کل کے سبق میں مولانا آپ نے پڑھا تھا کہ مسند الیہ کو کیا کیا جاتا ہے؟ کبھی علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے تاکہ حاضر کیا جائے اس کو بعینہٖ ای بشخصہٖ اور سامع کے ذہن میں اور ابتداءً اور باسم مختص بہٖ بھئی۔ ابتداءً حاضر کرنا چاہتے ہیں، بشخصہٖ حاضر کرنا چاہتے ہیں اور اسم مختص کے ساتھ حاضر کرنا چاہتے ہیں تو پھر تعبیر کس سے کی جائے گی؟ علم کے ساتھ اس کو ذکر کیا جائے گا بھئی۔
اور پھر علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا بھئی کہ باسم مختص بہٖ کی جب قید لگائی تو ضمیر متکلم، مخاطب، اسم اشارہ، اسم موصول، معرف باللام العہد اور معرف بالاضافہ یہ سارے کیا ہوئے؟ خارج ہوئے کیونکہ یہ اسم مختص نہیں ہیں۔
اور بعض شارحین نے اور تقریر کی تھی، وہ فرماتے تھے کہ یہ چیزیں جو ہیں باسم مختص بہٖ کی قید سے خارج نہیں ہوئیں بلکہ ابتداءً کی قید سے خارج ہوئیں، اس لیے کہ ضمیر غائب جو ہے اس کے اندر مرجع کا پہلے ذکر ہونا ضروری تو ابتداءً نہیں ہو سکتا بھئی، اور معرف باللام العہد کے اندر بھی پہلے ذکر ہونا اور تعین ہونا ضروری ہے تو لہٰذا وہاں بھی ابتداءً تعبیر نہیں ہو سکتی، اور اسم موصول کے اندر بھی صلے کا پہلے سے علم ہونا ضروری تو وہاں بھی علم پہلے ہونا چاہیے، ابتداءً بھئی اسم موصول کے ساتھ تعبیر نہیں ہونی چاہیے بھئی۔
علامہ تفتازانی نے اس تقریر کو رد کیا تھا کہ نہیں بھئی، یہ ابتداءً کی قید سے خارج نہیں ہوئیں، ابتداءً کی قید سے صرف ضمیر غائب خارج ہوئی ہے اور باقی ساری چیزیں کس سے خارج ہوئی ہیں؟ باسم مختص بہٖ کی قید سے بھئی۔ اس لیے کہتے ہیں اگر کچھ جاننا ضروری ہے ان چیزوں میں پہلے سے تو پھر تو یہ علم کے اندر بھی ہے، علم کے اندر بھی کم از کم آپ کو وضع کا پتہ ہونا چاہیے کہ یہ علم فلاں ذات کے لیے وضع ہے، پھر ہی علم اس پر دلالت کرے گا ورنہ تو ویسے دلالت ہی نہیں کرے گا۔
اور پھر اس کی مثال ذکر کی تھی جیسے مولانا {قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ} بھئی، میں نے بتلایا تھا ھو ضمیر شان ہے، مبتدائے اول ہے، اور {اللّٰهُ أَحَدٌ} بھئی یہ پورا جملہ جو ہے اس کی خبر ہے اور اس میں پھر لفظ اللہ مبتدا ہے اور احد اس کی خبر ہے، مبتدا خبر مل کر پھر یہ خبر ہے کس کے لیے؟ ھو کے لیے، تو یہاں مبتدائے ثانی لفظ اللہ علم کی صورت میں ذکر کیا گیا، کس لیے؟ کیا مقصد ہے؟ تاکہ مسند الیہ کو حاضر کیا جائے بشخصہٖ، ابتداءً اور باسم مختص بہٖ بھئی۔
اور پھر لفظ اللہ کی تحقیق کی تھی علامہ تفتازانی نے اور بتلایا تھا کہ یہ اصل میں کیا تھا؟ الہ بھئی، الہ تھا پھر اس پر الف لام آیا تو الالہ ہوا، پھر مولانا کیا کیا گیا؟ ہمزہ کو گرا دیا گیا۔ الالہ درمیان والے ہمزہ کو گراؤ ذرا، اللہ رہ جائے گا بھئی، کیا رہ جائے گا؟ اللہ۔ تو وہ حرف تعریف جو الف لام تھا اس کو عوض بنا دیا گیا کس کا؟ ہمزہ کا بھئی۔
اس پر اشکال ہوا تھا تعویض آپ نے کہا، تعویض کا معنی ہے عوض میں لانا، اور لانا تب ہوگا جب کوئی چیز پہلے موجود نہ ہو اور یہاں تو الف لام پہلے سے ہی موجود ہے تو یہ تو تحصیل حاصل ہے۔ دوسرا اعتراض یہ کہ الالہ میں الف لام بھی موجود ہے اور ہمزہ بھی موجود ہے تو یہاں تو اجتماع لازم آیا کس کے درمیان بھئی؟ عوض اور معوض کے درمیان، اور عوض اور معوض کے درمیان اجتماع جائز نہیں ہے بھئی، یا عوض آ سکتا ہے یا معوض آ سکتا ہے۔ تو میں نے اس کا جواب آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ عوض میں لانے کا کیا معنی ہے بھئی؟ ارادہ کر لیا۔ جب ہمزہ کو گرا دیا تو پھر الف لام کو اس کا کیا بنا دیا؟ عوض بنا دیا، اس کا عوض بنانے کا ارادہ کر لیا۔ تو اب دونوں اعتراضات ختم ہوئے بھئی، پہلے ارادہ نہیں تھا بعد میں ارادہ کیا گیا، جب ہمزہ کو گرا دیا تو عوض اور معوض کا جمع ہونا بھی لازم نہ آیا بھئی۔
اور پھر علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا کہ پھر یہ اللہ جب بن گیا پھر اس کو کیا بنا دیا گیا؟ علم بنا دیا گیا بھئی اس ذات کے لیے جو واجب الوجود ہے، واجب الوجود وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہو، جو کسی کے محتاج نہ ہو، باقی تمام اس کے محتاج ہوں، اور جو مسبوق بالعدم نہ ہو، اس پر کبھی عدم نہ آیا ہو بھئی۔
تو یہ علم ہوا، جزئی ہوا، جبکہ بعضوں نے اس کا اور معنی بیان کیا تھا اور وہ کہتے تھے یہ اسم ہے مفہوم کلی کا بھئی، کس کا؟ مفہوم کلی کا اسم ہے اور وہ کیا؟ کہ وہ جو واجب لذاتہٖ ہو بھئی، واجب لذاتہٖ یا وہ جو مستحق للعبودیت ہو مولانا، یہ اس کے لیے اسم ہے بھئی۔ اور علامہ تفتازانی نے اس کو رد کیا تھا کہ بھئی یہ تو ایک مفہوم کلی ہے، وہ چیز جو واجب لذاتہٖ ہو، اور کلی من حیث الکلی کثرت کا احتمال رکھتی ہے، اگرچہ وہ الگ بات ہے کہ خارج میں اس کا فرد ایک ہی ہے لیکن خارج سے قطع نظر مولانا ہے تو کلی، اور کلی کس چیز کا احتمال رکھتی ہے؟ کثرت کا۔ حالانکہ کہتے ہیں تمام علماء کا اجماع ہے اس بات پر کہ کلمۂ توحید {لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ} جو ہے توحید کا فائدہ دیتا ہے، وہاں ہر لحاظ سے توحید ہی توحید ہے، کسی لحاظ سے بھی وہاں شرکت کا امکان، توحید کے منافی کوئی چیز نہیں، اور اگر اس کو کلی بنائیں تو یہ توحید پوری طرح حاصل نہیں ہوتی اس سے بھئی، کیونکہ کلی بن جائے گا اور کلی کے اندر شرکت ہوتی ہے بھئی، کثرت کا احتمال ہوتا ہے۔
یا بتلایا تھا کہ مسند الیہ کو علم کی صورت میں کبھی لایا جائے گا تعظیم کے لیے جبکہ اس لقب، کنیت یا اسم میں کیا پایا جائے؟ عظمت والا معنی پایا جائے تو۔
یا اہانت کے لیے، جبکہ اس علم کے اندر یا اس لقب کے اندر یا اس کنیت وغیرہ کے اندر کس چیز کا معنی پایا جائے؟ اہانت والا معنی پایا جائے، أَوْ كِنَايَةً مولانا، یا کبھی مسند الیہ کو علم کی صورت میں لایا جائے گا کس لیے؟ کنایہ کرنے کے لیے، کس لیے؟ کنایہ کرنے کے لیے ایسے معنی سے جس کی وہ علم صلاحیت رکھتا ہو۔
اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی جیسے کنایہ پہلے آپ کو بتلایا تھا، کنایہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا، جیسے آپ کہتے ہیں: ”فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ“، فلاں لمبی حمائل والا ہے، اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ قد کا لمبا ہونا بھئی، قد کا لمبا ہونا۔ تو کنایۃً اس کے قد کے لمبا ہونے کو آپ نے ذکر کیا بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا کنایہ کے اندر معنی حقیقی مراد لینا بھی صحیح۔ اب ارادہ کس کا ہے؟ میں نے جب کہا ”فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ“ میں کیا کہنا چاہتا ہوں دراصل؟ کہ فلاں لمبے قد والا ہے، لیکن میں نے صراحتاً کہا یا کنایۃً کہا بھئی؟ کنایۃً، کیونکہ حمائل لمبی ہوگی تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ اس کا قد بھی کیا ہوگا؟ لمبا ہوگا بھئی۔ ہاں معنی حقیقی کا ارادہ بھی صحیح ہے کہ لمبی حمائل والا ہے، معنی حقیقی کا ارادہ بھی صحیح ہو سکتا ہے وہاں، صحیح ہے۔
تو علم کے ذریعے کنایہ کیا جائے گا جیسے کہا جائے: ”أَبُو لَهَبٍ فَعَلَ كَذَا“، ابو لہب نے ایسا کیا۔ اب ابو لہب کے اندر دو وضعیں ہیں، ایک وضع اول ہے ایک وضع ثانی۔ وضع اول کیا ہے؟ کہ یہ مضاف مضاف الیہ ہے مولانا، اور اس کا کیا معنی ہے ابو لہب کا معنی؟ شعلوں والا، شعلوں کے ساتھ رہنے والا، اور اس کے ساتھ لازم ہے جہنمی ہونا، اس کے ساتھ کیا ہے؟ جو شخص شعلوں کے ساتھ رہتا ہے، شعلے اس کے ساتھ رہتے ہیں تو وہ کیا ہے؟ جہنمی ہے، تو شعلوں والے کے ساتھ جہنمی ہونا لازم ہے بھئی۔
تو اس میں کنایہ کیا مولانا، کنایہ کیا کس چیز کا؟ جہنمی ہونے کا۔ ”أَبُو لَهَبٍ فَعَلَ كَذَا“ کیا معنی؟ یعنی جہنمی نے ایسا کیا، اور یہ کنایہ کس معنی کے اعتبار سے ہے؟ وضع اول کے اعتبار سے ہے یا وضع ثانی کے اعتبار سے ہے؟ وضع اول کے اعتبار سے ہے بھئی۔ تو انتقال ہوا مولانا ملزوم سے کس کی طرف؟ لازم کی طرف، شعلوں والے سے انتقال ہوا جہنمی ہونے کی طرف، وضع اول کے اعتبار سے۔
