گزشتہ سبق میں مولانا ہم نے پڑھا تھا استعارہ تبعیہ اور اصلیہ کے بارے میں، استعارہ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مصدر کے اندر کیا ہوگا وہ استعارہ اصلیہ اور استعارہ تبعیہ کس کے اندر ہوگا؟ فعل کے اندر، مشتق کے اندر اور حروف کے اندر بھئی۔ تو بتلایا تھا کہ تشبیہ جو اول ہیں پہلے دو یعنی فعل اور مشتق کے اندر وہاں تشبیہ معنی مصدر کے اندر ہوگی اور تیسرا یعنی حرف کے اندر جو تشبیہ ہے وہ کس کے اندر ہوگی؟ اس کے معنیٰ کے متعلق کے اندر بھئی۔ اب اس کے معنیٰ کے متعلق سے کیا مراد ہے؟ دو مذاہب ذکر کیے مولانا۔ علامہ سکاکی کے نزدیک متعلقِ معنیٰ حرف جو ہے اس کا وہ مفہوم وہ چیز ہے جس کے ساتھ اس کے مفہوم کو ذکر کیا جاتا ہے۔ مثلاً مِن کا معنیٰ کوئی پوچھے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ مِن کا کیا معنیٰ ہے؟ ابتداء الغایۃ ہے۔ اسی طرح فی کا معنیٰ کوئی آپ سے پوچھے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ ظرفیت ہے۔ کیْ کا معنیٰ پوچھے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ غرض ہے۔ تو یہ اس کے معنیٰ کے متعلق ہیں مولانا۔ ان کا معنیٰ نہیں ہے اس لیے کہ اگر یہ ان کا معنیٰ بن گئے پھر یہ تو مستقل ہوا ان کا معنیٰ، تو اس صورت میں یہ کیا بن جائیں گے؟ اسم بن جائیں گے حالانکہ کوئی بھی ان کی اسمیت کا قائل نہیں، معلوم ہوا یہ ان کا معنیٰ بھی نہیں ہے۔ یہ تھا علامہ سکاکی یہ فرماتے ہیں۔ جبکہ مصنف فرماتے ہیں کہ حرف کے معنیٰ کا متعلق وہ مجرور ہے۔ وہ کیا ہے؟ یعنی اس کا مدخول ہے جس پر یہ حرف داخل ہو بھئی، جیسے مثال پھر انہوں نے ذکر کی: زيد في نعمۃ بھئی۔ زيد في نعمۃ۔ تو مصنف فرماتے ہیں کہ نعمت کی تشبیہ جو ہے وہ نعمت میں ہے کہ نعمت کو تشبیہ دی ظرف کے ساتھ اور پھر ظرفیت کے لیے ظرف کے لیے فی آتا ہے تو اس کے لیے کیا استعمال کر لیا گیا؟ فی استعمال کر لیا گیا۔ تو تشبیہ آئی نعمت کے اندر اور استعارہ ہوا کس میں؟ فی میں ہوا مولانا، فی میں ہوا۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ علامہ سکاکی کے قول جیسے گزرا بھئی تو ان کے قول کے مطابق تو متعلق جو ہے وہ چیز ہے جس کے ساتھ فعل کے مفہوم کو ادا کیا جاتا ہے، لہٰذا مصنف کی یہ مثال صحیح نہیں اور ان کا مجرور کو متعلق قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ تو لہٰذا پھر مثال ذکر کی فعل کے اندر اور مشتق کے اندر کہ جیسے نطقت الحال اور والحال ناطقۃ، تو کہتے ہیں نطقت الحال کے اندر نطقت بمعنیٰ دلت کے ہے لیکن پہلے استعارہ کس کے اندر آیا؟ مصدر کے اندر آیا نطق کے اندر آیا کہ دلالت کو تشبیہ دی نطق کے ساتھ اور پھر دلالت کے لیے کس کو استعمال کر لیا؟ نطق کو استعمال کر لیا اور پھر پھر اس نطق مصدر سے اشتقاق کیا کس کا؟ نطقت فعل کا۔ اسی طرح والحال ناطقۃ میں بھی اسی طرح ہے، ناطقۃ بمعنیٰ دالۃ کے ہے لیکن یہ تب ہوگا کہ پہلے دلالت کو تشبیہ دی جائے نطق کے ساتھ پھر نطق کا استعارہ کیا جائے دلالت کے لیے، پھر اس نطق مصدر سے اشتقاق کس کا کیا جائے؟ ناطقۃ اسمِ فاعل کا اشتقاق کیا جائے بھئی۔ اور پھر یہ بھی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہاں پر یہ تو استعارہ ہے، اگر آپ چاہیں تو مجازِ مرسل بھی بنا سکتے ہیں۔ اس لیے کہ نطق کے ساتھ دلالت لازم ہے بھئی، تو نطق بول کر کیا مراد ہے؟ دلالت، تو ارادہ لازم کا کیا گیا تو علاقہ دونوں میں کیا آیا مولانا؟ لازم اور ملزوم والا، اور تشبیہ کا علاقہ نہ رہا، جب تشبیہ کا علاقہ نہیں تو پھر یہ استعارہ نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ مجازِ مرسل بن گیا۔ اسی طرح کہا تھا کہ لامِ تعلیل کے اندر جو استعارہ ہے اس میں تشبیہ کو مقدر مانا جائے گا کس کے اندر بھئی؟ کس کے اندر تشبیہ آئے گی؟ مصنف کے قول کے نزدیک بھئی، مصنف نے کیا کہا تھا؟ تشبیہ کس کے اندر ہوگی؟ حرف کے معنیٰ کے متعلق میں اور وہ کیا ہے؟ مجرور ہے جس پر کیا داخل ہوا ہے؟ حرف۔ تو یہاں مجرور کون ہے؟ ليكون لہم عدوا وحزنا، فالتقطہ آل فرعون ليكون لہم عدوا وحزنا۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے آدمیوں نے اٹھایا کس لیے؟ تاکہ ان کے لیے وہ محبت اور محبت کے لیے اٹھایا اور تبنی بیٹا بنانے کے لیے اٹھایا، تو علتِ غائی کیا تھی ان کی؟ غرض کیا تھی؟ بیٹا بنانا۔ جی، علتِ غائی تھی کہ محبت اور تبنی تھی لیکن قرآن میں یہ لام اور یہ لام آتا ہے علت کے لیے، علت پر داخل ہوتا ہے لیکن یہاں پر تو یہ علت پر داخل نہیں، یہاں پر تو ہے ليكون لہم عدوا وحزنا تاکہ ان کے لیے کیا بن جائے؟ دشمن بن جائے اور غم کا باعث بن جائے، تو دشمنی اور غم کا باعث بننے کے لیے تو انہوں نے نہیں اٹھایا تھا، تو یہ علت تو نہیں لیکن اس پر کیا داخل کیا گیا؟ لامِ تعلیل کو داخل کیا گیا اور وہ صرف علت پر داخل ہوتا ہے، تو معلوم ہوا کہ یہاں پر یہ عدوا وحزنا جو مجرور ہے اس کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ تبنی اور علتِ غائی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور پھر تو یہ جو عداوت اور حزن ہے مولانا، یہ کیا ہوا؟ مشبہ اور علتِ غائی کیا ہوئی؟ مشبہ بہٖ اور مشبہ بہٖ علتِ غائی کے لیے لام آیا کرتا ہے، اس مشبہ بہٖ کے لیے استعمال ہونے والے حرف کو کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ مشبہ کے لیے استعمال کر لیا گیا، تو اس طرح مولانا لام میں استعارہ آیا بھئی، لام میں کیا آیا؟ اور تشبیہ کس کے اندر آئی؟ مدخولِ لام کے اندر بھئی، مدخولِ لام کے اندر، جی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مدخولِ لام میں تشبیہ آئی بھئی۔ اس پر علامہ تفتازانی نے اشکال کیا بھئی کہ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو پھر مدخول کے اندر استعارہ باقی نہیں رہتا بھئی۔ پہلے استعارہ کس میں آنا چاہیے تھا؟ مدخول میں استعارہ آئے پھر کس کے اندر استعارہ آئے؟ طبعاً، کیونکہ حروف میں استعارہ طبعاً ہوتا ہے، استعارہ تبعیہ ہوتا ہے نا، تو پہلے مدخول میں استعارہ ہو اور پھر کس کے اندر استعارہ ہو؟ حروف کے اندر استعارہ ہو، تو یہاں پر مدخول میں استعارہ نہیں ہو سکتا کیونکہ استعارہ کس کو کہتے تھے؟ استعارہ مصرحہ مشبہ بہٖ ذکر ہو اور مراد کیا ہو؟ مشبہ اور یہاں تو براہِ راست مشبہ ہی ذکر ہے، مشبہ بہٖ ذکر ہی نہیں ہے، لہٰذا استعارہ نہیں ہو سکتا مولانا۔ لیکن اس کا جواب علامہ تفتازانی نے مطول کے اندر ذکر کیا ہے بھئی۔ مطول میں فرماتے ہیں کہ استعارہ یہاں بھی ممکن ہے لیکن وہ استعارہ بالکنایہ ہوگا مولانا۔ کیا ہوگا؟ استعارہ بالکنایہ ہوگا بھئی، استعارہ بالکنایہ میں کیا ہوتا ہے؟ مشبہ ذکر ہوتا ہے اور مشبہ بہٖ محذوف ہوتا ہے۔ استعارہ بالکنایہ میں مشبہ ذکر ہوتا ہے اور مشبہ بہٖ محذوف ہوتا ہے اور مشبہ بہٖ کے کسی لازم کو کس کے لیے ذکر کر دیا جاتا ہے؟ مشبہ کے لیے ذکر کر دیا جاتا ہے، جیسے یہاں پر مولانا تو مشبہ بہٖ کے ساتھ لازم کیا تھا؟ لامِ تعلیلی، وہ علت تھی تو علت کے لیے کیا لازم ہے؟ کیا لایا جائے؟ لام اور اس لازم کو کس کے لیے ذکر کر دیا گیا؟ مشبہ کے لیے ذکر کر دیا گیا، تو مشبہ ذکر مشبہ بہٖ علتِ غائی محذوف اور اس کے ایک لازم کو ذکر کر دیا گیا تو یہ کیا بن گیا؟ استعارہ بالکنایہ بن گیا بھئی۔ استعارہ بالکنایہ ہے ذہن میں یا نکل گیا ہے بالکل بھئی؟ بھئی انشبت المنیۃ اظفارہا، گاڑ دیے موت نے اپنے پنجے، معلوم ہوا موت کے تو پنجے نہیں ہوتے مولانا۔ دیکھے ہیں کسی نے بھئی؟ حساً یا عقلاً؟ نہیں، معلوم ہوا یہاں موت کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ، تو موت مشبہ اور درندہ مشبہ بہٖ اور عبارت میں کس کو ذکر کیا گیا؟ موت جو مشبہ ہے، اور آپ کو کیسے پتہ چلا بھئی کہ موت کو تشبیہ دی گئی ہے درندے کے ساتھ؟ کس کلمے سے کس کلمے نے بتلایا بھئی آپ کو؟ اظفار مولانا پنجوں نے ناخنوں نے بتلایا کہ یہاں کیا مراد ہے؟ یہ تو لازم ہے کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ، تو معلوم ہوا ان کا اثبات جب آپ موت کے لیے کر رہے ہیں تو معلوم ہوا آپ نے موت کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ بھئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے مولانا عداوت اور حزن کو تشبیہ دی علتِ غائی کے ساتھ مولانا اور یہ مشبہ اور وہ مشبہ بہٖ اور مشبہ بہٖ کے ساتھ لازم علتِ غائی کے لیے کیا ذکر کیا جاتا ہے؟ لام کو، اس لام کو کس کے لیے ذکر کر دیا؟ مشبہ کے لیے ذکر کر دیا گیا، تو یہ جواب انہوں نے وہاں ذکر کیا ہے مولانا۔
