Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 29 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مسند الیہ کی تقدیم کے نکات چل رہے ہیں۔ سب سے پہلے اپ کو بتلایا انہوں نے کہ مسند الیہ کو کبھی مقدم کیا جاتا ہے اس لیے کہ اس کا ذکر اہم ہوتا ہے۔ اور اہم کیوں ہوتا ہے اس کی کئی اسباب ذکر کیے بھئی۔ پھر اس کے بعد شیخ عبد القاہر کے بارے میں بتلایا کہ وہ فرماتے ہیں کہ مسند الیہ کی تقدیم تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ کب جب کہ مسند الیہ کو کس پر مقدم کیا جائے خبر فعلی پر مقدم کیا جائے۔ لیکن ایک شرط وہ لگاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ مسند الیہ کے ساتھ حرف نفی ملا ہوا ہو، یعنی حرف نفی اس پر مقدم ہو۔ جیسے "مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا" تو یہاں تخصیص ائی اور تخصیص کا کیا معنی ہے اگر اثبات ہو مذکور کے لیے تو سلب ہو غیر سے اور اگر سلب ہو مذکور سے تو اثبات ہو غیر کے لیے۔ تو "مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا" یہاں مذکور سے نفی ہے حرف نفی ایا تو غیر کے لیے کیا ہوگا؟ معنی یہ ہوگا کہ میں نے تو یہ قول نہیں کیا لیکن میرے غیر نے یہ قول کیا ہے۔ اور یہ اگر مولانا یہ بھی میں نے اپ کو بتلایا کہ اگر اثبات "عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ" ہو یا یوں کہیں کہ سلب اگر "عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ" ہو تو اثبات بھی "عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ" ہوگا اور اگر سلب "عَلَى سَبِيلِ الْخُصُوصِ" ہو تو اثبات بھی "عَلَى سَبِيلِ الْخُصُوصِ" ہوگا۔ یہ خصوص تو یہ معمول کے اعتبار سے ہے یعنی معمول خاص کی نفی کریں گے اگر اپ مذکور سے تو وہی معمول خاص ثابت ہو جائے گا کس کے لیے غیر کے لیے اور اگر معمول عام کی نفی کرتے ہیں اپ مذکور سے تو یہی معمول عام ثابت ہو جائے گا غیر کے لیے۔ تو یہاں پر خاص قول کی نفی کی تو غیر کے لیے بھی وہی خاص قول ثابت ہوگا بھئی۔ تو میں نے اور پھر میں نے اپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ ایک ہے منطوق کلام اور ایک ہے مفہوم کلام۔ منطوق کلام وہ ہے جو کلام کو سنتے ہی فورا ظاہری معنی سمجھ میں اجائیں وہ کیا کہلاتا ہے منطوق کلام اور ایک ہے مفہوم کلام وہ کلام کا وہ معنی جو غور و فکر کے بعد سمجھ میں ائے۔ تو منطوق بھی کلام کا معنی ہے مفہوم بھی کلام کا معنی ہے لیکن منطوق وہ جو فوری طور پر سمجھ میں اجائے اور مفہوم جو ذرا غور و فکر کے بعد سمجھ میں ائے بھئی۔ تو "مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا" اس کا منطوق کیا ہے کہ اپ نے یہ قول نہیں کیا، لیکن مفہوم اس کا کیا ہے کہ غیر نے اپ یہ قول کیا ہے کیونکہ یہاں تخصیص ہے بھئی۔ چنانچہ اسی وجہ سے کہا کہ یہ ترکیب صحیح نہیں "مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا وَلَا غَيْرِي" میں نے یہ میں نے تو نہیں کہا اور نہ غیر نے کہا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ "مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا" اس کا منطوق تو کیا ہے کہ میں نے یہ قول نہیں کیا، لیکن مفہوم اس کا کیا ہے کہ غیر نے قول کیا ہے کیونکہ تخصیص ائی اور تخصیص کس چیز کا نام تھا بھئی کہ اگر سلب مذکور سے ہو تو اثبات ہو غیر کے لیے۔ تو اس کا مفہوم یہ ہوا کہ غیر نے یہ کلام کیا ہے اور "وَلَا غَيْرِي" بتلا رہا ہے کہ غیر نے یہ کلام نہیں کیا۔ تو ابتدائے کلام اور انتہائے کلام کے اندر تناقض اگیا، لہذا یہ ترکیب صحیح نہیں۔ اسی طرح بتلایا تھا یہ ترکیب بھی صحیح نہیں "مَا أَنَا رَأَيْتُ أَحَدًا" میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ تو یہاں پر دیکھیے میں نے بتلایا تھا کہ اگر سلب اگر "عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ" ہو تو اثبات بھی کیا ہوگا "عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ" ہوگا۔ تو یہاں پر جو مذکور سے ہر ایک کی رؤیت کی نفی ہوئی تو غیر کے لیے ہر ایک کی رؤیت کا کیا ہوگا اثبات ہوگا اور یہ تو ممکن نہیں بھئی ممکن نہیں۔ "وَلَا أَنَا ضَرَبْتُ إِلَّا زَيْدًا" اور یہ ترکیب بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ اس کا کیا معنی ہے کہ اپ نے عدم ضرب کی تخصیص کر دی کس کے ساتھ زید کے... میں نے زید کی پٹائی نہیں کسی ایک کی پٹائی کی ہے ہاں کسی ایک کی پٹائی نہیں کی سوائے کس کے زید کے۔ تو اپ نے زید کے علاوہ ہر ایک سے پٹائی کی نفی کر دی اور یہاں ہے تخصیص اور تخصیص کس کو کہتے ہیں بھئی کہ غیر سے کہ مذکور سے سلب ہو تو غیر کے لیے کیا ہو اثبات ہو تو اپ نے جو اپنے اپ سے ہر ایک کی پٹائی کی نفی کی تو غیر کے لیے زید کے علاوہ ہر ایک کی پٹائی کا کیا ہوا اثبات ہوا اور یہ ممکن نہیں، لہذا یہ ترکیب بھی صحیح نہیں۔ یہ کس وقت بھئی شیخ عبد القاہر نے فرمایا تھا کس وقت تخصیص ائے گی جب کہ مسند الیہ کو مقدم کیا جائے خبر فعلی پر بشرطیکہ اس کے ساتھ کیا ملا ہوا ہو حرف نفی۔ اور اگر ایسا نہ ہو۔ پھر اس کی دو صورتیں بنتی تھیں کہ یعنی سرے سے حرف نفی ہی نہ ہو یا حرف نفی تو ہو لیکن مسند الیہ کے بعد ا رہا ہو بھئی۔ تو دو صورتیں ا گئیں اس میں بھئی، انہوں نے کیا کہا اگر ایسا نہ ہو۔ ایک صورت یہ کہ سرے سے حرف نفی ہی نہ ہو یا حرف نفی تو ہے لیکن مسند الیہ کے بعد ہے بھئی۔ تو وہ صورت جس میں سرے سے حرف نفی ہی نہ ہو مولانا وہ بھی ہم نے پڑھ لیا تھا گزشتہ سبق میں، تو کہتے ہیں اس صورت میں کبھی کبھار تقدیم تخصیص کے لیے ائے گی اور کبھی کبھار تقدیم تقویت حکم کے لیے، تاکید کے لیے ائے گی بھئی۔ مثلا اپ کہتے ہیں "أَنَا سَعَيْتُ فِي حَاجَتِكَ" تو دیکھیے یہاں حرف نفی سرے سے ہے ہی نہیں تو یہاں یہ تخصیص کا بھی احتمال ہے اور تقویت حکم کا بھی بھئی۔ تو یہ تخصیص کی مثال، میں نے ہی اپ کی حاجت میں کوشش کی تو یہ قصر قلب کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور قصر افراد کے لیے بھی۔ مثلا مخاطب اپ کے ساتھ زید کو بھی شریک سمجھ رہا تھا اس فعل کے اس فعل میں بھئی، تو اپ کہتے ہیں "أَنَا سَعَيْتُ فِي حَاجَتِكَ" تو اپ نے شرکت کی کیا کر دی اس کے ذریعے نفی کر دی کہ میں نے ہی کوشش کی ہے اپ کی حاجت کے اندر تو یہ کیا ہوا قصر افراد اور قصر افراد کی صورت میں کہتے ہیں اس کی تاکید جو ہے "وَحْدِي" وغیرہ جیسے الفاظ کے ساتھ لائی جائے گی بھئی۔ کس کے ساتھ؟ "وَحْدِي" کیونکہ "وَحْدِي" صراحتا کس چیز پر دلالت کر رہا ہے شرکت کی، میں نے اکیلے نے کیا ہے تو یہ شرکت کی نفی کر رہا ہے بھئی، صورت سمجھ میں ائی؟ اور "أَنَا سَعَيْتُ فِي حَاجَتِكَ" یہ قصر قلب کے لیے بھی ا سکتا ہے کہ مخاطب سمجھ رہا تھا غیر کے ساتھ یہ فعل خاص ہے اپ نے اس فعل کو کس کے لیے خاص کر دیا متکلم نے اپنے لیے خاص کر دیا تو یہ کیا ہوا قصر قلب اور قصر قلب کی صورت میں اس کی تاکید کس کے ساتھ لائی جائے گی "لَا غَيْرِي" جیسے الفاظ کے ساتھ بھئی، کیونکہ یہ صراحتا اس شبہے کو دور کر رہا ہے کہ فعل کو کسی اور نے سرانجام دیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ میں نے کیا ہے "لَا غَيْرِي" میرے غیر نے نہیں تو صراحتا غیر سے فعل کے صدور کی نفی کر دی بھئی۔ اور کبھی کبھی یہ تقویت حکم کا فائدہ دے گا جیسے "هُوَ يُعْطِي الْجَزِيلَ" "الْجَزِيلَ" کا معنی بہت زیادہ، "أَيْ هُوَ يُعْطِي الْمَالَ الْجَزِيلَ" وہ بہت زیادہ مال عطا کرنے والا ہے۔ اب یہاں دیکھیے حرف نفی نہیں ملا ہوا اور حرف نفی ہو ہی نہ سرے سے تو اس صورت میں کبھی تخصیص ائے گی اور کبھی تقویت ائے گی۔ تخصیص کی مثال گزر گئی یہ تقویت کی مثال ہے بھئی۔ یہاں تقویت حکم ہے مولانا، اس لیے کہ اسناد دو مرتبہ ایا اور جب ایک چیز دو مرتبہ ائے تو اس میں کیا پیدا ہو جاتی ہے قوت پیدا ہو جاتی ہے بھئی۔ تو ترکیب اصل میں یوں ہے دیکھیے "هُوَ يُعْطِي الْجَزِيلَ"، "هُوَ" مبتدا ہے بھئی، "يُعْطِي" فعل، فعل اور "هُوَ" ضمیر اس "يُعْطِي" کے اندر فاعل، "الْجَزِيلَ" مفعول، فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر پھر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ "هُوَ" کے لیے۔ تو پہلے "يُعْطِي" کا ایک مرتبہ اسناد کس کی طرف ہوا تھا فاعل کی ضمیر کی طرف اور پھر پورے جملے کا اسناد کس کی طرف ہوا مبتدا کی طرف تو دو اسناد ا گئے اور اسناد، اسناد یہی حکم ہے۔ اسناد کیا ہے تو حکم دو مرتبہ ا گیا تو تقویت ا گئی بھئی۔ یہ کتنی صورتیں بنی تھیں بھئی انہوں نے کہا شرط کیا لگائی تھی انہوں نے کہ اگر حرف نفی مسند الیہ کے ساتھ ملا ہوا ہو تو پھر یہ کس چیز کا فائدہ دے گا تخصیص کا۔ اور اگر حرف نفی کے مسند الیہ کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو، اس کی کتنی صورتیں تھیں؟ دو، یا تو سرے سے حرف نفی ہی، یا حرف نفی ہے تو لیکن مسند الیہ کے بعد میں ا رہا ہے۔ اب وہ صورتیں بیان کرنے لگے ہیں، "وَكَذَا إِذَا كَانَ الْفِعْلُ مَنْفِيًّا" اور اسی طرح ہے جب فعل کیا ہو منفی ہو، یعنی جب فعل پر حرف نفی ا تو رہا ہے لیکن کس پر داخل ہو رہا ہے اس خبر فعلی پر داخل ہو رہا ہے مسند الیہ کے ساتھ نہیں ملا ہوا، تو اس صورت میں بھی کبھی یہ تقوی کے لیے ائے گا اور کبھی کس کے لیے ائے گا تخصیص کا فائدہ دے گا۔ "فَقَدْ يَأْتِي التَّقْدِيمُ لِلتَّخْصِيصِ" تو کبھی تقدیم کس لیے اتی ہے تخصیص کے لیے "وَقَدْ يَأْتِي لِلتَّقَوِّي" اور کبھی کس لیے ایا کرتی ہے تقوی کے لیے بھئی۔ اب دیکھیے ماتن اگے بیان کریں گے تقوی کی مثال تو ذکر کی جیسے "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" تو دیکھیے یہاں پر مسند الیہ پر کے ساتھ حرف نفی نہیں ملا ہوا بلکہ کس کے ساتھ ملا ہوا ہے؟ مسند خبر کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ تو اس صورت میں یہ تقوی کے لیے بھی اتا ہے اور تخصیص کے لیے بھی۔ تو یہ تقوی کی مثال بنائی انہوں نے، تخصیص کی مثال صراحتا نہیں ذکر کی وہ اب علامہ تفتازانی اپ کو پہلے ہی بتلانے لگے ہیں۔ "فَالْأَوَّلُ نَحْوُ: أَنْتَ مَا سَعَيْتَ فِي حَاجَتِي" "أَنْتَ مَا سَعَيْتَ فِي حَاجَتِي" تو دیکھیے حرف نفی کس پر داخل ہو رہا ہے خبر فعلی پر داخل ہو رہا ہے اور یہ کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے یہاں پر تخصیص کا، پہلے کی مثال ہے نا اور پہلی کیا ذکر کیا تخصیص کو اور ثانیا تقوی کو۔ تخصیص "أَنْتَ مَا سَعَيْتَ فِي حَاجَتِي" تو نے ہی میری حاجت میں کوشش نہیں کی۔ تو نے ہی میری حاجت میں کوشش نہیں کی ارادہ کرتے ہوئے تخصیص مسند الیہ کا کس کے ساتھ عدم سعی، یعنی عدم سعی کو بند کر دیا کس کے اندر مولانا مسند الیہ کے اندر بھئی، کس کے اندر بند کر دیا مسند الیہ کے اندر بھئی کہ تو نے ہی میری حاجت میں کوشش نہیں کی۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہ دیکھو حرف نفی مؤخر ایا اور اس نے تخصیص کا فائدہ دیا۔ اور پھر اپ تخصیص دو طری، قصر افراد بھی ہو سکتا ہے اور قصر اگر غیر شرکت کا قائل تھا تو پھر یہ کیا بن جائے گا قصر افراد اور اگر غیر کیا تھا اس فعل کے غیر دوسرے کے ساتھ مخاطب اگر غیر کے ساتھ تخصیص کر رہا تھا تو پھر یہ کیا ائے گا قصر قلب ہو جائے گا بھئی۔ اور دوسری مثال بھئی وثانی سے کیا مراد ہے بھئی جی؟ کبھی تقوی کے لیے ائے گا جیسے "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" تو کہتے ہیں "وَهُوَ لِتَقَوِّي الْحُكْمِ الْمَنْفِيِّ" یہ کس لیے ایا حکم منفی کی تقوی کے لیے ایا ہے "وَتَقْرِيرِهِ" اور اس کو کی تقریر اس کو پختہ کرنے کے لیے ایا ہے۔ کیوں؟ یہاں پر اسناد دو مرتبہ ہے مولانا۔ "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" ترکیب سنیے بھئی۔ "أَنْتَ" مبتدا "لَا تَكْذِبُ" فعل "أَنْتَ" ضمیر اس کے اندر فاعل فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ پھر خبر ہوئی کس کے لیے؟ تو دیکھو "لَا تَكْذِبُ" کا ایک مرتبہ اسناد فاعل کی طرف ہوا اور پھر دوسری مرتبہ اس کا اسناد کس کی طرف ہوا مبتدا کی طرف تو دو مرتبہ اسناد ایا تو جس کی وجہ سے حکم کیا ہو گیا پختہ ہو گیا۔ اگے اپ تو دیکھیے یہاں تین قسم کے جملے ہیں بھئی۔ ایک ہے "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" اس میں تقویہ حکم ہے اس لیے کہ اسناد کتنی مرتبہ ا رہا ہے دو مرتبہ۔ اور ایک ہے "لَا تَكْذِبُ" صرف "لَا تَكْذِبُ" اس کے اندر مولانا اسناد کتنی مرتبہ ہے؟ ایک ہی مرتبہ ہے "لَا تَكْذِبُ" فعل "أَنْتَ" ضمیر اس کے اندر فاعل سے مل کر پھر یہ جملہ فعلیہ ہوا تو ایک ہی مرتبہ اسناد ایا۔ اور ایک تیسری صورت یہ ہے "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" "أَنْتَ" کیا ہے مؤخر ہے بھئی۔ اس صورت میں کیا ترکیب ہوگی؟ "لَا تَكْذِبُ" فعل "أَنْتَ" ضمیر اس کے اندر مؤکد اور اگے "أَنْتَ" ضمیر اس کی تاکید، مؤکد تاکید مل کر کیا بن رہے ہیں "لَا تَكْذِبُ" کے لیے فاعل بنے بھئی، صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ تو یہاں پر بھی اسناد ایک مرتبہ ایا۔ کتنی مرتبہ ایا؟ "لَا تَكْذِبُ" فعل "أَنْتَ" ضمیر مؤکد اس کے اندر اور اگے "أَنْتَ" ضمیر منفصل ہے وہ اس کی تاکید تو مؤکد تاکید مل کر فاعل تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ تو ایک ہی مرتبہ اسناد ایا بھئی ایک ہی مرتبہ۔ تو مصنف کہتے ہیں تین جملے ہیں "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" اس کے اندر اسناد دو مرتبہ ہے۔ اور ایک ہے "لَا تَكْذِبُ" اس کے اندر اسناد ایک مرتبہ ہے۔ "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" اس کے اندر بھی اسناد ایک مرتبہ ہے۔ لہذا کہتے ہیں یہ تینوں جملے نفی کذب کے لیے اتے ہیں لیکن سب سے زیادہ نفی کذب کس کے اندر ہے؟ "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" کے اندر ہے، کس میں ہے؟ "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" کے اندر، کیوں؟ کیونکہ اس کے اندر اسناد کتنی مرتبہ ا رہا ہے؟ دو مرتبہ ا رہا ہے بھئی۔ "فَإِنَّهُ أَشَدُّ لِنَفْيِ الْكَذِبِ مِنْ لَا تَكْذِبُ" اس لیے کہ یہ زیادہ اشد ہے نفی کذب میں کس سے "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" سے، یعنی "أَنَّهُ أَشَدُّ لِنَفْيِ الْكَذِبِ" یعنی وہ "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" زیادہ اشد ہے نفی کذب میں کس سے زیادہ اشد ہے "مِنْ لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" سے، کیوں؟ "لِمَا فِيهِ" بوجہ اس کے جو اس کے اندر ہے، کیا ہے بھئی؟ "مِنْ تَكْرَارِ الْإِسْنَادِ الْمَفْقُودِ فِي لَا تَكْذِبُ" یعنی اسناد کا تکرار وہ اسناد "الْمَفْقُودِ فِي لَا تَكْذِبُ" جو "لَا تَكْذِبُ" کے اندر کیا ہے؟ مفقود ہے۔ بھئی وہ تکرار اسناد جو کیا ہے "لَا تَكْذِبُ" کے اندر کیا ہے مفقود ہے، تو وہ تکرار اسناد مفقود ہے "لَا تَكْذِبُ" کے اندر۔ "وَاقْتَصَرَ الْمُصَنِّفُ عَلَى مِثَالِ التَّقَوِّي" بھئی میں نے اپ کو پہلے بتلایا تھا کہ ماتن نے "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" کے ذریعے تقوی کی مثال ذکر کی مولانا اور تخصیص کی مثال ذکر، حالانکہ یہ کبھی فعل منفی تخصیص کے لیے بھی اتا ہے اور کبھی تقوی کے لیے۔ بھئی ایسا کیوں کیا؟ مصنف علامہ تفتازانی اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں اس لیے کہ مصنف کا ارادہ یہ تھا کہ اپ کو فرق بتلا دیں کہ ایک ہوتا ہے ایک ہے تاکید حکم اور ایک ہے تاکید مسند الیہ دونوں کے درمیان فرق ہے بھئی۔ ایک کس چیز کی تاکید ہے؟ حکم کی تاکید ہے اور ایک مسند الیہ کی تاکید ہے دیکھیے میں نے کہا "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" اس کے اندر کس کی تاکید ہے؟ حکم کی بھئی کیونکہ دو مرتبہ کیا ا رہا ہے اسناد دو مرتبہ ایا تو اس میں حکم کی تاکید ہے۔ اور میں کہتا ہوں "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" اس کے اندر کس کی تاکید ہے بھئی؟ مسند الیہ کی تاکید ہے، مسند الیہ دو مرتبہ ا رہا ہے، خبر حکم تو کتنی مرتبہ ہے؟ اسناد تو ایک ہی ہے۔ تو ایک ہے "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" اس کے اندر اسناد دو مرتبہ ہے لہذا یہ تاکید اسناد کے لیے ایا تاکید حکم کے لیے اور ایک ہے "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" جب "أَنْتَ" مؤخر ہو، یہ مسند الیہ کی تاکید کے لیے ایا ہے حکم کی تاکید کے لیے نہیں ایا۔ تو دونوں میں فرق بیان کرنا مقصد تھا اس لیے مصنف نے تقویت کی مثال ذکر کی تخصیص کی مثال ذکر نہیں کی۔ "وَاقْتَصَرَ الْمُصَنِّفُ عَلَى مِثَالِ التَّقَوِّي" اور اکتفاء کیا مصنف نے تقوی کی مثال پر "لِيُفَرِّعَ عَلَيْهِ التَّفْرِقَةَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ تَأْكِيدِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ" تاکہ تفریع کریں اسی پر کس چیز کی تفریق کریں "التَّفْرِقَةَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ تَأْكِيدِ الْحُكْمِ وَبَيْنَ تَأْكِيدِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ" تاکہ مسند الیہ کی تاکید اور مسند اور خبر حکم کی تاکید کے درمیان کیا کر دیں تفریق کر دیں مولانا دونوں کو جدا جدا کر دیں بتلا دیں اپ کو دونوں کے بارے میں۔ "كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ بِقَوْلِهِ" جیسے کہ اشارہ کیا انہوں نے اپنے اس قول کے ساتھ "وَكَذَا مِنْ لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" اور اسی طرح "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" اشد ہے نفی کذب میں کس سے "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" سے، یعنی "أَنَّهُ أَشَدُّ لِنَفْيِ الْكَذِبِ" یعنی وہ "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" زیادہ اشد ہے نفی کذب میں کس سے زیادہ اشد ہے "مِنْ لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" سے۔ "مَعَ أَنَّ فِيهِ تَأْكِيدًا" باوجود اس کے کہ اس میں کیا ہے؟ اس کے اندر تاکید ہے، اس میں بھی تاکید ہے، اس میں بھی تاکید ہے، لیکن نفی کذب کس میں زیادہ ہے؟ "أَنْتَ لَا تَكْذِبُ" میں، اس لیے کہ اس میں حکم کی تاکید ہے اور اس میں مسند الیہ کی تاکید ہے اور دونوں میں فرق ہے بھئی۔ تو اس سے مسند الیہ تو پختہ ہوا حکم کے اندر کوئی پختگی نہیں ائی بھئی۔ "لِأَنَّهُ أَيْ لِأَنَّ لَفْظَ أَنْتَ" ہا ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں کہ ہا ضمیر کس کو راجع؟ لفظ انت کو راجع ہے۔ "أَوْ لِأَنَّ لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" یا مولانا یا ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" بھئی اس قول کو راجع ہے، اس کلام کو راجع ہے، صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ تو یہاں کیوں "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" اس کے کیونکہ اس کے اندر بھی "أَنْتَ" موجود ہے، کیا موجود ہے؟ "أَنْتَ" موجود۔ تو راجع انت ہی کو کرنی ہے چاہے صراحتا لفظ کو کر دیں یا قول کی طرف جس کے اندر کیا ا رہا ہے لفظ انت ا رہا ہے۔ اس لیے کہ لفظ انت اس جملے کے اندر بھئی "لِتَأْكِيدِ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ" یہ کس کی تاکید کے لیے ایا ہے؟ "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" کے اندر محکوم علیہ کی تاکید کے لیے ایا ہے۔ نیچے متن دیکھیے "لَا لِتَأْكِيدِ الْحُكْمِ" تاکید حکم کے لیے نہیں ایا بھئی۔ اپ نے تاکید کے نکات بھی پڑھے تھے۔ "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" یہ "أَنْتَ" کیا ہے مولانا مسند الیہ کی تاکید ہے۔ "لَا تَكْذِبُ" فعل ہے "أَنْتَ" ضمیر اس کے اندر مؤکد اور اگے "أَنْتَ" ضمیر منفصل جو ا رہی ہے وہ اس کی تاکید، تو مؤکد تاکید مل کر "لَا تَكْذِبُ" کے لیے فاعل۔ تو اپ نے پڑھا بھئی چند دن پہلے ہی سبق گزرا کہ مسند الیہ کی کبھی تاکید لائی جاتی ہے، اس کے کیا نکات پڑھے تھے اپ نے؟ تاکید مسند الیہ کی کیوں لائی جاتی ہے؟ تاکہ مجاز کے وہم کو دور کیا جائے۔ میں نے کہا "جَاءَنِي أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ" میرے پاس کون تشریف لائے ہیں؟ امیر المؤمنین تشریف لائے، اپ نے گمان کیا کہ بھئی امیر المؤمنین سے امیر المؤمنین ہی نہیں مراد ہوں گے، انہوں نے اپنا کوئی خاص ادمی بھیج دیا لیکن جب وہ خاص ادمی کو بھیج دیا تو کہنے والا اسی کو یوں تعبیر کر رہا ہے گویا وہ خود ہی میرے پاس کیا ہیں تشریف لائے ہیں۔ تو میں پھر اگے تاکید لاتا ہوں "أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ"، "جَاءَنِي أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ" بھئی۔ تو دیکھو اپ کیا سمجھ رہے تھے کہ یہ حکم کی نسبت امیر المؤمنین کی طرح حقیقتا نہیں ہو رہی بلکہ کیا ہے مجازا ہو رہی ہے۔ میں نے جب دوبارہ امیر المؤمنین کا لفظ ذکر کیا اور تاکید لے کر ایا تو اس سے کیا ہوا مسند الیہ پکا ہو گیا کہ میری مراد امیر المؤمنین سے امیر المؤمنین ہی ہیں حقیقی معنی مراد ہے، مجازی معنی مراد نہیں۔ تو تاکید اتی ہے کبھی مجاز کے وہم کو دور کرنے کے لیے۔ یا کبھی تاکید اتی ہے غلطی کے وہم کو دور کرنے کے لیے۔ میں نے کہا "جَاءَنِي زَيْدٌ" میرے پاس زید ایا پھر میں فورا اس کی تاکید لاتا ہوں "زَيْدٌ" دو مرتبہ زید کہتا ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ کہیں سننے والا یہ نہ سمجھے کہ میرے منہ سے غلطی سے زید کا لفظ نکلا ہے میں کہنا تو عمرو چاہتا تھا "جَاءَنِي عَمْرٌو" لیکن غلطی سے میں نے کیا کہہ دیا ہے زید۔ تو جب میں نے کہا "جَاءَنِي زَيْدٌ زَيْدٌ" دو مرتبہ کہا اب بات پکی ہو گئی کہ میں نے غلطی ادائی لفظ کی ادائیگی میں کوئی غلطی تو تاکید کبھی مولانا غلطی کے وہم کو دور کرتی ہے۔ اور کبھی مولانا عدم شمول کے وہم کو دور کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں "جَاءَنِي الْقَوْمُ" میرے پاس کون ائے؟ قوم ائی بھئی فلاں جماعت ائی۔ تو اب اپ نے اپ کا خیال تھا وہم ہو سکتا تھا اپ کو کہ ہو سکتا ہے سارے نہ ائے ہوں، لیکن اکثر ائے ہوں لیکن اکثر ائے تو ان کو کس سے تعبیر کر دیا کل کے ساتھ تعبیر کر دیا۔ تو میں اگے "كُلُّهُمْ" تاکید لے کر اتا ہوں۔ یہ تاکید بتلاتی ہے کہ یہاں قوم سے اکثر قوم نہیں مراد بلکہ کل کے کل قوم مراد ہے بھئی۔ تو تاکید لائی جاتی ہے کہ وہ مجاز کے وہم کو دور کرتی ہے، غلطی کے وہم کو دور کرتی ہے اور عدم شمول کے وہم کو دور کرتی ہے۔ تو یہاں "لَا تَكْذِبُ أَنْتَ" کے اندر بھی مولانا تاکید لائی گئی، کیا لائی گئی؟ تاکید لائی گئی، یہ بتلانے کے لیے کہ اس فعل کا اسناد کس کی طرف ہے ضمیر مخاطب کی طرف ہی ہے یہاں پر مجاز یہاں پر کوئی اسناد جو ہے اس ضمیر مخاطب کی طرف غلطی کی وجہ سے نہیں ہوا یا مجاز کی بنا پر مجاز یا نسیان کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ حقیقتا یہی اسی کی طرف فعل کا اسناد ہے۔ صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ تو یہ تاکید ہے وہی تینوں نکات اس میں بھی جاری ہوں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں ائی ہے بھئی؟ کہ غلطی کے وہم یا نسیان کے وہم کو اور اسی طرح مجاز کے وہم کو اس نے ا کر دور کر دیا کہ "لَا تَكْذِبُ" کے اندر "لَا تَكْذِبُ" کا جو اسناد انت کی طرف ہو رہا ہے وہ مجازا نہیں ہو رہا، غلطی کی بنا پر نہیں ہو رہا، نسیان کی بنا پر یہ کس نے بتلایا جو اگے دوبارہ انت ایا اس نے بتلایا ان چیزوں کے وہم کو کیا کر دیا دور کر دیا۔ وہی بات اب بیان کرنے لگے ہیں علامہ تفتازانی۔ کہ "أَنْتَ" کا لفظ جو ہے وہ محکوم علیہ کی تاکید کے لیے ہے "بِأَنَّهُ هُوَ ضَمِيرُ الْمُخَاطَبِ تَحْقِيقًا" کہ مسند الیہ کون ہے بھئی؟ مخاطب کی ضمیر ہی ہے تحقیقی طور پر "وَلَيْسَ الْإِسْنَادُ إِلَيْهِ عَلَى سَبِيلِ السَّهْوِ" اور اسناد جو اس کی طرف ہوا ہے وہ سہو کے طریقے پر نہیں ہوا "وَالتَّجَوُّزِ" اور مجاز کے طریقے پر اسناد نہیں ہوا "أَوِ النِّسْيَانِ" یا نسیان کے طریقے پر اسناد نہیں ہوا۔ تو انت نے ا کر مسند الیہ کو پکا کر دیا۔ "لَا لِتَأْكِيدِ الْحُكْمِ" یہ تاکید حکم کے لیے نہیں ایا انت "لِعَدَمِ تَكَرُّرِ الْإِسْنَادِ" اس لیے کہ اسناد کا تکرار یہاں نہیں ہے۔ "وَهَذَا الَّذِي ذُكِرَ مِنَ التَّقْدِيمِ لِلتَّخْصِيصِ تَارَةً وَالتَّقَوِّي أُخْرَى إِنْ بُنِيَ الْفِعْلُ عَلَى مُعَرَّفٍ" کہتے ہیں یہ جو ابھی تک بات ذکر ہوئی بھئی، ابھی تک بات کیا ذکر ہوئی؟ کہ مسند الیہ کو خبر فعلی پر مقدم کیا جائے تو یہ تخصیص کا فائدہ دے گا بشرطیکہ مسند الیہ کے ساتھ کیا ملا ہو حرف نفی۔ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی سرے سے حرف نفی ہو ہی نہ یا حرف نفی تو ہو لیکن فعل کے ساتھ ملا ہوا ہو تو پھر یہ تخصیص کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تقوی کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں یہ اس وقت ہے جبکہ فعل کی بنا معرفہ پر ہو۔ کس پر ہو؟ یعنی وہ جو مسند الیہ جو مقدم ہے وہ جو مبتدا ہے وہ معرفہ ہونا چاہیے۔ دیکھیے اپ مثالیں نہیں دیکھ رہے بھئی، "مَا أَنَا قُلْتُ هَذَا" تو انا کیا ہے؟ نکرہ ہے معرفہ ہے؟ کیونکہ ضمیر ہے معرفہ ہے۔ "أَنَا سَعَيْتُ فِي حَاجَتِكَ" یہاں بھی انا کیا ہے مولانا معرفہ ہے۔ اور اسی طرح "هُوَ يُعْطِي الْجَزِيلَ" یہاں پر ھو کیا ہے ضمیر ہے معرفہ ہے۔ تو یہ وہ اس وقت جبکہ مسند الیہ کون جو مقدم ہے وہ معرفہ ہو۔ مسند الیہ کیا ہو؟ معرفہ ہو۔ تو پھر وہ کبھی جب حرف نفی ملا ہو تو تخصیص کے لیے ائے گا حرف نفی ساتھ نہ ہو تو تقوی کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تخصیص کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اور اگر فعل کی بنا نکرہ پر ہو۔ مثلا میں کہتا ہوں "رَجُلٌ جَاءَنِي" "رَجُلٌ جَاءَنِي" اگر فعل کی بنا نکرہ پر ہو تو پھر وہ تخصیص کے لیے ائے گا۔ کس لیے ائے گا؟ وہ بات اب اگے بیان کرنے لگے ہیں کہتے ہیں ابھی تک جو ہم نے بات بیان کی وہ معرفہ کی بیان کی نکرہ کی ابھی بیان نہیں کی۔ "وَهَذَا الَّذِي ذُكِرَ مِنَ التَّقْدِيمِ لِلتَّخْصِيصِ تَارَةً" اور یہ جو ذکر کیا گیا یعنی تقدیم کا تخصیص کے لیے ہونا کبھی "وَالتَّقَوِّي أُخْرَى" اور کبھی کس کے لیے ہونا تقوی کے لیے، "أَيْ تَارَةً أُخْرَى" بھئی کبھی کبھار کس کے لیے ہونا تقوی کے لیے اور کبھی تخصیص کے لیے ہونا، یہ کب ہے؟ "إِنْ بُنِيَ الْفِعْلُ عَلَى مُعَرَّفٍ" جبکہ فعل کی بنا کس پر کی جائے؟ معرفہ پر کی جائے "وَإِنْ بُنِيَ الْفِعْلُ عَلَى مُنَكَّرٍ" اور اگر فعل کی بنا نکرہ پر ہو "أَفَادَ التَّقْدِيمُ تَخْصِيصَ الْجِنْسِ أَوِ الْوَاحِدِ" تو پھر تقدیم فائدہ دیتی ہے تخصیص الجنس کا یا تخصیص واحد کا، "بِهِ أَيْ بِالْفِعْلِ" کس کے ساتھ بھئی؟ فعل کے ساتھ۔ بھئی وہ فعل پر ہی تو مقدم کیا ہے تو وہ فعل خاص ہو جائے گا کس کے ساتھ؟ جنس کے ساتھ یا خاص ہو جائے گا کس کے ساتھ؟ واحد یعنی فرد کے ساتھ۔ تو اگر نکرہ پر فعل کی بنا ہو تو پھر وہ تقدیم یہاں تخصیص ہی کا فائدہ دے گی تقوی کا فائدہ نہیں دے گی۔ ہاں وہ تخصیص الجنس بھی ہو سکتی ہے وہاں پر اور تخصیص الفرد بھی ہو سکتی ہے۔ کیا مطلب؟ مثلا میں کہتا ہوں "رَجُلٌ جَاءَنِي" تو دیکھیے جاءنی کی بنا کس پر ہو رہی ہے؟ اس کے لیے کون ہے مسند الیہ ماقبل میں؟ رجل ہے۔ تو فعل کی بنا ہوئی نکرہ پر اور جب فعل کی بنا نکرہ پر ہو تو پھر وہ ہمیشہ کس لیے ائے گا تخصیص ہی کے لیے ائے گا۔ ہاں تخصیص کے اندر پھر دو احتمال ہیں تخصیص الجنس کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تخصیص الفرد کے لیے بھی۔ تو "رَجُلٌ جَاءَنِي" اگر تخصیص الجنس کے لیے ہو تو کیا معنی کہ جنس رجل میرے پاس ائی ہے جنس عورت نہیں۔ تو جنس عورت کی نفی ہوئی۔ اور اگر اس سے یہ تخصیص الفرد کے لیے ہو تو معنی ہوگا "رَجُلٌ جَاءَنِي" ایک فرد رجل میرے پاس ایا ہے دو یا چار نہیں ائے بھئی۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو جنس کی بھی تخصیص ہو سکتی ہے اور فرد کی بھی تخصیص ہو سکتی ہے۔ "نَحْوُ: رَجُلٌ جَاءَنِي" جیسے "رَجُلٌ جَاءَنِي" "أَيِ لَا امْرَأَةٌ" کہ جیسے "رَجُلٌ جَاءَنِي" ادمی میرے پاس ایا ہے یعنی جنس رجل میرے پاس ایا ہے "لَا امْرَأَةٌ" عورت، جنس عورت نہیں۔ تو یہ کس لیے ہوا؟ "فَيَكُونُ تَخْصِيصَ جِنْسٍ" تو یہ کیا ہوگی تخصیص الجنس ہو جائے گی۔ "أَوْ لَا رَجُلَانِ" یا یوں کہتے ہیں "رَجُلٌ جَاءَنِي لَا رَجُلَانِ" میرے پاس ایک ادمی ایا ہے دو ادمی نہیں ائے، "فَيَكُونُ تَخْصِيصَ وَاحِدٍ" تو یہ کیا ہے؟ تخصیص واحد ہے یعنی تخصیص الفرد ہے۔ "وَذَلِكَ" بھئی یہ کس لیے بھئی یہ تخصیص الجنس اور تخصیص الواحد دونوں کیوں ا سکتے ہیں؟ کہتے ہیں "لِأَنَّ اسْمَ الْجِنْسِ حَامِلُ الْمَعْنَيَيْنِ" اس لیے کہ اسم جنس حامل ہوتا ہے دو معنی کا، "الْجِنْسِيَّةِ وَالْعَدَدِ" اور وہ دو معنی کیا ہیں؟ جنسیت کا بھی احتمال ہے جنس ہونے کا بھی اور عدد، "وَالْعَدَدِ الْمُعَيَّنِ" اور عدد معین بھی وہ کیا ہے عدد معین؟ "أَعْنِي الْوَاحِدَةَ" یعنی کہ واحدہ۔ دیکھو میں رجل بولتا ہوں، لفظ رجل، تو رجل اسم جنس ہے۔ اور اسم جنس میں احتمال جنس ہونے کا بھی ہے اور فرد واحد مراد بھی مراد ہو سکتی ہے۔ تو رجل سے مراد میں ہو سکتا ہے کیا مراد لے لوں؟ جنس رجل اور ہو سکتا ہے اس سے کیا مراد لوں؟ ایک فرد، کیونکہ رجل مفرد تو کیا مراد لے لوں؟ ایک فرد، دو یا چار نہیں۔ تو جنس کا بھی احتمال ہے تو یہ تخصیص الجنس کے لیے بھی ا سکتا ہے اور فرد معین، ایک پر بھی دلالت کر رہا ہے اس لیے تخصیص الفرد کے لیے بھی ا سکتا ہے۔ اور عدد معین کا بھی یعنی ایک کا بھی "إِنْ كَانَ مُفْرَدًا" جبکہ یہ اسم جنس کیا ہو مولانا مفرد ہو۔ تو یہ عدد معین یعنی واحد پر دلالت کرے گا۔ "أَوِ الِاثْنَيْنِ إِنْ كَانَ مُثَنًّى" اور دو پر دلالت کرے گا، دو اس سے مراد ہوں گے "إِنْ كَانَ مُثَنًّى" جبکہ کیا ہو یہ؟ میں کہتا ہوں "رَجُلَانِ جَاءَانِي" دو ادمی میرے پاس ائے تو یہاں عدد معین کیا ہے؟ دو بھئی دو ادمی۔ "أَوِ الزَّائِدَ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ جَمْعًا" اور زائد اس پر جبکہ یہ جمع ہو۔ میں کہتا ہوں "رِجَالٌ جَاءُونِي" رجال میرے پاس ائے تو اس سے کیا مراد ہے عدد معین بھئی یعنی تین یا تین سے زیادہ بھئی۔ فَأَصْلُ النَّكَرَةِ الْمُفْرَدَةِ أَنْ يَكُونَ لِوَاحِدٍ مِنَ الْجِنْسِ" تو اصل نکرہ مفردہ کے اندر کیا ہے کہ وہ کس کے لیے ہونا چاہیے؟ ایک کے لیے ہونا چاہیے جنس میں سے۔ جنس میں سے ایک فرد کے لیے ہونا چاہیے۔ "فَقَدْ يُقْصَدُ بِهِ الْجِنْسُ فَقَطْ" اور کبھی اس کے ذریعے کس کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ صرف جنس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ "وَقَدْ يُقْصَدُ بِهِ الْوَاحِدُ فَقَطْ" اور کبھی اس کے ذریعے کس کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ صرف واحد کا۔ تو دیکھو اصل کیا کہتے ہیں نکرہ مفردہ کے اندر کیا ہے کہ وہ کس کے لیے ہونا چاہیے "لِوَاحِدٍ مِنَ الْجِنْسِ" ایک فرد کے لیے، "مِنَ الْجِنْسِ" کس میں سے؟ تو دیکھو ایک فرد ہے اور اس میں جنسیت بھی ملحوظ ہے۔ کیا ملحوظ ہے؟ تو پھر چنانچہ جنسیت والا معنی بھی اس کے اندر ا گیا، فردیت والا معنی بھی ا گیا، تو کبھی صرف فردیت کے لیے ائے گا اور کبھی صرف جنسیت کے لیے ائے گا۔ "وَالَّذِي يُشْعِرُ بِهِ كَلَامُ الشَّيْخِ" یہاں سے علامہ تفتازانی ماتن پر اعتراض کرنے لگے ہیں۔ صاحب تلخیص نے ابھی تک کیا ذکر کیا بھئی؟ صاحب تلخیص نے ذکر کیا کہ مسند الیہ کو جب خبر فعلی پر مقدم کیا جائے تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخصیص کا بشرطیکہ مسند الیہ کے ساتھ کیا ملا ہو؟ حرف نفی۔ اور اگر حرف نفی نہ ملا ہوا ہو تو پھر یہ تخصیص کے لیے بھی ا سکتا ہے اور تقویت کے لیے بھی ا سکتا ہے۔ اور پھر بتلایا کہ یہ اس وقت ہے جب فعل کی بنا معرفہ پر ہو۔ اور اگر فعل کی بنا نکرہ پر ہو تو پھر صرف تخصیص ہی کے لیے ائے گا، تقوی کے لیے نہیں ائے گا۔ ہاں تخصیص کے اندر پھر احتمال ہے تخصیص الجنس کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تخصیص الفرد کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ تو مصنف نے معرفہ اور نکرہ میں فرق کیا۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ بھئی یہ جو انہوں نے معرفہ اور نکرہ کا فرق بیان کیا یہ شیخ عبد القاہر کی کتابوں میں یہ بات ہمیں نہیں ملتی، ہم نے چھان بین کی جستجو کی لیکن وہاں ہمیں ایسا کلام نہیں ملا جس میں انہوں نے ان معرفہ اور نکرہ کا فرق بیان کیا ہو۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک مسند الیہ جب مقدم ہو خبر فعلی پر تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخصیص کا کب جبکہ اس کے ساتھ کیا ملا ہوا ہو حرف نفی ملا ہوا ہو۔ چاہے وہ معرفہ ہو، چاہے وہ نکرہ ہو۔ معرفہ اور نکرہ کا فرق شیخ عبد القاہر نے اپنی کتاب میں بیان نہیں کیا۔ اور مصنف یہاں پر فرق بیان کر رہے ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ کلام شیخ عبد القاہر کا نہیں ہے۔ لیکن مصنف نے بات شروع کی تھی "قَالَ عَبْدُ الْقَاهِرِ" سے، انہی کے قول کے تحت سارا کچھ ذکر کر دیا۔ مصنف کو چاہیے تھا تصریح کر دیتے کہ شیخ عبد القاہر کی وہ بات ہے صرف، یہ باقی اگے انے والی بات ان کی نہیں ہے، انہوں نے تصریح نہیں کی بھئی۔ "وَالَّذِي يُشْعِرُ بِهِ كَلَامُ الشَّيْخِ فِي دَلَائِلِ الْإِعْجَازِ" اور وہ جس کی خبر دیتا ہے شیخ عبد القاہر کا کلام کس کے اندر؟ ان کی کتاب دلائل الاعجاز میں جو ان کا کلام ایا ہے وہ یہ خبر دیتا ہے کہ "أَنْ لَا فَرْقَ بَيْنَ الْمَعْرِفَةِ وَالنَّكَرَةِ" کہ کوئی فرق نہیں ہے معرفہ اور نکرہ میں، "فِي أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَيْهِ قَدْ يَكُونُ لِلتَّخْصِيصِ وَقَدْ يَكُونُ لِلتَّقَوِّي" اس بات کے اندر کہ بنا جب اس مسند الیہ پر ہو تو کبھی کس لیے ہوگی تخصیص کے لیے ہوگی اور کبھی کس لیے ہوگی تقوی کے لیے ہوگی۔ کوئی فرق نہیں بیان کیا انہوں نے مطلقا کہا ہے جو معرفہ کو بھی شامل ہے اور نکرہ کو بھی۔ نکرہ کے اندر بھی جیسے تخصیص کا احتمال ہے ویسے ہی تقوی کا بھی احتمال ہے۔ "وَوَافَقَهُ" ای "عَبْدَ الْقَاهِرِ السَّكَّاكِيُّ" وافقہ ای عبد القاہر السکاکی، اور موافقت کی ہے عبد القاہر کی کس نے؟ السکاکی، یہ فاعل ہے مولانا۔ "عَلَى ذَلِكَ أَيْ عَلَى أَنَّ التَّقْدِيمَ يُفِيدُ التَّخْصِيصَ" اس بات پر یعنی اس بات پر کہ تقدیم کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا۔ ضمیریں اپ جانتے ہیں بھئی۔ جی۔ ضمیر مرفوع منفصل ہے متصل ہے، ضمیر مجرور منفصل ہے متصل ہے، اور ضمیر منصوب متصل ہے منفصل ہے، اور مجرور کیا ہے متصل ہے۔ یہ پانچ قسم کی ضمیریں، اور باقی کیا ہیں اسم ظاہر ہیں، باقی کیا کہلاتے ہیں اسم ظاہر۔ مثلا زید، عمرو، بکر وغیرہ، یہ سارے کیا کہلائیں گے اسم ظاہر۔ والذی یشعر بہ کلام الشیخ فی دلائل الاعجاز یہاں سے علامہ تفتازانی ماتن پر اعتراض کرنے لگے ہیں۔ صاحب تلخیص نے ابھی تک کیا ذکر کیا بھئی صاحب تلخیص نے ذکر کیا کہ مسند الیہ کو جب خبر فعلی پر مقدم کیا جائے تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا تخصیص کا بشرطیکہ مسند الیہ کے ساتھ کیا ملا ہو حرف نفی اور اگر حرف نفی نہ ملا ہوا ہو تو پھر یہ تخصیص کے لیے بھی اسکتا ہے اور تقویت کے لیے بھی اسکتا ہے اور پھر بتلایا کہ یہ اس وقت ہے جب فعل کی بنا معرفہ پر ہو اور اگر فعل کی بنا نکرہ پر ہو تو پھر صرف تخصیص ہی کے لیے ائے گا تقوی کے لیے نہیں ائے گا ہاں تخصیص کے اندر پھر احتمال ہے تخصیص الجنس کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تخصیص الفرد کے لیے بھی ہو سکتا ہے تو مصنف نے معرفہ اور نکرہ میں فرق کیا علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ بھئی یہ جو انہوں نے معرفہ اور نکرہ کا فرق بیان کیا یہ شیخ عبد القاہر کی کتابوں میں یہ بات ہمیں نہیں ملتی ہم نے چھان بین کی جستجو کی لیکن وہاں ہمیں ایسا کلام نہیں ملا جس میں انہوں نے ان معرفہ اور نکرہ کا فرق بیان کیا ہو معلوم ہوا ان کے نزدیک مسند الیہ جب مقدم ہو خبر فعلی پر تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا تخصیص کا کب جبکہ اس کے ساتھ کیا ملا ہوا ہو حرف نفی ملا ہوا ہو چاہے وہ معرفہ ہو چاہے وہ نکرہ ہو معرفہ اور نکرہ کا فرق شیخ عبد القاہر نے اپنی کتاب میں بیان نہیں کیا اور مصنف یہاں پر فرق بیان کر رہے ہیں تو معلوم ہوا یہ کلام شیخ عبد القاہر کا نہیں ہے لیکن مصنف نے بات شروع کی تھی قال عبد القاہر سے انہی کے قول کے تحت سارا کچھ ذکر کر دیا مصنف کو چاہیے تھا تصریح کر دیتے کہ شیخ عبد القاہر کی وہ بات ہے صرف یہ باقی اگے انے والی بات ان کی نہیں ہے انہوں نے تصریح نہیں کی بھئی والذی یشعر بہ کلام الشیخ فی دلائل الاعجاز اور وہ جس کی خبر دیتا ہے شیخ عبد القاہر کا کلام کس کے اندر ان کی کتاب دلائل الاعجاز میں جو ان کا کلام ایا ہے وہ یہ خبر دیتا ہے کہ ان لا فرق بین المعرفۃ والنکرۃ کہ کوئی فرق نہیں ہے معرفہ اور نکرہ میں فی ان البناء علیہ قد یکون للتخصیص وقد یکون للتقوی اس بات کے اندر کہ بنا جب اس مسند الیہ پر ہو تو کبھی کس لیے ہوگی تخصیص کے لیے ہوگی اور کبھی کس لیے ہوگی تقوی کے لیے ہوگی کوئی فرق نہیں بیان کیا انہوں نے مطلقا کہا ہے جو معرفہ کو بھی شامل ہے اور نکرہ کو بھی نکرہ کے اندر بھی جیسے تخصیص کا احتمال ہے ویسے ہی تقوی کا بھی احتمال ہے ووافقہ ای عبد القاہر السکاکی وافقہ ای عبد القاہر السکاکی اور موافقت کی ہے عبد القاہر کی کس نے السکاکی یہ فاعل ہے مولانا علی ذلک ای علی ان التقدیم یفید التخصیص اس بات پر یعنی اس بات پر کہ تقدیم کس چیز کا فائدہ دیتی ہے تخصیص کا ضمیریں اپ جانتے ہیں بھئی جی ضمیر مرفوع منفصل ہے متصل ہے ضمیر مجرور منفصل ہے متصل ہے اور ضمیر منصوب متصل ہے منفصل ہے اور مجرور کیا ہے متصل ہے یہ پانچ قسم کی ضمیریں اور باقی کیا ہیں اسم ظاہر ہیں باقی کیا کہلاتے ہیں اسم ظاہر مثلا زید عمرو بکر وغیرہ یہ سارے کیا کہلائیں گے اسم ظاہر وھذا الذی ذکر من التقدیم للتخصیص تارۃ والتقوی اخری ان بنی الفعل علی معرف اور یہ جو ذکر کیا گیا یعنی تقدیم کا تخصیص کے لیے ہونا کبھی والتقوی اخری ای تارۃ اخری بھئی کبھی کبھار کس کے لیے ہونا تقوی کے لیے اور کبھی تخصیص کے لیے ہونا یہ کب ہے ان بنی الفعل علی معرف جبکہ فعل کی بنا کس پر کی جائے معرفہ پر کی جائے وان بنی الفعل علی منکر اور اگر فعل کی بنا نکرہ پر ہو افاد التقدیم تخصیص الجنس او الواحد تو پھر تقدیم فائدہ دیتی ہے تخصیص الجنس کا یا تخصیص واحد کا بہ ای بالفعل کس کے ساتھ بھئی فعل کے ساتھ بھئی وہ فعل پر ہی تو مقدم کیا ہے تو وہ فعل خاص ہو جائے گا کس کے ساتھ جنس کے ساتھ یا خاص ہو جائے گا کس کے ساتھ واحد یعنی فرد کے ساتھ تو اگر نکرہ پر فعل کی بنا ہو تو پھر وہ تقدیم یہاں تخصیص ہی کا فائدہ دے گی تقوی کا فائدہ نہیں دے گی ہاں وہ تخصیص الجنس بھی ہو سکتی ہے وہاں پر اور تخصیص الفرد بھی ہو سکتی ہے کیا مطلب مثلا میں کہتا ہوں رجل جاءنی تو دیکھیے جاءنی کی بنا کس پر ہو رہی ہے اس کے لیے کون ہے مسند الیہ ماقبل میں رجل ہے تو فعل کی بنا ہوئی نکرہ پر اور جب فعل کی بنا نکرہ پر ہو تو پھر وہ ہمیشہ کس لیے ائے گا تخصیص ہی کے لیے ائے گا ہاں تخصیص کے اندر پھر دو احتمال ہیں تخصیص الجنس کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تخصیص الفرد کے لیے بھی تو رجل جاءنی اگر تخصیص الجنس کے لیے ہو تو کیا معنی کہ جنس رجل میرے پاس ائی ہے جنس عورت نہیں تو جنس عورت کی نفی ہوئی اور اگر اس سے یہ تخصیص الفرد کے لیے ہو تو معنی ہوگا رجل جاءنی ایک فرد رجل میرے پاس ایا ہے دو یا چار نہیں ائے بھئی سمجھ میں ایا بھئی تو جنس کی بھی تخصیص ہو سکتی ہے اور فرد کی بھی تخصیص ہو سکتی ہے نحو رجل جاءنی جیسے رجل جاءنی ای لامراۃ کہ جیسے رجل جاءنی ادمی میرے پاس ایا ہے یعنی جنس رجل میرے پاس ایا ہے لامراۃ عورت جنس عورت نہیں تو یہ کس لیے ہوا فیکون تخصیص جنس تو یہ کیا ہوگی تخصیص الجنس ہو جائے گی او لا رجلان یا یوں کہتے ہیں رجل جاءنی لا رجلان میرے پاس ایک ادمی ایا ہے دو ادمی نہیں ائے فیکون تخصیص واحد تو یہ کیا ہے تخصیص واحد ہے یعنی تخصیص الفرد ہے وذلک بھئی یہ کس لیے بھئی یہ تخصیص الجنس اور تخصیص الواحد دونوں کیوں اسکتے ہیں کہتے ہیں لان اسم الجنس حامل المعنیین اس لیے کہ اسم جنس حامل ہوتا ہے دو معنی کا الجنسیۃ والعدد اور وہ دو معنی کیا ہیں جنسیت کا بھی احتمال ہے جنس ہونے کا بھی اور عدد والعدد المعین اور عدد معین بھی وہ کیا ہے عدد معین اعنی الواحدۃ یعنی کہ واحدہ دیکھو میں رجل بولتا ہوں لفظ رجل تو رجل اسم جنس ہے اور اسم جنس میں احتمال جنس ہونے کا بھی ہے اور فرد واحد مراد بھی مراد ہو سکتی ہے تو رجل سے