وَهٰذَا الْقَدْرُ كَافٍ فِي الْكِنَايَةِ، اور یہ مقدار کافی ہے کنایہ کے اندر بھئی۔ یہ علامہ تفتازانی دراصل یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ بھئی کنایہ کی تعریف تو یہ کی جاتی ہے کہ معنی مستعمل سے انتقال کیا جائے کس کی طرف؟ معنی لازم کی طرف، اور ابو لہب کے لیے معنی مستعمل تو وضع ثانی کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ علم ہے، کیا ہے؟ علم ہے۔ تو معنی مستعمل کے اعتبار سے تو یہ ذات پر دلالت کر رہا ہے معین ذات پر، علم ہے بھئی۔ لیکن کہتے ہیں یہ کنائے میں معنی مستعمل سے انتقال ہوتا ہے لازم کی طرف کب؟ جبکہ کنائے کا ارادہ بھی اسی معنی مستعمل کے اعتبار سے کیا جائے، اور ہم نے کنائے کا اعتبار معنی مستعمل کے اعتبار سے نہیں کیا بلکہ کس اعتبار سے کیا ہے؟ معنی اول اور معنی اصلی کے اعتبار سے ہم کنایہ کر رہے ہیں، معنی مستعمل کے اعتبار سے کنایہ نہیں کر رہے بھئی۔
وَقِيلَ فِي هٰذَا الْمَقَامِ إِنَّ الْكِنَايَةَ كَمَا يُقَالُ جَاءَ حَاتِمٌ وَيُرَادُ مِنْهُ لَازِمُهُ أَيْ جَوَادٌ لَا الشَّخْصُ الْمُسَمَّى بِحَاتِمٍ وَيُقَالُ رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ أَيْ جَهَنَّمِيًّا۔ بعض شارحین نے اور تقریر کی اس مقام کی بھئی، انہوں نے بتلایا کنایہ ابو لہب میں کس طرح ہے بھئی؟ کہ وضع اول کے اعتبار سے کنایہ ہے بھئی، معنی ثانی کے اعتبار سے کنایہ نہیں ہے۔ تو جب معنی اول کے اعتبار سے کنایہ ہوا تو وہی شخص مراد ہوا۔ ابو لہب بھئی کیا ہے؟ علم ہے، اس کو استعمال کیا آپ نے، آپ نے کیا کہا: ”أَبُو لَهَبٍ فَعَلَ كَذَا“، تو آپ نے اس کو اسی معین شخص کے لیے استعمال کیا لیکن کنایہ کیا اس کے معنی اصلی کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ معنی اصلی کے اعتبار سے، اور استعمال کیا کس اعتبار سے؟ اسی معین شخص کے لیے۔ تو یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ اسی معین شخص پر دلالت کر رہا ہے یا غیر پر دلالت کر رہا ہے؟ اسی معین شخص پر دلالت کر رہا ہے۔
اب بعضوں نے اور تقریر کی بھئی، اس صورت میں معین شخص پر یہ دلالت نہیں کرے گا بلکہ کس پر کرے گا؟ دوسرے پر، غیر پر دلالت کرے گا بھئی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر کنایہ اس طرح ہے جیسے کہا جائے: ”جَاءَ حَاتِمٌ“، حاتم آیا۔ کوئی سخی شخص آتا ہے آپ کے پاس تو آپ کہتے ہیں: ”جَاءَ حَاتِمٌ“، کون آ گیا؟ حاتم آ گیا۔ تو حاتم تو اصل وضع میں ایک معین شخص کا نام تھا قبیلۂ طے کے بھئی، اور وہ موصوف تھا سخاوت کے ساتھ، موصوف تھا کس چیز کے ساتھ؟ سخاوت کے ساتھ، تو سخاوت اس کے ساتھ لازم تھی، اور یہاں پر آپ نے لفظ حاتم بولا...
اور اس لازم کا ارادہ کیا، کس چیز کا؟ لازم کا، تو کیا معنی کیا؟ شخص سخی آیا ہے، ”جَاءَ حَاتِمٌ“ کا کیا معنی ہے؟ سخی آدمی آیا ہے۔ تو اب آپ نے وہ معنی جو لازم تھا اس ذات کے ساتھ اس کا ارادہ کیا۔ اور ابتداءً اب یہاں پر حاتم اپنے معنی موضوع لہٗ میں استعمال نہیں ہو رہا بھئی، اس معین شخص کے لیے استعمال نہیں ہو رہا، اس لیے کہ آپ نے کہا ”جَاءَ حَاتِمٌ“، حاتم آ گیا، اور وہ معین شخص تو مر چکا ہے اب اس کا آنا ممکن ہے؟ اب تو اس کا آنا ممکن ہی نہیں، تو آپ نے استعمال ہی اس کو ابتداءً ہی کس معنی کے لیے کر لیا؟ غیر کے لیے بھئی، تو ابتداءً لازم کے معنی میں اس کو استعمال کر لیا۔ جبکہ وہاں پر ابو لہب کو جو آپ نے استعمال کیا تھا کس معنی کے لیے کیا تھا؟ اسی شخص معین کے لیے کیا کیا تھا؟ استعمال کیا تھا اور کنایہ کیا تھا، کنایہ کس اعتبار سے کیا تھا؟ معنی اصلی کے اعتبار سے کنایہ کیا تھا اور اس لفظ کو استعمال کیا تھا اسی معین شخص کے لیے، جبکہ یہاں پر اسی معین شخص کے لیے استعمال ہی نہیں کر رہے اس لیے کہ آپ نے کہا ”جَاءَ حَاتِمٌ“ اور وہ تو مر چکا ہے تو وہ معین شخص یہاں پر مراد نہیں ہو سکتا، تو یہاں ابتداءً ہی آپ اس معنی لازم کے اندر آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس کو استعمال کر رہے ہیں۔
وَقِيلَ فِي هٰذَا الْمَقَامِ، اور کہا گیا اس مقام کے اندر، إِنَّ الْكِنَايَةَ کہ کنایہ جو ہے، كَمَا يُقَالُ جَاءَ حَاتِمٌ جیسے کہ کہا جائے حاتم آ گیا، وَيُرَادُ مِنْهُ لَازِمُهُ اور ارادہ کیا جائے اس سے اس کے لازم کا، أَيْ جَوَادٌ یعنی سخی آیا ہے، لَا الشَّخْصُ الْمُسَمَّى بِحَاتِمٍ نہ وہ شخص جو حاتم کے نام سے موسوم ہے وہ مراد بھئی، وَيُقَالُ رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ، اور آپ کسی کافر کو دیکھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں: ”رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ“، میں نے کس کو دیکھا؟ ابو لہب کو دیکھا، اور ابو لہب جو ہے ایک معین شخص کا نام تھا اور وہ کافر تھا تو لہٰذا اس کے ساتھ لازم کیا ہوا؟ جہنمی ہونا، وہ کافر تھا تو اس کے ساتھ کیا لازم ہوا؟ جہنمی ہونا۔ تو اب یہاں پر جب آپ نے کہا: ”رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ“ اور مراد کون ہے؟ ایک کافر، تو یہاں آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس کو جہنمی کے معنی میں استعمال کر رہے ہیں، کس معنی میں؟ کیونکہ اس وقت آپ کا ابو لہب کو دیکھنا ممکن ہے؟ تو وہ شخص معین یہاں مراد ہی نہیں ہے بھئی کہ انتقال ہو اس سے اس کے لازم کی طرف، بلکہ یہاں پر ابتداءً ہی آپ نے لفظ کو کس معنی میں استعمال کر لیا؟ اس ذات کے ساتھ جو چیز لازم تھی اور وہ کیا تھا؟ جہنمی ہونا، تو جہنمی ہونے کے معنی میں استعمال کیا ایک عام کافر کے لیے آپ نے اس لفظ کو۔
تو یہ کنایہ ہے، یہ کیا ہے؟ کوئی اور شارح تقریر کر رہے ہیں بھئی، تو کنائے کا یہ معنی بیان کیا کہ ملزوم بولا، وہ ذات بولی اور ارادہ کس کا کیا؟ اس کے لازم کا، جیسے حاتم کے ساتھ لازم کیا تھی؟ سخاوت بھئی، سخی ہونا، اور جیسے ابو لہب کے ساتھ لازم کیا تھا اس کی ذات کے ساتھ؟ جہنمی ہونا، تو آپ نے اس کو لازم کے معنی میں استعمال کر لیا اور یہ کنایہ ہے، یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے۔
وَفِيهِ نَظَرٌ، علامہ تفتازانی رد کر رہے ہیں کہ آپ کے اس قول میں اشکال ہے، لِأَنَّهُ تین طرق سے رد کریں گے مولانا: ایک ”لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ“، ایک یہ وجہ، آگے سطر کے آخر میں آ رہا ہے ”وَلَوْ كَانَ الْمُرَادُ“، یہ دوسری وجہ ہے جس سے رد کریں گے، اس سے ایک ڈیڑھ سطر نیچے آخر میں آ رہا ہے ”وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى فَسَادِ ذٰلِكَ“، یہ تیسری وجہ ہے، تو تین طرق سے رد کریں گے مولانا اس صاحبِ قیل کے قول کو بھئی۔
انہوں نے کیا کہا کہ کنایہ کس اعتبار سے ہے؟ اس ذات کے ساتھ جو لازم معنی تھا اس میں استعمال کر لیا، حاتم کے ساتھ لازم کیا تھا؟ سخی ہونا، اور ابو لہب کے ساتھ لازم کیا تھا؟ جہنمی ہونا، تو لازم کے معنی میں استعمال کر لیا حاتم کو یہ کنایہ ہے، ابو لہب کو معنی لازم میں استعمال کر لیا یعنی جہنمی کے اندر یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں نہیں بھئی، آپ کے قول میں اشکال ہے، ”لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ يَكُونُ اسْتِعَارَةً لَا كِنَايَةً“، کیونکہ اس صورت میں تو یہ کیا بن جائے گا؟ استعارہ بن جائے گا، کنایہ رہے گا ہی نہیں مولانا۔ اس لیے کہ آپ لفظ کو معنی موضوع لہٗ میں استعمال کر رہے ہیں یا غیر موضوع لہٗ کے اندر بھئی؟ آپ لفظ کو استعمال کر رہے ہیں غیر موضوع لہٗ کے اندر بھئی، موضوع تو یہ کس کے لیے تھا؟ اس خاص معین شخص کے لیے، لیکن آپ کس معنی میں استعمال کر رہے ہیں اس کو؟ حاتم استعمال کیا ”جَاءَ حَاتِمٌ“ اور ارادہ کس چیز کا ہے؟ سخی شخص کا، تو آپ اس کے معنی موضوع لہٗ میں استعمال کر رہے ہیں یا غیر موضوع لہٗ کے اندر؟ آپ اس کو معنی غیر موضوع لہٗ کے اندر استعمال کر رہے ہیں اور علاقہ ہے تشبیہ کا، علاقہ کون سا ہے؟ تشبیہ کا۔ آپ آگے پڑھیں گے جا کر مولانا، مجاز دو قسم پر ہے: ایک استعارہ ہے...
