Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-145

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں آپ نے پڑھا علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ تعریض کبھی وہ مجاز ہوگی اور کبھی کیا ہوگی؟ کنایہ ہوگی۔ جیسے آذیتنی فستعرف یہ مثال ذکر کی بھئی۔ تو یہاں پر تائے خطاب مخاطب کے صیغے ذکر ہوئے اگر یہاں پر مخاطب مراد نہیں بلکہ مخاطب کے بجائے کوئی دوسرا شخص مراد ہو مولانا تو اس صورت میں یہ مجاز ہوگا، اور اگر یہاں مخاطب اور مخاطب کے ساتھ کوئی دوسرا شخص دونوں مراد ہیں تو اس صورت میں یہ کیا ہوگا؟ کنایہ ہوگا مولانا۔ تو یہاں پر آپ قرینہ دیکھیں گے اگر قرینہ مانع ہے مخاطب سے تو معلوم ہوا یہ پھر کیا ہے؟ مجاز ہے، اور اگر ایسا قرینہ کوئی قرینہ مانعہ موجود نہیں تو اس صورت میں پھر یہ کیا ہوگا؟ کنایہ ہوگا کہ غیر بھی مراد ہے اور مخاطب بھی مراد ہے۔ اور اگر صرف غیر مراد ہے مخاطب مراد نہیں تو پھر کیا ہوگا؟ مجاز، کیونکہ مجاز میں بھی کیا ہوتا ہے؟ حقیقت سے مانع قرینہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسری بات انہوں نے یہ بتلائی کہ بلغاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مجاز حقیقت سے افضل ہے، کنایہ تصریح سے افضل ہے، استعارات تحقیقیہ اور تمثیلیہ یہ تشبیہ سے افضل ہیں۔ اور بتلایا کہ ان سے کوئی معنی میں زیادتی حاصل نہیں ہوتی صرف یہ کلام کے اندر مبالغے اور تاکید کا فائدہ دیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ کیا ہیں؟ افضل ہیں، ان کی وجہ سے مقصود اچھی طرح بیان ہو جاتا ہے بھئی۔ ”الْفَنُّ الثَّالِثُ عِلْمُ الْبَدِيعِ“ علم معانی بھی مولانا ختم ہوا اور علم بیان بھی ختم ہوا بھئی۔ اب علم بدیع شروع ہو رہا ہے۔ علم بدیع کے اندر ہمیں مختلف ایسی چیزیں بتلائیں گے، مصنف ایسی صنعتیں بتلائیں گے کہ جن کی وجہ سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے بھئی۔ کلام میں کیا پیدا ہوتا ہے؟ حسن پیدا ہوتا ہے بھئی۔ اور یہ کلام میں مصنف آپ کو بتلائیں گے کہ حسن کو بعد میں ہم ملاحظہ کریں گے، پہلے دیکھیں گے کہ کلام میں بلاغت ہے یا بلاغت نہیں۔ اس لیے کہ بلاغت اصل ہے کلام کے اندر اور یہ جو محسنات لفظیہ، معنویہ وغیرہ ہیں یہ فرع ہیں۔ تو پہلے اصل کو دیکھا جائے گا اور اس کے بعد کس کو دیکھا جائے گا؟ فرع کو دیکھا جائے گا۔ یہ نہ ہو کہ کلام کے اندر بلاغت ہے نہیں، مقتضائے حال کے مطابق نہیں ہے یا اس کی دلالت معنی مراد پر واضح نہیں ہے اور پھر اس کے اندر صنعتوں کو آپ ملاحظہ کرنا شروع کر دیں، یا صنعتیں بلاغت نہیں ہے اور اس میں مختلف محسنات آپ محسنات ذکر کیے گئے ہوں مولانا تو یہ درست نہیں۔ اور یہ اسی طرح ہو جائے گا کہ کلام تو بلیغ نہیں ہے اور کیا ہیں اس میں محسنات موجود ہیں تو یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں خنزیر کے گلے میں کیا پہنا دیے جائیں؟ قیمتی قسم کے ہار پہنا دیے جائیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کلام تو آپ کا بلاغت کے معیار پہ پورا نہیں اتر رہا اور کیا کر دیا آپ نے اس میں؟ محسنات پیدا کر دیے ہیں بھئی۔ پہلے کلام کے اندر بلاغت آئے اس کے بعد کیا ہو؟ محسنات اس میں آئیں گے۔ علم معانی کے اندر ہم نے پڑھا تھا کہ علم معانی نے اس سے آپ کو اس میں کیا پڑھا آپ نے کہ کلام کو کیسے مطابق کیا جاتا ہے کس کے؟ مقتضائے حال کے۔ کہاں مبتدا ذکر کرنا ہے، کہاں ذکر نہیں کرنا، کہاں حذف اور کہاں پر اس کو معرفہ لانا ہے، کہاں پر اس کو نکرہ لانا ہے، کہاں اس کو اسم موصول کی صورت میں لانا ہے، کہاں اسم اشارہ کی صورت میں لانا ہے، کہاں اس کو ضمیر کی صورت میں لانا ہے، تو وہ تمام چیزیں آپ نے پڑھیں علم معانی کے اندر بھئی۔ تو علم معانی کے ذریعے جانا جاتا ہے کہ کلام کو کس طرح مقتضائے حال کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یرحمک اللہ۔ اور علم بیان کے ذریعے آپ کو پتہ چلا کہ تعقید معنوی سے کیسے بچا جاتا ہے۔ تو علم معانی یہاں پر مصنف بتلائیں گے کہ یہ وجوہ تحسین کو تب ملاحظہ کریں گے کہ پہلے کیا ہو؟ کلام مطابق ہو مقتضائے حال کے اور اس کی دلالت بھی کیا ہو اپنے معنی پر؟ واضح ہو، یعنی پہلے علم معانی اور علم بیان یہ علم بدیع پر مقدم ہیں۔ پہلے ان کو دیکھا جائے گا اور اس کے بعد پھر کس کا ملاحظہ کیا جائے گا؟ علم بدیع کی محسنات کو۔ تو بدیع کے معنی ہیں انوکھا اور عجیب مولانا، تو چونکہ اس میں مذکور صنعتوں کی وجہ سے بھی کلام کیا ہو جاتا ہے؟ انوکھا، عجیب اور خوشگوار ہو جاتا ہے اس لیے اس کو علم البدیع کہتے ہیں۔ ”وَهُوَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ“ صرف متن دیکھیں: ”بَعْدَ رِعَايَةِ الْمُطَابَقَةِ لِمُقْتَضَى الْحَالِ وَرِعَايَةِ وُضُوحِ الدَّلَالَةِ“ وہ علم ہے جس کے ذریعے جانا جاتا ہے کلام میں حسن پیدا کرنے والے امور کو۔ ان امور کو جانا جاتا ہے جو کلام میں کیا پیدا کرتے ہیں؟ حسن پیدا کرتے ہیں، اور کب یہ حسن کب پیدا کریں گے مولانا، کب ان کو ملاحظہ کیا جائے گا؟ ”بَعْدَ رِعَايَةِ الْمُطَابَقَةِ لِمُقْتَضَى الْحَالِ“ مقتضائے حال کے ساتھ مطابقت کی رعایت کے بعد، اور اسی طرح کلام کی دلالت واضح ہونے کی رعایت کے بعد کہ کلام کی دلالت معنی مراد پر کیا ہو؟ واضح ہو۔ ”وَهُوَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ“ وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام میں حسن پیدا کرنے کے امور کو جانا جاتا ہے، ”أَيْ يُتَصَوَّرُ مَعَانِيهَا“ یعنی اس کے معانی جو ہیں اس کی علتیں ہیں ان کو تصور کیا جاتا ہے، ”وَيُعْلَمُ أَعْدَادُهَا وَتَفَاصِيلُهَا“ اور ان کے شمار کو جانا جاتا ہے اور ان کی تفاصیل ان کے شمار کو جانا جاتا ہے مولانا، بعض لفظی ہیں آگے آئے گا اور بعض کیا ہیں؟ معنوی ہیں، اور ان کی تفاصیل کو ”بِقَدْرِ الطَّاقَةِ أَيْ بِقَدْرِ الطَّاقَةِ الْبَشَرِيَّةِ“ انسانی طاقت کے بقدر جانا جاتا ہے بھئی۔ یہ علامہ تفتازانی نے اس لیے ذکر کیا کہ اوپر آیا تھا وجوہ، کن کن چیزوں کو جانا جاتا ہے؟ کلام میں حسن پیدا کرنے والی وجوہ کو جانا جاتا ہے، تو معلوم ہوا جمع کا لفظ ہے، معلوم ہوا وجوہ کافی ہیں مولانا، وجوہ کیا ہیں؟ کافی ہیں، تو پھر کتنی ہیں بھئی؟ کیا کوئی خاص تعداد میں منحصر ہیں، خاص تعداد ہیں ان کی؟ تو بتلایا نہیں بھئی، یہ جو ہیں محسنات علم بدیع جو ہیں ان کا پتہ ذوق سلیم سے چلتا ہے، کس سے؟ ذوق بتلاتا ہے کہ ان چیزوں سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے اور ان کی کوئی خاص تعداد متعین نہیں ہے، بلکہ اگر آپ کو اللہ نے ذوق سلیم دیا ہے تو آپ ان میں مزید اضافہ بھی کر سکتے ہیں تلاش کے بعد مولانا۔ ”وَالْمُرَادُ بِالْوُجُوهِ“ یہاں سے ایک شبہے کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ شبہ یہ کہ آپ نے کہا وہ علم ہے جس کے ذریعے تحسین کلام کی وجوہ کو جانا جاتا ہے بھئی، تو یہ تو وجوہ کا تو پتہ نہیں مولانا تو یہ کیا ہے؟ وجوہ کا پتہ نہیں تو یہ تو آپ نے تعریف میں کیسی چیز کو ذکر کر دیا جو مجہول ہے بھئی، کیا ہے؟ مجہول ہے، اور مجہول چیز کے ساتھ تعریف صحیح نہیں۔ تو بتلا رہے ہیں علامہ تفتازانی کہ یہ وجوہ کی جو اضافت ہو رہی ہے تحسین کی طرف یہ اضافت کون سی ہے؟ عہدی ہے مولانا، اور اس سے اشارہ ہو رہا ہے ان وجوہ کی طرف جو پہلے مولانا کتاب کے مقدمے میں گزری تھیں، اور وہاں پر یہ عبارت آئی تھی مصنف نے کہا تھا: ”وَتَتْبَعُهَا وُجُوهٌ أُخَرُ تُورِثُ الْكَلَامَ حُسْنًا“ اور ان کے پیچھے ہیں، ان کے تابع ہیں کچھ اور وجوہ جو کلام میں کیا پیدا کرتی ہیں؟ حسن پیدا کرتی ہیں۔ تو وہاں وہ جو وجوہ کا ذکر آیا تھا ان وجوہ کے ذریعے اشارہ ہے ان وجوہ کی طرف مولانا، تو اب تعریف بالمجہول نہ ہوئی بلکہ تعریف بالمعلوم ہوئی بھئی۔ ”وَالْمُرَادُ بِالْوُجُوهِ مَا مَرَّ فِي قَوْلِهِ“ اور مراد وجوہ سے وہ ہیں جو گزری تھیں مصنف کے اس قول کے اندر: ”وَتَتْبَعُهَا وُجُوهٌ أُخَرُ تُورِثُ الْكَلَامَ حُسْنًا“۔ ”وَقَوْلُهُ“ جی، ”وَقَوْلُهُ“ یہ مولانا مبتدا ہے اور ڈیڑھ سطر کے بعد آگے آ رہا ہے ”إِشَارَةٌ“ مولانا، یہ اس کی کیا ہے؟ خبر ہے۔ اور مصنف کا یہ قول جو ہے ”بَعْدَ رِعَايَةِ الْمُطَابَقَةِ لِمُقْتَضَى الْحَالِ“ بعد مقتضائے حال کی رعایت کے ”وَرِعَايَةِ وُضُوحِ الدَّلَالَةِ“ اور دلالت کے واضح ہونے کی رعایت کے بعد۔ ”الْخُلُوِّ عَنِ التَّعْقِيدِ الْمَعْنَوِيِّ“ یہ تفسیر ہے مولانا وضوح دلالت کی مولانا۔ کلام وہ واضح الدلالۃ ہوگا جس میں تعقید معنوی نہ ہو مولانا۔ تعقید معنوی؟ نہ ہو۔ جس میں تعقید معنوی نہ ہو اس کی دلالت واضح ہوگی۔ تو واضح الدلالۃ وہ ہوگا جو خالی ہو تعقید معنوی سے، اس لیے اس کی یہ تفسیر کی۔ تو یہ مصنف کا یہ قول، مصنف نے کیا کہا کہ مطابقت کی مطابقت اور وضوح کی رعایت، وضوح کی رعایت کے بعد، یہ مصنف کا کہنا اشارہ ہے ”إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْوُجُوهَ“ کہ یہ جو وجوہ ہیں ”إِنَّمَا تُعَدُّ مُحَسِّنَةً لِلْكَلَامِ“ ان کو کلام میں حسن پیدا کرنے والا شمار کیا جائے گا ”بَعْدَ رِعَايَةِ الْأَمْرَيْنِ“ بعد ان دونوں امور کی رعایت کے۔ مقتضائے حال کے ساتھ مطابقت بھی ہو اور تعقید معنوی سے بھی خالی ہو، پھر ان کو محسن کلام شمار کیا جائے گا ورنہ نہیں۔ ”وَالظَّرْفُ أَعْنِي قَوْلَهُ بَعْدَ رِعَايَةٍ“ اور یہ جو ظرف آیا تھا مولانا بعد، یہ بعد رعایت یہ متعلق ہے مصنف کے اس قول کے ساتھ ”تَحْسِينُ الْكَلَامِ“، تو یہ بعد ظرف ہے مولانا اور یہ کیا چاہتا ہے؟ کوئی متعلق چاہتا ہے، تو اس کا متعلق کون ہے؟ تحسین مصدر ہے مولانا یہ اس سے متعلق ہے۔ تحسین کلام میں حسن پیدا کریں گے کب؟ ”بَعْدَ رِعَايَةٍ“ حسن پیدا کریں گے بعد رعایت المطابقۃ۔ ”وَهِيَ أَيْ وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ ضَرْبَانِ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں مولانا کہ یہ وجوہ تحسین کلام دو قسم پر ہیں: کچھ معنوی ہیں اور کچھ لفظی ہیں بھئی۔ کچھ معنوی ہیں، کچھ لفظی۔ معنوی اس کتاب کے اندر مصنف انتیس ذکر کریں گے بھئی، اور لفظی صرف سات ذکر کریں گے بھئی۔ تو محسنات معنوی یاد رکھو، کچھ وہ صنعتیں ہیں جو معنی میں حسن پیدا کرتی ہیں، کچھ وہ ہیں جو کس کے اندر حسن پیدا کرتی ہیں؟ لفظوں میں حسن پیدا کرتی ہیں۔ تو جو معنی میں حسن پیدا کرتی ہیں وہ محسنات معنویہ، جو لفظوں میں حسن پیدا کرتی ہیں وہ محسنات لفظیہ۔ لیکن محسنات معنویہ ہونے کا یہ معنی نہیں کہ وہ لفظوں میں حسن پیدا ہی نہیں کریں گی، بعض اوقات ان سے لفظوں میں بھی کیا آ جائے گا؟ حسن، لیکن جو حسن معنوی ہوگا وہ اصل ہوگا اور بالذات ہوگا معنی میں حسن، اور لفظوں میں جو حسن آ رہا ہے وہ کیا ہے؟ ثانیاً ہے اور بالتبع ہوگا، جبکہ اسی طرح محسنات لفظیہ وہ لفظوں میں حسن پیدا کرتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے بعض اوقات کس میں حسن آ جاتا ہے؟ معنی میں بھی حسن آ جائے گا، لیکن وہاں پر حسن لفظی اولاً اور بالذات ہوگا اور حسن معنوی کیا ہوگا؟ ثانیاً اور بالتبع ہوگا۔ ”وَهِيَ أَيْ وُجُوهُ تَحْسِينِ الْكَلَامِ ضَرْبَانِ: مَعْنَوِيٌّ أَيْ رَاجِعٌ إِلَى تَحْسِينِ الْمَعْنَى“ اور یہ وجوہ تحسین کلام دو قسم پر ہیں: ایک معنوی ہیں جو لوٹتی ہیں تحسین معنی کی طرف اولاً وبالذات، اولاً اور بالذات کس کی طرف لوٹتی ہیں؟ تحسین معنی کی طرف، ”وَإِنْ كَانَ قَدْ يُفِيدُ بَعْضُهَا تَحْسِينَ اللَّفْظِ“ اگرچہ ان میں سے بعض تحسین لفظ کا فائدہ بھی دیتی ہیں، ”وَلَفْظِيٌّ“ دوسری قسم لفظی ہے ”أَيْ رَاجِعٌ إِلَى تَحْسِينِ اللَّفْظِ كَذَلِكَ“ جو لوٹتی ہے کس کی طرف؟ تحسین لفظ کی طرف اسی طرح، یعنی اولاً اور بالذات لفظ میں حسن پیدا کریں گی اور بعض اوقات ثانیاً اور بالتبع کس میں؟ معنی میں بھی حسن پیدا کریں گی۔ ”أَمَّا الْمَعْنَوِيُّ فَقَدَّمَهُ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں بھئی یہ معنوی کو مقدم کیوں کیا؟ تو علامہ تفتازانی آپ کو بتلائیں گے بھئی کہتے ہیں بھئی کلام میں اصل مقصود جو ہوتا ہے وہ معنی ہوتا ہے اور لفظ تو صرف اس کا سانچہ ہے جس سانچے میں رکھ کر آپ نے معنی کو پیش کیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اصل کلام میں کیا ہے؟ معنی آپ نے دوسرے تک پہنچانا ہوتا ہے اور الفاظ صرف اس کے سانچے ہیں اس کے لیے اور تابع ہیں اس کے۔ ”قَدَّمَهُ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ الْأَصْلِيَّ“ اس کو مقدم کیا معنوی کو اس لیے کہ مقصود اصلی اور غرض اولی جو ہے وہ معانی ہیں ”وَالْأَلْفَاظُ تَوَابِعُ وَقَوَالِبُ لَهَا“ اور الفاظ تابع ہیں اور اس کے سانچے ہیں، معانی کے سانچے ہیں۔ ”فَمِنْهُ الْمُطَابَقَةُ“ یہ شروع ہوئے صنعتیں بتلانا معنوی۔ پہلی مولانا صنعتِ مطابقت ہے، ”وَيُسَمَّى التِّبَاقَ وَالتَّضَادَّ“ طِباق مولانا، باب مفاعلہ طابق یطابق جیسے قاتل یقاتل مقاتلۃ وقتالاً، تو یہ بھی اسی طرح ہے طابق یطابق مطابقۃ وطباقاً۔ ”وَيُسَمَّى التِّبَاقَ وَالتَّضَادَّ أَيْضًا“ اور اس کو طباق اور تضاد بھی کہتے ہیں۔ ”وَهِيَ الْجَمْعُ بَيْنَ الْمُتَضَادَّيْنِ“ یہ صنعت کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهِيَ الْجَمْعُ بَيْنَ الْمُتَضَادَّيْنِ“ یہ ہے کہ جمع کرنا ہے دو متضادین کو مولانا ایک کلام میں، ”أَيْ مَعْنَيَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ فِي الْجُمْلَةِ“ یعنی ایسے دو معانی جو متقابل ہوں فی الجملہ مجموعی اعتبار سے۔ فی الجملہ کیا ہوں آپس میں؟ متقابل ہوں مولانا۔ دیکھیے تفسیر خود: ”أَيْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا تَقَابُلٌ وَتَنَافٍ“ کہ ان دونوں کے درمیان کیا ہو؟ تقابل اور تنافی کا ایک معنی ہے مولانا عطف تفسیری ہے، کہ ان دونوں کے درمیان ان دو معانی میں تقابل ہو۔ بھئی یہ فی الجملہ مصنف نے ذکر کیا بھئی متن میں، یہ متضادین کا لفظ چونکہ ذکر کہ کلام میں مطابقت کس کو کہتے ہیں کہ کلام میں کس کو ذکر کیا جائے؟ دو متضادین کو ذکر کیا جائے، تو متضادین سے آپ وہ نہ سمجھیں مولانا جو آپ نے پہلے پڑھا تھا کہ دو صفات کا اس طور پر ہونا کہ وہ محل واحد میں ان کا جمع ہونا ممکن نہ ہو اور ان میں انتہا درجے کا اختلاف ہو۔ ان میں؟ ہاں، یہ وہ متضاد مراد نہیں ہے، بس فی الجملہ متقابل ہوں، ایک دوسرے کے کیا ہوں؟ مقابل ہوں، انتہا درجے کا اختلاف ہونا ضروری نہیں۔ تو ان میں تقابل ہونا چاہیے بس، ”وَلَوْ فِي بَعْضِ الصُّوَرِ“ اگرچہ صرف بعض صورتوں میں ہو، ”سَوَاءٌ كَانَ التَّقَابُلُ حَقِيقِيًّا أَوْ اعْتِبَارِيًّا“ چاہے تقابل حقیقی ہو یا اعتباری ہو، اعتباری ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا تو تقابل حقیقی ہوگا مولانا یا اعتباری ہوگا۔ حقیقی کی مثال انہوں نے جیسے قدیم ہونا اور حادث ہونا، ایک چیز قدیم ہو ہمیشہ نہ یعنی اس پر کبھی عدم نہیں آیا بھئی۔ قدیم کس کو کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، ذات باری تعالیٰ صرف ذات باری تعالیٰ قدیم ہے مولانا، اور باقی تمام چیزیں کیا ہیں؟ حادث ہیں بھئی۔ ذات باری تعالیٰ اور صفات باری تعالیٰ مولانا قدیم۔ ”أَوْ اعْتِبَارِيًّا“ یا اعتباری ہے جو معتبر کے اعتبار پر موقوف ہوں۔ اس کی مثال انہوں نے ذکر کی جیسے احیاء اور اماتت مولانا، زندہ کرنا اور موت دینا۔ یہ اعتباری ان میں تقابل جو ہے وہ معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے، اس لیے کہ اماتت کا معنی بھی خلق ہے، موت کا پیدا کرنا بھئی، اور احیاء کا کیا معنی مولانا؟ زندگی، تو دونوں پیدا کرنا خلق ہیں دونوں خلق۔ سمجھ میں آیا؟ خلق ہیں مولانا۔ البتہ حیات کے ساتھ اسی خلق کا تعلق آئے تو احیاء کہلائے گا، موت کے ساتھ اس کا تعلق آئے تو یہ کیا خلق کیا کہلائے گی؟ اماتت کہلائے گی، تو یہ اعتباری ہے۔ ”وَسَوَاءٌ كَانَ تَقَابُلَ التَّضَادِّ“ یا مولانا برابر ہے چاہے تقابل تضاد ہو ”أَوْ تَقَابُلَ الْإِيجَابِ وَالسَّلْبِ“ یا تقابل ایجاب و سلب ہو ”أَوْ تَقَابُلَ الْعَدَمِ وَالْمَلَكَةِ أَوْ تَقَابُلَ التَّضَايُفِ“۔ آپ کو بتلایا تھا مولانا میں نے تقابل کتنی قسم پر ہیں؟ چار۔ بھئی متقابلین میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی، متقابلین وہ دو صفات متقابلین کہلاتی ہیں جو محل واحد پر جمع نہ ہو سکیں جہت واحدہ سے، محل واحد میں ایک وقت میں جمع نہ ہو سکیں جہت واحدہ سے، اور یہ چار قسم پر بتلایا تھا مولانا: تقابل تضاد، تقابل الایجاب والسلب، تقابل العدم والملکہ اور تقابل التضایف بھئی۔ متقابلین کن کو کہتے ہیں؟ وہ دو جو وہ دو صفات جو مولانا ایک محل پر جمع نہ ہو سکیں من جہۃ واحدۃ۔ وہ دونوں صفات یا تو وجودی ہوں گی یا ایک وجودی ہوگی اور ایک کیا ہوگی؟ عدمی۔ اگر دونوں وجودی ہیں مولانا پھر دونوں میں سے ایک کا سمجھنا دوسری کے سمجھنے پر موقوف ہوگا یا موقوف نہیں؟ اگر ایک کا سمجھنا دوسری کے سمجھنے پر موقوف نہیں تو یہ مولانا متضادین ہیں بھئی، اور اگر ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہے تو پھر یہ تضایف ہے مولانا، جیسے ابوت اور بنوت بھئی، ابوت اور بنوت۔ باپ کس کو کہتے ہیں؟ جس کی اولاد، بیٹا ہو۔ اور بیٹا کس کو کہیں گے؟ جس کا باپ ہو۔ اور اگر ایک وجودی ہے اور ایک عدمی ہے مولانا، پھر مولانا عدمی اس عدمی کے اندر اس صفت کا سلب ہوگا یا تو مطلقاً یا تو مطلقاً سلب ہوگا یا سلب ہوگا ایسی چیز سے جہاں اس کا وجود ممکن تھا۔ جہاں اس کا وجود کیا تھا؟ ممکن تھا، جیسے مولانا اگر ممکن تھا تو پھر یہ مولانا تقابل عدم والملکہ ہے، اور اگر مطلقاً ہے پھر تقابل ایجاب و سلب۔ تو عدمی کے اندر سلب شے ہوگا مولانا، کیا ہوگا؟ سلب شے ہوگا، یا تو وہ سلب شے ایسی چیز سے ہوگا جہاں پر اس کا وجود کیا تھا؟ ممکن تھا، یا مطلقاً مولانا۔ اگر ممکن وجود تھا تو پھر یہ کیا ہے تقابل عدم والملکہ، جیسے بینا اور نابینا۔ نابینا کے اندر کیا ہے مولانا؟ جس کی بینائی نہ ہو، تو دیکھو عدم ہے، اور عدم مطلقاً ہے یا اس چیز سے ہے جس کے اندر دیکھنے کی طاقت تھی؟ نابینا اسی کو کہیں گے جس کے اندر دیکھنے کی طاقت تھی، جس کے اندر اس صفت کا ہونا ممکن تھا۔ تو پتھر کو، دروازے کو نابینا نہیں کہیں گے کیونکہ اس کے اندر تو دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ اور اگر مطلق تو یہ تقابل عدم والملکہ ہے۔ اور اگر مطلقاً نفی ہے مولانا بغیر یہ دیکھے کہ اس میں ممکن ہے، تو پھر یہ کیا ہے؟ تقابل ایجاب و سلب ہے، جیسے کتاب اور لا کتاب مولانا۔ اور ان یہ ان کو کیا کہتے ہیں؟ نقیضین کہتے ہیں، ان میں دو ان میں سے دنیا میں سے کوئی بھی شے ہو دنیا میں وہ دو نقیضین ہوں ان میں سے ایک اس میں ضرور پائی جائے گی، ان سے خالی نہیں ہوگی۔ دنیا کی کوئی بھی چیز ہو وہ یا کتاب ہوگی یا لا کتاب، وہ انسان ہوگی یا لا انسان، وہ قلم ہوگی یا لا قلم۔ تو یہ تقابل ایجاب، تفصیل گزر چکی ہے مختصراً میں نے آپ کو بتلایا۔ تو اس اور چاہے ان میں سے کوئی تقابل ہو ”أَوْ مَا يُشْبِهُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ“ یا ان کے مشابہ کوئی چیز ہو مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ شبہ تضاد وغیرہ بھی ذکر ہوا تھا، کوئی بھی ہو ان میں۔ ”وَيَكُونُ ذَلِكَ الْجَمْعُ بِلَفْظَيْنِ“ یہاں سے اب قسمیں بتلانے لگے ہیں بھئی۔ مطابقت کس کو کہتے ہیں؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کہ دو ایسی صفات کا ذکر کرنا، دو ایسے معانی کا کلام میں ذکر کرنا جو فی الجملہ ایک دوسرے کے کیا ہوں؟ مقابل ہوں، ایک دوسرے کے متقابل۔ پھر یہ جو معنی آپ نے ذکر کیے ان کو یا تو ایک ہی جنس کے لفظوں سے ذکر کریں گے یا الگ الگ جنس کے لفظوں سے ذکر کریں گے۔ ایک ہی جنس کے ہونے کا یہ معنی: آپ نے دو معنی ذکر کیے، پہلے کو بھی اسم کی صورت میں ذکر کیا، دوسرے کو بھی اسم۔ پہلے کو بھی فعل کی صورت میں ذکر کیا، دوسرے کو بھی فعل۔ پہلے کو اگر حرف کی صورت میں ذکر کیا تو دوسرے کو بھی حرف، تو دیکھو یہ ایک جنس کے ہیں۔ یا مولانا دو معنی ذکر کیے لیکن پہلے کو فعل کے ساتھ ذکر کیا اور دوسرے کو اسم، یا پہلے کو اسم دوسرے کو حرف، یا پہلے کو حرف دوسرے کو فعل۔ تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ صورتیں: یا دونوں اسم کے ساتھ ذکر ہوں گی، یا دونوں فعل کے ساتھ، یا دونوں حرف کے ساتھ، یا ایک اسم کے ساتھ دوسری فعل، یا ایک اسم کے ساتھ دوسری حرف، یا ایک فعل کے ساتھ اور ایک حرف۔ چھ قسمیں ہوئیں بھئی۔ ”وَيَكُونُ ذَلِكَ الْجَمْعُ بِلَفْظَيْنِ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ مِنْ أَنْوَاعِ الْكَلِمَةِ“ اور وہ جو جمع ہے دو لفظوں کے وہ ایک ہی نوع کلمے کی انواع میں سے ایک ہی نوع کے ساتھ ہوگا، جیسے دو اسم اسمین، اور وہ جمع کیا ہوگی دو اسموں کے ساتھ ہوگی، جیسے نحو: ”وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ“ اصحاب کہف کے بارے میں آتا ہے کہ تو ان کو گمان کیا کرے گا کہ وہ بیدار ہیں، اور وہ حال یہ ہے کہ وہ کیا ہیں؟ سوئے ہوئے ہیں۔ تو دیکھو ”أَيْقَاظًا“ ذکر ہوا اور ”رُقُودٌ“، ایقاظ جمع ہے یقظ یا یقظ کی مولانا، اور رقود جمع ہے راقد کی، اور یہ دونوں کیا ہیں؟ متقابلین ہیں مولانا، اور دونوں اسم ہیں مولانا۔ ایقاظ جمع ہے مولانا یہ بھی اسم، رقود جمع یہ بھی کیا ہے اسم۔ ”أَوْ فِعْلَيْنِ“ یا دونوں وہ معانی کس کے ساتھ ذکر ہوں گے مولانا؟ فعل کے ساتھ، نحو: ”يُحْيِي وَيُمِيتُ“۔ ”يُحْيِي“ دیکھو زندہ کرنا اور ”يُمِيتُ“ موت دینا، تو دیکھو یحیی فعل ہے، یمیت بھی فعل۔ ”أَوْ حَرْفَيْنِ“ یا وہ دو معنی متقابلین کس کے ساتھ ذکر ہوں گے؟ حرف کے ساتھ، جیسے ”لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ“۔ لہا ہر نفس کے لیے ہے ما وہ چیز کسبت جو اس نے کمایا، وعلیہا اور اسی پر اس کا ضرر ہے ما اکتسبت جو اس نے جو اس نے فعل کیا۔ ”فَإِنَّ فِي اللَّامِ مَعْنَى الِانْتِفَاعِ“ بھئی باقی دو کی تفصیل علامہ تفتازانی نے نہیں کی، ایقاظ رقود میں دو اسم تھے، دو فعل تھے، لیکن چونکہ حرف کے مسئلے میں کچھ خفاء تھا تو اب بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہاں دو متقابل معانی پر حرف کیسے دلالت کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو یہاں لام آیا اور علیٰ آیا، لام آتا ہے کس کے لیے؟ نفع کے لیے، اور علیٰ کس کے لیے آتا ہے؟ ضرر کے لیے آتا ہے۔ ”فَإِنَّ فِي اللَّامِ مَعْنَى الِانْتِفَاعِ“ اس لیے کہ لام میں انتفاع کا معنی ہے ”وَفِي عَلَى مَعْنَى التَّضَرُّرِ“ اور علیٰ کے اندر کس کا کیا معنی ہے؟ ضرر کا، نقصان کا ہے، ”أَيْ لَا يَنْتَفِعُ بِطَاعَتِهَا وَلَا يَتَضَرَّرُ بِمَعْصِيَتِهَا غَيْرُهَا“ نفع نہیں اٹھاتا اس کی طاعت کے ساتھ، بھئی نفع نہیں اٹھاتا ینتفع کا فاعل آگے آ رہا ہے غیرہا، یہ فاعل ہے۔ ایک نفس کی اطاعت کے ساتھ کوئی غیر اس کا نفع نہیں اٹھاتا بلکہ وہ نفس خود ہی کیا کرتا ہے اس کا؟ اور ضرر نہیں اٹھاتا کسی نفس کی معصیت کا کوئی غیر بھئی، بلکہ وہی نفس کیا ہے اس کا؟ اپنے عمل کا نفع بھی نفس خود ہی اٹھاتا ہے اور اپنے عمل کا نقصان بھی نفس خود ہی، کوئی اور اس کا نہ نفع اٹھاتا ہے اور نہ ضرر۔ تو دیکھو ینتفع کا فاعل بھی غیرہا بن رہا ہے، یتضرر کا بھی مولانا، تو یہ دو فعل ہیں جو جھگڑا کر رہے ہیں غیرہا کے بارے میں۔ ینتفع چاہتا ہے میرے لیے فاعل بنے اور یتضرر کیا چاہتا ہے؟ میرے لیے فاعل بنے، یہ ہے تنازع فعلین کے قبیل سے مولانا، تو ایک کو جب آپ عمل دے دیں گے تو دوسرے میں کیا ماننی پڑے گی؟ ضمیر فاعل کی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”أَوْ مِنْ نَوْعَيْنِ“ یا دو الگ انواع سے ہوں گے، ”أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ“ کیا وہ جو مردہ تھا پس ہم نے اس کو زندہ کر دیا؟ تو دیکھو ”مَيْتًا“ یہ اسم ذکر ہوا، اور ”فَأَحْيَيْنَاهُ“ میں حیات آ گئی مولانا، اور یہ کس کے ساتھ ذکر ہوا؟ فعل کے ساتھ۔ ”فَإِنَّهُ قَدْ عُتُبِرَ فِي الْإِحْيَاءِ مَعْنَى الْحَيَاةِ“ اس لیے کہ اعتبار کیا گیا ہے احیاء کے اندر کس معنی کا؟ حیات کا، جو کہ موت کے مقابل ہے۔ ”وَالْمَوْتُ وَالْحَيَاةُ مِمَّا يَتَقَابَلَانِ“ اور موت اور حیات ان چیزوں میں سے ہیں جو متقابلان ہیں، ”وَقَدْ دُلَّ عَلَى الْأَوَّلِ بِالِاسْمِ وَعَلَى الثَّانِي بِالْفِعْلِ“ اور دلالت کی گئی ہے اول پر کس کے ساتھ؟ ”مَيْتًا“ اسم ہے، ”وَعَلَى الثَّانِي“ حیات پر کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ ”فَأَحْيَيْنَاهُ“۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ صنعتِ طباق کس کو کہتے ہیں؟ کہ دو متقابل اور متضاد معانی کو کیا کرنا ایک کلام کے اندر؟ جمع کرنا۔ اس کی بہت سی مثالیں قرآن میں مل جاتی ہیں جیسے ”إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا“۔ بشیر کا کیا معنی؟ خوشخبری دینے والا، نذیر کا کیا معنی؟ ڈرانے والا، تو دیکھا یہ دو متقابلین ہیں۔ اسی طرح: ”تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ“۔ تؤتی دینا، تنزع لینا، تو یہ دو متقابلین ذکر ہیں۔ اسی طرح ”وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ“، عزت دینا اور ذلت دینا دو متقابلین ذکر ہیں۔ اور جیسے یہ ایک شاعر کہتا ہے مولانا: ”أَمَا وَالَّذِي أَبْكَى وَأَضْحَكَ وَالَّذِي ... أَمَاتَ وَأَحْيَا وَالَّذِي أَمْرُهُ الْأَمْرُ“ ”لَقَدْ تَرَكَتْنِي أَحْسُدُ الْوَحْشَ أَنْ أَرَى ... خَلِيلَيْنِ مِنْهَا لَا يَرُوعُهُمَا الذَّعْرُ“ قسم ہے ”أَمَا وَالَّذِي أَبْكَى وَأَضْحَكَ“ قسم ہے اس ذات کی جو رلاتی ہے اور جو ہنساتی ہے، ”وَالَّذِي أَمَاتَ وَأَحْيَا“ اور قسم ہے اس ذات کی جو موت دیتی ہے اور جو زندگی دیتی ہے، ”وَالَّذِي أَمْرُهُ الْأَمْرُ“ اور قسم ہے اس ذات کی کہ جس کا حکم ہی درحقیقت کیا ہے؟ حکم ہے، ”لَقَدْ تَرَكَتْنِي“ تحقیق میری معشوقہ نے مجھے چھوڑ دیا ہے، مجھے اس حال میں کر دیا ہے کہ ”أَحْسُدُ الْوَحْشَ أَنْ أَرَى خَلِيلَيْنِ مِنْهَا لَا يَرُوعُهُمَا الذَّعْرُ“، مجھے اس طرح کر دیا اس حال میں پہنچا دیا ہے کہ میں انسان دو انسان محبت کرنے والوں کو جب اکٹھا دیکھتا ہوں ان سے تو حسد کرتا ہی ہوں اب، اب تو میں دو جانوروں کو بھی اکٹھا پھرتے ہوئے دیکھ لوں تو ان سے بھی کیا کرنے لگتا ہوں؟ حسد کرنے لگتا ہوں کہ دیکھو انہیں کسی کا خوف ہی نہیں، بلا خوف و خطر کیا ہیں؟ گھوم پھر رہے ہیں۔ تو دیکھو یہاں پر ”أَبْكَى“، ”أَضْحَكَ“ آیا، ”أَمَاتَ“، ”أَحْيَا“ آیا مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ یا جیسے مولانا یہ گیا بھئی اپنی معشوقہ کے پاس اور اس کو کیا کہتا ہے؟ اس کے بارے میں: ”قَالَتْ وَقَدْ رَاعَهَا مَشِيبِي ... كُنْتَ ابْنَ عَمٍّ فَصِرْتَ عَمَّا“ ”وَاسْتَهْزَأَتْ بِي فَقُلْتُ أَيْضًا ... قَدْ كُنْتِ بِنْتًا فَصِرْتِ أُمَّا“ ”قَالَتْ وَقَدْ رَاعَهَا مَشِيبِي“ کہتے ہیں میں نے اس سے اظہار محبت کیا تو ”قَالَتْ“ اس نے کہا ”وَقَدْ رَاعَهَا مَشِيبِي“ اور تحقیق اس کو میرے بڑھاپے نے ڈرا دیا تھا۔ بوڑھا ہونے کے بعد اظہار عشق کر رہا ہے بھئی۔ اور تحقیق اس کو میرے بڑھاپے نے ڈرا دیا تھا، اس نے وہ مجھے کہنے لگی: ”كُنْتَ ابْنَ عَمٍّ فَصِرْتَ عَمَّا“ کہ تو تو پہلے بھتیجا ہوتا تھا اب تو تو چچا بن گیا ہے۔ ”وَاسْتَهْزَأَتْ بِي فَقُلْتُ أَيْضًا“ اس نے میرے ساتھ مذاق کیا تو شاعر کہتے ہیں میں نے بھی اسے کہا: ”قَدْ كُنْتِ بِنْتًا فَصِرْتِ أُمَّا“ کہ تو بھی لڑکی ہوا کرتی تھی تو بھی کیا بن گئی ہے؟ ماں بن گئی ہے بھئی۔ ”قَالَتْ وَقَدْ رَاعَهَا مَشِيبِي“ اس نے کہا اور تحقیق اس کو ڈرایا تھا میرے بڑھاپے نے، ”كُنْتَ ابْنَ عَمٍّ فَصِرْتَ عَمَّا“ کہ تو تو بھتیجا تھا اب کیا بن گیا ہے؟ چچا بن گیا ہے۔ ”وَاسْتَهْزَأَتْ بِي“ اور اس نے میرے ساتھ مذاق کیا تھا ”فَقُلْتُ أَيْضًا“ تو میں نے بھی کہا: ”قَدْ كُنْتِ بِنْتًا فَصِرْتِ أُمَّا“۔ یا جیسے اردو میں ہے مولانا دو متقابل معانی: مشکلیں ہم پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں تو دیکھو مشکل اور آساں ذکر ہے۔ یا جیسے مولانا: اپنا اپنا ظرف ہے یہ شبنم روئی پھول ہنسا اپنا اپنا ظرف ہے یہ شبنم روئی پھول ہنسا دل ٹوٹا تو محفل چپ، جام گرا تو شور اٹھا تو رونے اور ہنسنے کا تذکرہ ہے یہاں پر بھئی۔ یا جیسے اردو کے اس شعر میں مولانا: میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے تو سوال اور جواب آئے مولانا۔ یا جیسے اردو کے اس شعر میں ہے مولانا: محبت آہ کیا کیا رنگ عاشق کو دکھاتی ہے محبت آہ کیا کیا رنگ عاشق کو دکھاتی ہے اگر اک دم ہنساتی ہے تو پھر پہروں رلاتی ہے تو یہاں بھی ہنسانے اور رلانے کا تذکرہ۔ یا جیسے اردو کے اس شعر میں ہے مولانا: ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں جگر کی آگ دبی ہے مگر بجھی تو نہیں جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی کٹی ہے بر سرِ میداں مگر جھکی تو نہیں تو جلنے اور بجھنے کا تذکرہ آیا بھئی، تو دو متقابل معانی دن اور رات، سردی گرمی وغیرہ اس طرح کے معانی ذکر ہوں تو یہ صنعتِ طباق ہے بھئی۔ اس کے بعد آگے ”وَهُوَ أَيِ الطِّبَاقُ“ پھر تقسیم کر رہے ہیں طباق کی بتلا رہے ہیں مولانا کہ یہ طباق دو قسم پر ہے: ایک طباق الایجاب ہے اور ایک طباق السلب ہے۔ طباق الایجاب یہ کہ دونوں صفتیں موجب ہوں مولانا، دونوں مثبت ہوں مولانا، صفات کیا ہوں؟ مثبت ہوں۔ اور دوسرا ہے طباق السلب مولانا، طباق السلب وہ ہے کہ دو فعل ذکر ہوں ایک مثبت ہو اور ایک منفی ہو۔ وہی فعل مولانا مثبت بھی ذکر ہے اور منفی بھی ذکر ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ طباق السلب کہتے ہیں۔ طباق الایجاب تو یہ تھا کہ دونوں صفات موجب ہوں مولانا، مثبت ہوں جو ابھی گزری مولانا، جیسے ”وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ“، ایقاظ اور رقود دونوں مثبت ہیں مولانا، ”يُحْيِي وَيُمِيتُ“ مثبت ہیں مولانا، ”لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ“ مثبت ہیں مولانا، ”مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ“ دونوں کیا ہیں؟ مثبت۔ اور طباق السلب کیا ہے؟ ایک ہی فعل ذکر ہو مثبت بھی اور پھر منفی بھی، جیسے ہنسنا، نہ ہنسنا یہ ذکر ہو مولانا، رونا، نہ رونا، جانا، نہ جانا، اور جیسے مثال میں آئے گا ”يَعْلَمُونَ“ اور ”لَا يَعْلَمُونَ“ ذکر ہے ذکر ہوگا۔ یا مولانا امر اور نہی آ جائیں مولانا، یہ بھی کیا ہے؟ طباق السلب ہے۔ ”وَهُوَ أَيِ الطِّبَاقُ ضَرْبَانِ“ طباق دو قسم پر ہے: ”طِبَاقُ الْإِيجَابِ كَمَا مَرَّ“ ایک طباق الایجاب ہے جیسے کہ گزر گیا، یہ اوپر جو مثالیں گزری ساری طباق الایجاب کی تھیں، ”وَطِبَاقُ السَّلْبِ“ دوسری طباق السلب ہے، ”وَهُوَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ فِعْلَيْ مَصْدَرٍ وَاحِدٍ“ فعلین تثنیہ تھا، ایک ہی مصدر کے دو فعل ذکر ہوں مولانا ”أَحَدُهُمَا مُثْبَتٌ وَالْآخَرُ مَنْفِيٌّ“ ایک مثبت ہو دوسرا کیا ہو؟ منفی، ایک ہی فعل ایک ہی مصدر کے، ”أَوْ أَحَدُهُمَا أَمْرٌ وَالْآخَرُ نَهْيٌ“ ایک ان میں سے امر ہو اور دوسرا کیا ہو؟ نہی ہو۔ ”فَالْأَوَّلُ“ پہلے کی مثال کہ ایک فعل مثبت ہے دوسرا منفی ہے جیسے قرآن کی آیت: ”وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ، يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا“ تو ”يَعْلَمُونَ“ اور ”لَا يَعْلَمُونَ“۔ اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، وہ جانتے ہیں ظاہر ہی کو یعنی دنیاوی زندگی کو، یعنی ظاہر یعنی دنیاوی زندگی کو ہی جانتے ہیں اخروی زندگی کو نہیں جانتے، یا یہ معنی دنیاوی زندگی میں سے ظاہر ہی کو جانتے ہیں باطن کو نہیں جانتے، ظاہر ہی کو دنیاوی زندگی میں سے جانتے ہیں دیکھتے ہیں کہ دنیاوی زندگی تو کیا ہے؟ لذتیں وغیرہ ہیں اس میں، باطن کو نہیں جانتے کہ یہ دنیا تو دراصل آخرت کی کھیتی ہے۔ ”وَالثَّانِي“ ثانی کی مثال مولانا کہ ایک امر اور دوسرا نہی ہو جیسے قرآن میں ہے: ”فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ“ پس لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ ”وَمِنَ الطِّبَاقِ مَا سَمَّاهُ بَعْضُهُمْ تَدْبِيجًا“ طباق کی ایک قسم وہ ہے جس کا نام بعض علماء نے تدبیج رکھا۔ طباق کی ایک قسم وہ ہے جس کا نام بعض علماء نے کیا رکھا؟ تدبیج رکھا۔ تدبیج کا معنی ہے مزین کرنا، عربی میں کہتے ہیں: ”دَبَّجَ الْمَطَرُ الْأَرْضَ“ بارش نے زمین کو مزین کر دیا، زینھا۔ ”وَفَسَّرَهُ“ اور اس کی یہ تفسیر بیان کی ہے ”بِأَنْ يُذْكَرَ فِي مَعْنًى مِنَ الْمَدْحِ وَغَيْرِهِ“ کہ ذکر کیا جائے مدح وغیرہ میں سے کسی معنی میں ”أَلْوَانٌ“ کس کو ذکر کیا جائے؟ رنگوں کو ذکر کیا جائے ”لِقَصْدِ الْكِنَايَةِ أَوِ التَّوْرِيَةِ“، لیکن رنگوں کو معنی حقیقی کے لیے ذکر نہیں کرنا بلکہ کس لیے ذکر کیا جائے؟ بطور کنایہ کے ذکر کیا جائے یا بطور توریہ کے۔ کنایہ تو آپ جانتے ہیں مولانا ملزوم بول کر کس کا ارادہ ہو؟ لازم کا، اور توریہ کس کو کہتے ہیں کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوں ایک قریب ہو ایک بعید ہو اور مخاطب قریب کا معنی سمجھے اور آپ کا ارادہ کس کا ہو؟ معنی بعید کا ہو مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کو توریہ کہتے ہیں۔ جیسے مولانا حضرت قاسم نانوتوی رحمہ اللہ جو انگریز کے خلاف پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی کمان کر رہے تھے بھئی، انگریز ان کی تلاش میں تھا ایک مرتبہ ایک مسجد میں موجود تھے انگریز کو خبر مل گئی بھئی کہ یہ وہاں پر ہے، فوج آئی ان کی اور مسجد میں گھس آئے بھئی۔ مولانا کا سادہ لباس تھا سادہ قمیص پہنی ہوئی، دھوتی باندھی ہوئی ہے، سادہ سے دیہاتی کی طرح۔ تو انگریز اندر داخل ہوئے مولانا اپنی جگہ سے کچھ ہٹ کر کھڑے ہوئے نفل پڑھ رہے تھے، اپنی جگہ سے کچھ ہٹ کر کھڑے ہوئے وہ انگریز سپاہی اندر آئے اور پوچھا کہ یہاں مولوی قاسم کو تو نہیں دیکھا آپ نے؟ تو اس میں فرمایا بھئی توریہ کہ بھئی ابھی یہاں پر نفل پڑھ رہے تھے، جہاں سے ہٹے تھے اس جگہ کی طرف کیا اشارہ کر کے فرمایا: ابھی کچھ دیر پہلے یہاں پر نفل پڑھ رہے تھے بھئی۔ تو وہ سمجھے شاید کوئی اور شخص تھا یہاں نفل پڑھ کر نکل گیا، لیکن ان کا اپنا ارادہ تھا بھئی، کیونکہ انگریز سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اتنا سادہ سا آدمی ہے اور کیا کر رہا ہے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی کیا کر رہا ہے؟ کمان کر رہا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں رنگوں کو ذکر کیا جائے کنایہ کے طور پر یا توریہ کے طور پر، اور رنگوں کو ذکر کیا جائے رنگوں سے کیا مراد ہے بھئی؟ الوان تو جمع ہے، کہتے ہیں بھئی الوان جمع ہے لیکن مراد اس سے ما فوق الواحد ہے، دو بھی مراد ہیں بھئی اس سے، دو ذکر ہوں یا دو سے زیادہ ذکر ہوں بھئی۔ ”وَأَرَادَ بِالْأَلْوَانِ مَا فَوْقَ الْوَاحِدِ بِقَرِينَةِ الْأَمْثِلَةِ“ مثالوں کے قرینے سے پتہ چلتا ہے کہ رنگوں سے کیا ارادہ الوان سے کیا ارادہ ہے؟ جمع کا ارادہ نہیں بلکہ ما فوق الواحد کا ارادہ ہے، ”فَتَدْبِيجُ“ تو دو قسم پر ہوئی تدبیج مولانا: ایک تدبیج الکنایہ اور ایک تدبیج التوریہ۔ دونوں کی مثال ذکر کریں۔ نحو قولہ جیسے یہ شعر ہے: ”تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ حُمْرًا فَمَا أَتَى ... لَهَا اللَّيْلُ إِلَّا وَهْيَ مِنْ سُنْدُسٍ خُضْرُ“ ”تَرَدَّى“ ابو تمام شاعر جو ہیں مولانا ابو نہشل کے کا مرثیہ کے مرثیے میں یہ شعر کہہ رہے ہیں مولانا، کے رثاء میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ ابو نہشل شہید ہو گئے تھے تو ابو تمام شاعر کہہ رہے ہیں: ”تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ“ چادر اوڑھ لی مولانا، ترَدیٰ من تردیتُ الثوب اخذتُہ رداءً، یہ تردیتُ الثوب سے ہے یعنی اس کو چادر بنا لینا چادر اوڑھنا۔ اوڑھ لیا اس نے ”ثِيَابَ الْمَوْتِ“ موت کے کپڑے اوڑھ لیے اس حال میں ”حُمْرًا“ کہ وہ کیسے تھے؟ سرخ تھے۔ ”فَمَا أَتَى“ تو دیکھو سرخ کپڑے ذکر کیے اور یہ کنایہ ہے کس چیز سے مولانا؟ جی، یہ کنایہ ہے قتل سے مولانا ان کے یعنی وہ شہید ہوئے اس خون سے سرخ کپڑے، یعنی موت کو گلے لگایا۔ ”فَمَا أَتَى لَهَا اللَّيْلُ“ پس نہیں تلک الثیاب ان کپڑوں پر رات نہیں آئی ”إِلَّا وَهْيَ مِنْ سُنْدُسٍ“ مگر وہ کس سے تھے؟ باریک ریشم سے تھے، ”خُضْرُ“ اور وہ کیسا تھا؟ ہاں وہ کپڑے سبز تھے بھئی۔ اور یہ کنایہ ہے مولانا جنت کے لباس سے، یعنی ابو نہشل نے سرخ کپڑے پہن لیے یعنی موت کے کپڑے پہن لیے شہید ہوئے بھئی، تو یہ کنایہ ہے موت سے، شہادت سے، قتل سے، اور سبز لباس یہ کنایہ ہے کس سے؟ جنت کے کپڑوں سے بھئی۔ یعنی انہوں نے تو موت کے کپڑے پہن لیے شہید ہو گئے سرخ کپڑے پہن لیے، لیکن شام آنے سے پہلے پہلے جب قبر میں پہنچے تو ان کے کپڑے کس سے بدل دیے گئے؟ اللہ نے سبز کپڑوں سے بدل دیے یعنی جنت میں داخل فرما دیا۔ ”يَعْنِي ارْتَدَّى الثِّيَابَ الْمُلَطَّخَةَ بِالدَّمِ“ یعنی اوڑھ لیے وہ کپڑے جو خون آلود تھے، ”فَلَمْ يَنْقَضِ يَوْمُ قَتْلِهِ“ تو نہیں گزرا ان کے قتل کا دن ”وَلَمْ يَدْخُلْ فِي لَيْلَتِهِ“ اور وہ نہیں داخل ہوئے اس قتل کی رات میں ”إِلَّا وَقَدْ صَارَتِ الثِّيَابُ مِنْ سُنْدُسٍ خُضْرٍ مِنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ“ مگر وہ کپڑے کس سے ہو گئے؟ سبز ریشم سے ہو گئے جنت کے کپڑوں میں سے۔ ”فَقَدْ جَمَعَ بَيْنَ الْحُمْرَةِ وَالْخُضْرَةِ“ پس تحقیق جمع کیا شاعر نے حمرۃ اور خضرۃ، سرخ اور سبز رنگ کو، سرخی اور سبزے کو، ”وَقَصَدَ بِالْأَوَّلِ الْكِنَايَةَ عَنِ الْقَتْلِ“ اور اول سے کس چیز کا ارادہ کیا؟ قتل سے کنایہ کیا، ”وَبِالثَّانِي الْكِنَايَةَ عَنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ“ اور ثانی جو ہے وہ کنایہ کیا کس سے؟ دخول جنت سے۔ یہ تو تھی تدبیج الکنایہ کی مثال، دو رنگ ذکر ہوئے اور ان سے کنایہ کیا۔ تدبیج التوریہ کی مثال بھی چونکہ چاہیے تھی اس لیے وہ علامہ تفتازانی ذکر کریں گے مصنف نے ذکر نہیں کی: ”وَتَدْبِيجُ التَّوْرِيَةِ كَقَوْلِ الْحَرِيرِيِّ“ تدبیج توریہ کی مثال جیسے علامہ حریری کا قول ہے مقامات حریریہ میں: ”فَمُذْ غَبَّرَ الْعَيْشُ الْأَخْضَرُ، وَازْوَرَّ الْمَحْبُوبُ الْأَصْفَرُ، اسْوَدَّ يَوْمِيَ الْأَبْيَضُ، وَابْيَضَّ فَوْدِيَ الْأَسْوَدُ، حَتَّى رَثَى لِيَ الْعَدُوُّ الْأَزْرَقُ، فَيَا حَبَّذَا الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ“ ”فَمُذْ“ جب سے، ”اغْبَرَّ“ اغبرا کا معنی ہے گرد آلود ہونا، جب سے گرد آلود ہوئی ہے ”الْعَيْشُ الْأَخْضَرُ“ سرسبز زندگی، تو گرد آلود ہونے سے تکالیف آنا مراد ہیں اور سرسبز زندگی سے مراد کون سی زندگی ہے؟ خوشی والی زندگی ہے۔ جب سے میری سرسبز زندگی جو ہے غم والی ہوئی ہے، ”وَازْوَرَّ الْمَحْبُوبُ الْأَصْفَرُ“ اور جب سے مجھ سے دور ہوا ہے، ازورّ کا معنی دور، اور جب سے دور ہوا ہے المحبوب الاصفر کون؟ زرد محبوب۔ جب سے میری سرسبز زندگی تکالیف والی ہو گئی ہے اور جب سے مجھ سے میرا زرد محبوب دور ہوا ہے، ”اسْوَدَّ يَوْمِيَ الْأَبْيَضُ“ سیاہ ہو گیا ہے میرا سفید دن، ”وَابْيَضَّ فَوْدِيَ الْأَسْوَدُ“ اور سفید ہو گئی ہیں میری سیاہ کنپٹیاں، ”حَتَّى رَثَى لِيَ الْعَدُوُّ الْأَزْرَقُ“ یہاں تک کہ ترس کھاتے ہیں مجھ پر میرے سخت دشمن، ”فَيَا حَبَّذَا الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ“ پس کتنی اچھی ہے سرخ موت، کتنی اچھی ہے؟ سرخ موت۔ تو ازورّ کا معنی دور ہونا اور ”الْمَحْبُوبُ الْأَصْفَرُ“ یہ مقام استشہاد ہے مولانا۔ محبوب اصفر کا ایک معنی قریب ہے ایک معنی بعید۔ معنی قریب کیا ہے؟ انسان مولانا، زرد رنگ کا انسان جو محبوب ہے۔ اور معنی بعید اس کا معنی سونا ہے، اشرفیاں مراد ہے مولانا، اور یہاں علامہ حریری کا ارادہ کیا ہے اس سے؟ سونا جو معنی بعید ہے، تو یہ توریہ ہے کہ سننے والا معنی قریب سمجھتا ہے اور مراد معنی بعید ہے بھئی۔ اور جب سے میرا زرد محبوب یعنی اشرفیاں مجھ سے دور ہوئی ہیں، ”اسْوَدَّ يَوْمِيَ الْأَبْيَضُ“ میرا سفید دن سیاہ ہو گیا ہے، سفید یعنی روشن دن کیا ہوا ہے؟ سیاہ، خوشیوں والی دن کس میں بدل گیا ہے؟ غم والے دن میں، ”وَابْيَضَّ فَوْدِيَ الْأَسْوَدُ“ اور سفید ہو گئی ہیں فود کہتے ہیں مولانا کنپٹی پر جو بال ہوتے ہیں، میرے سیاہ بال کیا ہیں؟ سفید ہو گئے ہیں یعنی بڑھاپا آ گیا، کمزور اور ضعیف ہو گیا ہوں۔ ”حَتَّى رَثَى لِيَ الْعَدُوُّ الْأَزْرَقُ“ یہاں تک کہ رثیٰ لی، اس کا صلہ جب لام آ جائے مولانا تو اس کے معنی ترس کھانے کے ہوتے ہیں، رحم آنا۔ تو رحم آتا ہے مجھ پر، ترس کھاتے ہیں مجھ پر العدو الازرق سخت دشمن۔ ازرق نیلے رنگ کو کہتے ہیں مولانا، لیکن عدو ازرق کس کو کہتے ہیں؟ سخت دشمن کو، عدو ازرق کس کو کہتے ہیں؟ سخت دشمن کو۔ سخت دشمن کو عدو ازرق اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ عرب کا محاورہ ہے اور عرب کی اکثر روم والوں سے لڑائی رہتی تھی، اور روم والے جو تھے ان کی آنکھیں عموماً نیلی ہوتی ہیں، انگریز مراد ہیں مولانا، کیا مراد ہیں؟ انگریز مراد ہیں، ان کی آنکھوں میں نیلاہٹ ہوتی ہے عموماً۔ ”فَيَا حَبَّذَا الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ“ یہ یا جو ہے مولانا یہ یہاں صرف تنبیہ کے لیے ہے حرف ندا نہیں ہے، حبّذا افعال مدح و ذم میں آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ کتنی ہی اچھی ہے کیا چیز؟ ”الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ“ سرخ موت۔ سرخ موت سے مراد سخت موت ہے مولانا، یا قتل ہے، کیا مراد ہے؟ تو کتنی اچھی ہے سرخ موت۔ جب سے میری زندگی تکلیفوں والی ہوئی ہے، میرا محبوب میرا اور مال مجھ سے دور چلا گیا ہے، تو میرے دن جو ہیں وہ تکلیفوں والے ہو گئے ہیں، میں ضعیف ہو گیا ہوں، میرے سخت دشمن بھی مجھ پر ترس کھاتے ہیں، پس سخت موت کتنی اچھی ہے آ کیوں نہیں جاتی مجھے اس سے نجات کیوں نہیں دلاتی۔ ”فَالْمَعْنَى الْقَرِيبُ لِلْمَحْبُوبِ الْأَصْفَرِ هُوَ الْإِنْسَانُ الَّذِي لَهُ صُفْرَةٌ“ پس معنی قریب محبوب اصفر کا وہ انسان ہے جس میں زردی ہو، ”وَالْبَعِيدُ الذَّهَبُ“ اور معنی بعید کیا ہے؟ ذہب، سونا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، عربی میں ہر چیز کے جو نام رکھا گیا اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہے۔ ذہب کو ذہب اس لیے کہتے ہیں سونا، اس لیے کہ جب تک یہ آپ کے ہاتھ سے چلا نہیں جاتا آپ کو نفع نہیں دیتا۔ آپ کے پاس جتنا بھی سونا ہو کوئی نفع دے گا؟ نہیں، جب آپ اس کو خرچ کریں گے تو پھر وہ آپ کے ہاتھ سے جائے گا تو کیا کرے گا آپ کو؟ نفع، اسی لیے اس کو ذہب کہتے ہیں، ذہب یذہب سے ہے چلے جانے سے بھئی۔ اسی طرح مال کو مال اس لیے کہتے ہیں مولانا کہ مال یمیل کہ انسان اس کی طرف کیا ہوتا ہے؟ مائل ہوتا ہے۔ تو یہاں معنی بعید ذہب مراد ہے ”وَهُوَ الْمُرَادُ هَا هُنَا فَيَكُونُ تَوْرِيَةً“ تو یہ کیا ہے مولانا؟ توریہ ہے، ”وَجَمْعُ الْأَلْوَانِ لِقَصْدِ التَّوْرِيَةِ“ یہ ایک شبہے کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی بہت سارے رنگ جو ذکر کیے اور آپ مثال ذکر کر رہے ہیں تدبیج توریہ کی، تو سارے رنگوں میں کیا ہونا چاہیے؟ توریہ ہونا چاہیے، علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں نہیں، سارے رنگوں میں توریہ ہونا ضروری نہیں بلکہ صرف ایک ہی رنگ میں توریہ ہو جائے تو یہ بھی کافی ہے، باقی ساروں کے اندر مولانا کنایہ ہے صرف اس ایک کے اندر توریہ ہے۔ ”وَجَمْعُ الْأَلْوَانِ لِقَصْدِ التَّوْرِيَةِ لَا يَقْتَضِي أَنْ يَكُونَ فِي كُلِّ لَوْنٍ تَوْرِيَةٌ كَمَا تَوَهَّمَهُ الْبَعْضُ“ اور جمع کرنا علامہ حریری نے رنگوں کا توریہ کے ارادے سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ ہر رنگ میں کیا ہو؟ توریہ ہو جیسے کہ بعض علماء نے وہم کیا۔ ”وَيَلْحَقُ بِهِ أَيْ بِالطِّبَاقِ شَيْئَانِ“ ملائی جاتی ہیں طباق کے ساتھ دو اور چیزیں بھی۔ بھئی ابھی تو صنعت طباق چل رہی تھی، صنعت طباق کس کو کہتے ہیں؟ دو معانی کو جمع کرنا جو آپس میں کیا ہوں؟ متقابلین ہوں۔ اب کہہ رہے ہیں اسی طباق کے ساتھ دو اور چیزیں بھی ملی ہوئی ہیں: ایک یہ کہ دو معانی ذکر کرتے ہیں آپ مولانا ادھر دیکھو بھئی، دو معانی آپ ذکر کرتے ہیں، ان دونوں معانی کے اندر تو تقابل نہیں لیکن یہ جو ایک ہے اس کے ساتھ جو لازم یا ملزوم یا اس کا جو سبب یا مسبب ہے وہ اس دوسرے کے کیا ہے؟ مقابل ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”أَحَدُهُمَا الْجَمْعُ بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ يَتَعَلَّقُ أَحَدُهُمَا بِمَا يُقَابِلُ الْآخَرَ نَوْعَ تَعَلُّقٍ كَالسَّبَبِيَّةِ وَاللُّزُومِ“ ایک یہ ہے کہ جمع کیا جائے دو ایسے معانی کو کہ ان میں سے ایک کا تعلق ہو اس کے ساتھ جو مقابل ہے دوسرے کے ایک نوع کا تعلق جیسے کہ سببیہ ہے اور لزوم کا تعلق ہے، نحو: ”أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ“ جیسے قرآن میں آیا کفار پر سخت ہیں صحابہ اور ”رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ“ اور آپس میں کیا ہیں؟ رحم کرنے والے ہیں، ایک دوسرے پر ترس کھانے والے ہیں۔ تو دیکھو اب یہاں مولانا شدت اور رحمت کا ذکر آیا، تو شدت کے مقابلے میں نرمی آتی ہے رحمت نہیں، لیکن یہ رحمت جو ہے یہ مسبب ہے اور اس کا سبب نرمی ہے۔ نرمی ہوگی تو پھر کیا آئے گی؟ رحمت ہوگی، رحم ہوگا مولانا۔ تو دیکھو دو معانی ذکر کیے گئے ان دونوں یہ دونوں معانی تو متقابلین نہیں لیکن ان میں سے ایک کا تعلق اس کے مقابل کے ساتھ ہے۔ ”فَإِنَّ الرَّحْمَةَ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مُقَابِلَةً لِلشِّدَّةِ لَكِنَّهَا مُسَبَّبَةٌ عَنِ اللِّينِ الَّذِي هُوَ ضِدُّ الشِّدَّةِ“ رحمت جو ہے اگرچہ وہ شدت کے مقابلے میں تو نہیں لیکن وہ مسبب ہے کس سے؟ نرمی سے، یعنی لین سبب ہے اور یہ مسبب ہے، جو کہ شدت کی ضد ہے۔ یہ تو ایک تھا مولانا کہ دو معنی کو جمع کریں جن میں سے ایک کا تعلق ہو دوسرے کے مقابل کے ساتھ۔ ”وَالثَّانِي الْجَمْعُ بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ غَيْرِ مُتَقَابِلَيْنِ عُبِّرَ عَنْهُمَا بِلَفْظَيْنِ يَتَقَابَلُ مَعْنَاهُمَا الْحَقِيقِيَّانِ“ وہ یہ کہ دو معانی جمع کریں، دو معانی آپ جمع کرتے ہیں کلام میں، یہ دونوں معانی تو آپس میں متقابل نہیں لیکن ان میں سے ایک ان کو ان معانی کو آپ تعبیر ایسے لفظوں سے کرتے ہیں کہ وہ لفظ آپس میں ایک دوسرے کے کیا ہیں؟ متقابل ہیں۔ جمع کیا جائے دو معانی جو غیر متقابل ہیں لیکن تعبیر کیا جائے ان کو ایسے لفظوں کے ساتھ جو ان کے متقابل ہو ان دونوں کے معنی حقیقی، جیسے اس شعر کے اندر، یہ شعر ہے دعبل شاعر کے شعر ہے مولانا، دعبل مولانا، یہ شیعہ شاعر گزرا ہے۔ ”لَا تَعْجَبِي“ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”لَا تَعْجَبِي يَا سَلْمُ مِنْ رَجُلٍ ضَحِكَ الْمَشِيبُ بِرَأْسِهِ فَبَكَى“ شاعر اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”لَا تَعْجَبِي يَا سَلْمُ“ سلمو مرخم ہے مولانا سلما سے، اے سلما تو تعجب نہ کر ”مِنْ رَجُلٍ“ ایسے شخص سے، اپنا ارادہ ہے یعنی مجھ سے تو تعجب نہ کر ایسا شخص ”ضَحِكَ الْمَشِيبُ بِرَأْسِهِ فَبَكَى“ کہ بڑھاپا ظاہر ہو گیا ہے اس کے سر میں پس وہ روتا ہے، رویا اس پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑھاپا تو ضحک یہاں ہنسی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کس معنی میں ہے؟ ظہور، تو ضحک میں بھی جیسے مولانا انسان کے دانت ظاہر ہوتے ہیں تو اسی طرح بڑھاپا بھی کیا ہے سر میں ظاہر ہو گیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جیسے یہ مولانا فاروق اپنی بیوی کو کیا کہتا ہے بھئی؟ بوڑھا ہونے کے بعد اس کو کہتا ہے کہ تو تعجب نہ کر کس پر کہ بڑھاپا اگر میرے میرا پورا سر سفید ہو گیا ہے تو مجھ سے اس پر تعجب نہ کر بھئی، میں خود جب اپنی جوانی کو یاد کر کے روتا رہتا ہوں۔ ”لَا تَعْجَبِي يَا سَلْمُ مِنْ رَجُلٍ“ تو تعجب نہ کر اے سلما ایسے شخص سے، ”يُرِيدُ نَفْسَهُ“ رجل سے ارادہ ہے شاعر کے اپنے نفس کا، ”ضَحِكَ الْمَشِيبُ بِرَأْسِهِ“ ظاہر ہوا بڑھاپا اس کے سر میں، دیکھو خود معنی کر رہے ہیں ضحک کا معنی ہنسی نہیں ہے بلکہ ظاہر ہے لیکن اس ظہور کو تعبیر کس سے کیا؟ ضحک سے، ”أَيْ ظَهَرَ ظُهُورًا تَامًّا“ پورے طور پر ظاہر ہو گیا یعنی پورا سر سفید ہو گیا، ”فَبَكَى ذَلِكَ الرَّجُلُ“ پس وہ رویا وہ شخص بھئی۔ تو دیکھو مولانا دو معانی ذکر کیے: ایک بڑھاپا ظاہر ہونا اور ایک رونا، ان دونوں میں کوئی تقابل ہے؟ ان میں کوئی تقابل نہیں، لیکن ظہور بڑھاپا کے لیے ذکر کر دیا ضحک اور یہ ضحک تو بکاء کے کیا ہے؟ مقابل ہے۔ ”فَظُهُورُ الْمَشِيبِ لَا يُقَابِلُ الْبُكَاءَ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ عَبَّرَ عَنْهُ بِالضِّحْكِ الَّذِي مَعْنَاهُ الْحَقِيقِيُّ مُقَابِلٌ لِلْبُكَاءِ“ بڑھاپے کا ظاہر ہونا یہ بکاء کے مقابلے میں نہیں ہے مگر یہ کہ اس نے تعبیر کیا ہے اس کو ضحک کے ساتھ جس کا معنی حقیقی بکاء کے مقابل ہے۔ ضحک کا معنی حقیقی کیا ہے؟ بکاء کے مقابل ہے۔ ”وَيُسَمَّى الثَّانِي إِيهَامَ التَّضَادِّ“ اور اس ثانی کو کیا کہتے ہیں مولانا؟ ایہام التضاد۔ دیکھو ضحک اور بکاء بظاہر ضحک اور بکاء متضادین ہیں لیکن یہاں پر دونوں جو معنی ان سے مراد ہے مولانا وہ آپس میں متقابلین ہیں؟ تو تضاد نہیں بلکہ صرف کیا ہے؟ ایہام التضاد، وہم پڑتا ہے تضاد کا بظاہر۔ ”لِأَنَّ الْمَعْنَيَيْنِ ذُكِرَا بِلَفْظَيْنِ يُوهِمَانِ بِالتَّضَادِّ نَظَرًا إِلَى الظَّاهِرِ“ اس لیے کہ دونوں معانی کو ذکر کیا گیا ہے ایسے لفظوں کے ساتھ جو تضاد کا وہم ڈالتے ہیں ظاہر کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
109 approved lectures · 108 of 109