مراد میں ہو سکتا ہے کیا مراد لے لوں جنس رجل اور ہو سکتا ہے اس سے کیا مراد لوں ایک فرد کیونکہ رجل مفرد تو کیا مراد لے لوں ایک فرد دو یا چار نہیں تو جنس کا بھی احتمال ہے تو یہ تخصیص الجنس کے لیے بھی اسکتا ہے اور فرد معین ایک پر بھی دلالت کر رہا ہے اس لیے تخصیص الفرد کے لیے بھی اسکتا ہے اور عدد معین کا بھی یعنی ایک کا بھی ان کان مفردا جبکہ یہ اسم جنس کیا ہو مولانا مفرد ہو تو یہ عدد معین یعنی واحد پر دلالت کرے گا او الاثنین ان کان مثنی اور دو پر دلالت کرے گا دو اس سے مراد ہوں گے ان کان مثنی جبکہ کیا ہو یہ میں کہتا ہوں رجلان جاءانی دو ادمی میرے پاس ائے تو یہاں عدد معین کیا ہے دو بھئی دو ادمی او الزائد علیہ ان کان جمعا اور زائد اس پر جبکہ یہ جمع ہو میں کہتا ہوں رجال جاءونی رجال میرے پاس ائے تو اس سے کیا مراد ہے عدد معین بھئی یعنی تین یا تین سے زیادہ بھئی فاصل النکرۃ المفردۃ ان یکون لواحد من الجنس تو اصل نکرہ مفردہ کے اندر کیا ہے کہ وہ کس کے لیے ہونا چاہیے ایک کے لیے ہونا چاہیے جنس میں سے جنس میں سے ایک فرد کے لیے ہونا چاہیے فقد یقصد بہ الجنس فقط اور کبھی اس کے ذریعے کس کا ارادہ کیا جاتا ہے صرف جنس کا ارادہ کیا جاتا ہے وقد یقصد بہ الواحد فقط اور کبھی اس کے ذریعے کس کا ارادہ کیا جاتا ہے صرف واحد کا تو دیکھو اصل کیا کہتے ہیں نکرہ مفردہ کے اندر کیا ہے کہ وہ کس کے لیے ہونا چاہیے لواحد من الجنس ایک فرد کے لیے من الجنس کس میں سے تو دیکھو ایک فرد ہے اور اس میں جنسیت بھی ملحوظ ہے کیا ملحوظ ہے تو پھر چنانچہ جنسیت والا معنی بھی اس کے اندر اگیا فردیت والا معنی بھی اگیا تو کبھی صرف فردیت کے لیے ائے گا اور کبھی صرف جنسیت کے لیے ائے گا والذی یشعر بہ کلام الشیخ فی دلائل الاعجاز اور وہ جس کی خبر دیتا ہے کلام شیخ کا شیخ عبد القاہر کا کلام فی دلائل الاعجاز ان کی کتاب دلائل الاعجاز میں جو ان کا کلام ایا ہے وہ یہ خبر دیتا ہے کہ ان لا فرق بین المعرفۃ والنکرۃ کہ کوئی فرق نہیں ہے معرفہ اور نکرہ میں فی ان البناء علیہ قد یکون للتخصیص وقد یکون للتقوی اس بات کے اندر کہ بنا جب اس مسند الیہ پر ہو تو کبھی کس لیے ہوگی تخصیص کے لیے ہوگی اور کبھی کس لیے ہوگی تقوی کے لیے ہوگی کوئی فرق نہیں بیان کیا انہوں نے مطلقا کہا ہے جو معرفہ کو بھی شامل ہے اور نکرہ کو بھی نکرہ کے اندر بھی جیسے تخصیص کا احتمال ہے ویسے ہی تقوی کا بھی احتمال ہے ووافقہ ای عبد القاہر السکاکی وافقہ ای عبد القاہر السکاکی اور موافقت کی ہے عبد القاہر کی کس نے السکاکی یہ فاعل ہے مولانا علی ذلک ای علی ان التقدیم یفید التخصیص اس بات پر یعنی اس بات پر کہ تقدیم کس چیز کا فائدہ دیتی ہے تخصیص کا والذی یشعر بہ کلام الشیخ فی دلائل الاعجاز اور وہ جس کی خبر دیتا ہے کلام شیخ کا کس کے اندر فی دلائل الاعجاز ان کی کتاب دلائل الاعجاز میں جو ان کا کلام ایا ہے وہ یہ خبر دیتا ہے کہ ان لا فرق بین المعرفۃ والنکرۃ کہ کوئی فرق نہیں ہے معرفہ اور نکرہ میں فی ان البناء علیہ قد یکون للتخصیص وقد یکون للتقوی اس بات کے اندر کہ بنا جب اس مسند الیہ پر ہو تو کبھی کس لیے ہوگی تخصیص کے لیے ہوگی اور کبھی کس لیے ہوگی تقوی کے لیے ہوگی ووافقہ ای عبد القاہر السکاکی السکاکی اور موافقت کی ہے عبد القاہر کی کس نے السکاکی نے علی ذلک اس بات پر ای علی ان التقدیم یفید التخصیص کہ تقدیم کس چیز کا فائدہ دیتی ہے تخصیص کا لاکن خالفہ فی شرائط وتفاصیل لیکن مخالفت کی ہے ان کی شرائط اور تفاصیل کے اندر فان مذہب الشیخ اس لیے کہ شیخ عبد القاہر کا مذہب یہ ہے کہ انہ ان ولی حرف النفی فہو للتخصیص قطعا کہ اگر مل جائے مسند الیہ کس کے ساتھ حرف نفی کے ساتھ فہو للتخصیص قطعا تو پھر وہ کس کے لیے ہوگا قطعی طور پر تخصیص کے لیے ہوگا والا ان لم یکن کذلک اور اگر ایسا نہ ہو فقد یکون للتخصیص تو پھر کبھی کس کے لیے ہوگا تخصیص کے لیے ہوگا وقد یکون للتقوی اور کبھی کس لیے ہوگا تقوی کے لیے مضمرا کان او مظہرا چاہے یہ مسند الیہ مقدم ضمیر ہو چاہے اسم ظاہر ہو معرفا او منکرا چاہے یہ معرفہ ہو چاہے نکرہ ہو مثبتا کان الفعل او منفیا چاہے فعل مثبت ہو یا فعل منفی ہو دونوں صورتوں ووافقہ ای عبد القاہر السکاکی السکاکی اور موافقت کی ہے عبد القاہر کی السکاکی نے علی ذلک اس بات پر ای علی ان التقدیم یفید التخصیص کہ تقدیم کس چیز کا فائدہ دیتی ہے تخصیص کا لاکن خالفہ فی شرائط وتفاصیل لیکن مخالفت کی ہے ان کی شرائط اور تفاصیل کے اندر فان مذہب الشیخ اس لیے کہ شیخ عبد القاہر کا مذہب یہ ہے کہ انہ ان ولی حرف النفی فہو للتخصیص قطعا کہ اگر مل جائے مسند الیہ کس کے ساتھ حرف نفی کے ساتھ فہو للتخصیص قطعا تو پھر وہ کس کے لیے ہوگا قطعی طور پر تخصیص کے لیے ہوگا والا ای وان لم یکن کذلک اور اگر ایسا نہ ہو فقد یکون للتخصیص تو پھر کبھی کس کے لیے ہوگا تخصیص کے لیے ہوگا وقد یکون للتقوی اور کبھی کس لیے ہوگا تقوی کے لیے مضمرا کان او مظہرا چاہے یہ مسند الیہ مقدم ضمیر ہو یا اسم ظاہر ہو معرفا او منکرا چاہے یہ معرفہ ہو یا نکرہ ہو مثبتا کان الفعل او منفیا چاہے فعل مثبت ہو یا فعل منفی ہو دیکھو یہاں کل نو صورتیں بنتی ہیں دیکھو مسند الیہ کی تین صورتیں ہو گئیں مسند الیہ یا معرفہ ہوگا یا نکرہ اور معرفہ میں دو صورتیں ہیں یا ضمیر ہوگی یا اسم ظاہر بھئی توجہ سے سننا یہ علامہ سکاکی کا مذہب ا رہا ہے کن کا مذہب ا رہا ہے شیخ عبد القاہر کا مذہب تو اپ نے سن لیا کہ ان کے نزدیک چاہے معرفہ ہو نکرہ ہو مسند الیہ اگر اس پر حرف نفی ملا ہوا ہے تو تخصیص کا فائدہ دے گا اور اگر حرف نفی ساتھ نہیں ملا ہوا تو تخصیص اور تقوی دونوں کا فائدہ دے سکتا ہے یہ ان کا مذہب تھا مطلقا علامہ سکاکی ان کی موافقت تو کرتے ہیں کہ تخصیص کا فائدہ دے گا لیکن انہوں نے شرائط اور تفصیلات میں اختلاف کیا ہے وہ تفصیلات نو قسم پر مشتمل ہیں کتنی قسم پر اور وہ نو اقسام اپ سن لیجیے اپ کو سمجھ اجائیں گی میں کہتا ہوں مسند الیہ کی کل تین قسمیں ہو گئیں نکرہ ہے یا معرفہ اور معرفہ میں بھی یا اسم ظاہر ہے یا ضمیر ہے اور ہر ایک کے لیے تین تین صورتیں ہیں کتنی صورتیں ہیں یا تو مسند الیہ پر حرف نفی داخل ہوگا بھئی یا مسند الیہ پر حرف نفی اور اگر مسند الیہ پر حرف نفی داخل نہیں ہے تو فعل مثبت ہوگا یا فعل منفی ہوگا تو ہر ایک کے لیے کتنی صورتیں تین اور تین کو تین میں ضرب دی تو کتنی صورتیں بنیں نو تو دیکھو اگر مسند الیہ معرفہ ہے اور اس پر حرف نفی داخل ہے مسند الیہ معرفہ ہے اور اس پر حرف نفی داخل ہے تو علامہ سکاکی بھی کہتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا یہ ایک صورت ہوئی جیسے مَا أَنَا قُلْتُ ہَذَا انا پر حرف نفی داخل ہے معرفہ ہے یہ تخصیص کا فائدہ اور اسی طرح اگر مسند الیہ معرفہ ہے مسند الیہ معرفہ ہے اور فعل منفی ہے حرف نفی اس پر داخل نہیں بلکہ فعل پر داخل ہے جیسے أَنْتَ مَا سَعَیْتَ فِی حَاجَتِی تو اس صورت میں بھی وہ کہتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا یہ کتنی صورتیں ہو گئیں دو صورتیں اور ایک صورت یہ ہے کہ مسند الیہ معرفہ ہو اور فعل کیا ہو مثبت ہو مسند الیہ معرفہ ہو اور فعل کیا ہو مثبت ہو جیسے أَنَا سَعَیْتُ فِی حَاجَتِکَ تو اس صورت میں ان کے نزدیک یہ کبھی تخصیص کا فائدہ دے گا اور کبھی تقوی کا فائدہ دے گا تو معرفہ کی کتنی صورتیں ہو گئیں تین تینوں سمجھ میں ائیں اور یہی تین صورتیں ضمیر کی بھی ہیں اور یہی تین صورتیں اسم ظاہر کی تو کل کتنی صورتیں ہو گئیں چھ ان چھ صورتوں میں شیخ عبد القاہر کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے شیخ عبد القاہر بھی یہی کہتے ہیں کہ معرفہ اور نکرہ معرفہ میں اگر حرف نفی داخل ہو تو تخصیص کا اور اگر حرف نفی داخل نہ ہو چاہے فعل مثبت ہو چاہے منفی ہو وہ تخصیص اور تقوی دونوں کے لیے اسکتا ہے تو ان چھ صورتوں میں تو شیخ عبد القاہر اور علامہ سکاکی کا کیا ہو گیا اتفاق ہو گیا باقی رہ گئیں نکرہ کی تین صورتیں کن کی نکرہ کی تین صورتیں اگر مسند الیہ نکرہ ہو اور اس پر حرف نفی داخل ہو مسند الیہ نکرہ ہو اور اس پر حرف جیسے مَا رَجُلٌ جَاءَنِی تو اس صورت میں علامہ سکاکی فرماتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا تو یہ صورت بھی شیخ عبد القاہر کے ساتھ کیا ہو گئی موافقت ہو گئی تو کتنی صورتوں میں موافقت ہو گئی سات صورتوں میں موافقت ہو گئی اور اگر مسند الیہ نکرہ ہو اور فعل منفی ہو کیا ہو فعل جیسے رَجُلٌ مَا جَاءَنِی رَجُلٌ مَا جَاءَنِی تو علامہ سکاکی کے نزدیک یہ جائز ہی نہیں ہے یہ کلام ہی ناجائز ہے یہ ترکیب ہی غلط ہے کیوں کیونکہ ان کے نزدیک نکرہ جب مقدم ہو جائے تو وہ معرفہ بن جاتا ہے کیا بن جاتا ہے تو جب اپ نے نکرہ کو مقدم کر دیا اور اس پر حرف نفی داخل نہیں ہے نکرہ کو اپ نے مقدم کر دیا تو یہ تو معرفہ بن گیا اور معرفہ کے اندر اور اپ کہہ رہے ہیں نکرہ اور بنا کس کی ہو رہی ہے معرفہ کی تو یہ ترکیب ہی ان کے نزدیک صحیح نہیں تو اٹھویں صورت ان کے نزدیک صحیح نہیں ہے اور نویں صورت کون سی بچی کہ مسند الیہ نکرہ ہو اور فعل کیا ہو مثبت ہو تو اس صورت میں بھی یہ کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا فائدہ دے گا کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا تو نو صورتوں میں سے سات صورتوں میں علامہ سکاکی کا شیخ عبد القاہر کے ساتھ موافقت ہے اور دو صورتوں میں مخالفت ہے ایک صورت ان کے نزدیک ناجائز ہے اور ایک صورت میں وہ کہتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا تقوی کا فائدہ نہیں دے گا جبکہ شیخ عبد القاہر کے نزدیک وہ تخصیص اور تقوی دونوں کے لیے اسکتا ہے دیکھو علامہ سکاکی کا مذہب یہ ہے کہ انہ ان ولی حرف النفی کہ اگر مل جائے مسند الیہ حرف نفی کے ساتھ فہو للتخصیص قطعا تو پھر وہ کس کے لیے ہوگا قطعی طور پر تخصیص کے لیے ہوگا والا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی حرف نفی کے ساتھ نہ ملا ہو تو پھر قد یکون للتخصیص تو کبھی وہ کس کے لیے ہوگا تخصیص کے لیے ہوگا وقد یکون للتقوی اور کبھی کس لیے ہوگا تقوی کے لیے مضمرا کان او مظہرا چاہے وہ مسند الیہ ضمیر ہو یا اسم ظاہر ہو معرفا او منکرا چاہے وہ معرفہ ہو یا نکرہ ہو مثبتا کان الفعل او منفیا چاہے فعل مثبت ہو یا منفی ہو ووافقہ ای عبد القاہر السکاکی اور موافقت کی ہے عبد القاہر کی السکاکی نے علی ذلک اس بات پر ای علی ان التقدیم یفید التخصیص کہ تقدیم تخصیص کا فائدہ دیتی ہے لاکن خالفہ فی شرائط وتفاصیل لیکن مخالفت کی ہے ان کی شرائط اور تفاصیل کے اندر فان مذہب الشیخ اس لیے کہ شیخ عبد القاہر کا مذہب یہ ہے کہ انہ ان ولی حرف النفی فہو للتخصیص قطعا کہ اگر مل جائے مسند الیہ حرف نفی کے ساتھ فہو للتخصیص قطعا تو پھر وہ کس کے لیے ہوگا قطعی طور پر تخصیص کے لیے ہوگا والا ان لم یکن کذلک اور اگر ایسا نہ ہو فقد یکون للتخصیص تو کبھی تخصیص کے لیے ہوگا وقد یکون للتقوی اور کبھی تقوی کے لیے مضمرا کان او مظہرا چاہے وہ ضمیر ہو یا ظاہر ہو معرفا او منکرا چاہے وہ معرفہ ہو یا نکرہ ہو مثبتا کان الفعل او منفیا چاہے فعل مثبت ہو یا منفی ہو ووافقہ ای عبد القاہر السکاکی اور موافقت کی ہے عبد القاہر کی السکاکی نے علی ذلک اس بات پر ای علی ان التقدیم یفید التخصیص کہ تقدیم تخصیص کا فائدہ دیتی ہے لاکن خالفہ فی شرائط وتفاصیل لیکن مخالفت کی ہے ان کی شرائط اور تفاصیل کے اندر فان مذہب الشیخ اس لیے کہ شیخ عبد القاہر کا مذہب یہ ہے کہ انہ ان ولی حرف النفی فہو للتخصیص قطعا کہ اگر مل جائے مسند الیہ حرف نفی کے ساتھ فہو للتخصیص قطعا تو پھر وہ کس کے لیے ہوگا قطعی طور پر تخصیص کے لیے ہوگا والا ای وان لم یکن کذلک اور اگر ایسا نہ ہو فقد یکون للتخصیص تو کبھی تخصیص کے لیے ہوگا وقد یکون للتقوی اور کبھی تقوی کے لیے مضمرا کان او مظہرا چاہے وہ مسند الیہ ضمیر ہو یا ظاہر ہو معرفا او منکرا چاہے معرفہ ہو یا نکرہ ہو مثبتا کان الفعل او منفیا چاہے فعل مثبت ہو یا منفی ہو دیکھو یہاں کل نو صورتیں بنتی ہیں دیکھو مسند الیہ کی تین صورتیں ہو گئیں مسند الیہ یا معرفہ ہوگا یا نکرہ اور معرفہ میں دو صورتیں ہیں یا ضمیر ہوگی یا اسم ظاہر بھئی توجہ سے سننا یہ علامہ سکاکی کا مذہب ا رہا ہے کن کا مذہب ا رہا ہے شیخ عبد القاہر کا مذہب تو اپ نے سن لیا کہ ان کے نزدیک چاہے معرفہ ہو نکرہ ہو مسند الیہ اگر اس پر حرف نفی ملا ہوا ہے تو تخصیص کا فائدہ دے گا اور اگر حرف نفی ساتھ نہیں ملا ہوا تو تخصیص اور تقوی دونوں کا فائدہ دے سکتا ہے یہ ان کا مذہب تھا مطلقا علامہ سکاکی ان کی موافقت تو کرتے ہیں کہ تخصیص کا فائدہ دے گا لیکن انہوں نے شرائط اور تفصیلات میں اختلاف کیا ہے وہ تفصیلات نو قسم پر مشتمل ہیں کتنی قسم پر اور وہ نو اقسام اپ سن لیجیے اپ کو سمجھ اجائیں گی میں کہتا ہوں مسند الیہ کی کل تین قسمیں ہو گئیں نکرہ ہے یا معرفہ اور معرفہ میں بھی یا اسم ظاہر ہے یا ضمیر ہے اور ہر ایک کے لیے تین تین صورتیں ہیں کتنی صورتیں ہیں یا تو مسند الیہ پر حرف نفی داخل ہوگا بھئی یا مسند الیہ پر حرف نفی اور اگر مسند الیہ پر حرف نفی داخل نہیں ہے تو فعل مثبت ہوگا یا فعل منفی ہوگا تو ہر ایک کے لیے کتنی صورتیں تین اور تین کو تین میں ضرب دی تو کتنی صورتیں بنیں نو تو دیکھو اگر مسند الیہ معرفہ ہے اور اس پر حرف نفی داخل ہے مسند الیہ معرفہ ہے اور اس پر حرف نفی داخل ہے تو علامہ سکاکی بھی کہتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا یہ ایک صورت ہوئی جیسے مَا أَنَا قُلْتُ ہَذَا انا پر حرف نفی داخل ہے معرفہ ہے یہ تخصیص کا فائدہ اور اسی طرح اگر مسند الیہ معرفہ ہے مسند الیہ معرفہ ہے اور فعل منفی ہے حرف نفی اس پر داخل نہیں بلکہ فعل پر داخل ہے جیسے أَنْتَ مَا سَعَیْتَ فِی حَاجَتِی تو اس صورت میں بھی وہ کہتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا یہ کتنی صورتیں ہو گئیں دو صورتیں اور ایک صورت یہ ہے کہ مسند الیہ معرفہ ہو اور فعل کیا ہو مثبت ہو مسند الیہ معرفہ ہو اور فعل کیا ہو مثبت ہو جیسے أَنَا سَعَیْتُ فِی حَاجَتِکَ تو اس صورت میں ان کے نزدیک یہ کبھی تخصیص کا فائدہ دے گا اور کبھی تقوی کا فائدہ دے گا تو معرفہ کی کتنی صورتیں ہو گئیں تین تینوں سمجھ میں ائیں اور یہی تین صورتیں ضمیر کی بھی ہیں اور یہی تین صورتیں اسم ظاہر کی تو کل کتنی صورتیں ہو گئیں چھ ان چھ صورتوں میں شیخ عبد القاہر کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے شیخ عبد القاہر بھی یہی کہتے ہیں کہ معرفہ اور نکرہ معرفہ میں اگر حرف نفی داخل ہو تو تخصیص کا اور اگر حرف نفی داخل نہ ہو چاہے فعل مثبت ہو چاہے منفی ہو وہ تخصیص اور تقوی دونوں کے لیے اسکتا ہے تو ان چھ صورتوں میں تو شیخ عبد القاہر اور علامہ سکاکی کا کیا ہو گیا اتفاق ہو گیا باقی رہ گئیں نکرہ کی تین صورتیں کن کی نکرہ کی تین صورتیں اگر مسند الیہ نکرہ ہو اور اس پر حرف نفی داخل ہو مسند الیہ نکرہ ہو اور اس پر حرف جیسے مَا رَجُلٌ جَاءَنِی تو اس صورت میں علامہ سکاکی فرماتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا تو یہ صورت بھی شیخ عبد القاہر کے ساتھ کیا ہو گئی موافقت ہو گئی تو کتنی صورتوں میں موافقت ہو گئی سات صورتوں میں موافقت ہو گئی اور اگر مسند الیہ نکرہ ہو اور فعل منفی ہو کیا ہو فعل جیسے رَجُلٌ مَا جَاءَنِی تو علامہ سکاکی کے نزدیک یہ جائز ہی نہیں ہے یہ کلام ہی ناجائز ہے یہ ترکیب ہی غلط ہے کیوں کیونکہ ان کے نزدیک نکرہ جب مقدم ہو جائے تو وہ معرفہ بن جاتا ہے کیا بن جاتا ہے تو جب اپ نے نکرہ کو مقدم کر دیا اور اس پر حرف نفی داخل نہیں ہے نکرہ کو اپ نے مقدم کر دیا تو یہ تو معرفہ بن گیا اور معرفہ کے اندر اور اپ کہہ رہے ہیں نکرہ اور بنا کس کی ہو رہی ہے معرفہ کی تو یہ ترکیب ہی ان کے نزدیک صحیح نہیں تو اٹھویں صورت ان کے نزدیک صحیح نہیں ہے اور نویں صورت کون سی بچی کہ مسند الیہ نکرہ ہو اور فعل کیا ہو مثبت ہو تو اس صورت میں بھی یہ کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا فائدہ دے گا کس کا فائدہ دے گا تخصیص کا تو نو صورتوں میں سے سات صورتوں میں علامہ سکاکی کا شیخ عبد القاہر کے ساتھ موافقت ہے اور دو صورتوں میں مخالفت ہے ایک صورت ان کے نزدیک ناجائز ہے اور ایک صورت میں وہ کہتے ہیں یہ تخصیص کا فائدہ دے گا تقوی کا فائدہ نہیں دے گا جبکہ شیخ عبد القاہر کے نزدیک وہ تخصیص اور تقوی دونوں کے لیے اسکتا ہے یہ سن لو بھئی۔ یہ ایک مسند الیہ جو مقدم کیا ہے، وہ کیا ہوگا؟ معرفہ ہوگا یا نکرہ؟ تو کتنے ہوگئے؟ دو۔ لیکن معرفہ کے اندر ہیں دو صورتیں۔ یا وہ معرفہ اسم ظاہر ہوگا یا اسم ضمیر۔ تو کتنی صورتیں ہوگئیں؟ تین۔ تین ہوگئیں بھئی۔ کتنی ہوگئیں؟ ایک ہوگیا نکرہ، ایک اسم ظاہر، ایک اسم ضمیر بھئی۔ کتنی صورتیں؟ تین صورتیں۔ اور پھر حرف نفی اس کے ساتھ ملا ہوا ہوگا یا حرف نفی سرے سے ہوگا ہی نہیں، یا حرف نفی فعل کے ساتھ ملا ہوا ہوگا۔ یہ کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین یہ ہوگئیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی وہ جو مسند الیہ جس کو آپ نے فعل پر مقدم کیا ہے، یا وہ نکرہ ہوگا، یا اسم ضمیر ہوگی، یا اسم ظاہر ہوگا۔ تین صورتیں۔ پھر اس کے ساتھ حرف نفی ملا ہوا ہوگا یا سرے سے حرف نفی ہوگا ہی نہیں کلام کے اندر۔ یا حرف نفی تو ہوگا لیکن مسند الیہ سے نہیں ملا ہوگا بلکہ کس سے ملا ہوگا؟ فعل سے۔ کتنی صورتیں؟ تین یہ صورتیں ہوگئیں۔ حرف نفی کے ہونے کی... صورت سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی، توجہ ہے سبق کی طرف؟ اب یہ ہر ایک کے ساتھ یہی تین تین صورتیں ہیں۔ پہلی صورت مولانا! کہ مسند الیہ جس کو مقدم کیا اس کی کتنی صورتیں تھیں بھئی؟ یا نکرہ ہوگا یا اسم ضمیر یا اسم ظاہر۔ اگر نکرہ ہو۔ پھر بھی تین صورتیں۔ یا اس نکرہ کے ساتھ حرف نفی ملا ہوا ہوگا یا سرے سے حرف نفی ہوگا ہی نہیں، یا ہوگا تو لیکن کس کے ساتھ ملا ہوگا آگے فعل کے ساتھ۔ اگر مسند الیہ اسم ضمیر ہو اس میں بھی یہی تین تین صورتیں۔ یا مس... اس مسند الیہ حرف... اسم ضمیر کے ساتھ حرف نفی ملا ہوا ہوگا یا سرے سے حرف نفی ہوگا ہی نہیں، یا ہوگا تو لیکن آگے کس سے ملا ہوگا؟ فعل سے ملا ہوگا۔ اسی طرح اگر مسند الیہ اسم ظاہر ہے اس میں بھی کتنی صورتیں؟ تین صورتیں۔ یا اس کے ساتھ حرف نفی ملا ہوا ہوگا یا پورے کلام میں سرے سے حرف نفی ہی نہیں ہوگا، یا حرف نفی تو کلام میں ہے لیکن مسند الیہ سے نہیں ملا ہوا بلکہ کس سے ملا ہوگا آگے؟ خبر سے ملا ہوگا۔ کتنی صورتیں ہوگئیں؟ نو۔ سب کو سمجھ میں بھی آئیں کہ نہیں آئیں بھئی؟ سب کو اچھی طرح؟ جی۔ تو یہ نو صورتیں ہوگئیں۔ ان نو صورتوں کے اندر مولانا! وہ تین صورتیں جس میں مسند الیہ کے ساتھ کیا ملا ہوا تھا؟ حرف نفی ملا ہوا تھا۔ چاہے مسند الیہ جو مقدم ہوا ہے اسم ظاہر ہو، چاہے اسم ضمیر ہو، چاہے نکرہ ہو۔ تینوں کے ساتھ حرف نفی، ایک ایک صورت بنی تھی یا نہیں جس میں حرف نفی بھی ملا ہوا تھا؟ اس صورت میں تو شیخ عبدالقاہر فرماتے ہیں قطعی طور پر یہ کس لیے آیا؟ تخصیص کے لیے۔ اور باقی چھ صورتیں جن میں تین وہ ہیں جن میں سرے سے حرف نفی ہے ہی نہیں، اور تین وہ ہیں جن میں حرف نفی تو ہے لیکن مسند الیہ سے نہیں ملا بلکہ کس سے ملا ہوا ہے؟ ان چھ کے اندر وہ کہتے ہیں یہ تخصیص کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور تقویت کے لیے بھی ہو سکتی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ علامہ سکاکی فرماتے ہیں بھئی کہ اگر مسند الیہ جو مقدم ہے نکرہ ہو تو پھر یہ تخصیص کا فائدہ دے گا صرف۔ وہ شرط مسند... وہ کہتے ہیں کہ حرف نفی کو نہ دیکھو، حرف نفی ہے یا نہیں ہے، مقدم ہے یا مؤخر ہے، یہ نہ دیکھو۔ کہتے ہیں یہ دیکھو کہ یہ جو خبر پر جس کو آپ نے مقدم کیا ہے مسند الیہ کو، یہ کیا ہے؟ یہ نکرہ ہے تو اور حکم ہوگا، یہ اسم ظاہر ہے تو اور حکم ہوگا، یہ اسم ضمیر ہے تو اور حکم ہوگا۔ وہ کہتے ہیں اگر یہ اسم ظاہر... یہ مقدم... اسم... مسند الیہ جو مقدم ہے اگر نکرہ ہو اور تقدی... اور تخصیص سے کوئی مانع بھی نہ ہو، تو پھر یہ تخصیص کے لیے ہوگا۔ وہ مسند الیہ جو مقدم ہے کیا ہو؟ نکرہ ہو اور تخصیص سے کوئی چیز مانع بھی نہ ہو تو پھر یہ کس لیے ہوگا؟ صرف تخصیص کے لیے ہوگا، تقوی کے لیے نہیں ہوگا۔ اور اگر مسند الیہ جو مقدم کیا ہے آپ نے، وہ اگر اسم ظاہر ہے، تو پھر وہ تقوی کے لیے ہوگا۔ کس کے لیے ہوگا؟ اور اگر وہ مسند الیہ جو مقدم ہے، اسم ضمیر ہے، تو پھر وہ تقوی کے لیے بھی آ سکتا ہے اور تخصیص کے لیے بھی آ سکتا ہے۔ مذہب ان کا سمجھ میں آیا بھئی؟ انہوں نے کہا کہ حرف نفی، شیخ عبدالقاہر تو فرماتے تھے حرف نفی کو دیکھو۔ حرف نفی اگر مسند الیہ سے ملا ہوا ہے تو اور حکم، اگر سرے سے ہے ہی نہیں یا فعل کے ساتھ ملا ہوا ہے تو اور حکم۔ شیخ... علامہ سکاکی فرماتے ہیں نہیں، حرف نفی کا اعتبار نہیں بلکہ اعتبار دراصل کس کا ہے؟ مسند الیہ جو مقدم ہے اس کا اعتبار ہے۔ اگر وہ مسند الیہ نکرہ ہے اور وہاں تقدیم سے... وہاں تخصیص سے کوئی چیز مانع نہیں، تو پھر یہ صرف کس لیے ہے، تقدیم صرف کس چیز کا فائدہ دے گی؟ تخصیص کا فائدہ دے گی، تقوی کا فائدہ نہیں دے گی۔ اور اگر وہ مسند الیہ جو مقدم کیا ہے آپ نے، وہ اسم ظاہر ہے، تو پھر بھی یہ تقدیم صرف تقوی کا فائدہ دے گی، تخصیص کا فائدہ نہیں دے گی۔ اور اگر وہ مسند الیہ جو آپ نے مقدم کیا ہے وہ اسم ضمیر ہے، پھر اس میں دونوں احتمال ہیں، تخصیص کے لیے بھی آ سکتی ہے اور تقوی کے لیے بھی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ دیکھیے دوبارہ۔ فَإِنَّ مَذْهَبَ الشَّيْخِ اس لیے کہ شیخ عبدالقاہر کا مذہب یہ ہے۔ أَنَّهُ إِنْ وَلِيَ حَرْفَ النَّفْيِ کہ اگر مل جائے وہ مسند الیہ حرف نفی کے ساتھ، فَهُوَ لِلتَّخْصِيصِ قَطْعاً تو قطعی طور پر یہ کس لیے ہوگا؟ تخصیص ہی کے لیے ہوگا۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو فَقَدْ يَكُونُ لِلتَّخْصِيصِ وَقَدْ يَكُونُ لِلتَّقَوِّي تو پھر کبھی وہ تخصیص کے لیے ہوگا اور کبھی تقوی کے لیے۔ مُضْمَراً كَانَ أَوْ مُظْهَراً چاہے وہ مقدم مسند الیہ کیا ہے؟ اسم ضمیر ہو یا اسم ظاہر ہو۔ مُعَرَّفاً أَوْ مُنَكَّراً معرفہ ہو یا نکرہ ہو۔ مُثْبَتاً كَانَ الْفِعْلُ أَوْ مَنْفِيّاً مثبت ہو وہ فعل یا منفی ہو۔ وَمَذْهَبُ السَّكَّاكِيِّ علامہ سکاکی کا مذہب یہ ہے۔ أَنَّهُ کہ وہ مسند الیہ جو ہے إِنْ كَانَ نَكِرَةً اگر وہ کیا تھا؟ نکرہ تھا، فَهُوَ لِلتَّخْصِيصِ تو وہ صرف کس لیے آئے گا؟ تخصیص کے لیے آئے گا۔ کب؟ إِنْ لَمْ يَمْنَعْ مِنْهُ مَانِعٌ اگر وہاں کوئی مانع نہ ہو۔ وَإِنْ كَانَ مَعْرِفَةً اور اگر کیا ہو؟ اگر وہ معرفہ ہو، تو پھر معرفہ میں کتنی صورتیں تھیں؟ یا اسم ظاہر ہوگا یا اسم ضمیر۔ تو کہتے ہیں فَإِنْ كَانَ مُظْهَراً اگر وہ اسم ظاہر تھا فَلَيْسَ إِلَّا لِلتَّقَوِّي تو وہ صرف کس کے لیے ہوگا؟ تقوی کے لیے ہوگا۔ تقوی... صرف کس کے لیے آئے گا بھئی؟ تقوی اسم ظاہر اگر مقدم ہو تو صرف تقوی کے لیے آئے گا۔ وَإِنْ كَانَ مُضْمَراً اور اگر وہ ضمیر تھی فَقَدْ يَكُونُ لِلتَّقَوِّي وَقَدْ يَكُونُ لِلتَّخْصِيصِ تو وہ کبھی صرف کس کے لیے ہوگی؟ تقوی کے لیے اور کبھی صرف تخصیص کے لیے۔ مِنْ غَيْرِ تَفْرِقَةٍ بَيْنَ مَا يَلِي حَرْفَ النَّفْيِ بغیر فرق کیے اس مسند الیہ کے درمیان جس کے ساتھ کیا ملا ہوا ہو؟ حرف نفی۔ وَغَيْرِهِ اور اس کے علاوہ بھئی۔ چاہے وہ مسند الیہ حرف نفی کے ساتھ ملا ہوا ہو یا ایسا مسند الیہ نہ ہو اس کے علاوہ ہو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کیا خلاصہ ہوا بھئی؟ شیخ عبدالقاہر کیا فرماتے ہیں اصل دارومدار کس پر ہے؟ مسند الیہ کے ساتھ حرف نفی کے ملنے پر ہے۔ ملا ہوا ہو تو صرف کس لیے آئے گا؟ تخصیص کے لیے۔ اور اگر ملا ہوا نہ ہو تو پھر تخصیص کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور تقوی کے لیے۔ اور علامہ سکاکی کیا فرماتے ہیں اصل دارومدار کس پر ہے؟ وہ جو مسند الیہ آپ نے مقدم کیا اس پر ہے۔ اگر وہ نکرہ ہے اور وہاں کوئی مانع تخصیص بھی نہیں ہے تو پھر یہ صرف کس کے لیے ہوگا؟ تخصیص کے لیے ہوگا۔ اور اگر وہ کیا ہو بھئی؟ اگر معرفہ ہو تو پھر اسم ظاہر ہوگا یا اسم ضمیر۔ اگر اسم ظاہر ہو تو وہ صرف کس کے لیے ہوگا؟ تقوی کے لیے ہوگا۔ اور اگر وہ ضمیر ہو تو پھر تقوی کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور تخصیص کے لیے بھی ہو سکتی ہے بھئی۔ چلیے مولانا۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
121 approved lectures · 57 of 121