ایک مجازِ مرسل ہے بھئی۔ مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو معنی غیر موضوع لہٗ میں استعمال کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز کہلاتا ہے، اور پھر مولانا آپ نے لفظ تو وضع تھا موضوع لہٗ کے لیے اور استعمال کس میں کر رہے ہیں؟ غیر موضوع لہٗ میں۔ ان دونوں میں ضرور کوئی نہ کوئی ربط ہوگا، اتصال ہوگا، بغیر ربط کے استعمال نہیں ہوتا لفظ، جب بھی استعمال ہوگا غیر موضوع لہٗ میں تو اس کا یقیناً موضوع لہٗ سے کوئی تعلق ہوگا، کوئی ربط ہوگا۔ تو اب اگر ان دونوں میں ربط، اتصال اور علاقہ تشبیہ کا ہو تو یہ استعارہ کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ کہلاتا ہے، اور اگر علاقہ، نسبت اور اتصال تشبیہ کی نہ ہو تو پھر یہ مجازِ مرسل کہلاتا ہے بھئی، کیا کہلاتا ہے؟ مجازِ مرسل کہلاتا ہے۔
مثلاً آپ کہتے ہیں: ”رَأَيْتُ أَسَدًا“، میں نے کس کو دیکھا؟ شیر کو دیکھا۔ اب شیر کا معنی موضوع لہٗ کیا ہے؟ اسد کا معنی موضوع لہٗ کیا ہے؟ شیر، وہ حیوانِ مفترس ہے، لیکن آپ اس کو کس کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ رجلِ شجاع کے لیے، تو یہ معنی موضوع لہٗ ہے یا غیر موضوع لہٗ؟ تو یہ مجاز ہے، یہ کیا ہے؟ اب مجاز کے اندر جو استعمال ہوا غیر موضوع لہٗ میں تو اس موضوع لہٗ اور غیر موضوع لہٗ میں ضرور اتصال ہوگا، اگر یہ اتصال اور تعلق کون سا ہو؟ تشبیہ کا ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ، تو یہاں بھی علاقہ تشبیہ کا ہے کہ آپ اس شخص کو تشبیہ دے رہے ہیں کس کے ساتھ؟ شیر کے ساتھ کہ یہ شخص شیر جیسا ہے کس چیز کے اندر؟ بہادری میں۔ سمجھ میں آیا؟
اور کبھی علاقہ تشبیہ والا نہیں ہوتا، جیسے مولانا کل اور جز، کل بول کر جز مراد لینا، جز بول کر کل مراد لینا، ظرف بول کر مظروف مراد لینا، مظروف بول کر ظرف مراد لینا، علت بول کر معلول مراد لینا، معلول بول کر علت مراد لینا، سبب بول کر مسبب مراد لینا اور مسبب بول کر سبب مراد لینا، تو یہ پچیس علاقے بن جاتے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ یہ آپ بھی استعمال کرتے ہیں بھئی، جیسے قرآن میں آتا ہے: {يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ}، وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالتے ہیں، بھئی کان کے اندر پوری انگلی ڈالی جا سکتی ہے؟ لیکن یہاں انگلی کا ذکر آیا اور مراد پورے ہیں اگلے مولانا، تو دیکھو کل بول کر کیا مراد ہوا؟ جز مراد ہوا۔ یا آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں، آپ کا ساتھی آپ کو کہتا ہے کہ پانی پی لیجیے، آپ کہتے ہیں میں نے ایک گلاس پی لیا ہے، میں نے ایک گلاس پی لیا ہے۔ بھئی آپ نے گلاس پیا ہے؟ گلاس تو سٹیل کا ہے یا مولانا شیشے کا ہے، آپ نے تو پانی پیا ہے، کیا پیا ہے؟ لیکن آپ کہتے یہ ہیں میں نے ایک گلاس پی لیا ہے، کیونکہ گلاس اس کے لیے ظرف ہے تو یہاں ظرف بول کر کیا مراد ہے؟ مظروف مراد ہے، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھا یہ علاقہ کون سا ہے؟ غیر تشبیہ کا ہے، ظرف مظروف ظرفیت والا علاقہ ہے۔
تو مولانا کہتے ہیں دیکھا اس صورت میں جب آپ نے حاتم کہا اور بھئی حاتم سے کیا مراد ہے آپ کی؟ شخصِ سخی بھئی، تو یہ آپ نے اس کو معنی موضوع لہٗ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہٗ میں؟ غیر موضوع لہٗ میں، اور علاقہ کون سا ہے ان کے درمیان میں؟ تشبیہ والا ہے کہ یہ شخص بھی کیا ہے؟ حاتم کی طرح سخی ہے، یہ شخص بھی حاتم کی طرح ہے سخاوت میں۔ تو علاقہ تشبیہ کا ہوا تو پھر تو یہ استعارہ بن گیا، کیا بن گیا؟ استعارہ بن گیا بھئی، تو آپ لفظِ غیر موضوع لہٗ کے اندر کیا کر رہے ہیں لفظ کو؟ استعمال کر رہے ہیں، استعمال کر رہے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جبکہ وہاں پر جو ابو لہب ذکر ہوا تھا اس سے وہی موضوع لہٗ معنی مراد تھا، وہی شخصِ معین مراد تھا، جبکہ یہاں پر وہ شخصِ معین مراد نہیں ہے۔
”لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ يَكُونُ اسْتِعَارَةً لَا كِنَايَةً“، کیونکہ اس صورت میں استعارہ ہوگا نہ کہ کنایہ، جیسے کہ آ جائے گا بھئی مولانا کنایہ علمِ بیان کے اندر آئے گا بھئی۔
”وَلَوْ كَانَ“ دوسرا اشکال بھئی، دوسرا طریقہ رد کا: ”وَلَوْ كَانَ الْمُرَادُ مَا ذَكَرَهُ لَكَانَ قَوْلُنَا فَعَلَ كَذَا هٰذَا الرَّجُلُ مُشِيرًا إِلَى الْكَافِرِ وَقَوْلُنَا أَبُو جَهْلٍ فَعَلَ كَذَا كِنَايَةً عَنِ الْجَهَنَّمِيِّ“، تو ہمارا اس صورت میں ہمارا یہ کہنا ”فَعَلَ كَذَا هٰذَا الرَّجُلُ“ یہ کنایہ بن جائے گا جبکہ اشارہ آپ کس کی طرف کر رہے ہیں؟ کافر کی طرف۔
علامہ تفتازانی نے دیکھو جو پہلے تقریر کی تھی کنایہ کی، اس کے مطابق اس سے وہی معین شخص مراد تھا یا دوسرا کوئی اور مراد ہے ابو لہب سے؟ وہی شخص مراد ہے۔ جبکہ یہ صاحبِ قیل جو تقریر کر رہے ہیں اس صورت میں وہی شخص مراد نہیں ہے وہ جو معین ذات بلکہ غیر مراد ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں تو ہمارا یہ کہنا بھی کنایہ ہے: ”فَعَلَ كَذَا هٰذَا الرَّجُلُ“۔ بھئی ایک کافر نے کام کیا ہے، ایک کافر نے، اور وہ کافر ہے تو وہ جہنمی ہے، وہ کیا ہے؟ جہنمی ہے۔ اب آپ بتلانا چاہتے ہیں اپنے ساتھی کو کہ جہنمی نے یہ کام کیا ہے، کیا کہنا چاہتے ہیں؟ اب آپ کے سامنے ایک اور کافر کھڑا ہے، اس نے وہ کام نہیں کیا جو کافر کھڑا ہے آپ کے سامنے، کام کسی اور کافر نے کیا ہے اور وہ کافر ہے تو کیا ہوا وہ؟ جہنمی، اور یہ بھی کافر ہے تو یہ کیا ہوا؟ جہنمی۔ اب آپ اپنے ساتھی کو بتاتے ہیں: ”فَعَلَ كَذَا هٰذَا الرَّجُلُ“، ایسا کیا ہے اس آدمی نے، اس کافر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اور یہ فعل اس نے کیا ہے یا اس نے کیا ہے؟ اس نے، لیکن آپ مولانا ”هٰذَا الرَّجُلُ“ کہہ رہے ہیں...
اور اس ”هٰذَا الرَّجُلُ“ سے آپ اس کے لازم کا ارادہ کر رہے ہیں، کیونکہ اس ”هٰذَا الرَّجُلُ“ کے ساتھ لازم کیا ہے اس ذات کے ساتھ؟ جہنمی ہونا، تو کہنا یہ چاہتے ہیں ”فَعَلَ كَذَا جَهَنَّمِيًّا“، کس نے یہ کام کیا ہے؟ ”فَعَلَ كَذَا جَهَنَّمِيٌّ“، کس نے کیا ہے ایسا کام؟ جہنمی نے کیا ہے۔ تو اس کو بھی کنایہ کہنا لازم آئے گا، کیا لازم آئے گا؟ کنایہ کہنا لازم آئے گا، حالانکہ کسی نے بھی اس کو کنایہ قرار نہیں دیا۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ فعل کس نے کیا تھا؟ کسی اور کافر نے، اور وہ کون ہے؟ جہنمی، اب اشارہ کسی اور شخص کی طرف کر رہے ہیں اور وہ بھی کیا ہے؟ کافر، تو ”هٰذَا الرَّجُلُ“ کہا، اشارہ کیا ایک معین کافر کی طرف، اور یہ چونکہ ہے کافر اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ جہنمی ہونا، تو آپ کہنا یہ چاہتے ہیں یہ فعل جہنمی نے کیا ہے یعنی اشارہ ہے اس شخص کی طرف، تو اس کو بھی کنایہ کہنا لازم آئے گا حالانکہ کسی نے بھی اس کو کنایہ قرار نہیں دیا۔
یا اسی طرح ”لَكَانَ فَعَلَ كَذَا هٰذَا الرَّجُلُ“ کافر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اور ہمارا قول ”أَبُو جَهْلٍ فَعَلَ كَذَا كِنَايَةً“، ابو جہل نے ایسا کیا یہ بھی کنایہ ہوگا جہنمی سے، کنایہ کرتے ہوئے جہنمی سے۔ بھئی دیکھو، ایک کافر نے کیا کیا ہے؟ ایک کام کیا ہے، اور وہ چونکہ کافر ہے تو کیا ہوا؟ جہنمی۔ اب آپ اپنے ساتھی کو بتانا چاہتے ہیں اس کے بارے میں تو آپ کہتے ہیں: ”أَبُو جَهْلٍ فَعَلَ كَذَا“، اور ابو جہل بھی کافر تھا، ایک معین ذات کا نام ہے، اور اس ذات کے ساتھ لازم کیا تھا؟ جہنمی ہونا، تو آپ بھی یہاں کون سا معنی مراد لے رہے ہیں؟ جہنمی ہونے کا، تو اپنے ساتھی کو بتلا رہے ہیں جہنمی نے ایسا کیا ہے، جہنمی نے ایسا، تو اس کو بھی کنایہ کہنا لازم آئے گا حالانکہ کسی نے اس کو کنایہ قرار نہیں دیا۔
تو مولانا اس صورت میں ہمارا ”فَعَلَ كَذَا هٰذَا الرَّجُلُ“ اور ”أَبُو جَهْلٍ فَعَلَ كَذَا“ یہ کنایہ ہوگا جہنمی سے، ”وَلَمْ يَقُلْ بِهِ أَحَدٌ“، اور کسی نے یہ بات نہیں کی مولانا کہ یہ کنایہ ہے۔
”وَمِمَّا يَدُلُّ“، یہ تیسری وجہ رد کرنے کی: بھئی کہتے ہیں بھئی آپ کی بات اس لیے بھی فاسد ہے اور غلط ہے بھئی، اس لیے کہ آپ نے لفظ کو استعمال کیا کس کے لیے؟ اسی معین ذات کے لیے استعمال کیا یا کسی غیر کے لیے استعمال کیا ہے؟ آپ نے کہا ”جَاءَ حَاتِمٌ“ کیا وہی معین ذات مراد ہے یا دوسری ذات مراد ہے بھئی؟ دوسرا شخص مراد ہے، تو آپ نے اس معین ذات کا ارادہ نہیں کیا، جبکہ وہ جو ہم نے طریقہ بیان کیا تھا اس میں وہی معین ذات، جب وہ جو مثال گزری تھی ابو لہب نے ایسا کیا ہے اور ابو لہب نام ہے اس شخص کا اور آپ نے بھی اسی کے لیے استعمال کیا لیکن ابو لہب کا معنی اصلی کیا ہے؟ شعلوں کے ساتھ رہنے والا، اور شعلوں کے ساتھ رہنے والے کے ساتھ لازم کیا ہے؟ جہنمی ہونا، تو آپ کہنا یہ چاہتے ہیں جہنمی نے ایسا کیا، تو کنایہ ہوا یا نہیں ہوا مولانا؟ ملزوم سے انتقال کس کی طرف ہو رہا ہے؟ لازم کی طرف، اور وہی شخص مراد ہے یا کوئی اور شخص مراد ہے؟ وہی شخص مراد ہے، جبکہ یہاں پر وہی شخص مراد نہیں ہے۔