حاصل یہ مولانا کہ استعارہ تبعیہ میں استعارہ تبعیہ میں تشبیہ نفسِ مفہومِ لفظ میں نہیں ہوگی۔ استعارہ تبعیہ میں کیا ہوگی؟ تشبیہ نفسِ مفہومِ لفظ میں بھئی جیسے فعل کے اندر نفسِ فعل کے اندر تشبیہ تھی؟ مصدر میں تھی۔ فی کے اندر مولانا، فی کے معنیٰ میں ہے؟ نہیں، فی کے معنیٰ کے متعلق میں ہے مولانا، تو نفسِ مفہومِ فعل میں نہیں ہے بلکہ اس کے متعلق وغیرہ یا مصدر میں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو علامہ تفتازانی نے اعتراض کیا تھا کہ بھئی آپ کی بات صحیح نہیں بنتی کیونکہ یہ صرف تو مشبہ عبارت میں ذکر ہے اور مشبہ بہٖ محذوف ہے حالانکہ استعارہ مصرحہ کے اندر مشبہ بہٖ کو ذکر ہونا چاہیے اور مشبہ کو محذوف، اور لیکن پھر مطول ہی میں جواب دیا کہ مدخول کے اندر استعارہ مصرحہ تو نہیں لیکن استعارہ بالکنایہ ہے کہ مشبہ ذکر مشبہ بہٖ محذوف۔ یہ تو تقریر تھی کہ متعلق کے اعتبار سے کہ وہ مجرور ہو۔ علامہ تفتازانی پھر ذکر کرتے ہیں کہ تحقیق یہاں پر یہ ہے استعارے کی کہ یہاں پر ترتبِ عداوت اور حزن کو تشبیہ دی ہے۔ ترتب بھئی فرعون کے آدمیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اٹھایا، اس اٹھانے کا مقصد کیا تھا؟ محبت اور تبنی، بیٹا بنانا مقصد تھا، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ دشمنی اور غم کا باعث بنے۔ تو دشمن ان کے لیے، تو دیکھو دشمنی تو یہ جو مرتب ہوا اس اٹھانے پر کیا مرتب ہوا؟ دشمنی اور حزن، اس یعنی یہ نتیجہ ہے، یہ کیا ہے؟ نتیجہ ہے۔ اس نتیجے کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ علتِ غائی کے ساتھ۔ اس نتیجے کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ علتِ غائی کے ساتھ تشبیہ دی اور جامع کیا ہے؟ دونوں مرتب ہو رہے ہیں التقاط پر۔ علتِ غائی نے بھی کس پر مرتب ہونا تھا؟ التقاط پر، اور یہ نتیجہ بھی کس پر مرتب ہوا؟ التقاط پر، تو دونوں میں ترتب علی الالتقاط پایا جا رہا ہے۔ تو نتیجے کو تشبیہ دے دی کس کے ساتھ؟ علتِ غائی کے ساتھ تشبیہ دے دی مولانا، اور علت کے لیے استعمال ہوتا تھا لام، تو وہ کلمہ جو استعمال ہوتا تھا علتِ غائی کے لیے اس کو استعمال کر لیا کس کے لیے؟ یعنی وہ کلمہ جو استعمال ہوتا تھا مشبہ بہٖ کے لیے اس کو کس کے لیے استعمال کر لیا؟ مشبہ کے لیے استعمال کر لیا۔ تو استعارہ پہلے مولانا حرف کے متعلق میں آیا، کیونکہ کیا تھا؟ اس کا معنیٰ کیا تھا مولانا؟ کوئی آپ سے معنیٰ پوچھے لام کا کیا معنیٰ ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ علیت اور غرضیت ہے، علیت اور غرضیت، تو پہلے استعارہ اس کے علیت اور غرضیت کے اندر آئے گا جو لام کے حرف کا متعلق ہے اور پھر اس کے بعد استعارہ کس میں ہوگا؟ لام کے اندر ہوگا، تو یہ استعارہ لام میں تبعیہ ہوا مولانا۔ لام میں استعارہ کیا ہوا؟ تبعیہ ہوا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں بھئی؟ کہ لام میں استعارہ کیسے تبعیہ ہوا؟ دیکھو مرتب ہونا نتیجے کا، اس کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ مرتب ہونا علتِ غائی کا، تو ایک ترتبِ نتیجے کو تشبیہ دی ترتبِ علتِ غائی کے ساتھ اور درمیان تشبیہ دی، اور پھر اس ترتبِ علتِ غائی کے لیے وضع کیا تھا؟ مشبہ بہٖ کے لیے کیا استعمال ہوتا تھا؟ علیت کے لیے کیا ہے؟ لام، تو اس علتِ غائی یا علیت کے لیے تھا وضع لام، تو مشبہ بہٖ کے لیے لام نے آنا تھا لیکن آپ نے کس کے لیے استعمال کر دیا؟ مشبہ کے لیے استعمال کر دیا اور لام کے لام کا معنیٰ میں آپ سے پوچھوں کیا معنیٰ ہے لام کا؟ آپ کیا کہیں گے؟ علیت اور غرضیت، تو یہاں لام کے معنیٰ کا متعلق کیا ہوا؟ علیت اور غرضیت، تو پہلے علیت اور غرضیت میں استعارہ ہوگا اور پھر اس کے بعد کس میں ہوگا؟ لام کے اندر ہوگا مولانا۔ جیسے نطقت الحال کے اندر کہتے ہوا، تو یہ مولانا یہ لام جو ہے اس کا حکم اسد کی طرح ہوا، جیسے اسد کو مستعار لیا تھا کس کے لیے؟ رجلِ شجاع، اسی طرح لام کو مستعار لے لیا گیا اس چیز کے لیے جو علیت کے مشابہ ہے، جو علیت کے مشابہ ہے بھئی۔ لہٰذا علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ جو مصنف نے کیا ذکر کیا کہ لام کے معنیٰ کا متعلق کیا ہے؟ مجرور ہے۔ مصنف نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ حرف کے معنیٰ کا متعلق کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو ان کے کہتے ہیں مصنف سے دراصل یہاں سہو ہوا ہے، غلطی ہوئی ہے بلکہ جیسے ہم نے بتلایا تھا کہ حرف کے معنیٰ کا متعلق وہ مجرور نہیں ہوتا بلکہ کیا ہوتا ہے؟ وہ ہے جس کے ساتھ اس کے مفہوم کی تعبیر کی جاتی ہے، اس کے مفہوم کی تعبیر کی جاتی ہے۔ لہٰذا سہو ہوا مصنف سے، سہو مولانا۔ اس لیے کہ مصنف کی بات مانی جائے تو پھر یہاں پر استعارہ مصرحہ مجرور میں نہیں رہتا۔ ابھی جو بات گزری بھئی، اگر مصنف کی بات لے لیں، مدخول کے اندر استعارہ مانیں تو مدخول میں استعارہ نہیں ہے کیونکہ مشبہ ذکر ہے اور مشبہ بہٖ حالانکہ استعارہ مصرحہ کی بحث چل رہی ہے اور استعارہ مصرحہ کے اندر مشبہ بہٖ ذکر ہوتا ہے اور مشبہ محذوف ہوتا ہے، لہٰذا ان سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن حق یہ ہے مولانا، علماء لکھتے ہیں بھئی، کہ سہو یہاں علامہ تفتازانی سے ہوا ہے نہ کہ مصنف سے بھئی، مصنف بھی کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سہو علامہ تفتازانی مصنف نے کہا تھا تشبیہ صرف مقدر ہوگی، انہوں نے تو استعارے کی بات ہی نہیں کی، انہوں نے کب کہا کہ مجرور کے اندر استعارہ ہونا چاہیے؟ انہوں نے کیا کہا تھا؟ فالتقطہ آل فرعون ليكون لہم عدوا وحزنا اور تشبیہ فی الاولین اور تشبیہ فی الثالث، صرف تشبیہ کی بات کی ہے، مدخول کے اندر استعارے کی انہوں نے بات ہی نہیں کی، ہاں تو تشبیہ واقعی عدوا کی ترتبِ عداوت اور حزن کی تشبیہ ہے کس کے عداوت اور حزن کی تشبیہ ہے کس کے ساتھ؟ علتِ غائی کے ساتھ، ہاں تشبیہ اس کے اندر اور استعارہ لام کے اندر، کہ لام تھا کس کے لیے آنا تھا اس نے؟ علتِ غائی کے لیے اور مشبہ بہٖ کے لیے اور آیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، تو یہاں پر صرف جو ہے تشبیہ مدخول کے اندر صرف تشبیہ کا ذکر کیا ہے مصنف نے، مدخول کے اندر استعارے کا تذکرہ ہی نہیں کیا، لہٰذا آپ کا غلطی نکالنا کہ مدخول میں تو استعارہ ہی نہیں ہو رہا، بھئی نہ ہو بھئی انہوں نے کب کہا مدخول کے اندر کیا ہوگا؟ استعارہ ہوگا، لہٰذا آپ کا اعتراض صحیح نہیں بھئی مصنف پر۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ حاصلِ کلام یہ، علامہ سکاکی کا بھی مذہب ہے مولانا یہاں، علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ یہاں استعارہ بالکنایہ ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ اگر حاصلِ کلام یہ، اگر تشبیہ دی جائے کس کے اندر مولانا؟ جی؟ حاصلِ کلام یہ، تشبیہ مصنف علامہ تفتازانی مطول کے اندر حاصلِ کلام یوں نکالتے ہیں، کہتے ہیں اگر تشبیہ دی جائے مجرور کے اندر تو استعارہ بالکنایہ بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ کیونکہ مشبہ ذکر اور مشبہ بہٖ اور وہ کلمہ جو لام جو آنا تھا مشبہ بہٖ کے لیے اس کو کس کے لیے ذکر کر دیا گیا؟ تو یہ جو ہے عدوا ترتبِ عداوت اور حزن یہ کیا بن جائے گا؟ اس میں یہ استعارہ بالکنایہ بن جائے گا اور یہ لام قرینہ ہوگا، یہ استعارہ تخییلیہ ہوگا، یہ ہمیں بتلائے گا کہ آگے کیا ہو رہا ہے؟ استعارہ بالکنایہ ہوا ہے۔ اور اگر تشبیہ حرف کے معنیٰ کے متعلق میں ہو، اگر تشبیہ حرف کے معنیٰ کے متعلق میں ہو تو اس صورت میں استعارہ تبعیہ بن جائے گا۔
اس کے بعد مصنف نے علامہ بتلایا کہ مدار قرینتہا کہ استعارہ تبعیہ کے قرینے کا مدار مولانا فعل اور مشتق کے اندر کبھی فاعل پر ہوگا جیسے نطقت الحال، نطقت الحال، یہ دیکھا، حال کی طرف جو نطقت کی نسبت آ رہی ہے فاعل جو ہے، بھئی حال تو بات نہیں کرتا، چنانچہ اور نطقت کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ حال کی طرف، تو اس فاعل نے بتلایا کہ نطقت بمعنیٰ نطق کے یہاں نہیں ہے بلکہ کس معنیٰ میں ہے؟ دلت کے معنیٰ میں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں استعارہ بالکنایہ کی بات ہے، دیکھو گزشتہ صفحے پر فی نطقت الحال فی نطقت الحال یہاں کیا ذکر کیا مولانا؟ علامہ تفتازانی نے کیا ذکر کیا؟ کہ نطقت کے اندر کیا ہے؟ استعارہ تبعیہ ہے اور کس چیز نے بتلایا؟ نطقت کی نسبت کس کی طرف ہوئی ہے؟ حال کی طرف، علامہ سکاکی فرماتے ہیں یہاں استعارہ بالکنایہ ہے۔ حال نطقت کی نسبت ہو رہی ہے حال کی طرف، حالانکہ نطق تو حال نہیں کرتا بلکہ کون کرتا ہے؟ انسان، معلوم ہوا حال کو تشبیہ دی گئی ہے انسان کے ساتھ۔ حال کو تشبیہ دی گئی ہے انسان کے ساتھ اور انسان کے ساتھ لازم ہے نطق، اور اس نطق کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ حال کے لیے، تو یہ قرینہ ہوا اور استعارہ تخییلیہ ہوا۔ اچھا، اور کبھی کبھار کہتے ہیں مولانا مفعول قرینہ ہوگا، قتل البخل واحیا السماحۃ، بخل کو قتل کیا اور زندہ کیا سخاوت کو، حالانکہ قتل اور احیاء ان دونوں کا نہیں ہوتا، اس نے بتلایا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ استعارہ تبعیہ۔ اسی طرح کبھی مجرور بتلائے گا مولانا کہ یہاں استعارہ ہے، فبشرہم بعذاب الیم، یہاں کہا خوشخبری سنا دیجیے ان کو، آگے آیا بعذاب الیم دردناک عذاب کی، اس مجرور عذاب الیم نے بتلایا کہ فبشر کے اندر کیا ہے؟ استعارہ ہے اور بمعنیٰ انذر کے ہے مولانا۔ پھر اس کے بعد تین قسمیں بتلائی تھیں استعارہ کی، ایک مجردہ، ایک مطلقہ اور ایک مرشحہ، مطلقہ کیا؟ مطلقہ استعارہ مطلقہ وہ ہے مولانا جس میں نہ مشبہ کا مناسب ذکر ہو اور نہ مشبہ بہٖ کا مناسب ذکر ہو، اور مجردہ وہ ہے جس کے اندر مولانا مشبہ کا کیا ہو؟ مناسب ذکر ہو، اور استعارہ مشرّحہ کون سا ہے؟ جس کے اندر مشبہ بہٖ کا مناسب ذکر ہو، اور پھر یہ بتلایا تھا کہ کبھی کبھار دونوں جمع بھی ہو جاتے ہیں، مشبہ کا مناسب بھی ذکر ہوتا ہے عبارت میں اور مشبہ بہٖ کا مناسب بھی ذکر ہوتا ہے۔ جی، والترشيح ابلغ من الاطلاق والتجريد ومن جمع التجريد والترشيح، کتنی قسمیں گزریں بھئی؟ مطلقہ کس کو کہتے ہیں؟ نہ مشبہ کا مناسب اور نہ مشبہ بہٖ کا۔ مجردہ کس کو کہتے ہیں مولانا؟ جس میں مشبہ کا مناسب۔ اور ترشیح مرشحہ کس کو کہتے ہیں؟ مشبہ بہٖ کا مناسب۔ کہتے ہیں یہ جو ترشیح ہے یعنی استعارہ مرشحہ ہے یہ زیادہ بلیغ ہے مولانا باقی دو سے۔ باقی دو سے کون کون سے بھئی؟ مطلقہ اور مجردہ، اور یا وہ جس کے اندر جو جس میں تجرید اور ترشیح دونوں جمع ہوں، ان تینوں سے کیا ہے وہ؟ زیادہ بلیغ ہے، کیوں؟ لاشتمالہ علی تحقیق المبالغۃ، اس لیے کہ وہ تحقیقِ مبالغہ پر مشتمل ہوتا ہے بھئی۔ تحقیقِ مبالغہ دیکھو، استعارہ ہے، استعارے میں کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کو تشبیہ دی گئی کس کے ساتھ؟ دوسری چیز کے ساتھ، تو اور عبارت میں کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ مشبہ بہٖ کے حرف کو، کلمے لفظ کو ذکر کیا جاتا ہے اور مراد کون ہوتا ہے؟ مشبہ مراد ہوتا ہے، تو دیکھو یہاں پر استعارے کے اندر ایک ادنیٰ چیز کو اعلیٰ چیز کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ جیسے آپ نے کہا: رايت اسدا يرمی، تو اسد بول کر کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع، تو رجلِ شجاع مشبہ اور اسد مشبہ بہٖ، اور عبارت میں آپ نے مشبہ کو ذکر کیا ہے یا مشبہ بہٖ کو؟ مشبہ بہٖ کو، لیکن کیا اس سے مشبہ بہٖ ہی مراد ہے یا مشبہ مراد ہے؟ مشبہ مراد ہے، تو آپ نے مشبہ پر جب مشبہ بہٖ کے کلمے کا اطلاق کیا تو گویا اس مشبہ کو بھی فرد بنا دیا کس میں سے؟ مشبہ بہٖ کے افراد میں سے، تو دیکھو ایک تھا ادنیٰ درجے کی بہادری ہے، ایک میں اعلیٰ درجے کی بہادری ہے، یعنی اس میں زیادہ شہرت ہے شیر کی بہادری کی، تو آپ نے ادنیٰ درجے والے کو ملایا کس کے ساتھ؟ اس کے افراد میں سے بنا دیا۔ تو اب ذکر تو مشبہ بہٖ ہو رہا ہے لیکن مراد کیا ہے؟ مشبہ ہے، اب آپ کیا کرتے ہیں؟ اس میں مشبہ بہٖ کے مناسبات کو بھی ذکر کر دیتے ہیں، حالانکہ اس سے مشبہ بہٖ مراد ہے؟ نہیں، مراد تو کون ہے؟ مشبہ، تو مشبہ کے مناسبات ذکر ہونے چاہیے لیکن آپ کیا کرتے ہیں؟ مشبہ بہٖ کے مناسب، تو وہ جو آپ نے تشبیہ دی تھی ادنیٰ کو اعلیٰ کے ساتھ، ادنیٰ کو ملایا تھا کس کے ساتھ؟ اعلیٰ کے ساتھ، تو جب اعلیٰ کے وصف بھی اس کے لیے ذکر کر دیں تو اور قوت آ گئی اس کے اندر بھئی۔ کیا آ گئی؟ اور قوت آ گئی کہ اتنا بالکل ہی اسی کا فرد ہے گویا کہ وہ چیزیں جو مشبہ بہٖ کے لیے ہونی تھیں وہ آپ نے اس کے لیے ثابت کر دیں بھئی۔ لاشتمالہ علی تحقیق المبالغۃ فی التشبيه، اس لیے کہ وہ مشتمل ہوتا ہے مولانا کس پر؟ مبالغے کی تحقیق یعنی قوت پر مشتمل ہوتا ہے تشبیہ کے اندر مولانا، مبالغہ کس میں ہوتا ہے یہاں؟ تشبیہ کے اندر ہوتا ہے بھئی، کیونکہ ادنیٰ کو کس سے ملایا جاتا ہے؟ اعلیٰ سے۔ لان فی الاستعارۃ مبالغۃ فی التشبيہ، اس لیے کہ استعارے میں مبالغہ فی التشبیہ ہوتا ہے، فترشیحہا، لہٰذا مولانا اس کو مزین کرنا، رَشَّحَ يُرَشِّحُ ترشیح کا معنی پس اس کو مزین کرنا بما يلائم المستعار منہ، اس چیز کے ساتھ جو مناسب ہے کس کے؟ مستعار منہ یعنی مشبہ بہٖ کے، تحقيق لذلک، وہ اس مبالغے کی تحقیق ہے، وتقویۃ لہ، اور اس کے تقویت کا باعث ہے، اس سے تشبیہ میں کیا آ جائے گی؟ اور قوت آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ جی؟ ومبناہا ای مبنی الاستعارۃ الترشیحیۃ علی تناسی التشبيه، اور بنیاد مولانا استعارہ ترشیحیہ کی تناسی تشبیہ پر ہے۔ تناسی تشبیہ کہتے ہیں تشبیہ کے بھلانے کا اظہار کرنا۔ یوں ظاہر کرنا جیسے آدمی تشبیہ کو بھول گیا ہو۔ تشبیہ کو بھول گیا ہو۔ دیکھو، اوپر جو شعر گزرا تھا: لدى اسد شاك السلاح مقذف لہ لبد اظفارہ لم تقلم، بھئی یہاں اسد بول کر کیا مراد ہے؟ جی؟ توجہ ہے سب کی بھئی؟ اسد بول کر کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع مراد ہے، تو دیکھو شہرت کے اندر شیر زیادہ مشہور ہے یا رجلِ شجاع رجل بھئی؟ شیر زیادہ مشہور ہے، تو رجل کی شجاعت اتنی اس کی اتنی شہرت نہیں جتنی شیر کی شجاعت کی، تو آپ نے ادنیٰ درجے والے کو ملا دیا کس کے ساتھ؟ اعلیٰ، تو مبالغہ آیا بھئی، اس کا درجہ تو ادنیٰ تھا، آپ نے کہاں پہنچا دیا اس کو؟ اعلیٰ درجے پر۔ مبالغہ آیا، اور مولانا تو اب یہاں جو اسد ذکر ہے مراد کیا ہے؟ رجلِ شجاع، تو رجلِ شجاع کے مناسبات ذکر ہونا چاہیے یہاں پر، اسد کے مناسبات کو ذکر نہیں ہونا چاہیے، لیکن کیا کیا جاتا ہے؟ کہ گویا تشبیہ کو بھلانے کا اظہار کیا جاتا ہے، ہم تو بھول ہی گئے ہم نے اس لفظِ اسد میں کیا کیا تھا؟ استعارہ کیا تھا اور تشبیہ دی تھی رجلِ شجاع کو کس کے ساتھ؟ شیر کے ساتھ اور یہاں اسد سے کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع، یہ ساری باتیں بھلا کر مولانا گویا اسد ذکر ہے تو آگے کہہ دیا: لہ لبد اظفارہ لم تقلم، اس کے کیا مناسبات؟ مشبہ بہٖ کے مناسبات ذکر کر دیے، بھئی مشبہ بہٖ کے مناسبات تو تب آپ ذکر کرتے جب مراد بھی مشبہ بہٖ ہوتا، حالانکہ اسد سے شیر مراد ہے؟ شیر ہوتا تو آپ کہتے شیر کی ایال ہے اور اس کے ناخن نہیں کٹے ہوئے لیکن یہاں تو لفظ شیر ذکر ہے اور مراد کیا ہے؟ اور رجلِ شجاع کی کیا ہوتی ہیں ایال ہے؟ اس کے ناخن نہیں کاٹے گئے؟ تو یہاں دیکھو تشبیہ کو بھلانے کا اظہار کیا جاتا ہے اور کلام کی بناء کی جاتی ہے کس کے اوپر؟ مشبہ بہٖ پر کی جاتی ہے بس۔ ومبناہا ای مبنی الاستعارۃ الترشیحیۃ علی تناسی التشبيه، اس کی بنیاد تناسی تشبیہ پر ہے، وادعاء ان المستعار لہ نفس المستعار منہ، اور اس دعوے پر ہے کہ مستعار لہ وہ کیا ہیں؟ نفسِ مستعار منہ ہی ہے یعنی اس کے افراد میں سے ہے۔
افراد میں سے ہے، لا شیء شبیہ بہ، کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس کے مشابہ ہے، یعنی رجلِ شجاع کوئی اس کے مشابہ چیز نہیں ہے بلکہ وہ تو اسی کے افراد ہی میں سے ہے، اسی لیے چونکہ اس کے لیے جو چیزیں ثابت تھیں اس کے لیے بھی ثابت کر دیں، حتی انہ یبنی علی علو القدر الذی یستعار لہ علو المکان ما یبنی علی علو المکان کقولہ: تو دیکھو، شعر دیکھیں مولانا: ويصعد حتى يظن الجهول بأن له حاجة في السماء، اور وہ ترقی کرتا ہے، صعد یصعد کے معنی ترقی کرنا مولانا۔ اصل میں صعود کہتے ہیں اوپر چڑھنا۔ صعود کس کو کہتے ہیں؟ اب یہ سیڑھی وغیرہ کے ساتھ جو اوپر چڑھ جائے گا اس کو کیا کہا جائے گا؟ صعود کہا جائے گا، اور ایک ہوتی ہے کمالات کے اندر ترقی، کس میں؟ کمالات میں ترقی ہے، علمی ترقی ہے مثلاً مولانا، تو اس علمی ترقی میں بھی کہتے ہیں وہ بلند ہو رہا ہے، لیکن کیا وہ حقیقتاً بلند ہوا ہے؟ صرف اس کے رتبے کے اعتبار سے، تو صعودِ رتبی ہے مولانا اور ایک صعودِ مکانی ہے، یا یوں کہو ایک علوِّ رتبی ہے اور ایک علوِّ مکانی ہے، ایک رتبے کے اعتبار سے بلند ہونا اور ایک ہے مکان کے اعتبار سے بلند ہونا، اور یہاں صعود کس لیے آتا ہے مولانا؟ علوِّ مکانی کے لیے آتا ہے، اوپر چڑھنا کس اعتبار سے؟ ہاں یہ صعود آتا ہے علوِّ مکانی کے لیے، لیکن یہاں اس سے کیا مراد ہے؟ علوِّ رتبی مراد ہے، تو علوِّ رتبی کو تشبیہ دی ہے علوِّ مکانی کے ساتھ اور پھر وہ لفظ جو استعمال ہوتا تھا علوِّ مکانی کے لیے اس کو استعمال کر لیا کس کے لیے؟ علوِّ رتبی کے لیے، ويصعد اور وہ اوپر چڑھتا ہے، حتى يظن الجهول یہاں تک کہ کیا کرتے ہیں؟ بڑے جاہل جو ہے وہ گمان کرتا ہے، بأن له حاجة کہ اس کی کوئی حاجت ہے، فی السماء آسمان کے اندر۔ شاعر کہتا ہے میرا جو ممدوح ہے وہ کمالات کے اندر ترقی کرتا ہے۔ رتبی ترقی رتبے کے اعتبار سے ترقی کرتا ہے، تو اوپر کی جانب چڑھتا ہے، تو جو بڑے جاہل ہیں وہ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ شاید اس کی آسمان میں کوئی حاجت ہے جو یہ اوپر کی طرف چڑھ رہا ہے اور روز بروز آسمان کے قریب ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو آسمان کے قریب ہونا یہ علوِّ رتبی میں آئے گا یا علوِّ مکانی کے اندر ہوگا بھئی؟ علوِّ مکانی کے اندر اوپر چڑھنا ہے تو آسمان کی طرف قریب ہو رہا ہے، لہٰذا کوئی جب علوِّ مکانی پایا جائے پھر تو ایک شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا آسمان پہ کوئی کام ہے یہ اوپر کو چڑھ رہا ہے، لیکن علوِّ رتبی کے اندر تو آسمان کے وہ قریب ہو ہی نہیں رہا تو اس پر یہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کی آسمان میں کوئی حاجت ہے؟ تو دیکھو یہاں استعارہ کیا گیا مولانا اور پھر تناسی تشبیہ کی گئی، صعود بولا اور صعود تو کہتے ہیں علوِّ مکانی کو لیکن اس کو مستعار لیا کس کے لیے؟ علوِّ رتبی کے لیے، تو اس میں استعارہ ہوا لیکن پھر تناسی تشبیہ کی گئی، تشبیہ کو بھلا ہی دیا گیا گویا اور یوں سمجھا گیا کہ علوِّ رتبی بھی جو ہے کس کے افراد میں سے ہے؟ علوِّ مکانی کے افراد میں سے ہے، اور علوِّ مکانی پر یہ بات مرتب ہوتی تھی کہ اس میں کہا جا سکتا تھا کہ اس شخص کو آسمان میں حاجت ہے یہ اس کے قریب قریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے، علوِّ رتبی میں تو ایسا کہا لیکن پھر اس علوِّ اور چنانچہ تناسی تشبیہ کرتے ہوئے اس پر کس کے اس کے لیے کس کے مناسب کو ذکر کر دیا گیا؟ علوِّ مکانی کے مناسب کو ذکر کر دیا گیا نہ کہ علوِّ رتبی کے، تو بأن له حاجة فی السماء یہ اسی صورت میں ہو سکتا تھا جب علوِّ مکانی مراد ہو، علوِّ رتبی پر یہ حکم مرتب نہیں ہو سکتا تھا۔ تو دیکھو یہ تناسی تشبیہ ہے، تشبیہ تو دی صعود کے اندر لیکن پھر اس کے بھلانے کا اظہار کرتے ہوئے مشبہ بہٖ کا حکم لگا دیا حالانکہ مشبہ بہٖ تو یہاں مراد ہی نہیں تھا بلکہ کون مراد تھا؟ مشبہ۔ اب دیکھو مولانا، حتى انه يبنى علی علو القدر، یہاں تک کہ بناء کی جاتی ہے علوِّ قدر پر، الذی یستعار لہ علو المکان، جس کے لیے مستعار لیا گیا تھا کس کو؟ علوِّ مکانی کو، اس پر بناء کی جاتی ہے، ما يبنى علی علو المکان، اس چیز کی جس کی بناء کس پر تھی مولانا؟ علوِّ مکانی پر تھی، کقولہ: ويصعد وہ اوپر کو چڑھتا ہے وہ ترقی کرتا ہے، حتى يظن الجهول، یہاں تک گمان کرتا ہے بڑا جاہل کامل جاہل مولانا، بأن له حاجة فی السماء کہ اس کی کوئی حاجت ہے آسمان کے اندر۔ استعار الصعود لعلو القدر، مستعار لیا شاعر نے صعود کو کس کے لیے؟ علوِّ قدر کو، وللارتقاء فی مدارج الکمال، اور ترقی کس کے اندر؟ مدارج کمال کے مرتبوں میں جو ترقی ہو رہی ہے اس کے لیے مستعار لیا، ثم بنی علیہ، پھر بناء کی اس پر، ما يبنى علی علو المکان، اس چیز کی جس کی بناء کس پر کی جاتی تھی؟ علوِّ مکانی پر جس چیز کی بناء ہونی تھی اس کی بناء کر دی علوِّ قدر پر، وعلی علو المکان والارتقاء الی السماء، علوِّ مکانی اور ترقی چڑھنا اوپر آسمان کی طرف اس پر بناء ہونی تھی مولانا، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ دوبارہ دیکھو: استعار الصعود لعلو القدر والارتقاء فی مدارج الکمال، مستعار لیا صعود کو کس کے لیے؟ علوِّ قدر کے لیے اور ارتقاء فی مدارج الکمال کمال کے مراتب میں ترقی کے لیے، کمال کے مراتب میں ترقی کے لیے اس کو مستعار لیا، ثم بنی علیہ، پھر اس پر بناء کی، ما يبنى علی علو المکان والارتقاء الی السماء، جس کی بناء ہونی تھی کس پر مولانا؟ علوِّ مکانی پر اور ارتقاء الی السماء پر جس کی بناء ہونی تھی اس کی بناء کر دی ارتقاء فی مدارج الکمال پر۔ اچھا، من ظن، بھئی تو وہ چیز جس کی بناء ہونی تھی علوِّ مکانی پر اس کی بناء کر دی علوِّ قدر پر بھئی وہ کیا چیز ہے؟ من بیانیہ ہے، من ظن الجهول، یعنی کہ جاہلوں کا یہ گمان، بأن له حاجة فی السماء، کہ اس کی آسمان میں کوئی وفی لفظ الجهول، بھئی یہ کیوں کہا کہ بڑا جاہل گمان کرتا ہے کہ اس کی آسمان میں کوئی حاجت ہے؟ علامہ تفتازانی کہتے ہیں جہول اس لیے کہا کہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جو عقلمند لوگ ہیں وہ یہ گمان نہیں کرتے، وہ ترقی کر رہا ہے روز بروز آسمان کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے لیکن عقلمند لوگ یہ گمان نہیں کرتے کہ اس کی آسمان میں کوئی یہ بڑا جاہل جو ہوگا وہی ایسا گمان کر سکتا ہے۔ کیوں بڑا جاہل؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وہ عقلمند اس لیے نہیں گمان کرے گا کیونکہ عقلمند کو پتہ ہے کہ یہ جو میرا ممدوح ہے صفات اور کمالات کے اندر صفات کے اندر یہ انتہائی کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ جب انتہائی کمال کو پہنچا ہوا ہے تو پھر آسمان کی طرف قریب ہونے کا اس کو آسمان کی طرف جو قریب ہو رہا ہے اور بلند ہو رہا ہے یہ ویسے ہی بلندی کے اپنے آپ کو بلند کرنے کے لیے اس طرح کر رہا ہے ورنہ آسمان میں اس کی کوئی حاجت ہو کیونکہ یہ تو تمام چیزوں میں کامل ہے بھئی۔ وفی لفظ الجهول زیادۃ مبالغۃ فی المدح، اور لفظ جہول کے اندر زیادہ مبالغہ ہے مدح کے اندر، لما فیہ من الاشعار، بوجہ اس کے بوجہ اس میں خبر ہو اطلاع ہونے کی اس بات کی، ان ہذا انما یظنہ الجهول، کہ یہ بات جو ہے کہ اس کی حاجت ہوگی کوئی آسمان کے اندر یہ صرف بڑے کامل جاہل ہی یہ گمان کرتا ہے، واما العاقل، باقی عاقل جو ہے، فیعرف، وہ جانتا ہے، ان لا حاجۃ، ان لا حاجۃ لہ فی السماء، کہ اس کی کوئی حاجت نہیں آسمان کے اندر، لاتصافہ بسائر الکمالات، اس لیے کہ وہ متصف ہے تمام کمالات کے ساتھ، وہذا المعنی مما خفى علی بعضہم، اور یہ معنی جو ہے یہ جو جہول کے لفظ میں یہ بات ہم نے نکتہ بتلایا یہ معنی یہ نکتہ جو ہے یہ مخفی رہا بہت سے علماء پر، فتوہموا، انہوں نے وہم کیا، ان فی البیت تقصیرا، کہ شعر کے اندر کوتاہی کی گئی ہے کمی کی گئی ہے، فی وصف علوہ، اس کے بلند ہونے کے وصف میں کمی کی گئی ہے۔ یعنی اوپر چڑھتا ہے تو کون گمان کرتے ہیں؟ بڑے جاہل، تو بعض علماء نے کہا بھئی یہ بڑے جاہل کہا نا معلوم ہوا یہ بڑا جاہل ہے معلوم وہ تو اس کے تو خیالات کا صحیح ہونا ضروری نہیں، اس کے خیالات کا صحیح ہونا معلوم ہوا
اس کا اوپر کو چڑھنا بھی صحیح اس کا خیال فاسد ہوگا ویسے غلط ہوگا معلوم ہوا یہ اوپر کو چڑھ ہی نہیں رہا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اوپر کو چڑھ ہی نہیں۔ تو وصفِ علو کے اندر کوتاہی ہے، حیث اثبت هذا الظن، بایں طور کہ ثابت کیا اس گمان کو، للکامل فی الجہل، جہل کے اندر کامل کے لیے شاعر نے ثابت کر دیا، جہل کس چیز میں ہے؟ بمعرفۃ الاشیاء، اشیاء کے پہچاننے میں جس کا جہل کامل ہے وہ یہ گمان کرتا ہے، اور اس کا گمان تو ہے فاسد، معلوم ہوا اس کا اوپر کو ترقی کرنا بھی فاسد ہے یعنی نہیں ہے، یہ اوپر کی طرف ترقی نہیں کر رہا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، جہول گمان کرتے ہیں، اس کا صعود کے اندر تو کوئی اختلاف نہیں، عقلمند بھی اس بات کو مانتا ہے یہ اوپر کی طرف چڑھتا ہے اور جاہل بھی جانتا ہے کہ یہ اوپر کی طرف چڑھ رہا ہے، اختلاف صرف کس چیز میں ہے؟ کہ جاہل سمجھتا ہے اس کی آسمان میں حاجت ہے اور عقلمند سمجھتا ہے کہ اس کی آسمان میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ ونحوہ اور اسی کے مثل ہے بھئی۔ تو دیکھا مولانا؟ تناسی تشبیہ کی گئی یہاں پر۔ تشبیہ کو بھلا کر وہ چیز جو کس کے لیے آنی تھی؟ مشبہ بہٖ کے لیے، اس کو کس کے لیے ذکر کر دیا؟ مشبہ کے لیے ذکر کر دیا، ونحو اور اسی کے مثل ہے، ای مثل البناء علی علو القدر ما یبنی علی علو المکان لتناسی التشبيه، یہ جو بناء کی گئی تھی علوِّ قدر کی بناء کی گئی تھی علوِّ قدر پر ما اس چیز کی جس کی بناء کی جانی چاہیے تھی علوِّ مکان پر لتناسی التشبيه تناسی تشبیہ کی وجہ سے، اسی کے مثل ہے، ما مر من التعجب، وہ جو گزرا تھا تعجب میں سے، تعجب گزرا تھا پیچھے فی قولہ شاعر کے اس قول کے اندر: قامت تظللنی ومن عجب شمس تظللنی من الشمس، وہ ذات کھڑی ہوئی اور وہ مجھ پر سایہ کر رہی تھی اور کتنی عجیب بات ہے کہ ایک سورج سایہ کر رہا تھا سورج سے، تو دیکھو شاعر نے کیا کیا بھئی؟ انسانِ حسین کو کیا قرار دیا؟ سورج قرار دیا، اور سورج کے لیے سورج سایہ کرتا ہے یا دھوپ کرتا ہے بھئی؟ دھوپ، سورج سے دھوپ آئے گی، تو لہٰذا سورج سے سورج سایہ کرے تو یہ بات باعثِ تعجب ہے، لیکن یہاں تو شمس بول کر کیا مراد تھا؟ انسان، تو وہ بات جو انسان اس سورج کے لیے سے متعلق ہوتی تو عجیب ہوتی اسی کو ثابت کر دیا یہاں پر انسان کے لیے، تو یہ کس پر مبنی ہے؟ تناسی کہ پہلے ایک انسانِ حسین کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ سورج کے ساتھ اور پھر تو انسانِ حسین ہوا مشبہ اور سورج ہوا مشبہ بہٖ، اور پھر اس مشبہ کے لیے کس کا لفظ استعمال کر لیا؟ مشبہ بہٖ کا لفظ ہی استعمال کر لیا، تو یہ استعارہ ہوا اور اس کی بناء کس پر ہے؟ تشبیہ پر ہے، لیکن پھر گویا تناسی تشبیہ کی گئی، تشبیہ کو بھلا ہی دیا گیا کہ تشبیہ بھی دی ہے یا نہیں۔ اور شمس پر ایک حکم لگتا تھا کیا؟ کہ اس کا سایہ کرنا بڑی عجیب بات ہو، لیکن یہاں شمس سے شمس مراد ہے؟ لہٰذا یہاں پر یہ کہنا کہ یہ سایہ کرے عجیب بات ہے یہ بات صحیح تھی؟ نہیں، کیونکہ یہاں تو انسان مراد ہے اور انسان تو دوسرے انسان پر کیا کر سکتا ہے؟ سایہ کر سکتا ہے، لیکن تناسی تشبیہ کرتے ہوئے مشبہ کے لیے مناسبِ مشبہ بہٖ کو ذکر کر اس کے حکم کو ذکر کر دیا گیا۔ والنہی عنہ، اور اسی طرح جو نہی عن التعجب گزری تھی فی قولہ اس شعر کے اندر: لا تعجبوا من بلى غلالتہ قد زر ازرارہ علی القمر، تم تعجب نہ کرو اس کے بنیان کی بوسیدگی سے، تحقیق اس نے اپنے بٹن بند کیے ہوئے ہیں چاند پر، کس پر بٹن بند کیے ہیں؟ میں نے آپ کو بتایا تھا چاند کی روشنی کا اثر ہوتا ہے کہ کتان کا کپڑا کیا ہو جاتا ہے؟ بوسیدہ ہو جاتا ہے اور گل جاتا ہے، تو شاعر کہتا ہے کہ میرے ممدوح کی بنیان اگر بوسیدہ ہے تو تم تعجب نہ کرو، کیوں؟ اس لیے کہ میرا ممدوح جو ہے وہ تو چاند ہے اور چاند کیا ہے اس کی روشنی میں جب بنیان بوسیدہ ہو جاتی ہے تو جب اس کے ساتھ لگی ہوئی ہو بدن کے ساتھ تو پھر بطریقِ اولیٰ وہ بنیان بوسیدہ ہوگی لہٰذا تعجب کی کوئی بات نہیں۔ تو اب یہ چاند کا خاصہ ہے، چاند کی وجہ سے کتان کا کپڑا بوسیدہ ہو تو پھر تو ہم دوسرے کو روک سکتے ہیں کہ یہ تو چاند کا خاصہ ہے آپ کو معلوم ہے بھئی اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، لیکن انسان نے جب پہنی ہوئی ہے اور بوسیدہ ہے تو پھر یہ تو باعثِ تعجب ہو سکتا تھا، تو تعجب سے روکا گیا اور تعجب سے روکا کب جاتا؟ جب اصل چاند ہوتا، تو لہٰذا وہ حکم جو ثابت تھا اصل چاند کے لیے اس کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ ممدوح کے لیے اور اس کی بناء کس پر کی گئی؟ تناسی تشبیہ پر، گویا کہ تشبیہ کو بھلا ہی دیا گیا کہ بھئی یہاں تو چاند نہیں مراد تشبیہ دی گئی ہے اور یہاں کیا مراد ہے؟ چاند سے کیا مراد ہے؟ ہاں وہ ممدوح مراد ہے اس کا، تو تناسی تشبیہ کی۔ اذ لو لم يقصد تناسی التشبيه وانکارہ، اس لیے کہ اگر ارادہ نہ کیا جاتا تناسی تشبیہ کا اور انکار تناسی تشبیہ کا وانکارہ جی، ہاں، اگر تناسی تشبیہ کا ارادہ نہ کیا جاتا اور تشبیہ کا انکار نہ کیا لم یقصد انکارہ جی، اور انکار کا انکارِ تشبیہ کا ارادہ تشبیہ کے انکار کا ارادہ نہ کیا جاتا، لما کان للتعجب والنہی عنہ جہۃ، تو تعجب اور نہی عن التعجب کی کوئی وجہ نہ ہوتی، علی ما سبق جیسا کہ گزر گیا، ثم اشار الی زیادۃ تقریر لهذا الکلام، پھر مصنف نے اشارہ کیا اس کلام کی زیادہ سے تقریر کی طرف یعنی اس کو اور کلام بات کو پختہ کر رہے ہیں مولانا، فقال، مصنف نے کیا کہا تھا بھئی؟ استعارہ مشرّحہ کی بنیاد کس پر ہوتی ہے؟ تناسی تشبیہ پر، تشبیہ کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ بھلا دیا جاتا ہے اور مشبہ کو گویا کہ بعینہٖ مشبہ بہٖ کا فرد بنا دیا جاتا ہے اور جب بعینہٖ اس کا فرد بنا دیا تو جو حکم مشبہ بہٖ کے لیے ثابت تھا وہ کس کے لیے ثابت کر دیا؟ مشبہ کے لیے، تو کہتے ہیں: واذا جاز البناء علی الفرع ای المشبہ بہ مع الاعتراف بالاصل، ذرا آگے شعر کو دیکھو بھئی: هي الشمس مسكنها في السماء فعز الفؤاد عزاء جميلا فلن تستطيع إليها الصعودا ولن تستطيع إليك النزولا، هي الشمس، شاعر کہتا ہے میری معشوقہ اور محبوبہ جو ہے وہ سورج ہے، مسکنہا فی السماء، اس کا مسکن کہاں ہے؟ ایسا سورج جس کا مسکن کہاں ہے؟ آسمان میں ہے، فعز الفؤاد، تو صبر دلا اپنے دل کو، عزاء جميلا، اچھا صبر بھئی، صبرِ جمیل، فلن تستطيع إليها الصعودا، تو استطاعت نہیں رکھتا کہ اس اس وہ استطاعت نہیں رکھتا اس سورج کی طرف چڑھنے کی، ولن تستطيع إليك النزولا، اور یہ سورج بھی استطاعت نہیں رکھتا تیری طرف اترنے کی بھئی، تیری طرف اترنے کی۔
