا ہے انتفائے اول کے لیے بسببِ انتفائے ثانی کے۔ ”لَوْ“ کس لیے آتا ہے؟ انتفائے اول کے لیے بسببِ انتفائے ثانی کے، کہ اول منتفی ہے کیوں؟ اس لیے کہ ثانی تو ثانی یہاں کیا ہے؟ ”لَفَسَدَتَا“، یہ منتفی ہے فساد، تو معلوم ہوا تعددِ آلہہ بھی کیا ہے؟ منتفی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ عجیب آپ کو بات بتلاؤں مولانا۔ ”لَوْ“، ”لَوْ“ کے بارے میں ضابطہ چھٹی صدی عیسوی تک، چھٹی صدی تک، چھٹی صدی ہجری تک یہ بات مسلم تھی مولانا کہ ”لَوْ“ انتفائے ثانی کے لیے آتا ہے بسببِ انتفائے اول کے۔ کیا بات مسلم تھی؟ انتفائے ثانی کے لیے آتا ہے بسببِ انتفائے اول کے۔ تمام نحوی اس پر متفق تھے اور سب نے اسی کو ذکر کیا تھا، یہاں تک کہ چھٹی صدی ہجری میں علامہ ابن حاجب کا دور آیا مولانا اور انہوں نے بڑے بڑے قوی اعتراضات کیے، ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا مولانا۔ انہوں نے آ کر وہ فرمانے لگے اس کا عکس بھئی، کہتے ہیں ”لَوْ“ انتفائے ثانی بسببِ اول کے لیے نہیں بلکہ ”لَوْ“ آتا ہے انتفائے اول کے لیے بسببِ انتفائے ثانی کے لیے۔ اس لیے کہ اول تو ملزوم ہے اور ثانی کیا ہے؟ لازم ہے، اور ملزوم کی نفی سے لازم کی نفی ضروری نہیں، اس لیے کہ کبھی لازم عام ہوتا ہے مولانا۔ سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے لیکن کیا سورج کے نہ ہونے سے روشنی نہیں ہو گی؟ بلکہ اس کے علاوہ بھی بجلی کی روشنی، چراغ کی روشنی ممکن ہے، تو روشنی لازم تو ہے سورج کے ساتھ لیکن یہ لازم عام ہے۔ تو کبھی لازم عام ہوتا ہے تو ملزوم کی نفی سے لازم کی نفی نہیں ہوتی۔ ہاں لازم کی نفی سے کیا ہوتی ہے؟ ملزوم کی نفی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کس طرح تھی بات؟ ہاں تو روشنی نہیں ہے تو سورج بھی نہیں ہے، یہ نہیں ہو سکتا سورج تو ہو اور روشنی نہ ہو، تو لازم کی نفی سے ملزوم کی نفی ہو گی لیکن ملزوم کی نفی سے لازم کی روشنی کا لازم کی نفی کا ہونا یہ تو ضروری نہیں، کبھی ہو گی کبھی نہیں ہو گی۔ تو یہ ”لَوْ“ کی بات آئی، اس میں ذکر کیا بھئی ”لَوْ“۔ تو یہاں کلام یوں ہے مولانا: ”لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا وَلَكِنَّ الْفَسَادَ مُنْتَفٍ“، لیکن فساد تو کیا ہے؟ منتفی ہے، ”يُنْتِجُ تَعَدُّدُ الْآلِهَةِ مُنْتَفٍ“ بھئی، آلہہ کا تعدد بھی کیا ہے؟ منتفی، معلوم ہوا تعددِ آلہہ نہیں بھئی، الٰہ ایک ہی ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بھئی بات؟ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: ”وَهَذِهِ الْمُلَازَمَةُ مِنَ الْمَشْهُورَاتِ الَّتِي يُكْتَفَى بِهَا فِي الْخَطَابِيَّاتِ“، یہ ملازمت مشہورات میں سے ہے جس میں جس پر اکتفاء کیا جاتا ہے خطابیات میں، ”دُونَ الْقَطْعِيَّاتِ الْمُعْتَبَرَةِ فِي الْبُرْهَانِيَّاتِ“ مولانا، نہ کہ یہ یقینیات میں سے ہے جن کا اعتبار کیا جاتا ہے برہانیات میں مولانا۔ یاد رکھو مولانا قیاس اگر مرکب ہو مقدماتِ قطعیہ، یقینیہ سے تو اس کو برہانی کہتے ہیں اور اگر وہ مرکب ہو ظنی مقدمات سے تو پھر اس کو خطابی کہتے ہیں۔ قیاس، قیاس کس کو کہتے ہیں مولانا؟ قیاس میں اگر وہ کس سے مرکب ہو؟ قطعی مقدمات سے مرکب ہو، یقینی مقدمات سے مرکب ہو تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ برہانی، اور اگر وہ ظنی مقدمات سے مرکب ہو تو کیا کہلاتا ہے؟ خطابی کہلاتا ہے۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں یہ مشہورات میں سے ہے اور خطابی ہے مولانا، خطابیات میں سے ہے، ظنی ظنیات میں سے ہے مولانا۔ اس دلیل کے مقدمات کیا ہیں؟ یہ جو برہانِ تمانع ذکر ہوا مولانا اس کو کہہ رہے ہیں علامہ تفتازانی کہ یہ خطابی قیاس میں سے ہے، یعنی ظن کا فائدہ دیتا ہے یقین کا فائدہ نہیں دیتا بھئی۔ علماء نے علامہ تفتازانی کے اس قول پر شدید تنقید کی ہے بھئی کہ علامہ تفتازانی اس کو ظنی قرار دے رہے ہیں یعنی یہ ایک کھیل والی بات ہے مولانا، کوئی پختہ بات، تقریر والی بات ہے جس کو عوام اور عام لوگ قبول کر لیتے ہیں حسنِ ظن کی وجہ سے، تو علماء نے بڑی تنقید کی کہ علامہ تفتازانی نے ہماری بڑی مضبوط دلیل کو کیا کر دیا؟ خراب کر دیا بھئی، اور جوابات دیے ہیں اور رد کیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ میں نے آپ کو بتلایا بھئی کہ یہ دلیل کیا ہے؟ یہ برہانیات میں سے ہے اور اس میں تمام منطقی اور فلسفی اصولوں کی رعایت رکھی گئی ہے بھئی، لہٰذا علامہ تفتازانی کا اس کو خطابی کہنا مولانا مردود ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ مشہور دلیل برہانِ تمانع کہلاتی ہے بھئی، تفصیل آپ پڑھیں گے شرح عقائد کے اندر جہاں تفصیلی بحث اس پر آئے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی مذہبِ کلامی کس کو کہتے ہیں؟ دلیل کو ذکر کرنا کس لیے؟ مدعا کو ثابت کرنے کے لیے بھئی۔ بھئی مدعا ثابت کرنے کے لیے کیا ذکر کی جاتی ہے؟ دلیل ذکر کی جاتی ہے۔ تو اور یہ جو مذہبِ کلامی ذکر ہو رہا ہے مولانا، اس کے اندر دلیل کا بالفعل ہونا اس کے ارکان کا ہونا ضروری نہیں، صغریٰ ہو، کبریٰ ہو، نتیجہ ہو یہ ضروری نہیں، بلکہ بالقوۃ یہ دلیل پر دلالت دلیل ہو تو پھر بھی یہ کیا ہے؟ صحیح ہے۔ یعنی اس سے دلیل مفہوم ہو رہی ہے مولانا، کیا ہے؟ مفہوم ہو رہی ہے، اس پر یہ دلالت کر رہا ہے کلام اس کے اور اس کلام کی مدد سے اب ممکن ہے صغریٰ کبریٰ بنایا جائے اور کیا کیا جائے؟ نتیجہ نکال لیا جائے۔ جیسے شاعر آگے آنے والے مولانا اشعار کے اندر بھئی، شاعر کہتا ہے کسی ایک بادشاہ کی تعریف، دو بادشاہ تھے کسی ایک علاقے میں ایک، دوسرے علاقے میں اور ان دونوں میں آپس میں دشمنی تھی۔ شاعر ایک بادشاہ کے پاس جاتا تھا، تعریف وغیرہ کرتا تھا، ایک مرتبہ کسی نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شاعر جو ہے یہ آپ کی تعریف کرتا ہے آپ سے مال لے جاتا ہے حالانکہ یہ تو آپ کا دشمن ہے، آپ کے ساتھ خیانت کرتا ہے، یہ آپ کے مخالف بادشاہ کے پاس بھی جاتا ہے ان کے پاس ان کی تعریف کرتا ہے آپ کے خلاف باتیں کرتا ہے، اور تو شاعر آیا تو بادشاہ اس سے ناراض ہوا تو شاعر اشعار میں کہتا ہے، قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے جو ہے اگر دوسرے بادشاہ کی تعریف کی ہے تو آپ سے میں نے کوئی خیانت نہیں کی، آپ کے خلاف کوئی بات نہیں کی، آپ سے میں نے کوئی دشمنی نہیں کی، بلکہ بات یہ کہ میں ایک غریب آدمی ہوں، میں ان لوگوں کے پاس جاتا ہوں وہ میرا بڑا احسان کرتے ہیں، میرے ساتھ احسان کرتے ہیں، عزت و اکرام کرتے ہیں، مجھے خوب مال و دولت دیتے ہیں، اور جس کے ساتھ کوئی احسان کرتا ہے وہ یقیناً اس کی کیا کرتا ہے؟ تعریف کرتا ہے، تو میں بھی ان کی تعریف کرتا ہوں ان کی مدح کے اندر اشعار کہتا ہوں اور اس کے اندر کوئی ایسی ایسی بات نہیں جسے غلط قرار دیا جائے، جیسے اے بادشاہ آپ ہیں، آپ کے مصاحب ساتھی ہیں آپ کے وہ ان کے ساتھ آپ نیکی کرتے ہیں ان کو مال وغیرہ دیتے ہیں آپ احسان کرتے ہیں تو وہ آپ کی تعریف کرتے ہیں، آپ مجھے بتلائیے کیا آپ کا اور ان کا یہ عمل ٹھیک ہے؟ اگر یہ عمل ٹھیک ہے تو پھر یقیناً میرا عمل بھی ٹھیک ہے، وہ میرے ساتھ احسان کرتے ہیں یہ آپ کے ساتھ آپ ان کے ساتھ احسان کرتے ہیں تو یہ آپ کی مدح کرتے ہیں، وہ میرے ساتھ احسان کرتے ہیں تو میں ان کی بھی مدح کرتا ہوں، ہاں آپ سے دشمنی نہیں کرتا، آپ کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا۔ ”وَقَوْلُهُ“ شعر: ”حَلَفْتُ فَلَمْ أَتْرُكْ لِنَفْسِكَ رَيْبَةً ... وَلَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ لِلْمَرْءِ مَطْلَبُ“ ”حَلَفْتُ فَلَمْ أَتْرُكْ لِنَفْسِكَ رَيْبَةً“، میں نے قسم اٹھا لی ہے پس نہیں میں نے چھوڑا آپ کے نفس کے لیے ”رَيْبَةً“ أَيْ شَكًّا کوئی شک بھئی، اے بادشاہ میں نے قسم اٹھا لی ہے اور آپ کے لیے کسی قسم کا کوئی شک رہنے نہیں دیا، ”وَلَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ لِلْمَرْءِ مَطْلَبُ“ اور اللہ کے علاوہ انسان کے لیے کوئی اور جائے مطلب یعنی مقصد نہیں ہے، اللہ کی ذات ہی مقصود ہے، اللہ کی ذات سب سے عظیم ہے اور جب میں نے اللہ کی ذات کی قسم اٹھا لی ہے تو اب اور کوئی قسم سمجھ میں آیا؟ اور کیا کہا جائے بھئی اس کے بعد کسی اور کی بات کے ذریعے صدق کو طلب کرنے کی اب گنجائش نہیں رہی۔ فکیف یحلف بہ کاذبا، تو اللہ کی ذات سب سے عظیم ہے اس سے آگے کوئی اور مقصد نہیں انسان کا تو کیسے اس کے ساتھ جھوٹی قسم اٹھا سکتا ہے اللہ کے نام کے ساتھ؟ ”لَئِنْ كُنْتَ“، ”لَئِنْ كُنْتَ“ اس میں بتلایا اللام لتوطئة القسم کس لیے ہے؟ یہ قسم کے یعنی یہ دلالت کر رہا ہے قسم محذوف پر۔ اچھا، ”لَئِنْ كُنْتَ قَدْ بُلِّغْتَ عَنِّي خِيَانَةً“ اے بادشاہ اگر تو جو ہے تحقیق پہنچایا گیا ہے میری طرف سے خیانت بھئی، یعنی تجھے میری طرف سے کیا پہنچائی گئی؟ خیانت کی خبریں پہنچائی گئیں، دشمنی کی، ”لَمُبْلِغُكَ“ اللام جواب القسم یہ لام کیا ہے؟ جوابِ قسم ہے۔ ”لَمُبْلِغُكَ الْوَاشِي أَغَشُّ وَأَكْذَبُ“، البتہ تجھے پہنچانے والا چغل خور جو ہے ”أَغَشُّ“ وہ زیادہ خائن ہے سب سے زیادہ چغل خوری خیانت کرنے والوں میں سب سے بڑا خائن ہے، ”وَأَكْذَبُ مِنْ كُلِّ كَاذِبٍ“ اور جھوٹ بولنے والوں میں سے سب سے بڑا جھوٹا ہے، تو ”أَغَشُّ مِنْ كُلِّ غَاشٍّ“ ہو گا بھئی، ”أَكْذَبُ مِنْ كُلِّ كَاذِبٍ“۔ تو تجھے پہنچانے والا جو چغل خور ہے ”أَغَشُّ“، مِنْ غَشَّ یہ کس سے ہے؟ غَشَّ سے ہے، ”إِذَا خَانَ“ جب کوئی آدمی خیانت کرے تو کیا کہتے ہیں؟ غَشَّ۔ تو وہ سب تو کہتے ہیں وہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ خیانت کرنے والوں میں سے بڑا خیانت کرنے والا ہے اور جھوٹ بولنے والوں میں سے بڑا جھوٹا ہے۔ ”وَلَكِنَّنِي كُنْتُ امْرَأً لِيَ جَانِبٌ مِنَ الْأَرْضِ فِيهِ مُسْتَرَادٌ وَمَذْهَبٌ“، لیکن میں ایک شخص ہوں میرے لیے زمین کی ایک جانب ہے ایسی جانب ہے فیہ ای فی ذلک الجانب اس جانب کے اندر میرے لیے کیا ہے؟ ”مُسْتَرَادٌ“ بھئی رزق طلب کرنے کی جگہ ہے، یعنی اس طرف میں رزق طلب کرنے کے لیے جاتا ہوں، ”أَيْ مَوْضِعُ طَلَبِ الرِّزْقِ، مِنْ رَادَ الْكَلَأَ“، رَادَ الْكَلَأَ جانور کا گھاس کو تلاش کرنا بھئی، جانور کا گھاس تلاش کرنا، تو یہ مستراد اس کے اندر مادہ کیا ہے مولانا؟ رَادَ يَرُودُ ہے بھئی۔ ”وَمَذْهَبٌ أَيْ مَوْضِعُ الذَّهَابِ لِلْحَاجَاتِ“، تو ان میں میرے رزق تلاش کرنے کی جگہ ہے، وہاں ہمارے رزق تلاش کرنے کے لیے جاتا ہوں، ”وَمَذْهَبٌ“ اور ضرورت کے لیے میرے جانے کی جگہ ہے، ”مُلُوكٌ“ اس طرف ملوک ہیں ”أَيْ فِي ذَلِكَ الْجَانِبِ مُلُوكٌ وَإِخْوَانٌ“، اس طرف میرے کچھ اس طرف کچھ بادشاہ ہیں اور بھئی ہیں، ”إِذَا مَا مَدَحْتُهُمْ أُحَكَّمُ فِي أَمْوَالِهِمْ“ جب میں ان کی مدح کرتا ہوں میں حاکم بنایا جاتا ہوں ان کے مالوں میں، یعنی مجھے حاکم بنا دیتے ہیں، ”أَيْ أَتَصَرَّفُ فِيهَا كَيْفَ شِئْتُ“ میں تصرف کرتا ہوں جیسا بھی اس میں چاہتا ہوں، جتنا چاہتا ہوں لے لیتا ہوں، ”وَأُقَرَّبُ“ اور مجھے کیا کیا جاتا ہے؟ قریب کیا جاتا ہے یعنی عزت دی جاتی ہے عندہم ان کے نزدیک، ”وَأُصَيَّرُ رَفِيعَ الْمَرْتَبَةِ“ اور کیا کیا جاتا ہوں؟ بلند مرتبے والا بنایا جاتا ہوں، ”كَفِعْلِكَ“ جیسے کہ تو کرتا ہے ”كَمَا تَفْعَلُ أَنْتَ فِي قَوْمٍ أَرَاكَ اصْطَنَعْتَهُمْ“ کہ میں دیکھتا ہوں تجھے تو نے ان کے ساتھ احسان کیا ہے، ”اصْطَنَعْتَهُمْ أَيْ أَحْسَنْتَ إِلَيْهِمْ“، جیسے کہ میں دیکھتا ہوں تجھے اراک میں تجھے دیکھتا ہوں اصطنعتہم تو نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے؟ احسان کیا ہے۔ ”فَلَمْ تَرَهُمْ فِي مَدْحِهِمْ لَكَ أَذْنَبُوا“، ”فَلَمْ تَرَ“ پس تو نہیں دیکھتا ”هُمْ“ ان کو ”فِي مَدْحِهِمْ لَكَ“ کہ وہ جو تیری مدح کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟ پس وہ جو تیری مدح کرتے ہیں تو نہیں دیکھتا ان میں ”أَذْنَبُوا“ کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟ گناہ کیا ہے۔ وہ تیری مدح کرتے ہیں، کیا تو اس کو گناہ سمجھتا ہے؟ تو یقیناً اس کو گناہ نہیں سمجھتا، تو کیونکہ تو نے ان کے ساتھ احسان کیا ہے تو وہ بھی تیری مدح کرتے ہیں اور ان کی مدح کو تو کوئی گناہ نہیں سمجھتا، تو میری ان کی مدح کرنا بھی گناہ نہیں۔ ”أَيْ لَا تُعَاتِبْنِي عَلَى مَدْحِ آلِ جَفْنَةَ“ اے بادشاہ مجھے آلِ جفنہ کی مدح پر کیا نہ کر؟ مجھ سے ناراض نہ ہو بھئی یا ملامت نہ کر یا مجھ سے ناراض نہ ہو، ”الْمُحْسِنِينَ إِلَيَّ“ وہ آلِ جفنہ جو احسان کرنے والے ہیں میرے ساتھ، ”الْمُنْعِمِينَ عَلَيَّ“ مجھے نعمتیں دینے والے ہیں، ”كَمَا لَا تُعَاتِبُ قَوْمًا أَحْسَنْتَ إِلَيْهِمْ فَمَدَحُوكَ“ جیسے کہ تو عتاب ناراضگی نہیں کرتا ایسی قوم پر جن کے ساتھ تو نے احسان کیا ہے تو وہ تیری مدح کرتے ہیں، وہ تیری کیا کرتے ہیں؟ مدح۔ ”وَهَذِهِ الْحُجَّةُ عَلَى طَرِيقِ التَّمْثِيلِ“، اور یہ دلیل جو ہے مولانا تمثیل کے طریقے پر ہے بھئی، کس طریقے پر؟ تمثیل کہتے ہیں مولانا ایک جزئی سے دوسری جزئی پر استدلال کرنا بھئی۔ ایک جزئی سے کیا کرنا؟ دوسری جزئی پر استدلال کرنا۔ ایک ہوتا ہے قاعدہ کلیہ سے جزئی پر استدلال کرنا مولانا، وہ برہان میں ہو گا، اور ایک ایک جزئی سے دوسری جزئی پر استدلال کرنا یہ تمثیل کے اندر ہو گا، ”الَّذِي تُسَمِّيهِ الْفُقَهَاءُ قِيَاسًا“ جس کو فقہاء کیا کہتے ہیں؟ قیاس کہتے ہیں۔ بھئی فقہ میں عموماً آپ یہی دیکھتے ہیں مولانا ایک جزئی سے دوسری جزئی کا حکم معلوم کیا جاتا ہے، مثلاً ہیروئن کا حکم معلوم کرنا ہے آپ کس پر قیاس کریں گے اس کو؟ شراب پر، تو شراب بھی ایک جزئی، ہیروئن بھی ایک جزئی، تو ایک جزئی کے ذریعے کیا کیا دوسری جزئی کا حکم؟ ”وَيُمْكِنُ رَدُّهُ إِلَى صُورَةِ قِيَاسٍ اسْتِثْنَائِيٍّ“، یہی بات ذکر کر رہے ہیں علامہ تفتازانی بھئی کہ بالفعل دیکھو موجود نہیں ہے صغریٰ، کبریٰ اور نتیجہ اشعار میں موجود نہیں لیکن بالقوۃ موجود ہے، آپ اس کو اب لوٹا سکتے ہیں خود دلیل بنا سکتے ہیں دیکھو، دلیل یہ بنے گی قیاسِ استثنائی کی: ”أَيْ لَوْ كَانَ مَدْحِي لِآلِ جَفْنَةَ ذَنْبًا لَكَانَ مَدْحُ ذَلِكَ الْقَوْمِ لَكَ أَيْضًا ذَنْبًا“ اگر میرا آلِ جفنہ کی تعریف کرنا گناہ ہے لکان مدح ذلک القوم لک ایضا ذنبا تو اس قوم کا آپ کی مدح کرنا یہ بھی کیا ہے؟ گناہ ہے، ”وَاللَّازِمُ بَاطِلٌ“ اور لازم تو باطل ہے یعنی اس قوم کا آپ کی مدح کرنا گناہ ہو یہ تو کیا ہے؟ باطل ہے، ”فَكَذَا الْمَلْزُومُ“ تو ملزوم یعنی میرا آلِ جفنہ کی مدح کرنا بھی اس کا گناہ ہونا بھی باطل ہے۔ بس مولانا، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
109 approved lectures · 114 of 109