چنانچہ صاحب المفتاح علامہ سکاکی وغیرہ نے کہتے ہیں بھئی اس کنائے کی مثال {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} کے ساتھ دی ہے، کس کے ساتھ؟ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} کے ساتھ، اور ابی لہب جو یہاں پر آیا اس آیت کے اندر، اس میں وہی شخص مراد ہے کوئی اور شخص مراد نہیں ہے۔ معلوم ہوا علامہ تفتازانی فرماتے ہیں ہماری تقریر صحیح ہے آپ کی تقریر غلط، کیونکہ ہماری تقریر میں وہی شخص مراد تھا آپ کی تقریر میں تو وہی شخص مراد ہی نہیں ہے بلکہ غیر مراد ہے۔
”وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى فَسَادِ ذٰلِكَ“، اور وہ چیزیں جو دلالت کر رہی ہیں اس قول کے فساد پر ان میں سے ایک یہ ہے، ”أَنَّهٗ مَثَّلَ صَاحِبُ الْمِفْتَاحِ وَغَيْرُهُ فِي هٰذِهِ الْكِنَايَةِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ“، مثال دی ہے صاحبِ مفتاح وغیرہ نے اس کنایہ کے اندر اللہ کے اس قول کے ساتھ: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ}، ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابو لہب کے، ”أَيْ تَبَّتْ يَدَا جَهَنَّمِيٍّ“، دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں کس کے؟ جہنمی کے، وہ کنائے کے اعتبار سے معنی بتلایا آپ کو۔ ”وَلَا شَكَّ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ الشَّخْصُ الْمُسَمَّى بِأَبِي لَهَبٍ لَا كَافِرٌ آخَرُ“، اور کوئی شک نہیں ہے اس بات کے اندر کہ اس سے مراد وہی شخص ہے جو موسوم ہے ابو لہب کے نام کے ساتھ، کوئی دوسرا کافر مراد نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟
”أَوْ إِيهَامِ اسْتِلْذَاذِهِ“، یا مولانا مسند الیہ کو کبھی کبھار علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے کس لیے؟ ایہامِ استلذاذ کے لیے، کہ وہم ڈالا جاتا ہے کہ اس علم کے اندر بھی کیا ہے؟ لذت ہے، اس نام کے اندر بھی لذت ہے، یہ بتلانا چاہتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو متکلم مسند الیہ کو علم کی صورت میں لاتا ہے، مخاطب کے ذہن میں یہ وہم ڈالتا ہے کہ میں اس نام کو بھی کیسا پاتا ہوں؟ لذت والا پاتا ہوں، ”أَيْ وِجْدَانِ الْعَلَمِ لَذِيذًا“، یعنی علم کو لذیذ پانے کا وہم ڈالنا۔ ”نَحْوُ قَوْلِهِ“، جیسے شاعر کا قول ہے...
”بِاللَّهِ يَا ظَبَيَاتِ الْقَاعِ قُلْنَ لَنَا ... لَيْلَايَ مِنْكُنَّ أَمْ لَيْلَى مِنَ الْبَشَرِ“
کہ باللہ خدا کے لیے، ”يَا ظَبَيَاتِ الْقَاعِ“، ظبی کی جمع ظبیۃ، تو اے جنگل کی ہرنیو! قاع، قاع کہتے ہیں مولانا پہاڑوں کے بیچ کا میدان بھئی، دامنِ کوہ، دامنِ کوہ۔ باللہ خدا کے لیے، اے دامنِ کوہ کی ہرنیو، ”قُلْنَ لَنَا“، ہمیں کہو، ہمیں بتلاؤ ذرا، ”لَيْلَايَ مِنْكُنَّ“، میری لیلیٰ جو ہے تم میں سے ہے، ”أَمْ لَيْلَى مِنَ الْبَشَرِ“، یا لیلیٰ انسانوں میں سے ہے؟
بھئی حسن و جمال میں ہرن کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے کہ خوبصورت بدن ہوتا ہے اور خاص طور پر آنکھوں کے اندر تو خصوصاً تشبیہ دی جاتی ہے اس کے ساتھ، تو شاعر جو ہے وہ کیا کر رہا ہے؟ حیرت کا اظہار کر رہا ہے کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ میری لیلیٰ اتنی حسین و جمیل ہے کہ وہ جنگل کی ہرنیوں میں سے ہے یا کس میں سے ہے؟ انسانوں میں سے ہے بھئی۔
تو دیکھیے مقامِ استشہاد ہے لیلیٰ جو ثانی آ رہا ہے بھئی۔ ایک دفعہ جب لیلیٰ کا ذکر ہو گیا تو دوبارہ علم کے ساتھ تعبیر نہیں کرنا چاہیے، کس کے ساتھ تعبیر کرنا چاہیے؟ ضمیر ذکر کرنی چاہیے، نام بار بار ذکر نہیں ہوتا، بعد میں ایک دفعہ ذکر کرنے کے بعد کیا ذکر کیا جاتا ہے؟ ضمیر ذکر کی جاتی ہے، تو کہنا چاہیے تھا: ”أَمْ هِيَ مِنَ الْبَشَرِ“، لیکن اس کی جگہ کیا ذکر کیا؟ لیلیٰ کو ذکر کیا، کہ شاعر یہ بتلانا چاہتا ہے کہ یہ نام بھی کیا ہے؟ اس نام کے اندر بھی میں لذت پاتا ہوں، لذت مجھے ملتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو عاشق کو معشوق کا نام بھی محبوب ہوتا ہے۔
کیسے بھول جاؤں اسے انجم کیسی باتیں کرتے ہو، شاعر کہتا ہے بھئی:
کیسے بھول جاؤں اسے انجم کیسی باتیں کرتے ہو
صورت تو پھر صورت ہے وہ نام بھی اچھا لگتا ہے
تو یہ مولانا لیلیٰ جو ہے یہ اس سے محبت ہو گئی تھی قیس کو بھئی، مجنون کو، مجنون کا اصل نام قیس تھا بھئی، قیس بھئی۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے:
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
تو یہ مجنون تھا مولانا، یہ بڑا ولی شخص تھا مولانا۔ بھئی اس نے لیلیٰ کو دیکھا بھی نہیں تھا، اس نے لیلیٰ کو دیکھا نہیں تھا، کہتے ہیں لیلیٰ کالی تھی اس نے دیکھا بھی نہیں تھا اس کو، لیکن کوئی عورتیں وغیرہ کہیں باتیں گھر میں کر رہی ہوں گی، ذکر کر رہی ہوں گی، لیلیٰ کی تعریف وغیرہ کی اس نے سنی اور کئی دفعہ تعریف وغیرہ سنی اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں کیا ہو گئی لیلیٰ کی محبت پیدا ہو گئی غیر اختیاری طور پر، اور پھر یہ محبت اس پر اتنی غالب آ گئی، اتنی غالب آ گئی کہ آہستہ آہستہ اس کے تمام دوستوں کو پتہ چل گیا، اور پھر آہستہ آہستہ سارے قبیلے والوں وغیرہ کو پتہ چل گیا، ہوتے ہوتے باپ تک خبر پہنچی، باپ گھر والوں نے سب نے بڑا سمجھایا لیکن مولانا اسے اپنے اوپر اب اختیار ہی نہیں رہا، اختیار ہی نہیں رہا، باز ہی نہیں آتا تھا لیلیٰ کی محبت سے۔ آخر مولانا باپ تنگ آیا، اس کو پکڑا اور پکڑ کر لے گیا اسے بیت اللہ پر، بیت اللہ کے پاس لے گیا اور وہاں بیت اللہ کے دروازے پر اس کو کھڑا کیا اور کہا کہ یہاں پر اب کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کرو کہ اللہ تمہارے دل سے لیلیٰ کی محبت کو کیا کر دے؟ ختم کر دے بھئی۔ اب باپ اس کو سختی سے کہہ رہا ہے بھئی، تو اس وقت مجنون نے پھر یہ شعر پڑھا وہاں پر بھئی:
”إِلٰهِي تُبْتُ مِنْ كُلِّ الْمَعَاصِي ... وَلٰكِنْ حُبَّ لَيْلَى لَا أَتُوبُ“
اے اللہ میں تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں لیکن لیلیٰ کی محبت سے توبہ نہیں کرتا بھئی۔ باپ کو غصہ آیا مولانا، باپ نے مارنا شروع کر دیا، پٹائی شروع کر دی کہ بھئی دعا کرو کہ تمہارے دل سے لیلیٰ کی محبت ختم ہو جائے، اور مجنون پھر بار بار یہی شعر پڑھ رہا ہے:
”إِلٰهِي تُبْتُ مِنْ كُلِّ الْمَعَاصِي ... وَلٰكِنْ حُبَّ لَيْلَى لَا أَتُوبُ“
اے اللہ میں لیلیٰ کی محبت سے توبہ نہیں کرتا، باقی ہر گناہ سے کیا کرتا ہوں؟ توبہ کرتا ہوں۔ بھئی باپ مار رہا ہے، پٹائی کر رہا ہے، آخر مجنون نے بھی رونا شروع کر دیا بھئی، رو رہا ہے اور یہ شعر بار بار پڑھ رہا ہے، اس کو روتے باپ کو بھی اس کو دیکھ کر رونا آ رہا ہے بھئی، اپنے بیٹا ہے آخر، تو کہو بھئی دعا کرو بھئی، اور وہ یہی شعر پڑھ رہا ہے: ”إِلٰهِي تُبْتُ مِنْ كُلِّ الْمَعَاصِي ... وَلٰكِنْ حُبَّ لَيْلَى لَا أَتُوبُ“۔ آخر مولانا پٹائی کرتے کرتے باپ نے بہت زیادہ پٹائی کی، رو رہا ہے، روتے روتے پھر اس نے دوسرا شعر پڑھا:
”يَا رَبِّ لَا تَسْلُبْ عَنِّي حُبَّهَا أَبَدًا ... وَيَرْحَمُ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ آمِينَا“
اے اللہ میرے سے کبھی بھی لیلیٰ کی محبت کو ختم نہ فرما، اور اے اللہ اس شخص پر بھی رحم فرما جو میری اس دعا پر آمین کہے بھئی! باپ بھی روتے روتے کہنے لگا: آمین، آمین!
سمجھ میں آیا بھئی؟
”إِلٰهِي تُبْتُ مِنْ كُلِّ الْمَعَاصِي ... وَلٰكِنْ حُبَّ لَيْلَى لَا أَتُوبُ“
”يَا رَبِّ لَا تَسْلُبْ عَنِّي حُبَّهَا أَبَدًا ... وَيَرْحَمُ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ آمِينَا“
آمینا لغت ہے آمین کے اندر بھئی، کئی لغات ہیں اس میں۔
”أَوِ التَّبَرُّكِ بِهِ“، یا مولانا مسند الیہ کو کبھی علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے اس سے برکت حاصل کرنے کے لیے، نحو جیسے کہ مولانا: ”اللَّهُ الْهَادِي“، اللہ ہی ہدایت دینے والے ہیں، ”وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّفِيعُ“، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سفارش کرنے والے ہیں، یہاں پر مولانا لفظ اللہ مسند الیہ کو علم کی صورت میں ذکر کیا، کس لیے بھئی؟ برکت حاصل کرنے کے لیے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بھی علم کی صورت میں ذکر کیا کس لیے؟ برکت کے لیے۔
”أَوْ نَحْوِ ذٰلِكَ“، یا اس جیسے اور نکات کی وجہ سے مسند الیہ کو کیا کیا جاتا ہے؟ علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے، ”كَالتَّفَاؤُلِ“...