تو دیکھو یہ تشبیہ ہے مولانا، هي الشمس، وہ معشوقہ کون ہے؟ سورج ہے، ہی مشبہ اور الشمس اور کاف اداتِ تشبیہ محذوف، ہی کالشمس، وہ کس کی طرح ہے؟ اس لیے کہ آپ نے پڑھا تھا کہ تشبیہ اداتِ تشبیہ کو کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ تو دیکھو یہاں پر مولانا مشبہ موجود ہے۔ مشبہ مشبہ کے ہوتے ہوئے اور مشبہ کو کیا قرار کس کی طرح قرار دیا؟ سورج کی طرح، اور مشبہ کے ہوتے ہوئے تناسی تشبیہ ہو سکتی ہے؟ جی؟ بھئی استعارے کے اندر تو تناسی تشبیہ کرتا ہے دوسرا شخص تشبیہ کو بھلاتا بھلانے کا اظہار کرتا ہے۔ دیکھو اسد کا لفظ بولا اور مراد کیا ہے؟ تو رجلِ شجاع کو تشبیہ دی گئی تھی اسد کے ساتھ، تو رجلِ شجاع مشبہ اور اسد مشبہ بہٖ، اور عبارت میں صرف کون ذکر ہے؟ صرف مشبہ بہٖ ذکر ہے، مشبہ سرے سے ذکر ہی تو اب تو جب مشبہ سرے سے ذکر ہی نہیں ہے، ایک ہی چیز ذکر ہے مولانا اور وہ کون؟ مشبہ بہٖ، اب تو تناسی تشبیہ ہو سکتی تھی۔ لیکن جب دونوں ذکر ہوں، مشبہ بھی ذکر ہے اور مشبہ بہٖ بھی ذکر ہے، عبارت میں صاف تشبیہ ہمیں نظر آ رہی ہے پھر تناسی تشبیہ ہو سکتی ہے؟ تناسی تشبیہ، تو وہاں تو تناسی تشبیہ کرنے کے بعد مشبہ بہٖ پر کلام کی بناء کر لی گئی تھی کہ ہم تشبیہ کو بھول ہی گئے ہیں تشبیہ بھی کوئی دی ہے ہم نے یا اور آگے مشبہ بہٖ کے مناسبات ذکر کر دیے، اور یہاں تو باقاعدہ مشبہ ذکر ہے یہاں تو تناسی تشبیہ ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہاں پر بھی کیا کیا جاتا ہے؟ مشبہ بہٖ پر کلام کی بناء کی جاتی ہے اور اس کے مناسبات کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ ذکر کر دیا جاتا ہے، تو جب مشبہ جو اصل ہے مشبہ کیا ہے؟ اور مشبہ بہٖ کیا ہے؟ بھئی آپ نے اب تک پڑھا تھا کہ مشبہ بہٖ اصل ہے۔ اصل میں دو جہتیں ہیں، ایک جہت کے اعتبار سے مشبہ اصل دوسری جہت کے اعتبار سے مشبہ اگر تشبیہ کے اعتبار سے غرض کے اعتبار سے دیکھا جائے تو تشبیہ کی غرض زیادہ تر اس کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ مشبہ سے ہوتا ہے، تو غرض کے اعتبار سے مشبہ اصل۔ مشبہ میں نے کہا: رايت اسدا يرمی، میں نے ایک شیر کو دیکھا تیر چلاتے ہوئے، میں کس کی بہادری ثابت کرنا چاہتا ہوں؟ رجلِ شجاع، تو غرض میری کس کی طرف لوٹ رہی ہے؟ رجلِ شجاع، تو غرض لوٹتی ہے مشبہ کی طرف تو اس غرض کے اعتبار سے مشبہ اصل اور مشبہ بہٖ فرع۔ مشبہ بہٖ فرع۔ اور مولانا شہرت کے اعتبار سے اور قوت کے اعتبار سے مشبہ بہٖ اصل ہوتا ہے اور مشبہ فرع، شیر کی بہادری زیادہ مشہور ہے یا رجل کی مولانا؟ شیر کی، تو لہٰذا وجہِ تشبیہ کے اندر قوت کس میں زیادہ ہے؟ مشبہ بہٖ میں، اس اعتبار سے وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے مشبہ بہٖ اصل اور مشبہ فرع، اور غرض کے اعتبار سے مشبہ اصل اور مشبہ بہٖ فرع، تو دیکھو یہاں پر اصل موجود ہے اور وہ کون؟ مشبہ۔ استعارے میں کون موجود ہوتا ہے؟ مشبہ بہٖ اور وہ کیا ہے؟ فرع، تو وہاں تو اصل موجود ہی نہیں ہوتا لہٰذا فرع پر کلام کی بناء کر لی جاتی ہے، فرع سے کون مراد ہے؟ مشبہ بہٖ، مشبہ بہٖ کے مناسبات ذکر ہوتے ہیں۔ تو استعارے کے اندر تو اصل ذکر ہی نہیں ہوتا لہٰذا صرف مشبہ بہٖ ہے تو مشبہ بہٖ پر ہی کیا کر لی جاتی ہے کلام کی اور یہ تو تشبیہ ہے یہاں پر اور تشبیہ کے اندر تو اصل بھی موجود ہے اور اصل کے ہونے کے باوجود کلام کی بناء کس پر کر لی گئی ہے؟ مشبہ بہٖ پر کر لی گئی، اس کی اس کے اوصاف وغیرہ کیا کر دیے گئے؟ ذکر کر دیے گئے مولانا، کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، تو اس پر کلام کی بناء تو جب اصل موجود ہے پھر جیسے اس تشبیہ کے اندر اصل موجود ہے پھر مولانا مشبہ بہٖ پر کلام کی بناء کی جا سکتی ہے، تو جب اصل موجود ہی نہ ہو سرے سے پھر تو بطریقِ اولیٰ کیا ہو سکتی ہے مشبہ بہٖ پر کلام کی بناء ہو سکتی ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ خلاصہ دوبارہ سنو: مشبہ کون؟ اصل، مشبہ بہٖ کون؟ فرع، اور تشبیہ کے اندر دونوں ذکر ہیں اور تشبیہ کے تو جب مشبہ اصل ذکر ہے تو مشبہ بہٖ یعنی فرع پر کلام کی بناء نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اصل خود موجود ہے، لیکن اصل کے ہونے کے باوجود مشبہ بہٖ یعنی فرع پر کیا کر لی جاتی ہے؟ کلام کی بناء کر لی جاتی ہے اور اس کے مناسبات کو عبارت میں ذکر کر دیا جاتا ہے، تو یہ تو ہے تشبیہ جہاں اصل موجود تھا پھر بھی آپ نے فرع پر کلام کی بناء کر لی اور استعارے میں تو اصل مشبہ موجود ہی نہیں ہوتا صرف کون موجود ہوتا ہے؟ تو جب جہاں اصل موجود ہی نہیں ہے وہاں تو بطریقِ اولیٰ فرع پر کلام کی بناء ہو سکتی ہے۔ اب دیکھیے جی: واذا جاز البناء علی الفرع، اور جب جائز ہے بناء کرنا فرع پر، فرع سے کیا مراد ہے؟ مشبہ بہٖ، مع الاعتراف بالاصل، باوجود اعتراف کے کس کا اعتراف؟ اصل، باوجود اصل کے اعتراف کے جو آگے آ رہا ہے، ای المشبہ، یعنی مشبہ، وذلک، اور یہ کہتے ہیں علامہ تفتازانی پر اعتراض ہوا فوراً یہاں کہ بھئی آپ نے فرع کو اصل کس کو قرار دیا؟ اور فرع کس کو قرار دیا؟ حالانکہ ابھی تک آپ نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ مشبہ بہٖ اصل ہے اور مشبہ فرع ہے، کہتے ہیں بھئی جہتیں مختلف ہیں، وذلک لان الاصل فی التشبيه، اور وہ اس وجہ سے کہ اصل تشبیہ کے اندر، وان کان ہو المشبہ بہ، اگرچہ وہ کیا ہے؟ مشبہ بہٖ ہے، من جہۃ انہ اقوی واعرف، بایں اس جہت سے کہ وہ زیادہ قوی ہے اور زیادہ مشہور ہے، تو وجہِ تشبیہ کے اندر وہ اصل ہے، الا ان المشبہ ہو الاصل، لیکن مشبہ وہ اصل ہے، من جہۃ ان الغرض یعود الیہ، کہ غرض کس کی طرف لوٹتی ہے؟ اسی کی طرف لوٹتی ہے، وانہ المقصود فی الکلام بالنفی والاثبات، اور وہی مقصود ہوتا ہے کلام کے اندر نفی اور اثبات کے ساتھ، نفی اور اثبات کا تعلق کس چیز سے ہوتا ہے؟ کلام میں جو چیز ثابت کر رہے ہیں یا جس چیز کی نفی کر رہے ہیں اس کا تعلق کس سے ہوگا؟ جی؟ رايت اسدا يرمی، میں نے ایک شیر کو دیکھا تیر چلاتے ہوئے، یہ تیر چلانا کس کے لیے ثابت ہے؟ تو وہ مقصود ہوا نا اس کی بات ذکر ہوتی ہے۔ تو وہ مقصود ہوتا ہے مولانا کلام کے اندر نفی اور اثبات کے اعتبار سے اس کے لیے کوئی چیز ثابت کی جاتی ہے یا کسی چیز کی نفی کی جاتی ہے، کما فی قولہ، جیسے شعر کے اندر: ہی الشمس، میری معشوقہ جو ہے وہ وہ سورج ہے، مسکنہا فی السماء، اس کا مسکن آسمان میں ہے، فعز، عز امر ہے مولانا بابِ تفعیل سے، فعز امر، یہ امر ہے امر کا صیغہ ہے، عزا يعزی تعزیۃ، تعزیۃ، فعز امر من عزاہ، عزاہ یعنی بابِ تفعیل سے عزا يعزی، حملہ، اس کا معنی کیا ہے؟ حملہ علی العزاء، عزاء کہتے ہیں صبر اور تسلی کو، حملہ علی العزاء، صبر اور تسلی پر دوسرے کو ابھارنا یعنی صبر دلانا، وہو الصبر، عزاء کا معنی بتلا رہے ہیں اور وہ عزاء کیا ہے؟ صبر ہے، تو صبر دلا الفؤاد تسلی دے الفؤاد اپنے دل کو، عزاء جميلا، اچھا صبر بھئی، فلن تستطيع، پس تو ہرگز استطاعت نہیں رکھتا، اليہا، ای الی الشمس، کس کی طرف؟ سورج کی طرف، الصعودا، اوپر چڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتا، ولن تستطيع ای الشمس، اور سورج بھی استطاعت نہیں رکھتا، الیک النزولا، آپ کی طرف درمیان میں ای الشمس، ای الی الشمس یہ ضمائر کے مرجع بتلائے کہ لن تستطیع کے اندر ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ شمس کو۔ جی، والعامل فی اليہا واليك ہو المصدر بعدہما، چلیے جی یہ بعد میں دیکھیں گے۔
والعامل فی اليہا واليك ہو المصدر بعدہما۔ اچھا، مولانا اب یہ ترکیب بتلا رہے ہیں آپ کو، شعر کے اندر اليہا آیا تھا ایک مصرعے میں اور اليك ایک مصرعے میں آیا مولانا۔ اب یہ جار مجرور ہے، جار مجرور کسی سے کیا متعلق ہونا چاہتے ہیں اور وہ متعلق کیا ہوتا ہے؟ ان کے اندر عامل ہوتا ہے، تو ان کے اندر عامل کون ہے؟ یہ تو متعلق ہو رہے ہیں اليہا متعلق ہو رہا ہے صعود سے اور اليك متعلق ہو رہا ہے نزولا سے بھئی۔ کس سے متعلق ہو رہے ہیں؟ ایک الصعود سے اور ایک النزول سے۔ لیکن اليہا جو متعلق ہے صعود سے وہ اس پر مقدم ہے، اسی طرح اليك متعلق ہے النزول سے اور وہ اس پر کیا ہے؟ مقدم ہے، اور حالانکہ مصدر تو عاملِ ضعیف ہے لہٰذا اس کا معمول مصدر پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ تو یہی بات مولانا کتاب کے خطبے کے اندر بھی گزری تھی، وہاں پر بھی علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ یہاں پر یہ متعلق نہیں ہو کس سے؟ دو مذاہب ہیں بھئی۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ مصدر اپنے سے ماقبل میں عمل نہیں کر سکتا، یہ بات تو تسلیم ہے، لیکن ظرف جو ہے ظرف کے اندر عمل کر سکتا ہے، ظرف اس سے مقدم ہو کر بھی اس سے متعلق ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ظرف کے لیے کہتے ہیں رائحہ فعل ہی کافی ہے، جس چیز کے اندر فعل کی بو پائی جائے، تھوڑے درجے میں فعل سے تعلق اور مشابہت پائی جائے اس کے ساتھ بھی اس کا متعلق متعلق ہو سکتا ہے اور مقدم بھی ہو سکتا ہے اور مؤخر بھی ہو سکتا ہے۔ تو چونکہ مصدر کے اندر بھی رائحہ فعل موجود ہے، فعل کی بو موجود ہے کیونکہ فعل خود اسی مصدر سے بنتا ہے، اس کے تو لہٰذا یہ ظرف مقدم ہو کر بھی مؤخر مصدر کے ساتھ متعلق ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ کہتے ہیں نہیں کسی حال میں یہ اس سے متعلق نہیں ہو سکتا مقدم ہو کر، مصدر بس عاملِ ضعیف ہے ہم اتنا جانتے ہیں اور یہ اپنے سے ماقبل کے اندر عمل نہیں کر سکتا، تو پھر اس صورت میں ان کا متعلق ماقبل میں محذوف نکال لو اور یہ جو مابعد میں آ رہا ہے یہ اس کی تفسیر ہے، ای ما اضمر عاملہ علی شریطۃ التفسیر کے قبیل سے ہے یہ مولانا، تو دراصل عبارت یوں ہے: فلن تستطيع الصعود اليہا الصعودا، صعود کتنی دفعہ آیا؟ دو دفعہ آیا مولانا، تو پہلے کو حذف کر دیا کیونکہ آگے خود اس کی تفسیر آ رہی تھی بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ فلن تستطيع الصعود اليہا الصعودا، تو پہلے الصعود کو حذف کر دیا کیونکہ آگے اس کی تفسیر دوبارہ صعود آ رہا ہے۔ اسی طرح اگلے مصرعے میں ہے: ولن تستطيع الشمس النزول اليك النزولا، تو پہلے النزول کو حذف کر دیا کیونکہ آگے ثانی النزول اس کی تفسیر واقع ہو رہا ہے۔ والعامل فی اليہا واليك ہو المصدر بعدہما، اور اليہا اور اليك کے اندر عامل جو ہے وہ مصدر ہے بعدہما جو ان دونوں کے بعد واقع ہو رہا ہے، کب؟ ان جوزنا تقديم الظرف علی المصدر، اگر ہم جائز قرار دیں ظرف کی تقدیم علی المصدر، پھر تو وہی مؤخر مصدر بھی عامل بن جائے گا، والا، ای وان لم یکن کذلک، اگر ایسا نہ ہو اگر جائز نہ قرار دیں، فمحذوف، یہ متعلق ہیں کس کے ساتھ؟ متعلق کے ساتھ، يفسرہ الظاہر، جس کی تفسیر کیا کر رہا ہے؟ ظاہر۔ فقولہ: هي الشمس، تشبيہ لا استعارۃ، مصنف شاعر کا ہی الشمس کہنا یہ تشبیہ ہے استعارہ نہیں، وفی التشبيه اعتراف بالمشبه، اور تشبیہ کے اندر مشبہ کا اعتراف کیا جاتا ہے، ومع ذلک فقد بنی الکلام علی المشبه بہ، اور مشبہ کا اعتراف کرنے کے باوجود تحقیق بناء کی ہے کلام کی شاعر نے کس پر؟ مشبہ بہٖ پر کلام کی بناء کی ہے، اعنی الشمس، یعنی کہ سورج، وہو واضح، اور یہ بات واضح ہے۔ فقولہ: واذا جاز البناء شرط، وجوابہ قولہ، آگے یہ فمع آ رہا ہے۔ آگے فمع آ رہا ہے، علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں یہ فا جزائیہ ہے اور یہ جزا ہے شرط کی، اور شرط گزشتہ صفحے پر جو متن گزرا تھا: واذا جاز البناء علی الفرع مع الاعتراف بالاصل، اصل کا اعتراف کرتے ہوئے تشبیہ میں ہم اصل کون مولانا؟ مشبہ اور فرع کون؟ مشبہ بہٖ، تو تشبیہ کے اندر اصل مذکور ہوتا ہے اور اصل کے مذکور ہونے کے باوجود کلام کی بناء شاعر نے کس پر کی؟ مشبہ بہٖ یعنی فرع پر، تو اصل کے ہوتے ہوئے فرع پر کلام کی بناء کرنا جب جائز ہے تو جہاں اصل سرے سے ہے ہی نہیں یعنی استعارہ وہاں پر فرع پر کلام کی بناء بطریقِ اولیٰ ہوگی۔ فمع جحدہ اولی، تو اس کے انکار کے ساتھ ای جحد الاصل اصل کے انکار کے ساتھ جیسے کما فی الاستعارۃ جیسے کہ استعارہ میں ہوتا ہے البناء علی الفرع اولی، بناء علی الفرع کیا ہے؟ اولیٰ ہے، اولیٰ بالجواز ہے، زیادہ لائق ہے جواز کے، لانہ قد طوی فیہا ذکر المشبہ اصلا، اس لیے کہ استعارے میں لپیٹ دیا جاتا ہے، ترک کر دیا جاتا ہے مولانا مشبہ کے ذکر کو بھئی استعارے میں کون ذکر ہوتا ہے؟ مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں ذکر ہوتے ہیں؟ کون ذکر ہے؟ صرف مشبہ بہٖ، تو مشبہ یعنی جب اصل ہے ہی نہیں تو وہاں پر بطریقِ اولیٰ کیا کی جائے گی؟ کلام کی بناء فرع پر کی جائے گی کیونکہ تشبیہ میں اصل موجود ہے پھر بھی ہم کس پر کلام کی بناء کر رہے ہیں؟ فرع پر، تو جہاں اصل موجود ہی نہیں وہاں بطریقِ اولیٰ۔ وجعل الکلام خلوّا عنہ، ونقل الحدیث الی المشبہ بہ، تو استعارے کے اندر ترک کر دیا جاتا ہے مشبہ کو اور کلام کی کلام کو اس سے خالی بنا دیا جاتا ہے اور بات نقل کی جاتی ہے کس کی طرف؟ مشبہ بہٖ کی طرف، وقد وقع فی بعض اشعار العجم، اور تحقیق بعض عجمی کے اشعار میں واقع ہوا ہے النہی عن التعجب، تعجب سے بعض اشعارِ عجم میں بھئی غیرِ عرب کے اندر تعجب سے نہی آئی ہے مع التصريح بادات التشبيه، باوجود یہ کہ وہاں پر اداتِ تشبیہ کی بھی صراحت ہے۔ بھئی اوپر دیکھو اور ترقی کی، تشبیہ ہی الشمس اداتِ تشبیہ موجود ہے؟ اداتِ تشبیہ موجود نہیں تو یہاں پر بناء ہو رہی ہے مشبہ بہٖ پر کلام کی۔ تو اس سے بھی بڑھ کر کلامِ عجم کے اندر کہتے ہیں اداتِ تشبیہ بھی موجود ہیں اور پھر بھی کیا ہو رہا ہے؟ مشبہ بہٖ پر کلام کی بناء ہو رہی ہے۔ وحاصلہ، اور حاصلِ کلام یہ ہے مولانا: لا تعجبوا من قصر ذوائبه، تم لوگ تعجب نہ حاصل بتلا رہے ہیں، شعر نہیں ذکر کیے بس کہتے ہیں اس شعر کا حاصل یہ ہے کہ شاعر اس میں کہتا ہے: لا تعجبوا من قصر ذوائبه، تم میرے محبوب کے بالوں کے چھوٹا ہونے پر تعجب نہ کرو، فانہا کاللیل، اس لیے کہ وہ رات کی طرح ہیں وہ بال، ووجہہ کالربیع، اور اس کا چہرہ بہار کی طرح ہے، واللیل فی الربیع مائلۃ الی القصر، اور بہار کے اندر رات جو ہوتی ہے مائل ہوتی ہے کمی کی طرف چھوٹا ہونے کی، تو بہار میں راتیں کیا ہو جاتی ہیں؟ سردیوں میں راتیں لمبی، تو بہار آتی ہے تو راتیں چھوٹا چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہیں یہاں تک کہ گرمیوں میں بہت چھوٹی ہو جاتی ہیں بھئی۔ یہ اشعار یہ صرف مفہومِ کلام ہے، اصل اشعار آپ کے حاشیے میں ہیں مولانا، لا تعجبوا کے نیچے آٹھ نمبر حاشیے میں دیکھیں بھئی، معری شاعر کے اشعار ہیں، کہتا ہے: آن زلفِ مشک بار بر آن روئے چوں نگار گر کوتہ است کوتہی از وے عجب مدار شب در بہار میل کند سوئے کوتہی آن زلف چوں شب آمد و آن روئے چوں بہار۔ آن زلفِ مشک بار، وہ خوشبودار زلف، بر آن روئے چوں نگار، اس چہرے پر جو کسی بت کی مانند ہے حسین و جمیل ہے، یا نگار مولانا وہ مہندی کے پھول وغیرہ جو ہاتھوں پر بنائے ہوں ان کو بھی کہتے ہیں، اس زلف کی خوشبودار وہ خوشبودار زلف جو اس چہرے پر ہے چوں نگار جیسے کہ کیا ہوتی ہے؟ مہندی کے بنائے ہوئے پھول وغیرہ ہوتے ہیں، جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یوں سمجھیں، جیسے مولانا مہندی کے بنے ہوئے پھول مہندی پر ہاتھوں سے پھول بنائے تو وہ کس کا باعث ہیں؟ حسن کا باعث، اسی طرح یہ جو زلف ہے خوشبودار وہ اس چہرے پر کس چیز کا باعث ہے؟ حسن کا۔ آن زلفِ مشک بار، وہ خوشبودار زلف بھئی، بر آن روئے چوں نگار، اس چہرے پر چوں نگار وہ مہندی کے پھولوں کی طرح ہے، گر کوتہ است، اگر وہ چھوٹی ہے، کوتہ پڑھا ہے یعنی اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے؟ گر کوتہ است بھئی، اگر وہ چھوٹی ہے، کوتہی از وے عجب مدار، اس کے چھوٹا ہونے چھوٹا ہونا اس کا
اس کو تو عجیب نہ سمجھ، شب در بہار، شب جو ہے رات کے بہار کے اندر رات جو ہوتی ہے بہار کے موسم میں، میل کنند سوئے کوتہی، وہ مائل ہوتی ہے کس کی جانب؟ چھوٹے پن کی، چھوٹے ہونے کی طرف، آن زلف چوں شب آمد، وہ رات وہ زلف جو ہے جیسے رات آئی، و آن روئے چوں بہار، اور اور وہ کیا ہے؟ وہ چہرہ بہار کی مانند ہے۔ وہ چہرہ تو شاعر کہتا ہے میرے معشوق کا جو چہرہ ہے وہ بہار اس کے معشوقہ کے بال چھوٹے ہیں مولانا، کیا ہیں؟ بال چھوٹے ہیں، تو کہتا ہے بھئی یہ بال چھوٹے ہونے کو تم عیب نہ سمجھنا بھئی، یہ تو دراصل میری معشوقہ جو ہے وہ دراصل بہار ہے اور بہار کے دنوں میں اور یہ جو بال ہیں اس کے رات ہیں اور بہار کے دنوں میں کیا ہوتی ہے رات؟ چھوٹی ہو جاتی ہے، اس وجہ سے اس کے بال بھی کیا ہیں؟ چھوٹے ہیں۔ وہذا المعنی من الغرابۃ والملاحۃ بحيث لا يخفى، اور یہ معنی جو ہے غرابت اور ملاحت میں سے اس طور پر کہ مخفی یعنی اس میں غراجی غرابت اور ملاحت ہے جو کسی پر مخفی نہیں ہے اس معنی۔ واما المجاز المرکب، باقی مجازِ مرکب، جی مولانا اس کا کس سے تعلق ہے؟ پہلے گزرا تھا مجاز مفرد ہوگا یا مرکب ہوگا۔ مجازِ مفرد کہاں گزرا تھا؟ 368 صفحہ نکالو ذرا۔ مل گیا بھئی؟ 368 کے وسط میں لکھا ہوا ہے: فالمجاز مفرد ومرکب، مجاز کیا ہے؟ مفرد ہے اور تو ابھی تک یہ سارے مفرد کی بحث چل رہی تھی، اب کیا کر رہے ہیں؟ مرکب کی تفصیل۔ يرحمك الله۔ واما المجاز المرکب فہو اللفظ المستعمل فیما شبہ بمعناہ الاصلی، مجازِ مرکب وہ لفظ ہے جو استعمال ہو فیما اس معنی کے اندر شبہ بمعناہ الاصلی جس کو تشبیہ دی گئی ہو کس کے ساتھ؟ معنیٰ اصلی کے ساتھ۔ خلاصہ یہ مولانا، مجازِ مرکب میں مفرد کی تشبیہ مفرد کے ساتھ ہوتی ہے جبکہ مجازِ مرکب میں مرکب کی تشبیہ کس کے ساتھ ہوتی ہے؟ مرکب کے ساتھ تشبیہ ہوتی ہے۔ یعنی مستعار لہ اور مستعار منہ ایک لفظ نہیں ہوگا، کئی لفظ ہوں گے اور ان لفظوں کے مجموعے سے جو ہیئت حاصل ہو رہی ہے اس میں تشبیہ پائی جائے گی، اس میں کیا پائی جائے گی؟ تشبیہ پائی جائے گی۔ دیکھو، جیسے ایک شخص ہے وہ آپ کی مجلس سے جانے کے لیے اٹھتا ہے، ایک قدم بڑھاتا ہے پھر کوئی خیال آتا ہے رک جاتا ہے، بس ارادہ ترک کر دیتا ہے جانے کا کھڑا ہوا، پھر قدم بڑھاتا ہے پھر خیال آتا ہے پھر رک جاتا ہے بات کر رہا ہے مولانا، تو دیکھو اس کا ارادہ کیا ہے؟ کبھی بنتا ہے اور کبھی ختم ہوتا ہے، قدم بڑھاتا ہے کبھی واپس کبھی قدم بڑھاتا ہے کبھی واپس کر لیتا ہے قدم۔ تو دیکھو اب ایک شخص ہے تو یہ شخص جو ہے اس کا دیکھو ایک قدم بڑھا رہا ہے اور ایک قدم واپس دوبارہ واپس رکھتا ہے، یعنی اس کا ارادہ اسی طرح آپ ان لفظوں کو آپ استعمال کرتے ہیں کسی دوسری جگہ پر جہاں ایک شخص کسی کام کو کرنے میں متزلزل ہے کہ میں اس کام کو کروں یا کبھی اس کا ارادہ بنتا ہے کبھی اس کا ارادہ نہیں بنتا۔ مثلاً مثال کے طور پر جی؟ کیا مثال بنائیں؟ کسی کام کے کرنے کا ارادہ ہو پھر رکیں، پھر ارادہ بنے پھر رک جائیں۔ جی؟ آپ کا ارادہ بنتا ہے اپنے ساتھیوں کی دعوت کرنے کا بھئی۔ تو کبھی آپ کو سخاوت کا دریا مولانا جوش میں آتا ہے، آپ کہتے ہیں بھئی میں اپنے ساتھیوں کو کیا کروں گا؟ سب کی دعوت کروں گا۔ پھر خیال آتا ہے اوہو بڑا خرچہ ہو جائے گا، میری جیب تو خالی ہو جائے گی، پھر ارادہ بند ہو جاتا ہے۔ پھر بھئی ساتھی آپ کو تیار کرتے ہیں بھئی، پھر آپ کا ارادہ بنتا ہے، پھر کیا ہوتا ہے؟ ارادہ ختم ہو جاتا ہے۔ کئی مرتبہ اس طرح ہوتا ہے آخر آپ کا ساتھی کہتا ہے: آپ تو میں تو آپ تو مجھے یوں لگ رہے ہیں، آپ اس طرح ہیں بلکہ یوں کہیں، آپ ایک قدم بڑھاتے ہیں کبھی اور کبھی قدم واپس رکھ لیتے ہیں، کبھی قدم بڑھاتے ہیں اور کبھی واپس رکھ لیتے ہیں۔ اب دیکھو، کیا وہ قدم بڑھا رہا ہے اور واپس رکھ رہا ہے؟ پھر قدم بڑھا رہا ہے اور پھر واپس رکھ رہا ہے؟ نہیں، تو یہاں دیکھو وہ جو ایک حالت تھی ایک شخص کی جو کہ جانے میں متردد تھا، کبھی قدم رکھتا تھا کبھی واپس رکھتا تھا، اس سے ایک مرکب ہیئت مولانا حاصل ہوئی، قدم آگے رکھتا ہے پھر کیا کرتا ہے؟ پھر واپس، پھر قدم آگے بڑھاتا ہے پھر قدم کیا کر لیتا ہے؟ واپس کر لیتا ہے، اس کی اس حالت کے ساتھ آپ نے اس کے عزم اور ارادے کو تشبیہ دی کہ تمہارا ارادہ بھی کبھی کام کا بنتا ہے اور کبھی نہیں بنتا، تو دیکھو ایک مرکب حالت کی تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ مرکب حالت کے ساتھ، اور مستعار لہ اور مستعار منہ ایک لفظ ہے؟ جی؟ مشبہ اور مشبہ بہٖ ایک لفظ ہے یا زیادہ ہیں مولانا؟ زیادہ ہیں، تو مرکب تو یہ کیا ہے؟ مجازِ مرکب ہے، مجازِ اور اس کو تمثیل بھی کہتے ہیں مولانا، تمثیل بھی کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ واما المجاز المرکب فہو اللفظ المستعمل فیما شبہ، وہ لفظ ہے جس کو استعمال کیا جائے، بھئی وہاں کہا تھا کلمہ اور یہاں کہا ہے لفظ، کیونکہ کلمہ مفرد ہے اور مجازِ مفرد بھی کیا ہوگا؟ مفرد کے اندر جاری ہوگا اور یہاں لفظ کہا اور لفظ کیا ہے؟ مصدر ہے اور مصدر کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے۔ فہو اللفظ، وہ لفظ ہے، المستعمل، جو استعمال ہو، فیما، اس معنی کے اندر، شبہ بمعناہ الاصلی، جس کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ معنیٰ اصلی کے ساتھ، ای المعنی الذی یدل علیہ ذلک اللفظ بالمطابقۃ، یعنی وہ معنی جس پر وہ لفظ مطابقتاً دلالت کر رہے تھے اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی، تشبیہ التمثيل، اور تشبیہ کون سی ہے؟ تمثیل کے طریقے پر ہے، تمثیل یاد ہے یا بھول گئے مولانا آپ؟ جی؟ بھول گئے؟ اصل میں بات دور چلی گئی بھئی کافی، صفحہ 350 نکالیں بھئی۔ دیکھا یہاں وسط میں آ رہا ہے مولانا: وجہہ اما تمثیل، یہ تمثیل ہوگی یا کیا ہوگی؟ غیرِ تمثیل، یہاں تفصیل انہوں نے دی ہوئی ہے، اچھا جی۔ تمثیل کہتے ہیں دیکھیے یہاں پر بھی دے رہے ہیں، دوبارہ واپس سبق پر آئیں: وہو ما یکون وجہہ منتزعا من متعدد، وجہِ تشبیہ منتزع ہو متعدد چیزوں سے، وجہِ تشبیہ کس سے منتزع ہو بھئی؟ متعدد چیزوں سے منتزع ہو مولانا، واحترز بہذا عن الاستعارۃ فی المفرد، اور احتراز کیا اس قید کے ساتھ کس سے مولانا؟ استعارہ فی المفرد سے، کہ اس میں تشبیہ تمثیل کے طریقے پر نہیں ہوگی بھئی، للمبالغۃ فی التشبيه، یہ کس لیے ہے مولانا؟ تشبیہ میں مبالغہ کے لیے ہوگا، مبالغہ کے لیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ادنیٰ کو کس سے ملایا جاتا ہے استعارے میں بھئی؟ اعلیٰ، تو مبالغہ تو اس میں ہو گئی بھئی، کیونکہ ایک تھا قدم کا آگے بڑھانا، قدم کا واپس رکھنا، اور یہ مشہور ہے کس کے اندر؟ کسی چیز کا ارادہ بنے اور نیز مولانا یہ حسی ہے، یہ ہمیں آنکھوں سے بھی نظر آ رہا ہے اور ارادے کا بننا اور ٹوٹنا کیا آنکھوں سے نظر آتا ہے؟ عقلی ہے وہ صرف مولانا۔
کما یقال للمتردد فی امر، جیسے کہا جاتا ہے ایک شخص کو جو متردد ہے کسی کام کے اندر: انی اراک تقدم رجلا وتؤخر اخری، کہ میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو قدم بڑھاتا ہے کبھی اور کبھی قدم واپس رکھتا ہے، اصل میں کلام یوں ہے مولانا، یہ معنی نہیں کہ تو ایک قدم بڑھاتا ہے دوسرا قدم پیچھے رکھتا ہے۔ تقدم رجلا وتؤخر قدم بڑھاتا ہے، وتؤخر رجلا اخری، دوسرا قدم پیچھے رکھتا ہے؟ ہاں؟ اچھا جی، ادھر کو رک کر ایک قدم آگے بڑھا بھئی۔ چلنا ہی شروع کر دیا ہے، کھڑے کھڑے ایک قدم آگے بڑھا رہے۔ دوسرا قدم پیچھے لے جا۔ یہ مراد نہیں ہے مولانا، ٹھیک ہے؟ بلکہ مراد کیا ہے؟ قدم آگے بڑھاتے ہو پھر اس کو کیا کرتے ہو؟ واپس رکھتے ہو، پھر قدم ایک اسی قدم کو آگے بڑھاتے ہیں اور پھر کیا کر لیتے ہیں؟ واپس رکھ لیتے ہیں۔ تو عبارت اصل میں یوں ہے: انی اراک تقدم رجلا تارۃ، تارۃ کا معنی کبھی، میں تجھے دیکھتا ہوں تو پاؤں بڑھاتا ہے کبھی، وتؤخر تارۃ اخری، اور قدم واپس کرتا ہے پھر کبھی، تو کبھی قدم بڑھاتا ہے اور کبھی قدم کو کیا کرتا ہے؟ تو دیکھو شبہت صورۃ ترددہ فی ذلک الامر بصورۃ تردد ما قام لیذہب، تشبیہ دی گئی مولانا اس صورت کو جو اس کے اس آدمی کو جس کا شبہت صورۃ ترددہ فی ذلک الامر، بھئی ایک آدمی ایک کام میں کیا تھا؟ متردد تھا، اس کو آپ نے یہ کہا کہ میں تجھے کیا دیکھتا ہوں کہ تو ایک قدم بڑھاتا ہے اور پھر اس کو تو آپ نے اس کے امر کے اندر جو اس کو تردد تھا اس کی صورت کو تشبیہ دے دی کس کے ساتھ؟ اس شخص کی صورت کے ساتھ جس کو تردد ہے کس چیز میں؟ تاکہ وہ چلا جائے، فتارۃ یرید الذہاب، تو کبھی وہ ارادہ کرتا ہے چلنے کا، فیقدم رجلا، تو قدم بڑھاتا ہے، وتارۃ لا یرید، اور کبھی ارادہ نہیں کرتا، فیؤخر اخری، ای تارۃ اخری، تو پیچھے قدم کو کیا کرتا ہے؟ واپس رکھتا ہے، فاستعملت فی الصورۃ الاولی، تو پہلی صورت کے اندر استعمال کر لیا گیا، الکلام الدال بالمطابقۃ علی الصورۃ الثانیۃ، وہ کلام جو دلالت کر رہا تھا کس پر؟ صورتِ ثانیہ پر مطابقی طریقے پر۔ میں تجھے دیکھتا ہوں ایک قدم آگے بڑھاتا ہے اور ایک قدم تو یہ کلام مطابقتاً دلالت کر رہا تھا اس شخص پر جو کیا کرتا تھا؟ ایک مجلس سے جانے کے لیے اٹھا، ایک قدم بڑھاتا ہے پھر کیا کرتا ہے؟ پھر قدم بڑھاتا ہے اور پھر اور اس پورے صورت کو آپ نے وہ جو شخص کا ارادہ بدل رہا ہے اس کو تشبیہ دے دی اس کے ساتھ، اور اس کے پورے الفاظ جو کس پر دلالت کر رہے تھے؟ وہ جو شخص اٹھا تھا جانے کے لیے مجلس سے بھئی وہ کیا کر رہا تھا؟ ایک قدم بڑھاتا تھا اور ایک قدم انی اراک تقدم رجلا وتؤخر تو یہ الفاظ دلالت کر رہے تھے پوری طرح اس صورتِ ثانیہ پر اور اس صورتِ ثانیہ کے الفاظ بعینہٖ آپ نے استعمال کر لیے کس کے لیے؟ صورتِ اولیٰ کے لیے، ووجہ الشبہ، اور وجہِ تشبیہ، وہو الاقدام تارۃ والاحجام اخری، اقدام کا معنی پیش قدمی کرنا، آگے بڑھنا، اور احجام کا معنی پیچھے ہٹنا، باز رہنا، تو وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ پیش قدمی کرنا ہے کبھی اور کبھی باز رہنا ہے، منتزع عن عدۃ امور، اور یہ منتزع ہے کس سے؟ کئی امور سے، کما تری، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، وہذا المجاز المرکب یسمی التمثیل علی سبیل الاستعارۃ، آگے آ رہا ہے، اور اس مجازِ مرکب کو کیا کہتے ہیں؟ التمثيل علی سبیل الاستعارۃ کہتے ہیں، لکون وجہہ منتزعا من متعدد، اس تمثیل کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کی وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ منتزع عن اور تشبیہ کے باب میں پڑھا تھا آپ نے کہ جب تشبیہ منتزع متعدد ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیہ۔ لانہ قد ذکر فیہ المشبہ بہ، وارید المشبہ، تو اس کو التمثيل علی سبیل الاستعارۃ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں بھئی؟ التمثيل علی سبیل الاستعارۃ۔ یہ علی سبیل الاستعارۃ کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ استعارہ ہے، لانہ قد ذکر فیہ المشبہ بہ، اس میں ذکر تو مشبہ بہٖ ہے، وارید المشبہ، اور ارادہ مشبہ کا ہے، کما ہو شان الاستعارۃ، جیسے کہ استعارے کے حال ہوتا ہے، وقد یسمی التمثیل مطلقا، کبھی اس کو مطلق تمثیل کہہ دیتے ہیں، کبھی کہتے ہیں التمثيل علی سبیل الاستعارۃ اور کبھی صرف بغیر کبھی تمثیل کہتے ہیں مطلقاً، من غیر تقیید بقولنا، بغیر مقید کیے اس قول کے ساتھ: علی سبیل الاستعارۃ، ويمتاز، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مجازِ مرکب کے اندر کیا ہوتا ہے؟ ایک مرکب ہیئت کو تشبیہ دی جاتی ہے دوسری مرکب ہیئت کے ساتھ، اور پھر وہ جو ہیئتِ مرکبہ مشبہ بہٖ کے لیے جو الفاظ مستعمل ہو رہے تھے بعینہٖ انہی الفاظ کو استعمال کر لیا جاتا ہے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے ایک اردو کا شاعر کہتا ہے: ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے، وہ بھی ہوا کی زد میں ہے، ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے، زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا۔ عجیب دیکھو استعارہ ہے: ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے، زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا۔ زندگی کی بے بسی کی کتنی زبردست تصویر کھینچی ہے کہ جیسے ایک مٹھی بھر ریت ہو اور تیز ہوا چل رہی ہو تو وہ ریت جیسے کیا ہوتی ہے؟ کمزور اور ضعیف ہے اور بے بس ہے، اسی طرح انسان بھی اسی طرح، جی۔ ويمتاز عن التشبيه بأن يقال لہ تشبيہ تمثيل او تشبيہ تمثيلی، اچھا بھئی، آپ نے کیا کہا کبھی کبھار یہ مجازِ مرکب کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ تمثیل علی سبیل الاستعارۃ اور کبھی کبھار صرف کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ صرف تمثیل کہہ دیا جاتا ہے، بھئی تمثیل تو تشبیہ کے اندر بھی گزری تھی تو فرق کیسے پتہ چلے گا کہ تمثیل سے مراد استعارہ ہے یا تمثیل سے مراد تشبیہ ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی فرق ہے، تشبیہ کے اندر جو تمثیل کا لفظ لائیں گے تو اس کے ساتھ تشبیہ کو بھی ذکر کریں گے اور یوں کہیں گے: تشبیہِ تمثیل، کیا کہیں گے؟ تشبیہِ تمثیل، یا کہیں گے: تشبیہِ تمثیلی، وہاں تشبیہ کا لفظ بھی ساتھ ذکر کریں گے اور مطلق تمثیل کا لفظ جب بولا جائے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ التمثيل علی سبیل الاستعارۃ۔ ويمتاز عن التشبيه، اور تشبیہ سے یہ ممتاز ہوگا، بأن يقال لہ، کہ اسے کہا جائے گا، تشبيہ تمثيل، او تشبيہ تمثيلی، وفی تخصيص المجاز المرکب بالاستعارۃ، اچھا، مصنف نے صرف یہ بات کی، مصنف نے کیا کہا؟ مجازِ مرکب وہ صرف استعارے میں آئے گا، کس کے اندر آئے گا؟ استعارے کے اندر آئے گا۔ علامہ تفتازانی اور استعارے کے اندر علاقہ کون سا ہوتا ہے؟ علاقہ تشبیہ کا ہوتا ہے، معنیٰ موضوع لہ کے اندر غیر جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ معنیٰ اصلی کے اندر اور معنیٰ مستعمل، معنیٰ اصلی اور معنیٰ مستعمل میں علاقہ کون سا ہوتا ہے؟ تشبیہ۔ صرف انہوں نے کہا مجازِ مرکب استعارے میں ہوگا، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ جو آپ نے کہا کہ مجازِ مرکب صرف استعارے میں ہوگا یہ بات ہمیں تسلیم نہیں، کہتے ہیں استعارے میں بھی ہو سکتا ہے اور مجازِ مرسل میں بھی ہو اگر علاقہ معنیٰ اصلی اور معنیٰ مستعمل کے درمیان کیا تھا؟ تشبیہ کا تھا تو کیا کہیں گے؟ استعارہ، اور اگر علاقہ معنیٰ مستعمل اور معنیٰ اصلی کے درمیان تشبیہ کا نہیں تھا تو پھر یہی کیا کہلائے گا؟ مجازِ مرسل کہلائے گا۔ وفی تخصيص المجاز المرکب بالاستعارۃ نظر، اور مجازِ مرکب کی تخصیص کرنا کس کے ساتھ؟ استعارے کے ساتھ کہ یہ صرف استعارے کی صورت میں ہی پایا جاتا ہے، نظر اس میں نظر ہے، لانہ، اس لیے کہ شان یہ ہے، کما ان المفردات موضوعۃ بحسب الشخص، جیسے کہ مفردات وضع ہوتے ہیں کس شخصی اعتبار سے، مفردات وضع ہیں کس اعتبار سے؟ شخصی اعتبار سے یہ معنی مولانا ہر مفرد لفظ وضع ہے ایک معنیٰ کے لیے، ہر مفرد لفظ وضع ہے کس کے لیے؟ تو وہ اس کا شخصی معنیٰ ہے، کیا ہے؟ متعین معنیٰ ہے یعنی اس پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔ اسی طرح مرکبات بھی کیا ہوتے ہیں؟ فالمرکبات موضوعۃ بحسب النوع، تو مرکبات بھی اسی طرح وضع ہیں کس اعتبار سے؟ نوع کے اعتبار سے، مثلاً مولانا نوع کیا ہے؟ ضرب زيد، یہ خبر ہے، اضرب زيدا، یہ کیا ہے؟ انشاء ہے، تو
ایک کلام ایک نوع کے معنیٰ کے لیے وضع ہے اور دوسرا کلام دوسری نوع کے معنیٰ کے لیے وضع ہے، تو مرکبات کے اندر جیسے مفرد وضع ہوتا ہے ایک خاص معنیٰ کے لیے لیکن وہ معنیٰ شخصی ہوتا ہے جبکہ مرکبات وضع ہوتے ہیں کس کے لیے؟ ایک خاص نوعی معنیٰ کے لیے، تو اگر وہ اس نوعی معنیٰ کے علاوہ کسی دوسرے معنیٰ میں مرکب استعمال ہو تو اس معنیٰ اور اس معنیٰ کے درمیان علاقہ دیکھ لو، اگر علاقہ تشبیہ کا ہے تو کیا کہلائے گا؟ استعارہ، اور اگر علاقہ تشبیہ کا نہیں تو پھر مجازِ مرسل۔ فالمرکبات موضوعۃ بحسب النوع، تو مرکبات بھی وضع ہیں کس کے اعتبار سے؟ نوع کے اعتبار سے، فاذا استعمل المرکب فی غیر ما وضع لہ، تو جب استعمال ہو جائے مرکب غیر موضوع لہ کے اندر، فلا بد من ان یکون ذلک بعلاقۃ، تو ضرور وہ کسی علاقے کی وجہ سے ہوگا، فان کانت ہی المشابہۃ فاستعارۃ، اگر یہ علاقہ استعارہ کا ہوا تو یہ کیا ہوگا؟ استعارہ ہوگا، والا فغیر استعارۃ، ورنہ کیا ہوگا؟ غیرِ استعارہ ہوگا۔ فان کانت ہی المشابہۃ فاستعارۃ والا فغیر استعارۃ، وہو کثیر فی الکلام، اور یہ کلام میں بڑی کثیر ہے بھئی، کالجمل الخبریۃ التی لم تستعمل فی الاخبار، جیسے وہ جملہ خبریہ ہیں جو اخبار کے اندر استعمال کبھی جملہ خبریہ آتا ہے مولانا اور کس کس معنیٰ میں ہوتا ہے؟ انشاء کے معنیٰ میں، کبھی انشاء آتا ہے کس کے معنیٰ میں ہوتا ہے؟ خبر کے معنیٰ میں، اور کبھی کبھار مولانا جیسے سمجھ میں آیا بھئی؟ کبھی خوشی کو ظاہر کرنے کے لیے جملہ خبریہ لایا جاتا ہے اور کبھی کبھار مثلاً آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: بھئی 15 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں، یا یوں یوں نہ کہیں۔ آپ یوں کہہ رہے ہیں: بھئی 22 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں بھئی۔ سبحان اللہ۔ کتنی؟ 22 دن کی چھٹیاں ہو رہی ہیں۔ اب یہ بات آپ کے ساتھی کو بھی پتہ ہے، تو جب آپ نے کہا 22 دن کی چھٹیاں ہو سکتی ہیں تو دو مقاصد ہو سکتے تھے، یا تو آپ اس کو اطلاع دینا چاہتے ہیں یا اس کو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مجھے بھی اس بات کا پتہ ہے، تو اگر اس اور کبھی کبھار اس کو دونوں چیزوں کا پتہ ہوتا ہے، اس کو خبر کا بھی پتہ ہے اور اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کو بھی کیا ہے؟ 22 چھٹیوں کا پتہ ہے، پھر بھی آپ اس کو کہہ رہے ہیں، نہ تو یہاں فائدۃ الخبر ہے نہ لازمِ فائدۃ الخبر، یہاں کیا مقصد ہے؟ بھئی صرف اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، کیا کرنا چاہتے ہیں؟ تو دیکھو کلام وضع تھا خبر کے لیے اور استعمال اس کو صرف کس لیے کر لیا؟ اظہارِ خوشی کے لیے۔ ومتى فشا استعمالہ ای المجاز المرکب، اور جب استعمال شائع ہو جائے کس کا مولانا؟ مجازِ مرکب کا، کذلک، اسی طور پر، ای علی سبیل الاستعارۃ، یعنی استعارے کے طریقے پر جب یہ مجازِ مرکب شائع اور رائج ہو جائے، یسمی مثلا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مثل کہتے ہیں، ضرب المثل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں مولانا؟ ضرب المثل، ولہٰذا، اور اسی وجہ سے، ای ولکون المثل تمثیلا، کہ مثل وہ کیا ہوتی ہے؟ تمثیل ہے، فشا استعمالہ علی سبیل الاستعارۃ، ایسی تمثیل جس کا استعمال شائع ہو گیا ہے کس طریقے پر؟ کس طریقے پر؟ لا تغیر الامثال، اسی وجہ سے امثال میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، کیوں؟ لان الاستعارۃ یجب ان یکون لفظ المشبہ بہ المستعمل فی المشبہ، اسی لیے کہ استعارے میں واجب ہے کہ لفظ کس کے ہوں؟ مشبہ بہٖ کے اور مستعمل کس میں ہوں؟ مشبہ میں، فلو غیر المثل، اگر مثل میں کوئی تبدیلی کر دی جائے، لما کان لفظ المشبہ بہ بعینہ، تو مشبہ بہٖ کا لفظ بعینہٖ باقی نہیں رہے، بھئی استعارے میں کیا کرتے ہیں مولانا؟ لفظ کس کے ہوتے ہیں؟ مشبہ بہٖ اور مراد کون ہوتا ہے؟ مشبہ، تو لفظ مشبہ بہٖ ہی کے ہونے چاہیے، تو اگر مثل میں آپ تبدیلی کر دیں گے تو یہ مشبہ بہٖ کے الفاظ رہیں گے؟ یہ تو تبدیل ہو جائیں گے۔ فلا یکون استعارۃ، لہٰذا استعارہ نہیں رہے گا، فلا یکون مثلا، تو مثل بھی نہیں رہے گی، ولہٰذا، اسی وجہ سے، لا یلتفت فی الامثال الی مضاربہا، اسی وجہ سے التفات نہیں کیا جاتا امثال میں الی مضاربہا جہاں وہ استعمال ہو۔ بھئی دیکھیے، ایک عورت تھی اور اس کی شادی ایک بوڑھے شخص سے ہو گئی۔ بڑا مالدار آدمی تھا لیکن وہ بوڑھا تھا اس کو پسند نہیں بھئی اس کے پاس رہنا، چنانچہ اس نے عورت نے اس سے طلاق حاصل کر لی اور طلاق حاصل کرنے کے بعد اس نے ایک نوجوان سے شادی کر لی لیکن وہ نوجوان فقیر تھا بالکل، کچھ بھی نہیں تھا۔ اچھا، تو اور یہ طلاق اس نے بوڑھے سے لی تھی مطالبہ طلاق اور طلاق وغیرہ کب ہوا تھا؟ سردیوں میں، تو وہ فقیر تھا کچھ بھی نہیں ملتا تھا کھانے کو، تو ایک دن کسی کو بھیجا کہ اس کے پاس جاؤ بھئی، آج میرا دل دودھ پینے کو چاہ رہا ہے کہیں سے دودھ منگوا دو بھئی۔ تو اس نوجوان نے جواب میں کیا کہا؟ بالصيف ضيعت اللبن، دودھ تو تو نے سردیوں میں ضائع کر دیا۔ سردیوں میں دودھ کیا کر دیا؟ بھئی وہ خاوند تیرا کتنا دولت مند تھا، تو نے خود ہی اس سے سردیوں میں کیا کر لی؟ طلاق لے لی، میرے پاس آئی ہے میرے پاس تو یہاں کوئی دودھ وغیرہ پینے کے لیے نہیں ہے، تو دیکھو اس نے کہا: بالصيف ضيعت اللبن، تو نے دودھ کہاں ضائع کیا؟ سردیوں میں، اب یہ کوئی بھی شخص ایسا ہو جو خود کسی وجہ سے اپنے نفع کو ضائع کر دے تو اس کے لیے اب یہ ضرب المثل کے طور پر بولتے ہیں، مثلاً مثلاً مثال کے طور پر، مثلاً کوئی ساتھی ہے اس نے اپنے نقصان خود ہی کر لیا اپنے ہی فعل کی وجہ سے، اب آپ اس کو کہنا چاہتے ہیں اور وہ مشہور ہے کلامِ عرب میں تو وہ کوئی عرب اس کو کیا کہتا ہے؟ بالصيف ضيعت اللبن، تو نے تو سردیوں ہی میں کیا کر دیا دودھ کو؟ یعنی اس بات کو تو تو نے خود اس فائدے کو نفع کو ضائع کر دیا تھا۔ اب بات وہ مذکر سے کر رہا ہے لیکن تبدیلی نہیں کرے گا مولانا کیونکہ یہ مثل ہے، تو اسی طرح کہے گا: بالصيف ضيعت اللبن، مؤنث ہی کا صیغہ لائے گا جہاں تو جہاں وہ استعمال اولاً ہوا تھا اسی کے مطابق استعمال کیا جائے گا معنیٰ اصلی کے مطابق، یہ جو دوسری جگہ جہاں استعمال ہو رہا ہے وہاں کو دیکھا چاہے وہ مفرد ہو، تثنیہ ہو، جمع ہو، مذکر ہو، مؤنث ہو، جو بھی ہو اس ضرب المثل میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ولہٰذا لا یلتفت فی الامثال الی مضاربہا، اسی لیے توجہ نہیں کی جاتی امثال کے اندر الی مضارب، مضارب نیچے لکھا ہے مولانا جمع مضرب ہے اور وہ محل ہے جہاں پر مثل کو استعمال کیا جائے، اب دیکھیے آپ کے ساتھی نے کچھ اپنا نفع نقصان کیا تھا خود ہی کیا تھا، تو کیا اس نے کوئی دودھ ضائع کیا تھا بھئی؟ دودھ ضائع؟ یہ تو صرف آپ مشبہ بہٖ کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، تو یہ محل ہے اس کے استعمال کا، تذکیرا وتانیثا، تذکیر اور تانیث کے اعتبار میں اس کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی، وافرادا وتثنیۃ وجمعا، افراد، تثنیہ اور جمع کے اعتبار سے بھی نہیں، بل انما ینظر الی مواردہا، بلکہ دیکھا جائے گا ان کے موارد ان کی جائے ورود اولاً جہاں استعمال ہوئے تھے اس کو دیکھا جائے گا، کما یقال للرجل الذی طلب شیئا، جیسے ایک شخص کہا جائے اس شخص نے جس نے ایک چیز کو طلب ایسی چیز کو طلب کیا، ضیعہ قبل ذلک، جو خود اس سے پہلے کیا کر چکا ہے؟ ضائع کر چکا ہے، ایک شخص نے ایسی چیز کو طلب کیا تو آپ نے کہا: بالصيف ضيعت اللبن، سردیوں میں تو نے دودھ ضائع کر دیا تھا، بکسر تاء الخطاب، کس کے ساتھ کہیں گے؟ ضيعتِ کہیں گے حالانکہ طلب کرنے والا کون؟ مذکر، تو کہا کہیں گے: لانہ فی الاصل لامراۃ، اس لیے کہ یہ اصل میں کس کے لیے تھا؟ عورت کے لیے تھا، چلیے جی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