Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-039

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 8
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ علامہ سکاکی نے مجازِ عقلی کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مجازِ عقلی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ دراصل کیا ہے استعارہ بالکنایہ ہے بھئی۔ استعارہ بالکنایہ ان کے نزدیک کس چیز کا نام ہے کہ مشبہ بول کر کیا مراد لیا جائے؟ مشبہ بہ مراد لیا جائے بواسطہ قرینہ کے بھئی، اور وہ قرینہ کیا ہو گا کہ مشبہ بہ کے لازم کو مولانا کس کے لیے ثابت کرتے ہیں؟ لازمِ مساوی کو بھئی۔ میں نے بتلایا تھا لازمِ مساوی کسے کہتے ہیں؟ وہ لازم جو خاص ہو کسی چیز کے ساتھ؛ وہ شے ہے ملزوم ہے تو لازم ہے، وہ ملزوم نہیں تو لازم بھی نہیں۔ تو جہاں پر مولانا ربیع بول کر کون مراد ہوا؟ فاعلِ حقیقی مراد ہے، تو یہ مبالغہ کرتے ہوئے تشبیہ کے اندر تو تشبیہ کے اندر مبالغہ کرتے ہوئے ربیع کو بھی فرد بنا دیا گیا کس کا؟ قادرِ مطلق کے افراد میں سے بھئی، قادرِ مطلق کے افراد میں سے بنا دیا گیا اور اس میں داخل کر دیا گیا۔ اور جیسے اس کی مثال ذکر کی تھی مولانا مَخَالِبُ الْمَنِيَّةِ نَشِبَتْ بِفُلَانٍ موت کے پنجے گڑ گئے فلاں کے اندر۔ تو یہاں مولانا منیہ بول کر مشبہ موت کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ سَبُعٌ درندے کے ساتھ کہ جیسے درندہ فرق نہیں کرتا اچھے برے میں اور ہر ایک کو ہلاک کر ڈالتا ہے، اسی طرح موت بھی اچھے برے میں تمیز نہیں کرتی ہر ایک کو کیا کر دیتی ہے؟ ہلاک کر دیتی ہے۔ تو تشبیہ دی اور پھر اس تشبیہ کے اندر مبالغہ کرتے ہوئے موت کو بھی سَبُعٌ کے افراد میں سے ایک فرد بنا دیا گیا۔ جب موت بھی سَبُعٌ کے افراد میں سے ہو گئی تو یعنی اس کے لیے سبعیت ثابت کر دی۔ تو جب یہ اس کے افراد میں سے ہوئی تو اس کے لازمِ مساوی کو اس کے لیے ثابت کر دیا؛ پنجے خاص تھے کس کے ساتھ مولانا؟ درندے کے ساتھ لیکن ان کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ موت کے لیے۔ یعنی تو دیکھا موت کو بھی مولانا کیا کر دیا کس کے افراد میں سے بنا دیا؟ سَبُعٌ کے افراد میں سے بنایا اسی لیے تو اس کے لیے کیا ثابت کیے؟ پنجے ثابت کیے بھئی۔ اور اس پر مصنف نے اعتراض کیا تھا بھئی؛ مصنف نے کہا تھا علامہ سکاکی کے قول سے چار چیزیں لازم آتی ہیں اور وہ چاروں لازم کیا ہیں؟ باطل، معلوم ہوا ملزوم بھی باطل یعنی اس کا یہ جو انہوں نے مجازِ عقلی کے بجائے کیا کہا کلام کو کیا بنایا یہاں پر؟ اس میں استعارہ بالکنایہ قرار دیا تو یہاں استعارہ بالکنایہ ہونا بھی باطل ہوا کیونکہ استعارہ بالکنایہ کی وجہ سے چار چیزیں لازم آ رہی تھیں اور وہ چاروں باطل، تو جب لازم باطل تو ملزوم بھی باطل بھئی۔ پہلی خرابی کیا لازم آ رہی تھی؟ کہ اللہ کے اس قول فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ کے اندر مولانا عِيشَةٍ بول کر کیا مراد ہو گا؟ صاحبِ عیشہ مراد ہو گا بھئی، تو اس صورت میں ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهٖ لازم آئے گی؛ ایک ہی شے اپنے نفس کے لیے کیا بن جائے گی؟ ظرف۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ اور عِيشَةٍ سے کیا مراد ہے؟ صاحبِ عیشہ اور هُوَ ضمیر بھی کس کو راجع ہے؟ صاحبِ عیشہ کو، تو صَاحِبُ الْعِيشَةِ فِي صَاحِبِ الْعِيشَةِ تو یہ ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهٖ لازم آئی بھئی۔ دوسری خرابی یہ ہے مولانا کہ یہ اضافت صحیح نہ رہے گی جہاں پر فاعلِ مجازی کی اضافت ہو رہی ہو فاعلِ حقیقی کی طرف جیسے نَهَارُهٗ صَائِمٌ بھئی اس کا دن روزے دار ہے۔ تو صَائِمٌ کا اسناد ہوا هُوَ ضمیر کی طرف اور هُوَ ضمیر کس کو راجع ہے؟ نہار کو بھئی، تو یہاں دن روزے دار نہیں ہوتا بلکہ وہ شخص کیا ہو گا جس کا ذکر آیا وہ روزے دار ہے، تو صَائِمٌ کے اندر هُوَ ضمیر جو راجع ہے نہار کو لیکن اس سے مراد نہار نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ وہ شخص مراد ہے۔ اب یہاں پر نَهَارُهٗ تو نہار کو کیا بنایا مولانا؟ فاعلِ مجازی بنا دیا۔ کیا بنا دیا؟ فاعلِ مجازی بھئی؛ اس کا دن روزے دار ہے فاعل کس کو بنایا؟ دن کو، تو نہار کیا ہوا فاعلِ مجازی اور فاعلِ حقیقی کون ہے روزہ رکھنے والا؟ وہ متعین شخص مراد ہے۔ تو یہاں نَهَارُهٗ کہا تو فاعلِ مجازی کو مضاف بنایا اور ہا ضمیر جو ہے وہ جو متعین شخص مراد ہے اس کو کیا بنایا؟ مضاف الیہ بنایا۔ تو یہاں نہار بول کر کیا مراد ہوا آپ نے کہا؟ وہ متعین شخص مراد ہے اور ہا ضمیر بھی اسی شخص کو راجع ہے تو دیکھو مضاف بھی وہی مضاف الیہ بھی وہی، تو یہاں کیا خرابی لازم آئی؟ إِضَافَةُ الشَّيْءِ إِلٰى نَفْسِهٖ لازم آئی اور یہ بھی باطل۔ اور تیسرا مولانا تیسری خرابی یہ لازم آئے گی کہ امر بالبنا جو آیا تھا مولانا يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا اس کے اندر تعمیر کا جو حکم ہے وہ کس کو ہے؟ ہامان کو ہے، لیکن اگر ہامان کو کیوں؟ اِبْنِ کے اندر کون سی ضمیر ہے؟ أَنْتَ اور اس سے کون مراد ہے؟ ہامان۔ لیکن مشبہ بول کر وہ کیا کہتے ہیں مراد کیا ہے؟ مشبہ بہ مراد، تو اس صورت میں مولانا أَنْتَ سے کون مراد ہوئے؟ مزدور، کون مراد ہوئے؟ تو معلوم ہوا تعمیر کا حکم ہامان کو نہیں ہو رہا بلکہ کس کو ہو رہا ہے؟ مزدوروں کو ہو رہا ہے، تو ندا ہوئی ہامان کو کہ يَا هَامَانُ تو ندا کس کو ہوئی؟ ہامان کو اور خطاب کس کو ہوا؟ مزدوروں کو لازم آئے گا حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے مولانا؛ ندا بھی ہامان کو ہے اور خطاب بھی کس کے ساتھ ہے؟ ہامان ہی کے ساتھ ہے خطاب مزدوروں کو نہیں ہے بھئی۔ نیز اس سے یہ لازم آیا مولانا کہ أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ جیسی ترکیبیں موقوف علی السمع ہو جائیں گی۔ بھئی دیکھو یہاں پر علامہ سکاکی نے کیا کہا تھا مشبہ بول کر مشبہ بہ، تو ربیع بول کر کون مراد؟ ربیع بول کر فاعلِ حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ مراد، تو اللہ پر ربیع کے لفظ کا اطلاق ہوا مولانا ربیع کے نام کا اطلاق ہوا حالانکہ اللہ کے تمام اسما کیا ہیں؟ توقیفی ہیں موقوف علی السمع ہیں۔ اگر شارع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ثبوت ہو تو پھر اللہ پر اس اسم کا اطلاق ہو گا ورنہ اطلاق نہیں ہو گا۔ تو اس صورت میں اب یہاں چونکہ ربیع کا اطلاق ہوا ہے اور اللہ پر کسی نام کا اطلاق کرنا یہ تو کیا ہے موقوف علی الشرع، تو یہ ترکیب بھی کیا ہوئی موقوف علی الشرع ہوئی حالانکہ کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ اس قسم کی ترکیب کیا ہے موقوف علی الشرع ہے۔ تو یہ سارے لوازم منتفی تو ملزوم بھی کیا ہوا؟ منتفی۔ اور جواب دیا تھا پھر علامہ تفتازانی نے ان تمام اعتراضات کا بھئی کہ بھئی یہ اس وقت ہو سکتے ہیں اعتراضات جب کہ وہ کہیں کہ مشبہ بول کر مشبہ بہ حقیقتاً مراد ہے، حالانکہ وہ یہ تو نہیں کہتے کہ مشبہ بول کر مشبہ بہ حقیقتاً مراد ہے بلکہ وہ تو کیا کہتے ہیں مشبہ بول کر مشبہ بہ ادعاءً مراد ہے۔ کیسے مراد ہے؟ دعویٰ کرتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ حقیقتاً وہ بھی مراد نہیں، جب حقیقتاً مراد نہیں تو ان میں سے کوئی بھی خرابی لازم نہیں آئے گی بھئی۔ نیز مولانا دوسرا ایک اعتراض بھی پھر ذکر کیا کہ علامہ سکاکی کا قول نَهَارُهٗ صَائِمٌ جیسی ترکیبوں سے بھی ٹوٹ جاتا ہے بھئی یعنی اس کا استعارہ بالکنایہ صحیح نہیں رہتا، اس لیے کہ ایک ہوتا ہے استعارہ ایک ہے تشبیہ: تشبیہ وہ ہے جس میں مشبہ بھی ذکر ہوتا ہے اور مشبہ بہ بھی ذکر ہوتا ہے، زَيْدٌ كَالْأَسَدِ تو یہاں زید بھی ذکر اسد بھی ذکر دونوں طرفین ذکر ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیہ۔ اور اگر ان دونوں میں سے ایک کو ذکر کیا جائے اور ایک کو حذف کیا جائے پھر یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ کہلاتا ہے۔ تو اگر اس میں مشبہ ذکر ہو اور مشبہ بہ محذوف ہو تو یہ استعارہ بالکنایہ، اور اگر مشبہ بہ ذکر ہو اور مشبہ محذوف ہو تو یہ استعارہ مصرحہ کہلاتا ہے بھئی۔ تو یہاں پر مولانا دیکھو نَهَارُهٗ صَائِمٌ نہار بھی ذکر مولانا اور نہار کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ اس متعین شخص کے ساتھ تشبیہ دی، اور ہا ضمیر اس متعین شخص کو راجع تو مشبہ بھی عبارت میں ذکر اور مشبہ بہ بھی عبارت میں ذکر حالانکہ استعارے کے اندر تو دونوں ذکر نہیں ہوتے بلکہ دونوں میں سے ایک ذکر ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَالْجَوَابُ أَنَّهٗ إِنَّمَا يَكُونُ مَانِعًا إِذَا كَانَ ذِكْرُهُمَا عَلٰى وَجْهٍ يُّنْبِئُ عَنِ التَّشْبِيهِ۔ جواب علامہ تفتازانی دیتے ہیں بھئی علامہ سکاکی کی طرف سے کہ بھئی استعارے کے اندر مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کا ذکر ممنوع ہے لیکن اس وقت جب کہ ان کو تشبیہ کے طریقے پر ذکر کیا جائے بھئی، ایسے طریقے سے ذکر کیا جائے جس سے کس چیز کا پتہ چل جائے؟ تشبیہ کا پتہ چل جائے یہ ممنوع ہے، مطلقاً ویسے ہی دونوں کا ذکر کرنا ممنوع نہیں ہے، اور یہاں جو ہے اس طریقے پر ذکر نہیں ہے تشبیہ کے طریقے پر ذکر نہیں اس لیے یہاں پر درست ہے بھئی دونوں ذکر بھی ہو جائیں۔ اس کا دن نَهَارُهٗ، تو یہاں کوئی تشبیہ کا پتہ چل رہا ہے آپ کو؟ نہیں۔ تشبیہ کا پتہ چلتا ہے مثلاً ایک تو صراحتاً ہے زَيْدٌ كَالْأَسَدِ زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے، یا مولانا اس کو خبر بنائیں ویسے ہی زَيْدٌ أَسَدٌ زید کیا ہے؟ شیر ہے۔ جب تو یہ ترکیب آئی مولانا یہ ترکیب خود بخود آپ کو تشبیہ بتلا رہی ہے کس طرح بتلا رہی ہے؟ بھئی آپ نے کہا زید شیر ہے، زید شیر تو نہیں ہے معلوم ہوا شیر جیسا ہے؛ آپ خود بخود کلام کا معنی سمجھ گئے کہ کیا کہنا چاہتا ہے کہنے والا زید شیر جیسا ہے، تو تشبیہ آپ کو سمجھ میں آئی یا نہیں آئی اس ترکیب سے؟ یا اسی طرح مولانا کبھی حال بنائیں جَاءَنِي زَيْدٌ أَسَدًا آیا میرے پاس زید اس حال میں کہ وہ کیا ہے؟ شیر ہے۔ اب یہ ترکیب بھی تشبیہ کی خبر دے رہی ہے؛ زید آیا اس حال میں کہ وہ شیر ہے یعنی شیر جیسا ہے، تو دیکھو یہاں حال بنا یہاں بھی آپ کو کیا سمجھ میں آ گئی؟ تشبیہ سمجھ میں آ گئی بھئی۔ یا مولانا آپ اس کو صفت بنائیں؛ ایک کو موصوف بنائیں ایک کو صفت بنائیں جَاءَنِي زَيْدٌ الْأَسَدُ آیا میرے، تو زید موصوف الْأَسَدُ اس کی صفت، آیا میرے پاس وہ زید الْأَسَدُ جو کہ شیر ہے۔ کیا معنی؟ وہ زید جو شیر جیسا ہے۔ تو یہاں پر دیکھو اگر خبر بنے یا مولانا حال بنے یا صفت بنے تو پھر اس صورت میں تشبیہ کا پتہ چلتا ہے، اور اگر ان کو آپس میں مضاف مضاف الیہ بنا دیں پھر تو تشبیہ کا پتہ نہیں چلتا، تو جب تشبیہ کا پتہ نہیں چلتا تو ایسی صورت میں دونوں کو ذکر کرنا درست ہے۔ اعتراض کیا تھا کہ آپ کی ترکیب میں مشبہ بھی ذکر ہے اور مشبہ بہ بھی ذکر ہے اور استعارہ بالکنایہ میں تو ایک ذکر ہونا چاہیے، تو جواب کیا دیا کہ یہ اس طریقے پر ہوں کہ جس سے تشبیہ کا پتہ چلے یہ ممنوع ہے مطلقاً دونوں کا ذکر کرنا ممنوع نہیں ہے۔ وَالْجَوَابُ أَنَّهٗ إِنَّمَا يَكُونُ مَانِعًا اور جواب اس کا یہ ہے کہ مولانا یہ اس سے یعنی کلام کو محمول کرنا استعارے پر اس سے مانع اس وقت ہے إِذَا كَانَ ذِكْرُهُمَا عَلٰى وَجْهٍ جب ان دونوں کا ذکر ایسے طریقے پر ہو يُنْبِئُ عَنِ التَّشْبِيهِ جو خبر دے کس کے بارے میں؟ تشبیہ کے بارے میں پھر ممنوع ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ کلام کو استعارے پر محمول کرنا پھر کیا ہے؟ ممنوع ہے، تو طرفین کا ذکر مانع بن جائے گا جب کہ ان کا ذکر ایسے طریقے پر ہو جو تشبیہ کی خبر دے۔ بِدَلِيلِ دلیل اس کی کیا ہے؟ کہ أَنَّهٗ جَعَلَ قَوْلَهٗ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهٗ عَلَى الْقَمَرِ مِنْ بَابِ الِاسْتِعَارَةِ مَعَ ذِكْرِ الطَّرَفَيْنِ کہ علامہ سکاکی نے اس قول کو شاعر کے اس قول کو قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهٗ عَلَى الْقَمَرِ اس قول کو کس میں سے بنایا ہے؟ مِنْ بَابِ الِاسْتِعَارَةِ بابِ استعارہ سے بنایا ہے مَعَ ذِكْرِ الطَّرَفَيْنِ باوجود طرفین کے ذکر ہونے کے۔ اس میں دونوں طرفین ذکر ہیں مشبہ بھی ذکر مشبہ بہ بھی ذکر پھر بھی علامہ سکاکی کیا فرماتے ہیں یہ کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ ہے، معلوم ہوا ان کے نزدیک استعارہ بالکنایہ میں دونوں کا مطلقاً ذکر ہونا یہ مانع نہیں ہے بلکہ مانع کیا چیز ہے؟ کہ جب ایسے طریقے پر ذکر ہوں جس سے کس چیز کا پتہ چلے؟ تشبیہ کا۔ تو یہاں دیکھیے تشبیہ کا پتہ نہیں چل رہا اور مشبہ اور مشبہ بہ دونوں ذکر ہیں لیکن تشبیہ کا پتہ نہیں چل رہا اس لیے یہاں پر استعارہ بالکنایہ چل سکتا ہے۔ دیکھیے بھئی۔ کیا کہتا ہے قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهٗ عَلَى الْقَمَرِ۔ یاد رکھو ہر چیز کے اپنے خاصے ہوتے ہیں مولانا، ہر چیز کے اپنے خاصے ہوتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ یاقوت کا خاصہ ہے اس پر آگ اثر انداز نہیں ہوتی، سونے کا خاصہ ہے کہ اس کو کبھی زنگ نہیں لگتا مولانا، شہد کا خاصہ ہے مولانا یہ کبھی خراب نہیں ہوتا۔ اسی طرح سہیل ستارہ ہے آسمان میں ایک ستارہ جو سال میں چند مہینے نظر آتا ہے اس کا خاصہ ہے کہ اگر اونٹ کی نظر اس پر پڑ جائے تو اونٹ مر جاتا ہے یا بیمار ہو جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح سورج کی روشنی کا خاصہ ہے مولانا کہ یہ مثلاً انسان میں ہڈیاں بننے میں مفید ہوتی ہے بھئی؛ سورج کی روشنی کیا ہے ہڈیاں بننے میں مفید ہے، اگر سورج کی روشنی نہ ملے ہڈیوں پر نہ پڑے تو پھر ہڈیاں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں بھئی۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ شہروں میں جہاں گھر تنگ ہوتے ہیں اونچے مکان ہوتے ہیں اور سورج کی روشنی نیچے گھروں تک نہیں پہنچتی وہاں بچوں کو سورج کی روشنی نہیں لگتی کافی عرصے تک تو آپ دیکھیں گے ان کی ہڈیاں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں بھئی۔ تو یہ خاصے ہیں۔ اسی طرح سوتی کپڑا جو ہے سوتی کپڑے کا خاصہ ہے کہ چاند کی روشنی اس پر پڑتی رہے تو یہ جلدی بوسیدہ ہو جاتا ہے اور گل جاتا ہے؛ سوتی کپڑے پر چاند کی روشنی پڑتی رہے تو کیا ہے جلدی بوسیدہ ہو جاتا ہے اور جلدی گل جاتا ہے۔ تو یہاں پر شاعر یہ کہنا چاہتا ہے بھئی اس شعر کے اندر، پہلا مصرع اس کا یوں ہے مولانا: لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلٰى غِلَالَتِهٖ، لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلٰى؛ بِلٰى یا کے ساتھ ہے مولانا، لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلٰى غِلَالَتِهٖ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهٗ عَلَى الْقَمَرِ۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے مولانا کہ میرا جو معشوق ہے اس کی بنیان بڑی بوسیدہ اور گلی ہوئی میلی اور خراب ہے بھئی، بڑی بوسیدہ ہے۔ تو اس کے معشوق کی جو بنیان بڑی بوسیدہ ہے اور گلی ہوئی ہے تو شاعر کہتا ہے کہ میرے معشوق کی اس بوسیدہ بنیان پر آپ لوگ تعجب نہ کریں بھئی، تعجب کی بات اس میں کوئی نہیں وجہ یہ کہ میرا معشوق جو ہے دراصل وہ چاند ہے اور چاند کی روشنی جب کس پر پڑتی رہے سوتی کپڑے پر پڑے تو وہ سوتی کپڑا جلدی کیا ہو جاتا ہے بوسیدہ ہو جاتا ہے اور گل جاتا ہے، اور یہاں تو روشنی نہیں پڑ رہی بلکہ میرا معشوق جو ہے چاند اور اس نے بنیان پہنی ہوئی ہے تو براہِ راست چاند کو بنیان لگ رہی ہے، تو اسی سے آپ اندازہ لگا لیں کہ روشنی سے جب جلدی گلتی ہے تو ساتھ لگی ہو تو کتنی جلدی گل جائے گی بھئی۔ معلوم نہیں کتنی بوسیدہ بنیان ہو گی کہ شاعر کو بھی باقاعدہ عذر پیش کرنا پڑا بھئی۔ اچھا جی کہتا ہے لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلٰى غِلَالَتِهٖ تم لوگ تعجب نہ کرو مِنْ بِلٰى غِلَالَتِهٖ؛ غِلَالَةٌ کہتے ہیں بنیان کو اور بِلٰى کا معنی بوسیدہ ہونا، تم تعجب نہ کرو میرے محبوب کی بنیان کے بوسیدہ ہونے پر۔ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهٗ عَلَى الْقَمَرِ؛ زَرَّ کا معنی ہے بٹن بند کرنا بھئی، أَزْرَارٌ جمع ہے زِرٌّ کی، زِرٌّ بٹن کو کہتے ہیں بھئی۔ قَدْ زُرَّ تحقیق بند کیے گئے ہیں أَزْرَارُهٗ اس کے بٹن عَلَى الْقَمَرِ کس پر؟ چاند پر، اس کے بٹن بنیان کے کس پر بند کیے گئے ہیں؟ چاند پر یعنی وہ چاند ہے بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو اپنے محبوب کو اس نے تشبیہ دی ہے چاند کے ساتھ اور محبوب کا بھی ذکر آ رہا ہے عبارت میں بھئی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ محبوب کو، اور قمر مشبہ بہ کا ذکر بھی عبارت میں آ رہا ہے، تو دیکھو طرفین ذکر ہوئے لیکن وہ پھر بھی فرماتے ہیں کہ یہ کس باب سے ہے؟ بابِ استعارہ سے ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا ان کے نزدیک استعارے کے اندر طرفین کا ذکر ہو سکتا ہے لیکن ایسے طریقے پر نہیں ہونا چاہیے جس سے کس چیز کا پتہ چلے؟ تشبیہ کا پتہ چلے۔ تو کہتے ہیں انہوں نے اس کو بنایا ہے مِنْ بَابِ الِاسْتِعَارَةِ استعارہ کے باب سے مَعَ ذِكْرِ الطَّرَفَيْنِ باوجود کس کے بھئی؟ طرفین کے ذکر کے۔ وَبَعْضُهُمْ لَمَّا لَمْ يَقِفْ عَلٰى مُرَادِ السَّكَّاكِيِّ بِالِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ أَجَابَ عَنْ هٰذِهِ الِاعْتِرَاضَاتِ بِمَا هُوَ بَرِيءٌ مِّنْهُ وَرَأَيْنَا تَرْكَهٗ أَوْلٰى۔ بھئی اس کا تعلق وہ پچھلے اعتراضات کے ساتھ ہے؛ وہ پہلے جو تین چار اعتراضات ذکر کیے تھے کہ علامہ سکاکی کے قول سے یعنی استعارہ بالکنایہ لینے کی صورت میں یہ چیز لازم آتی ہے یہ لازم آتی ہے یہ لازم آتی ہے تین چار لوازم ذکر ہوئے تھے اور پھر بتلایا تھا لوازم سارے منتفی لہٰذا ملزوم بھی منتفی۔ تو یہ اعتراض کیا تھا تو پھر بعض علماء نے اس کے اور جوابات دیے بھئی علامہ سکاکی کی طرف سے بھئی۔ ایک جواب تو علامہ تفتازانی نے دیا کہ یہاں پر مشبہ بول کر مشبہ بہ مراد ہے لیکن حقیقتاً نہیں مراد بلکہ ادعاءً مراد ہے؛ یہ جواب تو علامہ تفتازانی نے دیا، دیگر علماء نے اور جوابات دیے بھئی جیسے علامہ خلخالی نے اور جوابات ذکر کیے۔ تو مصنف علامہ تفتازانی ان کو رد کر رہے ہیں بھئی کہ انہوں نے دراصل علامہ سکاکی کی مراد کا ان کو پتہ ہی نہیں ہے بھئی کہ علامہ سکاکی کا یہ کیا مراد ہے کہ مشبہ بول کر کیا مراد لیتے ہیں مشبہ بہ حقیقتاً مراد ہوتا ہے یا ادعاءً، چونکہ انہیں علامہ سکاکی کی اس مراد کا پتہ نہیں تھا اس لیے انہوں نے اپنی طرف سے کہتے ہیں عجیب و غریب جوابات دیے جو بالکل کسی صورت میں بھی صحیح نہیں لہٰذا ہم نے بھی ان کے ترک کو اولیٰ سمجھا، ان جوابات کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی کہ بعضوں نے اور جوابات دیے تھے لیکن کہتے ہیں دراصل انہیں علامہ سکاکی کی بات کا ہی پتہ نہیں ان کی بات ہی نہیں سمجھ میں آئی، جب بات نہیں سمجھ میں آئی تو ان کی طرف سے جوابات بھی ان کے کیا ہوئے؟ انہوں نے غلط جوابات دیے جو درست نہیں بھئی۔ وَبَعْضُهُمْ لَمَّا لَمْ يَقِفْ عَلٰى مُرَادِ السَّكَّاكِيِّ بِالِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ اور بعض علماء جیسے علامہ خلخالی ہیں جب وہ واقف نہیں ہوئے علامہ سکاکی کی مراد پر کس چیز سے بھئی؟ بِالِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ استعارہ بالکنایہ سے علامہ سکاکی کی کیا مراد ہے جب انہیں اس بات کا ہی پتہ نہیں چلا تو أَجَابَ عَنْ هٰذِهِ الِاعْتِرَاضَاتِ بِمَا هُوَ بَرِيءٌ مِّنْهُ تو انہوں نے جوابات دیے ان اعتراضات کے ایسے جس سے علامہ سکاکی کیا ہیں بری ہیں بھئی؛ جب علامہ سکاکی کی بات ہی ان کو نہیں سمجھ میں آئی تو ان کی طرف سے جو جوابات بھی دیے وہ بھی کیا ہیں علامہ سکاکی ان پر راضی نہیں ہو سکتے بھئی، جب ان کی بات ہی انہیں سمجھ میں نہیں آئی تو ان کی طرف سے جوابات جو دیے وہ بھی درست نہیں ہیں وَرَأَيْنَا تَرْكَهٗ أَوْلٰى اور ہم نے بھی ان کے ترک کو کیا سمجھا ہے؟ اولیٰ سمجھا ہے بہتر سمجھا بھئی۔ أَحْوَالُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ أَيِ الْأُمُورُ الْعَارِضَةُ لَهٗ مِنْ حَيْثُ أَنَّهٗ مُسْنَدٌ إِلَيْهِ وَقَدَّمَ الْمُسْنَدَ إِلَيْهِ عَلَى الْمُسْنَدِ لِمَا سَيَأْتِي۔ جی مسند الیہ کے احوال بھئی، احوالِ اسنادِ خبری ختم ہوئے بھئی اب مسند الیہ کے احوال۔ مولانا ایک ہے چھوٹی نحو ایک ہے بڑی نحو بھئی۔ چھوٹی نحو آپ پڑھ کر آئے ہیں ہدایۃ النحو کے اندر کافیہ کے اندر جامی وغیرہ کے اندر بھئی؛ وہاں پر آپ کو بتلایا جاتا ہے کہ مسند الیہ کبھی فاعل ہوتا ہے، مسند الیہ کبھی مبتدا ہوتا ہے، مسند الیہ کبھی نائب فاعل وغیرہ ہوتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ بتلایا جاتا ہے وہاں پر کہ یہ مسند الیہ ہے بھئی۔ اور یہ ہے بڑی نحو؛ یہاں پر یہ نہیں بتلایا جائے گا کہ کون مسند الیہ ہے اور کون مسند الیہ نہیں بلکہ یہاں پر مسند الیہ کے احوال ذکر ہوں گے کہ مسند الیہ کو کبھی عبارت میں ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ذکر کرنے کے کیا کیا نکتے ہیں، مسند الیہ کو کبھی عبارت میں حذف کیا جاتا ہے اس حذف میں کیا نکتے ہیں، اور کبھی ذکر ہوتا ہے تو معرفہ کی صورت میں مسند الیہ کو لایا جاتا ہے معرفہ کیوں لے کر آتے ہیں اس کو، کبھی اس کو نکرہ لایا جاتا ہے یہ نکرہ کس وجہ سے لایا جاتا ہے، کبھی اس کو ضمیر کی صورت میں لایا جاتا ہے کبھی اسمِ اشارہ کی صورت میں کبھی اسمِ موصول وغیرہ کی صورت میں؛ ضمیر کی صورت میں کیوں لایا جاتا ہے مسند الیہ کو، اسمِ اشارہ کی صورت میں کیوں لایا جاتا ہے اور اسمِ موصول وغیرہ کی صورت میں، تو یہاں پر وہ نکات بیان ہوں گے۔ یہ ہے بڑی نحو اور وہ کیا تھی چھوٹی نحو تھی، تو یہاں پر یہ نکات بیان ہوں گے بھئی۔ تو اب یہاں پر مسند الیہ کے احوال ذکر کریں گے بھئی۔ تو سب سے پہلے کہتے ہیں متن صرف دیکھیے: أَمَّا حَذْفُهٗ فَلِلِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ؛ مسند الیہ کا حذف کرنا فَلِلِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ کس لیے ہو گا؟ عبث سے بچنے کے لیے بِنَاءً عَلَى الظَّاهِرِ بنا بر ظاہر کے بھئی۔ یاد رکھو مصنف کا طریقہ یہ ہے کہ وہ أَمَّا کے بعد جو ذکر کرتے ہیں وہ مقتضائے حال ہوتا ہے؛ أَمَّا کے بعد جس کو ذکر کرتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے؟ مقتضائے حال، اور لام کے بعد فَلِلِاحْتِرَازِ یہ لام کے بعد جو ذکر کرتے ہیں وہ حال ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ حال ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں أَمَّا حَذْفُهٗ فَلِلِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ بھئی حال کیا ہے؟ عبث سے بچنا، تو مقتضائے حال کیا ہوا؟ حذف۔ حال کیا ہے کہ ذکر کرنا عبث ہے اور عبث سے بچو، تو مقتضائے حال کیا ہوا اس حال نے کیا تقاضا کیا کہ مسند الیہ کو کیا کر لیا جائے؟ حذف کر لیا جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ تو أَمَّا کے بعد ذکر ہو گا مقتضائے حال اور لام کے بعد کیا ذکر ہو گا؟ حال ذکر ہو گا بھئی۔ تو کبھی حذف کیا جاتا ہے مسند الیہ کو کس لیے؟ فَلِلِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ عبث سے بچنے کے لیے بِنَاءً عَلَى الظَّاهِرِ بنا بر ظاہر کے بھئی أَوْ تَخْيِيلِ الْعُدُولِ۔ بھئی دیکھو مسند الیہ کو کبھی کبھار ذکر کرنا عبث ہوتا ہے بھئی اس لیے کہ وہ متعین ہے؛ جب متعین ہے تو اب اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں اب اس کو ذکر کرنا عبث ہے۔ مثلاً آپ سے کسی نے پوچھا کہ هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ کیا زید کھڑا ہے؟ آپ جواب میں کہتے ہیں قَائِمٌ، کیا کہتے ہیں؟ قَائِمٌ۔ اب آپ کو کہنا تو چاہیے تھا زَيْدٌ قَائِمٌ لیکن آپ نے لفظِ زید کو مسند الیہ جو تھا اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا۔ یہ حذف کس لیے کیا؟ اس لیے مولانا کہ وہ سوال ہی کس کے بارے میں پوچھ رہا ہے؟ زید کے بارے میں، تو یہاں مسند الیہ تو متعین ہے؛ جب مسند الیہ متعین ہے تو اس کو ذکر کرنا کیا ہوا؟ عبث ہوا، اس کو ذکر کرنا بیکار ہوا تو لہٰذا اب آپ اس کو حذف کرتے ہیں اور صرف کیا کہہ دیتے ہیں؟ قَائِمٌ کہہ دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ أَوْ تَخْيِيلِ الْعُدُولِ إِلٰى أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ مِنَ الْعَقْلِ وَاللَّفْظِ یا مولانا آپ مخاطب کے خیال میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ میں عدول کر رہا ہوں دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی دلیل کی طرف یعنی عقل اور لفظ میں سے؛ عقل اور لفظ میں سے جو زیادہ قوی دلیل ہے میں اس کی طرف عدول کر رہا ہوں آپ مخاطب کے ذہن میں یہ بات ڈالتے ہیں۔ بھئی یاد رکھو ایک دلالت ہے عقل کی ایک دلالت ہے لفظ کی؛ لفظ بھی دلالت کرتا ہے عقل بھی دلالت کرتی ہے لیکن عقل کی دلالت مولانا قوی ہے کس سے؟ لفظ کی دلالت سے۔ مثلاً آپ زید کہتے ہیں، اس لفظِ زید نے دلالت کی ذاتِ زید پر بھئی، فوراً آپ کے ذہن میں کون آ گیا؟ زید۔ تو یہ دلالت ہے لفظ کی لیکن یہ لفظ ذاتِ زید پر جو دلالت کر رہا ہے وہ کس کے واسطے سے کر رہا ہے؟ عقل کے واسطے سے کر رہا ہے، تو لفظ اپنی دلالت میں محتاج ہے عقل کا؛ لفظ بھی اپنی دلالت میں محتاج ہے کس کا؟ عقل کا، تو یہ ہے لفظ کی دلالت۔ اور ایک ہے دلالت عقل کی اور عقل اپنی دلالت میں لفظ کی محتاج نہیں؛ مثلاً آپ نے مولانا مٹی پر قدموں کے نشانات دیکھے تو فوراً آپ کے ذہن میں یہ بات آ گئی کہ یقیناً یہاں سے کوئی شخص گزرا ہے جس کے یہ قدموں کے نشان، تو دیکھو آپ نے صرف قدموں کے نشانات دیکھے ہیں یہاں کوئی لفظ بولا گیا ہے بھئی؟ لفظ کوئی بھی نہیں بولا گیا لیکن عقل نے پھر بھی دلالت کر دی۔ تو لفظ اپنی دلالت کے اندر عقل کا محتاج ہے لیکن عقل اپنی دلالت کے اندر لفظ کی محتاج نہیں، تو معلوم ہوا کس کی دلالت قوی ہے عقل کی یا لفظ کی؟ عقل کی دلالت قوی ہے۔ اب دیکھو آپ مثلاً کہنا چاہتے ہیں زَيْدٌ قَائِمٌ، تو یہاں پر ذاتِ زید پر کون دلالت کر رہا ہے؟ لفظِ زید، تو یہ دلالت ہے لفظ کی۔ اور ایک وہ صورت کہ اس نے کہا هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ تو آپ نے جواب میں کیا کہا بھئی؟ قَائِمٌ صرف کہا، اب اصل کلام کیا ہے؟ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ تو یہاں پر مولانا ذاتِ زید پر دلالت ہوئی مولانا لیکن لفظ نے کی یا عقل نے کی بھئی؟ یہاں تو زید کا لفظ ہی نہیں؛ جب زید کا لفظ ہی نہیں ہے تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت عقل کی ہوئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگر زَيْدٌ قَائِمٌ کہیں تو اب دلالت کس کی ہے؟ لفظ کی، اور اگر صرف قَائِمٌ کہیں تو دلالت کس کی ہے؟ عقل کی، اور کون سی دلالت قوی ہے؟ عقل کی دلالت قوی ہے۔ تو مولانا آپ کبھی کبھار مسند الیہ کو حذف کر دیتے ہیں کس لیے حذف کرتے ہیں؟ کہ آپ مخاطب سننے والے کے ذہن میں خیال میں یہ بات ڈالنا چاہتے ہیں کہ دو دلالتیں ہیں: ایک دلالت ہے عقل کی ایک دلالت ہے لفظ کی، اور میں لفظ کو ذکر نہیں کیا تو لفظ کی دلالت سے میں عدول کر رہا ہوں کس کی طرف؟ عقل کی دلالت کی طرف، تو آپ اس کے ذہن میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ دو جو دلالتیں ہیں ان میں سے جو زیادہ قوی دلالت ہے میں اس کی طرف کیا کر رہا ہوں؟ عدول کر رہا ہوں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی سب کو؟ أَوْ تَخْيِيلِ الْعُدُولِ إِلٰى أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ یا آپ خیال ڈالنا چاہتے ہیں کس کے ذہن میں؟ مخاطب کے ذہن میں کس چیز کا خیال؟ الْعُدُولِ إِلٰى أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی دلیل کی طرف عدول کرنے کا خیال۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اور وہ دو دلیلیں کون سی ہیں؟ مِنَ الْعَقْلِ وَاللَّفْظِ یعنی کہ عقل اور لفظ ہیں بھئی۔ كَقَوْلِهٖ جیسے شاعر کا قول: قَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ قُلْتُ عَلِيلُ مجھے کہا کہ كَيْفَ أَنْتَ تم کیسے ہو؟ قُلْتُ عَلِيلُ میں نے کیا جواب دیا؟ بیمار ہوں۔ کہنا تو یوں چاہیے تھا أَنَا عَلِيلٌ بھئی؛ أَنَا مبتدا اور عَلِيلٌ اس کی خبر، لیکن أَنَا مسند الیہ کو حذف کر دیا کس لیے بھئی؟ جی عبث سے بچنے کے لیے اس لیے کہ مسند الیہ متعین ہے؛ اس نے بھی کس کا حال پوچھا ہے؟ شاعر کا اور شاعر اپنا حال بتلا رہا ہے تو یہاں پر مسند الیہ متعین ہوا، جب متعین ہوا تو اب اس کو پھر ذکر کرنا یہ کیا ہے؟ عبث ہے بیکار ہے، تو اس عبث سے بچنے کے لیے اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا۔ یا مولانا دوسری وجہ اور نیز مولانا شاعر مخاطب کے ذہن میں یہ خیال ڈالنا چاہتا ہے کہ میں دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی دلیل کی طرف عدول کر رہا ہوں؛ اگر میں أَنَا عَلِيلٌ کہتا تو دلالت کون سی ہوتی؟ لفظ کی، اور جب میں نے أَنَا کو حذف کیا تو دلالت کون سی ہوئی؟ عقل کی، تو میں نے لفظ کی دلالت سے عدول کیا ہے کس کی طرف؟ عقل کی دلالت کی طرف بھئی۔ أَوِ اخْتِبَارِ تَنَبُّهِ السَّامِعِ عِنْدَ الْقَرِينَةِ یا مولانا کبھی کبھار مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے کہ آپ سامع کی سمجھ کو اس کے متنبہ ہونے کو جانچنا چاہتے ہیں جب کہ قرینہ موجود ہو؛ سننے والے کی سمجھ کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ جانچنا چاہتے ہیں کہ یہ بات کو سمجھتا بھی ہے یا بات کو نہیں سمجھتا، صرف ظاہری باتوں کو سمجھتا ہے یا جو خفی جن میں خفا ہو تھوڑا ان باتوں کو بھی، تو وہ کتنا سمجھدار ہے اس کی سمجھداری کو جانچنے کے لیے آپ مسند الیہ کو کیا کر دیتے ہیں؟ حذف کر دیتے ہیں کہ وہ سمجھتا ہے اس بات کو یا نہیں۔ أَوِ اخْتِبَارِ مِقْدَارِ تَنَبُّهِهٖ یا مولانا یہ تو آپ کو پتہ ہے وہ سمجھدار ہے لیکن آپ اس کی مقدار جانچنا چاہتے ہیں کہ کتنا سمجھدار ہے؛ قرائنِ ظاہرہ سے ہی بات کو سمجھتا ہے یا قرائنِ خفیہ کے ذریعے بھی کیا کر لیتا ہے بات کو سمجھ لیتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً کہتے ہیں بھئی ایک خلیفہ تھا بنو العباس کا وہ کشتی میں سفر کر رہا تھا اور لوگ بھی ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں بھئی وزراء وغیرہ۔ باتیں کرتے کرتے ایک وزیر کی طرف مڑا اور اس کو کہنے لگا کہ اس وقت تیرا سب سے زیادہ کیا چیز کھانے کو دل کر رہا ہے سب سے زیادہ محبوب کیا ہے تمہیں کھانے میں؟ اس نے کہا ابلا ہوا انڈا؛ کیا چیز ہے پسند سب سے زیادہ؟ کہیں سردی کا موسم ہو گا تو اس نے کہا بھئی ابلا ہوا انڈا۔ باتیں پھر ادھر ادھر کی شروع ہو گئیں مولانا، واپس آئے چلے گئے بھئی۔ ایک سال کے بعد پھر مولانا ایک دن اسی طرح کشتی میں بیٹھے ہوئے ہیں بادشاہ بھی ہے سارے وزراء بھی ہیں بھئی سال پورا گزر چکا ہے اور بھی کتنی باتیں ہوئی ہوں گی بھئی صرف یہ بات تو نہیں ہوئی، پھر کشتی میں چل رہے ہیں اچانک بادشاہ پھر اس وزیر کی طرف مڑا اور کہنے لگا: کس چیز کے ساتھ؟ اس نے فوراً جواب دیا: نمک کے ساتھ۔ تو دیکھو بادشاہ حیران رہ گیا کہ کتنا سمجھدار ہے کتنا خفی قرینہ تھا مولانا؛ وہ بات جو ایک سال پہلے ہوئی تھی کیا کہا تھا بادشاہ نے کیا چیز پسند ہے اس نے کہا تھا ابلا ہوا انڈا، اور اب پوچھ رہا ہے سال کے بعد بھئی کس چیز کے ساتھ؟ تو فوراً کہہ دیا کس کے ساتھ؟ نمک کے ساتھ بھئی۔ تو دیکھو یہاں سے سمجھداری کی مقدار کو جانچ لیا بھئی بادشاہ نے۔ أَوْ إِيهَامِ صَوْنِهٖ عَنْ لِّسَانِكَ یا مولانا مسند الیہ کو کبھی حذف کیا جاتا ہے کہ آپ وہم ڈالنا چاہتے ہیں مخاطب کے ذہن میں کہ آپ مسند الیہ کو اپنی زبان سے بچانا چاہتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کہا خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، اصل میں تو تھا اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ تو لفظِ اللہ کو حذف کر دیا کیوں؟ کیونکہ آپ مخاطب کے ذہن میں یہ وہم ڈالنا چاہتے ہیں کہ یہ نام بڑا مبارک اور پیارا ہے اور زبان بڑی پلید ہے اور زبان اس قابل نہیں کہ اس نام کو ادا کرے تو میں اس نام کو کیا کرتا ہوں اپنی زبان سے بچاتا ہوں اس لیے میں نے اس کو عبارت میں ذکر نہیں کیا بھئی۔ أَوْ عَكْسِهٖ یا کبھی اس کا عکس ہوتا ہے مولانا کہ زبان کو اس مسند الیہ سے کیا کرنا چاہتے ہیں بچانا چاہتے ہیں اس کو ذکر نہیں کرنا چاہتے؛ مثلاً آپ نے کہا رَجِيمٌ، اب کہنا کیا چاہیے تھا؟ اَلشَّيْطَانُ رَجِيمٌ لیکن آپ شیطان کے لفظ کو نام کو ذکر نہیں کرتے کس لیے کہ آپ مخاطب کے ذہن میں یہ وہم ڈالنا چاہتے ہیں کہ یہ جو شیطان نام ہے یہ کیا ہے بڑا نام بھی بڑا پلید ہے تو میں اپنی زبان کو اس سے بچا رہا ہوں کہ اس کا نام میری زبان پر بھی نہ آئے بھئی۔ أَوْ تَأَتِّي الْإِنْكَارِ لَدَى الْحَاجَةِ یا مولانا کبھی کبھار مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے تاکہ انکار حاصل ہو سکے انکار آسان ہو جائے ضرورت کے وقت بھئی، تاکہ ضرورت کے وقت کیا ہو جائے انکار کرنا آسان ہو جائے بھئی۔ مثلاً مولانا زید کے ساتھ آپ کی لڑائی ہے اور ایک مجلس میں زید بھی موجود ہے اور لوگ بھی موجود ہیں بھئی، زید اب آپ کا دشمن ہے مثلاً آپ کیا کرتے ہیں اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں بڑا فاجر ہے فاسق ہے فلاں ہے فلاں ہے کئی باتیں آپ نے کر دیں، مسند الیہ کو حذف کر دیا اور اشارہ ہے سب میں کس کی طرف؟ زید کی طرف۔ تو زید نے فوراً آپ کو آ کر پکڑ لیا بھئی کہ اچھا بھئی تم مجھے فاجر اور فاسق کہہ رہے ہو، آپ نے فوراً کہا میں آپ کو کب کہہ رہا ہوں میں تو فلاں فلاں کے بارے میں کہہ رہا ہوں بھئی۔ تو دیکھا آپ نے مسند الیہ کو حذف کر دیا کس لیے تاکہ ضرورت کے وقت اس سے کیا کر سکیں؟ انکار کر سکیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا جیسے مولانا آپ کا ایک ساتھی ہے بڑا پریشان بیٹھا ہے غمگین ہے کمرے کے کونے میں بیٹھا ہوا ہے، آہیں اور سسکیاں جاری ہیں مولانا رو رہا ہے مولانا گریبان کھلا ہوا ہے بال بکھرے ہوئے ہیں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، آپ اس کے پاس گئے بھئی کیا ہوا؟ کہتا ہے بھئی بڑا پریشان ہوں بڑا غمزدہ ہوں چھٹیاں نہیں ہو رہیں بھئی اور مجھے اپنی بیوی یاد آ رہی ہے۔ اچھا تو آپ نے کیا کہا اس کو کہ چھوڑو بھئی کہ کوے کی طرح کالی سیاہ ہے، ایک آنکھ شمال کو جا رہی ہے تو ایک آنکھ جنوب کو جا رہی ہے، موٹی تازی ہے بھئی، آنکھوں کے ڈیلے باہر کو نکلے ہوئے ہیں، بڑے بڑے کان ہیں بڑے بڑے دانت ہیں۔ اس نے ڈنڈا اٹھایا آپ کے پیچھے دوڑ لگا دی کہ میری بیوی کی برائیاں کرتے ہو بھئی، آپ نے فوراً کہا بھئی میں آپ کی بیوی کی کب بات کر رہا ہوں میں تو اپنی بھینس کی بات کر رہا ہوں بھئی کہ کالی سیاہ ہے بڑے بڑے کان ہیں موٹی تازی ہے اور دانت بڑے ہیں وغیرہ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھا آپ نے مسند الیہ کو حذف کر دیا تھا تاکہ ضرورت کے وقت کیا کر سکیں؟ انکار کر سکیں بھئی۔ أَوْ تَعَيُّنِهٖ کبھی کبھار مسند الیہ کو اس لیے حذف کر دیتے ہیں کہ مسند الیہ متعین ہوتا ہے؛ مثلاً آپ نے کہا خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، اب کہنا تو کیا چاہیے تھا اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ لیکن آپ نے لفظِ اللہ مسند الیہ کو حذف کر دیا اس لیے کہ اس مسند کے لیے یہی مسند الیہ متعین ہے؛ ہر چیز کا پیدا کرنے والا کون ہے؟ اللہ ہی ہیں تو لہٰذا متعین ہے۔ یا مولانا أَوِ ادِّعَاءِ التَّعَيُّنِ تعین کا دعویٰ ہے بھئی آپ کیا کرتے ہیں تعین کا دعویٰ کرتے ہیں بھئی۔ مثلاً آپ نے کہا وَهَّابُ الْأُلُوفِ ہزاروں عطا کرنے والا ہے؛ بھئی کون ہے ہزاروں عطا کرنے والا ہے؟ مثلاً آپ کہتے ہیں اَلسُّلْطَانُ بادشاہ کیا ہے ہزاروں عطا کرنے والا ہے۔ اب بھئی ہزاروں عطا کرنا یہ تو بادشاہ بھی کر سکتا ہے بادشاہ کے علاوہ بھی کوئی اور کر سکتا ہے لیکن آپ نے مسند الیہ کو حذف کر دیا گویا آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ فعل صرف بادشاہ ہی کر سکتا ہے اسی کے لیے یہ متعین ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا اس جیسی کسی اور وجہ سے مولانا مسند الیہ کو کیا کیا جاتا ہے؟ حذف کیا جاتا ہے۔ یہاں تک سب باتیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ دیکھیے اب دوبارہ سبق دیکھیے کتاب پر دیکھیے بھئی۔ أَحْوَالُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ أَيِ الْأُمُورُ الْعَارِضَةُ لَهٗ مِنْ حَيْثُ أَنَّهٗ مُسْنَدٌ إِلَيْهِ یعنی وہ امور جو عارض ہوتے ہیں مسند الیہ کو مِنْ حَيْثُ اس حیثیت سے کہ أَنَّهٗ مُسْنَدٌ إِلَيْهِ کہ وہ کیا ہے مسند الیہ ہے۔ بھئی مسند الیہ کو کئی قسم کے احوال عارض ہوتے ہیں لیکن یہاں پر ان احوال سے بحث کی جائے گی جو کس اعتبار سے ہیں؟ اس کے مسند الیہ ہونے کے، ورنہ تو مسند الیہ مولانا کلمہ ہے اور کلمہ ہے تو اس کے لیے مادہ ہو گا؛ اب مادے کے اعتبار سے وہ مسند ثلاثی ہو گا رباعی ہو گا یا خماسی، تو یہ بھی ثلاثی ہونا رباعی ہونا خماسی ہونا یہ بھی اس کے احوال ہیں لیکن مسند الیہ ہونے کے اعتبار سے نہیں بلکہ کس اعتبار سے ہیں؟ مادے کے اعتبار سے ہیں کہ تین حرفی ہے تو ثلاثی چار حرفی ہے تو رباعی پانچ حرفی ہے تو خماسی، لیکن ان سے یہاں بحث نہیں ہو گی کیونکہ یہ احوال مسند الیہ ہونے کے اعتبار سے نہیں۔ یا مولانا استعمال کے لحاظ سے ہو گئے مولانا اس کے احوال کہ وہ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے یا معنی غیر موضوع لہ میں؛ اگر معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا تو حقیقت غیر موضوع لہ میں ہوا تو مجاز، لیکن یہ استعمال کے اعتبار سے کیا ہیں یہ اس کے احوال ہوئے اور یہاں پر استعمال کے اعتبار سے احوال نہیں مراد بلکہ کون سے احوال ہیں؟ اس کے مسند الیہ۔ یا مولانا مفہوم کے اعتبار سے کہ وہ کلی ہے یا جزئی ہے بھئی؛ مفہوم کے اعتبار سے بھی اس کے احوال ہوں گے۔ ذات کے اعتبار سے بھی احوال ہوں گے کہ جوہر ہے یا عرض ہے، لیکن مولانا یہاں پر نہ استعمال کے اعتبار سے نہ مفہوم کے اعتبار سے نہ ذات کے اعتبار سے نہ مادے وغیرہ کے اعتبار سے کوئی احوال ان میں سے نہیں بلکہ کون سے احوال یہاں ذکر کیے جائیں گے؟ جو مسند الیہ ہونے کے اعتبار سے اس کو عارض ہوتے ہیں۔ وَقَدَّمَ الْمُسْنَدَ إِلَيْهِ عَلَى الْمُسْنَدِ لِمَا سَيَأْتِي۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسند الیہ کو مسند پر کیوں مقدم کیا؟ پہلے مسند الیہ کا باب لائے اس کے بعد مسند کا۔ جواب آگے کہتے ہیں آ جائے گا کہ بھئی مسند الیہ کلام کا رکنِ اعظم ہے؛ اس کے ساتھ وہ مسند قائم ہے، تو جب وہ رکنِ اعظم ہوا تو اس کو مقدم کر دیا اسی وجہ سے۔ وَقَدَّمَ الْمُسْنَدَ إِلَيْهِ اور مقدم کیا مسند الیہ کو عَلَى الْمُسْنَدِ مسند پر لِمَا سَيَأْتِي اس وجہ سے جو عنقریب آئے گی۔ اب مولانا أَمَّا حَذْفُهٗ باقی حذف کرنا اس کو قَدَّمَهٗ عَلٰى سَائِرِ الْأَحْوَالِ، بھئی حذف کو تمام احوال پر مقدم کیا لِكَوْنِهٖ عِبَارَةً عَنْ عَدَمِ الْإِتْيَانِ بِهٖ اس لیے کہ حذف یہ عبارت ہے کس چیز سے؟ اس کے نہ لانے سے؛ حذف کا کیا معنی ہے؟ اس کو نہ لانا ذکر نہ کرنا وَعَدَمُ الْحَادِثِ سَابِقٌ عَلٰى وُجُودِهٖ اور حادث کا عدم سابق ہوتا ہے اس کے وجود پر۔ میں نے بتلایا تھا چیزیں دو قسم پر ہیں مولانا: یا حادث ہو گی یا قدیم؛ قدیم وہ ہے جو مسبوق بالعدم نہ ہو اس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو، اور قدیم صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہیں اور ان کی صفات ہیں بھئی، اللہ اور ان کی صفات کیا ہیں؟ قدیم، جبکہ باقی تمام مخلوقات کیا ہیں؟ حادث۔ تو آپ بھی حادث ہوئے اور حادث کا عدم اس کے وجود پر پہلے ہوتا ہے؛ ایک وقت تھا آپ نہیں تھے اب کیا ہیں آپ؟ موجود، تو دیکھو نہ ہونا پہلے تھا اور وجود اس کے بعد، تو عدم مقدم ہے وجود پر۔ تو حذف میں بھی ہے نہ لانا تو وہ ہے عدمی اور عدم کیا ہے مقدم ہوتا ہے کس پر؟ وجود یعنی ذکر کرنے پر، تو لہٰذا حذف مقدم ہوا کس پر؟ ذکر پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور جب مولانا یہ ذکر پر مقدم ہوا تو آگے ذکر کی جو فروعات ہیں یعنی کبھی معرفہ ہو گا کبھی نکرہ ہو گا مولانا کبھی اسمِ موصول ہو گا کبھی اسمِ اشارہ ہو گا، وہ ساری تو فروعات ہیں ذکر کی اور جب عدم ذکر پر مقدم ہوا تو اس کی فروعات پر بھی بطریقِ اولیٰ کیا ہوا؟ مقدم ہوا؛ ذکر ہو گا تو پھر معرفہ یا نکرہ کی بات آئے گی اس سے پہلے تو معرفہ یا نکرہ کی بات نہیں، تو لہٰذا وہ فرع ہیں ذکر کی بھئی۔ وَعَدَمُ الْحَادِثِ سَابِقٌ عَلٰى وُجُودِهٖ اور حادث چیز کا عدم وہ مقدم ہوتا ہے سابق ہوتا ہے عَلٰى وُجُودِهٖ اس کے وجود پر۔ وَذَكَرَهٗ هَاهُنَا بِلَفْظِ الْحَذْفِ وَفِي الْمُسْنَدِ بِلَفْظِ التَّرْكِ۔ بھئی ماتن نے یہاں پر کہا أَمَّا حَذْفُهٗ اور جہاں مسند کا باب شروع ہوتا ہے وہاں کہتے ہیں أَمَّا تَرْكُهٗ، بھئی یہاں حذف کا لفظ کیوں کہا مسند الیہ کے لیے اور مسند کے لیے ترک کا لفظ کیوں کہا یہ فرق کیوں کیا؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ مسند الیہ ہے کلام کا رکنِ اعظم تو جب آپ نے اس کو حذف کر دیا تو وہ حذف وہاں ہو گا جہاں پہلے ذکر ہو؛ پہلے ذکر ہو گا تو پھر کیا کیا جائے گا؟ حذف۔ تو اب آپ نے کلام کیا اس میں مسند الیہ کو نہیں لے کر آئے لیکن پھر بھی یوں سمجھا جائے گا کہ آپ پہلے اس کو لائے اور پھر اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا۔ جب کہ مسند کا یہ درجہ نہیں ہے تو وہاں پر جب آپ نے اس کو حذف کیا تو وہاں تَرْكُهٗ کہہ دیا سرے سے لائے ہی نہیں اس کو کیا کر دیا؟ ترک کر دیا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ وہاں سرے سے ترک کر دیا لائے ہی نہیں اور یہاں پر گویا کہ لائے اور پھر اس کے بعد حذف کیا۔ وَذَكَرَهٗ هَاهُنَا بِلَفْظِ الْحَذْفِ اور یہاں پر حذف کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا وَفِي الْمُسْنَدِ بِلَفْظِ التَّرْكِ اور مسند میں مولانا ترک کے لفظ کے ساتھ تَنْبِيهًا اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے عَلٰى أَنَّ الْمُسْنَدَ إِلَيْهِ هُوَ الرُّكْنُ الْأَعْظَمُ کہ مسند الیہ جو ہے وہ رکنِ اعظم ہے کلام کا شَدِيدُ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ اس کی طرف شدید حاجت ہے حَتّٰى أَنَّهٗ إِذَا لَمْ يُذْكَرْ یہاں تک کہ جب اس کو ذکر نہ بھی کیا جائے فَكَأَنَّهٗ أُتِيَ بِهٖ ثُمَّ حُذِفَ تو پھر بھی اسی طرح ہے گویا کہ اس کو لایا گیا پہلے اور پھر کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا بِخِلَافِ الْمُسْنَدِ بخلاف مسند کے فَإِنَّهٗ لَيْسَ بِهٰذِهِ الْمَثَابَةِ اس لیے کہ وہ اس درجے کا نہیں ہے فَكَأَنَّهٗ تُرِكَ عَنْ أَصْلِهٖ گویا کہ وہ سرے سے ہی ترک کر دیا گیا۔ بھئی حذف کیوں ہوتا ہے؟ فَلِلِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ احتراز کرنے کے لیے عبث سے بِنَاءً عَلَى الظَّاهِرِ۔ بھئی عبث سے بچنا یہ بنا بر ظاہر کے ہوتا ہے؛ ظاہرِ حال کے اعتبار سے اس کا ذکر کرنا کیا ہوتا ہے؟ عبث، ورنہ تو دراصل وہ کلام کا رکن ہے اس کے بغیر کلام پورا ہو گا نہیں، لیکن ظاہرِ حال کے اعتبار سے اس کا ذکر کرنا عبث اس لیے کہ وہ پہلے سے متعین ہے یا اس پر قرینہ موجود ہے؛ جب قرینہ موجود ہے وہ قرینہ اس کے بارے میں ہمیں بتلا دے گا تو اب اس کو ذکر کرنا بیکار ہے تو لہٰذا اس کو ذکر نہیں۔ تو اس کا عبث ہونا جو ہے مولانا بِنَاءً عَلَى الظَّاهِرِ بنا بر ظاہر کے ہے کیوں؟ لِدَلَالَةِ الْقَرِينَةِ عَلَيْهِ اس لیے کہ قرینہ کیا کر رہا ہے اس پر دلالت کر رہا ہے وَإِنْ كَانَ فِي الْحَقِيقَةِ رُكْنًا مِّنَ الْكَلَامِ اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے کلام کا رکن ہے اس کا ذکر عبث نہیں۔ أَوْ تَخْيِيلِ الْعُدُولِ إِلٰى أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ یا مولانا آپ خیال میں ڈالتے ہیں کیا؟ الْعُدُولِ إِلٰى أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ عدول کرنا کس کی طرف؟ دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی دلیل کی طرف عدول کرنے کا خیال ڈالتے ہیں مخاطب کے ذہن میں۔ وہ دو دلیلیں کون سی ہیں؟ کہتے ہیں مِنَ الْعَقْلِ وَاللَّفْظِ یعنی کہ عقل اور لفظ۔ یاد رکھو یہ مِنْ بیان ہے دَلِيلَيْنِ کا؛ وہ دو دلیلیں کون سی ہیں؟ عقل اور لفظ۔ سمجھ میں آیا؟ یہاں پر ورنہ کوئی اعتراض نہ کر دے کہ اسمِ تفضیل آیا أَقْوٰى اور اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں: یا مولانا اضافت کے ساتھ آئے گا یا مِنْ کے ساتھ یا الف لام کے ساتھ، اور یہاں أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ اضافت کے ساتھ بھی ہے اور مِنَ الْعَقْلِ وَاللَّفْظِ اور مِنْ بھی آ رہا ہے، تو اضافت بھی ہوئی اور مِنْ بھی آیا تو دو طریقے اکٹھے ہو گئے یہ تو۔ تو جواب میں نے بتلا دیا کہ یہ مِنْ أَقْوٰى کا صلہ نہیں ہے بلکہ یہ تو بیان ہے کس کا؟ دَلِيلَيْنِ کا، تو یہ اضافت کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے أَقْوٰى بھئی اور مِنْ کا اس سے تعلق نہیں بھئی۔ فَإِنَّ الِاعْتِمَادَ عِنْدَ الذِّكْرِ عَلٰى دَلَالَةِ اللَّفْظِ، تو آپ مخاطب کے خیال میں ڈالتے ہیں کہ میں عدول کر رہا ہوں دو دلیلوں میں سے کس کی طرف؟ زیادہ قوی دلیل کی طرف اور وہ کون سی زیادہ قوی دلیل ہے؟ عقل، تو اس لیے کہ اعتماد عِنْدَ الذِّكْرِ ذکر کے وقت عَلٰى دَلَالَةِ اللَّفْظِ کس کی دلالت پر ہو گا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ جب میں نے ذکر کر دیا مسند الیہ کو تو کس کی دلالت پر میں نے اعتماد کیا لفظ کی دلالت پر یا عقل کی دلالت پر؟ جی جب میں نے ذکر کیا زَيْدٌ قَائِمٌ اب کس پہ اعتماد کیا؟ لفظ کی دلالت پر اعتماد کیا۔ آگے دیکھیے وَعِنْدَ الْحَذْفِ عَلٰى دَلَالَةِ الْعَقْلِ اور حذف کے وقت کس پر اعتماد ہو گا؟ عقل کی دلالت پر وَهُوَ أَقْوٰى اور وہ زیادہ قوی ہے۔ درمیان میں کہا تھا مِنْ حَيْثُ الظَّاهِرِ کہ ذکر کے وقت کس پر اعتماد ہے مولانا؟ بھئی زَيْدٌ قَائِمٌ میں نے کس پر اعتماد کیا؟ لفظ کی دلالت پر، کہتے ہیں مِنْ حَيْثُ الظَّاهِرِ یہ جو لفظ کی دلالت پر اعتماد ہے یہ ظاہر کے اعتبار سے ہے کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ زید لفظ نے دلالت کی کس پر؟ ذاتِ زید پر، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ لفظ کی دلالت۔ تو کہتے ہیں یہ بنا بر ظاہر کے ہے ورنہ یہاں پر بھی عقل کی دلالت ہے بھئی؛ عقل ہو گی تو یہ لفظ ذاتِ زید پر دلالت کرے گا، بغیر واسطہ عقل کے بھی یہ لفظ ذاتِ زید پر دلالت نہیں، تو یہ بنا بر ظاہر کے ہے۔ تو کہتے ہیں عقل کی دلالت وہ زیادہ قوی ہے لِافْتِقَارِ اللَّفْظِ إِلَيْهِ اس لیے کہ لفظ کیا ہے اس کا محتاج ہے بھئی؛ لفظ میں اس کی کیا احتیاج پیش آتی ہے بھئی، لفظ بغیر عقل کے دلالت کر سکتا ہے بھئی؟ نہیں۔ وَإِنَّمَا قَالَ تَخْيِيلِ، بھئی مصنف نے کہا تَخْيِيلِ الْعُدُولِ عدول کرنے کا خیال ذہن میں ڈالتا ہے، بھئی تَخْيِيلِ کہنے کی کیا ضرورت ہے سیدھی طرح یہ کہہ دیں أَوِ الْعُدُولِ إِلٰى أَقْوَى الدَّلِيلَيْنِ یا کس لیے کبھی کبھار مسند الیہ کو حذف کرتے ہیں کہ عدول کرنا چاہتے ہیں آپ کس کی طرف؟ دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی، تو تَخْيِيلِ کا لفظ ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے خیال میں ڈالنا؟ کہتے ہیں بھئی خیال میں ڈالنا اس لیے کہا کہ حقیقتاً آپ نے کیا کہا جب ذکر کیا جائے تو دلالت کس کی؟ لفظ کی، اور جب حذف کیا جائے تو دلالت کس کی؟ عقل کی، کہتے ہیں بھئی جب حذف کیا جائے تب بھی دلالت لفظ ہی کی ہے۔ تب بھی دلالت کس کی ہے؟ لفظ کی؛ بھئی آپ نے کہا هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ کیا زید کھڑا ہے؟ میں نے کہا قَائِمٌ۔ تو مولانا یہاں پر قَائِمٌ کے لیے مسند الیہ کون؟ زَيْدٌ، اور وہ زَيْدٌ آپ کو کہاں سے پتہ چلا؟ ما قبل کے کلام سے، عقل نے آپ کو بتلا دیا کہ یہاں مسند الیہ کون؟ زید ہے، اور پھر اس زید لفظ نے دلالت کر دی کس پر؟ ذاتِ زید پر اور اس کے لیے کیا ثابت کر دیا؟ قیام کو۔ تو لفظ کو جب حذف کر دیا جائے پھر آپ نے کہا دلالت عقل کی ہے، کہتے ہیں بھئی اس وقت بھی لفظ ہی کی دلالت ہے لیکن کس کے واسطے سے ہے؟ عقل کے واسطے سے۔ سمجھ میں آیا؟ تو جب ذکر کریں تب بھی لفظ کی دلالت جب حذف کریں تب بھی لفظ کی دلالت، اسی لیے کہا خیال میں ڈالتا ہے حقیقتاً ایسا نہیں۔ وَإِنَّمَا قَالَ تَخْيِيلِ ماتن نے تَخْيِيلِ کہا لِأَنَّ الدَّالَّ حَقِيقَةً اس لیے کہ دلالت کرنے والا حقیقتاً عِنْدَ الْحَذْفِ أَيْضًا هُوَ اللَّفْظُ حذف کے وقت بھی حقیقتاً وہ کیا ہے؟ لفظ ہی ہے دلالت کرنے والا اَلْمَدْلُولُ عَلَيْهِ بِالْقَرَائِنِ جس پر دلالت کی گئی ہے کس کے ساتھ بھئی؟ قرائن کے ساتھ دلالت کی گئی ہے۔ بھئی میں نے کہا قَائِمٌ یہ زید کو میں نے کیوں حذف کیا؟ قرینہ موجود تھا؛ اس قرینے نے دلالت کر دی کہ یہاں قَائِمٌ سے پہلے کون سا لفظ موجود ہے؟ زید، اور اس زید نے پھر دلالت کر دی کس پر؟ ذاتِ زید پر، تو یہاں پر بھی اگرچہ لفظ عبارت میں نہیں لیکن عقل لے آئی اس کو اور لفظ ہی نے دلالت کر دی بھئی۔ كَقَوْلِهٖ جیسے شاعر کا کہنا: قَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ مجھے کہا اس نے کیسے ہو؟ قُلْتُ عَلِيلُ أَيْ أَنَا عَلِيلٌ۔ لَمْ يَقُلْ أَنَا عَلِيلُ شاعر نے أَنَا عَلِيلُ نہیں کہا لِلِاحْتِرَازِ وَالتَّخْيِيلِ الْمَذْكُورَيْنِ ان دو وجوہات کی بنا پر: احتراز عن العبث کی وجہ سے اور تخیل کی وجہ سے اَلْمَذْكُورَيْنِ یہ دو چیزیں جو ذکر ہوئیں بھئی۔ أَوِ اخْتِبَارِ تَنَبُّهِ السَّامِعِ عِنْدَ الْقَرِينَةِ یا مولانا کبھی کبھار مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے، اخْتِبَارٌ کا معنی جانچنا پرکھنا امتحان لینا، تَنَبُّهٌ کا معنی سمجھ بیداری؛ یا سامع کی بیداری کا امتحان لینے کے لیے عِنْدَ الْقَرِينَةِ جب قرینہ پایا جائے کہ هَلْ يَتَنَبَّهُ أَمْ لَا کہ یہ سمجھتا ہے بات کو یا نہیں سمجھتا، تو اس لیے مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے۔ أَوِ اخْتِبَارِ مِقْدَارِ تَنَبُّهِهٖ یا اس کے سمجھ کی مقدار کو جانچنے کے لیے کہ هَلْ يَتَنَبَّهُ بِالْقَرَائِنِ الْخَفِيَّةِ أَمْ لَا کہ وہ قرائنِ خفیہ کو سمجھتا ہے یا قرائنِ خفیہ کو نہیں سمجھتا۔ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
109 approved lectures · 37 of 109