جیسے تفاؤل ہے، تفاؤل کہتے ہیں نیک فالی مولانا، نیک فالی، اچھا شگون مراد لینا۔ جیسے کہ اپنے ساتھی کو کہتے ہیں بھئی: ”سَعِيدٌ فِي دَارِكَ“، سعید آپ کے گھر میں ہے بھئی، تو یہاں پر مسند الیہ کو علم کے ساتھ ذکر کیا اس لیے کہ سعید کا معنی ہے نیک بخت، نیک بخت، تو نیک شگون کے طور پر بتلایا کہ آپ کے گھر میں کون ہے؟ نیک بخت ہے بھئی، بطورِ نیک فالی۔
”وَالتَّطَيُّرِ“، یا کس لیے مولانا؟ بدفالی، تطیر کہتے ہیں بدفالی کے لیے، جیسے اب کسی کو کہتے ہیں: ”سَفَّاحٌ فِي بَيْتِكَ“، سفاح آپ کے گھر میں ہے، اور علم کی صورت میں ذکر کیا، کس لیے؟ بدفالی کے طور پر، کیونکہ سفاح کا معنی ہے بہت خون بہانے والا، بہت خون بہانے والا، بدفالی کے طور پر اس شخص کے نام کو ذکر کیا بھئی۔
اسی طرح ”وَالتَّسْجِيلِ عَلَى السَّامِعِ“، سامع پر کوئی بات قلمبند کروانے کے لیے، پہلے بھی یہ بات گزر چکی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ قاضی کے پاس آپ موجود ہیں اور قاضی آپ سے وہاں پر لکھوا رہے ہیں اپنی بات، وہاں ہر بات لکھی جا رہی ہے تو اب آپ کہتے ہیں کہ بیع کی وغیرہ نام نہ ذکر کریں تو پھر تو ہو سکتا ہے بعد میں زید انکار کر دے کہ یہ میری بات نہیں کر رہا تھا کسی اور کی، تو لہٰذا آپ کیا کرتے ہیں مسند الیہ کو علم کی صورت میں ذکر کرتے ہیں، ضمیر وغیرہ نہیں لاتے کہ اس نے ایسا کیا، اس نے ایسا کیا، بلکہ کیا کہتے ہیں؟ زید نے ایسا کیا اور زید نے ایسا، تاکہ بعد میں وہ انکار نہ کر سکے۔ تسجیل وغیرہ۔
”وَغَيْرِهِ“، اور اس کے علاوہ اور وجوہ سے، ”مِمَّا يُنَاسِبُ اعْتِبَارُهُ فِي الْأَعْلَامِ“، کہ جن کا اعتبار کرنا مناسب ہو کس کے اندر؟ اعلام کے اندر، وہ نکات بھئی ان کی وجہ سے علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے۔
”وَبِالْمَوْصُولِيَّةِ أَيْ تَعْرِيفُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِإِيرَادِهِ اسْمَ مَوْصُولٍ“، اور اسم موصول کو مسند الیہ کو معرفہ لایا جاتا ہے بالموصولیۃ کس کے ساتھ؟ اسم موصول لانے کے ساتھ بھئی، ”لِعَدَمِ عِلْمِ الْمُخَاطَبِ بِالْأَحْوَالِ الْمُخْتَصَّةِ بِهِ سِوَى الصِّلَةِ“، اس لیے کہ مخاطب کو علم نہیں ہے ان احوال کا جو مختص ہیں اس مسند الیہ کے ساتھ سوائے صلہ کے، سوائے صلہ کے۔
بھئی مسند الیہ کو کبھی علم لایا جاتا ہے، بتلا دیا کس وجہ سے: کبھی تعظیم کے لیے ہوگا، کبھی اہانت کے لیے ہوگا، کبھی کنایہ کے طور پر ہوگا، کبھی برکت کے لیے ہوگا مولانا، کبھی ایہامِ استلذاذ وغیرہ کے لیے ہوگا، اور کبھی کبھار اب علم کے نکات ختم ہوئے۔ اب معرفہ کی اگلی قسم کیا ہے؟ اسم موصول۔ اسم موصول کی صورت میں کیوں لایا جاتا ہے بھئی مسند الیہ کو؟ کہتے ہیں اس لیے کہ سامع کو مولانا مسند الیہ کے احوال میں سے سوائے صلہ کے اور کچھ پتہ ہی نہیں، جب صلہ کے علاوہ اس کو کچھ پتہ ہی نہیں تو اب آپ اس کو بتلانا چاہتے ہیں تو اسم موصول لاتے ہیں تاکہ ساتھ کیا آ جائے وہ صلہ آ جائے جس کو وہ جانتا ہے، اس طرح وہ مسند الیہ کو پہچان لے گا۔
مثلاً مولانا کل آپ کہیں بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص بھی آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، آپ کا ساتھی آپ کے پاس سے گزرا اس نے اس شخص کو دیکھا آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے، بس۔ اب آپ اس شخص کے بارے میں اس کو بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ شخص عالم ہے، اور یہ شخص جس کو آپ بتلا رہے ہیں اپنے ساتھی کو، یہ نہ تو اس کے نام کو جانتا ہے، نہ نسب کو جانتا ہے، نہ کسی صفت کو جانتا ہے، نہ پیشے، کچھ بھی نہیں جانتا اس کے بارے میں کہ وہ کون شخص ہے، ہاں صرف یہ جانتا ہے کہ وہ کل آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اس نے دیکھا تھا، تو وہ صرف صلے کو جانتا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو اب آپ اسم موصول کی صورت میں لاتے ہیں کہ وہ جو شخص کل میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا: ”رَجُلٌ عَالِمٌ“، وہ کیسا آدمی ہے؟ عالم آدمی ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
”لِعَدَمِ عِلْمِ الْمُخَاطَبِ بِالْأَحْوَالِ الْمُخْتَصَّةِ بِهِ سِوَى الصِّلَةِ“، اس لیے کہ مخاطب کو علم نہیں ہے ان احوال کا جو مختص ہیں اس مسند الیہ کے ساتھ سوائے صلہ کے، نہ اس کو نام کا پتہ، نہ نسب کا پتہ، نہ پیشے کا پتہ، نہ کسی اور صفت کا۔ ”كَقَوْلِكَ الَّذِي كَانَ مَعَنَا أَمْسِ رَجُلٌ عَالِمٌ“، جیسے آپ کا کہنا: وہ شخص جو ہمارے ساتھ تھا گزشتہ کل، وہ کیا ہے؟ رجلِ عالم ہے۔
بھئی ایک صورت ذکر کر دی۔ آپ مسند الیہ کو اسم موصول کیوں لائے؟ کیونکہ مخاطب کو سوائے صلے کے اس کے کسی حال کا پتہ نہیں۔ بھئی کبھی کبھی اس لیے بھی لایا جاتا ہے مسند الیہ کو اسم موصول کہ متکلم کو اس کے بارے میں سوائے صلے کے اور کچھ علم ہی نہیں، یا کبھی اس لیے اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے کہ متکلم اور مخاطب دونوں کو سوائے صلے کے اور کچھ علم ہی نہیں۔ تو یہاں تین صورتیں ہوئیں: مخاطب کو سوائے صلے کے کچھ پتہ نہیں (ایک صورت)، متکلم کو سوائے صلے کے اور کچھ پتہ نہیں، یا دونوں کو سوائے صلے کے اور کچھ پتہ نہیں۔ تو تین صورتیں ہوئیں، ماتن نے صرف ایک صورت ذکر کی کہ جب مخاطب کو سوائے صلے کے اور کچھ پتہ نہیں، حالانکہ دو اور صورتیں بھی تو بنتی ہیں کہ متکلم نے اسم موصول کی صورت میں کیوں ذکر کیا؟ کیونکہ متکلم کو خود سوائے صلے کے اور کچھ پتہ...
نہیں، یا دونوں کو ہی سوائے صلے کے کچھ پتہ نہیں، اس وقت بھی تو اسم موصول کی صورت میں لاتے ہیں، وہ کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ وہ کلام اس طرح کا کلام بہت کم استعمال ہوتا ہے اور اس کا فائدہ بھی بہت تھوڑا ہے، اس لیے اس کو مصنف نے ذکر نہیں کیا۔
”وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِمَا لَا يَكُونُ لِلْمُتَكَلِّمِ أَوْ لِكِلَيْهِمَا عِلْمٌ بِغَيْرِ الصِّلَةِ“، اور درپے نہیں ہوئے مصنف اس صورت کے کہ جب متکلم کو یا متکلم اور مخاطب دونوں کو نہیں ہے علم سوائے صلہ کے علاوہ، صلہ کے علاوہ اور کسی چیز کا علم ہی نہیں ہے۔ ”نَحْوُ الَّذِينَ فِي بِلَادِ الشَّرْقِ لَا أَعْرِفُهُمْ“، آپ کہتے ہیں اپنے ساتھی سے: وہ لوگ جو مشرقی بلاد میں ہیں، مشرقی ممالک میں ہیں، میں ان کو جانتا نہیں۔ تو دیکھا آپ نے مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت ”الَّذِينَ“ کے ساتھ ذکر کیا، کیوں ذکر کیا؟ کیونکہ آپ ان کے بارے میں سوائے صلے کے اور کچھ نہیں جانتے، آپ صرف ان کے بارے میں اتنا جانتے ہیں کہ وہ مشرقی ممالک میں ہوتے ہیں، وہاں کے جو لوگ ہیں مشرقی ممالک کے رہنے والے ہیں لوگ، ان کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں اور کچھ جانتے ہی نہیں، تو اب یہ کہا: وہ لوگ جو مشرقی ممالک میں رہتے ہیں، میں ان کو جانتا نہیں، تو اسم موصول۔
”أَوْ لَا نَعْرِفُهُمْ“، دیکھا یہ دونوں، متکلم بھی نہیں جانتا اور مخاطب بھی نہیں جانتا، وہ صورت: ”الَّذِينَ فِي بِلَادِ الشَّرْقِ لَا نَعْرِفُهُمْ“، وہ لوگ جو مشرقی ممالک میں ہیں ہم ان کو نہیں جانتے۔ اس کو ذکر نہیں کیا، اس کے درپے نہیں ہوئے مصنف، کیوں؟ ”لِقِلَّةِ جَدْوَى“، جدویٰ کا معنی فائدہ، ”لِقِلَّةِ جَدْوَى مِثْلِ هٰذَا الْكَلَامِ“، اس جیسے کلام کے قلتِ فائدہ کی وجہ سے، ”وَنُدْرَةِ وُقُوعِهِ“، اور اس کے وقوع کے نادر ہونے کی وجہ سے، کیونکہ اس قسم کا کلام بڑا نادر الوقوع ہوتا ہے۔
”أَوِ اسْتِهْجَانِ التَّصْرِيحِ بِالِاسْمِ“، یا مولانا استہجان کا معنی ہے قبیح سمجھنا، قبیح سمجھنا، کہ تصریح بالاسم کو قبیح سمجھا جاتا ہے، نام کے ساتھ تصریح کرنے کو قبیح سمجھا جاتا ہے، بھئی کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا جاتا ہے؟ اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے کس لیے؟ کہ نام کے ساتھ ذکر کرنے کو کیا سمجھا جاتا ہے؟ قبیح سمجھا جاتا ہے، تو اسم موصول کے ساتھ ذکر کر دیا جاتا ہے۔
”أَوْ زِيَادَةِ التَّقْرِيرِ“، یا کس لیے مولانا اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے مسند الیہ کو؟ زیادتِ تقریر کے لیے، زیادتِ تقریر کے لیے۔ بھئی زیادتِ تقریر سے کیا معنی؟ دیکھو یہاں تین چیزیں ہیں: ایک کلام مسند، ایک کلام میں مسند ہوگا، ایک مسند الیہ ہوگا، اور ایک ہے کلام کی غرض کہ اس کلام کو ذکر کس لیے کیا گیا، کتنی چیزیں ہو گئیں؟ تین: ایک مسند اور ایک مسند الیہ، یہ تو بن گیا کلام، اور اس کلام کو ذکر کس لیے کیا؟ غرض کیا تھی؟ تو انہوں نے کہا زیادتِ تقریر، تقریر کا معنی ہے پختہ کرنا، زیادتِ تقریر کے لیے۔ تو بھئی کس چیز کی زیادتِ تقریر؟ کس کو زیادہ پختہ کرنا ہے؟ تو تین قول ہیں اس بارے میں: بعضوں نے کہا اس غرض کو پختہ کرنے کے لیے جس کے لیے کلام کو لایا گیا، بعضوں نے کہا مسند کو پختہ کرنے کے لیے، مسند کی زیادتِ تقریر کے لیے، اور بعضوں نے کیا کہا؟ مسند الیہ کی۔ تین چیزیں تھیں نا تو زیادتِ تقریر میں تینوں احتمال ہیں: زیادتِ تقریر یا تو مسند کی ہوگی، یا زیادتِ تقریر مسند الیہ کی ہوگی، یا زیادتِ تقریر کس چیز کی ہوگی؟ اس غرض کی جس کے لیے کلام کو ذکر کیا گیا ہے۔
”أَيْ تَقْرِيرِ الْغَرَضِ الْمَسُوقِ لَهُ الْكَلَامُ“، تقریر ہوگی اس غرض کی کہ جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، ”وَقِيلَ تَقْرِيرُ الْمُسْنَدِ“، اور کہا گیا ہے کس کے لیے؟ تقریرِ مسند کے لیے، ”وَقِيلَ تَقْرِيرُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“، اور کیا کہا گیا ہے بھئی؟ مسند الیہ کی تقریر کے لیے۔
جیسے قرآن میں آتا ہے مولانا: {وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ}، ہا ضمیر راجع ہے مولانا حضرت یوسف علیہ السلام کو، اور پھسلایا اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو، ”الَّتِي“ اس عورت وہ جو کہ، ”هُوَ“ حضرت یوسف علیہ السلام، ھو ضمیر راجع ہے کس کو؟ حضرت یوسف علیہ السلام کو، کہ حضرت یوسف علیہ السلام ”فِي بَيْتِهَا“ اس کے گھر میں تھے، پھسلایا حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے کہ جس کے گھر میں وہ تھے، ”عَنْ نَفْسِهِ“، عن بمعنی لام کے ہے، ”لِنَفْسِهِ“ ان کے نفس کی وجہ سے، ای لاجل نفسہٖ۔ پھسلایا حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے جن کے وہ گھر میں تھے، ان کے نفس کی وجہ سے پھسلایا بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو حضرت یوسف علیہ السلام بے انتہا حسین و جمیل اور باجمال و باکمال شخص تھے، تو ان کے نفس کی تو بڑا باجمال و باکمال نفس تھا تو اس نفس کی وجہ سے کیا کیا؟ پھسلایا بھئی ان کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ عن کا معنی کر رہا ہوں، ”عَنْ نَفْسِهِ أَيْ لِنَفْسِهِ“، ان کے نفس کی وجہ سے کیونکہ...
ان کا نفس کیا تھا؟ ان کی ذات کیا تھی؟ بڑی باجمال اور باکمال تھی۔
تو دیکھو یہاں مولانا، تین چیزیں ہیں تین چیزیں: ”رَاوَدَتْهُ“ پھسلایا، یہ ہے راودت ہے فعل، اور آگے ”الَّتِي“ اسم موصول، ”هُوَ فِي بَيْتِهَا“ اس کا صلہ، موصول صلہ مل کر فاعل راودت کے لیے، موصول صلہ مل کر کیا بنے؟ فاعل۔ تو راودت ہے مسند اور ”الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا“ یہ کیا ہے؟ مسند الیہ، اور غرض کیا ہے اس کلام کی؟ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی بیان کرنا۔
تو یہاں مسند کون؟ راودت، اور مسند الیہ کون؟ ”الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا“، اور غرض کیا ہے کلام کی؟ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کو بیان کرنا۔ تو متن میں آیا تھا زیادتِ تقریر کے لیے کبھی مسند الیہ کو کس صورت میں لاتے ہیں؟ اسم موصول کی صورت میں۔ تو یہاں پر علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ زیادتِ تقریر سے کیا مراد ہے؟ غرض کے لیے، کس کی زیادتِ تقریر کے لیے؟ غرض کی، اور بعضوں نے کہا نہیں زیادتِ تقریر مسند کی ہوگی، اور بعضوں نے کہا نہیں زیادتِ تقریر کس کی ہوگی؟ مسند الیہ کی ہوگی۔ تینوں میں کس طرح ہوگا؟ توجہ سے سنو بھئی۔
بھئی مقصد یہ تھا، اس کلام کی غرض کیا ہے؟ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی بیان کرنا، پاکدامنی۔ اب بتلائیے مجھے کہ ایک عورت ایک شخص کو زنا کی دعوت دے راستے میں، اور وہ شخص انکار کر دے، تو یہ شخص پاکدامن ہوا، کیا ہے؟ دیکھو دعوتِ زنا ملی اور پھر بھی اس نے کیا کیا؟ اپنے آپ کو بچا لیا۔ اور ایک وہ شخص ہے جس کو گھر کے اندر دعوتِ زنا ملے، کوئی دیکھنے والا نہیں، کوئی آنے والا نہیں، اور پھر وہ کیا کر دے؟ انکار کر دے۔ کس کی پاکدامنی زیادہ ہے مولانا؟ گھر کے اندر جس کو دعوت دی جا رہی ہے اور پھر وہ مولانا اس فعل سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے، معلوم ہوا انتہا درجے کا عفیف اور پاکدامن انسان ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر اگر یوں کہہ دیا جاتا پھسلایا یوسف علیہ السلام کو کس نے؟ امرأت العزیز نے، عزیزِ مصر کی بیوی نے، یا یوں کہہ دیا جاتا کہ پھسلایا ان کو یوسف علیہ السلام کو کس نے بھئی؟ زلیخا نے، تو اس صورت میں مولانا اتنی پاکدامنی ثابت نہ ہوتی جتنی اس وقت ثابت ہو رہی ہے کہ بتلایا کہ پھسلایا کس نے؟ جن کے وہ گھر میں تھے، معلوم ہوا کہ ہر طرح کا موقع حاصل تھا پھر بھی انہوں نے اپنے آپ کو دور رکھا اس فعلِ بد سے، معلوم ہوا انتہا درجے کے پاکدامن انسان تھے۔ اگر اس کی جگہ امرأت العزیز کہہ دیا جاتا تو اتنی پاکدامنی ثابت نہ ہوتی کہ پتہ نہیں موقع نہیں ہوگا، جگہ نہیں ہوگی یا کیا سبب ہوگا، یا اس کی جگہ زلیخا کہہ دیا جاتا تو پھر بھی اتنی پاکدامنی ثابت نہیں ہوتی تھی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ زیادتِ تقریر کس کی ہوئی مولانا؟ اس غرض کی جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے اور وہ کیا ہے؟ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی۔
دوسرا کیا تھا کس کی زیادتِ تقریر ہوگی؟ مسند کی، مسند کی۔ تو دیکھو مسند کیا ہے یہاں پر؟ راودت، پھسلایا، پھسلایا۔ بھئی دیکھو، ایک گھر میں رہنے والوں کے درمیان شدتِ اختلاط ہوتا ہے اور محبت و الفت ہوتی ہے، تعلق ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ایک گھر میں رہنے والوں کا؟ چاہے مالک ہے چاہے مملوک ہے، جو بھی ہے ایک گھر میں رہنے والوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے، اختلاط ہوتا ہے، اختلاط ہوتا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہاں پر مولانا اب کہا کہ پھسلایا ان کو اس عورت نے جن کے وہ گھر میں تھے، اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا۔ معلوم ہوا اسی کے گھر میں تھے تو اختلاط بھی تھا، الفت، تعلق وغیرہ بھی تھا، پھسلانے کا زیادہ موقع تھا اور مطالبہ بڑا زوردار تھا، معلوم ہوا مطالبہ اور یہ پھسلانا بڑا زوردار تھا، معمولی پھسلانا کوئی اشارہ وغیرہ نہیں تھا بھئی بلکہ وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا، اسی گھر میں تھے، تو دیکھا راودت کی زیادتِ تقریر ہوئی، پھسلانا معمولی درجے کا نہیں تھا بلکہ بڑا زوردار مطالبہ تھا اور وہاں پر کوئی مانع بھی نہیں تھا۔ تو زیادتِ تقریر ہوئی کس کی؟ تو پھسلانے کے زیادہ مواقع تھے مولانا، تو زیادتِ تقریر ہوئی کس کی؟ راودت کی، کس کی؟ راودت کی۔ اگر اس کے بجائے یوں کہہ دیا جاتا: ”رَاوَدَتْهُ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ“، کس نے پھسلایا؟ امرأت العزیز نے پھسلایا، تو کوئی پتہ چلتا کہ یہ مطالبہ زوردار تھا اور موقع تھا یا موقع نہیں تھا؟ اور اختلاط اور تعلق تھا یا اختلاط اور تعلق نہیں تھا، یہ پتہ نہ چلتا، یا زلیخا کہہ دیا جاتا تو بھی پتہ نہ چلتا، لیکن جب کہا ”الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا“، کس نے پھسلایا؟ اس عورت نے جس کے گھر میں تھے، معلوم ہوا پھسلانے کا بڑا موقع تھا...
اور بڑا مطالبہ کیا تھا؟ پھسلانا بھی معمولی درجے کا نہیں تھا بھئی، تو کس کی تقریر ہوئی؟ زیادتِ تقریر ہوئی مسند کی۔
یا بعضوں نے کہا مولانا زیادتِ تقریر ہوگی مسند الیہ کی، مسند الیہ کون بھئی؟ ”الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا“، تو مسند الیہ کی زیادتِ تقریر ہوئی، اس لیے کہ بتلایا کہ پھسلانے والی وہی عورت تھی جس کے وہ گھر کے اندر تھے، جس کے گھر میں رہتے تھے، اگر کہہ دیا جاتا امرأت العزیز، پھسلایا ان کو کس نے؟ امرأت العزیز نے، تو پتہ نہ چلتا بھئی، ہو سکتا ہے عزیزِ مصر کی کئی بیویاں ہیں، پتہ نہیں کون سی بیوی نے پھسلایا، اسی گھر والی نے پھسلایا یا کسی دوسری نے پھسلایا، دوسرے گھر والی نے بھئی، یا اگر زلیخا کہہ دیا جاتا تو پھر بھی پتہ نہ چلتا مولانا، کیونکہ زلیخا ہو سکتا ہے وہی امرأت العزیز ہی زلیخا ہے یا کوئی اور عورت زلیخا نام کی تھی، تو جب کہا ”الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا“ تو زیادتِ تقریر ہو گئی کس کی؟ مسند الیہ کی کہ اسی عورت نے پھسلایا تھا جس کے وہ گھر میں تھے۔
”نَحْوُ وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ أَيْ يُوسُفُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ“، پھسلایا ان کو، یہ مولانا راود باب مفاعلہ لے کر آئے مبالغے کے لیے، مبالغے کے لیے۔ کثرتِ حروف دلالت کرتے ہیں کس پر مولانا؟ کثرتِ معنیٰ پر، تو مولانا باب مفاعلہ لے کر آئے مبالغے کے طور پر اور شدتِ مطالبے کے لیے۔ ”وَالْمُرَاوَدَةُ مُفَاعَلَةٌ مِنْ رَادَ يَرُودُ“، اور مراودہ لفظ کی تحقیق کر رہے ہیں، مراودہ کا لفظ وہ مفاعلہ ہے من راد یرود، راد یرود کا کیا معنی ہے؟ ”جَاءَ وَذَهَبَ“، آنا جانا، ایک معنی نہیں ہے اس کا، کیا معنی ہے؟ آنا جانا، گھومنا مولانا، گھومنا۔
”فَكَأَنَّ الْمَعْنَى“، گویا کہ معنی یہ ہے: ”خَادَعَتْهُ عَنْ نَفْسِهِ أَيْ لِأَجْلِ نَفْسِهِ“، یہ عن بمعنی لام کے ہے، پھسلایا ان کو ان کے نفس کی وجہ سے، بھئی امرأۃ العزیز نے پھسلایا یوسف علیہ السلام کو کس وجہ سے؟ ان کے نفس کی وجہ سے کیونکہ بڑا ہی باکمال اور باجمال نفس تھا تو ان کے نفس کی وجہ سے ان کو پھسلایا۔
”فَكَأَنَّ الْمَعْنَى“، گویا کہ معنی یہ ہے، علامہ تفتازانی کہہ دیتے معنی یہ ہے، یہ ”فَكَأَنَّ الْمَعْنَى“ کیوں لے کر آئے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ مولانا یہ ادب کے زیادہ لائق ہے، کیونکہ معلوم نہیں اللہ کی یہی مراد ہے یا یہی مراد نہیں، کوئی قطعی بات تو ہمیں پتہ نہیں چل سکتی تو اس لیے مولانا ادب کے طور پر ”فَكَأَنَّ“ لائے۔ ”فَكَأَنَّ الْمَعْنَى خَادَعَتْهُ عَنْ نَفْسِهِ“، معنی گویا کہ یہ ہے کہ اس عورت نے پھسلایا حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے نفس کی وجہ سے، ”وَفَعَلَتْ فِعْلَ الْمُخَادِعِ“، جی۔
دیکھیے، دو شخص ہوں مولانا ایک جگہ پر ہوں، اور ایک شخص کے پاس ایک بڑی قیمتی، نفیس، عمدہ چیز ہو، اور دوسرا شخص اس چیز کو اس سے ہتھیا نا چاہتا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے؟ اور وہ جس کے پاس چیز ہے وہ اس چیز کو اپنے ہاتھ سے نکالنا نہیں چاہتا، کسی کو دینا نہیں چاہتا، تو یہ شخص کیا کرتا ہے؟ دھوکہ دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ دھوکہ، یہ مخادع ہوا، دھوکہ دیتا ہے اپنے ساتھی کو، دھوکہ دیتا ہے کس چیز کا؟ کہ کسی طرح اس ساتھی کے پاس جو چیز ہے اس کو ہتھیا لوں اور اس پر کیا کر لوں؟ قبضہ کر لوں۔ تو یہ مولانا مخادع ہوا دھوکہ دینے والا، وہ کون ہوا دوسرا اس کا؟ صاحب ہوا، کیا ہوا؟ صاحب ہوا جس کا ساتھی ہوا، اور وہ شے کو مولانا اس سے۔ تو یہاں بھی مولانا مخادع دھوکہ دینے والا فعل کس نے کیا مولانا؟ زلیخا نے کیا، اور ساتھی کون تھا؟ حضرت یوسف علیہ السلام تھے، اور کس چیز کو چھیننا چاہا، کس چیز کو ہتھیا نا چاہا؟ ان کے نفس کو، ان کے نفس کو، بات سمجھ میں آئی؟
تو دیکھو: ”فَعَلَتْ فِعْلَ الْمُخَادِعِ لِصَاحِبِهِ عَنِ الشَّيْءِ الَّذِي لَا يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ يَدِهِ يَحْتَالُ عَلَيْهِ أَنْ يَغْلِبَهُ وَيَأْخُذَهُ مِنْهُ“، فعل کیا اس نے، کس کا فعل؟ دھوکہ دینے والے کا جو کس کو دھوکہ دے رہا ہے؟ اپنے ساتھی کو ایسی چیز کے بارے میں کہ جس کو وہ ساتھی نہیں چاہتا کہ نکال دے اپنے ہاتھ سے، وہ اس پر حیلہ کرتا ہے دھوکہ دینے والا کہ اس پر غالب آ جائے اور اس سے اس چیز کو لے لے۔ سمجھ میں آیا؟ یہ تو آپ کو خادع کا معنی بتلایا، مراودہ کا معنی بتلایا مخادعہ ہے۔
اب مخادعہ تو عام ہے مولانا، عام چیزوں میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہاں کیا مراد ہے مخادعہ سے؟ بتلا رہے ہیں: ”وَهِيَ عِبَارَةٌ عَنِ التَّمَحُّلِ“، تمحل کا معنی مکر کرنا اور چال چلنا، ”عَنِ التَّمَحُّلِ لِمُوَاقَعَتِهِ إِيَّاهَا“، واقعہ یواقع مواقعۃ کا معنی ہے جماع کرنا، یہ عبارت ہے یہاں پر چال چلنے سے کہ جماع کر لیں یوسف علیہ السلام زلیخا سے، یعنی یہاں جماع پر آمادہ کرنے پر عبارت ہے، عام دھوکہ مراد نہیں ہے بلکہ کس لیے دھوکہ ہے؟ جماع کے لیے۔
”وَالْمُسْنَدُ إِلَيْهِ“ کون ہے مولانا؟ ”الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا“، جی۔ ”عَنْ نَفْسِهِ مُتَعَلِّقٌ بِرَاوَدَتْهُ“، ”عَنْ نَفْسِهِ“ جار مجرور ہے، یہ کس سے متعلق ہے؟ ”رَاوَدَتْهُ“، پھسلایا ”لِأَجْلِ نَفْسِهِ“ ان کے نفس کی وجہ سے۔
”فَالْغَرَضُ الْمَسُوقُ لَهُ الْكَلَامُ نَزَاهَةُ يُوسُفَ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ“، پس وہ غرض جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہے، وہ پاکدامنی ہے یوسف علی نبینا وعلیہ السلام کی، ”وَطَهَارَةُ ذَيْلِهِ“، اور کیا ہے؟ ذیل کہتے ہیں دامن، کپڑے کا نچلا حصہ اس کو ذیل کہتے ہیں، ”وَطَهَارَةُ ذَيْلِهِ“ اور طہارت ہے ان کے دامن کی یعنی ان کی پاکدامنی، یعنی اس کلام کو کس لیے چلایا گیا؟ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی اور عفت کو بتلانے کے لیے۔
”وَالْمَذْكُورُ أَدَلُّ عَلَيْهِ“، اور یہ جو مذکور ہے یعنی کس صورت میں؟ ”الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا“، موصول کی صورت میں، یہ زیادہ دلالت کر رہا ہے ”مِنِ امْرَأَةِ الْعَزِيزِ أَوْ زُلَيْخَا“، امرأت العزیز کے لفظ یا زلیخا کے لفظ لے آتے تو اس میں اتنی دلالت نہ تھی، اس میں زیادہ دلالت ہے۔ ”لِأَنَّهُ إِذَا كَانَ فِي بَيْتِهَا وَتَمَكَّنَ مِنْ نَيْلِ الْمُرَادِ عَنْهَا وَلَمْ يَفْعَلْ كَانَ فِي غَايَةِ النَّزَاهَةِ“، اس لیے کہ جب وہ اس کے گھر کے اندر تھے اور حضرت یوسف علیہ السلام کو قدرت بھی تھی کہ وہ پا لیں وہ جو اس عورت کی مراد ہے اس سے، اس عورت کی جو مراد تھی جماع کی اس کو اس سے حاصل بھی کر سکتے تھے حضرت یوسف علیہ السلام اور پھر بھی نہیں کیا، گویا کہ وہ انتہا درجے کی پاکدامنی پر تھے۔
”وَقِيلَ“، یہ ایک تقریر تھی مولانا، غرض کی تقریر ہوئی، زیادتِ تقریر آئی کس کے اندر؟ غرض کے اندر۔ ”وَقِيلَ هُوَ تَقْرِيرٌ لِلْمُرَاوَدَةِ لِمَا فِيهِ مِنْ فَرْطِ الِاخْتِلَاطِ وَالْأُلْفَةِ“، اور بعضوں نے کہا یہ مراودت کی تقریر ہے یعنی مسند کی، بھئی وہی بات جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں اب مصنف بیان کر رہے ہیں، کس کی تقریر ہے مولانا؟ مسند کون ہے؟ راودت، راودت مسند ہے۔ مراودت کی تقریر کے لیے بوجہ اس کے کہ اس میں کیا ہے مولانا؟ فرط، فرط معنی شدت، شدتِ اختلاط اور شدتِ الفت مولانا، سمجھ میں آیا؟ بھئی شدتِ اختلاط اور شدتِ الفت تھی، بھئی ایک گھر میں رہتے تھے، جب ایک گھر میں رہتے ہیں تو اختلاط ہوگا یا نہیں؟ اور آپس میں تعلق اور الفت بھی ہوگی، تو معلوم ہوا یہ جو راودت پھسلانا تھا یہ معمولی نہیں تھا بڑا قوی تھا، تو مولانا مراودت کی تقریر ہوئی اس کی قوت بیان کی۔
”وَقِيلَ هُوَ تَقْرِيرٌ لِلْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“، بعضوں نے کہا یہ مسند الیہ کی تقریر کے لیے ہے، کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِإِمْكَانِ وُقُوعِ الْإِبْهَامِ“، کیونکہ ابہام کے واقع ہونے کا امکان تھا، اگر کیا کہہ دیتے؟ امرأت العزیز کہہ دیتے مولانا تو پھر ابہام تھا، پتہ نہیں وہی بیوی تھی جس کے گھر میں رہتے تھے یا کوئی اور بیوی تھی، تو پھر ابہام کا امکان تھا، ”وَالِاشْتِرَاكِ“، اور یا اشتراک، اگر زلیخا کہہ دیتے تو کس چیز کا امکان تھا؟ اشتراک، ہو سکتا ہے کوئی اور زلیخا ہو یہ وہی زلیخا نہ ہو، تو مولانا ابہام کے واقع ہونے کا بھی امکان تھا اور اشتراک کا بھی، ”فِي امْرَأَةِ الْعَزِيزِ أَوْ زُلَيْخَا“، امرأت العزیز یا زلیخا میں۔ تو مسند الیہ پکا ہو گیا مولانا کہ اسی عورت نے پھسلایا تھا جس کے وہ گھر میں تھے، عزیز کی کسی اور بیوی نے نہیں، کسی اور زلیخا نے نہیں۔
”وَالْمَشْهُورُ أَنَّ الْآيَةَ مِثَالٌ لِزِيَادَةِ التَّقْرِيرِ“، کہتے ہیں مشہور یہ ہے شراح، جو شارحین ہیں ان کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مثال ہے زیادتِ تقریر کے لیے فقط بھئی، کیا ہے؟ بھئی یہ جو اتنی لمبی تقریر کی {وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ} یہ کس کی مثال ہے؟ زیادتِ تقریر کی، صرف اس کی مثال ہے۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں میرے نزدیک یہ اس کی بھی مثال ہے اور استہجان التصریح بالاسم کی بھی مثال ہے کہ اس عورت کا نام ذکر کرنا کیا تھا؟ قبیح تھا، لہٰذا اس کو اسم موصول کی صورت میں، تو مولانا یہ زیادتِ تقریر کی مثال ہوئی یا استہجان التصریح کی بھی ہو گئی؟ پیچھے دو چیزیں ذکر ہوئی تھیں نا، نام کو ذکر کرنا قبیح سمجھتے ہوں تو دونوں کی کیا ہوئی؟ سب کو بات سمجھ میں آئی؟
”وَالْمَشْهُورُ أَنَّ الْآيَةَ مِثَالٌ لِزِيَادَةِ التَّقْرِيرِ فَقَطْ وَظَنِّي أَنَّهَا مِثَالٌ لَهَا وَلِاسْتِهْجَانِ التَّصْرِيحِ بِالِاسْمِ وَقَدْ بَيَّنْتُهُ فِي الشَّرْحِ“، اور تحقیق میں نے اس کو بیان کیا ہے اپنی شرح میں، تفصیل چاہتے ہیں تو وہاں رجوع کر سکتے ہیں۔
”أَوِ التَّفْخِيمِ“، کبھی مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے اسم موصول کی صورت میں کس لیے؟ تفخیم، تفخیم کا معنی ہے مولانا مرتبہ بڑھانا، کسی چیز کا مرتبہ بڑھانا، ”أَيِ التَّعْظِيمِ وَالتَّهْوِيلِ“، خود بتلا رہے ہیں اس کی تعظیم اور اس کو بڑا بتانے کے لیے، اور تہویل اور اس سے ڈرانے کے لیے۔ جیسے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {فَغَشِيَهُمْ مِنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ}، پس ڈھانپ لیا ان کو سمندر میں سے اس نے جس نے کہ ان کو ڈھانپ لیا، تو ”مَا غَشِيَهُمْ“ فاعل ہے پہلے غشیہ کا، ڈھانپ دیا ان کو اس چیز نے جس نے کہ ان کو ڈھانپ لیا تو یہ فاعل ہے، تو اس فاعل مسند الیہ کو کس صورت میں لائے مولانا؟ اسم...
موصول کی صورت میں۔ وجہ یہ کہ اسم موصول اور اسم اشارہ آپ نے پڑھا مبہمات میں سے ہیں، کس میں سے ہیں؟ مبہمات میں سے ہیں، تو چیز جب مبہم ہوگی جتنی اس کے اندر اتنی زیادہ عظمت ہوگی، اور جتنی زیادہ مولانا واضح اور ظاہر ہوگی اور پتہ ہوگا اتنی زیادہ اس کی عظمت کیا ہوگی؟ کم ہو جائے گی، سمجھ میں آیا؟ تو اگر اللہ یہ فرماتے سمندر میں ڈھانپ دیا ان کو تیس فٹ تک، سو فٹ تک، ڈیڑھ سو فٹ تک اوپر پانی تھا ان کے، تو اس صورت میں اتنی عظمت نہیں تھی بلکہ اس صورت میں زیادہ عظمت ہے: ڈھانپ دیا ان کو اس نے جس نے کہ ان کو ڈھانپ لیا، یعنی اتنا زیادہ تھا کہ بیان کے قابل ہی نہیں۔
آپ نہیں کرتے مولانا؟ ابہام کے اندر عظمت ہوتی ہے۔ آپ اپنے ساتھی کو جا کر کہتے ہیں: آج تو کلاس میں عجیب واقعہ پیش آیا۔ وہ کہتا ہے بھئی کیا واقعہ پیش آیا؟ آپ کہتے ہیں: بس نہ ہی پوچھو تو بہتر ہے۔ تو چیز کو مبہم رکھا، کس لیے مبہم رکھا؟ پتہ چلے کوئی بڑی بات واقعی، وہ بھی سمجھتا ہے کہ ہاں لگتا ہے کوئی بہت ہی بڑی بات ہوئی ہے کہ اب بتا بھی نہیں رہا بھئی، تو وہ پھر اب اصرار کرے گا مولانا آپ سے۔ تو جس چیز کو جتنا مبہم ہو، {فَغَشِيَهُمْ مِنَ الْيَمِّ}، یہ ”مِنَ الْيَمِّ“ بیان ہے، ”مِنَ الْيَمِّ“ بیان ہے کس کا؟ ما کا۔ ”فَإِنَّ فِي هٰذَا الْإِبْهَامِ مِنَ التَّفْخِيمِ مَا لَا يَخْفَى“، اس لیے کہ اس ابہام کے اندر وہ عظمت ہے جو پوشیدہ نہیں ہے۔
”أَوْ تَنْبِيهِ الْمُخَاطَبِ عَلَى الْخَطَإِ“، یا کبھی مولانا مسند الیہ کو کس کی صورت میں لاتے ہیں؟ اسم موصول کی صورت میں، آپ مخاطب کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اس کی غلطی پر متنبہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اسم موصول کے بجائے کوئی نام ذکر کرتے تو اس کی غلطی پر تنبیہ نہ ہوتی۔ مثلاً آپ مخاطب کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں غلطی پر، جیسے شعر ہے:
”إِنَّ الَّذِينَ تُرَوْنَهُمْ إِخْوَانَكُمْ ... يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ أَنْ تُصْرَعُوا“
”إِنَّ الَّذِينَ تُرَوْنَهُمْ أَيْ تَظُنُّونَهُمْ“، وہ لوگ جن کو تم گمان کرتے ہو، ”إِخْوَانَكُمْ“، اپنے بھئی، ”يَشْفِي“، شفا دیتی ہے، ”غَلِيلَ صُدُورِهِمْ“، غلیل کہتے ہیں غصہ، شفا دیتا ہے ان کے سینوں کے غصے کو کیا چیز شفا دیتی ہے؟ ”أَنْ تُصْرَعُوا“، تمہارا پچھاڑے جانا، تمہارا پچھاڑا جانا۔ صرع کا معنی پچھاڑنا، کشتیوں کو عربی میں کہتے ہیں مصارعہ، اس میں بھی جانبین سے پچھاڑنا ہوتا ہے ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش۔ تو شفا دیتی ہے ان کے سینوں کے غصوں کو کیا چیز شفا دیتی ہے؟ تمہارا پچھاڑے جانا، ”أَيْ تُهْلَكُوا“، کہ تم ہلاک ہو جاؤ، ”أَوْ تُصَابُوا بِالْحَوَادِثِ“، یا مبتلا کر دیے جاؤ حوادث کے ساتھ۔
یہ مولانا لفظ ”تُرَوْنَهُمْ“ ہے، ”تَرَوْنَهُمْ“ نہیں ہے۔ کیوں؟ یہ بمعنی ظن کے ہے۔ رویت ایک رویت بمعنی اعتقاد کے ہے، ظن کے ہے، اور ایک رویت آنکھوں سے دیکھنا ہے، ایک رویت بصری ہے اور ایک رویت قلبی ہے۔ رویت بصری ایک مفعول چاہتی ہے: ”رَأَيْتُ زَيْدًا“، میں نے زید کو دیکھا۔ اور رویت قلبی دو مفعول چاہتی ہے: ”رَأَيْتُ زَيْدًا عَالِمًا“، میں نے زید کو عالم جانا، وہ جاننے کے معنی میں ہے۔ تو یہاں یہ کس معنی میں ہے؟ گمان کے معنی میں، اور رءا لفظ کہتے ہیں جب ظن کے معنی میں آئے اور مضارع ہو تو صرف مجہول مستعمل ہے عرب کے، معروف مستعمل نہیں ہے ظن کے معنی میں۔
تو کبھی کبھار مخاطب کو غلطی پر متنبہ کرنے کے لیے مسند الیہ کو کس کی صورت میں لاتے ہیں؟ اسم موصول کی صورت میں۔ شاعر کیا کہتا ہے: وہ جن کو تم کیا گمان کرتے ہو؟ اپنے بھئی گمان کرتے ہو، ان کے سینوں کی آگ بجھتی ہے تمہاری ہلاکت کے ساتھ، تمہاری ہلاکت سے ان کے سینوں کی آگ بجھتی ہے۔
ایک شخص کو آپ منع کرنا چاہتے ہیں، کس سے منع کرنا چاہتے ہیں؟ برے دوستوں سے۔ آپ اس کو ایک صورت یہ ہے کہہ سکتے ہیں مولانا: زید تجھے ضرور نقصان پہنچائے گا، زید تجھے ضرور نقصان پہنچائے گا۔ اس میں کوئی غلطی پر تنبیہ نہیں ہے مولانا، بس اس کو آپ روک رہے ہیں بھئی زید سے پیچھے ہٹ جاؤ، زید تمہیں کیا کرے گا؟ نقصان پہنچائے گا۔ لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں: بھئی وہ جس کو تم اپنا گہرا مخلص دوست سمجھتے ہو وہ یقیناً تمہیں کیا کرے گا؟ نقصان پہنچائے گا۔ تو یہاں مولانا جب آپ نے زید کے بجائے اسم موصول ذکر کیا: جس کو تم اپنا گہرا دوست سمجھتے ہو وہ تمہیں کیا کرے گا؟ یعنی تمہارا اس کو گہرا دوست سمجھنا کیا ہے؟ غلط ہے۔ تو اسم موصول کی صورت میں کیا ہوا؟ غلطی پر تنبیہ ہو گئی۔
جیسے مولانا: وہ جس کے اشاروں پر تم ناچتے ہو وہ تمہیں ضرور غرق کر دے گی! بھئی بیوی کی ایک ایک بات مانتے ہو اور دنیا کی پروا ہی نہیں کرتے، وہ جو کہہ دے بس کہہ دیا، وہ حرفِ آخر ہے۔ تو اب یہ بات کہنا، ایک آپ یہ کہتے ہیں کہ بیوی تمہیں نقصان پہنچائے گی، اس صورت میں وہ صراحت نہ تھی، لیکن جب آپ نے کیا کہا کہ جس کے تم اشاروں پر ناچتے ہو، معلوم ہوا یہ تمہارا اشاروں پر ناچنا کیا ہے؟ غلط ہے، تو اس میں غلطی پر تنبیہ ہوئی۔
”فَفِيهِ مِنَ التَّنْبِيهِ“، پس اس کے اندر مولانا اسم موصول کی صورت میں لانے کے اندر تنبیہ ہے، کس چیز پر مولانا؟ ”فِي خَطَئِهِمْ هٰذَا الظَّنَّ“، کہ اس ظن میں وہ کس میں ہیں؟ غلطی میں ہیں، ”مَا لَيْسَ فِي قَوْلِكَ“، جو کہ تنبیہ نہیں ہے آپ کے اس قول کے اندر: ”إِنَّ الْقَوْمَ الْفُلَانِيَّةَ يَشْفِي غَلِيلَ صُدُورِهِمْ أَنْ تُصْرَعُوا“، یوں کہتے تو اس صورت میں غلطی پر تنبیہ نہ ہوتی۔
بس مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